مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)0%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں
صفحے: 61

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مؤلف: شیخ عباس بن محمد رضا قمی
زمرہ جات:

صفحے: 61
مشاہدے: 21365
ڈاؤنلوڈ: 1797

تبصرے:

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • عرض ناشر

  • مقدمہ

  • ١۔ دعا کی اہمیت و فضیلت

  • شرائط قبولیت دعا

  • آداب دعا

  • دعا کے لئے مخصوص مقامات

  • مقبول دعائیں

  • اولیاء خدا پر سلام و درود

  • معصومین اور زیارت

  • قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ جات

  • مدرسہ و مؤسسہ امام المنتظر (عج) قم

  • سورہ یاسین …١

  • سورہ الرحمن …٧

  • سورہ واقعہ…١١

  • سورہ جمعہ…١٥

  • سور ملک …١٦

  • سورہ نبا ء …١٩

  • سورہ اعلیٰ …٢١

  • سورہ شمس…٢٢

  • سورہ قدر…٢٢

  • سورہ زلزال…٢٣

  • سورہ عادیات …٢٣

  • سورہ کافرون…٢٤

  • سورہ نصر…٢٤

  • سورہ توحید…٢٥

  • سورہ فلق…٢٥

  • سورہ ناس…٢٥

  • فضائل آیة الکرسی…٢٥

  • سورہ عنکبوت…٢٧

  • سورہ روم…٣٤

  • سورہ دخان…٣٩

  • مقدمہ تعارف

  • (باب اول)

  • پہلی فصل

  • تعقیبات، مشترکہ

  • (دوسری فصل )

  • تعقیبات مختصہ

  • تعقبات نماز ظہر

  • تعقیبات نمازعصر

  • تعقیبات نماز مغرب

  • تعقیبات نمازعشائ

  • تعقیبات نمازصبح

  • بعض دعایہ صبح و شام

  • (تیسری فصل )

  • ایام ہفتہ کی دعائیں

  • اتوار کے دن کی دعا

  • پیر کے دن کی دعا

  • منگل کے دن کی دعا

  • بدھ کے دن کی دعا

  • جمعرات کے دن کی دعا

  • جمعہ کے دن کی دعا

  • ہفتہ کے دن کی دعا

  • (چوتھی فصل)

  • جمعرات اور جمعہ کے فضائل

  • فضیلت شب وروز جمعہ

  • شب جمعہ کے اعمال

  • روز جمعہ کے اعمال

  • نماز رسول خدا ۖ

  • نماز حضرت امیر المومنین

  • نماز حضرت فاطمہ زہرا

  • بی بی کی ایک اور نماز

  • نماز امام حسن و حسین

  • نماز امام زین العابدین

  • نماز امام محمد باقر

  • نما ز امام جعفر صادق ـ

  • نماز امام موسیٰ کاظم

  • نمازامام علی رض

  • نماز امام محمد تقی

  • نماز حضرت امام علی نقی

  • نمازامام حسن عسکری

  • نماز حضرت امام زمانہ (عج)

  • نماز حضرت جعفر طیار

  • زوال روز جمعہ کے اعمال

  • عصر روز جمعہ کے اعمال

  • (پانچویں فصل )

  • تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

  • زیارت رسول خداۖ روز ہفتہ

  • زیارت امیر المومنین ـروز اتوار

  • زیارت حضرت زہرا

  • زیارت امام حسن و حسین روزپیر

  • زیارت آئمہ بقیع روز منگل

  • چار آئمہ کی زیارات بروز بدھ

  • زیارت امام عسکری روز جمعرات

  • زیارت امام العصر (عج)روز جمعہ

  • (چھٹی فصل)

  • اس میں بعض مشہور دعائیںہیں

  • دعائے صباح

  • دعائے کمیل

  • دعائے عشرات

  • دعائے سمات

  • دعائے مشلول

  • دعائے یستشیر

  • دعائے مجیر

  • دعائے عدیلہ

  • دعائے جوشن کبیر

  • دعائے جوشن صغیر

  • دعائے سیفی صغیر

  • (ساتویں فصل )

  • بعض قرآنی آیات اور دعائیں

  • دعائے اسم اعظم

  • دعائے توسل

  • دعائے توسل دیگر

  • دعائے فرج

  • حرز حضرت فاطمہ زہرا

  • بخار سے شفا کی دعا

  • حرز امام سجاد ـ

  • دعائے مقاتل بن سلیمان

  • دعائے حضرت رسول خد

  • دعائے سریع الاجابة

  • دعا امن از بلاوغیرہ

  • ( قید سے رہائی کی دعا)

  • دعائے فرج امام عصر (عج)

  • دعائے فرج اما م عصر (عج) (بروایت کفعمی)

  • استغاثہ امام زمان

  • (آٹھویں فصل)

  • امام زین العابدین ـکی پندرہ مناجات

  • پہلی مناجات تائبین

  • دوسری مناجات شاکین

  • تیسری مناجات خائفین

  • چوتھی مناجات راجین

  • پانچویں مناجات راغبین

  • چھٹی مناجات شاکرین

  • ساتویں مناجات مطیعین

  • آٹھویںمناجات مریدین

  • نویں مناجات محبین

  • دسویں مناجات متوسلین

  • گیارہویںمناجات مفتقرین

  • بارہویں مناجات عارفین

  • تیرہویں مناجات ذاکرین

  • چودہویںمناجات معتصمین

  • پندرہویں مناجات زاہدین

  • مناجات منظومہ امیر المومنین

  • (باب دوم )

  • سال کے مہینوں کے اعمال

  • (پہلی فصل )

  • ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

  • ماہ رجب کے کے مشترکہ اعمال

  • دعایہ روزانہ ماہ رجب

  • زیارت رجبیہ

  • ادامہ اعمال مشترکہ ماہ رجب

  • اعمال مختصہ رجب

  • اعمال شب اول ماہ رجب

  • اعمال روز اول ماہ رجب

  • اعمال تیرہ رجب

  • اعمال پندرہ رجب

  • اعمال ام داؤد

  • اعمال شب ٢٧ رجب

  • اعما ل روز ٢٧ رجب

  • (دوسری فصل )

  • ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

  • ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال

  • ماہ شعبان کے مختصہ اعمال

  • فضیلت روز اول شعبان

  • تیسری شعبان کے اعمال

  • فضیلت و اعمال نیمہ شعبان

  • ماہ شعبان کے باقی اعمال

  • (تیسری فصل )

  • ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

  • (پہلا مطلب)

  • ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال

  • (پہلی قسم )

  • اعمال شب و روز ماہ رمضان

  • (دوسری قسم)

  • رمضان کی راتوں کے اعمال

  • دعا ئے افتتاح

  • (ادامہ دوسری قسم)

  • رمضان کی راتوں کے اعمال

  • (تیسری قسم )

  • رمضان میں سحری کے اعمال

  • دعا ئے ابو حمزہ ثمالی

  • دعا سحر یا عُدَتِیْ

  • دعا سحر یا مفزعی عند کربتی

  • (چوتھی قسم )

  • اعمال روزانہ ماہ رمضان

  • (دوسرا مطلب)

  • ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال

  • اعمال شب اول ماہ رمضان

  • اعمال روز اول ماہ رمضان

  • اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان

  • فضیلت شب ١٧ رمضان

  • اعمال مشترکہ شب ہای قدر

  • اعمال مخصوص لیالی قدر

  • اکیسویں رمضان کی رات

  • رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائ

  • رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعاء

  • رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

  • (خاتمہ )

  • رمضان کی راتوں کی نمازیں

  • رمضان کے دنوں کی دعائیں

  • (چوتھی فصل )

  • ماہ شوال کے اعمال

  • اعمال شب عید فطر

  • اعمال روز عید فطر

  • (پانچویں فصل )

  • ماہ ذیقعدہ کے اعمال

  • اعمال روز دحوالارض

  • ذیقعدہ کا آخری دن

  • (چھٹی فصل )

  • ماہ ذی الحجہ کے اعمال

  • اعمال عشرہ اول ذی الحجہ

  • اعمال روز اول ذی الحجہ

  • اعمال شب عرفہ(شب ٩ ذی الحجہ )

  • اعمال روز عرفہ(روز ٩ ذالحجہ )

  • دعائے عرفہ امام حسین

  • اعمال شب وروز عید ضحی

  • اعمال روز عید ضحی

  • اعمال شب وروز عید غدیر

  • اعمال روز عید غدیر

  • اعمال روز عید مباہلہ

  • اعمال روز آخر ذی الحجہ

  • (ساتویں فصل )

  • اعمال ماہ محرم

  • اعمال شب اول ماہ محرم

  • اعمال روز اول ماہ محرم

  • اعمال شب عاشورہ

  • اعمال روز عاشورہ

  • (آٹھویں فصل )

  • ماہ صفر کے اعمال

  • (نویں فصل )

  • اعمال ماہ ربیع الاول

  • (دسویں فصل)

  • ربیع الثانی جمادی الاول اور جمادی الثانی کے اعمال

  • (گیارہویں فصل )

  • ہر نئے قمری مہینے عید نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

  • اعمال عید نوروز

  • رومی مہینوں کے اعمال

  • خواص آب نیساں

  • (تیسرا باب ،باب زیارت )

  • مقدمہ آداب سفر

  • (پہلی فصل )

  • زیارت آئمہ کے آداب

  • (دوسری فصل )

  • حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول

  • (تیسری فصل )

  • مدینہ میں حضرت رسول خداۖ ، بی بی فاطمہ اور بقیع کی زیارات ۔

  • کیفیت زیارت رسول خدا ۖ

  • زیارت رسول خدا ۖ

  • کیفیت زیارت حضرت فاطمہ

  • زیارت حضرت فاطمہ زہرا

  • زیارت رسول خدا ۖ دور سے

  • ودعا رسول خدا ۖ

  • زیارت معصومین روز جمعہ

  • صلواة رسول خداۖ بزبان حضرت علی

  • زیارت آئمہ بقیع

  • قصیدہ ازریہ

  • زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ

  • زیارت فاطمہ بنت اسد

  • زیارت حضرت حمزہ

  • زیارت شہداء احد

  • تذکرہ مساجد مدینہ منورہ

  • زیارت وداع رسول خدا ۖ

  • وظائف زوار مدینہ

  • (چوتھی فصل)

  • (مطلب اول)

  • فضیلت زیارت علی ـ

  • (مطلب دوم )

  • کیفیت زیارت علی

  • پہلی زیارت مطلقہ

  • نماز و زیارت آدم و نوح

  • حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا

  • حرم امیر المومنین ـ میںزیارت امام حسین ـ

  • زیارت امام حسین مسجد حنانہ

  • دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)

  • تیسری زیارت مطلقہ

  • چوتھی زیارت مطلقہ

  • پانچویں زیارت مطلقہ

  • چھٹی زیارت مطلقہ

  • ساتویں زیارت مطلقہ

  • مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز

  • امام سجاد اور زیارت امیر ـ

  • ذکر وداع امیرالمؤمنین

  • (دوسرا مقصد)

  • زیارات مخصوصہ امیرالمومنین

  • زیارت امیر ـ روز عید غدیر

  • دعائے بعد از زیارت امیر

  • زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر

  • امیر المومنین ـ نفس پیغمبر

  • ابیات قصیدہ ازریہ

  • زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

  • (پانچویں فصل)

  • فضلیت مسجد کوفہ

  • (اعمال مسجد کوفہ)

  • مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا

  • چوتھے ستون کے اعمال

  • اعمال دکتہ القضاء و بیت الطشت

  • وسط مسجد کی کے اعمال

  • ساتویں ستون کے اعمال

  • پانچویں ستون کے اعمال

  • تیسرے ستون کے اعمال

  • مقام نو ح پر نماز حاجت

  • محراب امیر المومنین ـ کے اعمال

  • مناجات امیر المومنین

  • دکہ امام جعفر صادق ـکے اعمال

  • مسجد کوفہ میں نماز حاجت

  • زیارت مسلم بن عقیل

  • زیارت حضرت ہانی بن عروہ

  • (چھٹی فصل )

  • اعمال مسجد سہلہ

  • اعمال مسجد زید

  • اعمال مسجد صعصعہ

  • (ساتویں فصل)

  • اس فصل میں تین مقصد ہیں

  • (پہلا مقصد )

  • فضیلت زیارت امام حسینـ

  • (دوسرا مقصد )

  • آداب زیارت امام حسین

  • اعمال حرم امام حسین

  • (تیسرا مقصد )

  • کیفیت زیارت امام حسینـ و حضرت عباسـ

  • (پہلا مطلب )

  • زیارات مطلقہ امام حسین

  • پہلی زیارت مطلقہ

  • دوسری زیارت مطلقہ

  • تیسری زیارت مطلقہ

  • چوتھی زیارت مطلقہ

  • پانچویں زیارت مطلقہ

  • چھٹی زیارت مطلقہ

  • ساتویں زیارت مطلقہ

  • زیارت وارث کے زائد جملے

  • کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف

  • (دوسرا مطلب…

  • زیارت حضرت عبا س

  • فضائل حضرت عباس

  • (تیسرا مطلب )

  • زیارات مخصوص امام حسین

  • پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان

  • دوسری زیارت پندرہ رجب

  • تیسری زیارت ١٥ شعبان

  • چوتھی زیارت لیالی قدر

  • پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان

  • چھٹی زیارت روز عرفہ

  • کیفیت زیارت روز عرفہ

  • فضیلت زیارت یوم عاشورا

  • ساتویںزیارت یوم عاشورا

  • زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ

  • فوائد زیارت عاشورا

  • دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )

  • آٹھویںزیارت یوم اربعین

  • اوقات زیارت امام حسین

  • فوائد تربت امام حسین

  • (آٹھویں فصل )

  • (پہلا مطلب )

  • زیارت کاظمین کے فضائل

  • زیارت حضرت امام موسیٰ کاظم

  • امام موسیٰ کاظم کی ایک اور زیارت

  • صلوات امام موسیٰ کاظم

  • زیارت مخصوص حضرت امام محمد تقی

  • امام محمد تقی - کی دوسری زیارت

  • کاظمین کی مشترکہ زیارت

  • واقعہ حاج علی بغدادی

  • (دوسرا مطلب )

  • فضیلت مسجد براث

  • (تیسرا مطلب )

  • زیارت نواب اربعہ

  • (چوتھا مطلب )

  • فضیلت زیارت سلمان فارسی

  • کیفیت زیارت سلمان فارسی

  • امیر ـ کا ایوان کسریٰ جان

  • (نویں فصل )

  • فضیلت زیارت امام رضا

  • کیفیت زیارت امام رضا ـ

  • دعابعد اززیارت اما رضا ـ

  • امام رضا کی ایک اور زیارت

  • امام رضا کی ایک اور زیارت

  • سفر امام رضا بہ خراسان

  • شاہ عباس کا پیدل مشہد جانا

  • معجزات امام رض

  • (دسویں فصل)

  • (پہلا مقام)

  • زیارت آئمہ سامرائ

  • زیارت امام علی نقی

  • زیارت امام حسن عسکری

  • زیارت والدہ امام العصر(عج)

  • زیارت حکیمہ خاتون

  • فضائل سید حسین ابن امام نقی

  • جلالت سید محمد بن امام نقی

  • (دوسرا مقام )

  • آداب سرداب مقدس

  • کیفیت زیارت سرداب

  • زیارت آل یٰس

  • زیارت امام العصر(عج)

  • زیارت دیگر امام العصر(عج)

  • صلوات امام العصر(عج)

  • دعائے ندبہ

  • زیارت امام العصر(عج) نماز فجر کے بعد

  • دعاء عہد

  • امام العصر(عج) کیلئے دعا

  • (گیارہویں فصل)

  • (پہلا مقام )

  • زیارات جامعہ

  • پہلی زیارت جامعہ صغیرہ

  • دوسری زیارت جامعہ کبیرہ

  • سید رشتی کا واقعہ

  • تیسری زیارت جامعہ

  • چوتھی اور پانچویں زیارت جامعہ

  • (دوسرا مقام )

  • زیارت آئمہ کے بعد دعائ

  • (تیسرا مقام)

  • چودہ معصومین پر صلوات

  • صلوات رسول خد

  • صلوات امیر المومنین

  • صلوات حضرت فاطمہ

  • صلوات امام حسن وحسین

  • صلوات امام سجاد وامام باقر

  • صلوات امام صادق وامام کاظم

  • صلوات امام رضا امام محمد تقی

  • صلوات امام علی نقی

  • صلوات امام حسن عسکری

  • صلوات امام العصر (عج)

  • (خاتمہ)

  • (پہلا مطلب)

  • زیارت انبیائ

  • کیفیت زیارت انبیائ

  • (دوسرا مطلب)

  • زیارت امام زادگان شہزادگان

  • فضیلت زیارت معصومہ قم

  • زیارت حضرت معصومہ قم

  • فضیلت زیارت شاہ عبدالعظیم

  • زیارت شاہ عبدالعظیم

  • فضیلت زیارت امامزادہ حمزہ

  • (تیسرا مطلب)

  • زیارت قبور مومنین

  • مردوں کیلئے ہدیہ بھیجن

  • مردوں سے عبرت حاصل کرن

  • اختتام مفاتیح عرض مؤلف

  • (ملحقات اول )

  • (پہلا مطلب)

  • دعا ودعا رمضان

  • (دوسرا مطلب)

  • عید الفطر کا پہلا خطبہ

  • عید الفطر کا دوسرا خطبہ

  • (تیسرا مطلب)

  • زیارت جامعہ آئمہ معصومین

  • (چوتھا مطلب)

  • زیارت آئمہ کے بعد دعا

  • (پانچواں مطلب)

  • زیارت ودعا آئمہ طاہرین

  • (چھٹا مطلب)

  • رقعہ حاجت

  • (ساتوں مطلب)

  • غیبت امام العصر میں دعا

  • (آٹھواں مطلب)

  • آداب زیارت نیابت

  • (ملحقات دوم)

  • نماز امام حسین کے بعد دعا

  • نماز امام جواد کے بعد دعا

  • زیارت دیگر امام جواد

  • زیارت امامزادگان

  • دوسری زیارت امامزادگان

  • تسبیحات روز عرفہ

  • دعائے مکارم الاخلاق

  • حدیث کسائ

  • (باقیات الصالحات)

  • مقدمہ

  • پہلا باب

  • شب وروز کے اعمال

  • (پہلی فصل )

  • اعمال مابین طلوعین

  • آداب بیت الخلاء

  • آداب وضو اور فضیلت مسواک

  • مسجد میں جاتے وقت کی دعا

  • مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا

  • آداب نماز

  • آذان اقامت کے درمیان کی دعا

  • دعا تکبیرات

  • نماز بجا لانے کے آداب

  • فضائل تعقیبات

  • مشترکہ تعقیبات

  • فضیلت تسبیح بی بی زہرا

  • خاک شفاء کی تسبیح

  • ہر فریضہ نماز کے بعد دعا

  • دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا

  • نماز واجبہ کے بعد دعا

  • ہر نماز کے بعد طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا

  • نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت

  • سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک

  • فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز

  • جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے

  • فضیلت تسبیحات اربعہ

  • حاجت ملنے کی دعا

  • گناہوں سے معافی کی دعا

  • ہر نماز کے بعد دعا

  • قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا

  • بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا

  • ہر نماز کے بعد دعا

  • پنجگانہ نماز کے بعد دعا

  • ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت

  • گناہوں سے بخشش کی دعا

  • ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا

  • گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا

  • لمبی عمر کیلئے دعا

  • (تعقیبات مختصہ)

  • نماز فجر کی مخصوص تعقیبات

  • گناہوں سے بخشش کی دعا

  • شیطان کے چال سے بچانے کی دعا

  • ناگوار امر سے بچانے والی دعا

  • بہت زیادہ اہمیت والی دعا

  • دعائے عافیت

  • تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا

  • شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا

  • رزق میں برکت کی دعا

  • قرضوں کی ادائیگی کی دعا

  • تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا

  • خدا سے عہد کی دعا

  • جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا

  • سجدہ شکر

  • کیفیت سجدہ شکر

  • (دوسری فصل)

  • طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال

  • نماز ظہر وعصر کے آداب

  • (تیسری فصل)

  • غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک کے اعمال

  • آداب نماز مغرب وعشاء تعقیبات نماز مغرب وعشائ

  • سونے کے آداب

  • (چوتھی فصل)

  • نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت

  • نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

  • (پانچویں فصل)

  • صبح وشام کے اذکار ودعائیں

  • طلوع آفتاب سے پہلے سورہ توحید، قدر اور آیة الکرسی کی فضیلت

  • طلوع وغروب آفتاب سے پہلے پڑھنے والی دعا

  • شام کے وقت سو١٠٠ مرتبہ اﷲ اکبر کہنے کی فضیلت

  • فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام

  • صبح شام یا شام کے بعد اس آیة مجیدہ کی فضیلت

  • ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر

  • بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے صبح شام یہ دعاپڑھے

  • طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر پڑھنے والی دعا

  • صبح شام کی دعا

  • صبح شام بہت اہمیت والا ذکر

  • ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا

  • ستر بلائیں دور ہونے کی دعا

  • صبح کے وقت کی دعا

  • صبح صادق کے وقت کی دعا

  • مصیبتوں سے حفاظت کی دعا

  • اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا

  • شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا

  • دن رات امان میں رہنے کی دعا

  • صبح شام کو پڑھنی کی دعا

  • بلاوں سے محفوظ رہنے کی دعا

  • اہم حاجات بر لانے کی دعا

  • (چھٹی فصل)

  • وہ دعائیں جو دن کی بعض ساعتوں میں پڑھی جاتی ہیں

  • پہلی ساعت

  • دوسری ساعت

  • تیسری ساعت

  • چوتھی ساعت

  • پانچویں ساعت

  • چھٹی ساعت

  • ساتویں ساعت

  • آٹھویں ساعت

  • نویں ساعت

  • دسویں ساعت

  • گیارہویں ساعت

  • بارہویں ساعت

  • ہر روز وشب کی دعا

  • جہنم سے بچانے والی دعا

  • گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا

  • نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا

  • ستر٧٠ قسم کی بلاوں سے دوری کی دعا

  • فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا

  • اہم حاجات بر لانے والی دعا

  • خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا

  • دعاوں سے پاکیزگی کی دعا

  • فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا

  • چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا

  • کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا

  • نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا

  • بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا

  • عبادت اور خلوص نیت (بنی اسرائیل کے عابد کا واقعہ)

  • کثرت علم ومال کی دعا

  • دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا

  • بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

  • (دوسرا باب)

  • ان مستحبی نمازوں کا بیان جو مفاتیح الجنان میں ذکر نہیں

  • نماز اعرابی

  • نماز ہدیہ

  • نماز وحشت

  • دوسری نماز وحشت

  • والدین کیلئے فرزند کی نماز

  • نماز گرسنہ

  • نماز حدیث نفس

  • نماز استخارہ ذات الرقاع

  • نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم

  • نماز حاجت

  • نماز حل مہمات

  • نماز رفع عسرت(پریشانی)

  • نماز اضافہ رزق

  • نماز دیگر اضافہ رزق

  • نماز دیگر اضافہ رزق

  • نماز حاجت

  • دیگر نماز حاجت

  • دیگر نماز حاجت

  • دیگر نماز حاجت

  • دیگر نماز حاجت

  • نماز استغاثہ

  • نماز استغاثہ بی بی فاطمہ

  • نماز حضرت حجت(عج)

  • دیگر نماز حضرت حجت(عج)

  • نماز خوف از ظالم

  • تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز

  • گناہوں سے بخشش کی نماز

  • نماز دیگر

  • نماز وصیت

  • نماز عفو

  • (ایام ہفتہ کی نمازیں)

  • ہفتہ کے دن کی نماز

  • اتوار کے دن کی نماز

  • پیر کے دن کی نماز

  • منگل کے دن کی نماز

  • بدھ کے دن کی نماز

  • جمعرات کے دن کی نماز

  • جمعہ کے دن کی نماز

  • (تیسرا باب)

  • اعضاء کے دردوں و بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

  • دعا ئے عافیت

  • رفع مرض کی دعا

  • رفع مرض کی ایک اوردعا

  • سر اور کان درد کا تعویذ

  • سر درد کا تعویذ

  • درد شقیقہ کا تعویذ

  • بہرے پن کا تعویذ

  • منہ کے درد کا تعویذ

  • دانتوں کے درد کا تعویذ

  • دانتوں کے درد کا تعویذ

  • دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ

  • دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ

  • درد سینے کا تعویذ

  • پیٹ درد کا تعویذ

  • درد قولنج کا تعویذ

  • پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ

  • دھدر کا تعویذ

  • بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ

  • وضع حمل میں آسانی کا تعویذ

  • جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ

  • بخار کا تعویذ

  • پیچش دور کرنے کی دعا

  • پیٹ کی ہوا کیلئے دعا

  • برص کیلئے دعا

  • بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ

  • شرمگاہ کے درد کی دعا

  • پاؤں کے درد کا تعویذ

  • گھٹنے کے درد

  • پنڈلی کے درد

  • آنکھ کے درد

  • نکسیر کا پھوٹن

  • جادو کے توڑ کا تعویذ

  • مرگی کا تعویذ

  • تعویذسنگ باری جنات

  • جنات کے شر سے بچاؤ

  • نظر بد کا تعویذ

  • نظر بد کا ایک اور تعویذ

  • نظر بد سے بچنے کا تعویذ

  • جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ

  • شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ

  • چور سے بچنے کا تعویذ

  • بچھو سے بچنے کا تعویذ

  • سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ

  • بچھو سے بچنے کا تعویذ

  • (چوتھا باب)

  • وہ دعائیں جو کتاب الکافی سے منتخب کی گئیں ہیں

  • (پہلی فصل)

  • بعض دعائیں جو صبح شام پڑھنے کیلئے بیان ہوئی ہیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • چھٹی دعا

  • ساتویں دعا

  • آٹھویں دعا

  • نویں دعا

  • دسویں دعا

  • (دوسری فصل)

  • سونے اور جاگنے کے وقت کی بعض دعائیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • چھٹی دعا

  • ساتویں دعا

  • (تیسری فصل)

  • گھر سے نکلتے وقت پڑھنے کی چند دعائیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • چھٹی دعا

  • ساتویں دعا

  • آٹھویں دعا

  • (چوتھی فصل)

  • بعض دعائیں جو نماز سے پہلے اور اس کے بعد پڑھی جاتیں ہیں۔

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • (پانچویں فصل)

  • وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • (چھٹی فصل)

  • ادائے قرض کیلئے دعائیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • (ساتویں فصل )

  • غم واندیشہ اور خوف دور کرنے کی بعض دعائیں

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • چھٹی دعا

  • ساتویں دعا

  • آٹھویں دعا

  • نویں دعا

  • دسویں دعا

  • گیارہویں دعا

  • بارہویں دعا

  • (آٹھویں فصل)

  • بیماریوں کیلئے چند دعائیں۔

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • (نویں فصل)

  • چند حرزوں و تعویذات کا ذکر

  • رات دن میں وحشت وتنہائی سے بچنے کی دعا

  • تنہائی میں سوتے وقت کی دعا

  • تعویذ پیغمبرۖ حسنین کیلئے

  • کھٹمل، پسو اور لال بیگ کی اذیت سے بچنے والی دعا

  • چیرنے پھاڑنے والے جانور کو دیکھتے وقت کی دعا

  • مشکل مصیبت دور ہونے کی دعا

  • (دسویں فصل)

  • دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے چند مختصر دعائیں۔

  • پہلی دعا

  • دوسری دعا

  • تیسری دعا

  • چوتھی دعا

  • پانچویں دعا

  • چھٹی دعا

  • ساتویں دعا

  • آٹھویں دعا

  • نویں دعا

  • دسویں دعا

  • گیارہویں دعا

  • بارہویں دعا

  • تیرہویں دعا

  • چودہویں دعا

  • پندرہویں دعا

  • سولہویں دعا

  • سترہویں دعا

  • آٹھارہویں دعا

  • انیسویں دعا

  • بیسویں دعا

  • اکیسویں دعا

  • بائیسویں دعا

  • تئیسویں دعا

  • چوبیسویں دعا

  • پچیسویں دعا

  • چھبیسویں دعا

  • ستائیسویں دعا

  • آٹھائیسویں دعا

  • انیتسویں دعا

  • تیسویں دعا

  • (پانچواں باب)

  • بعض حرز اور مختصر دعائیں

  • دعاء حل مشکلات

  • حرز بی بی فاطمہ

  • حرز حضرت امام سجاد

  • حزر امام جعفر صادق

  • حزر امام موسیٰ کاظم

  • رقعة الحبیب

  • حزر امام محمد تقی

  • حزر امام علی نقی

  • حزر امام حسن عسکری

  • حزر امام العصر

  • قنوت امام حسین

  • جن وانس سے امان میں رہنے کیلئے دعا رسول خدا ۖ

  • محفوظ رہنے کیلئے مجرب دعا

  • رسول خداۖ کی ایک اور دعا

  • دعائے امام محمد باقر

  • حاجات طلب کرنی کی مناجاتیں

  • مناجات استخارہ

  • مناجات استقالہ

  • مناجات سفر

  • مناجات طلب رزق

  • مناجات طلب پناہ

  • مناجات طلب توبہ

  • مناجات طلب حج

  • مناجات نجات از ظلم

  • مناجات شکر خد

  • مناجات طلب حاجات

  • حجاب امام جعفر صادق

  • حجاب امام موسیٰ کاظم

  • حجاب امام محمد تقی

  • مشکل وقت کا ورد

  • دعائے رزق

  • ابلیس کا شر دور کرنے کی دعا

  • زندہ دل ہوجانے کی دعا

  • ناگہانی موت سے بچنے کی دعا

  • قرضے کی ادائیگی کیلئے دعا

  • (چھٹا باب)

  • خواص بعض سور ور آیات

  • (پہلا امر)

  • خواص با سور قرآنی

  • (دوسرا امر )

  • خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی

  • (تیسرا امر)

  • خواص سورہ قدر

  • (چوتھا امر)

  • خواص سورہ اخلاص وکافرون

  • (پانچواں امر)

  • خواص آیة الکرسی اورتوحید

  • (چھٹا امر)

  • خواص سورہ توحید

  • (ساتوں امر)

  • خواص سورہ تکاثر

  • (آٹھواں امر)

  • خواص سورہ حمد

  • (نواں امر)

  • خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید

  • (دسواں امر)

  • خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید

  • (گیارواں امر)

  • آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا

  • سرکش گھوڑے کے رام کی دعا

  • درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا

  • تلاش گمشدہ کا دستور العمل

  • غلام کی واپسی کیلئے دعا

  • چور سے بچنے کیلئے دعا

  • (بارہواں امر)

  • خواص سورہ زلزال

  • (تیرہواں امر)

  • خواص سورہ ملک

  • (چودہواں امر)

  • خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور

  • (پندرہواں امر)

  • رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن

  • (سولہواں امر)

  • خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل

  • (سترہواں امر)

  • اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل

  • اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل

  • (اٹھارہواں امر)

  • سونے کے وقت کے اعمال

  • (انیسواں امر)

  • دعا مطالعہ

  • (بیسواں امر)

  • ادائے قرض کا دستور العمل

  • (اکیسواں امر)

  • تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل

  • (بائیسواں امر)

  • رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل

  • (تئیسواں امر)

  • صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر

  • (چوبیسواں امر)

  • زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل

  • (پچیسواں امر)

  • دعا عقیقہ

  • آداب عقیقہ

  • (چھبیسواں امر)

  • دعائے ختنہ

  • (ستائیسواں امر)

  • استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل

  • (آٹھائیسواں امر)

  • یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا

  • (انتیسواں امر)

  • انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں

  • (تیسواں امر)

  • بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت

  • (اکتیسواں امر)

  • صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا

  • (بتیسواں امر)

  • دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)

  • (تینتیسواں امر)

  • سونے سے پہلے کی دعا

  • (چونتیسواں امر)

  • پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل

  • (پنتیسواں امر)

  • پتھر توڑنے کا قرآنی عمل

  • (چھتیسواں امر)

  • سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص

  • (سینتیسواں امر)

  • زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل

  • (اڑتیسواں امر)

  • عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت

  • (انتالیسواں امر)

  • نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا

  • نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا

  • قوت حافظہ کی دوا اور دعا

  • (چالیسواں امر)

  • دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

  • (خاتمہ)

  • موت کی آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں

  • موت کے آثار رونما ہونے پر توبہ کرے

  • حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی طرف توجہ

  • تاکید در امر وصیت

  • عہد نامہ میت

  • آداب محتضر اور تلقین کلمات فرج

  • مرنے کے بعد احکام

  • تشیع جنازہ اور دفن میت

  • تلقین میت

  • تلقین جامع میت

  • ﴿ خاتمہ کتاب﴾

  • ملحقات باقیات الصالحات

  • دعائے مختصراورمفید

  • دعائے دوری ہر رنج وخوف

  • بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا

  • بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا

  • خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد

  • کمر درد دور کرنے کیلئے دعا

  • درد ناف دور کرنے کیلئے دعا

  • ہر درد دور کرنے کا تعویذ

  • درد مقعد دور کرنے کا عمل

  • درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا

  • رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل

  • دعائے خلاصی قید وزندان

  • دعائے فرج

  • نماز وتر کی دعا

  • دعائے حزین

  • زیادتی علم وفہم کی دعا

  • قرب الہی کی دعا

  • دعاء اسرار قدسیہ

  • شب زفاف کی نماز اور دعا

  • دعائے رہبہ (خوف خدا)

  • (ملحقات دوم )(باقیات الصالحات )

  • دعائے توبہ منقول از امام سجاد

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 61 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 21365 / ڈاؤنلوڈ: 1797
سائز سائز سائز
مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مؤلف:
اردو
عرض ناشر بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صلی علیٰ محمدوآل محمد

نام کتاب مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
تألیف خاتم المحدثین شیخ عباس بن محمد رضا قمی
تر جمہ ہئیت علمی مؤسسہ امام المنتظر (عج)
زیر نگرانی حجة السلام والمسلمین حاج آقای سید نیاز حسین نقوی مد ظلہ العالی
کمپو زنگ سید محمد رضا ،سید نجم عباس ،سید امجد حسین ،سید جعفر رضا،سید حسین علی
ناشر مؤسسہ امام المنتظر (عج)
اشاعت اول ١٤اگست ٢٠٠٢ بمطابق ٥جمادی الثانی ١٤٢٣ھ مرداد ٨١
صفحات ١٠٦٣
چھاپخانہ شریعت قم
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں ۔
نوٹ :اس کتاب کی عربی یا اردو ترجمہ وچھوٹے یا بڑے سائز میں اصل یا منتخب کسی بھی عنوان سے مؤسسہ امام المنتظر (عج) کی اجازت کے بغیر چھاپناشرعاً و قانوناًممنوع ہے ۔
ملنے کا پتہ
امام المنتظر(عج) پبلیکیشنر
پوسٹ بکس ٣٧١٨٥/٣٦٨٣:
قم جمہوری اسلامی ایران مؤ سسہ امام المنتظر(عج)خیابان انقلاب کوچہ ١٧رو بروی مسجد گذر قلعہ
فیکس و ٹیلی فون نمبر:٧٧٣٦٧٦٠
موبائل:٠٩١١٢١٢٠٩٣٥
Email: montazar١٢@hotmail.com


بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرض ناشر خاتم المحدثین جناب شیخ عباس قمی قدس سرہ کی مشہور و معروف اور مقبول عام کتاب مفاتیح الجنان کا جدید اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
اس تر جمہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ حوزہ علمیہ قم کے فضلاء پر مشتمل ایک جماعت نے حضرت آیت اللہ الحاج حافظ سید ریاض حسین نجفی دامت برکاتہ کے ترجمہ اور علمی عبارات اور اصطلاحات سے بھر پور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ سابقہ تمام تراجم کو پیش نظر رکھا ہے اور تقریباً دو سال کی مسلسل سعی و کوشش کے بعد اس کو مرتب و منظم کیا ہے عربی عبارات کی تصحیح اور اصلاح پر خصوصی توجہ دی ہے ۔
تا حد امکان کو شش کی گئی ہے کہ موجودہ ترجمہ اور عربی عبارات اغلاط سے پاک ہوں اگرچہ کسی بھی انسانی کام کو بے عیب ونقص قرار نہیں دیا جا سکتا امید ہے قارئین کرام اپنی گرانقدر آ را ء و نظریات سے مطلع فرما کر کتاب کی مزید اصلاح اور بہتر سے بہتر اشاعت میں ضرور تعاون فرمائیں گے ۔
ہماری یہ کاوش استاد العلماء حضرت آیت اللہ سید محمد یارنجفی اور محسن ملت حضرت حجة السلام والمسلمین علامہ سید صفدر حسین نجفی قدس سرھما کی کوششوں اور محنتوں کا تسلسل ہے بار گاہ رب العزت میں التجا ہے کہ خدا وند منان ان کے درجات بلند اور ان پر اپنی رحمات نازل فرمائے اور انہیں جوار آئمہ معصومین میں جگہ عنایت فرمائے ۔
اس وقت محسن ملت کی عظیم یاد گار حوزہ علمیہ جامعة المنتظر لاہور -----حوزہ علمیہ مدینة العلم اسلام آباد، مدرسہ امام المنتظر و مؤ سسہ امام المنتظر قم اور محسن ملت کے دیگر تمام مدارس اور مراکز کی سرپرستی حضرت آیت اللہ الحاج حافظ سید ریاض حسین نجفی فرما رہے ہیں اور شب وروز ان کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل ہیں ۔
ہماری دعا ہے کہ خدا وند عالم انہیں صحت و سلامتی اور طول عمر عطا فرمائے اور انہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور مومنین کرام کو بھی توفیق عنایت فرمائے تا کہ ان تمام دینی مراکز کی تعمیر ترقی میں ان کے ساتھ تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں ۔
آخر میں مؤسسہ امام المنتظر(عج) ان تمام طلباء و فضلاء کاممنون و مشکور ہے جنہوں نے حجة الاسلام والمسلمین سید نیاز حسین نقوی کی زیر نگرانی میں اپنی شب و روز کی مساعی سے اس کتاب کے ترجمہ ،تصحیح اور کمپوزنگ جیسے امور کو خلوص دل سے انجام دیا ہے خدا وند عالم ان تمام حضرات کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور انہیں اپنی حفظ امان میں رکھے
آخر میں قوم کے مخیر اور درد مند مومنین ہمارے مفید اور عظیم الشان منصوبوں کی تکمیل میں عملی معاونت فرمائیں ہمارے پاس مراجع عظام (مدظلہم العالی) کے اجازے اور وکالت نامے موجود ہیں آپ حضرات وجوہات شرعیہ و عطیات دے کر اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں یعنی مدرسہ مدینة العلم اسلام آباد، مدرسہ امام المنتظر مشہد مقدس وسوریہ(شام) کی عملی تکمیل میں حصہ لے کر اپنے لئے یا اپنے رفتگان کیلئے آخرت کا سامان مہیا کرسکتے ہیں ۔
خداوند متعال ہم سب کے نیک کاموں کی توفیق میں اضافہ فرمائے(آمین)
ربطہ ایڈریس
پاکستان
لاہور: H بلاک ماڈل ٹاؤن حوزہ علمیہ جامعة المنتظر (عج)
محترم جناب حضرت آیة اﷲ حافظ سید ریاض حسین نجفی دام ظلہ الوارف
فون نمبر: ٠٠٩٢-٤٢-٥٨٦٦٧٣٢,٣٣,٣٤
کراچی :کمرشل ایونیو،فیز فور ایریا،دیفنس سوسائٹی، جامعہ علمیہ
محترم جناب علامہ سید فیاض حسین نقوی دام ظلہ
فون نمبر: ٠٠٩٢-٢١-٥٨٨٨٦٤٠ & ٥٨٨٦٦٧٦
ایران
قم: جمہوری اسلامی ایران مؤ سسہ امام المنتظر(عج)خیابان انقلاب کوچہ ١٧رو بروی مسجد گذر قلعہ
جناب قبلہ قاضی سید نیاز حسین نقوی دام ظلہ الوارف
فون نمبر : ٠٠٩٨-٢٥١-٧٧٤٥٦٤٠۔ فیکس:٧٧٣٦٧٦٠ موبائل :٠٠٩٨-٩١١-٢١٢٠٩٣٥

والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔
مؤسسہ امام المنتظر(عج) حوزہ علمیہ قم المقدسہ ایران


مقدمہ کتاب مفاتیح الجنان ایک معروف و مشہور اور معتبر ترین کتاب ہے اور ایک مومن اور عبادت گزار انسان کی تمام ضروریات زندگی پر حاوی ہے اور انسان کی زندگی کے تمام مسائل اور مشکلات کا حل اس کتاب میں موجود ہے خاتم المحدثین شیخ عباس قمی قدس سرہ نے دعاؤں کی کتاب مفتاح الجنان سے مستند دعاؤں کو منتخب فرما کر اس کتاب کی ترتیب کے مطابق مرتب کیا ہے اور بعض معتبر دعاؤں اور زیارات کا اضافہ بھی فرمایاہے کتاب مفاتیح الجنان تین ابواب پر مشتمل ہے۔
باب اول: میں تعقیبات نماز ،ایام ہفتہ کی دعائیں ،شب وروز جمعہ کے اعمال اور بعض مشہور دعاؤں اور مناجات کو بیان کیا گیا ہے۔
باب دوم :سال بھر کے مہینوں اور ایام کے اعمال پر مشتمل ہے ۔
باب سوم :زیارات کے بیان میں ہے ۔
مؤلف محترم نے مفاتیح الجنان کے آخر میں باقیات الصالحات کا بھی اضافہ فرمایا ہے جو کہ چھ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے جسے ہم کتاب کے حاشیہ میں ذکر کر رہے ہیں ۔
کتاب کے مطالب کی مناسبت سے ہم مقدمہ میں تین مطلب ذکر کریں گے۔
مطلب اول:دعا کی اہمیت وفضیلت ، قبولیت دعا کے شرائط، آداب دعا، اور دعا کے مخصوص اوقات، حالات اور مقامات ۔
مطلب دوم زیارات :آیات وروایات کی روشنی میں معصومین کی زیارت ۔
مطلب سوم :مؤلف محترم کے مختصر حالات زندگی ۔

مطلب اول:دعا کی اہمیت وفضیلت ، قبولیت دعا کے شرائط، آداب دعا، اور دعا کے مخصوص اوقات، حالات اور مقامات ۔
١۔ دعا کی اہمیت و فضیلت آیات وروایات :معصومین کی سیرت اور باقی اعمال کی نسبت دعاکے دنیوی واُخروی فوائد پر نظر کی جائے تو دعاکی اہمیت و فضیلت روزروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے خدا وند متعال نے خود بھی اپنے بندوں کو دعا کے لئے حکم دیا ہے اور اپنے پیغمبروں کو بھی فرمایا ہے کہ میرے بندوں کودعا کی سفارش کریں ۔
ارشاد رب العزت ہے ۔
اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ مجھے پکارو اور( مجھ سے دعا مانگو )میں تمہای دعا کو قبول کرونگا (١)
قُلْ ادْ عُوْا اَﷲ۔ اے رسول میرے بندوںسے کہو کہ مجھ سے دعا مانگیں (٢)
ےَامُوْ سیٰ مُرعِبَادِی ےَدْ عُوْنِیْ۔ اے موسیٰ میرے بندوں کو حکم دو کہ وہ مجھے پکاریں (اور مجھ سے دعا مانگیں )(٣)
ےَا عِیْسیٰ مُرْھُمْ اَنْ ےَدْ عُوْ نِیْ مَعَکَ۔ اے عیسیٰ مومنین کو حکم دو کہ وہ آپکے ساتھ مل کر دعا کریں (٤)
حضرت موسیٰ و عیسیٰ جیسے بزرگترین انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۖ کو دعا کے لئے مامور کرنا دعا کی فضیلت واہمیت پر بہترین دلیل ہے۔
پیغمبر اکرم ۖ اور آئمہ کے فرامین میں بھی دعا کی اہمیت و فضیلت روز روشن کی طرح واضح ہے ۔
پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں :ےَاعَلِیْ اُوْصِیْکَ بِالدُّعَائِ ۔ اے علی میں تمہیں دعا کی سفارش کرتا ہوں (٥)
قال امام محمد باقر ـ:اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اَلْدُّعَائُ ۔ امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں افضل اور بہترین عبادت دعا ہے (٦)
قال علی ـ:اَحَبُّ الْاعَمَال اِلَی اﷲ عَزَّ وَجَلْ فِیْ الْاَرْضِ الدُّ عَائُ۔حضرت علی ـ فرماتے ہیں خدا کے نزدیک زمین پر محبوب ترین عمل دعا ہے (٧)
قال رسول اللہ ۖ :اَلْدُّعَائُ مُخُ الْعِبَادَةِ وَلَاَ یُھْلِکَ مَعَ الّدُعَا ء اُحَد۔ رسول اکرم ۖ:دعاعبادت کی اصل اور بنیاد ہے دعا کی صورت میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوتا (٨)
قال الامام علی ـ: اَلدُّعُا تُرْسُ الْمُوُمِنْ ۔امام علی ـ فرماتے ہیں دعا مومن کے لئے ڈھال اور نگہبان ہے
اور اسے شیطان کے حملہ اور گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے (٩)
قال الامام الصادق ـ: عَلَیْکَ بِالدُّعَائِ: فَاِنَّ فِیْہِ شِفَائ مِنْ کُلِّ دَائٍ ۔حضرت امام صادق ـ فرماتے ہیں تیرے لیے دعا ضروری ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے (١٠)
قال رسول اللہ ۖ:تَرْکُ الدُّ عَائِ مَعْصِےَة :پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں دعا کا ترک کرناگنا ہ ہے (١١)
قال رسول اللہ ۖ:اِدْفَعُوْا اَبْوَابَ الْبَلَائِ بِالّدُ عَائِ :رسول اکر م ۖ فرماتے ہیں مصیبتوں اور مشکلات کو دور کرو دعا کے ذریعے (١٢)
قال امام علی ـ: مَنْ قَرِعَ بَابَ اﷲ سُبْحِانَہُ فُتِحٍَ لَہ:حضرت علی ـ فرماتے ہیں جو شخص بھی (دعا کے ذریعے )اللہ کے دروازے کو کھٹکائے گا تو اس کے لئے (قبولیت کا دروازہ) کھول دیا جا ئے گا(١٣)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا ونددعا کا دروازہ کھلا رکھے لیکن قبولیت کا دروازہ بند کر دے (١٤)

شرائط قبولیت دعا جس طرح ہر عمل اور عبادت کی قبولیت لئے کچھ شرائط ہیںکہ جن کے بغیر عمل اور عبادت قبول نہیں ہے اسی طرح دعا کے لئے بھی شرائط ہیں جب تک ان شرائط پر عمل نہ کیا جائے تو دعا قبول نہیں ہوتی ۔

١۔ معرفت و شناخت خدا
قال رسول اللہ ۖ:یقول اﷲ عَزَّ وَجَلَّ :مَنْ سَألَنِیْ وَ ھُوَ ےَعْلَمُ اَنِّی اَضُرُّ وَ اَنْفَعُ: اَسْتَجِبْ لَہْ۔حضرت پیغمبر اکرم ۖ سے منقول ہے خدا فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے سوال اور دعا کرے اور یہ جانتاہو (اور معرفت رکھتا ہو )کہ نفع و نقصان میرے ہاتھ میں ہے تو میں اس کی دعا قبول کروں گا (١٥)
امام صادق ـ سے جب سوال کیا گیا کہ ہم دعا کرتے ہیں لیکن قبول نہیں ہو تی تو آپ نے جواب میں فرمایا :
لَاِ نَّکُمْ تَدْعُوْنَ مَنْ لَا تَعْرِفُوْنَہُ ۔آپ اس کو پکارتے ہو( اور اس سے دعا مانگتے ہو )جس کو نہیں جانتے اور جس کی معرفت نہیں رکھتے ہو (١٦)

٢۔محرمات اور گناہ کا ترک کرنا
قال الامام الصادق ـ:اِنَّ اﷲ ےَقُوْلُ اَوْفُوْا بِعَھْدِی اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ :وَاﷲِ لَوْ وَفَےْتُمْ اﷲ لَوَفٰی اللّٰہُ لَکُمْ۔حضرت امام صادق ـ سے منقول ہے : خدا فرماتا ہے میرے عہد و پیمان اور وعدے کو پورا کرو تا کہ میں بھی تمہارے عہد و پیمان (اور وعدے) کو پورا کروںامام فرماتے ہیں اللہ کی قسم اگر تم اپنا وعدہ پورا کرو اور احکام الٰہی پر عمل کرو تو اللہ بھی تمہارے لئے اپنا وعدہ پورا کرے گا تمہاری دعاؤں کو قبول اور تمہاری مشکلات کو حل فرمائے گا (١٧)

٣۔کمائی اور غذا کا پاک و پاکیزہ ہونا
قال الامام الصادق ـ: مَنْ سَرَّہُ اَنْ ےُسْتَجَابَ دُعَائَہُ فَلْیَطَیِّبْ کَسْبُہُ۔امام صادق ـ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے کاروبار اور کمائی کو پاک کرے (١٨)
حضرت موسیٰ نے دیکھا ایک آدمی ہاتھ بلند کر کے تضرع و زاری کے ساتھ دعا کر رہا ہے خدا نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی اور فرمایا اس شخص کی دعا قبول نہیں ہو گی :لَاِنَّ فِیْ بَطْنِہ حَرَاماً وَ عَلَیٰ ظَھُرِہ حَرَاماً وَ فِیْ بَیْتِہ حَرَاماً۔کیونکہ اس کے پیٹ میں حرام ہے ( یعنی اس نے حرام کا مال کھایا ہوا ہے ) اور جو لباس پہنا ہوا ہے وہ بھی حرام ہے اور اس کے گھر میں بھی حرام ہے(١٩)
پیغمبر اکرم ۖ فرماتے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو تو اپنی غذا کو پاکیزہ کرو اور اپنے پیٹ میں حرام داخل نہ کرو۔

٤۔حضور ورقت قلب
قال رسول اللہ ۖ: اِعْلَمُوْا اَنَّ اﷲ لَا ےَسْتَجِیْبُ دُعَائَ مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ۔رسول اکرم ۖ فرماتے ہیں : یہ جان لو کہ خدا وند اس دل سے دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اوربے پرواہو (٢٠)

٥۔اخلاص وعبودیت
فَادْعُوْا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہ الّدِیْن۔خدا کو پکارو (اور اس سے دعا مانگو خلوص نیت کے ساتھ یعنی )اس حال میں کہ اپنے دین کو اس کے لئے خالص قرار دو (٢١)
امام جعفر صادق ـفرماتے ہیں :وَقَدْ وَعَدَ عِبَادَہُ الْمُوْمِنِیْنَ الْاِسْتِجَا بَةَ۔ بے شک خدا نے اپنے مومنین بندوں سے قبولیت دعا کا وعدہ فرمایا ہے (٢٢)

٦۔سعی و کوشش
یعنی دعا کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان کام و سعی اور کوشش چھوڑ دے اور گھر بیٹھ کر فقط دعا کرتا رہے ۔
امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں : ثَلَاثَة تُرَدُّ عَلَیْھُمْ دَ عْوَتُھُمْ: رَجُل جَلَسَ فِیْ بَیتِہ وَ قَال ےَا رَبِّ اُرْزُقِیِ فَےُقََالُ لَہُ اَلَمْ اَجْعَلْ لَکَ السَّبِیْلَ اِلیٰ طَلَبِ الرَّزْق۔تین قسم کے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہو گی (ان میں سے )ایک وہ شخص ہے جو فقط گھر میں بیٹھ کر یہ دعا کرتا رہے کہ خدا وندا مجھے روزی عطا فرما اسے جواب دیا جائے گا۔ کیا میں نے تیرے لئے روزی کمانے کا ذریعہ اور وسیلہ قرار نہیں دیا دوسرے لفظوں میں حصول رزق کیلئے تلاش وکو شش کرنا کام کرنا ایک چیز ہے لیکن روزی کا نصیب ہونا اس کا با برکت ہونا توفیق الٰہی کا شامل حال ہونا دوسرا مطلب ہے جس میں دعا بہت مؤثر ہے (٢٣)
اسی طرح علاج کرواناشفاء کیلئے ڈاکٹر یا حکیم کے پاس جانا اس کے دستور کے مطابق دوائی استعمال کرنا ایک مطلب ہے لیکن ڈاکٹرکی تشخیص کا صحیح ہونا دوائی کا شفاء میں مؤثر ہونا دوسرا مطلب ہے جس میں دعا اور صدقہ وغیرہ بہت مؤثر ہیں جب یہ دونوں حصے اکھٹے ہوں تو مؤثر واقع ہونگے اور ہمیں ان دونوں کی طرف تو جہ کرنی ہوگی۔


آداب دعا ١۔بِسْم اللہ پڑھنا :
قال رسول اللہ ۖ:لَا یَرُدُّ دُعَائ: اَوَّلُہُ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔رسول اللہ ۖ فرماتے ہیں: وہ دعا رد نہیں ہوتی جس کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لیا جائے (٢٤)

٢۔تمجید
قال رسول اللہ ۖ:اِنَّ کُلُّ دُعَائٍ لَا ےَکُونَ قَبْلَہُ تَمْجَِیْد فَھُوَاَبْتَرْ۔رسول اکرم ۖ:ہر وہ دعا کہ جس سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعریف و تمجید اور حمد و ثنا نہ ہو وہ ابتر ہے اور اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہو گا (٢٥)

٣۔صلوات بر محمد و آل محمد
قال رسول اللہ ۖ:صَلَاتُکُمْ عَلَّی اِجَابَة لِدُعَائِکُمْ وَزَکاة لاَِعْمَالِکُمْ۔رسول اکرم ۖفرماتے ہیں :تمہارا مجھ پر درود و صلوات بھیجنا تمہاری دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کی زکاة ہے (٢٦)
امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :لَا ےَزَالُ الدُّ عَاء محجُوباً حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ:دعا اس وقت تک پردوں میں چھپی رہتی ہے جب تک محمد ۖ وآل محمدۖ پر صلوات نہ بھیجی جائے (٢٧)
حضرت امام جعفر صادق ـ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں جوشخص خدا سے اپنی حاجت طلب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے محمد و آل محمد پر صلوات بھیجے پھر دعا کے ذریعہ اپنی حاجت طلب کرے اس کے بعد آخرمیں درود پڑھ کر اپنی دعا کو ختم، کرے (تو اس کی دعا قبول ہو گی ) کیونکہ خدا وند کریم کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ وہ دعا کے اول و آواخر (یعنی محمد و آل محمد پر درود و صلواة )کو قبول کرے اور دعا کے درمیانی حصے(یعنی اس بندے کی حاجت )کو قبول نہ فرمائے (٢٨)

٤۔آ ئمہ معصومین کی امامت ولایت کا اعتقاد رکھنا اور انہیں واسطہ اور شفیع قرار دینا
قال اللہ تعالیٰ : فَمَنْ سَأَلَنِیْ بِھِمْ عَارِفَاً بِحَقِّھِمْ وَمَقَامِھِمْ اَوْجَبْتَ لَہ مِنِّی اَلْاِجَابَةَ۔خدا فرماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرم ۖ اور آئمہ معصومین کا واسطہ دے کر مجھ سے سوال کرے اور دعا مانگے جبکہ وہ ان کے حق اور مقام کو پہچانتا ہوتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں(٢٩)
امام محمدباقر ـ فرماتے ہیں :مَنْ دَعَا اﷲ بِنَا اَفْلَحَ :یعنی جو شخص ہم اہلبیت کا واسطہ دے کر دعا کرے تو وہ شخص کامیاب و کامران ہے (٣٠)
جناب یوسف کے واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ جناب جبرائیل حضرت یعقوب کے پاس آئے اور عر ض کی کیا میں آپ کو ایسی دعا بتاؤں کہ جس کی وجہ سے خدا آپ کی بینائی اور آپ کے دونوں بیٹے (یوسف وبنیامین )آپکو واپس لوٹا دے حضرت یعقوب نے کہا وہ کون سی دعا ہے ۔
فقال جبرائیل :قُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلِّیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسنِ وَالْحُسَےْنِ اَنْ تَأتِیْنیْ بِےُوْسُفَ وَبُنْےَامِیْنَ جَمِیاً وَتُرَدُّ عَلیَّ عَیْنیِ۔حضرت جبرائیل نے حضرت یعقوب سے کہا کہ یوں دعا مانگوخدا یا میں تجھے محمد ۖ ،علی ،فاطمہ، حسن و حسین کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے دونوں بیٹوں (یوسف اور بنیا مین )کو اور میری بینائی کو واپس لوٹا دے جناب یعقوب کی یہ دعا ابھی تمام ہی ہوئی تھی کہ قاصد (بشیر)نے آکر جناب یوسف کی قمیص حضرت یعقوب پر ڈال دی تو آپ کی آنکھیں بینا ہو گئیں(٣١)
حدیث قدسی میں ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے چالیس شب عبادت کرنے کے بعد دعا کی لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تواس نے حضرت عیسیٰ ـ کے پاس شکایت کی حضرت عیسیٰ ـ نے بارگاہ خداوندی سے سوال کیا تو جواب ملا کہ اس نے دعا کا صحیح راستہ اختیار نہیں کیا :اِنَّہُ دُعَانِیْ وَفِیْ قَلْبِہ شَک مِنْکَ۔کیوں کہ وہ مجھ سے تو دعا کرتا ہے اور حاجت طلب کرتا ہے لیکن اسکے دل میں تیری نبوت کے بارے میں شک ہے (یعنی تیری نبوت کا معتقد نہیں ہے )(٣٢)
لہذا وہ اگر اس (شک اور عدم اعتقاد کی )حالت میں اتنا دعا کرے کہ اس کا سانس ختم ہو جائے اور اس کی انگلیاں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تب بھی میں اس کی دعا قبول نہیں کروں گا ۔

٥۔گناہوںکا اقرار کرنا
قال الامام الصادق ـ :انَّمَا ھِیَ اَلْمِدْحَةُ ثُمَّ الْاِقْرَارُ بِا الّذُنُبِ ثُمَّ الْمَسْئَلَة۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ دعا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد و تعریف کرو پھر گناہوںکا اقرار اور پھر اپنی حاجت طلب کرو (٣٣)

٦۔خشوع و خضوع کے ساتھ اور غمگین حالت میں دعا مانگنا
قال اللہ :ےَا عِیْسیٰ اَدْعُوْنِیْ دُعَائَ الْحَزِیْنِ الْغَریِقِْ اَلَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مُغِےْث۔خدا فرماتا ہے اے عیسیٰ مجھ سے اس غرق ہونے والے غمگین انسان کی طرح دعا مانگو جس کا کوئی فریادرس نہ ہو (٣٤)

٧۔دو رکعت نماز پڑھنا
امام جعفر صادق ـ فرماتے جو شخص دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد دعا کرے تو خدا اسکی دعا قبول فرمائے گا (٣٥)

٨۔ اپنی حاجت اور مطلوب کو زیادہ نہ سمجھو
رسول اکرم ۖسے روایت ہے خدا فرماتا ہے کہ اگر ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے مل کر مجھ سے دعا مانگیں اور میں ان سب کی دعاؤں کو قبول کر لوں اور ان کی حاجات پوری کر دوں تو میری ملکیت میں مچھر کے پر کے برابر بھی فرق نہیں آئے گا (٣٦)

٩۔ دعا کو عمومیت دینا
قال رسول اللہ ۖ: اِذادَعَا اَحَدَکُمْ فَلْےُعِمَّ فَاِنَّہُ اَوْجَبَ لِلدُّعَائِ۔پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو اسے چاہیے کہ کہ اپنی دعا کو عمومیت دے یعنی دوسروں کو بھی دعا میں شریک کرے کیونکہ ایسی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہے (٣٧)
قال الامام الصادق ـ :مَنْ قَدَّمَ اَرْبَعِیْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ ثُمَّ دَعَاہ اَسْتُجِیبُ لَہُ۔جو شخص پہلے چالیس مومنین کے لئے دعا کرے اور پھر اپنے لئے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوگی (٣٨)

١٠۔قبولیت دعا کے بارے میں حسن ظن رکھنا
مخصوص اوقات وحالات اور مقامات میں دعا کرنا ۔
دعا کیلئے بعض اوقات حالات اور مقامات کو افضل قرار دینا اس کا معنی ہر گز یہ نہیں ہے کہ باقی اوقات اور مقامات میں دعا قبول نہیں ہوتی اور ان میں رحمت خدا کے دروازے بند ہیں کیونکہ تمام اوقات اور مقامات خدا سے متعلق ہیں اور اس کی مخلوق ہیں جس وقت جس مقام اور جس حالت میں بھی خدا کو پکارا جائے تووہ سنتا ہے اور اپنے بندے کو جواب دیتا ہے لیکن جس طرح خدا نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے اسی طرح بعض اوقات ومقامات کو بھی بعض پر فضیلت حاصل ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دعا کے لئے افضل ترین کو انتخاب کریں ۔
مفاتیح الجنان اور دیگر کتب دعا میں مفصل طور پر دعا کے مخصوص اوقات اور حالات اور مقامات کو بیان کیا گیا ہے ہم اجمالاً بعض کو ذکر کرتے ہیں ۔

١۔نماز کے بعد
قال الصادق ـ: اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ الْصَّلَوٰتَ فِیْ أَحَبِّ الْاوْقَاتِ فَأسْئَالُوْا حَوَائِجکُمْ عَقِیْبَ فَرَائِضکُمْ۔ امام صادق ـ فرماتے ہیں کہ خدا نے نمازوں کو محبوب ترین اور افضل ترین اوقات میں واجب قرار دیا ہے بس تم اپنی حاجات کو واجب نمازوں کے بعد طلب کرو (٣٩)

٢۔حالت سجدہ میں
قال الرضا ـ: اَقْرَبُ مَا ےَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنَ اللّٰہ تَعَالیٰ وَھُوَ سَاجد۔امام رضا ـ فرماتے ہیں کہ حالت سجدہ میں بندہ اپنے خالق سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے (٤٠)

٣۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کی تلاوت کے بعد
قال امیر المومنین ـ:مَنْ قَرَئَ مِائَةَ آےَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ مِنْ اَیِّ الْقُرْآنِ شَائَ ثُمَّ قَالَ … ےَااﷲُ سَبْعُ مَرَّاتٍ فَلَوْ دَعَا عَلیٰ الْصَخْرَةِ لِقَلْعِھٰا اِنْ شَائَ اﷲ۔امام علی ـ فرماتے ہیں جو شخص قرآن کی ایک سو آیات پڑھے پھر سات مرتبہ یااللہ کہے تو خدا اس کی دعا قبول فرمائے گا (مضمون حدیث)(٤١)

٤۔سحری کے وقت
پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں بہترین وقت جس میں تم اللہ سے دعا مانگو سحر کا وقت ہے کیونکہ حضرت یعقوب نے بھی استغفار کو سحر کے وقت لئے مؤخر کر دیا تھا (مضمون حدیث )(٤٢)

٥۔رات کی تاریکی میں مخصوصاً طلوع فجر کے قریب ۔

٦۔ شب و روز جمعہ ۔
٧۔ماہ مبارک رمضان ماہ رجب و ماہ شعبان ۔

٨۔شب ہای قدر (شب ١٩،٢١،٢٣،رمضان )۔

٩۔ماہ رمضان کا آخری عشرہ اور ماہ ذالحجہ کی پہلی دس راتیں ۔

١٠۔ عید میلاد پیغمبر اکرم ۖ و آئمہ معصومین ۔عید فطر ۔عید قربان ،عید غدیر ۔

١١۔بارش کے وقت ۔

١٢۔عمرہ کرنے والے کی دعا واپسی کے وقت یا واپسی سے پہلے ۔

١٣۔جب اذان ہو رہی ہو ۔

١٤ تلاوت قرآن سننے کے وقت ۔

١٥ ۔حالت روزہ میں افطار کے وقت یا افطار سے پہلے ۔


دعا کے لئے مخصوص مقامات (١) مکہ مکرمہ ،بیت اللہ ،مسجد الحرام ،مسجد النبی ۖ حرم مطہر و مزارات چہاردہ معصومین مخصوصاً حرم مطہر مام حسین ـ
(٢)وہ خاص مساجد جن مین انبیاء و آئمہ معصومین اور اولیاء خدا نے نماز و عبادت انجام دی ہے جیسے مسجد اقصیٰ، مسجد کوفہ، مسجد صعصعہ، مسجد سہلہ، سرداب سامرہ، مسجد جمکران ۔
(٣)مذکورہ خاص مقامات کے علاوہ ہر مسجد قبولیت دعا کیلئے بہترین مقام ہے ۔
اہم نکتہ :حالات اوقات اور مقامات دعا کے انتخاب میں مہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایسا وقت اور مقام انتخاب کرنا چاہیے جس میں انسان ریاکاری تظاہر اور دکھاوے جیسی آفت کا شکار نہ ہو۔اور خلوص تواضع و انکساری اور رقت قلب زیادہ سے زیادہ حاصل ہو یہی وجہ ہے کہ روایات میں سفارش کی گئی ہے کہ رات کی تاریکی میں اور سحر کے وقت دعا مانگی جائے خدا فرماتا ہے ۔ےَا بْنَ عِمْرَان …وَاَدْعُنِیْ فِیْ الظُلُمِ اللَّیلِ فَاِنَّکَ تَجِدُنِیْ قَرِیْباً مُجَیْباً۔اے موسیٰ مجھے رات کی تاریکی میں پکارو تو مجھے اپنے قریب اور دعا قبول کرنے والا پاؤ گے(٤٣)


مقبول دعائیں قال امیر المومنین ـ:اَرْبَعَة لَا تُرَدُّ لَھُمْ دَعْوَة: اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ لِرَعِیَّتِہ وَالْوَالِدُ الْبَارُّ لِوَلْدِہ وَالْوَلَدُ الْبَارُّ لِوَالِدِہ وَالْمَظْلُوْمُ (لِظَالِمِہِ)۔ امام علی ـ فرماتے ہیں چار افراد کی دعا رد نہیں ہوتی امام و حاکم عادل جب اپنی رعیت کے حق میں دعا کرے نیک باپ کی دعا اولاد کے حق میں نیک و صالح اولاد کی دعا باپ کے حق میں مظلوم کی دعا (ظالم کے بر خلاف )(٤٤)
قال رسول اللہ ۖ: دُعَائُ اَطْفَالِ اُمَّتِیْ مُسْتَجَاب مَا لَمْ ےُقَارِفُوْا الذُّنُوْبَ۔پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں کہ میری امت کے بچوں کی دعا قبول ہے جب تک وہ گناہوں سے آلودہ نہ ہوں(٤٥)
قال الامام الحسن ـ:مَنْ قَرَئَ الْقُرْآنَ کَانَتْ لَہُ دَعْوَة مُجَابَة اِمَّا مُعَجَّلَةً وَاِمَّا مُؤَجَّلَةً۔امام حسن ـ فرماتے ہیں جو شخص قرآن کی تلاوت کرے اس کی دعا جلدی یا دیر سے قبول ہوگی (٤٦)

دعا بے فائدہ نہیں ہوتی
قال الامام زین العابدینـ: اَلْمُوْمِنُ مِنْ دُعَائِہ عَلیٰ ثَلَاثٍ اِمَّا اَنْ ےُدَّخَرَ لَہُ، وَاِمَّا اَنْ ےُعَجَّل لَہُ وَاِمَّا اَنْ ےَدْفَعَ عَنْہُ بَلائً ےُرِےْدُ اَنْ ےُصِیْبَ۔ امام زین العابدین ـ فرماتے ہیں مومن کی دعا تین حالات سے خارج نہیں ہے (١)یا اس کے لئے ذخیرہ آخرت ہو گی ۔(٢)یا دنیا میں قبول ہو جاے گی ۔(٣)یا مومن سے اس مصیبت کو دور کر دے گی جو اسے پہنچنے والی ہے ۔(٤٧)

مومنین ومومنات کے لئے دعا کرنے کا فائدہ
قال الامام الصادق ـ : دُعَائُ الْمُوْمِنِ لِلْمُوْمِنِ ےَدْفَعُ عَنْہُ الْبَلَائَ وَےُدِرُّ عَلَےْہِ الْرِّزْقَ۔مومن کا مومن کیلئے دعا کرنا دعا کرنے والے سے مصیبت کو دور کرتا ہے اور اس کے رزق میں اضافہ کاسبب بنتا ہے ۔(٤٨)


مطلب دوم :زیارت آیات اور روایات کی روشنی میں
جب پیغمبر اکرم ۖ اور معصومین سے منقول روایات میں غور فکر کی جائے تو پھر زیارت کی اہمیت و فضیلت بھی واضح ہو جاتی ہے اور اس بحث کی بھی ضرورت محسوس ہو تی ہے آیا انبیا ،آئمہ اور اولیا ء خدا کی مزارات کی زیارت کرنا ان کی بار گاہ میں سلام عرض کرنا اور انہیں ان کی وفات اور شہادت کے بعد بار گاہ الٰہی میں وسیلہ اور شفیع قرار دینا جائز ہے یا نہ چونکہ یہ حضرات قرآن مجید کی اس آیہ مجیدہ کے مصداق اعلیٰ و اکمل ہیں جس میں ارشاد ہوتا ہے :وَ لاَ تَحْسَبَنَ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْےَائ عَنْدَ رَبِّھِمْ ےُرْزَقُوْنَ۔جو حضرات راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے مہمان ہیں(٤٩)
پیغمبر اکرم ۖبھی فرماتے ہیں :منَ ْزَارَنِی حَےّاً وَمَےَّتاً کُنْتُ لَہ شَفِےْعاً یَومَ الْقِےَامَةِ۔جو شخص میری زندگی یا معرفت یا میری وفات کے بعد میری زیارت کرے میں بروز قیامت اسکی شفاعت کروںگا(٥٠)
امام صادق ـ فرماتے ہیں :مَنْ زَارَنَا فِیْ مَمَاتِنَا کَاَنَّمٰا زَارَنَا فِیْ حِےَاتِنَا جو شخص ہماری وفات کے بعد ہماری زیارت کرے تو گویااس نے ہماری زندگی میں ہماری زیارت کی ہے (٥١)
پیغمبر اکرم ۖ فرماتے ہیں: وَمَنْ سَلَّمَ عَلیَّ فِیْ شَیئٍ مِنْ الْاَرْضِ بَلَغَتْنِی وَمَنْ سَلَّمَ عَلیَّ عَنْدَ الْقَبْرِ سَمِعْتُہ جو شخص زمین کے کسی بھی حصے سے مجھ پر سلام بھیجتا ہے اس کا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے اور جو شخص میری قبر کے پاس آکر مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اس کا سلام بھی میں سنتا ہوں (٥٢)
مذکورہ آیت و روایات سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ ،،و آئمہ معصومین جس طرح اپنی حیات و زندگی میں خالق اور مخلوق کے درمیان رابط اور وسیلہ ہیں اس طرح اپنی شہادت اور وفات کے بعد بھی ہمارا سلام ہماری زیارت ہماری دعائیں سنتے ہیں اور بار گاہ خدا میں ہماری شفاعت فرماتے ہیں ۔
امام صادق ـ فرماتے ہیں :مَنْ لَمْ ےَقْدِرْ عَلیٰ زِےَارَتِنَا فَلیَزِرْ صَالِحِیْ مَوَالِینَا ےَکْتُبُ لَہ ثَوَّابُ زِےَارَتِنَا۔جو شخص ہماری زیارت پر قدرت و طاقت نہیں رکھتا اسے چاہیے کہ وہ ہمارے نیک و صالح موالی اور دوستوں کی زیارت کرے اس کے لئے (خدا کی طرف سے )ہماری زیارت کا ثواب لکھا جائے گا (٥٣)
قال امام علی ـفرماتے ہیں:زُوْرُوا مَوْتَاکُمْ فَاِنَّھُمْ ےَفْرَحُوْنَ بِزِےَارَتِکُمْ وَالْےَطْلُبُ الْرَجُلُ حَاجَتَہ عَنْدَ قَبْرِ اٰبِےْہِ وَاُمِّہِ بَعْدَ مَا ےَدْعُوا لَھُمَا۔ اپنے مردوں کی (قبر پر جا کر )زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہاری زیارت سے خوش ہوتے ہیں انسان کو چاہیے کہ جب اپنے ماں باپ کی قبر پر جائے تو پہلے ان کے لئے دعائے خیر کرے اس کے بعد اپنی حاجت خدا سے طلب کرے جب نیک اور صالح لوگوںکی زیارت کا اتنا ثواب ہے اور انسان اپنے ماں باپ کی قبر پر جاکر خدا سے اپنی حاجات طلب کر سکتا ہے تو پھر انبیا ء آئمہ معصومین اور اولیاء خدا کی قبور اور روضہ بارگاہ مطہر کی زیارت وسلام دعا ومناجات اور ان کو اپنی حاجات و مشکالات اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے بارگاہ خدا میں وسیلہ اور شفیع قرار دینے میں کسی مسلمان کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیئے(٥٤)
خدا فرماتا ہے :ےَا اَےُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوا اِتَّقُوا اﷲ وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ۔اے ایمان والو تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو (٥٥)
پیغمبر اور اہل بیت سے افضل اور بر تر پیش خدا کونسا وسیلہ ہے ۔
حضرت علی ـ فرماتے ہیں ہم خدا اور مخلوق کے درمیان وسیلہ ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا فرماتی ہیں ہم (اہل بیت پیغمبر )خلق و خالق کے درمیان رابط ہیں )
نہ فقط بزرگ ہستیوں کو وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ بعض مقدس و مبارک اوقات اور مقامات کو بھی وسیلہ قرار دیا گیا ہے حضرت امام سجاد ـ خدا کو ماہ مبارک رمضان کا واسطہ دیتے ہیں(٥٦)
امام حسین ـ خدا کو شب روز عرفہ کی قسم دیتے ہیں ۔
قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق : فَلَمَّا اَنْ جَائَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰہُ عَلیٰ وَجْھِہ فَارْتَدَّ بَصِےْراً ۔جب حضرت یوسف ـ کا قمیص حضرت یعقوب کی آنکھوں کے ساتھ میں ہوتا ہے تو ان کی آنکھوں کی بینائی واپس لوٹ آئی کپڑا خود کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا لیکن چونکہ حضرت یوسف جیسے نبی کے بدن سے متصل رہا ہے اس میں خدا نے یہ اثر عطا فرمایا ہے(٥٧)
امام ہادی ـجب بیمار ہوتے ہیں تو ایک شخص کو کربلا روانہ کرتے ہیں کہ جا کر قبر مطہر امام حسین ـ پر میرے لئے دعا کرو ۔
جب اس شخص نے تعجب سے سوال کیا مولا آ پ معصوم ہیں میں غیر معصوم ہوں آپ کیلئے جا کر میں دعا کروں امام نے جو اب دیا رسول اکرم ۖ خانہ کعبہ اور حجر الاسود سے افضل تھے لیکن خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے۔
خدا نے کچھ ایسے مقامات قرار دیے ہیں جہاں خدا چاہتا کہ وہاں جا کر دعا مانگی جائے اور میں دعا قبول کروں گا خانہ کعبہ اور حرم امام حسین ـ بھی انہیں مقامات مقدسہ میں سے ہیں۔
اگر ہم ضریح یا ضریح مطہر کے دروازوں کو بوسہ دیتے ہیں اور چومتے ہیں تو فقط و فقط پیغمبر یا اس معصوم کے احترام کی وجہ سے کیوں کہ اب یہ ضریح و بارگاہ اور یہ در و دیوار اسی معصوم ـ کی وجہ سے مقدس اور با برکت ہو گئے ہیں جس طرح قرآن مجید کی جلد یا کاغذ قرآن کی وجہ سے مقدس ہو گئے ہیں چو نکہ اگر یہی کاغذ اور جلد کسی اور کاپی یاکتاب پر ہوں تو مقدس نہیں ہے ۔


اولیاء خدا پر سلام و درود خدا نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں اپنے انبیاء اور اولیاء پر دروود بھیجتا ہے
(١)سَلاَم عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعَالَمِیْنَ (٢)سَلاَم عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ (٣)سَلاَم عَلٰی مُوسٰی وَھٰرُوْنَ (٤) وَسَلاَم عَلٰی الْمُرَسَلِیْنَ (٥) سَلاَم عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ ےُبْعَثُ حَےّاً۔ (١) نوح پر دونوں جہانوں میں سلام ہو(٢) ابراہیم پر سلام ہو (٣) موسیٰ وہارون پر سلام ہو(٤) رسولوں پر سلام ہو(٥) سلام ہو اس پر ولادت کے وقت، موت کے وقت اور جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا(٥٨)
ہم بھی قرآن مجید کی پیروی کرتے ہوئے رسول اکرم ۖو آئمہ کی زیارت کرتے ہیں اور ان پر سلام و درود بھیجتے ہیں ۔


معصومین اور زیارت قال رسول اللہ ۖ: مَنْ اَتَانِی زَائِراً کُنْتُ شَفِےْعَہ ےَوْمَ الْقِےَامَةِ۔رسول اللہ ۖ: فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کے لئے آئے گاقیامت کے دن میںاس کی شفاعت کروں گا (٥٩)
قال الامام موسیٰ کاظم ـ :مَنْ زَارَ اَوّلنَا فَقَدْ زَارَ آخِرَنَا وَمَنْ زَارَ آخِرَنَا فَقَدْ زَارَ اَوَّلنَا۔امام موسیٰ کاظم ـ فرماتے ہیں جس شخص نے ہمارے اول کی زیارت کی گویا اس نے ہمارے آخری کی بھی زیارت کی ہے اور جس نے ہمارے آخر کی زیارت کی گویا اس نے ہمارے پہلے کی بھی زیارت کی ہے (٦٠)
امام حسن ـ اپنے نانا رسول خدا ۖ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں جو شخص آپ کی زیارت کرے اس کو کیا ثواب ملے گا آپ نے فرمایاجو شخص میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد زیارت کرے آپ کے بابا علی کی زیارت کرے یا آپ کے بھائی حسین ـ کی زیارت کرے یا آپ کی زیارت کے لئے آئے تو مجھ پر حق بن جاتا ہے قیامت کے دن میں اس کی زیارت کروں اور (اس کی شفاعت کر کے )اس کے گناہ معاف کرادوں ۔(٦١)
قال الامام صادق ـ :مَنْ زَارَ الْحُسَےْن ـ عَارِفاً بِحَقِّہ کَتَبَ اﷲُ لَہ ثَوَّابَ اَلْفِ حِجَّةٍ مَقْبُوْلَةٍ وَاَلْفِ عُمْرَةٍ مَقْبُوْلَةٍ وَغَفَرَلَہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں جو شخص امام حسین ـ کی زیارت کرے اس حال میں کہ ان کے حق کو پہچانتا ہو تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار حج مقبول اور ایک ہزار عمرہ مقبول کا ثواب لکھ دے گا اور اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہ بھی معاف فرما دے گا (٦٢)
الامام صادق ـ :اِےْتُوا قَبْرَالْحُسَےْنِ فِیْ کُلِ سَنَّةٍ مَرَّةً۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ ہر سال ایک مرتبہ قبر مطہر امام حسین ـ زیارت پر جاؤ (٦٣)
امام صادق ـ نماز کے بعد زائرین امام حسین ـ کے لئے یوں دعا فرماتے ہیں خدایا میرے جد امجدامام حسین ـ کی قبر مطہر کی زیارت کرنے والوں کی مغفرت فرما (٦٤)
قال الامام الصادق ـ:مَنْ زَارَنِی غُفِرَتْ لَہ ذَنُوبُہ وَلَمْ ےَمُتْ فَقِےْراً۔ امام صادق ـ فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کرے اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور وہ حالت فقر میں نہیں مرے گا (٦٥)
قال الامام الرضاـ:مَنْ زَارَنِی عَلَیَّ بُعْدِ دَارِیْ أَتَیْتَہ ےَوْمَ الْقِےَامَةِ فِی ثَلاَثَ مَوَاطِنِ حَتّٰی اَخْلِصْہ مِن اَھْوَالِھٰا اِذَا تَظَاہَرَتِ الْکُتّبُ ےَمِیناً وَشِمَالاً عِنْدَ الصِّرَاطِ وَعَنْدَ الْمِےْزَانِ۔امام رضا ـ فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کے لئے آئے گا (میری قبر کے دور ہونے کے باوجود)میں قیامت کے دن تین مقامات پر اس کے پاس آؤں گا تا کہ شفاعت کروں اور اسے ان مقامات کے ہولناکیوں اور سخت حالات سے اسے نجات دلاؤں (٦٦)
(١)جب اعمال نامے دائیں بائیں پھیلا دئیے جائیں گے ۔
(٢) پل صراط پر
(٣)حساب کے وقت
قال الامام الجواد ـ :مَنْ زَارَ قَبْرَ عَمَتِی بِقُمٍّ فَلَہ الْجَنَّة۔امام جوا د ـ فرماتے ہیں جو شخص قم میں میری پھوپھی(حضرت فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے خدا اسے جنت عطا فرمائے گا (٦٧)
امام حسن عسکری ـ فرماتے ہیں جو شخص عبد العظیم (حسنی )کی زیارت کرے تو گویا اس نے حضرت امام حسین ـ کی زیارت کی ہے (اور اسے آپ کی زیارت کا ثواب ملے گا )(٦٨)
امام صادق ـ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنے والدین یا کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار کی قبر پر جاتا ہے اور اس کے لئے دعا کرتا ہے کیا اس سے قبر والے کوکو ئی فائدہ پہنچے گا ؟آپ نے جواب میں فرمایا ہاں اگر تم میں سے کسی کو ہدیہ و تحفہ دیا جائے تو جس طرح تم خوش ہوتے ہو صاحب قبر (مرنے والا)بھی تمہارے اس عمل سے اسی طرح خوش ہوتا ہے (٦٩)


قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ جات (١)سورہ غافرہ آیة ٦٠(٢)سورہ اسراء آیة ١١٠(٣،٤)کلمة اﷲ صفحہ ٤٠٩ حدیث ٤٠٥و٤٠٦ (٥) وسائل الشیعہ ابواب دعا ،باب دوم حدیث ٣(٦،٧)کافی کتاب الدعائ(٨ تا ١٩)میزان الحکمة باب دعائ(٢١)سورہ غافر آیة ١٤(٢٢)میزان الحکمة (٢٣) وسائل الشیعہ ابواب دعا باب ٥٠ حدیث ٣(٢٤تا ٢٨) میزان الحکمة حدیث ٥٦٢٠ تا ٥٦٢٥(٢٩ تا ٣١) وسائل ،ابواب دعا ،باب ٣٧ حدیث ٧،١٠،١٢(٣٢)کلمة اﷲ حدیث ٩٣(٣٣تا٣٨)میزان الحکمة حدیث ٥٦٣٠،٥٦٣٢،٥٦٣٥،٥٦٣٩،٥٦٤٧،٥٦٤٨ (٣٩) وسائل الشیعہ کتاب الصلاة ابواب تعقیب حدیث ٨ (٤٠) وسائل الشیعہ کتاب الصلاة ابواب سجود باب ٢٣ حدیث ٥(٤١) وسائل الشیعہ ابواب دعاء باب ٢٣ حدیث ٤(٤٢) میزان الحکمة حدیث ٥٦٥٨(٤٣)وسائل الشیعہ ابواب دعا باب ٣٠ حدیث ٢ (٤٤ تا ٤٨) میزان الحکمة ٥٦٩٦،٥٦٩٨،٥٧٠٠،٥٧٢٣،٥٧٣٦(٤٩) آل عمران آیة ١٦٩(٥٠ تا ٥٤) میزان الحکمة حدیث ٧٩٤٨،٧٩٥٢، ٧٩٤٨،٧٩٨٦،٧٩٨٧(٥٥) مائدہ آیة ٣٥(٥٦)صحیفہ سجادیہ دعای ٤٤(٥٧)یوسف آیة ٩٦(٥٨) صافات آیة ٧٩،١٠٩،١٢٠،١٨١(٥٩تا ٦٩) میزان الحکمة حدیث ٧٩٤٦،٧٩٥١،٧٩٤٩،٧٩٦١،٧٩٦٣،٧٩٦٦۔


مطلب سوم :مؤلف محترم کے مختصر حالات زندگی
انبیاء اور آئمہ اطہار اور ان کے بعد نیک اور با فضیلت علماء کی سیرت سے آگاہ ہونا ان تمام لوگوں کیلئے جو نمونہ عمل کی جستجو میں ہیں روحانی ارتقاء کا موجب ہے چونکہ یہ عظیم ہستیاں روحانی اعتبار سے ممتاز ہیں اور عمدہ کردار و اخلاق کی حامل ہیںمفاتیح الجنان کے مؤلف خاتم المحدثین الحاج شیخ عباس قمی ہیں جو کہ محدث قمی کے نام سے مشہور ہیں آپ ١٢٩٤ھ میں مذہبی شہر قم میں پیدا ہوئے وہ مقدس شہر کہ جو کریمہ اہل بیت فاطمہ معصومہ کا مدفن ہے اور علم و روحانیت کا مرکز ہے ۔

والد گرامی
آپ کے والد بزرگوار الحاج محمد رضا قمی ہیں جنہیں قم کے لوگ متقی پرہیزگار شخص کے طور پر پہچانتے تھے چو نکہ آپ دینی مسائل سے بھی آگاہ تھے اس لئے لوگ شرعی احکام پوچھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔

والدہ معظمہ
محدث قمی کی والدہ مکرمہ پرہیز گار خاتون تھیں ان کے متعلق خود محدث قمی نے کئی مقامات پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ میری تالیفات اور دیگر کام میری والدہ کی تربیت کی وجہ سے ہیں کہ انہوں نے اس قدر کوشش کی کہ مجھے ہمیشہ باوضو دودھ پلایا کرتی تھیں ۔

تعلیمی مراحل
محدث قمی نے اپنا بچپن اور جوانی قم جیسے مذہبی شہر میں گزار دی اور اس زمانے کے علماء سے ادبیات اور فقہ و اصول کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے ١٣١٦ھ میں نجف اشرف تشریف لے گئے اور حضرت آیت اللہ حاج سید محمد کاظم یزدی جیسے بزرگ و عظیم مجتہدین و مراجع سے کسب فیض کیا لیکن چونکہ علم حدیث ،رجال اور درایہ سے خصوصی لگاؤ تھا اس لئے علامہ نامدار حاج میرزا حسین نوری کی خدمت میں گئے چونکہ وہ اس زمانے میں علم حدیث کے علمبردار تھے آپ کا زیادہ وقت ان کی خدمت میں گزرا ۔

عمدہ صفات
محدث قمی نے اپنی جوانی کے دوران خود سازی کو اپنا سرنامہ زندگی قرار دیا فضائل اخلاقی اور عمدہ صفات کے حصول میں کوشاں رہے یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے علم اخلاق کے بزرگ معلمین میں ان کا شمار ہوتا تھا اور لوگ انہیں ایک روحانی متقی شخص کے طور پر پہچانتے تھے آپ کے درس اخلاق میں لوگ جوق در جوق شریک ہوتے تھے آپ کی ممتاز ترین صفات میں تین اوصاف انتہائی نمایاں ہیں۔
١۔دعا اور اہلبیت کے ساتھ گہرا تعلق ٢۔زہد و تقویٰ ٣۔تواضع و انکساری ۔


مدرسہ و مؤسسہ امام المنتظر (عج) قم محسن ملت حضرت علامہ سید صفدر حسین نجفی اعلیٰ اللہ مقامہ نے ١٤٠٣ہجری قمری بمطابق ١٩٨٢ عیسوی میں مدرسہ امام المنتظر(عج)کی بنیاد رکھی یہ مدرسہ آج محلہ گذرقلعہ قم میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے محسن ملت مرحوم کی خواہش تھی کہ قم کی طرح مشہد مقدس اور شام میں بھی اس مدرسہ کی شاخیں ہوں ان کے علاوہ ایک عظیم علمی ،ثقافتی اور دینی ادارہ بھی معرض وجود میں آئے تاکہ وہاں سے دینی کتب کی اشاعت ہو سکے علامہ محسن ملت کی یہ خواہش ١٤١٨ ہجری قمری بمطابق ١٩٩٧ عیسوی کو مؤسسہ ہذا کی صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچی ،یہ ادارہ اس وقت تک کئی کتب شائع کر چکا ہے مؤسسہ ہذا کے شعبہ تحقیقات میں فاضل طلباء کے توسط سے مختلف موضوعات پر مناسب اور با اعتماد منابع سے تحقیقی کام ہو رہا ہے (جیسے تفسیر وعلوم قرآن ،تاریخ وسیرت اہل بیت اور اس کے علاوہ دیگر موضوعات) بہر حال یہ سب کچھ علامہ محسن ملت کی باقیات وصالحات اور صدقہ جاریہ ہیں خدا وند متعال علامہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔آمین ۔

سید نیاز حسین نقوی
مؤسسہ اما م المنتظر (عج)
قم المقدسہ اسلامی جمہوریہ ایران



مؤسسہ امام المنتظر (عج)
کا شعبہ نشر واشاعت مختلف زبانوں میں اب تک کئی کتب شائع کر چکا ہے ۔
قرآن (١)
چراغ ہدایت
تفسیر وجیر (١)
عدالت اجتماعی(معاشرتی انصاف)
مفاتیح الجنان (١) مرحوم شیخ عباس قمی
آئینہ حقیقت
مکاسب (٣) جلد شیخ مرتضیٰ انصاری
پیام امام زمانہ(عج)
فارسی
رہبر بشریت کا اعلان
قرآن ترجمہ فارسی
زیر طبع کتب اردو
مفاتیح الجنان ترجمہ فارسی
اہل بیت قرآن وسنت کی روشنی میں
نہج البلاغہ ترجمہ فارسی
علم وحکمت قرآن وسنت کی روشنی میں
حقیقت مکتوم ترجمہ فارسی
عقل قرآن وسنت کی روشنی میں
در مکتب حسین شیعہ شدم ترجمہ فارسی
محبت قرآن وسنت کی روشنی میں
راز خلقت انسان در قرآن
خطبہ غدیر(انگلش )
عدالت اجتماعی (بخش اقتصاد)
فصول شرح کفایة الاصول







۱
( سور قرآنی ) مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) فضائل سورہ یٰس مفاتیح النجاح میںسورہ یاسین کے فضائل کے ضمن میں حضرت رسول اکرم (ص)سے منقول ہے کہ جو شخص خدا کی خوشنودی کیلئے سورہ یٰس پڑھے تو خدا اسکے گناہ معاف کردیگا اور اسے بارہ مرتبہ قرآن کو ختم کرنے ثواب عطافرمائیگا ۔نیزجب یہ سورہ کسی مریض کے پاس تلاوت کیا جائے تو اسکے سامنے ہر حرف کے بدلے میں دس فرشتے صف بستہ ہوکرنازل ہوتے ہیں جو اس کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسکی روح قبض ہونے تک حاضر رہتے ہیں اسکے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں اس پر نماز پڑھتے ہیں اور اسکے دفن میں شریک ہوتے ہیں اگر کوئی مریض وقت نزع خود یا کوئی دوسرا شخص اس کے پاس سورہ یٰس کی تلاوت کرے تورضوان جنت بہشت کے پانی کا ایک کا سہ لا کر اسے دیتا ہے جسے وہ پیتا ہے اور سیراب ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور اپنی قبرسے سیراب ہی اٹھے گااورنبیوںکے کسی حوض کامحتاج نہ ہو گاحتی کہ وہ سیراب ہو کر جنت میں داخل ہو گا۔نیزمنقول ہے کہ سورہ یٰس اپنے پڑھنے والے کو دنیا اور آخرت کی بھلائی عنایت کرے گا، قیامت کی ہولناکی اور دنیا کی بلائوں سے بچائے گا نیز ہر شر کو اس سے دور کرے گا اور اسکی ہر حاجت برلائے گا۔ سو رہ یٰس پڑھنے والے کے لیے بیس حج کا ثواب ہے اور اسے سننے والے کے لیے ہزار نور، ہزار رحمتیں اور ہزار برکتیں ہوں گی اور یہ سورہ اس کو ہر مصیبت سے نجات دلائے گا۔حضور (ص) سے مروی ہے کہ جو شخص قبرستان میں سورہ یٰس کی تلاوت کرے تو خدا وہاں مدفون لوگوںکے عذاب میں کمی کرے گا اور اسکو مرد وں کی تعداد کے برابر نیکیاں عطا فرمائیگا۔امام جعفرصادق (ع)سے منقول ہے کہ جو شخص دن میں سورہ یٰس پڑھے وہ رات تک محفوظ رہے گا اور روزی سے نوازا جائے گااور جو شخص رات کوسو نے سے پہلے یہ سورہ پڑھے تو خدا اس کو ہر آفت اور شیطان کے ہر شر سے بچانے کیلئے اس پر ہزار فرشتے مقرر کرے گا اور اگروہ اسی روز مر جائے تو خدا اس کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے﴿ شروع کرتا ہوں﴾جو بڑا مہربا ن نہایت رحم والا ہے
یٰسٓ﴿١﴾ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ ﴿٢﴾ إنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِینَ ﴿٣﴾ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ﴿٤﴾
یاسین۔پُرحکمت قرآن کی قسم۔﴿اے رسول﴾بے شک آپ ضرور پیغمبروں میں سے ہیں۔ سیدھے راستے پر ﴿قائم﴾ ہیں
تَنْزِیلَ الْعَزِیزِالرَّحِیمِ ﴿٥﴾ لِتُنْذِرَ قَوْماً مَا ٲُنْذِرَ آباؤُھُمْ فَھُمْ غَافِلُونَ ﴿٦﴾
یہ ﴿قرآن﴾ بڑے مہربان غالب خدا کانازل کردہ ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرائو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے پس وہ بے خبر ہیں
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَی ٲَکْثَرِھِمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ ﴿٧﴾ إنَّاجَعَلْنَا فِی ٲَعْناقِھِمْ ٲَغْلاَلاً فَھِیَ إلَی
ہیںیقینًا ان میں اکثر پر حق واضح ہو چکا لیکن وہ ایمان نہ لائیں گے بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو انکی
الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُقْمَحُونَ ﴿٨﴾وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ ٲَیْدِیھِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِھِمْ سَدّاً فَٲَغْشَیْنَاھُمْ
ٹھوڑیوں تک ہیں اور انہوں نے منہ اٹھا رکھے ہیں ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دیوار کھڑی کر کے انہیں ڈھانپ دیا
فَھُمْ لاَیُبْصِرُونَ ﴿٩﴾ وَسَوَائٌ عَلَیْھِمْ ٲَ ٲَ نْذَرْتَھُمْ ٲَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ﴿١٠﴾ إنَّمَا
لہذا وہ کچھ نہیں دیکھتے اور ان کیلئے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیںلائیں گے بس آپ اسی
تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَٲَجْرٍ کَرِیمٍ ﴿١١﴾ إنَّا
کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت مانے اوران دیکھے خدا سے ڈرے آپ اسے بخشش اورباعزت اجر کی نوید دے دیں یقینا ہم ہی مردوں
نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَھُمْ وَکُلَّ شَیْئٍ ٲَحْصَیْنَاہُ فِی إمَامٍ مُبِینٍ ﴿١٢﴾
کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ پہلے لوگ کر چکے اور ہم انکے آثار کو لکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح پیشوا کے تابع کر دیا ہے
وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلاً ٲَصْحَابَ الْقَرْیَۃِ إذْ جَائَھَا الْمُرْسَلُونَ ﴿١٣﴾ إذ ٲَرْسَلْنا إلَیْھِمُ اثْنَیْنِ
اور ان کیلئے﴿ بستی انطاکیہ﴾ والوں کی مثال بیان کریں جب انکے پاس رسول آئے جب ہم نے انکی طر ف دو رسول بھیجے تو انھوں انکو
فَکَذَّبُوھُما فَعَزَّزْنا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إنَّا إلَیْکُمْ مُرْسَلُونَ ﴿١٤﴾ قَالُوا مَا ٲَ نْتُمْ إلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنا
جھٹلایا تب ہم نے انکو تیسرے﴿رسول﴾ سے قوت دی تو انہوں نے کہا ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ان لوگوں نے کہا تم بھی ہمارے جیسے آدمی ہی ہو
وَمَا ٲَ نْزَلَ الرَّحْمنُ مِنْ شَیْئٍ إنْ ٲَ نْتُمْ إلاَّ تَکْذِبُونَ ﴿١٥﴾قَالُوا رَبُّنَا یَعْلَمُ إنَّا إلَیْکُمْ
اور رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم واضح جھوٹ بول رہے ہو انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف
لَمُرْسَلُونَ ﴿١٦﴾ وَمَا عَلَیْنَا إلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ﴿١٧﴾ قَالُوا إنَّا تَطَیَّرْنا بِکُمْ لَئِنْ لَمْ
بھیجے گئے ہیںاور ہمارا کام تو بس پیغام پہنچا دینا ہے وہ بولے ہم نے تمہیں بد شگون پایا اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں
تَنْتَھُوا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِنَّا عَذَابٌ ٲَلِیمٌ ﴿١٨﴾ قَالُوا طَائِرُکُمْ مَعَکُمْ ٲَ إنْ ذُکِّرْتُمْ
ضرور سنگسار کریں گے اور ہمارے ہاتھوں تمہیں درد ناک عذاب پہنچے گا وہ بولے تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے کیا تم نصیحت کو برا سمجھتے ہو
بَلْ ٲَ نْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ ﴿١٩﴾ وَجَائَ مِنْ ٲَقْصَی الْمَدِینَۃِ رَجُلٌ یَسْعَی قَالَ یَا قَوْمِ اتَّبِعُوا
بلکہ تم حد سے بڑھنے والے ہو اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے لوگو ان رسولوں کی
الْمُرْسَلِینَ ﴿٢٠﴾ اتَّبِعُوا مَنْ لاَ یَسْٲَ لُکُمْ ٲَجْراً وَھُمْ مُھْتَدُونَ ﴿٢١﴾ وَمَا لِیَ لاَ ٲَعْبُدُ
پیروی کرو ۔ہاں ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اوریہ تو ہدایت یافتہ ہیں مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی
الَّذِی فَطَرَنِی وَ إلَیْہِ تُرْجَعُونَ ﴿٢٢﴾ٲَ ٲَتَّخِذُ مِنْ دُونِہِ آلِھَۃً إنْ یُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لاَ
عبادت نہ کروں اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔کیا میں اس کے سوا دوسرے معبود بنا لوں؟ اگر خدا مجھے کوئی تکلیف دے تو نہ
تُغْنِ عَنِّی شَفاعَتُھُمْ شَیْئاً وَلاَ یُنْقِذُونِ ﴿٢٣﴾ إنِّی إذاً لَفِی ضَلالٍ مُبِینٍ ﴿٢٤﴾ إنِّی
انکی شفاعت کام آئے نہ وہ مجھے چھڑا سکیں تب یقینا میں کھلی گمراہی میں ہوں گا میری مانو
آمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُونِ ﴿٢٥﴾ قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ قَالَ یَا لَیْتَ قَوْمِی یَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾
کہ میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں ﴿قوم نے اسے مار ڈالا تو﴾ کہا گیا جنت میں داخل ہو جا اس نے کہا کاش میری قوم جان لیتی
بِما غَفَرَ لِی رَبِّی وَجَعَلَنِی مِنَ الْمُکْرَمِینَ ﴿٢٧﴾ وَمَا ٲَنْزَلْنَا عَلَی قَوْمِہِ مِنْ بَعْدِہِ مِنْ جُنْدٍ
کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں شامل کردیا ہے اس شہید کے بعد ہم نے اسکی قوم پر آسمان سے لشکر نہ اتارا
مِنَ السَّمَائِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِینَ ﴿٢٨﴾ إنْ کَانَتْ إلاَّ صَیْحَۃً وَاحِدَۃً فَ إذَا ھُمْ خَامِدُونَ ﴿٢٩﴾
نہ ہم اتارنے والے تھے وہ تو ایک چنگھاڑ ہی تھی جس سے وہ بجھ کر رہ گئے
یَا حَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَٲْتِیھِمْ مِنْ رَسُولٍ إلاَّ کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِؤُنَ ﴿٣٠﴾ٲَلَمْ یَرَوْا کَمْ ٲَھْلَکْنَا
لوگوں کے حال پر افسو س ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آیا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے ۔کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم
قَبْلَھُمْ مِنَ الْقُرُونِ ٲَ نَّھُمْ إلَیْھِمْ لاَ یَرْجِعُونَ ﴿٣١﴾ وَ إنْ کُلٌّ لَمَّا جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ ﴿٣٢﴾
نے ان سے پہلے کئی قومیں ہلاک کر دیں جو ان کی طرف لوٹنے والی نہیں۔البتہ وہ اکھٹے ہمارے سامنے حاضر ہوں گے
وَ آیَۃٌ لَھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ ٲَحْیَیْنَاھَا وَٲَخْرَجْنَا مِنْھَا حَبّاً فَمِنْہُ یَٲْکُلُونَ ﴿٣٣﴾ وَجَعَلْنَا فِیھَا
اور مردہ زمین بھی ان کیلئے ایک نشانی ہے جسے ہم نے زندہ کیا ہم نے اس سے غلہ نکالا اور وہ اسے کھاتے ہیں اور ہم نے اس
جَنَّاتٍ مِنْ نَخِیلٍ وَٲَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِیھَا مِنَ الْعُیُونِ ﴿٣٤﴾ لِیَٲْکُلُوا مِنْ ثَمَرِہِ وَمَا عَمِلَتْہُ
میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے اور ہم نے اس میں کچھ چشمے جاری کیے تاکہ وہ زمین کے ان پھلو ں کو کھا ئیں جسے ان
ٲَیْدِیھِمْ ٲَفَلاَ یَشْکُرُونَ ﴿٣٥﴾ سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ
کے ہاتھوں نے نہیں اگایا۔کیا وہ شکر نہیں کرتے؟ پاک ہے وہ ذات جس نے زمین سے اگنے والی سب چیزوں کے جو ڑے پیدا کیے اور
وَمِنْ ٲَ نْفُسِھِمْ وَمِمَّا لاَ یَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾ وَ آیَۃٌ لَھُمُ اللَّیْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَ إذا ھُمْ
انکی جانوں سے بھی اور ان چیزوں سے جنکو وہ نہیں جانتے اور رات بھی ان کیلئے ایک نشانی ہے کہ ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں تو
مُظْلِمُونَ﴿٣٧﴾ وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَھَا ذلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ﴿٣٨﴾
وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ اور سورج اپنے مدار پر چلتا رہتاہے اور یہ بڑے علم اور غلبے والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ ﴿٣٩﴾ لاَ الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَھَا ٲَنْ
اور ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقررکی ہیں کہ آخر میں کھجور کی سوکھی ٹہنی کا سا ہو جاتا ہے نہ سو رج کے بس میں ہے کہ چاند
تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ اللَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ ﴿٤٠﴾ وَ آیَۃٌ لَھُمْ ٲَنَّا
کو لے جائے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں چکر لگارہے ہیں اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے
حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ﴿٤١﴾ وَخَلَقْنا لَھُمْ مِنْ مِثْلِہِ مَا
کہ ہم نے بھری کشتی میں ان کی اولاد کو اٹھایا اور ہم نے ان کیلئے کشتی کی مانند ہی چیزیں بنائیں جن پر
یَرْکَبُونَ﴿٤٢﴾وَ إنْ نَشَٲْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُونَ﴿٤٣﴾ إلاَّ رَحْمَۃً مِنَّا
و ہ سوار ہوتے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ کوئی انکا فریاد رس ہو گا نہ وہ بچ سکیں گے مگر یہ کہ ہم ان پر رحمت کریں اور ایک
وَمَتَاعاً إلَی حِینٍ ﴿٤٤﴾ وَ إذا قِیلَ لَھُمُ اتَّقُوا مَا بَیْنَ ٲَیْدِیکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ
وقت تک فائدہ پہنچائیں اور جب ان سے کہا جائے کہ اس عذاب سے ڈروجو تمہارے سامنے اور تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر
تُرْحَمُونَ ﴿٤٥﴾ وَمَا تَٲْتِیھِمْ مِنْ آیَۃٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّھِمْ إلاَّ کَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ ﴿٤٦﴾
رحم کیا جائے تو وہ توجہ نہیں کرتے اور انکے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی انکے پاس آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
وَ إذَا قِیلَ لَھُمْ ٲَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ اﷲُ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا ٲَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ یَشَائُ
اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے خرچ کرو تو کافرمؤمنین سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ
اﷲُ ٲَطْعَمَہُ إنْ ٲَ نْتُمْ إلاَّ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ ﴿٤٧﴾ وَیَقُولُونَ مَتَی ھذَا الْوَعْدُ إنْ کُنْتُمْ
چاہتا تو کھلا دیتا۔تم توکھلی گمراہی میں ہو۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟
صَادِقِینَ ﴿٤٨﴾ مَا یَنْظُرُونَ إلاَّ صَیْحَۃً وَاحِدَۃً تَٲْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُونَ ﴿٥٩﴾ فَلاَ
یہ ایک سخت آواز کا ہی تو انتظار کر رہے ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور وہ جھگڑ رہے ہوں گے پس نہ وہ
یَسْتَطِیعُونَ تَوْصِیَۃً وَلاَ إلَی ٲَھْلِھِمْ یَرْجِعُونَ ﴿٥٠﴾ وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَ إذَا ھُمْ مِنَ
وصیت کر سکیں گے نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے اور﴿جب﴾ صور پھونک دیا جائے گا تو وہ اپنی قبروں
الْاَجْدَاثِ إلَی رَبِّھِمْ یَنْسِلُونَ ﴿٥١﴾قَالُوا یَا وَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا ھذَا مَا وَعَد
سے ﴿نکل کر ﴾اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے اورکہیں گے ہائے ہماری تباہی ہو گئی ہمیں کس نے ہماری خوابگاہ سے اٹھا دیا؟ یہ ہے جس
الرَّحْمنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ﴿٥٢﴾ إنْ کَانَتْ إلاَّ صَیْحَۃً وَاحِدَۃً فَ إذَا ھُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا
کا وعدہ رحمن نے کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا کہ وہ ایک سخت آواز ہوگی اور اسی وقت وہ سب ہمارے ہاں حاضر
مُحْضَرُونَ ﴿٥٣﴾ فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئاً وَلاَ تُجْزَوْنَ إلاَّ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٥٤﴾
کیے جائیں گے۔پس آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گااور جو تم کرتے رہے صرف اسی کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا
إنَّ ٲَصْحَابَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِی شُغُلٍ فَاکِھُونَ ﴿٥٥﴾ ھُمْ وَٲَزْواجُھُمْ فِی ظِلاَلٍ عَلَی
بے شک آج کے دن اہل جنت دل بہلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اور انکی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں
الْاَرَائِکِ مُتَّکئُونَ ﴿٥٦﴾ لَھُمْ فِیھَا فَاکِھَۃٌ وَلَھُمْ مَا یَدَّعُونَ ﴿٥٧﴾ سَلامٌ قَوْلاً مِنْ
پر تکیے لگائے ہوئے ہیں۔ جنت میں ان کے لیے میوے ہیں اور جو کچھ بھی وہ طلب کریں ﴿ان پر﴾ مہربان خداکی
رَبٍّ رَحِیمٍ ﴿٥٨﴾ وَامْتَازُوا الْیَوْمَ ٲَیُّھَا الْمُجْرِمُونَ ﴿٥٩﴾ ٲَ لَمْ ٲَعْھَدْ إلَیْکُمْ یَا بَنِی آدَمَ
طرف سے سلام آئے گا ﴿حکم ہو گا﴾ گنہگارو آج تم الگ ہو جائو۔ اے اولاد آدم کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھاکہ شیطان
ٲَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ إنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ ﴿٦٠﴾ وَٲَنِ اعْبُدُونِی ھذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ ﴿٦١﴾
کی عبادت نہ کرنا کیونکہ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا کیونکہ یہی سیدھا راستہ ہے
وَلَقَدْ ٲَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلاًّ کَثِیراً ٲَفَلَمْ تَکُونُوا تَعْقِلُونَ ﴿٦٢﴾ ھذِھِ جَھَنَّمُ الَّتِی کُنْتُمْ
اور اس﴿شیطان﴾ نے تم میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا۔کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟یہ وہی جہنم ہے جس کا تم
تُوعَدُونَ ﴿٦٣﴾ اصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ ﴿٦٤﴾ الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی ٲَفْواھِھِمْ
سے وعدہ کیا تھا آج اس میں داخل ہو جائو کیونکہ تم کفر کرتے تھے۔آج ہم ان کے ہونٹوں پر مہر لگادیں گے
وَتُکَلِّمُنَا ٲَیْدِیھِمْ وَتَشْھَدُ ٲَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ﴿٦٥﴾ وَلَوْ نَشَائُ لَطَمَسْنَا عَلَی
تو ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور انکے پائوں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے اور اگر ہم چاہتے تو ان کی
ٲَعْیُنِھِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَٲَ نَّی یُبْصِرُونَ ﴿٦٦﴾ وَلَوْ نَشَائُ لَمَسَخْنَاھُمْ عَلَی مَکَانَتِھِمْ
آنکھیں اندھی کر دیتے پھر وہ راستے کی طرف دوڑتے تو کہاں دیکھ پاتے؟ اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں میں ہی انکی صورتیں بدل دیتے
فَمَا اسْتَطَاعُوا مُضِیّاً وَلاَ یَرْجِعُونَ ﴿٦٧﴾ وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ ٲَفَلاَیَعْقِلُونَ ﴿٦٨﴾
پھرنہ وہ آگے جاسکتے نہ پیچھے مڑسکتے اور جسے ہم لمبی عمر دیتے ہیں ،اسے کمزور خلقت میں پھیر دیتے ہیں۔کیا یہ سمجھتے نہیں؟
وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ إنْ ھُوَ إلاَّ ذِکْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِینٌ ﴿٦٩﴾ لِیُنْذِرَ
اور ہم نے اپنے نبی کو شعر کہنا نہیں سکھایا اورنہ یہ انکے شایان شان ہے یہ کتاب تو نصیحت اور روشن قرآن ہے تاکہ وہ اسے ڈرائیں
مَنْ کَانَ حَیّاً وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکَافِرِینَ ﴿٧٠﴾ ٲَوَ لَمْ یَرَوْا ٲَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِمَّا عَمِلَتْ
جو زندہ ہو اور کافروں پر حجت قائم ہو جائے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دست قدرت سے بنائی ہوئی مخلوق میں سے
ٲَیْدِینَا ٲَنْعَاماً فَھُمْ لَھَا مَالِکُونَ ﴿٧١﴾ وَذَ لَّلْنَاھَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوبُھُمْ وَمِنْھَا یَٲْکُلُونَ ﴿٧٢﴾
ان کیلئے مویشی بنائے جنکے وہ مالک ہیں اور ہم نے چوپائوں کوانکے تا بع کر دیا تو ان میں سے بعض انکی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں
وَلَھُمْ فِیھَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ٲَفَلاَ یَشْکُرُونَ ﴿٧٣﴾ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ آلِھَۃً لَعَلَّھُمْ
اور ان کیلئے ان میں فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟اور انہوں نے خدا کے علاوہ معبود بنا لیے شاید کہ ان
یُنْصَرُونَ ﴿٧٤﴾ لاَ یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَھُمْ وَھُمْ لَھُمْ جُنْدٌ مُحْضَرُونَ ﴿٧٥﴾ فَلاَ
سے مدد پائیں وہ انکی مدد نہیں کر سکتے اور یہ کافر انکے لشکر ہیںجو حاضر کیے جائیں گے پس انکی باتیں تمہیں
یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ إنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ ﴿٧٦﴾ ٲَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسانُ ٲَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ
غمزدہ نہ کریںبے شک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں ۔کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے
نُطْفَۃٍ فَ إذَا ھُوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ ﴿٧٧﴾ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَہُ قَالَ مَنْ یُحْیِی الْعِظَامَ
نطفے سے پیدا کیاپھر اچانک وہ ہمارا ہی کھلا مقابل بن گیا ہے اور ہمارے لیے مثال بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کون ہڈیوں
وَھِیَ رَمِیمٌ ﴿٧٨﴾ قُلْ یُحْیِیھَا الَّذِی ٲَ نْشَٲَھَا ٲَوَّلَ مَرَّۃٍ وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ﴿٧٩﴾
کو زندہ کرے گا جبکہ وہ گل سڑگئیں ہونگیں کہہ دو انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر پیدائش کو جاننے والا ہے
الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَاراً فَ إذَا ٲَ نْتُمْ مِنْہُ تُوقِدُونَ ﴿٨٠﴾ ٲَوَ لَیْسَ الَّذِی
جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی کہ تم فورا ہی اس سے آگ روشن کرتے ہو کیا وہ جس نے
خَلَقَ السَّموَاتِ وَالْاَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَی ٲَنْ یَخْلُقَ مِثْلَھُمْ بَلَی وَھُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ ﴿٨١﴾
آسمانوںاور زمین کو پیدا کیا وہ ان جیسے اور لوگوں کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ ہاں وہ بہت کچھ پیدا کرنے والا ہے
إنَّمَا ٲَمْرُہُ إذَا ٲَرَادَ شَیْئاً ٲَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ﴿٨٢﴾ فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِہِ مَلَکُوتُ
یہی تو اس کا حکم ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرے اور کہے ہو جا ،تو وہ ہو جاتی ہے پس پاک ہے وہ ذات جس کے دست قدرت
کُلِّ شَیْئٍ وَ إلَیْہِ تُرْجَعُونَ ﴿٨٣﴾
میں ہر چیز کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جائو گے ۔
فضائل سورئہ رحمن حضرت امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ سورہ رحمن کی تلاوت کبھی ترک نہ کرو، کیو نکہ یہ سورہ منافقوںکے دل میں نہیں ٹھہرتا،یہ سورہ قیامت کے دن ایک خوبصورت شخص کی شکل میں عمدہ ترین خوشبو کیساتھ بارگا ہ الہی میں ایسی جگہ پر آکر کھڑا ہو گا کہ خدا کے نزدیک اس سے زیادہ اور کوئی نہ ہوگااورخدا تعالیٰ اس سورہ سے فرمائے گا کہ کو ن تجھے اپنی دنیا وی زندگی میں ہمیشہ پڑھاکرتا تھا۔تو یہ عرض کرے گا کہ فلاں فلاں شخص میری تلاوت کرتا تھاتو اسی لمحے میں پڑہنے والوں کے چہرے روشن ہو جائیں گے۔خدا ان سے فرمائے گا کہ تم لوگ جس کی چاہو شفاعت کرو۔ اوروہ اتنی شفاعت کرینگے کہ کوئی بھی ایسا شخص باقی نہ رہیگا کہ جسکی شفاعت کا ارادہ رکھتے ہوں اور اسکی شفاعت نہ کر سکیںپھر خدا ان سب کو فرمائے گا کہ تم جنت میں داخل ہو جائو اور جہاں چاہواس میں رہو۔حضرت امام جعفر صادق - کا فرمان ہے کہ جوشخص سورہ رحمن پڑہے اور جب فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ پرپہنچے توکہے: لَابِشَئٍمِنْ اَلاَئِکَ رَبِّ اُکَذِّبُ.﴿اے پروردگارمیں تیری نعمتوں میں سے کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتا﴾اگر کو ئی شخص رات کو یہ سورہ پڑھے اور اسی رات مرجائے تو وہ شہید قرار پائے گا اسی طرح اگر دن میں پڑھے اور مرجائے توبھی شہیدکی موت مرے گا ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الرَّحْمٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ﴿٤﴾ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
بڑا مہربان ﴿خدا ہے﴾ اسی نے قرآن سکھایا ﴿اور﴾انسان کو پیدا کیا﴿اور﴾اسے بات کرنا سکھایا سورج اور چاند
بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾ وَالنَّجْمُ والشَّجَرُ یَسْجُدَانِ ﴿٦﴾ وَالسَّمَائَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ ﴿٧﴾
حساب سے چلتے ہیں زمین پر پھیلنے والی بیلیں اور درخت اسے سجدہ کرتے ہیں خدا نے آسمان کو اونچا بنایا اور ترازو کو قائم کیا
ٲَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَانِ ﴿٨﴾ وَٲَقِیمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُواالْمِیزانَ ﴿٩﴾
کہ تم تولنے میںبے انصافی نہ کرو اور انصاف سے وزن کو درست رکھو اور تولنے میں کمی نہ کرو
وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلاََْنَامِ ﴿١٠﴾ فِیھَا فَاکِھَۃٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ﴿١١﴾ وَالْحَبُّ ذُو
اور اسی نے مخلوق کیلئے زمین بنائی کہ جس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جنکے خوشے غلافوں میں ہیں اوربھوسے دار غلہ
الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ﴿١٢﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿١٣ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ
اور خوشبودار پھول پیدا کئے۔ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اس نے انسان کو ٹھیکری کی
صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ﴿١٤﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ ﴿١٥﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے بنایا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿١٦﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ﴿١٧﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
کو نہ مانو گے وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ﴿١٨﴾مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ ﴿١٩﴾ بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ لاَ یَبْغِیَانِ ﴿٢٠﴾ فَبِٲَیِّ
کو نہ مانو گے اس نے دو سمندر جاری کیے ﴿جو﴾ملے ہوئے ہیں انکے درمیان آڑ سی ہے وہ تجاوز نہیں کر سکتے تو اے جنّ و انس تم
آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٢١﴾ یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٢٢﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے ان سمندروں سے موتی اور گھونگے نکلتے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾ وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ﴿٢٤﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
کو نہ مانو گے اور سمندر میں چلنے والی پہاڑ جیسی اونچی کشتیاں بھی اسی کی ہیںتو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾ کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ ﴿٢٦﴾ وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ ﴿٢٧﴾
کو نہ مانو گے۔زمین پر موجودہر چیزکو فنا ہے صرف تمہارے رب کی ذات باقی رہے گی جو عزت وکرامت والی ہے
فَبِٲَیِّ آلاَئِرَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٢٨﴾ یَسْٲَلُہُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالْاَرْضِ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے ۔آسمانوں اور زمینوں میں موجودہر کوئی اسی سے مانگتا ہے وہ ہر آن نئی شان
شَٲْنٍ ﴿٢٩﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٣٠﴾سَنَفْرُغُ لَکُمْ ٲَیُّھَا الثَّقَلاَنِ﴿٣١﴾
میں ہے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اے دونوں گروہو۔ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ إنِ اسْتَطَعْتُمْ ٲَنْ تَنْفُذُوا مِنْ
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوںکو نہ مانو گے اے گروہ جن و انس اگر آسمانوں اور زمین کے کناروں
ٲَقْطَارِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوا لاَ تَنْفُذُونَ إلاَّ بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
سے نکل سکتے ہو تو نکل جائو تم کہیں نہ جا سکو گے مگر یہ کہ وہاں بھی اسی کی سلطنت ہو گی تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلاَ تَنْتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ
کو نہ مانو گے تم دونوں پر ﴿قیامت میں﴾آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا تو تم اسے نہ ہٹا سکو گے تو اے جنّ و انس تم اپنے
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾ فَ إذَا انْشَقَّتِ السَّمَائُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّھَانِ ﴿٣٧﴾ فَبِٲَیِّ
رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا تو اے جنّ و انس تم
آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٣٨﴾ فَیَوْمَیِذٍ لاَ یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہِ إنْسٌ وَلاَ جَانٌّ ﴿٣٩﴾ فَبِٲَیِّ
اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے پس اس دن کسی کے گناہ کے بارے میں کسی جن اور انسان سے نہیں پوچھا جائیگا تو اے جنّ و انس
آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٤٠﴾ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیْمَاھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالْاَقْدَامِ ﴿٤١﴾
تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے ﴿اس دن﴾مجرم اپنی صورتوں سے پہچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی اور پائوں سے پکڑا جائیگا
فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٤٢﴾ ھذِہِ جَھَنَّمُ الَّتِی یُکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُونَ ﴿٤٣﴾
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے یہ ہے وہ جہنم جسکا مجرم ﴿لوگ﴾ انکار کیا کرتے تھے وہ آگ اور کھولتے
یَطُوفُونَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیمٍ آنٍ ﴿٤٤﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٤٥﴾ وَلِمَنْ خَافَ
پانی میں چکر لگاتے پھریںگے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اور جو اپنے رب کے سامنے پیشی سے
مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾ ذَوَاتَا ٲَفْنَانٍ ﴿٤٨﴾
ڈرے اس کیلئے دو باغ ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے دونوں باغ ہرے بھرے اور لدے ہوئے ہیں
فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾ فِیھِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِ ﴿٥٠﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان باغوں میں دو چشمے جاری ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿٥١﴾ فِیھِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجَانِ ﴿٥٢﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٥٣﴾
کو نہ مانو گے ان باغوں میں ہر پھل کی دو دو قسمیں ہیںتو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے
مُتَّکِئِینَ عَلَی فُرُشٍ بَطَایِنُھَا مِنْ إسْتَبْرَقٍ وَجَنَی الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ ﴿٥٤﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ
وہ ایسے بستروں پر تکیئے لگائے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہونگے اور ان باغوں کے پھل قریب تر ہونگے تو اے جنّ و
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٥٥﴾ فِیھِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ إنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَانٌّ ﴿٥٦﴾
انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان باغوں میں نیچی نظروں والی بیویاں ہیں جن کو ان سے پہلے کسی جنّ اور انسان نے چھوا تک نہیں
فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾ کَٲِ نَّھُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٥٨﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ
تو اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے گویا وہ یاقوت اور مونگے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾ ھَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ إلاَّ الْاِحْسَانُ ﴿٦٠﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا
نعمتوں کو نہ مانو گے نیکی کا بدلہ نیکی کے سوائ کچھ اور نہیں ہوتا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿٦١﴾ وَمِنْ دُونِھِمَا جَنَّتَانِ ﴿٦٢﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٦٣﴾
کو نہ مانو گے اور ان دونوں کے سوا اور بھی باغ ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے
مُدْھَامَّتَانِ ﴿٦٤﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٦٥﴾ فِیھِمَا عَیْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿٦٦﴾
وہ دونوں باغ ہرے بھرے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں
فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٦٧﴾ فِیھِمَا فَاکِھَۃٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿٦٨﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں کھجوریں انار اور دوسرے درخت ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٦٩﴾ فِیھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿٧٠﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٧١﴾
رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں خوبصورت نیک سیرت بیویاں ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے
حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ ﴿٧٢﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٧٣﴾ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ
وہ حوریں ہیں جو خیموں میں ٹھہرائی ہوئی ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان جنتیوں سے پہلے ان
إنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَانٌّ ﴿٧٤﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾ مُتَّکِئِینَ عَلَی رَفْرَفٍ
حوروں کو کسی جن وبشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے وہ سبز قالینوں اور نفیس بستروں
خُضْرٍ وَعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾ فَبِٲَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿٧٧﴾ تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ
پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے تمہارے رب کا نام بڑا بابرکت ہے
ذِی الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ ﴿٧٨﴾
جو عظمت وبزرگی کا مالک ہے۔


فضائل سورئہ واقعہ روایت ہوئی ہے کہ عبداللہ ابن مسعودجس بیماری میں فوت ہوئے تھے اسی بیماری میںعثمان بن عفان انکی عیادت کیلئے آئے تھے انہوں نے ابن مسعود سے پوچھاتھا کہ آپ کو کس سے شکایت ہے؟جواب دیا اپنے گناہوں سے پوچھا کس چیز کی خواہش ہے ۔کہا پالنے والے کی رحمت کی۔پھر کہا کیا آپ کیلئے طبیب بلائوں ؟ کہنے لگے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے مزید کہا کہ آپ کو مال دئیے جا نے کا حکم صادر کروں؟ کہا کہ جب میں محتاج تھا تو نہیں دیا اور اب مجھے اسکی حاجت نہیں تو دیتے ہو کہا جو آپ کو میں دے رہا ہوں وہ آپ کی لڑکیوں کیلئے ہوگا ابن مسعو دکہنے لگے کہ انہیں اس مال کی حاجت نہیں ہے کیونکہ میں نے انہیں سورہ واقعہ کے پڑھنے کا حکم دیا ہے میں نے رسول اکرم öسے سنا ہے کہ جو شخص ہر شب سو رئہ واقعہ کی تلاوت کرے تو اسکو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو گی۔ امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جو شخص ہر رات سو نے سے پہلے سور ہ واقعہ پڑھے تو وہ خدا وند عالم کے حضور اس طرح آئیگا کہ اسکا چہرہ تابناک ہو گا نیز امام جعفر صادق (ع) سے منقو ل ہے کہ جو شخص بہشت اور اس کی نعمتوں کااشتیاق رکھتا ہو وہ ہررات سورئہ واقعہ پڑھے :
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہو﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ﴿١﴾ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَۃٌ ﴿٢﴾ خَافِضَۃٌ رَافِعَۃٌ ﴿٣﴾ إذَا رُجَّتِ
جب قیامت واقع ہو جا ئے گی۔اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔وہ کسی کو پست کسی کو بلندکرے گی۔جب زمین بڑے
الْاَرْضُ رَجّاً ﴿٤﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسّاً ﴿٥﴾ فَکَانَتْ ھَبَائً مُنْبَثّاً ﴿٦﴾ وَکُنْتُمْ ٲَزْوَاجاً
زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ چکنا چور ہو جائیں گے پھر ذرے بن کر اڑنے لگیں گے اور تم لوگ تین
ثَلاَثَۃً ﴿٧﴾ فَٲَصْحَابُ الْمَیْمَنَۃِ مَا ٲَصْحَابُ الْمَیْمَنَۃِ ﴿٨﴾ وَٲَصْحَابُ الْمَشْٲِمَۃِ مَا
قسم کے ہوگے پس داہنے ہاتھ ﴿میں اعمال نامہ لینے ﴾ والے۔کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے اور بائیں طرف والے۔کیا ہی
ٲَصْحَابُ الْمَشْٲَمَۃِ ﴿٩﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿١٠﴾ ٲُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُونَ ﴿١١﴾
بدبخت ہیں بائیں طرف والے اور آگے رہنے والے توآگے ہی رہنے والے ہیں وہی خدا کے نزدیک ہیں
فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ﴿١٢﴾ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِینَ ﴿١٣﴾ وَقَلِیلٌ مِنَ الاَْخِرِینَ ﴿١٤﴾عَلَی سُرُرٍ
وہ راحت بخش باغوں میں ہیں۔پہلے لوگوں میں سے بڑا گروہ اور پچھلے لوگوں میں سے تھوڑے سے لوگ
مَوْضُونَۃٍ﴿١٥﴾مُتَّکِئِینَ عَلَیْھَا مُتَقَابِلِینَ﴿١٦﴾یَطُوفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ ﴿١٧﴾
جوڑواں تختوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے سدا جوان لڑکے ان کے آگے پیچھے پھرتے ہوں گے
بِٲَکْوابٍ وَٲَبَارِیقَ وَکَٲْسٍ مِنْ مَعِینٍ ﴿١٨﴾ لاَ یُصَدَّعُونَ عَنْھَا وَلاَ یُنْزِفُونَ ﴿١٩﴾
جن کے پاس ساغر صراحیاں اور شفاف شراب کے جام ہوں گے جس سے نہ ان کو سردرد ہو گا۔اور نہ وہ مدہوش ہوں گے
وَفَاکِھَۃٍ مِمَّا یَتَخَیَّرُونَ﴿٢٠﴾وَلَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَھُونَ﴿٢١﴾وَحُورٌ عِینٌ ﴿٢٢﴾
اور انکے دل پسند مزے دار پھل، اور انکے پسندیدہ پرندوں کا گوشت ، اور بڑی آنکھوں والی حور، چھپا کر رکھے ہوئے موتی
کَٲَمْثَالِ اللُّؤْلُوََ الْمَکْنُونِ ﴿٢٣﴾ جَزَائً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴿٢٤﴾ لاَ یَسْمَعُونَ فِیھَا لَغْواً
طرح کی ﴿حوریں﴾ہونگیں یہ ان نیک اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے وہاں وہ کوئی بے ہودہ اور
وَلاَ تَٲْثِیماً ﴿٢٥﴾ إلاَّ قِیلاً سَلاَماً سَلاَماً ﴿٢٦﴾ وَٲَصْحَابُ الْیَمِینِ مَا ٲَصْحَابُ الْیَمِینِ ﴿٢٧﴾
گناہ کی بات نہ سنیں گے البتہ ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں ہونگیں اور داہنے ہاتھ والے۔کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے
فِی سِدْرٍ مَخْضُودٍ ﴿٢٨﴾ وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ ﴿٢٩﴾ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ ﴿٣٠﴾ وَمَائٍ
وہ بے کانٹے کی بیریوں اور بھرے پرے کیلوں اور لمبی چھائوں اور چھلکتے ہوئے
مَسْکُوبٍ ﴿٣١﴾ وَفَاکِھَۃٍ کَثِیرَۃٍ ﴿٣٢﴾لاَ مَقْطُوعَۃٍ وَلاَ مَمْنُوعَۃٍ ﴿٣٣﴾ وَفُرُشٍ
پانی اور بہت سے پھلوں میں ہونگے جو نہ ختم ہوں گے نہ کوئی روک ٹوک ہوگی وہ اونچے بستروں
مَرْفُوعَۃٍ﴿٣٤﴾ إنَّا ٲَنْشَٲْنَاھُنَّ إنْشَائً﴿٣٥﴾فَجَعَلْنَاھُنَّ ٲَبْکَاراً﴿٣٦﴾عُرُباً ٲَتْرَاباً ﴿٣٧﴾
پر ہوںگے یقینا ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا اور ان کو باکرہ رکھا۔ دائیں طرف والوں کے لئے ہم ِسن اور محبت کرنے
لاََِصْحَابِ الْیَمِینِ﴿٣٨﴾ ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِینَ ﴿٣٩﴾ وَثُلَّۃٌ مِنَ الاَْخِرِینَ ﴿٤٠﴾
والی بیویاں ہیں ۔ان میں سے بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے اور بڑا ہی گروہ پچھلے لوگوں سے ہوگا
وَٲَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا ٲَصْحَابُ الشِّمَالِ ﴿٤١﴾ فِی سَمُومٍ وَحَمِیمٍ ﴿٤٢﴾ وَظِلٍّ مِنْ
اور بائیں طرف والے۔ کیا ہی برے ہیں بائیں طرف والے جلانے والی آگ اور کھولتے ہوئے پانی میں ہونگے اور سیاہ دھوئیں
یَحْمُومٍ ﴿٤٣﴾ لاَ بَارِدٍ وَلاَ کَرِیمٍ ﴿٤٤﴾ إنَّھُمْ کَانُوا قَبْلَ ذلِکَ مُتْرَفِینَ ﴿٤٥﴾
کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہوگااور نہ مفید۔بے شک وہ اس سے پہلے بڑے خوش حال تھے
وَکَانُوا یُصِرُّونَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیمِ ﴿٤٦﴾ وَکَانُوا یَقُولُونَ ٲَ إذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَاباً
اور وہ بڑے گناہ ﴿شرک﴾ پر اصرار کرتے تھے اور کہتے تھے جب ہم مر ِمٹ کے خاک اور ہڈیاں
وَعِظَاماً ٲَ إنَّا لَمَبْعُوثُونَ﴿٤٧﴾ٲَوَ آبَاؤُنَا الْاَوَّلُونَ﴿٤٨﴾قُلْ إنَّ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ ﴿٤٩﴾
ہو جائیں گے تو کیا ہم اور ہمارے باپ دادا دوبارہ اٹھائے جائیں گے کہدو کہ اگلے پچھلے سب کے سب
لَمَجْمُوعُونَ إلَی مِیقَاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ ﴿٥٠﴾ ثُمَّ إنَّکُمْ ٲَ یُّھَا الضَّالُّونَ الْمُکَذِّبُونَ ﴿٥١﴾
ایک مقررہ دن پر ضرور ہی جمع کیے جائیں گے پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو تم
لاََکِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ ﴿٥٢﴾ فَمَالِئِونَ مِنْھَا الْبُطُونَ ﴿٥٣﴾ فَشَارِبُونَ عَلَیْہِ مِنَ
ضرور تھوہر کے درخت سے کھائوگے پس اس سے اپنے پیٹ بھروگے اس کے ساتھ کھولتا ہوا پانی
الْحَمِیمِ ﴿٥٤﴾ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْھِیمِ ﴿٥٥﴾ ھذَا نُزُلُھُمْ یَوْمَ الدِّینِ ﴿٥٦﴾ نَحْنُ
پیوگے جسے تم سخت پیاسے اونٹ کی طرح پیو گے یہی قیامت کے دن ان کی تواضع ہے ہم نے
خَلَقْنَاکُمْ فَلَوْلاَ تُصَدِّقُونَ ﴿٥٧﴾ ٲَفَرَٲَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ﴿٥٨﴾ ٲَ ٲَ نْتُمْ تَخْلُقُونَہُ ٲَمْ نَحْنُ
تمہیں پیدا کیاہے تم تصدیق کیوں نہیں کرتے؟بتائو جو نطفہ تم گراتے ہو کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا ہم
الْخَالِقُونَ ﴿٥٩﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِینَ ﴿٦٠﴾ عَلٰی ٲَنْ
پیدا کرنے والے ہیں!؟ہم نے ہی تم میں موت مقرر کی اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسے
نُبَدِّلَ ٲَمْثَالَکُمْ وَنُنْشِئَکُمْ فِی مَا لاَ تَعْلَمُونَ ﴿٦١﴾ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْٲَۃَ الاَُولَی فَلَوْلاَ
اورپیدا کردیں اور تمہیں ان صورتوں میں ڈھال دیں جن کو تم جانتے ہی نہیں بیشک تم اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہی ہو تو کیوں
تَذَکَّرُونَ﴿٦٢﴾ٲَفَرَٲَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ﴿٦٣﴾ٲَٲَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ ٲَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ﴿٦٤﴾
غور نہیں کرتے؟بتائو! جو کچھ تم بوتے ہو کیا اسے تم خود اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟
لَوْ نَشَائُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَاماً فَظَلْتُمْ تَفَکَّھُونَ﴿٦٥﴾ إنَّالَمُغْرَمُونَ﴿٦٦﴾ بَلْ نَحْنُ
اگر ہم چاہیں تو اسے چور چورکردیں اور تم باتیں بناتے رہ جائو کہ ہم بڑے گھاٹے میں رہے بلکہ ہم تو
مَحْرُومُونَ ﴿٦٧﴾ ٲَفَرَٲَیْتُمُ الْمَائَ الَّذِی تَشْرَبُونَ ﴿٦٨﴾ ٲَ ٲَ نْتُمْ ٲَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ ٲَمْ
بے نصیب رہ گئے ذرا بتائو کہ جو پانی تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم
نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ ﴿٦٩﴾ لَوْ نَشَائُ جَعَلْنَاہُ ٲُجَاجاً فَلَوْلاَ تَشْکُرُونَ ﴿٧٠﴾ ٲَفَرَٲَیْتُمُ النَّارَ
اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنادیں لہذا تم کیوں شکر نہیں کرتے؟ذرا بتائو جو آگ تم
الَّتِی تُورُونَ ﴿٧١﴾ٲَ ٲَ نْتُمْ ٲَ نْشَٲْ تُمْ شَجَرَتَھَا ٲَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ ﴿٧٢﴾ نَحْنُ جَعَلْنَاھَا
روشن کرتے ہو کیا وہ درخت ﴿لکڑی﴾ تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ہم نے اسے یاد دہانی
تَذکِرَۃً وَمَتَاعاً لِلْمُقْوِینَ﴿٧٣﴾فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیمِ ﴿٧٤﴾ فَلاَ ٲُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ
اور مسافروں کے فائدے کیلئے بنایا پس اپنے عظیم رب کی پاکیزگی بیان کرو تو مجھے قسم ہے ستاروں کے
النُّجُومِ ﴿٧٥﴾وَ إنَّہُ لَقَسَمٌ لَوْتَعْلَمُونَ عَظِیمٌ﴿٧٦﴾ إنَّہُ لَقُرْآنٌ کَرِیمٌ﴿٧٧﴾فِی
منازل کی اور تم سمجھو تو یقینا یہ ایک بہت بڑی قسم ہے بے شک یہ بڑی عزت والا قرآن ہے جو
کِتَابٍ مَکْنُونٍ﴿٧٨﴾لاَ یَمَسُّہُ إلاَّ الْمُطَھَّرُونَ﴿٧٩﴾ تَنْزِیلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ ﴿٨٠﴾
محفوظ کتاب میں ہے اس کو پاک لوگ کے علاوہ کوئی چھو نہیں سکتا یہ سب جہانوں کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے
ٲَفَبِھَذَا الْحَدِیثِ ٲَ نْتُمْ مُدْھِنُونَ ﴿٨١﴾ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ ٲَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ﴿٨٢﴾ فَلَوْلاَ
تو کیا تم اس کلام سے بے توجہی کرتے ہو اس میں اپنا حصہ یہی رکھتے ہو جو اسے جھٹلاتے ہو جب جان
إذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿٨٣﴾ وَٲَ نْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُونَ ﴿٨٤﴾ وَنَحْنُ ٲَقْرَبُ إلَیْہِ مِنْکُمْ
حلق تک آجاتی ہے تو اسے روک کیوں نہیں لیتے اور تم اس وقت پڑے دیکھا کرتے ہو ہم اس ﴿مرنے والے ﴾ کے تم
وَلکِنْ لاَ تُبْصِرُونَ ﴿٨٥﴾ فَلَوْلاَ إنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِینِینَ ﴿٨٦﴾ تَرْجِعُونَھَا إنْ کُنْتُمْ
سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے ہو اگر تم خدا کے مملوک نہیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ تم روح کو لوٹا لیتے اگر
صَادِقِینَ ﴿٨٧﴾ فَٲَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ ﴿٨٨﴾ فَرَوْحٌ وَرَیْحَانٌ وَجَنَّۃُ نَعِیمٍ ﴿٨٩﴾
سچے ہو پس اگر وہ ﴿مرنے والا﴾ مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت، خوشبو دار پھول اور نعمت کا باغ ہے
وَٲَمَّا إنْ کَانَ مِنْ ٲَصْحَابِ الْیَمِینِ ﴿٩٠﴾ فَسَلامٌ لَکَ مِنْ ٲَصْحَابِ الْیَمِینِ ﴿٩١﴾ وَٲَمَّا
اور اگر وہ نیک بخت لوگوں میں سے ہے تو اے رسول وہ نیک بختوں کی طرف سے تجھ پر سلام کہے گا اور اگر
إنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِینَ الضَّالِّینَ ﴿٩٢﴾ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیمٍ ﴿٩٣﴾ وَتَصْلِیَۃُ جَحِیمٍ ﴿٩٤﴾
وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے تو اس کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور اسے جہنم میں داخل کیا جانا ہے
إنَّ ھذَا لَھُوَ حَقُّ الْیَقِینِ ﴿٩٥﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیمِ ﴿٩٦﴾
بے شک یہ بات حتماً صحیح ہے تو ﴿اے رسول (ص)﴾تم اپنے عظیم رب کی پاکیزگی بیان کرو۔


فضیلت سورہ جمعہ حضرت امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ ہمارے شیعوں میں سے ہرمومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ شب جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ و سورہ اعلی پڑھے اور جمعہ کے دن نماز ظہرمیں سورہ جمعہ و سورہ منافقون کی تلاوت کرے جو شخص ایسا کرے گا گویا اس نے حضرت رسول اکرم(ص)کی مثل عمل کیا اور حق تعالیٰ کے ذمے اس کی جزا بہشت بریں ہے۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خداکے نام سے﴿شروع کرتا ہوں ﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
یُسَبِّحُ لِلّہِ مَا فِی السَّموَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ﴿١﴾ھُوَ
ہر وہ چیزخدا کی تسبیح کرتی ہے جو زمین اور آسمانوں میں ہے کیونکہ وہ بادشاہ،پاک،غالب اور بڑا حکمت والا ہے وہی تو ہے
الَّذِی بَعَثَ فِی الاَُمِّیِّینَ رَسُولاً مِنْھُمْ یَتْلُواْ عَلَیْھِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ
جس نے اُمِّی لوگوں میں انہی میںسے رسول ﴿محمد(ص)﴾ بھیجا جو ان کے سامنے آیتیں پڑھتا ہے انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت
وَالْحِکْمَۃَ وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلاَلٍ مُّبِینٍ﴿٢﴾ وَآخَرِینَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِھِمْ وَھُوَ
کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے اور ان لوگوں کی طرف جو ابھی ان سے نہیں ملے
الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ﴿٣﴾ ذلِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ وَاﷲُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ﴿٤﴾
اور وہ بڑا غالب حکمت والا ہے یہ اللہ کا فضل ہے کہ جسے چاہے عطا کرے اور اللہ تو بڑے فضل والا ہے
مَثَلُ الَّذِینَ حُمِّلُوا التَّوْرٰۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ ٲَسْفَاراً بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ
جن لوگوں کو تورات دی گئی ،انہوں نے اسکا حق ادا نہ کیا انکا حال اس گدھے جیسا ہے جس پر کتابیں لدی ہوں کیا بری مثال ہے
الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اﷲِ وَاﷲُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ﴿٥﴾ قُلْ یَا ٲَ یُّھَا الَّذِینَ ھَادُوا إنْ
ان لوگوں کی جنہوں نے آیات الہی کو جھٹلایا اور خدا ظالم قوموں کی ہدایت نہیں کرتا کہہ دو کہ اے یہودیو اگر تمہیں
زَعَمْتُمْ ٲَ نَّکُمْ ٲَوْ لِیَائُ لِلّہِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿٦﴾ وَلاَ
یہ گھمنڈ ہے کہ لوگوں میں سے تمہی خدا کے دوست ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو اور وہ کبھی موت
یَتَمَنَّوْنَہُ ٲَبَداً بِمَا قَدَّمَتْ ٲَیْدِیھِمْ وَاﷲُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ﴿٧﴾ قُلْ إنَّ الْمَوْتَ الَّذِی تَفِرُّونَ
کی تمنا نہ کریں گے ان کرتوتوں کے باعث جو آگے بھیج چکے ہیں اور خدا ظالموں کو جانتاہے کہہ دو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو
مِنْہُ فَ إنَّہُ مُلاَقِیکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٨﴾
وہ تمہیں ضرور آئے گی پھر تم ہر چھپی اور ظاہر چیز کے جاننے والے کی طرف لوٹا دیئے جائو گے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کیا کرتے تھے
یَا ٲَ یُّہا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إلَی ذِکْرِ اﷲِ وَذَرُوا الْبَیْعَ
اے ایمان والو جب روز جمعہ نماز ﴿جمعہ﴾کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر ﴿نماز﴾کے لئے دوڑو اور لین دین
ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٩﴾ فَ إذَا قُضِیَتِ الصَّلاۃُ فَانْتَشِرُوا فِی الْاَرْضِ
کو چھوڑو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہو جائو
وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اﷲِ وَاذکُرُوا اﷲَ کَثِیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٠﴾ وَ إذَا رَٲَوْا تِجَارَۃً ٲَوْ
اور اللہ کا فضل ﴿رزق﴾ تلاش کرو اور خدا کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل دیکھتے ہیں
لَھْواً انْفَضُّوا إلَیْھَا وَتَرَکُوکَ قَائِماً قُلْ مَاعِنْدَ اﷲِ خَیْرٌ مِنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ وَاﷲُ خَیْرُ
تو ادھر چلے جاتے ہیں اور تمہیں اکیلا کھڑا چھوڑ دیتے ہیںکہہ دو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ سودا سلف، تجارت اور کھیل سے بہتر ہے اور اللہ
الرَّازِقِینَ ﴿١١﴾
بہترین رازق ہے ۔


فضائل سورہ ملک حضرت امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص سونے سے پہلے واجب نماز میں سورہ ملک پڑھے تو وہ صبح تک خدا کی امان میں رہے گا ۔ نیز قیامت والے دن بھی خدا کی امان میں ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا ۔قطب راوندی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص بے خبری میں کسی قبر پر خیمہ لگا کر بیٹھ گیا اوراس نے وہاں سورہ ملک پڑھا تو ایک آواز سنی کہ یہ نجات دینے والا سورہ ہے پس اس نے یہ واقعہ رسول خدا ö سے بیان کیا آنحضرت(ص) نے فرمایا کہ واقعاً یہ سورہ قبر کے عذاب سے نجات دینے والا ہے ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں ﴾جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔
تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿١﴾الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالحَیَاۃَ
بڑا بابرکت ہے وہ خدا جو مختار کل ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی نے موت اور زندگی کو پیداکیا
لِیَبْلُوَکُمْ ٲَیُّکُمْ ٲَحْسَنُ عَمَلاً وَھُوَ الْعَزِیزُ الْغَفُورُ﴿٢﴾ الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَموَاتٍ طِبَاقاً مَا
تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے اور وہ بڑا غالب ،بہت بخشنے والا ہے وہی ہے جس نے تہہ در تہہ سات
تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ ﴿٣﴾ ثُمَّ ارْجِعِ
آسمان بنائے اور تو اس رحمن کے بنانے میں کوئی خامی نہ دیکھے گا پس نظر اٹھا کیا تجھے کوئی خرابی دکھائی دیتی ہے پھربار بار نظر اٹھا
البَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إلَیْک البَصَرُ خَاسِئاً وَھُوَ حَسِیرٌ ﴿٤﴾ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَائَ الدُّنْیَا
تیری نظر تھک کر ناکام تیری طرف پلٹ آئیگی اور ہم نے نچلے ﴿پہلے ﴾آسمان کو چمکتے تاروں سے سجایا اور انہیں
بِمَصَابِیحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوماً لِلشَّیَاطِینِ وَٲَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابَ السَّعِیرِ ﴿٥﴾ وَلِلَّذِینَ
شیطانوں کو ماربھگانے کا ذریعہ بنایااور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کیا اور اپنے رب کے سا تھ کفر کرنے والوں کے لئے
کَفَرُوا بِرَبِّھِمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَبِئْسَ المَصِیرُ ﴿٦﴾ إذَا ٲُلْقُوا فِیھَا سَمِعُوا لَھَا شَھِیقاً وَھِیَ
جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا شور سنیں گے وہ جوش میں ہوگااور شدت غضب
تَفُورُ﴿٧﴾تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الغَیْظِ کُلَّمَا ٲُلْقِیَ فِیھَا فَوْجٌ سَٲَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا ٲَ لَمْ یَٲْتِکُمْ نَذِیرٌ ﴿٨﴾
سے پھٹ جائیگا جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو دوزخ کا نگران ان سے پو چھے گا کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا
قَالُوا بَلَی قَدْ جَائَنَا نَذِیرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اﷲُ مِنْ شَیْئٍ إنْ ٲَنْتُمْ إلاَّ فِی ضَلالٍ کَبِیرٍ ﴿٩﴾
وہ کہیں گے ہمارے پاس ڈرانے والا تو آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ۔تم نہیں ہو مگر بڑی گمراہی میں
وَقَالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ ٲَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِی ٲَصْحَابِ السَّعِیرِ ﴿١٠﴾ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِھِمْ
اور کہیں گے کاش ہم سنتے یا عقل ہی سے کام لیتے تو آج اہل دوزخ میں شامل نہ ہوتے پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے
فَسُحْقاً لاََِصْحَابِ السَّعِیرِ ﴿١١﴾ إنَّ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالغَیْبِ لَھُمْ مَغْفِرَۃٌ وَٲَجْرٌ
تو دوزخیوں کیلئے رحمت سے دوری ہے بے شک جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا
کَبِیرٌ ﴿١٢﴾ وَٲَسِرُّوا قَوْلَکُمْ ٲَوِ اجْھَرُوا بِہِ إنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿١٣﴾ ٲَلاَ یَعْلَمُ
اجر ہے تم اپنی بات چھپائو یا اسے ظاہر کرو بے شک خدا دلوں کی باتیں خوب جانتا ہے کیا وہ نہیں جانتا کیا
مَنْ خَلَقَ وَھُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیرُ ﴿١٤﴾ ھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الاََرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِی
جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانتا جبکہ وہ باریک بین اور خبردار ہے وہی ﴿خدا﴾ہے جس نے زمین،تمہارے تابع کردی ۔تم اسکے
مَنَاکِبِھَا وَکُلُوا مِنْ رِزْقِہِ وَ إلَیْہِ النُّشُورُ ﴿١٥﴾ ٲَ ٲَمِنْتُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ ٲَنْ یَخْسِفَ بِکُمُ
راستوں پرچلو اور اللہ کے رزق سے کھائو اورتمہیں اسی کیطرف اٹھ کر جانا ہے کیا تم آسمان والے ﴿رب﴾سے اس بارے میں بے خوف
الاََرْضَ فَ إذَا ھِیَ تَمُورُ ﴿١٦﴾ ٲَمْ ٲَمِنْتُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ ٲَنْ یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِباً
ہوگئے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے اور وہ لرزنے لگے یا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ آسمان والا ﴿رب﴾تم پر پتھرائو
فَسَتَعْلَمُونَ کَیْفَ نَذِیرِ﴿١٧﴾ وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیرِ ﴿١٨﴾
کرنے والی ہوا بھیج دے تم عنقریب جان لوگے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے بے شک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تو مجھ سے انکا انکار کیسا ﴿عبرتناک﴾ رہا
ٲَوَ لَمْ یَرَوْا إلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صَافَّاتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُھُنَّ إلاَّ الرَّحْمنُ إنَّہُ بِکُلِّ شَیْئٍ
اورکیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو کبھی پر پھیلاتے اور کبھی سمیٹتے ہیں انہیں رحمن کے سوا کوئی فضا میں نہیں تھامے رہتا
بَصِیرٌ﴿١٩﴾ ٲَمَّنْ ہذَا الَّذِی ھُوَ جُنْدٌ لَکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمٰنِ إنِ الْکَافِرُونَ إلاَّ
یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے سوائے خدا کے ایسا کون ہے جو تمہاری فوج بن کر تمہاری نصرت کرے ہاں تو اس بات میں کافر
فِی غُرُورٍ﴿٢٠﴾ٲَمَّنْ ھذَا الَّذِی یَرْزُقُکُمْ إنْ ٲَمْسَکَ رِزْقَہُ بَلْ لَجُّوا فِی عُتُوٍّ
لوگ محض دھوکے میں پڑے ہیں یا کون انسان ہے جو تمہیں رزق دے جب اﷲ اپنا رزق روک دے بلکہ وہ سرکشی اور حق سے دوری
وَنُفُورٍ﴿٢١﴾ََفَمَنْ یَمْشِی مُکِبّاً عَلَی وَجْھِہِ ٲَھْدَی ٲَمَّنْ یَمْشِی سَوِیّاً عَلَی صِرَاطٍ
میں پکے ہوگئے ہیں کیا وہ جو منہ کے بل اوندھا ہو کر چلتا ہے وہ ٹھیک راستے پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر سیدھے راستے
مُسْتَقِیمٍ﴿٢٢﴾قُلْ ھُوَ الَّذِی ٲَنْشَٲَکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفئِدَۃَ قَلِیلاً مَا
پر چلتا ہے کہہ دو وہی ﴿اﷲ﴾ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تم بہت کم شکر
تَشْکُرُونَ ﴿٢٣﴾ قُلْ ھُوَ الَّذِی ذَرَٲَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَ إلَیْہِ تُحْشَرُونَ ﴿٢٤﴾ وَیَقُولُونَ
کرتے ہو کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے وہ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو
مَتَی ھذَا الوَعْدُ إنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ﴿٢٥﴾قُلْ إنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اﷲِ وَ إنَّمَا ٲَنَا نَذِیرٌ مُبِینٌ ﴿٢٦﴾
تو بتاؤ کہ یہ ﴿قیامت﴾ کا وعدہ کب پورا ہوگا کہہ دو اس کا علم تو اﷲ ہی کو ہے اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں
فَلَمَّا رَٲَوْھُ زُلْفَۃً سیٓئَتْ وُجُوہُ الَّذِینَ کَفَرُوا وَقِیلَ ھذَا الَّذِی کُنْتُمْ بِہِ تَدَّعُونَ﴿٢٧﴾ قُلْ
پھر جب وہ اسے قریب آتا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا یہی ﴿قیامت﴾ہے جسے تم باربار
ٲَرَٲَیْتُمْ إنْ ٲَھْلَکَنِیَ اﷲُ وَمَنْ مَعِیَ ٲَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ یُجِیرُ الْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ ٲَلِیمٍ ﴿٢٨﴾
طلب کرتے رہے ہو کہہ دوذرا بتائو کہ اگر اﷲ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو دردناک
قُلْ ھُوَ الرَّحْمنُ آمَنَّا بِہِ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ ھُوَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ﴿٢٩﴾ قُلْ ٲَرَٲَیْتُمْ إنْ ٲَصْبَحَ
عذاب سے کون بچائے گا کہہ دو وہی رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا تو جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائیگا کہ کون کھلی
مَاؤُکُمْ غَوْراً فَمَنْ یَٲْتِیکُمْ بِمَائٍ مَعِینٍ ﴿٣٠﴾
گمراہی میں ہے کہہ دو بتائو تو سہی اگر تمہارا پانی زمین کے اندر چلا جائے توپھر کون ہے جو تمہارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے۔


فضائل سورہ نبائ شیخ صدوق حضرت امام جعفر صادق (ع)سے روا یت کرتے ہیں کہ جو شخص لگاتار ہر روز سورہ نبائ پڑھے تو وہ سال تمام ہونے سے پہلے کعبہ کی زیارت کریگا ۔شیخ طبرسی نے مجمع البیان میں اُبی بن کعب سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص)نے فرمایا جو شخص ہر روز سورہ نبائ پڑھے تو خدا قیامت کے دن اس کو ٹھنڈے پانی سے سیراب کرے گا۔ واضح رہے کہ اہل بیت(ع) کی روایات میں مزکورہے کہ نبائ عظیم سے مراد ولایت ہے اور حضرت امیرالمومنین -ہی نبائ عظیم کا مصداق ہیں۔حضرت علی -ہی نبائ عظیم ،کشتی نوح اور باب اﷲ ہیں ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
عَمَّ یَتَسَائَلُونَ ﴿١﴾ عَنِ النَّبَائِ الْعَظِیمِ ﴿٢﴾ الَّذِی ھُمْ فِیہِ مُخْتَلِفُونَ ﴿٣﴾ کَلاَّ
یہ باہم ایک بڑی خبر کے متعلق کیا سوال پوچھ رہے ہیں؟ کہ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں عنقریب
سَیَعْلَمُونَ﴿٤﴾ثُمَّ کَلاَّ سَیَعْلَمُونَ﴿٥﴾ٲَ لَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھَاداً﴿٦﴾وَالْجِبَالَ ٲَوْتَاداً ﴿٧﴾
ضرور جان لیںگے پھر عنقریب ضرور جان لیں گے کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں
وَخَلَقْنَاکُمْ ٲَزْوَاجاً ﴿٨﴾ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتاً﴿٩﴾وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ لِبَاساً﴿١٠﴾وَجَعَلْنَا
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا اور تمہاری نیند کو راحت کا ذریعہ بنایا اور رات کو پردہ قرار دیا اور دن
النَّھَارَ مَعَاشاً﴿١١﴾وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعاً شِدَاداً ﴿١٢﴾ وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَھَّاجاً ﴿١٣﴾
کو روزی کمانے کا وقت ٹھہرایا اور تمہارے اوپر سات مضبوط ﴿آسمان﴾ بنا دئیے اور ہم نے چمکتا چراغ ﴿سورج﴾ بنایا
وَٲَ نْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مائً ثَجَّاجاً﴿١٤﴾لِنُخْرِجَ بِہِ حَبّاً وَنَبَاتاً﴿١٥﴾وَجَنَّاتٍ ٲَلْفَافاً ﴿١٦﴾
اور ہم نے بادلوں سے موسلا دھار بارش برسائی تاکہ اس سے غلہ اور سبزہ اور گھنے باغات اگائیں
إنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیقَاتاً ﴿١٧﴾ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَٲْتُونَ ٲَفْوَاجاً ﴿١٨﴾وَفُتِحَتِ
بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے اور آسمان کھول
السَّمَائُ فَکَانَتْ ٲَبْوَاباً﴿١٩﴾وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَاباً﴿٢٠﴾ إنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ
دیا جائے گا تو اس میں دروازے بن جائیں گے اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت بن جائیں گے بے شک دوزخ گھات
مِرْصَاداً ﴿٢١﴾لِلطَّاغِینَ مَآباً ﴿٢٢﴾ لاَبِثِینَ فِیھَا ٲَحْقَاباً ﴿٢٣﴾ لاَ یَذُوقُونَ فِیھَا بَرْداً
لگائے ہوئے ہوگی جو کہ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے وہ مدتوں اس میں پڑے رہیں گے اس میں نہ ٹھنڈک پائیں گے
وَلاَ شَرَاباً ﴿٢٤﴾ إلاَّ حَمِیماً وَغَسَّاقاً﴿٢٥﴾ جَزَائً وِفَاقاً ﴿٢٦﴾ إنَّھُمْ کَانُوا لاَ
نہ پانی لیکن کھولتا ہوا پانی اور پیپ یہ ان کے کیئے کا بدلہ ہے یقینًا وہ کسی محاسبے کا
یَرْجُونَ حِسَاباً﴿٢٧﴾وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا کِذَّاباً ﴿٢٨﴾ وَکُلَّ شَیْئٍٲَحْصَیْنَاہُ کِتَاباً ﴿٢٩﴾
خوف نہ رکھتے تھے انھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ہم نے ہر چیز کو تحریر کر دیا ہے
فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِیدَکُمْ إلاَّ عَذَاباً ﴿٣٠﴾ إنَّ لِلْمُتَّقِینَ مَفَازاً ﴿٣١﴾ حَدَائِقَ وَٲَعْنَاباً ﴿٣٢﴾
اب چکھو مزا کہ ہم تمہارے لیے عذاب ہی بڑھائیں گے بے شک پرہیزگاروں کیلئے بڑی کامیابی کی منزل ہے، باغات ہیں اور انگور
وَکَوَاعِبَ ٲَتْرَاباً﴿٣٣﴾وَکَٲْساً دِھَاقاً﴿٣٤﴾لاَ یَسْمَعُونَ فِیھَا لَغْواً وَلاَ کِذَّاباً ﴿٣٥﴾
اور نوجوان ہم عمر بیویاں اور چھلکتے ہوئے جام وہ نہ فضول بات سنیں گے نہ جھٹلائے جائیں گے
جَزَائً مِنْ رَبِّکَ عَطَائً حِسَاباً ﴿٣٦﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا الرَّحْمنِ لاَ
یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے اعمال کا بدلہ اور حساب شدہ عطا ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو انکے درمیان ہے
یَمْلِکُونَ مِنْہُ خِطَاباً ﴿٣٧﴾ یَوْمَ یَقُومُالرُّوحُ وَالْمَلائِکَۃُ صَفَّاً لاَ یَتَکَلَّمُونَ إلاَّ مَنْ ٲَذِنَ لَہُ
وہ رحمن جس سے بات کرنے کا انہیں اختیار نہیں ہوگا جس دن جبریل کھڑے ہونگے اور فرشتے صف بستہ ہونگے کوئی بول نہیں سکے گا
الرَّحْمنُ وَقَالَ صَوَاباً ﴿٣٨﴾ ذالِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَائَ اتَّخَذَ إلَی رَبِّہِ مَآباً ﴿٣٩﴾
مگر وہ جسے رحمن نے اجازت دی ہو گی اور وہ درست بات کہے گا وہ دن حق ہے اب جو چاہے اپنے رب کے حضور ٹھکانہ بنائے
إنَّا ٲَنْذَرْنَاکُمْ عَذَاباً قَرِیباً یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ وَیَقُولُ الْکَافِرُ یَا لَیْتَنِی کُنْتُ
بے شک ہم نے تم لوگوں کو ایک جلد آنے والے عذاب سے ڈرایا جس دن آدمی وہ دیکھے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں سے بھیجا
تُرَاباً ﴿٤٠﴾۔
ہوگا اور کافر کہے گا اے کاش میں مٹی ہو جاتا ۔



۲
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) فضائل سورہ اعلی و سو رہ شمس
شیخ صدوق(رح) نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جوشخص واجب یا مستحب نما ز میں سورہ اعلیٰ کی تلا وت کرے تو قیامت کے دن اس کو کہا جا ئے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔مجمع البیا ن میں ابی بن کعب سے روا یت نقل ہو ئی ہے کہ رسو ل اکرم (ص) نے فرما یا جو شخص سو ر ہ شمس پڑھے گا، گو یا اس نے راہ خدا میں ان اشیا ئ کے برابر صد قہ دیا ہے جن پرآفتاب اور مہتاب چمکتے ہیں۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- اعلیٰ خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی ﴿١﴾ الَّذِی خَلَقَ فَسَوَّی ﴿٢﴾ وَالَّذِی قَدَّرَ فَھَدَی ﴿٣﴾
﴿اے رسول﴾ اپنے بلند تر رب کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور سنوارا اور جس نے اندازہ مقرر کیا پھر راہ بتائی
وَالَّذِی ٲَخْرَجَ الْمَرْعَی﴿٤﴾ فَجَعَلَہُ غُثَائً ٲَحْوَی ﴿٥﴾ سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسَی ﴿٦﴾ إلاَّ
اور جس نے سبز چارا اگایا پھر اس کو خشک سیاہی مائل کر دیا ہم تمہیں ایسا پڑھا دیں گے کہ بھولو گے نہیں مگر
مَا شَائَ اﷲُ إنَّہُ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفَی﴿٧﴾ وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرَی ﴿٨﴾ فَذَکِّرْ إنْ نَفَعَتِ
جو اﷲ چاہے۔بے شک وہ ہر عیاں ونہاں کو جانتا ہے اور ہم تمہیں آسانی کی توفیق دیں گے۔پس جہاں تک سمجھانا
الذِّکْرَی ﴿٩﴾ سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشَی ﴿١٠﴾ وَیَتَجَنَّبُھَا الْاَشْقَی ﴿١١﴾ الَّذِی یَصْلَی
مفید ہو سمجھاتے رہو جو خوف رکھتا ہو وہ سمجھ جائے گا اور بڑا بدبخت
النَّارَ الْکُبْرَی ﴿١٢﴾ ثُمَّ لاَیَمُوتُ فِیھَا وَلاَ یَحْیَی ﴿١٣﴾ قَدْ ٲَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی ﴿١٤﴾
اس سے دور رہے گااور سب سے بڑی آگ میں داخل ہو گا پھر وہاں نہ مرے گا نہ جئے گا بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاکیزہ ہو گیا
وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی﴿١٥﴾بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا﴿١٦﴾وَالاَْخِرَۃُ خَیْرٌ وَٲَبْقَی ﴿١٧﴾
اور اپنے رب کا نام لیتا رہا اور نماز پڑھتا رہا مگر تم لوگ دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیرپاہے
إنَّ ھذَا لَفِی الصُّحُفِ الاَُْولَی ﴿١٨﴾ صُحُفِ إبْراھِیمَ وَمُوسَی ﴿١٩﴾۔
بے شک یہ بات پہلے صحیفوں میں ہے ابراہیم(ع) اور موسٰی(ع) کے صحیفوں میں ۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- شمس خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا﴿١﴾ والْقَمَرِ إذَا تَلاَھَا ﴿٢﴾ وَالنَّھَارِ إذَا جَلاَّھَا ﴿٣﴾ وَاللَّیْلِ إذَا
سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی اور چاند کی قسم جب اس کے پیچھے نکلے اور دن کی قسم جب اسے چمکا دے اور رات کی قسم جب
یَغْشَاھَا﴿٤﴾وَالسَّمَائِ وَمَا بَنَاھَا﴿٥﴾وَالْاَرْضِ وَمَا طَحَاھَا﴿٦﴾وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاھَا ﴿٧﴾
اسے چھپا لے اور آسمان کی قسم اور جس نے اسے بنایا اور زمین کی اور جس نے اسے بچھایا اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست بنایا
فَٲَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقْوَاھَا ﴿٨﴾ قَدْ ٲَفْلَحَ مَنْ زَکَّاھَا﴿٩﴾وَ قَدخَابَ مَنْ
پھر اس کی اچھائی برائی اسے سمجھائی۔بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کیا اور یقینًا وہ ناکام ہوا جس نے اسے
دَسَّاھَا﴿١٠﴾کَذَّبَتْ ثَموُدُ بِطَغْوَاھَا﴿١١﴾اِذِ انْبَعَثَ ٲَشْقَاھَا ﴿١٢﴾فَقَالَ لَھُمْ رَسُولُ
آلودہ کیا۔ثمود نے سرکشی سے ﴿رسول کو﴾ جھٹلایا جب ان میں سے بڑا بدبخت اٹھاتو خدا کے رسول ﴿صالح﴾ نے ان سے کہا کہ خدا
اﷲِ نَاقَۃَ اﷲِ وَسُقْیَاھَا ١٢﴾ فَکَذَّبُوہُ فَعَقَرُوھَا فَدَمْدَمَ عَلَیْھِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِھِمْ فَسَوَّاھَا ﴿١٤﴾
کی اونٹنی اور اس کے پانی کو نہ چھیڑنا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دی تو خدا نے انہیں اس گناہ پر ہلاک کیا اور مٹا ڈالا
وَلاَیَخَافُ عُقْبَاھَا ﴿١٥﴾
اور اسے ان کے انتقام کا کوئی ڈر نہیں ۔


فضیلت سو ر ہ قدر و سو رہ زلزال
اما م جعفر صادق (ع) سے مروی ہے کہ جو شخص واجب نماز میں سورہ قدر پڑھے تو خدا تعا لیٰ کی طرف سے ایک منا دی ندا دے گا کہ اے شخص تیرے پچھلے گنا ہ بخش دیئے گئے ہیں اب تو عمل میں نئی زندگی کا آغاز کر دیرسول اﷲ (ص)سے رو ا یت ہو ئی ہے کہ جس نے چا ر مر تبہ سو ر ہ زلزال پڑھی تو وہ اس شخص کی مثل ہے جس نے پورا قرآن ختم کیا ہے۔

سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- قدر خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إنَّا ٲَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ﴿١﴾ وَمَا ٲَدْرَیٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ
یقینًا ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا معلوم شب قدر کیا ہے شب قدر تو ہزار مہینوں
ٲَلْفِ شَھْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیھَا بِ إذنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ ٲَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلامٌ ھِیَ
سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور جبریل خدا کے حکم سے ہر کام کے بارے میں احکام لے کر آتے ہیں یہ رات طلوع فجر
حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿٥﴾۔
تک سلامتی ہی سلامتی ہے ۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- زلزال خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا ﴿١﴾ وَٲَخْرَجَتِ الْاَرْضُ ٲَثْقَالَھَا ﴿٢﴾ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَھَا ﴿٣﴾
جب زمین بڑے زور سے لرزنے لگے گی اور زمین اپنے اندر کی چیزیں نکال پھینکے گی اور ایک انسان کہے گا اسے کیا ہوا ہے
یَوْمَیِذٍ تُحَدِّثُ ٲَخْبَارَھَا﴿٤﴾ بِٲَنَّ رَبَّکَ ٲَوْحَی لَھَا ﴿٥﴾ یَوْمَیِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ ٲَشْتَاتاً
اس دن وہ اپنی سب گزری باتیں بتا دے گی کیونکہ اسے تمہارے رب نے حکم دیا ہو گا اس دن لوگ گروہ در گروہ قبروں
لِیُرَوْا ٲَعْمَالَھُمْ ﴿٦﴾ فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہُ ﴿٧﴾ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً
سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہو گی وہ بھی
یَرَہُ ﴿٨﴾
اسے دیکھ لے گا۔


فضیلت سورہ عادیات روایات میں آیاہے کہ جو مسلسل یہ سورہ پڑھتا رہے تو وہ قیا مت میں امیر المومنین - کیساتھ محشور ہو گا

سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- عادیات
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً ﴿١﴾ فَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً ﴿٢﴾ فَالْمُغِیرَاتِ صُبْحاً ﴿٣﴾ فَٲَثَرْنَ بِہِ
قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی جو پھنکارتے اور سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کو دھاوا بولتے ہیں تو گرد وغبار اڑاتے
نَقْعاً ﴿٤﴾ فَوَسَطْنَ بِہِ جَمْعاً ﴿٥﴾ إنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہِ لَکَنُودٌ ﴿٦﴾ وَ إنَّہُ عَلَی ذٰلِکَ
ہیں پھر دشمن کی فوج میں گھس جاتے ہیں بے شک آدمی ضرور اپنے رب کا ناشکرا ہے اور یقینًا وہ خود ہی
لَشَھِیدٌ ﴿٧﴾ وَ إنَّہُ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیدٌ ﴿٨﴾ ٲَفَلاَ یَعْلَمُ إذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُورِ ﴿٩﴾
اس پر گواہ ہے اور بے شک وہ حبِ مال میں بڑھا ہوا ہے تو کیا وہ نہیں جانتا کہ جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے
وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُورِ ﴿۰١﴾ إنَّ رَبَّھُمْ بِھِمْ یَوْمَیِذٍ لَخَبِیرٌ ﴿١١﴾
اور سینوں کی چھپی باتیں کھول دی جائیں گی بے شک اس دن ان کا رب ان سے خوب واقف ہے۔


فضائل سورہ کا فرون، نصر، توحید، فلق اور ناس
بہت سی حدیثوں میں سورہ کافرون کے واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور یہ کہ اس کوپڑھنا چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورہ توحید کا پڑھنا ایک تہائی قرآن کے مساوی ہے۔ جبکہ سورہ نصر کاواجب اور نافلہ نمازوں میں پڑھنا دشمنو ں پر فتح ونصرت پانے کا موجب ہے ۔جو شخص گھر سے باہر نکلے اور سورہ فلق اور ناس کو پڑھے تو وہ نظر بد سے محفوظ رہے گا۔جو شخص نیند میں ڈرتا ہو وہ آیت الکرسی کے ساتھ ان دونوں سورتو ں کو پڑھے:
سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- کافرون خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ یَاٲَیُّھَاالْکَافِرُونَ ﴿١﴾ لاَ ٲَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾ وَلاَ ٲَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا ٲَعْبُدُ ﴿٣﴾
﴿اے رسول(ص)﴾کہہ دو کافرو میں انکی عبادت نہیں کرتا جنکی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اسکی عبادت کرتے ہوجسکی میں عبادت کرتا ہوں
وَلاَٲَنَا عَابِدٌ مَاعَبَدْتُمْ ﴿٤﴾ وَلاَٲَنْتُمْ عَابِدُونَ مَاٲَعْبُدُ ﴿٥﴾ لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿٦﴾
اور نہ میں اسکی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں
لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿٦﴾
تمہارے لیے تمہارادین اور میرے لیے میرا دین ہے ۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- نصر خدا کے نام سے﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا جَائَ نَصْرُ اﷲِ وَالْفَتْحُ﴿١﴾وَرَٲَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ اﷲِ ٲَفْوَاجاً ﴿٢﴾ فَسَبِّحْ
﴿اے رسول(ص)﴾ جب خدا کی مدد اور فتح آجائیگی تو دیکھنا کہ لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہو رہے ہونگے تم اپنے رب کی
بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إنَّہُ کَانَ تَوَّاباً ﴿٣﴾
حمد کے ساتھ تسبیح کرواور اس سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- توحید خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں ﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ ھُوَ اﷲُ ٲَحَدٌ ﴿١﴾ اﷲُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدُ ﴿٤﴾
﴿اے رسول(ص)﴾ کہہ دو اﷲ ایک ہے اﷲ بے نیاز ہے نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے ۔


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- فلق خدا کے نام سے﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ ٲَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إذَا وَقَب َ﴿٣﴾
﴿اے رسول(ص)﴾کہو میں پناہ لیتا ہوں صبح کے مالک کی،اسکی پیدا کی ہوئی ہرچیزکی برائی سے اور اندھیری رات کی برائی سے جب وہ چھا جائے
وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثَاتِ فِی الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ ﴿٥﴾۔
اور پھونک کر گرہیں لگانے والیوں کی برائی سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے


سورہ ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- ناس خدا کے نام سے﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ ٲَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِکِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إلٰہِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ
﴿اے رسول﴾ کہو میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی،لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی،وسوسہ ڈالنے،چھپ جانے
الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
والے کی برائی سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے ۔جنوں اور انسانوں میں سے۔


فضائل آیت الکرسی اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں جو اس کتاب کے آخر﴿باقیات الصالحات﴾ میں درج کیے گئے ہیں اور یہاں ہم اس کے خواص ہی کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔
﴿١﴾ہرواجب نماز کے بعد اس کا پڑھنا رزق میں فراوانی کا باعث ہے۔
﴿٢﴾ ہر روز صبح وشام پڑھنا چور ،ڈاکو اور آتش زدگی سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
﴿٣﴾ہر روز فریضہ نماز کے بعد اس کا پڑھنا سانپ اور بچھو کا تعویز اور جن وانس کے ضرر سے بچائو کاسبب ہے
﴿٤﴾اگر اس کو لکھ کر کھیت میں دفن کر دیاجائے تو وہ چوری اور نقصان سے بچا رہے گا اور اس میں برکت ہو گی۔
﴿٥﴾اگر اسے لکھ کر دکان میں رکھا جائے تو اس میں خیروبرکت ہوگی ۔
﴿٦﴾اس کا گھر میں لکھ کر رکھنا چوری سے بچائو کا موجب ہے۔
﴿٧﴾اگر مرنے سے پہلے اس کو پڑھنے والا بہشت میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔
﴿٨﴾ہر شب سوتے وقت اس کا پڑھنا فالج سے حفاظت کا باعث ہے۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اﷲُ لاَ إلٰہَ إلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَتَٲْخُذُھُ سِنَۃٌ وَلاَنَوْمٌ لَہُ مَا فِی السَّمَٰوٰت
اﷲ کے علاوہ کوئی خدا نہیں وو زندہ اوربندوبست کرنے والا ہے اس پر نہ غنودگی غالب آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور
وَمَا فِی الْٲَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إلاَّ بِ إذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ ٲَیْدِیھِمْ
زمین میں سب کچھ اسی کا ہے کون ہے جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے یہاں سفارش کرے؟ اور جو انکے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے
وَمَا خَلْفَھُمْ وَلاَیُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِہٰ إلاَّ بِمَا شَائَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ
اور جو انکے پیچھے ہے اسے بھی لیکن وہ اسکے علم سے اسکی منشأ کے بغیر ذرہ بھر بھی نہیں جان سکتے اسکی کرسی آسمان اور زمین کو گھیرے
وَلاَیَئُودُہُ حِفْظُھُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ﴿٢٥٥﴾ لاَ إکْرَاہَ فِی الدِّینِ قَدْ تَبَیَّنَ
ہوئے ہے ان دونوں کی حفاظت اسے گراں نہیں گزرتی اور وہ اونچا ہے بہت بڑا ہے دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی
الرُّشْدُ مِنْ الغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِاﷲِ فَقَدْ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَی
سے الگ ہو کر نمایاں ہو چکی ہے اسکے بعد جو باطل کی طاقت کے ماننے سے انکار کرے اور اﷲ پر ایمان لائے اس نے مضبوط رسی
لاَانفِصَامَ لَھَا وَاﷲُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ﴿٢٥٦﴾ اﷲُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُھُمْ مِنْ
تھام لی جسکے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں اور اﷲ سننے والا ہے اور خوب جاننے والا جو ایمان لائے اﷲ انکا سرپرست ہے انہیں
الظُّلُمٰتِ إلَی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا ٲَوْلِیٰئُھُمْ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَھُمْ مِنْ النُّورِ إلَی الظُّلُمٰتِ
اندھیرے سے روشنی کیطرف نکالتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کی سرپرست باطل قوتیں ہیں وہ انہیں روشنی سے اندھیروں
ٲُوْلٰٓئِکَ ٲَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خٰلِدُونَ۔
کیطرف لے جاتی ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہینگے۔


سورہ عنکبوت شب قدر کے اعمال میں یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان کی تئیسویں رات میں سورہ عنکبوت، سورہ روم اور سورہ دخان کی تلاوت کی جائے، لہذا مومنین کی سہولت کے پیش نظریہ سورتیں تبرک کے طور پر مفاتیح الجنان میں درج کی جارہی ہیں تا کہ مومنین انکی تلاوت کے فیض سے محروم نہ رہیں۔
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا﴿شروع کرتا ہوں﴾کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الٓمَ ﴿١﴾ ٲَحَسِبَ النَّاسُ ٲَنْ یُتْرَکُوا ٲَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَھُمْ لاَ یُفْتَنُونَ ﴿٢﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا
الٓم کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اتنا کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جائینگے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ ہوگا؟ اور ہم نے ان
الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اﷲُ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الکَاذِبِینَ ﴿٣﴾ ٲَمْ حَسِبَ الَّذِینَ
لوگوں کا بھی امتحان کیا جو ان سے پہلے گزرے پس خدا ضرور ان لوگوں کو الگ دیکھے گا جو سچے ہیں اور انکو الگ دیکھے گا جو جھوٹے ہیں یا جو
یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ ٲَنْ یَسْبِقُونَا سَائَ مَا یَحْکُمُونَ ﴿٤﴾ مَنْ کَانَ یَرْجُو لِقَائَ اﷲِ فَ إنَّ ٲَجَلَ
لوگ برے کام کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ ہماری پکڑ سے نکل جائینگے؟ یہ لوگ کیا ہی برے حکم لگاتے ہیں. جو شخص خدا سے ملنے کی امید
اﷲِ لاََتٍ وَھُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿٥﴾ وَمَنْ جَاھَدَ فَ إنَّمَا یُجَاھِدُ لِنَفْسِہِ إنَّ اﷲَ لَغَنِیٌّ عَنِ
رکھتا ہے تو یقیناً خدا کا مقررہ وقت آنے والا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے اور جو شخص عبادت میں کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کوشاں ہے
العَالَمِینَ ﴿٦﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّئَاتِھِمْ وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ
بے شک اﷲ لوگوں کی عبادت سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے یقیناً ہم انکے گناہوں کو معاف کر دیں گے
ٲَحْسَنَ الَّذِی کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴿٧﴾ وَوَصَّیْنَا الاِِنْسَانَ بِوالِدَیْہِ حُسْناً وَ إنْ جَاھَدٰکَ
اور یہ جو اچھے کام کرتے ہیں ان پر انکو بہترین جزا دینگے ہم نے انسان کو اپنے والدین کیساتھ اچھے برتائو کا حکم دیا ہے اور یہ کہ
لِتُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا إلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَٲُنَبِّیُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٨﴾
اگر تیرے ماں باپ تجھے کسی کو میرا شریک بنانے پر مجبور کریں جسکا تجھ کو علم نہیں تو انکا کہانہ ماننا. آخر تم سب کو میری طرف لوٹنا ہے تب میں بتادونگا
وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّھُمْ فِی الصَّالِحِینَ ﴿٩﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ
جو کچھ تم کرتے رہے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیے ضرور ہم انکو نیکوں میں داخل کریں گے. اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
آمَنَّا بِاﷲِ فَ إذَا ٲُوذِیَ فِی اﷲِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اﷲِ وَلَئِنْ جَائَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّکَ
جو کہہ دیتے ہیں ہم خدا پرایمان لائے پھر جب خدا کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لوگوں کی زیادتی کو خدا کا عذاب قرار دیتے ہیں اور ﴿اے رسول(ص)﴾
لَیَقُولُنَّ إنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ٲَوَ لَیْسَ اﷲُ بِٲَعْلَمَ بِمَا فِی صُدُورِ العَالَمِینَ﴿١٠﴾وَلَیَعْلَمَنَّ اﷲُ
اگر تمہارے رب کی مدد آپہنچے تو وہ کہنے لگتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ تھے بھلا جو کچھ دنیا والوں کے دلوں میں ہے کیا خدا اس سے واقف
الَّذِینَ آمَنُوا وَلَیَعْلَمَنَّ المُنَافِقِینَ ﴿١١﴾ وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِیلَنَا
نہیں ہے؟ اور جو لوگ ایمان لائے خدا یقیناً انکو جانتا ہے اور منافقین کوبھی ضرور جانتا ہے اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہنے لگے کہ تم ہمارے
وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ وَمَا ھُمْ بِحَامِلِینَ مِنْ خَطَایَاھُمْ مِنْ شَیئٍ إنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ ﴿١٢﴾
طریقے کی پیروی کرو ہم ﴿قیامت میں﴾ تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھالینگے. حالانکہ یہ لوگ انکے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں. بے
وَلَیَحْمِلُنَّ ٲَثْقَالَھُمْ وَٲَثْقَالاً مَعَ ٲَثْقَالِھِمْ وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ القِیَامَۃِ عَمَّا کَانُوا یَفْتَرُونَ ﴿١٣﴾
شک یہ لوگ جھوٹے ہیں اور ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور انکے بوجھ بھی جنکو گمراہ بنایا اور جو جو افترائ یہ باندھتے رہے ان پر
وَلَقَدْ ٲَرْسَلْنَا نُوحاً إلَی قَوْمِہِ فَلَبِثَ فِیھِمْ ٲَلْفَ سَنَۃٍ إلاَّ خَمْسِینَ عَاماً فَٲَخَذَھُمُ الطُّوفَانُ
ضرور ان سے باز پرس ہوگی. اور ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ پچاس کم ہزار برس ان کو ہدایت دیتے رہے،جب وہ راہ راست پر نہ آئے
وَھُمْ ظَالِمُونَ ﴿١٤﴾ فَٲَنْجَیْنَاہُ وَٲَصْحَابَ السَّفِینَۃِ وَجَعَلْنَاھَا آیَۃً لِلْعَالَمِینَ ﴿١٥﴾ وَ
تو طوفان نے انکو آگھیرا تب بھی وہ سرکش ہی تھے پس ہم نے نوح(ع) اور کشتی میں سوار لوگوں کو بچالیا اور اس واقعہ کو ساری خدائی کیلئے نشانی قرار دیا.
إبْرَاھِیمَ إذ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اﷲَ وَاتَّقُوہُ ذلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١٦﴾ إنَّمَا
اور ابراہیم(ع) کو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم سمجھ بوجھ رکھتے ہو. مگر تم
تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اﷲِ ٲَوْثَاناً وَتَخْلُقُونَ إفْکاً إنَّ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اﷲِ لاَ یَمْلِکُونَ
لوگ خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کرتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو بے شک خدا کو چھوڑ کرتم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ تمہاری روزی پر
لَکُمْ رِزْقاً فَابْتَغُوا عِنْدَ اﷲِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوہُ وَاشْکُرُوا لَہُ إلَیْہِ تُرْجَعُونَ ﴿١٧﴾ وَ إنْ
اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی سے روزی مانگو اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو کہ تم لوگ اسی کی طرف لوٹا ئے جائوگے. اور ﴿اے مکہ والو﴾ اگر
تُکَذِّبُوا فَقَدْ کَذَّبَ ٲُمَمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إلاَّ البَلاَغُ المُبِینُ ﴿١٨﴾ ٲَوَ لَمْ
تم نے رسول(ص) کو جھٹلایا ہے تو پہلی امتوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا تھا اور رسول(ص) کے ذمہ صرف پیغام پہنچادینا ہے. کیا ان لوگوں نے غور نہیں
یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیَُ اﷲُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ إنَّ ذلِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیرٌ ﴿١٩﴾ قُلْ سِیرُوا فِی
کیا کہ خدا کسطرح مخلوقات کا آغاز کرتا ہے، پھر دوبارہ پیدا کریگا. بیشک خدا کیلئے یہ بڑی آسان بات ہے ﴿اے رسول(ص)﴾ ان سے
الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَٲَ الخَلْقَ ثُمَّ اﷲُ یُنْشِیَُ النَّشْٲَۃَ الآخِرَۃَ إنَّ اﷲَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ
کہہ دوکہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ خدا نے مخلوق کو پہلے پہل کس طرح پیدا کیا پھر خدا ہی دوسری مرتبہ ان کو پیدا کرے گا یقیناً خدا
قَدِیرٌ ﴿٢٠﴾ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَیَرْحَمُ مَنْ یَشَائُ وَ إلَیْہِ تُقْلَبُونَ ﴿٢١﴾ وَمَا ٲَنْتُمْ
ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس پر چاہے عذاب کرے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائوگے اور نہ تم زمین
بِمُعْجِزِینَ فِی الاََرْضِ وَلاَ فِی السَّمَائِ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیرٌ ﴿٢٢﴾
میں خدا کو عاجز کر سکتے ہونہ آسمان میں اور نہ ہی خدا کے سوا تمہارا کوئی سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار اور جن لوگوں نے خدا کی
وَالَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ اﷲِ وَلِقَائِہِ ٲُولٰٓئِکَ یَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِی وَٲُولیِکَ لَھُمْ عَذَابٌ ٲَلِیمٌ ﴿٢٣﴾
نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا یہی لوگ میری رحمت سے ناامید ہیں اور انہی کے لیے دردناک عذاب ہے.
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إلاَّ ٲَنْ قَالُوا اقْتُلُوہُ ٲَوْ حَرِّقُوہُ فَٲَنْجَاہُ اﷲُ مِنَ النَّارٍ إنَّ فِی ذلِکَ
غرض ابراہیم(ع) کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ باہم کہنے لگے کہ اسے قتل کرڈالو یا اسے جلادو، پس خدا نے ابراہیم کو آگ سے بچالیا
لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿٢٤﴾ وَقالَ إنَّمَا اتَّخَذتُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ ٲَوْثَاناً مَوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی
بے شک ایمان والوں کے لیے اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں. اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے دنیا میں باہمی تعلق کے باعث خدا کو
الحَیَاۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ القِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضاً وَمَٲْواکُمُ النَّارُ
چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے پھر روز قیامت تم ایک دوسرے کا انکار کروگے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجوگے تمہارا ٹھکانا جہنم ہے
وَمَا لَکُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿٢٥﴾ فَآمَنَ لَہُ لُوطٌ وَقَالَ إنِّی مُھَاجِرٌ إلَی رَبِّی إنَّہُ ھُوَ العَزِیزُ
جہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا تب صرف لوط(ع) ہی ابراہیم (ع)پر ایمان لائے اور ابراہیم(ع) نے کہا میں وطن چھوڑ کر اپنے رب کیطرف جائوں گا. بیشک وہ
الحَکِیمُ ﴿٢٦﴾ وَوَھَبْنَا لَہُ إسْحقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالکِتَابَ وَآتَیْنَاہُ
غالب، حکمت والا ہے. اور ہم نے ابراہیم(ع) کو ﴿بیٹا ﴾اسحاق اور﴿ پوتا﴾ یعقوب(ع) دیئے اور نبوت و کتاب کو انکی اولاد میں قرار دیا. ہم نے
ٲَجْرَہُ فِی الدُّنْیَا وَ إنَّہُ فِی الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ ﴿٢٧﴾ وَلُوطاً إذ قَالَ لِقَوْمِہِ إنَّکُمْ
ابراہیم (ع)کو دنیا میں اچھا بدلہ دیا اور وہ آخرت میں بھی ضرور نیک لوگوں میں ہوں گے اور جب لوط(ع) نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ جو بے
لَتَٲْتُونَ الفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ ٲَحَدٍ مِنَ العَالَمِینَ ﴿٢٨﴾ ٲَیِنَّکُمْ لَتَٲْتُونَ الرِّجَالَ
حیائی کرتے ہو وہ تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی آیا تم عورتوں کی جگہ مردوں سے نزدیکی کرتے ہو،
وَتَقْطَعُونَ السَّبِیلَ وَتَٲْتُونَ فِی نَادِیکُمُ المُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إلاَّ ٲَنْ قَالُوا ائْتِنَا
مسافروں کو لوٹتے ہو اور اپنی محفلوں میں بری حرکات کرتے ہو. پس انکی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر یہ کہ کہنے
بِعَذَابِ اﷲِ إنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِینَ ﴿٢٩﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِی عَلَی القَوْمِ المُفْسِدِینَ ﴿٣٠﴾
لگے تم ہم پر خدا کا عذاب لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو. لوط(ع) نے دعا مانگی، یا رب! ان فسادیوں کے مقابلے میں میری مدد فرما.
وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا إبْرَاھِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا إنَّا مُھْلِکُوا ٲَھْلَ ہذِہِ القَرْیَۃِ إنَّ ٲَھْلَھَا کَانُوا
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم(ع) کے پاس﴿بیٹے کی﴾ خوشخبری لے کر آئے تو ان سے یہ بھی کہا کہ ہم اس گائوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے
ظَالِمِینَ ﴿٣١﴾ قَالَ إنَّ فِیھَا لُوطاً قَالُوا نَحْنُ ٲَعْلَمُ بِمَنْ فِیھَا لَنُنَجِّیَنَّہُ وَٲَھْلَہُ إلاَّ امْرَٲَتَہُ
ہیں، بے شک یہ لوگ بڑے سرکش ہیں ابراہیم(ع) نے کہا کہ اس گائوں میں لوط(ع) بھی ہیں فرشتوں نے کہا ہم وہاں رہنے والوں کو جانتے ہیں ہم لوط(ع)
کانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿٣٢﴾ وَلَمَّا ٲَنْ جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِیئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعاً
اور انکے اہل خانہ کو بچائینگے سوائے انکی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ
وَقَالُوا لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إنَّا مُنَجُّوکَ وَٲَھْلَکَ إلاَّ امْرَٲَتَکَ کَانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿٣٣﴾
انکے آنے سے پریشان ہوئے اور میزبانی میں دقت محسوس کی. فرشتوں نے کہا آپ نہ ڈریں اور غم نہ کریں، یقیناً ہم آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو
إنَّا مُنْزِلُونَ عَلَی ٲَھْلِ ہذِہِ القَرْیَۃِ رِجْزاً مِنَ السَّمَائِ بِما کَانُوا یَفْسُقُونَ ﴿٣٤﴾وَلَقَدْ
بچائیں گے سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی بیشک ہم اس گاؤں کے لوگوں پر ایک آسمانی عذاب نازل کرنے والے
تَرَکْنَا مِنْھَا آیَۃً بَیِّنَۃً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿٣٥﴾ وَ إلَی مَدْیَنَ ٲَخَاھُمْ شُعَیْباً فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا
ہیں، کیونکہ یہ لوگ بدکاریاں کرتے رہے ہیںاور ہم نے اس﴿الٹی ہوئی بستی﴾سے سمجھدار لوگوں کیلئے ایک واضح نشانی رکھی ہے ہم نے مدین کے
اﷲَ وَارْجُوا الیَوْمَ الآخِرَ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الاََرْضِ مُفْسِدِینَ ﴿٣٦﴾ فَکَذَّبُوہُ فَٲَخَذَتْھُمُ
رہنے والوں کیطرف انکے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم خدا کی عبادت کرو. روز آخرت کی امید رکھو اور روئے زمین پر فساد نہ
الرَّجْفَۃُ فَٲَصْبَحُوا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِینَ ﴿٣٧﴾ وَعَاداً وَثَمُودَاْ وَقَدْ تَبَیَّنَ لَکُمْ مِنْ
پھیلاتے پھرو پس ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلا یا تو انہیں زلزلے نے اچک لیا تب وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے اور قوم
مَسَاکِنِھِمْ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ ٲَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیلِ وَکَانُوا مُسْتَبْصِرِینَ ﴿٣٨﴾
عاد اور ثمود بھی ہلاک ہوئیں اور تمہیں انکے اجڑ ے گھروں کا پتہ بھی ہے اور شیطان نے ان کیلئے انکے کاموں کو مزین کردیاپس انہیں سیدھی راہ سے
وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَلَقَدْ جَائَھُمْ مُوسَیٰ بِالبَیِّنَاتِ فَاسْتَکْبَرُوا فِی الاََرْضِ وَمَا
روک ڈالا حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار تھے اور ہم نے قارون و فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا جب کہ ان کے پاس موسیٰ روشن معجزے لے کر آئے تو
کَانُوا سَابِقِینَ ﴿٣٩﴾ فَکُلاًّ ٲَخَذنَا بِذَنْبِہِ فَمِنْھُم مَنْ ٲَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِباً وَمِنْھُمْ مَنْ
بھی وہ لوگ زمین میں سرکشی کرتے رہے اور ہم سے بچ کر نہ جاسکے. پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے سبب گرفت میں لے لیا تو ان میں سے
ٲَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ وَمِنْھُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِہِ الاََرْضَ وَمِنْھُمْ مَنْ ٲَغْرَقْنَا وَمَا کَانَ اﷲُ لِیَظْلِمَھُمْ
بعض پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی ان میں وہ بھی تھے جن کو سخت چنگھاڑنے آلیا ان میں بعض وہ تھے جنکو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان
وَلکِنْ کَانُوا ٲَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ ﴿٤٠﴾ مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ ٲَوْلِیَائَ کَمَثَلِ
میں بعض کو ہم نے ڈبو کر مارا اور یہ نہیں کہ خدا نے ان پر ظلم کیا ہو، بلکہ یہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے تھے. جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں
العَنْکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتاً وَ إنَّ ٲَوْھَنَ البُیُوتِ لَبَیْتُ العَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿٤١﴾
کو کارساز بنا رکھا ہے انکی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور بے شک گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے، اگر یہ لوگ
إنَّ اﷲَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیئٍ وَھُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿٤٢﴾ وَتِلْکَ الاََمْثَالُ
سمجھتے بھی ہوں خدا کو چھوڑ کر یہ لوگ جس چیز کو پکارتے ہیں خدا یقیناً اس سے واقف ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے اور ہم یہ مثالیں لوگوں
نَضْرِبُھا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا إلاَّ الْعَالِمُونَ ﴿٤٣﴾ خَلَقَ اﷲُ السَّمواتِ وَالاََرْضَ بِالحَقِّ إنَّ
کیلئے بیان کرتے ہیں اور انکو صاحبان علم کے سوا کوئی نہیں سمجھتا خدا نے سارے آسمانوں اور زمین کو بالکل ٹھیک بنایا اس میں شک
فِی ذ لِکَ لاََیَۃً لِلْمُؤْمِنِینَ ﴿٤٤﴾ اتْلُ مَا ٲُوحِیَ إلَیْکَ مِنَ الکِتَابِ وَٲَقِمِ الصَّلاَۃَ إنَّ
نہیں کہ اس میں ایمانداروں کیلئے حتماً نشانی ہے﴿ اے رسول(ص)﴾ جو کتاب تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اسکی تلاوت کرو اور نماز پابندی
الصَّلاَۃَ تَنْھَی عَنِ الفَحْشَائِ وَالمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اﷲِ ٲَکْبَرُ وَاﷲُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿٤٥﴾ وَلاَ
سے پڑھو کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور لازماً یاد خدا بڑا مرتبہ رکھتی ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہوخدا اس سے
تُجَادِلُوا ٲَھْلَ الکِتَابِ إلاَّ بِالَّتِی ھِیَ ٲَحْسَنُ إلاَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِی
واقف ہے اور ﴿اے مومنو﴾ اہل کتاب سے مناظرہ نہ کیا کرو مگر بہترین اندازسے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ظلم کیا اور کہہ دو
ٲُنْزِلَ إلَیْنَا وَٲُنْزِلَ إلَیْکُمْ وَ إلھُنَا وَ إلھُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ ﴿٤٦﴾ وَکَذلِکَ
ہم ایمان لائے اس پر جو ﴿کتاب﴾ ہم پراتری اور جو تم پراتری اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے. اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں اور ﴿اے رسول(ص)﴾
ٲَنْزَلْنَا إلَیْکَ الکِتَابَ فَالَّذِینَ آتَیْنَاھُمُ الکِتَابَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمِنْ ھٰؤُلاَئِ مَنْ یُؤْمِنُ بِہِ وَمَا
اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کتاب نازل کی وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان ﴿عربوں﴾ میں سے بھی
یَجْحَدُ بِآیاتِنَا إلاَّ الکَافِرُونَ ﴿٤٧﴾ وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَابٍ وَلاَ تَخُطُّہُ
بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آتیوں کا سوائے کافروں کے کوئی انکار نہیں کرتا اور﴿اے رسول(ص)﴾ قرآن سے پہلے نہ تم کوئی کتاب پڑھتے تھے
بِیَمِینِکَ إذاً لاَرْتابَ المُبْطِلُونَ ﴿٤٨﴾ بَلْ ھُوَ آیاتٌ بَیِّنَاتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ ٲُوتُوا
اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے ضرور شک کرتے مگر یہ ﴿قرآن﴾ روشن آیتیں ہیں جوان کے دلوں میں ہے جن کو علم عطا ہوا
العِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إلاَّ الظَّالِمُونَ ﴿٤٩﴾ وَقَالُوا لَوْلاَ ٲُنْزِلَ عَلَیْہِ آیَاتٌ مِنْ رَبِّہِ قُلْ
ہے اورسرکشوں کے سواکوئی ہماری آیتوں کا منکر نہیں. اور کافر کہتے ہیں کہ اس رسول(ص) پراسکے رب کی طرف سے کیوں معجزے نہیں اترتے. کہہ
إنَّمَا الاَْیَاتُ عِنْدَ اﷲِ وَ إنَّمَا ٲَنَا نَذِیرٌ مُبِینٌ ﴿٥٠﴾ٲَوَ لَمْ یَکْفِھِمْ ٲَ نَّا ٲَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الکِتَابَ
دو کہ معجزے تو بس خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر
یُتْلَی عَلَیْھِمْ إنَّ فِی ذلِکَ لَرَحْمَۃً وَذِکْریٰ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿٥١﴾ قُلْ کَفٰی بِاﷲِ بَیْنِی
قرآن اتارا جو ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے. بے شک اس میں ایمانداروں کیلئے بڑی مہربانی اور اچھی نصیحت ہے. کہدو کہ میرے
وَبَیْنَکُمْ شَھِیداً یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَالَّذِینَ آمَنُوا بِالبَاطِلِ وَکَفَرُوا بِاﷲِ
اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے خدا ہی کافی ہے جو آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو جانتا ہے. اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا کا انکار کیا وہ
ٲُولیِکَ ھُمُ الخَاسِرُونَ ﴿٥٢﴾ وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَلَوْلاَ ٲَجَلٌ مُسَمّیً لَجَائَھُمُ
لوگ بڑے گھاٹے میں رہیں گے. اور ﴿اے رسول(ص)﴾ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اگر وقت مقرر نہ ہوتا تو ضرور ان پر عذاب
العَذَابُ وَلِیَٲْتِیَنَّھُمْ بَغْتَۃً وَھُمْ لاَ یَشْعُرُونَ ﴿٥٣﴾ یَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَ إنَّ جَھَنَّمَ
آگیا ہوتا اور وہ یقیناً ان پر اچانک آپڑے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اس میں شک نہیں کہ
لَمُحِیطَۃٌ بِالکَافِرِینَ ﴿٥٤﴾ یَوْمَ یَغْشَاھُمُ العَذَابُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ ٲَرْجُلِھِمْ
دوزخ کافروں کو گھیر کر رہے گی. جس دن عذاب انکے سروں کے اوپر اور پائوں کے نیچے سے گھیرے ہوئے ہوگا تب خدا ان
وَیَقُولُ ذُوقُوا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٥٥﴾ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ آمَنُوا إنَّ ٲَرْضِی وَاسِعَۃٌ فَ إیَّایَ
سے کہے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اب اسکا مزہ چکھو اے میرا وہ بندہ جو ایمان لایا ہو، میری زمین تو یقیناً کشادہ ہے پس تم
فَاعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ المَوْتِ ثُمَّ إلَیْنَا تُرْجَعُونَ ﴿٥٧﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا
میری ہی عبادت کرو ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے. پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائوگے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا
وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِنَ الجَنَّۃِ غُرَفاً تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الاََنْھَارُ خَالِدِینَ فِیھَا
اور اچھے اچھے کام کیے ہم ان کو جنت کے گھروں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،
نِعْمَ ٲَجْرُ العَامِلِینَ ﴿٥٨﴾ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَیٰ رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ ﴿٥٩﴾ وَکَٲَیِّنْ مِنْ دَابَّۃٍ
نیکولوگوں کا کیا خوب اجر ہے، جنہوں نے صبر سے کام لیااور اپنے رب پر بھر وسہ رکھتے ہیںزمین پر چلنے والوں میں بہت سے ایسے ہیں
لاَ تَحْمِلُ رِزْقَھَا اﷲُ یَرْزُقُھَا وَ إیَّاکُمْ وَھُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿٦٠﴾ وَلَئِنْ سَٲَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ
جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی انہیں اور تمہیںروزی دیتا ہے اور وہ بڑا سننے والا واقف کار ہے اور ﴿اے رسول(ص) ﴾اگر تم ان
السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لَیَقُولُنَّ اﷲُ فَٲَ نّٰی یُؤْفَکُونَ ﴿٦١﴾ اﷲُ
سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا تو وہ ضرور کہیں گے اﷲ تعالیٰ نے، پھر وہ کہاں
یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِہِ وَیَقْدِرُ لَہُ إنَّ اﷲَ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیمٌ ﴿٦٢﴾ وَلَئِنْ
بہکے جاتے ہیں خدا ہی اپنے بندوں میں سے جسکی چاہے روزی وسیع کر دے اور جس کیلئے چاہے تنگ کر دے. بے شک خدا ہر چیز سے
سَٲَلْتَھُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمائِ مَائً فَٲَحْیَا بِہِ الاََرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُولُنَّ اﷲُ قُلِ الحَمِدُ
واقف ہے اور ﴿اے رسول(ص)﴾ اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے زمین کو آباد کیا جب کہ وہ مردہ تھی وہ
لِلّہِ بَلْ ٲَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُونَ ﴿٦٣﴾ وَمَا ھذِہِ الحَیَاۃُ الدُّنْیَا إلاَّ لَھْوٌ وَلَعِبٌ وَ إنَّ الدَّارَ
ضرور کہیں گے کہ اﷲ نے ،﴿اے رسول(ص)﴾ کہہ دو الحمداﷲ.مگر ان میں سے اکثرسمجھتے نہیں ہیں اور یہ دنیا وی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے
الآخِرَۃَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿٦٤﴾ فَ إذَا رَکِبُوا فِی الفُلْکِ دَعَوُا اﷲَ
اور اگر یہ لوگ سمجھیں بوجھیں تو ہمیشہ زندہ رہنے کی جگہ تو آخرت ہی کا گھر ہے. پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کے عبادت گزار بن
مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاھُمْ إلَی البَرِّ إذَا ھُمْ یُشْرِکُونَ ﴿٦٥﴾ لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاھُمْ
کر اس سے دعا کرتے ہیں.پس جب وہ خشکی پر پہنچا کر. انہیں بچالیتا ہے تو فوراً شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کا انکار کریں اور
وَلِیَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ﴿٦٦﴾ٲَوَ لَمْ یَرَوْا ٲَ نَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ
دنیا کے مزے لوٹیں تو نتیجہ جلدہی انکو معلوم ہو جائیگا. کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے حرمِ مکہ کو امن کی جگہ بنایا، حالانکہ اسکے گردونواح میں لوگ
حَوْلِھِمْ ٲَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَۃِ اﷲِ یَکْفُرُونَ ﴿٦٧﴾ وَمَنْ ٲَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اﷲِ
لٹ جاتے ہیں تو کیا یہ لوگ جھوٹوں کو مانتے اور خدا کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور جو شخص خدا پر جھوٹ باندھے یا جب حق بات
کَذِباً ٲَوْ کَذَّبَ بِالحَقِّ لَمَّا جَائَہُ ٲَلَیْسَ فِی جَھَنَّمَ مَثْویً لِلْکَافِرِینَ ﴿٦٨﴾ وَالَّذِینَ
اس کو پہنچے تو اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کون ہوگا. کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟اور جن لوگوں نے ہمارے لیے
جَاھَدُوا فِینَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَ إنَّ اﷲَ لَمَعَ المُحْسِنِینَ ﴿٦٩﴾۔
جہاد کیا تو ضرور ہم ان کو اپنی راہ کی ہدایت کریں گے اور بیشک خدا نیک لوگوں کا ساتھی ہے۔


سورہ روم
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الَمَ ﴿١﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿٢﴾ فِی ٲَدْنَی الاََرْضِ وَھُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿٣﴾ فِی
الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا
بِضْعِ سِنِینَ لِلّہِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿٤﴾ بِنَصْرِ اﷲِ یَنْصُرُ
کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے
مَنْ یَشَائُ وَھُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿٥﴾وَعْدَ اﷲِ لاَ یُخْلِفُ اﷲُ وَعْدَہُ وَلکِنَّ ٲَکْثَرَ النَّاسِ لاَ
اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے
یَعْلَمُونَ ﴿٦﴾ یَعْلَمُونَ ظَاھِراً مِنَ الحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الآخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُونَ ﴿٧﴾ ٲَوَ
یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے
لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی ٲَنْفُسِھِمْ مَا خَلَقَ اﷲُ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَٲَجَلٍ
دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت
مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّھِمْ لَکَافِرُونَ﴿٨﴾ٲَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ
کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان
فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَانُوا ٲَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَٲَثَارُوا الاََرْضَ
لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد
وَعَمَرُوھَا ٲَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوھَا وَجَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ اﷲُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلکِنْ
کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے
کَانُوا ٲَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ﴿٩﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِینَ ٲَسَاؤُوا السُّوٲی ٲَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اﷲِ
ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے
وَکَانُوا بِھَا یَسْتَھْزِیُونَ﴿١٠﴾ اﷲُ یَبْدَٲُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُھُ ثُمَّ إلَیْہِ تُرْجَعُونَ﴿١١﴾ وَیَوْمَ
اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس
تَقُومُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿١٢﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ مِنْ شُرَکَائِھِمْ شُفَعَائُ وَکَانُوا
دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا
بِشُرَکَائِھِمْ کَافِرِینَ﴿١٣﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿١٤﴾ فَٲَمَّا الَّذِینَ
اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا
آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَھُمْ فِی رَوْضَۃٍ یُحْبَرُونَ ﴿١٥﴾ وَٲَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا
اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں
بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَۃِ فَٲُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿١٦﴾فَسُبْحَانَ اﷲِ حِینَ تُمْسُونَ
اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور
وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْھِرُونَ ﴿١٨﴾
جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے
یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَکَذٰلِکَ
وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی
تُخْرَجُونَ ﴿١٩﴾ وَمِنْ آیَاتِہِ ٲَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا ٲَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿٢٠﴾
مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے
وَمِنْ آیَاتِہِ ٲَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ ٲَنْفُسِکُمْ ٲَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً
اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت
إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿٢١﴾ وَمِنْ آیَاتِہِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ
و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے ﴿خداکی﴾ نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری
وَاخْتِلاَفُ ٲَلْسِنَتِکُمْ وَٲَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿٢٢﴾وَمِنْ آیَاتِہِ مَنَامُکُمْ
زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و
بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِہِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿٢٣﴾ وَمِنْ
کرم ﴿روزی﴾ کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی
آیَاتِہِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِہِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا إنَّ
نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،
فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿٢٤﴾وَمِنْ آیَاتِہِ ٲَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِٲَمْرِہِ ثُمَّ إذَا
بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم
دَعَاکُمْ دَعْوَۃً مِنَ الاََرْضِ إذَا ٲَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿٢٥﴾وَلَہُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ
ہیں پھر﴿موت کے بعد﴾ جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم ﴿زندہ ہوکر﴾ زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے
لَہُ قَانِتُونَ ﴿٢٦﴾ وَھُوَ الَّذِی یَبْدَٲُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ وَھُوَ ٲَھْوَنُ عَلَیْہِ وَلَہُ المَثَلُ الاََعْلَی
اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے
فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَھُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿٢٧﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ ٲَنْفُسِکُمْ ھَلْ
اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم
لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ ٲَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَائَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَٲَنْتُمْ فِیہِ سَوَائٌ تَخَافُونَھُمْ
نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم ﴿اور وہ﴾ اس میں برابر ہوجائو
کَخِیفَتِکُمْ ٲَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿٢٨﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا
﴿کیا﴾ تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے
ٲَھْوَائَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَھْدِی مَنْ ٲَضَلَّ اﷲُ وَمَا لَھُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿٢٩﴾ فَٲَقِمْ وَجْھَکَ
بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے
لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَۃَ اﷲِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اﷲِ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ
پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ
وَلکِنَّ ٲَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿٣٠﴾ مُنِیبِینَ إلَیْہِ وَاتَّقُوہُ وَٲَقِیمُوا الصَّلاۃَ وَلاَ تَکُونُوا
میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی
مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿٣١﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَھُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ
سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو
فَرِحُونَ ﴿٣٢﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّھُمْ مُنِیبِینَ إلَیْہِ ثُمَّ إذا ٲَذَاقَھُمْ مِنْہُ رَحْمَۃً
دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب
إذَا فَرِیقٌ مِنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُونَ﴿٣٣﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاھُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٣٤﴾
وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے
ٲَمْ ٲَنْزَلْنَا عَلَیْھِمْ سُلْطَاناً فَھُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِہِ یُشْرِکُونَ ﴿٣٥﴾ وَ إذَا ٲَذَقْنَا النَّاسَ
انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟
رَحْمَۃً فَرِحُوا بِھَا وَ إنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ ٲَیْدِیھِمْ إذَا ھُمْ یَقْنَطُونَ ﴿٣٦﴾ ٲَوَ لَمْ
اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا
یَرَوْا ٲَنَّ اﷲَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿٣٧﴾
ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.
فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّہُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْہَ اﷲِ
پس﴿اے رسول(ص)﴾ اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی
وَٲُولٰٓئِکَ ھُمُ المُفْلِحُونَ ﴿٣٨﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی ٲَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ
چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں
عِنْدَ اﷲِ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْہَ اﷲِ فَٲُولٰٓئِکَ ھُمُ المُضْعِفُونَ ﴿٣٩﴾ اﷲُ
بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے
الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ ھَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ
جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں
مِنْ شَیئٍ سُبْحانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿٤٠﴾ ظَھَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا
میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں
کَسَبَتْ ٲَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَھُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ ﴿٤١﴾قُلْ سِیرُوا فِی
کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں
الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ ٲَکْثَرُھُمْ مُشْرِکِینَ ﴿٤٢﴾ فَٲَقِمْ
﴿اے رسول(ص)﴾ کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.
وَجْھَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ ٲَنْ یَٲْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَہُ مِنَ اﷲِ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿٤٣﴾
﴿اے رسول(ص)﴾ وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا
مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِھِمْ یَمْھَدُونَ ﴿٤٤﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ
ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِہِ إنَّہُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿٤٥﴾ وَمِنْ آیَاتِہِ ٲَنْ یُرْسِلَ
اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے
الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِہِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِٲَمْرِہِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِہِ
کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں
وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿٤٦﴾ وَلَقَدْ ٲَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِھِمْ فَجَائُوھُمْ
چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور﴿اے رسول(ص)﴾ ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ
بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ ٲَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿٤٧﴾اﷲُ الَّذِی
روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے
یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُہُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُہُ کِسَفاً فَتَرَی
جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو
الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِہِ فَ إذَا ٲَصَابَ بِہِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِہِ إذا ھُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿٤٨﴾
کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں
وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ ٲَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمُبْلِسِینَ ﴿٤٩﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَۃِ اﷲِ
اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ
کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿٥٠﴾
مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
وَلَئِنْ ٲَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَٲَوْہُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِہِ یَکْفُرُونَ ﴿٥١﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ
اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس ﴿اے رسول(ص)﴾ تم اپنی آواز نہ
المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَائَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿٥٢﴾ وَمَا ٲَنْتَ بِھَادِی العُمْیِ عَنْ
مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو
ضَلاَلَتِھِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَھُمْ مُسْلِمُونَ ﴿٥٣﴾ اﷲُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ
تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز
ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفاً وَشَیْبَۃً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ
﴿نطفہ﴾ سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے
وَھُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿٥٤﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَۃٍ
اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی
کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿٥٥﴾ وَقَالَ الَّذِینَ ٲُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ
طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے
اﷲِ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَہذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿٥٦﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ
تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے
الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُھُمْ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿٥٧﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی ھذَا القُرْآنِ
عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَھُمْ بِآیَۃٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ ٲَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿٥٨﴾
اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو
کَذالِکَ یَطْبَعُ اﷲُ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿٥٩﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ اﷲِ حَقٌّ وَلاَ
جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو ﴿اے رسول(ص)﴾ تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے
یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿٦٠﴾
اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔


سورہ دخان
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
حمَ ﴿١﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ٢﴾ إنَّا ٲَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃٍ مُبارَکَۃٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿٣﴾ فِیھَا
حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب
یُفْرَقُ کُلُّ ٲَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿٤﴾ ٲَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿٥﴾ رَحْمَۃً مِنْ رَبِّکَ إنَّہُ
قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے
ھُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿٦﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿٧﴾
بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو
لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿٨﴾بَلْ ھُمْ فِی شَکٍّ
اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں
یَلْعَبُونَ﴿٩﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَٲْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿١٠﴾ یَغْشَی النَّاسَ ہذَا عَذَابٌ
پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو
ٲَلِیمٌ ﴿١١﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿٢١﴾ٲَ نَّی لَھُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ
﴿کافربھی﴾ کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں ﴿بھلا﴾ اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،
جَائَھُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿١٣﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿١٤﴾ إنَّا کَاشِفُواْ
جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسول(ص) آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے ﴿اچھا﴾ ہم تھوڑے دنوں
العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَائِدُونَ ﴿١٥﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَۃَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿١٦﴾
کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَھُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَائَھُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿١٧﴾ ٲَنْ ٲَدُّوا إلیَّ عِبَادَ اﷲِ إنِّی
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر ﴿موسیٰ﴾ آئے ﴿اورکہا﴾ کہ بندگان خدا﴿بنی اسرائیل﴾ کو میرے حوالے کردو کہ
لَکُمْ رَسُولٌ ٲَمِینٌ ﴿١٨﴾وَٲَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی اﷲِ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿١٩﴾وَ إنِّی
میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس
عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ ٲَنْ تَرْجُمُونِ ﴿٢٠﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿٢١﴾ فَدَعَا
چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو﴿ وہ تنگ کرنے لگے﴾ تب موسیٰ
رَبَّہُ ٲَنَّ ھؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿٢٢﴾فَٲَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿٢٣﴾ وَاتْرُکِ
نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو ﴿حکم ملا﴾ تم میرے بندوں ﴿بنی اسرائیل﴾ کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم
البَحْرَ رَھْواً إنَّھُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿٢٤﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿٢٥﴾وَزُرُوعٍ
ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،
وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿٢٦﴾وَنَعْمَۃٍ کَانُوا فِیھَا فَاکِھِینَ﴿٢٧﴾کَذٰ لِکَ وَٲَوْرَثْنَاھَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿٢٨﴾
نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا
فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿٢٩﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ
پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے
العَذَابِ المُھِینِ﴿٣٠﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّہُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿٣١﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاھُمْ
نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر
عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿٣٢﴾ وَآتَیْنَاھُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیہِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿٣٣﴾ إنَّ ھؤُلاَئِ
سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ ﴿کفار مکہ﴾ مسلمانوں سے کہتے ہیں
لَیَقُولُونَ ﴿٣٤﴾ إنْ ھِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿٣٥﴾ فَٲْتُوا بِآبَائِنَا إنْ
کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ
کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿٣٦﴾ ٲَھُمْ خَیْرٌ ٲَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ ٲَھْلَکْنَاھُمْ إنَّھُمْ کَانُوا
کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار
مُجْرِمِینَ﴿٣٧﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَالاَعِبِینَ ﴿٣٨﴾ مَاخَلَقْناھُمَا
لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک
إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ ٲَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُھُمْ ٲَجْمَعِینَ ﴿٤٠﴾
مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے﴿ قیامت﴾ کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے
یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ ھُمْ یُنْصَرُونَ ﴿٤١﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ اﷲُ إنَّہُ ھُوَ
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،
العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿٤٢﴾ إنّ َشَجَرَۃَ الزَّقُّومِ ﴿٤٣﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿٤٤﴾ کَالْمُھْلِ یَغْلِی
رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح
فِی البُطُونِ ﴿٤٥﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿٤٦﴾ خُذُوہُ فَاعْتِلُوہُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿٤٧﴾
پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے ﴿حکم ہوگا فرشتو!﴾ اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو
ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَٲْسِہِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿٤٨﴾ ذُقْ إنَّکَ ٲَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿٤٩﴾
پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.
إنَّ ھذَا مَا کُنْتُمْ بِہِ تَمْتَرُونَ﴿٥٠﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ ٲَمِینٍ﴿٥١﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿٥٢﴾
یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،
یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿٥٣﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاھُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿٥٤﴾
وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے
یَدْعُونَ فِیھَا بِکُلِّ فَاکِھَۃٍ آمِنِینَ ﴿٥٥﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیھَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَۃَ الاَُولَیٰ
وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے
وَوَقَاھُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿٥٦﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ ھُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿٥٧﴾
اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿٥٨﴾فَارْتَقِبْ إنَّھُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿٥٩﴾۔
پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی ﴿قیامت کے﴾ منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔




۳
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مقدمہ تعارف
بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِہِ، وَخَلَقَ الْاَشْیائَ ناطِقَۃً بِحَمْدِہِ وَشُکْرِہِ،
سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں
وَ الصَّلاَۃُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّہِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُہُ مِنِ اسْمِہِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِہِ
اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمد(ص) پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی
الطَّاھِرِینَ ٲُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ۔
پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔
امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی ﴿خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے﴾ عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان﴿جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے﴾کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:
پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔
دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
تیسرا باب : اس میں آئمہ (ع)کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔﴿مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں﴾۔جزاک اللہ احسن الجزا


باب اول
اس میں تعقیبات نماز، ایام ہفتہ کی دعائیں، شب و روز جمعہ کے اعمال، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجاتیں شامل ہیں ۔اور اس میں کئی ایک فصلیں ہیں۔

پہلی فصل --------------------------------------------------------------------------------- تعقیبات مشترکہ
شیخ طوسی (رح)کی کتاب مصباح وغیرہ سے نقل ہوا ہے کہ جب نمازکا سلام پھیر لیں تو تین دفعہ اﷲ اکبر کہیں، ہر دفعہ اپنے ہاتھوں کو کانوںتک بلند کریںاور اسکے بعد یہ کہیں:
لاََ إلہَ إلاَّ اﷲُ إلھاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ، لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَلاَ نَعْبُدُ إلاَّ إیَّاہُ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں وہی معبود یگانہ ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں خدا کے سوا کوئی معبود نہیںہم بس اسی کی عبادت کرتے
مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ رَبُّنَا وَرَبُّ آبائِنَا الْاَوَّلِینَ
ہیںاسی کے دین کیساتھ مخلص ہیں خواہ مشرکین کو ناگوارہی لگے ،خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں جو ہمارا اور ہمارے آباؤاجداد کا
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ، ٲَ نْجَزَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَٲَعَزَّ جُنْدَہُ
رب ہے، خدا کے سوا کوئی معبود نہیںجو یکتا ہے ،واحد ہے، ایک ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی نصرت فرمائی اپنے
وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہُ، فَلَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَ یُمِیتُ وَیُحْیِی
لشکر کو غالب کیا اور اکیلے ہی جتھوں کو مار بھگایا، پس ملک اسی کا اور حمد اسی کے لیے ہے وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے
وَھُوَ حَیٌّ لاَیَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ پھر کہے: ٲَسْتَغْفِرُ
وہی موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیں۔ خیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ میں اس خدا سے بخشش
اَﷲَ الَّذی لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَٲَ تُوْبُ إلَیْہِ۔ پھر کہے: اَللّٰھُمَّ أھْدِنِی مِنْ
چاہتا ہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اے اﷲ اپنی جانب
عِنْدِکَ، وَٲَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَأنْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحْمَتِکَ، و َٲَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ
سے میری رہنمائی فرما اورمجھ پر اپنا فضل وکرم فرما، اور مجھ پر اپنی رحمت پھیلا دے اور مجھ پر اپنی برکات
بَرَکاتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ أغْفِرْ لِی ذُنُوْبِی کُلَّہٰا جَمِیعاً، فَ إنَّہُ لا یَغْفِرُ
نازل فرما، تیری ذات پاک ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں میرے سارے کے سارے گناہ
الذُّنُوبَ کُلَّھا جَمِیعاً إلاَّ ٲَ نْتَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ ٲَحَاطَ بِہِ عِلْمُکَ،
معاف فرما کہ تیرے سوا کوئی سارے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اے اﷲ تجھ سے ہر اس خیر کا طلب گار ہوں جس کا تیرا علم احاطہ کیے
وَٲَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ ٲَحَاطَ بِہِ عِلْمُکَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ عَافِیَتَکَ فِی ٲُمُوْریِ
ہوئے ہے اور ہراس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس پر تیرا علم محیط ہے اے اﷲ میں اپنے تمام امور میں تجھ سے عافیت طلب
کُلِّھا، وَٲَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الاَْخِرَۃِ، وَٲَعُوذُ بِوَجْھِکَ الکَرِیمِ،
کرتا ہوں ، میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری کریم ذات
وَعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ تُرامُ، وَقُدْرَتِکَ الَّتِی لاَ یَمْتَنِعُ مِنْھَا شَیْئٌ، مِنْ شَرِّ الدُّنْیا وَالاَْخِرَۃِ،
اور بلند مقام کہ جس تک کسی کی رسائی نہیں اور تیری قدرت کہ جس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ان کے ذریعے دنیا و آخرت
وَمِنْ شَرِّ الْأَوْجاعِ کُلِّھٰا، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّۃٍ ٲَ نْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھا، إنَّ رَبِّی عَلی
کے شر اور تمام درد و اذیت اور ہر حیوان کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے، بے شک میرے رب کا
صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ
راستہ مستقیم ہے اور طاقت و قوت بس خدائے عظیم وبرتری سے ملتی ہے اور میرا بھروسہ اس زندہ ﴿خدا﴾
الَّذِی لاَ یَمُوتُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ،
پر ہے جس کے لیے موت نہیں، حمد اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو فرزند بنایا نہ کوئی اس کے ملک میں شریک ہے
وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً۔
اور نہ اس کی عاجزی کے سبب کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی کا اظہار کرو۔
اس کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ =پڑھیں اور اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے پہلے دس مرتبہ کہیں:
ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ إلہاً وَاحِداً ٲَحَداً فَرْداً صَمَداً، لَمْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں وہ معبود یگانہ ، یکتا ،واحد ﴿اور﴾بے نیاز ہے کہ جس کی
یَتَّخِذْ صاحِبَۃً وَلا وَلَداً۔
نہ زوجہ ہے اور نہ ہی اولاد ہے
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ تہلیل بہت زیادہ فضیلت رکھتی ہے خصوصًا صبح اور رات کی نمازکی تعقیب میںاور طلوع وغروب کے وقت اسکے پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہ دعا پڑھیں:
سُبْحانَ اﷲِ کُلَّما سَبَّحَ اﷲَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اﷲُ ٲَنْ یُسَبَّحَ وَکَمَا ھُوَ ٲَھْلُہُ
پاک ہے خدا ۔جب بھی کوئی چیز خداکی ایسی تسبیح کرے جسے وہ پسند کرتا ہے اور جس تسبیح کا وہ اہل ہے
وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلالِہِ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ کُلَّما حَمِدَ اﷲَ شَیْئٌ وَکَمَا
اور جیسی تسبیح اس کی کریم ذات اور جلالت و شان کے لائق ہے۔ حمد خدا ہی کیلئے ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی حمد کرے کہ جیسی
یُحِبُّ اﷲُ ٲَنْ یُحْمَدَ وَکَمَا ھُوَ ٲَھْلُہُ، وَ کَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلاَلِہِ۔ وَلاَ إلہَ
حمد کو وہ پسند کرتا ہے اور جیسی حمد کا وہ اہل ہے کہ جو اس کی کریم ذات اور عزت وجلال کے لائق ہے خدا کے سوا
إلاَّ اﷲُ کُلَّما ھَلَّلَ اﷲَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اﷲُ ٲَنْ یُھَلَّلَ وَکَمَا ھُوَ ٲَھْلُہُ وَکَمَا یَنْبَغِی
کوئی معبود نہیں جب بھی کوئی چیز اسکا ایسے ذکر کرے جیسے ذکر کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کا اہل ہے اور جو ذکر اس کی بزرگی اور عزت
لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلاَلِہِ وَاﷲُ ٲَکْبَرُ کُلَّما کَبَّرَ اﷲَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اﷲُ ٲَنْ یُکَبَّرَ
وجلال کے شایان شان ہے۔ خدا بزرگ تر ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی بزرگی بیان کرے جیسی بزرگی کو وہ پسند کرتا ہے
وَکَمَا ھُوَ ٲَھْلُہُ وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلالِہِ سُبْحانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ
جس کا وہ اہل ہے اور جو بزرگی اس کی اونچی شان اور عزت وجلال کے لائق ہے ،پاک ہے خدا اور حمد اسی کے لیے ہے
وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ، وَاﷲُ ٲَکْبَرُ عَلَی کُلِّ نِعمَۃٍ ٲَ نْعَمَ بِھَا عَلَیَّ وَعَلَی کُلِّ ٲَحَدٍ مِنْ خَلْقہِ
اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور خدا ہر نعمت پربزرگ تر ہے جو اس نے مجھے دی اور جو گزری ہوئی مخلوق کو دی
مِمَّنْ کَانَ ٲَوْ یَکُونُ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور تاقیامت آنے والی مخلوق کو ملتی رہے گی۔اے اﷲ: میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَسْٲَ لُکَ مِنْ خَیْرِ مَا ٲَرْجُو وَخَیْرِ مَا لاَ ٲَرْجُو، وَٲَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ
رحمت فرما۔میں تجھ سے وہ خیر طلب کرتا ہوںجس کا امیدوار ہوں اور وہ خیر بھی جس کی آرزو نہیں کی اور ہر اس شر سے تیری پناہ
مَا ٲَحْذَرُ وَمِنْ شَرِّ مَا لاَ ٲَحْذَرُ ۔
چاہتا ہوں جس کا مجھے خوف ہے اور جس کاخوف نہیں
اس کے بعد سورئہ حمد، آیت الکرسی ُاورآیت شَھِدَ اللّہُ ، آیۃ قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ اْلمُلْکِاور آیات سخرہ یعنی سورۂ اعراف کی درج ذیل تین آیات ﴿اِنَّ رَبَّکُمُ اﷲ سے مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾ کی تلاوت کریں اور پھر تین مرتبہ کہیں :
سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ
تمہارا صاحب عزت پروردگار ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ کہا کرتے ہیں اور سلام ہو سبھی انبیائ پر اور حمد ہے خدا کی
الْعالَمِینَ۔پھر تین مرتبہ کہے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ ٲَمْرِیَ
جو عالمین کا رب ہے۔ اے اﷲ! رحمت فرما محمد(ص)(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر اور میرے ہر کام میںکشائش وسہولت
فَرَجاً وَمَخْرَجاً، وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ ٲَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ ٲَحْتَسِبُ۔
قرار دے ،اور مجھے رزق دے جہاں سے توقع ہے اور جہاں سے توقع نہیں ہے۔
یہ حضرت یوسف (ع)کی وہ دعا ہے جب وہ زندان میں تھے تو حضرت جبرائیل (ع)نے انہیں یہ دعا تعلیم کی تھی اسکے بعد دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی پکڑیں اور بایاں ہاتھ آسمان کیطرف پھیلاکرسات مرتبہ کہیں:
یَارَبَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ
اے محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) کے رب! محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر اپنی رحمت نازل فرما اور آل(ع) محمد(ص) کو جلد کشادگی عطا فرما
یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی وَٲَجِرْ نِی مِنَ النَّارِ۔
اے عزت وجلال والے خدا! محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پراپنی رحمت نازل فرما ،مجھ پر رحم کر اور آتش جہنم سے پناہ میں رکھ
اس کے بعد بارہ مرتبہ قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحدُ، پڑھیں اور کہیں:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَالْاِکْنُونِ الْمَخْزُونِ الطَّاھِرِ الطُّھْرِ الْمُبَارَکِ وَٲَسْٲَلُکَ
اے اﷲ! میں تیرے پوشیدہ، مخزون ،پاک اور پاک کرنے والے بابرکت نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَسُلْطَانِکَ الْقَدِیمِ ، یَا وَاھِبَ الْعَطَایَا، وَیَا مُطْلِقَ الاَُْسَارَی،
اور تیرے بلند تر نام اور قدیم سلطنت کے واسطے سے سائل ہوں کہ اے انمول نعمتیں دینے والے ،اے قیدیوں کو رہائی عطا کرنے
وَیَافَکَّاکَ الرِّقابِ مِنَ النَّارِ، ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تُعْتِقَ
والے، اے بندوں کو جہنم سے چھٹکارہ دینے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور میری
رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَٲَنْ تُخْرِجَنِی مِنَ الدُّنْیَا سَالِماً وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ آمِناً وَٲَنْ تَجْعَلَ
گردن کو آگ سے آزاد کر دے اور مجھے دنیا سے سالم ایمان کیساتھ لے جا ، اور امن وامان سے مجھے جنت میںداخل فرما اور میری
دُعَائِی ٲَوَّلَہُ فَلاَحاً وَٲَوْسَطَہُ نَجاحَاً وَآخِرَہُ صَلاَحاً إنَّکَ ٲَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ۔
دعا کے اول کوفلاح اور اوسط کو کامیابی اور آخر کو بہتری کا موجب بنا دے۔بے شک تو ہر غیب کوخوب جانتا ہے ۔
صحیفہ علویہ میں ہے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، وَیَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُہُ السَّائِلُونَ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُہُ
اے وہ ﴿خدا﴾ جس کیلئے ایک بات سننا دوسری بات سننے سے مانع نہیں اور سائلوں کی کثرت غلطی میں نہیں ڈالتی اے وہ ذات
إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ، ٲَذِقْنِی بَرْدَ عَفْوِکَ، وَحَلاَوَۃَ رَحْمَتِکَ وَمَغْفِرَتِکَ۔ پڑھیں اور کہیں:
جسے اصرار کرنے والوں کا اصرار تنگ دل نہیں کرتا اپنے عفوودرگزر کی بدولت مجھے اپنی رحمت وبخشش کی لذت چکھا دے ۔
إلھِی ھذِہِ صَلاتِی صَلَّیْتُھا لاَ لِحاجَۃٍ مِنْکَ إلَیْھَا، وَلاَ رَغْبَۃٍ مِنْکَ فِیھَا، إلاَّ تَعْظِیماً
اے اﷲ !جو میں نے نمازپڑھی ہے یہ نہ اس لیے ہے کہ تجھے اسکی حاجت تھی اور نہ اس لیے ہے کہ تجھے اس میں رغبت تھی ہاں یہ
وَطَاعَۃً وَ إجَابَۃً لَکَ إلَی مَا ٲَمَرْتَنِی بِہِ، إلھِی إنْ کَانَ فِیھا خَلَلٌ ٲَوْ نَقْصٌ مِنْ رُکُوعِھا
صرف تیری تعظیم واطاعت اور تیرے حکم کی اتباع ہے جو تو نے مجھے دیا ۔خداوندا! اگر اس نماز میں کوئی خلل یا اس کے رکوع
ٲَوْ سُجُودِھا فَلاَ تُؤاخِذْنِی، وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ بِالْقَبُولِ وَالْغُفْرانِ۔
وسجود میںکچھ کمی ہو تواس پر میری گرفت نہ فرما اور اس کی قبولیت اور بخشش کے ساتھ مجھ پر فضل وکرم کر دے
نیزہرنماز کے بعدیہ دعا بھی پڑھیںجو پیغمبر (ص)نے امیرالمومنین (ع)کو حافظہ کی تقویت کیلئے تعلیم فرمائی:
سُبْحَانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی ٲَھْلِ مَمْلَکَتِہِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ یَٲْخُذُ ٲَھْلَ الْاَرْضِ
پاک ہے وہ خد اجو اپنی مملکت میںرہنے والوں پر زیادتی نہیں کرتا، پاک ہے وہ خدا جو طرح طرح کے عذاب سے اہل زمین پر
بِٲَلْوانِ الْعَذَابِ سُبْحانَ الرَّؤُوُفِ الرَّحِیمِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِی قَلْبِی نُوراً وَبَصَرَاً وَفَھْماً وَعِلْماً
گرفت نہیںکرتا۔پاک ہے وہ خدا جو مہربان رحم کرنے والا ہے۔اے معبود! میرے قلب میں نور،بصیرت، فہم
إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ مصباح کفعمی میں ہے کہ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں
اور علم کو جگہ دے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
ٲُعِیذُ نَفْسِی وَدِینِی وَٲَھْلِی وَمَالِی وَوَلَدِی وَ إخْوانِی فِی دِینِی، وَمَا رَزَقَنِی رَبِّی،وَخَواتَِیمَ
اپنے نفس، اپنے دین، اپنے اہل، اپنے مال، اپنی اولاد، اپنے دینی بھائیوں اور اپنے رب کے دئیے ہوئے رزق ،اپنے اعمال کے
عَمَلِی، وَمَنْ یَعْنِینِی ٲَمْرُہُ، بِاﷲِ الْوَاحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
انجام اور جس کسی سے تعلق رکھتا ہوں ان سب کو خدائے واحد ویکتائے و بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں کہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ جنا گیا
وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ، وَبِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شرِّ غَاسِقٍ
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، میں انکوصبح کے مالک کی پناہ میں دیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور اندھیری رات
إذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فی الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ، وَبِرَبِّ
کے شر سے جب چھا جائے ۔گرہوں پر پھونکنے والوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ میں ان سبکو انسانوں
النَّاسِ،مَلِکِ النَّاسِ، إلہِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخَنَّاسِ الَّذِی
کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے معبود کی پناہ میں دیتا ہوں۔ شیطان کے وسوسوں کے شر سے جو لوگوں کے
یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِالنَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔
دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔خواہ جنوں میں سے ہوں یاانسانوں میں سے ہو۔
شیخ شہید کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت رسول اﷲ (ص)نے فرمایا:جو یہ چاہے کہ خدااسے قیامت میں اسکے گناہوں سے مطلع نہ کرے اور اسکا دفترِ گناہ نہ کھولے تو وہ ہر نماز کے بعدیہ دعا پڑھے
اَللّٰھُمَّ إنَّ مَغْفِرَتَکَ ٲَرْجَی مِنْ عَمَلِی وَ إنَّ رَحْمَتَکَ ٲَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰھُمَّ إنْ کَانَ
اے اﷲ! تیری بخشش میرے عمل سے زیادہ امید افزا ہے اور تیری رحمت میرے گناہ سے زیادہ وسیع ہے۔ الہی اگر تیرے نزدیک
ذَ نْبِی عِنْدَکَ عَظِیماً فعَفْوُکَ ٲَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰھُمَّ إنْ لَمْ ٲَکُنْ ٲَھْلاً ٲَنْ ٲَبْلُغَ رَحْمَتَکَ
میرا گناہ عظیم ہے تو تیرا عفو میرے گناہ سے عظیم تر ہے۔ الہی اگر میں تیری رحمت تک پہنچنے کا اہل نہیں تو تیری رحمت ضرور مجھ
فَرَحْمَتُکَ ٲَھْلٌ ٲَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی لاََِنَّھَا وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔
تک اور مجھ پر چھا جانے کی اہل ہے کیونکہ اس نے تیرے کرم سے ہر چیز کو گھیرا ہو اہے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ۔
ابن بابویہ (رح)سے منقول ہے کہ جب تسبیح فاطمہ زہرا =پڑھ چکیں تو یہ کہیں:
اَللّٰھُمَّ ٲَ نْتَ السَّلاَمُ، وَمِنْکَ السَّلاَمُ، وَلَکَ السَّلاَمُ، وَ إلَیْکَ یَعُودُ السَّلاَمُ۔ سُبْحَانَ
اے معبود تو سلامتی والا ہے، سلامتی تیری طرف سے ہے ،سلامتی تیرے ہی لیے ہے اور سلامتی کی بازگشت تیری ہی طرف ہے
رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعَالَمِینَ
صاحب عزت وغالب پرودگار اس سے پاک ہے،جو کچھ یہ کہتے ہیں اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور ہر قسم کی حمد دونوں جہانوں کے
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ، اَلسَّلاَمُ عَلَی الْاَئِمَّۃِ الْھَادِین الْمَھْدِیِّینَ
پروردگار کیلئے ہے اے نبی آپ پر سلام اور خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں سلام ہو ائمہ پر جو ہدایت یافتہ ہادی ہیں
السَّلاَمُ عَلی جَمِیعِ ٲَنْبِیائِ اﷲِ وَرُسُلِہِ وَمَلاَئِکَتِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْنا وَعَلَیٰ عِبادِ اﷲِ الصَّالِحِینَ،
سلام ہو خدا کے سب نبیوں رسولوں اور فرشتوں پر۔سلام ہو ہم پر اور خدا کے صالح بندوں پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی عَلِیٍّ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبَابِ ٲَھْلِ
سلام ہو حضرت علی امیرالمؤمنین(ع) پر۔سلام ہو حسن(ع) وحسین(ع) پر جو تمام جوانان جنت کے
الْجَنَّۃِ ٲَجْمَعِینَ، السَّلاَمُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ
سید و سردار ہیں۔سلام ہو علی(ع) بن الحسین(ع) پر کہ جو زین العابدین(ع) ہیں۔سلام ہو محمد(ع) ابن
عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ، اَلسَّلاَمُ عَلَی مُوسَی بْنِ
علی باقر(ع) پر جو انبیائ کے علم کو کھولنے والے ہیں۔سلام ہو محمد (ص)کے فرزند جعفر صادق(ع) پر۔ سلام ہو جعفر صادق(ع) کے فرزند
جَعْفَرٍ الْکَاظِمِ اَلسَّلاَمُ عَلیٰ عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ
موسیٰ کاظم(ع) پر۔سلام ہو موسیٰ کاظم(ع) کے فرزند علی رضا (ع)پر۔سلام ہو علی رضا (ع)کے فرزند محمد الجواد (ع)پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْھادِی اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الزَّکِیِّ الْعَسْکَرِیِّ،
سلام ہو محمد الجواد (ع)کے فرزند علی الہادی (ع)پر۔سلام ہو علی الہادی(ع) کے فرزند حسن عسکری زکی (ع)پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحُجَّۃِ بْنِ الْحَسَنِ الْقائِمِ الْمَھْدِیِّ، صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ
سلام ہو حسن عسکری (ع)کے فرزند حجت القائم مہدی (ع) پر۔ ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں۔
پھر جو بھی حاجت ہو خدا سے طلب کریں۔ شیخ کفعمی فرماتے ہیں ہر نماز کے بعد یہ کہیں :
رَضِیتُ بِاﷲِ رَبّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ إمَاماً وَبِالْحَسَنِ
میں راضی ہوں اس پر کہ اﷲ میرا رب، اسلام میرا دین، محمد ö میرے نبی اور علی(ع) میرے امام ہیں۔ نیز حضرت حسن (ع)
وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَجَعْفَرٍ وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْخَلَفِ
و حسین(ع) و سجاد(ع) و محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) و موسی کاظم(ع) و علی رضا(ع) و محمدتقی(ع) و علی نقی(ع) وحسن عسکری(ع) اور حضرت مہدی القائم(ع)
الصَّالِحِ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ ٲَئِمَّۃً وَسَادَۃً وَقادَۃً، بِھِمْ ٲَتَوَلَّی، وَمِنْ ٲَعْدائِھِمْ ٲَتَبَرَّٲُ۔پھر تین مرتبہ کہیں:
میرے امام، سردار اور رہبر ہیں اور میں ان سے محبت رکھتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہوں۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعافِیَۃَ وَالْمُعافاۃَ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَۃِ۔
خداوندا! میں تجھ سے عفوودرگزر ، صحت وعافیت اور دنیا وآخرت میں بخشش کا طلب گار ہوں ۔


دوسری فصل --------------------------------------------------------------------------------- تعقیبات مخصوص

تعقیب نماز ظہر کتاب المتہجد میں ہے کہ نماز ظہر کی تعقیبات کے حوالے سے یہ دعا میں پڑھیں:
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمُ الْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
خدائے عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود نہیں، رب ِعرش بریں کے سوا کوئی سزاوارِ عبادت نہیں۔تمام حمد عالمین کے پالنے والے خدا ہی کیلئے ہے،
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ
اے خدا میں تجھ سے تیری رحمت اور یقینی مغفرت کے اسباب کا سوال کرتا ہوں ،ہر نیکی سے حصہ پانے اور ہر گناہ سے
وَالسَّلامَۃَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ۔ اَللّٰھُمَّ لاَتَدَعْ لِی ذَنْباً إلاَّغَفَرْتَہُ، وَلاَھَمَّاً إلاَّفَرَّجْتَہُ وَلاَسُقْماً إلاَّ
بچائو کا طلب گار ہوں، اے معبود! میرے ذمہ کوئی ایسا گناہ نہ چھوڑ جسے تو معاف نہ کرے۔ کوئی غم نہ دے جسے تو دور نہ کر دے، بیماری نہ دے مگر
شَفَیْتہَُ، وَلاَعَیْباً إلاَّسَتَرْتَہُ، وَلاَرِزْقاً إلاَّبَسَطْتَہُ وَلاَخَوْفاً إلاَّ
وہ جس سے شفا عطا کردے۔ عیب نہ لگا مگر وہ جسے تو پوشیدہ رکھے،رزق نہ دے مگر وہ جس میں فراخی عطا کرے، خوف نہ ہومگر
آمَنْتَہُ، وَلاَسُوئً إلاَّصَرَفْتَہُ، وَلاَحاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضاً
جس سے تو امن عطا کرے، برائی نہ آئے مگر وہ جسے تو ہٹا دے، کوئی حاجت نہ ہو مگر جسے تو پورا فرمائے اور اس میں تیری رضا
وَلِیَ فِیھا صَلاحٌ إلاَّقَضَیْتَھا یَاٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ۔پھر دس مرتبہ یہ کہیں:
اور میری بہتری ہو۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔ آمین اے عالمین کے پالنے والے
بِاﷲِ اعْتَصَمْتُ، وَبِاﷲِ ٲَثِقُ، وَعَلَی اﷲِ ٲَتَوَکَّلُ اس کے بعد یہ کہیں: اَللّٰھُمَّ إنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِی
اﷲ ہی سے متوسل ہوتاہوں، اﷲ ہی پر اعتماد ہے اور اﷲ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے معبود! اگر میرا گناہ بڑا ہے
فَٲَنْتَ ٲَعْظَمُ، وَ إنْ کَبُرَ تَفْرِیطِی فَٲَنْتَ ٲَکْبَرُ، وَ إنْ دامَ بُخْلِی فَٲَنْتَ ٲَجْوَدُ
تو تیری ذات سب سے بلند ہے۔ اگر میری کوتاہی بڑی ہے تو تیری ذات بزرگ تر ہے اور اگر میرا بخل دائمی ہے تو، تو زیادہ دینے والا ہے
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی عَظِیمَ ذُنُوبِی بِعَظِیمِ عَفْوِکَ، وَکَثِیرَ تَفْرِیطِی بِظَاھِرِ کَرَمِکَ، وَاقْمَعْ
اے اﷲ! اپنے عظیم عفو سے میرے بڑے گناہ بخش دے، اپنے لطف وکرم سے میری بہت سی کوتاہیاں معاف کر دے اور اپنے فضل
بُخْلِی بِفَضْلِ جُودِکَ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ ٲَسْتَغْفِرُکَ
اورعطا سے میرا بخل دور کردے۔ یا خدایا! ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں تجھ سے
وَٲَتُوبُ إلَیْکَ۔
بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔

تعقیب نماز عصر منقول از متہجد ٲَسْتَغْفِرُ اﷲَ الَّذِی لاَ إلہَ إلاَّھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
اس خدا سے بخشش چاہتاہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے بڑے رحم والا مہربان صاحب جلال و اکرام ہے،
وَٲَسْٲلُہُ ٲَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تَوْبَۃَ عَبْدٍ ذَلِیلٍ خاضِعٍ فَقِیرٍ بَائِسٍ مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ مُسْتَجِیرٍ
میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عاجز خاضع محتاج مصیبت زدہ مسکین بے چارہ طالب پناہ بندے کی توبہ قبول فرمائے جو
لاََ یَمْلِکُ لِنَفْسِہِ نَفْعاً وَلاَ ضَرَّاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیَاۃً وَلاَ نُشُوراً۔ اس کے بعد کہیں: اَللّٰھُمَّ إنِّی
اپنے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے نہ ہی اپنی موت وحیات اور آخرت پر اختیار رکھتا ہے۔ اے معبود میں سیر
ٲَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَمِنْ صَلاۃٍ لاَ
نہ ہونے والے نفس۔خوف نہ رکھنے والے دل۔ نفع نہ دینے والے علم۔قبول نہ ہونے والی نماز
تُرْفَعُ ، وَمِنْ دُعائٍ لاَیُسْمَعُ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ الْیُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ وَالْفَرَجَ بَعْدَ الْکَرْبِ
اور نہ سنی جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے مشکل کے بعد آسانی، دکھ کے بعد سکھ
وَالرَّخائَ بَعْدَ الشِّدَ ۃِ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ، ٲَسْتَغْفِرُکَ
اور تنگی کے بعد فراخی دے۔ یاخدایا! ہمارے پاس جو تیری نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میںتجھ سے
وَٲَتُوبُ إلَیْکَ ۔
بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔
حضرت امام جعفرصادق -فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے توخدا اسکے سات سو گناہ معاف کردے گا۔ حضرت امام محمدتقی -کا فرمان ہے کہ جوشخص بعد از نماز عصر دس مرتبہ سورئہ إنَّا ٲَ نْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرپڑھے تو قیامت میں اس کا یہ عمل مخلوق کے اس دن کے اعمال کے برابر اجر وثواب کے لائق ٹھہرے گا۔نیز ہر صبح وشام دعائ عثرات کا پڑھنا مستحب ہے لیکن بہترہے کہ یہ دعا روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھی جائے ۔ اس دعا کا ذکر بعد میں ہو گا۔

تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد تسبیح فاطمہ زہرا =کے بعد کہیں:
إنَّ اﷲَ وَمَلائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَا ٲَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً
بے شک اﷲ اور اسکے فرشتے نبی اکرم(ص) پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والو تم بھی نبی پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جسطرح سلام کا حق ہے،
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَعَلی ذُرِّیَّتِہِ وَعَلی ٲَھْلِبَیْتِہِ پھر سات مرتبہ کہیں: بِسْمِ اﷲِ
خداوندا! ﴿ہمارے ﴾ نبی محمد(ص)، ان کی اولاد اور ان کے اہلبی(ع)ت پر رحمت فرما۔ خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾
الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ إلاَّبِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تین مرتبہ کہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی
جو رحمن ورحیم ہے۔ خدا ئے بزرگ وبرتر کے علاوہ کسی کو طاقت و قوت نہیں ہے۔ ہر قسم کی تعریف خدا کیلئے ہے وہ
یَفْعَلُ مَا یَشَائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرُہُ۔پھر یہ کہیں: سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ اغْفِرْلِی
جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو جی چاہے کرسکے پاک ہے تو کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے سارے کے
ذُنُوبِی کُلَّھا جَمِیعاً، فَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّھا جَمِیعاً إلاَّ ٲَنْتَ۔
سارے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
پھر دو سلاموں کیساتھ مغرب کی چار رکعت نماز نافلہ بجالائیں اور درمیان میں کسی سے بات نہ کریں ۔شیخ مفید (رح) فرماتے ہیں: مروی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور دیگر دو رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھیں۔البتہ روایت ہے کہ امام علی نقی - تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیت سے وَھُوَ عَلِیْمُ، بِذَاتِ الصُّدُوْرِتک اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیت لَوْ اَنْزَلْنَا ھَذَا الْقُرْاَنسے آخر سورہ پڑھا کرتے تھے اور مستحب ہے کہ ہر شب کے نوافل کے آخری سجدہ اور خصوصاً شب جمعہ کو سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ ٲَنْ تُصَلِّی عَلیٰ
خدا وندا! تیری ذات کریم ،تیرے بلند وبالا نام اور تیرے قدیم اقتدار کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوںکہ تو محمد(ص)
مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَٲَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ۔
اور آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور میرے کبیرہ﴿بڑے﴾ گناہ معاف کردے کہ بڑے گناہ کو عظیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے ۔
جب مغرب کے نوافل سے فارغ ہوجائیں تو جو چاہیں پڑھیں۔ اور پھر دس مرتبہ کہیں :
مَا شَائَ اﷲ لاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ ٲَسْتَغْفِرُ اﷲَ پھر یہ کہیں : اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ
جو کچھ خدا چاہے۔ نہیں کوئی قوت سوائے خدا کے میں اس سے بخشش چاہتا ہوں، خداوند میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تیری رحمت
وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالنَّجاۃَ مِنَ النَّارِ، وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّۃٍ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ، وَالرِّضْوانَ فِی دارِ
کے وسائل اورتیری طرف سے یقینی مغفرت آتش جہنم سے نجات ،بلائوں سے بچانے، جنت میں داخل کیے جانے ، دارالسلام
السَّلاَمِ، وَجِوَارِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ وَآلِہِ اَلسَّلاَمُ۔ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ
میں تیری خوشنودی حاصل ہونے اور تیرے نبی حضرت محمد(ص) کے قرب کا ، خداوندا ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے
لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ، ٲَسْتَغْفِرُکَ وَٲَتُوبُ إلَیْکَ۔
تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔
نماز مغرب وعشائ کے درمیان دو رکعت نماز غفیلہ پڑھیں۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پڑھیں:
وَذَا النُّونِ إذْ ذَھَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ ٲَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ فَنادَی فِی الظُّلُماتِ ٲَنْ لاَ إلہَ
اور جب ذالنون غصے کی حالت میں چلا گیا تو اس کا گمان تھا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر اس نے تاریکیوں میں فریاد کی کہ تیرے
إلاَّ ٲَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَہُ وَنَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ
سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میںہی خطا کار وں میں سے ہوں تب ہم نے اسکی گزارش قبول کی اور اسے پریشانی سے
نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ۔دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پڑھیں:
بچایا اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔
وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُھَا إلاَّ ھُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَۃٍ إلاَّ
اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی کو معلوم ہے جو کچھ خشکی وتری میں ہے کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ
یَعْلَمُھا وَلاَ حَبَّۃٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ اس کے بعد
کہ وہ اسے جانتا ہے اورزمین کی تاریکیوں میںکوئی دانہ نہیں۔ کوئی خشک وتر نہیں مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے۔
دعائے قنوت کیلئے ہاتھ اٹھائیں اور پڑھیں: اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُہا
خداوندا میں تجھ سے کلیدہائے غیب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جسے سوائے تیرے کوئی
إلاّ ٲَنْتَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَٲَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا، پھر کہیں : اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ وَلِیُّ
نہیں جانتا کہ محمدوآل محمد(ع) پر رحمت نازل فرما اور میرے حق میں یہ کام کر دے کذاوکذا کی جگہ اپنی حاجت بیان کریں اے معبود!
نِعْمَتِی، وَالْقَادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حَاجَتِی، فَٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِہِ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ
تومجھے نعمت عطا کرنے والا ہے اور میری حاجت پر قدرت رکھتا ہے میری حاجت کو جانتا ہے پس محمد(ص)وآل محمد(ص) کے
اَلسَّلاَمُ لَمَّا قَضَیْتَھا لِی۔
واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری فرما۔
اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو یہ نماز پڑھے اور حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوجائے گی ۔

تعقیب نماز عشائ منقول از متہجد اَللَّٰھُمَّ إنَّہُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی، وَ إنَّما ٲَطْلُبُہُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَٲَجُولُ
خداوند ا! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے
فِی طَلَبِہِ الْبُلْدانَ، فَٲَنَا فِیَما ٲَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ، لاَ ٲَدْرِی ٲَفِی سَھْلٍ ھُوَ ٲَمْ فِی جَبَلٍ، ٲَمْ
چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میںہوں اس میں سرگرداں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں
فِی ٲَرْضٍ ٲَمْ فِی سَمائٍ، ٲَمْ فِی بَرٍّ ٲَمْ فِی بَحْرٍ، وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ
زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں، کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے
ٲَنَّ عِلْمَہُ عِنْدَکَ، وَٲَسْبابَہُ بِیَدِکَ، وَٲَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُہُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُہُ بِرَحْمَتِکَ
پاس ہے اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے
اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَہُ سَھْلاً وَمَٲْخَذَہُ
یا خدایا محمد(ص) وآل محمد(ع) پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور
قَرِیباً، وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْہِ رِزْقاً فَ إنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَٲَ نَا فَقِیرٌ إلَی
اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں
رَحْمَتِکَ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ۔
بینیاز ہے میں تیر ی رحمت کا محتاج ہوں پس محمد(ص)وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے۔
مولف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعائوں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشائ کی تعقیب میں سات مرتبہ سورئہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ﴿ نماز عشائ کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ﴾ میںقرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سوآیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورئہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھیں:

تعقیب نمازصبح منقول از مصباح متہجد اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاھْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ
اے معبود ! محمد (ص)وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور حق میں اختلاف کے مقام پر اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے۔ بے شک تو
تَھْدِی مَنْ تَشَائُ إلی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اے معبود ! محمد(ص) و آل محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیائِ الرَّاضِینَ الْمَرْضِیِّینَ بِٲَفْضَلِ صَلَواتِکَ، وَبارِکْ عَلَیْھِمْ بِٲَفْضَلِ
پر رحمت فرما جو اوصیائ ہیں کہ جو خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی ہے،ان کے لیے اپنی بہترین رحمتیں اور اپنی بہترین
بَرَکَاتِکَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْھِمْ وَعَلی ٲَرْواحِھِمْ وَٲَجْسَادِھِمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہُ۔
برکتیں قرار دے، ان پر اوران کی ارواح واجسام پرسلام ہو اور اﷲ کی رحمت وبرکت نازل ہو۔
اس درود و سلام کی جمعہ کے عصر میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اسکے بعد کہیں:
اَللّٰھُمَّ ٲَحْیِنِی عَلی مَا ٲَحْیَیْتَ عَلَیْہِ عَلِیَّ بْنَ ٲَبِی طَالِبٍ، وَٲَمِتْنِی عَلَی مَا ماتَ عَلَیْہِ عَلِیُّ
اے معبود ! مجھے اس راہ پر زندہ رکھ جس پر تو نے علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کوزندہ رکھا اور مجھے اسی راہ پر موت دے جس پر تونے
بْنُ ٲَبِی طالِبٍ عَلَیْہِ اَلسَّلاَمُ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْتَغْفِرُ اﷲَ وَٲَتُوبُ إلَیْہِ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْٲَلُ
امیر المومنین علی(ع) بن ابی طالب(ع) کو شہادت عطا فرمائی میں اﷲ سے بخشش چاہتاہوں اور اسکے حضور توبہ کرتا ہوں خدا سے
اﷲَ الْعَافِیَۃَ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْتَجِیرُ بِاﷲِ مِنَ النَّارِ۔پھر سو مرتبہ کہیں: وَٲَسْٲَلُہُ الْجَنَّۃَ۔پھر سو مرتبہ
صحت وعافیت مانگتاہوں میں آتش جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے جنت کا طالب ہوں
کہیں: ٲَسْٲَلُ اﷲَ الْحُورَ الْعِینَ۔پھر سو مرتبہ کہیں: لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ۔ سومرتبہ
میں اﷲ سے حورعین کا طالب ہوں اﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور روشن حق ہے۔
سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سو مرتبہ کہیں: صَلَّی اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔سو مرتبہ کہیں:
محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر خدا کی رحمت ہو
سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُﷲِ وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَاﷲُ ٲَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔
اﷲپاک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ برتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اﷲ بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔
سو مرتبہ کہیں: مَا شَائَ اﷲُ کَانَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔پھر کہیں: ٲَصْبَحْتُ
جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے اور اﷲ بزرگ و بر ترسے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت نہیں ہے۔ اے معبود میں نے
اَللّٰھُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمَامِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ شَرِّ کُلِّ غاشِمٍ وَطَارِقٍ
تیری عظیم نگہبانی میں صبح کی ہے ،جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا، نہ کوئی نیرنگ بار شب میں اس پر یورش کر پاتا ہے، اس مخلوق میں
مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّۃٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ
سے جو تو نے خلق فرمائی ہے اور نہ وہ مخلوق جسے تو نے زبان دی اور جسے زبان نہیں دی ہر خوف میں تیری پناہ
بِلِبَاسٍ سَابِغَۃٍ وَلاَئِ ٲَھْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ مُحْتَجِباً مِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلی ٲَذِیَّۃٍ، بِجِدَارٍ حَصِینِ
میں تیرے نبی (ص)کے اہلبیت(ع) کی ولا سے ساختہ لباس میں ملبوس ہر چیز سے محفوظ جو میرے اخلاص کی مضبوط دیوار میں
الاِِخْلاَصِ في الاعْتِرافِ بِحَقِّھِمْ وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِھِمْ، مُوقِناً ٲَنَّ الْحَقَّ لَھُمْ وَمَعَھُمْ
رخنا ڈالنا چاہے، یہ مانتے ہوئے کہ وہ حق ہیں ان کی رسی سے وابستگی ہے اس یقین سے کہ حق ان کیلئے ان کے ساتھ اور
وَفِیھِمْ وَبِھِمْ، ٲُوالِی مَنْ وَالَوْا، وَٲُجانِبُ مَنْ جَانَبُوا، فَٲَعِذْنِی اَللّٰھُمَّ بِھِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا
ان میں ہے جو ان کو چاہے میں اسے چاہتا ہوںجوان سے دور ہو میں اس سے دور ہوں پس اے خدا ان کے طفیل مجھے ہر اس شر
ٲَتَّقِیہِ یَا عَظِیمُ۔ حَجَزْتُ الْاَعادِیَ عَنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ
سے پناہ دے جسکا مجھے خوف ہے اے بلند ذات زمین وآسمان کی پیدائش کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور کر دے بے شک ہم
ٲَیْدِیھِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِھِمْ سَدّاً فَٲَغْشَیْناھُمْ فَھُمْ لاَ یُبْصِرُوُنَ۔
نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی پس ان کو ڈھانپ دیا کہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔
یہ امیرالمومنین - کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے اورتہذیب میں روایت ہے کہ جوشخص نمازِ صبح کے بعددرج ذیل دعا دس مرتبہ پڑھے توحق تعالیٰ اسکو اندھے پن، دیوانگی، کوڑھ، تہی دستی، چھت تلے دبنے، اور بڑھاپے میں حواس کھو بیٹھنے سے محفوظ فرماتا ہے:
سُبْحَانَ اﷲِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِھِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ باﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔
پاک ہے خدائے برتر اور تعریف سب اسی کی ہے اور نہیں کوئی حرکت وقوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ملتی ہے۔
نیز شیخ کلینی(رح)نے حضرت امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ جو نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیتا ہے﴿ ان میں سب سے معمولی زہرباد ، پھلبھری اور دیوانگی ہے﴾ اور اگر وہ شقی ہے تو اسے اس زمرے سے نکال کر سعیدونیک بخت لوگوں میں داخل کر دیا جائے گا۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔
اﷲ کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے نہیں کوئی حرکت وقوت مگرخدائے بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔
نیز آنحضرت(ص) سے روایت ہے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اور دردِچشم کے خاتمے کیلئے صبح اور مغرب کی نماز کیبعدیہ دعا پڑھیں:
اَللَّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
خداوندا! محمد(ص) وآل محمد(ص) کا جو تجھ پر حق ہے میں اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل محمد(ص) پر پر اپنی رحمت نازل فرما
واجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَۃَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی
کہ میری آنکھوںمیںنور ، میرے دین میں بصیرت، میرے دل میں یقین،میرے عمل میں اخلاص،
وَالسَّلامَۃَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَۃَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ ٲَبَداً مَا ٲَبْقَیْتَنِی۔
میرے نفس میں سلامتی اورمیرے رزق میں کشادگی عطا فرما اورجب تک زندہ رہوں مجھے اپنے شکر کی توفیق دیتا رہ۔
شیخ ابن فہد نے عدۃالداعی میں امام رضا - سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تووہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خداپوری فرمائے گا اور اسکی ہر مشکل آسان کردے گا:
بِسْمِ اﷲِ وَ صَلَّی اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍوَآلِہِ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إلَی اﷲِ إنَّ اﷲَ بَصِیرٌ
اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ خدا رحمت فرمائے محمد(ص) وآل محمد(ص) پر اور میں اپنا معاملہ سپرد خدا کرتا ہوں بے شک خدا بندوں کو دیکھتا ہے
بِالْعِبادِ فَوَقَاھُ اﷲُ سَیِّئاتِ مَا مَکَرُوا لاَ إلہَ إلاَّٲَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی
پس خدا اس شخص کو ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے پیدا کیں۔اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات ۔بیشک
کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَالَہُ وَنَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ حَسْبُنَااﷲُ
میں ظالموں میں سے تھا تو ہم ﴿خدا﴾نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے
وَنِعْمَ الْوَکیلُ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمۃٍ مِنَ اﷲِ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْھُمْ سُوئٌ مَا شَا ئَ اﷲُ لاَ حَوْلَ وَلَا
اور بہترین سرپرست ہے پس ﴿مجاہد﴾ خدا کے فضل وکرم سے اسطرح آئے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچی تھی جو اﷲ چاہے وہ ہو گا نہیں کوئی طاقت وقوت مگروہ
قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ، مَا شَائَ اﷲُ لاَ مَا شَائَ النَّاسُ مَا شَائَ اﷲُ وَ إنْ کَرِہَ النَّاسُ، حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ
جو اﷲسے ملتی ہے جو اﷲ چاہے وہ ہوگا نہ وہ جو لوگ چاہیں اور جو اﷲ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں پر گراں ہو میرے لئے پلنے والوں کے بجائے پالنے والا
الْمَرْبُوبِینَ حَسْبِیَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِینَ حَسْبِیَ اﷲُ رَبُّ
کافی ہے میرے لئے خلق ہونے والوں کی بجائے خلق کرنے والا کافی ہے میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔جہانوں کا
الْعالَمِینَ حَسْبِی مَنْ ھُوَ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ کَانَ مُذْ
پالنے والا ؛اﷲ؛ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے وہی میرے لیے کافی ہے وہ جو ہمیشہ سے کافی ہے میرے لیے کافی ہے۔وہ جو کافی
کُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِیَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ۔
ہے میں جب سے ہوں اور کافی رہے گا ،میرے لیے کافی ہے وہ اﷲ جسکے سوا کوئی معبودنہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
مؤلف کہتے ہیں میرے استاد ثقۃ الاسلام نوری (رح)﴿خدا انکی قبر کو روشن کرے﴾ کتاب دارالسلام میں اپنے استاد عالم ربانی حاج ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی ،سختی اور بد حالی میںمبتلا تھے انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے ، جب پوچھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہ ﴿عج﴾کا خیمہ ہے۔یہ سن کر جلدی سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرت نے انکو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور انکے خیمہ کی طرف اشارہ کیا اخوند حضرت کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید سند حبرمعتمد عالم امجد، مؤید بارگاہ آقای سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا وقرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے انکو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی ،وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبرہوچکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا ۔حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور انکے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو انکو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا ۔وہ مصلے پر بیٹھے ،اذکارواستغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویاوہ صورت حال سے واقف ہیں اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔حاج ملا فتح علی سلطان آبادی علیہ الرحمہ سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ انکی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملافتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:
﴿۱﴾فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ یَافَتَّاحُ کہیں۔ ﴿۲﴾پابندی سے کافی میںمذکورہ دعا پڑھتے رہیںجس کی رسول اﷲ (ص)نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اوراس دعا کی برکت سے چنددنوں میں اس کی پریشانی دور ہوگئی
﴿۳﴾نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ دعا پڑھا کریں اسکو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں۔ اور وہ دعا یہ ہے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو خدا سے ملتی ہے میں نے اس زندہ خدا پر توکل کیا جس کیلئے موت نہیں اور حمد اس اﷲ کیلئے ہے جسکی کوئی
وَلَداً، ولَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً۔
اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو
نیز جاننا چاہیے کہ نمازوں کے بعد سجدہ شکر مستحب ِمؤکد ہے اور اس کیلئے بہت سی دعائیں اور اذکاربیان ہوئے ہیں۔ امام علی رضا -فرماتے ہیں کہ سجدئہ شکر میں چاہیں تو سومرتبہ شُکْرًا شُکْرًا یا سومرتبہ عَفْوًا عَفْوًا کہیں، حضرت سے یہ بھی منقول ہے کہ سجدئہ شکر میںکم سے کم تین مرتبہ شُکْرًاﷲ کہیں۔واضح رہے کہ رسول اﷲ (ص)اورآئمہ طاہرین سے طلوع وغروب آفتاب کے وقت بہت سی دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں نیز معتبر روایات میں ان دونوں وقتوں میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس مختصر کتاب میں ہم محض چند مستند دعائوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

بعض ادعیہ صبح و شام اول:مشائخِ حدیث نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق (ع)سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پرواجب ہے کہ وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:بعض روایات میںہے کہ اگر یہ دعا وقت پر نہ پڑھ سکے تو اسکی قضا کرنا ضروری ہے
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ
خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کا ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے
وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَھُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
اور موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیںآتی۔ بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے

دوم:انہی حضرت(ع) کی معتبر روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ طلوع وغروب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
ٲَعُوذُ بِاﷲِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَٲَعُوذُ بِاﷲِ ٲَنْ یَحْضُرُونَ، إنَّ
میں شیاطین کے وسوسوں سے سننے جاننے والے خدا کی پناہ کا طلبگار ہوں اورخدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے قریب
اﷲَ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔
آئیں بے شک اﷲہی سننے اور جاننے والا ہے۔

سوم:آنجناب سے منقول ہے کہ تمہارے لیے کیا رکاوٹ ہے کہ صبح اور شام یہ دعا پڑھ لیا کریں:
اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَ بْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنِی
اے دلوں اور آنکھوں کے منقلب کرنے والے خدائے پاک میرے دل کو اپنے دین پر جما دے اسکے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر جب تو نے
وَھَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ ٲَنْتَ الْوَہَّابُ، وَٲَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰھُمَّ
مجھے ہدایت دی ہے۔ مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اسمیں شک نہیں کہ تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے
امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَٲَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی
آگ سے بچا اور محفوظ رکھ اے اﷲ میری عمر طویل کر دے میرے رزق میںوسعت پیدا کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور
ٲُمِّ الْکِتابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ ٲُمُّ الْکِتابِ۔
اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے یقینا تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔

چہارم:آنجناب سے مروی ہے کہ صبح شام یہ دعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشَائُ، وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرہُ، الْحَمْدُ لِلّٰہِِ کَمَا یُحِبُّ
ساری تعریف اس اﷲ کیلئے ہے کہ جو وہ چاہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو چاہے کر پائے ساری تعریف اﷲ کیلئے ہے کہ جیسی
اﷲُ ٲَنْ یُحْمَدَ، الْحَمْدُ لِلّٰہِِ کَمَا ھُوَ ٲَھْلُہُ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ ٲَدْخَلْتَ فِیہِ
تعریف وہ پسندکرتا ہے اور ساری تعریف اﷲ کیلئے ہے جیسا کہ وہ اسکا اہل ہے اے معبود! مجھے ہر اس نیکی میں داخل فرما جس میں تو
مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَٲَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ ٲَخْرَجْتَ مِنْہُ مَحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، صَلَّی
نے محمد(ص) وآل محمد(ص) کو داخل فرمایا ہے اور مجھے ہر اس برائی سے بچا کہ جس سے تونے محمد(ص) وآل محمد(ص) کو محفوظ ومامون رکھا خدا کی رحمت ہو
اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔سُبْحَانَ اﷲِ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ، وَاﷲُ ٲَکْبَرُ۔
محمد(ص) وآل محمد(ص) پر۔ اﷲ پاک ہے ساری تعریفیں اسی کیلئے ہیں اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ ہی بزرگتر ہے۔




۴
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) تیسری فصل: --------------------------------- ملحقات ِصحیفہ سجا دیہ سے منقو ل ایام ہفتہ کی دعائیں

دعا ئے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- یک شنبہ﴿ اتو ار﴾ خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
بِسْمِ اﷲِ الَّذِی لاَ ٲَرْجُو إلاَّ فَضْلَہُ، وَلاَ ٲَخْشیٰ إلاَّ عَدْلَہُ، وَلاَ ٲَعْتَمِدُ
اس اللہ کے نا م سے جسکے فضل و کرم ہی کا امید وار ہو ں اور اس کے عد ل ہی سے ڈرتا ہوں اور اسی کے قو ل پر بھر و سہ رکھتا ہو ں
إلاَّ قَوْلَہُ، وَلاَ ٲُمْسِکُ إلاَّ بِحَبْلِہِ، بِکَ ٲَسْتَجِیرُ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضْوانِ مِنَ الظُّلْمِ
اور اسی کی رسی پکڑے ہوئے ہوں اور در گزر کرنے اور راضی ہو جا نے والے ﴿خداوند﴾ میں ظلم
وَالْعُدْوانِ، وَمِنْ غِیَرِ الزَّمانِ، وَتَواتُرِ الْاَحْزانِ، وَطَوارِقِ الْحَدَثانِ، وَمِنِ انْقِضَائِ
و دشمنی سے۔ اور زمانے کے تغیرات سے اور پے در پے غموں سے اور پیش آنے والے حا دثو ں سے اورآخرت کیلئے خیر ونیکی کے
الْمُدّ ۃِ قَبْلَ التَّٲَھُّبِ وَالْعُدَّۃِ، وَ إیَّاکَ ٲَسْتَرْشِدُ لِمَا فِیہِ الصَّلاَحُ وَالْاِصْلاحُ، وَبِکَ
ذخیرہ کی فر اہمی سے قبل زند گی ختم ہو نے سے تیر ی پنا ہ چاہتا ہوں اور جس چیز میں بہتر ی و در ستی ہے اس میں تیری
ٲَسْتَعِینُ فِیَما یَقْتَرِنُ بِہِ النَّجَاحُ وَالاِِ نْجَاحُ، وَ إیَّاکَ ٲَرْغَبُ فِی لِبَاسِ الْعافِیَۃِ
رہبری چا ہتا ہوں اور اس چیز میں تیری مدد چاہتا ہوں جس میں کامیابی و سہولت ہو اور میں تجھ سے مکمل صحت و تندرستی کی تمنا رکھتا
وَتَمامِہا وَشُمُولِ السَّلاَمَۃِ وَدَوامِھَا، وَٲَعُوذُ بِکَ یَا رَبِّ مِنْ ھَمَزاتِ الشَّیَاطِینِ،
ہوں کہ جس میں ہمیشہ کی سلامتی بھی شامل ہو۔خدایا میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں
وَٲَحْتَرِزُ بِسُلْطانِکَ مِنْ جَوْرِ السَّلاَطِینِ، فَتَقَبَّلْ مَا کَانَ مِنْ صَلاَتِی وَصَوْمِی، وَ
اور بادشاہوں کے ظلم کے مقابل تیری سلطنت کی پناہ لیتا ہوںپس میری نمازیں اور روزے جیسے بھی ہیں انہیں قبول فرما
اجْعَلْ غَدِی وَمَا بَعْدَہُ ٲَ فْضَلَ مِنْ سَاعَتِی وَیَوْمِی، وَٲَعِزَّنِی فِی عَشِیرَتِی وَ
کل کا دن اور اس سے اگلے وقت کو میرے آج کے دن اور اس گھڑی سے بہتر بنا دے مجھے اپنے قبیلے اور قوم میں
قَوْمِی، وَاحْفَظْنِی فِی یَقْظَتِی وَنَوْمِی، فَٲَنْتَ اﷲُ خَیْرٌ حَافِظاً، وَٲَ نْتَ ٲَرْحَمُ
عزت عطا فرما خواب و بیداری ہر حال میں میری حفاظت فرما۔ اے اللہ تو بہترین نگہبان ہے اور سب سے زیادہ رحم
الرَّاحِمِینَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَبْرَٲُ إلَیْکَ فِی یَوْمِی ھذَا وَمَا بَعْدَہُ مِنَ الْاَحادِ، مِنَ الشِّرْکِ
کرنے والا ہے۔ اے اللہ میں تیرے حضور میں آج کے دن اور اس سے اگلے اتوار کے دنو ں میں شرک و بے دینی
وَالْاِلْحَادِ، وَٲُخْلِصُ لَکَ دُعَائِی تَعَرُّضاً لِلاِِْجَابَۃِ، وَٲُقِیمُ عَلَی طَاعَتِکَ رَجَائً
سے بری ہوں اور خلوص کے ساتھ تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ قبول ہو جائے اور میں ثواب کی امید پر تیری اطاعت
لِلاِِْثَابَۃِ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خَیْرِ خَلْقِکَ، الدَّاعِی إلَی حَقِّکَ، وَٲَعِزَّ نِی بِعِزِّکَ الَّذِی
پر قائم ہوں پس تو بہترین مخلو ق اور حق کے دا عی محمد مصطفے(ص) پر رحمت نا ز ل فر ما اور اپنی عزت کے صدقے مجھے وہ عزت دے جس میں
لاَ یُضَامُ، وَاحْفَظْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنَامُ، وَاخْتِمْ بِالانْقِطَاعِ إلَیْکَ ٲَمْرِی، وَبِالْمَغْفِرَۃِ
ظلم نہ ہو اپنی نہ سونے والی آنکھ سے میری نگہبانی فرما ۔میرا خا تمہ یوں ہو کہ تجھی سے امید لگا ئے رکھو ں اور میری زند گی کو بخشش پر
عُمْرِی، إنَّکَ ٲَ نْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ۔
تمام کر دے ۔بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔

دعا ئے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- دو شنبہ ﴿سو موا ر﴾ خدا کے نام سے شر وع کر تا ہو ں جو بڑا مہر بان اور نہا یت ہی رحم کرنے وا لا ہے ۔
الْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یُشْھِدْ ٲَحَداً حِینَ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ، وَلاَ اتَّخَذَ مُعِیناً
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتے وقت کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملایا اور جانداروں کو پیدا
حِینَ بَرَٲَ النَّسَمَات، لَمْ یُشَارَکْ فِی الْاِلھِیَّۃِ، وَلَمْ یُظاھِرْ فِی الْوَحْدَانِیَّۃِ، کَلَّتِ
کرنے میں کسی سے مدد نہیں لی اس کے معبود ہونے میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کی یکتائی میں کوئی معاون ہے۔ زبانیں اس
الاََلْسُنُ عَنْ غَایَۃِ صِفَتِہِ، وَالْعُقُولُ عَنْ کُنْہِ مَعْرِفَتِہِ، وَتَوَاضَعَتِ الْجَبابِرَۃُ لِھَیْبَتِہِ
کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں اور عقلیں اس کی ذات کو سمجھنے سے عاجز ہیں اور بڑے بڑے سرکش اس کی ہیبت سے سرنگوں ہیں
وَعَنَتِ الْوُجُوہُ لِخَشْیَتِہِ، وَانْقَادَ کُلُّ عَظِیمٍ لِعَظَمَتِہِ، فَلَکَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَّسِقاً
اور چہرے اسکے خوف سے جھکے ہوئے ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے ہر عظیم مطیع ہے پس تیرے لیے حمد ہے لگاتار اور سلسلہ وار
وَمُتَوالِیاً مُسْتَوْسِقاً وَصَلَوَاتُہُ عَلَی رَسُو لِہِ ٲَبَداً، وَسَلامُہُ دَائِماً سَرْمَداً، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ
اور بار بار استوار اور اس کے رسول(ص) پر دائمی رحمت اور سرمدی سلام ہو۔ اے معبود! میرے لیے آج کے
ٲَوَّلَ یَوْمِی ھذَا صَلاحاً، وَٲَوْسَطَہُ فَلاحاً، وَآخِرَہُ نَجَاحاً، وَٲَعُوذُ بِکَ مِنْ یَوْمٍ
دن کے پہلے حصے کو بھلائی ، درمیانی حصے کو فائدہ وبخش اور آخری حصے کو کامیابی کا حامل بنا دے اور اس دن سے تیری پناہ لیتا ہوں
ٲَوَّلُہُ فَزَعٌ، وَٲَوْسَطُہُ جَزَعٌ، وَآخِرُہُ وَجَعٌ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْتَغْفِرُکَ لِکُلِّ نَذْرٍ نَذَرْتُہُ، وَکُلِّ
جس کا اول فریاد، اوسط بے تابی اور آخر تکلیف دہ ہو۔اے اﷲ وہ نذریں جو میں نے کیں، وہ تمام وعدے جو
وَعْدٍ وَعَدْتُہُ، وَکُلِّ عَھْدِ عَاھَدْتُہُ ثُمَّ لَمْ ٲَفِ بِہِ، وَٲَسْٲَلُکَ فِی مَظَالِمِ
میں نے کیے اور وہ ذمہ داریاں جو میں نے قبول کیں اور انہیں پورا نہیں کر سکا، ان پر تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تجھ سے سوال
عِبَادِکَ عِنْدِی، فَٲَ یُّما عَبْدٍ مِنْ عَبِیدِکَ ٲَوْ ٲَمَۃٍ مِنْ إمَائِکَ، کَانَتْ لَہُ قِبَلِی مَظْلِمَۃٌ
کرتا ہوں کہ تیرے بندوں کے جو حقوق مجھ پر رہ گئے کہ تیرے بندوں میں سے کسی بندہ یا تیری کنزوں میں سے کسی کنیز سے میں
ظَلَمْتُھَا إیَّاہُ، فِی نَفْسِہِ، ٲَوْ فِی عِرْضِہِ، ٲَوْ فِی مَالِہِ، ٲَوْ فِی ٲَھْلِہِ وَوَلَدِہِ، ٲَوْ غَیبَۃٌ
نے ناانصافی و زیادتی کی ہو۔چاہے وہ اسکی جان یا اسکی عزت یا اسکے مال یا اسکے اعزّہ اور اولاد کے بارے میں ہے یامیں
اغْتَبْتُہُ بِھَا ٲَوْ تَحَامُلٌ عَلَیْہِ بِمَیْلٍ ٲَوْ ھَوَیً ٲَوْ ٲَنَفَۃٍ ٲَوْ حَمِیَّۃٍ ٲَوْ رِیَائٍ ٲَوْ عَصَبِیَّۃٍ غَائِباً
نے اسکی غیبت کی یا اپنی خواہش کے تحت ان پر دبائو ڈالا یا خودپسندی یا بیزاری یا خودنمائی یا تعصب کا برتائو کیا وہ
کَانَ ٲَوْ شَاھِداً وَحَیّاً کَانَ ٲَوْ مَیِّتاً فَقَصُرَتْ یَدِی وَضَاقَ وُسْعِی عَنْ رَدِّھَا إلَیْہِ
غائب ہے یا حاضر ہے۔ زندہ ہے یا مردہ ہے تو اب اس کا حق دینا ۔یا معاف کرانا میری طاقت سے بالاتر اور دسترس سے
وَالتَّحَلُّلِ مِنْہُ فَٲَسْٲَلُکَ یَا مَنْ یَمْلِکُ الْحَاجَاتِ وَھِیَ مُسْتَجِیبَۃٌ لِمَشِیَّتِہِ وَمُسْرِعَۃٌ
باہر ہے پس اے حاجات کے مالک کہ وہ حاجات تیری مشیت میں قبول ہیں اور جلد تیرے ارادے میں آنے والی ہیں
إلَی إرادَتِہِ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تُرْضِیَہُ عَنِّی بِمَا شِئْتَ
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد (ص)وآل محمد(ع) پر رحمت فرما اور ان لوگوں کو جیسے تو چاہے مجھ سے راضی فرما اور مجھ
وَتَھَبَ لِی مِنْ عِنْدِکَ رَحْمَۃً إنَّہُ لاَ تَنْقُصُکَ الْمَغْفِرَۃُ وَلاَ تَضُرُّکَ الْمَوْھِبَۃُ یَا ٲَرْحَمَ
پر مہربانی فرما۔ بے شک بخش دینے سے تیرا کوئی نقصان نہیں اور عطا کرنے میں تجھے کوئی ضرر نہیں ہوتا۔اے سب سے
الرَّاحِمِینَ اَللّٰھُمَّ ٲَوْ لِنِی فِی کُلِّ یَوْمِ اثْنَیْنِ نِعْمَتَیْنِ مِنْکَ ثِنْتَیْن سَعادَۃًفِی ٲَوَّلِہِ
زیادہ رحم کرنے والے۔ اے معبود! ہر سوموار کو مجھے دونعمتیں اکٹھی عطا فرما کہ اس دن کے پہلے حصے میں مجھے اپنی اطاعت کی
بِطَاعَتِکَ، وَنِعْمَۃً فِی آخِرِہِ بِمَغْفِرَتِکَ، یَا مَنْ ھُوَ الْاِلٰہُ، وَلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ سِوَاہُ۔
سعادتعنایت فرما اور اسکے دوسرے حصے میں مغفرت کی نعمت دے اے وہ جو معبود ہے اور جسکے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں

دعائے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- سہ شنبہ ﴿منگل﴾ اﷲ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ وَالْحَمْدُ حَقُّہُ کَمَا یَسْتَحِقُّہُ حَمْداً کَثِیراً، وَٲَعُوذُ بِہِ مِنْ شَرِّ نَفْسِی إنَّ
حمد خدا کے لیے ہے اور حمد اسی کا حق ہے جیسا کہ حمد کثیر اسی کے شا یا ں شان ہے اور میں اپنے نفس کے شر سے اس کی پنا ہ چا ہتا ہوں
النَّفْسَ لاَََمَّارَۃٌ بِالسُّوئِ إلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی، وَٲَعُوذُ بِہِ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ الَّذِی
بے شک نفس برا ئی پر اکسا نے والا ہے مگر یہ کہ میرا رب رحم کردے اور اسی کی پنا ہ لیتا ہوں شیطان کے شر سے
یَزِیدُنِی ذَ نْباً إلَی ذَ نْبِی، وَٲَحْتَرِزُ بِہِ مِنْ کُلِّ جَبَّارٍ فَاجِرٍ، وَسُلْطَانٍ جَائِرٍ، وَعَدُوٍّ
جو میر ے لیے ایک گناہ پر دوسرے کا اضافہ کرتا رہتا ہے میں ہر جابر بدکار اور ظالم حکمران اور قو ی دشمن کے مقابل خدا سے
قَاھِرٍ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ جُنْدِکَ فَ إنَّ جُنْدَکَ ھُمُ الْغَالِبُونَ وَاجْعَلْنِی مِنْ حِزْبِکَ فَ إنَّ
تحفظ چاہتا ہوں۔اے معبود مجھے اپنے لشکر میں قرار دے کیونکہ تیرا لشکر ہی غالب رہنے
حِزْبَکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ ٲَوْ لِیَائِکَ فَ إنَّ ٲَوْ لِیائَکَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ
والا ہے اور مجھے اپنے گر وہ میں قرا ردے کیو نکہ تیرا ہی گر وہ کامیاب ہونے والاہے اور مجھے اپنے دوستوں میں شامل فرما کہ
ھُمْ یَحْزَنُونَ، اَللّٰھُمَّ ٲَصْلِحْ لِی دِینِی فَ إنَّہُ عِصْمَۃُ ٲَمْرِی، وَٲَصْلِحْ لِی آخِرَتِی
تیرے دوستوں کو کچھ بھی خوف اور حزن و رنج نہ ہو گا ۔اے معبود میرے دین میں بہتری فرما دے کیونکہ یہ میری ذات کا نگہبان ہے
فَ إنَّہا دَارُ مَقَرِّی، وَ إلَیْھَا مِنْ مُجا وَ رَۃِ اللِّئَامِ مَفَرِّی، وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیادَۃً لِی فِی
اور میری آخرت کو سنوار دے کہ وہ میرا پکا ٹھکانہ ہے اور وہ پست لوگوں سے فرار کر جانے کی جگہ ہے اور میری زندگی میں ہر خیر ونیکی
کُلِّ خَیْرٍ، و َالْوَ فَاۃَ رَاحَۃً لِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ، اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ،
کو بڑھا دے اور میری موت کو ہر برائی سے بچ جانے کا زریعہ بنا ۔اے معبود محمد(ص) پر رحمت فرما جو نبیوں کے خاتم ہیں
وَتَمَامِ عِدَّۃِ الْمُرْسَلِینَ، وَعَلَی آلِہِ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ، وَٲَصْحَابِہِ الْمُنْتَجَبِینَ،
اور جن پر آکر رسولوں کی تعداد پوری ہوئی اور ان کی پاک و پاکیز ہ آل پر اور ان کے صاحب عزت اصحاب پر رحمت فرما
وَھَبْ لِی فِی الثُّلاثَائِ ثَلاَثاً لاَتَدَعْ لِی ذنْباً إلاَّ غَفَرْتَہُ وَلاَ غَمّاً إلاّ ٲَذْھَبْتَہُ، وَلاَ عَدُوّاً
اور منگل کے دن مجھے تین چیزیں عطا فرما میرا ہر گناہ بخش دے اور میرا ہر رنج دور کر دے اور میرے ہر دشمن کو مجھ سے
إلاَّ دَفَعْتَہُ، بِبِسْمِ اﷲِ خَیْرِ الاََسْمَائِ، بِسْمِ اﷲِ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمائِ، ٲَسْتَدْفِعُ کُلَّ
دور ہٹادے خدا کے نام کے واسطے سے کہ جو بہترین نام ہے اسکے نام سے جو زمین و آسما ن کو زندہ رکھنے والا ہے میں اپنے آپ
مَکْرُوہٍ ٲَوَّلُہُ سَخَطُہُ، وَٲَسْتَجْلِبُ کُلَّ مَحْبُوبٍ ٲَوَّلُہُ رِضَاہُ، فَاخْتِمْ لِی مِنْکَ
سے ہر مکروہ کا خاتمہ چاہتا ہوں جسکا آغاز خدا کا غضب ہے اور ہر محبوب چیز کو چاہتا ہوں کہ جسکاآغاز رضائے الہی ہے ۔پس اے
بِالْغُفْرانِ یَا وَ لِیَّ الْاِحْسَانِ ۔
احسان کے مالک میرا خاتمہ اپنی طرف سے بخشش کے ساتھ فرما ۔

دعائے رو ز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- چہار شنبہ ﴿بدھ﴾ خد اکے نا م سے شر وع کرتا ہوں جو بڑا مہر با ن اور نہا یت ہی رحم کر نے والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی جَعَلَ اللَّیْلَ لِباساً، وَالنَّوْمَ سُباتاً، وَجَعَلَ النَّہارَ نُشُوراً، لَکَ
حمد اس خد اکے لیے ہے جس نے رات کو پر دے اور نیند کو آرام کا ذریعہ بنا یا او ر دن کو کا م کا ج کے لیے قرار دیا تیرے لیے
الْحَمْدُ ٲَنْ بَعَثْتَنِی مِنْ مَرْقَدِی وَلَوْ شِئْتَ جَعَلْتَہُ سَرْمَداً، حَمْداً دائِماً لاَ یَنْقِطعُ
حمد ہے کہ تو نے مجھے میری خوابگاہ سے زندہ اٹھایا اور اگر تو چاہتا تو اس نیند کو دائمی بنا دیتا۔ تیری ایسی حمد جو ہمیشہ رہے کبھی ختم
ٲَبَداً، وَلاَ یُحْصِی لَہُ الْخَلائِقُ عَدَداً، اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ ٲَنْ خَلَقْتَ فَسَوَّیْتَ، وَقَدَّرْتَ
نہ ہو کہ جسکی تعداد کو مخلوق شمار نہ کر سکے۔ اے معبود تیرے ہی لیے حمد ہے کہ تو نے پیدا کیا تو درست پیدا کیا اور قضائ
وَقَضَیْتَ، وَٲَمَتَّ وَٲَحْیَیْتَ، وَٲَمْرَضْتَ وَشَفَیْتَ، وَعافَیْتَ وَٲَبْلَیْتَ، وَعَلَی الْعَرْشِ
و قدر بنائی تو موت دیتا اور زندگی بخشتا ہے بیمار کرتا ہے شفا دیتا ہے تو بچاتا ہے اور آزماتا ہے اور عرش پر تیری حکومت
اسْتَوَیْتَ، وَعَلَی الْمُلْکِ احْتَوَیْتَ، ٲَدْعُوکَ دُعَائَ مَنْ ضَعُفَتْ وَسِیلَتُہُ، وَانْقَطَعَتْ
اور ملک تیرے قبضہ قدرت میں ہے میں تجھے ایسے شخص کی طرح پکارتا ہوں جس کا وسیلہ کمزور ہو،چارئہ کار منقطع
حِیلَتُہُ، وَاقْتَرَبَ ٲَجَلُہُ، وَتَدَانٰی فِی الدُّنْیَا ٲَمَلُہُ، واشْتَدَّتْ إلَی رَحْمَتِکَ فاقَتُہُ،
ہو گیا ہو، موت قریب آگئی ہو اور وہ دنیا کی آرزو میں گرفتار ہو اور تیری رحمت کا بہت زیادہ محتاج ہو،اسکی کوتاہیوں کے
وَعَظُمَتْ لِتَفْرِیطِہٰ حَسْرَتُہُ وَکَثُرَتْ زَلَّتُہُ وَعَثْرَتُہُ وَخَلُصَتْ لِوَجْھِکَ تَوْبَتُہُ فَصَلِّ
باعث اسکی حسرتیں بڑھ چکی ہوں اور اسکی لغزشیں اور ٹھوکریں بہت زیادہ ہوں اور تیرے حضور سچی توبہ کر رہا ہوں پس تو نبیوں کے
عَلَی مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِہِ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ وَارْزُقْنِی شَفاعَۃَ
خاتم محمدمصطفی(ص) پر رحمت فرما اور انکے پاک وپاکیزہ اہل بیت(ع) پر بھی رحمت فرمااور مجھے محمد(ص) وآل محمد(ص) کی شفاعت وحمایت
مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَلَاتَحْرِمْنِی صُحْبَتَہُ إنَّکَ ٲَنْتَ ٲَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
نصیب فرمااور مجھے انکے قرب سے محروم نہ فرما۔ بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اے معبود!اس بدھ کے دن
اَللّٰھُمَّ اقْضِ لِی فِی الْاَرْبَعائِ ٲَرْبَعاً اجْعَلْ قُوَّتِی فِی طَاعَتِکَ وَنَشَاطِی فِی عِبَادَتِک
میری چار حاجتیں پوری فرما کہ میری قوت اپنی اطاعت میں لگا دے ،میری خوشی اپنی عبادت میں قرار دے اور میری توجہ اپنے
وَرَغْبَتِی فِی ثَوَابِکَ وَزُھْدِی فِیَما یُوجِبُ لِی ٲَلِیمَ عِقَابِکَ إنَّکَ لَطِیفٌلِمَا تَشَائُ۔
ثوابکیطرف کر دے اور جس چیز سے مجھ پر تیرا سخت عذاب آتا ہو مجھے اس سے دور فرما کہ بیشک تو جس پر چاہے لطف فرماتا ہے

دعائے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- پنجشنبہ ﴿جمعرات﴾ خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی ٲَذْھَبَ اللَّیْلَ مُظْلِماً بِقُدْرَتِہِ، وَجَائَ بِالنَّھَارِ مُبْصِراً بِرَحْمَتِہِ
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے اپنی قدرت سے تاریک رات کو ختم کیا اور روشن دن کو اپنی رحمت سے وجود بخشا اور مجھ پر
وَکَسَانِی ضِیائَہُ وَٲَ نَا فِی نِعْمَتِہِ۔ اَللّٰھُمَّ فَکَمَا ٲَبْقَیْتَنِی لَہُ فَٲَبْقِنِی لاََِمْثالِہِ، وَصَلِّ
بھی روشنی بکھیری اور میں اسکی نعمت سے مستفید ہوتا ہوں۔اے معبود! جس طرح تو نے مجھے آج کے دن زندہ رکھا اسی طرح آئندہ
عَلَی النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَلاَ تَفْجَعْنِی فِیہِ وَفِی غَیْرِہِ مِنَ اللَّیَالِی وَالْاَیَّامِ، بِارْتِکَابِ
بھی زندہ رکھ اور اپنے نبی محمد(ص) اور انکی آل(ع) پر رحمت فرما اور مجھے آج اور دیگر راتوں اور دنوں میں حرام کام کرنے
الَْمحَارِمِ وَاکْتِسَابِ الْمَآثِمِ وَارْزُقْنِی خَیْرَہُ وَخَیْرَ مَا فِیہِ وَخَیْرَ مَا بَعْدَہُ، وَاصْرِف
اور گناہ کمانے سے داغدار نہ بنا، آج کے دن میں جو بھلائی ہے اور بعد میں آنے والے انہی دنوں میں جو بھلائی ہے، عطا فرما۔اور
عَنِّی شَرَّہُ، وَشَرَّ مَا فِیہِ، وَشَرَّ مَا بَعْدَہُ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی بِذِمَّۃِ الْاِسْلامِ ٲَتَوَسَّلُ إلَیْکَ،
مجھے اس دن کے شر جو کچھ اسمیں ہے اسکے شر اور اسکے بعد بھی شر سے بچا ۔اے معبود!میں اسلام کے ذریعے سے تیری طرف وسیلہ
وَبِحُرْمَۃِ الْقُرْآنِ ٲَعْتَمِدُ عَلَیْکَ، وَبِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ
پکڑتا ہوں اور قرآن کے احترام کیساتھ تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔اور محمدمصطفی
ٲَسْتَشْفِعُ لَدَیْکَ، فَاعْرِفِ اَللّٰھُمَّ ذِمَّتِیَ الَّتِی رَجَوْتُ بِھَا قَضَائَ حَاجَتِی، یَا ٲَرْحَمَ
کو تیرے حضور اپنا شفیع بناتا ہوں پس اے معبود! جس ضمانت کے ساتھ میں اپنی حاجت براری کا امیدوار ہوں اس پر توجہ فرما اے
الرَّاحِمِینَ۔ اَللّٰھُمَّ اقْضِ لِی فِی الْخَمِیسِ خَمْساً لاَ یَتَّسِعُ لَھا إلاَّکَرَمُکَ
سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے معبود! اس جمعرات میں میری پانچ حاجات پوری فرما کہ سوائے تیرے کرم کے کوئی اس کی
وَلاَ یُطِیقُھا إلاَّ نِعَمُکَ، سَلاَمَۃً ٲَقْوی بِھَا عَلَی طَاعَتِکَ،
گنجائش نہیں رکھتا اور سوائے تیری نعمتوں کے کوئی اسکی طاقت نہیں رکھتا ایسی صحت وسلامتی عطا فرما جسکے ذریعے تیری
وَعِبادَۃً ٲَسْتَحِقُّ بِہا جَزِیلَ مَثُوبَتِکَ،وَسَعَۃً فِی الْحَالِ مِنَ الرِّزْقِ الْحَلاَلِ،
اطاعت پر قوت حاصل ہوایسی عبادت کی توفیق دے جس سے میںتیرے عظیم ثواب کا حق دار بن جائوں۔ رزق حلال سے
وَٲَن تُؤْمِنَنِی فِی مَوَاقِفِ الْخَوْفِ بِٲَمْنِکَ،وَتَجْعَلَنِی مِنْ طَوَارِقِ الْھُمُومِ وَالْغُمُومِ
میری حالت میں کشادگی فرما۔ خوف و خطرے کے مواقع پر اپنے امان کے ذریعے محفوظ فرما غم وآلام کے ہجوم میں مجھے اپنی پناہ میں
فِی حِصْنِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ تَوَسُّلِی بِہِ شَافِعاً، یَوْمَ الْقِیامَۃِ نَافِعاً
رکھ اور محمد(ص)وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور ان میں سے میرے لیے توسل کو روز قیامت نفع دینے والا شفیع بنا
إنَّکَ ٲَ نْتَ ٲَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ۔
کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔

دعائے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- آدینہ ﴿جمعہ﴾ خدا کے نام سے ﴿شروع﴾ جو بڑ امہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الاََوَّلِ قَبْلَ الْاِنْشائِ وَالْاِحْیائِ، وَالاَْخِرِ بَعْدَ فَنَائِ الْاَشْیائِ، الْعَلِیمِ الَّذِی
حمد اس خد اکیلئے ہے جو ہستی وزندگی میں سب سے اول اور چیزوں کے فنا کے بعد سب سے آخر میںموجود ہوگا، وہ ایسا علم والا ہے
لاَ یَنْسیٰ مَنْ ذَکَرَہُ، وَلاَ یَنْقُصُ مَنْ شَکَرَہُ، وَلاَ یَخِیبُ مَنْ دَعَاہُ، وَلاَ یَقْطَعُ رَجَائَ
جو اس کو یاد کرے اسے بھولتا نہیں جو شکر کرے اسے کمی نہیںآنے دیتا پکارنے والے کو مایوس نہیںکرتا اور جو امید رکھے اس کی امید
مَنْ رَجَاہُ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲُشْھِدُکَ وَکَفی بِکَ شَھِیداً، وَٲُشْھِدُ جَمِیعَ مَلائِکَتِکَ وَسُکَّانَ
منقطع نہیں کرتا خداوندا! میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیراگواہ ہونا کافی ہے اور میں تیرے تمام فرشتوں، آسمانوں
سَمٰواتِکَ وَحَمَلَۃِ عَرْشِکَ، وَمَنْ بَعَثْتَ مِنْ ٲَنْبِیَائِکَ وَرُسُلِکَ، وَٲَ نْشَٲْتَ مِنْ
کے رہنے والوں حاملین عرش اور تیرے ان نبیوں اور رسولوں کو جنہیں تو نے بھیجا اور ہرقسم کی مخلوق جو تو نے پیدا
ٲَصْنَافِ خَلْقِکَ، ٲَنِّی ٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ ٲَ نْتَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ، وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ
کی سبھی کوگواہ بناکر شہادت دیتا ہوں کہ بے شک تو خدا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں
وَلاَعَدِیلَ، وَلاَ خُلْفَ لِقَوْلِکَ وَلاَ تَبْدِیلَ، وَٲَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ عَبْدُکَ
اور نہ برابر کا ہے اور تیرے قول میں اختلاف اور تبدیلی نہیں ہے اور شہادت دیتا ہوں کہ محمد تیرے عبد خاص
وَرَسُولُکَ، ٲَدَّی مَا حَمَّلْتَہُ إلَی الْعِبَادِ، وَجَاھَدَ فِی اﷲِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْجِھَادِ وَٲَنَّہُ
اور تیرے رسول(ص) ہیں انہوں نے تیرے احکام تیرے بندوں تک پہنچائے اور تیری الوہیت کیلئے جہاد کیا جس طرح جہاد کرنے کا
بَشَّرَ بِمَا ھُوَ حَقٌّ مِنَ الثَّوَابِ، وَٲَ نْذَرَ بِمَا ھُوَ صِدْقٌ مِنَ الْعِقَابِ ۔ اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْنِی عَلیٰ
حق ہے انہوں نے تیرے ثواب کی بشارت دی جو حق ہے اور تیرے اس عذاب سے ڈرایاجو بجاہے، خداوندا! جب تک مجھے
دِینِکَ مَا ٲَحْیَیْتَنِی، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنِی، وَھَبْ لِی مِنْ لَدُنْک رَحْمَۃً إنَّکَ
زندہ رکھے اپنے دین پر قائم رکھنا اور ہدایت دینے کے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کرنا اور مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمانا بیشک
ٲَنْتَ الْوَھَّابُ۔ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْنِی مِنْ ٲَتْباعِہِ وَشِیعَتِہِ
تو بڑا عطا کرنے والا ہے محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کے پیروکاروں اور شیعوں میں قرار دے
وَاحْشُرْ نِی فِی زُمْرَتِہِ وَوَفِّقْنِی لاََِدَائِ فَرْضِ الْجُمُعَاتِ، وَمَا ٲَوْجَبْتَ عَلَیَّ فِیھا مِنَ
اور ان ہی کے گروہ کے ساتھ محشور فرما مجھے نماز ہائے جمعہ اور جو کچھ مجھ پر تو نے اس دن میں واجب کیا اسے ادا کرنے کی
الطَّاعَاتِ، وَقَسَمْتَ لاََِھْلِھَا مِنَ الْعَطَائِ فِی یَوْمِ الْجَزَائِ، إنَّکَ ٲَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔
توفیق دے اور روز قیامت جب اہل اطاعت پر تیری عنایت ہوتو مجھے بھی حصہ دے کہ تو صاحب اقتدار اور حکمت والا ہے۔

دعائے روز ---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ---- شنبہ ﴿ہفتہ﴾ خداکے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بِسْمِ اﷲِ کَلِمَۃِ الْمُعْتَصِمِینَ، وَمَقالَۃِ الْمُتَحَرِّزِینَ، وَٲَعُوذُ بِاﷲِ تَعَالی مِنْ جَوْرِ
خدا کے نام سے شروع جو پناہ چاہنے والوں کا شعار اور بچائو چاہنے والوں کا ورد ہے اور میں ظالموں کی سختی ،
الْجَائِرِینَ، وَکَیْدِ الْحَاسِدِینَ، وَبَغیِ الظَّالِمِینَ، وَٲَحْمَدُہُ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِینَ۔
حسد کرنے والوں کے مکر اور ستمگاروں کے ستم سے خدا کی پناہ لیتا ہوںاورمیں حمد کرنے والوں سے بڑھ کر اس کی حمد کرتا ہوں
اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْواحِدُ بِلاَ شَرِیکٍ وَالْمَلِکُ بِلاَ تَمْلِیکٍ لاَ تُضَادُّ فِی حُکْمِکَ وَلاَ تُنَازَعُ
خدایا! تو وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور وہ بادشاہ ہے جس کا کوئی حصہ دار نہیں تیرے حکم میں تضاد نہیں اور تیری
فِی مُلْکِکَ، ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ، وَٲَنْ تُوزِعَنِی مِن
سلطنت میں اختلاف نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنے عبد خاص اور اپنے رسول محمدمصطفی (ص)پر رحمت فرما ، مجھے اپنی نعمتوں
شُکْرِ نُعْمَاکَ مَا تَبْلُغُ بِی غَایَۃَ رِضَاکَ، وَٲَنْ تُعِینَنِی عَلَی طَاعَتِکَ وَلُزُومِ عِبَادَتِکَ
کے شکر ادا کرنے کی اس طرح توفیق دے کہ جس سے تیری رضا کی انتہا حاصل کر سکوں اور مجھے اپنی فرمانبرادری کرنے، عبادت
وَاسْتِحْقَاقِ مَثُوبَتِکَ بِلُطْفِ عِنَایَتِکَ، وَتَرْحَمَنِی بِصَدِّی عَنْ مَعَاصِیکَ مَا ٲَحْیَیْتَنِی
کو ضروری سمجھنے اور اپنے فضل وکرم سے اپنے اجرو ثواب کا حق دار بننے میں میری مدد فرما تاکہ میںتیری نافرمانیوں سے بچ سکوں
وَتُوَفِّقَنِی لِمَا یَنْفَعُنِی مَا ٲَبْقَیْتَنِی، وَٲَنْ تَشْرَحَ بِکِتَابِکَ صَدْرِی،
جب تک زندہ رہوں اور مجھے اسکی توفیق دے جو میرے لیے مفید ہے جب تک باقی ہوں اپنی کتاب کے ذریعے میرا سینہ کھول دے
وَتَحُطَّ بِتِلاوَتِہِ وِزْرِی، وَتَمْنَحَنِی السَّلاَمَۃَ فِی دِینِی وَنَفْسِی، وَلاَ تُوحِشَ بِی ٲَھْلَ ٲُنْسِی
اور اسکی تلاوت کے ذریعے میرے گناہ کم کر دے میری جان اور میرے دین میں سلامتی عطا فرما اور اہل انس کو مجھ سے خائف نہ کر
وَتُتِمَّ إحْسَانَکَ فِیَما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی کَمَا ٲَحْسَنْتَ فِیَما مَضَی مِنْہُ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔
اور میری باقی زندگی میں مجھ پر کامل احسان فرما جیسے کہ میری گزری ہوئی زندگی میں مجھ پر احسان فرمایا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے




۵
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) چوتھی فصل ----------------------------------------------------------- جمعرات وجمعہ کے فضائل واعمال

جمعرات اور جمعہ کے فضائل واضح ہے کہ جمعہ کو تمام ایام پر ایک خاص امتیاز اور شرف حاصل ہے۔ چنانچہ حضرت رسول اﷲ کا فرمان ہے کہ شب جمعہ وجمعہ کی چوبیس ساعتیں ہیں اور ہر ایک ساعت میں خداوند عالم چھ لاکھ انسانوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ زوال جمعرات سے زوال جمعہ کے درمیان جس شخص کو موت واقع ہو وہ فشار قبر سے محفوظ رہے گا۔ حضرت ہی کا فرمان ہے کہ جمعہ کا خاص احترام اور حق ہے ۔اس حق کو ضائع نہ کرو ، اس دن کی عبادت میں کوتاہی نہ کرو۔ اچھے اعمال سے خدا کا قرب حاصل کرو اور تمام محرمات کو ترک کرو کیونکہ خدا تعالیٰ اس روز اطاعت کا ثواب بڑھا دیتاہے۔ گناہوں کی سزاختم کردیتاہے اور دنیاوآخرت میںمومنین کے درجات بلند کرتا ہے اور روز جمعہ کی طرح شب جمعہ کی بھی بہت فضیلت ہے اور ممکن ہو تو شب جمعہ صبح تک دعاونماز میں گزارو۔ شب جمعہ میں خدا مومنین کی عزت بڑھانے کے لیے ملائکہ کو پہلے آسمان پر بھیجتا ہے تاکہ وہ انکی نیکیوں میں اضافہ کریں اور انکے گناہ مٹاڈالیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ رحیم وکریم ہے اور اسکی عنایتیں اور عطائیں وسیع ہیں۔معتبر حدیث میں رسول اﷲ (ص)سے مروی ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مومن اپنی حاجت کیلئے دعا کرتا ہے مگر خدا اسکی وہ حاجت پوری کرنے میں تاخیر کرتا ہے تاکہ روز جمعہ اسکی حاجت کو پورا کرے اور جمعہ کی فضیلت کی وجہ سے کئی گناہ معاف کردیتا ہے ۔ نیز فرمایا کہ جب برادران یوسف (ع)نے حضرت یعقوب(ع) سے کہا کہ وہ انکے گناہوں کی معافی کیلئے دعا کریںتو انہوںنے فرمایا: سَوْفَ اَسْتَغْفِرُلَکُمْ رَبّی کہ عنقریب میں تمہارے گناہوں کی بخشش کے لیے اپنے پروردگار سے دعا کروںگا، یہ تاخیر اس لیے کی گئی کہ جمعہ کی سحر کو دعا کی جائے تا کہ وہ قبولیت تک پہنچے۔ حضرت (ع)سے یہ بھی مروی ہے کہ شب جمعہ میں مچھلیاں سرپانی سے باہر نکالتی ہیں اور صحرائی جانور اپنی گردنیں بلند کرکے بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگارا انسانوں کے گناہوں کے باعث ہم پر عذاب نہ کرنا۔ امام محمدباقر(ع) فرماتے ہیں کہ ہر شب جمعہ ایک فرشتہ ابتدائِ شب سے آخر شب تک عرش کے اوپر سے یہ ندا کرتا ہے کہ ہے کوئی مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے دنیاوآخرت کی کوئی حاجت طلب کرے تا کہ میں اس کی حاجت پوری کروں ۔ ہے کوئی مومن بندہ جوطلوع فجر سے پہلے گناہوں سے معافی کا طالب ہو اور میں اس کے گناہ معاف کردوں کوئی بندئہ مومن ہے کہ جس کی روزی میں نے تنگ کر رکھی ہو وہ طلوع صبح سے قبل مجھ سے وسعت رزق طلب کرے پس میں اس کی روزی میں وسعت عطا کروں، آیا کوئی بیمار مومن ہے جو مجھ سے طلوع صبح سے پہلے شفا کا طالب ہو تو میںاسے شفادے دوں، کوئی قیدی وغم زدہ مومن ہے جو صبح جمعہ سے پہلے مجھ سے سوال کرے تو میں اسکو قید سے رہائی دے کراس کا غم دور کروں، آیا کوئی مظلوم مومن ہے جو طلوع صبح سے پہلے ظالم کے ظلم کو دور کرنے کا مجھ سے سوال کرے تو میں اس کیلئے ہر ظلم کرنے والے سے انتقام لوں اور اس کا حق اسے دلادوں ،پس وہ فرشتہ جمعہ کی صبح طلوع ہونے تک اسی طرح آواز دیتا رہتا ہے ۔
امیرالمومنین -سے منقول ہے کہ حق تعالیٰ نے جمعہ کو تمام دنوں پر فضیلت دی ہے اور اسکو روز عید قرار دیا ہے ، اس طرح شب جمعہ کو بھی باعظمت قرار دیا ہے۔ جمعہ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اس روز خدا سے جو سوال کیا جائے وہ پورا کر دیا جاتا ہے اگر کوئی گروہ مستحق عذاب ہے لیکن وہ شب جمعہ یا روز جمعہ دعا کرے تو اسے عذاب سے چھٹکارا مل جاتاہے۔حق تعالی روز جمعہ مقدر کو محکم ا ور ناقابل تغیر بنا دیتا ہے ۔لہذا شب جمعہ عام راتوں سے اور روز جمعہ عام دنوں سے افضل ہے۔
حضرت امام جعفر صادق -فرماتے ہیں : شب جمعہ میں گناہوں سے بچو کیونکہ اس رات کئی گنا عذاب بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اس شب میں نیکیوں کا ثواب بھی کئی گنا زیادہ ہوتا ہے، اگر کوئی شخص شب جمعہ میں گناہ سے پرہیز کرے تو خدا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیتا ہے اور اگر کوئی شخص شب جمعہ میں اعلانیہ گناہ کرے تو خدا اسکو ساری زندگی کے گناہوں کے برابر عذاب دے گااور اس گناہ کا عذاب بھی زیادہ ہوگا،اور معتبر سند کے ساتھ امام علی رضا -سے منقول ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا : جمعہ کا دن تمام دنوں کاسردار ہے اس میں نیکیوں کاثواب کئی گنا ہوتا ہے اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں، درجات بلند ، دعائیں قبول، رنج والم زائل اور بڑی بڑی حاجات پوری کر دی جاتی ہیں۔ اس دن خدا تعالی بندوں کے لیے اپنی رحمت میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے۔ جو شخص اس دن خدا کو پکارے اور وہ اس دن کی عزت وعظمت کا قائل بھی ہو تو خدا پر اسکا حق ہے کہ وہ اسے جہنم کی آگ سے چھٹکارا عطا کرے اگر کوئی شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں وفات پا جائے تو وہ شہید شمار ہوگا اور قیامت کے دن عذاب الہی سے محفوظ رہے گا ۔ جو آدمی جمعہ کے دن کی عظمت کی پرواہ نہ کرے اور اسکے حق کو ضائع کرے مثلًا نماز جمعہ بجانہ لائے یا حرام کاموں سے نہ بچے، خدا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کو جہنم کا ایندھن بنائے مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔معتبر اسناد کے ساتھ امام محمدباقر -سے مروی ہے کہ آفتاب نے کبھی کسی ایسے دن طلوع نہیں کیا جو جمعہ سے بہتر ہو۔ اس روز پرندے جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سلام کرتے اور کہتے ہیں کہ آج بڑا ہی عظیم دن ہے۔ نیز معتبر سند کے ساتھ امام جعفرصادق -سے منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن کو درک کرے وہ عبادت الہی کے علاوہ کچھ نہ کرے کہ اس دن خدا تعالی اپنے بندوں کے گناہ معاف کرتا ہے اور ان پر رحمت خداوندی نازل ہوتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ شب جمعہ اور روز جمعہ کے فضائل کثیر ہیں اور اس مختصر کتاب میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان سب کا تذکر کیا جائے۔

شب جمعہ کے اعمال شب جمعہ کے اعمال بہت زیادہ ہیں اور یہاں ہم چند اعمال کے ذکر پر اکتفائ کرتے ہیں۔
اول:روایت ہے کہ شب جمعہ رات کا نور اور روز جمعہ روشن ترین دن ہے لہذااس شب وروز میں بکثرت درود شریف اور مذکورہ ذکر کو پڑھیں:
سُبْحَانَ اﷲِ وَاﷲُ ٲَکْبَرُ وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ ۔
پاک اور بزرگ تر ہے خدا اور خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس رات کم از کم سو مرتبہ درود پڑھیںاور جس قدر زیادہ پڑھ سکیں بہتر ہے۔ امام جعفرصادق - سے مروی ہے کہ شب جمعہ میں محمد(ص)وآل محمد(ص) پر درود بھیجنے سے ہزار نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں اور ہزار درجے بلند ہو جاتے ہیں۔مستحب ہے کہ جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد(ص)وآل محمد(ص) پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں اور بہ سند صحیح امام جعفرصادق -سے منقول ہے کہ جمعرات کی عصر کوملائکہ آسمان سے اترتے ہیں اور انکے ہاتھوں میں طلائی قلم اور نقرئی کا غذ ہوتا ہے اور وہ اس میں جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد(ص)وآل محمد(ص) پر بھیجے ہوئے درودکے سوا کچھ نہیںلکھتے۔شیخ طوسی(رح) فرماتے ہیں کہ جمعرات کے دن محمد(ص)وآل محمد(ص) پر ایک ہزار مرتبہ درود پڑھنا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ اس طرح درود پڑھیں:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَھُمْ، وَٲَھْلِکْ عَدُوَّھُمْ مِنَ الْجِنِّ
اے معبود محمد(ص) اور اسکی آل (ع)پر رحمت فرما اوران کے ظہور میں تعجیل فرمااور محمد(ص)وآل محمد(ص) کے دشمنوں کو ہلاک کرخواہ وہ جن
وَالْاِنْسِ مِنَ الاََوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ۔
ہیں یاانسان اولین سے ہیںیا آخرین سے۔
جمعرات کی عصر کے بعد سے روز جمعہ کے آخر تک مذکورہ درود کا سو مرتبہ پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے نیز شیخ فرماتے ہیں جمعرات کو دن کے آخری حصے میں اس طرح استغفار کرنا مستحب ہے:

ٲَسْتَغْفِرُ اﷲَ الَّذِی لا إلہَ إلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ، وَٲَتُوبُ إلَیْہِ تَوْبَۃَ عَبْدٍ خاضِعٍ
اس خدا سے طالب مغفرت ہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ وپائندہ ہے میں اسکے حضور ایسے بندے کیطرح توبہ کرتا ہوں
مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ، لاَ یَسْتَطِیعُ لِنَفْسِہِ صَرْفاً وَلاَ عَدْلاً وَلاَ نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً وَلاَ
ہوں جو ذلیل، محتاج اور بے چارہ ہے جو اپنے کاروبار، دفاع اور نفع ونقصان کا مالک نہیں اپنی موت زندگی اور قیامت کے دن اپنے
حَیَاۃً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ نُشُوراً، وَصَلَّی اﷲُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِہِ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ الْاَخْیارِ
حشر و نشر پر کچھ اختیار نہیں رکھتا اور محمد(ص) اور انکی پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکباز آل پر خدا کی رحمت اور سلام ہو
الاََ بْرارِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً ۔
جس طرح ان پر سلام کا حق ہے ۔
دوم:شب جمعہ میں قرآن کی ان سورتوں کی تلاوت کرنا چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک کے فوائد کثیر اور ثواب بہت زیادہ ہے: سورئہ بنی اسرائیل، کہف، طٰس والی تین سورتیں ،الٓم سجدہ، یٰسں ، صٓ، احقاف، واقعہ ، حمٓ سجدہ، حٰمٓ دخان، طور، اقتربت اور جمعہ کی تلاوت کرے اگر وقت کی کمی ہو تو سورئہ واقعہ اور اس سے قبل سورتوں کی تلاوت کرے کیونکہ امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ جو شخص ہرشب جمعہ سورئہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے گا تو اسے امام العصر﴿عج﴾ کی خدمت میں حاضری نصیب ہونے سے پہلے موت نہیںآئے گی اور وہ وہاں آنجناب (ع) کے اصحاب میں سے ہوگانیز فرمایا کہ شب جمعہ میں سورئہ کہف کی تلاوت کرنے والا نہیں مرے گا مگر شہید اور قیامت میں حق تعالی اس کو شہیدوں کے ساتھ محشور کرے گا اور وہ انہیں کے ساتھ رہے گا۔ جو شخص جمعہ کو طٰس والی تین سورتیں پڑھے وہ خدا کا دوست شمار ہو گا،اسے خدا کی حمایت وامان حاصل ہوگی دنیا میں فقر وتنگ دستی سے محفوظ رہے گا ،آخرت کو بہشت میں اس قدر نعمات ملیں گی کہ وہ راضی وخوش ہو جائے گا۔ پھر خدا اسے اس کی رضا سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا اور سوحوریں اسکی زوجیت میں رہیں گی آپ(ع) نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ الم سجدہ پڑھے تو قیامت میں خدائے تعالی اسکا نامہ اعمال اسکے دائیں ہاتھ میں دے گا، اس سے اسکے اعمال کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گااور وہ محمد(ص)وآل محمد(ص) کے رفقائ میں شمار ہو گا، معتبر اسناد کیساتھ امام محمد باقر -سے مروی ہے کہ جوشخص شب جمعہ میں سورئہ صٓ کی تلاوت کرے تو اسکو دنیا وآخرت کی بھلائی عطا ہو گی اور اسے اتنا اجر دیا جائے گا جتنا کسی نبی مرسل یا ملک مقرب کو دیا جاتا ہے۔ وہ خود بہشت میں جانے کیساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ میں سے جسے چاہے حتی کہ اپنے خدمت گار کو بھی بہشت میں لے جا سکے گا اگرچہ وہ خدمتگار اس شخص کے عیال میں شامل نہ ہو اور اسکی شفاعت کے دائرے میں نہ آتا ہو۔امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں سورئہ احقاف کی تلاوت کرے تو وہ دنیامیں خوف وخطر اور آخرت میںروز قیامت کے خوف وپریشانی سے امن میں ہوگا۔ نیز فرمایا کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ واقعہ پڑھے تو اﷲاس کو اپنا دوست بنائے گا، دنیا میں بدحالی وتنگدستی اور آفات سے محفوظ رہے گا اور امیرالمومنین- کے رفقائ میں شمار ہوگا کہ یہ سورہ آنجناب(ص) سے مخصوص ہے۔روایت ہے کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ جمعہ کی تلاوت کرے تو وہ اس جمعہ اور آئندہ جمعہ کے درمیان اسکا کفارہ شمار ہوگا، ہر شب جمعہ میں سورئہ کہف پڑھنے کی بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے اسی طرح جو شخص جمعہ کی ظہر وعصر کے بعد سورئہ کہف کی تلاوت کرے تو اسکے لیے بھی یہی فضیلت نقل ہوئی ہے۔
شب جمعہ میں پڑھی جانے والی بہت سی نمازیں ذکر ہوئی ہیں:

﴿۱﴾نماز امیرالمومنین -
﴿۲﴾یہ دو رکعت نماز ہے اسکی ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سورئہ اذا زلزلت پڑھی جاتی ہے، روایت ہے کہ اس نماز کو پڑھنے والا قبر کے عذاب اور قیامت کی ہولناکی سے محفوظ رہے گا ۔
﴿۳﴾نماز مغرب کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ جمعہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورئہ توحید پڑھیں۔ اسی طرح نماز عشائ کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ اعلٰی پڑھیں:
﴿۴﴾شعر پڑھنا ترک کر دے کیونکہ صحیح حدیث میں امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ روزے کے ساتھ ، حرم میں ، احرام کی حالت میں اور شب جمعہ وروز جمعہ کوشعر پڑھنے مکروہ ہیں۔ راوی نے عرض کیا کہ شعر خواہ مبنی برحق ہی کیوں نہ ہو؟ فرمایا۔ ہاں شعر اگر حق ہو تو بھی اس سے پرہیز کرے۔ معتبر حدیث میں امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ رسول اﷲ(ص) نے فرمایا: جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں ایک بھی شعر پڑھے تو وہ اس رات اور دن، اسکے سوا کسی اور ثواب سے بہرہ مند نہ ہوگا ایک اور روایت میں ہے کہ ایسے شخص کی اس رات اور دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
﴿۵﴾مومنین کے حق میں زیادہ سے زیادہ دعا کریں، جیسے جناب زہرا =کیا کرتی تھیں نیز اگر مرحوم مومنین میں سے دس کیلئے مغفرت کی دعا کرے تو ﴿ایک روایت کے مطابق ﴾ایسے شخص کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
﴿۶﴾شب جمعہ کی وہ دعائیں پڑھے جو وارد ہوئی ہیں انکی تعداد بہت زیادہ ہے یہاں ہم ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں۔بہ سند صحیح امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص شب جمعہ نافلہ مغرب کے آخری سجدے میں سات مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اس عمل سے فارغ ہونے سے پہلے اسکے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوں گے اگر ہر شب میں اس دعا کو پڑھتا رہے تو اور بھی بہتر ہے وہ دعایہ ہے:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ، وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ، ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
خداوندا میں تیری کریم ذات اور تیرے برتر نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوںکہ محمد(ص) و آل محمد پر
مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ ۔
رحمت نازل فرما اور میرے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے۔
رسول اﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ یہ دعا سات مرتبہ پڑھے اور اگر اس رات یا اس دن فوت ہو جائے تو جنت میں داخل ہو گا۔ وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ رَبِّی لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ خَلَقْتَنِی وَٲَ نَا عَبْدُکَ وَابْنُ ٲَمَتِکَ، وَفِی قَبْضَتِکَ
اے معبود! تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں اورتیرے قبضے
وَناصِیَتِی بِیَدِکَ، ٲَمْسَیْتُ عَلَی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ٲَعُوذُ بِرِضاکَ مِنْ شَرِّ
میں ہوں میری مہار تیرے دست قدرت میں ہے میں نے تیرے عہدوپیمان پر رات گزاری جتنا ہو سکے میں تیری رضا کی پناہ چاہتا
مَا صَنَعْتُ، ٲَبُوئُ بِنِعْمَتِکَ، وَٲَبُوئُ بِذَنْبِی، فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ
ہوں اسکے شر سے جو میں نے انجام دیا ہے تیری نعمت کا بار اور میرے گناہ کا بوجھ میرے کندھے پر ہے پس میرے گناہ معاف فرما
الذُّنُوبَ إلاَّ ٲَنْتَ۔
دے تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔
شیخ طوسی، سید، کفعمی اور سید ابن باقی فرماتے ہیں کہ شب جمعہ، روز جمعہ، شب عرفہ اور روز عرفہ یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔ ہم اس دعا کو شیخ کی کتاب مصباح سے نقل کر رہے ہیں:
اَللّٰھُمَّ مَنْ تَعَبَّٲَ وَتَھَیَّٲَ وَٲَعَدَّ وَاسْتَعَدَّ لِوِفَادَۃٍ إلَی مَخْلُوقٍ رَجَائَ رِفْدِہِ وَطَلَبَ نائِلِہِ
خدایا جو بھی عطاوبخشش کے لیے مخلوق کی طرف جانے کو آمادہ اور مستعد ہو اس کی امید اسی کی داد وہش پر لگی
وَجائِزَتِہِ، فَ إلَیْکَ یَا رَبِّ تَعْبِیَتِی وَاسْتِعْدادِی رَجَائَ عَفْوِکَ وَطَلَبَ نائِلِکَ وَجَائِزَتِکَ
ہوتی ہے تو اے میرے پروردگار میری آمادگی و تیاری تیرے عفو و درگزر تیری بخشش اور تیرے انعام کے حصول کی امید پر ہے
فَلاَ تُخَیِّبْ دُعَائِی یَا مَنْ لاَ یَخِیبُ عَلَیْہِ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُہُ نائِلٌ، فَ إنِّی لَمْ آتِکَ ثِقَۃً
پس میری دعا کو مایوس نہ کر اے وہ ذات جس سے کوئی سائل ناامید نہیں ہوتاکسی کا حاصل کرنا اسکی عطا کو کم نہیں کر سکتا ہے پس میں
بِعَمَلٍ صَالِحٍ عَمِلْتُہُ، وَلاَ لِوَفادَۃِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُہُ، ٲَتَیْتُکَ مُقِرّاً عَلَی نَفْسِی
نے جو عمل صالح کیا اس کے بھروسے پر تیری جناب میں نہیں آیااور نہ ہی مخلوق کے دین کی امید رکھتا ہوں میں تو اپنی برائیوں اور ظلم کا
بِالْاِسائَۃِ وَالظُّلْمِ، مُعْتَرِفاً بِٲَنْ لاَ حُجَّۃَ لِی وَلاَ عُذْرَ، ٲَتَیْتُکَ ٲَرْجُو عَظِیمَ عَفْوِکَ
اقرار کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوںاور اعتراف کرتا ہوں کہ میں کوئی حجت اور عذر نہیں رکھتا ہوں میں تیرے حضور عفو
الَّذِی عَفَوْتَ بِہِ عَنِ الْخاطِئِینَ، فَلَمْ یَمْنَعْکَ طُولُ عُکُوفِھِمْ عَلی عَظِیمِ الْجُرْمِ
عظیم کی امید لے کر آیا ہوںجس سے تو خطاکاروں کو معاف فرماتا ہے کہ ان کے بڑے گناہوں کا تسلسل تجھے ان پر رحمت کرنے
ٲَنْ عُدْتَ عَلَیْھِمْ بِالرَّحْمَۃِ، فَیَا مَنْ رَحْمَتُہُ واسِعَۃٌ، وَعَفْوُہُ عَظِیمٌ، یَا عَظِیمُ یَا
سے باز نہیں رکھ سکتا تو اے وہ ذات جسکی رحمت عام اور عفو وبخشش عظیم ہے اے خدائے عظیم اے خدائے عظیم اے خدائے
عَظِیمُ یَا عَظِیمُ، لاَ یَرُدُّ غَضَبَکَ إلاَّ حِلْمُکَ وَلاَ یُنْجِی مِنْ سَخَطِکَ إلاَّ التَّضَرُّعُ
عظیم تیرا غضب تیرے ہی حلم سے پلٹ سکتا ہے اور تیری ناراضگی تیرے حضور نالہ وفریاد سے ہی دور
إلَیْکَ فَھَبْ لِی یَا إلھِی فَرَجاً بِالْقُدْرَۃِ الَّتِی تُحْیِی بِھَا مَیْتَ الْبِلاَدِ، وَلاَ تُھْلِکْنِی غَمّاً
ہوسکتی ہے تو اے میرے خدا مجھے اپنی قدرت سے کشائش عطا کر جس سے تو اجڑے ہوئے شہروں کو آباد کرتا ہے مجھے غمگینی میں
حَتَّی تَستَجِیبَ لِی، وَتُعَرِّفَنِی الْاِجابَۃَ فِی دُعَائِی، وَٲَذِقْنِی طَعْمَ الْعَافِیَۃِ إلَی
ہلاک نہ کر یہاں تک کہ تو میری دعا کو قبول کر لے اور دعا کی قبولیت سے مجھے آگاہ فرما دے مجھے آخر دم تک صحت وعافیت سے
مُنْتَہی ٲَجَلِی، وَلاَ تُشْمِتْ بِی عَدُوِّی، وَلاَ تُسَلِّطْہُ عَلَیَّ، وَلاَ تُمَکِّنْہُ مِنْ عُنُقِی۔
رکھ اور میرے دشمن کو میری بری حالت پر خوش نہ ہونے دے اور اسے مجھ پر تسلط اور اختیار نہ دے
اَللّٰھُمَّ إنْ وَضَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْفَعُنِی؟ وَ إنْ رَفَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَضَعُنِی
اے پروردگار! اگر تو مجھے گرا دے تو کون مجھے اٹھانے والا ہے اور اگر تو مجھے بلند کرے تو کون ہے جو مجھے پست کر سکتا ہے
وَ إنْ ٲَھْلَکْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَعْرِضُ لَکَ فِی عَبْدِکَ ٲَوْ یَسْٲَلُکَ عَنْ ٲَمْرِہِ وَقَدْ عَلِمْتُ
اگر تو مجھے ہلاک کرے تو کون تیرے بندے سے متعلق تجھے کچھ کہہ سکتا ہے اس کے متعلق سوال کر سکتا ہے بے شک میں جانتا ہوں
ٲَنَّہُ لَیْسَ فِی حُکْمِکَ ظُلْمٌ، وَلاَ فِی نَقِمَتِکَ عَجَلَۃٌ، وَ إنَّمَا یَعْجَلُ مَنْ یَخَافُ الْفَوْتَ
کہ تیرے فیصلے میںظلم نہیں اور تیرے عذاب میں جلدی نہیں اور بے شک جلدی وہ کرتا ہے جسے وقت نکل جانے کا ڈر ہو
وَ إنَّمَا یَحْتاجُ إلَی الظُّلْمِ الضَّعِیفُ، وَقَدْ تَعالَیْتَ یَا إلھِی عَنْ ذَٰلِکَ عُلُوّاً کَبِیراً
اور ظلم وہ کرتا ہے جو کمزور ہو اور اے میرے معبود! تو ان باتوں سے بہت بلند اور بہت بڑا ہے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَعُوذُ بِکَ فَٲَعِذْنِی، وَٲَسْتَجِیرُ بِکَ فَٲَجِرْنِی، وَٲَسْتَرْزِقُکَ فَارْزُقْنِی
اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں تو مجھے پناہ دے تیرے نزدیک آتا ہوںمجھے نزدیک کرلے تجھ سے روزی مانگتا ہوں مجھے روزی
وَٲَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ فَاکْفِنِی، وَٲَسْتَنْصِرُکَ عَلی عَدُوِّی فَانْصُرْنِی، وَٲَسْتَعِینُ بِکَ
دے تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں میری کفالت فرما اپنے دشمن کے خلاف تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور اعانت کا طالب
فَٲَعِنِّی، وَٲَسْتَغْفِرُکَ یَا إلھِی فَاغْفِرْ لِی، آمِینَ آمِینَ آمِینَ ۔
ہوںمیری مدد فرما اور میرے معبود تجھ سے بخشش کا طالب ہوں مجھے بخش دے آمین آمین آمین۔
﴿۷﴾دعائے کمیل پڑھیں۔ انشائ اﷲ چھٹی فصل میں اس کا تذکرہ ہوگا ۔
﴿۸﴾ شب عرفہ میں پڑھی جانے والی وہ دعا پڑھیں جو ماہ ذی الحج کے اعمال میں درج ہے۔یعنی
اَللّٰھُمَّ یَا شَاھِدَ کُلِّ نَجْویٰ۔
اے خدا! اے سب رازوں کے جاننے والے۔
﴿۹﴾دس مرتبہ یہ ذکر کہیں۔نیز یہ ذکر شریف شب عیدالفطر میں بھی پڑھا جاتا ہے۔
یَادائِمَ الْفَضْلِ عَلَی الْبَرِیَّۃِ، یَابَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالْعَطِیَّۃِ، یَاصَاحِبَ الْمَوَاھِبِ السَّنِیَّۃِ
اے وہ ذات جسکا احسان مخلوق پر ہمیشہ ہے اے وہ جسکے دونوں ہاتھ عطا کیلئے کھلے ہیں اے بڑی بڑی نعمتیں دینے والے۔ خدا وندا
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ خَیْرِ الْوَرَیٰ سَجِیَّۃً، وَاغْفِرْ لَنا یَا ذَا الْعُلیٰ فِی ھَذِہِ الْعَشِیَّۃِ ۔
محمد(ص)وآل محمد(ص) پر رحمت فرما جو مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں اصل فطرت ہیں اور اے بلندیوں کے مالک ! اس رات میں میرے گناہ بخش دے۔
﴿١٠﴾انار کھائیں جیسا کہ امام جعفرصادق -ہر شب جمعہ انار تناول فرماتے تھے ، اگر سوتے وقت کھائیں تو﴿شاید﴾بہتر ہوگا جیسا کہ روایت میں ہے کہ جوشخص سوتے وقت انار کھائے توصبح تک اسکا جسم وجان امن میں رہے گا۔ مناسب ہو گا کہ انار کھاتے وقت کوئی رومال بچھا لے تاکہ دانے اکٹھے کرے اور پھر کھائے اور بہتر یہ ہے کہ اپنے انار میں کسی کو شریک نہ کرے۔
شیخ جعفر بن احمدقمی(رح) نے کتاب ِعروس میں امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ حق تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ایک محل عطا کرے گا جو صبح کی نماز نافلہ وفریضہ درمیان سو مرتبہ کہے:
سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُاﷲَ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلَیٰہِ ۔
پاک ہے میرا ربِ عظیم اور حمد اسی کی ہے میں اپنے رب سے مغفرت کا طالب ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
شیخ و سید اور دیگر بز رگو ں کا فر ما ن ہے کہ شب جمعہ سحر ی کے وقت یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَھَبْ لِیَ الْغَداۃَ رِضَاکَ، وَٲَسْکِنْ قَلْبِی خَوْفَکَ
اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نا زل فرما آج کی صبح مجھے اپنی رضا عطا فر ما میرے دل کو اپنے خو ف سے
وَاقْطَعْہُ عَمَّنْ سِواکَ، حَتَّی لاَ ٲَرْجُوَ وَلاَ ٲَخافَ إلاَّ إیَّاکَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
بھر دے اور اسے اپنے غیر سے ہٹا دے تاکہ تیر ے سو ا کسی سے امید اور خو ف نہ رکھوں خدایا! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت
وَآلِہِ وَھَبْ لِی ثَباتَ الْیَقِینِ، وَمَحْضَ الْاِخْلاصِ، وَشَرَفَ التَّوْحِیدِ، وَدَوَامَ
فرما اور مجھے یقین میں پختگی اور خلوص کامل عطا فرما یکتا پرستی کا شرف بخش دے اور ہمیشہ کی ثابت
الاسْتِقامَۃِ وَمَعْدِنَ الصَّبْرِ وَالرِّضَا بِالْقَضَائِ وَالْقَدَرِ یَا قَاضِیَ حَوَائِجِ السَّائِلِین
قدمی سے نواز اور صبر و رضاکا خزا نہ عطا کر کہ جس سے قضا ئوقدر پر راضی رہوں اے سائلو ں کی حاجات برلانے والے
یَا مَنْ یَعْلَمُ مَا فِی ضَمِیرِ الصَّامِتِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَاسْتَجِبْ دُعَائِی
اے وہ جو خاموش رہنے والوں کے مدعا کو جانتا ہے محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور میری دعا قبول فرما
وَاغْفِرْ ذَ نْبِی، وَٲَوْسِعْ رِزْقِی، وَ اقْضِ حَوَائِجِی فِی نَفْسِی وَ إخْوانِی فِی دِینِی
میرے گناہ بخش دے میرے رزق میں فراخی پیدا کر دے میری اور میرے دینی بھائیوں اور میرے اہل خاندان کی
وَٲَھْلِی۔ إلھِی طُمُوحُ الاَْمالِ قَدْ خابَتْ إلاَّ لَدَیْکَ، وَمَعَاکِفُ الْھِمَمِ قَدْ تَعَطَّلَتْ إلاَّ
حاجات پوری فرما خدایا تیری مدد کے بغیر بڑی بڑی امیدیں نا تمام اور بلند ہمتیں بے فائدہ اور بے کار ہو جاتی ہیں
عَلَیْکَ وَمَذَاھِبُ الْعُقُولِ قَدْ سَمَتْ إلاَّ إلَیْکَ فَٲَنْتَ الرَّجَائُ وَ إلَیْکَ الْمُلْتَجَٲُ یَا ٲَکْرَمَ
اور تیری طرف توجہ کے بغیر عقلوں کی جولانیاں نارسا رہ جاتی ہیں پس تو ہی امید اور تو ہی پناہ گاہ ہے اے بزرگتر معبود !
مَقْصُودٍ، وَٲَجْوَدَ مَسْؤُولٍ، ھَرَبْتُ إلَیْکَ بِنَفْسِی یَا مَلْجَٲَ الْھَارِبِینَ بِٲَثْقالِ الذُّنُوبِ
اور سخی تر داتا اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ میں اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ کہ جسے میں اپنی
ٲَحْمِلُھَا عَلَی ظَھْرِی، لاَ ٲَجِدُ لِی إلَیْکَ شَافِعاً سِوی مَعْرِفَتِی بِٲَنَّکَ ٲَقْرَبُ مَنْ
پشت پر اٹھائے ہوئے ہوںتیری طر ف بھا گے ہو ئے آیا ہو ں تیر ے حضو ر میرا کو ئی سفا رشی نہیں سو ائے میری اس معرفت کے
رَجَاہُ الطَّالِبُونَ، وَٲَمَّلَ مَا لَدَیْہِ الرَّاغِبُونَ، یَا مَنْ فَتَقَ الْعُقُولَ بِمَعْرِفَتِہِ
کہ تو اہل حا جت کی امیدوں کے بہت ہی قریب ہے اور رغبت کرنے وا لوں کو ڈھارس دیتا ہے اے وہ جس نے عقلوںکو اپنی
وَٲَطْلَقَ الاَْلَسُنَ بِحَمْدِہِ، وَجَعَلَ مَا امْتَنَّ بِہِ عَلَی عِبَادِہِ فِی کِفَائٍ لِتَٲْدِیَۃِ حَقَّہِ صَلِّ
معرفت کیلئے کھولا زبانوں کو اپنی حمد پر رواں کیا اور بندوں کو اپنے حق کی ادائیگی کی ہمت دے کر ان پر احسان عظیم فرمایا ہے
عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ عَلَی عَقْلِی سَبِیلاً، وَلاَ لِلْباطِلِ عَلَی عَمَلِی دَلِیلاً
محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور شیطان کومیر ی عقل میں آنے کی راہ نہ دے اور با طل کو میر ے عمل و کر دار میں دا خل نہ ہونے دے۔
صبح جمعہ کے طلوع ہونے کے بعد یہ دعا پڑھیں:ٲَصْبَحْتُ فِی ذِمَّۃِ اﷲِ، وَذِمَّۃِ مَلائِکَتِہِ، وَذِمَمِ
میں نے صبح کی ہے خدا کی پنا ہ میں اور اس کے فرشتوں کے زیر حفاظت
ٲَنْبِیائِہِ وَرُسُلِہِ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ،وَذِمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَذِمَمِ الْاَوْصِیائِ مِنْ آلِ
اور اس کے انبیائ اور رسل کے زیر حمایت کہ ان پر سلام ہو اور محمد رسو ل اﷲ(ص) کی سپر داری میں اور ان کے جانشینوں کی نگرانی میں جو آل
مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ ۔ آمَنْتُ بِسِرِّ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ وَعَلاَنِیَتِھِمْ وَظَاھِرِھِمْ
محمد میں سے ہیں میں آل محمد کے راز پر اعتقاد رکھتا ہوں اور ان کے عیاں پر اور ان کے ظاہر
وَبَاطِنِھِمْ، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّھُمْ فِی عِلْمِ اﷲِ وَطَاعَتِہ کَمُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ۔
اور ان کے باطن پر اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ علم الہی کو جاننے اور اس کی فرمانبرداری میں حضرت محمد(ص) کی مانند ہیں۔
روا یت ہے کہ جو شخص نما ز صبح سے پہلے تین مر تبہ یہ ورد کرے تو اسکے گنا ہ بخش دئیے جاتے ہیں چا ہے در یا کی جھاگ سے بھی زیا دہ ہی کیوں نہ ہوں :
ٲَسْتَغْفِرُ اﷲَ الَّذِی لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَٲَتُوبُ إلَیْہِ ۔
میں اس خد اسے مغفر ت چاہتا ہو ں جسکے سو اکو ئی معبو د نہیں وہ ہمیشہ زند ہ و قائم ہے اسی کے حضو ر تو بہ کرتا ہوں۔

روز جمعہ کے اعما ل روزجمعہ کے اعما ل بہت زیادہ ہیںاور یہا ں ہم ان میںسے چند ایک کاتذکر کرتے ہیں۔

﴿۱﴾ جمعہ کے دن نما زِ صبح کی پہلی رکعت میں سو رہ جمعہ اور دوسر ی رکعت میں سو رہ توحید پڑھیں:

﴿۲﴾نماز صبح کے بعد کسی سے با ت کر نے سے پہلے یہ دعا پڑ ھیں تا کہ اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک اسکے گنا ہوں کا کفارہ ہو جا ئے ۔
اَللّٰھُمَّ مَا قُلْتُ فِی جُمُعَتِی ھَذِہِ مِنْ قَوْلٍ ٲَوْ حَلَفْتُ فِیھا مِنْ حَلْفٍ ٲَوْنَذَرْتُ فِیھا مِنْ نَذْرٍ
اے معبود میں نے اپنے اس جمعہ کے رو زجو با ت کہی یا اس میں کسی بات پر قسم کھائی ہے یا کسی طرح کی نذر و منت مانی ہے
فَمَشِیْئَتُکَ بَیْنَ یَدَیْ ذلِکَ کُلِّہِ فَمَا شِئْتَ مِنْہُ ٲَنْ یَکُونَ کَانَ، وَمَا لَمْ تَشَٲْ مِنْہُ لَمْ یَکُنْ۔
تو یہ سب کچھ تیری مرضی کے تابع ہے پس ان میں سے جسکے پورا ہو نے میں تیری مصلحت ہے اسے پورا فرما اور جسے تو نہ چاہے پورا نہ کر
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَتَجاوَزْ عَنِّی اَللّٰھُمَّ مَنْ صَلَّیْتَ عَلَیْہِ فَصَلاَتِی عَلَیْہِ وَمَنْ لَعَنْتَ
اے معبود مجھے بخش دے اور مجھ سے در گزر فرما اے معبود جس پر تو رحمت کرے میں اس پر رحمت کا طالب ہوں اور جس پر تو لعنت کرے
فَلَعْنَتِی عَلَیْہِ۔
میری بھی اس پر لعنت ہے۔
ہر ما ہ کم ازکم ایک مرتبہ یہ عمل کر نا ضر وری ہے
رو ایت میں آیا ہے کہ جوشخص جمعہ کے دن نمازِ صبح کے بعد طلو ع آفتاب تک تعقیبات میں مشغو ل رہے تو جنت الفر دو س میں اسکے ستر درجا ت بلند کیے جائیں گے ۔شیخ طو سی (رح)سے رو ایت ہے کہ نماز جمعہ کی تعقیبا ت میں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے ۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی تَعَمَّدْتُ إلَیْکَ بِحَاجَتِی، وَٲَ نْزَلْتُ إلَیْکَ الْیَوْمَ فَقْرِی وَفَاقَتِی وَمَسْکَنَتِیِ
اے معبود اپنی حاجت لے کر تیرے حضور آیا ہوں اور آج کے دن تیری جناب میں اپنے فقر و فاقہ اور بے چارگی کے ساتھ حا ضر
فَٲَنَا لِمَغْفِرَتِکَ ٲَرْجٰی مِنِّی لِعَمَلِی، وَلَمَغْفِرَتُکَ وَرَحْمَتُکَ ٲَوْسَعُ مِنْ ذُ نُوبِی
ہوں تو اپنے عمل کی بجائے تیری بخشش و رحمت کی زیادہ امید رکھتا ہوں اور تیری بخشش و رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت
فَتَوَلَّ قَضائَ کُلِّ حَاجَۃٍ لِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیْھَا وَتَیْسِیْرِ ذلِٰکَ عَلَیْکَ، وَ لِفَقْرِی إلَیْکَ
رکھتی ہے پس میری تمام حاجات پوری فرماکہ تو ایسا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور یہ تیرے لیے بہت ہی آسان اور میری احتیاج
فَ إنِّی لَمْ ٲُصِبْ خَیْراً قَطُّ إلاَّ مِنْکَ وَلَمْ یَصْرِفْ عَنِّی سُوئً قَطُّ ٲَحَدٌ سِوَاکَ، وَلَسْتُ
کیمناسب ہے کیونکہ میں تیری توفیق کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتا اور تیرے سوا مجھے برائی سے بچانے والا کوئی نہیں ہے اور میں اپنی
ٲَرْجُو لآِخِرَتِی وَدُنْیایَ وَلا لِیَوْمِ فَقْرِی یَوْمَ یُفْرِدُنِیَ النَّاسُ فِی حُفْرَتِی
دنیاو آخرت اور غربت وتنہائی کے بارے میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا اور نہ اس دن جس دن مجھے لوگ قبر میںاکیلا چھوڑ
وَٲُفْضِی إلَیْکَ بِذَنْبِی سِوَاکَ ۔
جائیں گے اور میں اپنے گناہوں میں تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں سمجھتا۔

﴿۳﴾روایت ہے کہ جو شخص روزِ جمعہ یاغیر جمعہ بعد نماز فجر و ظہر یہ صلوات پڑھے تو وہ مرنے سے پہلے حضر ت قا ئم ﴿عج﴾ کا دیدار کریگا۔ جو یہ صلوا ت سو مر تبہ پڑ ھے تو حق تعا لیٰ اسکی سا ٹھ حاجات پوری کر ے گا۔ تیس حاجات دنیا میںاورتیس حاجات آخر ت میں۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَھُمْ۔
اے معبود محمد(ص) وآل محمد(ع) پر رحمت نازل فرما اور انکے آخری ظہور میں تعجیل فرما۔
﴿۴﴾نما ز فجر کے بعد سو رہ رحمن پڑھیں اور فَبِاَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ کے بعد ہر دفعہ کہیں: لاَ بِشَْْْیئٍ مِّنْ اَلآئِکَ رَبِّ اُکَذِّبُ﴿میں تیری نعمتوں میں سے کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتا﴾

﴿۵﴾شیخ طو سی(رح) کہتے ہیں، سنت ہے کہ روز ِجمعہ نمازِ فجر کے بعد سو مرتبہ درود پڑھیں اور سو مر تبہ استغفار کر یں نیز ان سو رتوں﴿ نبا ئ،ہو د،کہف ، صا فات اور رحمن﴾ میں سے کسی ایک کی تلاوت کریں۔

﴿۶﴾سو رہ احقا ف اور سو رہ مو منو ن پڑھیں جیسا کہ امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ جو شخص ہر شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ سو رہ احقاف پڑھے گا تو وہ دنیا میں خوف و خطر سے محفو ظ رہے گااور قیا مت میں فزع اکبر ﴿بڑی ہولناکی﴾سے امن میں ہو گا۔ نیز فرمایا کہ جو شخص ہر جمعہ کو پا بندی سے سو رہ مو منو ن پڑھے تو اسکے اعما ل کا خا تمہ خیر و نیکی پر ہو گا اور اسکا فر دوس بر یں میں انبیا ئ و مرسلین کیساتھ قیام ہو گا ۔

﴿۷﴾طلو ع آفتا ب سے قبل دس مرتبہ سو رہ کا فر ون پڑ ھیں اور پھر دعا کر یں تو وہ قبو ل ہو گی اور روایت میں ہے کہ امام زین العا بدین- صبحِ جمعہ سے ظہر تک آیت الکر سی پڑھا کرتے تھے اور جب نمازوں سے فارغ ہوتے تو بعد میں سو رہ قدر کی تلا وت شروع کر تے تھے ۔واضح رہے کہ جمعہ کے دن آیت الکر سی ﴿علی التنزیل﴾ پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ علی ابن ابراہیم اور کلینی کی روایت کے مطابق علی التنزیل آیۃ الکرسی اس طرح ہے ۔
اﷲُ لاَ إلَہَ إلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَتَٲْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلاَنَوْمٌ لَہُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ
اﷲ وہ ہے کہ جسکے سو اکو ئی معبو د نہیں وہ زند ہ ہے اور سا رے جہان کا مالک ہے اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیندجو کچھ آسمانوں میں ہے
وَمَا فِی الٲَرْضِ۔
اور زمین میں ہے ﴿سب ﴾ اسی کی ملکیت ہے ۔
پھر ان الفاظ کی تلا وت کر یں:
وَمَابَیْنَھُمَا وَمَا تَحْتَ ثَریٰ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔
اور جو زمین اور آسما ن کے در میا ن ہے اور جو تحت الثریٰ میں ہے وہ پوشیدہ اور ظاہر ہے وہ آگاہ ہے وہ رحمن اور رحیم ہے۔
اس کے بعد مَنْ ذَالَّذِی ْسے ھُمْ فِیْھَاخٰلِدُوْنَتک آیت الکر سی کو تمام کرے اور اسکے بعد وَالْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعالَمِیْنَ کہیں:

﴿۸﴾جمعہ کے روز غسل کرنا سنت موکدہ ہے روایت میں ہے کہ رسول اﷲ (ص)نے امیرالمومنین- سے فرما یا:یا علی! جمعہ کے دن غسل کیا کرو اگرچہ اس روز کی خوراک بیچ کر بھی پانی حاصل کرنا اور بھوکا رہنا پڑے کہ اس سے بڑی کوئی اور سنت نہیں ہے ۔امام جعفر صا دق - سے منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کے رو ز غسل کر کے درج ذیل دعا پڑ ھے تو وہ آئندہ جمعہ تک گناہوں سے پاک ہو گا یا طہارت باطنی کی بدولت اسکے اعمال قبول ہونگے اس میں احتیاط یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے جمعہ کا غسل ترک نہ کرے اسکا وقت طلو ع فجر سے زوال آفتاب تک ہے اور زوال سے جتنا قریب ہو بہتر ہے

ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو یکتا و لاثا نی ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (ص)اسکے بندے اور رسول ہیں
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍوَاجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَھِّرِینَ۔
اے معبود محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھے توبہ کرنے والوںاور پاکیزہ لوگوں میں سے قرار دے ۔
﴿۹﴾اپنے سر کو خطمی سے دھو ئے تو بر ص و دیو انگی سے محفو ظ رہے گا ۔
﴿١٠﴾ اس روز مو نچھیں اور نا خن کا ٹنے کی بڑ ی فضیلت ہے اس سے رزق میں وسعت ہو گی آئند ہ جمعہ تک گنا ہو ں سے پاک رہیگا اور بر ص و دیوانگی اور جزام سے محفو ظ رہیگا نا خن کا ٹتے وقت درج ذیل دعاپڑہے۔نیز ناخن کاٹنے میں بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے۔ پائوں کے ناخن کاٹنے میں بھی یہ ترتیب قائم رکھے اور کاٹے ہوئے ناخنوں کو دفن کرے ۔ :
بِسْمِ اﷲِ وَبِاﷲِ وَعَلیٰ سُنْۃِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
خدا کے نام اور اس کی ذات کے ذکر سے اور محمد(ص)آل محمد(ص) کی سیرت کے مطابق عمل کرتا ہوں ۔
﴿١١﴾پاکیزہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے ۔
﴿١٢﴾صدقہ دے کیونکہ روایت میں ہے کہ شب جمعہ و روز جمعہ میں دیا ہوا صدقہ عام دنوں کے صدقے سے ہزار گنا زیادہ شمار ہوتا ہے ۔
﴿١٣﴾اہل و عیال کیلئے اچھی چیزیں یعنی گوشت اور پھل وغیرہ خریدکر لائے تاکہ وہ جمعہ کی آمد سے خوش و شادمان ہوں ۔
﴿١٤﴾ناشتے میں انار کھائے اور قبل از زوال کاسنی﴿ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے﴾ کے سات پتے کھائے اس ضمن میں امام موسی کا ظم (ع)کا فرما ن ہے کہ رو ز جمعہ نا شتے میں ایک انار کھا نے سے چالیس دن تک دل نورانی رہیگا دو انار کھا نے سے اسی ۰۸د ن اور تین انارکھانے سے ایک سو بیس۰١٢ دن دل نورانی رہیگا اور وسوسہ شیطانی کو اس سے دور کرے گا اور جس سے وسوسہ شیطان دور ہوجائے وہ خدا کی معصیت نہیں کرتا اور جو خدا کی معصیت نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔مصبا ح میں شیخ کا ارشاد ہے کہ روایا ت میں شب جمعہ و روز جمعہ میں انار کھا نے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔
﴿١٥﴾جمعہ کے دن سیر و سیاحت ، لوگوں کے باغات اور زراعت میں تفریح ، غلط قسم کے لوگوں سے ملنے جلنے ،مسخرہ کرنے ، لوگوں کی عیب جوئی کرنے، قہقہہ لگا کر ہنسنے، لغو باتوں اور اشعار اور دیگر ناروا کام کرنے والوں سے دوری اختیار کرے کہ جنکی خرابیاں بیان نہیں کی جاسکتیں بلکہ اسکے بجا ئے خود کو دنیاوی کاموںسے بچا کر مسا ئل دینی کے سمجھنے اور انہیںیا د کرنے میں مصروف رکھے۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ اس مسلمان پر افسوس ہے جو سات دنوں میں ﴿جمعہ کے دن بھی﴾ خود کو مسائل دینی کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغو ل نہیں رکھ سکا اور دنیا کے کاموں میں پھنسا رہا رسول اﷲ (ص) فرماتے ہیں کہ اگر تم لو گ جمعہ کے دن کسی بو ڑھے کو کفر و جاہلیت کے وا قعا ت اور قصے کہانیاں بیان کرتے دیکھو تو اس پر سنگ با ری کر دو۔
﴿١٦﴾ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھیں جیسا کہ امام محمد با قر - فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک جمعہ کے دن محمد(ص) وآل محمد(ص) پر درو د بھیجنے سے بہتر کوئی عبا دت نہیں ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ اگر ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنے کی فرصت نہ ہو تو کم ازکم ایک سو مرتبہ درود پڑھے تاکہ قیامت کے دن اسکا چہرہ منور ہو۔ روایت میں آیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سو مرتبہ درود شریف سو مرتبہ اَسْتَغْفِرُاﷲَ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ اور سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو اسکے گناہ معاف ہو جائیں گے ایک اور روایت میں ہے کہ جمعہ کے دن ظہر و عصر کے درمیا ن محمد(ص) وآل محمد(ص) پر صلو ات بھیجنا ستر حج کرنے کے برابر ہے ۔
﴿١٧﴾ رسو ل اﷲ (ص)اور آئمہ طاہرینکی زیارت پڑھے کہ جنکی کیفیت باب زیارات میں آئیگی ۔
﴿ ١٨﴾اپنے والدین اور دیگر مومنین کی قبروںکی زیارت کیلئے جائے کہ اسکی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ جیسا کہ امام محمد باقر - فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن مرُدوں کی زیارت کرو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کون انکی زیارت کیلئے آیا ہے وہ خوش ہوتے ہیں۔
﴿١٩﴾دعائے ندبہ پڑھیں اور یہ دعا چاروں عیدوں میں پڑھی جاتی ہے اور اسکا تذکرتیسرے باب میں آئیگا۔
﴿٢٠﴾جمعہ کے دن بیس رکعت نافلہ جمعہ کے علاوہ ﴿کہ جنکے پڑھنے کا طریقہ مشہور علمائ کے نزدیک یہ ہے کہ چھ رکعت اس وقت پڑھے جب سورج خوب نکل آئے ،پھر چھ رکعت چاشت کے وقت اسکے بعد چھ رکعت زوال کے قریب اور دو رکعت زوال کے بعد فریضہ سے پہلے پڑھے یا یہ کہ پہلی چھ رکعت کو نماز جمعہ یا ظہر کے بعد اس طرح بجالائے جس طرح فقہائ کی کتابوں اور مصابیح میں ذکر ہے۔ اسکے علاوہ اور نمازیں بھی منقول ہیں جنکی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہاں ہم ان میں سے چند ایک نمازوں کا ذکر کرتے ہیں ،اگرچہ ان میں سے اکثر نمازیں جمعہ کے دن کیساتھ مخصوص نہیں ہیں۔لیکن جمعہ کے دن انکی ادائیگی کا ثواب یقینًا زیادہ ہے۔
پہلی نماز: یہ نماز کاملہ ہے چنانچہ شیخ ، سید ، شہید ، علامہ اور دیگر مشائخ نے معتبر سندوں کے ساتھ امام جعفر صادق -سے اور انہوں نے اپنے آبائ طاہرین (ع)سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ(ص)نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن زوال سے پہلے چاررکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں دس مرتبہ سورئہ حمد اور آیت الکرسی ، سورئہ کافرون ، سورئہ توحید ، سورئہ فلق اور سورئہ ناس میں سے ہرسورہ دس مرتبہ پڑھے ایک اور روایت کے مطابق انکے ساتھ سورئہ قدر اور آیت شَھِدَاﷲُ بھی دس دس مرتبہ پڑھے :یہ چار رکعت نماز پڑھنے کے بعد سو مرتبہ اَسْتَغْفِرُاﷲَ پڑھے اور سومرتبہ یہ پڑھے:
سُبْحَانَ اﷲِ، وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ، وَاﷲُ ٲَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ
پاک ہے خدا اور حمد خدا ہی کے لیے ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگتر ہے اور نہیں کوئی قوت وطاقت مگر وہ جو خدائے
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔
بزرگ و برتر سے ہے
پھر سو مرتبہ درود پڑھے پس جو شخص اس عمل کو بجالائے تو خدا اسکو اہل آسمان ، اہل زمین کے شر اور شیطان کے شر سے نیزظالم حاکموں کے شر سے بھی محفوظ رکھے گا۔﴿ روایت میںاسکے اور بھی فوائد اور فضیلتیں ذکر ہوئی ہیں﴾
دوسری نماز: حارث ہمدانی نے امیرالمومنین -سے روایت کی کہ اگر ممکن ہو تو جمعہ کے دن دس رکعت نماز پڑھے اور رکوع وسجود اچھی طرح بجا لائے ۔ اس دوران میں ہر رکعت کے بعد سومرتبہ سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٰ پڑھے، اس نماز کی بھی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔
تیسری نماز: معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جمعہ کے دن دو رکعت نماز پڑھے کہ جسکی پہلی رکعت میں سورئہ ابراہیم اور دوسری رکعت میں سورئہ حجر کی تلاوت کرے،پس وہ پریشانی ودیوانگی بلکہ ہر بلاوآفت سے محفوظ رہے گا۔

نماز حضرت رسول اﷲ سّیدا بن طاؤس نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا - سے روا یت کی ہے کہ آنجنا ب سے نمازِ جعفر طّیار کے متعلق سوال کیا گیا تو فرما یا :تم لوگ نماز ِرسول اﷲ (ص)سے کیو ں غا فل ہو؟ کیا آنحضرت(ص) نے نمازِ جعفر طیار نہ پڑھی تھی ؟ اورکیا جعفر طّیار نے نمازِ رسول اﷲ (ص)نہ پڑھی تھی؟ راوی نے عر ض کی :مو لا !آپ ہمیں تعلیم فرما ئیں!حضر ت نے فرما یا کہ یہ دو رکعت نما ز ہے کہ ہر رکعت میں سُو ر ئہ حمد کے بعد پند رہ مر تبہ سُورہ قد ر پڑھو ۔ پھر ر کو ع اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ، پہلے سجدے میں اورسجد ے سے سر اُ ٹھانے کے بعد،پھر دوسرے سجدے میں اور اس سے سر اٹھانے کے بعد ہر ایک مقا م پر﴿١٥﴾ پندرہ مرتبہ سو رئہ قدر پڑھو۔پھرتشہد و سلا م پڑھو۔اس کے بعد خد ا اور بندے میں حا ئل ہر گنا ہ معا ف ہو جائیں گے اور ہر حاجت پو ری ہو جا ئے گی ۔نما ز سے فا ر غ ہو کر یہ دُعا پڑھیں:
لَاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ رَبُّنا وَرَبُّ آبائِنَا الْاَوَّلِینَ، لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ إلھاً واحِداً وَنَحْنُ لَہُ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جوہما را ا ور ہما رے گذشتہ اباؤ اجداد کا ر ب ہے خدا کے سوا کوئی معبود نہیںجو یکتا معبود ہے اور ہم اسکے
مُسْلِمُونَ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ لاَ نَعْبُدُ إلاَّ إیَّاہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ
فرمانبردار ہیں خدا کے سوا کوئی معبود نہیںہم اسکی عبادت کرتے ہیں ہم اسی کے دین کیساتھ مخلص ہیں اگرچہ مشرکوں کو ناگوار
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ، ٲَ نْجَزَ وَعْدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَٲَعَزَّ جُنْدَہُ
گذرے خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔جو یکتا ہے یکتا ہے یکتا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اسکے لشکر کو
وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہُ فَلَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ
غالب کیا اور اکیلے ہی کئی گروہوں کو شکست دی حکو مت اسی کیلئے اور حمد اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے اے معبود تو
نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیھِنَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَٲَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
آسمانوںاور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اسے منور کرنے و الا ہے پس حمد تیرے ہی لئے ہے اور آسمانوں اور زمین اور
وَمَنْ فِیھِنَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَٲَ نْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَ إنْجَازُکَ حَقٌّ
جو کچھ ان میں ہے تو اسے قا ئم رکھنے و الا ہے تو حمد تیر ے ہی لئے ہے تو حق اور تیر او عدہ حق ہے اور تیرا قو ل حق ہے تیرا عمل حق ہے
وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ۔ اَللّٰھُمَّ لَکَ ٲَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَبِکَ
جنت حق ہے اور جہنم حق ہے۔ اے معبود میں تیرا دلدادہ ہوں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوںتیری مدد
خَاصَمْتُ، وَ إلَیْکَ حَاکَمْتُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَٲَخَّرْتُ
سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب میرے ا گلے پچھلے
وَٲَسْرَرْتُ وَٲَعْلَنْتُ ، ٲَنْتَ إلھِی لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
گناہوں کو معاف کر دے چاہے وہ میں نے چھپائے ہوں یا ظاہراً کیے ہوں توہی میرا معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمد(ص) و آل
وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ ٲَ نْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ۔اور المتہجد میں ذکر ہوا ہے
محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور مجھے بخش د ے اور مجھ پر رحم فرما میری تو بہ قبول کر لے کہ بے شک تُو تو بہ قبو ل کرنے والا مہر با ن ہے۔
علا مہ مجلسی(رح) فرماتے ہیں کہ یہ نما ز چند مشہور نما زو ں میں سے ہے کہ جسکو عامہ و خا صہ نے اپنی کتا بوں میں در ج کیا ہے ۔بعض نے اسے رو ز جمعہ کی نمازوں میں شما ر کیا ہے۔لیکن روایت سے اختصاص معلوم نہیں ہوتا اور ظا ہر اًیہ نما ز سبھی دنو ں میں پڑھی جاسکتی ہے۔

نما ز حضرت ا میر المؤمنین شیخ و سّید نے اما م جعفر صا دق - سے نقل کیا ہے کہ تم میں سے جو شخص چا ر رکعت نما ز امیرالمؤمنین- پڑھے گا تو وہ گنا ہوں سے اسطرح پاک ہو جا ئیگا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اسکی تما م حاجتیں بھی پوری ہو جائیں گی اس نماز کا طریقہ یہ ہے ہر رکعت میں ایک مرتبہ سُورہ حمد اور پچاس مرتبہ سُورہ توحید کی تلاوت کریں اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دُعا پڑھیں کہ جو حضرت (ع) کی تسبیح بھی ہے:
سُبْحَانَ مَنْ لاَ تَبِیدُ مَعالِمُہُ، سُبْحانَ مَنْ لاَ تَنْقُصُ خَزائِنُہُ، سُبْحَانَ مَنْ لاَ اضْمِحْلالَ
پاک ہے وہ ذات جسکی نشانیاں مٹتی نہیں ہیں پاک ہے وہ ذات جسکے خزانے کم نہیں ہوتے پاک ہے وہ ذات جسکا فخر کمزور
لِفَخْرِھِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْفَدُ مَا عِنْدَھُ، سُبْحَانَ مَنْ لاَ انْقِطَاعَ لِمُدَّتِہِ سُبْحَانَ مَنْ
نہیں پڑتا پاک ہے وہ ذات جسکے پاس جو کچھ ہے وہ ختم نہیں ہوتا پاک ہے وہ ذات جسکی مدت منقطع نہیں ہوتی پاک ہے وہ
لاَ یُشَارِکُ ٲَحَداً فِی ٲَمْرِھِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ إلہَ غَیْرُھُ۔پس اپنے لیے دعا مانگیں اور پھر کہیں:
ذات جسکے حکم میں کوئی شریک نہیںہے۔پاک ہے وہ ذات جسکے سوائ کوئی معبود نہیں ۔
یَا مَنْ عَفَا عَنِ السَّیِّئاتِ وَلَمْ یُجازِ بِھَا ارْحَمْ عَبْدَکَ یَا اﷲُ، نَفْسِی نَفْسِی ٲَنَا
اے وہ جو گناہ گاروں سے در گزر کرتا ہے اور انہیں سزا نہیں دیتااپنے بندے پر رحم فرما اے اللہ مجھے میرے نفس امارہ سے بچا کہ
عَبْدُکَ یَا سَیِّدَاھُ، ٲَنَا عَبْدُکَ بَیْنَ یَدَیْکَ یَا رَبَّاھُ، إلھِی بِکَیْنُونَتِکَ یَا
اے میرے مالک میں تیرا بندہ ہوں جو تیرے سامنے حاضر ہوں اے پروردگار اے میرے معبود تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے اے
ٲَمَلاَھُ، یَا رَحْمَانَاھُ یَا غِیَاثَاھُ، عَبْدُکَ عَبْدُکَ لاَ حِیلَۃَ لَہُ یَا مُنْتَھی رَغْبَتَاھُ، یَا مُجْرِیَ
اے مرکزِ امید اے رحم کرنے والے اے پناہ دینے والے تیرا بندہ تیرا ہی بندہ ہے جو کوئی چارہ کار نہیں رکھتا اے آخری امیدگاہ اے
الدَّمِ فِی عُرُوقِ عَبْدِکَ، یَا سَیِّدَاھُ یَا مَالِکَاھُ ٲَیَا ھُوَ ٲَیَا ھُوَ یَا رَبَّاھُ،
اپنے بندے کی رگوں میں خون جاری کرنے والے اے اسکے سردار اے اسکے مالک اے وہ ذات اے وہ ذات اے پروردگار
عَبْدُکَ عَبْدُکَ لاَ حِیلَۃَ لِی وَلاَ غِنیً بِی عَنْ نَفْسِی وَلاَ ٲَسْتَطِیعُ لَھَا ضَرّاً وَلاَنَفْعاً، وَلاَ
میں صرف تیرا بندہ ہوں میرا کوئی چارہ کار نہیںمیں اپنے نفس میں بے نیاز نہیں اور نہ اس کیلئے نفع ونقصان پہنچانے کے قابل ہوں
ٲَجِدُ مَنْ ٲُصَانِعُہُ، تَقَطَّعَتْ ٲَسْبَابُ الْخَدَائِعِ عَنِّی وَاضْمَحَلَّ کُلُّ مَظْنُونٍ عَنِّی ٲَفْرَدَنِی
میرا کوئی نہیں جس سے یہ با تیں کروں میرے فریب کاری کے سب ذرائع منقطع ہوگئے میرے سارے گما ن ماند پڑگئے
الدَّھْرُ إلَیْکَ فَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ ھذَا الْمَقامَ یَا إلھِی بِعِلْمِکَ کانَ ہذَا کُلُّہُ
زمانے نے مجھے تیری بارگاہ میںتنہا چھوڑ دیاپس میں تیرے حضور اس مقام پر کھڑا ہوں اے معبود یہ سب کچھ تیرے علم میں ہے
فَکَیْفَ ٲَنْتَ صَانِعٌ بِی وَلَیْتَ شِعْرِی کَیْفَ تَقُولُ لِدُعَائِی ٲَتَقُولُ نَعَمْ ٲَمْ تَقُولُ لاَ فَ إنْ قُلْتَ
پس اب تو مجھ سے کیا سلوک کرے گا ۔اے کاش میں جان لیتاکہ میری دعا پر تو نے کیا کہا کیا تو نے ہاں کہی ہے یا نہ کی ہے پس اگر تو
لاَ، فَیَا وَیْلِی یَا وَیْلِی یَا وَیْلِی یَا عَوْلِی یَا عَوْلِی یَا عَوْلِی، یَا شِقْوَتِی یَا شِقْوَتِی یَا شِقْوَتِی،
نے نہ کی ہے توہائے میری بربادی ہی بربادی ہے ہائے میری درماندگی درماندگی درماندگی ہائے میری بدبختی بدبختی بدبختی
یَا ذُ لِّی یَا ذُ لِّی یَا ذُلِّی، إلٰی مَنْ وَمِمَّنْ ٲَوْ عِنْدَ مَنْ ٲَوْ کَیْفَ ٲَوْ مَاذَا ٲَوْ إلٰی ٲَیِّ شَیْئٍ ٲَلْجَٲُ
ہائے میری خواری خواری خواری کس کی طرف اور کس طرف سے یا کس کے پاس یا کیسے اور کہاں جائوں یا کس کی پناہ میں جائوں
وَمَنْ ٲَرْجُو وَمَنْ یَجُودُ عَلَیَّ بِفَضْلِہِ حِینَ تَرْفُضُنِی یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ وَ إنْ قُلْتَ نَعَمْ،
کس سے امید لگائوں کون مجھ پر فضل و کرم کرے گا جب تو نے مجھے چھوڑ دیا ہو اے و سیع بخشش کے مالک اور اگر تو نے میرے
کَمَا ھُوَ الظَّنُّ بِکَ وَالرَّجَائُ لَکَ، فَطُوبٰی لِی ٲَ نَا السَّعِیدُ وَٲَنَا الْمَسْعُودُ، فَطُوبٰی لِی
جواب میں ہاں کی جسکا مجھے تجھ سے گمان اور تجھ سے امید ہے تو میرا حال کیا ہی اچھا ہے میں نیک بخت اور خوش نصیب ہوںتومیرا
وَٲَنَا الْمَرْحُومُ، یَا مُتَرَحِّمُ یَا مُتَرَئِّفُ یَا مُتَعَطِّفُ یَا مُتَجَبِّرُ
حال کیا ہی اچھا ہے کہ میںرحمت شدہ ہوں اے رحمت والے اے مہربان اے دلجوئی کرنے والے اے کمی پوری کرنے والے
یَا مُتَمَلِّکُ یَا مُقْسِطُ، لاَعَمَلَ لِی ٲَبْلُغُ بِہِ نَجَاحَ حَاجَتِی، ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی
اے حکومت کرنے والے اے معا ف کرنے والے میں کوئی ا یسا عمل نہیں کرتا جسکے ذریعے اپنی مراد کو پہنچ سکوں میں تیرے اس
جَعَلْتَہُ فِی مَکْنُونِ غَیْبِکَ وَاسْتَقَرَّ عِنْدَکَ فَلاَ یَخْرُجُ مِنْکَ إلَی شَیْئٍ سِوَاکَ،
نام کے واسطے سوال کرتا ہوں جسے تو نے پردئہ غیب میں پوشیدہ رکھا کہ تیرے پاس محفوظ ہے وہ تیرے سوا کسی چیز کی طرف اپنا رخ
ٲَسْٲَلُکَ بِہِ وَبِکَ وَبِہٰ فَ إنَّہُ ٲَجَلُّ وَٲَشْرَفُ ٲَسْمائِکَ،
نہیں کرتامیں اسی نام کے واسطے سے اور تیری ذات اور اس نام کے واسطے سوال کرتا ہوں جو تیرے ناموں میں بزرگ و برتر ہے
لاَ شَیْئَ لِی غَیْرُ ہذَا وَلاَ ٲَحَدَ ٲَعْوَدُ عَلَیَّ مِنْکَ، یَا کَیْنُونُ یَا مُکَوِّنُ،
اسکے علاوہ کچھ بھی میرے پاس نہیں تیری ذات کے علا وہ کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے اے وہ کہ از خود موجو د اور وجود ینے والا ہے
یَا مَنْ عَرَّفَنِی نَفْسَہُ، یَا مَنْ ٲَمَرَنِی بِطَاعَتِہِ، یَا مَنْ نَھَانِی عَنْ مَعْصِیَتِہِ، وَیَا
اے وہ جس نے خود کو مجھے پہنچوایا اے وہ جس نے مجھے اپنی اطاعت کا حکم دیا اے وہ جس نے اپنی نافرمانی سے مجھے روکا ہے اے
مَدْعُوُّ یَا مَسْؤُولُ، یَا مَطْلُوباً إلَیْہِ رَفَضْتُ وَصِیَّتَکَ الَّتِی ٲَوْصَیْتَنِی
وہ جسے خد ا پکاراجاتا ہے اے وہ جس سے سوال کیا جاتا ہے جس سے مانگا جاتاہے جوہدایت تو نے مجھے فرمائی میں نے اس پر
وَلَمْ ٲُطِعْکَ، وَلَوْ ٲَطَعْتُکَ فِیَما ٲَمَرْتَنِی لَکَفَیْتَنِی مَا قُمْتُ إلَیْکَ فِیہِ، وَ
عمل نہیں کیا اور تیری اطاعت نہیں کی اگر میں تیرے حکم پر عمل پیراہوتا تو اس مقصد میں تو کافی تھا جس کیلئے میں حا ضر ہواہوں اور
ٲَنَا مَعَ مَعْصِیَتِی لَکَ راجٍ فَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ مَا رَجَوْتُ، یَا مُتَرَحِّماً لِی
میں تیری نافرمانی کرکے بھی تجھ سے امید رکھتا ہوں پس تو میرے اور میری امید کے درمیان حائل نہ ہو اے مجھ پر رحم کرنے والے
ٲَعِذْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَمِنْ فَوْقِی وَمِنْ تَحْتِی، وَمِنْ کُلِّ جِھَاتِ
مجھے پناہ میں رکھ۔ میرے آگے، میرے پیچھے ،میرے اُوپر اور میرے نیچے غرض ہر طرف سے جو مجھے
الْاِحَاطَۃِ بِی۔ اَللّٰھُمَّ بِمُحَمَّدٍ سَیِّدِی، وَبِعَلِیٍّ وَلِیِّی، وَبِالْاَئِمَّۃِ الرَّاشِدِینَ عَلَیْھِمُ
گھیرے ہوئے ہے اے معبود تجھے واسطہ میرے آقا محمد(ص) کا میرے ولی علی(ع) اور ہدایت یافتہ اماموں(ع) کا ان پر درود
اَلسَّلاَمُ اجْعَلْ عَلَیْنا صَلاَتَکَ وَرَٲْفَتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَٲَوْسِعْ عَلَیْنَا مِنْ رِزْقِکَ، وَاقْضِ
اور سلام ہو کہ ہم پر اپنی رحمت مہربانی اور اپنا فضل و کرم فرما اور ہم پر اپنا رزق کشادہ کر دے اور ہمارے قرضے
عَنَّا الدَّیْنَ وَجَمِیعَ حَوَائِجِنا یَا اﷲُ یَا اﷲُ یَا اﷲُ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔
ادا کر دے اور سب حاجتیں پوری فرما۔ یااللہ یااللہ یااللہ بے شک توہر چیز پر قادر ہے۔
حضرت فرماتے ہیں کہ جو شخص اس نما ز کے بعد مذکورہ بالا دُعا پڑھے تو خدا تعالی اسکے تمام گناہ معا ف فرما دیتا ہے۔ مؤلف کہتے ہیں شب جمعہ و روزِجمعہ میں اس چا ر رکعت نما ز کی فضیلت بہت سی حد یثو ں میں وا رد ہو ئی ہے اگر نما ز کے بعد اَللَّھُمَّ صَلِّیْ عَلیٰ النَبِیِ الْعَرَبِیِ وَآلِہٰ﴿اے معبودنبی (ص)عر بی اور ان کی آل(ع) پر رحمت فرما﴾کہیںتو اسکے سا بقہ و آئندہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہوگا کہ گویا اس نے بارہ مرتبہ قرآن ختم کیا ہے نیزخدا قیا مت کی بھوک پیاس کو اس سے دور کر دے گا۔

نما ز حضرت فا طمہ رو ایت میں ہے کہ جبر ائیل نے حضر ت فا طمہ زہرا =کودو رکعت نما ز تعلیم فرمائی کہ جسکی تر کیب یہ ہے پہلی رکعت میں سُو رئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُو رئہ قدر اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُو رئہ تو حید پڑھیں جنا ب سّیدہ اس نما ز کے بعد یہ دُ عا پڑھتی تھیں:
سُبْحَانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ، سُبْحَانَ ذِی الْجَلاَلِ الْباذِخِ الْعَظِیمِ،سُبْحَانَ
پاک ہے وہ ذات جو اعلی و بلند عزت کی مالک ہے پاک ہے وہ ذات جو اعلی و ارفع جلالت کی مالک ہے پاک ہے
ذِی الْمُلْکِ الْفَاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْبَھْجَۃَ وَالْجَمَالَ، سُبْحَانَ مَنْ تَرَدّیٰ
وہ ذات جو قدیم و عزیم سلطنت کی مالک ہے پاک ہے وہ جس نے حُسن و جمال کا لباس پہنا پاک ہے وہ ذات جس نے نور اور
بِالنُّورِ وَالْوَقَارِ، سُبْحَانَ مَنْ یَرَیٰ ٲَثَرَ النَّمْلِ فِی الصَّفَا، سُبْحَانَ مَنْ یَرَیٰ وَقْعَ
وقار کی چادر اوڑھی ہوئی ہے پاک ہے وہ جو چٹیل پتھر پر چیونٹی کا نقش پا دیکھ لیتی ہے پاک ہے وہ جو ہوا میں پرندوں
الطَّیْرِ فِی الْھَوَائِ، سُبْحَانَ مَنْ ھُوَ ھَکَذَا لاَ ھَکَذَا غَیْرُھُ ۔
کے نشان دیکھ لیتاہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے۔
سید فرما تے ہیں کہ ایک اور روایت کے مطابق نماز کے بعد ہر نماز کے بعد پڑھی جانے والی تسبیحِ حضرت فاطمہ= پڑھیں ،پھر سو مرتبہ درود شریف پڑھیں ۔مصبا ح المتہجدین میں شیخ فرماتے ہیں کہ نماز حضرت فاطمہ= دو رکعت ہے اور اسکی تر کیب یہ ہے پہلی رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُورئہ قدر اور دوسری رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُورہ تو حید پڑھیں، سلا م کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ= پڑھیں اور پھر مذکورہ دعا ﴿سبحان ذی العز الشامخ.الخ پڑھیں﴾پھر فرمایا جو شخص یہ نماز بجالائے وہ مذکو ر تسبیح سے فا رغ ہو نے کے بعد اپنے گھٹنے اور کہنیاں برہنہ کرے تما م اعضائ سجدئہ زمین پر رکھے کہ کوئی چیز حتی کہ کپڑا بھی حائل نہ ہو ،ایسے میں اپنی حاجت طلب کرے اور پھر جو دُ عا چا ہے مانگے اور پھر سجدہ میں کہے:
یَا مَنْ لَیْسَ غَیْرَھُ رَبٌّ یُدْعیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ فَوْقَہُ إلہٌ یُخْشیٰ، یَا مَنْ
اے وہ ذات جسکے سوا کوئی رب نہیں جسے پکاراجا ئے ۔اے وہ ذات جس سے اُوپرکوئی معبود نہیں جس کا خوف ہو۔اے وہ ذات
لَیْسَ دُونَہُ مَلِکٌ یُتَّقیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَہُ وَزِیرٌ یُؤْتیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَہُ
جسکے سوا کوئی بادشاہ نہیں جسکا ڈر ہو۔ اے وہ ذات جسکا کوئی وزیر نہیں جس سے رابطہ کیا جائے۔ اے وہ ذات جسکا کوئی محافظ نہیں
حَاجِبٌ یُرْشیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَہُ بَوَّابٌ یُغْشیٰ، یَا مَنْ لاَ یَزْدَادُ عَلَی کَثْرَۃِ السُّؤالِ
جسکو رشوت دی جائے۔ اے وہ ذات جسکا کوئی دربان نہیں جو مانع ہو۔ اے وہ ذات کہ کثرت سوال سے جسکی عطا وبخشش میں
إلاَّ کَرَماً وَجُوداً، وَعَلَی کَثْرَۃِ الذُّنُوبِ إلاَّ عَفْواً وَصَفْحاً، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اضافہ ہوتا ہے اور گناہوں کی کثرت سے جسکے عفو و درگذر میں وسعت آتی ہے۔ تو محمد(ص) وآلِ محمد(ص) پر رحمت فرما اور
مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی کَذَا وَکَذَا،۔ کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات طلب کرئے ۔
میری یہ حاجت پوری فرما ۔

حضر ت فا طمہ ز ہرا کی ایک اور نما ز شیخ و سّید نے صفوان سے روایت کی ہے کہ جمعہ کے دن محمد ابنِ علی حلبی امام جعفرصا دق - کی خدمت میں شرفیاب ہوئے تو عرض کی :مولا !مجھے کوئی ایسا عمل تعلیم فرما ئیں جو آج کے دن سب سے بہتر ہو حضرت نے فرمایا:میں نہیں سمجھتاکہ رسُول اللہ(ص) کے نزدیک کوئی حضرت فاطمہ(ع) سے بڑ ھ کر عزیز ہو ۔ پس حضر ت رسو ل (ص)نے جو تعلیم ان کو دی ہو اس سے افضل کیا چیز ہوگی؟ آنحضرت (ص) نے جنا ب فا طمہ(ع) سے فرما یا کہ جو جُمعہ کی صبح کو درک کرے تو وہ غسل کرے اور چار رکعت نما ز ﴿دو دو کرکے﴾ اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورہ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورہ عادیات،تیسری رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ زلزال اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورئہ نصر پڑھے ۔یہ نزولِ قرآن کے سلسلے کا آخر ی سُورہ ہے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو یہ دُعا پڑھے:

إلھِی وَسَیِّدِی مَنْ تَھَیَّٲَ ٲَوْ تَعَبَّٲَ ٲَوْ ٲَعَدَّ ٲَوِ اسْتَعَدَّ لِوِفَادَۃِ مَخْلُوقٍ رَجَائَ رِفْدِھِ وَفَوَائِدِھِ
اے میرے خدا اور میرے سردا ر جو کوئی آمادہ و تیار ہو یا کمربستہ ہو یا اُٹھ کھڑا ہو کہ کسی مخلوق کی طرف انعام کی اُمید، فوائد
وَنَائِلِہِ وَفَوَاضِلِہِ وَجَوائِزِھِ فَ إلَیْکَ یَا إلھِی کَانَتْ تَھْیِیَتِی وَتَعْبِیَتِی وَ إعْدَادِی
اور بخشش کی طلب اور عطا وسخاوت کے حصول کیلئے جاسکے تو بھی اے میرے معبود! میری آمادگی میری تیاری میری کمربستگی
وَاسْتِعْدَادِی رَجَائَ فَوَائِدِکَ وَمَعْرُوفِکَ وَنَائِلِکَ وَجَوَائِزِکَ فَلا تُخَیِّبْنِی مِنْ ذلٰکَ
اور میرا اُٹھنا تیری نعمتوں اور تیری عطا وبخشش اور انعام کی اُمید پر ہے تو اے خدا مجھے اس میں ناکام نہ کر،
یَا مَنْ لاَ تَخِیبُ عَلَیْہِ مَسْٲَلَۃُ السَّائِلِ، وَلاَ تَنْقُصُہُ عَطِیَّۃُ نَائِلٍ، فَ إنِّی لَمْ آتِکَ بِعَمَلٍ
اے وہ جو مانگنے والوں کے مانگنے سے تنگ نہیں ہوتا اور جسکے ہاں عطائ و سخائ سے کمی نہیں آتی۔ میں تیرے حضور اپنے کسی عمل
صَالِحٍ قَدَّمْتُہُ، وَلاَ شَفَاعَۃِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُہُ، ٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِشَفَاعَتِہِ إلاَّ مُحَمَّداً وَٲَھْلَ
خیر کی و جہ سے نہیں آیا جو میں نے آگے بھیجا ہو نہ میں کسی مخلوق کی سفارش لا یا ہوںکہ اسکے ذریعے تیرا تقرب حاصل کروں ہاں محمد (ص)و
بَیْتِہِ صَلَوَاتُکَ عَلَیْہِ وَعَلَیھِمْ، ٲَتَیْتُکَ ٲَرْجُو عَظِیمَ عَفْوِکَ الَّذِی عُدْتَ بِہِ عَلَی
آلِ محمد(ص) کہ ان پر تیری رحمتیں ہوں انکی سفارش کے ساتھ تیرے پاس تیرے عظیم عفو کی امید لے کر آیا ہوں جسکے ذریعے تُو نے
الْخَطَّائِینَ عِنْدَ عُکُوفِھِمْ عَلَی الَْمحَارِمِ، فَلَمْ یَمْنَعْکَ طُولُ عُکُوفِھِمْ عَلَی الَْمحَارِمِ ٲَنْ
خطاکاروں کو معاف فرمایا جبکہ وہ گناہوں میں غلطاں تھے اور انکا ایک عرصے تک گناہوں میں رہنا ان پر تیرے کرم اور
جُدْتَ عَلَیْھِمْ بِالْمَغْفِرَۃِ وَٲَنْتَ سَیِّدِی الْعَوَّادُ بِالنَّعْمَائِ وَٲَنَا الْعَوَّادُ بِالخَطَائِ ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ
بخشش میں مانع نہیں ہوسکا اور اے میرے سردار تو بار بار نعمتیں دینے والا اور میں بار بار خطا کرنے والا ہوں۔ میں حضرت محمد(ص)
مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ، ٲَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ، فَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ،
اور انکی پاک آل (ع) کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے بڑے گناہ کو معاف فرما کیونکہ عظیم گناہ کو عظیم ہستی ہی معاف کرسکتی ہے
یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ
اے بزرگ،اے عظیم، اے برتر، اے بزرگ،اے عظیم، اے برتر، اے عظیم۔
مؤلف کہتے ہیں کہ سّیدابنِ طا ؤس نے جمال الا سبو ع میں ائمہ میں سے ہر ایک کی نماز و دُعا نقل کی ۔پس منا سب ہو گا کہ یہاں ا ن نما زوں اور دُعا ئو ں کا ذکر کر د یا جا ئے۔


نماز امام حسن و حسین
نما زا مام حسن - جمعہ کے دن،امیرا لمومنین - کی نماز کی طرح یہ بھی چار رکعت نمازہے۔اسی طرح امام حسن -کی ایک اور چار رکعتی نماز بھی ہے جسکی ہررکعت میں حمد کے بعد پچیس مرتبہ سُورہ توحید کی تلاوت کریں اور نمازکے بعد حضرت کی یہ دُعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ وَٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ
اے معبود میں تیرے جود وکرم کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوںاور میں تیرے بندے اور رسول محمد(ص) کے
وَٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمَلاَئِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَٲَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ، ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
ذریعے تجھ سے تقرب چاہتا ہوں اور میں تیرے مقرب ملائکہ اور تیرے نبیوںاور رسولوں کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں ۔اے
عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تُقِیلَنِی عَثْرَتِی، وَتَسْتُرَ عَلَیَّ ذُ نُوبِی
اللہ تو اپنے بندے اور رسول حضرت محمد(ص) اور آلِ محمد (ص)پر رحمت نازل فرما۔اور میری خطا معاف فرما دے ۔میرے گناہوں کی پردہ
وَتَغْفِرَھَا لِی، وَتَقْضِیَ لِی حَوَائِجِی، وَلاَ تُعَذِّبْنِی بِقَبِیحٍ کَانَ مِنِّی، فَ إنَّ عَفْوَکَ
ڈال اور انہیں معاف کر دے۔ میری حا جت پوری فرما اور جو بری حرکت مجھ سے ہوئی ہے اس پر مجھے عذاب نہ کر۔بے شک
وَجُودَکَ یَسَعُنِی، إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔
تیرا عفو اور تیرا جود میرے شامل حال ہے۔ یقینا توہر چیز پر قادر ہے۔

نما ز اما م حسین - یہ بھی چا ر ر کعت نما ز ہے جسکی ہر ر کعت میں سُورہ حمد اور سُو رہ تو حید پچاس پچا س مرتبہ، اسی طرح دس دس مرتبہ سُو رہ حمد و تو حید کو رکوع ، رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہو کر،پہلے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان اور دوسرے سجد ے میں پڑھیں اور نما ز سے فا ر غ ہو کر ہے یہ دعا پڑھیں:اَللَّھُمَّ اَنْتَ الَّذِیْ اسْتَجَبْتَ لِآدَمَ وَحَوَائتاآخر ۔ یہ دعا کچھ طویل ہے جو مکمل طور پر ملحقات دوم مفاتیح الجنان میں ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے ۔

نما ز اما م زین العا بد ین - یہ بھی چا ر رکعت نما ز ہے جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سُو رہ حمد اور سو مرتبہ سُورہ توحید پڑھیں اور نما ز کے بعد حضرت -کی یہ دعا پڑھیں:
یَا مَنْ ٲَظْھَر الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ، یَا مَنْ لَمْ یُؤْاخِذْ بِالْجَرِیرَۃِ، وَلَمْ یَھْتِکِ السِّتْرَ،
اے وہ جو اچھائی کو ظاہر اور برائی کو چھپاتا ہے اور وہ جو گناہ پر نہیں پکڑتا اورپردہ فاش نہیں کرتا
یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ،
اے عظیم عفو والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے رحمت کرنے کیلئے دونوں ہاتھ کھلے رکھنے والے
یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ، یَا مُنْتَھیٰ کُلِّ شَکْویٰ، یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ، یَا عَظِیمَ الرَّجَائِ،
اے ہر بھید کے جاننے والے اے تمام شکایتوںکی آخری بارگاہ اے چشم پوشی کرنے والے مہربان اے سب سے بڑی امیدگاہ اے
یَا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِہا، یَا رَبَّنا وَسَیِّدَنا وَمَوْلاَنا، یَا غَایَۃَ رَغْبَتِنا،
کسی کے حقدار ہو نے سے پہلے نعمتیں دینے والے اے ہمارے رب اے ہمارے سردار اے ہمارے آقااے ہماری رغبت کی انتہا
ٲَسْٲَلُکَ اَللّٰھُمَّ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
اے اللہ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمد(ص) و آلِ محمد(ع) پر اپنی رحمت نازل فرما ۔

نما ز حضرت امام محمد با قر - یہ دو رکعت نماز ہے کہ جس کی ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سو ۰١٠ مرتبہ یہ کہیں:
سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَاﷲُ ٲَکْبَرُ۔
پاک ہے اﷲ اور حمد اﷲ ہی کے لیے ہے اور اﷲ کے سوا کوئی معبودنہیںاور اﷲ بزرگتر ہے۔
نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں : اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ یَا حَلِیمٌ ذُو ٲَنَاۃٍ غَفُورٌ وَدُودٌ ٲَنْ
اے معبود! اے بردبار اے صاحب بخشش اے محبت کرنے والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ
تَتَجاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِی وَمَا عِنْدِی بِحُسْنِ مَا عِنْدَکَ، وَٲَنْ تُعْطِیَنِی مِنْ عَطَائِکَ مَا
میرے گناہوں سے درگزر فرما اور جو کچھ میرے پاس ہے تجھی سے ہے اور مجھے اپنی عطا سے اتنا دے کہ جس میں میرے
یَسَعُنِی، وَتُلْھِمَنِی فِیمَا ٲَعْطَیْتَنِی الْعَمَلَ فِیہِ بِطَاعَتِکَ وَطَاعَۃِ رَسُولِکَ، وَٲَنْ
لئے وسعت ہو اور جو کچھ مجھے دے اس میں اپنی اور اپنے رسول(ص) کی اطاعت وپیروی کے لیے توفیق عمل
تُعْطِیَنِی مِنْ عَفْوِکَ مَا ٲَسْتَوْجِبُ بِہِ کَرَامَتَکَ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَعْطِنِی مَا ٲَنْتَ ٲَھْلُہُ وَلاَ تَفْعَلْ
بھی مرحمت فرما اور مجھ سے ایسا عفوودرگزر فرما جس سے میں تیرے فضل وکرم کے لائق ہو جائوں اے معبود! مجھ پر وہ عطا کر جس کا تو
بِی مَا ٲَ نَا ٲَھْلُہُ فَ إنَّمَا ٲَ نَا بِکَ، وَلَمْ ٲُصِبْ خَیْراً قَطُّ إلاَّ مِنْکَ، یَا ٲَبْصَرَ الْاَ بْصَرِینَ،
اہل ہے اور مجھ سے وہ برتائو نہ کر کہ جسکا میں اہل ہوں پس میں تیری وجہ سے زندہ ہوں اور مجھے تیرے سوا کسی سے بھلائی نہیں مل
وَیَا ٲَسْمَعَ السَّامِعِینَ، وَیَا ٲَحْکَمَ الْحَاکِمِینَ، وَیَا جَارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، وَیَا
سکتی اے دیکھنے والوں سے بڑھ کر دیکھنے والے اورسننے والوں سے بڑھ کر سننے والے اور حاکموں سے بڑھ کر حکم کرنے والے اور
مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔
اے پناہ دینے والوں کی پناہ گاہ اور لاچاروں کی دعا قبول کرنے والے محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما۔

نماز حضرت امام جعفر صادق - یہ دو رکعت نما ز ہے جسکی ہر ایک ر کعت میں سُورہ حمد کے بعد سو مرتبہ آ یت شَھِدَ اﷲُ کی تلاو ت کریں اور نما ز کے بعد حضرت کی یہ دُ عا پڑ ھیں:
یَا صَانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ، یَا جَابِرَ کُلِّ کَسِیرٍ، وَیَا حَاضِرَ کُلِّ مَلاَئٍ، وَیَا شَاھِدَ کُل
اے ہربنی ہوئی چیز کے بنانے والے اے ہر شکستہ کو جوڑنے والے اور اے ہر گروہ میں موجود رہنے والے اور اے
نَجْویٰ، وَیَا عَالِمَ کُلِّ خَفِیَّۃٍ، وَیَا شَاھِداً غَیْرَ غَائِبٍ، وَغالِباً غَیْرَ
ہر راز کے شا ہد و گواہ اور اے ہر چھپی ہوئی چیز کے جاننے والے اور اے وہ حاضر جو کبھی غائب نہیں ہوتا اے وہ غالب
مَغْلُوبٍ، وَیَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ، وَیَا مُؤنِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، وَیَا حَیُّ مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ،
جو کبھی مغلوب نہیں ہوتا اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوتا اے ہر اکیلے کے ساتھ رہنے والے اور اے وہ زندہ جو مردوں کو
وَمُمِیتَ الْاَحْیَائِ، الْقائِمُ عَلی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ، وَیَا حَیَّاً حِینَ لاَ حَیَّ،
زندہ کرتا ہے اور زندوں کو موت دیتا ہے ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ دینے والے اے اس و قت زندہ رہنے والے جب کوئی زندہ نہ
لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
ہو گا۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمد(ص) اور آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما۔

نماز حضرت امام موسٰی کاظم - یہ دو رکعت ہے جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اوربارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھیں۔ نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :
إلھِی خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لَکَ، وَضَلَّتِ الْاَحْلاَمُ فِیکَ، وَوَجِلَ کُلُّ شَیْئٍ مِنْکَ،
اے معبود! تیری بارگاہ میں آوازیں لرز جاتی ہیں اورتیرے حضورمیں تصورات گم ہوجاتے ہیں ہر چیز تجھ سے خوف کھاتی ہے اور ہر
وَھَرَبَ کُلُّ شَیْئٍ إلَیْکَ، وَضَاقَتِ الْاَشْیَائُ دُونَکَ، وَمَلاََ کُلَّ شَیْئٍ نُورُکَ، فَٲَنْتَ
چیز تیری طرف دوڑ رہی ہے تمام اشیائ تیرے سامنے ہیچ ہیں اور تیرے نور نے ہر چیز کو
الرَّفِیعُ فِی جَلاَلِکَ، وَٲَ نْتَ الْبَھِیُّ فِی جَمَالِکَ ، وَٲَ نْتَ الْعَظِیمُ فِی قُدْرَتِکَ، وَٲَ نْتَ
گھیر لیا ہے پس تو اپنے جلال میں بلندتر ہے اور تو اپنے جمال میں روشن تر ہے تو اپنی قدرت میں بزرگتر ہے اور تو
الَّذِی لاَ یَؤُودُکَ شَیْئٌ یَا مُنْزِلَ نِعْمَتِی، یَا مُفَرِّجَ کُرْبَتِی، وَیَا قَاضِیَ حَاجَتِی،
ہی وہ ہے جسے کوئی چیز تھکاتی نہیں اے مجھ پر نعمت نازل کرنے والے اے میرے دکھ دور کرنے والے اور اے میری حا جت برلانے
ٲَعْطِنِی مَسْٲَلَتِی بِلاَ إلٰہَ إلاَّ ٲَ نْتَ، آمَنْتُ بِکَ مُخْلِصاً لَکَ دِینِی، ٲَصْبَحْتُ عَلَی
والے میری خواہش پوری کر دے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ پر ایمان لایا ہوں تیرے دین میں مخلص ہوں میں نے تیرے
عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، ٲَبُوئُ لَکَ بِالنِّعْمَۃِ، وَٲَسْتَغْفِرُکَ مِنَ الذُّنُوبِ
عہد وپیما ن پر قائم رہتے ہوئے صبح کی ہے اپنی حد تک تیری نعمتیں سمیٹ رہا ہوں میں اپنے گناہوں پر تجھ سے بخشش کا طلبگار ہوں
الَّتِی لاَ یَغْفِرُہا غَیْرُکَ، یَا مَنْ ھُوَ فِی عُلُوِّھِ دَانٍ، وَفِی دُنُوِّھِ عَالٍ، وَفِی إشْرَاقِہِ
جنکو سوائے تیرے کوئی معاف نہیں کر سکتا اے وہ جو اپنی بلندی میں نزدیک اور نزدیکی میں بلندہے
مُنِیرٌ، وَفِی سُلْطَانِہِ قَوِیٌّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ۔
اور روشنی میں منور کرنے والا ہے اور سلطنت میں قوی ہے محمد(ص) وآلِ محمد(ع) پر رحمت فرما۔

نماز حضرت امام علی رضا- یہ چھ رکعت نماز ہے،جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورئہ حمد اوردس مرتبہ سورہ انسان ﴿ھَل اَتیٰ عَلیٰ الانسَانِ﴾ پڑھیں ۔ نماز کے بعد یہ دُعا پڑھیں:
یَا صَاحِبِی فِی شِدَّتِی وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی، وَیَا إلھِی وَ إلہَ إبْراھِیمَ وَ إسْمَاعِیلَ
اے میری تنگی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میرے سرپرست اور اے میرے معبود! اور ابراہیم(ع) و اسماعیل(ع)
وَ إسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ، یَا رَبَّ کَہیعَصَ وَیٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ،ٲَسْٲَلُکَ یَا ٲَحْسَنَ
و اسحاق(ع) و یعقوب(ع) کے معبود اے کھیعٓص اور یٰسٓ و القرآن الحکیم کے رب میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
مَنْ سُئِلَ، وَیَا خَیْرَ مَنْ دُعِیَ، وَیَا ٲَجْوَدَ مَنْ ٲَعْطیٰ، وَیَا خَیْرَ مُرْتَجیٰ،
اے بہترین ذات جس سے سوال کئے جاتے ہیں اور اے بہترین پکارے جانے والے اے عطا کرنے والوں میں زیادہ سخی اور
ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
اے بہترین اُمیدگاہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو محمد(ص) و آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما ۔

نماز حضرت امام محمد تقی - دو رکعت نماز ہے اسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور ستر ۰۷ مرتبہ سورہ توحید پڑھیں اور نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :
اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِیَۃِ، وَالْاَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ، ٲَسْٲَ لُکَ بِطَاعَۃِ الْاَرْوَاحِ الرَّاجِعَۃِ
اے معبود! تو فنا ہونے والی روحوں اور بوسیدہ جسموں کا پالنے والا ہے تجھ سے میں سوال کرتا ہوں اپنے جسموں کیطرف پلٹنے والی
إلَی ٲَجْسَادِہا، وَبِطَاعَۃِ الْاَجْسَادِ الْمُلْتئِمَۃِ بِعُرُوقِہا،وَبِکَلِمَتِکَ النَّافِذَۃِ بَیْنَھُمْ،
روحوں کی بندگی کے واسطے سے اور اپنی رگوں کے ساتھ ملنے والے جسموں کی بندگی کے واسطے سے اور ان میں نافذ ہونے والے
وَٲَخْذِکَ الْحَقَّ مِنْھُمْ وَالْخَلائِقُ بَیْنَ یَدَیْکَ یَنْتَظِرُونَ فَصْلَ قَضَائِکَ، وَیَرْجُونَ
تیرے حکم کے واسطے سے اور ان سے حق لینے کے واسطے سے جبکہ مخلوقات تیرے حضور تیرے اٹل فیصلے کی منتظر کھڑی ہونگی اور تیری
رَحْمَتَکَ وَیَخَافُونَ عِقَابَکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی،
رحمت کی اُمیدوار اور تیرے عذاب سے ڈری ہوئی ہونگی میرا سوال ہے کہ محمد(ص) و آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما میری آنکھوں میں نور اور میرے
وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَذِکْرَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہارِ عَلی لِسانِی، وَعَمَلاً صالِحاً فَارْزُقْنِی ۔
دل میں یقین پیدا کردے اور تیرا ذکر شب و روز میری زبان پر ہو اور مجھے نیک عمل کرنے کی تو فیق دے۔

نماز حضرت امام علی نقی - یہ دو رکعت ہے اسکی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یٰسں دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ رحمن پڑھیں نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں:
یَا بَارُّ یَا وَصُولُ یَا شَاھِدَ کُلِّ غائِبٍ، وَیَا قَرِیبُ غَیْرَ بَعِیدٍ، وَیَا غَالِبُ غَیْرَ مَغْلُوبٍ،
اے نیکی کروانے والے اے ملنے والے اے ہر غائب کے دیکھنے والے اے وہ قریب جو دور نہیں ہوتا اور اے وہ غالب جو مغلوب
وَیَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ کَیْفَ ھُوَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ تُبْلَغُ قُدْرَتُہُ، ٲَسْٲَ لُکَ اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ
نہیں ہوتا اے وہ ذات جسے تیرے اپنے سوا کوئی نہیں جانتاکہ کیسا ہے اے وہ جسکی قدرت تک رسائی نہیں ہوتی اے معبود! میں
الْمَکْنُونِ الْمَخْزُونِ الْمَکْتُومِ عَمَّنْ شِئْتَ، الطَّاھِرِ الْمُطَہَّرِلْمُقَدَّسِ النُّورِ التَّامِّ
تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کے واسطے جو پوشیدہ، محفوظ اور مخفی ہے جس سے تو چا ہے۔ تو پاک وپاکیزہ، مقدس
الْحَیِّ الْقَیُّومِ الْعَظِیمِ، نُورِ السَّمَاوَاتِ وَنُورِ الْاَرَضِینَ،عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْکَبِیرِ
نور، کامل، زندہ، نگہبان، عظیم، آسمانوں کو روشن کرنے والا اور زمینوں کو روشن کرنے والا ہے ظاہر اور باطن کا جاننے والا
الْمُتَعَالِ الْعَظِیمِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔
بزرگوار، بلند اورعظیم ہے کہ تو محمد(ص) و آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما۔

نماز امام حسن عسکری - یہ چار رکعت نماز ہے اسکی پہلی دو رکعت میں حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سُورئہ زلزال اور دوسری دو رکعت میںحمد کے بعد پندرہ مرتبہ سُورئہ تو حید کی تلا وت کریں اور نماز کے بعد حضرت کی یہ دُعا پڑھیں :
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِٲَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ الْبَدِیئُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَٲَ نْتَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ حمد تیرے ہی لئے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں توہر چیز سے پہلے موجود رہا ہے اور تو
الْحَیُّ الْقَیُّومُ، وَلاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ الَّذِی لاَ یُذِلُّکَ شَیْئٌ، وَٲَ نْتَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَٲْنٍ، لاَ
زندہ و نگہبا ن ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تجھے کوئی چیز پست نہیں کر سکتی اور توہی ہر روز نئی شان والا ہے تیرے
إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ خالِقُ مَا یُریٰ وَمَا لاَ یُریٰ، الْعالِمُ بِکُلِّ شَیْئٍ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ، ٲَسْٲَ لُکَ
سوا کوئی معبود نہیں تو ہر دیکھی وان دیکھی چیز کا خالق ہے کہ بغیر علم حا صل کئے ہر چیز کا علم رکھتا ہے میں تیری خوبیوں اور نعمتوں کے
بِآلآئِکَ وَنَعْمَائِکَ بِٲَ نَّکَ اﷲُ الرَّبُّ الْوَاحِدُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ،
ذریعے سوال کرتا ہوں کیوں کہ تو ہی اللہ، رب اور یکتا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو رحمن و رحیم ہے
وَٲَسْٲَلُکَ بِٲَنَّکَ ٲَنْتَ اﷲُ لاَ إلٰہَ إلاَّ ٲَنْتَ الْوِتْرُ الْفَرْدُ، الاَٰحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ
اور سوال کرتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ویکتا ہے یگانہ ہے۔ بے نیاز ہے کہ جس نے نہ کسی کو جنا
وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ، وَٲَسْٲَلُکَ بِٲَ نَّکَ اﷲُ لاَ إلٰہَ إلاَّ ٲَ نْتَ اللَّطِیفُ
اور نہ وہ جنا گیااور نہ ہی کوئی اسکا ہمسر ہے اور میں سوال کرتا ہوں تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو جاننے والا
الْخَبِیرُ الْقَائِمُ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ الرَّقِیبُ الْحَفِیظُ، وَٲَسْٲَ لُکَ
اور خبر رکھنے والا ہے ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ دینے والا ہے تو نگہبان و محافظ ہے اور میں سوال کرتا ہوں
بِٲَنَّکَ اﷲُ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالآَخِرُ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالْبَاطِنُ
تو ہی اللہ ہے جو ہر چیز سے پہلے ہے اور ہر چیز کے بعد رہے گا اور تو ہر چیز میں پوشیدہ ہے
دُونَ کُلِّ شَیْئٍ الضَّارُّ النَّافِعُ الْحَکِیمُ الْعَلِیمُ، وَٲَسْٲَ لُکَ بِٲَ نَّکَ ٲَ نْتَ
توہی ضرر دینے اور نفع پہنچانے والا ہے حکیم و دانا ہے۔ اور سوال کرتا ہوں کہ تو
اﷲُ لاَ إلٰہَ إلاَّ ٲَ نْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ
اللہ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیںتو زندہ اور پایندہ ہے۔مردوں کا اٹھانے والا ،وارث مہربان اور محسن ہے
بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرامِ وَذُو الطَّوْلِ وَذُو
تو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا جلالت و بزرگی والا اور صاحب سخاوت صاحب
الْعِزَّۃِ وَذُو السُّلْطانِ لاَ إلٰہَ إلاَّ ٲَ نْتَ ٲَحَطْتَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، وَٲَحْصَیْتَ کُلَّ شَیْئٍ عَدَداً
عزت اور صاحبِ حکومت ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تیرا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور تو نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے
صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
تو محمد (ص) آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما۔

نمازِ حضرت صاحب الّزمان عجل اللہ تعالی فرجہ‘ یہ دو رکعت نما ز ہے اسکی ہر ر کعت میں سُو رہ حمد پڑھتے ہوئے جب إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ تکپہنچیں تو اسی آیت کو سو مرتبہ پڑھیں اور پھر اگلی آیا ت پڑ ھ کر حمد مکمل کریں ، اسکے بعد سُو رئہ توحید پڑھیں اور رکوع وسجود کیساتھ نماز مکمل کرلیں نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ عَظُمَ الْبَلاَئُ، وَبَرِحَ الْخَفَائُ، وَانْکَشَفَ الْغِطَائُ، وَضَاقَتِ الْاَرْضُ بِمَا وَسَعَتِ
اے معبود! مصیبت بڑھ گئی، درد نہاں ظاہر ہوگیا ہے اور پردہ کھل گیا ہے اور زمین تنگ ہوگئی ہے اگرچہ آسمان وسیع ہے ا
السَّمائُ وَ إلَیْکَ یَا رَبِّ الْمُشْتَکیٰ وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی الشِّدَّۃِ وَالرَّخَائِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ
اور خدایا ہم اپنی شکایت تیرے ہی پاس لاتے ہیں اور تنگی اور فراخی میں تجھ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اے معبود! محمد(ص)
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الَّذِینَ ٲَمَرْتَنَا بِطَاعَتِھِمْ، وَعَجِّلِ اَللّٰھُمَّ فَرَجَھُمْ بِقَائِمِھِمْ
آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما کہ جن کی فرمانبرداری کا تونے ہمیں حکم دیا، اے معبود! انکے قائم کے بدولت انکو جلد آسودگی دے اور اسکی
وَٲَظْھِرْ إعْزَازَھُ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ اکْفِیانِی فَ إنَّکُمَا کَافِیَایَ یَا مُحَمَّدُ
عزت کو ظاہر کردے یا محمد(ص) یا علی(ع) یا علی(ع) یا محمد(ص) میری کفایت کیجیے کہ بے شک آپ دونوں میرے حامی ہیں یا محمد(ص)(ص)
یَا عَلِیُّ، یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ، انْصُرَانِی فَ إنَّکُما نَاصِرَایَ، یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ
یا علی(ع)، یا علی(ع) یا محمد(ص)میری مدد کیجئے ۔یا محمد(ص)یا علی(ع) ،یا علی(ع) یا محمد(ص) میری مدد کیجئے کہ بیشک آپ دونوں میری مدد کرنے والے ہیں یا محمد(ص)(ص) یا علی(ع)
یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ، احْفظَانِی فَ إنَّکُما حَافِظَایَ، یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ، یَا
یا علی(ع) یا محمد(ص) میری حفاطت کیجیے کہ آپ دونوں میرے محافظ ہیں اے میرے مولا اے صاحب زماں(ع) اے میرے مولا اے
مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمانِ یَا مَوْلاَیَ یَا صاحِبَ الزَّمَانِ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ
صاحب زماں (ع)اے میرے مولا اے صاحب زماں(ع) فریاد سننے والے فریاد سننے والے فریاد سننے والے
ٲَدْرِکْنِی ٲَدْرِکْنِی ٲَدْرِکْنِی، الْاَمَانَ الْاَمَانَ الْاَمَانَ ۔
میری مدد کیجئے۔ میری مدد کیجئے۔ میری مدد کیجئے ۔مجھے پناہ دیجیے ۔پناہ دیجیے ۔پناہ دیجیے۔

نما ز حضرت جعفر طیا ر - یہ نماز ا کسیر اعظم اور کبر یت احمر ہے اور بہت معتبر اسناد اور بڑی فضیلت کیساتھ بیان ہوئی ہے اسکا خا ص فا ئدہ یہ ہے کہ اسکے بجا لا نے سے بڑے بڑے گنا ہ معاف ہو جا تے ہیں اسکا افضل و قت روز جمعہ کا پہلہ حصّہ ہے ،یہ چا ر رکعت نما ز ہے جو دودو کر کے پڑھی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سُو رئہ زلزال ،دوسری رکعت میں سُو رہ حمدکے بعد سُورئہ عادیات ، تیسری رکعت میں حمد کے بعدسُورئہ نصر اور چو تھی ر کعت میں حمد کے بعد سُورۃ تو حید پڑھیں۔ نیز ہر رکعت میں سورتیں پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ کہیں
سُبْحَانَ اﷲِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲ اَکْبَرُ
خدا پاک ہے اور حمد اسی کیلئے ہے اورخدا کے سوا کوئی معبود نہیںاور خد ا بزرگتر ہے۔
یہی تسبیحا ت ہر رکوع ، رکو ع سے سر اُ ٹھا نے کے بعد، پہلے سجدے میں، سجدے سے سراُٹھا نے کے بعد ، دوسرے سجدے میں اور سجدے سے سراُٹھا نے کے بعد اٹھنے سے پہلے دس دس مرتبہ پڑھیں۔جب چاروں رکعتوں میں یہ عمل بجا لا ئیں تو یہ کل تین سو تسبیحات ہو جا ئیں گی۔شیخ کلینی (رح)نے ابو سعید مدائنی سے رو ایت کی ہے کہ امام جعفر صا دق -نے مجھے فرمایا: کیا تمہیں ایسی چیز تعلیم نہ کروں جسے تم نما زِ جعفر طیا ر میں پڑھا کرو ۔میں نے عرض کی ہاں ضرور تعلیم فرمائیں۔ تب آپ نے فرما یا کہ ان چا ر رکعتو ں کے آخر ی سجد ے میں تسبیحات ا ر بعہ کے بعد یہ دعا پڑھو:
سُبْحانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَالْوَقارَ، سُبْحانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَکَرَّمَ بِہِ، سُبْحانَ
پاک ہے وہ جس نے عزت و وقار کا لباس پہنا ہوا ہے۔ پاک ہے وہ جو بزرگی پر ناز کرتا ہے اور بزرگی ظاہر فرماتا ہے۔ پاک ہے وہ
مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إلاَّ لَہُ، سُبْحانَ مَنْ ٲَحْصی کُلَّ شَیْئٍ عِلْمُہُ، سُبْحانَ ذِی الْمَنِّ
جسکے علاوہ کوئی اور لائق تسبیح نہیں۔ پاک ہے وہ جوہر چیز کی تعدادکا علم رکھتا ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب احسان
وَالنِّعَمِ، سُبْحانَ ذِی الْقُدْرَۃِ وَالْکَرَمِ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ
و نعمت ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب قدرت و بزرگی ہے۔ اے معبود! میں تیرے عرش کے بلند مقامات
وَمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتابِکَ وَاسْمِکَ الْاَعْظَمِ وَکَلِماتِکَ التَّامَّۃِ الَّتِی تَمَّتْ صِدْقاً
تیری کتاب کی انتہائے رحمت اور تیرے اسم اعظم اور تیرے کامل کلمات، جو صدق وعدل میں پورے ہیں۔﴿ ان﴾ کے واسطے سوال
وَعَدْلاً، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ، وَافْعَلْ بِی کَذا وَکَذا۔
کرتا ہوں کہ تو حضرت محمد(ص) اور انکے اہلبیت(ع) پر رحمت فرما اوراِفْعَلْ بِی کَذا وَکَذا۔کی بجا ئے اپنی حا جا ت طلب کر ے ۔
شیخ و سّید نے مفضل بن عمر سے روا یت کی ہے کہ ایک دن میں نے د یکھا کہ امام جعفر صادق -نے نما زِ جعفر طّیا ر پڑھی،پھر اپنے ہا تھ اُٹھا ئے اور یہ دعا پڑھنے لگے:
ایک سانس کی مقدار کہا یَارَبِّ یَارَبّ﴿اے میرے رب اے میرے رب﴾پھرایک سانس کے برابر کہا یَارَبَّاہُ یَارَبَّاہُ ﴿اے پروردگار اے پروردگار﴾بقدر ایک سانس کہا رَبِّ رَبِّ﴿میرے رب میرے رب﴾بقدرایک سانس یَا اَﷲُ یَااَﷲُ ﴿اے اللہ اے اللہ﴾بقدر ایک سانس یَاحَیُ یَا حَیُ﴿اے زندہ اے زندہ﴾ بقدر ایک سانس یَا رَحِیْمُ یَارَحِیْمُ﴿اے مہربان اے مہربان﴾سات مرتبہ یَارَحْمٰنُ یَارَحْمٰنُ﴿اے بڑے ر حم والے اے بڑ ے رحم والے﴾ اورسات مرتبہ یَااَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنِ﴿ اے سب سے ز یا دہ ر حم کرنے والے﴾ کہا اور اسکے بعد یہ دعاپڑھی:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِکَ وَٲَ نْطِقُ بِالثَّنائِ عَلَیْکَ وَاُمَجِّدُکَ وَلاَ غَایَۃَ لِمَدْحِکَ
اے معبود میں تیری حمد کیساتھ آغاز سخن کرتا ہوں اور تیری ثنا کرتے ہوئے بولتا ہوں تیری بزرگی بیان کرتا ہوںتیری تعریف کی کوئی
وَٲُثْنِی عَلَیْکَ وَمَنْ یَبْلُغُ غایَۃَ ثَنَائِکَ وَٲَمَدَ مَجْدِکَ وَٲَنَّیٰ لِخَلِیقَتِکَ کُنْہ ُمَعْرِفَۃِ
انتہا نہیں میں تیرا ثنا خواں ہوں اور کون تیری ثنا کی حد اور تیری بزرگی کی انتہا تک پہنچ سکتا ہے تیرے پیدا کیے ہوئے کیونکر تیری بزرگی
مَجْدِکَ وَٲَیُّ زَمَنٍ لَمْ تَکُنْ مَمْدُوحاً بِفَضْلِکَ مَوْصُوفاً بِمَجْدِکَ عَوَّاداً عَلَی الْمُذْنِبِینَ
تک پہنچ سکتے ہیںوہ کون سا زمانہ ہے جس میں تو اپنے فضل کے باعث لائق مدح اپنی بزرگی میں قابل ذکراور اپنے حلم کی بدولت گناہگاروں
بِحِلْمِکَ تَخَلَّفَ سُکَّانُ ٲَرْضِکَ عَنْ طَاعَتِکَ فَکُنْتَ عَلَیْھِمْ عَطُوفاً بِجُودِکَ جَوَاداً
پر کرم نہ کرتا تھا تیری زمین پر رہنے والوں نے تیری فرما نبرداری سے منہ موڑا لیکن تو ان کیلئے اپنی بخشش سے مہربان اپنے فضل سے سخی
بِفَضْلِکَ، عَوَّاداً بِکَرَمِکَ، یَا لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرامِ۔
اور اپنے کرم سے توجہ فرمارہا ہے اے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو احسان کرنے والا صاحب جلالت اور شان والا ہے۔
پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے مفضل جب تمہیں کوئی بڑی اور ضروری حاجت پیش آئے تو نمازِ جعفر طیار پڑھو اور اس دُعا کے بعد اپنی حا جت طلب کرو تو انشا ا للہ وہ پو ری ہو جائیگی۔
مو لّف کہتے ہیں :شیخ طُوسی نے حا جت بر آری کیلئے امام جعفر صادق -کا ایک اور فرمان بھی نقل کیا ہے کہ بدھ جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھیں ، جمعرات کی شام دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ۰۵۷گرام غّلہ صد قہ دیں ۔جمعہ کے روز غسل کریں اور صحرا و بیا با ن میں جا کر نمازِ جعفر طیّار بجا لائیں پھر اپنے زانو برہنہ کر کے زمین پر رکھیں اور کہیں:
یَا مَنْ ٲَظْھَرَ الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ، یَا مَنْ لَمْ یُؤاخِذْ بِالْجَرِیرَۃِ، وَلَمْ یَھْتِکِ السِّتْرَ،
اے وہ جس نے زیبا کو ظاہر کیا اور زشت کو چھپایا اے وہ جو گناہ پر گرفت نہیں کرتا اور پردہ فاش نہیں کرتا
یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ،
اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع بخشش والے اے کھلے ہاتھوں رحمت کرنے والے
یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوَیٰ، وَمُنْتَھَیٰ کُلِّ شَکْوَیٰ، یَا مُقِیلَ الْعَثَرَاتِ، یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ،
اے ہر راز کے جاننے والے اور ہر شکایت ختم کرنے والے اے خطائیں معاف کرنے والے اے چشم پوشی کرنے والے کریم
یَا عَظِیمَ الْمَنِّ، یَا مُبْتَدِیاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِھَا۔
اے بہت احسان کرنے والے اے حق داری سے پہلے نعمتیں عطا فرمانے واے ۔
دس مرتبہ یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ دس مرتبہ یَااَﷲُ یَااَﷲُ یَااَﷲُ دس مرتبہ یَا سَیِّدَاہُ یَا
اے پالنے والے۔ اے پالنے والے۔ اے پالنے والے۔ اے خدا ۔اے خدا۔ اے خدا اے آقا و مولا ۔اے
سَیِّدَاہُ دس مرتبہ یَامُوْلاَیَاہُ یَامُوْلاَیَاہُ دس مرتبہ یَارَجَآأہُ دس مرتبہ یَا غَیَاثَاہُ دس مرتبہ یَا
آقا و مولا اے میرے مولا۔ اے میرے مولا اے میری امید اے پناہ دینے والے اے
غَاْیَۃ رَغْبَتَاہُ دس مرتبہ یَارَحْمٰنُ دس مرتبہ یَارَحِیْمُ دس مرتبہ یَامُعْطِی الْخِیْرَات دس مرتبہ
میری رغبت کی انتہا اے بڑے مہربان اے رحم والے اے بھلا ئیاں عطا کرنے والے
صَلِ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَثیٰراً طَیِباً کَاَفْضَلِ مٰاصَلِّیْتَ عَلیٰ اَحدٍ مِنْ خَلْقِکَ۔
محمد(ص) وآل محمد(ص) پر زیادہ و پاکیزہ رحمت فرما جیسی بہترین رحمت تو نے اپنی مخلوق میں کسی پر کی ہے۔
اور پھر اپنی حاجت طلب کرے۔مؤ لّف کہتے ہیںمذکورہ بالا تین دنوں کے روزے رکھنے اور جمعہ کے دن زوال کے قریب دو رکعت نماز بجا لانے کے متعلق کافی روایات ہیں اور اس عمل سے تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں۔

زوال روز جمعہ کے اعمال ﴿٢١﴾ روز جمعہ کے اعمال میں سے ایک عمل یہ بھی ہے کہ زوالِ آفتاب کے وقت وہ دُعا پڑھیں جو امام جعفر صادق (ع)نے محمدبن مُسلم کو تعلیم فرمائی تھی اسے ہم شیخ کی مصباح سے نقل کر رہے ہیں :
لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ، وَاﷲُ ٲَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اﷲِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے جس نے کسی کو اپنابیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی سلطنت
وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْھُ تَکْبِیراً۔
میں کوئی اس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کا سرپرست ہواور اسکی بڑائی بیان کرو جس طرح بڑائی بیان کا حق ہے۔
پھر یہ کہیں: یَا سَابِغَ النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا بَارِیََ النَّسَمِ، یَا عَلِیَّ الْھِمَمِ، یَا مُغْشِیَ
اے کامل نعمتوں والے اے مصائب دور کرنے والے اے جانداروں کے پیدا کرنے والے اے بلند ہمتوں والے اے
الظُّلَمِ یَا ذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْاَلَمِ، یَا مُؤْنِسَ الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی
تاریکیاں دور کرنے والے اے عطا و بخشش کے مالک اے درد وغم کو دور کرنے والے اے تاریکیوں میں خوف زدہ لوگوں کا ساتھ
الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی مَا ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ ۔ یَا
دینے والے اے وہ عالم جس نے علم حا صل نہیں کیا محمد(ص) و آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ برتاؤ کر کہ جو تیرے شایان شان ہے اے
مَنِ اسْمُہُ دَوَائٌ وَذِکْرُہُ شِفائٌ وَطَاعَتُہُ غَنائٌ اِرْحَمْ مَنْ رَٲْسُ مَالِہِ الرَّجَائُ وَسِلاَحُہُ
وہ جسکا نام دوا ہے جسکا ذکر شفا ہے جسکی اطاعت تونگری ہے اس پر رحم فرما جسکی پو نجی اُمید اورجسکا ہتھیار
الْبُکَائُ، سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا
گریہ ہے تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے مہربانی کرنے والے اے آسمانوں اور زمین کے ایجاد کرنے والے اے
ذَا الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ ۔
جلالت و بزرگی کے مالک۔
﴿۲۲﴾جمعہ کے دن نماز ظہر کے فریضہ میں سُورئہ منافقون اور عصرکے فریضہ میں سُورئہ جُمعہ و سُو رئہ توحید پڑھیں۔ شیخ صدوق (رح)نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو چیزیں ہر شیعہ مومن پر واجب و لازم ہیں ان میں سے ایک یہ کہ وہ شب جمعہ کی نماز میں سُورئہ جمعہ و سُورئہ اعلی اور جُمعہ کی نماز ظہر میں سُو رئہ جمعہ و سُورئہ منا فقون پڑھے۔ جس نے یہ عمل انجام دیا گویا اس نے حضرت رسُول (ص) کا عمل انجام دیاہے اور خدا کی طرف سے اس کی جزا بہشت بریں ہے۔ شیخ کلینی نے بسند حسن ﴿جو صحیح کی مثل ہے﴾ حلبی سے روایت کی ہے۔ کہ میں نے امام جعفر صادق - سے پوچھا۔ اگر میں جمعہ کے دن تنہا نماز پڑھوں یعنی نماز جمعہ بجا نہ لائوں اور چار رکعت نماز ظہر پڑھوں تو آیا میں باآواز قرات کر سکتا ہوں؟ آپ (ع)نے فرمایا: ہاں کر سکتے ہو مگر روز جمعہ سُورئہ جمعہ و منافقون کے ساتھ پڑھو:
﴿٢٣﴾ شیخ طوسی (رح) مصباح میں جمعہ کے دن ظہرکے بعد کی تعقیبات کے ضمن میں امام جعفر صادق - سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص روز جمعہ بعد از سلام درج ذیل سورتیںاور آیتیں پڑھے تو وہ اس جمعہ سے آیندہ جمعہ تک دُشمنوں کے شر اور دیگرآفات سے محفوظ رہے گا ۔یعنی سُورئہ حمد ،سُورئہ ناس ، سُورئہ فلق، سُورئہ تو حید ، سُورئہ کافرون سات سات مرتبہ پڑھیں اور آخر میں سُورئہ توبہ میں سے لَقَدجَائَ کُم رَسُولُ سے آخر تک سُورئہ حشرکے لَو اَنزَ لناَ ھذَاالقُرآنَ سے تا آ خر سُورئہ اور سورئہ آلِ عمران کی پا نچ آیا ت اِنّ فی خَلقِ السّمواتِ وَا لاَرضِ سے اِ نَّکَ لا تُخلِفُ المِیعَادَ تک پڑھیں:
﴿٢٤﴾امام جعفر صادق -کا فرمان ہے کہ جو شخص جمعہ کے روز نماز فجر یا ظہر کے بعد کہے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صَلَواتِکَ وَصَلٰوۃَ ملَاٰئِکَتِکَ وَرُسُلِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
اے معبود!محمد(ص) و آلِ محمد(ص) کے لیے اپنی رحمت اور اپنے فرشتوں اور رسولوں کی دعائیں مخصوص فرما دے۔
تو ایک سال تک اسکا کوئی گناہ نہیں لکھا جائیگا نیز فرمایا جو شخص نماز فجر اور ظہرکے بعد کہے
اَللَّھُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَھُم۔
اے معبود !محمد (ص) و آلِ محمد (ص) پر رحمت فرما اور ا نکے ظہور میں تعجیل عطافرما۔
تو اسے اسوقت تک موت نہیں آئیگی جبتک وہ امام زمانہ ﴿عج﴾کا دیدار نہ کرلے ۔مؤ لّف کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے روز نمازِ ظہر کے بعدپہلی دعا کو تین با ر پڑھے تو وہ آئندہ جمعہ تک سختیوں سے امان میں رہیگا ۔نیز روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن دو نمازوں کے درمیان محمد(ص) و آلِ محمد (ع)پر درود بھیجے تو اسکو ستر رکعت نماز کے برابرثواب حاصل ہو گا۔
﴿٢٥﴾ یاَ مَن ےَرحَمُ مَن لَا تَرْحَمُہُ العِبَادُ اور اَللّٰھُمَّ ھذَا ےَومٌ مُّبَارَکٌ سے شروع ہونے والی دونوںدُعائیں پڑھیں۔یہ دعائیں صحیفہ کا ملہ میں مرقوم ہیں ۔
﴿٢٦﴾شیخ نے مصبا ح میں ائمہ سے روایت کی ہے کہ جو شخص روز جمعہ بعد از نمازِ ظہر دو رکعت نماز پڑھے جسکی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کرے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ ٲَھْلِ الْجَنَّۃِ الَّتِی حَشْوُھَا الْبَرَکَۃُ وَعُمَّارُھَاالْمَلائِکَۃُمَعَ نَبِیِّنا
اے معبود! مجھے جنت والوں میں سے قرار دے جسکو برکت نے پر کیا ہوا ہے جسکو آباد کرنے والے فر شتے اور انکے ساتھ
مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَٲَبِینَا إبْراھِیمَ ں ۔
ہمارے نبی حضرت محمد اور ہمارے باپ ابراہیم - ہیں۔
تو اس تک اس جمعہ سے آیندہ جمعہ تک بلائ و فتنہ نہیں پہنچے گا اور قیامت میں رسول اللہ (ص)اور حضرت ابرا ہیم (ع)کیساتھ ہوگا۔علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اگر غیر سید اس دعا کو پڑ ھے تو وہ وَاَبِینَا کے بجائے وَاَبِیہِ کہے۔

عصر روز جمعہ کے اعمال ﴿٢٧﴾روایت ہے کہ روز جمعہ درود پڑھنے کا بہترین وقت نمازعصر کے بعد ہے لہذا سو مرتبہ کہے:
اَللَّھُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَھُم ۔
اے معبود! محمد(ص) و آل (ع)محمد(ص) پررحمت فرما اور انکے ظہور میں تعجیل فرما۔
شیخ فرماتے ہیں ایک روایت ہے کہ سو مرتبہ یہ کہنا بھی مستحب ہے:
صَلَوَاتُ اﷲِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَٲَنْبِیَائِہِ وَرُسُلِہِ وَجَمِیعِ خَلْقِہِ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
خدا کی رحمت اور ملائکہ اور انبیائ و رسل اور تمام مخلوق کا درود ہو محمد(ص) وآل محمد(ص) پر
وَالسَّلاَمُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَعَلَی ٲَرْواحِھِمْ وَٲَجْسادِھِمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہُ۔
اور سلام ہو حضرت محمد(ص) پر اور ان سب پر اور ان کی روحوں اور ان کے جسموں پر اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
شیخ جلیل ابن ادریس سرائر میںجامع بزنطی سے نقل کرتے ہیں کہ ا بو بصیر کا کہناہے کہ میںنے امام جعفر صادق -کو یہ فرماتے ہوئے سنا:ظہرو عصر کے درمیان محمد(ص) و آل محمد(ص) پر درود بھیجنا ستر رکعت نماز کے برابر ہے۔ جو شخص روز جمعہ عصر کے بعدمحمد(ص) و آل محمد(ص) پر صلوٰت پڑھے تو اسکا ثواب اسے جن و انس کے اس دن کے اعمال کے برابر ملے گا اور وہ صلوٰت یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیَائِ الْمَرْضِیِّینَ بِٲَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وَبَارِکْ
اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما کہ جو تیرے پسندیدہ اوصیائ ہیں اپنی بہترین رحمتوں کے ساتھ اور ان پر برکت نازل فرما
عَلَیْھِمْ بِٲَفْضَلِ بَرَکَاتِکَ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْھِمْ وَعَلَی ٲَرْوَاحِھِمْ وَٲَجْسَادِھِمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔
اپنی بہترین برکتوں سے اور سلام ہو ان پراور ان کی روحوں پر اور ان کے جسموں پر اور خدا کی رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔
مؤ لف کہتے ہیں : یہ صلوات مشائخِ حدیث کی کتب میں معتبر اسناد اور بہت زیادہ فضائل کیساتھ نقل ہوئی ہے پس اسے دس مرتبہ یا سات مرتبہ پڑھیں تو افضل ہے کیونکہ امام جعفرصادق - کا فرمان ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے قبل مذکورہ بالا صلوات دس مرتبہ پڑھے تو اس جمعہ سے اگلے جمعہ کی اسی ساعت تک ملا ئکہ اس کیلئے فضل و رحمت طلب کرتے رہیں گے۔نیز حضرت سے یہ روایت بھی ہو ئی ہے کہ روز جمعہ نماز ِعصر کے بعد اس صلوات کو سات مرتبہ پڑھو اور کا فی میں شیخ کلینی(رح) نے روایت کی ہے کہ جب روز جمعہ نماز پڑھ لو تو یہ صلوٰۃ پڑھو:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیَائِ الْمَرْضِیِّینَ بِٲَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ
اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما کہ جو تیرے پسندیدہ اوصیائ ہیں۔ اپنی بہترین رحمتوںکے ساتھ اور
وَبَارِکْ عَلَیْھِمْ بِٲَفْضَلِ بَرَکَاتِکَ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔
ان پر برکت نازل فرما اپنی بہترین برکتوں سے اور سلام ہو حضرت محمد(ص) پر اور ان سب پراور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ جو شخص نمازِ عصر کے بعد صلوٰت پڑھے تو خدا اس کو ایک لاکھ نیکی عطا کریگا اسکی ایک لاکھ بدی مٹا دے گا۔ اسکی ایک لاکھ حا جا ت پوری ہونگی اور ایک لاکھ درجہ بلندکیا جائیگا ۔نیز یہ روا یت بھی ہے کہ جو شخص سات مرتبہ یہ صلوٰۃ پڑھے تو اسکے لئے تما م انسانو ں کی تعد اد کے بر ابر نیکیا ں لکھی جا ئیں گی اور اس روز اس کا عمل مقبو ل ہو گا اور وہ قیا مت کے دن نو را نی چہرے کے ساتھ آئیگا۔علا وہ ازیں ا عما ل روز عر فہ میں ایک صلوات ہے جو ماہ ذالحجہ میں﴿ یوم عرفہ کے اعمال میں﴾ ملا حظہ فرمائیں ۔جو شخص اس صلوات کو پڑھے وہ محمد(ص)و آل محمد(ص) کو مسرور کرے گا۔
﴿٢٨﴾جو شخص عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار پڑھے تو اسکے گنا ہ بخش د یے جا ئیں گے اور وہ استغفاریہ ہے:
اَسْتَغْفِرُاﷲَ وَاَتُوْبُ اِلَیٰہ ۔
میں اللہ سے بخشش چا ہتا ہوں اور اسکے حضور تو بہ کرتا ہوں۔
﴿٢٩﴾سو مرتبہ سو رہ قدر پڑھیں،اما م مو سی کاظم -سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن خدا کی ہزار نسیمِ رحمت ہیں کہ ان میں سے جس قدر چاہے اپنے کسی بند ے کو عطا کرتا ہے۔ پس جو شخص روز جمعہ بعد از عصر سو مرتبہ سو رہ قدر پڑھے تو اسے یہ ہزار رحمت دگنی کرکے عنایت کی جا ئے گی ۔
﴿٣٠﴾دعا ئ عشر ات پڑھیں جس کا ذکر چھٹی فصل میں کیاجا ئے گا ۔
﴿٣١﴾شیخ طو سی فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن عصر سے غروب آفتاب تک قبولیتِ دعا کا و قت ہے پس اس وقت زیا دہ سے زیا دہ دعا کیاکریں ۔ روایت ہے کہ دعا کی منظو ری اور قبو لیت کا خا ص وقت وہ ہے جب سو رج آد ھا چھپا اور آد ھا چمک ر ہا ہو۔حضرت فا طمہ =اسی و قت دعا کیا کر تی تھیںلہذا اس خاص وقت میں دعا کر نا بہت بہتر ہے اور منا سب ہے کہ ان قبو لیت کی گھڑیوں میں رسول اﷲ(ص) سے مر وی دعا پڑھیں جو یہ ہے:
سُبْحَانَکَ لاَ إلہَ إلاَّٲَنْتَ یَاحَنَّانُ یَامَنَّانُ، یَابَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ
تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے مہربانی کرنے والے ۔اے احسان کرنے والے۔ اے آسمانوں اور زمین کو ایجاد کرنے
یَاذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ۔
والے۔ اے جلالت اور بزرگی کے مالک ۔
رو ز جمعہ کے آخر ی اوقات میں قبو لیت دعا کے وقت دعائِ سما ت پڑھیں جو چھٹی فصل میں ذکر کی جائے گی ۔وا ضح رہے کہ روز جمعہ کئی مناسبتوں سے اما م العصر﴿عج﴾ کے ساتھ تعلق ر کھتا ہے ، اولاً یہ کہ حضرت کی ولا دت با سعا دت اسی روز ہو ئی ۔ثا نیاً یہ کہ آپ کا ظہو ر پر نو ربھی اسی دن ہو گا ۔ ثا لثا یہ کہ دیگر ایا م کی نسبت اس دن حضر ت کا انتظا رِظہور زیادہ ہے ۔جمعہ کے روز حضرت کی زیا رت خاصہ بعد میں ذکر کی جائے گی،جسکے چند جملے یہ ہیں ۔
ھذَایَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَھُوَیَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ فِیہِ ظُھُورُکَ وَالْفَرَجُ فِیہِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدِکَ۔
یہ روز جمعہ ہے اور یہ وہی دن ہے جس میں آپ کے ظہور کی تو قع ہے اور جس میںآپ کے ہا تھوں مومنوں کوآسودگی ہو گی۔
بلکہ جمعہ کے روز کے عید قرار پانے اور چار عیدوں میں شمار ہو نے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس روز امام العصر﴿عج﴾ز مین کو کفر و شرک کی آلودگی ،گنا ہوں کی کثا فت اور جابروں ، منکروں اور منافقوں کے وجود سے پاک کریں گے اور اعلیِ کلمہ حق اور اظہار دین و شریعت کے باعث مو منین کے دل اس دن روشن ومنور اورمسرور ہوں گے۔وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضَ بِنُوْرِرَبِھَا۔﴿اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی﴾۔بہتر ہے کہ اس دن صلو ات کبیر اور صا حب الامر﴿عج﴾کیلئے امام علی رضا - کی فرمودہ یہ دعا پڑ ھیں: اَللّٰھُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِیِّکَ وَ خَلیٰفَتِکَ﴿یہ دعا اعمال سرداب ، میں ذکر کی جائے گی﴾۔نیز قائم آل محمد -کے زمانہ غیبت میں وہ دعا پڑھیں جو شیخ ابو عمر وعمر وی نے ابو علی ابن ہمام کو لکھوائی تھی چونکہ صلوات کبیر اور یہ دعا دونوں بہت طولانی ہیں لہذا اس مختصر کتاب میں ان کی گنجا ئش نہیں ہے ۔ پس شائقین اس سلسلے میںمصباح المتہجد اور جمال الاسبوع کی طرف رجوع کریں۔البتہ مناسب ہے کہ ہم یہاں ابالحسن ضراب اصفہانی کیطرف منسوب صلوات کا ذکر کریں جسے شیخ وسید نے عصرِ جمعہ کے اعما ل میںنقل فرمایا ہے۔ سید فرماتے ہیں کہ یہ صلوات اما م زمانہ ﴿عج﴾ سے مروی ہے اگر روز جمعہ کسی عذر کے باعث عصر ِجمعہ کی د یگر تعقیبات نہ پڑھ سکیں تو بھی اس صلو ت کا پڑھنا ہرگز ہرگز ترک نہ کریں اس خصوصیت کی وجہ سے کہ جس سے خدا نے ہمیں مطلع کیا ہے پھر انہوں نے صلوات کے ساتھ اسکی سند بھی نقل کی ہے لیکن مصباح میں شیخ نے فرمایا ہے کہ یہ صلٰوۃ حضرت امام زمانہ ﴿عج﴾ سے مروی ہے کہ جسے آپ نے ابوالحسن ضراب اصفہانی کو مکہ میں تعلیم فرمائی تھی اور ہم نے اختصار کے پیش نظر اسکی سند کو ذکر نہیں کیا اوروہ صلوات یہ ہے:

---- بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ----
خد اکے نا م سے شر وع﴿کرتا ہوں﴾ جو بڑ ا مہر با ن نہا یت ر حم و الا ہے ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَخَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعَالَمِینَ،
اے معبود! حضرت محمد(ص) پر رحمت فرما جو رسولوں کے سردار اور آخری نبی ہیں اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں
الْمُنْتَجَبِ فِی الْمِیثَاقِ، الْمُصْطَفی فِی الظِّلالِ، الْمُطَہَّرِ مِنْ کُلِّ آفَۃٍ، الْبَرِیئِ مِنْ
وہی جو روز میثاق میں برگزیدہ،عالم اشباح میں منتخب،ہر آفت سے دور،ہر عیب سے
کُلِّ عَیْبٍ، الْمُؤَمَّلِ لِلنَّجَاۃِ، الْمُرْتَجَی لِلشَّفاعَۃِ، الْمُفَوَّضِ إلَیْہِ دِینُ اﷲِ۔ اَللّٰھُمَّ
پاک،نجات کیلئے امیدگاہ،شفاعت کا سہارا کہ اللہ کا دین انہی کے سپرد ہوا ہے۔ اے معبود!
شَرِّفْ بُنْیَانَہُ وَعَظِّمْ بُرْھَانَہُ وَٲَ فْلِجْ حُجَّتَہُ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ وَٲَضِیئْ نُورَھُ وَبَیِّضْ
محمد(ص) کی ذات کو بلندی، انکی برہان کو عظمت ،انکی حجت کو کامیابی، انکے درجے کو رفعت عطا فرما۔ انکے نور کو چمک اور انکے
وَجْھَہُ وَٲَعْطِہِ الْفَضْلَ وَالْفَضِیلَۃَ وَالْمَنْزِلَۃَ وَالْوَسِیلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیعَۃَ وَابْعَثْہُ
چہرے کو روشنی دے۔ انکو فضیلت بزرگی ، وسیلہ اور بلند درجہ عطا فرما۔ اور انہیں مقام
مَقَاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ وَصَلِّ عَلَی ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثِ
محمود پر فائز فرما کہ ان پر اگلے اور پچھلے سبھی رشک کریں اور امیر المومنین(ع) پر رحمت فرما جو رسولوں
الْمُرْسَلِینَ وَقَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ وَسَیِّدِ الْوَصِیِّینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعَالَمِینَ وَصَلِّ
کے وارث، روشن چہرے والوں کے رہنما، وصےّوں کے سردار اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں اور حسن(ع) ابن علی(ع)
عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعَالَمِینَ وَصَلِّ
پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا،رسولوں کے وارث،اور عالمین کے رب کی حجت ہیں
عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ ووَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ
اور حسین(ع) بن علی(ع) پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا،رسولوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علی(ع) بن الحسین(ع) پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں ۔
وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور محمد(ع) بن علی(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ
اور جعفر(ع) بن محمد(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا نبیوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور موسٰی(ع) بن جعفر(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علی(ع) بن موسٰی(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور محمد(ع) بن علی(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علی(ع) بن محمد(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں ۔
وَصَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور حسن(ع) بن علی(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی الْخَلَفِ الْہٰادِی الْمَھْدِیِّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّۃِ
اور خلف ہادی و مہدی(ع) پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا نبیوں کے وارث اور عالمین کے
رَبِّ الْعالَمِینَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ الْاَئِمَّۃِ الْھَادِینَ الْعُلَمائِ الصَّادِقِینَ
رب کی حجت ہیں۔اے معبود! حضرت محمد(ص) اور انکے اہلب(ع)یت پر رحمت فرما جو ہدایت کرنے والے امام(ع)، حق گو علمائ،
الْاَ بْرَارِ الْمُتَّقِینَ دَعَائِمِ دِینِکَ وَٲَرْکَانِ تَوْحِیدِکَ وَتَراجِمَۃِ وَحْیِکَ وَحُجَجِکَ عَلَی
نیکوکار، پرہیزگار، تیرے دین کے ستون، تیری توحید کے ارکان، تیری وحی کے ترجمان، تیری مخلوق پر تیری
خَلْقِکَ وَخُلَفَائِکَ فِی ٲَرْضِکَ الَّذِینَ اخْتَرْتَھُمْ لِنَفْسِکَ، وَاصْطَفَیْتَھُمْ عَلَی عِبَادِکَ
حجت اور زمین پر تیرے نائب ہیں۔جنکو تو نے اپنی ذات کیلئے چنا۔ اپنے بندوں پر انہیں بزرگی دی اپنے دین کیلئے
وَارْتَضَیْتَھُمْ لِدِینِکَ وَخَصَصْتَھُمْ بِمَعْرِفَتِکَ وَجَلَّلْتَھُمْ بِکَرَامَتِکَ وَغَشَّیْتَھُمْ بِرَحْمَتِکَ
انہیں پسند کیااپنی معرفت میں انہیں خصوصیت بخشی اپنے کرم سے انکو بزرگ بنایا۔ انکو اپنی رحمت کے سایہ میں ڈھانپ لیا
وَرَبَّیْتَھُمْ بِنِعْمَتِکَ وَغَذَّیْتَھُمْ بِحِکْمَتِکَ، وَٲَلْبَسْتَھُمْ نُورَکَ، وَرَفَعْتَھُمْ فِی مَلَکُوتِکَ
اپنی نعمت سے ان کی تربیت کی اپنی حکمت کی غذا دی اور انہیں اپنے نور کا لباس پہنایا اپنے ملکوت میں بلند کیا اور انہیں
وَحَفَفْتَھُمْ بِملائِکَتِکَ وَشَرَّفْتَھُمْ بِنَبِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْہِ وَ آلِہِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
اپنے فرشتوں سے گھیرے رکھا اور اپنے نبی کے ذریعے انہیں عزت دی محمد(ص) پر اور انکی آل (ع)پر تیری رحمت ہو۔ اے معبود محمد(ص) پر
وَعَلَیْھِمْ صَلاَۃً زَاکِیَۃً نَامِیَۃً، کَثِیرَۃً دَائِمَۃً طَیِّبَۃً، لاَ یُحِیطُ بِھَا إلاَّ ٲَ نْتَ، وَلاَ یَسَعُھَا
اور ائمہ(ع) پر رحمت فرما وہ رحمت جو پاکیزہ ،بڑھنے والی، کثیر ،دائمی اور پسندیدہ ہو اور سوائے تیرے کوئی اسکا احاطہ نہ کرسکے اور جو تیرے ہی علم
إلاَّ عِلْمُکَ، وَلاَ یُحْصِیھَا ٲَحَدٌ غَیْرُکَ ۔ اَللّٰھُمَّ وَصَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ الُْمحْیِی سُنَّتَکَ
میں سماسکے اور سوائے تیرے کوئی اسکا اندازہ نہ کرسکے اور اے معبود! اپنے ولی پر رحمت فرما جو تیرے امر کو قائم کرنے والا، تیری شریعت
الْقَائِمِ بِٲَمْرِکَ الدَّاعِی إلَیْکَ الدَّلِیلِ عَلَیْکَ حُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی
کو زندہ کرنے والا، تیری طرف بلانے والا، تیری طرف رہنمائی کرنے والا ،تیری مخلوق پر تیری حجت ،تیری زمین پر تیرا
ٲَرْضِکَ وَشَاھِدِکَ عَلَی عِبَادِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَعِزَّ نَصْرَھُ، وَمُدَّ فِی عُمْرِھِ، وَزَیِّنِ الْاَرْضَ
خلیفہ اور تیرے بندوں پر تیرا گواہ ہے۔ اے معبود! اسکی نصرت میں اضافہ اور اسکی عمر طولانی فرما اور اسکی طولانی بقا
بِطُولِ بَقائِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَکْفِہِ بَغْیَ الْحَاسِدِینَ، وَٲَعِذْہُ مِنْ شَرِّ الْکَائِدِینَ، وَازْجُرْ عَنْہُ
سے زمین کو زینت دے۔ اے معبود ! اسے حاسدوں کے ظلم سے بچا، مکاروں کے فریب سے محفوظ رکھ، اسکے بارے میں ظالموں
إرَادَۃَ الظَّالِمِینَ، وَخَلِّصْہُ مِنْ ٲَیْدِی الْجَبَّارِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَعْطِہِ فِی نَفْسِہِ وَذُرِّیَّتِہِ
کے ارادے کو ناکام بنادے اور اسے جابروں کے ہاتھوں سے رہائی دے ۔اے معبود! اپنے ولی کو وہ چیزیں دے اور اسکی اولاد،
وَشِیعَتِہِ وَرَعِیَّتِہِ وَخَاصَّتِہِ وَعَامَّتِہِ وَعَدُوِّھِ وَجَمِیعِ ٲَھْلِ الدُّنْیا مَا تُقِرُّ بِہِ عَیْنَہُ
اسکے شیعوں ،اسکی رعیت، اسکے خاص و عام ساتھیوں کو اسکے دشمنوں کواور تمام دنیا والوں کو وہ چیزیں دے جن سے اسکی آنکھوں کو ٹھنڈک
وَتَسُرُّ بِہِ نَفْسَہُ وَبَلِّغْہُ ٲَفْضَلَ مَا ٲَمَّلَہُ فِی الدُّنْیَا وَالاَْخِرَۃِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور دل کو چین ملے اور اسکی بہترین امیدوں کو دنیا و آخرت میں پورا فرما ۔بے شک توہر چیز پر قادر ہے ۔
اَللّٰھُمَّ جَدِّدْ بِہِ مَا امْتَحیٰ مِنْ دِینِکَ، وَٲَحْیِ بِہِ مَا بُدِّلَ مِنْ کِتَابِکَ، وَٲَظْھِرْ بِہِ مَا
اے معبود! اسکے ذریعے دین کی محو شدہ باتوں کو ظاہر فرما۔ اسکے ہاتھوں اپنی کتاب کے بدلے گئے احکام زندہ فرما۔ تیرے احکام
غُیِّرَ مِنْ حُکْمِکَ، حَتَّی یَعُودَ دِینُکَ بِہِ وَعَلَی یَدَیْہِ غَضّاً جَدِیْداً خَالِصاً
جو تبدیل ہو چکے ہیں اسکے ذریعے انہیں ظا ہر فرما۔کہ تیرا دین تازہ ہو جائے اور اس ولی کے ہا تھوں دین نئی شان سے پاک و
مُخْلَصاً، لاَ شَکَّ فِیہِ، وَلاَ شُبْھَۃَ مَعَہُ، وَلاَ بَاطِلَ عِنْدَھُ، وَلاَ بِدْعَۃَ لَدَیْہِ اَللّٰھُمَّ نَوِّرْ
خالص ہو جائے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہ رہے ۔نہ اس میں باطل رہے اور نہ بدعت موجود ہو۔ اے معبود! اپنے ولی کے
بِنُورِھِ کُلَّ ظُلْمَۃٍ، وَھُدَّ بِرُکْنِہِ کُلَّ بِدْعَۃٍ، وَاھْدِمْ بِعِزِّھِ کُلَّ ضَلالَۃٍ، وَاقْصِمْ بِہِ
نور سے تا ریکیوں کو روشنی دے۔ اسکی قوت سے ہر بدعت کو مٹا دے ۔اسکی عزت کے واسطے سے ہر گمراہی ختم کر دے اسکے ذریعے
کُلَّ جَبَّارٍ، وَٲَخْمِدْ بِسَیْفِہِ کُلَّ نارٍ، وَٲَھْلِکْ بِعَدْلِہِ جَوْرَ کُلِّ جَائِرٍ وَٲَجْرِ حُکْمَہُ عَلَی
ہرجابر کی کمر توڑ دے اسکی تلوار سے ہر فتنے کی آگ بجھا دے ۔اسکے عدل کے ذریعے ہر ظالم کے ظلم کو ختم کر دے ۔اسکے حکم کوہر حکم
کُلِّ حُکْمٍ، وَٲَذِلَّ بِسُلْطانِہِ کُلَّ سُلْطَانٍ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَذِلَّ کُلَّ مَنْ نَاوَاھُ، وَٲَھْلِکْ کُلَّ مَنْ
سے بالاتر کر دے اور اسکی سلطنت کے ذریعے ہر سلطان کو پست کر دے ۔اے معبود اپنے ولی کے ہر مخالف کوہیچ کردے اور اسکے
عَادَاھُ، وَامْکُرْ بِمَنْ کَادَھُ، وَاسْتَٲْصِلْ مَنْ جَحَدَھُ حَقَّہُ، وَاسْتَھَانَ بِٲَمْرِھِ، وَسَعَی
دشمنوں کو ہلاک کر دے جو اسے دھوکہ دے، اسکو ناکام کر دے۔ جو اسکے حق کا منکر ہو ۔اسکی جڑ کاٹ دے اور اسکے حکم کو اہمیت نہ
فِی إطْفَائِ نُورِھِ، وَٲَرَادَ إخْمَادَ ذِکْرِھِ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی، وَعَلِیٍّ
دے جو کہ اسکے نور کو بجھانے میں کوشاں ہو اور اسکے ذکر مٹانے کا ارادہ کرے۔ اے معبود! محمد مصطفے(ص) پر رحمت فرما اور علی
الْمُرْتَضی وَفاطِمَۃَ الزَّھْرائِ وَالْحَسَنِ الرِّضا وَالْحُسَیْنِ الْمُصَفَّی وَجَمِیعِ الْاَوْصِیَائِ
مرتضی(ع)، فاطمہ زہرا(ع)، حسن مجتبیٰ(ع) اور حسین(ع) مصفّیٰ اور آنحضرت(ص) کے تمام اوصیائ پر رحمت فرما۔
مَصَابِیحِ الدُّجٰی وَٲَعْلامِ الْھُدیٰ وَمَنَارِ التُّقیٰ، وَالْعُرْوَۃِ الْوُثْقیٰ، وَالْحَبْلِ الْمَتِینِ،
جو روشن چراغ اور ہدایت کے نشان ، تقویٰ کے مینار، مضبوط رسی، پائیدار ڈوری
والصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ وَصَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ وَوُلاَۃِ عَھْدِکَ، وَالْاَئِمَّۃِ مِنْ وُلْدِھِ، وَمُدَّ فِی
اور صراط مستقیم ہیں۔ اور اپنے ولی علی(ع) پر رحمت فرما۔ اور انکے جانشینوں پر جو انکی اولاد میں سے امام(ع) ہیں۔ انکی عمریں
ٲَعْمارِھِمْ، وَزِدْ فِی آجالِھِمْ، وَبَلِّغْھُمْ ٲَقْصیٰ آمالِھِمْ دِیناً وَدُنْیا وَآخِرَۃً، إنَّکَ عَلی
دراز فرما۔انکی مدت میں اضافہ کر دے اور انکی تمام امیدیں پوری فرما۔ جو دنیا و آخرت سے متعلق ہیں کہ بے شک
کُلِّ شَیْئٍ قَدِْیرٌ ۔
تو ہر چیز پر قادر ہے۔
واضح ہو کہ ہفتہ کی شب بھی شب جمعہ کی ما نند ہے اور ایک روایت کے مطابق شب ِجمعہ میں جو دعا ئیں پڑھی جاتی ہیں ۔وہ ہفتہ کی رات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔




۶
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) پا نچویں فصل --------------------------------------------- تعین ایام ہفتہ برائے معصومین
اس فصل میں حضرت رسول اﷲ(ص) اور ائمہ کے ناموں کے ساتھ ایام ہفتہ کے تعیّن اور انکی زیارتوں کا تذکرہ ہے۔ سید ابن طاؤس جمال الاسبوع میں لکھتے ہیں کہ ابن بابو یہ صقرابن ابی دلف سے روایت کرتے ہیں کہ جب متو کل نے امام علی نقی - کو سامرا میں طلب کیا تو ایک روز میں وہاں گیاتاکہ امام سے ملاقات کا شرف حا صل کروں۔ اس وقت آپ متوکل کے نگہبان زراقی کے ہاں محبوس تھے ، میں اسکے پاس پہنچا تو اس نے پو چھا کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا : آپکی ملا قات کیلئے آیا ہوں، میں وہاں بیٹھا رہا اور ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ پھر جب عام لوگ چلے گئے اور تنہائی ہوئی تو اس نے مجھ سے دوبارہ پو چھا : کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا : آپکی ملاقا ت کو آیا ہوں! اس نے کہا : گو یا تم اپنے مولا (ع) کی خبر لینے آئے ہو ، میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: میرا مولا تو خلیفہ ہی ہے۔ وہ زور دے کر کہنے لگا: خا مو ش رہو کہ تمہارے مولا برحق ہیںاور خود میں بھی انہی کا معتقد ہوں۔ میں نے کہا: اَلْحَمْدُ اﷲِ! وہ بولا:آیا تم اپنے مولا (ع) کی خدمت میں حا ضر ہونا چاہتے ہو؟ میں نے کہا : ہاں! اس نے کہا : تھوڑی دیر بیٹھو کہ ہرکا رہ یہاں سے ہو کر چلا جائے چنانچہ جب ہر کا رہ سرکاری ڈاک دے کر چلا گیا تو اس نے ایک لڑکے کو میرے ساتھ کر دیا کہ وہ مجھے امام کی خدمت میں لے جائے۔ جب میں مولا (ع) کے پاس پہنچا تو کیا دیکھا کہ آپ چٹائی پر تشریف فرما ہیں اور برابر میں قبر موجود ہے ۔میں نے سلام کیا آپ نے جواب ِسلام دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جائو ! پھر پو چھا کہ کیوں آئے ہو ؟ عرض کی کہ آپکی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں۔ جب میری نظر اس قبر پر پڑی تو میں اپنا گریہ ضبط نہ کر سکا ، آپ نے فرمایا کہ گریہ نہ کرو اس وقت مجھے ان سے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،میں نے کہا :اَلْحَمْدُ اﷲِ!میں نے عرض کی: اے میرے سیدو سردار!حضرت رسول کی حدیث ہے،جسکا مطلب میں سمجھ نہیں سکا۔ فرمایا کونسی حدیث ہے؟ میں نے عرض کی ۔لا تعادو الایام فتعا دیکم یعنی دنوں سے دشمنی نہ کرو ورنہ وہ تمہارے دشمن ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ جبتک زمین و آسمان قائم ہیں، اس میں ایا م سے مراد ہم ہیں۔

ہفتہ: حضرت رسول اورآپکے اسم گرامی سے متعلق ہے۔اتوار: امیرالمومنین -کا نام نامی ہے۔﴿آپ کے اسم گرامی سے متعلق ہے﴾پیر: حسن و حسین ٭کا نام ہے۔﴿انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے﴾منگل: علی (ع)بن الحسین (ع) ،محمد (ع)ابن علی (ع)اور جعفر (ع)ابن محمد (ع)کا نام ہے۔﴿انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے﴾بدھ: موسی (ع)ابن جعفر(ع)،علی (ع)ابن موسی(ع)، محمد (ع)ابن علی (ع)کا اور میرا نام ہے۔﴿انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے﴾جمعرات: اس سے مراد میرا فرزند حسن عسکری (ع)ہے۔﴿یعنی انکے اسم گرامی سے متعلق ہے﴾جمعہ: اس سے مراد میرے فرزند حسن عسکری (ع)کا وہ بیٹا ہے جسکے ہاں تمام اہل حق جمع ہوں گے۔
یہ ہیں ایا م کے معنی پس ان سے دنیا میں دشمنی نہ کرو، ورنہ آخرت میں یہ تمہارے دشمن ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ الوداع کر کے چلے جائو کیونکہ میں تمہارے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ تمہیں اذیت نہ پہنچے۔
سید نے یہ حدیث ایک دوسری سند کیساتھ قطب راوندی سے بھی نقل کی ہے اسکے بعد فرمایا کہ
روز شنبہ﴿ہفتہ﴾ میں حضرت رسول اکرم کی زیارت یہ ہے ۔ ہفتہ:یہ رسول اﷲ کا دن ہے ہفتے کے روز حضرت رسول اﷲ کی یہ زیارت پڑھیں:
ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَحْدَھُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ رَسُولُہُ وَٲَنَّکَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اسکے رسول(ص) ہیںاور آپ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اﷲِ، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسالاتِ رَبِّکَ، وَنَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ
اور آپ ہی محمد(ص) ابن عبد(ع)اللہ ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے احکام پہنچائے اپنی امت کو وعظ ونصیحت کی
وَجَاھَدْتَ فِی سَبِیلِ اﷲِ بِالْحِکْمَۃِ وَالمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَٲَدَّیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ
اور آپ نے دانشمندی اور موعظہ حسنہ کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کیا اور حق کے بارے میں آپ نے اپنا فرض ادا کیا ہے
وَٲَ نَّکَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِینَ، وَغَلَظْتَ عَلَی الْکَافِرِینَ، وَعَبَدْتَ اﷲَ مُخْلِصاً حَتَّی
اور بے شک آپ مومنوں کیلئے مہربان اور کافروںکے لیے سخت تھے آپ نے اللہ کی پر خلوص عبادت کی یہاں تک
ٲَتیکَ الْیَقِینُ، فَبَلَغَ اﷲُ بِکَ ٲَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمِینَ، الْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی
کہ آپ کا وقت وفات آگیا پس خدا نے آپ کہ بزرگواروں میں سب سے بلند مقام پر پہنچایا حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے آپ
اسْتَنْقَذَنا بِکَ مِنَ الشِّرْکِ وَالضَّلالِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِہِ وَاجْعَلْ صَلَوَاتِکَ
آپ کے ذریعے ہمیں شرک اور گمراہی سے نجات دی اے معبود! حضرت محمد(ص) اور ان کی آل (ع)پر رحمت فرما اور اپنا درود
وَصَلَوَاتِ مَلائِکَتِکَ وَٲَنْبِیائِکَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعِبَادِکَ الصَّالِحِینَ وَٲَھْلِ السَّمَاوَاتِ
اور اپنے ملائکہ اپنے انبیائ و مرسلین اپنے نیکوکار بندوں آسمانوں اور زمینوں
وَالْاَرَضِینَ وَمَنْ سَبَّحَ لَکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ
میں رہنے والوں اے عالمین کے رب اولین وآخرین میں سے جو تیری تسبیح کرنے والے ہیں ان سب کا درود محمد(ص) کیلئے قرار دے جو
وَرَسُولِکَ وَنَبِیِّکَ وَٲَمِینِکَ وَنَجِیبِکَ وَحَبِیبِکَ وَصَفِیِّکَ وَصِفْوَتِکَ وَخَاصَّتِکَ
تیرے بندے تیرے رسول(ص) تیرے نبی(ص) تیرے امین تیرے نجیب تیرے حبیب تیرے برگزیدہ تیرے پاک کردہ تیرے خاص
وَخَالِصَتِکَ، وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ، وَٲَعْطِہِ الْفَضْلَ وَالْفَضِیلَۃَ وَالْوَسِیلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ
تیرے خالص اور تیری مخلوق میں سے بہترین ہیں خدایا! ان کو فضل و فضیلت اور وسیلہ بخش اور بلند درجہ
الرَّفِیعَۃَ، وَابْعَثْہُ مَقاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ اَللّٰھُمَّ إنَّکَ قُلْتَ وَلَوْ
عطا فرما انہیں مقام محمود پر فائز فرما کہ جس کیلئے اگلے اور پچھلے سبھی ان پر ر شک کریں اے معبود! بے شک تو نے فرمایا کہ
ٲَنَّھُمْ إذْ ظَلَمُوا ٲَنْفُسَھُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ
﴿اے رسول(ص)﴾اگر یہ لوگ اس وقت جب انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور اس
لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّاباً رَحِیماً، إلھِی فَقَدْ ٲَتَیْتُ نَبِیَّکَ مُسْتَغْفِراً تَائِباً مِنْ
کا رسول(ص) بھی ان کیلئے مغفرت طلب کرتا تو ضرور یہ خدا کو تو بہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔ میرے معبود!میں اپنے گناہوں کی معافی
ذُ نُوبِی، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِہِ وَاغْفِرْہا لِی، یَا سَیِّدَنا ٲَتَوَجَّہُ بِکَ
مانگتے اور توبہ کرتے ہوئے تیرے نبی(ص) کے حضور آیا ہوں پس محمد(ص) و آل محمد(ع) پر رحمت فرما اور میرے گناہ بخش دے اے مولا (ع)!میں آپ
وَبِٲَھْلِ بَیْتِکَ إلَی اﷲِ تَعَالی رَبِّکَ وَرَبِّی لِیَغْفِرَ لِی۔
کے اور آپ کے اہلبیت(ع) کے ذریعے خدا کی طرف متوجہ ہوا ہوں جو آپ کا اور میرا پروردگار ہے تاکہ مجھے بخش دے گا۔
پھر تین مرتبہ کہیں: إنَّا لِلّٰہِِ وَ إنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ پھر کہیں:
بے شک ہم خدا کے لیے ہیں اور یقینا اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں
ٲُصِبْنا بِکَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِنا، فَمَا ٲَعْظَمَ الْمُصِیبَۃَ بِکَ حَیْثُ انْقَطَعَ عَنَّا الْوَحْیُ
سوگوار ہیں ہم آپ کیلئے اے ہمارے دلی محبوب ، یہ کتنی بڑی مصیبت ہے کہ اب ہم میں وحی کا سلسلہ کٹ گیا ہے
وَحَیْثُ فَقَدْنَاکَ فَ إنَّا لِلّٰہِِ وَ إنَّا إلَیْہِ راجِعُونَ۔ یَا سَیِّدَنا یَا رَسُولَ اﷲِ
اور ہم آپکے ظا ہری وجود سے محروم ہیں اور بے شک ہم اللہ کیلئے ہیں اور یقینا اسی کیطرف پلٹنے والے ہیں اے ہمارے سردار اے
صَلَوَاتُ اﷲِ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّاھِرِینَ، ہذَا یَوْمُ السَّبْتِ وَھُوَ یَوْمُکَ، وَٲَ نَا
اللہ کے رسول(ص): آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں اور آپ کے اہل خاندان پر جو پاک ہیں آج ہفتہ کا دن ہے اور یہی آپ کا دن ہے اور آج
فِیہِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، فَٲَضِفْنِی وَٲَجِرْنِی، فَ إنَّکَ کَرِیمٌ تُحِبُّ الضِّیَافَۃَ، وَمَٲمُورٌ
میں آپ کا مہمان اور آپ کی پناہ میں ہوں پس میری میزبانی فرما یئے اور پناہ دیجیے کہ بے شک آپ سخی اور مہمان نواز ہیں اور پناہ
بِالْاِجارَۃِ، فَٲَضِفْنِی وَٲَحْسِنْ ضِیَافَتِی، وَٲَجِرْنا وَٲَحْسِنْ إجَارَتَنا، بِمَنْزِلَۃِ اﷲِ
دینے پر مامور بھی ہیں پس مجھے مہمان کیجیے اور بہترین ضیافت کیجیے مجھے پناہ دیجیے جو بہترین پناہ ہو آپ کو واسطہ ہے خدا کی اس
عِنْدَکَ وَعِنْدَ آلِ بَیْتِکَ، وَبِمَنْزِلَتِھِمْ عِنْدَھُ، وَبِمَا اسْتَوْدَعَکُمْ مِنْ عِلْمِہِ
منزلت کا جو وہ آپکے اور آپکے اہلبیت (ع) کے نزدیک رکھتا ہے اور جو منزلت ان کی خدا کے ہاں ہے اور اس علم کا واسطہ کہ جو اس نے
فَ إنَّہُ ٲَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ۔
آپ حضرات کو عطا کیا ہے کہ وہ کریموں میں سب سے بڑا کریم ہے۔
مؤلّف و جامع کتاب ہذا عباس قمی عفی عنہ کہتے ہیں کہ میں جب آنحضرت (ص)کی یہ زیارت پڑھنا چاہتا ہوںتو پہلے آنحضرت (ص) کی وہ زیارت پڑھتا ہوں کہ جو امام علی رضا -نے بزنطی کو تعلیم فرمائی تھی اس کے بعدمذکورہ بالا زیارت پڑھتا ہوں اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ صحیح سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ ابن ابی نصر نے امام علی رضا -سے عرض کیا:نماز کے بعد میں حضرت رسول (ص) پر کس طرح صلوت بھیجوں ؟ آپ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اﷲِ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ بْنَ
آپ پر سلام ہو اے اللہ کے رسول(ص) اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں آپ پر سلام ہو اے محمد(ص) بن
عَبْدِاللہ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَۃَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
عبداﷲ(ع) آپ پر سلام ہو اے پسندیدہ خدا، آپ پر سلام ہو اے حبیب(ص) خدا آپ پر سلام ہو
یَا صِفْوَۃَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِینَ اﷲِ ، ٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ رَسُولُ اﷲِ، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ
اے خدا کے منتخب آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانت دار میں گواہی دیتاہوں کہ آپ خدا کے رسول(ص) ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاﷲِ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ قَدْ نَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ، وَجَاھَدْتَ فِی سَبِیلِ رَبِّکَ
محمد(ص) بن عبداﷲ(ع) ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کی اور اپنے رب کی راہ میں جہاد کیا
وَعَبَدْتَہُ حَتَّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ، فَجَزَاکَ اﷲُ یَا رَسُولَ اﷲِ ٲَ فْضَلَ ما جَزی نَبِیّاً عَنْ
اور اس کی عبادت کرتے رہے حتی کہ وقت موت آگیاپس اے خدا کے رسول(ص) وہ آپ کو جزا دے وہ بہترین جزا جو نبی(ص) کو اپنی امت
ٲُمَّتِہِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ٲَ فْضَلَ ما صَلَّیْتَ عَلی إبْراھِیمَ وَآلِ
سے مل سکتی ہے اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما بہترین رحمت جو تو نے حضرت ابراہیم (ع)اور آل ابراہیم (ع) پر
إبْراھِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ۔
فرمائی بے شک تو لائق حمد اور شان والا ہے۔

زیارت حضرت امیرالمومنین اتوار:یہ حضرت امیرالمومنین -کا دن ہے۔
اس دن امیر المومنین- کی زیارت پڑھیں جیساکہ روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حالتِ بیداری میں امام زمانہ کو دیکھا کہ آپ(ع) امیرالمومنین -کی یہ زیارت پڑھ رہے ہیں ۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی الشَّجَرَۃِ النَّبَوِیَّۃِ وَالدَّوْحَۃِ الْھَاشِمِیَّۃِ الْمُضِییَۃِ الْمُثْمِرَۃِ بِالنُّبُوَّۃِ الْمُونِقَۃِ
درخشاں شجرہ نبویہ اور گلزار ہاشمیہ پر سلام ہو جو نبوت سے ثمرآور ہوا ہے اور امامت سے
بِالْاِمَامَۃِ وَعَلی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ عَلَیْھِمَا اَلسَّلاَمُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِکَ
لہرایا ہے۔ اور آدم و نوح + پر سلام ہو جو آپ کے پاس دفن ہیں۔ آپ پر سلام ہو اور آپ کے اہلبیت(ع) پر
الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَۃِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ وَالْحَافِّینَ بِقَبْرِکَ
جو پاک پاکیزہ ہیں۔ آپ پر سلام ہو اوران فرشتوں پر جو آپ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور آپکی قبر کو گھیرے ہوئے ہیں
یَا مَوْلایَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ھَذاَ یَوْمُ الْاَحَدِ وَھُوَ یَوْمُکَ وَبِاسْمِکَ وَٲَ نَا ضَیْفُکَ فِیہِ
اے میرے مولا(ع) اے مومنوں کے امیر یہ اتوار کا دن ہے اور یہی آپکا دن ہے اور آپکے نام سے منسوب ہے اور میں اس دن میں آپکا
وَجارُکَ فَٲَضِفْنِی یَا مَوْلایَ وَٲَجِرْنِی فَ إنَّکَ کَرِیمٌ تُحِبُّ الضِّیافَۃَ وَمَٲْمُورٌ
مہمان اور آپکی پناہ میں ہوں۔پس میرے مولا (ع) مجھے مہمان کیجیے اور پناہ دیجیے کہ بے شک آپ سخی، مہمان نواز اور پناہ دینے پر مامور
بِالْاِجارَۃِ فَافْعَلْ مَا رَغِبْتُ إلَیْکَ فِیہِ وَرَجَوْتُہُ مِنْکَ بِمَنْزِلَتِکَ وَآلِ بَیْتِکَ عِنْدَ
ہیں۔ پس جس مقصد سے میں اس دن حا ضر ہوا ہوں اور آپ سے جو آرزو رکھتا ہوں پوری فرمائیے اپنی اور اپنے خاندان کی خداکے
اﷲِ، وَمَنْزِلَتِہِ عِنْدَکُمْ، وَبِحَقِّ ابْنِ عَمِّکَ رَسُولِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ
ہاںبلندی کے واسطے اور خدا کی منزلت کے واسطے جو آپکے نزدیک ہے اور اپنے چچا کے بھائی حضرت رسول کے حق کے
وَعَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ ۔
واسطے میری آرزو پوری کیجیے آنحضرت اور ان سب پر درود سلام ہو۔

زیارت حضرت فاطمہ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَۃُ، امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امْتَحَنَکِ صَابِرَۃً،
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات۔ آپ کے خالق نے آپ کا امتحان لیا تو اس نے آپ کو امتحان میں صبر کرنے والی پایا
ٲَنَا لَکِ مُصَدِّقٌ صَابِرٌ عَلَی مَا ٲَتی بِہِ ٲَبُوکِ وَوَصِیُّہُ صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْھِما،
میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں جو کچھ آپ کے والد گرامی اور انکے وصی کو دیا گیا اس پر ثا بت قدم ہوںان دونوں پر خدا کی رحمت ہو
وَٲَ نَا ٲَسْٲَ لُکِ إنْ کُنْتُ صَدَّقْتُکِ إلاَّ ٲَ لْحَقْتِنِی بِتَصْدِیقِی
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر میں نے آپکی تصدیق کی ہے تو صرف اس لیے کہ آپ اس تصدیق کے ذریعے مجھے اپنے بابا
لَھُمَا، لِتُسَرَّ نَفْسِی، فَاشْھَدِی ٲَ نِّی طاھِرٌ بِوَلاَیَتِکِ وَوَِلایَۃِ آلِ بَیْتِکِ
اور ان کے وصی سے ملحق کر دیجیے تاکہ مجھے خو شی ملے ۔اے بی بی (ع)گواہ رہنا کہ میں آپکی اور آپکے خاندان کی ولایت کی تائید کرتا ہوں
صَلَوَاتُ اﷲِ عَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں

زیارت دیگر حضرت فاطمہ = ﴿دوسری روایت کی بنا پر﴾ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَۃُ امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ قَبْلَ ٲَنْ یَخْلُقَکِ وَکُنْتِ لِمَا
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات آپ کے خالق نے آپ کی تخلیق سے پہلے آپ کا امتحان لیا اور اے بی بی آپ امتحان
امْتَحَنَکِ بِہِ صَابِرَۃً وَنَحْنُ لَکِ ٲَوْ لِیَائٌ مُصَدِّقُونَ وَ لِکُلِّ مَا ٲَتی بِہِ ٲَبُوکِ صَلَّی اﷲُ
میں صبر کرنے والی نکلیں ہم آپکے محب اور تصدیق کرنے والے ہیں۔ آپ کے اور جو کچھ آپ کے بابا محمد
عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ وَٲَتی بِہِ وَصِیُّہُ ں مُسَلِّمُونَ وَنَحْنُ نَسْٲَ لُکَ اَللّٰھُمَّ إذْ کُنَّا مُصَدِّقِینَ
کو دیا گیا اور جو کچھ انکے وصی علی مرتضی - کو دیا گیا ،اسے تسلیم کرنے والے ہیں اور ہم سوال کرتے ہیں تجھ سے اے معبود کہ جب ہم
لَھُمْ ٲَنْ تُلْحِقَنَا بِتَصْدِیقِنا بِالدَّرَجَۃِ الْعَالِیَۃِ لِنُبَشِّرَ ٲَنْفُسَنَا بِٲَنَّا قَدْ طَھُرْنا
ان ہستیوں کی تصدیق کرتے ہیں توہمیں اس تصدیق کی بدولت درجہ عالیہ پر پہنچا دیناکہ ہم خودکو بشارت سنائیں کہ ہم اہلبیت کی
بِوِلایَتِھِمْ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ ۔
ولایت﴿کو ماننے ﴾ سے پاک دل ہو گئے ہیں۔

زیارت امام حسن و حسین روزپیر پیر :یہ امام حسن(ع) و امام حسین (ع)کا دن ہے

زیارت حضرت امام حسن - اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ ٲَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ
آپ پر سلام ہو اے عالمین کے رب کے رسول(ص) کے فرزند! آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنین(ع) کے فرزند
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ فاطِمَۃَ الزَّھْرَائِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا (ع)کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی، آپ پر سلام ہو
یَا صِفْوَۃَ اﷲِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِینَ اﷲِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اﷲِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
اے خدا کے برگزیدہ ،آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانتدار، آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت ،آپ پر سلام ہو
یَا نُورَ اﷲِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا صِرَاطَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا بَیَانَ حُکْمِ اﷲِ اَلسَّلاَمُ
اے خدا کے نور، آپ پر سلام ہو اے خدا کی راہ ،آپ پر سلام ہو اے حکمِ خدا کے مظہر، آپ پر
عَلَیْکَ یَا نَاصِرَ دِینِ اﷲِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا السَّیِّدُ الزَّکِیُّ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْبَرُّ
سلام ہو اے دین خدا کے مددگار، آپ پر سلام ہو اے پاک سردار ،آپ پر سلام ہو اے نیکوکار
الْوَفِیُّ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْقَائِمُ الْاَمِینُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْعَالِمُ بِالتَّٲْوِیلِ
و وفادار، آپ پر سلام ہو اے قائم و امین، آپ پر سلام ہو اے تاویل قرآن کے عالم ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْھَادِی الْمَھْدِیُّ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الطَّاھِرُ الزَّکِیُّ، اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو اے ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ ،آپ پر سلام ہو اے پاک و پاکیزہ، آپ پر
عَلَیْکَ ٲَیُّھَا التَّقِیُّ النَّقِیُّ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْحَقُّ الْحَقِیقُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الشَّھِیدُ
سلام ہو اے پرہیزگار و پاک دامن، آپ پر سلام ہو اے حق کے لائق، آپ پر سلام ہو اے شہید
الصِّدِّیقُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ٲَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ۔
و صدیق، آپ پر سلام ہو اے ابو محمد حسن(ع) بن علی(ع) آپ پر خدا کی رحمتیںاور برکتیں ہوں۔

زیارت حضرت امام حسین - اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو اے رسول(ص) خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین(ع) کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَا ابْنَ سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ ۔ ٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ ٲَقَمْتَ الصَّلاَۃَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاۃَ،
سلام ہو اے زنان عالم کی سردار کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی زکوۃ ادا فرمائی
وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَعَبَدْتَ اﷲَ مُخْلِصاً، وَجَاھَدْتَ فِی اﷲِ
آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا خدا کی پر خلوص عبادت کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا
حَقَّ جِہادِھِ حَتَّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ، فَعَلَیْکَ اَلسَّلاَمُ مِنِّی مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ،
جس طرح جہاد کا حق ہے یہاں تک کہ شہادت کو پہنچے پس آپ پر میرا سلام ہو جب تک میں زندہ ہوں اور شب وروز کا سلسلہ قائم
وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ۔ ٲَ نَا یَا مَوْلاَیَ مَوْلیً لَکَ وَ لاَِلِبَیْتِکَ، سِلْمٌ
ہے اور آپ کے پاکیزہ اہل خاندان پر بھی سلام ہو اے میرے آقا میں آپ کا اور آپ کے خاندان کا غلام ہوں میری صلح ہے اس
لِمَنْ سَالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ مُوَْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَجَھْرِکُمْ وَظَاھِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ
سے جس سے آپ کی صلح اور میری جنگ ہے اس سے جس سے آپ کی جنگ ۔میں آپ کے نہاں اور عیاںاور آپ کے ظاہر و باطن
لَعَنَ اﷲُ ٲَعْدائَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ وَٲَنَا ٲَبْرَٲُ إلَی اﷲِ تَعالی مِنْھُمْ یَا مَوْلاَیَ
کا معتقد ہوں خدا لعنت کرے آپکے دشمنوں پر جو اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے ہیں اور میں خدا کے سامنے ان سے بیزاری ظاہر
یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ، یَا مَوْلاَیَ یَا ٲَبا عَبْدِاﷲِ، ہذا یَوْمُ الاثْنَیْنِ وَھُوَ یَوْمُکُما وَبِاسْمِکُما
کرتا ہوں اے میرے آقا اے ابو محمد ﴿حسن(ع)﴾اے میرے آقا اے ابو عبداللہ ﴿حسین (ع)﴾ یہ سوموار کادن ہے جو آپ دونوں کا دن اور
وَٲَ نَا فِیہِ ضَیْفُکُما، فَٲَضِیفانِی وَٲَحْسِنا ضِیَافَتِی، فَنِعْمَ مَنِ اسْتُضِیفَ
آپ دونوں کے نام سے منسوب ہے اس دن میں آپ دونوں بھائیوں کا مہمان ہوں مجھے مہمان کر کے اچھی ضیافت کیجیے کتنا خوش
بِہِ ٲَ نْتُمَا، وَٲَ نَا فِیہِ مِنْ جِوارِکُما فَٲَجِیرانِی، فَ إنَّکُمَا مَٲمُورانِ
نصیب ہے وہ جو آپ کا مہمان ہو اور آج کے دن میں آپ کی پناہ میں ہوں مجھے پناہ دیجیے کہ آپ دونوں مہمان نوازی اور پناہ دینے
بِالضِّیافَۃِ وَالْاِجارَۃِ، فَصَلَّی اﷲُ عَلَیْکُمَا وَآلِکُمَا الطَّیِّبِینَ ۔
پر مامور ہیں۔ پس خدا آپ دونوں پر اور آپ کے پاک خاندان پر رحمت فرمائے۔

زیارت آئمہ بقیع روز منگل منگل:یہ امام زین العابدین ،امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا دن ہے ۔
تینوں ائمہ (ع) کی زیارت اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا خُزَّانَ عِلْمِ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا تَرَاجِمَۃَ وَحْیِ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ
سلام ہو آپ پر جو علم الہی کے خزینہ دار ہیں سلام ہو آپ پر جو وحی خدا کے ترجمان ہیں آپ پر
عَلَیْکُمْ یَا ٲَئِمَّۃَ الْھُدَی، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَعْلامَ التُّقی، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَوْلادَ
سلام ہو جو ہدایت دینے والے امام ہیں آپ پر سلام ہو جو تقوی کے نشان ہیں آپ پر سلام ہو جو رسول(ص) خدا
رَسُولِ اﷲِ ٲَنَا عَارِفٌ بِحَقِّکُمْ مُسْتَبْصِرٌ بِشَٲْنِکُمْ مُعادٍ لاََِعْدائِکُمْ مُوَالٍ لاََِوْ لِیَائِکُمْ
کے فرزند ہیں میں آپکے حق کو جانتا ہوں آپکی شان کو سمجھتا ہوں آپکے دشمنوں کا دشمن ہوں آپکے دوستوں کا دوست ہوں
بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْکُمْ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَتَوالی آخِرَھُمْ کَمَا تَوالَیْتُ ٲَوَّلَھُمْ
میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں اے معبود! میں انکے آخری سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسی انکے اول
وَٲَبْرَٲُ مِنْ کُلِّ وَلِیجَۃٍ دُونَھُمْ، وَٲَکْفُرُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّی
سے ہے اور انکے مقابل ہر گروہ سے دور ہوں اور جادوگر طاغوت اور لات وعزیٰ کا انکار کرتا ہوں
صَلَوَاتُ اﷲِ عَلَیْکُمْ یَا مَوالِیَّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ
اے میرے سردارو! آپ پر خدا کی رحمت اور برکت ہو آپ پر سلام ہو اے عابدوں
الْعَابِدِینَ وَسُلالَۃَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا بَاقِرَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
کے سردار اور وصیوں کی اصل آپ پر سلام ہو اے انبیائ کے علم کو ظاہر کرنے واے آپ پر سلام ہو
یَا صَادِقاً مُصَدَّقاً فِی الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ یَا مَوالِیَّ ہذَا یَوْمُکُمْ وَھُوَ یَوْمُ الثُّلاثَائِ وَٲَنَا
اے وہ صادق جسکی تصدیق اسکے قول و فعل میں کی گئی۔ اے میرے تینوں سردارو! یہ منگل والا دن، آپ کا دن ہے اور میں
فِیہِ ضَیْفٌ لَکُمْ وَمُسْتَجِیرٌ بِکُمْ، فَٲَضِیفُونِی وَٲَجِیرُونِی بِمَنْزِلَۃِ اﷲِ عِنْدَکُمْ وَآلِ
اس میں آپکا مہمان ہوںاور آپکی پناہ میں ہوںلہذا آپ میری مہمانوازی کیجیے اور مجھے پناہ دیجیے خدا کے اس مقام کے واسطے جو
بَیْتِکُمُ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ ۔
آپکے نزدیک ہے اور اپنے پاک و پاکیزہ خاندان کے واسطے سے۔

چار آئمہ کی زیارات بروز بدھ بدھ:یہ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) حضرت امام علی رضا(ع) حضرت امام محمد تقی (ع) اور امام علی نقی (ع) کا دن ہے چاروںائمہ کی زیارت اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَوْلِیَائَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا حُجَجَ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا نُورَ
آپ پر سلام ہو اے اولیائ خدا آپ پر سلام ہو جو خدا کی دلیل و حجت ہیں آپ پر سلام ہو جو زمین کی
اﷲِ فِی ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی آلِ بَیْتِکُمُ
تاریکیوں میں خدا کا نور ہیں آپ پر سلام ہو خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ
الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ، بِٲَبِی ٲَ نْتُمْ وَٲُمِّی، لَقَدْ عَبَدْتُمُ اﷲَ مُخْلِصِینَ، وَجَاھَدْتُمْ فِی
اہلبیت(ع) پر آپ پر میرے ماں باپ قربان آپ نے مخلصانہ طور پر خدا کی عبادت کی اور خدا کی راہ میں
اﷲِ حَقَّ جِھَادِھِ حَتَّی ٲَتاکُمُ الْیَقِینُ فَلَعَنَ اﷲُ ٲَعْدائَکُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ٲَجْمَعِینَ
جہاد کیا جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے حتی کہ آپ کی اجل آگئی پس خدا لعنت کرے آپ کے تمام دشمنوں پر جو جنوں اور انسانوں
وَٲَ نَا ٲَبْرَٲُ إلَی اﷲِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ، یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا إبْراھِیمَ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، یَا
میں سے ہیں میں آپکے اور خدا کے سامنے ان سے برائت کرتا ہوں اے میرے سردار اے ابوابراہیم موسیٰ کاظم (ع) بن جعفر صادق(ع)
مَوْلایَ یَا ٲَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُوسی، یَا مَوْلایَ یَا ٲبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
اے میرے سردار اے ابو الحسن(ع) علی رضا(ع) بن موسٰی کاظم(ع) اے میرے سردار اے ابو جعفر محمد تقی(ع) بن علی رضا(ع)
یَا مَوْلایَ یَا ٲَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ، ٲَ نَا مَوْلیً لَکُمْ مُوَْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَجَھْرِکُمْ،
اے میرے سردار اے ابوالحسن(ع) علی نقی(ع) بن محمد تقی(ع)! میں آپ سب کا غلام ہوں آپکے نہاں وعیاں پر ایمان رکھتا ہوں
مُتَضَیِّفٌ بِکُمْ فِی یَوْمِکُمْ ہذَا وَھُوَ یَوْمُ الْاَرْبَعائِ وَمُسْتَجِیرٌ بِکُمْ، فَٲَضِیفُونِی
یہ آپ کا دن ہے میں اس میں آپ کا مہمان ہوں۔ یہ بدھ کا دن ہے اور آپ کی پناہ میں ہوں پس میری مہمانوازی کیجیے
وَٲَجِیرُونِی بِآلِ بَیْتِکُمُ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ ۔
اور مجھے پناہ دیجیے۔ آپکو آپکے پاک و پاکیزہ خاندان کاواسطہ دیتا ہوں۔

زیارت امام عسکری روز جمعرات جمعرات:یہ امام حسن عسکری - کا دن ہے۔
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ اﷲِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اﷲِ وَخَالِصَتَہُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
آپ(ع) پر سلام ہو اے اﷲ کے ولی آپ(ع) پر سلام ہو اے حجت خدا اور اسکے خاص الخاص آپ(ع) پر سلام ہو
یَا إمَامَ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثَ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّۃَ رَبِّ الْعَالَمِینَ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْکَ
اے مومنوں کے امام اور انبیائ کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت آپ(ع) پر خدا کی رحمت ہو اور آپ(ع) کے
وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ، یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ
اہل خاندان پر جو پاک و پاکیزہ ہیں اے میرے سردار اے ابو محمد حسن عسکری(ع) بن علی نقی(ع)
ٲَ نَا مَوْلیً لَکَ وَلاَِلِ بَیْتِکَ، وَہذَا یَوْمُکَ وَھُوَ یَوْمُ الْخَمِیسِ، وَٲَ نَا ضَیْفُکَ فِیہِ وَ
میں آپ(ع) کا اور آپ کے اہل خاندان کا غلام ہوں اور یہ دن آپ(ع) کا ہے جو جمعرات ہے میں اس میں آپ کا مہمان ہوں اور آپ کی
مُسْتَجِیرٌ بِکَ فِیہِ فَٲَحْسِنْ ضِیَافَتِی وَ إجَارَتِی بِحَقِّ آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ
پناہ میں ہوں میری بہتر ین مہما نوازی کیجئے اور مجھے پناہ دیجئے اس کیلئے میںآپ کو آپ کے پاک و پاکیز ہ خاند ان کا و اسطہ د یتا ہوں ۔

زیارت امام العصر (عج)روز جمعہ جمعہ:یہ حضرت صا حب الزمان ﴿عج﴾ کا دن ہے اور انہیں سے منسوب ہے اور یہ وہی دن ہے جس دن آپ ظہور فرمائیں گے آپ کی زیارت یہ ہے

زیا رت حضرت صا حب الزمان ﴿عج﴾اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اﷲِ فِی ٲَرْضِہِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ اﷲِ فِی خَلْقِہِ اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو جو خدا کی زمین میں اس کی حجت ہیں آپ پر سلام ہو جو خدا کی مخلوق میں اس کی آنکھ ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا نُورَ اﷲِ الَّذِی یَھْتَدِی بِہِ الْمُھْتَدُونَ وَیُفَرَّجُ بِہِ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
سلام ہو جو خدا کے وہ نور ہیں جس سے ہدایت چاہنے والے ہدایت پاتے ہیں اور جس سے مومنوں کو کشادگی ملتی ہے آپ پر سلام ہو
ٲَیُّھَا الْمُھَذَّبُ الْخائِفُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَۃَ
جو نیک طینت ڈرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے خیر خواہ و سرپرست آپ پر سلام ہو اے کشتی
النَّجاۃِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیَاۃِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ
نجات آپ پر سلام ہو اے چشمہ حیات آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو آپ(ع) پر اورآپکے پاک
بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ عَجَّلَ اﷲُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَظُھُورِ
و پاکیزہ خاندان(ع) پر آپ پر سلام ہو خدا اس امر کے ظہور او نصرت میں جس کا وعدہ اس نے آپ سے
الْاَمْرِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ ٲَنَا مَوْلاکَ عَارِفٌ بِٲُولاَکَ وَٲُخْرَاکَ ٲَتَقَرَّبُ إلَی اﷲِ
کیا ہے آپ(ع) پر سلام ہو اے میرے سردار میں آپ کا غلام ہوں آپ کے آغاز و انجام سے واقف ہوں میں خدا کا قرب چاہتا
تَعَالَی بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَٲَنْتَظِرُ ظُھُورَکَ وَظُھُورَ الْحَقِّ عَلَی یَدَیْکَ وَٲَسْٲَلُ اﷲَ ٲَنْ
ہوں آپ کا اور آپکے خاندان کے و سیلے کا انتظا کرتا ہوںآپکے ظہوراورآ پکے ہا تھو ں حق کے ظہو ر کا اور خد ا سے سو ال کرتا ہوں
یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِینَ لَکَ وَالتَّابِعِینَ وَالنَّاصِرِینَ
کہ وہ محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرمائے اور مجھے آپکے انتظار کرنے والوں اور پیروی کرنے والوں اور آپ کے دشمنوں کے
لَکَ عَلَی ٲَعْدائِکَ وَالْمُسْتَشْھَدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِی جُمْلَۃِ ٲَوْلِیَائِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ
مقابل آپکے مددگاروں اور آپکے سامنے شہید ہونے والے آپکے دوستوں میں سے قرار دے۔ اے میرے آقا اے
الزَّمَانِ، صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ، ہذَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ
صاحب زماں(ع) آپ پر اور آپ(ع) کے اہل خاندان(ع) پر خدا کی رحمتیں ہوں ۔ یہ جمعہ کا دن ہے جوآپ(ع) کا دن ہے جس میں
فِیہِ ظُھُورُکَ، وَالْفَرَجُ فِیہِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدَیْکَ، وَقَتْلُ الْکافِرِینَ بِسَیْفِکَ، وَٲَ نَا یَا
آپ(ع) کے ظہور اور آپ(ع) کے ذریعے مومنوں کی آسودگی کی توقع ہے اور آپ کی تلوار سے کافروں کے قتل کی امید ہے اور اے
مَوْلایَ، فِیہِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، وَٲَ نْتَ یَا مَوْلایَ کَرِیمٌ مِنْ ٲَوْلادِ الْکِرَامِ، وَمَٲْمُورٌ
میرے آقا میں آج کے دن آپ کی پناہ میں ہوں اور اے میرے آقا آپ کریم اور کریموں کی اولاد سے ہیں اور مہمان رکھنے اور
بِالضِّیافَۃِ وَالْاِجَارَۃِ فَٲَضِفْنِی وَٲَجِرْنِی صَلَوَاتُ اﷲِ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِکَ الطَّاھِرِینَ
پناہ دینے پر مامور ہیں بس مجھے مہمان کیجیے اور پنا ہ دیجئے پر اور آپ کے پاک و پاکیز ہ اہل خاندان پرخدا تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔
سید بن طاؤس کہتے ہیں میں اس زیارت کے بعد اس شعر کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور امام زمانہ - کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں
نزیلک حیث ماا تحھت رکابی وضیفک حیث کنت من البلاد
میری سواری مجھے جہاں بھی لے جائے میں آپ ہی کا مہمان ہوں اور شہروں میں سے جس شہر میں رہوں وہاں بھی آپکا مہمان ہوں




۷
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) چھٹی فصل ----------------------------------------- اس میں بعض مشہو ر د عا ئو ں کا تذ کر ہ ہے۔
دعائے صبا ح یہ حضرت امیر المو منین - کی د عا ہے :مؤلّف کہتے ہیںکہ علامہ مجلسی نے یہ دعا اپنی کتاب بحار الانوار کی کتاب الدعائ اور کتاب الصلوۃ میں درج کی ہے۔ نیز فرمایا ہے کہ یہ مشہور دعائوں میں سے ہے ۔ لیکن میں نے اسے دیگر معتبر کتب میں نہیں پایا۔ البتہ سید بن باقی کی کتابِ مصباح میں یہ دعا موجود ہے۔اور اسی طرح علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ اس دعا کا فریضہ ِصبح کے بعد پڑھا جانا مشہور ہے ۔ تا ہم سید بن باقی(رح) نے روایت کی ہے کہ اسے نافلہ صبح کے بعد پڑھا جائے۔ بہرحال ان دونوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے مناسب ہے:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خد ا کے نا م سے﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہر با ن نہا یت ر حم کرنے وا لا ہے
اَللّٰھُمَّ یَا مَنْ دَلَعَ لِسانَ الصَّباحِ بِنُطْقِ تَبَلُّجِہِ، وَسَرَّحَ قِطَعَ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ بِغَیَاھِبِ
اے میرے معبود! جس نے صبح کی زبان کو روشنی کی گویائی دی اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کو لرزتی تاریکیوں سمیت
تَلَجْلُجِہِ، وَٲَتْقَنَ صُنْعَ الْفَلَکِ الدَّوَّارِ فِی مَقَادِیرِ تَبَرُّجِہِ، وَشَعْشَعَ ضِیَائَ الشَّمْسِ
ہنکا دیا اور گھومتے آسمان کی ساخت کو اسکے برجوں سے محکم کیا اور سورج کی روشنی کو اسکے نور فروزاں
بِنُورِ تَٲَجُّجِہِ، یَا مَنْ دَلَّ عَلَی ذَاتِہِ بِذَاتِہِ، وَتَنَزَّہَ عَنْ مُجَانَسَۃِ مَخْلُوقَاتِہِ، وَجَلَّ
سے چمکایا۔ اے وہ جس نے اپنی ذات کو دلیل بنایا جو اپنی مخلوقات کا ہم جنس ہونے سے پاک اور اسکی کیفیتوں
عَنْ مُلائَمَۃِ کَیْفِیَّاتِہِ، یَا مَنْ قَرُبَ مِنْ خَطَراتِ الظُّنُونِ، وَبَعُدَ عَنْ لَحَظَاتِ الْعُیُونِ
کی آمیزش سے بلند ہے اے وہ جو ظنی خیالوں سے قریب ہے اور آنکھوں کی دید سے دور ہے
وَعَلِمَ بِمَا کَانَ قَبْلَ ٲَنْ یَکُونَ، یَا مَنْ ٲَرْقَدَنِی فِی مِھَادِ ٲَمْنِہِ وَٲَمَانِہِ، وَٲَیْقَظَنِی إلی
اور ہونے والی چیزوں کوہونے سے پہلے جان چکا ہے اے وہ جس نے مجھے اپنے امن و سلامتی کے گہوارے میں سلایا اور اپنی بخشش
مَا مَنَحَنِی بِہِ مِنْ مِنَنِہِ وَ إحْسَانِہِ، وَکَفَّ ٲَکُفَّ السُّوئِ عَنِّی بِیَدِھِ وَسُلْطَانِہِ صَلِّ
اور احسان کو پانے کیلئے مجھے بیدار کیا اپنی قدرت و اقتدار سے برائی کو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے روکا۔ اے معبود
اَللّٰھُمَّ عَلَی الدَّلِیلِ إلَیْکَ فِی اللَّیْلِ الأَلْیَلِ، وَالْمَاسِکِ مِنْ ٲَسْبَابِکَ بِحَبْلِ الشَّرَفِ
اس پر رحمت فرما جو تاریک رات میں تیری طرف رہنمائی کرنے والا، تیرے سہاروں میں سے شرف کی پا ئیدار رسی کو پکڑ ے والا،
الاَطْوَلِ وَالنَّاصِعِ الْحَسَبِ فِی ذِرْوَۃِ الْکَاھِلِ الاَعْبَلِ وَالثَّابِتِ الْقَدَمِ عَلَی زَحالِفِہا
اعلیٰ خاندان میں سے چمکتی پیشانی والا، استوار روش والا،آغاز ہی سے لغزشوں کے مواقع پر ثابت
فِی الزَّمَنِ الْاَوَّلِ وَعَلَی آلِہِ الْاَخْیَارِ الْمُصْطَفَیْنَ الاَ بْرارِ وَافْتَحِ اَللّٰھُمَّ لَنَا مَصَارِیعَ
قدم رہنے والا ہے اور اس نبی کی نیکوکار برگزیدہ خوش کردار آل(ع) پر رحمت فرما۔ اے معبود! اپنی رحمت و بخشش
الصَّباحِ بِمَفَاتِیحِ الرَّحْمَۃِ وَالْفَلاَحِ وَٲَلْبِسْنِی اَللّٰھُمَّ مِنْ ٲَفْضَلِ خِلَعِ الْھِدَایَۃِ وَالصَّلاَحِ
کی کنجیوں سے ہمارے لئے صبح کے دروازے کھول دے ۔اے معبود مجھے نیکی وہدایت کی بہترین خلعت پہنادے
وَٲَغْرِسِ اَللّٰھُمَّ بِعَظَمَتِکَ فِی شِرْبِ جَنانِی یَنَابِیعَ الْخُشُوعِ وَٲَجْرِ اَللّٰھُمَّ لِھَیْبَتِکَ مِنْ
خداوند! اپنی عظمت کے باعث میرے دل کی زمین میں خشوع و انکساری کے درخت لگا دے اے معبود! اپنی ہیبت کیلئے
آمَاقِی زَفَرَاتِ الدُّمُوعِ، وَٲَدِّبِ اَللّٰھُمَّ نَزَقَ الْخُرْقِ مِنِّی بِٲَزِمَّۃِ الْقُنُوعِ إلھِی إنْ لَمْ
میری آنکھوں سے آنسوئوں کے تار جاری کردے۔ خدایا میری کج خلقی کو قناعت کی لگام ڈال دے۔ میرے اللہ اگر
تَبْتَدِیْنِی الرَّحْمَۃُ مِنْکَ بِحُسْنِ التَّوْفِیقِ فَمَنِ السَّالِکُ بِی إلَیْکَ فِی واضِحِ الطَّرِیقِ وَ
تو نے اپنی نیکی کی توفیق نہ دی تو کون مجھے تیری طرف کشادہ راہ پر لے چلے گا اور
إنْ ٲَسْلَمَتْنِی ٲَنَاتُکَ لِقائِدِ الْاَمَلِ وَالْمُنَیٰ فَمَنِ الْمُقِیلُ عَثَرَاتِی مِنْ کَبَوَاتِ الْھَوی
تیری دی ہوئی ڈھیل سے میں خواہش کے پیچھے چل پڑا تو کون مجھے ہوس کی ٹھوکروں سے بچائے گا
وَ إنْ خَذَلَنِی نَصْرُکَ عِنْدَ مُحارَبَۃِ النَّفْسِ وَالشَّیْطانِ فَقَدْ وَکَلَنِی خِذْلانُکَ إلی
اور اگر میرے نفس اور شیطا ن کی جنگ میں تیری نصرت میرے شامل حال نہ ہوتی تو گویا تیری دوری نے مجھے
حَیْثُ النَّصَبِ وَالْحِرْمانِ، إلھِی ٲَتَرَانِی مَا ٲَتَیْتُکَ إلاَّ مِنْ حَیْثُ الآمالِ، ٲَمْ عَلِقْتُ
رنج و غم کے حوالے کر دیا ہوتا میرے مالک کیا تیری نظر سے تیرے پاس اپنی خواہشوں کیلئے آیا ہوں یا میں نے
بِٲَطْرَافِ حِبَالِکَ إلاَّ حِینَ باعَدَتْنِی ذُ نُوبِی عَنْ دَارِ الْوِصَالِ، فَبِیْسَ الْمَطِیَّۃُ الَّتِی
تجھ سے اس وقت تعلق قائم کیا کہ جب میرے گناہوں نے مجھے تیرے وصال سے دور کردیا پس میرے دل نے
امْتَطَتْ نَفْسِی مِنْ ھَوَاہا فَوَاہاً لَھَا لِمَا سَوَّلَتْ لَھَا ظُنُونُہا وَمُنَاہا وَتَبّاً لَہا لِجُرْٲَتِہا
خواہشوں کو اپنی بری سواری بنایا پس اس پر اور اسکی خیالی تمنائوں پر نفرین ہے اور تباہی ہو اسکی جو
عَلَی سَیِّدِہا وَمَوْلاہا ۔ إلھِی قَرَعْتُ بَابَ رَحْمَتِکَ بِیَدِ رَجَائِی، وَھَرَبْتُ إلَیْکَ لاَجِئاً
اس نے اپنے آقا پر یہ جرات کی ہے۔ الہی میں نے اپنی امید کے ہاتھوں تیرے باب ِرحمت پر دستک دی ہے اور اپنی حد سے زیادہ
مِنْ فَرْطِ ٲَھْوَائِی، وَعَلَّقْتُ بِٲَطْرَافِ حِبَالِکَ ٲَنامِلَ وَلاَئِی، فَاصْفَحِ اَللّٰھُمَّ عَمَّا کُنْتُ
تمنائوں سے ڈر کے تیرے پاس بھاگ آیا ہوں اور محبت کی انگلیوں سے تیرے دامان ِرحمت کو تھام لیا ہے۔ اے معبود! مجھ سے جو
ٲَجْرَمْتُہُ مِنْ زَلَلِی وَخَطَائِی، وَٲَقِلْنِی مِنْ صَرْعَۃِ رِدَائِی، فَ إنَّکَ سَیِّدِی وَمَوْلایَ
لغزشیں اور خطائیں ہوئی ہیں ان سے چشم پوشی فرما اور میری چادر کی پایچی﴿وادی ہلاکت﴾ سے صرف نظر فرما کیونکہ تو میرا آقا و
وَمُعْتَمَدِی وَرَجَائِی، وَٲَ نْتَ غایَۃُ مَطْلُوبِی وَمُنَایَ فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوَایَ إلھِی کَیْفَ
مالک اور میرا سہارا اور امید ہے اور تو ہی اس دنیا اور آخرت میں میرا اصلی مطلوب و مقصود ہے ۔میرے معبود! تو اس بے چارے
تَطْرُدُ مِسْکِیناً الْتَجَٲَ إلَیْکَ مِنَ الذُّنُوبِ ہارِبَاً ٲَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ مُسْتَرْشِداً قَصَدَ إلَی
کو کیسے نکال دے گا جوتیرے پاس گناہوں سے بھاگ کر آیا ہے یا اس طالب ہدایت کو کیسے مایوس کرے گا جو تیرے حضور دوڑتا ہوا
جَنَابِکَ سَاعِیاً ٲَمْ کَیْفَ تَرُدُّ ظَمْآناً وَرَدَ إلی حِیَاضِکَ شَارِباً کَلاَّ وَحِیَاضُکَ مُتْرَعَۃٌ
آیا ہے یا اس پیاسے کو کیسے دور کرے گا جو تیرے کرم کے حوض سے پیاس بجھانے آیا ہے ہرگز نہیں !کہ تیرے فیض کے چشمے خشک
فِی ضَنْکِ الْمُحُولِ، وَبَابُکَ مَفْتُوحٌ لِلطَّلَبِ وَالْوُغُولِ، وَٲَ نْتَ غایَۃُ الْمَسْؤُولِ وَنِھَایَۃُ
سالی میں بھی رواں ہیں اور تیرا بابِ کرم داخلے اور سوال کیلئے کھلا ہے تو سوال کی انتہا اور امید کی آخری
الْمَٲْمُولِ إلھِی ھَذِھِ ٲَزِمَّۃُ نَفْسِی عَقَلْتُہا بِعِقَالِ مَشِیْئَتِکَ وَہذِھِ ٲَعْبَائُ ذُ نُوبِی دَرَٲْتُہا
حد ہے میرے معبود! یہ میرے نفس کی باگیں ہیں جنکو میں نے تیری مشیت کی رسی سے باندھ دیا ہے اور یہ ہیں میرے گناہوں کی
بِعَفْوِکَ وَرَحْمَتِکَ وَھَذِھِ ٲَھْوَائِیَ الْمُضِلَّۃُ وَکَلْتُہا إلَی جَنَابِ لُطْفِکَ وَرَٲْفَتِکَ،
گٹٹھریاں جو میں نے تیری بخشش و رحمت کے آگے لا رکھی ہیں اور یہ ہیں میری گمراہ کن خواہشیں جو میں نے تیرے لطف و کرم کے
فَاجْعَلِ اَللّٰھُمَّ صَبَاحِی ھذا نَازِلاً عَلَیَّ بِضِیَائِ الْھُدی وَبِالسَّلامَۃِ فِی الدِّینِ وَالدُّنْیا
سپرد کر دی ہیں پس اے پروردگار! اس صبح کو میرے لیے نور ہدایت اور دین و دنیا کی سلامتی کی حامل بنا کر نازل فرما
وَمَسَائِی جُنَّۃً مِنْ کَیْدِ الْعِدَیٰ وَوِقایَۃً مِنْ مُرْدِیاتِ الْھَوَیٰ، إنَّکَ قادِرٌ عَلَی ما تَشائُ
اور اس رات کو دشمنوں کی مکاری سے میری ڈھال اور ہلاک کرنے والی ہوس کی سپر بنادے بے شک تو جو چاہے اس پر قادر ہے
تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشائُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشائُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشائُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشائُ،
جسے چاہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہے واپس لے لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے ہر بھلائی
بِیَدِکَ الْخَیْرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، تُو لِجُ اللَّیْلَ فِی النَّہارِ، وَتُو لِجُ النَّہارَ فِی
تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل
اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشائُ بِغَیْرِ
کرتا ہے مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو برآمد کرتا ہے اور جسے چاہے بے حساب رزق عطا
حِسَابٍ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ سُبْحانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ مَنْ ذَا یَعْرِفُ قَدْرَکَ فَلاَ یَخافُکَ
فرماتا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں پاک ہے تو اے اللہ اور حمد تیرے ہی لیے ہے کون ہے جو تیری قدر و عظمت کو پہچانے تو اس سے
وَمَنْ ذَا یَعْلَمُ مَا ٲَ نْتَ فَلاَ یَہابُکَ، ٲَ لَّفْتَ بِقُدْرَتِکَ الْفِرَقَ، وَفَلَقْتَ بِلُطْفِکَ الْفَلَقَ،
نہ ڈرے کون ہے جو جانتا ہو تو کون ہے پھر تجھ سے مرعوب نہ ہو تو نے اپنی قدرت سے منتشرکو متحد کیا اور اپنے لطف سے سپیدہ صبح کو
وَٲَنَرْتَ بِکَرَمِکَ دَیاجِیَ الْغَسَقِ وَٲَنْھَرْتَ الْمِیَاہَ مِنَ الصُّمِّ الصَّیاخِیدِ عَذْباً وَٲُجَاجاً
نمایاں کیا اور تو نے ہی اپنے کرم سے تاریک راتوں کو روشن کیا اور تو نے سخت پتھروں میں سے میٹھے اور کھاری پانی کے چشمے جاری
وَٲَنْزَلْتَ مِنَ الْمُعْصِراتِ مائً ثَجَّاجاً وَجَعَلْتَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لِلْبَرِیَّۃِ سِراجاً وَہَّاجاً
کیے اور بادلوں سے نتھرا ہوا میٹھا پانی برسایا اور تو نے سورج اور چاند کو مخلوق کیلئے روشن چراغ قرار دیا بغیر اس کے کہ
مِنْ غَیْرِ ٲَنْ تُمَارِسَ فِیَما ابْتَدَٲْتَ بِہِ لُغُوباً وَلاَ عِلاجاً، فَیا مَنْ تَوَحَّدَ بِالْعِزِّ وَالْبَقَائِ
پیدا کرنے میں تجھے کوئی تھکاوٹ و خستگی عارض ہوئی یا تو محتاج ہوا ہو پس اے عزت اور بقا میں یگانہ
وَقَھَرَ عِبَادَہُ بِالْمَوْتِ وَالْفَنائِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الْاَتْقِیَائِ وَاسْمَعْ نِدَائِی وَاسْتَجِبْ
اور موت دفنا کے ذریعے بندوں پر غالب رہنے والے! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما جو پرہیزگار ہیں اور میری پکار سن لے میری دعا
دُعَائِی وَحَقِّقْ بِفَضْلِکَ ٲَمَلِی وَرَجَائِی یَا خَیْرَ مَنْ دُعِیَ لِکَشْفِ الضُّرِّ، وَالْمَٲْمُولِ
قبول فرما اور اپنے کرم سے میری تمناو امید پوری کر دے اے وہ بہترین ذات جسے تکلیف دور کرنے کیلئے پکارا جاتا ہے اور اے تنگی
فِی کُلِّ عُسْرٍ وَیُسْرٍ بِکَ ٲَنْزَلْتُ حاجَتِی فَلاَ تَرُدَّنِی مِنْ سَنِیِّ مَوَاھِبِکَ خائِباً یَا کَرِیمُ
و فراخی کی امید گاہ، میں تیرے حضور حاجت لے کر آیا ہوں پس مجھے اپنی وسیع عطائوں سے محرومی کے ساتھ دور نہ کر یاکریم
یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی اﷲُ عَلی خَیْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدٍ
یاکریم یاکریم اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اور اس کی بہترین مخلوق حضرت محمد(ص) اور ان کی سبھی آل(ع) پر
وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ پھر سجدہ میں جائیں اور کہیں: إلھِی قَلْبِی مَحْجُوبٌ وَنَفْسِی مَعْیُوبٌ وَعَقْلِی
خدا کی رحمت ہو خدایا !میرے دل پر حجاب ہے میرے نفس میں عیب ہے میری عقل
مَغْلُوبٌ وَھَوَائِی غَالِبٌ، وَطَاعَتِی قَلِیلٌ، وَمَعْصِیَتِی کَثِیرٌ، وَ لِسَانِی مُقِرٌّ بِالذُّنُوبِ،
ناکارہ ہے میری خواہش غالب میری عبادت کم اور گناہ بہت زیادہ ہیں میری زبان گناہوں کا اقرار کرتی ہے
فَکَیْفَ حِیلَتِی یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ وَیَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ وَیَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ اغْفِرْ ذُنُوبِی
تو میرا چارہ کار کیا ہے؟ اے عیبوں کو چھپانے والے اے چھپی باتوں کو جاننے والے اے دکھوں کو دور کرنے والے میرے تمام گناہ
کُلَّہا بِحُرْمَۃِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ یَا غَفَّارُ یَا غَفَّارُ یَا غَفَّارُ بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
بخش دے محمد(ص)(ص) و آل (ع)محمد(ص) کی حرمت کے واسطے سے یاغفار یاغفار یاغفار اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔


دعائے کمیل بن زیاد(رح) یہ مشہور و معروف دعائوں میں سے ہے اور علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ یہ بہترین دعائوں میں سے ایک ہے اور یہ حضرت خضر(ع) کی دعا ہے۔ امیرالمومنین- نے یہ دعا، کمیل بن زیاد کو تعلیم فرمائی تھی جو حضرت(ع) کے اصحاب خاص میں سے ہیں یہ دعا شب نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ میں پڑھی جاتی ہے ۔جو شر دشمنان سے تحفظ، وسعت و فراوانی رزق اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ اس دعا کو شیخ و سید ہر دو بزرگوں نے نقل فرمایا ہے۔ میں اسے مصباح المتہجد سے نقل کر رہا ہوں اور وہ دعا شریف یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی قَھَرْتَ بِہا کُلَّ شَیْئٍ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جوہر شی پر محیط ہے تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شی کو زیر نگیں کیا
وَخَضَعَ لَہا کُلُّ شَیْئٍ، وَذَلَّ لَہا کُلُّ شَیْئٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبْتَ بِہا کُلَّ شَیْئٍ
اور اس کے سامنے ہر شی جھکی ہوئی اور ہر شی زیر ہے اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے توہر شی پر غالب ہے
وَبِعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ یَقُومُ لَہا شَیْئٌ، وَ بِعَظَمَتِکَ الَّتِی مَلَأَتْ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِسُلْطانِکَ
تیری عزت کے ذریعے جسکے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا تیری سلطنت کے
الَّذِی عَلاَ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِوَجْھِکَ الْباقِی بَعْدَ فَنَائِ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِٲَسْمَائِکَ الَّتِی مَلأَتْ
ذریعے جو ہر چیز سے بلند ہے تیری ذات کے واسطے سے جوہر چیز کی فنا کے بعد باقی رہے گی اورسوال کرتا ہوںتیرے ناموں کے
ٲَرْکَانَ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذِی ٲَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ، وَبِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی ٲَضَائَ
ذریعے جنہوںنے ہر چیز کے اجزائ کو پر کر رکھا ہے تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور تیری ذات کے نور کے
لَہُ کُلُّ شَیْئٍ یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا ٲَوَّلَ الْاَوَّلِینَ ، وَیَا آخِرَ الْاَخِرِینَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ
ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے یانور یاقدوس اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر اے معبود
الذُّنُوبَ الَّتِی تَھْتِکُ الْعِصَمَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ
میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعَائَ
خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے معبود! میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلاَئَ ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی کُلَّ ذَ نْبٍ ٲَذْ نَبْتُۃُ
اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے
وَکُلَّ خَطِیئَۃٍ ٲَخْطَٲْتُہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِذِکْرِکَ، وَٲَسْتَشْفِعُ
اور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہو ئی ہے اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے
بِکَ إلَی نَفْسِکَ وَٲَسْٲَ لُکَ بِجُودِکَ ٲَنْ تُدْنِیَنِی مِنْ قُرْبِکَ، وَٲَنْ تُوزِعَنِی شُکْرَکَ
حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپناقرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں
وَٲَنْ تُلْھِمَنِی ذِکْرَکَ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ ٲَنْ تُسامِحَنِی
اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے گرے ہوئے ڈرے ہوئے کیطرح کہ مجھ سے چشم پوشی
وَتَرْحَمَنِی وَتَجْعَلَنِی بِقَِسْمِکَ رَاضِیاً قانِعاً، وَفِی جَمِیعِ الْاَحْوَالِ مُتَواضِعاً اَللّٰھُمَّ
فرما مجھ پر رحمت کر اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے یااللہ میں
وَٲَسْٲَ لُکَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُہُ، وَٲَ نْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدایِدِ حَاجَتَہُ، وَعَظُمَ فِیَما
تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کیطرح جو سخت تنگی میں ہو سختیوں میں پڑا ہواپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں اور جو کچھ تیرے
عِنْدَکَ رَغْبَتُہُ۔ اَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ، وَظَھَرَ ٲَمْرُکَ
پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے
وَغَلَبَ قَھْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلاَ یُمْکِنُ الْفِرارُ مِنْ حُکُومَتِکَ اَللّٰھُمَّ لاَ ٲَجِدُ لِذُنُوبِی
تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ
غَافِراً، وَلاَ لِقَبائِحِی سَاتِراً، وَلاَ لِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِیَ الْقَبِیحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ لاَ
بخشنے والا میری برائیوں کو چھپانے والا اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو تیرے سوا کوئی معبود نہیں
إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَتَجَرَّٲْتُ بِجَھْلِی، وَسَکَنْتُ إلَی
تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے میںنے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی اور میں نے تیری قدیم یاد آوری
قَدِیمِ ذِکْرِکَ لِی وَمَنِّکَ عَلَیَّ ۔ اَللّٰھُمَّ مَوْلاَیَ کَمْ مِنْ قَبِیحٍ سَتَرْتَہُ، وَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ
اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے اے اللہ : میرے مولا کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلائوں
الْبَلاَئِ ٲَقَلْتَہُ، وَکَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَہُ، وَکَمْ مِنْ مَکْرُوہٍ دَفَعْتَہُ، وَکَمْ مِنْ ثَنَائٍ جَمِیلٍ
سے مجھے بچالیا کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام
لَسْتُ ٲَھْلاً لَہُ نَشَرْتَہُ اَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلاَئِی وَٲَ فْرَطَ بِی سُوئُ حالِی وَقَصُرَتْ بِی
کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے میرے اعمال
ٲَعْمالِی، وَقَعَدَتْ بِی ٲَغْلالِی ، وَحَبَسَنِی عَنْ نَفْعِی بُعْدُ آمالِی، وَخَدَعَتْنِی الدُّنْیا
بہت کم ہیں گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے لمبی آرزوئوں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے دنیا نے دھوکہ
بِغُرُورِہا، وَنَفْسِی بِجِنایَتِہا، وَمِطالِی یَا سَیِّدِی فَٲَسْٲَ لُکَ بِعِزَّتِکَ ٲَنْ لاَ یَحْجُبَ
بازی سے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ
عَنْکَ دُعائِی سُوئُ عَمَلِی وَفِعالِی وَلاَ تَفْضَحْنِی بِخَفِیِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّی
میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو
وَلاَ تُعاجِلْنِی بِالْعُقُوبَۃِ عَلی مَا عَمِلْتُہُ فِی خَلَواتِی مِنْ سُوئِ فِعْلِی وَ إسائَتِی
جانتاہے اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا برائی کی ہمیشہ
وَدَوامِ تَفْرِیطِی وَجَہالَتِی، وَکَثْرَ ۃِ شَھَواتِی وَغَفْلَتِی، وَکُنِ اَللّٰھُمَّ بِعِزَّتِکَ لِی فِی
کوتاہی کی اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت
کُلِّ الْاَحْوالِ رَؤُوفاً، وَعَلَیَّ فِی جَمِیعِ الاَُْمُورِ عَطُوفاً ۔ إلھِی وَرَبِّی مَنْ لِی غَیْرُکَ
کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے
ٲَسْٲَلُہُ کَشْفَ ضُرِّی، وَالنَّظَرَ فِی ٲَمْرِی ۔ إلھِی وَمَوْلایَ ٲَجْرَیْتَ عَلَیَّ حُکْماً
جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم
اتَّبَعْتُ فِیہِ ھَویٰ نَفْسِی، وَلَمْ ٲَحْتَرِسْ فِیہِ مِنْ تَزْیِینِ عَدُوِّی، فَغَرَّنِی بِمَا ٲَھْوی
صادر فرمایالیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیا
وَٲَسْعَدَھُ عَلَی ذلِکَ الْقَضائُ، فَتَجاوَزْتُ بِما جَری عَلَیَّ مِنْ ذلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،
اور وقت نے اسکا ساتھ دیا پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی
وَخالَفْتُ بَعْضَ ٲَوامِرِکَ، فَلَکَ الحُجَّۃُ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ وَلاَ حُجَّۃَ لِی فِیما
مخالفت کی پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجالانا اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو
جَریٰ عَلَیَّ فِیہِ قَضَاؤُکَ، وَٲَ لْزَمَنِی حُکْمُکَ وَبَلاؤُکَ، وَقَدْ ٲَتَیْتُکَ یَا إلھِی بَعْدَ
فیصلہ تو نے میرے لیے کیا ہے اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں
تَقْصِیرِی وَ إسْرافِی عَلی نَفْسِی، مُعْتَذِراً نادِماً مُنْکَسِراً مُسْتَقِیلاً مُسْتَغْفِراً مُنِیباً
جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی کی ہے میں عذر خواہ و پشیماں،ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی ،تائب
مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً، لاَ ٲَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا کَانَ مِنِّی وَلاَ مَفْزَعاً ٲَتَوَجَّہُ إلَیْہِ فِی ٲَمْرِی
گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ کہ اپنے معاملے
غَیْرَ قَبُو لِکَ عُذْرِی وَ إدْخالِکَ إیَّایَ فِی سَعَۃٍ مِنْ رَحْمَتِکَ اَللّٰھُمَّ فَاقْبَلْ عُذْرِی
میں اسکی طرف توجہ کروںسوائے اسکے کہ تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے اے معبود! بس میرا عذر قبول
وَارْحَمْ شِدَّۃَ ضُرِّی وَفُکَّنِی مِنْ شَدِّ وَثاقِی یَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِی وَرِقَّۃَ
فرما میری سخت تکلیف پر رحم کر اور بھاری مشکل سے رہائی دے اے پروردگار میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک
جِلْدِی وَدِقَّۃَ عَظْمِی، یَا مَنْ بَدَٲَ خَلْقِی وَذِکْرِی وَتَرْبِیَتِی وَبِرِّی وَتَغْذِیَتِی، ھَبْنِی
ہڈیوں پر رحم فرما اے وہ ذات جس نے میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا اپنے پہلے کرم
لاِبْتِدائِ کَرَمِکَ وَسالِفِ بِرِّکَ بِی یَا إلھِی وَسَیِّدِی وَرَبِّی ٲَتُراکَ مُعَذِّبِی بِنَارِکَ بَعْدَ
اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب
تَوْحِیدِکَ، وَبَعْدَ مَا انْطَوی عَلَیْہِ قَلْبِی مِنْ مَعْرِفَتِکَ، وَلَھِجَ بِہِ لِسَانِی مِنْ ذِکْرِکَ
دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہے
وَاعْتَقَدَھُ ضَمِیرِی مِنْ حُبِّکَ وَبَعْدَ صِدْقِ اعْتِرافِی وَدُعَائِی خَاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ
میرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے
ھَیْھاتَ ٲَنْتَ ٲَکْرَمُ مِنْ ٲَنْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَہُ ٲَوْ تُبَعِّدَ مَنْ ٲَدْنَیْتَہُ ٲَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَہُ
بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا۔ ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے
ٲَوْ تُسَلِّمَ إلَی الْبَلاَئِ مَنْ کَفَیْتَہُ وَرَحِمْتَہُ، وَلَیْتَ شِعْرِی یَا سَیِّدِی وَ إلھِی
یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے یا جسکی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے اے کاش میں جانتا
وَ مَوْلایَ، ٲَ تُسَلِّطُ النَّارَ عَلَی وُ جُوہٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ سَاجِدَۃً، وَعَلَی
اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے
ٲَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِیدِکَ صَادِقَۃً، وَبِشُکْرِکَ مَادِحَۃً، وَعَلَی قُلُوبٍ
ہیں اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں اور ان دلوں
اعْتَرَفَتْ بِ إلھِیَّتِکَ مُحَقِّقَۃً، وَعَلَی ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتَّی
کو جو تحقیق کیساتھ تجھے معبود مانتے ہیں اور انکے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف
صَارَتْ خَاشِعَۃً، وَعَلَی جَوارِحَ سَعَتْ إلَی ٲَوْطانِ تَعَبُّدِکَ طَائِعَۃً، وَ ٲَشارَتْ
ہیں تو انہیںآگ میں ڈالے گا؟ اور ان اعضائ کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھ
بِاسْتِغْفارِکَ مُذْعِنَۃً، مَا ھَکَذَا الظَّنُّ بِکَ، وَلاَ ٲُخْبِرْنا بِفَضْلِکَ عَنْکَ یَا کَرِیمُ یَا رَبِّ
تیری مغفرت کے طالب ہیں ﴿تو انہیں آگ میں ڈالے﴾ تیری ذات سے ایسا گمان نہیں، نہ یہ تیرے فضل
وَٲَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِی عَنْ قَلِیلٍ مِنْ بَلائِ الدُّنْیا وَعُقُوباتِہا، وَمَا یَجْرِی فِیہا مِنَ
کے مناسب ہے اے کریم اے پروردگار! دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے اور اہل دنیا پر جو
الْمَکَارِھِ عَلَی ٲَھْلِہا، عَلی ٲَنَّ ذلِکَ بَلائٌ وَمَکْرُوہٌ قَلِیلٌ مَکْثُہُ، یَسِیرٌ بَقاؤُھُ، قَصِیرٌ
تنگیاں آتی ہیں ﴿میں انہیں برداشت نہیں کرسکتا﴾ اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقائ کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے تو پھر
مُدَّتُہُ، فَکَیْفَ احْتِمالِی لِبَلائِ الاَْخِرَۃِ وَجَلِیلِ وُقُوعِ الْمَکَارِھِ فِیہا وَھُوَ بَلائٌ تَطُولُ
کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی
مُدَّتُہُ وَیَدُومُ مَقامُہُ، وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْ ٲَھْلِہِ، لاََِنَّہُ لاَ یَکُونُ إلاَّ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقامِکَ
مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام
وَسَخَطِکَ، وَہذا ما لاَ تَقُومُ لَہُ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ، یَا سَیِّدِی فَکَیْفَ بِی وَٲَ نَا
اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے تو اے
عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ، الْحَقِیرُ الْمِسْکِینُ الْمُسْتَکِینُ یَا إلھِی وَرَبِّی وَسَیِّدِی
آقا مجھ پر کیا گزرے گی جبکہ میں تیرا کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں اے میرے آقا اور میرے مولا! میں
وَمَوْلایَ، لاََِیِّ الاَُْمُورِ إلَیْکَ ٲَشْکُو، وَ لِمَا مِنْہا ٲَضِجُّ وَٲَبْکِی، لاََِلِیمِ الْعَذابِ
کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟ دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا
وَشِدَّتِہِ، ٲَمْ لِطُولِ الْبَلاَئِ وَمُدَّتِہِ۔ فَلَئِنْ صَیَّرْتَنِی لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ ٲَعْدائِکَ، وَجَمَعْتَ
طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھااور مجھے اور
بَیْنِی وَبَیْنَ ٲَھْلِ بَلاَئِکَ، وَفَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ ٲَحِبَّائِکَ وَٲَوْ لِیائِکَ، فَھَبْنِی یَا إلھِی
اپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا اور میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی تو اے میرے معبود
وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَرَبِّی، صَبَرْتُ عَلَی عَذابِکَ، فَکَیْفَ ٲَصْبِرُ عَلَی فِراقِکَ، وَھَبْنِی
میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے
صَبَرْتُ عَلی حَرِّ نَارِکَ، فَکَیْفَ ٲَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إلَی کَرامَتِکَ ٲَمْ کَیْفَ ٲَسْکُنُ فِی
صبر کروں گا؟ اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا تو تیرے کرم سے کسطرح چشم پوشی کرسکوں گا یا کیسے آگ میں
النَّارِ وَرَجائِی عَفْوُکَ فَبِعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ ٲُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَکْتَنِی نَاطِقاً
پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری
لاَََضِجَّنَّ إلَیْکَ بَیْنَ ٲَھْلِہا ضَجِیجَ الْاَمِلِینَ وَلاَََصْرُخَنَّ إلَیْکَ صُراخَ
گویائی باقی رہنے دی تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے
الْمُسْتَصْرِخِینَ وَلَااَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکَائَ الْفَاقِدِینَ، وَلاََُنادِیَنَّکَ ٲَیْنَ کُنْتَ یَا وَ لِیَّ
مددگار کے متلاشی کرتے ہیںتیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیںاور تجھے پکاروں گا کہاں
الْمُؤْمِنِینَ یَا غَایَۃَ آمالِ الْعارِفِینَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِ الصَّادِقِینَ
ہے تواے مومنوں کے مددگار اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے اے سچے لوگوں کے دوست
وَیَا إلہَ الْعالَمِینَ ٲَفَتُراکَ سُبْحَانَکَ یَا إلھِی وَبِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فِیہا صَوْتَ عَبْدٍ
اور اے عالمین کے معبود کیا میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاک ہے اس سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندہ مسلم کی
مُسْلِمٍ سُجِنَ فِیہا بِمُخالَفَتِہِ، وَذاقَ طَعْمَ عَذابِہا بِمَعْصِیَتِہِ، وَحُبِسَ بَیْنَ ٲَطْباقِہا
آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے اور اپنے جرم گناہ پر جہنم
بِجُرْمِہِ وَجَرِیرَتِہِ، وَھُوَ یَضِجُّ إلَیْکَ ضَجِیجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ وَیُنادِیکَ بِلِسانِ ٲَھْلِ
کے طبقوںکے بیچوں بیچ بند ہے وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح اور اہل توحید کی زبان میں
تَوْحِیدِکَ، وَیَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ یَا مَوْلایَ فَکَیْفَ یَبْقی فِی الْعَذابِ وَھُوَ
تجھے پکار رہا ہے اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ
یَرْجُو مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ ٲَمْ کَیْفَ تُؤْ لِمُہُ النَّارُ وَھُوَ یَٲْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ
تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے
ٲَمْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ لَھِیبُہا وَٲَ نْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ وَتَری مَکانَہُ ٲَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْہِ
یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے یا کیسے آگ کے شرارے اسے
زَفِیرُہا وَٲَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ ٲَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ ٲَطْباقِہا وَٲَ نْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ ٲَمْ
گھیریں گے جبکہ تو اسکی ناتوانی کو جانتا ہے یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے
کَیْفَ تَزْجُرُھُ زَبانِیَتُہا وَھُوَ یُنادِیکَ یَا رَبَّہُ ٲَمْ کَیْفَ یَرْجُو فَضْلَکَ فِی عِتْقِہِ مِنْہا
یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا
فَتَتْرُکُہُ فِیہا، ھَیْہاتَ ما ذلِکَ الظَّنُ بِکَ، وَلاَ الْمَعْرُوفُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ مُشْبِہٌ لِمَا
امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے نہ یہ توحید
عَامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدِینَ مِنْ بِرِّکَ وَ إحْسانِکَ، فَبِالْیَقِینِ ٲَقْطَعُ، لَوْلاَ مَا حَکَمْتَ بِہِ
پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم
مِنْ تَعْذِیبِ جَاحِدِیکَ، وَقَضَیْتَ بِہِ مِنْ إخْلادِ مُعانِدِیکَ، لَجَعَلْتَ النَّارَ کُلَّہا بَرْداً
نہ دیا ہوتا اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا
وَسَلاماً، وَمَا کانَ لاََِحَدٍ فِیہا مَقَرّاً وَلاَ مُقاماً، لَکِنَّکَ تَقَدَّسَتْ ٲَسْماؤُکَ ٲَقْسَمْتَ ٲَنْ
اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا لیکن تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی
تَمْلاَََہا مِنَ الْکَافِرِینَ، مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ٲَجْمَعِینَ، وَٲَنْ تُخَلِّدَ فِیھَا الْمُعانِدِینَ،
کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا جنّوں اور انسانوں میں سے اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے اور تو بڑی
وَٲَنْتَ جَلَّ ثَناؤُکَ قُلْتَ مُبْتَدِیاً، وَتَطَوَّلْتَ بِالْاِنْعامِ مُتَکَرِّماً، ٲَفَمَنْ کَانَ مُوَْمِناً کَمَنْ
تعریف والا ہے تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا کہ کیا وہ شخص جو مومن ہے
کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ إلھِی وَسَیِّدِی، فَٲَسْٲَ لُکَ بِالْقُدْرَۃِ الَّتِی قَدَّرْتَہا وَبِالْقَضِیَّۃِ
وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا! میں تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا اور تیرا فرمان جسے تو نے
الَّتِی حَتَمْتَہا وَحَکَمْتَہا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْہِ ٲَجْرَیْتَہا، ٲَنْ تَھَبَ لِی فِی ھَذِھِ اللَّیْلَۃِ
یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوںبخش دے اس شب میں اور اس
وَفِی ھَذِھِ السَّاعَۃِ کُلَّ جُرْمٍ ٲَجْرَمْتُہُ، وَکُلَّ ذَنْبٍ ٲَذْ نَبْتُہُ، وَکُلَّ قَبِیحٍ ٲَسْرَرْتُہُ، وَکُلَّ
ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں جو نادانیاں
جَھْلٍ عَمِلْتُہُ کَتَمْتُہُ ٲَوْ ٲَعْلَنْتُہُ ٲَخْفَیْتُہُ ٲَوْ ٲَظْھَرْتُہُ وَکُلَّ سَیِّئَۃٍ ٲَمَرْتَ بِ إثْباتِھَا الْکِرامَ
میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں علی الاعلان یا پوشیدہ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین
الْکاتِبِینَ الَّذِینَ وَکَّلْتَھُمْ بِحِفْظِ مَا یَکُونُ مِنِّی وَجَعَلْتَھُمْ شُھُوداً عَلَیَّ مَعَ جَوارِحِی
کو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں اور ان کو میرے اعضائ کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا
وَکُنْتَ ٲَ نْتَ الرَّقِیبَ عَلَیَّ مِنْ وَرائِھِمْ وَالشَّاھِدَ لِما خَفِیَ عَنْھُمْ وَبِرَحْمَتِکَ ٲَخْفَیْتَہُ
اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے
وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَہُ، وَٲَنْ تُوَفِّرَ حَظِّی، مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُہُ، ٲَوْ إحْسانٍ تُفْضِلُہُ، ٲَوْ
فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا یا ہر اس احسان میں جو
بِرٍّ تَنْشِرُھُ، ٲَوْ رِزْقٍ تَبْسِطُہُ، ٲَوْ ذَ نْبٍ تَغْفِرُھُ، ٲَوْ خَطَاًَ تَسْتُرُھُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا
تو نے کیا یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا رزق میں جسے تو نے وسیع کیا یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا
رَبِّ یَا إلھِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَمالِکَ رِقِّی یَا مَنْ بِیَدِھِ نَاصِیَتِی، یَا عَلِیماً بِضُرِّی
یارب یا رب یا رب اے میرے معبود میرے آقا اورمیرے مولا اور میری جان کے مالک اے وہ جسکے ہاتھ میں میری لگام ہے
وَمَسْکَنَتِی یَا خَبِیراً بِفَقْرِی وَفاقَتِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ ٲَسْٲَ لُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ
اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر یارب یارب یارب میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری
وَٲَعْظَمِ صِفاتِکَ وَٲَسْمائِکَ، ٲَنْ تَجْعَلَ ٲَوْقاتِی فِی اللَّیْلِ وَالنَّہارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَۃً،
پاکیزگی، تیری عظیم صفات اور اسمائ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر اور مسلسل اپنی
وَبِخِدْمَتِکَ مَوْصُولَۃً وَٲَعْمالِی عِنْدَکَ مَقْبُولَۃً، حَتَّی تَکُونَ ٲَعْمالِی وَٲَوْرادِی کُلُّہا
حضوری میں رکھ اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور
وِرْداً وَاحِداً، وَحالِی فِی خِدْمَتِکَ سَرْمَداً۔ یَا سَیِّدِی یَا مَنْ عَلَیْہِ مُعَوَّلِی، یَا مَنْ
ورد قرار پائیں اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے اے جس سے
إلَیْہِ شَکَوْتُ ٲَحْوالِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ قَوِّ عَلی خِدْمَتِکَ جَوارِحِی وَاشْدُدْ عَلَی
میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں یارب یارب یارب میرے ظاہری اعضائ کو اپنی حضوری میں قوی اور میرے باطنی ارادوں کو
الْعَزِیمَۃِ جَوانِحِی، وَھَبْ لِیَ الْجِدَّ فِی خَشْیَتِکَ، وَالدَّوامَ فِی الاتِّصالِ بِخِدْمَتِکَ،
محکم و مضبوط بنا دے اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں تاکہ تیری بارگاہ میں
حَتّی ٲَسْرَحَ إلَیْکَ فِی مَیادِینِ السَّابِقِینَ، وَٲُسْرِعَ إلَیْکَ فِی المُبَادِرِینَ وَٲَشْتاقَ
سابقین کی راہوں پر چل پڑ و ں اور تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جا ئوں تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں
إلی قُرْبِکَ فِی الْمُشْتاقِینَ وَٲَدْنُوَ مِنْکَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِینَ، وَٲَخافَکَ مَخافَۃَ الْمُوقِنِینَ
میں زیادہ شوق والا بن جائوں تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جائوں اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں
وَٲَجْتَمِعَ فِی جِوارِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰھُمَّ وَمَنْ ٲَرادَنِی بِسُوئٍ فَٲَرِدْھُ، وَمَنْ کادَنِی
اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں اے معبود جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر جو میرے
فَکِدْھُ وَاجْعَلْنِی مِنْ ٲَحْسَنِ عَبِیدِکَ نَصِیباً عِنْدَکَ وَٲَقْرَبِھِمْ مَنْزِلَۃً مِنْکَ، وَٲَخَصِّھِمْ
ساتھ مکر کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر مجھے اپنے بند و ںمیں قر ار دے جو نصیب میں بہتر ہیں جومنزلت میں تیرے قریب ہیں
زُلْفَۃً لَدَیْکَ، فَ إنَّہُ لاَ یُنالُ ذلِکَ إلاَّ بِفَضْلِکَ، وَجُدْ لِی بِجُودِکَ، وَاعْطِفْ عَلَیَّ
جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر بذریعہ اپنی
بِمَجْدِکَ، وَاحْفَظْنِی بِرَحْمَتِکَ، وَاجْعَلْ لِسانِی بِذِکْرِکَ لَھِجاً، وَقَلْبِی بِحُبِّکَ
بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما بوجہ اپنی رحمت کے میری حفاظت کر میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے
مُتَیَّماً وَمُنَّ عَلَیَّ بِحُسْنِ إجابَتِکَ وَٲَقِلْنِی عَثْرَتِی وَاغْفِرْ زَلَّتِی فَ إنَّکَ قَضَیْتَ عَلی
میری دعا بخوبی قبول فرما مجھ پر احسان فرما میرا گناہ معاف کر دے اور میری خطا بخش دے کیونکہ تو نے بندوں پر
عِبادِکَ بِعِبادَتِکَ، وَٲَمَرْتَھُمْ بِدُعائِکَ، وَضَمِنْتَ لَھُمُ الْاِجابَۃَ، فَ إلَیْکَ یارَبِّ نَصَبْتُ
عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور قبولیت کی ضمانت دی پس اے پروردگار میں اپنا رخ تیری طرف
وَجْھِی، وَ إلَیْکَ یَا رَبِّ مَدَدْتُ یَدِی، فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِی دُعائِی، وَبَلِّغْنِی مُنایَ،
کر رہا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے لگی
وَلاَ تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجائِی، وَاکْفِنِی شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ ٲَعْدائِی، یَا سَرِیعَ
میری امید نہ توڑ میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر اے جلد
الرِّضا، اغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إلاَّ الدُّعائَ، فَ إنَّکَ فَعَّالٌ لِما تَشَائُ، یَا مَنِ اسْمُہُ دَوَائٌ،
را ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے اے وہ جس کا نام دوا جس
وَذِکْرُھُ شِفائٌ وَطَاعَتُہُ غِنیً اِرْحَمْ مَنْ رَٲْسُ مالِہِ الرَّجائُ وَسِلاحُہُ الْبُکَائُ یَا سَابِغَ
کا ذکر شفا اور اطاعت تونگری ہے رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا نُورَ الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ
اے نعمتیں پوری کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِی مَا ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ، وَصَلَّی اﷲُ عَلی رَسُو لِہِ
محمد(ص) آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے خدا اپنے رسول(ص) پر اور بابرکت آئمہ
وَالْاَئِمَّۃِ الْمَیامِینَ مِنْ آلِہِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً ۔
پرسلام بھیجتا ہے بہت زیادہ سلام وتحیات جو انکی آل(ع) میں سے ہیں۔


دعائے عشرات یہ بڑی معتبر دعاؤں میں سے ہے لیکن اسکے نسخوں میں خا صا فر ق پا یا جا تا ہے ہم اسے شیخ کی کتاب مصبا ح المتہجد سے نقل کر رہے ہیں۔ہر صبح و شا م اسکا پڑ ھنا مستحب ہے۔ لیکن اسکے پڑ ھنے کا ا فضل وقت جمعہ کے دن عصر کے بعد ہے ۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نا م سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہر با ن نہا یت رحم کرنے و الا ہے
سُبْحانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ وَاﷲُ ٲَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ
پاک ہے خدا اور حمد خدا کے لئے ہی ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ سُبْحانَ اﷲِ آنائَ اللَّیْلِ وَٲَطْرافَ النَّہارِ سُبْحانَ اﷲِ بِالْغُدُوِّ وَالآصالِ
بزرگ و برتر سے ہے پاک ہے خدا اوقات شب اور اطراف روز میں پاک ہے خدا طلوع و غروب کے وقت
سُبْحانَ اﷲِ بالْعَشِیِّ وَالْاِ بْکارِ، سُبْحانَ اﷲِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ،
پاک ہے خدا شام اور صبح کے وقت پاک ہے خدا جب تم شام کرتے اور جب تم صبح کرتے ہو
وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْھِرُونَ، یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ
اور حمد اسی کیلئے ہے آسمانوں اور زمین میں اور بوقت عصر جب تم ظہر کرتے ہو وہ مردہ سے
الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَیُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہا وَکَذَلِکَ تُخْرَجُونَ،
زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اسکی موت کے بعد زندہ کرتا ہے اور ایسے ہی تم قیا مت میں نکالے جائو گے،
سُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ
پاک ہے تمہارا رب ان باتوں سے جو وہ لوگ بیان کیا کرتے ہیں اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور حمد خدا ہی کے لئے ہے جو عالمین
الْعالَمِینَ سُبْحانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ سُبْحانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحانَ
کا پروردگار ہے پاک ہے وہ جو صاحب ملک و ملکوت ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب عزت و جبروت ہے پاک ہے وہ
ذِی الْکِبْرِیائِ وَالْعَظَمَۃِ الْمَلِکِ الْحَقِّ المُھَیْمِنِ القُدُّوسِ، سُبْحانَ اﷲِ الْمَلِکِ الْحَیِّ
جو بڑائی اور بزرگی کا مالک ہے بادشاہ،بر حق،مقتدر،اور منزہ ہے پاک ہے خدا جو بادشاہ اور زندہ ہے کہ
الَّذِی لاَ یَمُوتُ سُبْحانَ اﷲِ الْمَلِکِ الْحَیِّ الْقُدُّوسِ سُبْحانَ الْقائِمِ الدَّائِمِ سُبْحانَ
جسے موت نہیں، پاک ہے خدا جو بادشاہ زندہ و منزہ ہے پاک ہے وہ جو قائم و دائم ہے، پاک ہے وہ جو دائم و
الدَّائِمِ الْقائِمِ، سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ سُبْحانَ رَبِّیَ الأَعْلی، سُبْحانَ الْحَیِّ الْقَیُّومِ
قائم ہے، پاک ہے میرا رب جوعظمت والاہے پاک ہے میرا رب جو اعلٰی ہے پاک ہے وہ جوہمیشہ زندہ وپائندہ ہے
سُبْحانَ الْعَلِیِّ الأَعْلی، سُبْحانَہُ وَتَعالی، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنا وَرَبُّ الْمَلائِکَۃِ
پاک ہے وہ جو بلند و بالا ہے وہ پاک اور بر تر ہے پاکیزہ و منزہ ہے ہمارا رب جو ملائکہ
وَالرُّوحِ، سُبْحانَ الدَّائِمِ غَیْرِ الْغافِلِ، سُبْحانَ الْعالِمِ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ، سُبْحانَ خالِقِ
اور روح کا رب ہے پاک ہے وہ ہمیشہ رہنے و الا جو غافل نہیں، پاک ہے وہ جو بغیر تعلیم کے عالم ہے پاک ہے وہ جو دیکھی
مَا یُریٰ وَمَا لاَ یُریٰ، سُبْحانَ الَّذِی یُدْرِکُ الاَ بْصارَ وَلاَ تُدْرِکُہُ الاَ بْصارُ، وَھُوَ
ان دیکھی ہر چیز کا خالق ہے پاک ہے وہ جو نظروں کو پاتا ہے اور نظریں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ
اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَصْبَحْتُ مِنْکَ فِی نِعْمَۃٍ وَخَیْرٍ وَبَرَکَۃٍ وَعافِیَۃٍ، فَصَلِّ
باریک بین و خبر والا ہے اے معبود میں نے تیری طرف سے ملنے والی نعمت، خیر و برکت اور عافیت میں صبح کی پس رحمت فرما
عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَاَتْمِمْ عَلَیَّ نِعْمَتَکَ وَخَیْرَکَ وَبَرَکَاتِکَ وَعافِیَتَکَ بِنَجاۃٍ مِنَ النَّارِ
محمد(ص) آل محمد(ص) پر اور مجھ پر اپنی نعمت، اپنی خیر اور اپنی برکتیں اور اپنی عافیت پوری فرما جہنم سے نجات کے ذریعے اور
وَارْزُقْنِی شُکْرَکَ وَعافِیَتَکَ وَفَضْلَکَ وَکَرامَتَکَ ٲَبَداً ما ٲَبْقَیْتَنِی اَللّٰھُمَّ بِنُورِکَ
مجھے اپنے شکر کی توفیق بھی دے اور اپنی طرف سے عافیت، عطا فرما اور مہربانی سے نواز جب تک میں زندہ ہوں اے معبود مجھے تیرے
اھْتَدَیْتُ وَبِفَضْلِکَ اسْتَغْنَیْتُ، وَبِنِعْمَتِکَ ٲَصْبَحْتُ وَٲَمْسَیْتُ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲُشْھِدُکَ
نور سے ہدایت اور تیرے فضل سے تونگری ملی ہے تیری نعمت کیساتھ میں نے صبح کی اور شام کی ہے اے معبود میں تجھے گواہ بناتاہوں
وَکَفی بِکَ شَھِیداً وَٲُشْھِدُ مَلائِکَتَکَ وَٲَ نْبِیائَکَ وَرُسُلَکَ وَحَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَسُکّانَ
اور تیری گواہی کافی ہے اور گواہ بناتا ہوں تیرے ملائکہ، انبیائ ، رسل اور تیرے عرش کے حاملین تیرے
سَماواتِکَ وَٲَرْضِکَ وَجَمِیعَ خَلْقِکَ بِٲَنَّکَ ٲَنْتَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ
آسمانوں اور تیری زمین کے رہنے والوں اور تیری مخلوق کو اس بات پر کہ یقینا توہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا
لَکَ، وَٲَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَٲَ نَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ
کوئی ثانی نہیں اور اس پر کہ حضرت محمد ö تیر ے بندے اور تیرے رسول ہیں اور بے شک توہر چیز پر
قَدِیرٌ، تُحْیِی وَتُمِیتُ، وَتُمِیتُ وَتُحْیِی، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ، وَٲَنَّ النَّارَ حَقٌّ،
قادر ہے توہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ جنت حق ہے جہنم حق ہے
وَالنُّشُورَ حَقٌّ وَالسَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہا وَٲَنَّ اﷲَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ وَٲَشْھَدُ
قبروں سے جی اٹھنا حق ہے اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور خدا اسے زندہ کرے گا جو قبر میں ہے میں گواہی دیتا
ٲَنَّ عَلِیَّ بْنَ ٲَبِی طَالِبٍ ٲَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ حَقّاً حَقّاً، وَٲَنَّ الْاَئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِھِ ھُمُ الْائِمَّۃُ
ہوں کہ امام علی (ع)ابن ابی طالب(ع) مومنین کے بر حق امیر ہیں اور یہ کہ انکی اولاد میں سے جو آئمہ ہیں وہی ہدایت
الْھُداۃُ الْمَھْدِیُّونَ غَیرُ الضَّالِّینَ وَلاَ الْمُضِلِّینَ وَٲَ نَّھُمْ ٲَوْلِیاؤُکَ الْمُصْطَفَونَ وَحِزْبُکَ
یافتہ ہدایت دینے والے ہیں وہ نہ گمراہ ہیں اور نہ گمراہ کرنے والے ہیں اور یہ کہ وہی تیرے چنے ہوئے اولیائ اور تیری
الْغالِبُونَ وَصِفْوَتُکَ وَخِیَرَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ وَنُجَبَاؤُکَ الَّذِینَ انْتَجَبْتَھُمْ لِدِینِکَ
غالب جماعت ہیں وہ تیری مخلوق میں سے برگزیدہ اور بہترین افراد ہیں اور وہ ایسے شریف ہیں جن کو تو نے اپنے دین کی خاطر چنا
وَاخْتَصَصْتَھُمْ مِنْ خَلْقِکَ وَاصْطَفَیْتَھُمْ عَلی عِبادِکَ وَجَعَلْتَھُمْ حُجَّۃً عَلَی الْعالَمِینَ
اور انہیں اپنی مخلوق میں خاص مرتبہ دیا تو نے انھیں اپنے بندوں میں سے منتخب کیا اور ان کو عالمین کیلئے اپنی حجت قرار دیا
صَلَواتُکَ عَلَیْھِمْ وَاَلسَّلاَمُ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہُ اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِی ہذِھِ الشَّہادَۃَ
ان پر تیرا درود اور سلام ہو اور ان پر خدا کی رحمت اور برکات ہوں اے معبود! میری یہ گواہی اپنے ہاں درج فرما لے
عِنْدَکَ حَتّی تُلَقِّنَنِیہا یَوْمَ الْقِیامَۃِ وَٲَنْتَ عَنِّی راضٍ، إنَّکَ عَلی ما تَشائُ قَدِیرٌ اَللّٰھُمَّ
تاکہ قیامت کے دن تو مجھے اسکی تلقین کرے اور تو مجھ سے راضی ہو جائے بے شک تو ہر اس پر جو تو چاہے قادر ہے اے معبود! تیرے
لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً یَصْعَدُ ٲَوَّلُہُ وَلاَ یَنْفَدُ آخِرُھُ، اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً تَضَعُ لَکَ
لئے حمد ہے جس کا پہلا حصہ بلند ہو تا ہے او ر آخری ختم ہونے وا لا نہیں۔ اے معبود!حمد تیرے ہی لئے ہے ایسی حمد کہ آسما ن تیرے
السَّمائُ کَنَفَیْہا وَتُسَبِّحُ لَکَ الْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْہا اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً سَرْمَداً ٲَبَداً
آگے اپنے شانے جھکا دے اور زمین اور جو اس پر ہے وہ تیری تسبیح کرے اے معبود! تیرے لئے حمد ہے ایسی حمد جو ہمیشہ ہمیشہ
لاَ انْقِطاعَ لَہُ وَلاَ نَفادَ وَلَکَ یَنْبَغِی وَ إلَیْکَ یَنْتَھِی، فِیَّ وَعَلَیَّ وَلَدَیَّ وَمَعِی وَقَبْلِی
جاری رہے جونہ رکتی ہے نہ ختم ہوتی ہے وہ تیرے ہی لائق ہے اور تجھی تک پہنچتی ہے وہ میرے دل میں زبان پر میرے سامنے مجھ
وَبَعْدِی وَٲَمامِی وَفَوْقِی وَتَحْتِی وَ إذا مِتُّ وَبَقِیتُ فَرْداً وَحِیداً ثُمَّ فَنِیتُ وَلَکَ
سے پہلے میرے بعد میرے پہلو میں میرے اوپر اور میرے نیچے ہے جب میں مروںاور قبر میں تنہا ہو جا ئو ں پھر خا ک در خاک ہو
الْحَمْدُ إذا نُشِرْتُ وَبُعِثْتُ یَا مَوْلایَ اَللّٰھُمَّ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ بِجَمِیعِ
جائوں اور تیرے لئے حمد ہے جب قبر میں اٹھ بیٹھوں اور کھڑا کیا جائوں اے مولا اے معبود حمد اور شکر تیرے ہی لئے ہے تیرے تمام و
مَحامِدِکَ کُلِّہا عَلی جَمِیعِ نَعْمائِکَ کُلِّہا حَتَّی یَنْتَھِیَ الْحَمْدُ إلی مَا تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضیٰ
مکمل اوصاف کے ساتھ تیری سبھی نعمات پر حتی کہ حمد وہاں پہنچے جہاں تو چاہتا ہے اے ہمارے رب جس میں تیری رضا ہے
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ ٲَکْلَۃٍ وَشَرْبَۃٍ وَبَطْشَۃٍ وَقَبْضَۃٍ وَبَسْطَۃٍ، وَفِی کُلِّ مَوْضِع
اے معبود! تیرے لئے حمد ہے تمام اشیائ خورد و نوش پر زور و طاقت اور پکڑنے و کھولنے اورجسم کے ہربال بال
شَعْرَۃٍ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً خالِداً مَعَ خُلُودِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ مُنْتَہیٰ لَہُ
پر، تیری حمد ہے اے معبود! تیرے لئے حمد ہے ہمیشہ کی حمد تیرے دوام کے ساتھ تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد جس کی
دُونَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ ٲَمَدَ لَہُ دُونَ مَشِیئَتِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ ٲَجْرَ
تیرے علم کے علاوہ کہیں انتہائ نہیں تیرے لیے حمد ہے جس کی مدت تیری مشیت سے سوا نہیں ہے تیرے لیے حمد ہے کہ حمد کرنے
لِقائِلِہِ إلاَّ رِضاکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلی عَفْوِکَ
والے کا اجر تیری رضا کے علاوہ نہیں تیرے لیے حمد ہے جو جانتے ہوئے بھی نرمی کرتا ہے تیرے لیے حمد ہے کہ قوت کے باوجود
بَعْدَ قُدْرَتِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ باعِثَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ وارِثَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
درگذر فرماتا ہے تیرے لیے حمد ہے تو وجہ حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو مالک حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تجھ سے
بَدِیعَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ مُنْتَھَی الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ مُبْتَدِعَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
ابتدا ئ حمد ہے اورتیرے لیے حمد ہے کہ تجھ سے انتہائ حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو حمد کا آغازکرنے والا ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو
مُشْتَرِیَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ وَ لِیَّ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ قَدِیمَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
خریدار حمد ہے تیرے لیے حمد ہے تونگہبان حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو قدیمی حمد والا ہے اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو وعدے میں سچا
صَادِقَ الْوَعْدِ وَفِیَّ الْعَھْدِ عَزِیزَ الْجُنْدِ قَائِمَ الْمَجْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ رَفِیعَ الدَّرَجاتِ مُجِیبَ
عہد کا پکا ہے توانا لشکر والا پائدار بزرگی والا اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو اونچے درجوں والا ہے دعائیں قبول
الدَّعَواتِ، مُنْزِلَ الآیاتِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاواتٍ، عَظِیمَ الْبَرَکاتِ، مُخْرِجَ النُّورِ
کرنے والا ہے ساتوں آسمانوں سے بلند تر مقام سے آیات نازل کرنے والا ہے بڑی برکتوں والا ہے نور کو تاریکیوں
مِنَ الظُّلُماتِ، وَمُخْرِجَ مَنْ فِی الظُّلُماتِ إلَی النُّورِ، مُبَدِّلَ السَّیِّئاتِ حَسَناتٍ
سے نکالنے والا تاریکیوں میں پڑے کو روشنی کی طرف لانے والا گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے والا
وَجاعِلَ الْحَسَناتِ دَرَجَاتٍ ۔ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ غَافِرَ الذَّنْبِ، وَقَابِلَ التَّوْبِ، شَدِیدَ
اور نیکیوں کو بلند مراتب میں بدلنے والا اے معبود تیرے لیے حمد ہے کہ تو گناہ معاف کرنے والا توبہ قبو ل کرنے والا سخت
الْعِقابِ ذَا الطَّوْلِ، لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ ۔ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ فِی اللَّیْلِ إذا
عذاب دینے والا اور عطا کرنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں بازگشت تیری ہی طرف ہے اے معبود تیرے لیے حمد ہے رات
یَغْشیٰ، وَلَکَ الْحَمْدُ فِی النَّہارِ إذا تَجَلّیٰ، وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الآخِرَۃِ وَالاُولیٰ، وَلَکَ
میں جب وہ چھا جائے تیرے لیے حمد ہے دن میں جب وہ روشن ہو جائے تیرے لیے حمد ہے دنیا اور آخرت میں، تیرے
الْحَمْدُ عَدَدَ کُلِّ نَجْمٍ وَمَلَکٍ فِی السَّمَائِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ الثَّرَیٰ وَالْحَصیٰ وَالنَّوَیٰ
لیے حمد ہے آسما ن کے ستاروں اور فرشتوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے خاک اور ریت کے ذروں اور پھلوں کی گٹھلیوں
وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما فِی جَوِّ السَّمائِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما فِی جَوْفِ الْاَرْضِ وَلَکَ
کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے فضائ آسمان میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے تہ زمین میں موجود
الْحَمْدُ عَدَدَ ٲَوْزانِ مِیاھِ الْبِحارِ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ٲَوْراقِ الاَشْجارِ، وَلَکَ الْحَمْدُ
چیزوںکی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے سمندروں کے پانیوںکے وزن کے برابر، تیرے لیے حمد ہے درختوں کے پتوں کی
عَدَدَ ما عَلی وَجْہِ الاَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ مَا ٲَحْصیٰ کِتابُکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما
تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے زمین پر موجود چیزوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے تیری کتاب میں موجود تعداد کے
ٲَحاطَ بِہِ عِلْمُکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ الِانْسِ وَالْجِنِّ وَالْھَوامِّ وَالطَّیْرِ وَالْبَہائِمِ وَالسِّباعِ
برابر، تیرے لیے حمد ہے تیرے علم میں موجود تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے انسانوں، جنوں، حشرات، پرندوں، چرندوں اور
حَمْداً کَثِیراً طَیِّباً مُبارَکاً فِیہِ کَما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضیٰ، وَکَما یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِکَ
درندوں کی تعداد کے برابر، بہت زیادہ پاک اور بابرکت حمد اے پروردگار تجھے پسند اور جس پر تو راضی ہو اور جیسی حمد تیری
وَعِزِّ جَلالِکَ پھر دس مرتبہ کہیں: لاٰاِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاٰشَریٰکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ
شان کرم اور تیری جلالت کے لائق ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے جس کا کوئی ثا نی نہیں اس کیلئے ملک ہے اسی
وَھُوَ الْلَطیٰفُ الْخَبٰیرُ پھر دس مرتبہ: لاٰاِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَہُ لاٰشَریٰکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ
کیلئے حمد ہے اور وہ باریک بین خبر دار ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے جسکا کوئی ثا نی نہیں اسی کیلئے ملک اور اسی کے
الْحَمْدُ یُحْیٰی وَیُمیِتُ وَیُمِیتُ وَ یُحْییٰ وَھُوَ حَیٌ لاٰیَمُوتُ بَیِدہِ الْخَیْرِ وَھُوَعَلٰی کُلِ
لیے حمد ہے جو زند ہ کرتا ہے اور ما رتا ہے، ما رتا اور زندہ کرتا ہے اور زندہ ہے جسے مو ت نہیں اسی کے ہا تھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز
شَیئٍ قَدیٰر پھر دس مرتبہ: اَسْتَغْفِرُاﷲ الَّذِی لاٰاِلٰہَ اِلاَّ ھُوَالْحَیُ الْقَیُومُ وَاَتُوبُ اِلٰیْہ پھر دس مرتبہ:
پر قادر ہے میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ و پائندہ ہے اور اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں
یَااَﷲُ یَااَﷲُ دس مرتبہ: یَارَحْمٰنُ یَارَحْمٰنُ پھر دس مرتبہ: یَارَحِیْمُ یَارَحِیْمُ پھر دس مرتبہ :
یااللہ یااللہ اے رحمت کرنے وا لے اے رحمت کرنے والے اے مہربان اے مہربان
یَابَدِیْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ پھر دس مرتبہ: یَاذَالْجَلٰالِ وَالْاِکْرَامِ پھر دس مرتبہ: یَا حَنّٰانُ
اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے صاحب جلا لت و بزرگی اے مہربانی کرنے والے
یَامَنّٰانُ پھر دس مرتبہ: یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ پھر دس مرتبہ: یَاحَیُّ لاٰاِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ پھر دس مرتبہ: یَا اَﷲُ یَا لاٰ
اے احسان کرنے والے اے ز ندہ و پا ئند ہ اے زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اﷲ اے وہ ذات
اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ پھر دس مرتبہ: بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پھر دس مرتبہ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اے معبود! محمد (ص)
وَآلِ مُحَمَّدٍ پھر دس مرتبہ: اَللّٰھُمَّ اِفْعَلْ بِیْ مَااَنْتَ اَھْلُہُ پھر دس مرتبہ: آمِیْنَ آمِیْنَ پھر دس مرتبہ:
وآل محمد(ص) پررحمت فرما اے معبود میرے ساتھ وہ برتائو کر جس کا تو اہل ہے ایسا ہی ہوایسا ہی ہو
قُلْ ھُوَ اَﷲُ اَحَدٌ پڑھیں پھر کہیں: اَللّٰھُمَّ اِصْنِعْ بِیْ مَااَنْتَ اَھْلُہُ وَلَاتَصْنَعْ بِیْ مَا اَنَا
کہو ﴿اے نبی﴾ اللہ ا یک ہے اے معبود میرے ساتھ وہ بر تا ئو کر جس کا تو اہل ہے اور مجھ سے وہ نہ کر جس کا میں اہل ہوں
اَھْلُہُ فَاِنَّکَ اَھْلُ التَّقْویٰ وَاَھْلُ الْمَغْفِرَ ۃِ وَاَنَا اَھْلُ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایٰافَارْحَمْنِیْ
بیشک تو بچانے والا اور بخشنے والا ہے اور میں گناہ کرنے والا اور خطائیں کرنے والا ہوں پس رحم کر مجھ پر اے میرے مولا
یَامَوْلٰایَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ پھر دس مرتبہ: لاٰحَوْلَ وَلاٰقُوَّ ۃَ اِلاَّبِاﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی
اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے کوئی طاقت وقوت نہیں سواے اسکے جو اللہ کیطرف سے ہے بھر و سہ ر کھتا ہوں
الْحَیِّ اَلَّذِیْ لاٰیَمُوْتُ وَالْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیْکٌ فِیْ الْمُلْکِ
اس زندہ پر جسے مو ت نہیں اور حمد ہے اس اللہ کیلئے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنا یا اور نہ کوئی اسکی حکو مت میں شریک
وَلَمْ یَکُنْ لَہ، وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا
ہے اور نہ کوئی اس کا مدد گا ر ہے بو جہ اسکے عجز کے اور اس کی بڑا ئی بیان کرتے ر ہا کرو۔


دعا ئے سما ت یہ دعا شبّور کے نام سے معرو ف ہے اور اس کا جمعہ کے آخر ی اوقا ت میں پڑھنا مستحب ہے یہ مشہو ر دعا ئو ں میں سے ہے اور اکثر علما ئ متقد مین اس کوہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔مصباح ِشیخ طوسی، جمال الاسبوحِ سید ابن طاؤس اور کفعمی کی کتب میں یہ دعا معتبر اسنا د کے ساتھ حضرت اما م العصر -کے نا ئب خا ص محمد بن عثما ن عمر ی سے نقل ہو ئی ہے ۔نیز یہ دعا حضرت اما م محمد با قر - و حضرت اما م جعفرصادق -سے بھی رو ایت کی گئی ہے ۔علا مہ مجلسی نے بحا ر الا نو ار میں اسے شر ح کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہا ں ہم اسے مصبا ح سے نقل کر ر ہے ہیں:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الأَعْظَمِ الأَعَزِّ الأَجَلِّ الأَکْرَمِ، الَّذِی إذا دُعِیتَ
اے معبود میں تیرے عظیم بڑی عظمت والے بڑے روشن بڑی عزت والے نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ جب آسمان کے بند
بِہِ عَلی مَغالِقِ ٲَبْوابِ السَّمائِ لِلْفَتْحِ بِالرَّحْمَۃِ انْفَتَحَتْ وَ إذا دُعِیتَ بِہِ عَلی مَضائِقِ
دروازے رحمت کیلئے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ کھل جاتے ہیں اور جب زمین کے تنگ راستے کھولنے کیلئے تجھے
ٲَبْوابِ الاَرْضِ لِلْفَرَجِ انْفَرَجَتْ وَ إذا دُعِیتَ بِہِ عَلَی الْعُسْرِ لِلْیُسْرِ تَیَسَّرَتْ، وَ إذا
اس نام سے پکارا جائے تو وہ کشادہ ہو جاتے ہیں اور جب سختی کے وقت آسانی کیلئے اس نام سے پکاریں تو آسانی ہو جا تی ہے اور
دُعِیتَ بِہِ عَلَی الْاَمْواتِ لِلنُّشُورِ انْتَشَرَتْ، وَ إذا دُعِیتَ بِہِ عَلی کَشْفِ الْبَٲْسَائِ
جب مردوں کو اٹھانے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنگیاں اور سختیاں دور کرنے کیلئے تجھے اس
وَالضَّرَّائِ انْکَشَفَتْ، وَبِجَلالِ وَجْھِکَ الْکَرِیمِ ٲَکْرَمِ الْوُجُوھِ وَٲَعَزِّ الْوُجُوھِ الَّذِی
نام سے پکاریںتو وہ دور ہو جاتی ہیں اور سوالی ہوں تیری ذات کریم کے جلال کے ذریعے جو سب سے بزرگ ذات ہے سب سے
عَنَتْ لَہُ الْوُجُوہُ وَخَضَعَتْ لَہُ الرِّقابُ وَخَشَعَتْ لَہُ الْاَصْواتُ وَوَجِلَتْ لَہُ الْقُلُوبُ
معزز ذات ہے کہ جس کے آگے چہرے جھکتے ہیں اسکے سامنے گردنیں خم ہوتی ہیں اسکے حضور آوازیں کانپتی ہیں اور جسکے خوف
مِنْ مَخافَتِکَ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی بِہا تُمْسِکُ السَّمائَ ٲَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إلاَّ بِ إذْنِکَ
سے دلوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور سوال کرتا ہوں تیری اس قوت کے ذریعے جس سے تو نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روک
وَتُمْسِکُ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ ٲَنْ تَزُولا، وَبِمَشِیئَتِکَ الَّتِی دَانَ لَھَا الْعالَمُونَ،
رکھا ہے مگر جب تو اسے حکم دے اور اس آسمان اور زمین کو روکا ہوا ہے کہ کھسک نہ جائیں اور تیری اس مشیت کے ذریعے سوالی ہوں
وَبِکَلِمَتِکَ الَّتِی خَلَقْتَ بِھَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ، وَبِحِکْمَتِکَ الَّتِی
عالمین جس کے مطیع ہیںتیرے ان کلما ت کے واسطے سے سو الی ہوں جن سے تونے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیاتیری اس حکمت
صَنَعْتَ بِھَا الْعَجائِبَ، وَخَلَقْتَ بِھَا الظُّلْمَۃَ وَجَعَلْتَہا لَیْلاً، وَجَعَلْتَ اللَّیْلَ سَکَناً،
کے واسطے سے جس سے تونے عجائب کو بنایا اورجس سے تو نے تاریکی کو خلق کیا اور اسے رات قرار دیا اور اسے آرام کیلئے خاص کیا
وَخَلَقْتَ بِھَا النُّورَ وَجَعَلْتَہُ نَہاراً، وَجَعَلْتَ النَّہارَ نُشُوراً مُبْصِراً، وَخَلَقْتَ بِھَا
اور اپنی حکمت سے تونے روشنی پیدا کی اور اسے دن کا نام دیا اور دن کو جاگ اٹھنے اور دیکھنے کیلئے بنایا اور تو نے اس سے
الشَّمْسَ وَجَعلْتَ الشَّمْسَ ضِیائً، وَخَلَقْتَ بِھَا الْقَمَرَ وَجَعَلْتَ الْقَمَرَ نُوراً، وَخَلَقْتَ
سورج کو پیدا کیا اور سورج کو روشن کیا تونے اس سے چاند کو پیدا کیا اور چاند کو چمکدار بنایا اور تونے اس سے
بِھَا الْکَواکِبَ وَجَعلْتَہا نُجُوماً وَبُرُوجاً وَمَصابِیحَ وَزِینۃً وَرُجُوماً، وَجَعَلْتَ لَہا
ستاروں کو پیدا کیا انہیں فروزاں کیا ان کے برج بنائے اور انہیں چراغ بنایا اور زینت بنایا، سنگبار بنایا تو نے ان کیلئے
مَشارِقَ وَمَغارِبَ وَجَعَلْتَ لَہا مَطالِعَ وَمَجارِیَ وَجَعَلْتَ لَہا فَلَکاً وَمَسابِحَ وَقَدَّرْتَہا
مشرق اورمغرب بنائے تونے ان کے چمکنے اور چلنے کی راہیں بنائیں تونے ان کیلئے فلک اور سیر کی جگہ بنائی اور آسمان میں
فِی السَّمائِ مَنازِلَ فَٲَحْسَنْتَ تَقْدِیرَہا، وَصَوَّرْتَہا فَٲَحْسَنْتَ تَصْوِیرَہا وَٲَحْصَیْتَہا
ان کی منزلیں مقرر کیں پس تونے ان کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور تونے انہیں شکل عطا کی کیا ہی اچھی شکل دی اور
بِٲَسْمائِکَ إحْصائً وَدَبَّرْتَہا بِحِکْمَتِکَ تَدْبِیراً فَٲَحْسَنْتَ تَدْبِیرَہا وَسَخَّرْتَہا بِسُلْطانِ
انھیں اپنے ناموں کے ساتھ پوری طرح شمار کیا اور اپنی حکمت سے ان کا ایک نظام قائم کیا اور خوب تدبیر فرمائی اور رات کے عرصے
اللَّیْلِ وَسُلْطانِ النَّہارِ وَالسَّاعاتِ وَعَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسابِ، وَجَعَلْتَ رُؤْیَتَہا
اور دن کی مدت کیلئے مطیع بنایا اور ساعتوں اور سالوں کے حساب کا ذریعہ بنایا اور سب لوگوں کیلئے ان
لَجَمِیعِ النّاسِ مَرْیًَ واحِداً وَٲَسْٲَلُکَ اَللّٰھُمَّ بِمَجْدِکَ الَّذِی کَلَّمْتَ بِہِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ
کو دیکھنا یکساں کردیا اور سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ تیری اس بزرگی کے ذریعے جس سے تونے اپنے بندے اور رسول
مُوسَی بْنَ عِمْرانَ ں فِی الْمُقَدَّسِینَ، فَوْقَ إحْساسِ الْکَرُوبِیِّیْنَ، فَوْقَ
حضرت موسی - سے کلام فرمایا پاک لوگوں میں جو فرشتوں کی سمجھ سے بالا نور کے بادلوں سے بلند
غَمائِمِ النُّورِ، فَوْقَ تابُوتِ الشَّہادَۃِ، فِی عَمُودِ النَّارِ، وَفِی طُورِ سَیْنائَ، وَفِی جَبَلِ
تابوت شہادت سے اونچا جو آگ کے ستون میں طور سینا میں کوہ حوریث میں وادی مقدس میں
حُورِیثَ، فِی الْوادِی الْمُقَدَّسِ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبارَکَۃِ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ مِنَ
برکت والی زمین میں طور ایمن کی طرف ایک درخت سے جو سر زمین مصر میں پیدا ہوا سوال کرتا ہوں نو روشن معجزوں
الشَّجَرَ ۃِ وَفِی ٲَرْضِ مِصْرَ بِتِسْعِ آیاتٍ بَیِّناتٍ وَیَوْمَ فَرَقْتَ لِبَنِی إسْرائِیلَ الْبَحْرَ
کے واسطے سے اور اس دن کے واسطے سے کہ جس دن تونے بنی اسرا ئیل کیلئے دریا میں راستہ بنایا
وَفِی الْمُنْبَجِساتِ الَّتِی صَنَعْتَ بِھَا الْعَجائِبَ فِی بَحْرِ سُوفٍ، وَعَقَدْتَ مائَ
اور ان چشموں میں جو پتھر سے جاری ہوئے کہ جن کے ذریعے تونے عجیب معجزات کو دریائے سوف میں ظاہر کیا۔ اور تونے دریا کے
الْبَحْرِ فِی قَلْبِ الْغَمْرِ کَالْحِجارَۃِ، وَجاوَزْتَ بِبَنِی إسْرائِیلَ الْبَحْرَ ، وَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ
پانی کو بھنور کے درمیان پتھروں کی مانند جکڑ کے رکھ دیا اور تونے بنی اسرائیل کو دریا سے گذار دیا اور ان کے بارے میں تیرا بہترین
الْحُسْنی عَلَیْھِمْ بِما صَبَرُوا، وَٲَوْرَثْتَھُمْ مَشارِقَ الْاَرْضِ وَمَغارِبَھَا الَّتِی بارَکْتَ
وعدہ پورا ہوا جب انھوں نے صبر کیا اور تونے ان کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنایا جن میں تو نے عالمین
فِیہا لِلْعالَمِینَ، وَٲَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَھُ وَمَراکِبَہُ فِی الْیَمِّ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ
کیلئے برکتیں رکھی ہیں اور تو نے فرعون اور اسکے لشکر کو اور انکی سواریوں کو دریائے نیل میں غرق کر دیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے نام
الْاَعْظَمِ الْاَعَزِّ الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ، وَبِمَجْدِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِہِ لِمُوسی کَلِیمِکَ ں فِی
کے جو بلندترعزت والا روشن بزرگی والا ہے اور بواسطہ تیری شان کے جو تو نے اپنے کلیم موسی - کے لیے طور سینا
طُورِ سَیْنائَ وَ لاِِِبْراھِیمَ ں خَلِیلِکَ مِنْ قَبْلُ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ وَلاِِِسْحاقَ
میں ظاہر کی اور اس سے پہلے اپنے خلیل ابراہیم - کیلئے مسجد خیف میں اور اپنے برگزیدہ
صَفِیِّکَ ں فِی بِئْرِ شِیعٍ، وَ لِیَعْقُوبَ نَبِیِّکَ ں فِی بَیْتِ إیلٍ، وَٲَوْفَیْتَ لاِِِبْراھِیمَ
اسحاق - کیلئے چاہ شیع میں ظاہر کی اور اپنے محبوب یعقوب - کیلئے بیت ایل میں ظاہر کی اور تونے
ں بِمِیثاقِکَ، وَلاِِِسْحاقَ بِحَلْفِکَ، وَ لِیَعْقُوبَ بِشَہادَتِکَ، وَ لِلْمُؤْمِنِینَ بِوَعْدِکَ
ابراہیم - سے اپنا عہد و پیمان پورا کیا اور اسحاق - کیلئے اپنی قسم پوری کی اور یعقوب - کیلئے اپنی شہادت ظاہر کی اور مومنین سے اپنا
وَ لِلدَّاعِینَ بِٲَسْمائِکَ فَٲَجَبْتَ وَبِمَجْدِکَ الَّذِی ظَھَرَ لِمُوسَی بْنِ عِمْرانَ ںعَلی
وعدہ وفا کیا اور جنہوں نے تیرے ناموں کے ذریعے دعائیںکیں انہیں قبول کیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیری اس شان کے جو قبہئ
قُبَّۃِ الرُّمّانِ، وَبِآیاتِکَ الَّتِی وَقَعَتْ عَلی ٲَرْضِ مِصْرَ بِمَجْدِ الْعِزَّۃِ وَالْغَلَبَۃِ بِآیاتٍ
رمان پر موسی ابن عمران - کیلئے ظاہر ہوئی اور بواسطہ تیرے معجزوں کے جو ملک مصر میں تیری شان و عزت اور غلبہ سے
عَزِیزَۃٍ، وَبِسُلْطانِ الْقُوَّۃِ، وَبِعِزَّۃِ الْقُدْرَۃِ، وَبِشَٲْنِ الْکَلِمَۃِ التَّامَّۃِ، وَبِکَلِماتِکَ الَّتِی
عزت والی نشانیوں سے غالب قوت سے قدرت کی بلندی اور پورا ہونے والے قول کی شان سے رونما ہوئے اور تیرے ان کلمات
تَفَضَّلْتَ بِھا عَلی ٲَھْلِ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَٲَھْلِ الدُّنْیا وَٲَھْلِ الاَْخِرَۃِ وَبِرَحْمَتِکَ
سے جن کے ذریعے تو نے آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں اور اہل دنیا اور اہل آخرت پر احسان کیا اور سوالی ہوں تیری اس
الَّتِی مَنَنْتَ بِہا عَلی جَمِیعِ خَلْقِکَ، وَبِاسْتِطاعَتِکَ الَّتِی ٲَقَمْتَ بِہا عَلَی الْعالَمِینَ
رحمت کے ذریعے سے جس سے تو نے اپنی ساری مخلوق پر کرم کیا سوالی ہوں تیری اس توانائی کے واسطے سے جس سے تو نے اہل عالم
وَبِنُورِکَ الَّذِی قَدْ خَرَّ مِنْ فَزَعِہِ طُورُ سَیْنائَ وَبِعِلْمِکَ وَجَلالِکَ وَکِبْرِیائِکَ وَعِزَّتِکَ
کو قائم رکھاسوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نور کے جس کے خوف سے طو رسینا چکنا چور ہوا سوالی ہوں تیرے اس علم و جلالت اور تیری
وَجَبَرُوتِکَ الَّتِی لَمْ تَسْتَقِلَّھَا الْاَرْضُ، وَانْخَفَضَتْ لَھَا السَّماواتُ، وَانْزَجَرَ لَھَا
بڑائی و عزت اور تیرے جبروت کے واسطے سے جس کو زمین برداشت نہ کر سکی اور آسمان عاجز ہو گئے اور اس سے زمین کی گہرائیاں
الْعُمْقُ الْاَکْبَرُ، وَرَکَدَتْ لَھَا الْبِحارُ وَالْاَ نْہارُ، وَخَضَعَتْ لَھَا الْجِبالُ، وَسَکَنَتْ لَھَا
کپکپا گئیں جسکے آگے سمندر اور نہریں رک گئیں پہاڑ اس کیلئے جھک گئے اور زمین اس کیلئے اپنے
الْاَرْضُ بِمَناکِبِہا، وَاسْتَسْلَمَتْ لَھَا الْخَلائِقُ کُلُّھا، وَخَفَقَتْ لَھَا الرِّیاحُ فِی
ستونوں پر ٹھہر گئی اور اسکے سامنے ساری مخلوق سرنگوں ہو گئی اپنی رئووں پر چلتی ہوائیں اسکے سامنے
جَرَیانِہا وَخَمَدَتْ لَھَا النِّیرانُ فِی ٲَوْطانِہا، وَبِسُلْطانِکَ الَّذِی عُرِفَتْ لَکَ بِہِ الْغَلَبَۃُ
پریشان ہوگئیں اس کیلئے آگ اپنے مقام پر بجھ گئی سوالی ہوں بواسطہ تیری اس حکومت کے جسکے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ تیرے غلبے کی
دَھْرَ الدُّھُورِ، وَحُمِدْتَ بِہِ فِی السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ وَبِکَلِمَتِکَ کَلِمَۃِ الصِّدْقِ الَّتِی
پہچان ہوتی ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس سے تیری حمد ہوتی ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس سچے قول کے جو تو نے
سَبَقَتْ لاََِبِینا آدَمَ ں وَذُرِّیَّتِہِ بِالرَّحْمَۃِ، وَٲَسْٲَلُکَ بِکَلِمَتِکَ الَّتِی غَلَبَتْ کُلَّ شَیْئٍ،
ہمارے باپ آدم - اور ان کی اولاد کیلئے رحمت کے ساتھ فرمایا ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس کلمہ کے جو تمام چیزوں پر غالب ہے
وَبِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِہِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَہُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً وَبِمَجْدِکَ
سوالی ہوںبواسطہ تیری ذات کے اس نور کے جس کا جلوہ تونے پہاڑ پر ظاہر کیا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسی(ع) بے ہوش
الَّذِی ظَھَرَ عَلی طُورِ سَیْنائَ فَکَلَّمْتَ بِہِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ،
ہو کر گرپڑے سوالی ہوں بواسطہ تیری اس بزرگی کے جو طور سینا پر ظاہر ہوئی تو، تو اپنے بندے اور اپنے رسول موسی (ع) بن عمران سے ہم
وَبِطَلْعَتِکَ فِی ساعِیرَ، وَظُھُورِکَ فِی جَبَلِ فارانَ، بِرَبَواتِ الْمُقَدَّسِینَ وَجُنُودِ
کلام ہوا سوالی ہوں تیری نورانیت کے ذریعے جناب عیسیٰ کی مناجات کی جگہ میں اور تیرے نور کے ظہور کے ذریعے کوہ فاران میں
الْمَلائِکَۃِ الصَّافِّینَ، وَخُشُوعِ الْمَلائِکَۃِ الْمُسَبِّحِینَ، وَبِبَرَکاتِکَ الَّتِی بارَکْتَ فِیہا
بلند و مقدس مقامات میں صفیں باندھے ہوئے ملائکہ کی فوج کے ذریعے اور تسبیح خواں ملا ئکہ کے خشوع کے ذریعے سوال کرتا ہوں
عَلی إبْراھِیمَ خَلِیلِکَ ں فِی ٲُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَبارَکْتَ لاِِِسْحاقَ
بواسطہ تیری ان برکات کے ذریعے جن سے تو نے برکت عطا کی اپنے خلیل ابراہیم - کو حضرت محمد ö کی امت میں برکت دی اور
صَفِیِّکَ فِی ٲُمَّۃِ عِیسی عَلَیْھِمَا اَلسَّلاَمُ، وَبارَکْتَ لِیَعْقُوبَ إسْرائِیلِکَ فِی ٲُمَّۃِ
اپنے برگزیدہ اسحاق - کو حضرت عیسیٰ - کی امت میں برکت دی اور برکت دی تونے اپنے خاص بندے یعقوب - کو حضرت موسی -
مُوسی عَلَیْھِمَا اَلسَّلاَمُ ، وَبارَکْتَ لِحَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ فِی عِتْرَتِہِ
کی امت میں اور برکت دی تو نے اپنے حبیب حضرت محمد ö کو ان کی عترت،
وَذُرِّیَّتِہِ وَٲُمَّتِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ وَکَما غِبْنا عَنْ ذلِکَ وَلَمْ نَشْھَدْھُ، وَآمَنَّا بِہِ وَلَمْ نَرَھُ، صِدْقاً
ذریت اور انکی امت میں خدایا جیسا کہ ہم ان کے عہد میں موجود نہ تھے اور ہم نے انہیں دیکھا نہیں اور ان پر سچائی اور حقانیت کے
وَعَدْلاً، ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تُبارِکَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،
ساتھ اور درستی سے ایمان لائے ہم چاہتے ہیں کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور محمد(ص) وآل محمد(ص) پر
وَتَرَحَّم عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَٲَفْضَلِ ما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلی
برکت نازل فرما اور محمد(ص) و آل محمد(ص) پر شفقت فرما جس طرح تو نے بہترین رحمت اور برکت اور شفقت ابرہیم
إبْراھِیمَ وَآلِ إبْراھِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ فَعَّالٌ لِما تُرِیدُ وَٲَ نْتَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
و آل ابراہیم پر فرمائی تھی بے شک تو حمد اور شان والا ہے جو چاہے سو کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔
اب اپنی حاجت بیان کریں اور کہیں:
اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ہذَا الدُّعائِ وَبِحَقِّ ھَذِھِ الْاَسْمائِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُ تَفْسِیرَہا وَلاَ یَعْلَمُ باطِنَہا
اے معبود! اس دعا کے واسطے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر تیرے سوا کوئی نہیں جانتا اور جن کی حقیقت سے سوائے
غَیْرُکَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی ما ٲَنْتَ ٲَھْلُہُ وَلاَ تَفْعَلْ بِی ما ٲَنَا ٲَھْلُہُ
تیرے کوئی آگاہ نہیں تو محمد (ص)و آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں مستحق ہوں
وَاغْفِرْ لِی مِنْ ذُ نُوبِی ما تَقَدَّمَ مِنْہا وَما تَٲَخَّرَ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ
اور میرے گناہوں میں سے جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں ،بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھے
وَاکْفِنِی مَؤُونَۃَ إنْسانِ سَوْئٍ وَجارِ سَوْئٍ وَقَرِینِ سَوْئٍ وَسُلْطانِ سَوْئٍ إنَّکَ عَلی ما
برے انسان برے ہمسائے برے ساتھی اور برے حاکم کی اذیت سے بچائے رکھ بے شک تو جو
تَشائُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔
چاہے وہ کرنے پر قادر ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے آمین یارب العالمین ۔
مولف کہتے ہیں کہ بعض نسخوں میں یوں آیا ہے:اسکے بعد جو حاجت ہو اسکا ذکر کریں اور کہیں:
وَ اَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر
اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
یَا اﷲُ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
اے اللہ اے محبت کرنے والے اے احسان کرنے والے اے آسمان اور زمین کے ایجاد کرنے وا لے اے جلالت اور بزرگی والے
یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ہذَا الدُّعائِ ۔دعا کے آخر تک
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود اس دعا کے واسطے
اور علامہ مجلسی(رح) نے مصباحِ سید بن باقی(رح) سے نقل کیا ہے کہ دعائے سمات کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ھذَا الدُّعائِ وَبِحَقِّ ھَذِھِ الْاَسْمائِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُ تَفْسِیرَہا وَلاَ تَٲْوِیلَہا وَلاَ
اے معبود اس دعا کے واسطے سے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر اور تاویل اور جن کے باطن
باطِنَہا وَلاَ ظاھِرَہا غَیْرُکَ، ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تَرْزُقَنِی خَیْرَ
و ظاہر کو سوائے تیرے کوئی نہیں جانتا تو محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھے دنیا اور آخرت کی
الدُّنْیا وَالاَْخِرَۃِ ۔اب حاجت طلب کریں اور کہیں: وَافْعَلْ بِی ما ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ، وَلاَ تَفْعَلْ بِی
بھلائی عطا فرما دے اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں
ما ٲَنَا ٲَھْلُہُ وَانْتَقِمْ لِی مِنْ فُلانِ بْنِ فُلان فلاں بن فلاں کی جگہ اپنے دشمن کا نام لیںاور کہیں:
مستحق ہوں اور میری طرف سے فلاں بن فلاں سے بدلہ لے۔
وَاغْفِرْلِی مِنْ ذُ نُوبِی مَا تَقَدَّمَ مِنْہا وَمَا تَٲَخَّرَ وَ لِوالِدَیَّ وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ
اور میرے گذشتہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف فرما اور میرے ماں باپ اور سارے مومنین اور مومنات کے
وَالْمُؤْمِناتِ وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ، وَاکْفِنِی مَؤُونَۃَ إنْسانِ سَوْئٍ، وَجارِ
گناہ بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھ کو برے انسان برے
سَوْئٍ، وَسُلْطانِ سَوْئٍ، وَقَرِینِ سَوْئٍ، وَیَوْمِ سَوْئٍ، وَساعَۃِ سَوْئٍ، وَانْتَقِمْ لِی مِمَّنْ
ہمسائے برے حاکم برے ساتھی برے دن برے وقت کی اذیت سے بچائے رکھ اور میری طرف سے بدلہ لے اس سے جس نے
یَکِیدُنِی، وَمِمَّنْ یَبْغِی عَلَیَّ، وَیُرِیدُ بِی وَبِٲَھْلِی وَٲَوْلادِی وَ إخْوانِی وَجِیرانِی
مجھے دھوکہ دیا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اور جو ظلم کا ارادہ رکھتا ہے میرے اہل میری اولاد میرے بھائیوں
وَقَراباتِی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ ظُلْماً إنَّکَ عَلی ما تَشَائُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْئٍ
اور میرے ہمسایوں کیلیے جو مومنین اور مومنات میں سے ہیں اس سے انتقام لے بے شک تو جو کچھ چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے
عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ پھر کہیں: اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ہذَا الدُّعائِ تَفَضَّلْ عَلی فُقَرائِ
اور ہر چیز سے واقف ہے آمین اے رب العالمین اے معبود اس دعا کے واسطے سے غریب مومنین اور
الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْغِنی وَالثَّرْوَۃِ وَعَلی مَرْضَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالشِّفائِ
مومنات کو مال و متاع عطا فرما بیمار مومنین اور مومنات کو تندرستی اور صحت
وَالصِّحَّۃِ، وَعَلی ٲَحْیائِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللُّطْفِ وَالْکَرامَۃِ، وَعَلی ٲَمْواتِ
عطا فرما اور زندہ مومنین اور مومنات پر لطف و کرم فرما اور مردہ
الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ، وَعَلی مُسافِرِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
مومنین اور مومنات پر بخشش و رحمت فرما اور مسافر مومنین اور مومنات کو
بِالرَّدِّ إلی ٲَوْطانِھِمْ سالمِینَ غانِمِینَ ، بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی اﷲُ
سلامتی و رزق کے ساتھ گھروں میں واپس لا اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور ہمارے سردار نبیوں کے
عَلی سَیِّدنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعِتْرَتِہِ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً
خاتم حضرت محمد(ص) پر رحمت خدا ہو اور ان کی پاکیزہ اولاد پر اور سلام ہو بہت زیادہ سلام ۔
شیخ ابن فہد نے فرمایا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ دعائے سمات کے بعد کہیں:
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِحُرْمَۃِ ہذَا الدُّعائِ، وَبِما فاتَ مِنْہُ مِنَ الْاَسْمائِ، وَبِما یَشْتَمِلُ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں بوا سطہ اس دعا کی حرمت کے اور ان ناموں کے ذریعے جو اس میں مذکور نہیںاور اس تفسیر و
عَلَیْہِ مِنَ التَّفْسِیرِ وَالتَّدْبِیرِ، الَّذِی لاَ یُحِیطُ بِہِ إلاَّ ٲَ نْتَ ، ٲَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکذا،
تدبیر کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کا سوائے تیرے کوئی احاطہ نہیں کر سکتا کہ تو میرے لیے ایسا اور ایسا کر۔
کذا و کذا کی جگہ پر اپنی حاجات طلب کرے




۸
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) دعا ئے مشلول اس دعا کا ایک اور نام بھی ہے یعنی دعا الشاب الماخوذ بذنبہیہ وہ دعا جو ایک نوجوان نے اپنے گنا ہوں کی سزا میں گرفتار ہونے کے بعد پڑھی۔مہج الد عو ات اور کتابِ کفعمی میں مذکو ر ہے یہ وہ دعا ہے جو امیر المو منین- نے اس نوجوان کو تعلیم فرمائی جو اپنے والدین کی نافرمانی کرنے کے با عث شل ہوگیا تھا جب اس نے یہ دعا پڑھی تو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ (ص) نے اپنا د ست شفقت اسکے بدن پر پھیرا اور فرما یا کہ اس اسم اعظم کو حفظ کر لے کہ یقینا تیرا کا م بن جا ئے گا ۔اب جو اسکی آنکھ کھلی تو کیا د یکھتا ہے کہ اسکا نا کا رہ جسم درست ہو گیا ہے وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، یَا ذَا الْجَلالِ
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے اے صاحب
وَالاِِکْرامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا حَیُّ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ، یَا ھُوَ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ ما ھُوَ وَلاَ
جلالت و بزرگی اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے وہ کہ جسے کوئی نہیںجانتا کہ وہ کیا ہے اور کیسا
کَیْفَ ھُوَ وَلاَ ٲَیْنَ ھُوَ وَلاَ حَیْثُ ھُوَ إلاَّ ھُوَ، یَا ذَا الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ، یَا ذَا الْعِزَّۃِ
ہے ،وہ کہاں ہے ،وہ کیوںکر ہے ہاں وہ خود ہی جانتا ہے۔ اے صاحب ملک و ملکوت اے صاحب عزت و اقتدار، اے بادشاہ،
وَالْجَبَرُوتِ یا مَلِکُ یَا قُدُّوسُ یَا سَلامُ یَا مُؤْمِنُ یَا مُھَیْمِنُ یَا عَزِیزُ یَا جَبّارُ
اے پاک، اے سلا متی والے، اے امن دینے وا لے، اے پاسبان، اے عزت والے، اے زبردست ،اے بڑائی والے،
یَا مُتَکَبِّرُ یَا خالِقُ یَا بارِیَُ یَا مُصَوِّرُ، یَا مُفِیدُ یَا مُدَبِّرُ، یَا شَدِیدُ
اے پیدا کرنے والے، اے وجود دینے والے، اے صورت بنانے والے ،اے فائدہ دینے والے، اے تدبیر والے، اے محکم کار
یَا مُبْدِیَُ، یَا مُعِیدُ یَا مُبِیدُ یَا وَدُودُ یَا مَحْمُودُ یَا مَعْبُودُ
اے صاحب ایجاد، اے مرجع خلق، اے ظالم کوختم کرنے والے، اے محبت والے، اے نیک صفات والے، اے معبود
یَا بَعِیدُ یَا قَرِیبُ یَا مُجِیبُ، یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ، یَا بَدِیعُ یَا رَفِیعُ
اے بعید، اے قریب، اے دعا قبول کرنے والے، اے نگہبان ،اے حساب کرنے والے ،اے ایجاد کرنے والے، اے بلند مرتبہ
یَا مَنِیعُ یَا سَمِیعُ، یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ یَا حَکِیمُ یَا قَدِیمُ، یَا عَلِیُّ
اے عالی مقام، اے سننے والے، اے علم والے، اے حلم والے، اے مہربان، اے حکمت والے ،اے وجود قدیم، اے عالی شان
یَا عَظِیمُ، یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ یَا مُسْتَعانُ
اے بزرگی والے، اے محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے، اے حسا ب کرنے والے، اے جز ادینے والے، اے مدد کرنے
یَا جَلِیلُ یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ یَا کَفِیلُ، یَا مُقِیلُ یَا مُنِیلُ
والے، اے جلالت والے، اے صا حب جما ل، اے کارساز، اے سرپرست ،اے معاف کرنے والے ،اے پہنچانے والے
یَا نَبِیلُ یَا دَلِیلُ یَا ہادِی یَا بادِی یَا ٲَوَّلُ یَا آخِرُ، یَا ظاھِرُ یَا باطِنُ، یَا قائِمُ یَا دائِمُ
اے باعظمت ،اے رہنما ،اے رہبر، اے ابتدائ کرنے والے ،اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے باطن ،اے استوار ،اے ہمیشہ رہنے
یَا عالِمُ یَا حاکِمُ، یَا قاضِی یَا عادِلُ، یَا فاصِلُ یَا واصِلُ، یَا طاھِرُ
والے، اے علم والے، اے صاحب حکم، اے منصف ،اے عدل کرنے والے، اے سب سے جدا، اے سب سے ملے ہو ئے، اے پاک ،
یَا مُطَہِّرُ، یَا قادِرُ یَا مُقْتَدِرُ، یَا کَبِیرُ یَا مُتَکَبِّرُ، یَا واحِدُ یَا ٲَحَدُ یَا صَمَدُ، یَا مَنْ لَمْ
اے پاک کرنے والے، اے قدرت والے، اے اقتدار والے، اے بزرگ، اے بزرگی والے، اے یگانہ، اے یکتا ،اے بے نیاز، اے وہ
یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ صاحِبَۃٌ وَلاَ کانَ مَعَہُ وَزِیرٌ وَلاَ
جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا ہے اور جسکا کوئی ہمسر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کیلئے کوئی وزیر ہے اور نہ اس نے
اتَّخَذَ مَعَہُ مُشِیراً وَلاَ احْتاجَ إلی ظَھِیرٍ وَلاَ کانَ مَعَہُ مِنْ إلہٍ غَیْرُھُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ
اپنا کوئی مشیر بنایا ہے نہ وہ کسی مددگار کی حاجت رکھتا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں
فَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوّاً کَبِیراً، یَا عَلِیُّ یَا شامِخُ یَا باذِخُ یَا فَتَّاحُ
پس تو اس سے بہت زیادہ بلند ہے جو یہ ظالم کہا کرتے ہیں۔اے عالی شان اے بلند مرتبہ والے اے عالی مرتبہ اے کھولنے والے
یَا نَفَّاحُ یَا مُرْتاحُ، یَا مُفَرِّجُ یَا ناصِرُ یَا مُنْتَصِرُ یَا مُدْرِکُ یَا
اے بخشنے والے اے ہوا کو چلانے والے اے راحت دینے والے اے مدد کرنے والے اے مدد دینے والے اے پہنچنے والے اے
مُھْلِکُ یَا مُنْتَقِمُ یَا باعِثُ یَا وارِثُ، یَا طالِبُ یَا غالِبُ، یَا مَنْ لاَ یَفُوتُہُ ہارِبٌ، یَا تَوَّابُ
ہلاک کرنے والے اے بدلہ لینے والے اے اٹھانے والے اے وارث اے طالب اے غالب اے وہ جس سے بھاگنے والا بھاگ
یَا ٲَوَّابُ یَا وَہَّابُ یَا مُسَبِّبَ الْاَسْبابِ یَا مُفَتِّحَ الْاَ بْوابِ،
نہیں سکتا اے توبہ قبول کرنے والے اے پلٹنے والے اے بہت دینے والے اے اسباب مہیاکرنے والے اے دروازوں کے
یَا مَنْ حَیْثُ ما دُعِیَ ٲَجابَ یَا طَھُورُ یَا شَکُورُ یَا عَفُوُّ
کھولنے والے اے وہ کہ جسے پکارا جا ئے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اے بہت پاکیزہ اے بہت شکر کرنے والے اے معاف کرنے والے
یَا غَفُورُ، یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُدَبِّرَ الاَُْمُورِ، یَا لَطِیفُ یَا خَبِیرُ، یَا مُجِیرُ یَا
اے بخشنے والے اے نورکے پیدا کرنے والے اے امورکی تدبیرکرنے والے اے مہربان اے خبردار اے پناہ دینے والے اے
مُنِیرُ، یَا بَصِیرُ یَا ظَھِیرُ یَا کَبِیرُ، یَا وِتْرُ یَا فَرْدُ، یَا ٲَبَدُ یَا سَنَدُ یَا صَمَدُ،
روشن کرنے والے اے بینا اے مددگاراے سب سے بڑے اے بزرگ اے یکتا اے تنہا اے ہمیشگی والے اے نگہبا ن اے بے نیاز
یَا کافِی یَا شافِی، یَا وافِی یَا مُعافِی، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ، یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ،
اے کافی اے شفا د ینے والے اے وفا کرنے والے اے معا ف کرنے و الے اے احسا ن کرنے والے اے نیکوکار اے نعمت دینے
یَا مُتَکَرِّمُ یَا مُتَفَرِّدُ، یَا مَنْ عَلا فَقَھَرَ، یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ،
والے اے بزرگواراے بڑے مرتبے والے اے یگانگی والے اے وہ جو بلندی کیساتھ غالب ہے اے وہ جو مالک ہے پھر قادر ہے
یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا مَنْ لاَ تَحْوِیہِ الْفِکَرُ،
اے وہ جو نہاں ہے اور باخبر ہے اے وہ جو معبود ہے تو بدلہ دیتا ہے اے جو نافرمانی پر بخشتا ہے اے وہ جو فکر میں سما نہیں سکتا اور نگاہ
وَلاَ یُدْرِکُہُ بَصَرٌ، وَلاَ یَخْفی عَلَیْہِ ٲَثَرٌ، یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ،
اسے دیکھ نہیں پاتی اور کوئی نشان اس سے پوشیدہ نہیں ہے اے انسانوں کو رزق دینے والے اے ہر اندازہ کے مقرر کرنے والے
یَا عالِیَ الْمَکانِ یَا شَدِیدَ الْاَرْکانِ یَا مُبَدِّلَ الزَّمانِ یَا قابِلَ الْقُرْبانِ یَا ذَا الْمَنِّ
اے بلند مرتبہ اے محکم وسائل والے اے زمانے کو بدلنے والے اے قربانی قبول کرنے والے اے صاحب نعمت و احسان
وَالاِحْسانِ یَا ذَا الْعِزَّۃِ وَالسُّلْطانِ یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَٲْنٍ
اے صاحب عزت اور ابدی حکومت والے اے رحیم اے رحمن اے وہ کہ ہر روز جسکی نئی شان ہے اے وہ
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ شَٲْنٌ عَنْ شَٲْنٍ، یَا عَظِیمَ الشَّٲْنِ یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ مَکانٍ، یَا سامِعَ
جسے ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا اے بڑے مقام والے اے وہ جو ہر جگہ موجود ہے اے آوازوں کے
الْاَصْواتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ یَا مُنْجِحَ الطَّلِباتِ یَا قاضِیَ الْحاجاتِ یَا مُنْزِلَ
سننے والے اے دعا ئیں قبول کرنے والے اے مرادیں برلانے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے برکتیں نازل کرنے
الْبَرَکاتِ یَا راحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ الْعَثَراتِ یَا کاشِفَ الْکُرُباتِ یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ
والے اے آنسوئوں پر رحم کھانے والے اے گناہوں کے معاف کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے نیکیوں کو پسند کرنے
یَا رافِعَ الدَّرَجاتِ یَا مُؤْتِیَ السُّؤْلاتِ یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ یَا جامِعَ الشَّتاتِ یَا مُطَّلِعاً
والے اے مرتبے بلند کرنے والے اے مرادیں پوری کرنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے بکھروں کو اکٹھا کرنے
عَلَی النِّیَّاتِ، یَا رادَّ ما قَدْ فاتَ یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ الْاَصْواتُ، یَا مَنْ لاَ تُضْجِرُھُ
والے اے نیتوں کی خبر رکھنے والے اے کھوئی ہوئی چیزیں لوٹانے والے اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں اے وہ جسے
الْمَسْٲَلاتُ وَلاَ تَغْشاھُ الظُّلُماتُ یَا نُورَ الْاَرْضِ وَالسَّماواتِ یَا سابِغَ النِّعَمِ یَا دافِعَ
کثرت سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور تاریکیاں اسے گھیرتی نہیں ہیں اے آسمانوں اور زمین کی روشنی اے نعمتوں کے پورا کرنے
النِّقَمِ، یَا بارِیَٔ النَّسَمِ، یَا جامِعَ الاَُْمَمِ، یَا شافِیَ السَّقَمِ
والے اے بلائیں ٹالنے والے اے جانداروں کو پیدا کرنے والے اے امتوںکو جمع کرنے والے اے بیماروں کو شفا دینے والے
یَا خالِقَ النُّورِ وَالظُّلَمِ یَا ذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ یَا مَنْ لاَ یَطَٲُ عَرْشَہُ قَدَمٌ، یَا ٲَجْوَدَ
اے روشنی اور تاریکی کے پیدا کرنے والے اے صاحب جودو کرم اے وہ جس کے عرش پر کسی کا قدم نہیں آیا اے سخیوں میںسے
الْاَجْوَدِینَ، یَا ٲَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا ٲَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا ٲَبْصَرَ النَّاظِرِینَ،
سب سے بڑے سخی اے بزرگی والوں سے زیادد بزرگ اے سننے والوں میں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں سے زیادہ
یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، یَا ٲَمانَ الْخائِفِینَ، یَا ظَھْرَ اللاَّجِینَ یَا وَ لِیَّ الْمُؤْمِنِینَ
دیکھنے والے اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ اے ڈرے ہوئوں کی جائے امن اے پناہ چاہنے والوں کی جائے پناہ اے مومنوں کے
یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا غایَۃَ الطَّالِبِینَ، یَا صاحِبَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْنِسَ کُلِّ
سرپرست اے فریادیوں کے فریاد رس اے طلبگاروں کی امید اے ہر سفر کرنے والے کے ساتھی اے ہر اکیلے کے ہم نشیں
وَحِیدٍ، یَا مَلْجَٲَ کُلِّ طَرِیدٍ، یَا مَٲْوی کُلِّ شَرِیدٍ، یَا حافِظَ کُلِّ ضَّالَّۃٍ، یَا راحِمَ
اے ہر نکالے گئے کی جائے پناہ اے بے ٹھکانوں کی قرارگاہ اے گمشدہ کے نگہبان اے بڑے بوڑھے پر رحم
الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا فَاکَّ کُلِّ ٲَسِیرٍ
کرنے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے اے ہر قیدی کو رہائی دینے والے اے بے چارے
یَا مُغْنِیَ الْبَائِسِ الْفَقِیرِ، یَا عِصْمَۃَ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لَہُ التَّدْبِیرُ وَالتَّقْدِیرُ
مفلس کو غنی بنانے والے اے خائف پناہ گزین کی جائے قرار اے تدبیر اور تقدیر کے مالک
یَا مَنِ الْعَسِیرُ عَلَیْہِ سَھْلٌ یَسِیرٌ یَا مَنْ لاَ یَحْتاجُ إلی تَفْسِیرٍ یَا مَنْ ھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
اے وہ جس کے لیے ہر مشکل کام آسان اور ہلکا ہے اے وہ جو تفسیر کا محتاج نہیں اے وہ جو ہر چیز پر قدرت
قدِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ خَبِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ بَصِیرٌ، یَا مُرْسِلَ الرِّیاحِ،
رکھتا ہے اے وہ جو ہر چیز سے واقف ہے اے وہ جو ہر چیز کو دیکھتا ہے اے ہوائوں کو چلانے والے
یَا فَالِقَ الْاِصْباحِ یَا بَاعِثَ الْاَرْواحِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّماحِ، یَا مَنْ بِیَدِھِ کُلُّ مِفْتاحٍ،
اے صبح کی پو کھولنے والے اے روحوں کو بھیجنے والے اے عطا و سخاوت والے اے وہ جس کے ہاتھ میںساری کنجیاں ہیں
یَا سَامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، یَا سَابِقَ کُلِّ فَوْتٍ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ نَفْسٍ بَعْدَ الْمَوْتِ ، یَا عُدَّتِی
اے ہر آواز کے سننے وا لے اے ہر گزرے ہوئے سے پہلے اے ہر نفس کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے والے اے سختیوں میں
فِی شِدَّتِی، یَا حافِظِی فِی غُرْبَتِی، یَا مُؤْنِسِی فِی وَحْدَتِی، یَا وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی
میری پناہ اے سفر میں میرے محافظ اے میری تنہائی کے ہمدم اے میری نعمتوںکے مالک
یَا کَھْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذٰاھِبُ وَتُسَلِّمُنِی الْاَقارِبُ وَیَخْذُلُنِی کُلُّ صَاحِبٍ یَا عِمَادَ
اے میری پناہ جب مجھ پر راہیں بند ہوجائیں اور رشتہ دار مجھے دور کر دیں اور احباب مجھے چھوڑ جائیں اے اسکے سہارے جسکا
مَنْ لاَ عِمادَ لَہُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَہُ یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ
کوئی سہارا نہیں اے اسکی سند جسکی کوئی سند نہیں اے اسکے ذخیرے جسکا کوئی ذخیرہ نہیں
یَا کَھْفَ مَنْ لاَ کَھْفَ لَہُ، یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَہُ، یَا رُکْنَ
اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکی اما ن جسکی کوئی امان نہیں اے اسکے خزانے جسکا کوئی خز انہ نہیں
مَنْ لاَ رُکْنَ لَہُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ، یَا جَارَ مَنْ لاَ جَارَ لَہُ، یَا جَارِیَ اللَّصِیقَ
اے اسکے پشت پناہ جسکا کوئی پشت پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے ہمسائے جسکا کوئی
یَا رُکْنِیَ الْوَثِیقَ، یَا إلھِی بِالتَّحْقِیقِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیقِ، یَا شَفِیقُ یا رَفِیقُ،
ہمسایہ نہیں جو نزدیک تر ہے اے میرا مضبوط ترین سہارہ اے میرے حقیقی معبود اے خانہ کعبہ کے پروردگار اے مہربان اے دوست
فُکَّنِی مِنْ حَلَقِ الْمَضِیقِ، وَاصْرِفْ عَنِّی کُلَّ ھَمٍّ وَغَمٍّ وَضِیقٍ، وَاکْفِنِی شَرَّ مَا لاَ
مجھے تنگ گھیرے سے آزاد کر مجھ سے ہر غم و اندیشہ اور تنگی دور فرما دے مجھے اس شر سے بچا جو میری طاقت
ٲُطِیقُ، وَٲَعِنِّی عَلَی ما ٲُطِیقُ، یَا رَادَّ یُوسُفَ عَلَی یَعْقُوبَ، یَا کاشِفَ ضُرِّ ٲَیُّوبَ،
سے زیادہ ہے اور اس میں مدد دے جو میں سہہ سکتا ہوں اے وہ جس نے یعقوب (ع)کو یوسف(ع) واپس دلایا اے ایو ب (ع)کا دکھ دور کرنے
یَا غافِرَ ذَ نْبِ داوُدَ، یَا رافِعَ عِیسَی بْنِ مَرْیَمَ وَمُنْجِیَہُ مِنْ ٲَیْدِی الْیَھُودِ، یَا مُجِیبَ
والے اے دائود(ع) کی خطا معاف کرنے والے اے عیسی (ع)بن مریم کو آسمان پر اٹھانے والے۔ اور انہیں یہودیوں کے چنگل سے
نِدائِ یُونُسَ فِی الظُّلُماتِ یَا مُصْطَفِیَ مُوسی بِالْکَلِماتِ، یَا مَنْ غَفَرَ لاَِدَمَ خَطِیئَتَہُ
چھڑانے والے اے تاریکیوں میں یونس(ع) کی فریاد کو پہنچنے والے اے موسیٰ(ع) کو اپنے کلام کیلئے منتخب کرنے والے اے آدم(ع)
وَرَفَعَ إدْرِیسَ مَکَاناً عَلِیّاً بِرَحْمَتِہِ، یَا مَنْ نَجَّی نُوحاً مِنَ الْغَرَقِ، یَا مَنْ ٲَھْلَکَ عاداً
کے ترک اولی کو معاف کرنے والے اور ادریس (ع)کو اپنی رحمت سے بلند مقام پر لے جانے والے اے نوح (ع) کو ڈوبنے سے بچانے
الاَُْولی وَثَمُودَ فَما ٲَبْقَی وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ إنَّھُمْ کَانُوا ھُمْ ٲَظْلَمَ وَٲَطْغَی
والے اے وہ جس نے عاد اولی اور ثمود کوہلا ک کیا پس کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح (ع)کو ہلاک کیا جو بڑے ظالم سرکش اور
وَالْمُؤْتَفِکَۃَ ٲَھْوَی، یَا مَنْ دَمَّرَ عَلی قَوْمِ لُوطٍ، وَدَمْدَمَ عَلی قَوْمِ شُعَیْبٍ، یَا مَنِ
دین میں افترا کرنے والے تھے اے وہ جس نے قوم لوط کی بستیوں کو الٹ دیا اور قوم شعیب پر عذاب بھیجا تھا اے وہ جس
اتَّخَذَ إبْراھِیمَ خَلِیلاً یَا مَنِ اتَّخَذَ مُوسی کَلِیماً وَاتَّخَذَ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ
نے ابراہیم(ع) کو اپنا خلیل بنایا اے وہ جس نے موسی(ع) کو اپنا کلیم بنایا اور محمد
وَعَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ حَبِیباً، یَا مُؤْتِیَ لُقْمانَ الْحِکْمَۃَ، وَالْواھِبَ
کو اپنا حبیب قرار دیا کہ خدا کی رحمت ہو ان پر انکی آل (ع) پر اور ان سب ہستیوں پر جنکا ذکر ہو ا ہے اے لقما ن (ع)کو حکمت عطاکرنے والے
لِسُلَیْمانَ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لاََِحَدٍ مِنْ بَعْدِھِ، یَا مَنْ نَصَرَ ذَا الْقَرْنَیْنِ عَلَی الْمُلُوکِ
اور سلیما ن (ع)کو ایسی سلطنت د ینے و الے کہ جیسی سلطنت انکے بعد کسی کو نہیں ملی اے وہ جس نے جا بر بادشا ہوں کے خلاف ذوالقرنین
الْجَبابِرَ ۃِ یَا مَنْ ٲَعْطَی الْخِضْرَ الْحَیاۃَ وَرَدَّ لِیُوشَعَ بْنِ نُونٍ الشَّمْسَ بَعْدَ غُرُوبِہا
(ع)کی مدد فرمائی اے وہ جس نے خضر (ع)کو دا ئمی زندگی دی اور یوشع (ع)بن نون کی خاطر آفتاب کو پلٹایاجب کہ وہ غروب ہو چکا تھا اے وہ جس
یَا مَنْ رَبَطَ عَلی قَلْبِ ٲُمِّ مُوسی، وَٲَحْصَنَ فَرْجَ مَرْیَمَ ابْنَۃِ عِمْرانَ، یا مَنْ حَصَّنَ
نے مادر موسی(ع) کے دل کو سکون دیا اور مریم بنت عمران(ع) کو پاکدامنی سے سرفراز فرمایا اے وہ جس نے
یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا مِنَ الذَّنْبِ وَسَکَّنَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبَ یَا مَنْ بَشَّرَ زَکَرِیَّا بِیَحْیی
یحییٰ(ع) بن زکریا(ع)کو گناہ سے محفوظ رکھا اور موسی (ع)سے غضب کو دور فرمایااے وہ جس نے زکریا(ع) کو یحیی(ع) کی بشارت دی
یَا مَنْ فَدا إسْماعِیلَ مِنَ الذَّبْحِ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ یَا مَنْ قَبِلَ قُرْبانَ ہابِیلَ وَجَعَلَ اللَّعْنَۃَ
اے وہ جس نے اسما عیل(ع) کے ذبح ہونے کو ذبح عظیم میں بدلااے وہ جس نے ہا بیل(ع) کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل پر لعنت مسلط کر
عَلی قابِیلَ، یَا ہازِمَ الْاَحْزابِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
دی اے حضرت محمد کی خاطر کفار کے جتھو ں کو شکست دینے والے محمد(ص) و آل محمد(ص) پر
مُحَمَّدٍ وَعَلی جَمِیعِ الْمُرْسَلِینَ وَمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَٲَھْلِ طَاعَتِکَ ٲَجْمَعِینَ وَٲَسْٲَلُکَ
رحمت نازل کر اپنے تمام رسولوں پر اور اپنے مقرب فرشتوں پر اور فرمانبردار بندوں پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
بِکُلِّ مَسْٲَلَۃٍ سَٲَلَکَ بِہا ٲَحَدٌ مِمَّنْ رَضِیتَ عَنْہُ،فَحَتَمْتَ لَہ عَلیٰ الْاِجابَۃِ، یَا اﷲُ
ہر اس سوال کے واسطے سے جو تیرے ہر اس بندے نے کیا جس سے تو راضی و خوش ہے پھر تو نے اسکی دعا یقینا قبول فرمائی یااللہ
یَا اﷲُ یَا اﷲُ،یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ،یا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ، یَا ذَا
یااللہ یااﷲ یارحمن یارحمن یارحمن یارحیم یارحیم یارحیم اے جلالت
الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ
و بزرگی والے اے جلالت وبزرگی والے اے جلالت و بزرگی والے اسی کا واسطہ اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا
ٲَسْٲَ لُکَ بِکُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، ٲَوْ ٲَنْزَلْتَہُ فِی شَیْئٍ مِنْ کُتُبِکَ، ٲَوِ اسْتَٲَثَرْتَ
میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جس سے تو نے اپنی ذات کو پکارایا اپنے صحیفوں میں سے کسی میں اتارا یا اسے
بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، وَبِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ، وَبِمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتابِکَ
علم غیب میں اپنے لئے مقرر و خاص کیا ہے ان مقامات بلند کا واسطہ جو تیرے عرش میں ہیں اس انتہائی رحمت کا واسطہ
وَبِما لَوْ ٲَنَّ ما فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ ٲَقْلامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّھُ مِنْ بَعْدِھِ سَبْعَۃُ ٲَبْحُرٍ
جو تیری کتاب میں ہے اور اس آیت کا واسطہ کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں اسکے بعد سات سمندر
ما نَفِدَتْ کَلِماتُ اﷲِ إنَّ اﷲَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ، وَٲَسْٲَ لُکَ بِٲَسْمائِکَ الْحُسْنَی
اور ہوں تو بھی خدا کے کلمات تمام نہیں ہوں گے بے شک اللہ غا لب ہے حکمت والا اور میں سوال کرتا ہوں تیرے پیارے ناموں
الَّتِی نَعَتَّہٰا فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ وَلِلّٰہِ الْاَسْمائُ الْحُسْنی فَادْعُوھُ بِہا وَقُلْتَ ادْعُونِی
کیساتھ جنکی تو نے قرآن میں توصیف کی پس تو نے کہا اور اللہ کیلئے ہیں پیارے پیارے نام تو تم اسے انہی سے پکارو اور تو نے کہا
ٲَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَقُلْتَ وَ إذا سَٲَلَکَ عِبادِی عَنِّی فَ إنِّی قَرِیبٌ ٲُجِیبُ دَعْوَۃَ
مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تونے کہا کہ جب میرے بندے مجھے پکاریں تو میں ان کے قریب ہی ہوتا ہوںمیں دعا
الدَّاعِ إذا دَعَانِ، وَقُلْتَ یا عِبادِیَ الَّذِینَ ٲَسْرَفُوا عَلی ٲَنْفُسِھِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ
کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرے اور تو نے کہا اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہ تم اللہ کی
رَحْمَۃِ اﷲِ إنَّ اﷲَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً إنَّہُ ھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ وَٲَ نَا ٲَسْٲَ لُکَ یَا
رحمت سے ناامید نہ ہو جانا کہ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
إلھِی، وَٲَدْعُوکَ یَا رَبِّ، وَٲَرْجُوکَ یَا سَیِّدِی، وَٲَطْمَعُ فِی إجابَتِی
اے معبود تجھے پکارتا ہوں اے پروردگار اور تجھ سے امید رکھتا ہوں اے میرے آقامیںدعا کے قبول ہونے کی طمع رکھتا ہوں اے
یَا مَولایَ کَما وَعَدْتَنِی وَقَدْ دَعَوْتُکَ کَما ٲَمَرْتَنِی، فَافْعَلْ بِی ما ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ یَا کَرِیمُ،
میرے مولا جیسے تو نے وعدہ کیا اور میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا پس اے کریم ذات تو بھی مجھ سے وہ سلوک کر جسکا تو
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَصَلَّی اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ ۔
اہل ہے اور تعریف بس خدا کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور محمد(ص) اوراسکی تمام آل محمد(ص) پر اﷲ رحمت فرمائے۔
اسکے بعد اپنی حاجات طلب کریں کہ انشااللہ پوری ہوگی اور مہج الدعوات میں ہے کہ اس دعا کوباطہارت حالت ہی میں پڑھا جائے۔

دعائے یستشیر سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں امیر المومنین -سے روایت کی ہے، کہ آپ نے فرمایا: رسول اﷲ نے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی اور یہ حکم بھی دیا کہ میں تنگی و فراخی میں اس دعا کو پڑھتا رہوں اور اپنے جانشین کو اسکی تعلیم دوں اور تا دم آخر اسے ترک نہ کروںپھر فرمایا: کہ اے علی (ع) ہر مرد مؤمن صبح و شام یہ دعا پڑھے کیونکہ یہ عرش الٰہی کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، تب ابی بن کعب نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اس دعا کی فضیلت بیان فرمائیں آنحضرت نے اسکا اجر وثواب اور بہت سے فضائل بیان فرمائے۔ پس جو شخص ان سے آگاہ ہونا چاہے وہ مہج الدعوات کی طرف رجوع کرے:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے ﴿شروع﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ، الْمُدَبِّرُ بِلا وَزِیرٍ، وَلاَ خَلْقٍ مِنْ
ساری تعریف خدا کیلئے ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ حق ظاہر بظاہر ہے وہ بغیر وزیر کے اور مخلوق میں سے کسی کے مشورے
عِبادِھِ یَسْتَشِیرُ، الْاَوَّلُ غَیْرُ مَوْصُوفٍ، وَالْباقِی بَعْدَ فَنائِ الْخَلْقِ، الْعَظِیمُ الرُّبُوبِیَّۃِ،
کے بغیر نظم قائم کرنیوالا خدا ہے وہ ایسا اول ہے جسکا بیان نہیں ہوسکتا اور مخلوق کی فنائ کے بعد باقی رہنے والا ہے وہ ہے بڑا پالنے والا
نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِینَ وَفاطِرُھُما وَمُبْتَدِعُھُما، بِغَیْرِ عَمَدٍ خَلَقَھُما وَفَتَقَھُما
آسمانوں اور زمینوں کو روشن کرنے والا انکا پیدا کرنیوالا اور انہیں بغیرستون کے بنانے والا ہے اس نے ان دونوں کو پیدا کیا اور
فَتْقاً، فَقامَتِ السَّمَاوَاتُ طایِعاتٍ بِٲَمْرِھِ، وَاسْتَقَرَّتِ الْأَرَضُونَ بِٲَوْتادِہا فَوْقَ
الگ الگ رکھا پس آسمان اسکی اطاعت کرتے ہوئے اسکے حکم پر کھڑے ہوگئے اور زمینیں اپنی میخوں کے سہارے پانی کے
الْمائِ، ثُمَّ عَلا رَبُّنا فِی السَّمَاوَاتِ الْعُلی، الرَّحْمنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوی، لَہُ ما فِی
اوپر ٹھہرگئی پھر ہمارا پروردگار اونچے آسمانوں پر مسلط ہوگیا وہی رحمن ہر بلندی پر حاوی ہوگیا جو کچھ
السَّمَاوَاتِ وَما فِی الْاَرْضِ وَما بَیْنَھُما وَما تَحْتَ الثَّری، فَٲَ نَا ٲَشْھَدُ بِٲَ نَّکَ ٲَنْتَ
آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جو کچھ انکے درمیان اور جو کچھ زیر زمین موجود ہے اسی کا ہے پس میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی
اﷲُ لاَ رافِعَ لِما وَضَعْتَ، وَلاَ واضِعَ لِما رَفَعْتَ، وَلاَ مُعِزَّ
اللہ ہے جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست کرنے والا نہیں ہے جسے تو پست کرے اسے کوئی بلند کرنے والا نہیں ہے اور جسے تو عزت
لِمَنْ ٲَذْ لَلْتَ، وَلاَ مُذِلَّ لِمَنْ ٲَعْزَزْتَ، وَلاَ مانِعَ لِما
دے اسے کوئی ذلیل کرنے والا نہیں جسے تو ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے اور جس سے تو روک لے اس کو کوئی عطا
ٲَعْطَیْتَ، وَلاَ مُعْطِیَ لِما مَنَعْتَ، وَٲَنْتَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ کُنْتَ
کرنے والا نہیں ہے جسے تو عطا کرے اس سے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو موجود تھا
إذْ لَمْ تَکُنْ سَمائٌ مَبْنِیَّۃٌ، وَلاَ ٲَرْضٌ مَدْحِیَّۃٌ، وَلاَ شَمْسٌ مُضِیئَۃٌ، وَلاَ لَیْلٌ مُظْلِمٌ، وَلاَ نَہارٌ
جب آسمان بلند نہیں کیا گیا تھا اور نہ زمین بچھائی گئی تھی اور نہ سورج چمکایا گیا تھا نہ تاریک رات اور نہ روشن
مُضِیئٌ، وَلاَ بَحْرٌ لُجِّیٌّ، وَلاَ جَبَلٌ راسٍ، وَلاَ نَجْمٌ سارٍ، وَلاَ قَمَرٌ مُنِیرٌ، وَلاَ رِیحٌ تَھُبُّ،
دن پیدا ہوا تھا نہ سمندر موجزن تھا نہ کوئی اونچا پہاڑ تھا نہ چلتا ہوا ستارہ تھا اور نہ چمکتا ہواچاند اور نہ چلتی ہوئی ہوا تھی
وَلاَ سَحَابٌ یَسْکُبُ، وَلاَ بَرْقٌ یَلْمَعُ، وَلاَ رَعْدٌ یُسَبِّحُ، وَلاَ رُوحٌ تَنَفَّسُ، وَلاَ طَائِرٌ یَطِیرُ،
نہ ہی برسنے والا بادل تھا نہ چمکنے والی بجلی اور نہ کڑکنے والے بادل نہ سانس لینے والی روح اور نہ اڑنے والا پرندہ تھا
وَلاَ نَارٌ تَتَوَقَّدُ، وَلاَ مائٌ یَطَّرِدُ، کُنْتَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَکَوَّنْتَ کُلَّ شَیْئٍ، وَقَدَرْتَ عَلی
نہ جلتی ہوئی آگ اور نہ بہتا ہوا پانی پس توہر چیز سے پہلے تھا اور تو نے ہر چیز کو بنایا توہی ہر شیئ پر قادر
کُلِّ شَیْئٍ، وَابْتَدَعْتَ کُلَّ شَیْئٍ، وَٲَغْنَیْتَ وَٲَ فْقَرْتَ، وَٲَمَتَّ وَٲَحْیَیْتَ، وَٲَضْحَکْتَ
و قدیر ہے تو نے ہر چیز کو ایجاد کیا اور انہیں بے حاجت اور محتاج بناتا ہے انہیں موت اور حیات دیتا ہے ہے ہنساتا ہے
وَٲَبْکَیْتَ، وَعَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیْتَ، فَتَبارَکْتَ یَا اﷲُ وَتَعالَیْتَ، ٲَنْتَ اﷲُ الَّذِی لاَ إلہَ إلاَّ
اور رلاتا ہے اور تو عرش پر حاوی ہے پس تو بابرکت ہے اے اللہ تو بلند ہے تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
ٲَنْتَ الْخَلاَّقُ الْمُعِینُ، ٲَمْرُکَ غالِبٌ وَعِلْمُکَ نافِذٌ، وَکَیْدُکَ غَرِیبٌ، وَوَعْدُکَ
تو پیدا کرنے والا مدد دینے والا ہے تیرا حکم غالب تیرا علم گہرا اور تیری تدبیر عجیب ہے تیرا وعدہ
صَادِقٌ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَحُکْمُکَ عَدْلٌ، وَکَلامُکَ ھُدیً وَوَحْیُکَ نُورٌ،
سچا اور تیرا قول حق ہے اور تیرا فیصلہ عادلانہ اور تیرا کلام ہدایت والا ہے تیری وحی نور
وَرَحْمَتُکَ واسِعَۃٌ وَعَفْوُکَ عَظِیمٌ، وَفَضْلُکَ کَثِیرٌ، وَعَطاؤُکَ جَزِیلٌ، وَحَبْلُکَ
اور تیری رحمت وسیع ہے تیری بخشش عظیم تیرا فضل کثیر اور تیری عطا بہت بڑی ہے تیری رسی
مَتِینٌ وَ إمْکانُکَ عَتِیدٌ، وَجَارُکَ عَزِیزٌ، وَبَٲسُکَ شَدِیدٌ، وَمَکْرُکَ مَکِیدٌ، ٲَ نْتَ
مظبوط اور تیری قدرت آمادہ ہے تیری پناہ لینے والا قوی تیرا حملہ سخت اور تیری تجویز پیچ دار ہے اے پروردگار
یَا رَبِّ مَوْضِعُ کُلِّ شَکْوی، وَحاضِرُ کُلِّ مَلاَئٍ، وَشاھِدُ کُلِّ نَجْوی، مُنْتَہی کُلِّ حاجَۃٍ،
تو ہر شکایت کے پہنچنے کی جگہ ہر جماعت میں موجود اور ہر سرگوشی کا گواہ ہے تو ہر حاجت کی پناہ
مُفَرِّجُ کُلِّ حُزْنٍ، غِنیٰ کُلِّ مِسْکِینٍ، حِصْنُ کُلِّ ھَارِبٍ، ٲَمانُ کُلِّ خَائِفٍ، حِرْزُ
ہر غم کو دور کرنے والا ہر بے چارے کا سرمایہ ہر بھاگنے والے کیلئے قلعہ ہر ڈرنے والے کیلئے جائے امن کمزوروں کی
الضُّعَفائِ، کَنْزُ الْفُقَرَائِ، مُفَرِّجُ الْغَمَّائِ، مُعِینُ الصَّالِحِینَ، ذلِکَ اﷲُ رَبُّنا لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ،
ڈھال فقیروں کا خزانہ غموں کو مٹانے والا اور نیکوکاروں کا مددگار ہے یہی اللہ ہمارا رب ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں
تَکْفِی مِنْ عِبادِکَ مَنْ تَوَکَّلَ عَلَیْکَ، وَٲَ نْتَ جَارُ مَنْ لاذَ بِکَ وَتَضَرَّعَ إلَیْکَ،
تو اپنے ان بندوں کیلئے کافی ہے جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اسکی پناہ ہے جو تیری پناہ چاہے اورجو تجھ سے فریاد کرے
عِصْمَۃُ مَنِ اعْتَصَمَ بِکَ، ناصِرُ مَنِ انْتَصَرَ بِکَ، تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنِ اسْتَغْفَرَکَ
اسکا مددگار جو تجھ سے مدد مانگے اسکا ناصر ہے جو تیری نصرت چاہے تو اسکے گناہ بخش دیتا ہے جو تجھ سے بخشش طلب کرے
جَبَّارُ الْجَبَابِرَۃِ عَظِیمُ الْعُظَمَائِ کَبِیرُ الْکُبَرائِ سَیِّدُ السَّادَاتِ مَوْلَی الْمَوَالِی صَرِیخُ
اسے معاف کر دیتا ہیتو جابروں پر غالب بزرگوں کا بزرگ بڑوں کا بڑا سرداروں کا سردار آقاؤں کا آقا دادخواہوں
المُسْتَصْرِخِینَ مُنَفِّسٌ عَنِ الْمَکْرُوبِینَ، مُجِیبُ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ،ٲَسْمَعُ السَّامِعِینَ،
کا دادرس مصیبت زدوں کا غمگسار بے قراروں کی دعا قبول کرنے والا سننے والوں میں زیادہ سننے والا
ٲَبْصَرُ النَّاظِرِینَ، ٲَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ، ٲَسْرَعُ الْحَاسِبِینَ، ٲَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، خَیْرُ الْغَافِرِینَ،
دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والا حاکموں میں زیادہ حکم کرنیوالا جلد حساب کرنے والا رحم کرنے والوں میں زیادہ رحم والا بخشنے والوں میں
قَاضِی حَوائِجِ الْمُؤْمِنِینَ، مُغِیثُ الصَّالِحِینَ، ٲَ نْتَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ رَبُّ الْعالَمِینَ،
سب سے بہتر مومنوں کی حاجات برلانے والا نیکوکاروں کا فریاد رس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو عالموں کا رب ہے
ٲَنْتَ الْخالِقُ وَٲَ نَا الْمَخْلُوقُ، وَٲَ نْتَ الْمَالِکُ وَٲَنَا الْمَمْلُوکُ، وَٲَ نْتَ الرَّبُّ وَٲَ نَا
تو خالق ہے اور میں مخلوق ہوں تو مالک ہے اور میں مملوک ہوں تو پروردگار ہے اور میں تیرا
الْعَبْدُ، وَٲَ نْتَ الرَّازِقُ وَٲَ نَا الْمَرْزُوقُ، وَٲَ نْتَ الْمُعْطِی وَٲَ نَا السَّائِلُ، وَٲَ نْتَ الْجَوادُ وَٲَ نَا
بندہ ہوں تو رازق ہے اور میں رزق پانے والا ہوںتو عطا کرنے والا اور میں مانگنے والا ہوں تو سخاوت کرنیوالا اور میں
الْبَخِیلُ، وَٲَ نْتَ الْقَوِیُّ وَٲَ نَا الضَّعِیفُ، وَٲَ نْتَ الْعَزِیزُ وَٲَ نَا الذَّلِیلُ، وَٲَ نْتَ الْغَنِیُّ و ٲَ نَا
کنجوس ہوں توقوت والا ہے اور میں کمزور ہوں تو عزت والا ہے اور میں ذلیل ہوں تو بے حاجت ہے اور میں
الْفَقِیرُ وَٲَ نْتَ السَّیِّدُ وَٲَ نَا الْعَبْدُ وَٲَ نْتَ الْغافِرُ وَٲَ نَا الْمُسِیئُ وَٲَ نْتَ الْعَالِمُ وَٲَ نَا الْجَاھِلُ
محتاج ہوں تو آقا ہے اور میں غلام ہوں تو بخشنے والا ہے اور میں گنہگار ہوں تو علم والا ہے اور میں نادان ہوں
وَٲَ نْتَ الْحَلِیمُ وَٲَ نَا الْعَجُولُ وَٲَ نْتَ الرَّحْمنُ وَٲَنَا الْمَرْحُومُ وَٲَ نْتَ الْمُعافِی وَٲَ نَا الْمُبْتَلی
تو بردبار ہے اور میں جلد باز ہوں تو رحم کرنے والا ہے اور میں رحم کیا ہوا تو عافیت دینے والا اور میں پھنسا ہوا ہوں
وَٲَ نْتَ الْمُجِیبُ وَٲَ نَا الْمُضْطَرُّ، وَٲَ نَا ٲَشْھَدُ بِٲَ نَّکَ ٲَ نْتَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ، الْمُعْطِی
تو دعا قبول کرنیوالا اور میں بے قرار ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک توہی معبود ہے تو جو اپنے بندوں
عِبادَکَ بِلا سُؤالٍ، وَٲَشْھَدُ بِٲَ نَّکَ ٲَ نْتَ اﷲُ الْواحِدُ الْاَحَدُ الْمُتَفَرِّدُ الصَّمَدُ الْفَرْدُ
کو بن مانگے عطا کرتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا توہی خدائے یگانہ یکتا بے مثل بے نیاز بے مثال ہے
وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، وَصَلَّی اﷲُ عَلی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ، وَاغْفِرْ لِی
اور تیری ہی طرف واپسی ہے اور خدا حضرت محمد(ص) پر اور انکے اہلبیت(ع) پر رحمت فرمائے جو پاک و پاکیزہ ہیں اور میرے گناہ
ذُ نُوبِی، وَاسْتُرْ عَلَیَّ عُیُوبِی، وَافْتَحْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً وَرِزْقاً وَاسِعاً
معاف فرما دے اور میرے عیبوں کو چھپائے رکھ اور میرے لیے اپنی طرف سے در رحمت اور کشادہ اور رزق کے دروازے کھول
یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَحَسْبُنَا اﷲُ
دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو عالمین کا رب ہے اور کا فی ہے ہمارے لیے ایک اللہ
وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ ۔
جوبہترین کا رساز ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے بلند و برتر سے ملتی ہے۔

دعائے مجیر یہ حضرت رسول خدا (ص) سے منقول بڑی شان والی دعا ہے اور روایت ہے کہ یہ دعا حضرت جبرائیل (ع)نے حضرت رسول(ص) کو اس وقت پہنچائی جب آپ مقام ابراہیم(ع) میں نماز ادا کررہے تھے۔ کفعمی نے بلد الامین اور مصباح میں اس دعا کو درج کیا ہے اور حاشیے میں اسکی فضیلت بھی ذکر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اس دعا کو ماہ رمضان کے ایام بیض میں پڑھے تواسکے گناہ معاف ہوجائیں گے چاہے وہ بارش کے قطروں درختوں کے پتوں اور صحر اکی ریت کے ذروں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔ نیز یہ دعا مرض سے شفائ، ادائے قرض ،فراخی و توانگری اور غم کے دور ہونے کے کیلئے بھی مفید ہے۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سُبْحانَکَ یَا اﷲُ، تَعالَیْتَ یَا رَحْمنُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا رَحِیمُ
تو پاک ہے اے اللہ تو بلندتر ہے اے رحم کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربان
تَعالَیْتَ یَا کَرِیمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیر ۔ سُبْحانَکَ یَا مَلِکُ، تَعالَیْتَ یَا مالِکُ
تو بلندتر ہے اے کریم ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بادشاہ تو بلندتر ہے اے آقا
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا قُدُّوسُ، تَعالَیْتَ یَا سَلامُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پاک ترین تو بلندتر ہے اے سلامتی دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُؤْمِنُ، تَعالَیْتَ یَا مُھَیْمِنُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے امن دینے والے تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا عَزِیزُ، تَعالَیْتَ یَا جَبَّارُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا مُتَکَبِّرُ، تَعالَیْتَ
اے صاحب عزت تو بلندتر ہے اے زبردست ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑائی والے تو بلندتر ہے
یَا مُتَجَبِّرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا خالِقُ، تَعالَیْتَ یَا بارِیَُ
اے بڑائی کے مالک ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پیدا کرنیوالے تو بلندتر ہے اے بنانے والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا مُصَوِّرُ، تَعالَیْتَ یَا مُقَدِّرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صورت گر تو بلند ہے اے اندازہ ٹھہرانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا ہادِی، تَعالَیْتَ یَا باقِی، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہدایت دینے والے تو بلندتر ہے اے باقی رہنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا وَہَّابُ، تَعالَیْتَ یَا تَوَّابُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے بہت دینے والے تو بلندتر ہے اے توبہ قبول کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا فَتَّاحُ، تَعالَیْتَ یَا مُرْتاحُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا سَیِّدِی، تَعالَیْتَ
اے کھولنے والے تو بلندتر ہے اے صاحب راحت پناہ دے ہمیںآگ سے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے میرے سردار تو بلندتر ہے
یَا مَوْلایَ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا قَرِیبُ، تَعالَیْتَ یَا رَقِیبُ، ٲَجِرْنا مِنَ
اے میرے مولا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نزدیک تر تو بلندتر ہے اے نگہدار ہمیں آگ سے پناہ
النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُبْدِیَُ، تَعالَیْتَ یَا مُعِیدُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ابتدائ کرنے والے تو بلندتر ہے اے لوٹا نے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَمِیدُ، تَعالَیْتَ یَا مَجِیدُ، ٲَجِرْنا مِنَ النّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا قَدِیمُ،
تو پاک ہے اے حمد کے لائق تو بلندتر ہے اے شان والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے توپاک ہے اے سب سے پہلے
تَعالَیْتَ یَا عَظِیمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا غَفُورُ، تَعالَیْتَ یَا شَکُورُ،
تو بلند ترہے اے بزرگتر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بہت بخشنے والے تو بلندتر ہے اے لائق شکر
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا شَاھِدُ، تَعالَیْتَ یَا شَھِیدُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے گواہی دینے والے تو بلندتر ہے اے حاضر و موجود ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا حَنَّانُ، تَعالَیْتَ یَا مَنَّانُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے محبت والے تو بلندتر ہے اے احسان کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا بَاعِثُ، تَعالَیْتَ یَا وَارِثُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا مُحْیِی،
تو پاک ہے اے اٹھانے والے تو بلندتر ہے اے سچے وارث ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے زندہ کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا مُمِیتُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا شَفِیقُ، تَعالَیْتَ
تو بلندتر ہے اے موت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربانی کرنے والے تو بلندتر ہے
یَا رَفِیقُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا ٲَنِیسُ، تَعالَیْتَ یَا مُؤْنِسُ، ٲَجِرْنا
اے ساتھ دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے رفیق تو بلندتر ہے اے ہمدم و یاور ہمیں آگ
مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا جَلِیلُ، تَعالَیْتَ یَا جَمِیلُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے جلالت والے تو بلندتر ہے اے صاحب حسن ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا خَبِیرُ، تَعالَیْتَ یَا بَصِیرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا حَفِیُّ،
تو پاک ہے اے خبر رکھنے والے تو بلندتر ہے اے دیکھنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب عقل
تَعالَیْتَ یَا مَلِیُّ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مَعْبُودُ، تَعالَیْتَ یَا مَوْجُودُ،
تو بلندتر ہے اے مراد برلانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے معبود تو بلندتر ہے اے موجود حقیقی
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا غَفَّارُ، تَعَالَیْتَ یَا قَہَّارُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ،
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بخشنے والے تو بلندتر ہے اے زبردست ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مَذْکُورُ، تَعالَیْتَ یَا مَشْکُورُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا جَوادُ
تو پاک ہے اے یاد کئے ہوئے تو بلندتر ہے اے شکر کیے گئے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بہت زیادہ سخی
تَعالَیْتَ یَا مَعاذُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا جَمالُ، تَعالَیْتَ یَا جَلالُ،
تو بلندتر ہے اے جائے پناہ ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے حسن والے تو بلندتر ہے اے بزرگی والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا سَابِقُ، تَعالَیْتَ یَا رَازِقُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سب سے اول تو بلندتر ہے اے رزق دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا صَادِقُ، تَعالَیْتَ یَا فَالِقُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا سَمِیعُ،
تو پاک ہے اے صاحب صدق تو بلندتر ہے اے شگافتہ کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سننے والے
تَعالَیْتَ یَا سَرِیعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا رَفِیعُ، تَعالَیْتَ یَا بَدِیعُ،
تو بلندتر ہے اے تیزتر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بلندی والے تو بلندتر ہے اے جدت والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا فَعَّالُ، تَعالَیْتَ یَا مُتَعالٍ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑے فاعل تو بلندتر ہے اے عالی تر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا قَاضِی، تَعالَیْتَ یَا رَاضِی، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا قَاھِرُ،
تو پاک ہے اے فی صلہ کرنے والے تو بلندتر ہے اے راضی ہو جانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے زبردست
تَعالَیْتَ یَا طَاھِرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا عَالِمُ، تَعالَیْتَ یَا حَاکِمُ،
تو بلندتر ہے اے پاکیزگی والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب علم تو بلندتر ہے اے صاحب حکم
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا دائِمُ، تَعالَیْتَ یَا قائِمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے توپاک ہے اے ہمیشہ رہنے والے تو بلندتر ہے اے موجود ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا عَاصِمُ، تَعالَیْتَ یَا قاسِمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا غَنِیُّ،
تو پاک ہے اے حفاظت کرنیوالے تو بلندتر ہے اے تقسیم کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے تونگر
تَعالَیْتَ یَا مُغْنِی، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا وَفِیُّ، تَعالَیْتَ یَا قَوِیُّ،
تو بلندتر ہے اے تونگر کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے وفا والے تو بلندتر ہے اے قوت والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا کَافِی، تَعالَیْتَ یَا شَافِی، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے، اے کفایت کرنے والے تو بلندتر ہے اے شفا دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُقَدِّمُ، تَعالَیْتَ یَا مُؤَخِّرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے سب سے پہلے تو بلندتر ہے اے سب سے آخر رہنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا ٲَوَّلُ، تَعالَیْتَ یَا آخِرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا ظَاھِرُ، تَعالَیْتَ یَا بَاطِنُ،
اے سب سے اول تو بلندتر ہے اے سب سے آخر موجود ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے آشکار تو بلندتر ہے اے پوشیدہ
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا رَجَائُ، تَعالَیْتَ یَا مُرْتَجیٰ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے امیدگاہ تو بلندتر ہے اے امید کیے ہوئے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا ذَا الْمَنِّ، تَعالَیْتَ یَا ذَا الطَّوْلِ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب احسان تو بلندتر ہے اے صاحب بخشش ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَیُّ، تَعالَیْتَ یَا قَیُّومُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا واحِدُ
تو پاک ہے اے زندہ تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے یگانہ
تَعالَیْتَ یَا ٲَحَدُ ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا سَیِّدُ، تَعالَیْتَ یَا صَمَدُ، ٲَجِرْنا مِنَ
تو بلندتر ہے اے یکتا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے آقا تو بلندتر ہے اے بے نیاز ہمیں آگ سے
النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا قَدِیرُ، تَعالَیْتَ یَا کَبِیرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب قدرت تو بلندتر ہے اے صاحب کبر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا وَالِی، تَعالَیْتَ یَا عَالِی، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا عَلِیُّ،
توپاک ہے اے حاکم تو بلندتر ہے اے ذات عالی ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بلند
تَعالَیْتَ یَا ٲَعْلیٰ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا وَ لِیُّ، تَعالَیْتَ یَا مَوْلیٰ،
تو بلندتر ہے اے سب سے بلند ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سرپرست تو بلندتر ہے اے مالک
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا ذارِیَُ، تَعالَیْتَ یَا بَارِیَُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہوا چلانے والے تو بلندتر ہے اے پیدا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا خَافِضُ، تَعالَیْتَ یَا رَافِعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پست کرنے والے تو بلندتر ہے اے بلند کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُقْسِطُ، تَعالَیْتَ یَا جَامِعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے پراگندہ کرنے والے تو بلندتر ہے اے اکٹھا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا مُعِزُّ، تَعالَیْتَ یَا مُذِلُّ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا حَافِظُ،
اے عزت دینے والے تو بلندتر ہے اے ذلت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے حفاظت کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا حَفِیظُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا قادِرُ، تَعالَیْتَ یَا مُقْتَدِرُ،
تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے قدرت والے تو بلندتر ہے اے اقتدار والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا عَلِیمُ، تَعالَیْتَ یَا حَلِیمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یا مُجِیرُ ۔
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے علم والے تو بلندتر ہے اے حلم والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَکَمُ، تَعالَیْتَ یَا حَکِیمُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُعْطِی،
تو پاک ہے اے فیصلہ کرنے والے توبلندتر ہے اے حکمت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے عطا کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا مانِعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا ضَارُّ، تَعالَیْتَ
تو بلندتر ہے اے روک لینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نقصان دینے والے تو بلندتر ہے
یَا نَافِعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُجِیبُ، تَعالَیْتَ یَا حَسِیبُ،
اے نفع دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے دعا قبول کرنے والے تو بلندتر ہے اے حساب کرنے والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ۔ سُبْحانَکَ یَا عادِلُ، تَعالَیْتَ یَا فاصِلُ، ٲَجِرْنا مِنَ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے عدل کرنے والے تو بلند تر ہے اے جدا کرنے والے ہمیں آگ
النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا لَطِیفُ، تَعالَیْتَ یَا شَرِیفُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے لطف کرنے والے تو بلندتر ہے اے عزت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا رَبُّ، تَعالَیْتَ یَا حَقُّ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا مَاجِدُ،
تو پاک ہے اے پالنے والے تو بلندتر ہے اے برحق ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بزرگی والے
تَعالَیْتَ یَا وَاحِدُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا عَفُوُّ ۔ تَعالَیْتَ یَا مُنْتَقِمُ،
تو بلندتر ہے اے یکتا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے معاف کرنے والے تو بلندتر ہے اے بدلہ لینے والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا واسِعُ تَعالَیْتَ یَا مُوَسِّعُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے کشادگی والے تو بلندتر ہے اے کشادگی دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا رَؤُوفُ، تَعالَیْتَ یَا عَطُوفُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربانی کرنے والے تو بلندتر ہے اے نرمی کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا فَرْدُ تَعالَیْتَ یَا وِتْرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُقِیتُ تَعالَیْتَ
تو پاک ہے اے بے مثل تو بلندتر ہے اے تنہا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نگاہ رکھنے والے تو بلندتر ہے
یَا مُحِیطُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا وَکِیلُ، تَعالَیْتَ یَا عَدْلُ،
اے احاطہ کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے کارساز تو بلندتر ہے اے انصاف کرنے والے
ٲَجِرْنا مِنَ النّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُبِینُ، تَعالَیْتَ یَا مَتِینُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے روشن تر تو بلندتر ہے اے محکم ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا بَرُّ، تَعالَیْتَ یَا وَدُودُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا رَشِیدُ،
تو پاک ہے اے نیکوتر تو بلندتر ہے اے محبت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہدایت والے
تَعالَیْتَ یَا مُرْشِدُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا نُورُ، تَعالَیْتَ یَا مُنَوِّرُ،
تو بلندتر ہے اے ہدایت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نور تو بلندتر ہے اے نور دینے والے
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا نَصِیرُ، تَعالَیْتَ یَا نَاصِرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مدد کرنے والے تو بلندتر ہے اے مددگار ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا صَبُورُ، تَعالَیْتَ یَا صَابِرُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے برداشت کرنے والے تو بلندتر ہے اے صبر کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُحْصِی، تَعالَیْتَ یَا مُنْشِیَُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحَانَکَ
تو پاک ہے اے جمع کرنے والے تو بلندتر ہے اے پیدا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا سُبْحَانُ، تَعالَیْتَ یَا دَیَّانُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا مُغِیثُ، تَعالَیْتَ
اے پاک و پاکیزہ تو بلند تر ہے اے جزا دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے فریادرس تو بلندتر ہے
یَا غِیاثُ، ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ ۔ سُبْحانَکَ یَا فَاطِرُ، تَعالَیْتَ یَا حَاضِرُ،
اے فریاد کو پہنچنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پیدا کرنے والے تو بلندتر ہے اے موجود
ٲَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ذَا الْعِزِّ وَالْجَمَالِ تَبارَکْتَ یَا ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْجَلاَلِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑائی اور حسن والے تو بابرکت ہے اے صاحب اقتدار اور جلالت والے
سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ، سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنا لَہُ وَنَجَّیْناھُ مِنَ
تو پاک ہے سوائے تیرے کوئی معبودنہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں خطا کاروں میں ہوں سے پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور ہم نے اس کو
الْغَمِّ وَکَذلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَصَلَّی اﷲُ عَلی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ وَالْحَمْدُ
رنج سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں اور خدا ہمارے سردار حضرت محمد(ص) پر اور انکی ساری آل(ع) پر رحمت فرمائے اور ساری تعریف
لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔ وَحَسْبُنا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
اللہ ہی کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور کارساز اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگروہی جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے

دعا عدیلہ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
شَھِدَ اﷲُ ٲَنَّہُ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ وَالْمَلائِکَۃُ وَٲُولُوا الْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ لاَ إلہَ إلاَّ
خدا گواہ ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں نیز ملائکہ اور با انصاف صاحبان علم بھی اس پر گواہی دے رہے ہیںکہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں
ھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ، إنَّ الدِّینَ عِنْدَ اﷲِ الْاِسْلامُ، وَٲَ نَا الْعَبْدُ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ الْعاصِی
جو صاحب عزت حکمت والا ہے یقینا خدا کاپسندیدہ دین اسلام ہی ہے اور میں جو ایک ناتواں گنہگار خطاکار
الْمُحْتاجُ الْحَقِیرُ، ٲَشْھَدُ لِمُنْعِمِی وَخالِقِی وَرازِقِی وَمُکْرِمِی کَما شَھِدَ لِذاتِہِ،
حاجت مند اور بے مایہ بندہ ہوں میں اپنے منعم ، خالق ، رازق اور اپنے کرم فرما خدا کی گواہی دیتا ہوں، جیسے اس نے اپنی ذات کی گواہی دی ہے
وَشَھِدَتْ لَہُ الْمَلائِکَۃُ وَٲُولُوا الْعِلْمِ مِنْ عِبادِھِ، بِٲَنَّہُ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ ذُو النِّعَمِ وَالْاِحْسانِ،
نیز ملائکہ اور صاحب علم بندوں نے بھی اسکی گواہی دی ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں جو نعمت، احسان
وَالْکَرَمِ وَالْاِمْتِنانِ، قادِرٌ ٲَزَلِیٌّ، عالِمٌ ٲَبَدِیٌّ، حَیٌّ ٲَحَدِیٌّ، مَوْجُودٌ سَرْمَدِیٌّ، سَمِیعٌ بَصِیرٌ
و کرم اور عطا کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ سے صاحب قدرت اور دائمی صاحب علم ،زندہ ،یکتا اور ہمیشگی والاموجود ہے سننے والا دیکھنے والا
مُرِیدٌ کارِہٌ، مُدْرِکٌ صَمَدِیٌّ، یَسْتَحِقُّ ھَذِھِ الصِّفاتِ وَھُوَ عَلَی ما ھُوَ عَلَیْہِ فِی عِزِّ
ارادے والا ناپسند کرنے والا پا لینے والا بے نیاز ہے وہ ان صفات کا صحیح حقدار ہے اور وہ دیگر صفات کا بھی
صِفاتِہِ، کَانَ قَوِیّاً قَبْلَ وُجُودِ الْقُدْرَۃِ وَالْقُوَّۃِ، وَکانَ عَلِیماً قَبْلَ إیجادِ الْعِلْمِ وَالْعِلَّۃِ، لَمْ
مالک ہے جو بہت بڑی صفات ہیں کہ قدرت اور قوت کے وجود میں آنے سے قبل وہ صاحب قوت تھا اور وہ صاحب علم تھا علم اور
یَزَلْ سُلْطاناً إذْ لاَ مَمْلَکَۃَ وَلاَ مالَ، وَلَمْ یَزَلْ سُبْحَاناً عَلی جَمِیعِ الْاَحْوالِ، وُجُودُھُ قَبْلَ
دلیل کی ایجاد سے پہلے وہ مستقل سلطان تھا جب نہ کوئی ملک تھا اور نہ مال ، وہ لا زوال پاکیزہ تھا ہر ہر حال میں کہ اس کا وجود قبل سے
الْقَبْلِ فِی ٲَزَلِ الاَْزالِ، وَبَقاؤُھُ بَعْدَ الْبَعْدِ مِنْ غَیْرِ انْتِقالٍ وَلاَ زَوالٍ، غَنِیٌّ فِی الْاَوَّلِ
قبل اور ازلوں کے ازل سے ہے اور اس کی بقا بعد سے بعد ہے کہ جسمیں نہ تبدیلی ہے نہ زوال وہ اول و آخر سے
وَالاَْخِرِ، مُسْتَغْنٍ فِی الْباطِنِ وَالظَّاھِرِ، لاَ جَوْرَ فِی قَضِیَّتِہِ، ولاَ مَیْلَ فِی مَشِیئَتِہِ، وَلاَ ظُلْمَ
بے نیاز اور ظاہر و باطن میں بے پرواہ ہے اسکے فیصلے میں ظلم نہیں اور اسکی مرضی میں طرفداری نہیں ہے اسکی تقدیر میں
فِی تَقْدِیرِھِ وَلاَ مَھْرَبَ مِنْ حُکُومَتِہِ وَلاَ مَلْجَٲَ مِنْ سَطَواتِہِ وَلاَ مَنْجیً مِنْ نَقِماتِہِ، سَبَقَتْ
ستم نہیں اور اسکی حکومت سے فرار ممکن نہیں اسکا قہر آئے تو کوئی پناہ نہیں اور وہ عذاب کرے تو نجات نہیں اسکی
رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ وَلاَ یَفُوتُہُ ٲَحَدٌ إذا طَلَبَہُ، ٲَزاحَ الْعِلَلَ فِی التَّکْلِیفِ، وَسَوَّی التَّوْفِیقَ بَیْنَ
رحمت ،غضب سے پہلے ہے جسے وہ طلب کرے وہ فرار نہیں کرسکتا اس نے فریضوں میں اضداد دور کر دیں اور توفیق دینے میں
الضَّعِیفِ وَالشَّرِیفِ، مَکَّنَ ٲَدائَ الْمَٲْمُورِ، وَسَہَّلَ سَبِیلَ اجْتِنابِ الْمَحْظُورِ، لَمْ یُکَلِّفِ
ادنیٰ و اعلیٰ میں برابری رکھی ہے حکم کردہ باتوں پر عمل کو ممکن اور گناہ سے بچنے کا راستہ آسان کردیا ہے اس نے وسعت
الطَّاعَۃَ إلاَّ دُونَ الْوُسْعِ وَالطَّاقَۃِ سُبْحانَہُ مَا ٲَبْیَنَ کَرَمَہُ وَٲَعْلَی شَٲْنَہُ سُبْحانَہُ مَا ٲَجَلَّ نَیْلَہُ
و طاقت سے کمتر فریضے عائد کیئے ہیں پاک ہے وہ جسکا کرم کتنا واضح اور شان کتنی بلند ہے پاک ہے وہ کہ جسکا نام کتنا عمدہ
وَٲَعْظَمَ إحْسانَہُ بَعَثَ الْاَنْبِیائَ لِیُبَیِّنَ عَدْلَہُ، وَنَصَبَ الْاَوْصِیائَ لِیُظْھِرَ طَوْلَہُ وَفَضْلَہُ،
اور احسان کتنا بڑا ہے اس نے اپنے عدل کی تشریح کیلئے انبیائ بھیجے اور اپنے فضل و کرم کے اظہار کی خاطر اوصیائ کو مامور فرمایا
وَجَعَلَنا مِنْ ٲُمَّۃِ سَیِّدِ الْاَنْبِیائِ وَخَیْرِ الْاَوْ لِیائِ وَٲَفْضَلِ الْاَصْفِیائِ وَٲَعْلَی الْاَزْکِیائِ مُحَمَّدٍ
اور ہمیں نبیوں کے سردار ولیوں میں بہتر برگزیدوں میں سب سے افضل اور پاکبازوں میں سب سے بلند حضرت محمد(ص)
صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ وَسَلَّمَ، آمَنَّا بِہِ وَبِما دَعانا إلَیْہِ، وَبِالْقُرْآنِ الَّذِی ٲَنْزَلَہُ عَلَیْہِ وَبِوَصِیِّہِ
کی امت میں قرار دیا ہم ان پر ایمان لائے اور انکے پیغام پر اور قرآن پر جو ان پر نازل ہوا اور انکے جانشین پر
الَّذِی نَصَبَہُ یَوْمَ الْغَدِیرِ وَٲَشارَ بِقَوْلِہِ ہذا عَلِیٌّ إلَیْہِ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْاَئِمَّۃَ الْاَ بْرارَ وَالْخُلَفائَ
جسے انہوں نے یوم غدیر مقرر کیا اور اپنی زبان سے فرمایا کہ یہ ہے علی(ع) جو میرا وصی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت رسول(ص) کے بعد
الْاَخْیارَ بَعْدَ الرَّسُولِ الْمُخْتارِ عَلِیٌّ قامِعُ الْکُفّارِ وَمِنْ بَعْدِھِ سَیِّدُ ٲَوْلادِھِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ
نیکوکار امام(ع) اور بہترین جانشین ہیں جن میں علی(ع) ہی کافروں کو ختم کرنے والے ہیں اور انکے بعد انکی اولاد کے سردار حسن(ع) بن علی(ع)
ثُمَّ ٲَخُوھُ السِّبْطُ التَّابِعُ لِمَرْضاۃِ اﷲِ الْحُسَیْنُ ثُمَّ الْعابِدُ عَلِیٌّ ثُمَّ الْباقِرُ مُحَمَّدٌ ثُمَّ الصّادِقُ
پھر انکے بھائی نواسہ رسول(ص)، اللہ کی رضاؤں کے طلبگار حسین(ع) ہیں پھر علی(ع) بن الحسین(ع) پھر محمد باقر(ع)پھر جعفر
جَعْفَرٌ، ثُمَّ الْکَاظِمُ مُوسی، ثُمَّ الرِّضا عَلِیٌّ، ثُمَّ التَّقِیُّ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ النَّقِیُّ عَلِیٌّ، ثُمَّ الزَّکِیُّ
صادق(ع) پھر موسیٰ کاظم(ع) پھر علی رضا(ع) پھر محمد تقی(ع) ہیں انکے بعد علی نقی(ع) ہیں پھر حسن عسکری
الْعَسْکَرِیُّ الْحَسَنُ، ثُمَّ الْحُجَّۃُ الْخَلَفُ الْقائِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَھْدِیُّ الْمُرْجَی الَّذِی بِبَقائِہِ
زکی(ع) ہیں پھر حضرت حجت خلف قائم المنتظر مہدی(ع) امیدگاہ خلق ہیں جنکی بقائ سے
بَقِیَتِ الدُّنْیا، وَبِیُمْنِہِ رُزِقَ الْوَری، وَبِوُجُودِھِ ثَبَتَتِ الْاَرْضُ وَالسَّمائُ، وَبِہِ یَمْلاُئ
دنیا قائم ہے اور انکی برکت سے مخلوق کو روزی ملتی ہے اور انکے وجود سے زمین و آسمان کھڑے ہیں اور انکے ذریعے اﷲ تعالیٰ
اﷲُ الْاَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً بَعْدَما مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ ٲَقْوالَھُمْ حُجَّۃٌ وَامْتِثالَھُمْ
زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیگا جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی میں گواہی دیتا ہوں کہ ان آئمہ کے اقوال حجت، ان پر عمل کرنا
فَرِیضَۃٌ وَطاعَتَھُمْ مَفْرُوضَۃٌ وَمَوَدَّتَھُمْ لازِمَۃٌ مَقْضِیَّۃٌ وَالْاِقْتِدائَ بِھِمْ مُنْجِیَۃٌ وَمُخالَفَتَھُمْ
واجب اور انکی پیروی فرض ہے اور ان سے محبت رکھنا ضروری و لازم ہے انکی اطاعت باعث نجات اور ان سے مخالفت
مُرْدِیَۃٌ، وَھُمْ سَاداتُ ٲَھْلِ الْجَنَّۃِ ٲَجْمَعِینَ، وَشُفَعائُ یَوْمِ الدِّینِ، وَٲَئِمَّۃُ ٲَھْلِ الْاَرْضِ عَلَی
وجہ تباہی ہے اور وہ سب کے سب اہل جنت کے سردار ہیں قیامت میں شفاعت کرنے والے اور یقینی طور پر اہل زمین کے امام(ع)
الْیَقِینِ وَٲَ فْضَلُ الْاَوْصِیائِ الْمَرْضِیِّینَ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَمُسائَلَۃَ الْقَبْرِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ
ہیں وہ پسندیدہ اوصیائ میں سے افضل ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ موت حق ہے قبر میں سوال و جواب حق ہیں دوبارہ اٹھنا
حَقٌّ، وَالنُّشُورَ حَقٌّ، وَالصِّراطَ حَقٌّ، وَالْمِیزانَ حَقٌّ، وَالْحِسابَ حَقٌّ، وَالْکِتابَ حَقٌّ،
حق ہے قیامت میں حاضری حق ہے صراط سے گزرنا حق ہے میزان عمل حق ہے حساب حق ہے اور کتاب حق ہے
وَالْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، وَٲَنَّ السَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لاَ رَیْبَ فِیہا، وَٲَنَّ اﷲَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ ۔
اسی طرح جنت حق ہے اور جہنم حق ہے نیز قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ انہیں ضرور اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں
اَللّٰھُمَّ فَضْلُکَ رَجَائِی، وَکَرَمُکَ وَرَحْمَتُکَ ٲَمَلِی، لاَ عَمَلَ لِی ٲَسْتَحِقُّ بِہِ الْجَنَّۃَ، وَلاَ
اے معبود! تیرا فضل میرا سہارا اور تیری رحمت و بخشش میری امید ہے میرا کوئی ایسا عمل نہیں جس سے میں جنت کا حقدا ر بنوں اور نہ
طاعَۃَ لِی ٲَسْتَوْجِبُ بِھَا الرِّضْوانَ إلاَّ ٲَنِّی اعْتَقَدْتُ تَوْحِیدَکَ وَعَدْلَکَ، وَارْتَجَیْتُ
عبادت ہے کہ جو تیری خوشنودی کا باعث ہو سوائے اسکے کہ میں تیری توحید و عدل پر اعتقاد رکھتا ہوںاور تیرے فضل و
إحْسانَکَ وَفَضْلَکَ وَتَشَفَّعْتُ إلَیْکَ بِالنَّبِیِّ وَآلِہِ مِنْ ٲَحِبَّتِکَ وَٲَنْتَ ٲَکْرَمُ الاَْکْرَمِینَ
احسان کی امید رکھتا ہوں اور تیرے حضور تیرے نبی(ص) اور انکی آل(ع) کی شفاعت لایا ہوں جو تیرے محبوب ہیں اور تو سب سے زیادہ کرم کرنے والا
وَٲَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی اﷲُ عَلی نَبِیِّنا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ
اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور ہمارے نبی محمد(ص) پر اور انکی ساری آل(ع) پر خدا کی رحمت ہو جو پاک و پاکیزہ ہیں اور ان پر سلام ہو
تَسْلِیماً کَثِیراً کَثِیراً، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰھُمَّ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سلام ِخاص زیادہ بہت زیادہ اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند وبرتر خدا سے ملتی ہے اے معبود اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
إنِّی ٲَوْدَعْتُکَ یَقِینِی ہذَا وَثَباتَ دِینِی وَٲَ نْتَ خَیْرُ مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ ٲَمَرْتَنا بِحِفْظِ
بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اوردین میں ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوں اور تو بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے
الْوَدائِعِ فَرُدَّھُ عَلَیَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِی بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔
پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ بوقت مرگ مجھے یاد دلادینا واسطہ تجھے تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
مؤلف کہتے ہیں اسکے ساتھ معصومین سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
اَلَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَدِیْلَۃِ عِنْدَ الْمَوْتِ
اے معبود وقت مرگ اس عقیدے سے پلٹنے سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں
عدیلہ موت سے مراد موت کے وقت حق سے باطل کیطرف پھر جانا ہے، اسکی صورت یہ ہے کہ جان کنی کے وقت شیطان شک میں ڈال کر گمراہ کردیتا ہے اور یوںانسان ایمان چھوڑ بیٹھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دعاؤں میں ایسی صورت حال سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ فخر المحققین نے فرمایا ہے کہ جو شخص موت کے وقت اس خطرے سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے ایمان اور اصول دین کی دلیلیں ذہن نشین کیے رکھنا چاہئیں اور پھر انکو بطور امانت خدا کی بارگاہ میں پیش کردینا چاہیئے تاکہ موت کی گھڑی میں یہ امانت اسے واپس مل جائے۔ اسکا طریقہ یہ ہے کہ عقائد حقّہ کو دہرانے کے بعد کہیں:
اَللّٰھُمَّ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، إنِّی قَدْ ٲَوْدَعْتُکَ یَقِینِی ہذَا وَثَباتَ دِینِی وَٲَ نْتَ خَیْرُ
اے معبوداے سب سے زیادہ رحم کرنے والے بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اور دین میں اپنی ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوںاور تو
مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ ٲَمَرْتَنا بِحِفْظِ الْوَدائِعِ، فَرُدَّھُ عَلَیَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِی ۔
بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ وقت مرگ مجھے یاد دلادینا۔
پس ان بزرگوار کے فرمان کے مطابق اس دعا عدیلہ کا پڑھنا اور اسکے مطالب کو وقتِ مرگ دل میں رکھنا، حق سے پھرجانے کے خطرے کو روکنا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آیا یہ دعا منقول ہے یا خود علمائے کرام نے اسے مرتب کیا ہے؟ اس بارے میں عرض ہے کہ علم حدیث کے ماہر اور اخبار ائمہ کے جمع کرنے والے اجل عالم، محدث ناقد و بابصیرت اور ہمارے استاد محدث اعظم الحاج مولانا میرزا حسین نوری ﴿ہ خدا انکے مرقد کو روشن کرے۔﴾ کا فرمان ہے کہ معروف دعائ عدیلہ بعض علمائ کی وضع کردہ ہے، یہ کسی امام (ع) سے نقل نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ حدیث کی کتابوں میں پائی جائی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ شیخ طوسی(رح) نے محمد بن سلیمان دیلمی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق -کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض شیعہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک محکم و ثابت اور دوسرا عارضی و امانتی جو زائل ہوسکتا ہے۔ پس آپ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیں کہ جسکے پڑھنے سے میرا ایمان قائم و ثابت رہے اور زائل نہ ہونے پائے۔ اس پر آپ (ع)نے فرمایا کہ ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو۔
رَضِیتُ بِاﷲِ رَبّاً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ نَبِیّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً، وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً
میں راضی ہوںاس پر کہ اﷲ میرا رب اور حضرت محمد میرے نبی ہیں اسلام میرادین ہے قرآن میری کتاب ہے
وَبِالْکَعْبَۃِ قِبْلَۃً وَبِعَلِیٍّ وَ لِیّاً وَ إماماً وَبِالْحَسَنِ والحسین و علی ابن الحسین و محمد بن ِ
کعبہ میرا قبلہ ہے اور اضی ہوں اس پر کہ علی - میرے مولا اور امام ہیں نیز حسن (ع) و حسین (ع)، علی (ع) ابن حسین (ع) ، محمد(ع) ابن
علی و جعفر ابن محمد وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدبْنِ عَلِیٍّ وَعلی بن
علی (ع)، جعفر (ع) ابن محمد(ع) ، موسیٰ (ع) ابن جعفر(ع) ، علی (ع) ابن موسیٰ (ع)، محمد (ع) ابن علی(ع) ، علی (ع) ابن محمد(ع) ، حسن (ع) ابن علی (ع)،
مُحَمَّدِ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَالْحُجَّۃِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْھِمْ ٲَئِمَّۃً اَللّٰھُمَّ إنِّی
اور حجت(ع) بن حسن(ع) کہ ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں میرے امام ہیں اے معبود میں راضی ہوں
رَضِیتُ بِھِمْ ٲَئِمَّۃً فَارْضَنِی لَھُمْ إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔
کہ وہ میرے امام (ع) ہیں پس انہیں مجھ سے راضی فرمادے بے شک توہر چیز پرقادر ہے






۹
کلیات مفاتیح الجنان مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) دعائے جوشن کبیر بلدالامین و مصباح کفعمی میں مروی ہے کہ امام زین العابدین -نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے والد امیر المومنین (ع)سے اور انہو ںنے حضرت رسول سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دعا جبرائیل (ع)نے ایک جنگ کے دوران آنحضرت (ص) کو پہنچائی اس وقت آپ نے بھاری بھر کم زرہ پہن رکھی تھی ، جسکے بوجھ سے آپ(ص) کے جسم کو تکلیف ہو رہی تھی۔ جبرائیل (ع)نے عرض کی کہ یامحمد مصطفٰی (ص) آپکا رب آپکو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ بھاری زرہ اتار دیں اور یہ دعا پڑھیں کہ یہ آپ کیلئے اور آپکی امت کیلئے حفظ و امان کی باعث ہے۔پھر اس دعا کے اور فضائل و فوائد بھی بتائے کہ جنکے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں فرمایا کہ جو شخص اسے کفن پر لکھے تو خدا کی رحمت سے دور ہے کہ اسے جہنم میں جلائے۔ اور جو شخص رمضان المبارک کی پہلی رات، خلوص نیت کے ساتھ یہ دعا پڑھے تو اسکو شب قدر دیکھنا نصیب ہو گی اور خدا وند عالم اسکی خاطر ستر ہزار فرشتے پیدا کرے گا جو تسبیح و تقدیس کریں گے کہ جسکا ثواب اسکو ملے گا۔ اسکی مزید فضیلت بھی بیان ہوئی ہے کہ جو شخص ماہ رمضان میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے تو خدا تعالی اسکے جسم پر جہنم کی آگ حرام کر دیگا، جنت اس کیلئے واجب قرار دے گا اور دو فرشتے اس پر مقرر کر دے گا جو گناہوں سے اسکی حفاظت کریں گے اور وہ زندگی بھر خدا کی امان میں رہے گا۔اور روایت کے آخر میں ہے کہ امام حسین -نے فرمایا : میرے والد گرامی علی ابن ابی طالب ٭ نے مجھے اس دعا کومحفوظ کرنے کی وصیت فرمائی اور ہدایت کی کہ میں اسے انکے کفن پر لکھوں، اپنے اہلبیت کو اس کی تعلیم دوں اور انہیں اسکے پڑھنے کی ترغیب دلائوں۔ یہ ہزار اسم ہیں کہ انہیں میں اسم اعظم ہے۔مؤلف کہتے ہیں کہ اس روایت سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں ، ایک یہ کہ اس دعا کا کفن پر لکھنا مستحب ہے۔ جیسا کہ علامہ بحرالعلوم ﴿خدا انکی قبر کو معطر فرمائے ﴾نے اپنی کتاب درّہ میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔
وَسُنَّ ٲَنْ یَکْتُبَ بِالْاَکْفانِ شَھادَۃُ الاِِسْلامِ وَالْاِیْمَانِ
سنت ہے کہ میت کے کفن پر لکھا جائے، اسلام اور ایمان کی شھادت
وَھَکَذا کِتابَۃُ الْقُرْآنِ وَالْجَوْشَنِ الْمَنْعُوتِ بِالْاَمَانِ
اسی طرح قرآن کریم بھی لکھا جائے اور دعا جوشن کو لکھا جائے جو وسیلہِ حفظ و امان ہے
دوسری یہ کہ اس دعا کوآغاز ماہ رمضان میں پڑھنا مستحب ہے، لیکن اس کا شب قدر میں پڑھنے کے بارے میں مذکورہ روایت میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ تاہم علامہ مجلسی (رح) نے زاد المعاد میں شب قدر کے اعمال میں اسکا ذکر کیا ہے۔اوربعض روایات میں ہے کہ دعا جوشن کبیر کو شب قدر کی تینوںراتوں میں پڑھا جائے اور ہمارے لئے اس مقام پر بزرگوار کا فرمان ہی کافی ہے﴿اللہ انہیں دار الاسلام میں داخل کرے﴾۔ خلاصہ یہ کہ اس دعا کی ایک سو فصلیں ہیں اور ہر فصل میں اﷲ تعالیٰ کے دس اسمائ ہیں اور ضروری ہے کہ ہر فصل کے آخر میں کہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَ إلہَ إلاَّٲَنْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِیَارَبِّ۔
توپاک ہے اے وہ کہ تیرے سو اکوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس اے رب ہمیں آگ سے نجات عطا فرما ۔
بلدالامین میں ہے کہ ہر فصل سے پہلے بِسْمِ اﷲ کہیں اور ہر فصل کے بعدکہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَخَلِّصْنا
تو پاک ہے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس رحمت فرما محمد (ص) وآل (ع) محمد پر اورہمیںآگ سے نجات دے
مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
اے رب ،اے صاحب جلالت و بزرگی والے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
دعائ جوشن کبیر یہ ہے:
﴿١﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ یَا اﷲُ، یَا رَحْمنُ، یَا رَحِیمُ، یَا کَرِیمُ، یَا مُقِیمُ
اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے اﷲ اے بخشنے والے اے مہربان اے کرم کرنے والے اے ٹھہرنے والے
یَا عَظِیمُ یَا قَدِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا حَکِیمُ سُبْحانَکَ یَا لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ
اے بڑائی والے اے سب سے پہلے اے علم والے اے بردبار اے حکمت والے ۔ تو پاک ہے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد سن فریاد سن
خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ ﴿٢﴾ یَا سَیِّدَ السَّاداتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ
ہمیں آگ سے نجات دے اے پروردگار اے سرداروں کے سردار اے دعائیں قبول کرنے والے اے درجات بلند کرنے والے
یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ، یَا غَافِرَ الْخَطِیئاتِ، یَا مُعْطِیَ الْمَسْٲَلاتِ، یَا قابِلَ التَّوْباتِ، یَا سَامِعَ
اے نیکیوں میں مدد دینے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے آوازوں کے
الْاَصْواتِ، یَا عَالِمَ الْخَفِیِّاتِ، یَا دَافِعَ الْبَلِیِّاتِ ﴿٣﴾ یَا خَیْرَ الْغافِرِینَ، یَا خَیْرَ الْفاتِحِینَ،
سننے والے اے چھپی چیزوں کے جاننے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے بخشنے والوں میں بہتر اے فتح کرنے والوں میں بہتر
یَا خَیْرَ النَّاصِرِینَ یَا خَیْرَ الْحَاکِمِینَ یَا خَیْرَ الرَّازِقِینَ یَا خَیْرَ الْوَارِثِینَ یَا خَیْرَ الْحَامِدِینَ،
اے مدد کرنے والوں میں بہتر اے حاکموں میں بہتر اے رزق دینے والوں میں بہتر اے وارثوں میں بہتر اے تعریف کرنے والوں میں بہتر
یَا خَیْرَ الذَّاکِرِینَ یَا خَیْرَ الْمُنْزِلِینَ، یَا خَیْرَ الُْمحْسِنِینَ، ﴿٤﴾ یَا مَنْ لَہُ الْعِزَّۃُ وَالْجَمالُ،
اے ذکر کرنے والوں میں بہتر اے میزبانوں میں بہتراے احسان کرنے والوں میں بہتر۔ اے وہ جس کیلئے عزت اور جمال ہے
یَا مَنْ لَہُ الْقُدْرَۃُ وَالْکَمالُ، یَا مَنْ لَہُ الْمُلْکُ وَالْجَلالُ، یَا مَنْ ھُوَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ، یَا
اے وہ جس کے لیے قدرت اور کمال ہے اے وہ جسکے لیے ملک اور جلال ہے اے وہ جو بڑائی والا بلند تر ہے اے
مُنْشِیََ السَّحابِ الثِّقالِ، یَا مَنْ ھُوَ شَدِیدُ الِْمحالِ، یَا مَنْ ھُوَ سَرِیعُ الْحِسابِ، یَا مَنْ ھُوَ
بھرے بادلوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جو بہت زیادہ قوت والا ہے اے وہ جو تیز تر حساب کرنے والا ہے اے وہ جو
شَدِیدُ الْعِقابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ حُسْنُ الثَّوابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ ٲُمُّ الْکِتابِ ﴿٥﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی
سخت عذاب دینے والا ہے اے وہ جسکے ہاں بہترین ثواب ہے اے وہ جسکے پاس لوح محفوظ ہے۔ اے معبود! تجھ سے
ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَنَّانُ، یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ، یَا بُرْہانُ، یَا سُلْطانُ، یَا رِضْوانُ،
سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبت والے اے احسان کرنیوالے اے بدلہ دینے والے اے دلیل روشن اے صاحب سلطنت اے راضی ہونے والے
یَا غُفْرانُ، یَا سُبْحانُ، یَا مُسْتَعانُ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْبَیانِ ۔ ﴿٦﴾ یَا مَنْ تَواضَعَ کُلُّ شَیْئٍ
اے بخشنے والے اے پاکیزگی والے اے مدد کرنے والے اے صاحب احسان وبیان۔ اے وہ جس کی عظمت کے آگے سب چیزیں
لِعَظَمَتِہِ، یَا مَنِ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْئٍ لِقُدْرَتِہِ، یَا مَنْ ذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لِعِزَّتِہِ، یَا مَنْ خَضَعَ کُلُّ
جھکی ہوئی ہیں اے وہ جسکی قدرت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے اے وہ جسکی بڑائی کے سامنے ہر چیز پست ہے اے وہ جسکے خوف سے ہر چیز
شَیْئٍ لِھَیْبَتِہِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْئٍ مِنْ خَشْیَتِہِ، یَا مَنْ تَشَقَّقَتِ الْجِبالُ مِنْ مَخافَتِہِ، یَا مَنْ
دبی ہوئی ہے اے وہ جسکے ڈر سے ہر چیز فرمانبردار بنی ہوئی اے وہ جسکے خوف سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں اے وہ جسکے
قامَتِ السَّمَاوَاتُ بِٲَمْرِھِ یَا مَنِ اسْتَقَرَّتِ الْاَرَضُونَ بِ إذْنِہِ، یَا مَنْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِھِ، یَا
حکم سے آسمان کھڑے ہیں اے وہ جسکے اذن سے زمینیں ٹھہری ہوئی ہیں اے وہ کہ کڑکتی بجلی جسکی تسبیح خواں ہے اے
مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی ٲَھْلِ مَمْلَکَتِہِ ﴿٧﴾ یَا غافِرَ الْخَطایا یَا کاشِفَ الْبَلایا یَا مُنْتَھَی الرَّجایَا
وہ جو اپنے زیر حکومت لوگوں پر ظلم نہیں کرتا اے گناہوں کے بخشنے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے امیدوں کے آخری مقام
یَا مُجْزِلَ الْعَطایَا، یَا واھِبَ الْھَدایَا، یَا رازِقَ الْبَرایا، یَا قَاضِیَ الْمَنایا، یَا سَامِعَ الشَّکَایا،
اے بہت عطائوں والے اے تحفے عطا کرنے والے اے مخلوق کو رزق دینے والے اے تمنائیں پوری کرنے والے اے شکایتیں سننے والے
یَا بَاعِثَ الْبَرایا یَا مُطْلِقَ الاَُْساری ﴿٨﴾ یَا ذَا الْحَمْدِ وَالثَّنائِ، یَا ذَا الْفَخْرِ وَالْبَہائِ، یَا ذَا
اے مخلوق کو زندہ کرنے والے اے قیدیوں کو آزاد کرنے والے اے تعریف و ثنائ کرنے والے اے فخر و خوبی والے اے
الَْمجْدِ وَالسَّنائِ، یَا ذَا الْعَھْدِ وَالْوَفائِ، یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضائِ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْعَطَائِ، یَا ذَا
بزرگی و بلندی والے اے عہد اور وفا والے اے معافی دینے والے اور راضی ہونے والے اے عطا و بخشش کرنے والے اے
الْفَصْلِ وَالْقَضائِ، یَا ذَا الْعِزِّ وَالْبَقائِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّخائِ، یَا ذَا الاَْلاَئِ وَالنَّعْمَائِ ﴿٩﴾
فیصلے اور انصاف والے اے عزت اور بقائ والے اے عطائ و سخاوت والے اے رحمتوں اور نعمتوں والے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مانِعُ، یَا دافِعُ، یَا رافِعُ، یَا صانِعُ، یَا نافِعُ،
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے روکنے والے اے ہٹانے والے اے بلندکرنے والے اے بنانے والے اے نفع والے
یَا سامِعُ، یَا جامِعُ، یَا شافِعُ، یَا واسِعُ، یَا مُوسِعُ ﴿١٠﴾ یَا صانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ،
اے سننے والے اے جمع کرنے والے اے شفاعت کرنے والے اے کشادگی والے اے وسعت دینے والے اے ہر مصنوع کے صانع
یَا خالِقَ کُلِّ مَخْلُوقٍ یَا رازِقَ کُلِّ مَرْزُوقٍ یَا مالِکَ کُلِّ مَمْلُوکٍ یَا کَاشِفَ کُلِّ مَکْرُوبٍ
اے ہر مخلوق کے خالق اے ہررزق پانے والے کے رازق اے ہر مملوک کے مالک اے ہر دکھی کا دکھ دور کرنے والے
یَا فَارِجَ کُلِّ مَھْمُومٍ، یَا رَاحِمَ کُلِّ مَرْحُومٍ، یَا نَاصِرَ کُلِّ مَخْذُولٍ، یَا سَاتِرَ کُلِّ مَعْیُوبٍ،
اے ہر پریشان کی پریشانی مٹانے والے اے ہر رحم کیے گئے پر رحم کرنے والے اے ہر بے سہار کے مددگار اے ہربرائی پر پردہ ڈالنے والے
یَا مَلْجَٲَ کُلِّ مَطْرُودٍ ﴿١١﴾ یَا عُدَّتِی عِنْدَ شِدَّتِی، یَا رَجَائِی عِنْدَ مُصِیبَتِی، یَا مُؤْ نِسِی
اے ہر راندے گئے کی پناہ گاہ ۔اے سختی کے وقت میرے سرمایہ اے مصیبت میں میری امید گاہ
عِنْدَ وَحْشَتِی، یَا صَاحِبِی عِنْدَ غُرْبَتِی، یَا وَ لِیِّی عِنْدَ نِعْمَتِی، یَا غِیاثِی عِنْد کُرْبَتِی،
اے وحشت کے وقت میرے ہمدم اے میری تنہائی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میری کفالت کرنے والے اے دکھ درد میں میرے مددگار
یَا دَلِیلِی عِنْدَ حَیْرَتِی، یَا غَنائِی عِنْدَ افْتِقارِی، یَا مَلْجَیِی عِنْدَ اضْطِرارِی، یَا مُعِینِی عِنْدَ
اے حیرت کے وقت میرے رہنما اے محتاجی کے وقت میرے سرمایہ اے برقراری کے وقت میری پناہ گاہ اے فریاد کے وقت
مَفْزَعِی ﴿١٢﴾ یَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ یَا غَفَّارَ الذُّنُوبِ یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ یَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ
میرے مددگار ۔ اے ہر غیب کے جاننے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مصیبتیں دور کرنے والے
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ یَا طَبِیبَ الْقُلُوبِ یَا مُنَوِّرَ الْقُلُوبِ یَا ٲَنِیسَ الْقُلُوبِ، یَا مُفَرِّجَ الْھُمُومِ،
اے دلوں کو پلٹنے والے اے دلوں کے معالج اے دلوں کے روشن کرنے والے اے دلوں کے ہمدم اے غموں کی گرہ کھولنے والے
یَا مُنَفِّسَ الْغُمُومِ ﴿١٣﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا جَلِیلُ، یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ،
اے غموں کو دور کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے اے جلال والے اے جمال والے اے کارساز
یَا کَفِیلُ، یَا دَلِیلُ، یَا قَبِیلُ، یَا مُدِیلُ، یَا مُنِیلُ، یَا مُقِیلُ، یَا مُحِیلُ ﴿١٤﴾ یَا دَلِیلَ
اے سرپرست اے رہنما اے قبول کرنے والے اے رواں کرنے والے اے بخشنے والے اے معاف کرنے والے اے جگہ دینے والے اے سرگردانوں
الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ،
کے رہنما اے پکارنے والوں کی مدد کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اے پناہ طلب کرنے والوں کی پناہ
یَا ٲَمانَ الْخَائِفِینَ، یَا عَوْنَ الْمُؤْمِنِینَ، یَا رَاحِمَ الْمَساکِینَ، یَا مَلْجَٲَ الْعَاصِینَ، یَا غافِرَ
اے ڈرنے والوں کی ڈھارس اے مومنوں کے مددگار اے بے چاروں پر رحم کرنے والے اے گنہگاروں کی پناہ اے خطاکاروں
الْمُذْنِبِینَ یَا مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ ﴿١٥﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالْاِحْسانِ یَا ذَا الْفَضْلِ وَالْاِمْتِنانِ
کے بخشنے والے اے بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے اے صاحب جود و احسان اے صاحب فضل و منت
یَا ذَا الْاَمْنِ وَالْاَمانِ یَا ذَا الْقُدْسِ وَالسُّبْحانِ یَا ذَا الْحِکْمَۃِ وَالْبَیانِ یَا ذَا الرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوانِ
اے صاحب امن و امان اے طہارت و پاکیزگی والے اے حکمت و بیان والے اے رحمت و رضا والے
یَا ذَا الْحُجَّۃِ وَالْبُرْہانِ یَا ذَا الْعَظَمَۃِ وَالسُّلْطَانِ یَا ذَا الرَّٲْفَۃِ وَالْمُسْتَعانِ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالْغُفْرانِ ﴿١٦﴾
اے حجت اور روشن دلیل والے اے عظمت و سلطنت والے اے مہربانی کرنے اور مدد دینے والے اے معافی دینے اور بخشنے والے۔
یَا مَنْ ھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ ھُوَ إلہُ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ ھُوَ خالِقُ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ ھُوَ صَانِعُ
اے وہ جو ہر چیز کا پروردگار ہے اے وہ جو ہرشے کامعبود ہے اے وہ جو ہر چیز کا خالق ہے اے وہ جو ہرچیز کا
کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ ھُوَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ ، یَا مَنْ ھُوَ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ ھُوَ فَوْقَ کُلِّ شَیْئٍ،
بنانے والا ہے اے وہ جو ہر شے سے پہلے تھا اے وہ جو ہر شے کے بعد رہے گا اے وہ جو ہر شے سے بلند ہے
یَا مَنْ ھُوَ عَالِمٌ بِکُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ ھُوَ قادِرٌ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ ھُوَ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْئٍ﴿١٧﴾
اے وہ جو ہر چیز کاجاننے والا ہے اے وہ جو ہر چیز پر قادر ہے اے وہ جو باقی رہے گا جب ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُوَْمِنُ، یَا مُھَیْمِنُ، یَا مُکَوِّنُ، یَا مُلَقِّنُ، یَا مُبَیِّنُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے امن دینے والے اے نگہبان اے کائنات بنانے والے اے تلقین کرنے والے اے ظاہر کرنے والے
یَا مُھَوِّنُ، یَا مُمَکِّنُ، یَا مُزَیِّنُ، یَا مُعْلِنُ، یَا مُقَسِّمُ ۔ ﴿١٨﴾ یَا مَنْ ھُوَ فِی مُلْکِہِ مُقِیمٌ،
اے آسان کرنے والے اے قدرت دینے والے اے زینت دینے والے اے اعلان کرنے والے اے باٹنے والے ۔ اے وہ جو اپنے اقتدار پر میں پائیدار ہے
یَا مَنْ ھُوَ فِی سُلْطانِہِ قَدِیمٌ یَا مَنْ ھُو فِی جَلالِہِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ عَلَی عِبادِھِ رَحِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ
اے وہ جو اپنی سلطنت میں قدیم ہے اے وہ جو اپنی شان میں بلند تر ہے اے وہ جو اپنے بندوں پر مہربان ہے اے وہ جو
بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ عَصاھُ حَلِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ رَجاھُ کَرِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی صُنْعِہِ
ہر چیز کا جاننے والا ہے اے وہ جو نافرمان سے نرمی کرنے والا ہے اے وہ جو امیدوارپر کرم کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی صنعت میں
حَکِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی حِکْمَتِہِ لَطِیفٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ قَدِیمٌ ۔ ﴿١٩﴾ یَا مَنْ لاَ یُرْجی
حکمت والا ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں باریک بین ہے اے وہ جس کا احسان قدیم ہے۔ اے وہ جس سے اس کے فضل کی امید کی
إلاَّ فَضْلُہُ، یَا مَنْ لاَ یُسْٲَلُ إلاَّ عَفْوُھُ، یَا مَنْ لاَ یُنْظَرُ إلاَّ بِرُّھُ، یَا مَنْ لاَ یُخافُ إلاَّ عَدْلُہُ، یَا
جاتی ہے اے وہ جس کی بخشش کاسوال کیا جاتا ہے اے وہ جس سے بھلائی کی آس ہے اے وہ جسکے عدل سے خوف آتا ہے اے
مَنْ لاَ یَدُومُ إلاَّ مُلْکُہُ، یَا مَنْ لاَ سُلْطانَ إلاَّ سُلْطانُہُ، یَا مَنْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ رَحْمَتُہُ،
وہ جسکی حکومت ہمیشہ رہے گی اے وہ جسکی سلطنت کے سوا کوئی سلطنت نہیں اے وہ جسکی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
یَا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ یَا مَنْ ٲَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ لَیْسَ ٲَحَدٌ مِثْلُہُ ﴿٢٠﴾
اے وہ جسکی رحمت اسکے غضب سے آگے ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ کہ جس جیسا کوئی نہیں ہے۔
یَا فارِجَ الْھَمِّ، یَا کَاشِفَ الْغَمِّ، یَا غَافِرَ الذَّنْبِ، یَا قَابِلَ التَّوْبِ، یَا خَالِقَ الْخَلْقِ، یَا صَادِقَ
اے اندیشے ہٹا دینے والے اے غم دور کرنے والے اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے مخلوقات کے خالق اے وعدے
الْوَعْدِ یَا مُوفِیَ الْعَھْدِ، یَا عَالِمَ السِّرِّ، یَا فَالِقَ الْحَبِّ، یَا رَازِقَ الْاَنامِ ۔ ﴿٢١﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی
میں سچے اے عہد پورا کرنے والے اے راز کے جاننے والے اے دانے کو چیرنے والے اے لوگوں کے رازق۔ اے معبود میں تجھ سے
ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَلِیُّ یَا وَفِیُّ، یَا غَنِیُّ، یَا مَلِیُّ، یَا حَفِیُّ، یَا رَضِیُّ، یَا زَکِیُّ، یَا بَدِیُّ،
تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے بلند اے وفادار اے بے نیاز اے مہربان اے احسان کرے والے اے پسندیدہ اے پاکیزہ اے ابتدا کرنے والے
یَا قَوِیُّ یَا وَ لِیُّ﴿٢٢﴾ یَا مَنْ ٲَظْھَرَ الْجَمِیلَ یَا مَنْ سَتَرَ الْقَبِیحَ یَا مَنْ لَمْ یُوَاخِذْ بِالْجَرِیرَۃِ
اے قوت والے اے حاکم۔ اے وہ جس نے نیکی کو ظاہر کیا اے وہ جس نے بدی کو ڈھانپا اے وہ جس نے جرم پر گرفت نہیں فرمائی
یَا مَنْ لَمْ یَھْتِکِ السِّتْرَ، یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ، یَا بَاسِطَ
اے وہ جس نے پردہ فاش نہیں کیا اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے دونوں ہاتھوں
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوی یَا مُنْتَہی کُلِّ شَکْوی ﴿٢٣﴾ یَا ذَا النِّعْمَۃِ السَّابِغَۃِ
سے رحمت کرنے والے اے ہر سرگوشی کے مالک اے شکایت سننے والے۔ اے کامل نعمت کے مالک
یَا ذَا الرَّحْمَۃِ الْواسِعَۃِ، یَا ذَا الْمِنَّۃِ السَّابِقَۃِ، یَا ذَا الْحِکْمَۃِ الْبَالِغَۃِ، یَا ذَا الْقُدْرَۃِ الْکَامِلَۃِ،
اے وسیع رحمت والے اے احسان میں پہل کرنے والے اے بھرپور حکمت والے اے کامل قدرت والے
یَا ذَا الْحُجَّۃِ الْقَاطِعَۃِ یَا ذَا الْکَرامَۃِ الظَّاھِرَۃِ یَا ذَا الْعِزَّۃِ الدَّائِمَۃِ، یَا ذَا الْقُوَّۃِ الْمَتِینَۃِ، یَا ذَا
اے قاطع دلیل والے اے کھلی سخاوت والے اے ہمیشہ کی عزت والے اے مضبوط قوت والے اے سب سے
الْعَظَمَۃِ الْمَنِیعَۃِ﴿٢٤﴾ یَا بَدِیعَ السَّمَاواتِ یَا جَاعِلَ الظُّلُماتِ یَا رَاحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ
زیادہ عظمت والے۔ اے آسمانوں کے بنانے والے اے تاریکیوں کو وجود میں لانے والے اے آنسوؤں پر رحم کرنے والے اے لغزشوں کے
الْعَثَراتِ، یَا سَاتِرَ الْعَوْراتِ، یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ، یَا مُنْزِلَ الاَْیاتِ، یَا مُضَعِّفَ الْحَسَنَاتِ،
معاف کرنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے آیات کے نازل کرنے والے اے نیکیوں کو دوچند کرنے والے
یَا مَاحِیَ السَّیِّئاتِ، یَا شَدِیدَ النَّقِماتِ ﴿٢٥﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ یَا مُصَوِّرُ،
اے گناہوںکے مٹانے والے اے سخت بدلہ لینے والے۔اے معبود! میں تجھ سے تیرے ہی نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے صورت ساز
یَا مُقَدِّرُ یَا مُدَبِّرُ یَا مُطَہِّرُ یَا مُنَوِّرُ یَا مُیَسِّرُ، یَا مُبَشِّرُ، یَا مُنْذِرُ، یَا مُقَدِّمُ، یَا مُوََخِّرُ ﴿٢٦﴾
اے تقدیر بنانے والے اے تدبیر کرنے والے اے پاک کرنے والے اے روشن کرنے والے اے آسان کرنے والے اے بشارت دینے والے اے سب سے پہلے اے سب سے آخری
یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الشَّھْرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، یَا رَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ
اے مقدس گھر کے رب اے مقدس مہینے کے رب اے مقدس شہر کے رب اے رکن و مقام کے رب
یَا رَبَّ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ یَا رَبَّ النُّورِ وَالظَّلامِ
اے معشر الحرام کے رب اے مسجد الحرام کے رب اے حلال و حرام کے رب اے روشنی و تاریکی کے رب
یَا رَبَّ التَّحِیَّۃِ وَالسَّلامِ یَا رَبَّ الْقُدْرَۃِ فِی الْاَنامِ۔ ﴿٢٧﴾ یَا ٲَحْکَمَ الْحاکِمِینَ، یَا ٲَعْدَلَ
اے درود و سلام کے رب اے لوگوںمیں زیادہ توانائی پیدا کرنے والے۔ اے حاکموں میں بڑے حاکم اے عادلوں میں
الْعادِلِینَ یَا ٲَصْدَقَ الصَّادِقِینَ یَا ٲَطْھَرَ الطَّاھِرِینَ یَا ٲَحْسَنَ الْخالِقِینَ یَا ٲَسْرَعَ الْحاسِبِینَ
زیادہ عادل اے سچوں میں زیادہ سچے اے پاکوں میں پاک تر اے خالقوں میں بہترین خالق اے حساب کرنے والوں میں زیادہ تیز
یَا ٲَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا ٲَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا ٲَشْفَعَ الشَّافِعِینَ، یَا ٲَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ ۔ ﴿٢٨﴾
اے سننے والوں میں زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے اے شفاعت کرنے والوں میں بڑے شفیع اے بزرگی والوں میں بڑے بزرگ۔
یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَہُ، یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ، یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَہُ، یَا حِرْزَ مَنْ
اے اسکا آسراجسکا کوئی آسرا نہیں اے اسکے سہارے جسکا کوئی سہارا نہیں اے اسکے سرمایہ جسکا کوئی سرمایہ نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی
لاَ حِرْزَ لَہُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ، یَا فَخْرَ مَنْ لاَ فَخْرَ لَہُ، یَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَہُ، یَا مُعِینَ
پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکی بڑائی جسکا کوئی فخرنہیں اے اسکی عزت جس کیلئے عزت نہیں اے اسکے مددگار
مَنْ لاَ مُعِینَ لَہُ یَا ٲَنِیسَ مَنْ لاَ ٲَنِیسَ لَہُ یَا ٲَمانَ مَنْ لاَ ٲَمانَ لَہُ ﴿٢٩﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ
جسکا کوئی مددگار نہیںاے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں ۔ اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے
بِاسْمِکَ یَا عَاصِمُ، یَا قائِمُ، یَا دائِمُ، یَا راحِمُ، یَا سالِمُ، یَا حاکِمُ، یَا عالِمُ، یَا قاسِمُ، یَا
واسطے سے سوال کرتا ہوں اے پناہ دینے والے اے پائیدار اے ہمیشگی والے اے رحم کرنے والے اے بے عیب اے حکومت کے مالک اے علم والے اے تقسیم کرنے والے اے
قابِضُ، یَا باسِطُ ۔ ﴿٣٠﴾ یَا عاصِمَ مَنِ اسْتَعْصَمَہُ، یَا راحِمَ مَنِ اسْتَرْحَمَہُ، یَا غافِرَ مَنِ
بند کرنے والے اے کھولنے والے۔ اے اسکے نگہدار جو نگہداری چاہے اے اس پر رحم کرنے والے جو رحم کا طالب ہو اے اسکے بخشنے والے
اسْتَغْفَرَھُ، یَا ناصِرَ مَنِ اسْتَنْصَرَھُ، یَا حافِظَ مَنِ اسْتَحْفَظَہُ، یَا مُکْرِمَ مَنِ اسْتَکْرَمَہُ،
جو طالب ِبخشش ہو اے اسکی نصرت کرنے والے جو نصرت چاہے اے اسکی حفاظت کرنے والے جو حفاظت چاہے اے اسکو بڑائی دینے والے جو بڑائی طلب کرے
یَا مُرْشِدَ مَنِ اسْتَرْشَدَھُ یَا صَرِیخَ مَنِ اسْتَصْرَخَہُ یَا مُعِینَ مَنِ اسْتَعانَہُ یَا مُغِیثَ مَنِ اسْتَغاثَہُ ﴿٣١﴾
اے اسکی رہنمائی کرنے والے جو رہنمائی چاہے اے اسکے داد رس جو دادرسی چاہے اے اسکے مددگار جو مددطلب کرے اے اسکے فریاد رس جو فریادکرے۔
یَا عَزِیزاً لاَ یُضامُ، یَا لَطِیفاً لاَ یُرامُ، یَا قَیُّوماً لاَ یَنامُ، یَا دائِماً لاَ یَفُوتُ، یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ،
اے وہ غالب جو ظلم نہیں کرتا اے وہ باریک جو نظر انداز نہیں ہوتا اے وہ نگہبان جو سوتا نہیں اے وہ جاوداں جو مرتا نہیں اے وہ زندہ جسے موت نہیں
یَا مَلِکاً لاَ یَزُولُ یَا باقِیاً لاَ یَفْنی یَا عالِماً لاَ یَجْھَلُ یَا صَمَداً لاَ یُطْعَمُ یَا قَوِیّاً لاَ یَضْعُفُ﴿٣٢﴾
اے وہ بادشاہ جسے زوال نہیں اے وہ باقی جو فانی نہیں اے وہ عالم جس میں جہل نہیں اے وہ بے نیاز جو کھاتا نہیں اے وہ قوی جسے ضعف نہیں۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا ٲَحَدُ، یَا واحِدُ، یَا شاھِدُ، یَا ماجِدُ، یَا حامِدُ، یَا راشِدُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے یکتا اے یگانہ اے حاضر اے بزرگوار اے تعریف والے اے رہنما
یَا باعِثُ یَا وارِثُ یَا ضارُّ یَا نافِعُ ﴿٣٣﴾ یَا ٲَعْظَمَ مِنْ کُلِّ عَظِیمٍ یَا ٲَکْرَمَ مِنْ کُلِّ کَرِیمٍ
اے اٹھانے والے اے وارث اے خسارہ دینے والے اے نفع دینے والے۔ اے سب بڑوں سے بڑے اے سب بزرگوں سے بزرگ تر
یَا ٲَرْحَمَ مِنْ کُلِّ رَحِیمٍ یَا ٲَعْلَمَ مِنْ کُلِّ عَلِیمٍ یَا ٲَحْکَمَ مِنْ کُلِّ حَکِیمٍ یَا ٲَقْدَمَ مِنْ کُلِّ قَدِیمٍ
اے سب مہربانوں سے مہربان اے ہر عالم سے بڑے عالم اے ہر حکیم سے بڑے حکیم اے ہر قدیم سے قدیم تر
یَا ٲَکْبَرَ مِنْ کُلِّ کَبِیرٍ یَا ٲَلْطَفَ مِنْ کُلِّ لَطِیفٍ یَا ٲَجَلَّ مِن کُلِّ جَلِیلٍ یَا ٲَعَزَّ مِنْ کُلِّ عَزِیزٍ﴿٣٤﴾
اے ہر بزرگ سے بزرگ تر اے ہر لطیف سے زیادہ لطیف اے ہر جلال والے سے زیادہ جلال والے اے ہرزبردست سے زیادہ زبردست۔
یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ یَا کَثِیرَ الْخَیْرِ، یَا قَدِیمَ الْفَضْلِ، یَا دائِمَ اللُّطْفِ، یَا لَطِیفَ
اے بہتر درگزر کرنے والے اے بڑے احسان والے اے زیادہ خیروالے اے قدیم فضل والے اے ہمیشہ کے لطف والے اے خوبصورت
الصُّنْعِ یَا مُنَفِّسَ الْکَرْبِ یَا کاشِفَ الضُّرِّ، یَا مالِکَ الْمُلْکِ، یَا قاضِیَ الْحَقِّ ۔ ﴿٣٥﴾
صنعت والے اے سختی دور کرنے والے اے دکھ دور کرنے والے اے ہر ملک کے مالک اے حق کا فیصلہ دینے والے۔
یَا مَنْ ھُوَ فِی عَھْدِھِ وَفِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی وَفائِہِ قَوِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی قُوَّتِہِ عَلِیٌّ ، یَا مَنْ ھُوَ فِی
اے وہ جو اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی وفا میں قوی ہے اے وہ جو اپنی قوت میں بلند ہے اے وہ جو اپنی بلندی
عُلُوِّھِ قَرِیبٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی قُرْبِہِ لَطِیفٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ شَرِیفٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی شَرَفِہِ عَزِیزٌ
میں قریب ہے اے وہ جو اپنے قرب میں مہربان ہے اے وہ جو اپنے لطف میں کریم ہے اے وہ جو اپنی کرم میں عزت دار ہے
یَا مَنْ ھُوَ فِی عِزِّھِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی عَظَمَتِہِ مَجِیدٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی مَجْدِھِ حَمِیدٌ ﴿٣٦﴾
اے وہ جو اپنی عزت میں عظیم ہے اے وہ جو اپنی عظمت میں بلند مرتبہ ہے اے وہ جو اپنے مرتبے میں تعریف والا ہے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا کافِی، یَا شافِی، یَا وافِی، یَا مُعافِی، یَا
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کفایت کرنے والے اے شفادینے والے اے وفاداراے عافیت دینے والے اے
ہادِی، یَا داعِی، یَا قاضِی، یَا راضِی، یَا عالِی، یَا باقِی ﴿٣٧﴾ یَا مَنْ
ہدایت دینے والے اے بلانے والے اے فیصلے کرنے والے اے خوشنودی والے اے بلندی والے اے باقی رہنے والے۔ اے
کُلُّ شَیْئٍ خاضِعٌ لَہُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ خاشِعٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ کائِنٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ
وہ جسکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اے وہ جسکے آگے ہر چیز خوف زدہ ہے اے وہ جس سے ہر چیز کو وجود ملا ہے اے وہ جسکے
مَوْجُودٌ بِہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ مُنِیبٌ إلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ خائِفٌ مِنْہُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ قائِمٌ بِہِ
ذریعے ہر چیز موجود ہوئی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز کی بازگشت ہے اے وہ جس سے ہرچیز ڈرتی ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز باقی ہے
یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ صائِرٌ إلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ یُسَبِّحُ بِحَمْدِھِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ ہالِکٌ إلاَّ وَجْھَہُ﴿٣٨﴾
اے وہ جسکی طرف ہر چیز لوٹتی ہے اے وہ کہ ہر چیز جسکی حمد میں مصروف ہے اے وہ کہ جسکے جلوے کے سوا ہر چیز ناپید ہو جائے گی۔
یَا مَنْ لاَ مَفَرَّ إلاَّ إلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَفْزَعَ إلاَّ إلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَقْصَدَ إلاَّ إلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَنْجَیً مِنْہُ إلاَّ إلَیْہِ،
اے وہ جسکے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اے وہ جسکے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اے وہ جسکے سوا کوئی منزلِ مقصود نہیںاے وہ جسکے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں
یَا مَنْ لاَ یُرْغَبُ إلاَّ إلَیْہِ، یَا مَنْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِہِ، یَا مَنْ لاَ یُسْتَعانُ إلاَّ بِہِ، یَا مَنْ لاَ
اے وہ جسکے بغیر کسی شئی میںرغبت نہیں ہو سکتی اے وہ کہ نہیں ہے طاقت و قوت مگر اسی سے اے وہ جسکے سوا کہیں سے مدد نہیں مل سکتی اے وہ جسکے سوا
یُتَوَکَّلُ إلاَّ عَلَیْہِ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إلاَّ ھُوَ یَا مَنْ لاَ یُعْبَدُ إلاَّ ھُوَ ﴿٣٩﴾ یَا خَیْرَ الْمَرْھُوبِینَ
کسی پر بھروسہ نہیں ہو سکتا اے وہ جسکے سوا کسی سے امید نہیں ہوسکتی اے وہ جسکے سوا کسی کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ اے بہترین ذات جس سے ڈرا جائے
یَا خَیْرَ الْمَرْغُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَطْلُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ، یَا خَیْرَ الْمَقْصُودِینَ یَا خَیْرَ
اے بہترین لبھانے والے اے بہترین طلب کیے جانے والے اے بہترین سوال کیے جانے والے اے بہترین قصد کیے جانے والے اے بہترین
الْمَذْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَشْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَحْبُوبِینَ یَا خَیْرَ الْمَدْعُوِّینَ یَا خَیْرَ الْمُسْتَٲْنِسِینَ﴿٤٠﴾
ذکر کیے جانے والے اے بہترین شکرکیے جانے والے اے بہترین محبت کیے جانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے بہترین مانوس کیے جانے والے۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ یَا غافِرُ یَا ساتِرُ یَا قادِرُ یَا قاھِرُ یَا فاطِرُ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام سے اے معاف کرنے والے اے چھپانے والے اے قدرت والے اے غلبے والے اے پیدا کرنیوالے
یَا کاسِرُ یَا جابِرُ یَا ذاکِرُ، یَا ناظِرُ، یَا ناصِرُ ﴿٤١﴾ یَا مَنْ خَلَقَ فَسَوَّی،
اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے ذکر کرنیوالے اے دیکھنے والے اے مدد کرنے والے۔ اے وہ جس نے پیدا کیا پھر درست کیا
یَا مَنْ قَدَّرَ فَھَدی، یَا مَنْ یَکْشِفُ الْبَلْوی ، یَا مَنْ یَسْمَعُ النَّجْوی، یَا مَنْ یُنْقِذُ الْغَرْقی،
اے وہ جس نے تقدیر بنائی پھرہدایت دی اے وہ جو بلائیں دور کرتا ہے اے وہ جو سرگوشیاں سنتا ہے اے وہ جو ڈوبنے والوں کو بچاتا ہے
یَا مَنْ یُنْجِی الْھَلْکی یَا مَنْ یَشْفِی الْمَرْضی یَا مَنْ ٲَضْحَکَ وَٲَبْکی، یَا مَنْ ٲَماتَ وَٲَحْیی
اے وہ جو ہلاکتوں سے نجات دیتا ہے اے وہ جو مریضوں کو شفا دیتا ہے اے وہ جو ہنساتا اور رلاتا ہے اے وہ جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے
یَا مَنْ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثیٰ ﴿٤٢﴾ یَا مَنْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سَبِیلُہُ یَا مَنْ فِی
اے وہ جس نے نر اور مادہ جوڑے بنائے اے وہ جس نے خاک و آب میں راستے بنائے اے وہ جس نے فضا میں
الْآفاقِ آیاتُہُ یَا مَنْ فِی الاَْیاتِ بُرْہانُہُ، یَا مَنْ فِی الْمَماتِ قُدْرَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْقُبُورِ عِبْرَتُہُ،
اپنی نشانیاں بنائیں اے وہ جسکی نشانیوں میں قوی دلیل ہے اے وہ کہ موت میں جسکی قدرت ظاہرہے اے وہ جس نے قبروں میں عبرت رکھی ہے
یَا مَنْ فِی الْقِیامَۃِ مُلْکُہُ، یَا مَنْ فِی الْحِسابِ ھَیْبَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْمِیزانِ قَضاؤُہُ، یَا مَنْ فِی
اے وہ کہ قیامت میں جسکی بادشاہت ہے اے وہ کہ حساب میں جسکی ہیبت ہے اے وہ کہ میزان عمل میں جسکی منصفی ہے اے وہ کہ جس کیطرف سے
الْجَنَّۃِ ثَوابُہُ یَا مَنْ فِی النَّارِ عِقابُہُ ﴿٤٣﴾ یَا مَنْ إلَیْہِ یَھْرَبُ الْخائِفُونَ، یَا مَنْ إلَیْہِ یَفْزَعُ
ثوابِ جنت ہے اے وہ کہ جسکا عذاب دوزخ ہے۔ اے وہ کہ خوف زدہ جسکی طرف بھاگتے ہیں اے وہ کہ گنہگار جسکی
الْمُذْنِبُونَ یَا مَنْ إلَیْہِ یَقْصِدُ الْمُنِیبُونَ یَا مَنْ إلَیْہِ یَرْغَبُ الزَّاھِدُونَ یَا مَنْ إلَیْہِ یَلْجَٲُ الْمُتَحَیِّرُونَ
پناہ لیتے ہیں اے وہ کہ توبہ کرنے والے جسکا قصد کرتے ہیں اے وہ کہ جسکی طرف پرہیز گار رغبت کرتے ہیں اے وہ کہ پریشان لوگ جسکی پناہ چاہتے ہیں
یَا مَنْ بِہِ یَسْتَٲْنِسُ الْمُرِیدُونَ یَا مَنْ بِہِ یَفْتَخِرُ الْمُحِبُّونَ یَا مَنْ فِی عَفْوِہِ یَطْمَعُ الْخاطِئُونَ
اے وہ کہ ارادہ کرنے والے جس سے مانوس ہیں اے وہ کہ جس پر محبت کرنے والے فخر کرتے ہیںاے وہ کہ خطاکار جسکے عفو کی خواہش رکھتے ہیں
یَا مَنْ إلَیْہِ یَسْکُنُ الْمُوقِنُونَ یَا مَنْ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ ﴿٤٤﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ
اے وہ جسکے ہاں یقین والے سکون پاتے ہیں اے وہ کہ توکل کرنے والے جس پر توکل کرتے ہیں۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا حَبِیبُ یَا طَبِیبُ یَا قَرِیبُ یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ یَا مُھِیبُ یَا مُثِیبُ یَا مُجِیبُ
تیرے نام کے واسطے سے اے محبوب اے چارہ گر اے نزدیک تر اے نگہدار اے حساب رکھنے والے اے ہیبت والے اے ثواب دینے والے اے دعا قبول کرنے والے
یَا خَبِیرُ یَا بَصِیرُ ﴿٤٥﴾ یَا ٲَقْرَبَ مِنْ کُلِّ قَرِیبٍ یَا ٲَحَبَّ مِنْ کُلِّ حَبِیبٍ یَا ٲَبْصَرَ مِنْ
اے با خبر اے بینا۔ اے ہر قریب سے زیادہ قریب اے ہر محب سے زیادہ محبت کرنے والے اے ہر دیکھنے والے
کُلِّ بَصِیرٍ یَا ٲَخْبَرَ مِنْ کُلِّ خَبِیرٍ یَا ٲَشْرَفَ مِنْ کُلِّ شَرِیفٍ یَا ٲَرْفَعَ مِنْ کُلِّ رَفِیعٍ یَا ٲَقْوی
سے زیادہ بینا اے ہر باخبر سے زیادہ خبر والے اے ہر بزرگ سے زیادہ بزرگ اے ہر بلند سے زیادہ بلند اے ہر توانا
مِنْ کُلِّ قَوِیٍّ یَا ٲَغْنی مِنْ کُلِّ غَنِیٍّ یَا ٲَجْوَدَ مِنْ کُلِّ جَوادٍ یَا ٲَرْٲَفَ مِنْ کُلِّ رَؤُوفٍ ﴿٤٦﴾
سے زیادہ توانا اے ہر باثروت سے زیادہ باثروت اے ہر داتا سے زیادہ دینے والے اے ہر مہربان سے زیادہ مہربان۔
یَا غالِباً غَیْرَ مَغْلُوبٍ یَا صانِعاً غَیْرَ مَصْنُوعٍ یَا خالِقاً غَیْرَ مَخْلُوقٍ یَا مالِکاً غَیْرَ مَمْلُوکٍ
اے وہ غالب جس پر کوئی غالب نہیں اے وہ صانع جسے کسی نے نہیں بنایا اے وہ خالق جو خلق نہیں ہوا اے وہ مالک جسکا کوئی مالک نہیں
یَا قاھِراً غَیْرَ مَقْھُورٍ، یَا رافِعاً غَیْرَ مَرْفُوعٍ، یَا حافِظاً غَیْرَ مَحْفُوظٍ، یَا ناصِراً
اے وہ زبردست جو کسی کے زیر نگیں نہیں اے وہ بلند جسے کسی نے بلند نہیں کیا اے وہ نگہبان جسکا کوئی نگہبان نہیں اے وہ مددگار
غَیْرَ مَنْصُورٍ یَا شاھِداً غَیْرَ غائِبٍ یَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ ﴿٤٧﴾ یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُنَوِّرَ النُّورِ،
جسکا کوئی مددگار نہیں اے وہ حاضر جو کہیں بھی غائب نہیں اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوا۔ اے نور کی روشنی اے نور روشن کرنے والے
یَا خالِقَ النُّورِ یَا مُدَبِّرَ النُّورِ، یَا مُقَدِّرَ النُّورِ، یَا نُورَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً قَبْلَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً
اے نور پیدا کرنے والے اے نور کا بندوبست کرنے والے اے نور کی اندازہ گیری کرنے والے اے نور کی روشنی اے ہر نور سے اولین نور
بَعْدَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً فَوْقَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً لَیْسَ کَمِثْلِہِ نُورٌ ﴿٤٨﴾ یَا مَنْ عَطَاؤُہُ شَرِیفٌ
اے ہر نور کے بعد روشن رہنے والے اے ہرنور سے بالاتر نور اے وہ نور جسکی مثل کوئی نور نہیں۔ اے وہ جسکی عطا بلند تر ہے
یَا مَنْ فِعْلُہُ لَطِیفٌ یَا مَنْ لُطْفُہُ مُقِیمٌ یَا مَنْ إحْسانُہُ قَدِیمٌ یَا مَنْ قَوْلُہُ حَقٌّ یَا مَنْ وَعْدُہُ صِدْقٌ
اے وہ جسکا فعل باریک تر ہے اے وہ جسکا لطف پائندہ ہے اے وہ جسکا احسان قدیم ہے اے وہ جسکا قول حق ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے
یَا مَنْ عَفْوُہُ فَضْلٌ، یَا مَنْ عَذابُہُ عَدْلٌ، یَا مَنْ ذِکْرُہُ حُلْوٌ، یَا مَنْ فَضْلُہُ عَمِیمٌ ۔ ﴿٤٩﴾
اے وہ جسکی عفو میں احسان ہے اے وہ جسکے عذاب میں عدل ہے اے وہ جسکا ذکر شیریں ہے اے وہ جسکا احسان عام ہے۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُسَہِّلُ، یَا مُفَصِّلُ، یَا مُبَدِّلُ، یَا
اے معبودمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے ہموار کرنے والے اے جدا کرنے والے اے تبدیل کرنے والے اے
مُذَلِّلُ، یَا مُنَزِّلُ، یَا مُنَوِّلُ، یَا مُفْضِلُ، یَا مُجْزِلُ، یَا مُمْھِلُ، یَا مُجْمِلُ ۔ ﴿٥٠﴾
پست کرنیوالے اے اتارنے والے اے عطا کرنے والے اے نعمت دینے والے اے احسان کرنیوالے اے مہلت دینے والے اے نیکوکار۔
یَا مَنْ یَری وَلاَ یُری، یَا مَنْ یَخْلُقُ وَلاَ یُخْلَقُ، یَا مَنْ یَھْدِی وَلاَ یُھْدی، یَا مَنْ یُحْیِی
اے وہ جو دیکھتا ہے خود نظر نہیں آتا اے وہ جو خلق کرتا ہے اور خلق نہیں ہوا اے وہ جو ہدایت دیتا ہے اور ہدایت طلب نہیں کرتا اے وہ جو زندہ کرتا ہے
وَلاَ یُحْیی، یَا مَنْ یَسْٲَلُ وَلاَ یُسْٲَلُ، یَا مَنْ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ، یَا مَنْ یُجِیرُ وَلاَ یُجارُ عَلَیْہِ، یَا
اور زندہ نہیں کیا گیا اے وہ جومسئول ہے اور سائل نہیں اے وہ جو کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں اے وہ جو پناہ دیتا ہے اور محتاجِ پناہ نہیں ہے
مَنْ یَقْضِی وَلاَ یُقْضی عَلَیْہِ، یَا مَنْ یَحْکُمُ وَلاَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ، یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
اے وہ جو فیصلے کرتا ہے اور طالبِ فیصلہ نہیں ہے اے وہ جو حکم دیتا ہے اور اس پر کسی کا حکم نہیں اے وہ جسکا کوئی بیٹا نہیں نہ وہ کسی کا بیٹا ہے
وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ۔﴿٥١﴾ یَا نِعْمَ الْحَسِیبُ، یَا نِعْمَ الطَّبِیبُ، یَا نِعْمَ الرَّقِیبُ، یَا نِعْمَ
اور نہ کوئی اسکا ہمسر ہے۔ اے بہترین حساب کرنے والے اے بہترین چارہ گر اے بہترین نگہبان اے بہترین
الْقَرِیبُ یَا نِعْمَ الْمُجِیبُ، یَا نِعْمَ الْحَبِیبُ، یَا نِعْمَ الْکَفِیلُ، یَا نِعْمَ الْوَکِیلُ، یَا نِعْمَ الْمَوْلیٰ،
قریب اے بہترین دعا قبول کرنے والے اے وہ جو بہترین محبوب ہے اے وہ جو بہترین سرپرست ہے اے وہ جو بہترین کارساز ہے اے بہترین آقا
یَا نِعْمَ النَّصِیرُ۔ ﴿٥٢﴾ یَا سُرُورَ الْعارِفِینَ یَا مُنَی الْمُحِبِّینَ یَا ٲَنِیسَ الْمُرِیدِینَ، یَا حَبِیبَ
اے بہترین یاور۔ اے عارفوں کی شادمانی اے حب داروں کی تمنا اے ارادت مندوںکے ہمدم اے توبہ کرنے
التَّوَّابِینَ، یَا رازِقَ الْمُقِلِّینَ، یَا رَجائَ الْمُذْنِبِینَ، یَا قُرَّ ۃَ عَیْنِ الْعابِدِینَ
والوں کے محبوب اے بے مایہ لوگوں کے رازق اے گناہگاروں کی آس اے عبادت کرنے والوں کی آنکھوں کی ڈھنڈک
، یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُومِینَ، یَا إلہَ الْاَوَّلِینَ
اے دکھیاروں کے دکھ دور کرنے والے اے غمزدوں کا غم مٹانے والے اے اولین
وَالاَْخِرِینَ ۔ ﴿٥٣﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا رَبَّنا، یَا إلھَنا، یَا
و آخرین کے معبود۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی نام کے واسطے سے اے ہمارے رب اے ہمارے معبود اے
سَیِّدَنا، یَا مَوْلانا، یَا ناصِرَنا، یَا حافِظَنا، یَا دَلِیلَنا، یَا مُعِینَنا، یَا
ہمارے سردار اے ہمارے آقا اے ہمارے یاور اے ہمارے محافظ اے ہمارے رہنما اے ہمارے مددگار اے
حَبِیبَنا، یَا طَبِیبَنا ۔ ﴿٥٤﴾ یَا رَبَّ النَّبِیِّینَ وَ الْاَبْرارِ، یَا رَبَّ الصِّدِّیقِینَ
ہمارے محبوب اے ہمارے چارہ گر۔ اے انبیائ و صالحین کے پروردگار اے صدیقوں اور
وَالْاَخْیارِ، یَا رَبَّ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، یَا رَبَّ الصِّغارِ وَالْکِبارِ، یَا رَبَّ
نیک لوگوں کے پروردگار اے جنت و دوزخ کے مالک اے چھوٹے بڑے کے رب اے دانہ و ثمر
الْحُبُوبِ وَالثِّمارِ، یَا رَبَّ الْاَ نْہارِ وَالْاَشْجارِ، یَا رَبَّ الصَّحارِی
کے پروان چڑھانے والے اے دریائوں اور درختوں کے مالک اے صحرائوں اور
وَالْقِفارِ، یَا رَبَّ الْبَرارِی وَالْبِحارِ، یَا رَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّہارِ، یَا رَبَّ
بستیوں کے مالک اے صحراؤں اور سمندروں کے مالک اے دن اور رات کے مالک اے کھلی
الْاِعْلانِ وَالْاِسْرارِ ۔ ﴿٥٥﴾ یَا مَنْ نَفَذَ فِی کُلِّ شَیْئٍ ٲَمْرُھُ، یَا مَنْ لَحِقَ
اور چھپی باتوں کے مالک۔ اے وہ جسکا حکم ہر چیز پر نافذ ہے اے وہ جسکا علم
بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ بَلَغَتْ إلی کُلِّ شَیْئٍ قُدْرَتُہُ، یَا مَنْ
ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ جسکی قدرت ہر چیز تک پہنچی ہوئی ہے اے وہ جسکی
لاَیُحْصِی الْعِبادُ نِعَمَہُ، یَا مَنْ لاَ تَبْلُغُ الْخَلائِقُ شُکْرَہُ، یَا مَنْ لاَتُدْرِکُ
نعمتوں کوبندے گن نہیں سکتے اے وہ کہ مخلوقات جسکاشکریہ ادا نہیں کر سکتیں اے وہ کہ جسکی جلالت سمجھ میں نہیں
الْاَفْہامُ جَلالَہُ، یَا مَنْ لاَ تَنالُ الْاَوْہامُ کُنْھَہُ، یَا مَنِ الْعَظَمَۃُ
آسکتی اے وہ کہ جسکی حقیقت کو وہم پا نہیں سکتے اے وہ کہ بزرگی اور بڑائی
وَالْکِبْرِیَائُ رِداؤُہُ، یَا مَنْ لاَ یَرُدُّ الْعِبادُ قَضائَہُ، یَا مَنْ لاَ مُلْکَ إلاَّ
جسکا لباس ہے اے وہ جسکی قضا کو بندے ٹال نہیں سکتے اے وہ جسکے سوا کسی کی
مُلْکُہُ، یَا مَنْ لاَ عَطائَ إلاَّ عَطاؤُہُ ۔ ﴿٥٦﴾ یَا مَنْ لَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلی، یَا
حکومت نہیں اے وہ جسکی عطا کے سوا کوئی عطا نہیں۔ اے وہ جسکے لئے اعلٰی نمونہ ہے اے
مَنْ لَہُ الصِّفاتُ الْعُلْیا، یَا مَنْ لَہُ الاَْخِرۃُ وَالاَُْولی، یَا مَنْ لَہُ جَنَّۃُ
وہ جسکے لیے بلند صفات ہیں اے وہ دنیا و آخرت جسکی ملکیت ہیں اے وہ جو جنت الماویٰ کا
الْمَٲْوی، یَا مَنْ لَہُ الاَْیاتُ الْکُبْری، یَا مَنْ لَہُ الْاَسْمائُ الْحُسْنی، یَا
مالک ہے اے وہ جسکی نشانیاں عظیم ہیں اے وہ جسکے نام پسندیدہ ہیں اے
مَنْ لَہُ الْحُکْمُ وَالْقَضائُ، یَا مَنْ لَہُ الْھَوائُ وَالْفَضائُ، یَا مَنْ لَہُ الْعَرْشُ
وہ جو حکم و فیصلے کا مالک ہے اے وہ کہ ہوا و فضا جسکی ملک ہیں اے وہ جو عرش و
وَالثَّری، یَا مَنْ لَہُ السَّمَاوَاتُ الْعُلی ۔ ﴿٥٧﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
فرش کا مالک ہے اے وہ جو بلند آسمانوں کا مالک ہے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا عَفُوُّ، یَا غَفُورُ، یَا صَبُورُ، یَا شَکُورُ، یَا رَؤُوفُ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے معافی دینے والے اے بخشنے والے اے بہت صبر والے اے بہت شکر والے اے مہربان اے
عَطُوفُ، یَا مَسْؤُولُ، یَا وَدُودُ، یَا سُبُّوحُ، یَا قُدُّوسُ ۔ ﴿٥٨﴾ یَا مَنْ فِی
نرم خو اے مسئول اے محبت والے اے پاک تر اے پاکیزہ۔ اے وہ کہ آسمان
السَّمائِ عَظَمَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْاَرْضِ آیاتُہُ، یَا مَنْ فِی کُلِّ شَیْئٍ
میں جسکی بڑائی ہے اے وہ کہ زمین میں جسکی نشانیاں ہیں اے وہ ہر چیز میں جس
دَلائِلُہُ، یَا مَنْ فِی الْبِحارِ عَجائِبُہُ، یَا مَنْ فِی الْجِبالِ خَزائِنُہُ، یَا مَنْ
کی دلیلیں ہیں اے وہ کہ سمندروں میں جسکی انوکھی چیزیں ہیں اے وہ پہاڑوں میں جسکے خزانے ہیں اے وہ جس نے
یَبْدَٲُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ، یَا مَنْ إلَیْہِ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ، یَا مَنْ ٲَظْھَرَ فِی
خلق کو ظاہر کیا پھر جاری رکھا اے وہ جسکی طرف ہر امر کی بازگشت ہے اے وہ جسکا لطف
کُلِّ شَیْئٍ لُطْفَہُ، یَا مَنْ ٲَحْسَنَ کُلَّ شَیْئٍ خَلْقَہُ، یَا مَنْ تَصَرَّفُ فِی
ہر چیز میں عیاں ہے اے وہ جس نے ہرچیز کو خوبی سے خلق کیا اے وہ جسکی قدرت مخلوقات میں
الْخَلائِقِ قُدْرَتُہُ ۔ ﴿٥٩﴾ یَا حَبِیبَ مَنْ لاَ حَبِیبَ لَہُ، یَا طَبِیبَ مَنْ لاَ
اثراندازی کر رہی ہے۔ اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکے چارہ گر جسکا کوئی
طَبِیبَ لَہُ، یَا مُجِیبَ مَنْ لاَ مُجِیبَ لَہُ، یَا شَفِیقَ مَنْ لاَ شَفِیقَ لَہُ، یَا
چارہ گر نہیں اے اسکی دعا قبول کرنے والے جسکی کوئی قبول کرنے والا نہیں اے اسکے مہربان جس پرکوئی مہربان نہیں اے
رَفِیقَ مَنْ لاَ رَفِیقَ لَہُ، یَا مُغِیثَ مَنْ لاَ مُغِیثَ لَہُ، یَا دَلِیلَ مَنْ لاَ دَلِیلَ
اسکے ہمراہی جس کا کوئی ہمراہی نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے رہنما جسکا کوئی رہنمانہیں
لَہُ، یَا ٲَنِیسَ مَنْ لاَ ٲَنِیسَ لَہُ، یَا راحِمَ مَنْ لاَ راحِمَ لَہُ، یَا صاحِبَ مَنْ
اے اسکے ہمدم جسکا کوئی ہمدم نہیں اے اس پر رحم کرنے والے جس پر رحم کرنے والا کوئی نہیں اے اسکے ساتھی جسکا
لاَ صاحِبَ لَہُ ۔ ﴿٦٠﴾ یَا کافِیَ مَنِ اسْتَکْفاہُ، یَا ہادِیَ مَنِ اسْتَھْداہُ، یَا
کوئی ساتھی نہیں۔ اے طالبِ کفایت کی کفایت کرنے والے اے ہدایت طلب کی ہدایت کرنے والے اے
کالِیََ مَنِ اسْتَکْلاہُ، یَا راعِیَ مَنِ اسْتَرْعاہُ، یَا شافِیَ مَنِ اسْتَشْفاہُ،
نگہبانی چاہنے والے کے نگہبان اے حفاظت چاہنے والے کی حفاظت کرنے والے اے شفا مانگنے والے کو شفادینے والے
یَا قاضِیَ مَنِ اسْتَقْضاہُ، یَا مُغْنِیَ مَنِ اسْتَغْناہُ، یَا مُوفِیَ مَنِ اسْتَوْفاہُ
اے فیصلہ چاہنے والے کا فیصلہ کرنے والے اے ثروت خواہ کو ثروت دینے والے اے وفا طلب سے وفا کرنے والے اے قوت
، یَا مُقَوِّیَ مَنِ اسْتَقْواہُ، یَا وَ لِیَّ مَنِ اسْتَوْلاہُ ۔ ﴿٦١﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی
کے طالب کو قوت عطا کرنے والے اے طالب سرپرستی کی سرپرستی کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی
ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ یَا خالِقُ، یَا رازِقُ، یَا ناطِقُ، یَا صادِقُ، یَا فالِقُ، یَا
نام کے واسطے سے اے خلق کرنے والے اے رزق دینے والے اے بولنے والے اے صدق والے اے شگافتہ کرنے والے اے
فارِقُ، یَا فاتِقُ، یَا راتِقُ، یَا سابِقُ، یَا سامِقُ ۔ ﴿٦٢﴾ یَا مَنْ یُقَلِّبُ
جداکرنے والے اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے سب سے پہلے اے بلندی والے ۔ اے رات اور دن کو پلٹانے
اللَّیْلَ وَالنَّہارَ، یَا مَنْ جَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالْاَ نْوارَ، یَا مَنْ خَلَقَ الظِّلَّ
والے اے روشنیوں اور تاریکیوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جس نے سایہ
وَالْحَرُورَ، یَا مَنْ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، یَا مَنْ قَدَّرَ الْخَیْرَ وَالشَّرَّ، یَا
اور دھوپ کو پیدا کیا اے وہ جس نے سورج اور چاند کو پابند کیا اے وہ جس نے نیکی و بدی کا اندازہ ٹھہرایا اے
مَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیاۃَ، یَا مَنْ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ، یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اے وہ جسکے ہاتھ میں خلق و امر ہے اے وہ جسکی نہ کوئی
صاحِبَۃً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ لَیْسَ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، یَا مَنْ لَمْ یَکُنْ
زوجہ اور نہ فرزند ہے اے وہ جسکی حکومت میں کوئی شریک نہیںاے وہ جوعاجز نہیں کہ اسکا
لَہُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ ۔ ﴿٦٣﴾ یَا مَنْ یَعْلَمُ مُرادَ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ یَعْلَمُ
کوئی مددگار ہو۔ اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کی مراد کو جانتا ہے اے وہ جو خاموش
ضَمِیرَ الصَّامِتِینَ، یَا مَنْ یَسْمَعُ ٲَنِینَ الْواھِنِینَ، یَا مَنْ یَری بُکائَ
لوگوں کے دل کی باتیں جانتا ہے اے وہ جوکمزوروں کی زاری کو سنتا ہے اے وہ جو ڈرنے والے لوگوں
الْخائِفِینَ، یَا مَنْ یَمْلِکُ حَوائِجَ السَّائِلِینَ، یَا مَنْ یَقْبَلُ عُذْرَ
کا رونا دیکھ لیتا ہے اے وہ جو سائلین کی حاجتوں کا مالک ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں کا عذر
التَّائِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ، یَا مَنْ لاَ یُضِیعُ ٲَجْرَ
قبول کرتا ہے اے وہ جو فسادیوں کے عمل کو اچھا نہیں سمجھتا اے وہ جو نیکوکاروں کے اجر کو
الْمُحْسِنِینَ، یَا مَنْ لاَ یَبْعُدُ عَنْ قُلُوبِ الْعارِفِینَ، یَا ٲَجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ ۔ ﴿٦٤﴾
ضائع نہیں کرتا اے وہ جو عارفوں کے دلوں سے دور نہیں رہتا اے سب داتائوں سے بڑے داتا
یَا دائِمَ الْبَقائِ، یَا سامِعَ الدُّعائِ، یَا واسِعَ الْعَطائِ، یَا غافِرَ
اے ہمیشہ باقی رہنے والے اے دعا کے سننے والے اے بہت زیادہ عطا کرنے والے اے خطا کے
الْخَطائِ، یَا بَدِیعَ السَّمائِ، یَا حَسَنَ الْبَلائِ، یَا جَمِیلَ الثَّنائِ، یَا قَدِیمَ
بخشنے والے اے آسمان کے بنانے والے اے بہترین آزمائش کرنے والے اے بھلی تعریف والے اے قدیمی
السَّنائِ، یَا کَثِیرَ الْوَفائِ، یَا شَرِیفَ الْجَزائِ ۔ ﴿٦٥﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
بلندی والے اے بہت وفاداری کرنے والے اے بہترین جزادینے والے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا سَتَّارُ، یَا غَفَّارُ، یَا قَہَّارُ، یَا جَبَّارُ، یَا صَبَّارُ، یَا بارُّ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے پردہ پوش اے بخشنے والے غلبہ والے اے زور والے اے بہت صبروالے اے نیکی والے اے
مُخْتارُ، یَا فَتَّاحُ، یَا نَفَّاحُ، یَا مُرْتاحُ ۔ ﴿٦٦﴾ یَا مَنْ خَلَقَنِی وَسَوَّانِی، یَا
اختیار والے اے کھولنے والے اے نفع دینے والے اے شاداں۔ اے وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور سنوارا اے
مَنْ رَزَقَنِی وَرَبَّانِی، یَا مَنْ ٲَطْعَمَنِی وَسَقانِی، یَا مَنْ قَرَّبَنِی وَٲَدْنانِی
وہ جس نے مجھے رزق دیا اور پالااے وہ جس نے مجھے طعام دیا اور سیراب کیا اے وہ جس نے مجھے قریب کیا اور قربت عطا کی
، یَا مَنْ عَصَمَنِی وَکَفانِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی وَکَلانِی، یَا مَنْ ٲَعَزَّنِی
اے وہ جس نے میری نگہداشت کی اور کفالت کی اے وہ جس نے میری حفاظت کی اور حمایت کی اے وہ جس نے مجھے عزت دی
وَٲَغْنانِی، یَا مَنْ وَفَّقَنِی وَھَدانِی، یَا مَنْ آنَسَنِی وَآوانِی، یَا مَنْ
اور دولتمند بنایا اے وہ جس نے میری مدد کی اور ہدایت عطا کی اے وہ جس نے مجھ سے انس کیا اور پناہ دی اے وہ جس نے
ٲَماتَنِی وَٲَحْیانِی ۔ ﴿٦٧﴾ یَا مَنْ یُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِماتِہِ، یَا مَنْ یَقْبَلُ
مجھے موت دی اور زندہ کیا۔ اے وہ جو اپنے کلام سے حق کو ثابت کرتا ہے اے وہ جو اپنے بندوں کی
التَّوْبَۃَ عَنْ عِبادِہِ، یَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہِ، یَا مَنْ لاَ تَنْفَعُ
توبہ قبول فرماتا ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہوتاہے اے وہ جسکے اذن کے بغیر
الشَّفاعَۃُ إلاَّ بِ إذْنِہِ، یَا مَنْ ہُوَ ٲَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ، یَا مَنْ لاَ
شفاعت کچھ نفع نہیں پہنچاتی اے وہ جو راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو خوب جانتا ہے اے وہ جسکے
مُعَقِّبَ لِحُکْمِہِ، یَا مَنْ لاَ رَادَّ لِقَضائِہِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْئٍ لاََِمْرِہِ
حکم کو کوئی ہرگز نہیں ٹال سکتا اے وہ جسکے فیصلے کو کوئی پلٹا نہیں سکتا اے وہ جسکے امرکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے
یَا مَنِ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ، یَا مَنْ یُرْسِلُ الرِّیاحَ بُشْراً بَیْنَ
اے وہ جسکی قدرت سے آسمان باہم لپٹے ہوئے ہیں اے وہ جو اپنی رحمت سے ہوائوں کی خوشخبری دے کر
یَدَیْ رَحْمَتِہِ ۔ ﴿٦٨﴾ یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ مِہاداً، یَا مَنْ جَعَلَ الْجِبالَ
بھیجتاہے۔ اے وہ جس نے زمین کوفرش بنایا اے وہ جس نے پہاڑوں کو میخیں بنایا
ٲَوْتاداً، یَا مَنْ جَعَلَ الشَّمْسَ سِراجاً، یَا مَنْ جَعَلَ الْقَمَرَ نُوراً، یَا مَنْ
اے وہ جس نے سورج کو چراغ بنایا اے وہ جس نے چاند کو روشن کیا اے وہ جس نے
جَعَلَ اللَّیْلَ لِباساً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّہارَ مَعَاشاً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّوْمَ سُباتاً
رات کو پردہ پوشی کے لیے بنایا اے وہ جس نے دن کو کام کاج کا وقت ٹھہرایا اے وہ جس نے نیند کو ذریعہ راحت بنایا
یَا مَنْ جَعَلَ السَّمَائَ بِنائً، یَا مَنْ جَعَلَ الْأَشْیائَ ٲَزْواجاً، یَا مَنْ جَعَلَ
اے وہ جس نے آسمان کا شامیانہ لگایا اے وہ جس نے چیزوں میں جوڑے مقرر کیے اے وہ جس نے آتش دوزخ کو
النَّارَ مِرْصاداً ۔ ﴿٦٩﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ یَا سَمِیعُ، یَا شَفِیعُ،
کمین گاہ بنایا۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے سننے والے اے شفاعت والے
یَا رَفِیعُ، یَا مَنِیعُ، یَا سَرِیعُ، یَا بَدِیعُ، یَا کَبِیرُ، یَا قَدِیرُ، یَا خَبِیرُ، یَا
اے بلندی والے اے محفوظ اے جلدی کرنے والے اے ابتداکرنے والے اے بڑائی والے اے قدرت والے اے خبر والے
مُجِیرُ۔ ﴿٧٠﴾ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی
اے پناہ دینے والے۔ اے ہرزندہ سے پہلے زندہ ہو اے ہرزندہ کے بعد زندہ اے وہ زندہ جسکی
لَیْسَ کَمِثْلِہِ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ یُشارِکُہُ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ
مثل کوئی اور زندہ نہیں اے وہ زندہ جسکا کوئی زندہ شریک نہیں اے وہ زندہ جو کسی زندہ کا
یَحْتاجُ إلی حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُمِیتُ کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یَرْزُقُ
محتاج نہیں اے وہ زندہ جو سب زندوں کو موت دیتا ہے اے وہ زندہ جو سب زندوں کو رزق
کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیّاً لَمْ یَرِثِ الْحَیا ۃَ مِنْ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُحْیِی الْمَوْتیٰ
دیتا ہے اے وہ زندہ جس نے کسی زندہ سے زندگی نہیں پائی اے وہ زندہ جو زندوں کو موت دیتا ہے
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ لاَ تَٲْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلاَ نَوْمٌ ۔ ﴿٧١﴾ یَا مَنْ لَہُ ذِکْرٌ لاَ یُنْسی
اے وہ نگہبان جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ اے وہ جسکا ذکر بھلایا نہیں جا سکتا
یَا مَنْ لَہُ نُورٌ لاَ یُطْفیٰ، یَا مَنْ لَہُ نِعَمٌ لاَ تُعَدُّ، یَا مَنْ لَہُ مُلْکٌ لاَ
اے وہ جسکے نور کو بجھایا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی نعمتوں کوشمار نہیں کیا جا سکتا اے وہ جسکی بادشاہی
یَزُولُ، یَا مَنْ لَہُ ثَنَائٌ لاَ یُحْصیٰ، یَا مَنْ لَہُ جَلالٌ لاَ یُکَیَّفُ، یَا مَنْ لَہُ
ختم ہونے والی نہیں اے وہ جسکی تعریف کی کوئی حد نہیں اے وہ جسکے جلال کی کیفیت بے بیان ہے اے وہ جسکے
کَمالٌ لاَ یُدْرَکُ، یَا مَنْ لَہُ قَضائٌ لاَ یُرَدُّ، یَا مَنْ لَہُ صِفَاتٌ لاَ تُبَدَّلُ، یَا
کمال کو سمجھا نہیں جا سکتا اے وہ جسکا فیصلہ ٹالا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی صفات میں تبدیلی نہیں آسکتی اے
مَنْ لَہُ نُعُوتٌ لاَ تُغَیَّرُ ۔ ﴿٧٢﴾ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا مالِکَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا
وہ جسکے وصفوں میں تبدیلی نہیں۔ اے عالمین کے پروردگار اے روز جزا کے مالک اے
غایَۃَ الطَّالِبِینَ، یَا ظَھْرَ اللاَّجِینَ، یَا مُدْرِکَ الْہارِبِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ
طالبوں کے مقصود اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ اے بھاگنے والوں کو پالینے والے اے وہ جو صبر والوں کو
الصَّابِرِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِینَ، یَا مَنْ
دوست رکھتا ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اے وہ جو پاکیزگی والوں کو پسندکرتا ہے اے وہ جو
یُحِبُّ الُْمحْسِنِینَ، یَا مَنْ ھُوَ ٲَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِینَ ۔ ﴿٧٣﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی
نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اے وہ جو ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ اے معبود میں تجھ سے
ٲَسْٲَلُکَ بِأِسْمِکَ یَا شَفِیقُ، یَا رَفِیقُ، یَا حَفِیظُ، یَا مُحِیطُ، یَا مُقِیتُ، یَا
سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے مہربان اے ہمدم اے نگہدار اے احاطہ کرنے والے اے رزق دینے والے اے
مُغِیثُ، یَا مُعِزُّ، یَا مُذِلُّ، یَا مُبْدِیُٔ، یَا مُعِیدُ ۔ ﴿٧٤﴾ یَا مَنْ ھُوَ ٲَحَدٌ بِلا
فریاد رس اے عز ت دینے والے اے ذلت دینے والے اے پیدا کرنے والے اے لوٹانے والے ۔ اے وہ جو ایسا یگانہ ہے جس کا
ضِدٍّ، یَا مَنْ ھُوَ فَرْدٌ بِلا نِدٍّ، یَا مَنْ ھُوَ صَمَدٌ بِلا عَیْبٍ، یَا مَنْ ھُوَ وِتْرٌ
کوئی مقابل نہیں اے وہ جو ایسا یکتا ہے جسکا شریک نہیں اے وہ جو بے نیاز ہے جس میں کوئی عیب نہیں اے وہ جوایسا فرد ہے
بِلا کَیْفٍ، یَا مَنْ ھُوَ قاضٍ بِلا حَیْفٍ، یَا مَنْ ھُوَ رَبٌّ بِلا وَزِیرٍ، یَا مَنْ
جس میں کوئی کیفیت نہیں اے وہ جسکا فیصلہ خلاف حق نہیں ہوتا اے وہ رب جسکا کوئی وزیرنہیں ہے اے وہ
ھُوَ عَزِیزٌ بِلا ذُلٍّ، یَا مَنْ ھُوَ غَنِیٌّ بِلا فَقْرٍ، یَا مَنْ ھُوَ مَلِکٌ بِلا عَزْلٍ، یَا
عزت دار جسے ذلت نہیں اے وہ ثروت مند جو محتاج نہیں اے وہ بادشاہ جسے ہٹایا نہیں جا سکتا اے
مَنْ ھُوَ مَوْصُوفٌ بِلا شَبِیہٍ ۔ ﴿٧٥﴾ یَا مَنْ ذِکْرُھُ شَرَفٌ لِلذَّاکِرِینَ، یَا
ایسے صفتوں والے جسکی کوئی مثال نہیں۔ اے وہ جسکا ذکر ذاکروں کے لیے وجہ بزرگی ہے اے
مَنْ شُکْرُہُ فَوْزٌ لِلشَّاکِرِینَ، یَا مَنْ حَمْدُہُ عِزٌّ لِلْحامِدِینَ، یَا مَنْ
وہ جسکاشکر شاکروں کے لیے کامیابی ہے اے وہ جسکی حمد، حمدکرنے والوں کے لیے وجہ عزت ہے اے وہ جسکی
طَاعَتُہُ نَجاۃٌ لِلْمُطِیعِینَ، یَا مَنْ بابُہُ مَفْتُوحٌ لِلطَّالِبِینَ، یَا مَنْ سَبِیلُہُ
فرمانبرداری فرمانبرداروں کے لیے وجہ نجات ہے اے وہ جسکا دروازہ طلبگاروں کے لیے کھلا رہتا ہے اے وہ جسکا راستہ
واضِحٌ لِلْمُنِیبِینَ، یَا مَنْ آیاتُہُ بُرْہانٌ لِلنَّاظِرِینَ، یَا مَنْ کِتابُہُ تَذْکِرَۃٌ
توبہ کرنے والوں کیلئے ظاہر و واضح ہے اے وہ جسکی نشانیاں دیکھنے والوں کیلئے پختہ دلیل ہیں اے وہ جسکی کتاب پرہیزگاروں
لِلْمُتَّقِینَ، یَا مَنْ رِزْقُہُ عُمُومٌ لِلطَّائِعِینَ وَالْعاصِینَ، یَا مَنْ رَحْمَتُہُ
کے لیے نصیحت ہے اے وہ جسکا رزق فرمانبرداروں اور نافرمانوں کے لیے یکساں ہے اے وہ جسکی رحمت
قَرِیبٌ مِنَ الُْمحْسِنِینَ ۔ ﴿٧٦﴾ یَا مَنْ تَبارَکَ اسْمُہُ، یَا مَنْ تَعالی جَدُّہُ،
نیکوکاروں کے نزدیک تر ہے۔ اے وہ جسکا نام برکت والا ہے اے وہ جسکی شان بلند ہے
یَا مَنْ لاَ إلہَ غَیْرُہُ، یَا مَنْ جَلَّ ثَناؤُہُ، یَا مَنْ تَقَدَّسَتْ ٲَسْماؤُہُ، یَا مَنْ
اے وہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں اے وہ جسکی تعریف روشن ہے اے وہ جسکے نام پاک وپاکیزہ ہیں اے وہ جسکی
یَدُومُ بَقاؤُہُ، یَا مَنِ الْعَظَمَۃُ بَہاؤُہُ، یَا مَنِ الْکِبْرِیائُ رِداؤُہُ، یَا مَنْ لاَ
ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اے وہ کہ بزرگی جسکا جلوہ ہے اے وہ کہ بڑای جسکا لباس ہے اے وہ جسکی
تُحْصی آلاؤُہُ، یَا مَنْ لاَ تُعَدُّ نَعْماؤُہُ ۔ ﴿٧٧﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
نعمتوں کی حد نہیں اے وہ جسکی نعمتوں کا شمار نہیں۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا مُعِینُ، یَا ٲَمِینُ، یَا مُبِینُ، یَا مَتِینُ، یَا مَکِینُ، یَا رَشِیدُ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے مددگار اے امانتدار اے آشکار اے سنجیدہ اے قدرت والے اے ہدایت والے اے
حَمِیدُ، یَا مَجِیدُ، یَا شَدِیدُ، یَا شَھِیدُ ۔ ﴿٧٨﴾ یَا ذَا الْعَرْشِ الَْمجِیدِ، یَا ذَا
تعریف والے اے بزرگی والے اے محکم اے گواہ۔ اے عرش عظیم کے مالک اے سچے قول
الْقَوْلِ السَّدِیدِ، یَا ذَا الْفِعْلِ الرَّشِیدِ، یَا ذَا الْبَطْشِ الشَّدِیدِ، یَا ذَا
والے اے پختہ تر کام کرنے والے اے سخت گرفت کرنے والے اے وعدہ کرنے
الْوَعْدِ وَالْوَعِیدِ، یَا مَنْ ھُوَ الْوَ لِیُّ الْحَمِیدُ، یَا مَنْ ھُوَ فَعَّالٌ لِما یُرِیدُ،
اور دھمکی دینے والے اے وہ جو قابل تعریف سرپرست ہے اے وہ جو چاہے کر گزرتا ہے
یَا مَنْ ھُوَ قَرِیبٌ غَیْرُ بَعِیدٍ، یَا مَنْ ھُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیدٌ، یَا مَنْ ھُوَ
اے وہ جو ایسا قریب ہے کہ دور نہیں ہوتا اے وہ جو ہر چیز کا دیکھنے والا ہے اے وہ جو
لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ۔ ﴿٧٩﴾ یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَلاَ وَزِیرَ، یَا مَنْ لاَ
بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔ اے وہ جسکا نہ کوئی شریک ہے نہ وزیر اے وہ جسکی نہ
شَبِیہَ لَہُ وَلاَ نَظِیرَ، یَا خالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْمُنِیرِ، یَا مُغْنِیَ الْبائِسِ
کوئی مثل ہے نہ ثانی اے سورج اور روشن چاند کے خالق اے نادار و بے نوا کو ثروت
الْفَقِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا راحِمَ الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا جابِرَ
دینے والے اے ننھے بچے کو رزق دینے والے اے بڑے بوڑھے پر رحم کرنے والے اے ٹوٹی ہوئی
الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا عِصْمَۃَ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ ھُوَ بِعِبادِھِ خَبِیرٌ
ہڈیوں کو جوڑنے والے اے خوفزدہ کو پناہ دینے والے اے وہ جو خود اپنے بندوں کو جانتا اور
بَصِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔ ﴿٨٠﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالنِّعَمِ ، یَا
دیکھتا ہے اے وہ جو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے نعمتوں والے سخی اے
ذَا الْفَضْلِ وَالْکَرَمِ، یَا خالِقَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ، یَا بارِیَٔ الذَّرِّ وَالنَّسَمِ ، یَا
فضل و کرم کرنے والے اے لوح و قلم کے پیدا کرنے والے اے انسانوں اور حشرات کے خلق کرنے والے اے
ذَا الْبَٲْسِ وَالنِّقَمِ، یَا مُلْھِمَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ، یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْاَلَمِ، یَا
سخت گیر اور بدلہ لینے والے اے عرب و عجم کو الہام کرنے والے اے درد و غم کو دور کرنے والے اے
عَالِمَ السِّرِّ وَالْھِمَمِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ وَالْحَرَمِ، یَا مَنْ خَلَقَ الْاَشْیائَ مِنَ
راز و نیت کے جاننے والے اے کعبہ و حرم کے پروردگار اے وہ جس نے چیزوں کو عدم سے پیدا کیا۔
الْعَدَمِ ۔ ﴿٨١﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا فاعِلُ، یَا جاعِلُ، یَا قابِلُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کام کرنے والے اے بنانے والے اے قبول کرنے والے
یَا کامِلُ، یَا فاصِلُ، یَا واصِلُ، یَا عادِلُ، یَا غالِبُ، یَا طالِبُ، یَا
اے کامل اے جداکرنے والے اے ملانے والے اے عدل کرنے والے اے غلبہ والے اے طلب کرنے والے اے
واھِبُ ۔ ﴿٨٢﴾ یَا مَنْ ٲَ نْعَمَ بِطَوْ لِہِ، یَا مَنْ ٲَکْرَمَ بِجُودِہِ، یَا مَنْ جادَ
عطا کرنے والے اے وہ جس نے اپنے فضل سے نعمت بخشی اے وہ جو سخاوت میں بلند ہے اے وہ جس نے مہربانی
بِلُطْفِہِ، یَا مَنْ تَعَزَّزَ بِقُدْرَتِہِ، یَا مَنْ قَدَّرَ بِحِکْمَتِہِ، یَا مَنْ حَکَمَ
سے عطافرمایا اے وہ جس نے اپنی قدرت سے عزت دی اے وہ جس نے حکمت سے اندازہ ٹھہرایا اے وہ جس نے اپنی رائے سے
بِتَدْبِیرِہِ، یَا مَنْ دَ بَّرَ بِعِلْمِہِ، یَا مَنْ تَجاوَزَ بِحِلْمِہِ، یَا مَنْ دَنَا فِی عُلُّوِہِ،
حکم دیا اے وہ جس نے اپنے علم سے نظم قائم کیا اے وہ جو اپنی بردباری سے معاف کرتا ہے اے وہ جو بلند ہوتے ہوئے بھی قریب
یَا مَنْ عَلا فِی دُ نُوِّہِ ۔ ﴿٨٣﴾ یَا مَنْ یَخْلُقُ ما یَشَائُ، یَا مَنْ یَفْعَلُ ما
ہے اے وہ جو نزدیکی میں بھی بلند ہے۔ اے وہ کہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اے وہ کہ جو چاہے کرگزرتا
یَشَائُ، یَا مَنْ یَھْدِی مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُضِلُّ مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُعَذِّبُ
ہے اے وہ کہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عذاب
مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُعِزُّ مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُذِلُّ
دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے بخشتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے
مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُصَوِّرُ فِی الْاَرْحامِ مَا یَشَائُ، یَا مَنْ یَخْتَصُّ
ذلت دیتا ہے اے وہ کہ شکموں میں جیسی چاہے صورت بناتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے اپنی
بِرَحْمَتِہِ مَنْ یَشَائُ ۔ ﴿٨٤﴾ یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَۃً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ
رحمت سے خاص کرتا ہے۔ اے وہ جس نے نہ بیوی کی اور نہ اولاد والا ہوا اے وہ جس نے ہر چیز کا
جَعَلَ لِکُلِّ شَیْئٍ قَدْراً، یَا مَنْ لاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ ٲَحَداً، یَا مَنْ جَعَلَ
ایک انداز ٹھہرایا اے وہ جسکی حکومت میں کوئی حصہ دار نہیں اے وہ جس نے فرشتوں
الْمَلائِکَۃَ رُسُلاً، یَا مَنْ جَعَلَ فِی السَّمائِ بُرُوجاً، یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ
کو قاصد قرار دیا اے وہ جس نے آسمان میں برج ترتیب دیے اے وہ جس نے زمین کو رہنے کی
قَراراً، یَا مَنْ خَلَقَ مِنَ الْمَائِ بَشَراً، یَا مَنْ جَعَلَ لِکُلِّ شَیْئٍ ٲَمَداً، یَا
جگہ بنایا اے وہ جس نے انسان کو قطرہ آب سے پیدا کیا اے وہ جس نے ہر چیز کی مدت مقرر فرمائی اے
مَنْ ٲَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، یَا مَنْ ٲَحْصی کُلَّ شَیْئٍ عَدَداً ۔ ﴿٨٥﴾
وہ جسکا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اے وہ جس نے سب چیزوں کا شمار کر رکھا ہے۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا ٲَوَّلُ، یَا آخِرُ، یَا ظاھِرُ، یَا باطِنُ، یَا بَرُّ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے اول اے آخر اے ظاہر اے باطن اے نیک
یَا حَقُّ، یَا فَرْدُ، یَا وِتْرُ، یَا صَمَدُ، یَا سَرْمَدُ ۔ ﴿٨٦﴾ یَا خَیْرَ مَعْرُوفٍ
اے حق اے یکتا اے یگانہ اے بے نیاز اے دائم۔ اے پہچانے ہوئوں میں بہترین
عُرِفَ، یَا ٲَ فْضَلَ مَعْبُودٍ عُبِدَ، یَا ٲَجَلَّ مَشْکُورٍ شُکِرَ، یَا ٲَعَزَّ مَذْکُورٍ
پہچانے ہوئے اے بہترین معبود کہ جسکی عبادت کی جائے اے شکر کیے ہو ؤں میں بہترین شکر کیے گئے اے ذکر کئے ہوؤں میں
ذُکِرَ، یَا ٲَعْلی مَحْمُودٍ حُمِدَ، یَا ٲَقْدَمَ مَوْجُودٍ طُلِبَ، یَا ٲَرْفَعَ
بلندتر اے تعریف کیے ہوؤں میں بالاتر اے ہر موجود سے قدیم جو طلب کیا گیا اے ہر موصوف سے
مَوْصُوفٍ وُصِفَ، یَا ٲَکْبَرَ مَقْصُودٍ قُصِدَ، یَا ٲَکْرَمَ مَسْؤُولٍ سُئِلَ، یَا
اعلٰی جس کی توصیف کی گئی اے ہرمقصود سے بلند کہ جسکا قصد کیا گیا اے ہر سوال شدہ سے باعزت جس سے سوال ہوا اے
ٲَشْرَفَ مَحْبُوبٍ عُلِمَ ۔ ﴿٨٧﴾ یَا حَبِیبَ الْباکِینَ، یَا سَیِّدَ الْمُتَوَکِّلِینَ، یَا
بہترین محبوب۔ اے رونے والوں کے دوست اے توکل کرنے والوں کے سردار اے
ہادِیَ الْمُضِلِّینَ، یَا وَ لِیَّ الْمُئْومِنِینَ، یَا ٲَنِیسَ الذَّاکِرِینَ، یَا مَفْزَعَ
گمراہوں کو ہدایت دینے والے اے مومنوں کے سرپرست اے یادکرنے والوں کے ہمدم اے دل جلوں
الْمَلھُوفِینَ، یَا مُنْجِیَ الصَّادِقِینَ، یَا ٲَقْدَرَ الْقادِرِینَ، یَا ٲَعْلَمَ
کی پناہ گاہ اے سچے لوگوں کو نجات دینے والے اے قدرت والوں میں بڑے باقدرت اے علم والوں سے
الْعالِمِینَ، یَا إلہَ الْخَلْقِ ٲَجْمَعِینَ ۔ ﴿٨٨﴾ یَا مَنْ عَلا فَقَھَرَ، یَا مَنْ مَلَکَ
زیادہ علم رکھنے والے اے ساری مخلوق کے معبود۔ اے وہ جو بلند اور مسلط ہے اے وہ جو مالک
فَقَدَرَ، یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا
و توانا ہے اے وہ جونہاں اور خبردار ہے اے وہ جو معبود ہے تو شاکر بھی ہے اے وہ جسکی معصیت ہو تو بخش دیتا ہے اے
مَنْ لاَ تَحْوِیہِ الْفِکَرُ، یَا مَنْ لاَ یُدْرِکُہُ بَصَرٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْہِ ٲَثَرٌ
وہ جسکو فکر پا نہیں سکتی اے وہ جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی اے وہ جس پر کوئی نشان مخفی نہیں ہے اے بشر کو
یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ ۔ ﴿٨٩﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ
روزی دینے والے اے ہر اندازے کے مقرر کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے
یَا حافِظُ، یَا بارِیُٔ، یَا ذارِیُٔ یَا باذِخُ، یَا فارِجُ، یَا فاتِحُ، یَا کاشِفُ،
نگہبان اے پیدا کرنے والے اے ظاہر کرنے والے اے بلندی والے اے کشائش دینے والے اے کھولنے والے اے نمایاں
یَا ضامِنُ، یَا آمِرُ، یَا ناھِی ۔ ﴿٩٠﴾ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ الْغَیْبَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ
کرنے والے اے ذمہ دار اے حکم کرنے والے اے روکنے والے۔ اے وہ جسکے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا اے وہ جسکے
لاَ یَصْرِفُ السُّوئَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَخْلُقُ الْخَلْقَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ
سوا کوئی دکھ دور نہیں کر سکتا اے وہ جسکے سوا کوئی بھی خلق نہیں کر سکتااے وہ جسکے سوا
یَغْفِرُ الذَّنْبَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُتِمُّ النِّعْمَۃَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُقَلِّبُ
کوئی گناہ معاف نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی نعمت تمام نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی دلوں کو
الْقُلُوبَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ إلاَّ
نہیں پلٹاتا اے وہ جسکے سوا کوئی کام پورے نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی بارش نہیں برساتا
ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ إلاَّ ھُوَ، یَا مَنْ لاَ یُحْیِی الْمَوْتی إلاَّ ھُوَ ۔ ﴿٩١﴾
اے وہ جسکے سوا کوئی روزی نہیں بڑھاتا اے وہ جسکے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کرتا۔
یَا مُعِینَ الْضُعَفائِ، یَا صاحِبَ الْغُرَبائِ، یَا ناصِرَ الْاَوْ لِیائِ، یَا
اے کمزوروں کے مددگار اے مسافروںکے ہمدم اے دوستوں کی مدد کرنے والے اے
قاھِرَ الْاَعْدائِ، یَا رافِعَ السَّمائِ، یَا ٲَنِیسَ الْاَصْفِیائِ، یَا حَبِیبَ
دشمنوں پر غلبہ پانے والے اے آسمان کو بلند کرنے والے اے خواص کے ساتھی اے پرہیزگاروں کے
الْاَتْقِیائِ، یَا کَنْزَ الْفُقَرائِ، یَا إلہَ الْاَغْنِیائِ، یَا ٲَکْرَمَ الْکُرَمائِ ۔ ﴿٩٢﴾ یَا
دوست اے بے مایوں کے خزانے اے دولتمندوں کے معبود اے کریموں سے زیادہ کریم۔ اے
کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ، یَا قائِماً عَلَیٰ کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ لاَ یُشْبِھُہُ شَیْئٌ،
ہر چیز سے کفایت کرنے والے اے ہر چیز کی نگرانی کرنے والے اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں
یَا مَنْ لاَ یَزِیدُ فِی مُلْکِہِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْہِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ
اے وہ جسکی حکومت میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی اے وہ جس سے کوئی چیز مخفی نہیں اے وہ جسکے
یَنْقُصُ مِنْ خَزائِنِہِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ یَعْزُبُ
خزانوں میں کسی شئی سے کمی نہیں آتی اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں اے وہ جسکے علم سے
عَنْ عِلْمِہِ شَیْئٌ، یَا مَنْ ھُوَ خَبِیرٌ بِکُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ وَسِعَتْ رَحْمَتُہُ
کوئی چیز باہر نہیں ہے اے وہ جو ہر چیز کی خبر رکھتا ہے اے وہ جسکی رحمت ہر چیز تک وسیع ہے۔
کُلَّ شَیْئٍ ۔ ﴿٩٣﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُکْرِمُ، یَا مُطْعِمُ، یَا
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے عزت دینے والے اے کھانا دینے والے اے نعمت دینے
مُنْعِمُ، یَا مُعْطِی، یَا مُغْنِی، یَا مُقْنِی، یَا مُفْنِی، یَا مُحْیِی، یَا مُرْضِی،
والے اے عطا کرنے والے اے غنی بنانے والے اے ذخیرہ کرنے والے اے فنا کرنے والے اے زندہ کرنے والے اے بیماری
یَا مُنْجِی ۔ ﴿٩٤﴾ یَا ٲَوَّلَ کُلِّ شَیْئٍ وَآخِرَہُ، یَا إلہَ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَہُ، یَا
دینے والے اے نجات دینے والے۔ اے ہر چیز سے پہلے اور اسکے بعد اے ہرچیز کے معبود اور اسکے مالک اے
رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَصانِعَہُ، یَا بارِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ وَخالِقَہُ، یَا قابِضَ کُلِّ
ہر چیز کے پروردگار اور اسے بنانے والے اے ہر چیز کے پیدا کرنے والے اوراندازہ ٹھہرانے والے اے ہرچیز کو بند کرنے
شَیْئٍ وَباسِطَہُ، یَا مُبْدِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ وَمُعِیدَہُ، یَا مُنْشِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ
اور کھولنے والے اے ہر چیزکا آغاز کرنے والے اور اسے لوٹانے والے اے ہر چیز کو بڑھانے
وَمُقَدِّرَہُ، یَا مُکَوِّنَ کُلِّ شَیْئٍ وَمُحَوِّلَہُ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ شَیْئٍ وَمُمِیتَہُ،
اور اسکا اندازہ کرنے والے اے ہر چیز کو بنانے اور اسے تبدیل کرنے والے اے ہر چیز کو زندہ کرنے اور اسے موت دینے والے
یَا خالِقَ کُلِّ شَیْئٍ وَوارِثَہُ ۔ ﴿٩٥﴾ یَا خَیْرَ ذاکِرٍ وَمَذْکُورٍ، یَا خَیْرَ
اے ہر چیز کے خالق و وارث۔ اے بہترین ذکر کرنے والے اور ذکر کیے ہوئے اے بہترین شکر کرنے والے اور شکرکیے ہوئے
شاکِرٍ وَمَشْکُورٍ، یَا خَیْرَ حامِدٍ وَمَحْمُودٍ، یَا خَیْرَ شاھِدٍ وَمَشْھُودٍ، یَا
اے بہترین حمد کرنے والے اور حمد کیے ہوئے اے بہترین گواہ اور گواہی دیے ہوئے اے بہترین بلانے
خَیْرَ داعٍ وَمَدْعُوٍّ، یَا خَیْرَ مُجِیبٍ وَمُجابٍ، یَا خَیْرَ مُؤْنِسٍ وَٲَنِیسٍ، یَا
والے اور بلائے ہوئے اے بہترین جواب دینے والے اور جواب دیئے ہوئے اے بہترین انس کرنے والے اور انس کیے ہوئے
خَیْرَ صاحِبٍ وَجَلِیسٍ، یَا خَیْرَ مَقْصُودٍ وَمَطْلُوبٍ، یَا خَیْرَ حَبِیبٍ
اے بہترین رفیق اور ہم نشین اور بہترین قصد کیے ہوئے اور طلب کئے گئے اے بہترین دوست
وَمَحْبُوبٍ ﴿٩٦﴾ یَا مَنْ ھُوَ لِمَنْ دَعاھُ مُجِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ لِمَنْ ٲَطاعَہُ
اوردوست رکھے ہوئے۔ اے وہ جسے پکارا جائے توجواب دیتا ہے اے وہ جسکی اطاعت کی جائے تو
حَبِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ إلَی مَنْ ٲَحَبَّہُ قَرِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِمَنِ اسْتَحْفَظَہُ
محبت کرتا ہے اے وہ جو محبت کرنے والے کے قریب ہوتا ہے اے وہ جو طالبِ حفاظت کا نگہبان ہے
رَقِیبٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ رَجاہُ کَرِیمٌ، یَا مَنْ ہُوَ بِمَنْ عَصاہُ حَلِیمٌ، یَا
اے وہ جو امیدوار پر کرم کرتا ہے اے وہ جو نافرمان کے ساتھ نرمی کرتا ہے اے
مَنْ ھُوَ فِی عَظَمَتِہِ رَحِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی حِکْمَتِہِ عَظِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی
وہ جو اپنی بڑائی کے باوجود مہربان ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں بلند ہے اے وہ جو قدیم احسان
إحْسانِہِ قَدِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ ٲَرادَہُ عَلِیمٌ ۔ ﴿٩٧﴾ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
والا ہے اے وہ جو ارادہ رکھنے والے کو جانتا ہے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے
بِاسْمِکَ یَا مُسَبِّبُ، یَا مُرَغِّبُ، یَا مُقَلِّبُ، یَا مُعَقِّبُ، یَا مُرَتِّبُ، یَا
اے سبب بنانے والے اے شوق دلانے والے اے پلٹانے والے اے پیچھا کرنے والے اے تربیت کرنے والے اے
مُخَوِّفُ، یَا مُحَذِّرُ، یَا مُذَکِّرُ، یَا مُسَخِّرُ، یَا مُغَیِّرُ ۔ ﴿٩٨﴾ یَا مَنْ عِلْمُہُ
خوف دلانے والے اے ڈرانے والے اے یادکرنے والے اے پابند کرنے والے اے بدلنے والے۔ اے وہ جسکا علم
سابِقٌ، یَا مَنْ وَعْدُہُ صادِقٌ، یَا مَنْ لُطْفُہُ ظاھِرٌ، یَا مَنْ ٲَمْرُہُ غالِبٌ،
سبقت رکھتا ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے اے وہ جسکا لطف ظاہر ہے اے وہ جسکا حکم غالب ہے
یَا مَنْ کِتابُہُ مُحْکَمٌ، یَا مَنْ قَضاؤُہُ کائِنٌ، یَا مَنْ قُرْآنُہُ مَجِیدٌ، یَا مَنْ
اے وہ جسکی کتاب محکم ہے اے وہ جسکا فیصلہ نافذ ہے اے وہ جسکا قرآن شان والا ہے اے وہ جسکی
مُلْکُہُ قَدِیمٌ، یَا مَنْ فَضْلُہُ عَمِیمٌ، یَا مَنْ عَرْشُہُ عَظِیمٌ ۔ ﴿٩٩﴾ یَا مَنْ لاَ
حکومت قدیمی ہے اے وہ جسکا فضل عام ہے اے وہ جسکا عرش عظیم ہے۔ اے وہ جسے ایک
یَشْغَلُہُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، یَا مَنْ لاَ یَمْنَعُہُ فِعْلٌ عَنْ فِعْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُلْھِیہِ
سماعت دوسری سماعت سے غافل نہیں کرتی اے وہ جس کیلئے ایک فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوتا اے وہ جس کیلئے ایک قول
قَوْلٌ عَنْ قَوْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُہُ سُوَالٌ عَنْ سُوَالٍ، یَا مَنْ لاَ یَحْجُبُہُ
دوسرے قول میں خلل نہیں ڈالتا اے وہ جسے ایک سوال دوسرے سوال میں غلطی نہیں کراتا اے وہ جسکے لیے ایک چیز دوسری
شَیْئٌ عَنْ شَیْئٍ، یَا مَنْ لاَ یُبْرِمُہُ إلْحاحُ الْمُلِحِّینَ، یَا مَنْ ھُوَ غایَۃُ
چیز کے آگے حائل نہیں ہوئی اے وہ جسے اصرار کرنے والوں کااصرار تنگ دل نہیں کرتا اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کے
مُرادِ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ ھُوَ مُنْتَہی ھِمَمِ الْعارِفِینَ، یَا مَنْ ھُوَ مُنْتَہی
ارادے کی انتہا ہے اے وہ جو عارفوں کی امنگوں کا نقطئہ آخر ہے اے وہ جو طلبگاروں کی طلب
طَلَبِ الطَّالِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْہِ ذَرَّ ۃٌ فِی الْعالَمِینَ ۔ ﴿١٠٠﴾ یَا
کی انتہا ہے اے وہ جسکے لیے سارے جہانوں میںسے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ اے
حَلِیماً لاَ یَعْجَلُ، یَا جَوَاداً لاَ یَبْخَلُ، یَا صادِقاً لاَ یُخْلِفُ، یَا وَہَّاباً لاَ
وہ بردبار جو جلدی نہیں کرتا اے وہ داتا جو ہاتھ نہیں کھینچتا اے وہ صادق جو خلاف ورزی نہیں کرتا اے وہ دینے والا جو
یَمَلُّ، یَا قاھِراً لاَ یُغْلَبُ، یَا عَظِیماً لاَ یُوصَفُ، یَا عَدْلاً لاَ یَحِیفُ، یَا
تھکتا نہیں اے زبردست جو مغلوب نہیں ہوتا اے بے بیان عظمت والے اے وہ عادل جو ظالم نہیں اے
غَنِیّاً لاَ یَفْتَقِرُ، یَا کَبِیراً لاَ یَصْغُرُ، یَا حافِظاً لاَ یَغْفُلُ، سُبْحانَکَ یَا لاَ إلہَ
وہ دولت والے جو کسی کا محتاج نہیں اے وہ بڑا جو چھوٹا نہیں اے وہ نگہبان جو غافل نہیں تو پاک ہے اے وہ کہ سوائے تیرے
إلاَّ ٲَ نْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ۔
کوئی معبود نہیں اے فریاد رس اے فریاد رس ہمیں آتش جہنم سے بچالے اے پالنے والے

دعائے جوشن صغیر معتبر کتابوں میں دعائ جوشن صغیر کا ذکر جوشن کبیر سے زیادہ شرح کیساتھ آیا ہے ۔کفعمی نے بلدالامین کے حاشیے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بلند مرتبہ اور بڑی قدر و منزلت والی دعا ہے جب ہادی عباسی نے امام موسیٰ کاظم -کے قتل کا ارادہ کیا توآپ نے یہ دعا پڑھی، تو آپ نے خواب میں اپنے جد بزرگوار رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ حق تعالیٰ آپکے دشمن کو ہلاک کردے گا۔ یہ دعا سید ابن طاؤس نے بھی مہج الدعوات میں نقل کی ہے، لیکن کفعمی اور ابن طاؤس کے نسخوں میں کچھ اختلاف ہے، ہم اسے کفعمی کی بلدالامین سے نقل کررہے ہیں اور دعا یہ ہے۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلھِی کَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضیٰ عَلَیَّ سَیْفَ عَداوَتِہِ، وَشَحَذَ لِی ظُبَۃَ
میرے معبود کتنے ہی دشمنوں نے مجھ پر عداوت کی تلوار کھینچ رکھی ہے اور میرے لیے اپنے خنجر کی دھار تیز کرلی ہے
مِدْیَتِہِ، وَٲَرْھَفَ لِی شَبَا حَدِّہِ، وَدافَ لِی قَواتِلَ سُمُومِہِ، وَسَدَّدَ إلیَّ
اور اسکی تیز نوک میری طرف کر رکھی ہے اورمیرے لیے قاتل زہر مہّیا کر رکھے ہیں اور اپنے تیروں کے
صَوائِبَ سِہامِہِ، وَلَمْ تَنَمْ عَنِّی عَیْنُ حِراسَتِہِ، وَٲَضْمَرَ ٲَنْ یَسُومَنِی
نشانے مجھ پر باندھ لیے ہوئے ہیں اور اسکی آنکھ میری طرف سے جھپکتی نہیں اور اس نے مجھے تکلیف دینے کی ٹھان رکھی ہے
الْمَکْرُوہَ، وَیُجَرِّعَنِی ذُعافَ مَرارَتِہِ نَظَرْتَ إلی ضَعْفِی عَنِ احْتِمالِ
اور مجھے زہر کے گھونٹ پلانے پر آمادہ ہے لیکن تو ہی ہے جس نے بڑی سختیوں کے مقابل میری
الْفَوادِحِ وَعَجْزِی عَنِ الانْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَنِی بِمُحارَبَتِہِ، وَوَحْدَتِی
کمزوری اورمجھ سے مقابلہ کرنے کا قصد رکھنے والوں کے سامنے میری ناطاقتی اور مجھ پر یورش کرنے والوں
فِی کَثِیرٍ مِمَّنْ ناوانِی وَٲَرْصَدَ لِی فِیما لَمْ ٲُعْمِلْ فِکْرِی فِی الْاِرْصادِ
کے درمیان میری تنہائی کو دیکھا جو مجھے ایسی تکلیف دینا چاہتے ہیں جسکا سامنا کرنے کا میں نے
لَھُمْ بِمِثْلِہِ، فَٲَیَّدْتَنِی بِقُوَّتِکَ، وَشَدَدْتَ ٲَزْرِی بِنُصْرَتِکَ، وَفَلَلْتَ لِی
سوچا بھی نہ تھا پس تو نے اپنی قوت سے میری حمایت کی اور اپنی نصرت سے مجھے سہارا دیا اور میرے دشمن کی
حَدَّہُ، وَخَذَلْتَہُ بَعْدَ جَمْعِ عَدِیدِہِ وَحَشْدِہِ، وَٲَعْلَیْتَ کَعْبِی عَلَیْہِ،
تلوار کو کند کردیا اور تو نے انہیں رسوا کردیا جبکہ وہ اپنی بہت بڑی تعداد اور سامان کے ساتھ جمع تھے تو نے مجھے دشمن پر غالب کیا
وَوَجَّھْتَ ما سَدَّدَ إلَیَّ مِنْ مَکائِدِہِ إلَیْہِ، وَرَدَدْتَہُ عَلَیْہِ، وَلَمْ یَشْفِ
اور اس نے میرے لیے مکر و فریب کے جو جال بنے تھے تو نے میری جگہ ان میںاسی کو پھنسادیا تو نہ اسکی تشنگی دور
غَلِیلَہُ، وَلَمْ تَبْرُدْ حَزازاتُ غَیْظِہِ، وَقَدْ عَضَّ عَلَیَّ ٲَنامِلَہُ، وَٲَدْبَرَ
ہوئی نہ اسکے غصے کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور افسوس کیساتھ اس نے اپنی انگلیاں چبالیں اور وہ پست ہوگیا
مُوَلِّیاً قَدْ ٲَخْفَقَتْ سَرایاہُ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ،
جب اسکے جھنڈے گر پڑے۔ پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی
وَذِیٔ ٲَنَا ۃٍ لاَ یَعْجَل صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِن
اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد(ص) اور آل محمد(ع) پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے
الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔ إلھِی وَکَمْ مِنْ باغٍ بَغانِی
والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود کسی سرکش نے میرے خلاف مکر
بِمَکائِدِہِ، وَنَصَبَ لِی ٲَشْراکَ مَصائِدِہِ، وَوَکَّلَ بِی تَفَقُّدَ رِعایَتِہِ،
سے مجھ پر زیادتی کی اور مجھے پھانسنے کے لیے شکاری جال بچھایا اور مجھے اپنی فرصت کے سپرد کردیا
وَٲَضْبَٲَ إلَیَّ إضْبائَ السَّبُعِ لِطَرِیدَتِہِ، انْتِظاراً لاِنْتِہازِ فُرْصَتِہِ، وَھُوَ
اور اس طرح تاک لگائی ہے جیسے درندہ اپنے بھاگے ہوئے شکار کو پکڑے جانے تک دیکھتا رہتا ہے حالانکہ یہ
یُظْھِرُ بَشاشَۃَ الْمَلَقِ، وَیَبْسُطُ وَجْہاً غَیْرَ طَلِقٍ فَلَمّا رَٲَیْتَ دَغَلَ
شخص مجھ سے ملنے میں خوشگوار اور کشادہ رو ہے اور اصل میں بد نیت ہے پس جب تو نے اسکی بدباطنی کو
سَرِیرَتِہِ، وَقُبْحَ مَا انْطَویٰ عَلَیْہِ لِشَرِیکِہِ فِی مِلَّتِہِ، وَٲَصْبَحَ مُجْلِباً لِی
اور اپنی ملت کے ایک فرد کے لیے اسکی خباثت کو دیکھا یعنی میرے لیے اسے ستمگر پایا تو اسے تو نے سر کے بل
فِی بَغْیِہِ ٲَرْکَسْتَہُ لاَُِمِّ رَٲْسِہِ، وَٲَتَیْتَ بُنْیانَہُ مِنْ ٲَساسِہِ، فَصَرَعْتَہُ فِی
زمین پر پھینک دیا اور اسکی ساختگی کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا پس تو نے اسے اسی کے کھودے ہوئے کنوئیں میں
زُبْیَتِہِ، وَرَدَّیْتَہُ فِی مَھْویٰ حُفْرَتِہِ، وَجَعَلْتَ خَدَّہُ طَبَقاً لِتُرابِ رِجْلِہِ،
دھکیلا اور اسی کے کھودے ہوئے گڑھے میں پھینکا اور تو نے اسکے منہ پر اسی کے پاؤں کی خاک ڈالی
وَشَغَلْتَہُ فِی بَدَنِہِ وَرِزْقِہِ، وَرَمَیْتَہُ بِحَجَرِہِ، وَخَنَقْتَہُ بِوَتَرِہِ، وَذَکَّیْتَہُ
اور اسے اسکے بدن اور رزق میں گم کردیا اسے اسی کے پتھر سے مارا اور اسکی گردن اسی کی کمان سے چھیدی اسکا
بِمَشاقِصِہِ، وَکَبَبْتَہُ لِمَنْخِرِہِ، وَرَدَدْتَ کَیْدَہُ فِی نَحْرِہِ،
سر اسی کی تلوار سے اڑایا اور اسے منہ کے بل گرایا اس کا مکر اسی کی گردن میں ڈالا
وَرَبَقْتَہُ بِنَدامَتِہِ، وَفَسَٲْتَہُ بِحَسْرَتِہِ، فَاسْتَخْذَٲَ وتَضائَلَ بَعْدَ نَخْوَتِہِ،
اور پشیمانی کی زنجیر اس کے گلے میں ڈال دی اسکی حسرت سے اسے فنا کیا پس میرا وہ دشمن اکڑبازاور ذلیل ہوااور گھٹنوں کے بل گرا
وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِہِ ذَلِیلاً مَٲْسُوراً فِی رِبْقِ حِبالَتِہِ الَّتِی کانَ یُؤَمِّلُ
اور سرکشی و تندی کے بعد رسوا ہوا اور اپنے مکر و فریب کی رسیوں میں جگڑا گیا یہ وہ پھندا ہے جس میںوہ مجھے
ٲَنْ یَرانِی فِیہا یَوْمَ سَطْوَتِہِ، وَقَدْ کِدْتُ یَا رَبِّ لَوْلا رَحْمَتُکَ ٲَنْ
اپنے تسلط میںدیکھنا چاہتا تھا اور اے پروردگار اگر تیری رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو قریب تھا کہ میرے
یَحُلَّ بِی ما حَلَّ بِساحَتِہِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ ،
ساتھ وہی ہوتا جو اسکے ساتھ ہوا پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں
وَذِی ٲَناۃٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ
تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد(ص) و آل محمد(ع) پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا
مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔ إلھِی وَکَمْ مِنْ حاسِدٍ شَرِقَ
شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے خدایا میرے کئی حاسد حسرت سے گلوگیر
بِحَسْرَتِہِ، وَعَدُوٍّ شَجِیَ بِغَیْظِہِ، وَسَلَقَنِی بِحَدِّ لِسانِہِ، وَوَخَزَنِی بِمُوقِ
ہوئے اوردشمن غصے میں جل بھن گئے اور تیزی زبان سے مجھے اذیت دی اور مجھے اپنی آنکھوں کی پلکوں سے زخمِ جگر
عَیْنِہِ، وَجَعَلَنِی غَرَضاً لِمَرامِیہِ، وَقَلَّدَنِی خِلالاً لَمْ تَزَلْ فِیہِ نادَیْتُکَ
لگائے اور مجھے اپنی نفرت کے تیروں کا نشانہ بنایا میرے گلے میں پھندا ڈالا تو اے پروردگارمیں نے تجھے لگاتار پکارا کہ
یَا رَبِّ مُسْتَجِیراً بِکَ، واثِقاً بِسُرْعَۃِ إجابَتِکَ، مُتَوَکِّلاً عَلی ما لَمْ ٲَزَلْ
تیری پناہ لوں جو یقینی ہے کہ تو جلد قبولیت کرنے والا ہے میر ابھروسہ تیرے حسن دفاع پر رہا ہے جسکی مجھے
ٲَتَعَرَّفُہُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِکَ، عالِماً ٲَ نَّہُ لاَ یُضْطَھَدُ مَنْ ٲَوی إلی ظِلِّ
پہلے ہی معرفت ہے میں جانتا ہوں کہ جو تیرے سایہ رحمت میں آجائے تو تو اسکی پردہ
کَنَفِکَ، و