عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 5687
ڈاؤنلوڈ: 798


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5687 / ڈاؤنلوڈ: 798
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

مثال کے طور پر مغيرة بن سعيد کی تشریح ميں کشی ، یونس سے نقل کرتا ہے کہ ہشام بن حکم کہتا تھا :

ميں نے امام صادق عليہ السلام سے سنا کہ وہ فرماتے تھے : مغيرہ بن سعيد عملی طور پر بعض جھوٹے مطالب کو ميرے والد سے نسبت دیتا تھا اور انهيں انکے اصحاب کی روایتوں ميں قرار دیتا تھا تا کہ ان کے مضمون کو شيعوں ميں منتشر کریں ۔

یونس کہتا ہے : ميں عراق ميں داخل ہوا اور وہاں پر امام باقر عليہ السلام کے بہت سے اصحاب کو دیکھا ۔ اور ان سے کئی احادیث سنی اور ميں نے ان کی کتابوں کی نسخہ براداری کی ۔ اس کے بعد اپنے نسخوں کو حضرت امام رضا عليہ السلام کی خدمت ميں پيش کيا امام عليہ السلام نے اصحاب امام صادق عليہ السلام کی کتابوں سے نسخہ برداری کی گئی بہت سے روایتوں کو اعتبار سے گرادیا

نتيجہ:

اس قسم کی روایتيں صحيح ہوں یا غلط ، البتہ یہ حقيقت واضح طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ غلط اورجعلی روایتيں متون کی کتابوں ميں جيسے رجال کشی وغيرہ ميں داخل ہوئی ہيں کيونکہ اگر یہ روایتيں صحيح ہوں تو ایسی کتابوں ميں غلط روایتوں کی موجودگی کی خبر دیتی ہيں اور اگر غلط ہوں تو ، وہ خود جعلی اور غلط روایتيں ہيں جو“ رجال کشی ’ ميں داخل ہوئی ہيں اور کشی نے غلطی سے صحيح ہونے کے گمان کے باوجود اپنی کتاب ميں نقل کيا ہے پس دونوں صورتوں ميں ان روایتوں کی موجودگی ،جنہيں ہم نے یہاں پر رجال کشی سے نقل کيا ہے ان کتابوں کے مطالب کے درميان پائی جاتی ہيں بے بنياد اور بے اساس ہيں اور اس پر قطعی دليل بھی موجود ہے۔

خلاصہ:

اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ: عبدا لله بن سبا اور مرتدوں کے احراق سے مربوط روایتيں ، جو ہماری بحث و گفتگو کا موضوع ہيں ، اسی قسم کی ہيں ،کہ شيعوں کے صحيح اور ابتدائی متون کے نابود ہونے کی وجہ سے گزشتہ صفحات ميں وضاحت کی گئی راہوں سے شيعوں کی کتابوں اور مآخذ ميں پہنچ گئی ہيں اور شيعہ علماء کی غيرفقہی روایتوں کے بارے ميں غفلت کی وجہ سے یہ کام انجام پایا ہے اور چونکہ ان مطالب کے بارے ميں بحث و تحقيق نہيں ہوئی ہے اس لئے صحيح روایتوں کو جعليات اور جھوٹ سے جدا نہيں کيا گيا ہے ، نتيجہ کے طور پر یہ جعلی اور جھوٹی روایتيں شيعہ کتابوں اور مآخذ ميں موجود ہيں اور صدیاں گزرنے کے بعد دوسری کتابوں ميں بھی منتقل ہوئی ہے۔

احراق مرتد کی داستان کے حقيقی پہلومن الجائز ان یحرق الامام جثة مرتد خشية ان یتخذ قبره وثنا امام کے لئے جائز ہے کہ مرتدکی لاش کو جلادیں تاکہ اس کے پيرو اس کی قبر کا احترام نہ کریں

مؤلف ہم نے گزشتہ فصلوں ميں احراق مرتد سے مربوط روایتوں کو بيان کيا اور ان پر بحث و تحقيق کی ۔ ان کے ضعيف اور بے بنياد ہونے کے ابعاد کو واضح کيا اور کہا کہ ان روایتوں کی بنياد مضبوط نہيں ہوسکتی ہے اور یہ صحيح اور حقيقی نہيں ہوسکتی ہيں بلکہ یہ ایک افسانہ ہے جو مختلف اغراض ومقاصد کی وجہ سے جعل کيا گيا ہے ۔

اگر کوئی صدر اسلام ميں جزیرة العرب کے اجتماعی حالات کا مطالعہ و تحقيق کرے ،

تو وہ واضح طورپر اس حقيقت کو محسوس کر لے گا کہ ، اسلام نے اس علاقہ ميں توحيد اور یکتاپرستی کيلئے جو خاص نفوذ اور طاقت پيدا کی تھی ، بت پرستی نيز ،کلی طورپر ہر نوع مخلوق کی پرستش اور غير خالق کے سامنے تسليم ہونے کے خلاف جو مسلسل کوشش کی تھی کہ جس کے نتيجہ ميں یہگنجائش و فرصت باقی نہ رہ گئی تھی کہ ایک انسان پھر سے بت پرست ہو جائے یا کسی بشر کی الوہيت کا معقتد بن جائے اجتماع نقيضين ، محال اور ناممکن جيسے ان خاص شرائط ميں اس روداد ( پرستش مخلوق ) کی کوئی فرد عاقل تائيد نہيں کرسکتا ہے ۔

ليکن یہ ممکن تھا کہ کوئی زندیق اور منکر خدا ہو اور اسے بصرہ سے اسلامی مملکت کےحدودميں لایا جائے ۔ کيوں کہ زندیق اور پروردگار کے منکر ، قبل از اسلام وجود ميں آئے تھے ،

اس قسم کے افراد بصرہ کے پڑوس کے علاقوں ميں جو بعد ميں مسلمانوں کے ذریعہ فتح ہوا موجود تھے ۔ اس بنا پر بعيد نہيں ہے کہ اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے ميں ان ميں سے کچھ لوگ بصرہ ميں داخل ہوکر مسلمانوں سے ان کے روابط کے نتيجہ ميں ان کے کفر و الحادکا پتہ چلا ہواور انهيں حضرت کی خدمت ميں لایا گيا ہوگا۔ اور حضرت علی عليہ السلام نے بھی ان کے خلاف اسلام کا حکم نافذ کرکے انهيں قتل کياہوگا ۔

پھر بھی جيسا کہ بعض زیر بحث روایتوں ميں آیا ہے ممکن ہے ایک شخص عيسائی اسلام کو قبول کرے اس کے بعد دوبارہ عيسائيت کی طرف پلٹ جائے اور اسلام سے خارج ہوجائے اور اسے علی عليہ السلام کے حضور لایا جائے اور حضرت عليہ السلام اس کے خلاف اسلام کا حکم نافذ فرمائيں ۔

جی ہاں ، جو کچھ اوپر بيان ہوا وہ سب صحيح ہوسکتا ہے ليکن حضرت علی عليہ السلام کے توسط سے انهيں نذر آتش کرنا اور جلانا صحيح اور واقعی نہيں ہوسکتا ہے یہ ایک روشن ضمير اور آگاہ محقق کيلئے قابل قبول نہيں ہوسکتا ہے کيونکہ قضيہ کے مذہبی پہلو سے قطع نظر ہرگز اميرالمؤمنين عليہ السلام جيسے نامدار کے لئے ان شرائط و حالات ميں ا یک انسان کو زندہ جلانا مطابقت نہيں رکھتا ہے خاص کر جبکہ اس سے پہلے ابوبکر نے “ فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرکے مسلمانوں کی مخالفت مول لی تھی اور خود خليفہ نے بھی اس عمل پر اظہار ندامت اور پشيمانی کی تھی ۔ ان حالات کے پيش نظر معنی نہيں رکھتا ہے کہ اميرالمؤمنين ایک انسان یا کئی انسانوں کو نذر آتش کرکے عام مسلمانوں کی مخالفت مول ليں (جيسا کہ گزشتہ بعض روایتوں ميں آیا ہے) اس سلسلہ ميں اس حد تک قبول اور یقين کيا جاسکتا ہے کہ حضرت عليہ السلام ایک مرتد پر حد نافذ کرنے کے بعد ، اس احتمال اور ڈر سے کہ کہيں اس کے پيرو بت کے مانند اس کی قبر کی پوجا نہ کریں اور آنے والی نسلوں کيلئے فساد کا سبب نہ بنے، لہذا حضرت نے اسے جلا کر خاکستر کر دیاہو۔ یہ تھا ، زیر بحث داستان کے واقعی پہلوؤں کے بارے ميں ہمارے نظریہ و عقيدہ کا خلاصہ اور وہ تھے اس داستان کے افسانوی اور جھوٹے پہلو جو گزشتہ فصلوں ميں بيان ہوئے اگر کوئی ہماری بيان کردہ بات پر مطمئن نہ ہو سکے اور اس داستان کے صحيح ہونے ميں اسی حد تک اکتفا کرے اور ان روایتوں کے مضمون کو ہمارے بيان کے علاوہ قبول کرے تو اسے چاہئے ہمارے دوش بہ دوش آئے اور کتاب کے اگلے حصہ ميں بھی ہمارے ساتھ سفر کرے اور ملل و نحل کی کتابوں ميں عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں دانشوروں کا نظریہ سنے ۔ اس کے بعد اس موضوع کے بارے ميں بيشتر آگاہی کے ساتھ فيصلہ کرے اور ہم بھی آگے بڑهنے کيلئے اپنے پروردگا سے مدد چاہتے ہيں ۔

مباحث کا خلاصه اور نتيجه ان الزنادقة کانت تدس فی کتب الشيوخ

زندیقی، اساتذہ کی کتابوں ميں اپنی طرف سے حدیث اور روایتيں وارد کرتے تھے ۔ مؤلف علی نے کن لوگوں کو جلایا ؟

گزشتہ فصلوں ميں ہم نے عبدا لله ابن سبا اور مرتدافراد کے احراق کے بارے ميں روایتوں کی مکمل طور پر تحقيق اور جانچ پڑتال کی ان کے جعلی ہونے ، یہ روایتيں کيسے شيعوں کی کتابوں ميں داخل ہوئيں اور آج تک اپنے وجود کو حفظ کرسکيں اور یہ روایتيں کس حد تک صحيح ہوسکتی ہيں ، ایسے مسائل تھے جن پر ہم نے گزشتہ فصلوں ميں تحقيق کی اب ہم اس فصل ميں بھی گزشتہ مطالب کے خاتمہ اور نتيجہ گيری کے عنوان سے کہتے ہيں :

روایاتِ احراق اس امر کی حکایت کرتی ہيں کہ علی عليہ السلام نے ان کے بارے ميں غلو کرنے والوں اور ان کی الوہيت کے قائل افراد کو نذر آتش کيا ہے ليکن ان روایتوں کے مقابلے ميں ایک دوسری روایت بھی موجود ہے جو کہتی ہے:

امير المؤمنين عليہ السلام نے ان لوگوں کو جلایا جو ملحد و زندیق تھے نہ غالی چنانچہ امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے : کچھ زنادقہ اور ملحدوں کو بصرہ سے حضرت علی عليہ السلام کی خدمت ميں لایا گيا علی عليہ السلام نے انهيں اسلام کی دعوت دی ، ليکن انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کي صحيح بخاری ميں آیا ہے کہ چند کافروں کو اميرالمؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں لایا گيا اور حضرت نے انهيں جلادیا۔ ابن حجر فتح الباری ميں نقل کرتا ہے کہ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے زندیقيوں کو نذر آتش کر دیا یعنی مرتدوں کو احمد بن حنبل سے نقل کيا گيا ہے : بعض زندیقيوں کو امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس لایا گيا کہ ان کے ہمراہ کچھ کتابيں بھی تھيں امير المؤمنين عليہ السلام کے حکم سے آگ تيار کی گئی اس کے بعد انهيں ان کی کتابوں کے ہمراہ جلا دیا گيا ۔

اس عمل کا محرک کيا تھا ؟

اس قسم کی ضد و نقيض روایتيں سے یہ حقيقت معلوم ہوتی ہے کہ جلانے کی روداد ميں ایک حقيقت موجود تھی کہ حسبِ ذیل جيسی بعض روایتيں اس کی وضاحت کرتی ہيں ۔

امام صادق عليہ السلام نے اپنے والد امام باقر عليہ السلام اور انہوں نے امام سجاد عليہ السلام سے نقل کيا ہے : ایک شخض امير المومنين عليہ السلام کے پاس لایا گيا جو پہلے عيسائی تھا بعد ميں مسلمان ہوا اس کے بعد دوبارہ عيسائيت کی طر ف چلا گيا۔

اميرالمؤمنين عليہ السلام نے حکم دیا کہ اعرضوا عليہ الهوان ثلاثة ایام- ( اسے تين دن مہلت دو اور اسے ذلت کی حالت ميں رکھو) اور ان تين دنوں کی مدت تک حضرت عليہ السلام اسے اپنے پاس سے کهانا بھيجتے تھے ، چوتھے دن زندان سے اپنے پاس بلایا اور اسے اسلام کی دعوت دی ، ليکن وہ اسلام قبول کرنے پر حاضر نہيں ہوا امام نے اسے ( مسجد کے صحن ميں قتل کر دیا۔ عيسائی جمع ہوئے اور حضرت سے درخواست کی کہ ایک لاکه درہم کے ساتھ مقتول کی لاش کو ان کے حوالہ کر دیں ۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے قبول نہيں کيا اور حکم دیا کہ اس کے جسد کو نذر آتش کردیا جائے اس کے بعد فرمایا : ميں ہرگز ان کا اس امر ميں تعاون نہيں کروں گا کہ شيطان جنهيں حکم دیتا ہو ۔

ایک دوسری روایت ميں آیا ہے کہ حضرت عليہ السلام نے اس جملہ کا بھی اضافہ کيا :

ميں ان ميں سے نہيں ہوں جو کافر کو جسد بيچ ڈالتے ہيں ۔ بعض روایتوں ميں آیا ہے کہ امام عليہ السلام نے مرتدوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے اجساد کو نذر آتش کر دیا۔

بہر حال جو روایتيں ہم نے اوپر نقل کی ہيں ان سے امير المؤمنين عليہ السلام کے طریقہ کار کا راز ان افرادکے بے روح اجساد کو جلانے کی علت واضح ہوجاتی ہے اوریہ معلوم ہوتا ہے:

ا ولاً: جو لوگ علی عليہ السلام کے حکم سے جلائے گئے ہيں ، ملحد یا مرتد تھے ، نہ غلو کرنے والے افراد۔

ثانياً: ان کو قتل کرنے کے بعد انکے بے جان بدن جلائے گئے ہيں نہ قتل کرنے سے پہلے انهيں ارتدادکی حد کے طور پر جلایا گيا ہے ۔

ثالثا : علی عليہ السلام کے اس عمل کا محرک اس امر کو روکنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ملحد و مرتد افرادکی قبریں ان کے حاميوں اور طرفداروں کی طرف سے مورد احترام قرار پائيں اور بصورت بت ان کی پوجا کی جائے ۔ پھر بھی ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ پھيلانے والوں نے ان روایتوں ميں تحریف کرکے انهيں افسانوں کی صورت ميں پيش کيا ہے کہ عقل جسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے ۔

دو متضاد قيافے عبد الله بن سباکے بارے ميں شيعہ کتابوں ميں نقل ہوئی روایتيں دو حصوں ميں تقسيم ہوتی ہيں عبدا لله بن سبا ان دو قسم کی روایتوں ميں دو مختلف قيافوں کی صورت ميں ظاہر ہوتا ہے : ایک جگہ پر ایک ایسے قيافہ ميں رونما ہوتا ہے کہ علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کر کے ان کی الوہيت اور خدائی کا قائل ہوا ہے اور دوسر ی جگہ پر ایک ایسے شخص کے قيافہ ميں ظاہر ہوا ہے جس نے پروردگار کے منزہ اور مقدس ہونے کے بارے ميں غلو کيا ہے ۔

اور خوارج کے مانند جو خود اس کے گمان ميں حریم قدس ربوبيت کے بارے ميں سزاوار نہيں ہے اس سے انکار کرتا ہے ۔

یہ دو قسم کی روایتيں ایک دوسرے کی متناقض اور مخالف ہيں اور ان کی ایک قسم دوسری قسم کو جھٹلاتی ہے ان روایتوں کی پہلی قسم صرف رجال کشی اور اس سے نقل کی گئی کتابوں ميں ملتی ہيں ہم نے گزشتہ صفحات ميں رجال کشی اور اس کتاب کی حيثيت کے بارے ميں علماء کی رائے اور ان کا عقيدہ نقل کيا ہے اب ہم عبد لله بن سبا کے بارے ميں اس کے ان دو متضاد قيافوں کے ساتھ اپنا نظریہ پيش کرتے ہيں :

عبد الله بن سبا کے بارے ميں ہمارا آخری نظریہ:

عبدا لله بن سبا قيافہ اول ميں :

اس سلسلہ ميں ہمارے نظریے اور عقيدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کا شخص یا قيافہ کبھی وجود نہيں رکھتا تھا ان روایتوں کے حصہ ميں ذکر ہوئے قيد و شرط و خصوصيات کے ساتھ عبد الله بن سبا نامی کسی شخص کی کوئی حقيقت نہيں ہے بلکہ مسموم افکار نے اس قسم کی شخصيت کو خلق کيا ہے اور مرموز و ظالم ہاتھوں نے اس افسانہ کو تاریخ اسلام ميں جعل کيا ہے اور بعدميں لوگوں نے نقل کرکے اسے پرورش و وسعت بخشی ہے یہاں تک اس نے ایک تاریخی حقيقت کی صورت اختيار کرلی ہے اور نا قابل انکار حقيقت کے روپ ميں منتشر ہوا ہے جس مؤلف نے بھی اس افسانہ کو اپنی کتاب ميں درج کيا ہے اس نے انهيں دو مآخذ یعنی افکار مسمو م اور عوام کے افواہ سے نقل کيا ہے۔

عبدلله ابن سبا قيافہ دوم ميں :

انشاء الله اگلی فصل ميں اس سلسلہ ميں حقيقت کے رخ سے پردہ اٹھا کر بيشتر وضاحت کریں گے

غاليوں کی احادیث کی تحقيق کا خلاصہ :

جو کچھ ہم نے کہا وہ ان احادیث ور روایتوں کے بارے ميں تھا جن ميں عبد الله بن سبا کا نام آیا ہے ليکن، وہ احادیث جو غاليوں کے بارے ميں ہيں اور ان ميں عبدا لله بن سبا کا نام نہيں ایا ہے ان ميں سے ایک رجال کشی ميں ہے اور وہ وہی آٹھویں حدیث ہے کہ کہتا ہے : امام اپنی بيوی ( ام عمرو عنزیہ ) کے گھر ميں تھے کہ کئی غاليوں کو انکی خدمت ميں لایا گيا۔

اس روایت کے ضعف و جعلی ہونے ميں ا تنا ہی کافی ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم نے کہاکہ کسی رجال شناس ، حالات کی شرح لکھنے والے ، کسی مؤرخ و حدیث شناس نے اميرالمؤمنين کيلئے قبيلہ “عنزیہ ” کی “ ام عمرو” نامی بيوی نہيں ذکر کيا ہے تا کہ غاليوں کو اس وقت لایا جاتا جب حضرت اپنی اس بيوی کے پاس تھے !!

ان روایتوں ميں سے ایک اورر وایت ایک مرد سے نقل کی گئی ہے کہ ا س مرد کا نام ذکر نہيں ہوا ہے اور در حقيقت اس روایت کا راوی اور ناقل معلوم نہيں ہے تا کہ اس کے اعتبار یا عدم اعتبار اور صحيح یا غلط ہونے کے سلسلے ميں گفتگو کی جاسکے ۔ اس کے علاوہ خود یہ روایتيں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہيں اور ایک کا مضمون دوسرے کے مضمون کو ایسے جھٹلاتا ہے کہ تهوڑی سی توجہ اور دقت کرنے سے ان کے مضمون کا بے بنياد اور باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔

ان کے علاوہ ان روایتوں کا مجموعی مضمون ان روایتوں سے تناقض و اختلاف رکھتا ہے جو مرتد کی سز اوار حد قتل کو معين کرتی ہيں نہ ان کے جلانے اور نذر آتش کرنے کو ۔

اس سے بالاتر یہ ہے کہ اگر یہ روایتيں اور یہ تاریخی حوادث اس اہميت کے ساتھ حقيقت ہوتے تو مشہور و معروف مورخين سے کيسے مخفی رہ گئے ہيں اور انہوں نے ان کے بارے ميں کسی قسم کا اشارہ تک نہيں کيا ہے جبکہ ان سب نے ابوبکر کی طرف سے ‘ ‘

فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرنے کے حکم کے بارے ميں نقل کيا ہے ۔

شيعوں کی کتابوں ميں ابن سبا اور غاليوں کی احادیث کی پيدائش کا خلاصہ جو کچھ ہم نے گزشتہ صفحات او ر سطروں ميں بيان کيا اس سے واضح اور قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عبد الله بن سبا اور غاليوں کے بارے ميں روایتيں جو ہمارے بحث و گفتگو کاموضوع تھيں ، کلی طور پر جعلی اور جھوٹی روایتيں ہيں کہ جو ہماری کتابوں ميں داخل ہوئی ہيں اور ہماری صحيح روایتوں سے ممزوج ہوچکی ہيں اور ان جھوٹی روایتوں کی پيدائش اور ان کے شيعوں کی کتابوں ميں وارد ہونے کے بارے ميں ہم نے اس سے پہلے اشارہ کيا ہے کہ غير متدین افراد نے اساتذہ اور شيخ کی کتابوں ميں جعلی رایتوں کو بعض اوقات مخلوط کيا ہے اور انهيں قابل اعتماد کتابوں کے ذریعہ اپنے چھوٹے اور بے بنياد مطالب کو لوگوں کے درميان منتشر کيا ہے اور دوسری جانب سے شيعہ علماء اور دانشوروں نے فقہ اور احکام کے علاوہ دیگر موضوعات سے مربوط روایتوں کی طرف خاص توجہ نہيں دی ہے اور اس قسم کی روایتوں کی بحث وتحقيق نہيں کی ہے اور دوسری طرف سے فتنوں اور بغاوتوں کی وجہ سے اور سيرت تاریخ ، تشریح اور علوم و فنون اور علمی آثار ميں عدم توجہ کی وجہ سے ان کے نابود ہونے کے نتيجہ ميں اصلی کتابوں کی جگہ ناقابل اعتماد مطالب آ گئے ہيں ۔

یہ تھا، رجال و احادیث کی کتابوں ميں عبدا لله بن سبا کا قيافہ اور اس کے بارے ميں روایتوں کا خلاصہ ، کتاب کے اگلے حصہ ميں ہم ادیان و عقائد (ملل و نحل) ميں اس کے قيافہ کا مشاہدہ کریں گے ۔

حصہ اول کے مآخذ

١۔ اختيار رجال کشی : (ص ١٠ ۶ ۔ ١٠٨ ) عبد الله بن سبا کے بارے ميں کشی کی پنجگانہ روایتيں ۔

٢۔ مصفی المقال : ترجمہ رجال کشی : ص ٣٧ ۵ ۔

٢٨٨ / ٣۔ حاشيہ الذریعہ : ۴

٣٨ ۵/ ۴ ۔ الذریعہ : ٣

٢ ۴ ٩ ۔ ٢ ۵ ١ باب نفی الغلو فی النبی و الائمہ / ۵ ۔ بحار الانوار : طبع کمپانی ٧

۴۵۶ ۔ باب حکم الغلاة و القدریہ / ۶ ۔ وسائل : ٣

٢ ۶۴ باب الرد علی الغلاة و القدریہ / ٧۔ مناقب : ١

٨۔ رجال نجاشی : ص ٢٨٨

٩۔ مصفی المقال : شرح حال حائری ١٠ ۔ رجال نجاشی : ٢٧٠

٢١٣ ، خصال، / ١١ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : بطور مرسل از امير المؤمنين عليہ السلام ١ ۴

٣٢٢ حدیث ١٧١ ، وسائل نقل از من لا یحضرہ الفقيہ و تہذیب و / ص ۶ ٢٨ حدیث ۴ ٠٠ / تہذیب ٢

۵ ١١ / ١١٨ ، و حدائق ٨ / علل باب ٢٨ از ابواب تعقيب ۴ ٨١ وافی در باب فضل تعقيب ۵

۶ ٣ ۵ شيخ طوسی کی امالی کی نقل کے مطابق اور ابن / ١٢ ۔ بحار : طبع کمپانی ١٩

حجر نے بھی ‘ لسان الميزان ” ميں عبد الله بن سبا کے حالات کی تشریح ميں ،ميسب کی بات تک ( وہ کہتا ہے خدا و پيغمبر سے جھوٹ کی نسبت دیتا تھا ) اور بقيہ مطلب کو نا قص چھوڑا ہے ۔

١٣ ۔ غيبت نعمانی : ص ١ ۶ ٧ ۔ ١ ۶ ٨ باب ذکر جيش الغضب ١ ۴ ۔اختيار معرفة الرجال : ص ٣٠٧ ۔ ٣٠٨ حدیث ۵۵۶ اور ص ٧٢ پر حدیث ١٢٧ خلاصہ کے طور پر ۔

٢ ۵ ٩ ۔ ٢ ۶ ٠ حدیث ٢٣ باب مرتد ، من لا یحضرہ / ١ ۵ ۔ اختيار معرفة الرجال : ١٠٩ و کافی ٧

٢ ۵ ٠ باب نفی الغلو و حکم قتال کے باب / ٧٠ باب حد مرتد ، بحار ٧ / ٩٠ ، ووافی : ٩ / الفقيہ ٣

ميں رجال کشی ميں آیا ہے۔

٢ ۵۴ / ١٣٨ و استبصار ۴ / ١ و تہذیب ١ ٢ ۵ ٧ اور حدیث ٨ / ١ ۶ ۔ کافی : باب حد المرتد ، ٧

٢ ۴ ٩ ، و مستدرک وسائل / ٢ ۶۵ ، و بحار طبع کمپانی : ٧ / ١٧ ۔ مناقب ابن شہر آشوب : ١

٢ ۴۴ ۔ /٣

١ ۴ ٠ حدیث ١٣ باب حد مرتد / ٩١ ، تہذیب ١٠ / ١٨ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : ٣

٢٠٢ / ١٩ ۔ تاریخ اسلام ، ذہبی : ٢

٢٢١ حدیث اول / ٢١٧ و ٢٨٢ حدیث ٢ ۵۵ ٢ و سنن ابی داؤد ٢ / ٢٠ ۔ مسند احمد حنبل : ١

از باب “حکم من ارتداد” کتاب حدود ٢٣٢ / ٢١ ۔ سيرة اعلام النبلاء ذہبی ، ابن عباس کی شرح ميں ٣

٢ ۴ ٣ باب حکم الغلاة و القدریہ اس نے کتاب عيون المعجزات سے / ٢٢ ۔ صحيح ترمذی : ۶

نقل کيا ہے ۔

٢ ۴۴ فضائل ابن شاذان سے نقل کيا ہے ۔ / ٢ ۴ ۔ مستدرک وسائل الشيعہ : ٣

١١ ۵ ، کتاب الجہاد باب لایعذب بعذاب الله / ٢٩ ۵ ، صحيح بخاری : ٢ / ٢ ۵ ۔ بدایة المجتہد : ٢

٨ ۴ ٨ حدیث ٢ ۵ ٣ ۵ باب / ١٣٠ از صحيح بخاری باب استتابة المرتد ین و سنن ابن ماجہ : ٢ / و ١ ۴

٢ ۴ ٢ ميں بھی آیا ہے ۔ / المرتد من دینہ از کتاب حدود و سنن ترمذی : ۶

١٣٨ ، حدیث ١٧ باب /١٠، ١٣٨ / ٢ ۵ ٨ حدیث ١٧ باب حد مرتد ، تہذیب ١٠ / ٢ ۶ ۔ کافی : ٧

٢ ۵۵ حدیث ۶ ۔ / حد مرتد و استبصار : ۴

۵ ۴ ٨ / ٢٧ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : ٣

١٣٧ حدیث ۴/ باب حد مرتد، / ٢ ۵۶ حدیث ٣/ باب حد مرتد ، تہذیب : ١٠ / ٢٨ ۔ کافی : ٧

١٩ ابواب حد مرتد۔ / ٢ ۵ ٣ حدیث ۴ باب حد مرتد ، وافی ٧٠ / استبصار ۴

٢ ۵۴ و / ١٣٩ ، حدیث ١٠ استبصار : ۴ / ٢ ۵۶ باب حد المرتد ، تہذیب ١٠ / ٢٩ ۔ کافی ٧

٧٠ / وافی ٩

١٣٩ ، حدیث ١١ / ٩١ ، تہذیب ١٠ / ٣٠ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ ٣

٧٠ / باب حد مرتد ، وافی ٩

٧٠ / ٢ ۵ ٨ ح ۵ باب حد مرتد و صفحہ ٢ ۵ ٧ ح ۶ خلاصہ کے طور پر ، وافی ٩ / ٣١ ۔ کافی : ٧

٣٢ صفين طبع مصر : ۴ ٣

١٢ ۶ سے نقل کرکے۔ / ٣٣ ۔ التعریف : تاليف وحيد بہبانی ( وفات ١٢ ۵ ٩ ) الذریعہ ٢

٣ ۴ ۔ معجم البلدان : تحت لغت “ بين السورین ” یہ کتاب شيخ طوسی کے ہاتھ ميں تھی، انهوں نے فتنہ و حادثہ کے بعد نجف مہاجرت کی اور وہاں کے حوزہ علميہ کا ادارہ کيا جو آج تک برقرار ہے ۔

٣ ۵ ۔ یہ دو روایتيں اختيار معرفة الرجال ص ٢٢ ۴ ۔ ٢٢ ۵ نمبر ۴ ٠١ و ۴ ٠٢ ميں آئی ہيں ۔

٢ ۴ ٣ نے دعائم الاسلام و جعفریات سے نقل کيا ہے ۔ / ٣ ۶ ۔ مستد ک وسائل الشيعہ : ٣

١٣٠ باب حکم المرتد ، کتاب استتابة المرتدین ۔ / ٣٧ ۔ صحيح بخاری : ۴

۴ ٩١ حدیث لا یعذب بعذاب الله کی شرح ميں ۔ / ٣٨ ۔ فتح الباری : ۶

٣٢٢ پر درج / ٢٨٢ نمبر ٢ ۵۵ ١ مسند احمد ١ / ۴ ٩٢ ، مسند احمد ١ / ٣٩ ۔ فتح الباری : ۶

ہوا ہے ۔

٢ ۴ ٣ حدیث ٢ باب “ ان المرتد یستتاب بثلاثة ایام ” جعفریات سے / ۴ ٠ ۔ مستد رک وسائل : ٣

نقل کيا ہے ۔

٢ ۴ ٣ حدیث ۴/ باب “حکم الزندیق و الناصب ” دعائم الاسلام / ۴ ١ ۔ مستد رک وسائل : ٣

سے نقل کيا ہے ۔

۴ ٢ ۔ ہماری کتاب“ خمسون ماة صحابی مختلق ” فصل “ زندقہ ” ميں مقدماتی اور ابتدائی بحث کی طرف رجوع کيا جائے ۔

دوسری فصل

عبدا لله بن سبا ، ملل اور فرق کی نشاندہی کرنے والی کتابوں ميں عبدالله بن سبا اور ابن سودا ملل و فرق کی کتابوں ميں ۔

ملل و فرق کی کتابوں ميں سبائيوں کے گروہ۔

ا بن سبا، ابن سودا اور سبيہ کے بارے ميں بغدادی کا بيان۔

ا بن سبا و سبيئہ کے بارے ميں شہرستانی اور اسکے تابعين کا بيان ۔

عبدا لله بن سبا کے بارے ميں ادیان و عقاید کے علماء کا نظریہ ۔

عبدالله بن سبا کے بارے ميں ہمارا نظریہ۔

نسناس کا افسانہ۔

ن سناس کی پيدائش اور اس کے معنی کے بارے ميں نظریات ۔

مباحث کا خلاصہ و نظریہ ۔

ا س حصہ کے مآخذ۔

عبد الله بن سبا و ابن سودا ملل اور فرق کی نشاندهی کرنے والی کتابوں ميں

یرسلون الکلام علی عواهنه

ادیان کی بيوگرافی پر مشتمل کتابيں لکھنے والے سخن کی لگام قلم کے حوالے کرتے ہيں اور کسی قيد و شرط کے پابند نہيں ہيں ۔

مؤلف

ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد کے حصہ “ پيدائش عبدا لله بن سبا ” ميں مؤرخين کے نظر ميں عبدالله بن سبا کے افسانہ کا ایک خلاصہ پيش کيا گزشتہ حصہ ميں بھی ان اخبار و روایتوں کو بيان کرکے بحث و تحقيق کی جن ميں عبدا لله بن سباکا نام آیا ہے ۔

ہم نے اس فصل ميں جو کچھ ملل و فرق کی نشاندہی کرنے والی کتابوں ميں عبدا لله بن سبا ، ابن سوداء اور سبيہ کے بارے ميں بيان کرنے کے بعد ان مطالب کو گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران اسلامی کتابوں اورمآخذ ميں نقل ہوئے ان کے مشابہ افسانوں سے تطبيق و موازنہ کيا ہے اس کے بعد گزشتہ کئی صدیوں کے دوران ان تين الفاظ کے معنی و مفہوم ميں ایجاد شدہ تغير و تبدیليوں کے بارے ميں بھی ایک بحث و تحقيق کرکے اس فصل کو اختتام تک پہنچایا ہے۔

علمائے ادیان کا بيان سعد بن عبد الله اشعری قمی ( وفات ٣٠١ هء) اپنی کتاب “ المقالات و الفرق ” ميں عبد الله بن سبا کے بارے ميں کہتا ہے:

”وہ پہلا شخص ہے جس نے کھلم کھلا ابوبکر ، عمر ، عثمان ، اور اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم پر تنقيد کی اور ان کے خلاف زبان کهولی اور ان سے بيزاری کا اظہار کيا اس نے دعوی کيا کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے اسے یہ طریقہ کار اپنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس راہ ميں کسی قسم کی سہل انگاری اور تقيہ سے کام نہ لے اور سستی نہ دکھائے جب یہ خبر علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ اسے پکڑ

کر ان کے پاس حاضر کيا جائے جب اسے ان کے پاس لایا گيا تو روداد کے بارے ميں اس سے سوال کيا اور اس کے اپنائے گئے طریقہ کار اور دعوی کے بارے ميں ا س سے وضاحت طلب کی ،جب ابن سبا نے اپنے کئے ہوئے اعمال کا اعتراف کيا تو امير المؤمنين عليہ السلام نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس وقت ہر طرف سے حضرت علی عليہ السلام پراعتراض کی صدائيں بلند ہوئيں کہ اے امير المؤمنين! کيا اس شخص کو قتل کر رہے ہيں جو لوگوں کو آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ محبت اور آپ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور مخالفت کی دعوت دیتا ہے ؟ جس کی وجہ سے حضرت علی عليہ السلام نے اس کے قتل سے چشم پوشی کی اور اسے مدائن ميں جلا وطن کر دیا“

اس کے بعد اشعری کہتا ہے:

” اور بعض مؤرخيں نے نقل کيا ہے کہ عبد الله بن سبا ایک یہودی تھا اس کے بعد اس نے اسلام قبول کيا اور علی عليہ السلام کے دوستداروں ميں شامل ہو گيا وہ اپنے یہودی ہونے کے دوران حضرت موسی کے وصی “ یوشع بن نون ” کے بارے ميں شدید اور سخت عقيدہ رکھتا تھا(۱)

ا شعری اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے : “ جب علی عليہ السلام کی وفات کی خبر مدائن ميں عبدالله بن سبا اور اس کے ساتھيوں نے سنی تو انہوں نے مخبر سے مخاطب ہوکر کہا؛ اے دشمن خدا ! تم جھوٹ بولتے ہو کہ علی عليہ السلام وفات کر گئے۔ خدا کی قسم اگر ان کی کهوپڑی کو ایک تھيلی ميں رکھ کر ہمارے پاس لے آؤا ور ستر ( ٧٠ ) آدمی عادل ان کی موت کی شہادت دیں تب بھی ہم تيری بات کی تصدیق نہيں کریں گے کيونکہ ہم جانتے ہيں کہ علی عليہ السلام نہيں مریں گے نہ ہی مارے جائيں گے۔ جی ہاں ! وہ اس وقت تک نہيں مریں گے جب تک کہ تمام عرب اور پوری دنيا پر حکومت نہ کریں ”۔

____________________

١۔ اشعری سے وہی اشعری مقصود ہے کہ مؤرخين نے سيف بن عمر ( وفات ١٧٠ ه ) سے ليا ہے اور ہم نے اس مطلب کو اسی کتاب کی جلد اول کے اوائل ميں تحقيق کی ہے ۔

عبدا لله بن سبا اور اس کے ماننے والے فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنے مرکبوں کو علی کے گھر کے باہر کھڑا کر دیا اس کے بعد حضرت کے گھر کے دروازے پر ایسے کھڑے رہے جيسیان کے زندہ ہونے پر اطمينان رکھتے ہوں اور ان کے حضور حاضر ہونے والے ہوں اور اس کے بعد داخل ہونے کی اجازت طلب کی ۔ علی عليہ السلام کے اصحاب اور اولاد ميں سے جو اس گھر ميں موجود تھے ، نے ان افرادکے جواب ميں کہا؛ سبحان الله ! کيا تم لوگ نہيں جانتے ہو کہ اميرالمؤمنين مارے گئے ہيں ؟ انہوں نے کہا: نہيں بلکہ ہم یقين رکھتے ہيں کہ وہ مارے نہيں جآئیں گے اور طبيعی موت بھی نہيں مریں گے یہاں تک وہ اپنی منطق و دليل سے تمام عربوں کو متاثر کر کے اپنی تلوار اور تازیانوں سے ان پر مسلط ہوں گے وہ اس وقت ہماری گفتگو کو سن رہے ہيں اور ہمارے دلوں کے راز اور گھروں کے اسرار سے واقف ہيں اور تاریکی ميں صيقل کی گئی تلوار کے مانند چمکتے ہيں “

اسکے بعد اشعری کہتا ہے : “ یہ ہے “ سبيئہ ” کا عقيدہ اور مذہب اور یہ ہے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں “حرثيہ ” کا عقيدہ “ حرثيہ ” عبد الله بن حرث کندی کے پيرو ہيں ۔ وہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں معتقد تھے کہ وہ کائنات کے خدا ہيں اپنی مخلوق سے ناراض ہو کر ان سے غائب ہو گئے ہيں اور مستقبل ميں ظہور کریں گے“

ميں اشعری کی اسی بات کی طرف / ابن ابی الحدید بھی شرح نہج البلاغہ ( ١ ۴ ٢ ۵ )

اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

”اصحاب مقالات نے نقل کيا ہے کہ“

اشعری نے اپنی کتاب ميں “ سبيئہ ” کے بارے ميں ا س طرح داستان سرائی کی ہے ،

قبل اس کے کہ اپنی بات کے حق ميں کوئی دليل پيش کرے اور اپنے افسانہ کيلئے کسی منبع و مآخذ کا ذکر کرے۔

نجاشی ، اشعری کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے:

”اس نے اہل سنت سے کثرت سے منقولات اور روایتيں اخذ کی ہيں اور روایات اور احادیث کو حاصل کرنے کی غرص سے اس نے سفر کئے ہيں اور اہل سنت کے بزرگوں سے ملاقاتيں کی ہيں “

بہر حال اشعری نے اپنی کتاب مقالات ميں ا بن سبا کے بارے ميں جو کچھ درج کيا ہے اسکے بارے ميں کوئی مآخذ و دليل پيش نہيں کيا ہے۔

اسی طرح مختلف اقوام و ملل کے - ملل ونحل کے عقائد و ادیان کے بارے ميں کتاب لکھنے والوں کی عادت و روش یہ رہی ہے کہ وہ اپنی گفتگو کی باگ ڈور کو آزاد چھوڑ کر قلم کے حوالے کر دیتے ہيں اور اپنی بات کے سلسلہ ميں سند و مآخذ کے بارے ميں کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس نہيں کرتے ہيں مآخذ اور دليل کے لحاظ سے اپنے آپ کو کسی قيد و شرط کا پابند نہيں سمجھتے ہيں اپنے آپ کو کسی بھی منطق و قواعد کا پابند نہيں جانتے ہيں چنانچہ ملاحظہ فرمایا : اشعری نے ایک اور گروہ کو “ حربيہ ” یا “ حرثيہ ” کے نام سے عبدا لله بن حرث کندی سے منسوب کرکے گروہ سبئيہ ميں اضافہ کيا ہے ۔

ابن حزم عبدالله بن حرث کے بارے ميں کہتا ہے:

حارثيہ جو رافضيوں کا ایک گروہ ہے اس کے افراد اس سے منسوب ہيں وہ ایک غالی و کافر شخص تھا اس نے اپنے ماننے والوں کے ليے دن را ت کے دوران پندرہ رکعت کی سترہ نمازیں واجب قرار دی تھيں اس کے بعد توبہ کرکے اس نے خوارج کے عقيدہ “ صفریہ ” کو اختيار کيا ”۔

نوبختی ( وفات ٣١٠ هء) نے بھی اپنی کتاب “ فرق الشيعہ ” ميں اشعری کی اسی بات کو درج کيا ہے کہ جسے ہم نے پہلے نقل کيا ۔ البتہ اشعری کے بيان کے آخری دو حصے ذکر نہيں کئے ہيں جس ميں وہ کہتا ہے: امام کی رحلت کی خبر کی تحقيق کيلئے سبائی ان کے گھر کے دروازے پر گئے ” اس کے علاوہ اپنی بات کا مآخذ جو کہ “ مقالات اشعری ” ہے ، کا بھی ذکر نہيں کيا ہے ۔

علی ابن اسماعيل ( وفات ٣٣٠ هء) اپنی کتاب “ مقالات اسلاميين ” ميں کہتا ہے:

” سبائيوں کا گروہ ، عبدالله بن سبا کے ماننے والے ہيں کہ ان کے عقيدہ کے مطابق علی ابن ابيطالب عليہ السلام فوت نہيں ہوئے ہيں ، اور وہ قيامت سے پہلے دوبارہ دنيا ميں واپس آئيں گے اور ظلم و بے انصافی سے پُر، کرہ ارض کو اس طرح ، عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے لبریز ہو گی اور نقل کيا گيا ہے کہ ابن سبا نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے کہا: تم وہی ہو (انت انت )

علی بن اسماعيل اضافہ کرتا ہے کہ سبائيوں کا گروہ ، رجعت کا معتقد ہے اور “ سيد حميری ” سے نقل ہوا ہے کہ اس نے اپنا معروف شعر اسی عقيدہ کے مطابق کہاہے ، جہاں پر کہتا ہے:

الی یوم یؤوب الناس فيه

الی دنياهم قبل الحساب

ميں اس دن کے انتظار ميں ہوں کہ لوگ اس دن پھر سے ان دنيا ميں واپس آئيں گے ،

اس سے قبل کہ حساب اور قيامت کا دن آئے اس کے بعد کہتا ہے :

”یہ لوگ جب رعد و برق کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين “!

ملل و نحل کی کتابوں ميں سبائيوں کے فرقے

وهولاء کلهم احزاب الکفر

سبائی، سب اہل کفر کے گروہوں ميں سے ہيں ۔

علمائے ادیان ا بو الحسن ملطی ( وفات ٣٧٧ هء) اپنی کتاب “ التنبہ و الرد ” کی فصل “ رافضی اور ان کے عقاید ” ميں کہتا ہے:

” سبائيوں اور رافضيوں کا پہلا گروہ ، غلو کرنے والا اور انتہا پسند گروہ ہے ،بعض اوقات انتہا پسند رافضی سبائيوں کے علاوہ بھی ہوتے ہيں انتہا پسند اور غلو کرنے والے سبائی ،عبدا لله بن سباکے پيرو ہيں کہ انہوں نے علی عليہ السلام سے کہا: تم وہی ہو ! علی عليہ السلام نے ان کے جواب ميں فرمایا: ميں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا: وہی خدا اور پروردگار ! علی عليہ السلام نے ان سے توبہ کا مطالبہ کيا ليکن انہوں نے توبہ قبول کرنے سے انکار کيا ۔ اس کے بعد حضرت علی عليہ السلام نے ایک بڑی آگ آمادہ کی اور انهيں اس ميں ڈال کر جلا دیا ،

اور ان کو جلاتے ہوئے یہ رجز پڑهتے تھے :

لما رایت الامر امراً منکراً

اججت ناری و دعوت قنبراً

جب ميں کسی برے کام کا مشاہدہ کرتا تو آگ کو جلا کر قنبر کو بلاتا تھا تا آخر ابيات ابو الحسن ملطی اس کے بعدکہتا ہے :

اس گروہ کے آج تک کچھ لوگ باقی بچے ہيں کہ یہ لوگ زیادہ تر قرآن مجيد کی اس آیت کی تلاوت کرتے ہيں :

( اِنَّ علَينَا جَمعَْهُ وَ قُر نَْاٰهُ فَاِذَا قَرَانَْاهُ فَاتَّبِع قُر نَْاٰهُ ) (۱)

یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑهوائيں ، پھر جب ہم پڑهادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دهرائيں ۔

اور یہ گروہ معتقد ہے کہ علی ان ابيطالب عليہ السلام نہيں مرے ہيں اور انهيں موت نہيں آسکتی ہے اور وہ ہميشہ زندہ ہيں اور کہتے ہيں : جب علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر ان کو ملی تو انہوں نے کہا: علی عليہ السلام نہيں مریں گے، اگر اس کے مغز کو ستر تھيلوں ميں بھی ہمارے پاس لاؤ گے ، تب بھی ہم ان کی موت کی تصدیق نہيں کریں گے ! جب ان کی بات کو حسن ابن علی عليہ السلام کے پاس نقل کيا گيا تو انہوں نے کہا: اگر ہمارے والد نہيں مرے ہيں تو ہم نے کيوں ان کی وراثت تقسيم کی اور ان کی بيویوں نے کيوں شادی کی ؟

____________________

١۔ سورہ قيامت : آیت ١٧ و ١٨ ۔