• ابتداء
  • پچھلا
  • 13 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1800 / ڈاؤنلوڈ: 854
سائز سائز سائز
کربلا کی خاک پر سجدہ

کربلا کی خاک پر سجدہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

کتاب کا نام: کربلا کی خاک پر سجدہ

مولف: سید رضا حسینی نسب

مترجم: محمد اصغر صادقی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

پیشکش: مہدی (عج) مشن

مقدمہ آیت اللہ جعفر سبحانی دامت برکاتہ

مٹی پر سجدہ کرنا روح عبادت ہے

اسلامی محققین اپنی بصیرت کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ تمام موجودات اپنے خالق سے ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔ اگر اس رابطہ کو خالق سے توڑ دیا جائے۔ تو پھر ان موجودات کا وجود ہی فنا کی نذر ہو جائے گا ۔ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ” اے لوگو تم سب کے سب خدا کے محتاج ہو اور ( صرف ) خدا ہی (تمام لوگوں ) سے بے نیازاور حمد و ثنا کا مستحق ہے “(۱)

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اپنے کو پہچاننا خدا کو پہچاننا ہے کیونکہ حقیقت وجود انسان بھی اس ذات غنی و حمید سے مربوط ہے ۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے کو پہچانے اور اس حقیقی رابطہ کو فراموش کر دے جو اس کے ا ور رب جلیل کے درمیاں موجود ہے ۔

لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ” خدا کو بھولنا خود کو فراموش کرنے کے مترادف ہے“ جیسا کہ قرآن مجید اس چیز کی طرف اس آیہ شریفہ میںاشارہ کررہا ہے (اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انھیں ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔(۲)

انسان کو ان لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے جنھوں نے خدا کو بھلا دیا کیونکہ قرآن خود ان کو جواب دیتا ہے کہ انھوں نے اپنی ہستی کو بھلا دیا ہے ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نمک کھائے اور نمک دان کو بھول جائے ؟!یہ ناشکری کی آخری حد ہے۔خالق و مخلوق کا رابطہ یہ وہ حقیقت ہے جس تک محققین دلیل و برہان کے ذریعہ پہنچے ہیں۔اور عرفاء سیر وسلوک کے ذریعہ کشف و شہود کی منازل کو طے کرنے کے بعد بصیرت کی نگاہوں سے اس رابطہ کا مشاہدہ کیا ہے۔جبکہ بہت سارے عام لوگوں نے بھی فطرت کی طرف رجوع کرکے اس حقیقت کو درک کیا ہے کہ انسانی وجود کا دارو مدار ہر لحاظ سے اسی بے نیازخدا سے رابطہ کے او پر قائم ہے ۔واضح ہے، کہ خدا کی پہچان انسان کے بدن میں ایک جنبہ روحی کی حیثیت سے تجلی اور خودنمائی کرتی ہوئی خدا کے سامنے فروتن و خاضع ہوتی ہے ۔اس لئے کہ تمام کی تمام شریعتیں اور عبادتیں مثلا نماز و روزہ اس لئے ضروری قرار دئے گئے ہیں کہ عقلاء فکر و تدبر سے اور عرفاء کشف و شھود سے اور ایک عام انسا ن ا پنی فطرت کی طرف رجوع کرکے خدا وند عالم کی بارگاہ میں سر بسجود ہو ۔ اسلام کا مقدس نظام گذشتہ شریعتوں کا خلاصہ ا ور نچوڑ ہے ۔

خود یہ نماز انسان کی حس اولیہ کو جلاء و روشنی بخشتی ہے، ہم اس کا احساس نہیں کرسکتے، کیونکہ نماز ایک عبادت توقیفی ہے۔ لہٰذا اسکی تمام خصوصیات کو خداوند عالم ہی جانتا ہے ۔

فقہ امامیہ میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نماز پڑھنے والا صرف زمین ( پتھر ا ور خاک ) اور جو چیز اس سے اگتی ہے اس پر سجدہ کرے ان شرائط کی پابندی کرنا علماء امامیہ کی نظر میں ضروری و لازمی ہے ، اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ زمین ونباتات پرسجدہ فروتنی و خاکساری کی عظیم تجلی گاہ ہے جو نماز کا پہلا مقصد ہے کہ انسان خداوند جلیل کے سامنے اپنے کو ذلیل و حقیر اور پست و نادار شمار کرے جیسا کہ گذشتہ آیت میں ذکر ہوا ہے ۔(فاطر ۱۵ )

اب سونے ،چاندی اور قیمتی کپڑے اور لباس پرسجدہ کرنا کیا فروتنی و انکسار ی کے ساتھ سازگاری رکھتا ہے ؟! اس لئے اہل بیت (ع) کے چاہنے والے ، کارخانہ ، مراکز ، مسافرت اور ہر وہ جگہ جہاں پر انکو یہ اندیشہ ہو کہ مٹی نہ ملے گی وہاں اپنے ساتھ پاک و پاکیزہ مٹی لے جاتے ہیں تاکہ نماز کے وقت خدا کے سامنے ( خاک ریز ہوں ) خاک پر سجدہ کریں لہٰذا ایسا کام بدعت اور اسلام میں نوآوری کا باعث نہیں ہے۔ بلکہ عین فروتنی ہے، کیونکہ بزرگان ما سلف کے درمیان بھی ایسی ہی رسم موجود تھی ۔بلکہ واجب ہے کہ انسان ایسا کرے تاکہ نماز تمام شرائط کیسا تھ انجام دی جا سکے ۔ اور یہ بھی کتنی پیاری چیز ہے کہ بعض افراد اپنے گھروں میں ، جھولیوں میں تھوڑی خاک رکھے رہتے ہیں ،تاکہ مجبوری میں اس پر تیمم کر کے اپنے فریضہ سے سبکدوش ہو سکیں ۔ اس لئے کہ ہر وقت انسان کی دسترسی پاک مٹی تک نہیں ہوتی ہے اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے: <صعیداً طیباً >پاک مٹی پر تیمم کر کے اپنے فریضہ کو انجام دو ۔ (کہنا پڑیگا ) علماء اہل سنت زمین اور اس سے اُگنے والی چیزوں پر سجدہ کرنے کے فلسفہ سے آگاہی نہیں رکھتے بلکہ وہ صحابہ و تابعین کی سنت و سیرت سے بھی لا علم ہیں اس کتاب میں خاک پر سجدہ کرنے کا فلسفہ صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، اگر وہ لوگ اسکو دقت اور توجہ سے مطالعہ کریں تو مجبور ہو کر اپنے فریضہ کی ادائیگی میں تجدید نظر اور تبدیلی کی سونچ میں پڑ جائں گے ۔تعجب ہے بہت سارے نادان اور نام نہاد علماء کا خیال خام یہ ہے کہ شیعہ خود مٹی کی عبادت کرتے ہیں جبکہ یہ بات بدیہی اور واضح ہیکہ شیعہ خضوع و خشوع اور فروتنی کے لئے خاک پر سجدہ انجام دیتے ہیں ۔

جس طریقے سے مسلمانوں کے تمام فرقے کسی نہ کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں، (ہم نہیں کہتے کپڑے کی پوجا کرتے ہو ) اسی طرح ہم بھی دو چیزوں پر ( زمین اور اس سے اگنے والی چیز ) سجدہ کرتے ہیں ، جس طریقے سے وہ لوگ کپڑے و کتان پر سجدہ کرنے کو خودکپڑے کی عبادت نہیں کہتے تو ہم مٹی پر سجدہ کرتے ہیں کہاں سے مٹی کی عبادت ہو جائے گی! قارئین محترم آپ حضرات کے سامنے یہ تمام بحثیں وضاحت و تفصیل کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے ۔ پڑھیئے اور محظوظ ہویئے ۔ہم مولف عالیقدر حجةالاسلام و المسلمین جناب سید رضا حسینی نسب کے شکر گذار ہیں کہ انھوں نے اس کتاب کے لکھنے اور تحقیق و تتبع کرنے میں بڑی زحمت برداشت کی ۔ اور دوست عزیز جناب آقای حاجی حسن محمدی پرویزیان کے بھی شکر گذار ہیں کہ انکی بیکراں سفارش اور تاکید کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی اورحکم الدال علی الخیر کفاعله ( کار خیر کی راہنمائی مثل انجام دینے کے ہے ) کے مطابق وہ بھی اس ثواب عظیم و اجر جزیل میں مولف ارجمند کے ساتھ شریک ہیں ۔ درگاہ خدا میں دست بدعا ہیں کہ یہ رسالہ اتحاد و بھائی چارگی اور تمام مسلمانوں کے درمیان حسن تفاہم کا باعث بنے ۔

جعفر سبحانی

قم موسسہ امام صادق (ع)

۲۵ /۵/ ۱۳۶۹ مطابق ۲۵ محرم الحرام ۱۴۱۱ ھئ

____________________

(۱) فاطر/۱۵۔<یَا اَیهَا النَّاسُ اَنتُم الفُقرَاءُ اِلیَ اللّهِ وَاَللّهُ هُوَا الغَنیُّ الحَمِیدُ

(۲) حشر/۱۹ <وَلَا تَکُونوُا کَا لّذِینَ نَسُو اللَّهِ فَانَسَاهُم اَنفُسَهُم >

پیش گفتار

سجدہ اسلام اور اہل اسلام کی نگاہ میں انسان کا خالق کی بارگاہ میں نہایت فروتنی و بردباری کے ساتھ سر جھکا نے کا نام ہے جو آدمیت کے لئے ” عبودیت “ کی معراج ہے ۔ ا سی لئے قرآن مجید نہ فقط انسان کو ،بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کو سجدہ کرنے والے کے عنوان سے تعبیر کرتا ہے ، جیسا کہ قول خداوند عالم ہے :( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے ، سب اس کیلئے سجدہ کرتے ہیں۔(۱)

اس بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے واجب اور فرض ہیں اورانھیں انجا م دینا ضروریات دین و اسلام میںسے ہے لیکن اسکی کیفیت اوراسے انجام دینے کے طریقے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔

تشیع : اس مذہب کے افراد سنت و سیرت نبی (ص)اور آپکے اہل بیت طاہرین (ع)و اصحاب آنحضرت (ص)اور تابعین کی عملی سیرت کی روشنی میں سجدہ اللہ کے لئے فقط زمین اور جو چیز ا س سے اگتی ہے ۔

(سوائے کھانے اور پینے والی چیزوں ) اس پر انجام دیتے ہیں ۔حقیقتاً آئندہ بحثوں سے اندازہ ہو جائیگا ، کہ یہی روش بندگی صحیح اور رسول (ص) و آل رسول (ع)و اصحاب کرام کی پسندیدہ ہے لہٰذا انکی اتباع و پیروی کرتے ہوئے ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں ۔

اہل سنت و الجماعت : اس مذہب کے افراد محل سجدہ کے بارے میں مزید وسعت کے قائل ہیں لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ سجدہ فقط زمین پر ضروری نہیں ہے بلکہ کھانے اور پہننے والی چیزوں پر بھی درست ہے ۔ بیان کردہ مطالب سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سنی وشیعہ دونوں گروہ ، خدا کے سامنے فقط خضوع و خشوع اور اسکی رضا و خوشنودی کے لئے اسکی بارگاہ میں سجدہ کرتے ہیں ، جس میں کوئی اختلا ف نہیں ہے لیکن بعض مولفین نے گمان کیا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مٹی کی عبادت ہے اور مٹی کی عبادت کرنا شرک ہے ، لہٰذا مٹی پر سجدہ کرنے والے مشرک ہیں جبکہ انکا یہ خیال بالکل بے بنیاد اور انکا یہ تصور باطل ہے ، جسکی حقیقت مثل سراب ہے ۔ ہم آیندہ بحثوں میں شیعہ امامیہ کے نظریات اور انکے دلائل قارئین کے سامنے پیش کریںگے انصاف خود اہل نظر کے ہاتھ ہے

و ما علینا الا البلاغ

مولف

____________________

(۱) سورہ رعد /۱۵<وَ ِللّٰهِ یَسجُدُ َمن ِفی السّمٰوَاتِ وَ الاَرضِ >

۱ ۔ شیعوں کا نظریہ

دوستداران اہل بیت (ع)، سنت اور سیرت معصومین (ع) کی پیروی کرتے ہوئے صرف زمین اور جو چیز اس سے اگتی ہے ( لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو ) اس پر سجدہ اللہ کے لئے کرتے ہیں ، اور درگاہ خدائے یکتا و لازوال میں مزیدخشوع و خضوع ا ور فروتنی کے لئے خاک کربلاپر سجدہ کرتے ہیں اس لئے کہ خدا کے سامنے خاک پر سجدہ کرنا انسان کی فروتنی و خاکساری کی دلیل ہے جس سے انسان مقام بندگی و عبودیت کے بلند مرتبے اور اپنی پیدائش کے پہلے مقصد سے قریب ہوتا ہے ۔

بعض نے یہ گمان کیا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنا خود مٹی کی عبادت ہے اور مٹی کی عبادت کرنا شرک ہے ۔ ( پس مٹی پر سجدہ کرنے والے مشرک ہیں ) لہٰذا وہ مقام اعتراض میں یہ کہتے ہیںکہ شیعہ کیوں مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ؟ ان کے جواب میں ہم یہ بتانا چاہینگے کہ یہ دو جملے الگ الگ ہیں ۔

۱ ۔السجود لله یعنی سجدہ فقط اللہ کے لئے کرنا ۔

۲ ۔السجود علی الارض یعنی زمین پر سجدہ کرنا ،ان دونوں جملوں میں فرق واضح ہے لیکن جو معترض ہے وہ ان دو نوں جملوں میں فرق نہیں کرتا ہے ۔ جبکہ دونوںکے معنی روشن ہیں ایک ہے اللہ کے لئے سجدہ کرنا اور دوسرے کامطلب زمین پر سجدہ کرنایا دوسر ے الفاظ میں دونوں کو ملا کر کہیں ”زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرنا“ لہٰذا ہم ایسا ہی کرتے ہیں ( یعنی زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں ) یہ بنیادی بات بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ دنیا کے تمام مسلمان کسی نہ کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ ا ن کا سجدہ خداکے لئے ہوتا ہے اور اسی طرح تمام حاجی حضرات مسجد الحرام کے پتھروں پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ انکامقصد خدا کے لئے سجدہ کرنا ہے ۔

اس بیان کی روشنی میں خاک ( مٹی ) اور گھانس پر سجدہ کرنے کا مطلب خود اسکو سجدہ کرنا نہیں ہے بلکہ عبادت و سجدہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے ہے ۔ یہیں سے دونوں جملوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنااور اللہ کے لئے سجدہ کرنا جدا ہے۔لہٰذا ہم اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لئے امام مکتب تشیع حضرت جعفر (ع) کے اقوال کا سہارا لیتے ہوئے اور وضاحت کرنا چاہتے ہیں :ہشام کہتے ہیں کہ میں نے جن چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہے ان کے متعلق امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا ۔ تو حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا : سجدہ فقط زمین اور جو چیز زمین سے اُگتی ہے ( سوائے کھانے اور پینے والی چیزوں کے ) اسی پر سجدہ کرنا چاہئے میں نے عرض کیا مولا آپ پر میری جان فدا ہو ۔ اس کی علت کیا ہے ؟ فرمایا: اس لئے کہ سجدہ خضوع و فروتنی اورعبادت پروردگار عالم ہے ، اور کھانے و پینے والی چیزوں میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی کی اس سے خدا کی بارگاہ میں خضوع و فروتنی حاصل کی جا سکے ۔ اس لئے کہ اہل دنیا کھانے اور پینے کے غلام ہیں جبکہ انسان سجدہ کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے کیونکہ جو معبود اہل دنیا کو حیران اور سرگردان کئے ہو اسکے اوپر پیشانی رکھ کر خدا کی بارگاہ میں آئے بہتر نہیں ہے ( اس لئے کہ تذلل اور اپنے کو پست و بے تکبر خدا کے سامنے پیش کرنے کا نام سجدہ ہے ) زمین پر سجدہ کرنا بہتر ہے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کے حضور میں خضوع و خشوع کے لئے یہی حا لت سب سے زیادہ بہترہے۔(۱)

امام علیہ السلام کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین اور مٹی پر سجدہ کرنا خدا کے حضور فروتنی و خضوع کی جہت سے ہے، اور فروتنی و تذلل و بے مایہ گی خدا کے سامنے اسکی عبادت سے بہت سادہ سازگاری اور نزدیکی رکھتی ہے ۔ لہٰذا علامہ امینی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اپنی کتاب ”سیر تنا وسنتنا “ میں اس حقیقت کو فاش کرتے ہیں ”سجدہ عظمت ِپروردگار کے سامنے فروتنی و تذلل کے ساتھ بجالانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے ، اس لئے نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ نماز میں سجدہ کے لئے زمین کو انتخاب کرے اور سجدہ کی حالت میں پیشانی و ناک کو زمین پر رکھے تاکہ اس کو اپنی حقیقت اور کم مائیگی و پست سرشت کی طرف یاد دہانی ہو سکے کہ مٹی سے بنا ہے اور پھر مٹی میں واپس لوٹ کر جانا ہے ، اور پھر اسی سے اٹھایا جائیگا اور خدا کی یاد تازہ رہے پند و نصیحت سے عبرت حاصل کرے اپنے کئے پر نادم و شرمندہ ہو تاکہ فروتنی اور خاکساری اور خواہش بندگی زیادہ سے زیادہ پیدا ہو سکے ، اور خود خواہی و سرکشی سے پرہیز یعنی تاریکی سے روشنی کی طرف نکل آئے ۔ کہ انسان دوست و قرین مٹی ہے خدا وندعالم کے سامنے ) ذلیل و پست و حاجتمند کے سواء اور کچھ نہیں ہے“(۲)

۲ ۔ زمین پر سجدہ کرنے کے دلائل

سوال : ایک سوال یہاں پر اور پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ فقط زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں پر ہی کیوںسجدہ کرتے ہیں ؟ اور دوسری کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے ؟ جواب : اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ جس طرح کسی بھی عبادت کے لئے ضروری ہے کہ خداوندعالم پیغمبر (ص)کے ذریعہ اس عبادت کو لوگوں تک پہونچائے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے ،کہ اسکے شرائط و احکام بھی خدا اپنے رسول (ص) کے ذریعہ ہی لوگوں پہونچائے ۔ اس لئے کہ رسول خدا (ص) قرآن کے حکم کے مطابق تمام لوگوں کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل ہیں ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں سے تمام دینی احکام کو سیکھیں ۔

اس بنا پر پیغمبر اسلام (ص) سے منقول متعدد حدیثیں اور آپ کی سیرت عملی اور آپ کے اصحاب و تابعین کے طریقہ عملی اور انکی روش جو عام طور سے اہل سنت کی روائی کتابوں میں موجود ہے انہیں ہم قارئین کرام کے سامنے انشاء اللہ تفصیل سے پیش کرینگے ۔ اور پھر ہرشخص یہ گواہی دینے پر مجبور ہو جائیگا کہ حقیقت کیا ہے؟ نیز یہ بھی واضح ہو جائگا کہ آنحضرت (ص) و آپ کے اہل بیت (ع) اور اصحاب و تابعین کا وطیر ہ یہ تھا کہ وہ زمین، یا ا س سے اگنے والی چیزوں پر سجدہ کرتے تھے ،ٹھیک اسی طرح جیسے آج شیعہ حضرات اکی سیرت پر چلتے ہوئے پابند عمل ہیں ۔

۳ ۔ خاک پر سجدہ پیغمبر (ص) کی سنت ہے

حضور ختمی مرتبت (ص)کے اقوال و احادیث دنیا کے تمام مسلمانوں کی نگاہ میں حجت اور ایسے چشمے کے مانند ہیں کہ ہر شخص اس سے استفادہ کرنے اور اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل قرار دینے کو لازم و واجب سمجھتا ہے ۔

جس طرح شیعہ حضرات تمام امور زندگی میں بالخصواسلام کے بنیادی احکام کے استخراج کے سلسلہ میں اپنا مرکزو مآخذپیغمبر (ص)کی احادیث کو قرار دیتے ہیں اسی طرح سے سجدہ کے احکام میں بھی آنحضرت (ص)کے اقوال کی اتباع کرتے ہیں۔ علمائے اسلام نے زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں پر سجدہ کرنے کے متعلق بہت ساری روایتوں کو آنحضرت (ص) سے نقل فرمایا ہے جن میں سے ہم چند احادیث کو بطور تبرک نقل کرتے ہیں ۔

۱ ۔محدثین حضرات نے حضور پاک (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا:” زمین میرے لئے سجدہ کی جگہ اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے“(۳)

یہ روایت مختلف الفاظ میں حدیثوں کی متعدد کتابوں میںدرج ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔

۲ ۔ مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا : تمام زمین ہمارے لئے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔(۴)

۳ ۔ بیہقی اپنی سنن میں حضور (ص)سے اسطرح نقل کرتے ہیں :زمین میرے لئے پاک و پاکیزگی اور سجدہ کی جگہ قرار دی گئی ہے ۔(۵)

۴ ۔ اور بحار الانوار میں اس طرح منقول ہے ۔” زمین آپ (ص)اور آپ کی امت کے لئے سجدہ گاہ اور پاک و پاکیزہ قرار دی گئی ہے“(۶)

۵ ۔ اور مصباح المسند میں مرقوم ہے حضور اکرم (ص) نے فرمایا : تمام زمین میرے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور پاک و پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے ۔(۷)

مذکور روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی سطح چاہے خاک اور پتھریا گھانس ہو اس پر سجدہ کرنا صحیح ہے اور وہ پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے ۔ (ہم اسکی و ضاحت آئندہ بیان کرینگے )لہٰذا بغیر کسی معقول عذر کے کسی کو اس حد سے تجاوز کا حق نہیں ہے ۔ یہاں پر لفظ ” جعل “ قانون بنانے کے معنی میں ہے جیسا کہ عبارت سے بخوبی روشن ہے ۔اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ زمین پر سجدہ کرنا اسلام کے پیروکاروں کے لئے خدا کا حکم ہے ۔ اور اس کی اتباع کرنا ہر مسلمان کے اوپر واجب ہے ۔

____________________

(۱) بحار الانوار ج۸۲/ص/۱۴۷ باب (ما یصح السجود علیہ)”وہ چیزیں جن پر سجدہ کرنا صحیح ہے“ طبع بیروت موسسہ الوفا سال ۱۴۰۳ھ۔ ۱۹۸۳نقل از(علل الشرایع):

عن هشام بن الحکم قال قلت لابی عبد الله (ع) : اخبرنی عما یجوز السجود علیه و عما لایجوز ؟ قال السجود لایجوز الا علیٰ الارض او ما انبتت الارض الا ما اکل او لبس فقلت له : جعلت فداک ، ما العلةفی ذالک ؟ قال : لاٴن السجود هو الخضوع للّه عزوجل فلا ینبغی ان یکون علی ما یوٴکل و یلبس ، لان اٴبناء الدنیا عبید ما یاکلون ویلبسون ، والساجد فی سجوده فی عبادة الله عزوجل ، فلا ینبغی ان یضع جبهة فی سجوده علی معبود اٴبناء الدنیا الذین اغتروا بغرورها ، والسجود علی الارض افضل ، لانه اٴبلغ فی التواضع و الخضوع لله عزوجل

(۲) سیرتنا وسنتنا ص/۱۲۵

والانسب بالسجدة التی ان هی الا التصاغر و التذلل تجاه عظمة المولی سبحانه ووجاه کبریائه : ان تتخذ الارض لدیها ،مسجدا یعفر المصلیٰ بها خده ویرغم اٴنفه لتذکر الساجد للّه طینته الوضعیة الخسیسة التی خلق منها و الیها یعود و منها یعاد تارة اخری ، حتی یتعظ بها ویکون علی ذکر من وضاعة اصله ، لیتاٴنی له خضوع روحی و ذل فی الباطن وانحطاط فی النفس واندفاع فی الجوارح الی العبود یة و تقاعس عن الترفّع و الانانیة ، ویکون علی بصیرة من ان المخلوق من التراب حقیق و خلیق بالذل و المسکنة لیس الا

(۳)صحیح بخاری ج/۱ کتاب الصلۃ ص ۹۱، سنن بیہقی ج/۱ص/۲۱۲،باب تیمم بالصعید الطیب، اقتضاء صراط المستقیم (ابنتیمیہ)ص/۳۳۲، صحیح مسلم ج/۱ ص/۳۷۱، سنن نسائی ج۱باب تیمم بالصعید ص۲۱۰ ،سنن ترمزی ج۲ ص ۱۳۱،۱۳۳ج۴ ص۱۲۳۔”جعلت لی الارض مس جداً و طهوراً

(۴) صحیح مسلم ج۱ ص۳۷۱و سیرتناو سنتنا میں نسائی ، ترمذی ، اور ابو داود سے نقل کرتے ہوئے :”جعلت لنا الارض کلها مسجداً و طهوراً

(۵)سنن بیہقی ج۶ ص۲۹۱: ”جعلت لی الارض طیبة و طهوراً و مسجداً

(۶) بحار الانوار ج/۸۳ ص/۲۷۷ : ”جعلت لک ولامتک الارض کلها مسجداً وطهوراً

(۷) مصباح المسند ، شیخ قوام الدین : ”وجعلت الارض کلها لی ولامتی مسجداً وطهوراً