تفسیر نمونہ جلد ۱

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات: تفسیر قرآن
- گفتار مترجم
- تفسیر کا معنی
- یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی
- ایک خطر ناک غلطی
- هر زمانے کی احتیاج اور تقاضے
- کس تفسیر کا مطالعه کرنا بهتر ہے
- اس تفسیر کی خصوصیات
- سوره حمد (فاتحه الکتاب)
- سورہ حمد کی خصوصیات
- لب و لہجہ اور اسلوب بیان
- ۲ ۔ اسا س قرآن
- ۳ ۔ پیغمبر اکرم(ص) کے لئے اعزاز
- ۴ ۔ تلاوت کی تاکید
- سورہ حمد کے موضوعات
- اس سورہ کا نام فاتحة الکتاب کیوں ہے؟
- ایک اہم سوال
- تفسیر
- ۱ ۔ ( بسم الله الرحمن الرحیم )
- کیا بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے؟
- خدا کے ناموں میں سے اللہ، جامع ترین نام ہے
- خدا کی رحمت عام او ررحمت خاص
- خدا کی دیگر صفات بسم اللہ میں کیوں مذکور نہیں ؟
- ۲ ۔ ( الحمد لله رب العالمین )
- سارا جہاں اس کی رحمت میں ڈوبا ہو ا ہے۔
- ۱ ۔ تمام ارباب انواع کی نفی
- ۲ ۔ خدائی پرورش،
- ۳ ۔ ( الرحمن الرحیم )
- تفسیر
- ۴ ۔ ( مالک یوم الدین )
- قیامت پر ایمان دوسری اصل ہے۔
- ۵ ۔ ( ایاک نعبد و ایاک نستعین ) ۔
- انسان کے دربار خدا میں
- ۱ ۔ آیت میں حصر کا مفہوم
- ۲ ۔ ( نعبد و نستعین ) اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں ۔
- ۳ ۔ طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب
- ۶ ۔ ( اهدنا الصراط المستقیم )
- تفسیر
- صراط مستقیم پر چلنا
- صراط مستقیم کیا ہے ؟
- ۷ ۔ ( صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم والا الضالین ) ۔
- تفسیر
- دو انحرافی خطوط
- ۱ ۔ ( الذین انعمت علیهم ) کون ہیں
- ۲ ۔ ( مغضوب علیهم ) اور ( ضالین ) کو ن ہیں
- سورہ بقرہ کے موضوعات
- فضیلت سوره بقره
- سورہ بقرہ
- آیات ۱، ۲
- تفسیر
- قرآن کے جروف مقطعات کے متعلق تحقیق
- ادبیات عرب کا عہد زریں
- واضح گواہ
- دور کا اشارہ کیوں
- ۲ ۔ معنی ”کتاب“
- ۳ ۔ ہدایت کیا ہے ؟
- ۴ ۔ قرآنی ہدایت پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص ہے؟
- آیات ۳،۴،۵
- روح و جسم انسانی میں آثار تقوی
- ۱ ۔ غیب پر ایمان
- ۲ ۔ خدا سے رابطہ
- ۳ ۔ انسانوں سے رابطہ
- ۴۔ ایمان و عمل کی راہ میں تسلسل
- ۵ ۔ قیامت پر ایمان
- ۶۔ حقیقت تقوی کیا ہے
- آیات ۶،۷
- دوسراگروہ سر کش کفار کا ہے
- ۱ ۔ تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں
- ۲ ۔ ایسے لوگ قابل ہدایت نہیں تو انبیاء کا تقاضا کیوں
- ۳-دلوں پر مہر لگانا
- ۴ ۔ قرآن میں قلب سے مراد کیا ہے
- ۵ ۔ قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں
- آیات ۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶
- تیسرا گروہ ۔ منافقین
- ۱ ۔ نفاق کی پیدائش اور اس کی جڑیں
- ۲ ۔ ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے
- ۳ ۔ معنی نفاق کی وسعت
- ۴ ۔ منافقین کی حوصلہ شکنیاں
- ۵ ۔ وجدان کو دھوکا دینا
- ۶ ۔ نقصان زدہ تجارت
- ـآیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰
- منافقین کے حالات واضح کرنے کے لئے دو مثالیں
- آیات ۱۲،۲۲
- اس خدا کی عبادت کرو
- چند اہم نکات
- ۱ ۔ یایھا الناس کا خطاب
- ۲ ۔ خلقت انسان نعمت خدا وندی ہے
- ۳ ۔ عبادت کا نتیجہ
- ۳ ۔ الذین من قبلکم
- نعمت آسمان و زمین
- بت پرستی مختلف شکلوں میں
- آیات ۲۳،۲۴
- قرآن ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے
- ( ۱) انبیاء کے لئے معجزے کی ضرورت
- قرآن رسول اسلام کا دائمی ومعجزہ
- گذشتہ انبیاء کے معجزات
- قرآن روحانی کیوں ہے ؟
- کیا قرآن نے مقابلے کے لئے چیلنج کیا ہے ؟
- یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن کی مثل نہ لائی جاسکی؟
- عبداللہ بن مفقع
- ابوالعلای معری
- مسلیمہ کذاب
- ابوالعلای مصری
- ولید بن مغیرہ مخزومی
- کارلائلی
- ول ڈیوران
- ز ول لابوم
- دینورٹ
- ڈاکٹر مسز لوراواکیسا گلیری
- آیت ۲۵
- بہشت کی نعمات کی خصوصیات
- ( ۱) ایمان وعمل
- ( ۲) پاکیزہ بیویاں
- جنت کی مادی و معنوی نعمات
- آیت ۲۶
- کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟
- ( ۱) حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت
- ( ۲) مچھر کی مثال کیوں
- ( ۳) خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی
- ( ۴) فاسقین
- آیت ۲۷
- حقیقی زیاں کار
- ( ۱) اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت
- ( ۲) جوڑنے کے بجائے توڑنا
- آیات ۲۸،۲۹
- زندگی ایک اسرار آمیز نعمت ہے
- ( ۱) تناسخ ا ور ارواح کا پلٹ آنا
- ( ۲ ) سات آسمان
- ( ۳) عظمت کا ئنات
- آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳
- انسان زمین میں خدا کا نمائندہ
- فرشتے امتحان کے سانچے میں
- دوسوال اور ان کا جواب
- آیات ۳۴،۳۵،۳۶
- آدم جنت میں
- ( ۱) ابلیس نے مخالفت کیوں کی
- ( ۲) سجدہ خدا کے لئے تھا یا آدم کے لئے
- ( ۱) آدم کس جنت میں تھے
- ( ۲) آدم کا گناہ کیا تھا
- ( ۳) تورات سے معارف قرآن کا مقابلہ
- ( ۴) قرآن میں شیطان سے کیا مراد ہے
- ( ۵) خدا نے شیطان کو کیو ں پیدا کیا ہے
- آیات ۳۷،۳۸،۳۹
- خدا کی طرف آدم کی بازگشت
- ( ۱) خدانے جو کلما ت آدم پر القا کئے وہ کیا تھے
- ( ۲) لفظ اھبتوا کاتکرار کیوں
- ( ۳)” اھبتوا“ میں کون مخاطب ہیں
- آیت ۴۰
- خدا کی نعمتوں کو یاد کرو
- ( ۱) یہودی مدینہ میں
- ( ۲) یہودیوں سے خدا کے بارہ معاہدے
- ( ۴) خدا بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا
- ( ۵) حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل کیوں کہتے ہیں
- آیات ۴۱،۴۲،۴۳
- شان نزول
- یہودیوں کی دولت پرستی
- ( ۱) کیا قرآن تورات اور انجیل کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے
- اس کا جواب یہ ہے
- آیات ۴۴،۴۵،۴۶
- دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت
- ( ۱) لقاء اللہ سے کیا مراد ہے
- مشکلات میں کامیابی کا راستہ
- آیات ۴۷،۴۸
- یہودیوں کے باطل خیالات
- قرآن اور مسئلہ شفاعت
- ( ۱) شفاعت کا حقیقی مفہوم
- ( ۱۱) عالم تکوین میں شفاعت
- مدارک شفاعت
- شرائط شفاعت
- احادیث اسلامی اور شفاعت
- ۷۱ ۔ شفاعت کی معنوی تا ثیر
- توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت
- فلسفہ شفاعت
- ۱ مایوسی کی روح سے مقابلہ
- شفاعت کی شرئط تعمیری اور اصلاح کنندہ ہیں
- اعتراضات کے جوابات
- شفاعت اور مسئلہ توحید
- تعجب کی بات یہ ہے
- مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی
- آیت ۴۹
- عظیم نعمت کی طرف اشارہ
- قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذاب قرار دیا ہے
- آیت ۵۰
- فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ
- آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴
- تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
- عظیم گناہ اور سخت سزا
- آیات ۵۵،۵۶
- یہ دو آیات خدا کی ایک بہت بڑی نعمت کی یاد دلاتی ہیں ۔
- آیت ۵۷
- بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے تو خداو ند عا لم کا حکم
- آزاد ماحو ل کی زندگی
- من وسلوی ٰکیاہے
- ”انزلنا“کیوں کہا گیا
- غمام کیا ہے
- من وسلوی کی ایک اور تفسیر
- آیات ۵۸،۵۹
- اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل
- آیت ۶۰
- بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے
- تعثوا“اور مفسدین میں فرق
- بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات
- انفجرت اور انبجست میں فرق
- آیت ۶۱
- ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد
- یہاں مصری سے کون سی جگہ مراد ہے
- کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں
- کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا
- ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر
- آیت ۶۲
- ایک کلی اصول اور عمومی قانون
- ایک اہم سوال
- چند اہم نکات
- ( ۲) صائبین کون ہیں ؟
- ( ۳) صائبین کے عقائد: ان کے مندرجہ ذیل عقائد تھے
- آیات ۶۳،۶۴
- ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر
- ( ۱) عہد و پیمان سے مراد
- ( ۲) کوہ طور ان کے سروں پر مسلط کرنے سے کیا مقصود تھا
- ( ۳) کیا اس عہد وپیمان میں جبر کا پہلو ہے
- ( ۴) کوہ طور
- آیات ۶۵،۶۶
- یہ دو آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح
- آیات ۶۷، ۶۸، ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴
- بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ
- ( ۱) زیادہ اور غیر مناسب سوالات
- ( ۲) یہ تمام اوصاف کس لئے تھے
- قتل کا سبب کیا تھا
- ( ۴) اس داستان کے عبرت خیز نکات
- باپ سے نیکی
- آیات ۷۵، ۷۶،۷۷
- تفسیر
- شان ِنزول
- انتظار بیجا
- آیات ۷۸،۷۹
- شان نزول
- عوام کو لوٹنے کی یہودی سازش
- آیات ۸۰،۸۱،۸۲
- بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے
- ( ۱) غلط کمائی
- آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے
- نسل پرستی کی ممانعت
- آیات ۸۳، ۸۴،۸۵،۸۶
- عہد و پیمان کا ذکر
- آیات کا تاریخی پر منظر
- قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام
- مختلف زمانوں میں انبیاء کی پے در پے آمد
- روح القدس کیاہے؟
- روح القدس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ
- ( ۳) بے خبر اور غلاف میں لپٹے دل
- آیات ۸۹،۹۰
- شان نزول
- خسارے کا سودا
- فباء بغضب علی غضب
- آیات ۹۱،۹۲،۹۳
- یہودیوں نے ان زحمتوں اور مشکلوں کے با وجود
- ( قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ) کا مفہوم
- ( وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْعِجْل ) مفہوم
- آیات ۹۴،۹۵،۹۶
- خود پسند گروہ
- ہزار سال عمر کی تمنا
- ( عَلَی حَیَاةٍ )
- یہودیوں کی نسل پرستی
- بہانہ ساز قوم
- جبرئیل و میکائیل
- آیات ۹۹،۱۰۰،۱۰۱
- شان نزول
- پیمان شکن یہودی
- آیات ۱۰۲،۱۰۳
- سلیمان اور بابل کے جادوگر
- ہاروت اور ماروت کا واقعہ
- (ہاروت) اور (ماروت) الفاظ کی حیثیت سے
- فرشتہ انسان کا معلم کیونکر ہوسکتاہے؟
- کوئی شخص اذن خدا کے بغیر کسی چیز پر قادر نہیں
- جاد و کیاہے اور کس وقت سے ہے
- جادو اسلام کی نظر میں
- دشمن کی ہاتھ بہانہ مت دو
- یا ایھا الذین امنوا کا دقیق مفہوم
- آیات ۱۰۶،۱۰۷
- تفسیر
- هدف از نسخ
- کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے
- لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے
- ( ننسها ) کی تفسیر
- ( او مثلها ) کی تفسیر
- آیت ۱۰۸
- شان نزول
- بے بنیاد بہانے
- آیات ۱۰۹ ،۱۱۰
- ہٹ دھرم حاسد
- چند اہم نکات
- (!) ( فاعفوا ) اور ( اصفحوا )
- (!!) ( ان الله علی کل شیء قدیر ) کا جملہ
- (!!!) ( حسد من عند انفسهم ) کا مفہوم
- آیات ۱۱۱،۱۱۲
- یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل
- چند اہم نکات
- (!) ( امانیهم )
- (!!) ( اسلم وجهه )
- (!!!) بے دلیل د عووں سے بے اعتنائی
- (!۔) ( و هو محسن )
- آیت ۱۱۳
- شان نزول
- بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے
- آیت ۱۱۴
- شان نزول
- آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین
- مساجد کی ویرانی کی راہیں
- سب سے بڑا ظلم
- آیت ۱۱۵
- شان نزول
- جس طرف رخ کر و خدا موجود ہے
- فلسفہ قبلہ
- وجہ اللہ
- آیات ۱۱۶ ،۱۱۷
- یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کی خرافات
- عدم فرزند کے دلائل
- کن فیکون کی تفسیر
- کوئی چیز کیسے عدم سے وجود میں آتی ہے
- آیات ۱۱۸،۱۱۹
- خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا
- کیسی نامناسب خواہش ہے؟
- ان کے دل ایک جیسے ہیں
- خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول
- آیات ۱۲۰،۱۲۱
- شان نزول
- وہ ہرگز راضی نہ ہوں گے
- لئن اتبعت اھواء ھم
- دشمن کی رضا کا حصول
- ہدایت صرف ہدایت الہی ہے
- حق تلاوت کیاہے؟
- آیات ۱۲۲،۱۲۳
- تفسیر
- آیات ۱۲۴
- ان آیات کے تین مقاصد
- کلمات سے کیا مراد ہے
- نبوت، رسالت اور امامت میں فرق
- ۱ ۔ مقام نبوت۔
- ۲ ۔ مقام رسالت۔
- ۳ ۔ مقام امامت۔
- (!) امامت یا حضرت ابراہیم کی آخری سیر تکامل
- ظلم کسے کہتے ہیں ؟
- دو سوال اور ان کا جواب
- حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم شخصیت
- آیت ۱۲۵
- خانہ کعبہ کی عظمت
- امن و امان کی اس پناہ گاہ کے اجتماعی اور تربیتی اثرات
- خانہ خدا کا نام
- آیت ۱۲۶
- بارگاہ خدا میں حضرت ابراہیم کی در خواستیں
- آیات ۱۲۷،۱۲۸،۱۲۹
- حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعبیر نو
- حضرت ابراہیم کی کچھ مزید دعائیں
- انبیاء کی غرض بعثت
- تعلیم مقدم ہے یا تربیت
- پیغمبر انہی میں سے ہو
- آیات ۱۳۰،۱۳۱،۱۳۲
- حضرت ابراهیم انسان نمونه
- آیات ۱۳۳، ۱۳۴
- سب اپنے اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں
- آیات ۱۳۵،۱۳۶،۱۳۷
- شان نزول
- صرف ہم حق پر ہیں
- دعوت انبیاء کی وحدت
- اسباط کون تھے
- حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف)
- آیات ۱۳۸،۱۳۹،۱۴۰،۱۴۱،
- غیر خدائی رنگ دھو ڈالو
- آیت ۱۴۲
- قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ
- سفہا
- نسخ احکام
- قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے
- آیت ۱۴۳
- امت وسط
- قبلہ کی تبدیلی کے اسرار
- امت اسلامی ایک در میانی امت ہے
- وہ امت جوہر لحاظ سے نمونہ بن سکتی ہے
- لنعلم کی تفسیر
- قبلہ کا فلسفہ
- آیت ۱۴۴
- جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف رخ کرلو
- نظم آیات
- پیغمبر اکرم کا کعبہ سے خاص لگاؤ
- شطر کا معنی
- ہمہ گیر خطاب
- کیا قبلہ کی تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی
- کعبہ ایک عظیم دائرے کا مرکز ہے
- آیت ۱۴۵
- وہ کسی قیمت پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے
- آیات ۱۴۶،۱۴۷
- وہ پیغمبر اکرم کو پوری طور پر پہچانتے ہیں
- آیت ۱۴۸
- یہ آیت در حقیقت یہودیوں کے جواب میں ہے
- امام مہدی کے یار و انصار جمع ہوں گے
- آیت میں ( هُوَ مُوَلِّیهَا ) کی شباہت
- آیات ۱۴۹،۱۵۰
- برنامه های رسول لله
- ( فاذکرونی اذکرکم ) “کی تفسیر
- ذکر خدا کیاہے
- آیات ۱۵۳،۱۵۴
- شان نزول
- (شہداء)
- شہداء کی ابدی زندگی
- مکتب شہید پرور
- برزخ کی زندگی اور روح کی بقاء
- آیات ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷
- طرح طرح کی خدائی آزمائش
- خدا لوگوں کی آزمائش کیوں کرتاہے
- خدا کی آزمائش ہمہ گیر ہے
- آزمائش کے طریقے
- آزمائشوں میں کامیابی کا راز
- نعمت و بلاکے ذریعے امتحان
- آیت ۱۵۸
- شان نزول
- جاہلوں کے اعمال تمہارے مثبت اعمال میں حائل نہ ہوں
- صفا و مروہ
- صفا و مروہ کے کچھ اسرار و رموز
- ایک سوال کا جواب
- تطوع کسے کہتے ہیں
- خدا شاکر ہے کا مفہوم
- آیت ۱۵۹
- شان نزول
- حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت
- حق کو چھپانے کے نقصانات
- لعنت کیا چیزہے
- تواب
- آیات ۱۶۱،۱۶۲،۱۶۳
- وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں
- چند اہم نکات
- (!) حالت کفر میں مرنا
- (!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے
- (!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے
- (!!!) کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے
- آیت ۱۶۴
- آسمان و زمین میں اس کی ذات پاک کے جلوے ہیں
- آیات ۱۶۵،۱۶۶،۱۶۷
- بیزاری پیشوایان
- آیات ۱۶۸،۱۶۹
- شان نزول
- شرک و بت پرستی کی سخت مذمت کی گئی تھی۔
- اصل حلیت
- تدریجی انحرافات
- شیطان پرانا دشمن ہے
- شیطانی وسوسوں کی کیفیت
- آیات ۱۷۰،۱۷۱
- آباء و اجداد کی اندھی تقلید
- پہچان کے آلات
- ینعق کا مفہوم
- آیات ۱۷۲،۱۷۳
- تفسیر
- طیبات وخبائث
- حرام گوشت کی تحریم کا فلسفہ
- تکرار و تاکید
- بیمار کو خون دینا
- آیات ۱۷۴،۱۷۵،۱۷۶
- شان نزول
- دوبارہ حق پوشی کی مذمت
- آیت ۱۷۷
- شان نزول
- تمام نیکیوں کی اساس
- آیات ۱۷۸،۱۷۹
- شان نزول
- قصاص تمہاری حیات کا سبب ہے
- قصاص عفو ایک عادلانہ نظام ہے
- کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے
- (!!) کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے
- جواب
- کیا مردکا خون عورت کے خون سے زیادہ قیمتی ہے
- تشویق به عفو
- ( iv ) اس مقام پرلفظ ”اخیہ“ کا استعمال
- آیات ۱۸۰،۱۸۱،۱۸۲
- شائستہ اور مناسب وصیتیں
- و صیت کا فلسفہ
- وصیت میں عدالت
- واجب اور مستحب وصیت
- زندگی میں وصیت کو بدلا جاسکتاہے
- وصیت۔ اصلاح کا ذریعہ
- آیات ۱۸۳،۱۸۴،۱۸۵
- روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے
- روزے کے تربیتی و اجتماعی اثرات
- (!!) روزے کے معاشرتی اثرات
- (!!!) روزے کے طبی اثرات
- روزہ گذشتہ امتوں میں
- رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز
- دعا او ر تضرع و زاری
- دعا اور زاری کا فلسفہ
- دعا کا حقیقی مفہوم
- دعا کی قبولیت کی شرائط
- نتیجه
- آیت ۱۸۷
- شان نزول
- ۱. حدود الهی
- ۲. اعتکاف
- ۳. طلوع فجر
- اختتامیہ