مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)2%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205928 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

دعائے جوشن صغیر

معتبر کتابوں میں دعائ جوشن صغیر کا ذکر جوشن کبیر سے زیادہ شرح کیساتھ آیا ہے ۔کفعمی نے بلدالامین کے حاشیے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بلند مرتبہ اور بڑی قدر و منزلت والی دعا ہے جب ہادی عباسی نے امام موسیٰ کاظم -کے قتل کا ارادہ کیا توآپ نے یہ دعا پڑھی، تو آپ نے خواب میں اپنے جد بزرگوار رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ حق تعالیٰ آپکے دشمن کو ہلاک کردے گا۔ یہ دعا سید ابن طاؤس نے بھی مہج الدعوات میں نقل کی ہے، لیکن کفعمی اور ابن طاؤس کے نسخوں میں کچھ اختلاف ہے، ہم اسے کفعمی کی بلدالامین سے نقل کررہے ہیں اور دعا یہ ہے۔

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

إلهِی کَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضیٰ عَلَیَّ سَیْفَ عَداوَتِهِ، وَشَحَذَ لِی ظُبَةَ

میرے معبود کتنے ہی دشمنوں نے مجھ پر عداوت کی تلوار کھینچ رکھی ہے اور میرے لیے اپنے خنجر کی دھار تیز کرلی ہے

مِدْیَتِهِ، وَأَرْهَفَ لِی شَبَا حَدِّهِ، وَدافَ لِی قَواتِلَ سُمُومِهِ، وَسَدَّدَ إلیَّ

اور اسکی تیز نوک میری طرف کر رکھی ہے اورمیرے لیے قاتل زہر مہّیا کر رکھے ہیں اور اپنے تیروں کے

صَوائِبَ سِهامِهِ، وَلَمْ تَنَمْ عَنِّی عَیْنُ حِراسَتِهِ، وَأَضْمَرَ أَنْ یَسُومَنِی

نشانے مجھ پر باندھ لیے ہوئے ہیں اور اسکی آنکھ میری طرف سے جھپکتی نہیں اور اس نے مجھے تکلیف دینے کی ٹھان رکھی ہے

الْمَکْرُوهَ، وَیُجَرِّعَنِی ذُعافَ مَرارَتِهِ نَظَرْتَ إلی ضَعْفِی عَنِ احْتِمالِ

اور مجھے زہر کے گھونٹ پلانے پر آمادہ ہے لیکن تو ہی ہے جس نے بڑی سختیوں کے مقابل میری

الْفَوادِحِ وَعَجْزِی عَنِ الانْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَنِی بِمُحارَبَتِهِ، وَوَحْدَتِی

کمزوری اورمجھ سے مقابلہ کرنے کا قصد رکھنے والوں کے سامنے میری ناطاقتی اور مجھ پر یورش کرنے والوں

فِی کَثِیرٍ مِمَّنْ ناوانِی وَأَرْصَدَ لِی فِیما لَمْ أُعْمِلْ فِکْرِی فِی الْاِرْصادِ

کے درمیان میری تنہائی کو دیکھا جو مجھے ایسی تکلیف دینا چاہتے ہیں جسکا سامنا کرنے کا میں نے

لَهُمْ بِمِثْلِهِ، فَأَیَّدْتَنِی بِقُوَّتِکَ، وَشَدَدْتَ أَزْرِی بِنُصْرَتِکَ، وَفَلَلْتَ لِی

سوچا بھی نہ تھا پس تو نے اپنی قوت سے میری حمایت کی اور اپنی نصرت سے مجھے سہارا دیا اور میرے دشمن کی

حَدَّهُ، وَخَذَلْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَدِیدِهِ وَحَشْدِهِ، وَأَعْلَیْتَ کَعْبِی عَلَیْهِ،

تلوار کو کند کردیا اور تو نے انہیں رسوا کردیا جبکہ وہ اپنی بہت بڑی تعداد اور سامان کے ساتھ جمع تھے تو نے مجھے دشمن پر غالب کیا

وَوَجَّهْتَ ما سَدَّدَ إلَیَّ مِنْ مَکائِدِهِ إلَیْهِ، وَرَدَدْتَهُ عَلَیْهِ، وَلَمْ یَشْفِ

اور اس نے میرے لیے مکر و فریب کے جو جال بنے تھے تو نے میری جگہ ان میںاسی کو پھنسادیا تو نہ اسکی تشنگی دور

غَلِیلَهُ، وَلَمْ تَبْرُدْ حَزازاتُ غَیْظِهِ، وَقَدْ عَضَّ عَلَیَّ أَنامِلَهُ، وَأَدْبَرَ

ہوئی نہ اسکے غصے کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور افسوس کیساتھ اس نے اپنی انگلیاں چبالیں اور وہ پست ہوگیا

مُوَلِّیاً قَدْ أَخْفَقَتْ سَرایاهُ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ،

جب اسکے جھنڈے گر پڑے۔ پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی

وَذِیٔ أَنَا ةٍ لاَ یَعْجَل صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِن

اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے

الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ باغٍ بَغانِی

والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود کسی سرکش نے میرے خلاف مکر

بِمَکائِدِهِ، وَنَصَبَ لِی أَشْراکَ مَصائِدِهِ، وَوَکَّلَ بِی تَفَقُّدَ رِعایَتِهِ،

سے مجھ پر زیادتی کی اور مجھے پھانسنے کے لیے شکاری جال بچھایا اور مجھے اپنی فرصت کے سپرد کردیا

وَأَضْبَأَ إلَیَّ إضْباءَ السَّبُعِ لِطَرِیدَتِهِ، انْتِظاراً لاِنْتِهازِ فُرْصَتِهِ، وَهُوَ

اور اس طرح تاک لگائی ہے جیسے درندہ اپنے بھاگے ہوئے شکار کو پکڑے جانے تک دیکھتا رہتا ہے حالانکہ یہ

یُظْهِرُ بَشاشَةَ الْمَلَقِ، وَیَبْسُطُ وَجْهاً غَیْرَ طَلِقٍ فَلَمّا رَأَیْتَ دَغَلَ

شخص مجھ سے ملنے میں خوشگوار اور کشادہ رو ہے اور اصل میں بد نیت ہے پس جب تو نے اسکی بدباطنی کو

سَرِیرَتِهِ، وَقُبْحَ مَا انْطَویٰ عَلَیْهِ لِشَرِیکِهِ فِی مِلَّتِهِ، وَأَصْبَحَ مُجْلِباً لِی

اور اپنی ملت کے ایک فرد کے لیے اسکی خباثت کو دیکھا یعنی میرے لیے اسے ستمگر پایا تو اسے تو نے سر کے بل

فِی بَغْیِهِ أَرْکَسْتَهُ لاَُِمِّ رَأْسِهِ، وَأَتَیْتَ بُنْیانَهُ مِنْ أَساسِهِ، فَصَرَعْتَهُ فِی

زمین پر پھینک دیا اور اسکی ساختگی کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا پس تو نے اسے اسی کے کھودے ہوئے کنوئیں میں

زُبْیَتِهِ، وَرَدَّیْتَهُ فِی مَهْویٰ حُفْرَتِهِ، وَجَعَلْتَ خَدَّهُ طَبَقاً لِتُرابِ رِجْلِهِ،

دھکیلا اور اسی کے کھودے ہوئے گڑھے میں پھینکا اور تو نے اسکے منہ پر اسی کے پاؤں کی خاک ڈالی

وَشَغَلْتَهُ فِی بَدَنِهِ وَرِزْقِهِ، وَرَمَیْتَهُ بِحَجَرِهِ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ، وَذَکَّیْتَهُ

اور اسے اسکے بدن اور رزق میں گم کردیا اسے اسی کے پتھر سے مارا اور اسکی گردن اسی کی کمان سے چھیدی اسکا

بِمَشاقِصِهِ، وَکَبَبْتَهُ لِمَنْخِرِهِ، وَرَدَدْتَ کَیْدَهُ فِی نَحْرِهِ،

سر اسی کی تلوار سے اڑایا اور اسے منہ کے بل گرایا اس کا مکر اسی کی گردن میں ڈالا

وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ، وَفَسَأْتَهُ بِحَسْرَتِهِ، فَاسْتَخْذَأَ وتَضاءَلَ بَعْدَ نَخْوَتِهِ،

اور پشیمانی کی زنجیر اس کے گلے میں ڈال دی اسکی حسرت سے اسے فنا کیا پس میرا وہ دشمن اکڑبازاور ذلیل ہوااور گھٹنوں کے بل گرا

وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ذَلِیلاً مَأْسُوراً فِی رِبْقِ حِبالَتِهِ الَّتِی کانَ یُؤَمِّلُ

اور سرکشی و تندی کے بعد رسوا ہوا اور اپنے مکر و فریب کی رسیوں میں جگڑا گیا یہ وہ پھندا ہے جس میںوہ مجھے

أَنْ یَرانِی فِیها یَوْمَ سَطْوَتِهِ، وَقَدْ کِدْتُ یَا رَبِّ لَوْلا رَحْمَتُکَ أَنْ

اپنے تسلط میںدیکھنا چاہتا تھا اور اے پروردگار اگر تیری رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو قریب تھا کہ میرے

یَحُلَّ بِی ما حَلَّ بِساحَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ ،

ساتھ وہی ہوتا جو اسکے ساتھ ہوا پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں

وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ

تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا

مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ حاسِدٍ شَرِقَ

شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے خدایا میرے کئی حاسد حسرت سے گلوگیر

بِحَسْرَتِهِ، وَعَدُوٍّ شَجِیَ بِغَیْظِهِ، وَسَلَقَنِی بِحَدِّ لِسانِهِ، وَوَخَزَنِی بِمُوقِ

ہوئے اوردشمن غصے میں جل بھن گئے اور تیزی زبان سے مجھے اذیت دی اور مجھے اپنی آنکھوں کی پلکوں سے زخمِ جگر

عَیْنِهِ، وَجَعَلَنِی غَرَضاً لِمَرامِیهِ، وَقَلَّدَنِی خِلالاً لَمْ تَزَلْ فِیهِ نادَیْتُکَ

لگائے اور مجھے اپنی نفرت کے تیروں کا نشانہ بنایا میرے گلے میں پھندا ڈالا تو اے پروردگارمیں نے تجھے لگاتار پکارا کہ

یَا رَبِّ مُسْتَجِیراً بِکَ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إجابَتِکَ، مُتَوَکِّلاً عَلی ما لَمْ أَزَلْ

تیری پناہ لوں جو یقینی ہے کہ تو جلد قبولیت کرنے والا ہے میر ابھروسہ تیرے حسن دفاع پر رہا ہے جسکی مجھے

أَتَعَرَّفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِکَ، عالِماً أَ نَّهُ لاَ یُضْطَهَدُ مَنْ أَوی إلی ظِلِّ

پہلے ہی معرفت ہے میں جانتا ہوں کہ جو تیرے سایہ رحمت میں آجائے تو تو اسکی پردہ

کَنَفِکَ، وَلَنْ تَقْرَعَ الْحَوادِثُ مَنْ لَجَأَ إلی مَعْقِلِ الانْتِصارِ بِکَ،

دری نہیں کرتا اور جو تجھ سے مدد مانگتا رہے مصائب اسکی سرکوبی نہیں کرسکتے

فَحَصَّنْتَنِی مِنْ بَأْسِهِ بِقُدْرَتِکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ

پس تو اپنی قدرت سے تو مجھے دشمن کی اذیت سے محفوظ فرما پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے

یُغْلَبُ وَذِی أَنا ةٍ لاَ یَعْجَلُ ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی

شکست نہیں ہوتی تو وہ بردباد ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں

لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی وَکَمْ مِنْ

کا شکر ادا کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے خدایا کتنے ہی

سَحائِبِ مَکْرُوهٍ جَلَّیْتَها، وَسَمائِ نِعْمَةٍ مَطَرْتَها، وَجَداوِلِ کَرامَةٍ

خطرناک بادلوں کو تو نے میرے سر سے ہٹایا اور نعمتوںکے آسمان سے مجھ پر مینہ برسایا اور عزت و آبرو کی

أَجْرَیْتَها، وَأَعْیُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها، وَناشِیَةِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها، وَجُنَّةِ

نہریں جاری کیں اور سختیوںکے سرچشموں کو ناپید کردیا اور رحمت کا سایہ پھیلا دیا اور عافیت کی

عافِیَةٍ أَ لْبَسْتَها، وَغَوامِرِ کُرُباتٍ کَشَفْتَها، وَأُمُورٍ جارِیَةٍ قَدَّرْتَها، لَمْ

زرہ پہنادی اور دکھوں کے بھنور توڑ کر رکھ دیے اور جو کچھ ہو رہا تھا اسے قابو کر لیا جو تو

تُعْجِزْکَ إذْ طَلَبْتَها، وَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْکَ إذْ أَرَدْتَها، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ

کرنا چاہے اس سے عاجز نہیں اور جسکا تو ارادہ کرے اس میں تجھے دشواری نہیں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار

مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ

کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردباد ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل

مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ

محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میںقرار دے

إلهِی وَکَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ، وَمِنْ کَسْرِ إمْلاقٍ جَبَرْتَ، وَمِنْ

اے اللہ تو نے بہت سی خوش خیالیوں کو حقیقت بنادیا اور میری تنگدستی کو دور فرما دیا اور میری بے چارگی

امَسْکَنَةٍ فادِحَةٍ حَوَّلْتَ، وَمِنْ صَرْعَةٍ مُهْلِکَةٍ نَعَشْتَ، وَمِنْ مَشَقَّةٍ

کو مجھ سے دور کردیا اور مار ڈالنے والے تھپیڑوں سے امن دیا اور مشقت کی بجائے

أَرَحْتَ لاَ تُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ وَهُمْ یُسْأَ لُونَ، وَلاَ یَنْقُصُکَ ما أَ نْفَقْتَ،

راحت دی جو تو کرے میرے دشمن اس پر تجھے کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ تیرے سامنے جوابدہ ہیں عطا و بخشش سے تیرا خزانہ کم نہیں ہوتا

وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَأَعْطَیْتَ، وَلَمْ تُسْأَلْ فَابْتَدَأْتَ، وَاسْتُمِیحَ بابُ فَضْلِکَ

جب بھی تجھ سے مانگا گیا تو، تو نے عطا کیا اور سوال نہ کیا گیا تو، بھی تو نے دیا اور تیری درگاہ عالی سے جو طلب کیا گیا

فَما أَکْدَیْتَ، أَبَیْتَ إلاَّ إنْعاماً وَامْتِناناً، وَ إلاَّ تَطَوُّلاً یَا رَبِّ وَ إحْساناً،

تو نے اس سے دریغ نہ کیا نہ ہی دیر کی مگر یہ کہ نعمت دی اور احسان کیا اور بہت زیادہ دیا اے پروردگار تو نے خوب دیا

وَأَبَیْتُ إلاَّ انْتِهاکاً لِحُرُماتِکَ، وَاجْتِرائً عَلی مَعاصِیکَ، وَتَعَدِیّاً

اور میںنے تو تیری حرمتوں کو توڑا اور تیری نافرمانی کرنے میں جرأت کی اور تیری حدوںسے تجاوز

لِحُدُودِکَ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعِیدِکَ، وَطاعَةً لِعَدُوِّی وَعَدُوِّکَ، لَمْ یَمْنَعْکَ

کیا اور تیرے ڈرانے کے باوجود بے پروائی کی اور اپنے اور تیرے دشمن کی اطاعت کی لیکن

یَا إلهِی وَناصِرِی إخْلالِی بِالشُّکْرِ عَنْ إتْمامِ إحْسانِکَ، وَلاَ حَجَزَنِی

اے میرے پروردگار اے میرے مددگار میری ناشکری پر تو نے اپنے احسان کو مجھ سے نہیںروکا اور میری

ذلِکَ عَنِ ارْتِکابِ مَساخِطِکَ اَللّٰهُمَّ وَهذا مَقَامُ عَبْدٍ ذَلِیلٍ اعْتَرَفَ

نافرمانیاں ان عنائتوںمیں آڑے نہیں آئیں اے معبود یہ حال ہے تیرے اس ذلیل بندے کا جو تیری توحید کو

لَکَ بِالتَّوْحِیدِ، وَأَقَرَّ عَلی نَفْسِهِ بِالتَّقْصِیرِ فِی أَدائِ حَقِّکَ، وَشَهِدَ لَکَ

مانتا ہے اور خود کو تیرے حق کی ادائیگی میں قصوروار گردانتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ تو نے

بِسُبُوغِ نِعْمَتِکَ عَلَیْهِ وَجَمِیلِ عادَتِکَ عِنْدَهُ وَ إحْسانِکَ إلَیْهِ، فَهَبْ لِی

اس پر نعمتوں کی بارش فرمائی اوراسکے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور اس پر تیرا احسان ہی احسان ہے پس

یَا إلهِی وَسَیِّدِی مِنْ فَضْلِکَ ما أُرِیدُهُ سَبَباً إلی رَحْمَتِکَ، وَأَتَّخِذُهُ

اے میرے معبود اور اے میرے آقا مجھے اپنے فضل سے وہ رحمت نصیب فرما جس کا میں خواہاں ہوں تا کہ میںاسے زینہ بنا

سُلَّماً أَعْرُجُ فِیهِ إلی مَرْضاتِکَ، وَ آمَنُ بِهِ مِنْ سَخَطِکَ، بِعِزَّتِکَ

کر تیری رضاؤں تک پہنچ پاؤں اور تیری ناراضگی سے بچ سکوں تجھے واسطہ ہے اپنی عزت

وَطَوْلِکَ وَبِحَقِّ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا

و سخاوت اور اپنے نبی محمد مصطفیٰ کا پس حمد تیرے ہی لیے

رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ

اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی تو بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل

مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ

محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے

إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی کَرْبِ الْمَوْتِ، وَحَشْرَجَةِ

اے معبود بہت سے بندے ایسے ہیں جو موت کے شکنجے میں صبح اور شام کرتے ہیں جب کہ دم سینے میں

الصَّدْرِ، وَالنَّظَرِ إلی ما تَقْشَعِرُّ مِنْهُ الْجُلُودُ، وَتَفْزَعُ لَهُ الْقُلُوبُ، وَأَ نَا

گھٹ جاتا ہے اور آنکھیں وہ چیز دیکھتی ہیں جس سے بدن کانپ اٹھا ہے اوردل گھبراہٹ میں جاتا ہے اور میں

فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ،

ان حالتوں سے امن میں رہا ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی

وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ

اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نعمتوں کا

مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی

شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میںقرار دے اے معبود بہت سے ایسے بندے ہیں جو صبح

وَأَصْبَحَ سَقِیماً مُوجَعاً فِی أَ نَّةٍ وَعَوِیلٍ یَتَقَلَّبُ فِی غَمِّهِ لاَ یَجِدُ

اور شام کرتے ہیں بیماری اور درد میں آہ و زاری کے ساتھ اور غم سے بے قرار ہوتے ہیں نہ کوئی چارہ رکھتے

مَحِیصاً، وَلاَ یُسِیغُ طَعاماً وَلاَ شَراباً، وَأَ نَا فِی صِحَّةٍ مِنَ الْبَدَنِ،

ہیں نہ انہیں کھانے پینے کا مزا بھلا لگتا ہے لیکن میں جسمانی لحاظ سے تندرست

وَسَلامَةٍ مِنَ الْعَیْشِ کُلُّ ذلِکَ مِنْکَ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ

اور زندگی کے لحاظ سے آرام میں ہوں اور یہ سب تیرا ہی کرم ہے پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگارکہ تو وہ تواناہے

یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی

جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی

لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ

نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود بہت سے ایسے

عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ خائِفاً مَرْعُوباً مُشْفِقاً وَجِلاً هارِباً طَرِیداً

بندے ہیں جو صبح اور شام کرتے ہیں ڈرے ہوئے دبے ہوئے سہمے ہوئے کانپتے ہوئے بھاگے ہوئے دھتکارے ہوئے

مُنْجَحِراً فِی مَضِیقٍ وَمَخْبَأَةٍ مِنَ الَْمخابِیََ قَدْ ضاقَتْ عَلَیْهِ الْاَرْضُ

تنگ کوٹھڑی میںگھسے ہوئے اور اوٹ میں چھپے ہوئے کہ یہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہے

بِرُحْبِها، لاَ یَجِدُ حِیلَةً وَلاَ مَنْجی وَلاَ مَأْوی، وَأَ نَا فِی أَمْنٍ وَطُمَأْنِینَةٍ

نہ انکا کوئی وسیلہ ہے نہ نجات کا ذریعہ اور نہ پناہ کی جگہ ہے جبکہ میںان باتوں سے امن و چین

وَعافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ وَذِی

اور آرام و آسائش میں ہوں پس حمدتیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ

أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ

بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نعمتوں کا

الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ

شکر کرنے والوں اپنے احسانوںکا ذکر کرنے والوں میں قرار دے اے معبود بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں

أَمْسی وَأَصْبَحَ مَغْلُولاً مُکَبَّلاً فِی الْحَدِیدِ بِأَیْدِی الْعُداةِ لاَ یَرْحَمُونَهُ

نے صبح اور شام کی جب کہ دشمنوں کے ہاتھوں ہتھکڑیوںاور بیڑیوں میںجکڑے ہیں کہ ان پر رحم نہیںکیا جاتا وہ

فَقِیداً مِنْ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ، مُنْقَطِعاً عَنْ إخْوانِهِ وَبَلَدِهِ، یَتَوَقَّعُ کُلَّ ساعَةٍ

اپنے زن و فرزندسے جدا قید تنہائی میں ہیں اپنے شہر اور اپنے بھائیوں سے دور ہر لمحہ اس خیال میں ہیں کہ کس

بِأَیِّ قِتْلَةٍ یُقْتَلُ، وَبِأَیِّ مُثْلَةٍ یُمَثَّلُ بِهِ، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ

طرح انہیں قتل کیا جائے گا اور کس کس طرح ان کے جوڑ کا ٹے جائیں گے اور میں ان سب سختیوںسے محفوظ ہوں

فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ

پس حمد ہے تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار تو وہ تواناہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردبارہے جو جلدی نہیں کرتا

عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے

مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ یُقاسِی الْحَرْبَ

یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود بہت سے ایسے بندے ہیںجنہوںنے صبح اور شام کی حالت جنگ

و َمُبا شَرَةَ الْقِتالِ بِنَفْسِهِ قَدْ غَشِیَتْهُ الْاَعْدائُ مِنْ کُلِّ جانِبٍ بِالسُّیُوفِ

اور میدان قتال میں جب کہ ان پر دشمن چھائے ہوئے ہیں اور ہر طرف سے ان پر آبدار شمشیریں

وَالرِّماحِ وَآلَةِ الْحَرْبِ، یَتَقَعْقَعُ فِی الْحَدِیدِ قَدْ بَلَغَ مَجْهُودَهُ لاَ یَعْرِفُ

اور تیز دھار نیزے اور دیگر اسلحہ کے وار ہورہے ہیں ان کی ہمت ٹوٹ چکی ہے وہ نہیں جانتے کہ اب کیاکریں

حِیلَةً، وَلاَ یَجِدُ مَهْرَباً، قَدْ أُدْنِفَ بِالْجِراحَاتِ، أَوْ مُتَشَحِّطاً بِدَمِهِ

کوئی جگہ نہیں جہاںبھاگ کے چلے جائیں وہ زخموں سے چور ہیں یا اپنے خون میں غلطاں گھوڑوں

تَحْتَ السَّنابِکِ وَالْاَرْجُلِ، یَتَمَنَّی شَرْبَةً مِنْ مائٍ أَوْ نَظْرَ ةً إلی أَهْلِهِ

کے سموں کی زد میں بے بس پڑے ہیں وہ ایک گھونٹ پانی کو ترس رہے ہیں یا اپنے زن و فرزند کو ایک نظر دیکھنے کے

وَوَلَدِهِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْها، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا

تڑپ رہے ہیں اور اتنی طاقت نہیں رکھتے اور میں ان سب دکھوں سے بچا ہؤا ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے

رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ

اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل

مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔

محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں سے قرار دے

إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی ظُلُماتِ الْبِحارِ وَعَواصِفِ

میرے معبود بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی سمندروں کی تاریکیوں اور باد و باران کے بلاخیز طوفانوں

الرِّیاحِ وَالْاَهْوالِ وَالْاَمْواجِ، یَتَوَقَّعُ الْغَرَقَ وَالْهَلاکَ، لاَ یَقْدِرُ عَلی

میں اور بپھری ہوئی موجوں کے خطروں میں جب کہ انہیں ڈوب کے مرجانے کا خوف ہو وہ اس سے بچ نکلنے کا کوئی

حِیلَةٍ، أَوْ مُبْتَلیً بِصاعِقَةٍ أَوْ هَدْمٍ أَوْ حَرْقٍ أَوْشَرْقٍ أَوْ خَسْفٍ أَوْ

راستہ نہیںپاتے یا وہ گھر چمکتی بجلیوں میں گھرے ہوئے ہیں یا بے موت مرنے یا جل جانے یا دم گھٹ جانے یا زمین میں دھنسنے

مَسْخٍ أَوْ قَذْفٍ، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ

یا صورت بگڑنے یا بیماری کے حال میں ہیں اور میں ان ساری تکلیفوں سے امن میں ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار

مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، و َذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما

وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی

اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود

وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ مُسافِراً شاخِصاً عَنْ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ،

بہت بندے ایسے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی حالت سفر میںاپنے زن و فرزند سے دور بیابانوں

مُتَحَیِّراً فِی الْمَفاوِزِ، تایِهاً مَعَ الْوُحُوشِ وَالْبَهائِمِ وَالْهَوامِّ، وَحِیداً

میںراستہ بھولے ہوئے ہیںوہ وحشی درندوں، چوپایوں اور کا ٹنے والے کیڑے مکوڑوں میں یکتا و تنہا

فَرِیداً لاَ یَعْرِفُ حِیلَةً وَلاَ یَهْتَدِی سَبِیلاً، أَوْ مُتَأَذِّیاً بِبَرْدٍ أَوْ حَرٍّ أَوْ

پریشان ہیںجہاںان کاکوئی چارہ نہیںاور نہ انہیںکوئی راہ سوجھتی ہے یا سردی میںٹھٹھرتے یا گرمی میں جلتے ہیںیا

جُوعٍ أَوْ عُرْیٍ أَوْ غَیْرِهِ مِنَ الشَّدائدِ مِمَّا أَ نَا مِنْهُ خِلْوٌ فِی عافِیَةٍ مِنْ

بھوک یا عریانی و غیرہ ایسی سختیوں میں گرفتار ہیں جن سے میں ایک طرف ہوں اور ان سب دکھوں

ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ

سے آرام میں ہوں پس حمدتیرے ہی لیے ہے اے پروردگار تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو

یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ

جلدی نہیں کرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام رحمت نازل فرما پر اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے

الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ

والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود اور میرے آقا بہت سے بندے ایسے ہیںجو

أَمْسی وَأَصْبَحَ فَقِیراً عائِلاً عارِیاً مُمْلِقاً مُخْفِقاً مَهْجُوراً جائِعاً

صبح و شام کرتے ہیںجبکہ وہ محتاج بے خرچ بے لباس بے نوا سرنگوں گوشہ نشیں خالی پیٹ

ظَمْآناً، یَنْتَظِرُ مَنْ یَعُودُ عَلَیْهِ بِفَضْلٍ، أَوْ عَبْدٍ وَجِیهٍ عِنْدَکَ هُوَ أَوْجَهُ

اورپیاسے ہیںوہ دیکھتے ہیںکہ کون آتا ہے جو ہمیں خیرات دے یا ایسا آبرومند بندہ جو تیرے ہاںمجھ سے زیادہ

مِنِّی عِنْدَکَ وَأَشَدُّ عِبادَةً لَکَ، مَغْلُولاً مَقْهُوراً قَدْ حُمِّلَ ثِقْلاً مِنْ تَعَبِ

عزت دار ہے اور تیری عبادت و فرمانبرداری میںبڑھا ہؤا ہے وہ حقارت کی قید میںہے اس نے تکلیفوں کا بوجھ کندھوں

الْعَنائِ، وَشِدَّةِ الْعُبُودِیَّةِ، وَکُلْفَةِ الرِّقِّ، وَثِقْلِ الضَّرِیبَةِ، أَوْ مُبْتَلیً بِبَلائٍ

پر اٹھا رکھا ہے ا ور غلامی کی سختی اور بندگی کی تکلیف اور تلوار کا زخم کھائے ہوئے یا بڑی مصیبت میں گرفتار

شَدِیدٍ لاَ قِبَلَ لَهُ إلاَّ بِمَنِّکَ عَلَیْهِ، وَأَ نَا الْمَخْدُومُ الْمُنَعَّمُ الْمُعافَی

ہے کہ جن کو سہہ نہیںسکتا سوائے اس مدد کے جو تو کرے اور مجھے خدمتگار نعمتیں عافیت اور عزت

الْمُکَرَّمُ فِی عافِیَةٍ مِمَّا هُوَ فِیهِ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلی ذلِکَ کُلِّهِ مِنْ مُقْتَدِرٍ

حاصل ہے میںان چیزوں سے امان میں ہوںپس حمد تیرے ہی لیے ہے ان تمام عنایتوں پر کہ تو وہ توانا ہے

لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی

جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی

لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ

نعمتوںکا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کو یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود اور میرے مولا بہت سے ایسے بندے

مِنْ عَبْدٍ أَمْسَی وَأَصْبَحَ عَلِیلاً مَرِیضاً سَقِیماً مُدْنِفاً عَلی فُرُشِ الْعِلَّةِ

ہیںجنہوں نے صبح وشام کی جب کہ وہ علیل بیمار کمزور بدحال ہیں بستر علالت پر بیماروں کے لباس

وَفِی لِباسِها یَتَقَلَّبُ یَمِیناً وَشِمالاً، لاَ یَعْرِفُ شَیْئاً مِنْ لَذَّةِ الطَّعامِ وَلاَ

میں دائیں بائیں کروٹیں بدل رہے ہیں ان کو کھانے کی کسی چیز کا ذائقہ نصیب نہیںاور نہ پینے کی کوئی چیز

مِنْ لَذَّةِ الشَّرابِ ، یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ

پی سکتے ہیںوہ اپنے آپ پرحسرت کی نظر ڈالتے ہیںکہ وہ خود کو کچھ فائدہ یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں

نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ فَلا إلهَ إلاَّ أَ نْتَ

اور میںان دکھوں سے امن میں ہوں یہ تیرا کرم اور تیری نوازش ہے پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں

سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ

تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ ،

و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گذاروں سے اور اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں

وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ وَقَدْ دَنا یَوْمُهُ مِنْ

میرے مولا اور میرے آقا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جبکہ ان کی موت کا وقت قریب

حَتْفِهِ، وَأَحْدَقَ بِهِ مَلَکُ الْمَوْتِ فِی أَعْوانِهِ یُعالِجُ سَکَراتِ الْمَوْتِ

آگیا ہے اور فرشتہ اجل نے اپنے ساتھیوں سمیت انہیں گھیر رکھا ہے وہ موت کی غشیوں میں جان کنی کی سختیوں میں

وَحِیاضَهُ، تَدُورُ عَیْناهُ یَمِیناً وَشِمالاً یَنْظُرُ إلی أَحِبَّائِهِ وَأَوِدَّائِهِ

پڑے ہیں وہ دائیں بائیں نظریں گھما گھما کر اپنے دوستوں مہربانوں اور ساتھیوں کو دیکھتے ہیں جبکہ وہ

وَأَخِلاَّئِهِ، قَدْ مُنِعَ مِنَ الْکَلامِ، وَحُجِبَ عَنِ الْخِطابِ ، یَنْظُرُ إلی

بولنے سے قاصر اور گفتگو کرنے سے عاجز ہیں وہ اپنے آپ پر حسرت کی نگاہ ڈالتے ہیں

نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ

جس کے نفع و نقصان پر قدرت نہیں رکھتے اور میں ان تمام مشکلوں سے محفوظ ہوں

بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی

یہ تیرا کرم اور احسان ہے پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور ایسا

أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ

بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گزاروں

الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ

اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں سے قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے سب سے زیادہ

الرَّاحِمِینَ مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی

رحم کرنے والے میرے مولا اور میرے آقا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جب وہ

مَضائِقِ الْحُبُوسِ وَالسُّجُونِ وَکُرَبِها وَذُ لِّها وَحَدِیدِها یَتَداوَلُهُ

زندانوں اور قید خانوں کی تنگ کوٹھڑیوں میں تکلیفوں اور ذلتوں کے ساتھ بیڑیوں میں جکڑے ایک نگران سے

أَعْوانُها وَزَبانِیَتُها فَلا یَدْرِی أَیُّ حالٍ یُفْعَلُ بِهِ، وَأَیُّ مُثْلَةٍ یُمَثَّلُ بِهِ،

دوسرے سخت گیر نگران کے حوالے کیے جاتے ہیں پس نہیں جانتے کہ ان کا کیا حال ہوگا اور ان کا کون کون سا جوڑ کاٹا جائے گا

فَهُوَ فِی ضُرٍّ مِنَ الْعَیْشِ وَضَنْکٍ مِنَ الْحَیاةِ یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ

تو وہ گزرہ مشکل اور زندگی دشوار ہے۔ وہ اپنے آپ کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ جس کے

یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرمِکَ

نفع و نقصان پر اختیار نہیں رکھتے اور میں ان سب غموں سے آزاد ہوں یہ تیرا کرم اور احسان ہے

فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ ،

پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا

صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ

محمدعليه‌السلام و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گزاروں اور اپنی نعمتوں کا

مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا

شکر ادا کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے

أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ سَیِّدِی وَمَوْلایَ وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ قَدِ

سب سے زیادہ رحم کرنے والے میرے سردار اور میرے مولا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جن پر

اسْتَمَرَّ عَلَیْهِ الْقَضائُ، وَأَحْدَقَ بِهِ الْبَلائُ، وَفارَقَ أَوِدَّاءَهُ وَأَحِبَّاءَهُ

قضا وارد ہوچکی ہے اور بلاؤں نے انہیں گھیرا ہؤا ہے اور وہ اپنے دوستوں مہربانوں اور ساتھیوں سے جدا ہیں

وَأَخِلاَّءَهُ، وَأَمْسی أَسِیراً حَقِیراً ذَلِیلاً فِی أَیْدِی الْکُفَّارِ وَالْاَعْدائِ

اور انہوں نے کافروں کے ہاتھوں قیدی ناپسندیدہ اور خوار ہوکر شام کی ہے اور دشمن ان کو

یَتَداوَلُونَهُ یَمِیناً وَشِمالاً قَدْ حُصِرَ فِی الْمَطامِیرِ، وَثُقِّلَ بِالْحَدِیدِ، لاَ

دائیں بائیں کھینچتے ہیں جب کہ وہ کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں اور بیڑیاںلگی ہوئی وہ زمین پر پھیلنے

یَری شَیْئاً مِنْ ضِیائِ الدُّنْیا وَلاَ مِنْ رَوْحِها، یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ

والے اجالے کو نہیں دیکھ پاتے اور نہ کوئی خوشبو سونگھتے ہیں وہ اپنے آپ کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ جس کے

یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرمِکَ

نفع و نقصان پر وہ کچھ بھی اختیار نہیںرکھتے اور میں ان سب تنگیوں سے امن میں ہوں یہ تیرا کرم اور احسان ہے

فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ،

پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا

صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گذاروں اور اپنی نعمتوں کاشکر ادا کرنے والوں اور

مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قراردے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما ایسب سے زیادہ رحم کرنے والے

وَعِزَّتِکَ یَا کَرِیمُ لاَََطْلُبَنَّ مِمَّا لَدَیْکَ، وَلاََُلِحَّنَّ عَلَیْکَ، وَلاَََمُدَّنَّ یَدِی نَحْوَکَ

واسطہ ہے تیری عزت کا اے کریم کہ میں وہ طلب کرتا ہوں جو تیرے پاس ہے اور باربارمانگتا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں

مَعَ جُرْمِها إلَیْکَ یَا رَبِّ فَبِمَنْ أَعُوذُ وَبِمَنْ أَلُوذُ لاَ أَحَدَ لِی إلاَّ أَ نْتَ،

اگرچہ یہ تیرے ہاں مجرم ہے اے پروردگار پھر کس کی پناہ لوں اور کس سے عرض کروں سوائے تیرے میرا کوئی نہیں کیا تو مجھے ہنکا دے گا

أَفَتَرُدَّنِی وَأَ نْتَ مُعَوَّلِی وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ الَّذی وَضَعْتَهُ عَلَی

جب کہ تو ہی میرا تکیہ ہے اور تجھی پر میرابھروسہ ہے میںتیرے اس نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں جسے تو نے آسمانوں پر رکھا

السَّمائِ فَاسْتَقَلَّتْ وَعَلَی الْاَرْضِ فَاسْتَقَرَّتْ وَعَلَی الْجِبالِ فَرَسَتْ وَعَلَی اللَّیْلِ

تو وہ مستقل ہوگئے اور زمین پر رکھا تو قائم ہوگئی اور پہاڑوں پر رکھا تو وہ اپنی جگہ جم گئے اور رات پر رکھا تو

فَأَظْلَمَ وَعَلَی النَّهارِ فَاسْتَنارَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ لِی

وہ کالی ہوگئی اور دن پر رکھا تو وہ چمک اٹھا ہاں تومحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور میری تمام حاجتیں

حَوائِجِی کُلَّها وَتَغْفِرَ لِی ذُنُوبِی کُلَّها صَغِیرَها وَکَبِیرَها وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ مِنَ الرِّزْقِ

پوری کردے اور میرے سبھی گناہ معاف فرمادے چھوٹے بھی اوربڑے بھی اور میرے رزق میں فراخی فرما

ما تُبَلِّغُنِی بِهِ شَرَفَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ مَوْلایَ بِکَ اسْتَعَنْتُ

کہ جس سے مجھے دنیا اور آخرت میں عزت حاصل ہو اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے میرے مولا میں تجھی سے مدد مانگتا ہوں

فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِنِّی وَبِکَ اسْتَجَرْتُ فَأَجِرْنِی وَأَغْنِنِی

پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور میری مدد کر میں تیری پناہ لیتا ہوں پس مجھے پناہ دے اور اپنی اطاعت کے ذریعے مجھے اپنے

بِطاعَتِکَ عَنْ طاعَةِ عِبادِکَ وَبِمَسْأَلَتِکَ عَنْ مَسْأَلَةِ خَلْقِکَ وَانْقُلْنِی مِنْ ذُلِّ الْفَقْرِ

بندوں کی اطاعت سے بے نیاز کردے اپنا سوالی بناکر لوگوں کا سوالی بننے سے بچالے اور فقر کی ذلت سے نکال کر بے نیازی کی

إلی عِزِّ الْغِنیٰ وَمِنْ ذُلِّ الْمَعاصِی إلی عِزِّ الطَّاعَةِ فَقَدْ فَضَّلْتَنِی عَلی کَثِیرٍ مِنْ

عزت دے اور نافرمانی کی ذلت کے بجائے فرمانبرداری کی عزت دے تو نے مجھے اپنے کثیر بندوں پر جو بڑائی دی ہے وہ محض تیرا

خَلْقِکَ جُوداً مِنْکَ وَکَرَماً لاَ بِاسْتِحْقاقٍ مِنِّی إلهِی فَلَکَ الْحَمْدُ عَلی ذلِکَ کُلِّهِ صَلِّ عَلی

فضل و کرم ہے نہ یہ کہ میں اس کا حقدار ہوں اے معبود تیرے ہی لیے حمد ہے کہ تو نے یہ مہربانیاں فرمائیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدعليه‌السلام پر

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔

رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکرگذاروں اور اپنے احسانوں کو یاد کرنے والوں میں قرار دے

پھر سجدہ میں جائے اور کہے:سَجَدَ وَجْهِیَ الذَّلِیلُ لِوَجْهِکَ الْعَزِیزِ الْجَلِیلِ، سَجَدَ وَجْهِیَ

میرے کمتر چہرے نے تیری ذات عزیز و جلیل کو سجدہ کیا میرے فانی و پست

الْبالِي الْفانِی لِوَجْهِکَ الدَّائِمِ الْباقِی، سَجَدَ وَجْهِیَ الْفَقِیرُ لِوَجْهِکَ الْغَنِيِّ

چہرے نے تیری ہمیشہ قائم رہنے والی ذات کو سجدہ کیا میرے محتاج چہرے نے تیری بے نیاز

الْکَبِیرِ، سَجَدَ وَجْهِی وَسَمْعِی وَبَصَرِی وَلَحْمِی وَدَمِی وَجِلْدِی

و بلند ذات کو سجدہ کیا میرے چہرے کان آنکھ گوشت خون چمڑے

وَعَظْمِی وَما أَقَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ عُدْ عَلی

اور ہڈی نے اور میرا جو کچھ روئے زمین پر ہے اس نے عالمین کے رب کو سجدہ کیا خدایا میری جہالت کو

جَهْلِی بِحِلْمِکَ، وَعَلی فَقْرِی بِغِناکَ، وَعَلی ذُ لِّی بِعِزِّکَ وَسُلْطانِکَ،

بردباری سے ڈھانپ لے میری محتاجی پر اپنی دولت برسادے میری پستی کو اپنی بلندی و اختیار سے دور فرما

وَعَلی ضَعْفِی بِقُوَّتِکَ، وَعَلی خَوْفِی بِأَمْنِکَ، وَعَلی ذُ نُوبِی

اور میری کمزوری کو اپنی قوت سے دور کردے اور میرے خوف کو اپنے امن سے مٹادے اور میری خطاؤں

وَخَطایایَ بِعَفْوِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْرَأُ بِکَ

اور گناہوں کو اپنی رحمت سے بخش دے اے رحم والے اے مہربان اے اللہ میں تیری پناہ لیتا

فِی نَحْرِ فُلانِ بْنِ فُلان، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهِ فَاکْفِنِیهِ بِما کَفَیْتَ بِهِ

ہوں فلاں بن فلاں کے حملوں سے اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں پس اس سے میری کفایت کر جیسے اپنے

أَنْبِیاءَکَ وَأَوْ لِیاءَکَ مِنْ خَلْقِکَ وَصالِحِی عِبادِکَ مِنْ فَراعِنَةِ خَلْقِکَ،

انبیائ کی اور اولیائ کی اپنی مخلوق سے اپنے نیک بندوں کی کفایت فرمائی اپنی مخلوق میںسے سرکشوں

وَطُغاةِ عُداتِکَ، وَشَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ،

اور شریروں سے جو تیرے دشمن تھے اور ساری مخلوق کے شر سے اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَحَسْبُنَا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ ۔

بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ ہمارے لیے کا فی ہے جو بہترین کارساز ہے

سورہ عنکبوت

شب قدر کے اعمال میں یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان کی تئیسویں رات میں سورہ عنکبوت، سورہ روم اور سورہ دخان کی تلاوت کی جائے، لہذا مومنین کی سہولت کے پیش نظریہ سورتیں تبرک کے طور پر مفاتیح الجنان میں درج کی جارہی ہیں تا کہ مومنین انکی تلاوت کے فیض سے محروم نہ رہیں۔

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا(شروع کرتا ہوں)کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الٓمَ ﴿۱﴾ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَ یُفْتَنُونَ ﴿۲﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا

الٓم کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اتنا کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جائینگے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ ہوگا؟ اور ہم نے ان

الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ ﷲ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الکَاذِبِینَ ﴿۳﴾ أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ

لوگوں کا بھی امتحان کیا جو ان سے پہلے گزرے پس خدا ضرور ان لوگوں کو الگ دیکھے گا جو سچے ہیں اور انکو الگ دیکھے گا جو جھوٹے ہیں یا جو

یَعْمَلُونَ السَّیِّءَاتِ أَنْ یَسْبِقُونَا سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ﴿۴﴾ مَنْ کَانَ یَرْجُو لِقَاءَ ﷲ فَ إنَّ أَجَلَ

لوگ برے کام کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ ہماری پکڑ سے نکل جائینگے؟ یہ لوگ کیا ہی برے حکم لگاتے ہیں. جو شخص خدا سے ملنے کی امید

ﷲ لاََتٍ وَهُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۵﴾ وَمَنْ جَاهَدَ فَ إنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إنَّ ﷲ لَغَنِیٌّ عَنِ

رکھتا ہے تو یقیناً خدا کا مقررہ وقت آنے والا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے اور جو شخص عبادت میں کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کوشاں ہے

العَالَمِینَ ﴿۶﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّءَاتِهِمْ وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ

بے شک ﷲ لوگوں کی عبادت سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے یقیناً ہم انکے گناہوں کو معاف کر دیں گے

أَحْسَنَ الَّذِی کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴿۷﴾ وَوَصَّیْنَا الاِِنْسَانَ بِوالِدَیْهِ حُسْناً وَ إنْ جَاهَدٰکَ

اور یہ جو اچھے کام کرتے ہیں ان پر انکو بہترین جزا دینگے ہم نے انسان کو اپنے والدین کیساتھ اچھے برتائو کا حکم دیا ہے اور یہ کہ

لِتُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا إلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّیُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۸﴾

اگر تیرے ماں باپ تجھے کسی کو میرا شریک بنانے پر مجبور کریں جسکا تجھ کو علم نہیں تو انکا کہانہ ماننا. آخر تم سب کو میری طرف لوٹنا ہے تب میں بتادونگا

وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصَّالِحِینَ ﴿۹﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ

جو کچھ تم کرتے رہے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیے ضرور ہم انکو نیکوں میں داخل کریں گے. اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں

آمَنَّا بِالله فَ إذَا أُوذِیَ فِی ﷲ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ کَعَذَابِ ﷲ وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّکَ

جو کہہ دیتے ہیں ہم خدا پرایمان لائے پھر جب خدا کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لوگوں کی زیادتی کو خدا کا عذاب قرار دیتے ہیں اور (اے رسول )

لَیَقُولُنَّ إنَّا کُنَّا مَعَکُمْ أَوَ لَیْسَ ﷲ بِأَعْلَمَ بِمَا فِی صُدُورِ العَالَمِینَ﴿۱۰﴾وَلَیَعْلَمَنَّ ﷲ

اگر تمہارے رب کی مدد آپہنچے تو وہ کہنے لگتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ تھے بھلا جو کچھ دنیا والوں کے دلوں میں ہے کیا خدا اس سے واقف

الَّذِینَ آمَنُوا وَلَیَعْلَمَنَّ المُنَافِقِینَ ﴿۱۱﴾ وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِیلَنَا

نہیں ہے؟ اور جو لوگ ایمان لائے خدا یقیناً انکو جانتا ہے اور منافقین کوبھی ضرور جانتا ہے اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہنے لگے کہ تم ہمارے

وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ وَمَا هُمْ بِحَامِلِینَ مِنْ خَطَایَاهُمْ مِنْ شَیئٍ إنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ﴿۱۲﴾

طریقے کی پیروی کرو ہم (قیامت میں) تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھالینگے. حالانکہ یہ لوگ انکے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں. بے

وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَیُسْءَلُنَّ یَوْمَ القِیَامَةِ عَمَّا کَانُوا یَفْتَرُونَ ﴿۱۳﴾

شک یہ لوگ جھوٹے ہیں اور ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور انکے بوجھ بھی جنکو گمراہ بنایا اور جو جو افترائ یہ باندھتے رہے ان پر

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إلَی قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِیهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إلاَّ خَمْسِینَ عَاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ

ضرور ان سے باز پرس ہوگی. اور ہم نے نوحعليه‌السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ پچاس کم ہزار برس ان کو ہدایت دیتے رہے،جب وہ راہ راست پر نہ آئے

وَهُمْ ظَالِمُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَنْجَیْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِینَةِ وَجَعَلْنَاهَا آیَةً لِلْعَالَمِینَ ﴿۱۵﴾ وَ

تو طوفان نے انکو آگھیرا تب بھی وہ سرکش ہی تھے پس ہم نے نوحعليه‌السلام اور کشتی میں سوار لوگوں کو بچالیا اور اس واقعہ کو ساری خدائی کیلئے نشانی قرار دیا.

إبْرَاهِیمَ إذ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا ﷲ وَاتَّقُوهُ ذلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿۱۶﴾ إنَّمَا

اور ابراہیمعليه‌السلام کو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم سمجھ بوجھ رکھتے ہو. مگر تم

تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ أَوْثَاناً وَتَخْلُقُونَ إفْکاً إنَّ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ لاَ یَمْلِکُونَ

لوگ خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کرتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو بے شک خدا کو چھوڑ کرتم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ تمہاری روزی پر

لَکُمْ رِزْقاً فَابْتَغُوا عِنْدَ ﷲ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْکُرُوا لَهُ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ ﴿۱۷﴾ وَ إنْ

اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی سے روزی مانگو اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو کہ تم لوگ اسی کی طرف لوٹا ئے جائوگے. اور (اے مکہ والو) اگر

تُکَذِّبُوا فَقَدْ کَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إلاَّ البَلاَغُ المُبِینُ ﴿۱۸﴾ أَوَ لَمْ

تم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلایا ہے تو پہلی امتوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا تھا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذمہ صرف پیغام پہنچادینا ہے. کیا ان لوگوں نے غور نہیں

یَرَوْا کَیْفَ یُبْدئُ ﷲ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ إنَّ ذلِکَ عَلَی ﷲ یَسِیرٌ ﴿۱۹﴾ قُلْ سِیرُوا فِی

کیا کہ خدا کسطرح مخلوقات کا آغاز کرتا ہے، پھر دوبارہ پیدا کریگا. بیشک خدا کیلئے یہ بڑی آسان بات ہے (اے رسول ) ان سے

الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الخَلْقَ ثُمَّ ﷲ یُنْشئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ إنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیئٍ

کہہ دوکہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ خدا نے مخلوق کو پہلے پہل کس طرح پیدا کیا پھر خدا ہی دوسری مرتبہ ان کو پیدا کرے گا یقیناً خدا

قَدِیرٌ ﴿۲۰﴾ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَیَرْحَمُ مَنْ یَشَائُ وَ إلَیْهِ تُقْلَبُونَ ﴿۲۱﴾ وَمَا أَنْتُمْ

ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس پر چاہے عذاب کرے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائوگے اور نہ تم زمین

بِمُعْجِزِینَ فِی الاََرْضِ وَلاَ فِی السَّمَائِ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ ﷲ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیرٌ ﴿۲۲﴾

میں خدا کو عاجز کر سکتے ہونہ آسمان میں اور نہ ہی خدا کے سوا تمہارا کوئی سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار اور جن لوگوں نے خدا کی

وَالَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ ﷲ وَلِقَائِهِ أُولٰٓئِکَ یَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِی وَأُولیِکَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ ﴿۲۳﴾

نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا یہی لوگ میری رحمت سے ناامید ہیں اور انہی کے لیے دردناک عذاب ہے.

فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إلاَّ أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ ﷲ مِنَ النَّارٍ إنَّ فِی ذلِکَ

غرض ابراہیمعليه‌السلام کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ باہم کہنے لگے کہ اسے قتل کرڈالو یا اسے جلادو، پس خدا نے ابراہیم کو آگ سے بچالیا

لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۲۴﴾ وَقالَ إنَّمَا اتَّخَذتُمْ مِنْ دُونِ ﷲ أَوْثَاناً مَوَدَّةَ بَیْنِکُمْ فِی

بے شک ایمان والوں کے لیے اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں. اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے دنیا میں باہمی تعلق کے باعث خدا کو

الحَیَاةِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ القِیَامَةِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضاً وَمَأْواکُمُ النَّارُ

چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے پھر روز قیامت تم ایک دوسرے کا انکار کروگے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجوگے تمہارا ٹھکانا جہنم ہے

وَمَا لَکُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۵﴾ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إنِّی مُهَاجِرٌ إلَی رَبِّی إنَّهُ هُوَ العَزِیزُ

جہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا تب صرف لوطعليه‌السلام ہی ابراہیمعليه‌السلام پر ایمان لائے اور ابراہیمعليه‌السلام نے کہا میں وطن چھوڑ کر اپنے رب کیطرف جائوں گا. بیشک وہ

الحَکِیمُ ﴿۲۶﴾ وَوَهَبْنَا لَهُ إسْحقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالکِتَابَ وَآتَیْنَاهُ

غالب، حکمت والا ہے. اور ہم نے ابراہیمعليه‌السلام کو (بیٹا )اسحاق اور( پوتا) یعقوبعليه‌السلام دیئے اور نبوت و کتاب کو انکی اولاد میں قرار دیا. ہم نے

أَجْرَهُ فِی الدُّنْیَا وَ إنَّهُ فِی الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ ﴿۲۷﴾ وَلُوطاً إذ قَالَ لِقَوْمِهِ إنَّکُمْ

ابراہیمعليه‌السلام کو دنیا میں اچھا بدلہ دیا اور وہ آخرت میں بھی ضرور نیک لوگوں میں ہوں گے اور جب لوطعليه‌السلام نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ جو بے

لَتَأْتُونَ الفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ العَالَمِینَ ﴿۲۸﴾ أَیِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ

حیائی کرتے ہو وہ تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی آیا تم عورتوں کی جگہ مردوں سے نزدیکی کرتے ہو،

وَتَقْطَعُونَ السَّبِیلَ وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ المُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إلاَّ أَنْ قَالُوا ائْتِنَا

مسافروں کو لوٹتے ہو اور اپنی محفلوں میں بری حرکات کرتے ہو. پس انکی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر یہ کہ کہنے

بِعَذَابِ ﷲ إنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِینَ ﴿۲۹﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِی عَلَی القَوْمِ المُفْسِدِینَ ﴿۳۰﴾

لگے تم ہم پر خدا کا عذاب لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو. لوطعليه‌السلام نے دعا مانگی، یا رب! ان فسادیوں کے مقابلے میں میری مدد فرما.

وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا إنَّا مُهْلِکُوا أَهْلَ هذِهِ القَرْیَةِ إنَّ أَهْلَهَا کَانُوا

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیمعليه‌السلام کے پاس(بیٹے کی) خوشخبری لے کر آئے تو ان سے یہ بھی کہا کہ ہم اس گائوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے

ظَالِمِینَ ﴿۳۱﴾ قَالَ إنَّ فِیهَا لُوطاً قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا لَنُنَجِّیَنَّهُ وَأَهْلَهُ إلاَّ امْرَأَتَهُ

ہیں، بے شک یہ لوگ بڑے سرکش ہیں ابراہیمعليه‌السلام نے کہا کہ اس گائوں میں لوطعليه‌السلام بھی ہیں فرشتوں نے کہا ہم وہاں رہنے والوں کو جانتے ہیں ہم لوطعليه‌السلام

کانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿۳۲﴾ وَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِیءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً

اور انکے اہل خانہ کو بچائینگے سوائے انکی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ

وَقَالُوا لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إنَّا مُنَجُّوکَ وَأَهْلَکَ إلاَّ امْرَأَتَکَ کَانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿۳۳﴾

انکے آنے سے پریشان ہوئے اور میزبانی میں دقت محسوس کی. فرشتوں نے کہا آپ نہ ڈریں اور غم نہ کریں، یقیناً ہم آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو

إنَّا مُنْزِلُونَ عَلَی أَهْلِ هذِهِ القَرْیَةِ رِجْزاً مِنَ السَّمَائِ بِما کَانُوا یَفْسُقُونَ ﴿۳۴﴾وَلَقَدْ

بچائیں گے سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی بیشک ہم اس گاؤں کے لوگوں پر ایک آسمانی عذاب نازل کرنے والے

تَرَکْنَا مِنْهَا آیَةً بَیِّنَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إلَی مَدْیَنَ أَخَاهُمْ شُعَیْباً فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا

ہیں، کیونکہ یہ لوگ بدکاریاں کرتے رہے ہیںاور ہم نے اس(الٹی ہوئی بستی)سے سمجھدار لوگوں کیلئے ایک واضح نشانی رکھی ہے ہم نے مدین کے

ﷲ وَارْجُوا الیَوْمَ الآخِرَ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الاََرْضِ مُفْسِدِینَ ﴿۳۶﴾ فَکَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ

رہنے والوں کیطرف انکے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم خدا کی عبادت کرو. روز آخرت کی امید رکھو اور روئے زمین پر فساد نہ

الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِی دَارِهِمْ جَاثِمِینَ ﴿۳۷﴾ وَعَاداً وَثَمُودَاْ وَقَدْ تَبَیَّنَ لَکُمْ مِنْ

پھیلاتے پھرو پس ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلا یا تو انہیں زلزلے نے اچک لیا تب وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے اور قوم

مَسَاکِنِهِمْ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیلِ وَکَانُوا مُسْتَبْصِرِینَ ﴿۳۸﴾

عاد اور ثمود بھی ہلاک ہوئیں اور تمہیں انکے اجڑ ے گھروں کا پتہ بھی ہے اور شیطان نے ان کیلئے انکے کاموں کو مزین کردیاپس انہیں سیدھی راہ سے

وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مُوسَیٰ بِالبَیِّنَاتِ فَاسْتَکْبَرُوا فِی الاََرْضِ وَمَا

روک ڈالا حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار تھے اور ہم نے قارون و فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا جب کہ ان کے پاس موسیٰ روشن معجزے لے کر آئے تو

کَانُوا سَابِقِینَ ﴿۳۹﴾ فَکُلاًّ أَخَذنَا بِذَنْبِهِ فَمِنْهُم مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِباً وَمِنْهُمْ مَنْ

بھی وہ لوگ زمین میں سرکشی کرتے رہے اور ہم سے بچ کر نہ جاسکے. پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے سبب گرفت میں لے لیا تو ان میں سے

أَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الاََرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ

بعض پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی ان میں وہ بھی تھے جن کو سخت چنگھاڑنے آلیا ان میں بعض وہ تھے جنکو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان

وَلکِنْ کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ﴿۴۰﴾ مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ ﷲ أَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ

میں بعض کو ہم نے ڈبو کر مارا اور یہ نہیں کہ خدا نے ان پر ظلم کیا ہو، بلکہ یہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے تھے. جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں

العَنْکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتاً وَ إنَّ أَوْهَنَ البُیُوتِ لَبَیْتُ العَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿۴۱﴾

کو کارساز بنا رکھا ہے انکی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور بے شک گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے، اگر یہ لوگ

إنَّ ﷲ یَعْلَمُ مَا یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَیئٍ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۴۲﴾ وَتِلْکَ الاََمْثَالُ

سمجھتے بھی ہوں خدا کو چھوڑ کر یہ لوگ جس چیز کو پکارتے ہیں خدا یقیناً اس سے واقف ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے اور ہم یہ مثالیں لوگوں

نَضْرِبُها لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُهَا إلاَّ الْعَالِمُونَ ﴿۴۳﴾ خَلَقَ ﷲ السَّمواتِ وَالاََرْضَ بِالحَقِّ إنَّ

کیلئے بیان کرتے ہیں اور انکو صاحبان علم کے سوا کوئی نہیں سمجھتا خدا نے سارے آسمانوں اور زمین کو بالکل ٹھیک بنایا اس میں شک

فِی ذ لِکَ لاََیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ ﴿۴۴﴾ اتْلُ مَا أُوحِیَ إلَیْکَ مِنَ الکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلاَةَ إنَّ

نہیں کہ اس میں ایمانداروں کیلئے حتماً نشانی ہے( اے رسول ) جو کتاب تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اسکی تلاوت کرو اور نماز پابندی

الصَّلاَةَ تَنْهَی عَنِ الفَحْشَائِ وَالمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ ﷲ أَکْبَرُ وَﷲ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿۴۵﴾ وَلاَ

سے پڑھو کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور لازماً یاد خدا بڑا مرتبہ رکھتی ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہوخدا اس سے

تُجَادِلُوا أَهْلَ الکِتَابِ إلاَّ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ إلاَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِی

واقف ہے اور (اے مومنو) اہل کتاب سے مناظرہ نہ کیا کرو مگر بہترین اندازسے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ظلم کیا اور کہہ دو

أُنْزِلَ إلَیْنَا وَأُنْزِلَ إلَیْکُمْ وَ إلهُنَا وَ إلهُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿۴۶﴾ وَکَذلِکَ

ہم ایمان لائے اس پر جو (کتاب) ہم پراتری اور جو تم پراتری اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے. اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں اور (اے رسول )

أَنْزَلْنَا إلَیْکَ الکِتَابَ فَالَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الکِتَابَ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَمِنْ هٰؤُلاَئِ مَنْ یُؤْمِنُ بِهِ وَمَا

اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کتاب نازل کی وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان (عربوں) میں سے بھی

یَجْحَدُ بِآیاتِنَا إلاَّ الکَافِرُونَ ﴿۴۷﴾ وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ کِتَابٍ وَلاَ تَخُطُّهُ

بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آتیوں کا سوائے کافروں کے کوئی انکار نہیں کرتا اور(اے رسول ) قرآن سے پہلے نہ تم کوئی کتاب پڑھتے تھے

بِیَمِینِکَ إذاً لاَرْتابَ المُبْطِلُونَ ﴿۴۸﴾ بَلْ هُوَ آیاتٌ بَیِّنَاتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ أُوتُوا

اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے ضرور شک کرتے مگر یہ (قرآن) روشن آیتیں ہیں جوان کے دلوں میں ہے جن کو علم عطا ہوا

العِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إلاَّ الظَّالِمُونَ ﴿۴۹﴾ وَقَالُوا لَوْلاَ أُنْزِلَ عَلَیْهِ آیَاتٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ

ہے اورسرکشوں کے سواکوئی ہماری آیتوں کا منکر نہیں. اور کافر کہتے ہیں کہ اس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پراسکے رب کی طرف سے کیوں معجزے نہیں اترتے. کہہ

إنَّمَا الاَْیَاتُ عِنْدَ ﷲ وَ إنَّمَا أَنَا نَذِیرٌ مُبِینٌ ﴿۵۰﴾أَوَ لَمْ یَکْفِهِمْ أَ نَّا أَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الکِتَابَ

دو کہ معجزے تو بس خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر

یُتْلَی عَلَیْهِمْ إنَّ فِی ذلِکَ لَرَحْمَةً وَذِکْریٰ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۵۱﴾ قُلْ کَفٰی بِالله بَیْنِی

قرآن اتارا جو ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے. بے شک اس میں ایمانداروں کیلئے بڑی مہربانی اور اچھی نصیحت ہے. کہدو کہ میرے

وَبَیْنَکُمْ شَهِیداً یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَالَّذِینَ آمَنُوا بِالبَاطِلِ وَکَفَرُوا بِالله

اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے خدا ہی کافی ہے جو آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو جانتا ہے. اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا کا انکار کیا وہ

أُولیِکَ هُمُ الخَاسِرُونَ ﴿۵۲﴾ وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُسَمّیً لَجَاءَهُمُ

لوگ بڑے گھاٹے میں رہیں گے. اور (اے رسول ) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اگر وقت مقرر نہ ہوتا تو ضرور ان پر عذاب

العَذَابُ وَلِیَأْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ یَشْعُرُونَ ﴿۵۳﴾ یَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَ إنَّ جَهَنَّمَ

آگیا ہوتا اور وہ یقیناً ان پر اچانک آپڑے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اس میں شک نہیں کہ

لَمُحِیطَةٌ بِالکَافِرِینَ ﴿۵۴﴾ یَوْمَ یَغْشَاهُمُ العَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ

دوزخ کافروں کو گھیر کر رہے گی. جس دن عذاب انکے سروں کے اوپر اور پائوں کے نیچے سے گھیرے ہوئے ہوگا تب خدا ان

وَیَقُولُ ذُوقُوا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۵۵﴾ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ آمَنُوا إنَّ أَرْضِی وَاسِعَةٌ فَ إیَّایَ

سے کہے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اب اسکا مزہ چکھو اے میرا وہ بندہ جو ایمان لایا ہو، میری زمین تو یقیناً کشادہ ہے پس تم

فَاعْبُدُونِ ﴿۵۶﴾ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوْتِ ثُمَّ إلَیْنَا تُرْجَعُونَ ﴿۵۷﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا

میری ہی عبادت کرو ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے. پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائوگے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا

وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّءَنَّهُمْ مِنَ الجَنَّةِ غُرَفاً تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الاََنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا

اور اچھے اچھے کام کیے ہم ان کو جنت کے گھروں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،

نِعْمَ أَجْرُ العَامِلِینَ ﴿۵۸﴾ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَیٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ﴿۵۹﴾ وَکَأَیِّنْ مِنْ دَابَّةٍ

نیکولوگوں کا کیا خوب اجر ہے، جنہوں نے صبر سے کام لیااور اپنے رب پر بھر وسہ رکھتے ہیںزمین پر چلنے والوں میں بہت سے ایسے ہیں

لاَ تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﷲ یَرْزُقُهَا وَ إیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶۰﴾ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ

جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی انہیں اور تمہیںروزی دیتا ہے اور وہ بڑا سننے والا واقف کار ہے اور (اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )اگر تم ان

السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لَیَقُولُنَّ ﷲ فَأَ نّٰی یُؤْفَکُونَ ﴿۶۱﴾ ﷲ

سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا تو وہ ضرور کہیں گے ﷲ تعالیٰ نے، پھر وہ کہاں

یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ وَیَقْدِرُ لَهُ إنَّ ﷲ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیمٌ ﴿۶۲﴾ وَلَئِنْ

بہکے جاتے ہیں خدا ہی اپنے بندوں میں سے جسکی چاہے روزی وسیع کر دے اور جس کیلئے چاہے تنگ کر دے. بے شک خدا ہر چیز سے

سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمائِ مَائً فَأَحْیَا بِهِ الاََرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُولُنَّ ﷲ قُلِ الحَمِدُ

واقف ہے اور (اے رسول ) اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے زمین کو آباد کیا جب کہ وہ مردہ تھی وہ

لِلّهِ بَلْ أَکْثَرُهُمْ لاَ یَعْقِلُونَ ﴿۶۳﴾ وَمَا هذِهِ الحَیَاةُ الدُّنْیَا إلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَ إنَّ الدَّارَ

ضرور کہیں گے کہ ﷲ نے ،(اے رسول ) کہہ دو الحمدﷲ.مگر ان میں سے اکثرسمجھتے نہیں ہیں اور یہ دنیا وی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے

الآخِرَةَ لَهِیَ الحَیَوَانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿۶۴﴾ فَ إذَا رَکِبُوا فِی الفُلْکِ دَعَوُا ﷲ

اور اگر یہ لوگ سمجھیں بوجھیں تو ہمیشہ زندہ رہنے کی جگہ تو آخرت ہی کا گھر ہے. پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کے عبادت گزار بن

مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إلَی البَرِّ إذَا هُمْ یُشْرِکُونَ ﴿۶۵﴾ لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ

کر اس سے دعا کرتے ہیں.پس جب وہ خشکی پر پہنچا کر. انہیں بچالیتا ہے تو فوراً شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کا انکار کریں اور

وَلِیَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ﴿۶۶﴾أَوَ لَمْ یَرَوْا أَ نَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ

دنیا کے مزے لوٹیں تو نتیجہ جلدہی انکو معلوم ہو جائیگا. کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے حرمِ مکہ کو امن کی جگہ بنایا، حالانکہ اسکے گردونواح میں لوگ

حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ﷲ یَکْفُرُونَ ﴿۶۷﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی ﷲ

لٹ جاتے ہیں تو کیا یہ لوگ جھوٹوں کو مانتے اور خدا کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور جو شخص خدا پر جھوٹ باندھے یا جب حق بات

کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِالحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ أَلَیْسَ فِی جَهَنَّمَ مَثْویً لِلْکَافِرِینَ ﴿۶۸﴾ وَالَّذِینَ

اس کو پہنچے تو اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کون ہوگا. کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟اور جن لوگوں نے ہمارے لیے

جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَ إنَّ ﷲ لَمَعَ المُحْسِنِینَ ﴿۶۹﴾

جہاد کیا تو ضرور ہم ان کو اپنی راہ کی ہدایت کریں گے اور بیشک خدا نیک لوگوں کا ساتھی ہے۔


7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88