عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 5671
ڈاؤنلوڈ: 798


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5671 / ڈاؤنلوڈ: 798
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

تيرے پوشيدہ مقاصد سے بھی آگاہ ہوا اس کے بعد اپنے گھرچلے گئے گورنر کی طرف سے حجر کو بلانے کی خبران کے دوستوں او رشيعيان امير المؤمنين عليہ السلام کو پہنچی ، وہ اسکے گھر گئے اور انهےں بلایا اور گفتگو کی علت پوچھی حجر نے زیاد کی باتوں سے انهيں آگاہ کيا ۔ اس کے دوستوں نے کہا: زیاد کی باتيں تيرے لئے اصلاح و خير خواہی کا پہلو نہيں رکھتی ہيں ۔

طبری روایت کرتا ہے : زیاد پہلے دار الامارہ ميں داخل ہوا اس کے بعد ریشمی قبا زیب تن کئے ہوئے سبز عبا شانوں پر رکھ کر سر کے بالوں کو کنگھی کرکے مسجد کی طرف روانہ ہوا اور منبر پر گيا،اس وقت حجر اپنے ساتھيوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ مسجد کے ایک کونے ميں بيٹھے ہوئے تھے ، زیاد نے حمد و ثنا کے بعد کہا؛ سر کشی اور گمراہی کا انجام خطرناک ہے یہ چونکہ آرام وآسائش ميں زندگی کرتے تھے اس لئے سر کش ہوئے ہيں اور اطمينان حاصل کرکے ميرے مقابلہ ميں جسارت کی ہے خداکی قسم ! اگر اپنی گمراہی سے دست بردار نہيں ہو ئے اور سيدهے راستے پر نہ آئے توميں تمہارے درد کا علاج جانتا ہوں اگر ميں کوفہ کے علاقہ کو حجر کے حملات سے محفوط نہ رکھ سکا اور اسے عبرتناک سزا نہ دے سکا تو ميری کوئی قدر و منزل نہيں ہے افسوس ہو تيری ماں کی حالت پر اے حجر ! کہ تم بهيڑیہ کا لقمہ ہوگئے ۔

طبری مزید نقل کرتا ہے : زیاد بن ابيہ نے ایک دن ایک لمبی چوڑی تقریر کی اور نمازميں تاخير کی حجر بن عدی نے زبان کهولی اور کہا؛ زیاد ! نماز کا خيال رکھنا ، نماز کا وقت گزر گيا ليکن زیاد بن ابيہ نے اس کی باتوں کی طرف توجہ نہيں کی اور اپنی تقریری جاری رکھی پھر سے حجر نے بلند آواز نماز ! نماز! زیاد نے پھر بھی اپنی تقریر کو جاری رکھا جب حجرکو وقت نمازکے گزرجانے کا خوف ہوا تو اس نے مسجد ميں موجود کنکریوں سے دونوں مٹهياں بھرکر پھينکا اور خود نماز کيلئے کھڑے ہوگئے لوگ بھی ان کے ساتھ نماز کيلئے اٹھ کھڑے ہوئے جب زیاد نے اس حالت کا مشاہد کيا تو فوراً منبر سے اتر کر نماز کيلئے کھڑا ہوگيا لوگوں نے بھی اس کے ساتھ نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد معاویہ کے نام ایک خط کے ضمن ميں حجر کے حالات بھی منعکس کئے اور بہت سے دوسرے مطالب بھی اس کے خلاف لکھے۔

معاویہ نے زیاد کے خط کے جواب ميں لکھا : اس کی گردن ميں ایک بهاری زنجير بانده کر ميرے پاس بھيج دو ۔

استيعاب کا مؤلف اس داستان کو اس صورت ميں بيان کرتا ہے جب معاویہ نے زید کو عراق اور اس کے نواحی علاقوں کی گورنری سوپنی تو زیادنے اس علاقہ ميں برے سلوک او رسختی کا آغاز کيا اس وجہ سے حجر نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کيا ليکن معاویہ کی حکمرانی کی نافرمانی نہيں کی علی عليہ السلام کے شيعوں اور ان کے پيروں ميں سے بعض لوگوں نے زیاد کو معزول کرنے کے سلسلہ ميں حجر کی حمایت کی اورا ن کی پيروی کی ایک دن حجر نے زیاد کی طرف سے نماز ميں تاخير کرنے کی وجہ سے زیاد کی طرف پتهر پھينکے ۔

” اسد الغابہ ” اور ‘ الاصابہ ” کے مؤلفين نے بھی اس مطلب کی تائيد کی ہے ۔

طبری اس روداد کو ایک دوسری روایت ميں یوں نقل کرتاہے:

زیاد نے اپنی پوليس کو یہ آڈر جاری کيا کہ وہ حجر کو گرفتار کرکے اسکے پاس لے آئيں ،پوليس کے افراد جب حجر کے پاس پہنچے تو حجر کے ساتھيوں نے ان سے کہا : حجر ، کبھی زیاد کے پاس نہيں جآئیں گے ہم زیاد کيلئے کسی بھی قسم کے احترام کے قائل نہيں ہيں ۔

پوليس کے افسر نے دوسری بار چند مامورین کو بھيج دیا تا کہ حجر کو پکڑ کر اس کے پاس لے آئيں جب یہ مامورین حجر کے نزدیک پہنچے تو حجر کے ساتھيوں نے گاليوں اور بدگوئی سے ان کا جواب دیا ۔

حجر کے ساتھيوں کا متفرق ہونا:

زیادنے کوفہ کے بزرگوں اور اشراف کو اپنے پاس بلایا اور غضبناک حالت ميں ان سے مخاطب ہوکر بولا : اے کوفہ کے لوگو ! ایک ہاتھ سے سر پهاڑتے ہو اوردوسرے ہاتھ سے مرہم پٹی باندهتے ہو تمہارے جسم ميرے ساتھ اور دل حجر ،پاگل اور سراپا شر وفساد کے ساتھ ہيں تم لوگ ميرے ساتھ ہو ليکن تمہارے بھائی ، بيٹے اور قبيلہ کے افراد حجر کے ساتھ ہيں یہ ميرے ساتھ حيلہ اور فریب کے علاوہ کچھ نہيں ہے ۔ خدا کی قسم یا تم لوگ فوراً اس سے دوری اور بيزاری اختيار کروورنہ ایک ایسی قوم کو تمہارے شہر ميں بھيج دوں گا جو کہ تم کو سيدها کرکے رکھدیں گے۔

جب زیاد کی بات یہاں تک پہنچی تو حضار مجلس اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہا: ہم خداکی پنا ہ چاہتے ہيں کہ آپکے احکام کی پيروی کرنے اور امير لمؤمنين (معاویہ ) اور قرآن کی اطاعت کرنے کے علاوہ کوئی اور خيال نہيں رکھتے حجر کے بارے ميں جو بھی آپ کا حکم ہو ہم اطاعت کرنے کے لئے حاضر ہيں آپ مطمئن رہيں ۔

زیاد نے کہا: پس تم ميں سے ہر ایک شخص اٹھے گا اور اپنے بھائی ، فرزندں و رشتہ داروں اور قبيلہ کے لوگوں کو حجر کے گرد سے اپنی طرف بلائے اور تم ميں سے ہر شخص حتیٰ الامکان یہ کوشش کرے کہ حجر کے ساتھی متفرق ہوجائيں ۔

کوفہ کے سرداروں نے زیاد کے حکم پر عمل کيا اور حجر کے گرد جمع ہوئے اکثر لوگوں کو متفرق کردیاجب زیاد نے دیکھاکہ حجر کے اکثر ساتھی متفرق ہوگئے ہيں تو اس نے اپنے پوليس افسر کو حکم دیا کہ حجر کے پاس جائے اگر اس نے بات مانی اور اطاعت کی تو اپنے ساتھ ميرے پاس لے آو ورنہ اپنے سپاہےوں کو حکم دے کہ بازار ميں موجود لکڑی کے کهمبوں کو اکهاڑ کر ان پر حملہ کریں اور حجر کو ميرے پاس لائيں اورجو بھی اس راہ ميں رکاوٹ بنے اس کی پٹائی کریں ۔

پوليس افسر نے اپنے افراد کو حکم دیا کہ بازار کے لکڑیوں کے کهمبوں کو اکهاڑ کر حملہ کریں زیاد کی پوليس کے سپاہےوں نے ایساہی کيا اور ڈنڈوں کے ساتھ حجر کے ساتھيوں پر حملہ آ ور ہوئے ۔

عمير بن یزدی کندی جو خاندان هند سے تعلق رکھتا تھا اور “ ابو العمر طہ ” کے نام سے مشہور تھا ، نے کہا؛ اے حجر! تيرے ساتھيوں ميں ميرے سوا کسی کے پاس تلوار نہيں ہے اور ایک شخص تو کچھ کر ہی نہيں سکتا ہے حجر نے کہا:اب ميں کيا کروں مصلحت کيا ہے ؟

عمير نے کہا؛ تمہيں یہاں سے فوراً چلے جانا چاہئے اور اپنے قبيلہ کے افرادکے پاس پہنچنا چاہئے تا کہ وہ تيری حمایت اور نصرت کریں ۔

اس وقت زیاد منبر پر چڑه کر کھڑا مشاہدہ کررہا تھا کہ پوليس کے افراد ڈنڈوں سے حجر کے افرد پر حملہ کررہے تھے حمراء(۱) ميں سے بکر بن عبيہ عمودی نامی ایک شخص نے جو

____________________

١۔ حمراء ،ایک لقب تھا خلافت کے دربار ميں موجود عربوں نے اس لقب کو ایرانيوں کيلئے رکھا تھا۔

حجر کے ساتھيوں ميں سے تھا عمرو بن حمق ١ کے سر پر زور سے ایک ضرب لگائی وہ زمين پر گر گيا ليکن قبيلہ ازد کے دو افراد نے اسے اٹھا کر اس کے قبيلہ کے ایک شخص کے گھر لے گئے عمر وکچھ دن اس گھر ميں مخفی رہا اور ٹھيک ہونے کے بعد وہاں سے چلا گيا ۔طبری کہتا ہے : اس حملہ کے بعد حجر کے ساتھی مسجد کے کندہ نامی دروازے کی طر ف جمع ہوئے اس اثناء ميں ایک پوليس والے نے عبد الله بن خليفہ طائی پر ایک ڈنڈہ مارا وہ زمين پر گرگيا اور پوليس والا یہ رجز پڑ ه رہاتھا ۔

قد علمت یوم الهياج خلتی

انی اذا فئتی تولت

و کثرت عداتها او قلت

انی قتّال غداة بلت

ميرے دوست جانتے ہيں اگرميد ان کارزار ميں ميرا ہم رزم گروہ بهاگ جائے اور ہمارے دشمن زیادہ ہوں ميں اس کمی کے باوجود ایساقتل عام کروں گا کہ دوسرے فرار کر جائيں گے۔

حجر مخفی ہوجا تے ہيں :اس کے بعد حجر کے ساتھی مسجد کے ان دروازوں سے باہر نکلے جن کا نام کندہ تھا حجر گھوڑے پر سوارہو کر اپنے گھر کی طر ف چلے گئے پھر بھی اس کے بعض ساتھيو ں نے اس کے گھر ميں اجتماع کيا، جو قبيلہ کندہ کے افراد کی نسبت کم تھے اسی جگہ پر حجر کے سامنے زیاد کے مامورین اور حجر کے ساتھيوں کے درميان ایک جنگ چهڑ گئی حجر نے اپنے ساتھيوں سے مخاطب ہوکر کہا: افسوس ہے تم پر ! کيا کررہے ہو ؟ جنگ نہ کرو اور متفرق ہوجاؤ ۔ ميں بعض کوچوں ميں سے گزر کر قبيلہ بنی حرب کی طرف جاتا ہوں اس کے بعد حجر

____________________

١۔ طبری عبدا لله بن عوف سے نقل کرتاہے کہ وہ کہتا ہے کہ مصعب کے قتل ہونے کے ایک سال بعد کو فہ ميں داخل ہوا اتفاقاً راستہ ميں ایک احمری شخص کو دیکھا جس دن عمر بن حمق زخمی ہوا تھا اس دن سے اسے نہيں دیکھا تھا اور تصور نہيں کرتا تھا کہ اگر کبھی عمرو کے مارنے والے کو دیکھ لوں تو اسے پہچان سکوں ليکن چونکہ ميں نے اس کودیکھاتھا تو احتمال دیا کہ یہ عمرو کا مارنے والا ہوناچاہئے ميں نے سوچا کہ اگر موضوع کو سوال کی صورت ميں پيش کروں تو ممکن ہے بالکل انکار کرے۔ اس لئے ميں نے مسئلہ کو اس طرح پيش کيا : ميں نے تمہيں اس روز کے بعد آج تک نہيں دیکھا جب تم نے عمرو پر حملہ کرکے اس کے سر کو زخمی کردیا تھا ، اس نے جواب ميں کہا: تيری آنکھيں کتنی تيز بين اور تيری نظر کتنی رسا ہے ۔ جی ہاں جو کام اس دن مجھ سے سرزد ہوا ، اس کے بارے ميں آج تک پشيمان ہوں کيونکہ عمرو ایک لائق اور شائستہ شخص تھاجب ميرا گمان یقين ميں بدل گيا تو ميں نے اس سے کہا: خدا کی قسم جب تک نہ تجھ سے عمرو کا انتقام لے لوں تم سے دست بردار نہيں ہوں گا ۔ اس نے مجھ سے التماس اور درخواست کی کہ اسے معاف کردوں ليکن ميں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہيں کی ۔ ميرا ایک غلام جو ایرانی اور اصفہانی تھا ، اس کے ہاتھ ميں ایک بهاری برچھی تھی ، اس نے اس سے لے ليا اور پوری زور سے اس شخص کے سر پر دے مارا کہ وہ زمين پر گرگيا اور اسی حال ميں چھوڑکر ميں چلا گيا ۔ ليکن بعد ميں اس کا زخم ٹھيک ہوگيا تھا کہ ایک بار پھر اس سے ملاقات ہوئی ہر بار جب وہ مجھے دیکھتا تھا تو کہتا تھا : ميرے اور تيرے درميان خدا فيصلہ کرے گا۔ اور ميں بھی اس کے جواب ميں کہتا تھا :خداتيرے اور عمرو بن حمق کے درميان فيصلہ کرے ۔

اسی طرف روانہ ہو گئے ا ور سليم بن یزد نامی بنی حرب کے ایک شخص کے گھر ميں داخل ہوئے زیاد کے مامور اور پوليس جو حجر کا پيچها کررہے تھے نے اس گھر کو تحت نظر رکھا اور اسے اپنے محاصرہ ميں قرار دیا سليم نے جب اپنے گھر کو زیاد کے مامورین کے محاصرہ ميں پایاتو اس نے اپنی تلوارکھينچ لی تاکہ زیادکے مامورین سے جنگ کرے اس کی بيٹيوں کے رونے کی آواز بلند ہوئی حجر نے پوچھا : سليم ! تم کيا کرنا چاہتے ہو ؟ اس نے جواب ميں کہا : ميں ان لوگوں سے درخواست کرنا چاہتاہوں تاکہ آپ سے دست بردار ہوکرچلے جائيں ، اور اگر انہوں نے ميری بات قبول نہ کی تو جب تک ميرے ہاتھ ميں یہ تلوار ہے ان سے لڑوں گا اورتمہارا دفاع کروں گا حجر نے کہا: لا ابا لغيرک --- تيرے علاوہ بن باپ کا ہے ميں نے تيری بيٹيوں کيلئے کيا مصيبت پےدا کی ہے ! سليم نے کہا: نہ ان کا رزق ميرے ہاتھ ميں ہے اور نہ ميں ان کا محافظ ہوں ان کا رزق اور ان کی حفاظت اس خداکے ہاتھ ميں ہے جو ہميشہ زندہ ہے اورمرگ و زوال اس کے لئے ہر گز نہيں ہے ميں کسی بھی قيمت پر اس ذلت کو برداشت نہيں کروں گا کہ وہ ميرے گھر ميں داخل ہوکر ميرے مہمان اورجا گزےن شخصکو گرفتار کریں اور جب تک ميں زندہ ہوں اور تلوار ميرے ہاتھ ميں ہے ہر گز اس کی اجازت نہيں دوں گا کہ تجھے ميرے گھر ميں گرفتار کيا جائے اور تجھے اسيرکرکے زنجيروں ميں جکڑا جائے مگر یہ کہ مجھے تيرے سامنے قتل کيا جائے اسکے بعد جو چاہيں کرےں حجر نے کہا: سليم ! تيرے اس گھر ميں کوئی سوراخ یا کہيں پست دیوار نہيں ہے ؟ تا کہ ميں راستہ سے خود کو باہر پہنچا دوں ؟ شاےد خدا وند عالم مجھے ان افراد کے شر سے اور تجھے جنگ و قتل سے نجات دے ؟ کيونکہ جب وہ مجھے تيرے پاس نہ پائيں گے تو تجھے کوئی ضررر نہيں پہنچائيں گے سليم نے کہا؛ کيوں ، یہ ایک سوراخ ہے یہاں سے نکل کر بنی عنبر اور دیگر قبيلوں کے ےہاں پہنچ سکتے ہو جو تيرے رشتہ دار ہيں حجر سليم کے گھر سے چلے گئیاور کوچوں کے پيچ و خم سے گزر کر قبيلہ نخ کے ےہاں پہنچ گئے اور اشتر کے بھائی عبدالله بن حارث کے گھر ميں داخل ہوئے حارث نے حجر کا استقبال کيا اور ان کی مہماں نوازی اور حمایت کی ذمہ داری لے لی جو عبد الله کے گھرميں تھا ایک دن اسے اطلاع ملی کہ زیاد کی پوليس اسے قبيلہ نخ ميں ڈهونڈ رہی ہے اور اس کا پيچها کررہی ہے اس کی سياہ فام کنيز نے پوليس والوں کو یہ اطلاع دی تھی حجر قبيلہ نخ ميں ہے جب پوليس والے اس سے مطلع ہوئے تو حجر عبدالله کے گھر سے بهيس بدل کررات کو نکل گئے اور خود عبد الله بھی سوار ہوکر اس کے ساتھ نکلا یہاں تک ربيعہ بن ناجد ازدی کے گھرے ميں داخل ہوگئے ایک دن اور رات وہاں پر ٹھہرے اس طرح سپاہی کافی تلاش کے باوجود حجر کو گرفتارنہ کرسکے اور نااميدی کے ساتھ زیاد کی طر ف واپس لوٹے پھر زیاد بن ابيہ نے حجر کو گرفتار کرنے کيلئے ایک دوسری راہ کا انتخاب کيا اور اس طرح حجر بن عدی کو گرفتار کيا گيا اگلی فصل ميں داستان کا باقی حصہ بيان کریں گے ۔

حجر بن عدی کی گرفتاری

والله لا حرصنّ علی قطع خيط رقبة

خدا کی قسم کوشش کرتا ہوں کہ اس کی گردن کی رگ کو کاٹ دوں زیاد بن ابيہ جيسا کہ ہم نے گزشتہ فصل ميں کہا کہ زیاد کے مامور حجر کو گرفتار نہ کرسکے اور نااميدی کی حالت ميں واپس آئے زیا دنے روداد کو جب اس حالت ميں دیکھا تو حجر کی گرفتار کيلئے دوسری راہ اختيار کی اور وہ یہ کہ : محمد بن اشعث کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا:

اے ابو ميثاء ! حجر جہاں بھی ہو اسے تمہيں تلاش کرنا ہوگا اور اسے تلاش کرکے ميرے حوالہ کرنا ، ورنہ خدا کی قسم تيرے تمام درختوں کو کاٹ دوں گا ، تيرے گھر کو مسمار کردوں گا اور تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالوں گا ۔

ابن اشعث نے کہا: امير ! مجھے مہلت چاہئے ۔ زیاد نے کہا: اس کا م کوانجام دینے کيلئے تجھے تين دن کی مہلت دیتا ہوں اگر تين دنوں کے اندر حجر کو لا سکے تو نجات پاؤ گے ورنہ اپنے آپ کو مردوں ميں شمار کرنا اس کے بعد حکم دیا محمد بن اشعث ---جس کا رنگ اڑگيا تھا اور حالت بگڑ گئی تھی --- کو گھسيٹتے ہوئے زندان کی طرف لے گئے ۔ حجر بن یزید کندی نے جب محمد کو اس حالت ميں دیکھا تو زیاد کے پاس آکر کہا؛ امير ! ميں محمد کيلئے ضمانت دیتاہوں اسے آزادکردو تا کہ حجر کو تلاش کرے کيونکہ اگر اسے زندان ميں ڈالنے کے بجائے آزاد چھوڑ دو تا کہ پورے انہماک اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دے ۔ زیاد نے کہا: کيا تم اس کی ضمانت دوگے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ،ز یاد نے کہا: اے ابن یزید: باوجود اس کے کہ تم ميرے نزدیک بلند مقام و منزلت کے حامل ہو اگر محمد بن اشعث ہمارے چنگل سے فرار کر گيا تو تجھے موت کے حوالہ کرکے نابودکردوں گا ۔

حجر بن یزید نے کہا: محمد ہر گز مجھے ضمانت ميں پھنسا کر فرار نہيں کرے گا اس کے بعد زیاد نے محمد کو آزاد کرنے کا حکم دیا پھر زیاد نے قيس بن یزید کو اپنے پاس بلایا جو جيل ميں تھا اور اسے کہا؛ قيس ! ميں جانتا ہوں کہ حجر کے رکاب ميں تيرا جنگ کرنا خاندانی تعصب کی بناء پر تھا نہ عقيدہ اور ہم فکری کی وجہ سے ميں نے تيری اس خطا اور گناہ کو بخش دیا اور تجھے عفو کيا کيونکہ ميں نے جنگ جمل ميں معاویہ کے رکاب ميں تيری حسن رائے اور جانفشانی کے بارے ميں سنا ہے ليکن تجھے آزاد نہيں کروں گا جب تک کہ اپنے بھائی عمير کو ميرے پاس حاضر نہ کرو گے۔ قيس نے جواب دیا : انشاء الله جتنا جلد ممکن ہوسکا اسے تيرے حضورميں پيش کروں گا زیاد نے کہا: کوئی تيری ضمانت کرے تا کہ تجھے آزاد کردوں قيس نے کہا: یہی حجر بن یزید مير اضامن ہے حجر بن یزید نے کہا: جی ہاں ، ميں قيس کی ضمانت دیتاہو ، اس شرط پر کہ امير، ہمارے عمير کو امان دیدے اور اس کی طرف سے ان کی جان و مال پر کوئی نقصان نہ پہنچے زیاد نے کہا: ميں نے عمير کو امان دی۔

قيس اور حجر گئے اور عمير کو زخمی بدن اور خون آلود حال ميں زیاد کے پاس لے آئے اس نے حکم دیا کہ اس کی گردن پر ایک بهاری زنجير ڈالی دیں زنجير ڈال کرزیاد کے حکم کے مطابق بعض مامورین زنجير کو پکڑ کر اسے دیوار کی بلندی تک کھينچتے اورپھر زنجير کو چھوڑ

دیتے تھے کہ وہ زور سے زمين پر گرتا تھا دوبارہ اسے دیوار کی بلندی تک کھينچتے تھے اور زمين پر چھوڑتے تھے حجر بن یزید نے اعتراض کرتے ہوئے کہ؛ اے امير : کيا تم نے اسے امان نہيں دیا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں ميں نے اس کے مال و جان کو امان دی ہے نہ اس کے بدن کو ۔ميں نہ خون بہاتا ہوں اور نہ اس کے مال سے کچھ ليتا ہوں ، حجر نے کہا: وہ تو تيرے اس عمل سے مرنے کے قریب ہوجائے گا اس کے بعد حاضرےن بزم ميں سے ےمنی جماعت نے اٹھ کر زیاد سے گفتگو کی اور عمير کی آزادی کی درخواست کی ۔ زیاد نے کہا: اگر تم لوگ اس کی ضمانت کرو گے اوروعدہ کرو گے کہ اگر اس نے پھر سے ہماری سياست اور حکومت کے خلافت کوئی کاروائی کی تو تم لوگ تو خود اسے گرفتار کرکے ہمارے حوالہ کرو گے تو ميں اسے آزاد کردوں گا ۔ انہوں نے کہا:

جی ہاں ، اس تعہد و ضمانت کو قبول کرتے ہيں ۔ زیاد نے عمير کو آزاد کرنے کا حکم دیا ۔

حجر کا مخفی گاہ سے باہر آنا:

ا یک شب و روز تک ، حجر بن عدی، ربيعہ ازدی کے گھر ميں پناہ گزےن رہے اسی جگہ پر حجر مطلع ہوئے کہ زیاد نے محمد بن اشعث سے تعہد ليا ہے کہ حجر کو اس کے حوالہ کردے گا ورنہ اس کی ثروت پر قبضہ ، گھر کو مسمار اور خود اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گاحجر نے یہ خبر سننے کے بعد محمد بن اشعث کو پيغام بھيجا کہ تيرے بارے ميں اس ظالم اور ستم گر کی باتوں کو ميں نے سنا ، ليکن پریشان نہ ہونا کيونکہ ميں خود تيرے پاس آجاؤں گا ليکن تم بھی اپنے قبيلہ کے افراد کو جمع کرنا اور ان کے ہمراہ زیاد کے پاس جانا اور اس سے ميرے لئے امان کی درخواست کرناتاکہ مجھے کسی قسم کی تکليف نہ پہنچائے اور مجھے معاویہ کے پاس بھيج دے تا کہ ميرے بارے ميں خود وہ فيصلہ کرے ۔ جب یہ خبر محمد بن اشعث کو پہنچی تو وہ اٹھ کر حجر بن یزید، جریر بن عبد الله اور مالک اشتر کے بهتيجے عبدالله بن حارث کے گھر گيا اور ان سب کو اپنے ساتھ لے کر زیاد کے پاس گيا اور اس کے ساتھ حجر بن عدی کے بارے ميں گفتگو کی اور حجر کو امان دینے اور اسے معاویہ کے پاس بھيجنے کی درخواست کی ۔ زیادنے ان کی درخواست منظور کی اور حجر ابن عدی کو امان دی ۔

ا نہوں نے بھی حجر بن عدی کو اطلاع دیدی کہ زیاد نے تيری درخواست منظورکرلی ہے اور تجھے امان دیا ہے اب تم اپنی مخفی گاہ سے باہر آسکتے ہو،اور زیاد سے ملاقات کرسکتے ہو حجر بن عدی بھی ربيعہ کے گھر سے باہر آگئے اور دار الامارہ ميں گئے حجر پر زیاد کی نظر پڑتے ہی زیادنے کہا:

مرحبا ہو تم پر اے عبدالرحمان ، جنگ کے دنوں ميں جنگ و خونریزی اور صلح و آرام کے دنوں ميں بھی جنگ و خونریزی ؟ علی اهلها تجنی براقش(۱) حجر نے زیاد کے جواب ميں کہا:

ميں نے نہ اطاعت سے انکار کيا ہے اور نہ جماعت سے دوری اختيار کی ہے بلکہ ميں اپنی سابقہ بيعت معاویہ پر قائم ہوں ۔

زیاد نے کہا: هيئات ، هيئات ، ! بعيد ہے اے حجر ! تم ایک ہاتھ سے تھپڑ مارتے ہو اور دوسرے ہاتھ سے نوازش کرتے ہو تم چاہتے ہو کہ جب ہم تم پر کامياب ہوں تو اس وقت تجھ سے راضی ہوجائيں ! خدا کی قسم نہيں !

حجر نے کہا: کيا تم نے مجھے امان نہيں دی ہے تاکہ معاویہ کے پاس جاؤں اور جس طرح وہ چاہے ميرے ساتھ برتاؤ کرے ؟

____________________

١۔کہتے ہيں ایک عرب قبيلہ کے کتے کا نام ‘ براقش” تھا ، ایک رات کو اس کتے نے گھ وڑوں کے چلنے کی آوازسنی اور بهونکا ۔ان گھ وڑوں پر ڈاکو سوار تھے اس کتے کی آواز پر اس قبيلہ کے گھ ر شناسائی کرکے اس پر شب خون مارا اور تمام ثروت کو لے بهاگے اس روز کے بعد عربوں ميں یہ جملہ ضرب المثل بنا ہے : “ علی اهلها جنت براقش” یہ ضرب المثل اس وقت کہتے ہيں جب کوئی خود اپنے کام پر یاقبيلہ پر ظلم کرتا ہے براقش کتے نے اپنے ہی مالک پر ظلم کيا ۔

زیاد نے کہا: کيوں نہيں ، ميں نے ہی تجھے امان دی ہے اس کے بعد مامورین کی طرف رخ کرکے بولا : اسے زندان لے جاؤ جب حجر زندان کی طرف روانہ ہو ئے زیاد نے کہا :خدا کی قسم اگر اسے امان نہ دیا ہوتا تو یہيں پر ا س کا سر قلم کردیتا اور خدا کی قسم آرزو رکھتا ہوں کہ اس کا انتقام لے کر اس کی زندگی کاخاتمہ کرکے رکھدوں ۔ حجر نے بھی زندان کی طرف جاتے ہوئے بلند آواز ميں کہا: خدایا ! تو شاہد رہنا ميں اپنی بيعت اور عہد و پيمان پر باقی ہوں ميں نے اسے نہيں توڑا ہے اور نہ اسے توڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں ! لوگو! سن لو!

اس وقت اس سرد ہوا ميں حجر کے سر پر صرف ایک ٹوپی تھی ، اسے دس دن کيلئے جيل بھيج د یا گيا۔

حجر کے ساتھيوں کی گرفتاری اس مدت کے دوران زیاد نے حجر کے ساتھيوں کو پکڑنے کے علاوہ کوئی کام نہيں کيا ۔

عمرو بن حمق اور رفاعہ بن شدا دجو حجر کے خاص ساتھی تھے نے کوفہ سے فرار کيا اور عراق کے موصل پہنچے اور وہاں پر ایک پہاڑ کے درميان مخفی ہوگئے اور ایک جگہ کو اپنے لئے پناہ گاہ قرار دیا ، جب علاقہ کے چودهری کو اطلاع ملی کہ دو ناشناس افراد پہاڑوں ميں ایک غار ميں مخفی ہوئے ہيں وہ ان کے بارے ميں شک ميں پڑگيا اور چند لوگوں کے ہمراہ انکی طرف بڑها ، جب کوہ کے دامن پر پہنچے تو وہ دونوں پہاڑ کے درميان سے باہر نکلے عمر بن حمق سن رسيدہ ہونے کی وجہ سے بہت تهک چکا تھا اوراب اس ميں فرار کی ہمت باقی نہيں رہی تھی اس لئے اس نے فرار اور مقابلہ کرنے پر ہتهيار ڈالنے کو ہی ترجيح دیا ليکن رفاعہ عمرکے لحاظ سے جوان اور جسم کے لحاظ سے قوی اور طاقتور تھا وہ گھوڑے پر سوار ہوا تا کہ عمرو بن حمق کا دفاع کرے اور اسے گرفتار ہونے سے بچالے عمرو نے اسے کہا : رفاعہ ! تيری جنگ اور مقابلہ کا کوئی فائدہ نہيں ہے اگر ہوسکے تو اپنے آپ کو ہلاکت سے بچالو اور اپنی جان کا تحفظ کرلو رفاعہ نے ان پر حملہ کيا اور ان کی صف کو توڑ کر بهاگنے اور اپنے آپ کو نجات دینے ميں کامياب ہوگيا ليکن عمرو بن حمق پکڑا گيا اس سے پوچھا گيا کہ تم کون ہو ؟ اس نے جواب ميں کہا: ميں وہ ہوں ، اگر مجھے آزاد کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر قتل کرو گے تو تمہارے لئے گراں تمام ہوگااس نے صرف اسی جملہ پر اکتفا کيا اوراپنا تعارف کرانے سے اجتناب کيا لہذاا سے موصل کے حاکم عبدالرحمان بن عبد الله ثقفی معروف بہ ابن ام حکم ---معاویہ کے بهانجے ---کے پاس بھيجا عبدالرحمان نے عمرو کو پہچان ليا اس نے معاویہ کو ایک خط ميں اس کے فرار کرنے اور پکڑے جانے کی روئداد لکھی اور اس کے بارے ميں اپنا وظیفہ دریا فت کیا۔

معاویہ نے خط کے جواب ميں لکھا : عمرو بن حمق نے اپنے اعتراف کے مطابق عثمان کے بدن پر برچھی کے نو ضربيں لگآئیں ہم اس سے تجاوز کرنانہيں چاہتے لہذا جس طرح اس نے عثمان کے بدن پر نو ضرب لگائی ہيں اسی طرح تم بھی اس کے بدن پر برچھی سے نو ضرب لگاو۔

عبدالرحما ن نے عمرو کے بارے ميں معاویہ کے حکم پر عمل کيا پہلی یا دوسری بار جب اس کے بدن پر برچھی کی ضرب لگائی گئی تو اس نے جان دیدی ۔

عمرو بن حمق کون ہے ؟

عمرو بن حمق رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب ميں سے تھے صلح حدیبيہ کے بعد آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوکر صحابی رسول بننے کی سعادت حاصل کی ۔ آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے کثیر تعداد ميں احادیث یاد کےں جب عمرو نے آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں ایک گلاس پانی پيش کيا آنحضرت نے اس کيلئے یوں دعا کی:

خدایا : اسے جوانی سے بہرہ مند فرما :اللهم امتعه بشبابه

لہذا اسی ( ٨٠ )سال کی عمرميں بھی اُن کے چہرے پر جوانی کا نشاط نمایاں تھا ،

حتی اس کے سر و صورت کا ایک بال بھی سفيد نہيں ہوا تھا۔

وہ ان افراد ميں سے ہيں جنہوں نے عثمان کے خلاف بغاوت ميں شرکت کی عمرو بن حمق عثمان کے مظالم سے مقابلہ کرنے کيلئے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ان چار افراد ميں سے ایک ہيں جو عثمان کے گھر ميں داخل ہوئے ۔(۱) وہ امير المؤمنين علی عليہ السلام کے نزدیک ترین اصحاب ميں سے تھے علی عليہ السلام کی تمام جنگوں جنگ جمل، صفين اور نہروان ميں علی کی رکاب ميں شرکت کی ہے زیاد بن ابيہ سے ڈر کے مارے کوفہ سے بهاگ کر موصل فرار کر گئے موصل کے حاکم نے معاویہ کے حکم سے ان کا سر قلم کرکے معاویہ کے پاس بھيجدیا ۔

مؤرخين نے کہا ہے : اسلام ميں جو پہلا سر شہر بہ شہر لے جایا گيا عمرو بن حمق کا کٹا ہوا سر تھا ۔

جب اس کے سر کو معاویہ کے پاس لایا گيا اس نے حکم دیا اس کے سر کو اس کی بيوی ( آمنہ بنت شرید ) جو معاویہ کے حکم سے ایک مدت سے شام کے زندان ميں تھی کے پاس لے جائيں عمرو کے کٹے ہوئے سر کوزندان ميں اسکی بيوی کی آغوش ميں پھينک دیا گيا آمنہ اپنے شوہر کا کٹا سر دیکھ کر مضطرب اور وحشت زدہ ہوئی اس کے بعد کٹے ہوئے سر کو آغوش ميں لے کر اپنے ہاتھ کو اپنے شوہر کی پيشانی پر رکھا اسکے ہونٹوں کو چوما اور پھر کہا: “ ایک طولانی مدت تک اس نے مجھ سے جدا کردیا اور آج اس کا کٹا سر ميرے لئے تحفہ کے طورپر لائے ہو آفرین ہو اس تحفہ پر مرحبا

____________________

١۔ عثمان کے قتل ميں کن لوگوں نے براہ راست اقدام کيا اسکے بارے ميں مورخين ميں اختلاف ہے بعض کہتے ہيں محمد ابن ابی بکر نے ہاتھ ميں لئے ہوئے نيزہ سے ضرب لگائی اور اسے قتل کيا ليکن کچھ لوگ کہتے ہيں کہ محمد بن ابوبکر اسکے گھ ر ميں داخل ہوئے ليکن سودان بن حمران نامی ایک شخص نے اسے قتل کيا کچھ لوگ کہتے ہيں کہ محمد بن ابی بکر عثمان کی داڑهی کو پکڑ کرکھيچاجس پر عثمان نے کہا: ایک ایسے ریش کو کھينچ رہے ہو کہ تيرا باپ اس کا احترام کرتا تھا اور تيرا باپ تيرے اس کام سے راضی نہيں ہوگا محمد نے جب عثمان کا یہ جذباتی کلام سنا تو چھوڑ کر اس گھ رکے سے باہرنکل گئے۔

اس ہدیہ پر(۱) : عمرو بن حمق ۵٠ هء ميں شہيد ہوئے(۲)

حجر بن عدی اور ان کے ساتهيوں کا قتل

اللّٰهم انما نستعدیک علی امتن

خداوندا ! ہم اپنی ملت سے، کوفہ شام کے بظاہر ان مسلمانوں سے تيری بارگاہ ميں شکایت کرتے ہيں ! حجر ابن عدی طبری کہتا ہے : زیاد بن ابيہ نے حجر ابن عدی کے ساتھيوں کو گرفتار کرنے کی زبردست کوشش کی ان ميں سے ہرایک کسی نہ کسی طرف فرار کرتا رہا جہاں کہيں بھی ان ميں سے کسی کو پایا گرفتار کرليتا تھا ۔

صيفی کی گرفتاری طبری کہتا ہے : قيس بن عباد شيبانی، زیاد کے پاس گيا اور کہا : ہمارے قبيلہ ميں صيفی بن فسےل نامی خاندان ہمام کا ایک شخص ہے وہ حجر بن عدی کے ساتھيوں ميں ایک بزرگ شخصيت ، وہ تيرے شدید مخالفوں ميں سے ہے، زیاد نے ایک مامور کو بھيجا اور صيفی کو لایا گيا زیاد نے اس سے مخاطب ہوکر کہا: اے دشمن خدا ! ابو تراب کے بارے ميں تيرا عقيدہ کيا ہے ؟اس نے کہا: ميں ابو تراب کو نہيں جانتا ہوں زیاد نے کہا: تم اسے اچھی طرح جانتے ہو ! صيفی نے کہا: نہيں ، ميں ابو تراب کو نہيں جانتا ہوں ! زیاد نے کہا: کيا تم علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو نہيں جانتے ہو ؟ اس نے کہا: کيوں نہيں ؟ زیاد نے کہا:وہی تو ابو تراب ہيں !

صيفی نے کہا؛ نہيں ، وہ ابو الحسن اور ابو الحسين ہيں ۔ زیاد کی پليس افسر نے صيفی کو دهمکی دیتے ہوئے کہا: کہ امير کہتا ہے وہ ا بو تراب ہيں اور تم کہتے ہو نہيں ؟ صيفی نے کہا:

اگر امير جھوٹ کہے تو کيا مجھے بھی اس کے جھوٹ کی تائيد کرنی چاہئے اور اسکے باطل اور بے بنياد مطالب پر گواہی دوں ؟! زیاد نے کہا: صيفی ! یہ بھی ایک دوسرا گناہ ہے ۔ حکم دیا ایک عصا لائيں ، اس کے بعد صيفی سے مخاطب ہوکر بولا : تم علی عليہ السلام کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟ صيفی نے کہا: بہترین بات جو ایک بندہ خدا کيلئے زبان پر جاری کرسکتا ہوں وہی علی عليہ السلام کے بارے ميں کہوں گا زیاد نے حکم دیا کہ عصا سے اس کی گردن پر اس قدر ماریں تا کہ زمين پر گرجائے ۔ ظالموں نے ایسا ہی کيا ۔ زیاد نے کہا: اسے چھوڑ دو اس کے بعد سوال کيا: اب بتاؤ علی عليہ السلام کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟ صيفی نے کہا: خدا کی قسم اگر مجھے چاقو سے ٹکڑے ٹکڑے کر دوتو علی عليہ السلام کے بارے ميں اس کے علاوہ کچھ نہيں سُن پاؤ گے ۔ زیاد نے کہا: علی پر لعنت کرو ورنہ تيرا سر قلم کردوں گا ۔ صيفی نے

____________________

١۔ غير قالية و مقلية

٢۔ ہم نے عمرو بن حمق کی زندگی کے حالات کو “ استيعاب ” ، اسد الغابہ اور اصابہ سے نقل کيا ہے ليکن کے کٹے سر کو اس کی بيوی کے پاس بھيجنے کی روایت کو صرف اسد الغابہ سے نقل کيا ہے ۔