وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ 0%

وہابی افکار کا ردّ مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 179

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف: شیخ نجم الدین طبسی
زمرہ جات:

صفحے: 179
مشاہدے: 31736
ڈاؤنلوڈ: 1679

تبصرے:

وہابی افکار کا ردّ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 31736 / ڈاؤنلوڈ: 1679
سائز سائز سائز
وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف:
اردو

سمجھاجائے ؟

پھر رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:انما الاعمال بالنیات ( ۱ )

بنا بر ایں قضاوت وفیصلے کا معیار نیت قلب ہے نہ کہ ظاہری مشابہت۔

عزامی شافعی اس بارے میں کہتے ہیں : اگر کوئی شخص مسلمانوں کی نیک افراد کیلئے نذروں اور قربانیوں کے مقصد کے بارے میں تحقیق کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں ہے کہ اس صدقہ یا ہدیہ کا ثواب مردوں کی روح کو پہنچے اور ان کے لئے نفع بخش ہوتاہے ۔( ۱ )

اور پھر غرامی نے اس بات کا بھی اضافہ کیاہے : کہ نذر کے شرعی عمل ہونے کے بارے میں صحیح ومعتبر روایات ہم تک پہنچی ہیں انہی میں سے ایک روایت میں آیا ہے کہ سعد کہتے ہیں :

میں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کیا : میر ی ماں کا انتقال ہوگیا ہے او رمجھے یقین ہے کہ اگروہ زندہ رہتیں تو صدقہ اداکرتیں اور اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا اسے فائدہ پہنچے گا؟ فرمایا : ہاں ۔ عرض کی کہ کونسی چیز کا صدقہ دینا بہتر ہے ؟

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : پانی ۔

سعد نے ایک کنواں کھودا اور کہا : ھذا لاِ ُم سعدٍ ؟ یہ کنواں سعد کی ماں کیلئے ہے ۔( ۳ )

البتہ اس سلسلے میں ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے خطاکی ہے اس لئے کہ وہ یہ دعوی کرتے ہیںکہ جب کوئی مسلمان یہ کہے :( (هذه الصدقة للنبی او للولی تو یہ(لام ) وہی لام ہے جو نذرت للہ

میں ہے ۔

____________________

۱۔صحیح بخاری ۱:۱.

۲۔فرقان القرآن ۱۳۳.

۳۔حوالہ سابق.

۱۴۱

واضح ہے کہ ابن تیمیہ نے غلط راہ اپنائی ہے کہ اسلئے کہ وہ(للہ ) میں لام خداوند متعال سے تقرب حاصل کرنے کے معنی میں ہے جب کہ (للنبی ) او ر(للولی ) میں صدقہ کے مصرف کو بیان کررہی ہے ۔

نذر سے متعلق سیرت مسلمین

پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ سیرت مسلمین یہ رہی ہے کہ وہ نذر کرتے اور اسے پورا بھی کیا کرتے ۔

علمائے اہل سنت میں سے خالدی کہتے ہیں : نبی اللہ یا ولی اللہ کیلئے نذر کرنے کا معنی یہ ہے کہ خداوند متعال کی خوشنودی کی خاطر اس کا ثواب ہدیہ کیاجائے ۔ اور بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے مرنے والے (مثلا مردہ باپ ) کیلئے قربانی کی ، یعنی اس کی طرف سے صدقہ دیا ہے( ۱ )

مثال کے طور پر تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ شیخ احمد ابن علی بدوی کا ۶۵۷ہجری میں انتقال ہواتواسے(طندتا) میں دفن کی گیا اور اس کی قبر پر بارگاہ بنائی گئی ، اس شخص کی کرامات زبان زد عام ہیں اور لوگ اس کے لئے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں( ۲ )

اس کا مزید نمونہ احمد بن جعفر خزرعی المعروف ابوالعباس کی قبر ہے ۔ وہ مراکش کے رہنے والے ہیں اور ۶۰۱ ہجری میں وفات پائی ۔ اب بھی اس کی قبر زیارتگاہ ہے اور کثیر تعداد میں لوگ وہاں پر زیارت کے لئے جاتے ہیں کہا جاتاہے کہ وہاں پر دعا کا مستجاب ہونا تجربہ شدہ ہے ۔ میں نے بارہا اس قبہ کی زیارت کی ہے ۔ اور اس قبر کی برکت کا ایک بارتجربہ بھی کیا ہے ۔

ابن خطیب سلمانی کہتے ہیں ۔ احمدبُستی کی قبر پر چڑھائی جانے والی منتیں روزانہ ۸۰۰ مثقال خالص سونا

____________________

۱۔صلح الاخوان ۱۰۹؛ الغدیر ۵: ۱۸۲.

۲۔المواہب اللدنیہ ۵:۳۶۴ ؛ شذرات الذھب ۷: ۳۴۶.

۱۴۲

اور کبھی کبھی ایک ہزار دینار تک پہنچ جاتی ہیں(۱ )

وہ اس بارے میں لکھتے ہیں : یہ عمل آج تک جاری ہے ۔ میں نے پانچ سو سے زیادہ مرتبہ اس قبر کی زیارت کی ہے ۔ تیس سے زیادہ راتیں وہاں پہ گزاری ہیں اور اس قبر کی برکات دیکھی ہیں( ۲ )

علماء کے فتاوٰی

نذر کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات کی بنا ء پر علمائے اہل سنت نے ا س کے شرعا جائز ہونے کا فتوی ہے ۔

خالدی حدیث ابوداؤد کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : خوارج اس حدیث سے تمسک کرتے ہوئے انبیاء وصالحین کے مقبروں کیلئے نذر کرنے کوجائز نہیں سمجھتے ۔ چونکہ وہ یہ