وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ 0%

وہابی افکار کا ردّ مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 179

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف: شیخ نجم الدین طبسی
زمرہ جات:

صفحے: 179
مشاہدے: 28495
ڈاؤنلوڈ: 1535

تبصرے:

وہابی افکار کا ردّ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 28495 / ڈاؤنلوڈ: 1535
سائز سائز سائز
وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف:
اردو

اسی طرح حضرت عمر نے کعب الأحبار کو دعوت دی کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرے .جبکہ صحابہ کرام میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ زیارت کے جواز پر جو دلیلیںبیان کی گئی ہیں یہ محکم ترین اور قوی ترین ادلّہ ہیں جو خاص پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے جائز بلکہ مستحب ہونے کو بیان کر رہی ہیں اس لئے کہ بعض روایات میں زیارت کا حکم دیا گیا ہے اور اکثر علماء نے اس حکم سے مراد استحباب لیا ہے یہاں تک کہ ابن حزم اندلسی نے اس سے وجوب سمجھا ہے کہ ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنا واجب ہے( ۱ )

مقامات مقدسہ اور قبور کی زیارت

گذشتہ مطالب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت سے متعلق تھے اب ہم بقیہ قبور کی زیارت کے جواز کے بارے میں کچھ عرض کریں گے. ان قبور کی زیارت کے جواز میں بھی قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کی طرح کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے .خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبور کی زیارت کے لئے جایا کرتے اور مسلمانوں کو اس امر کی ترغیب دلاتے .نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی مادر گرامی حضرت آمنہ بنت وہب کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور مسلمانوں کا بھی یہی طریقہ کار رہا کہ دوسرے مسلمانوں کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے

البتہ اس بارے میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں :

پہلی حد یث :رسول خد اصلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا :

ائتواموتاکم فسلّموا علیهم أو فصلّوافانّ بهم عبرة .( ۲ )

اپنے مردوں کے پاس جاؤ اور ان پر سلام یا درود بھیجو اس لئے کہ وہ تمہارے لئے باعث عبرت ہیں

____________________

۱۔ التاج الجامع للأصول ۲: ۳۸۲.

۲۔ اخبار مکہ ۲: ۵۲.

۱۰۱

۶۔عورت اورزیارت قبور

عورتوں کا قبور کی زیارت کرنا

زیارت کی بحث میں پیش آنے والے مسائل میں سے ایک خواتین کا قبور کی زیارت کرنا ہے سنن ( بخاری و مسلم کے علاوہ )کے مؤلفین نے اس بارے میں روایات نقل کی ہیں ایک روایت میں نقل کیا ہے : کہ رسو لخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لعن الله زائرات القبور

خد اوند متعال نے زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے.( ۱ )

وہابی اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے عورتوں پر قبور کی زیارت کو حرام قرار دیتے ہیں

وہابی نظریہ کا ردّ

ہم اس نظریہ ۔جو ایک توہم کے سوا کچھ نہیں۔ کا جواب چار طرح سے دے سکتے ہیں :

اوّل: مندرجہ بالا حدیث ، حدیث بریدہ سے نسخ ہو جائے گی .برید ہ کہتے ہیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :نهیتکم عن زیارة القبور،ألا فزوروا

میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا آگاہ ہو جاؤ! (آج کے بعد ) ان کی زیارت کیا کرو.

حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اسی طرح مندرجہ بالا حدیث اس حدیث مبارکہ سے بھی متعارض ہے جسے حضرت عائشہ نے نقل کیا ہے وہ فرماتی ہیں :

نهی رسول الله عن زیارة القبور ثمّ أمر بزیارتها ( ۲ )

____________________

۱۔ المصنف عبد الرزاق۳: ۵۶۹.

۲۔السنن الکبرٰی ۴: ۷۸.

۱۰۲

رسول خد اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبور کی زیارت سے نہی فرمائی لیکن اس کے بعد ان کی زیارت کا حکم فرمایا

اس حدیث کو ذہبی نے المستدرک علی الصحٰحین کے حاشیہ پر نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے

دوم : مندرجہ بالا حدیث حضرت عائشہ کی سیرت اور ان کے عمل سے بھی متعارض ہے اس لئے کہ وہ روایت جسے تھوڑی دیر پہلے نقل کر چکے اس کے مطابق وہ اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتیں

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن ۔ جسے حُبشی( جنوب مکہ) میں ناگہانی موت آئی۔ کی زیارت کی

اسی طرح کہتے ہیں : ایک دن میں نے حضرت عائشہ کو قبرستان جاتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہا : کیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبور کی زیارت سے منع نہیں فرمایا .تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ہاں ، منع کیا تھا لیکن دوبارہ اس کا حکم دیا( ۱ )

کیاحضرت عائشہ اپنے اس عمل کے ذریعہ سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کا ارادہ رکھتی تھیں؟ تاکہ ( نعوذ باللہ ) لعنت خدا کی مستحق قرار پاسکیں جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا؟

سوم : مندرجہ بالا حدیث حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی واضح سیرت اور ان کے عمل کے مخالف ہے اس وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی زیارت کیا کرتیں اور ہر جمعہ کے دن یا ہر ہفتے میں دوبار حضرت