وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ 0%

وہابی افکار کا ردّ مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 179

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف: شیخ نجم الدین طبسی
زمرہ جات:

صفحے: 179
مشاہدے: 31692
ڈاؤنلوڈ: 1678

تبصرے:

وہابی افکار کا ردّ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 31692 / ڈاؤنلوڈ: 1678
سائز سائز سائز
وہابی افکار کا ردّ

وہابی افکار کا ردّ

مؤلف:
اردو

۱۔توسّل

توسّل اور اسکی اعتقادی جڑیں

توسل کا معنی انبیاء و آئمہ اور صالحین کو خداوند متعال کی بارگاہ میں واسطہ قرار دیناہے اسکی مشروعیت اور جواز کے بارے میں دو اعتبار سے بحث ہو سکتی ہے :

۱۔ قرآن کریم ۲۔ احادیث

قرآن کریم سے چند ایک آیات کو توسل کی مشروعیت وجواز کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے سورہ مائدہ میں پڑھتے ہیں :

( یا أیهاالذین آمنوا اتقواالله وابتغوا الیه الوسیلة وجاهدوا فی سبیله ) ( ۱ )

ترجمہ :اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو

دوسری آیت سورہ مبارکہ نساء کی ہے جس میں یوں بیان کیا گیاہے :

( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدوا الله توّابا رحیما. ) ( ۲ )

____________________

۱۔ سورہ مائدہ : ۳۵؛

۲۔سورہ نسا ء : ۶۴

۲۱

ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے

تیسری آیت مبارکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے فرزندوں کے بارے میں ہے جب وہ اپنے عمل پر پشیمان ہوئے اوراپنے والد گرامی کے پاس پہنچے تاکہ وہ خدا وند متعال سے ان کی بخشش کی دعا کریں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی ان کی درخواست کو قبول کرلیا اور فرمایا : میں جلدپروردگارسے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا اس مطلب کو قرآن مجید نے یوں نقل کیا :

( قالوایا أبانا استغفرلنا ذنوبنا انّا کنّا خاطئین قال سوف أستغفر لکم ربّی انّه هو الغفورالر حیم ) .( ۱)

ترجمہ: ان لوگوں نے کہا بابا جان! اب آپ ہمارے گناہوں کے لیے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے انھوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اورمہربان ہے .۔

____________________

۱۔سورہ یوسف : ۹۷ اور ۹۸.

۲۲

روایا ت میں بھی کثرت کے ساتھ توسل کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جن میں سے چند ایک نمونوں کو ذکر کر رہے ہیں :

۱۔توسّل حضرت آدم علیہ السلام :

جلال الدین سیوطی ( عالم اہل سنت ) لکھتے ہیں :

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام نے خدا وند متعال کی بارگاہ میں یوں توسل کیا :

أللّهمّ انّی أسئلک بحق محمد وآل محمّد سبحانک لااله الّا أنت ، عملت سوئ، وظلمت نفسی ، فاغفرلی انّک أنت الغفور الرحیم ( ۱ )

خدایا ! تجھے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمد کا واسطہ دیتا تو پاک ومنزہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا .پس مجھے بخش دے کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے

۲۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکید اورپیشگوئی:

ایک دوسری روایت جو حضرت عائشہ سے نقل ہوئی ہے اس میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں : رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کے بارے میں یوں فرمایا:

هم شرالخلق والخلیقة یقتلهم خیرالخلق والخلیقة ، وأقربهم عندالله وسیلة

خوارج بد ترین مخلوق ہیں جنہیں مخلوق کا بہترین فرد اور خدا کا نزدیک ترین وسیلہ قتل کرے گا( ۲ )

____________________

۱۔ تفسیر الدر المنثور ۱: ۶۰

۲۔ فرائد السمطین ۱:۳۶ ، ح۱

۲۳

۳۔ فرمان پیغمبراکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

ابوہریرہ کہتا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کے توسل کے بارے میں بیان فرمایا کہ خدا وند متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا :یا آدم ! هؤلاء صفوتی فاذاکان لک لی حاجة فبهؤلاء توسّل یعنی اے آدم ! یہ میرے برگزیدہ بندے ہیں جب تجھے مجھ سے کوئی حاجت طلب کرنا ہو تو ان کے وسیلہ سے طلب کرنا

اس کے بعد رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :نحن سفینة النّجاة ، ومن تعلّق بها نجا ومن حاد عنها هلک ، من کان ل