عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 6038
ڈاؤنلوڈ: 846


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6038 / ڈاؤنلوڈ: 846
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

۵۔ ازہری : ابو منصور محمد بن احمد بن ازہر علمائے لغت ميں سے ہے کہتے ہيں لغت عربی کو جمع کرنے کيلئے ٣٨ / اس نے تمام عرب نشين علاقوں کا سفر کيا ہے ۔ ٣٧٠ ميں وفات پائی ہے اس کی زندگی کے حالات اللباب ١ميں آئے ہيں ۔

” نسناس ایک مخلوق ہے جو قيافہ اور ہيکل کے لحاظ سے انسان جيسے ہيں ليکن جنس بشر سے نہيں ہيں بعض خصوصيات ميں انسان سے مشابہ ہيں اور بعض دوسرے خصوصيات ميں انسان سے مشابہ نہيں ہيں ۔

۶ ۔ جوہری(۱) صحاح اللغة ميں یوں کہتا ہے : نسناس ایک قسم کی مخلوق ہے جو ایک ٹانگ پر چلتے اور اچهل کود کرتے ہيں ۔

٧۔ زبيدی نے ‘ ‘ ابی الدقيش ”(۲) سے “ التاریخ ” ميں یوں نقل کيا ہے کہ نسناس سام بن سام کی اولاد تھے جو قوم عاد و ثمود تھے ليکن نسناس عقل نہيں رکھتے ہيں اور ساحل هند کے نيزاروں (جهاڑیوں )ميں زندگی گذارتے ہيں عرب اور صحرا نشين انهيں شکار کرتے ہيں ا ور ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہيں نسناس عربی زبان ميں بات کرتے ہيں نسل کی نسل بڑهاتے ہيں اور شعر بھی کہتے ہيں ، اپنے بچوں کے نام عربی ميں رکھتے ہيں ۔

٨۔ مسعودی کہتا ہے : نسناس ایک سے زیادہ آنکھ نہيں رکھتے۔ کبھی پانی سے باہر آتے ہيں اور گفتگو کرتے ہيں اور اگر کسی انسان کو پاتے ہيں تو اسے قتل کر ڈالتے ہيں ۔

٩۔ نہایة اللغة ” ، ‘ ‘ لسان الميزان ” ، “ قاموس ” اور ‘ التاج” نامی لغت کی معتبر و قابل اعتماد چار کتابوں کے مؤلفيں نے لغت “نسناس” کے ضمن ميں اس روایت کو نقل کيا ہے کہ :قوم عاد کے ایک قبيلہ نے اپنے پيغمبر کی نافرمانی کی تو خداوند عالم نے انهيں مسخ کرکے نسناس کی صورت ميں تبدیل کر دیاکہ وہ ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ رکھتے ہيں اوروہ ا نسان کا نصف بدن رکھتے ہيں راستہ چلتے وقت پرندوں کی طرح اچهل کود کرتے ہيں اور کهانا کهاتے وقت بھی حيوانوں کی طرح چرتے ہيں ۔

١٠ ۔ قاموس اور شرح قاموس التاج ميں آیا ہے : کبھی کہتے ہيں کہ نسناس کی وہ نسل نابود ہوچکی ہے جو قوم عاد سے مسخ ہوئی تھی ۔

کيونکہ دانشوروں نے تحقيق کی ہے کہ مسخ شدہ انسان تين دن سے زیادہ زندہ نہيں رہ سکتا ہے ليکن اس قسم کے نسناس --- جنہيں بعض جگہوں پر عجيب قيافہ اور خلق ميں دیکھا گيا ہے --- کوئی اور مخلوق ہے اور شاےد نسناس تين مختلف نسل ہيں : ناس ،

نسناسی ، اور نسانس نوع آخر کی مؤنث اور جنس مادہ ہے!

١١ ۔پھر سے “ التاریخ ” ميں “ عباب ” سے نقل کرتا ہے کہ نسل نسناس نسل نسناس سے عزیز تر و شریف تر ہے پھر ابو ہریرہ سے نسناس کے بارے ميں ایک حدیث نقل کی ہے کہ

____________________

١۔ جوہری : ابو نصر اسماعيل بن حماد ہے ان کی نسب بلا د ترک کے فاراب سے ہے اس نے عراق اور حجاز کے سفر کئے ہيں تمام علاقوں کا دورہ کيا ہے اس کے بعد نيشابور آیا ہے اور اسی شہر ميں سکونت کی ہے لکڑی سے دو تختوں کو پروں کے مانند بنا کر انهيں آپس ميں ایک رسی سے باندها اور چهت پر جاکر آواز بلند کی لوگو! ميں نے ایک ایس چيز بنائی ہے جو بے مثال ہے ابھی ميں ان دو پروں کے ذریعہ پر وار کروں گا نيشابور کے لوگ تماشا دیکھنے کيلئے جمع ہوئے اس نے اپنے دونوں پروں کو ہلا کر فضا ميں چهلانگ لگادی ليکن ان مصنوعی دو پروں نے اس کی کوئی یاری نہيں کی بلکہ وہ چهت سے زمين پر ١٠ ) کی طرف رجوع فرمائيں ۔( / ٢۶٩ ) لسان الميزان ۴٠٠ /٢ گر کر مرگيا ۔ یہ روئداد ٣۴٣ هء ميں واقع ہوئی ۔ معجم الادباء ٠٧ ميں آیا ہے ۔

٢۔ ابو الدقيش : قناتی غنوی ہے کہ اس کے حالا ت کی شرح ميں فہرست ابن ندیم طبع مصر ص ٠

اس عجيب نسل سے گروہ “ ناس ” نابود ہوگئے ہيں ليکن گروہ “ نسناس ” باقی ہیں اور اس وقت بھی موجود ہيں

١٢ ۔ سيوطی سے نقل ہوا ہے کہ اس نے نسناس کے بارے ميں یوں نظریہ پيش کيا ہے ” لےکن وہ معروف حيوان جسے لوگ نسناس کہتے ہيں ان ميں سے ایک نوع بندر کی نسل ہے اور وہ پانی ميں زندگی نہيں کرسکتے یہ حرام گوشت ہيں ليکن ان حيوانوں کی دوسری نوع جو دریائی ہيں اور پانی ميں زندگی بسر کرتے ہيں ، ان کا گوشت حلال ہونے ميں دو احتمال ہے “ رویانی ”(۱) اور بعض دوسرے دانشور کہتے ہيں : ان کاگوشت حلال اور خوردنی ہے ۔

١٣ ۔ شيخ ابو حامد غزالی(۲) سے نقل ہوا ہے کہ نسناس کا گوشت حلال نہيں ہے کيونکہ وہ خلقت انسان کی ایک مخلوق ہے ۔

١ ۴ ۔ مسعودی ‘ مروج الذہب ” ميں نقل کرتا ہے:

” متوکل نے اپنی خلافت کے آغاز ميں حنين بن اسحاق(۳) سے کہا کہ چند افرادکو“نسناس ”اور اس کے بعد مسعودی کہتا ہے:

” ہم نے اس روداد کی تفصيل اور تشریح اپنی کتاب “ اخبار الزمان ” ميں درج کی ہے ،

اور وہاں پر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان لوگوں کو “ عربد” لانے کيلئے “ یمامہ اور نسناس ” لا نے کيلئے “ شحر ” بھيجا گيا تھا ۔یہ تھيں افسانہ نسناس اور اس کے پائے جانے کے بارے ميں روایتيں جو نام نہاد معتبر اسلامی کتابوں ميں درج کی گئی ہيں اور یہ روایتيں سند اور راویوں کے سلسلہ کے ساتھ

____________________

١۔ رویانی رویان سے منسوب ہے اور رویان طبرستان کے پہاڑوں کے درميان ایک بڑا شہر ہے حموی نے رویان کی تشریح ميں کہا ہے رویان ایک شہر ہے علماء اور دانشوروں کا ایک گروہ اسی شہر سے منسوب ہے جيسے : ابو لمحاسن عبدالواحد بن اسماعيل بن محمد رویانی طبری جو قاضی اور مذہب شافعی کے پيشواؤں ميں سے ایک ہے اور اس شخص نے بہت سی کتابيں لکھی ہيں علم فقہ ميں بھی ایک بڑی کتا ب“ البحر ” تصنیف کی ہے سخت تعصب کی وجہ سے ۵٠٠ هء یا ۵٠١ هء ميں مسجد جامع آمل ميں اسے قتل کيا گيا ۔

٢۔ ابو حامد : محمد بن محمد بن محمدغزالی ہے ایک گاؤں سے منسوب ہے جس کا نام غزالہ ہے یا یہ کہ منسوب بہ غزل ہے وہ ایک فلاسفر اور صوفی مسلک شخص ہے اس نے حجة الاسلام کا لقب پایا ہے دو سو سے زیادہ کتابيں لکھی ہيں اور مختلف شہروں جيسے : نيشابور ، بغداد ، حجاز ، شام اور مصر کے سفر کئے ہيں اور وہاں سے اپنے شہر طابران واپس آیا ہے اور وہيں پر ۵٠۵ ئه ميں وفات پائی ہے ۔

٣۔ حنين بن اسحاق کا باب اہل حيرہ عراق تھا بغداد کے علماء کا رئيس تھا اس کی کنيت ابو زید اور لقب عبادی تھا ٢۶٠ هء ميں اس نے وفات پائی (وفيات الاعيان) ۔

”عربد” ١ لانے کيلئے یتار کرے ۔ کئی لوگ گئے ، ليکن انہوں نے جتنی بھی کوشش اور کاروائی کی صرف دونسناس کو متوکل کی حکومت کے مرکز “ سرمن رای” تک صحيح و سالم پہنچا سکے ۔

اصلی ناقل تک پہنچی ہيں ليکن اس کے باوجود یہ تمام روایتيں جھوٹ اور افسانہ کے علاوہ کچھ نہيں ہيں ۔ ان کی اسناد اور راویوں کا سلسلہ بھی جھوٹ کو مضبوط اور مستحکم کرنے کيلئے جعل کيا گيا ہے اگلی فصل ميں یہ حقيقت اور بھی واضح ہوگی ۔

بحث کا خلاصہ اور نتيجہ افسانہ نسناس کے اسناد ہم نے گزشتہ دو فصلوں ميں نسناس کے وجود اور پيدائش کے بارے ميں نقل کی گئی روایتوں کو انکے اسناد اور راویوں کے سلسلہ کے ساتھ ذکر کيا ہے اور دیکھا کہ یہ روایتيں ایسے افراد سے نقل کی گئی ہيں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے نسناس کو دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے ان کی گفتگو و اشعار اور ان کا قسم کهانا سنا ہے اسے دیکھا ہے کہ ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ اورایک آنکھ اور نصف صورت کے باوجود بظاہر شبيہ انسان طوفان کے مانند تيز رفتار گھوڑے سے بھی تيز تر دوڑتے تھے ۔

ا ن دو روایتوں کو ایسے افراد سے نقل کيا ہے کہ انہوں نے نسناس کا شکار کرنے اور اس کا گوشت کباب اور شوربہ دار گوشت کی صورت ميں کهانے ميں شرکت کی ہے ۔

ایسے افرادسے بھی روایت کی ہے کہ اس کے گوشت کے حلال ہونے ميں اشکال کيا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ نسناس انسان کی ایک قسم ہے اور گفتگو و شعر کہتا ہے اس لئے حرام ہے اس کے مقابلہ ميں بعض دوسرے افراد نے کہا ہے کہ نسناس کا گوشت حلال ہے کيونکہ وہ پيٹ رکھتا ہے اور حيوانوں کے مانند جگالی کرتا ہے ۔

ان روایتوں کو ایسے افراد نے نقل کيا ہے کہ خود انہوں نے خليفہ عباسی متوکل کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنے زمانے کے بعض حکماء کو بھيجا کہ اس کيلئے “ عربد” اور “ نسناس ” شکار کرکے لائيں اور ان کے توسط سے دو عدد نسناس سامراء پہنچے ہيں ۔

ایسے افراد سے ان روایتوں کو نقل کيا گيا ہے کہ وہ خود نسناس شناس ہيں ا ور انہوں نے نسناس کے شجرہ نسب کے بارے ميں تحقيق کی ہے اور اپنا نظریہ پيش کيا ے اور ان کا شجرہ نسب بھی مرتب کيا ہے اور اس طرح نسناس کی نسل حضرت نوح تک پہنچتی ہے وہ اميم بن لاوذبن سام بن نوح کی اولاد ہيں جب بغاوت کرکے معصيت و گناہ ميں حد سے زیادہ مبتلا ہوئے تو خداوند عالم نے انهيں مسخ کيا ہے ۔

ان تمام مسلسل اور باسند روایتوں کو علم تاریخ کے بزرگوں ،علم رجال کے دانشوروں اور علم انسان کے اساتذہ نے نقل کيا ہے ، جيسے:

١۔ عظيم ترین اور قدیمی ترین عرب نسب شناس ابن اسحاق ( وفات ۶ ٨ هء(

٢۔ مغازی اور تاریخ کے دانشوروں کا پيشوا ابن اسحاق ( وفات ١ ۵ ١ هء(

٣۔ نسب شناسوں کا امام و پيشوا : ابن کلبی ( وفات ٢٠ ۴ هء(

۴ ۔ مؤرخيں کے امام و پيشوا: طبری ( وفات ٣١٠ ئه(

۴ ۔ جغرافيہ دانوں کے پيش قدم : ابن فقيہ همدانی ( وفات ٣ ۴ ٠ هء(

۶ ۔ تاریخ نویسوں کے علامہ : مسعودی ( وفات ٣ ۴۶ هء(

٧۔ علم بلدان کے عظيم دانشور : حموی ( وفات ۶ ٢ ۶ ئه(

٨۔ مختلف علم کے علامہ و استاد : ابن اثير ( وفات ۶ ٣٠ ئه(

جی ہاں ہم نے گزشتہ صفحات ميں جتنے بھی مطالب نسناس کے بارے ميں بيان کئے ہيں ان کو مذکورہ ، تاریخ ،لغت ، اور دیگر علوم ميں مہارت اور تخصص رکھنے والے علماء نے اپنی کتابوں اور تاليفات ميں نقل کيا ہے ۔

ت عجب کی حد یہ ہے کہ کبھی اس افسانہ کو حدیث کی صور ت ميں نقل کيا گيا ہے اور اس کی سند کو معصوم تک پہنچادیا ہے : نسناس قوم عاد سے تھے اپنے پيغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے انهيں مسخ کردیا کہ ان ميں سے ہر ایک کا ایک ہاتھ ، ایک ٹانگ اور نصف بدن ہے اور پرندوں کی طرح اچهل کود کرتے ہيں ا ور مویشيوں کی طرح چرتے ہيں ۔

پھر روایت کی ہے کہ نسناس قوم عاد سے ہيں ۔ بحر ہند کے ساحل پر نيزاروں ميں زندگی کرتے ہيں اوران کی گفتگو عربی زبان ميں ہے ۔

اپنی نسل بھی بڑهاتے ہی شعر بھی کہتے ہيں اپنی اولاد کيلئے عربی ناموں سے استفادہ کرتے ہيں ۔

ا س کے بعد ان علماء نے نسناس کے گوشت کے حلال ہونے ميں اختلاف کيا ہے بعض نے اس کے حلال ہونے کاحکم دیاہے ا ور بعض دوسروں نے اسے حرام قرار دیا ہے ليکن جلال الدین سيوطی تفصيل کے قائل ہوئے ہيں اور صحرا کے نسناسوں کو حرام گوشت ليکن سمندری نسناسوں کو حلال گوشت جانا ہے ۔

یہ عقائد و نظریات اور یہ روایتيں اور نقليات بزرگ علماء اور دانشوروں کی ہيں کہ ان میں سے بعض کے نام ہم نے یبان کئے ہيں اور بعض دوسروں کے نام ذیل ميں درج کئے جاتے ہيں :

١۔ کراع ، “ التاج ” کی نقل کے مطابق : وفات ٣٠٩ هء

٢۔ ازہری : تهذےب کے مطابق : وفات ٣٧٠ هء

٣۔ جوہری : صحاح کے مطابق : وفات ٣٩٣ هء

۴ ۔ رویانی : “التاج” کے مطابق: وفات ۵ ٠٢ هء

۵ ۔ غزالی :“ التاج” کے مطابق: وفات ۵ ٠ ۵ ئه

۶ ۔ ابن اثير : نہایة اللغة کے مطابق : وفات ۶ ٠ ۶ هء

٧۔ ابن منظور : لسان العرب کے مطابق : وفات ٧١١ هء

٨۔ فيروز آبادی : قاموس کے مطابق : وفات ٨١٨ هء ٩

۔سيوطی : التاج کے مطابق : وفات ٩١١ هء

١٠ ۔ زبيدی : تاج العروس کے مطابق: وفات ١٢٠ ۵ هء

١١ ۔ فرید وجدی دائرة المعار ف کے مطابق: وفات ١٣٧٣ ئه

افسانہ سبيئہ اور نسناس کا موازنہ

کيا مختلف علوم کے علماء ودانشوروں کے نسناس کے بارے ميں ان سب مسلسل اور با سند روایتوں کا اپنی کتابوں اور تاليفات ميں درج کرنے اور محققين کی اس قدر دلچسپ تحقيقات اور زیادہ سے زیادہ تاکےد کے بعد بھی کوئی شخص نسناس کی موجودگی حتی ان کے نر ومادہ اور ان کی شکل و قيافہ کے بارے ميں کسی قسم کا شک و شبہہ کرسکتا ہے !؟

کيا کوئی “ نسناس” ، “ عنقاء” ، “ سعلات البر ” اور “ دریائی انسان ”(۱) جيسی مخلوقات کے بارے ميں شک کرسکتا ہے جبکہ ان کے نام ان کی داستانيں اور ان کے واقعات باسند اورمرسل طور پر علماء کی کتابوں ميں وافر تعداد ميں درج ہوچکی ہيں ؟

علماء اور دانشوروں کی طرف سے “ ناووسيہ ” ، “ غرابيہ ” ، “ ممطورہ ” “ طيارہ ” اور سبئےہ ” کے بارے ميں ا س قدر مطالب نقل کرنے کے بعد کيا کوئی شخص مسلمانوں ميں ان

____________________

١۔ عنقاء : کہا گيا ہے کہ عنقاء مغرب میں ایک پرندہ ہے جس کے ہر طرف چار پر ہيں اور اس کی صورت انسان جيسی ہے اس کا ہرعضو کسی نہ کسی پرندہ کے مانند ہے اور اس کے علاوہ مختلف حيوانوں سے بھی شباہت ٢١٢ نے عنقاء کے بارے / ٨۵ ، مسعودی مروج الذہب ٢ / رکھتا ہے کبھی انسانوں کو شکار کرتا ہے ابن کثير ١٣

ميں مفصل و مشروح روایت کی سند کے سلسلہ کے ساتھ نقل کيا ہے ‘ سعلات” عرب دیو کی مادہ کو“سعلات ١ ۵ ) صحرانشين عرب خيالی کرتے تھے کہ سعلات اور غول ( دیو ) دو زندہ مخلوق / ”کہتے ہيں (- تاج العروس ٨

ہيں کہ بيابانوں ميں زندگی گزارتے ہيں ا ور ان دونوں کے بارے ميں بہت سے اشعار اور حکایتں بھی نقل کی گئی ١٣ ۴ ۔ ١٣٧ /باب ذکر اقاویل العرب فی الغيلان) یہيں پر مسعودی عمر ابن خطاب سے نقل کرتا / ہيں مروج الذہب ( ٢ہے کہ اس نے شام کی طرف اپنے ایک سفر ميں ایک بيابان ميں ایک جن کو دیکھا تواس نے چاہا اس طرح اس کو بھی فریب دے جس طرح وہ لوگوں کو فریب دیتا ہے ليکن عمر نے اسے فرصت نہيں دی اور تلوار سے اسے قتل کيا۔

انسانی دریائی : عربوں اور غير عربوں ميں انسان دریائی کے بارے ميں داستانيں اور افسانے نقل ہوئے ہيں زبان زد عام وخاص ہيں ۔

گروہوں اور فرقوں کی موجودگی کے بارے ميں شک و شبہ کرسکتا ہے ؟ جی ہاں ، ہم دیکھتے ہيں کہ گروہ سبيئہ اور نسناس کے بارے ميں جو افسانے نقل ہوئے ہيں با وجود اس کے کہ علماء اوردانشوروں نے انهيں صدیوں تک سنااور سلسلہ راویوں کے ساتھ نقل کيا ہے آپس ميں کافی حد تک شباہت رکھتے ہيں ہماری نظر ميں صرف مطالعہ اور ان دو افسانوں کے طرز و طریقہ پر دقت کرنے سے ان کا باطل اور خرافات پر مشتمل ہونے کو ہر فرد عاقل اور روشن فکر کيلئے ثابت کيا جاسکتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ افسانہ سبيئہ ميں موجود اختلافات و تناقض کوجو افسانہ نسناس ميں موجود نہيں ہيں اضافہ کيا جائے کہ خود یہ تناقص و اختلاف سبب بنے گا کہ یہ روایتيں ایک دوسرے کے اعتبار کو گرادیں گی اور اس طرح ان روایتوں پر کسی قسم کا اعتبار باقی نہيں رہے گااورا ن کی تحقيق و بحث کی نوبت ہی نہيں آئے گی ۔

اگرطے ہو کہ گروہ سئبيہ ، ابن سوداء اور ابن سبا کے بارے ميں بيشتر وضاحت پيش کریں اور طول تاریخ ميں ان کے تحولات پر بحث و تحقيق کریں تو کتاب کی مستقل حصہ کی ضرورت ہے ۔

یہاں پر اس کتاب کے اس حصہ کو اختتام تک پہنچاتے ہيں اور دوسرے ضروری مطالب کو اگلے حصہ پر چھوڑ تے ہيں ہم اس دینی اور علمی فریضہ کو انجام دینے ميں خداوند عالم سے مدد چاہتے ہيں ۔

دوسرے حصے کے مآخذ

١۔ اشعری : سعد بن عبدالله کتاب “المقالات و الفرق ” ٢٠ ۔ ٢١ ميں ٢۔ نوبختی : کتاب “ فرق الشيعہ ” ٢٢ ۔ ٢٣ ميں ٨ ۵ / ٣۔ اشعری : علی ابن اسماعيل ، کتاب “ مقالات اسلاميين ” ١

۴ ۔ ملطی : کتاب “ التنبيہ وا لرد ” ٢ ۵ ۔ ٢ ۶ و ١ ۴ ٨

۵ ۔ بغدادی : کتاب “ الفرق ” ١ ۴ ٣

١٨ و ٣٩ اور کتاب “ اختصار الفرق ” تاليف ، ١٣٨ ، ۶ ۔ بغدادی : کتاب الفرق ١٢٣

۵ ٧ ، ٢ ۵ ، ٢٢ ، ١ ۴ ٢، عبدالرزاق ١٢٣

١٨ ۶ اور / ١ ۴ ٢ اور طبع التمدن ۴ / ٧۔ ابن حزم : کتاب “ الفصل ” طبع محمد علی صبيح ۴

١٣٨ / ۴

١٢٩ ۔ ١٣٠ / ٨۔ البداء و التاریخ ۵

٩۔ ذہبی : کتاب “ ميزان الاعتدال ” شرح حال عبدالله بن سبا ، نمبر ۴ ٣ ۴ ٢

٢٨٩ شرح حال نمبر ١٢٢ ۵ ۔ / ١٠ ۔ ابن حجر کتاب “ لسان الميزان ” ٣

/ ١١ ۔ مقریزی : کتاب “ الخطط ” روافض کے نو گروہوں میں سے پانچویں گروہ ميں ۴

١٨ ۵ ۔ / ١٨٢ و ۴

١٢ ۔ ابن خلدون : مقدمہ ميں ١٩٨ طبع بيروت ميں کہتا ہے : فرقہ اماميہ ميں بھی جو گروہ وجود ميں آئے ہيں جو غالی اور انتہا پسندہيں انہوں نے ائمہ کے بارے ميں غلو کيا ہے اور دین اور عقل کے حدود سے تجاوز کرگئے ہيں اور ان کی الوہيت اور ربوبيت کے قائل ہوئے ہيں ليکن اس کے باوجود اس سلسلے ميں مبہم اور پيچيدہ بات کرتے ہيں جس سے معلوم نہيں ہوتا ہے کہ اس گروہ کے عقيدہ کے مطابق ائمہ بشر ہيں اور خدا کی صفات کے حامل ہيں یایہ کہ خداخود ہی ان کے وجود ميں حلول کرگيا ہے دوسرے احتمال کے بناء پر وہ حلول کے قائل ہيں جس طرح عيسائی حضرت علی عليہ السلام کے بارے ميں قائل تھے جبگہ علی ابن ابيطالب نے ان کے بارے ميں ا س قسم کا اعتقاد رکھنے والوں کو جلادیا ہے ۔

٢٠٨ ۔ ٢١٠ / ١٣ ۔ مسعودی : ٢

١ ۴ ۔ معجم البلدان : لفظ “ شحر ” کی تشریح ميں ۔

٨٩٩ ۔ ٩٠٠ / ١ ۵ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار” کی تشریح ميں : ١ ۴

١ ۶ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار ” کی تشریح ميں ١٧ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار ” کی تشریح ميں ، مسعودی نے بھی اسی مطلب کو ٢٠٨ ۔ ٢١٠ درج کيا ہے ۔ / مختصر تفاوت کے ساتھ ‘ مروج الذہب ” ٢

١٨ ۔ معجم البلدان : لفظ “ شحر ” کی تشریح ميں اس کا خلاصہ “ مختصر البلدان ” ابن فقيہ ٣٨ ميں آیا ہ ے ۔

۵ ٨ / ٢١ ۴ ، ‘ ‘ ابن اثير ” ١ / ١٩ ۔ “ طبری ” ١

۴۴ ١ ۔ ۴۴ ٢ / ٢٠ ۔ طبری ١

٢١ ۔ لسان العرب ابن منظور و تاج العروس زبيدی لفط نسناس کی تشریح ميں ۔

٢٢ ۔ لسان لعرب ابن منظور و قاموس فيروز آباد ی، لفط نسناس کی تشریح میں ٢٣ ۔ نہایة اللغة : ابن اثير ١/ ٢ ۴ ۔ مروج الذہب ، ٢٢٢

٢١١ اس نے اسی جگہ پر نسناس سے مربوط روایتوں کو نقل کيا / ٢ ۵ ۔ مروج الذہب ، ٢

ہے پھر اس مخلوق کے وجود کے بارے ميں شک و شبہہ کيا ہے ۔

تيسری فصل

عبد الله بن سبا اور سبائی کون ہيں ؟

سبا اور سبئی کا اصلی معنی

لغت ميں تحریف مغيرہ کے دوران حجر بن عدی کاقا یم

حجر ابن عدی کی گرفتاری

حجر اور اُن کے ساتهيوں کا قتل

حجر کے قتل ہوجانے کا دلوں پر اثر

حجر کی روداد کا خلاصہ

لفظ سبئی ميں تحریف کا محرک

لفظ سبئی ميں تحریف کا سلسلہ

افسانہ سيف ميں سبيئہ کا معنی

عبدالله بن سبا کون ہے ؟

ابن سودا کون ہے؟

اس حصہ کے مآخذ

سبا و سبئی کا اصلی معنی

سبا بن یشجب بن یعرب سليل قحطان قریع العرب

سبا بن یشجب بن یعرب نسل قحطان اور عرب کا منتخب شدہ ہے ۔انساب سمعانی

کتاب کے اس حصہ ميں بحث کے عناوین ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں جو تمام افسانے ہم نے گزشتہ فصلوں ميں نقل کئے اورا س کے بارے ميں جو روایتيں حدیث اور رجال کی کتابوں ميں درج ہوئی ہيں وہ سب کی سب درج ذیل تين ناموں کيلئے جعل کی گئی ہيں ۔

١۔ عبدالله بن سبا ۲. عبدالله بن سودا ٣۔ سبيئہ و سبائيہ حقيقت کو روشن کرنے کيلئے ہم مجبور ہيں کہ جہاں تک ہميں فرصت اجازت دے مذکورہ عناوین ميں سے ہر ایک کے بارے ميں الگ الگ بحث و تحقيق کریں ۔

سبئی کا معنی:

” سبائيہ ” و “ سبيئہ ” دو لفظ ہيں کہ از لحاظ لفط و معنی “یمانيہ ”و “یمنيہ ”کے مانند ہيں ۔

سمعانی ( وفات ۵۶ ٢ ئه ) اپنی انساب ميں مادہ “ السبئی ” ميں اس لفظ کی وضاحت ميں کہتا ہے: “ سبئی ” سين مہملہ پر فتحہ اور باء نقطہ دار سے “سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان ” سے منسوب ہے ۔

ا بو بکر حازمی ہمدانی ( وفات ۵ ٨ ۴ هء) کتاب “ عجالة المبتدی ” ميں مادہ “ سبئی ” ميں کہتا ہے : “سبئی ” سبا سے منسوب ہے کہ اس کا نام عامر بن یشجب بن یعرب بن قحطان ہے اس کتاب کے ایک نسخہ ميں آیا ہے کہ سبئی کے نسب کے بارے ميں درج ذیل اشعار بھی کہے گئے ہيں :

لسبا بن یشجب بن یعرب

سليل قحطان قریع العرب

نسب خير مرسل نبينا

عشرة الازد الاشعرینا

و حميرا و مذحجا و کنده

انما رسادسا لهم فی العدة

و قد تيامنوا من اشام له

غسان لخم جذام عامله(۱)

____________________

١۔بہترین پيغمبروں کو عرب کے دس قبيلوں سے نسبت دی گئی ہے کہ ان ميں سے سبا بن یشجب بن یعرب ہے جو قبيلہ قحطان سے ہے اور عربوں کا سردار ہے اور فرمایا ہے کہ ان ميں سے چه قبيلے دائيں طرف سفر پر چلے گئے وہ عبارت ہيں ازد ، اشعری ، حمير مذحج ، کندہ ،ا نمار ، اور دوسرے چار قبيلے شام کی طرف چلے گئے کہ عبارت ہيں غسان لخم ، جذام اور عاملہ ۔

ترمذی نے اپنی سنن ميں ، سورہ سبا کی تفسير ميں اورا سی طرح ابو داؤد نے اپنی سنن ميں کتاب “الحروف ” ميں بيان کيا ہے کہ : ایک شخص نے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے سوال کيا “ سبا ” کيا ہے ؟ کسی محلہ کا نام ہے ؟ یا کسی عورت کا نام ہے ؟

پيغمبر اکرم صلی الله عليہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب ميں فرمایا : سبا، نہ کسی محلہ یا مخصوص جگہ کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا ایک شخص تھا جس کی طرف سے عربوں کے دس قبيلے منسوب ہيں ان ميں سے چه خاندان عبارت ہيں : اشعری ، ازد ، حمير ،مذحج، انمار ،اور کندہ جنہوں نے دائيں طر ف سفر کيا ہے اور دوسرے چار خاندان جنہوں نے شام کی طرف سفر کيا عبارت ہيں ؛ لخم ، جذام ، غسان اور عاملہ“

کتاب لساب العرب ميں لفظ سبا کے بارے ميں آیا ہے : “ سبا ’ ایک شخص کا نام ہے جس سے یمن کے تمام قبائل منسوب ہيں “

یاقوت حموی نے “معجم البلدان ” ميں لغت “ سبا” کے بارے ميں کہا ہے :“ سبا ” س اور ب پر فتح اور ہمزہ یا الف ممدودہ کے ساتھ یمن ميں ایک علاقہ کا نام ہے کہ اس علاقہ کا مرکزی شہر “ مارب” ہے مزید اضافہ کرتا ہے : اس علاقے کو اس لئے سباکہا گيا ہے کہ وہاں پر سبا بن یشجب کی اولاد سکونت کرتی تھی“

ابن حزم (- وفات ۴۵۶ ) اپنی کتاب “ جمہرة الانساب ” ميں جہاں پر یمانيہ کے نسب کی تشریح کرتا ہے ، کہتا ہے : تمام یمانيوں کی نسل قحطان کی فرزندوں تک پہنچتی ہے اس کے بعد “ سبا ” کے مختلف خاندانوں کا نام ليتا ہے اور ان خاندانوں ميں سے ایک کی تشریح ميں کہتا ہے وہ سبائی ہيں اور سبائی کے علاوہ اس خاندان کيلئے کوئی دوسری نسبت نہيں دی گئی ہے ۔

ابن خلدون ( وفات ٨٠٨ هء) اپنے مقدمہ ميں کہتا ہے : رہا اہل یمن، تو سبا کی اولاد اور نسل سے ہيں ا ورجب عربوں کے طبقہ دوم کی با ت آگئی تو مزید کہتا ہے : یہ طبقہ عربوں ميں یمنی اور سبائی کے نام سے معروف ہے قبائل قحطان کے شام اور عراق کی طرف کوچکرنے کے بعد انہيں یاد کرتے ہيں اور کہتے ہيں جو کچھ بيان ہوا وہ ان لوگوں کے حالات کی تشریح تھی جو قبائل سبا سے تھے اور یمن سے ہجرت کرکے عراق ميں سکونت اختيار کرگئے ہيں قبائل سبا کے چار گروہوں نے بھی شام ميں سکونت اختيار کی اور دوسرے چه گروہ اپنے اصلی وطن یمن ہی ميں رہے“

ابن خلدون مزید کہتا ہے: انصار سبا کی نسل سے ہيں خزاعہ ، اوس اور خزرج بھی وہی نسل ہيں ،

ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ هء) المشتبہ ميں سباکے بارے ميں کہتا ہے : سبائی مصر ميں ایکہے ہيں ان ہی ميں سے کئی افراد ہيں جن کے نام حسب ذیل ہيں عبدالله بن هبيرہ معروف بہ ابو ہبيرہ ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ هء) اپنی کتاب “ تبصرة المتنبہ ” ميں لفظ سبا کے بارے ميں کہتا “ سبا” ایک قبيلہ کا باپ ہے اور “ سبئی ” کی شرح ميں کہتا ہے : “ سبا” ایک قبيلہ کانام ہے اس قبيلہ سے عبد الله بن هبيرہ سبائی معروف بہ ابو ہبيرہ ہے ۔ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧ ۵ هء) ‘

الاکمال ”(۱)

ميں کہتا ہے : سبئی ایک قبيلہ سے منسوب ہے اسکے بہت سے افراد ہيں اور وہ مصر ميں آبادہيں ۔

سبئی راوی:

قبيلہ سبا اور “ سبيئہ ” کے معنی کو بيشتر پہچانے کيلئے ہم یہاں پر راویوں کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہيں جنہيں علمائے حدیث اور تاریخ نے سبا بن یشجب سے منسوب کيا ہے اور اسی لئے انهيں سبئی کہتے ہيں :

١۔ عبدالله بن هبيرہ :

یہ قبيلہ سبا کے راویوں ميں سے ایک معروف راوی ہے علمائے حدیث اور رجال نے اس کے نسب کی اپنی کتابوں ميں نشان دہی کی ہے چنانچہ : ابن ماکولا و سمعانی اپنی انساب ميں لفظ “ سبا” کی تشریح ميں سبا بن یشجب سے منسوب سبئی نام کے بعض حدیث کے راویوں کا نام ليتے ہوئے کہتے ہيں : سبیء راویوں ميں سے من جملہ عبدالله بن هبيرہ سبائی ہے ۔

ابن قيسرانی : محمد بن طاہر بن علی مقدسی ( وفات ۵ ٠٧ هء) نے بھی اسی ابو ہبيرہ کے حالات کے بارے ميں ا پنی کتاب “الجمع بین رجال الصحيحين” ميں درج کيا اور جہاں پر “صحيح مسلم “کے راویوں کے حالات پر روشنی ڈالتاہے عبدالله کے نام پر پہنچ کر اس کے بارے ميں کہتا ہے : عبدالله ابن هبيرہ سبائی مصری نے ابو تميم سے حدیث نقل کی ہے ۔

”تہذیب التہذیب ” ميں بھی اسی عبد الله اورا س کے تمام اساتذہ اور شاگردوں کا بھی مفصل طور پر ذکر کيا ہے ۔

ابن حجر اسی کتاب ميں کہتا ہے : علم حدیث کے علماء نے عبد الله بن هبيرہ کی توثيق اور تائيد کی ہے تمام علماء اس موضوع پر اتفاق نطر رکھتے ہيں اور اس کے بعد کہتے ہيں : ابن ھبيرہ کی پيدائش عام الجماعة یعنی ۴ ٠ هء ميں ا ور وفات ١٢٠ ميں واقع ہوئی ہے ۔

ن ےز ابن حجر تقریب التہذیب ميں کہتا ہے عبدالله بن ہبيرہ بن اسد سبائی حضرمی مصر کے لوگوں ميں سے تھا وہ علمائے حدیث کی نظر ميں طبقہ سوم کے راویوں ميں باوثوق اور قابل اعتماد شخص ہے اس نے ٨١ سال کی عمر ميں وفات پائی ہے ۔

ان دو کتابوں ميں “ تہذیب التہذیب ” اور “ تقریب التہذیب” ميں عبد الله بن ہبيرہ سبائی ان راویوں ميں شمار ہوا ہے جن سے صحاح کے مولفين ، سنن مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد ،

نسائی اور ابن ماجہ نے حدیث روایت کی ہے اور احمد حنبل نے اپنی مسند کے باب مسند ابو نضرہ غفاری ميں اس سے حدیث نقل کيا ہے ۔

____________________

١۔ کتاب اکمال ميں راویوں کو ہر قبيلہ کے لغت ميں تعارف کراتے ہيں ۔

٢۔ عمارة بن شبيب سبئی :

وہ سبئی راویوں ميں سے ایک اور راوی ہےجس کا نام استيعاب ، اسدا لغابہ ، اور اصابہ ميں پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی فہرست ميں ذکر ہوا ہے۔

استيعاب کا مولف کہتا ہے : عمارة بن شبيب سبائی اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ميں شمار کيا گيا ہے اور ابو عبدالرحمان جبلی نے اس سے حدیث نقل کيا ہے ۔

ا سد الغابہ ميں بھی عمارة بن شبيب کے بارے ميں یہی مطالب لکھے گئے ہيں اور اس کے بعد اضافہ کيا گيا ہے : اس نے رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے حدیث نقل کيا ہے ۔ صاحب اسدالغابہ اس سلسلہ ميں بات کو اس بيان پر ختم کرتے ہيں کہ : سبیء جو “ س”

بدون نقطہ اور ایک نقطہ والے “ ب” سے لکھا جاتا ہے ، اس کو کہتے ہيں جو سبا سے منسوب ہو۔

صاحب “ الاصابہ” عمارة ابن شبيب کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے : وہ ۵ ٠ ئه ميں فوت ہوا ہے ۔

معروف کتاب صحيح بخاری کے مؤلف امام بخاری نے بھی اس کے حالات کی تشریح اور تفصيل اپنی رجال کی کتاب ‘ تاریخ الکبير ” ميں درج کی ہے اور اس کے بعد اس سے ایک روایت نقل کرکے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس خصوصی حدیث کو ضعيف شمار کيا ہے ۔

ابن حجر بھی اسی عمارة بن شبيب سبئی کو کتاب “ تہذیب التہذیب ” اور “ تقریب التہذیب ” ميں درج کرتے ہوئے کہتا ہے : ترمذی و نسائی نے اپنی سنن ميں ا س سے حدیث نقل کی ہے ۔

٣۔ ابو رشد بن حنش سبئی :

یہ سبئی راویوں ميں سے ایک اور راوی ہے کہ مسلم نے اپنی صحيح ميں اور نسائی و ترمذی، ابن ماجہ اور ابو داؤد نے اپنی سنن ميں ا س سے حدیث نقل کی ہے چونکہ ابن حجر نے بھی اس کے نام کو کتاب “ تہذیب التہذیب ” ا ور “ تقریب التہذیب ” ميں درج کياہے اور اسکے بارے ميں اور ایک دوسرے سبئی راوی کے بارے ميں کہتا ہے : عمرو بن حنظلہ سبئی و ابو رشد بن صنعانی صنعا ، یمن کے رہنے والے تھے اور باوثوق اور قابل اعتماد ہيں ۔

ذہبی نے بھی انہيں مطالب کو اپنی تاریخ ميں درج کرتے ہوئے اضافہ کيا ہے کہ اس نے مغرب زمين کی جنگ ميں شرکت کی اور افریقہ ميں سکونت اختيار کی اور اسی وجہ سے اس کے بيشتر دوست او ر شاگرد اہل مصر ہيں اس نے افریقہ ميں ١٠٠ هء ميں محاذ جنگ پر رحلت کی ۔

ابن حکم اپنی کتاب “ فتوح افریقہ ” ميں کہتا ہے : جب مسلمانوں نے “ سردانيہ ” کو اپنے قبضہ ميں ليا ، تو جنگی غنائم سے متعلق بہت ظلم کيا اور واپسی پر جب کشتی ميں سوار ہوئے تو کشتی کے ڈوبنے کی وجہ سے سب دریا ميں غرق ہوگئے صرف ابو عبدالرحمان جبلی اور حنش بن عبدا لله سبئی بچ گئے کيونکہ ان دو افراد نے غنائم جنگی سے متعلق ظلم ميں شرکت نہيں کی تھی ۔

۴ ۔ ابو عثمان حبشانی : ١٢ ۶ ئه ميں فوت ہوا ہے ۔

۵ ۔ ازہر بن عبدا لله سبئی : ٢٠ ۵ ئه ميں مصر ميں فوت ہوا۔

۶ ۔ اسد بن عبدا لرحمان سبئی اندلسی : وہ علاقہ “ بيرہ” کا قاضی تھا یہ شخص ۵ ٠ ا هء کے بعد بھی زندہ تھا ۔

٧۔ جبلہ ابن زہير سبئی : یہ یمن کا رہنے والا تھا ۔

٨۔ سليمان بن بکار سبئی : وہ بھی اہل یمن تھا۔

٩۔ سعد سبئی : ابن حجر “ا صابہ” ميں اس کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے :

واقدی اسے ان لوگوں ميں سے جانتا ہے جنہوں نے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانہ ميں ا سلام قبول کيا ۔

یہ تھے راویوں اور حدیث کے ناقلوں کے چند افراد کہ جن کو سمعانی اور ابن ماکو نے لفط “سبائی” کے بارے ميں چند دیگر سبئی کے ساتھ ان کے حالات لکھے ہيں اور ان کی اساتذہ اور شاگردوں کا تعارف کرایاہے ۔ اگر کوئی شخص رجال اور حدیث کی کتابوں ميں بيشتر تحقيق کرے تو مزید بہت سے راویوں کو پيدا کر ے گا جو قبلہ قحطان سے منسوب ہونے کی وجہ سے سبئی کہے جاتے ہيں ۔

نتيجہ کے طور پر یہ راوی اور دسيوں دیگر راوی سبا بن یشجب بن یعرب قحطان سے منسوب ہونے کی وجہ سے سبئی کہے جاتے ہيں ا ور اسی نسب سے ،معروف ہوئے ہيں علمائے حدیث و رجال نے ان کی روایتوں اور نام کو اسی عنوان او رنسبت سے اپنی کتابوں ميں درج کرکے ان کے اساتذہ اور شاگرودوں کے بارے ميں مفصل تشریح لکھی ہے اور یہ سبئی راوی دوسری صدی کے وسط تک اکثر اسلامی ملکوں ا ور شہروں ميں موجود تھے اور وہيں پر زندگی گذارتےتھے اور اسی عنوان اور نسبت سے پہچانے جاتے تھے یہ بذات خود لفط سبئی و سبيئہ کے اصلی اور صحيح معنی کی علامت ہے اور یہ اس بات کی ایک اور دليل ہے کہ ےہ لفظ تمام علماء اور مؤلفين کے نزدیک دوسری صدی ہجری کے وسط تک قبيلہ کی نسبت پر دلالت کرتا تھا نہ کسی مذہبی فرقہ کے وجود پر جو بعد ميں جعل کيا گيا ہے ۔

یہ سبئی راوی علمائے حدیث کی نظر ميں ا یسے معروف و شناختہ شدہ اور قابل اطمينان ہيں کہ حدیث کی صحاح ، سنن اور سند و دیگر صاحبان مآخذ و حدیث کے معتبر کتابوں کے مؤلفين نے بغےرکسی شک شبہ، کے ان سے احادیث نقل کی ہيں جبکہ یہی علماء اس زمانے ميں شيعہ راویوں کی روایتوں اور حدیثوں کو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے شيعہ ہونے کے جرم ميں سختی سے ردکيا کرتے تھے اور اس قسم کے راویوں کو ضعيف اور ناقابل اعتبار جانتے تھے اور اپنی کتابوں ميں شيعہ راویوں سے ایک بھی حدےث نقل نہيں کرتے تھے اس زمانے ميں اس سبئی راویوں سے بغےرکسی رکاوٹ کے روایتيں اور احادیث نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کرتے تھے اوریہ اس بات کی دليل ہے کہ سبئيہ ان کے زمانے اور نظر ميں قبيلگی نسبت کے علاوہ کسی اور معنی و مفہوم کی ضمانت پيش نہيں کرتا تھا اور یہ لفظ کسی بھی فرقہ و مذہبی گروہ پر دلالت نہيں کرتا تھاکہ جس کی وجہ سے ان سے احادیث قبول کرنے ميں کوئی رکاوٹ پيش آئے اور ان علماء کی نظر ميں ان سے نقل احادیث اعتبار کے درجہ سے گرجائے بلکہ یہ مفہوم بعد والے زمانے ميں وجود ميں آیا ہے چنانچہ خدا کی مدد سے ہم اگلے حصہ ميں ‘ ‘ تحریف سبيئہ ” کے عنوان سے اس حقيقت سے پردہ اٹھائيں گے ۔