تفسیر نمونہ جلد ۱

تفسیر نمونہ 0%

تفسیر نمونہ مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن

تفسیر نمونہ

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 19310
ڈاؤنلوڈ: 969


تبصرے:

جلد 1 جلد 4 جلد 5 جلد 7 جلد 8 جلد 9
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 231 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 19310 / ڈاؤنلوڈ: 969
سائز سائز سائز
تفسیر نمونہ

تفسیر نمونہ جلد 1

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانیمیں تنظیم ہوئی ہے

کتاب : تفسیرنمونه جلد اول

مصنف : آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تعداد صفحات: ۷۱۰

قطع: وزيرى

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری

گفتار مترجم

اردو میں قرآن حکیم کے بہت سے تراجم اور تفاسیر موجود ہیں ۔ اہل تشیع کے ہاں آج بھی مولانا فرمان علی اور مولانا مقبول احمد کے تراجم و حواشی زیادہ مشہور ہیں ۔ ایک عرصہ تک تفسیر عمدة البیان کو شہرت حاصل رہی ہے۔

اب لے دے کہ تفسیر انوار النجف ہی ہے ۔ دیگر مکاتب فکر کے ہاں بھی متعدد قابل ذکر تفاسیر موجود ہیں لیکن کوئی تو مغربی دنیا کی مادی ترقی کے سامنے دفاعی کوشش معلوم ہوتی ہے اور کوئی اصل معانی و مآخذ ہی سے ہٹی ہوئی ہے اور ناروا جدت پسندی کا شکار ہے۔ ایک آدھ کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن وہ بھی ذہنی ناپختگی اور مذہبی تعصب کے اثرات سے نہیں بچ سکی۔البتہ آزاد اور رواں ترجمے اور جدید اردو لہجے میں لکھی جانے والی تفاسیر کو کافی شہرت اور مقبولیت حاصل ہے۔

قرآن کے بارے میں کی جانے والی ہر کوشش سے کچھ نہ کچھ فوائد توضرور حاصل ہوئے ہیں لیکن قرآن مجید تمام علوم کی جامع کتاب ہے، اس کے تمام موضوعات کو اس طرح سے بیان کرنا کہ ہر علم کا تشنہ سیراب ہوجائے اس نظر سے دیکھا جائے تو نہ فقط پاکستان میں شیعوں کے پاس کچھ نہیں بلکہ دیگر مکاتب فکر کا بھی یہی حال ہے۔

ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب نے ہمارے نوجوانوں میں قرآن شناسی کے لئے ایک نئی تڑپ پیدا کردی ہے اور ان دلوں میں ایک تازہ جوت جگادی ہے۔ اکثر نوجوان پوچھتے کہ قرآن فہمی کے لئے ہم کس تفسیر کا مطالعہ کریں تو ہمارے پاس اس کا جواب نہ ہوتا۔ شدت سے احساس ہوا کہ اردو میں کوئی مفید ترین اور جامع تفسیر لکھی جائے جو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور تمام عالمی افکار و نظریات اورعلوم و کمالات کے سامنے اسلامی عظمت اور قرآنی سر بلندی و بالاتری کا حقیقی مظہر ہو اور جس کے ذریعے قرآنی مفاہیم سے آشنائی بھی ہو اور اس الہی و الہامی کتاب سے حقیقی عشق بھی پیدا ہوسکے۔ چند ایک علماء کرام سے اس ضرورت کا تذکرہ کیا لیکن کسی نے حامی نہ بھری۔ خود اپنی کم مائیگی کا احساس جرات نہیں دلاتا تھا۔

اسلامی فکر کو نظر اورعلوم و معارف کا اصل سرمایہ عربی اور فارسی میں موجود ہے۔ تفسیر کابیش بہا خزانہ بھی انہی زبانوں میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ یکجا تو نہیں ہے۔ وسیع مطالعے اور اجتماعی کوششوں کے بغیر اس سے بھی خاطر خواہ فائدہ ممکن نہیں ۔

فرمائشیں ، تقاضے اورسوالات بڑھتے رہے۔اس پر سیٹھ نوازش علی صاحب سے تذکرہ ہوا۔ وہ کہنے لگے آپ خود یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اپنی کم علمی کے علاوہ کچھ مجبوریاں بھی ان کے گوش گزار کیں ، مگر انہوں نے ہمت بڑھائی۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ عربی فارسی میں موجود کسی ایسی تفسیر کو اردو کے قالب میں ڈھالا جائے جو ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہو۔ آخر ہم دونوں نے ایران کا سفر اختیار کیا۔ وہاں مختلف علماء کرام سے اس بات پر مشور ہ کیا کہ اس وقت کونسی تفسیر دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور روز مرہ کے سوالات کا آسان اور مناسب جواب مہیا کرتی ہے۔ ہمارے لئے یہ خوشگوار حیرت کی بات تھی کہ سب نے بالاتفاق تفسیرنمونہ کا نام لیا۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ اسی تفسیر کا ترجمہ کیا جائے گا۔

ترجمے کے کٹھن مراحل میں بالعموم لفظی ترجمے کا اسلوب اپنایا گیا ہے اگر چہ بعض مقامات پر قارئین کی سہولت اور عبارت کی روانی کے لئے ازاد ترجمے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے ہم مفہوم مفہوم کو منتقل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے اس سوال کا جواب قارئین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ۔

اس تفسیر کے سلسلے میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے اور اس کے لئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے والے میرے عزیز دوست سیٹھ نوازش علی ہیں ۔ خدا وند عالم انہیں بھائیوں ، اولاد اور دیگر اعزاء و اقارب کےساتھ خوش و خرم رکھے، ان کے اموال میں برکت دے، انہیں زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق عطاء فرمائے اور ان کی عاقبت بخیر کرے۔ ترجمے کی نوک پلک دیکھنے ، دوبارہ لکھنے اور اشاعت کے مراحل میں عزیز ثاقب نقوی گران قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ عزیز محمدامین کی خدمات بھی اس ضمن میں قابل قدر ہیں ۔ پروفیسر مشکور حسین یاد، اور دیگر بہت سے احباب بھی اس کار خیر میں تعاون پر تعریف و تشکر کا حق رکھتے ہیں ۔

خدا یا ! ہمیں توفیق دے کہ ہم صرف تیری رضا کے لئے کام کریں ، جیسے تیرے بندے اصل تفسیر سے استفادہ کررہے ہیں اس کے ترجمے سے بھی صحیح طور پر فائدہ اٹھائیں ۔ اور ہماری کو تاہیوں سے در گزر کرتے ہوئے اپنی راہ میں اس کام کو ہماری آخرت کے لئے بہترین ذخیرہ قرار دے۔

اللهم صل علی محمد و عترته المعصومین و عجل فرجهم

صفدر حسین نجفی

تفسیر کا معنی

لغت میں ”تفسیر“ کا معنی ہے چہرے سے نقاب ہٹانا۔

تو کیا قرآن پر جو نور کلام مبین اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے حق تعالی کی واضح گفتگو ہے کوئی پردہ اور نقاب پڑا ہوا ہے۔جسے ہم ہٹانا چاہتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔قرآن کے چہرے پر تو کوئی نقاب نہیں ہے یہ تو ہم جن کے چہرے پر سے نقاب ہٹانا چاہیے اور ہماری عقل و ہوش کی نگاہ سے پردہ اٹھنا چاہیے تاکہ ہم قرآن کے مفاہیم کو سمجھ سکیں اور اس کی روح کا ادراک کر سکیں ۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کا صرف ایک چہرہ نہیں ۔اس کا وہ چہرا جو سب کے لئے کھلا ہے وہ نور مبین ہے اور ہدایت خلق کی رمز ہے عمومی چہرا ہے ۔

رہا اس کا دوسرا پہلو تو اس کا ایک چہرا بلکہ کئی چہرے اور ہیں ۔ جو صرف غور و فکر کرنے والوں ،حق کے پیاسوں ،راستے کے متلاشیوں اور زیادہ علم کے طلب گاروں پر آشکار ہوتے ہیں ۔ اس میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے ظرف ،خلوص اور کوشش سے حصہ ملتا ہے ۔ان چہروں کو احادیث کی زبان میں ” بطون قرآن “ کہتے ہیں ۔ چونکہ ہر شخص ان کی تجلی نہیں دیکھ پاتا بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہر آنکھ انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی لہذا تفسیر آنکھوں کو توانائی دیتی ہے اور پردوں کو ہٹاتی ہے اور ہمارے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا کرتی ہے ۔ جتنا کہ ہمارے لئے ممکن ہے۔

قرآن کے کئی چہرے ایسے ہیں جن سے زمانہ گزرنے اور انسانی لیاقت و استعداد میں اضافے اور مالیدگی سے پردہ اٹھتا ہے ۔ مکتب علی علیہ السلام کے ہونہار شاگرد ابن عباس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :القرآن یفسره الزمان زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر ایک مشہور حدیث ک ے مطابق :

القرآن یفسر بعضه بعضاََ ۔

قرآن خود اپنی تفسیر بیان کرتا ہے اور اس کی آیات ایک دوسرے کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔

قرآن کا نور اور کلام مبین ہونا اس با ت کے منافی نہیں ہے کہ یہ ایک اکیلا ہے اس طرح کہ دوسرے سے پیوستہ بھی ہے اور ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا اور یہ سارے کا سارا نور اور کلام مبین ہے اگرچہ اس کی بعض آیات کچھ دیگر آیات کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔

یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی

اس میں شک نہیں کہ قرآن کی تفسیر اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے خود پیغمبر کے زمانے سے اور آنحضرت کے پاکیزہ دل پر اس کی اولین آیات کے نازل ہونے سے شروع ہوئی اور پھر اس علم کے بزرگ اور عظیم لوگ اپنی سندوں کا سلسلہ پیغمبر کے شہر ِعلم کے در تک لے جاتے ہیں ۔

تفسیر قرآن کے سلسلے میں اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو مختلف زبانوں میں اور مختلف طرزوطریقہ کی ہیں ۔ بعض ادبی ہیں اور بعض فلسفی،کچھ کی نوعیت اخلاقی ہے اور کچھ احادیث کی بنیاد پر لکھی گئیں ہیں ۔ بعض تاریخ کے حوالے سے رقم کی گئیں اور بعض علوم جدیدہ کی اساس پر لکھی گئی ہیں ۔ اس طرح ہر کسی نے قرآن کو ان علوم کے زاویے سے دیکھا ہے جن میں وہ خود تخصص رکھتا ہے ۔

پھولوں سے لدے ہوئے اس باغ سے کسی نے دل انگیز اور شاعرانہ مناظر حاصل کئے، کسی نے علوم طبیعی کے استاد کی طرح برگ گل ، پھول ،شاخوں اور جڑوں کے اصول تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ،کسی نے غذائی مواد سے استفادہ کیا ہے اور کسی نے دواؤں کے خواص سے ، کسی نے اسرار آفرینش سے یہ سب شگوفے اور رنگا رنگ گل چنے ہیں اور کوئی اس فکر میں ہے کہ کون سے گل سے بہترین عطر کشید کرے اسی طرح کوئی ایسا بھی ہے جس نے فقط شہد کی مکھی کی طرح گل چوسنے اور اس سے انگبین حاصل کرنے کی جستجوکی ہے۔

خلاصہ یہ کہ راہ تفسیر کے راہبوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک مخصوص آئینہ تھا جس سے انہوں نے قرآن کی ان زیبائیوں اور اسرار کو منعکس کیا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب چیزیں باوجودیکہ قرآن کی تفسیریں ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن کی تفسیر نہیھ کیونکہ ان میں سے ہر ایک قرآن کے ایک رخ سے پردہ ہٹاتی ہے نہ کہ تمام چہروں سے اور اگر ان سب کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو پھر بھی وہ قرآن کے چند چہروں کی نقاب کشائی ہوگی نہ کہ تمام چہروں کی۔

قرآن حق تعالی کا کلام ہے اور اس کے لامتناہی علم کی تراوش ہے اور اس کا کلام اس کے علم کا رنگ اور اس کا علم اس کی ذات کا رنگ رکھتا ہے ۔ اور وہ سب لا متناہی ہیں ۔ اس بنا پر یہ توقع نہیں رکھنا چاہیےکہ نوع انسانی قرآن کے تمام چہروں کو دیکھ لے۔ کیونکہ دریا کو کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا ۔ تا ہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری فکر و نظر کا ظرف جس قدر وسیع ہوگا اتنا ہی زیادہ ہم اس بحر بیکراں کو اپنے اندر سما سکیں گے۔

اس لئے تمام علماء اور دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ کسی زمانے میں بھی ناتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھ جائیں ۔ قرآن مجید کے زیادہ سے زیادہ حقائق کے انکشاف کے لئے اپنی پے در پے مخلصانہ سعی و کوشش جاری رکھیں ۔ قدماء اور گذشتہ علماء (خداوند عالم کی رحمتیں ان کی ارواح پاک پر ہوتی رہیں ) کے ارشادات سے فائدہ اٹھائیں لیکن انہی پر قناعت نہ کریں کیونکہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :لا تحصی عجائبه ولا تبلی غرائبه

قرآن کی خوبیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور اس کی عجیب و غریب نئی باتیں کبھی پرانی نہ ہوں گی ۔

ایک خطر ناک غلطی

تفسیر قرآن کے سلسلے میں یہ روش بہت زیادہ خطرناک ہے کہ انسان مکتب قرآن میں شاگردی اختیار کرنے کی بجائے اس عظیم آسمانی کتاب کے مقابلہ میں استاد بن بیٹھے یعنی قرآن سے استفادہ کرنے کی بجائے اس پر اپنے افکا ر کا بوجھ ڈال دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ انسان اپنے ماحول ،تخصیص علمی،مخصوص مذہب اور اپنی ذاتی رائے کو قرآن کے نام پر اور قرآن کی صورت میں پیش کرنے لگے اور یوں قرآن ہمارا امام پیشوا ، رہبر، قاضی اور فیصلہ کرنے والا نہ رہے بلکہ الٹا وہ ہمارے اپنے نظریات کی مسند نشینی اور ہمارے اپنے افکار و نظریات کی جلوہ نمائی کا ذریعہ بن جائے۔

قرآن کی تفسیر کا یہ طریقہ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن کے ذریعہ اپنے افکار کی تفسیر کا یہ ڈھنگ اگرچہ ایک گروہ میں رائج ہے جو کچھ بھی ہے خطرناک ہے اور ایک دردناک مصیبت ہے جس کا نتیجہ راہ حق کی طرف ہدایت کے حصول کی بجائے صراط مستقیم سے دوری اور غلطیوں اور شبہات کو پختہ کرنے والی بات ہے۔

قرآن سے اس طرح فائدہ اٹھانا تفسیر نہیں ہے بلکہ تحمیل ہے۔ ای سے فیصلہ لینا نہیں بلکہ اس کے اوپر حکم چلانا ہے ۔یہ ہدایت نہیں بلکہ ضلالت و گمراہی ہے۔ اس طرح تو ہر چیزدگرگوں ہو جاتی ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ اس تفسیر میں ہم انشاء اللہ یہ روش اختیار نہ کریں اور واقعاَ قرآن کے سامنے دل و جان سے زانوئے تلمذ تہ کریں اور بس۔

هر زمانے کی احتیاج اور تقاضے

ہر زمانے کی کچھ خصوصیات ، ضرورتیں اور تقاضے ہوتے ہیں جو زمانے کی بدلتی ہوئی کیفیت ، تازہ مسائل اور منشاء مشہود پر آنے والے نئے معانی و مفاہیم سے ابھرتے ہیں ۔ اسی طرح ہر دور کی اپنی کچھ مشکلات اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں اور یہ سب معاشرتی اور تہذیبی و تمدنی تبدیلیوں کا لازمہ ہوتا ہے ۔

کامیاب افراداور صاحبان توفیق وہ ہیں جو ان ضروریات اور تقاضوں کو سمجھ سکیں جنہیں ” عصری مسائل “ کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو ان مسائل کے ادراک سے عاری ہیں یا ادراک تو رکھتے ہیں لیکن وہ خود کسی دوسرے ماحول اور زمانے کی پیداوار ہیں جس میں یہ مسائل نہ تھے اس لئے وہ سرد مہری اور لا پرواہی سے ان مسائل کے سامنے سے گذرجاتے ہیں ۔ وہ ان مسائل کو بے کار کاغذوں کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو پے در پے شکستوں کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

ایسے افراد ہمیشہ زمانے کی وضع و کیفیت کا شکوہ کرتے رہتے ہیں ، زمین و آسمان کو برا کہتے ہیں اور گزرے ہوئے سنہرے اور خواب و خیال کے زمانے کی یاد میں غمزدہ ، افسردہ اور پر حسرت رہتے ہیں ۔ ایسے لوگ روز بروز زیادہ بد ظن ، بد بیں اور مایوس ہوتے رہتے ہیں اور آخر کار معاشرے سے دوری اور گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ زمانے کے تقاضوں اور مشکلات کو سمجھ نہیں پاتے یا وہ ایسا چاہتے ہی نہیں ۔ ایسے لوگ ایک تاریکی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور چونکہ حوادث کے علل و اسباب اور ان کے نتائج کی تشخیص نہیں کر پاتے اس لئے ان کے مقابلہ میں گھبراتے ہوئے وحشت زدہ ، بے دماغ اور بغیرکسی منصوبہ بندی کے رہتے ہیں ایسے لوگ چونکہ تاریکی میں محو گردش ہوتے ہیں اس لئے ہر قدم پر ٹھوکر کھا تے ہیں اور کیا خوب کہا ہے سچے پیشوا نے :

جو شخص اپنے زمانے کے حالات و کوائف سے آگاہ ہے وہ اشتباہات او رغلطیوں سے بچار ہتا ہے

۱ ۔ مام صادق علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث میں یہ مضمون یوں منقول ہے:العالم بزمانه لا تحجم علیه اللوابس ۔

ہر زمانے کے علماء اور دانشوروں کے لئے یہ پیغام ہے کہ ان کا فریضہ ہے کہ وہ پوری چابکدستی سے ان مسائل، تقاضوں ، احتیاجات اور روحانی کمزوری اور اجتماعی خالی نقاط کا ادراک کریں اور انہیں صحیح شکل و صورت میں پر کریں تاکہ وہ دوسرے امور سے پر نہ ہوجائیں کیونکہ ہماری زندگی کے محیط محال میں خلاء ممکن نہیں ہے۔

مایوس اور منفی فکر حضرات کے گمان کے برخلاف جن مسائل کو میں نے اپنی سمجھ کے مطابق واضح طور پر معلوم کیا ہے اور سمجھا ہے ان میں سے ایک نسل نوکی مفاہیم اسلام اور مسائل دینی جاننے کی پیاس ہے بلکہ یہ پیاس فقط سمجھنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں چکھنے، چھونے اور آخر کار ان پر عمل کرنے کی ہے۔

ان مسائل نے نسل نوکی روح اور وجود کو بے قرار رکررکھا ہے لیکن یہ فطری امر ہے کہ یہ سب استفہام کی صورت میں ہے۔ ان خواہشات اور تقاضوں کا جواب دینے کے لئے پہلا قدم میراث علمی اور اسلامی تہذیب و تمدن کو عصر حاضرکی زبان میں ڈھالنا اور عالی مفاہیم کو موجودہ دور کی زبان میں موجودہ نسل کی روح، جان اور عقل میں منتقل کرنا ہے اور دوسرا قدم یہ ہے کہ اس زمانے کی مخصوص ضرورتوں اور تقاضوں کو اسلام کے اصولوں سے استنباط کرکے پورا کیاجائے۔

یہ تفسیر انہی دو اہداف و مقاصد کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

کس تفسیر کا مطالعه کرنا بهتر ہے

یہ ایسا سوال ہے جو بارہا مختلف طبقوں خصوصا نوجوان طبقے کی طرف سے ہمیں کیا گیا ہے ۔ یہ وہ ہیں جو خلوص سے ملی ہوئی پیاس کے ساتھ قرآن کے صاف و شفاف چشمے کے جویا ہیں اور اس محفوظ آسمانی وحی سے سیراب ہونا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان سب کے سوال میں یہ جملہ پوشیدہ ہے کہ ہمیں ایسی تفسیر چاہئے جو تقلید کے حوالے سے نہیں بلکہ تحقیق کے حوالے سے ہمیں عظمت قرآن سے روشناس کراسکے اور دورحاضر میں ہماری ضرورتوں ، دکھوں اور مشکلوں میں راہنمائی کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے مفید بھی ہو اور جس میں پیچیدہ علمی اصطلاحات اس کی صاف و شفاف راہوں اور شاہراوں میں ناہمواریاں پیدا نہ کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ فارسی زبان میں آج ہمارے پاس کئی ایک تفاسیر موجود ہیں ۔ ا س میں شک نہیں کہ یہ وہ تفاسیر ہیں جو ہمارے قدماء بزرگوں کی میراث میں یا بعد میں عصر حاضر کے علماء نے انہیں تحریر کیا ہے اور کچھ ایسی ہیں جو چند صدیاں پہلے لکھی گئی تھیں اور ان کی مخصوص نثر علماء و ادباء سے مخصوص ہے۔

موجود تفاسیر میں بعض اس سطح پر ہیں کہ صرف خواص کے طبقے کا حصہ ہیں اور دیگر طبقات ان سے استفادہ نہیں کرسکتے اور بعض قرآن کے خاص گوشوں کو بیان کرتی ہیں ۔ ان کی مثال ایک گلدستہ کی سی ہے جسے کسی تروتازہ باغ سے چنا گیا ہو جس میں باغ کی نشانیاں توہیں لیکن باغ نہیں ہے۔

اس طرح اس بار بار کے سوال کا کوئی ایسا جواب نہ مل سکا یا بہت کم ملا کہ جو قانع ہو، وجدان کو مطمئن کرے اور پیاسے متلاشی کی تشنگی روح کو سیراب کرسکے۔

اس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس سوال کا جواب عمل سے دینا چاہئے کیونکہ اس وقت اس کا صرف زبانی جواب ممکن نہیں ہے لیکن مشکلات اور روز افزوں مشاغل کے ہوتے ہوئے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک ایسا بیکراں سمندرہے جس میں آسانی سے اور ساز و سامان، تیاری وقت اور کافی غور و فکر کے بغیر داخل نہیں ہوا جاسکتا اور یہ وہ بحر ناپیدا کنار ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہوئے اور ڈوب چکے ہیں ۔ حسرت و اندوہ کے عالم میں اس دریا کے کنارے کھڑا میں اس کی امواج فروشاں کا نظارہ کررہا تھا کہ ایسے میں اچانک ایک بجلی سی فکر میں کوند گئی۔ امید کا دریچہ کھلا اور مسئلے کی راہ حل سمجھائی دینے لگی اور وہ تھی گروپ سسٹم میں کام کرنے کی سوچ اور پھر دس فاضل، مخلص، محقق، آگاہ اور باخبر نوجوان جو ”عشرہ کاملہ“ کے مصداق میں میرے رفیق راہ بن گئے۔ ان کی شبانہ روز پرخلوص کوششوں سے مختصر سی مدت میں یہ پوداثمر آور ہوگیا اور توقع سے بھی جلدی اس کی پہلی جلد چھپ گئی۔

اس بناء پر کہ کوئی نکتہ عزیز قارئین کے لئے مبہم نہ رہنے پائے ہم اپنے طریقہ کار کی بھی اجمالا تشریح کئے دیتے ہیں ۔

پہلے آیات قرآنی مختلف، حصوں میں ان محترم علماء میں تقسیم کردی جاتی تھیں ( ابتداء میں دودو افراد کے پانچ گروپ تھے)۔ ضروری ہدایات وراہنمائی کی روشنی میں وہ ان مختلف تفاسیر کا مطالعہ کرتے جو اس تفسیر کا منبع اور اصلی کتب ہیں جنہیں اس فن کے عظیم محققین نے سپرد قلم کیا ہے۔ چاہے وہ محققین سنی ہوں یا شیعہ سب کا مطالعہ کیا جاتا ۔ ہمارے زیر نظر رہنے والی تفاسیر میں سے بعض یہ ہیں :

تفسیر مجمع البیان ، تالیف شیخ المفسرین محقق عالی قدر جناب طبرسی

تفسیر انوار التنزیل ، تالیف قاضی بیضاوی۔

تفسیر الدر منثور ، تالیف جلال الدین سیوطی۔

تفسیر برہان ، تالیف محدث بحرانی۔

تفسیر المیزان ، تالیف استاد علامہ طباطبائی۔

تفسیر المنار ، محمد عبدہ مصری۔

تفسیر فی ظلال ، تالیف مصنف معروف سید قطب

اور تفسیر مراغی ، تالیف احمد مصطفی مراغی۔

اس کے بعد وہ معلومات اور ماحصل جو موجودہ زمانے کے احتیاجات اور تقاضوں پر منطبق ہوتے انہیں رشتہ تحریر میں لایا جاتا۔بعدازاں اس گروپ کی اجتماعی نشستیں ہفتے کے مختلف دنوں میں منعقد ہوتیں اور یہ تحریریں پڑھی جاتیں اور ان کی اصلاح کی جاتی۔ ان نشستوں میں ہی قرآن کے بارے میں جن نئی معلومات کا اضافہ ضروری ہوتا وہ کیاجاتا۔ پھر اصلاح شدہ تحریروں کو صاف کرکے لکھاجاتا۔ صاف کرکے لکھنے کے بعد ان سب تحریروں کو ان میں سے چندمنتخب علماء پھر سے پڑھتے اور انہیں منضبط کرتے۔ آخری شکل دینے کے لئے آخری میں میں خود پورے اطمینان سے اس کا مطالعہ کرتا اور بعض اوقات اسی حالت میں محسوس ہوتا کہ اس میں چند پہلوؤں کامزید اضافہ کیاجانا چاہئے اور پھر یہ کام انجام دیا جاتا۔ ضمنی طور پر آیات کارواں ترجمہ بھی میں اسی موقع پر کردیتاتھا۔

عام مطالب(آیات کے ذیلی ترجمہ اور بعض پہلوؤں کے علاوہ جن کا یہ حقیر اضافہ کرتا)چونکہ ان محترم حضرات کے قلم سے ہوتے تھے اورفطری طور پر مختلف ہوتے تھے اس لئے میں ان تحریروں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے بھی ضروری کاوش انجام دیتا تھا اور ان تمام زحمات و مشقات کا ثمر یہ کتاب ہے جو عزیز قاری کی نظر سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لئے عمدہ، مفید اور سود مند ثابت ہوگی۔

اس تفسیر کی خصوصیات

اس بناء پر کہ عزیز و محترم قارئین زیادہ بینش و آگہی کے ساتھ اس تفسیر کا مطالعہ کرسکیں اس تفسیر کے مطالب کا ذکر یہاں ضروری ہے شاید ان میں سے کچھ ان کے گمشدہ مطالب ہوں :

۱ ۔ قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے۔ اس لئے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔ اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک تعلق رکھتے ہیں ۔

۲ ۔ آیات میں بیان کئے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اورمستقل بحث کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔مثلاسود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین اس ایک اجمالی مطالعے کے لئے دوسری کتب کی طرح رجوع کرنے سے بے نیاز ہوجائیں ۔

۳ ۔ کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں ، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پر کشش اور قابل فہم ہو۔

۴ ۔ لا حاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کے بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف توجہ دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں زیادہ موثر ہیں ۔

۵ ۔ مختلف اشکالات ، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کئے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر ساجواب دیدیا گیا ہے ۔ مثلا شبہ اکل و ماکول (وہ جانور جو دوسرے جانوروں کو کھاجاتے ہیں )، معراج تعداد ازواج، عورت اور مرد کی میراث کا فرق، عورت اور مرد کے خون بہامیں اختلاف ، قرآن کے حروف مقطعات ، احکام کی منسوخی، اسلامی جنگیں اور غزوات، مختلف الہی آزمائشیں اور ایسے ہی بیسیوں سوالوں کے جوابات اس طرح دئیے گئے ہیں کہ آیات کا مطالعہ کرتے وقت محترم قاری کے ذہن میں کوئی استفہامی علامت باقی نہ رہے۔

۶ ۔ ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجہ میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے، سے دوری اختیارکی گئی ہے۔ البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس راہ میں ہماری مخلصانہ کوشش نتیجہ بخش ثابت ہوں گی اور تمام طبقوں کے لوگ اس تفسیر کے ذریعہ اس عظیم آسمانی کتاب سے زیادہ سے زیادہ آشناہوں گے جس کا نام بعض دوستوں کی تجویز پر تفسیرنمونہ رکھا گیا ہے۔

ناصر مکارم شیرازی

حوزہ علمیہ، قم

تیر ماہ، ۱۳۵۲ بمطابق جمادی الثانی ۱۳۹۳ ۔

سوره حمد (فاتحه الکتاب)

سوره حمد : مکی سورت ہے اور اس کی سات آیات ہیں

سورہ حمد کی خصوصیات

یہ سورت قرآن مجید کی دیگر سورتوں کی نسبت بہت سی خصوصیات یک حامل ہے۔ ان امتیازات کا سر چشمہ مندرجہ ذیل خوبیان ہیں :

لب و لہجہ اور اسلوب بیان :

یہ سورت دیگر سورتوں سے اس لحاظ سے واضح امتیاز رکھتی ہے کہ وہ خدا کی گفتگو کے عنوان کی حامل ہیں اور یہ بندوں کی زبان کے طورپر نازل ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میں خداوندعالم نے بندوں کو خداسے گفتگو اور مناجات کا طریقہ سکھایا ہے۔

سورة کی ابتداء خداوندعالم کی حمد وثنا سے گی گئی ہے۔ خدا شناسی اور قیامت پر ایمان کے اظہار کے ساتھ ساتھ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بندوں کے تقاضوں ، حاجات اور ضروریات پر کلام کو ختم کیا گیا ہے۔

بیدار مغز اور ذی فہم انسان جب اس سورہ کو پڑھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فرشتوں کے پروں پر سوار ہو کر عالم بالا کی طرف محو پرواز ہے اور عالم روحانیت و معنویت میں لمحہ بہ لمحہ خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوتا جارہا ہے۔

یہ نکتہ بڑا جاذب نظر ہے کہ خود ساختہ یاتحریف شدہ مذاہب جو خالق و مخلوق کے درمیان معاملہ میں واسطہ کے قائل ہیں ان کے برخلاف اسلام انسانوں کو یہ دستور دیتا ہے کہ وہ کسی بھئی واسطہ کے بغیر خدا سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں ۔

خدا و انسان اور خالق و مخلوق کے درمیان اس نزدیکی اور بے واسطہ تعلق کے سلسلے میں یہ سورہ آئینہ کا کام دیتی ہے۔ یہاں انسان صرف خدا کو دیکھتا ہے۔ اسی سے گفتگو کرتا ہے اور فقط اس کا پیغام اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی مرسل یا ملک مقرب بھی درمیان میں واسطہ نہیں بنتا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی پیوند و ربط جو براہ راست خالق و مخلوق کے درمیان ہے۔ قرآن مجید کا آغاز ہے۔

۲ ۔ اسا س قرآن :

نبی اکرم (ص) کے ارشاد کے مطابق سورہ حمد ام الکتاب ہے۔ ایک مرتبہ جابر بن عبداللہ انصاری آنحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ(ص) نے فرمایا :

الا اعلمک افضل سورة انزلها الله فی کتابه قال فقال له جابر بلی بابی انت و امی یا رسول الله علمنیها فعلمه الحمد ام الکتاب ۔

کیا تمہیں سب سے فضیلت والی سورت کی تعلیم دوں جو خدا نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہے؟ جابر نے عرض کیا جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھےاس کی تعلیم دیجئے۔ آنحضرت نے سورہ حمد جو ام الکتاب ہے انہیں تعلیم فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سورہ حمد موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفاء ہے

آپ کا یہ بھی ارشاد ہے :والذی نفسی بیده ما انزل الله فی التوراة ولا فی الزبور و لا فی القرآن مثلها هی ام الکتاب ۔

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے خدا وند عالم نے تورات، انجیل، زبور یہاں تک کہ قرآن میں بھی اسی کوئی سورة نازل نیہں فرمائی اور یہ ام الکتاب ہے اس سورت میں غور و فکر کرنے سے اس کی وجہ معلوم ہوتی ہے ۔ حقیقت میں یہ سورہ پورے قرآن کے مضامین کی فہرست ہے۔ اس کا ایک حصہ توحید اور صفات خدا وندی سے متعلق ہے دوسر ا حصہ قیامت و معاد سے گفتگو کرتا ہے اور تیسرا حصہ ہدایت و گمراہی کو بیان کرتا ہے جو مومنین و کفار میں حد فاصل ہے۔

اس سورہ میں پروردگار عالم کی حاکمیت مطلقہ او رمقام ربوبیت کا بیان ہے نیز اس کی لامتناہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے دو حصے ہیں ایک عمومی اور دوسرا خصوصی (رحمانیت اور رحیمیت) اس میں عبادت و بندگی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اسی ذات پاک کے لئے مخصوص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سورہ میں توحید ذات، توحید صفات، توحید افعال اور توحید عبادت سب کو بیان کیاگیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ سورت ایمان کے تینوں مراحل کا احاطہ کرتی ہے :

۱ ۔ دل سے اعتقاد رکھنا۔

۲ ۔ زبان سے اقرار کرنا۔

۳ ۔ اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔

ہم جانتے ہیں کہ ام کا مطلب ہے بنیاد اور جڑ۔ شاید اسی بناء پر عالم اسلام کے مشہور مفسرابن عباس کہتے ہیں :

ان لکل شیء اساسا و اساس القرآن الفاتحه ۔

ہر چیز کی کوئی اساس و بنیاد ہوتی ہے اور قرآن کی اساس سورہ فاتحہ ہے۔

انہی وجود کی بنا پر اس سورہ کی فضیلت کے سلسلے میں رسول اللہ سے منقول ہے:

ایما مسلم قرء فاتحة الکتاب اعطی من الاجر کانما قرء ثلثی القرآن و اعطی من الاجر کانما تصدق علی کل مومن و مومنة ۔جو مسلمان سورہ حمد پڑھے اس کا اجر و ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے دو تہائی قرآن کی تلاوت کی ہو (ایک اور حدیث میں پورے قرآن کی تلاوت کے برابر ثواب مذکور ہے) اور اسے اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے ہر مومن اور مومنہ کو ہدیہ پیش کیا ہو۔

سورہ فاتحہ کے ثواب کو دو تہائی قرآن کے تلاوت کے برابر قرار دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ قرآن کے ایک حصے کا تعلق خدا سے ہے، دوسرے کاقیامت سے اور تیسرے کا احکام و قوانین شرعی سے ان میں سے پہلا اور دوسرا حصہ سورہ حمد میں مذکور ہے ۔ دوسری حدیث میں پورے قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا خلاصہ ایمان اور عمل ہے اور یہ دونوں چیزیں سورہ حمد میں جمع ہیں ۔

۳ ۔ پیغمبر اکرم(ص) کے لئے اعزاز :

یہ بات قابل غور ہے کہ قرآنی آیات میں سورہ حمد کا تعارف آنحضرت(ص) کے لئے ایک عظیم انعام کے طور پر کرایا گیا ہے اور اسے پورے قرآن کے مقابلے میں پیش فرمایا گیا ہے جیسےکہ ارشاد الہی ہے :( ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم ) (۱)

ہم نے آپ کو سات ایتوں پر مشتمل سورہ حمد عطا کیا جودو مرتبہ نازل کیا گیا اور قرآن عظیم بھی عنایت فرمایا گیا

قرآن مجید اپنی تمام تر عظمت کے باوجود یہاں سورہ حمد کے برابر قرار پایا۔ اس سورہ کا دو مرتبہ نزول بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت کی بناء پر ہے(۲) ۔

اسی مضمون کی ایک روایت رسول اللہ سے حضرت امیرالمومنین(ع) نے بیان فرمائی ہے:

ان الله تعالی افرد الامتنان علی بفاتحة الکتاب و جعلها بازاء القرآن العظیم و ان فاتحة الکتاب اشرف ما فی کنوز العرش ۔

خدا وند عالم نے مجھے سورہ حمد دے کر خصوصی احسان جتایا ہے اور اسے قرآن کے مقابل قرار دیا ہے عرض کے خزانوں میں سے اشرف ترین سورہ حمد ہے۔

____________________

۱-- (حجر آیہ ۸۷)۔

۲۔ سبعا من المثانی،قرار دینے کی وجہ اور سورہ حمد کی کچھ مزید خوبیاں اسی تفسیر(نمونہ) میں سورہ حجر کی آیت ۸۷ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

۴ ۔ تلاوت کی تاکید :

۴ ۔ تلاوت کی تاکید : سورہ حمد کی فضیلتوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ احادیث اسلامی میں جو شیعہ و سنی کتب میں موجود ہیں ۔ اس کی تلاوت کے متعلق اتنی تاکید کیوں کی گئی ہے۔اس کی تلاوت انسان کو روح ایمان بخشتی ہے اور اسے خدا کے نزدیک کرتی ہے۔ اس سے دل کو جلا ملتی ہے اور روحاینت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے انسانی ارادے کو کامیابی میسر آتی ہے۔ اس سورہ کی تلاوت سے خالق و مخلوق کے ما بین انسانی جستجو فزوں تر ہوتی ہے۔ نیز انسان اور گناہ و انحراف کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی بناء پر حضرت صادق (ع) نے ارشاد فرمایا ہے :

ان الابلیس اربع رفات اولهن یوم لعن وحین اهبط الی الارض و حین بعث محمد علی حین فتره من الرسل و حین انزلت ام الکتاب ۔

شیطان نے چار دفعہ نالہ و فریاد کیا۔ پہلا وہ موقع تھا جب اسے راندئہ درگاہ کیا گیا۔ دوسرا وہ وقت تھا جب اسے بہشت سے زمین کی طرف اتارا گیا۔ تیسرا وہ لمحہ تھا جب حضرت محمد(ص) کو مبعوث برسالت کیا گیا اور آخری وہ مقام تھا جب سورہ حمد کو نازل کیا گیا(۱) ۔

____________________

۱۔ نور الثقلین جلد اول ص۴۔