مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)2%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205893 / ڈاؤنلوڈ: 12738
سائز سائز سائز

1

2

3

دعائے کمیل بن زیادرحمه‌الله

یہ مشہور و معروف دعائوں میں سے ہے اور علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ یہ بہترین دعائوں میں سے ایک ہے اور یہ حضرت خضرعليه‌السلام کی دعا ہے۔ امیرالمومنین- نے یہ دعا، کمیل بن زیاد کو تعلیم فرمائی تھی جو حضرتعليه‌السلام کے اصحاب خاص میں سے ہیں یہ دعا شب نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ میں پڑھی جاتی ہے ۔جو شر دشمنان سے تحفظ، وسعت و فراوانی رزق اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ اس دعا کو شیخ و سید ہر دو بزرگوں نے نقل فرمایا ہے۔ میں اسے مصباح المتہجد سے نقل کر رہا ہوں اور وہ دعا شریف یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی قَهَرْتَ بِها کُلَّ شَیْئٍ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جوہر شی پر محیط ہے تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شی کو زیر نگیں کیا

وَخَضَعَ لَها کُلُّ شَیْئٍ، وَذَلَّ لَها کُلُّ شَیْئٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبْتَ بِها کُلَّ شَیْئٍ

اور اس کے سامنے ہر شی جھکی ہوئی اور ہر شی زیر ہے اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے توہر شی پر غالب ہے

وَبِعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ یَقُومُ لَها شَیْئٌ، وَ بِعَظَمَتِکَ الَّتِی مَلَأَتْ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِسُلْطانِکَ

تیری عزت کے ذریعے جسکے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا تیری سلطنت کے

الَّذِی عَلاَ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِوَجْهِکَ الْباقِی بَعْدَ فَنَائِ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِأَسْمَائِکَ الَّتِی مَلأَتْ

ذریعے جو ہر چیز سے بلند ہے تیری ذات کے واسطے سے جوہر چیز کی فنا کے بعد باقی رہے گی اورسوال کرتا ہوںتیرے ناموں کے

أَرْکَانَ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذِی أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ، وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَضَاءَ

ذریعے جنہوںنے ہر چیز کے اجزائ کو پر کر رکھا ہے تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور تیری ذات کے نور کے

لَهُ کُلُّ شَیْئٍ یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا أَوَّلَ الْاَوَّلِینَ ، وَیَا آخِرَ الْاَخِرِینَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ

ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے یانور یاقدوس اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر اے معبود

الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ

میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعَاءَ

خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے معبود! میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلاَءَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی کُلَّ ذَ نْبٍ أَذْ نَبْتُةُ

اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے

وَکُلَّ خَطِیءَةٍ أَخْطَأْتُها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِذِکْرِکَ، وَأَسْتَشْفِعُ

اور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہو ئی ہے اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے

بِکَ إلَی نَفْسِکَ وَأَسْأَ لُکَ بِجُودِکَ أَنْ تُدْنِیَنِی مِنْ قُرْبِکَ، وَأَنْ تُوزِعَنِی شُکْرَکَ

حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپناقرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں

وَأَنْ تُلْهِمَنِی ذِکْرَکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ أَنْ تُسامِحَنِی

اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے گرے ہوئے ڈرے ہوئے کیطرح کہ مجھ سے چشم پوشی

وَتَرْحَمَنِی وَتَجْعَلَنِی بِقَِسْمِکَ رَاضِیاً قانِعاً، وَفِی جَمِیعِ الْاَحْوَالِ مُتَواضِعاً اَللّٰهُمَّ

فرما مجھ پر رحمت کر اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے یااللہ میں

وَأَسْأَ لُکَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ، وَأَ نْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدایِدِ حَاجَتَهُ، وَعَظُمَ فِیَما

تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کیطرح جو سخت تنگی میں ہو سختیوں میں پڑا ہواپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں اور جو کچھ تیرے

عِنْدَکَ رَغْبَتُهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ، وَظَهَرَ أَمْرُکَ

پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے

وَغَلَبَ قَهْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلاَ یُمْکِنُ الْفِرارُ مِنْ حُکُومَتِکَ اَللّٰهُمَّ لاَ أَجِدُ لِذُنُوبِی

تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ

غَافِراً، وَلاَ لِقَبائِحِی سَاتِراً، وَلاَ لِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِیَ الْقَبِیحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ لاَ

بخشنے والا میری برائیوں کو چھپانے والا اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو تیرے سوا کوئی معبود نہیں

إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَتَجَرَّأْتُ بِجَهْلِی، وَسَکَنْتُ إلَی

تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے میںنے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی اور میں نے تیری قدیم یاد آوری

قَدِیمِ ذِکْرِکَ لِی وَمَنِّکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ مَوْلاَیَ کَمْ مِنْ قَبِیحٍ سَتَرْتَهُ، وَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ

اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے اے اللہ : میرے مولا کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلائوں

الْبَلاَئِ أَقَلْتَهُ، وَکَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَهُ، وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ، وَکَمْ مِنْ ثَنَائٍ جَمِیلٍ

سے مجھے بچالیا کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام

لَسْتُ أَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاَئِی وَأَ فْرَطَ بِی سُوئُ حالِی وَقَصُرَتْ بِی

کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے میرے اعمال

أَعْمالِی، وَقَعَدَتْ بِی أَغْلالِی ، وَحَبَسَنِی عَنْ نَفْعِی بُعْدُ آمالِی، وَخَدَعَتْنِی الدُّنْیا

بہت کم ہیں گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے لمبی آرزوئوں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے دنیا نے دھوکہ

بِغُرُورِها، وَنَفْسِی بِجِنایَتِها، وَمِطالِی یَا سَیِّدِی فَأَسْأَ لُکَ بِعِزَّتِکَ أَنْ لاَ یَحْجُبَ

بازی سے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ

عَنْکَ دُعائِی سُوئُ عَمَلِی وَفِعالِی وَلاَ تَفْضَحْنِی بِخَفِیِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّی

میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو

وَلاَ تُعاجِلْنِی بِالْعُقُوبَةِ عَلی مَا عَمِلْتُهُ فِی خَلَواتِی مِنْ سُوئِ فِعْلِی وَ إساءَتِی

جانتاہے اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا برائی کی ہمیشہ

وَدَوامِ تَفْرِیطِی وَجَهالَتِی، وَکَثْرَ ةِ شَهَواتِی وَغَفْلَتِی، وَکُنِ اَللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لِی فِی

کوتاہی کی اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت

کُلِّ الْاَحْوالِ رَؤُوفاً، وَعَلَیَّ فِی جَمِیعِ الاَُْمُورِ عَطُوفاً إلهِی وَرَبِّی مَنْ لِی غَیْرُکَ

کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے

أَسْأَلُهُ کَشْفَ ضُرِّی، وَالنَّظَرَ فِی أَمْرِی إلهِی وَمَوْلایَ أَجْرَیْتَ عَلَیَّ حُکْماً

جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم

اتَّبَعْتُ فِیهِ هَویٰ نَفْسِی، وَلَمْ أَحْتَرِسْ فِیهِ مِنْ تَزْیِینِ عَدُوِّی، فَغَرَّنِی بِمَا أَهْوی

صادر فرمایالیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیا

وَأَسْعَدَهُ عَلَی ذلِکَ الْقَضائُ، فَتَجاوَزْتُ بِما جَری عَلَیَّ مِنْ ذلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،

اور وقت نے اسکا ساتھ دیا پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی

وَخالَفْتُ بَعْضَ أَوامِرِکَ، فَلَکَ الحُجَّةُ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ وَلاَ حُجَّةَ لِی فِیما

مخالفت کی پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجالانا اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو

جَریٰ عَلَیَّ فِیهِ قَضَاؤُکَ، وَأَ لْزَمَنِی حُکْمُکَ وَبَلاؤُکَ، وَقَدْ أَتَیْتُکَ یَا إلهِی بَعْدَ

فیصلہ تو نے میرے لیے کیا ہے اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں

تَقْصِیرِی وَ إسْرافِی عَلی نَفْسِی، مُعْتَذِراً نادِماً مُنْکَسِراً مُسْتَقِیلاً مُسْتَغْفِراً مُنِیباً

جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی کی ہے میں عذر خواہ و پشیماں،ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی ،تائب

مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً، لاَ أَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا کَانَ مِنِّی وَلاَ مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إلَیْهِ فِی أَمْرِی

گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ کہ اپنے معاملے

غَیْرَ قَبُو لِکَ عُذْرِی وَ إدْخالِکَ إیَّایَ فِی سَعَةٍ مِنْ رَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ فَاقْبَلْ عُذْرِی

میں اسکی طرف توجہ کروںسوائے اسکے کہ تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے اے معبود! بس میرا عذر قبول

وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّی وَفُکَّنِی مِنْ شَدِّ وَثاقِی یَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِی وَرِقَّةَ

فرما میری سخت تکلیف پر رحم کر اور بھاری مشکل سے رہائی دے اے پروردگار میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک

جِلْدِی وَدِقَّةَ عَظْمِی، یَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِی وَذِکْرِی وَتَرْبِیَتِی وَبِرِّی وَتَغْذِیَتِی، هَبْنِی

ہڈیوں پر رحم فرما اے وہ ذات جس نے میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا اپنے پہلے کرم

لاِبْتِدائِ کَرَمِکَ وَسالِفِ بِرِّکَ بِی یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَرَبِّی أَتُراکَ مُعَذِّبِی بِنَارِکَ بَعْدَ

اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب

تَوْحِیدِکَ، وَبَعْدَ مَا انْطَوی عَلَیْهِ قَلْبِی مِنْ مَعْرِفَتِکَ، وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِی مِنْ ذِکْرِکَ

دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہے

وَاعْتَقَدَهُ ضَمِیرِی مِنْ حُبِّکَ وَبَعْدَ صِدْقِ اعْتِرافِی وَدُعَاءِی خَاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ

میرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے

هَیْهاتَ أَنْتَ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَهُ أَوْ تُبَعِّدَ مَنْ أَدْنَیْتَهُ أَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ

بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا۔ ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے

أَوْ تُسَلِّمَ إلَی الْبَلاَئِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ، وَلَیْتَ شِعْرِی یَا سَیِّدِی وَ إلهِی

یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے یا جسکی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے اے کاش میں جانتا

وَ مَوْلایَ، أَ تُسَلِّطُ النَّارَ عَلَی وُ جُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ سَاجِدَةً، وَعَلَی

اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے

أَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِیدِکَ صَادِقَةً، وَبِشُکْرِکَ مَادِحَةً، وَعَلَی قُلُوبٍ

ہیں اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں اور ان دلوں

اعْتَرَفَتْ بِ إلهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً، وَعَلَی ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتَّی

کو جو تحقیق کیساتھ تجھے معبود مانتے ہیں اور انکے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف

صَارَتْ خَاشِعَةً، وَعَلَی جَوارِحَ سَعَتْ إلَی أَوْطانِ تَعَبُّدِکَ طَائِعَةً، وَ أَشارَتْ

ہیں تو انہیںآگ میں ڈالے گا؟ اور ان اعضائ کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھ

بِاسْتِغْفارِکَ مُذْعِنَةً، مَا هَکَذَا الظَّنُّ بِکَ، وَلاَ أُخْبِرْنا بِفَضْلِکَ عَنْکَ یَا کَرِیمُ یَا رَبِّ

تیری مغفرت کے طالب ہیں (تو انہیں آگ میں ڈالے) تیری ذات سے ایسا گمان نہیں، نہ یہ تیرے فضل

وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِی عَنْ قَلِیلٍ مِنْ بَلائِ الدُّنْیا وَعُقُوباتِها، وَمَا یَجْرِی فِیها مِنَ

کے مناسب ہے اے کریم اے پروردگار! دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے اور اہل دنیا پر جو

الْمَکَارِهِ عَلَی أَهْلِها، عَلی أَنَّ ذلِکَ بَلائٌ وَمَکْرُوهٌ قَلِیلٌ مَکْثُهُ، یَسِیرٌ بَقاؤُهُ، قَصِیرٌ

تنگیاں آتی ہیں (میں انہیں برداشت نہیں کرسکتا) اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقائ کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے تو پھر

مُدَّتُهُ، فَکَیْفَ احْتِمالِی لِبَلائِ الاَْخِرَةِ وَجَلِیلِ وُقُوعِ الْمَکَارِهِ فِیها وَهُوَ بَلائٌ تَطُولُ

کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی

مُدَّتُهُ وَیَدُومُ مَقامُهُ، وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ، لاََِنَّهُ لاَ یَکُونُ إلاَّ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقامِکَ

مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام

وَسَخَطِکَ، وَهذا ما لاَ تَقُومُ لَهُ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ، یَا سَیِّدِی فَکَیْفَ بِی وَأَ نَا

اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے تو اے

عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ، الْحَقِیرُ الْمِسْکِینُ الْمُسْتَکِینُ یَا إلهِی وَرَبِّی وَسَیِّدِی

آقا مجھ پر کیا گزرے گی جبکہ میں تیرا کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں اے میرے آقا اور میرے مولا! میں

وَمَوْلایَ، لاََِیِّ الاَُْمُورِ إلَیْکَ أَشْکُو، وَ لِمَا مِنْها أَضِجُّ وَأَبْکِی، لاََِلِیمِ الْعَذابِ

کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟ دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا

وَشِدَّتِهِ، أَمْ لِطُولِ الْبَلاَئِ وَمُدَّتِهِ فَلَئِنْ صَیَّرْتَنِی لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ أَعْدائِکَ، وَجَمَعْتَ

طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھااور مجھے اور

بَیْنِی وَبَیْنَ أَهْلِ بَلاَئِکَ، وَفَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَحِبَّائِکَ وَأَوْ لِیائِکَ، فَهَبْنِی یَا إلهِی

اپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا اور میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی تو اے میرے معبود

وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَرَبِّی، صَبَرْتُ عَلَی عَذابِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَلَی فِراقِکَ، وَهَبْنِی

میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے

صَبَرْتُ عَلی حَرِّ نَارِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إلَی کَرامَتِکَ أَمْ کَیْفَ أَسْکُنُ فِی

صبر کروں گا؟ اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا تو تیرے کرم سے کسطرح چشم پوشی کرسکوں گا یا کیسے آگ میں

النَّارِ وَرَجائِی عَفْوُکَ فَبِعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ أُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَکْتَنِی نَاطِقاً

پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری

لاَََضِجَّنَّ إلَیْکَ بَیْنَ أَهْلِها ضَجِیجَ الْاَمِلِینَ وَلاَََصْرُخَنَّ إلَیْکَ صُراخَ

گویائی باقی رہنے دی تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے

الْمُسْتَصْرِخِینَ وَلَااَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکَاءَ الْفَاقِدِینَ، وَلاََُنادِیَنَّکَ أَیْنَ کُنْتَ یَا وَ لِیَّ

مددگار کے متلاشی کرتے ہیںتیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیںاور تجھے پکاروں گا کہاں

الْمُؤْمِنِینَ یَا غَایَةَ آمالِ الْعارِفِینَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِ الصَّادِقِینَ

ہے تواے مومنوں کے مددگار اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے اے سچے لوگوں کے دوست

وَیَا إلهَ الْعالَمِینَ أَفَتُراکَ سُبْحَانَکَ یَا إلهِی وَبِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فِیها صَوْتَ عَبْدٍ

اور اے عالمین کے معبود کیا میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاک ہے اس سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندہ مسلم کی

مُسْلِمٍ سُجِنَ فِیها بِمُخالَفَتِهِ، وَذاقَ طَعْمَ عَذابِها بِمَعْصِیَتِهِ، وَحُبِسَ بَیْنَ أَطْباقِها

آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے اور اپنے جرم گناہ پر جہنم

بِجُرْمِهِ وَجَرِیرَتِهِ، وَهُوَ یَضِجُّ إلَیْکَ ضَجِیجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ وَیُنادِیکَ بِلِسانِ أَهْلِ

کے طبقوںکے بیچوں بیچ بند ہے وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح اور اہل توحید کی زبان میں

تَوْحِیدِکَ، وَیَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ یَا مَوْلایَ فَکَیْفَ یَبْقی فِی الْعَذابِ وَهُوَ

تجھے پکار رہا ہے اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ

یَرْجُو مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ أَمْ کَیْفَ تُؤْ لِمُهُ النَّارُ وَهُوَ یَأْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ

تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے

أَمْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ لَهِیبُها وَأَ نْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَری مَکانَهُ أَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ

یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے یا کیسے آگ کے شرارے اسے

زَفِیرُها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ أَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ أَطْباقِها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ أَمْ

گھیریں گے جبکہ تو اسکی ناتوانی کو جانتا ہے یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے

کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبانِیَتُها وَهُوَ یُنادِیکَ یَا رَبَّهُ أَمْ کَیْفَ یَرْجُو فَضْلَکَ فِی عِتْقِهِ مِنْها

یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا

فَتَتْرُکُهُ فِیها، هَیْهاتَ ما ذلِکَ الظَّنُ بِکَ، وَلاَ الْمَعْرُوفُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ مُشْبِهٌ لِمَا

امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے نہ یہ توحید

عَامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدِینَ مِنْ بِرِّکَ وَ إحْسانِکَ، فَبِالْیَقِینِ أَقْطَعُ، لَوْلاَ مَا حَکَمْتَ بِهِ

پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم

مِنْ تَعْذِیبِ جَاحِدِیکَ، وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ إخْلادِ مُعانِدِیکَ، لَجَعَلْتَ النَّارَ کُلَّها بَرْداً

نہ دیا ہوتا اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا

وَسَلاماً، وَمَا کانَ لاََِحَدٍ فِیها مَقَرّاً وَلاَ مُقاماً، لَکِنَّکَ تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ أَقْسَمْتَ أَنْ

اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا لیکن تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی

تَمْلاَََها مِنَ الْکَافِرِینَ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، وَأَنْ تُخَلِّدَ فِیهَا الْمُعانِدِینَ،

کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا جنّوں اور انسانوں میں سے اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے اور تو بڑی

وَأَنْتَ جَلَّ ثَناؤُکَ قُلْتَ مُبْتَدِیاً، وَتَطَوَّلْتَ بِالْاِنْعامِ مُتَکَرِّماً، أَفَمَنْ کَانَ مُوَْمِناً کَمَنْ

تعریف والا ہے تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا کہ کیا وہ شخص جو مومن ہے

کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ إلهِی وَسَیِّدِی، فَأَسْأَ لُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِی قَدَّرْتَها وَبِالْقَضِیَّةِ

وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا! میں تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا اور تیرا فرمان جسے تو نے

الَّتِی حَتَمْتَها وَحَکَمْتَها، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْهِ أَجْرَیْتَها، أَنْ تَهَبَ لِی فِی هَذِهِ اللَّیْلَةِ

یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوںبخش دے اس شب میں اور اس

وَفِی هَذِهِ السَّاعَةِ کُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ، وَکُلَّ ذَنْبٍ أَذْ نَبْتُهُ، وَکُلَّ قَبِیحٍ أَسْرَرْتُهُ، وَکُلَّ

ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں جو نادانیاں

جَهْلٍ عَمِلْتُهُ کَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنْتُهُ أَخْفَیْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ وَکُلَّ سَیِّءَةٍ أَمَرْتَ بِ إثْباتِهَا الْکِرامَ

میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں علی الاعلان یا پوشیدہ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین

الْکاتِبِینَ الَّذِینَ وَکَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مَا یَکُونُ مِنِّی وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَیَّ مَعَ جَوارِحِی

کو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں اور ان کو میرے اعضائ کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا

وَکُنْتَ أَ نْتَ الرَّقِیبَ عَلَیَّ مِنْ وَرائِهِمْ وَالشَّاهِدَ لِما خَفِیَ عَنْهُمْ وَبِرَحْمَتِکَ أَخْفَیْتَهُ

اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے

وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ، وَأَنْ تُوَفِّرَ حَظِّی، مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُهُ، أَوْ إحْسانٍ تُفْضِلُهُ، أَوْ

فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا یا ہر اس احسان میں جو

بِرٍّ تَنْشِرُهُ، أَوْ رِزْقٍ تَبْسِطُهُ، أَوْ ذَ نْبٍ تَغْفِرُهُ، أَوْ خَطَاًَ تَسْتُرُهُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا

تو نے کیا یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا رزق میں جسے تو نے وسیع کیا یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا

رَبِّ یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَمالِکَ رِقِّی یَا مَنْ بِیَدِهِ نَاصِیَتِی، یَا عَلِیماً بِضُرِّی

یارب یا رب یا رب اے میرے معبود میرے آقا اورمیرے مولا اور میری جان کے مالک اے وہ جسکے ہاتھ میں میری لگام ہے

وَمَسْکَنَتِی یَا خَبِیراً بِفَقْرِی وَفاقَتِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ أَسْأَ لُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ

اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر یارب یارب یارب میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری

وَأَعْظَمِ صِفاتِکَ وَأَسْمائِکَ، أَنْ تَجْعَلَ أَوْقاتِی فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،

پاکیزگی، تیری عظیم صفات اور اسمائ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر اور مسلسل اپنی

وَبِخِدْمَتِکَ مَوْصُولَةً وَأَعْمالِی عِنْدَکَ مَقْبُولَةً، حَتَّی تَکُونَ أَعْمالِی وَأَوْرادِی کُلُّها

حضوری میں رکھ اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور

وِرْداً وَاحِداً، وَحالِی فِی خِدْمَتِکَ سَرْمَداً یَا سَیِّدِی یَا مَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِی، یَا مَنْ

ورد قرار پائیں اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے اے جس سے

إلَیْهِ شَکَوْتُ أَحْوالِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ قَوِّ عَلی خِدْمَتِکَ جَوارِحِی وَاشْدُدْ عَلَی

میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں یارب یارب یارب میرے ظاہری اعضائ کو اپنی حضوری میں قوی اور میرے باطنی ارادوں کو

الْعَزِیمَةِ جَوانِحِی، وَهَبْ لِیَ الْجِدَّ فِی خَشْیَتِکَ، وَالدَّوامَ فِی الاتِّصالِ بِخِدْمَتِکَ،

محکم و مضبوط بنا دے اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں تاکہ تیری بارگاہ میں

حَتّی أَسْرَحَ إلَیْکَ فِی مَیادِینِ السَّابِقِینَ، وَأُسْرِعَ إلَیْکَ فِی المُبَادِرِینَ وَأَشْتاقَ

سابقین کی راہوں پر چل پڑ و ں اور تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جا ئوں تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں

إلی قُرْبِکَ فِی الْمُشْتاقِینَ وَأَدْنُوَ مِنْکَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِینَ، وَأَخافَکَ مَخافَةَ الْمُوقِنِینَ

میں زیادہ شوق والا بن جائوں تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جائوں اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں

وَأَجْتَمِعَ فِی جِوارِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ وَمَنْ أَرادَنِی بِسُوئٍ فَأَرِدْهُ، وَمَنْ کادَنِی

اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں اے معبود جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر جو میرے

فَکِدْهُ وَاجْعَلْنِی مِنْ أَحْسَنِ عَبِیدِکَ نَصِیباً عِنْدَکَ وَأَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ، وَأَخَصِّهِمْ

ساتھ مکر کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر مجھے اپنے بند و ںمیں قر ار دے جو نصیب میں بہتر ہیں جومنزلت میں تیرے قریب ہیں

زُلْفَةً لَدَیْکَ، فَ إنَّهُ لاَ یُنالُ ذلِکَ إلاَّ بِفَضْلِکَ، وَجُدْ لِی بِجُودِکَ، وَاعْطِفْ عَلَیَّ

جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر بذریعہ اپنی

بِمَجْدِکَ، وَاحْفَظْنِی بِرَحْمَتِکَ، وَاجْعَلْ لِسانِی بِذِکْرِکَ لَهِجاً، وَقَلْبِی بِحُبِّکَ

بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما بوجہ اپنی رحمت کے میری حفاظت کر میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے

مُتَیَّماً وَمُنَّ عَلَیَّ بِحُسْنِ إجابَتِکَ وَأَقِلْنِی عَثْرَتِی وَاغْفِرْ زَلَّتِی فَ إنَّکَ قَضَیْتَ عَلی

میری دعا بخوبی قبول فرما مجھ پر احسان فرما میرا گناہ معاف کر دے اور میری خطا بخش دے کیونکہ تو نے بندوں پر

عِبادِکَ بِعِبادَتِکَ، وَأَمَرْتَهُمْ بِدُعائِکَ، وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْاِجابَةَ، فَ إلَیْکَ یارَبِّ نَصَبْتُ

عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور قبولیت کی ضمانت دی پس اے پروردگار میں اپنا رخ تیری طرف

وَجْهِی، وَ إلَیْکَ یَا رَبِّ مَدَدْتُ یَدِی، فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِی دُعائِی، وَبَلِّغْنِی مُنایَ،

کر رہا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے لگی

وَلاَ تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجائِی، وَاکْفِنِی شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ أَعْدائِی، یَا سَرِیعَ

میری امید نہ توڑ میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر اے جلد

الرِّضا، اغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إلاَّ الدُّعاءَ، فَ إنَّکَ فَعَّالٌ لِما تَشَائُ، یَا مَنِ اسْمُهُ دَوَائٌ،

را ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے اے وہ جس کا نام دوا جس

وَذِکْرُهُ شِفائٌ وَطَاعَتُهُ غِنیً اِرْحَمْ مَنْ رَأْسُ مالِهِ الرَّجائُ وَسِلاحُهُ الْبُکَائُ یَا سَابِغَ

کا ذکر شفا اور اطاعت تونگری ہے رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے اور جس کا ہتھیار گریہ ہے

النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا نُورَ الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ

اے نعمتیں پوری کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِی مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَصَلَّی ﷲ عَلی رَسُو لِهِ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے خدا اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور بابرکت آئمہ

وَآلاَءِمَّةِ الْمَیامِینَ مِنْ آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً

پرسلام بھیجتا ہے بہت زیادہ سلام وتحیات جو انکی آلعليه‌السلام میں سے ہیں۔

سورہ شمس

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴿۱﴾ والْقَمَرِ إذَا تَلاَهَا ﴿۲﴾ وَالنَّهَارِ إذَا جَلاَّهَا ﴿۳﴾ وَاللَّیْلِ إذَا

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی اور چاند کی قسم جب اس کے پیچھے نکلے اور دن کی قسم جب اسے چمکا دے اور رات کی قسم جب

یَغْشَاهَا﴿۴﴾وَالسَّمَائِ وَمَا بَنَاهَا﴿۵﴾وَالْاَرْضِ وَمَا طَحَاهَا﴿۶﴾وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿۷﴾

اسے چھپا لے اور آسمان کی قسم اور جس نے اسے بنایا اور زمین کی اور جس نے اسے بچھایا اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست بنایا

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿۸﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا﴿۹﴾وَ قَدخَابَ مَنْ

پھر اس کی اچھائی برائی اسے سمجھائی۔بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کیا اور یقینًا وہ ناکام ہوا جس نے اسے

دَسَّاهَا﴿۱۰﴾کَذَّبَتْ ثَموُدُ بِطَغْوَاهَا﴿۱۱﴾اِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا ﴿۱۲﴾فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ

آلودہ کیا۔ثمود نے سرکشی سے (رسول کو) جھٹلایا جب ان میں سے بڑا بدبخت اٹھاتو خدا کے رسول (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا

ﷲ نَاقَةَ ﷲ وَسُقْیَاهَا ۱۲﴾ فَکَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿۱۴﴾

کی اونٹنی اور اس کے پانی کو نہ چھیڑنا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دی تو خدا نے انہیں اس گناہ پر ہلاک کیا اور مٹا ڈالا

وَلاَیَخَافُ عُقْبَاهَا ﴿۱۵﴾

اور اسے ان کے انتقام کا کوئی ڈر نہیں ۔

فضیلت سو ر ہ قدر و سو رہ زلزال

اما م جعفر صادقعليه‌السلام سے مروی ہے کہ جو شخص واجب نماز میں سورہ قدر پڑھے تو خدا تعا لیٰ کی طرف سے ایک منا دی ندا دے گا کہ اے شخص تیرے پچھلے گنا ہ بخش دیئے گئے ہیں اب تو عمل میں نئی زندگی کا آغاز کر دیرسول ﷲ سے رو ا یت ہو ئی ہے کہ جس نے چا ر مر تبہ سو ر ہ زلزال پڑھی تو وہ اس شخص کی مثل ہے جس نے پورا قرآن ختم کیا ہے۔

سورہ قدر

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ ﴿۱﴾ وَمَا أَدْرَیٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﴿۲﴾ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ

یقینًا ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا معلوم شب قدر کیا ہے شب قدر تو ہزار مہینوں

أَلْفِ شَهْرٍ ﴿۳﴾ تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَةُ وَالرُّوحُ فِیهَا بِ إذنِ رَبِّهِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ ﴿۴﴾ سَلامٌ هِیَ

سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور جبریل خدا کے حکم سے ہر کام کے بارے میں احکام لے کر آتے ہیں یہ رات طلوع فجر

حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿۵﴾

تک سلامتی ہی سلامتی ہے ۔

سورہ زلزال

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿۱﴾ وَأَخْرَجَتِ الْاَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿۲﴾ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا ﴿۳﴾

جب زمین بڑے زور سے لرزنے لگے گی اور زمین اپنے اندر کی چیزیں نکال پھینکے گی اور ایک انسان کہے گا اسے کیا ہوا ہے

یَوْمَیِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴿۴﴾ بِأَنَّ رَبَّکَ أَوْحَی لَهَا ﴿۵﴾ یَوْمَیِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتاً

اس دن وہ اپنی سب گزری باتیں بتا دے گی کیونکہ اسے تمہارے رب نے حکم دیا ہو گا اس دن لوگ گروہ در گروہ قبروں

لِیُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ﴿۶﴾ فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَهُ ﴿۷﴾ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ﴿۸﴾

سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔

فضیلت سورہ عادیات

روایات میں آیاہے کہ جو مسلسل یہ سورہ پڑھتا رہے تو وہ قیا مت میں امیر المومنین - کیساتھ محشور ہو گا

سورہ عادیات

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً ﴿۱﴾ فَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً ﴿۲﴾ فَالْمُغِیرَاتِ صُبْحاً ﴿۳﴾ فَأَثَرْنَ بِهِ

قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی جو پھنکارتے اور سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کو دھاوا بولتے ہیں تو گرد وغبار اڑاتے

نَقْعاً ﴿۴﴾ فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً ﴿۵﴾ إنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَکَنُودٌ ﴿۶﴾ وَ إنَّهُ عَلَی ذٰلِکَ

ہیں پھر دشمن کی فوج میں گھس جاتے ہیں بے شک آدمی ضرور اپنے رب کا ناشکرا ہے اور یقینًا وہ خود ہی

لَشَهِیدٌ ﴿۷﴾ وَ إنَّهُ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیدٌ ﴿۸﴾ أَفَلاَ یَعْلَمُ إذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُورِ ﴿۹﴾

اس پر گواہ ہے اور بے شک وہ حبِ مال میں بڑھا ہوا ہے تو کیا وہ نہیں جانتا کہ جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے

وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُورِ ﴿ ۱۰ ﴾ إنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَیِذٍ لَخَبِیرٌ ﴿۱۱﴾

اور سینوں کی چھپی باتیں کھول دی جائیں گی بے شک اس دن ان کا رب ان سے خوب واقف ہے۔

فضائل سورہ کا فرون، نصر، توحید، فلق اور ناس

بہت سی حدیثوں میں سورہ کافرون کے واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور یہ کہ اس کوپڑھنا چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورہ توحید کا پڑھنا ایک تہائی قرآن کے مساوی ہے۔ جبکہ سورہ نصر کاواجب اور نافلہ نمازوں میں پڑھنا دشمنو ں پر فتح ونصرت پانے کا موجب ہے ۔جو شخص گھر سے باہر نکلے اور سورہ فلق اور ناس کو پڑھے تو وہ نظر بد سے محفوظ رہے گا۔جو شخص نیند میں ڈرتا ہو وہ آیت الکرسی کے ساتھ ان دونوں سورتو ں کو پڑھے:

سورہ کافرون

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ یَاأَیُّهَاالْکَافِرُونَ ﴿۱﴾ لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿۲﴾ وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿۳﴾

(اے رسول )کہہ دو کافرو میں انکی عبادت نہیں کرتا جنکی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اسکی عبادت کرتے ہوجسکی میں عبادت کرتا ہوں

وَلاَأَنَا عَابِدٌ مَاعَبَدْتُمْ ﴿۴﴾ وَلاَأَنْتُمْ عَابِدُونَ مَاأَعْبُدُ ﴿۵﴾ لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿۶﴾

اور نہ میں اسکی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں

لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿۶﴾

تمہارے لیے تمہارادین اور میرے لیے میرا دین ہے ۔

سورہ نصر

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إذَا جَاءَ نَصْرُ ﷲ وَالْفَتْحُ﴿۱﴾وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ ﷲ أَفْوَاجاً ﴿۲﴾ فَسَبِّحْ

(اے رسول ) جب خدا کی مدد اور فتح آجائیگی تو دیکھنا کہ لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہو رہے ہونگے تم اپنے رب کی

بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إنَّهُ کَانَ تَوَّاباً ﴿۳﴾

حمد کے ساتھ تسبیح کرواور اس سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔

سورہ توحید

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں ) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ ﴿۱﴾ ﷲ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدُ ﴿۴﴾

(اے رسول ) کہہ دو ﷲ ایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے ۔

سورہ فلق

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إذَا وَقَب َ﴿۳﴾

(اے رسول )کہو میں پناہ لیتا ہوں صبح کے مالک کی،اسکی پیدا کی ہوئی ہرچیزکی برائی سے اور اندھیری رات کی برائی سے جب وہ چھا جائے

وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثَاتِ فِی الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ ﴿۵﴾

اور پھونک کر گرہیں لگانے والیوں کی برائی سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے

سورہ ناس

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إلٰهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ

(اے رسول) کہو میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی،لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی،وسوسہ ڈالنے،چھپ جانے

الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾

والے کی برائی سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے ۔جنوں اور انسانوں میں سے۔

فضائل آیت الکرسی

اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں جو اس کتاب کے آخر(باقیات الصالحات) میں درج کیے گئے ہیں اور یہاں ہم اس کے خواص ہی کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

(۱)ہرواجب نماز کے بعد اس کا پڑھنا رزق میں فراوانی کا باعث ہے۔

(۲) ہر روز صبح وشام پڑھنا چور ،ڈاکو اور آتش زدگی سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔

(۳)ہر روز فریضہ نماز کے بعد اس کا پڑھنا سانپ اور بچھو کا تعویز اور جن وانس کے ضرر سے بچائو کاسبب ہے

(۴)اگر اس کو لکھ کر کھیت میں دفن کر دیاجائے تو وہ چوری اور نقصان سے بچا رہے گا اور اس میں برکت ہو گی۔

(۵)اگر اسے لکھ کر دکان میں رکھا جائے تو اس میں خیروبرکت ہوگی ۔

(۶)اس کا گھر میں لکھ کر رکھنا چوری سے بچائو کا موجب ہے۔

(۷)اگر مرنے سے پہلے اس کو پڑھنے والا بہشت میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔

(۸)ہر شب سوتے وقت اس کا پڑھنا فالج سے حفاظت کا باعث ہے۔

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ﷲ لاَ إلٰهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَتَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَنَوْمٌ لَهُ مَا فِی السَّمَٰوٰت

ﷲ کے علاوہ کوئی خدا نہیں وو زندہ اوربندوبست کرنے والا ہے اس پر نہ غنودگی غالب آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور

وَمَا فِی الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَهُ إلاَّ بِ إذْنِهِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیهِمْ

زمین میں سب کچھ اسی کا ہے کون ہے جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے یہاں سفارش کرے؟ اور جو انکے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے

وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَیُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِهٰ إلاَّ بِمَا شَاءَ وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ

اور جو انکے پیچھے ہے اسے بھی لیکن وہ اسکے علم سے اسکی منشأ کے بغیر ذرہ بھر بھی نہیں جان سکتے اسکی کرسی آسمان اور زمین کو گھیرے

وَلاَیَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ﴿۲۵۵﴾ لاَ إکْرَاهَ فِی الدِّینِ قَدْ تَبَیَّنَ

ہوئے ہے ان دونوں کی حفاظت اسے گراں نہیں گزرتی اور وہ اونچا ہے بہت بڑا ہے دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی

الرُّشْدُ مِنْ الغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِالله فَقَدْ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَی

سے الگ ہو کر نمایاں ہو چکی ہے اسکے بعد جو باطل کی طاقت کے ماننے سے انکار کرے اور ﷲ پر ایمان لائے اس نے مضبوط رسی

لاَانفِصَامَ لَهَا وَﷲ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ﴿۲۵۶﴾ ﷲ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُهُمْ مِنْ

تھام لی جسکے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں اور ﷲ سننے والا ہے اور خوب جاننے والا جو ایمان لائے ﷲ انکا سرپرست ہے انہیں

الظُّلُمٰتِ إلَی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیٰئُهُمْ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَهُمْ مِنْ النُّورِ إلَی الظُّلُمٰتِ

اندھیرے سے روشنی کیطرف نکالتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کی سرپرست باطل قوتیں ہیں وہ انہیں روشنی سے اندھیروں

أُوْلٰٓئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خٰلِدُونَ

کیطرف لے جاتی ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہینگے۔


6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88