مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)3%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205925 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

( ۳ ) دعائے فرج

شیخ کفعمی نے بلدالامین میں ایک دعا امیرالمومنین - سے روایت کی ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت زدہ ، گرفتار غم اور خائف اس دعا کو پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کیلئے فرج و کشائش فرمائے گا ۔

یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ وَیَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ، وَیَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَهُ، وَیَا حِرْزَ

اے بے سہاروں کے سہارے اے بے ذخیروں کے ذخیرے اے بے آسروں کے آسرا اے پناہ سے محروموں

مَنْ لاَ حِرْزَ لَهُ وَیَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ وَیَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَهُ وَیَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَهُ

کی پناہ اے دادرس نہ رکھنے والوں کے داد رس اے بے خزانوں کے خزانے اے عزت نہ رکھنے والوں کی عزت

یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ یَا عَوْنَ الضُّعَفائِ یَا کَنْزَ الْفُقَرائِ یَا عَظِیمَ الرَّجائِ

اے کرم کرنے اور معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے کمزوروں کے مددگار اے محتاجوں کے خزانے اے

یَا مُنْقِذَ الْغَرْقی یَا مُنْجِیَ الْهَلْکی یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ أَنْتَ الَّذِی

بڑی امید گاہ اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے تباہ ہونے والوں کو بچانے والے اے احسان کرنے والے اے نعمت دینے والے

سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ وَضَوْئُ الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ وَحَفِیفُ الشَّجَرِ

اے عطا کرنے والے تو وہ ہے کہ تیرے لیے سجدہ ریز ہے تیرے لیے رات کی تاریکی دن کی روشنی چاند کی چاندنی سورج کی کرن درخت کی

وَدَوِیُّ الْمائِ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ

سرسراہٹ اور پانی کی آواز یاﷲ یاﷲ یاﷲ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا و لاثانی ہے اے پروردگار اے ﷲ

صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِنَا مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمارے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے۔

اس کے بعد جو حاجت بھی رکھتا ہو طلب کرے۔

مولف کہتے ہیں کہ سختی وغم کے دور ہونے اور آسودگی کے لئے اس ذکر کا ہمیشہ پڑھنا بہت مفید ہے اور یہ وہی ذکر ہے جو امام محمد تقی - نے تعلیم فرمایا ہے:

یَا مَنْ یّکْفِیْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَّ لَا یَکْفِیْ مِنْهُ شَیْئٌ اِکْفنِِیْ مَآ اَهَمَّنِیْ

اے وہ جو ہر چیز سے بڑھ کر کفایت کرتا ہے اور اس سے کوئی چیز کفایت نہیں کرتی میرے اہم کاموں میں میری کفایت کر۔

( ۴ ) حرز حضرت فاطمہ الزہرائ اور قید سے رہائی کی دعا

سید ابن طائوسرحمه‌الله مہج الدعوات میں کہتے ہیں کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑی مدت سے شام میں قید تھا اسنے عالم خواب میں سیدہ فاطمہ =کو دیکھا کہ فرماتی ہیں:اس دعا کو پڑھو اور پھر اسے یہ دعا تعلیم فرمائی پس جب اس نے یہ دعا پڑھی تو اسکو قید سے رہائی مل گئی اور وہ اپنے گھر لوٹ آیا، وہ دعا یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ الْعَرْشِ وَمَنْ عَلاهُ وَبِحَقِّ الْوَحْیِ وَمَنْ أَوْحاهُ وَبِحَقِّ النَّبِیِّ وَمَنْ نَبَّاهُ

اے معبود واسطہ ہے عرش کا اور جو کچھ اس پر ہے واسطہ ہے وحی کا اور جس نے وحی کی واسطہ ہے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اور جس پیغمبر نے خبر دی ہے

وَبِحَقِّ الْبَیْتِ وَمَنْ بَناهُ یَا سامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، یَا جامِعَ کُلِّ فَوْتٍ، یَا بارِیََ النُّفُوسِ

واسطہ ہے کعبے کا اور اسے تعمیر کرنے والے کا اے ہر آواز کے سننے والے اے ہرگمشدہ کو لانے والے اے موت کے بعد

بَعْدَ الْمَوْتِ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَآتِنا وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی

نفسوں کو پیدا کرنے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیتعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اور سب مومنین و مومنات کو زمین کے ہر

مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها فَرَجاً مِنْ عِنْدِکَ عاجِلاً بِشَهادَةِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَأَنَّ

مشرق اور ہر مغرب میں کشادگی وفراخی عطا فرما اپنی جناب سے جلد تر واسطے سے اس گواہی کے ساتھ کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور

مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلی ذُرِّیَّتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ،

یہ کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں رحمت ہو خدا کی ان پر ان کی آلعليه‌السلام اور اولاد پر جو پاک ہیں طاہرہیں

وَسَلَّمَ تَسْلَِیماً کَثِیراً

اور سلام ہو ان پر بہت بہت سلام۔

( ۵ )بخار سے شفا پانے کی دعائ

سیدابن طائوس نے مہج الدعوات میں سلمان سے ایک روایت کی ہے کہ جس کے آخر میں ایک خبر مذکور ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ زہراعليه‌السلام نے مجھے ایک ورد بتایا جو انہوں نے رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حفظ کیا ہوا تھا ، جسے آپ صبح و شام پڑھا کرتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اس دنیا میں تمہیں کبھی بخار نہ چڑھے تو اس کلام کو ہمیشہ پڑھاکرو اور وہ کلام یہ ہے :

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

بِسْمِ ﷲ النُّورِ، بِسْمِ ﷲ نُورِ النُّورِ، بِسْمِ ﷲ نُورٌ عَلی نُورٍ، بِسْمِ

خداوند نور کے نام کے واسطے سے اس خدا کے نام کے واسطے سے جو نور کا نور ہے اس خدا کے نام کے واسطے سے جو نور پر نور ہے اس

ﷲ الَّذِی هُوَ مُدَبِّرُ الاَُْمُورِ بِسْمِ ﷲ الَّذِی خَلَقَ النُّورَ مِنَ النُّورِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی

خدا کے نام کے واسطے سے جو کاموں کو سنوارنے والا ہے اس خدا کے نام کے واسطے سے جس نے نور کو نور سے پیدا کیاحمد اسی خدا کیلئے

خَلَقَ النُّورَ مِنَ النُّورِ وَأَنْزَلَ النُّورَ عَلَی الطُّورِ فِی کِتابٍ مَسْطُورٍ فِی رَقٍّ مَنْشُورٍ

ہے جس نے نور کو نور سے پیدا کیا اور نور کو کوہ طور پر نازل کیا ایک لکھی ہوئی کتاب میں ایک پھیلے ہوئے ورق میں اندازے

بِقَدَرٍ مَقْدُورٍ عَلی نَبِیٍّ مَحْبُورٍ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی هُوَ بِالْعِزِّ مَذْکُورٌ وَبِالْفَخْرِ مَشْهُورٌ

کے مطابق ایک دانشمند پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حمد اسی خدا کے لیے ہے جو عزت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے فخر کے ساتھ مشہور ہے

وَعَلَی السَّرَّائِ وَالضَّرَّائِ مَشْکُورٌ وَصَلَّی ﷲ عَلی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ

اور جس کا تنگی و فراخی میں شکرکیا جاتا ہے ہمارے آقا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور ان کی آلعليه‌السلام پرخدا کی رحمت ہو۔

سلمان کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ ورد سیدہ زہرا = سے حاصل کیا تو قسم بخدا کہ میں نے یہ مکہ ومدینہ میں ایسے ایک ہزار افراد کو بتایا کہ جو بخار میں مبتلا تھے جن کو اس کے پڑھنے سے بحکم خدا شفا حاصل ہوئی۔

( ۶ )حرز حضرت امام زین العابدین-

ابن طائوس نے مہج الدعوات میں دومقامات پر یہ حرز امام زین العابدین-سے نقل کیا ہے :

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ، یَا أَحْکَمَ

اے سننے والوں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں سے زیادہ دیکھنے والے اے حساب کرنے والوں میں تیز تر اے سب سے

الْحاکِمِینَ، یَا خالِقَ الْمَخْلُوقِینَ، یَا رازِقَ الْمَرْزُوقِینَ، یَا ناصِرَ الْمَنْصُورِینَ،

بڑے حاکم اے خلق شدہ چیزوں کے خالق اے رزق پانے والوں کے رازق اے مدد یافتہ لوگوں کے مددگار

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا دَلِیلَ الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، أَغِثْنِی یَا مالِکَ

اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے اے پریشان لوگوں کے رہنما اے فریادیوں کے فریاد رس میری فریاد رسی کر اے یوم جزا

یَوْمِ الدِّینِ، إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ، یَا صَرِیخَ الْمَکْرُوبِینَ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ

و سزا کے مالک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں اے دکھیاروں کے فریاد رس اے دعا قبول

الْمُضْطَرِّینَ أَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ،

کرنے والے تو ہی وہ ﷲ ہے جو عالمین کا پروردگار ہے تو ہی وہ ﷲ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو سچا اور حقیقی حکمران ہے

الْکِبْرِیائُ رِداؤُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی وَعَلی عَلِیٍّ الْمُرْتَضی وَفاطِمَةَ

کہ بڑائی تیرا لباس ہے اے معبود محمد مصطفٰیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور علیعليه‌السلام مرتضیعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور فاطمہ

الزَّهْرائِ، وَخَدِیجَةَ الْکُبْری، وَالْحَسَنِ الْمُجْتَبی، وَالْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ بِکَرْبَلاءَ،

زہراعليه‌السلام اور خدیجۃعليه‌السلام الکبریٰ پر رحمت نازل فرما اور حسنعليه‌السلام مجتبٰی پر رحمت نازل فرما اور اس حسینعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما جو کربلا میں شہید ہوئے

وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدِینَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْباقِرِ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ

اور علیعليه‌السلام ابن حسینعليه‌السلام زین العابدینعليه‌السلام اور محمد باقرعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور جعفر صادقعليه‌السلام

وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْکَاظِمِ، وَعَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضا، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ التَّقِیِّ،

اور موسی کاظمعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور علی رضاعليه‌السلام اور محمد تقیعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور علی نقیعليه‌السلام

وَعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّقِیِّ وَالْحَسَنِ الْعَسْکَرِیِّ وَالْحُجَّةِ الْقائِمِ الْمَهْدِیِّ الْاِمامِ المُنْتَظَرِ

اور حسن عسکریعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور حجۃ القائمعليه‌السلام امام مہدیعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما

صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ والِ مَنْ وَالاهُمْ، وَعادِ مَنْ عادَاهُمْ، وَانْصُرْ

خدا کی رحمتیں ہوں ان سب پر اے معبود دوست رکھ اسے جو انہیں دوست رکھے اور دشمنی رکھ اس سے جو ان سے دشمنی رکھے اور مدد کر

مَنْ نَصَرَهُمْ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَالْعَنْ مَنْ ظَلَمَهُمْ، وَعَجِّلْ فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ

اس کی جو ان کی مدد کرے اور چھوڑ دے ان کو اور لعنت کر ان پر جو ظلم کرے ور آلعليه‌السلام محمدعليه‌السلام کو کشادگی دینے میں جلدی کر اور آلعليه‌السلام محمدعليه‌السلام کے

وَانْصُرْ شِیعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْزُقْنِی رُؤْیَةَ قائِمِ آلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْنِی مِنْ أَتْباعِهِ

شیعوں کی مدد فرما اور مجھے قائم آلعليه‌السلام محمدعليه‌السلام کا دیدار نصیب فرما اور مجھ کو ان کے پیروکاروں اور

وَأَشْیاعِهِ وَالرَّاضِینَ بِفِعْلِهِ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ان کے مددگاروں اور ان کے کام سے خوش ہونے والوں میں قرار دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے ولے۔

( ۷ )دعائ امام زین العابدین- یا دعائ مقاتل بن سلیمان(رض) ۔

شیخ کفعمی نے بلدالامین میں ایک دعا امام سجادعليه‌السلام سے نقل کی اور کہا ہے کہ یہ دعا آنجنابعليه‌السلام سے مقاتل بن سلمان نے روایت کی اورساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اس دعا کو سومرتبہ پڑھے اور اس کی دعا قبول نہ ہو تو مقاتل پر لعنت بھیجے اور وہ دعا یہ ہے :

إلهِی کَیْفَ أَدْعُوکَ وَأَ نَا أَ نَا وَکَیْفَ أَقْطَعُ رَجائِی مِنْکَ وَأَنْتَ أَنْتَ إلهِی إذا لَمْ

میرے معبود میں تجھے کیسے پکاروں اور میں تو میں ہوں اور کیونکر تجھ سے اپنی امید توڑوں جبکہ تو تو ہی ہے میرے معبود جب میں تجھ

أَسْأَلْکَ فَتُعْطِیَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی أَسْأَلُهُ فَیُعْطِیَنِی إلهِی إذا لَمْ أَدْعُکَ فَتَسْتَجِیبَ لِی

سے نہ مانگوں کہ تو مجھے عطا کرتا ہے اور کون ہے جس سے مانگوں تو وہ مجھے دے گا میرے معبود جب میں تجھ سے دعا نہ کروں تو میری

فَمَنْ ذَا الَّذِی أَدْعُوهُ فَیَسْتَجِیبُ لِی إلهِی إذا لَمْ أَتَضَرَّعْ إلَیْکَ فَتَرْحَمُنِی، فَمَنْ ذَا

دعا قبول فرماتا ہے اور کون ہے جس سے دعا کروں تو وہ میری دعاقبول کرے گا میرے معبود جب میں تیرے حضورزاری نہ کروں

الَّذِی أَتَضَرَّعُ إلَیْهِ فَیَرْحَمُنِی إلهِی فَکَما فَلَقْتَ الْبَحْرَ لِمُوسیٰ ں

تب بھی تو مجھ پر رحم کرتا ہے اور کون ہے جس کے آگے زاری کروں تو وہ مجھ پر رحم کرے گا میرے معبود جیسے تونے دریا کو شگافتہ کیا موسٰعليه‌السلام ی

وَنَجَّیْتَهُ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تُنَجِّیَنِی مِمَّا

کیلیے اور انہیں نجات دی تھی تو میں بھی تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے نجات دے اس مشکل سے جس میں گرفتار

أَنَا فِیهِ وَتُفَرِّجَ عَنِّی فَرَجاً عاجِلاً غَیْرَ آجِلٍ بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ہوں اور مجھے کشادگی عطا فرماجلد تر کہ اس میں دیر نہ ہو اپنے فضل سے اور اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

( ۸ )دعائے حضرت رسول

سید ابن طائوس نے مہج الدعوات میں امام محمد باقر -سے نقل کیا ہے کہ جبرائیل - نے رسول ﷲ سے عرض کیا کہ میں کسی پیغمبر کو آپ سے بڑھ کر دوست نہیں رکھتا پس آپ بکثرت یہ پڑھا کریں :

اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَریٰ وَلاَ تُریٰ وَأَ نْتَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلیٰ وَأَنَّ إلَیْکَ الْمُنْتَهیٰ وَالرُّجْعیٰ وَأَنَّ

اے معبود تو دیکھتا ہے اور تو دیکھا نہیں جاتا اور تو اعلیٰ مقام پر ہے اور بے شک انتہا اور بازگشت تیری ہی طرف ہے بے شک تیرے

لَکَ الاَْخِرَةَ وَالاَُْولیٰ وَأَنَّ لَکَ الْمَماتَ وَالْمَحْیَا وَرَبِّ أَعُوذُ بِکَ أَنْ أُذَلَّ أَوْ أُخْزی

ہی لیے دنیا و آخرت ہے بے شک تیرے ہاتھ میں ہی موت اور زندگی ہے اور اے پروردگار میں اپنی ذلت و رسوائی میں تیری ہی پناہ لیتا ہوں۔

( ۹ )دعائے سریع الاجابت

شیخ کفعمی نے بلدالامین میں امام موسٰی کاظم -سے مروی ایک دعانقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دعائ عظیم الشأن اور جلد قبول ہونے والی ہے اور وہ یہ ہے۔

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَطَعْتُکَ فِی أَحَبِّ الْاَشْیائِ إلَیْکَ وَهُوَ التَّوْحِیدُ، وَلَمْ أَعْصِکَ فِی أَبْغَضِ

اے معبود میں نے تیری اطاعت کی اس چیز میں جو تجھے بہت پسند ہے اور وہ تیری توحید ہے اور تیری نافرمانی نہیں کی اس چیز میں جو

الْاَشْیائِ إلَیْکَ وَهُوَ الْکُفْرُ، فَاغْفِر لِی ما بَیْنَهُما، یَا مَنْ إلَیْهِ مَفَرِّی آمِنِّی مِمَّا فَزِعْتُ

تجھے سخت ناپسند ہے اور وہ کفر ہے پس بخش دے جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اے وہ جس تک میری دوڑ ہے مجھے امن دے اس

مِنْهُ إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الْکَثِیرَ مِنْ مَعاصِیکَ، وَاقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ مِنْ طاعَتِکَ، یَا

سے جس کے ڈر سے میں تیری طرف آیا ہوں اے معبود معاف کر دے جو میں نے تیری بہت ہی نافرمانیاں کی ہیں اور قبول فرما

عُدَّتِی دُونَ الْعُدَدِ ، وَیَا رَجائِی وَالْمُعْتَمَدَ، وَیَا کَهْفِی وَالسَّنَدَ، وَیَا وَاحِدُ یَا أَحَدُ، یَا

میری تھوڑی اطاعت جو میں نے کی ہے اے ذخیروں کے مقابل میرے ذخیرہ اور میری امید گاہ اور سہارے اے میری پناہ گاہ

قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ ﷲ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ،

اوراے پشت پناہ اور اے یگانہ اے یکتا اے کہ تیری شان ہے کہو ﷲایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ کوئی اس کا بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا

أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مَنِ اصْطَفَیْتَهُمْ مِنْ خَلْقِکَ وَلَمْ تَجْعَلْ فِی خَلْقِکَ مِثْلَهُمْ

فرزند ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس کے واسطے سے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے چنا ہے اور اپنی

أَحَداً ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَتَفْعَلَ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ

خلقت میں سے کسی کو ویسا قرار نہیں دیاکہ تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایانِ شان ہے اے

إنِّی أَسْأَ لُکَ بِالْوَحْدانِیَّةِ الْکُبْریٰ وَالْمُحَمَّدِیَّةِ الْبَیْضائِ، وَالْعَلَوِیَّةِ العُلْیا، وَبِجَمِیعِ

معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ عظیم یکتائی کے اور بواسطہ محمدیت کی تابانی اور علویت کی بلندی کے اور ان سب کے واسطے

مَا احْتَجَجْتَ بِهِ عَلی عِبادِکَ وَبِالاسْمِ الَّذِی حَجَبْتَهُ عَنْ خَلْقِکَ فَلَمْ یَخْرُجْ مِنْکَ إلاَّ

سے جن کو تو نے حجت قرار دیاہے اپنے بندوں پر اور اس نام کے واسطے سے جو تونے اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا پس وہ ظاہرنہ ہوا وہ

إلَیْکَ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً، وَارْزُقْنِی مِنْ

تیرے سوا کسی پر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور میرے کام میں کشادگی پیدا کر اور راستہ بنا دے اور مجھے رزق دے جہاں

حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ، إنَّکَ تَرْزُقُ مَنْ تَشائُ بِغَیْرِ حِسابٍ

سے مجھے توقع ہے اور جہاں سے مجھے توقع نہیں ہے بے شک تو جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرے

(۱۰)دعا امن از بلاوغیرہ

کفعمی نے مصباح میں ایک دعا نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیدابن طاوس نے اس کو ظالم حاکم سے بچائو، دشمن کے غلبے، مصیبت کے آنے، فقر و تنگدستی اور تنگی سینہ کے خوف کے اوقات میں پڑھنے کیلئے ذکر کیا ہے اور یہ دعا صحیفہ سجادیہ میں سے ہے پس جب ان میں سے کسی بات کا خوف ہو تو اس دعا کو پڑھے اور وہ یہ ہے:

یَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَکارِهِ، وَیَا مَنْ یُفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدائِدِ، وَیَا مَنْ یُلْتَمَسُ

اے وہ جس کے ذریعے دکھوں کی گرہیں کھلتی ہیں اے وہ جس کے وسیلے سے سختیوں کی باڑھ ٹوٹتی ہے اے وہ جس سے خوشی وکشائش

مِنْهُ الْمَخْرَجُ إلی رَوْحِ الْفَرَجِ، ذَلَّتْ لِقُدْرَتِکَ الصِّعابُ، وَتَسَبَّبَتْ بِلُطْفِکَ الْأَسْبابُ

کیطرف لے جانے کی خواہش کی جاتی ہے تیری قدرت کے آگے مشکلات آسان ہوجاتی ہیں اور تیری مہربانی سے اسباب کا

وَجَریٰ بِقُدْرَتِکَ الْقَضائُ وَمَضَتْ عَلی إرادَتِکَ الْأَشْیائُ فَهِیَ بِمَشِیءَتِکَ دُونَ قَوْلِکَ

سلسلہ قائم ہے تری قدرت سے قضا جاری ہے اور چیزیں تیرے ارادے کے مطابق رواں ہیں وہ بغیر کہے تیری مرضی کے ماتحت

مُؤْتَمِرَةٌ وَبِ إرادَتِکَ دُونَ نَهْیِکَ مُنْزَجِرَةٌ أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَأَ نْتَ الْمَفْزَعُ فِی

ہیں اور محض تیرے ارادے ہی سے رکی ہوئی ہیں اور پابند ہیں تو ہی ہے جسے مشکلوں میں پکارا جاتا ہے اور تو ہی حوادث زمانہ میں

الْمُلِمَّاتِ، لاَ یَنْدَفِعُ مِنْها إلاَّ ما دَفَعْتَ، وَلاَ یَنْکَشِفُ مِنْها إلاَّما کَشَفْتَ، وَقَدْ نَزَلَ

جائے پناہ ہے کوئی مصیبت نہیں ٹلتی مگر وہی جسے تو ٹالے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوتی مگر وہی جسے تو حل کرے اے پروردگار مجھ پر ایسی

بِی یَا رَبِّ ما قَدْ تَکَأَّدَنِی ثِقْلُهُ وَأَلَمَّ بِی ما قَدْ بَهَظَنِی حَمْلُهُ، وَبِقُدْرَتِکَ أَوْرَدْتَهُ عَلَیَّ

سختی پڑی ہے جس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور وہ آفت آئی ہے جو ناقابل برداشت ہے تو نے اپنی قدرت سے یہ مجھ پروارد کی

وَبِسُلْطانِکَ وَجَّهْتَهُ إلَیَّ فَلا مُصْدِرَ لِما أَوْرَدْتَ وَلاَ صارِفَ لِما وَجَّهْتَ، وَلاَ فاتِحَ

ہے اور تو نے اپنے حکم سے یہ مجھ پر ڈالی ہے پس کوئی اسے ہٹا نے والا نہیں جو تو وارد کرے اور جسے تو لائے کوئی اسے دور کرنے والا

لِما أَغْلَقْتَ، وَلاَ مُغْلِقَ لِما فَتَحْتَ، وَلاَ مُیَسِّرَ لِما عَسَّرْتَ، وَلاَ ناصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ،

نہیں جسے تو بند کرے کوئی کھولنے والا نہیںجسے تو کھولے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے تو تنگی دے کوئی آسانی کرنے والا نہیں

فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَافْتَحْ لِی یَا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْ لِکَ،

جسے تو چھوڑ ے کوئی اس کا ناصر نہیں پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت فرما اور اے پروردگار اپنی رحمت سے میرے لیے کشادگی کادروازہ

وَاکْسِرْ عَنِّی سُلْطانَ الْهَمِّ بِحَوْ لِکَ، وَأَنِلْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیما شَکَوْتُ ، وَأَذِقْنِی

کھول دے اور اپنی قوت سے میرے فکر اندیشے کا زور توڑ دے میری شکایت کے بارے میں اپنی نظر کرم سے مجھے کامیابی دے اور

حَلاوَةَ الصُّنْعِ فِیما سَأَلْتُ، وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَفَرَجاً هَنِیئاً،

میری حاجت روائی سے مجھے احسان کی مٹھاس چکھا دے اپنے حضورسے مجھ پر رحمت نازل فرما اور کشادگی کا لطف بخش دے اور

وَاجْعَلْ لِی مِنْ عِنْدِکَ مَخْرَجاً وَحِیّاً، وَلاَ تَشْغَلْنِی بِالْاِهْتِمامِ عَنْ تَعاهُدِ فُرُوضِکَ،

اپنی طرف سے میرے لیے چھٹکارے کی راہ جلدی سے نکال دے اور ان غموں کے باعث مجھے اپنے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی

وَاسْتِعْمالِ سُنَّتِکَ، فَقَدْ ضِقْتُ لِما نَزَلَ بِی یَا رَبِّ ذَرْعاً، وَامْتَلْأَتُ بِحَمْلِ ما حَدَثَ

اور مستحبات کی بجا آوری سے غافل نہ ہونے دے کیونکہ اے پروردگار میں اس مصیبت سے اکتا چکاہوں اور ان حادثوں کے سبب

عَلَیَّ هَمّاً، وَأَ نْتَ الْقادِرُ عَلی کَشْفِ ما مُنِیتُ بِهِ، وَدَفْعِ ما وَقَعْتُ فِیهِ، فَافْعَلْ بِی

میرا دل رنج اور غم سے بھر گیا ہے اور تو ہی قادر ہے اس پر کہ جس دکھ میں پھنسا ہوں اسے دور کرے جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کو

ذلِکَ وَ إنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْکَ یَا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَذَا الْمَنِّ الْکَرِیمِ، فَأَ نْتَ

ٹال دے پس میرے لیے ایسا ہی کر اگرچہ تیری طرف سے میں اس لائق نہ بھی ہوں اے عرش عظیم کے مالک اور اے صاحب

قادِرٌ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

احسان و کرم پس تو ہی توانا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ایسا ہی ہو اے عالمین کے پروردگار۔

(۱۱)دعا فرج حضرت حجت(عج)

شیخ کفعمی نے بلدالامین میں لکھا ہے کہ یہ دعا حضرت حجت (عج)نے ایک شخص کو تعلیم فرمائی جو قید میں تھا اس نے یہ دعا پڑھی تو قید سے رہا ہو گیا، وہ دعا یہ ہے :

إلهِی عَظُمَ الْبَلائُ، وَبَرِحَ الْخَفائُ، وَانْکَشَفَ الْغِطائُ، وَانْقَطَعَ الرَّجائُ ، وَضاقَتِ

میرے معبود! مصیبت بڑھ گئی ہے چھپی بات کھل گئی ہے پردہ فاش ہو گیا ہے امید ٹوٹ گئی ہے زمین تنگ

الْاَرْضُ وَمُنِعَتِ السَّمائُ، وَأَ نْتَ الْمُسْتَعانُ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ، وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی

ہوگئی ہے اور آسمان نے رکاوٹ ڈال دی ہے تو ہی مدد کرنے والا ہے اور تجھی سے شکایت ہو سکتی ہے اور تنگی وآسانی میں صرف تو ہی

الشِّدَّةِ وَالرَّخائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أُولِی الْأَمْرِ الَّذِینَ فَرَضْتَ

سہارا بن سکتا ہے اے معبود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما جو صاحبان امر ہیں وہی ہیں جن کی اطاعت تو نے

عَلَیْنا طاعَتَهُمْ، وَعَرَّفْتَنا بِذَلِکَ مَنْزِلَتَهُمْ، فَفَرِّجْ عَنّا بِحَقِّهِمْ، فَرَجاً عاجِلاً قَرِیباً

ہم پر فرض کی ہے اور اس طرح ہمیں ان کے مرتبہ کی پہچان کرائی ہے پس ان کے صدقے میں ہمیں آسودگی عطا فرما جلد تر نزدیک

کَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ إکْفِیانِی فَ إنَّکُما کافِیانِ

تر گویا آنکھ جھپکنے کی مقدار یا اس سے بھی پہلے یامحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یاعلیعليه‌السلام یاعلیعليه‌السلام یامحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میری سرپرستی فرمائیے کہ آپ دونوں ہی کافی ہیں

وَانْصُرانِی فَ إنَّکُما ناصِرانِ یَا مَوْلانا یَا صاحِبَ الزَّمانِ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ،

میری مدد فرمائیے کہ آپ دونوں ہی میرے مددگا رہیں اے ہمارے آقا اے صاحب زمانعليه‌السلام فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں

أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی السَّاعَةَ السَّاعَةَ السّاعَةَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَا أَرْحَمَ

مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں اسی وقت اسی لمحے اسی گھڑی جلد تر جلد تر جلد تر اے سب سے زیادہ

الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ

رحم کرنے والے واسطہ ہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کااور ان کی پاک آلعليه‌السلام کا۔

دوسری فصل

تعقیبات مخصوص

تعقیب نماز ظہر

کتاب المتہجد میں ہے کہ نماز ظہر کی تعقیبات کے حوالے سے یہ دعا میں پڑھیں:

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ

خدائے عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود نہیں، رب ِعرش بریں کے سوا کوئی سزاوارِ عبادت نہیں۔تمام حمد عالمین کے پالنے والے خدا ہی کیلئے ہے،

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ

اے خدا میں تجھ سے تیری رحمت اور یقینی مغفرت کے اسباب کا سوال کرتا ہوں ،ہر نیکی سے حصہ پانے اور ہر گناہ سے

وَالسَّلامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ اَللّٰهُمَّ لاَتَدَعْ لِی ذَنْباً إلاَّغَفَرْتَهُ، وَلاَهَمَّاً إلاَّفَرَّجْتَهُ وَلاَسُقْماً إلاَّ

بچائو کا طلب گار ہوں، اے معبود! میرے ذمہ کوئی ایسا گناہ نہ چھوڑ جسے تو معاف نہ کرے۔ کوئی غم نہ دے جسے تو دور نہ کر دے، بیماری نہ دے مگر

شَفَیْتهَُ، وَلاَعَیْباً إلاَّسَتَرْتَهُ، وَلاَرِزْقاً إلاَّبَسَطْتَهُ وَلاَخَوْفاً إلاَّ

وہ جس سے شفا عطا کردے۔ عیب نہ لگا مگر وہ جسے تو پوشیدہ رکھے،رزق نہ دے مگر وہ جس میں فراخی عطا کرے، خوف نہ ہومگر

آمَنْتَهُ، وَلاَسُوئً إلاَّصَرَفْتَهُ، وَلاَحاجَةً هِیَ لَکَ رِضاً

جس سے تو امن عطا کرے، برائی نہ آئے مگر وہ جسے تو ہٹا دے، کوئی حاجت نہ ہو مگر جسے تو پورا فرمائے اور اس میں تیری رضا

وَلِیَ فِیها صَلاحٌ إلاَّقَضَیْتَها یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔پھر دس مرتبہ یہ کہیں:

اور میری بہتری ہو۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔ آمین اے عالمین کے پالنے والے

بِالله اعْتَصَمْتُ، وَبِالله أَثِقُ، وَعَلَی ﷲ أَتَوَکَّلُ اس کے بعد یہ کہیں:اَللّٰهُمَّ إنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِی

ﷲ ہی سے متوسل ہوتاہوں، ﷲ ہی پر اعتماد ہے اور ﷲ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے معبود! اگر میرا گناہ بڑا ہے

فَأَنْتَ أَعْظَمُ، وَ إنْ کَبُرَ تَفْرِیطِی فَأَنْتَ أَکْبَرُ، وَ إنْ دامَ بُخْلِی فَأَنْتَ أَجْوَدُ

تو تیری ذات سب سے بلند ہے۔ اگر میری کوتاہی بڑی ہے تو تیری ذات بزرگ تر ہے اور اگر میرا بخل دائمی ہے تو، تو زیادہ دینے والا ہے

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی عَظِیمَ ذُنُوبِی بِعَظِیمِ عَفْوِکَ، وَکَثِیرَ تَفْرِیطِی بِظَاهِرِ کَرَمِکَ، وَاقْمَعْ

اے ﷲ! اپنے عظیم عفو سے میرے بڑے گناہ بخش دے، اپنے لطف وکرم سے میری بہت سی کوتاہیاں معاف کر دے اور اپنے فضل

بُخْلِی بِفَضْلِ جُودِکَ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ

اورعطا سے میرا بخل دور کردے۔ یا خدایا! ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں تجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔

تعقیب نماز عصر منقول از متہجد

أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّهُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ

اس خدا سے بخشش چاہتاہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے بڑے رحم والا مہربان صاحب جلال و اکرام ہے،

وَأَسْألُهُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تَوْبَةَ عَبْدٍ ذَلِیلٍ خاضِعٍ فَقِیرٍ بَائِسٍ مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ مُسْتَجِیرٍ

میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عاجز خاضع محتاج مصیبت زدہ مسکین بے چارہ طالب پناہ بندے کی توبہ قبول فرمائے جو

لاََ یَمْلِکُ لِنَفْسِهِ نَفْعاً وَلاَ ضَرَّاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیَاةً وَلاَ نُشُوراً ۔ اس کے بعد کہیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی

اپنے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے نہ ہی اپنی موت وحیات اور آخرت پر اختیار رکھتا ہے۔ اے معبود میں سیر

أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَمِنْ صَلاةٍ لاَ

نہ ہونے والے نفس۔خوف نہ رکھنے والے دل۔ نفع نہ دینے والے علم۔قبول نہ ہونے والی نماز

تُرْفَعُ ، وَمِنْ دُعائٍ لاَیُسْمَعُ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْیُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ وَالْفَرَجَ بَعْدَ الْکَرْبِ

اور نہ سنی جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے مشکل کے بعد آسانی، دکھ کے بعد سکھ

وَالرَّخاءَ بَعْدَ الشِّدَ ةِ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ

اور تنگی کے بعد فراخی دے۔ یاخدایا! ہمارے پاس جو تیری نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میںتجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

حضرت امام جعفرصادق -فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے توخدا اسکے سات سو گناہ معاف کردے گا۔ حضرت امام محمدتقی -کا فرمان ہے کہ جوشخص بعد از نماز عصر دس مرتبہ سورئہإنَّا أَ نْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْر پڑھے تو قیامت میں اس کا یہ عمل مخلوق کے اس دن کے اعمال کے برابر اجر وثواب کے لائق ٹھہرے گا۔نیز ہر صبح وشام دعائ عثرات کا پڑھنا مستحب ہے لیکن بہترہے کہ یہ دعا روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھی جائے ۔ اس دعا کا ذکر بعد میں ہو گا۔

تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد

تسبیح فاطمہ زہرا =کے بعد کہیں:

إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً

بے شک ﷲ اور اسکے فرشتے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والو تم بھی نبی پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جسطرح سلام کا حق ہے،

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَعَلی ذُرِّیَّتِهِ وَعَلی أَهْلِبَیْتِهِ پھر سات مرتبہ کہیں:بِسْمِ ﷲ

خداوندا! (ہمارے ) نبی محمد ، ان کی اولاد اور ان کے اہلبیتعليه‌السلام پر رحمت فرما۔ خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں)

الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تین مرتبه کهیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی

جو رحمن ورحیم ہے۔ خدا ئے بزرگ وبرتر کے علاوہ کسی کو طاقت و قوت نہیں ہے۔ ہر قسم کی تعریف خدا کیلئے ہے وہ

یَفْعَلُ مَا یَشَائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرُهُپهر یه کهیں: سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اغْفِرْلِی

جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو جی چاہے کرسکے پاک ہے تو کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے سارے کے

ذُنُوبِی کُلَّها جَمِیعاً، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّها جَمِیعاً إلاَّ أَنْتَ ۔

سارے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔

پھر دو سلاموں کیساتھ مغرب کی چار رکعت نماز نافلہ بجالائیں اور درمیان میں کسی سے بات نہ کریں ۔شیخ مفیدرحمه‌الله فرماتے ہیں: مروی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور دیگر دو رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھیں۔البتہ روایت ہے کہ امام علی نقی - تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیت سےوَهُوَ عَلِیْمُ، بِذَاتِ الصُّدُوْرِتک اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیتلَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْاَن سے آخر سورہ پڑھا کرتے تھے اور مستحب ہے کہ ہر شب کے نوافل کے آخری سجدہ اور خصوصاً شب جمعہ کو سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ أَنْ تُصَلِّی عَلیٰ

خدا وندا! تیری ذات کریم ،تیرے بلند وبالا نام اور تیرے قدیم اقتدار کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوںکہ تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ

اور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور میرے کبیرہ(بڑے) گناہ معاف کردے کہ بڑے گناہ کو عظیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے ۔

جب مغرب کے نوافل سے فارغ ہوجائیں تو جو چاہیں پڑھیں۔ اور پھر دس مرتبہ کہیں :

مَا شَاءَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله أَسْتَغْفِرُ ﷲ پهر یه کهیں : اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ

جو کچھ خدا چاہے۔ نہیں کوئی قوت سوائے خدا کے میں اس سے بخشش چاہتا ہوں، خداوند میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تیری رحمت

وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالنَّجاةَ مِنَ النَّارِ، وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّةٍ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالرِّضْوانَ فِی دارِ

کے وسائل اورتیری طرف سے یقینی مغفرت آتش جہنم سے نجات ،بلائوں سے بچانے، جنت میں داخل کیے جانے ، دارالسلام

السَّلاَمِ، وَجِوَارِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ

میں تیری خوشنودی حاصل ہونے اور تیرے نبی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قرب کا ، خداوندا ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إلَیْکَ

تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

نماز مغرب وعشائ کے درمیان دو رکعت نماز غفیلہ پڑھیں۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پڑھیں:

وَذَا النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادَی فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ

اور جب ذالنون غصے کی حالت میں چلا گیا تو اس کا گمان تھا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر اس نے تاریکیوں میں فریاد کی کہ تیرے

إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ

سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میںہی خطا کار وں میں سے ہوں تب ہم نے اسکی گزارش قبول کی اور اسے پریشانی سے

نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ ۔دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پڑھیں:

بچایا اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُهَا إلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إلاَّ

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی کو معلوم ہے جو کچھ خشکی وتری میں ہے کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ

یَعْلَمُها وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ اس کے بعد

کہ وہ اسے جانتا ہے اورزمین کی تاریکیوں میںکوئی دانہ نہیں۔ کوئی خشک وتر نہیں مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

دعائے قنوت کیلئے ہاتھ اٹھائیں اور پڑھیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُها

خداوندا میں تجھ سے کلیدہائے غیب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جسے سوائے تیرے کوئی

إلاّ أَنْتَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا، پهر کهیں : اَللّٰهُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ

نہیں جانتا کہ محمدوآل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور میرے حق میں یہ کام کر دے کذاوکذا کی جگہ اپنی حاجت بیان کریں اے معبود!

نِعْمَتِی، وَالْقَادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حَاجَتِی، فَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ

تومجھے نعمت عطا کرنے والا ہے اور میری حاجت پر قدرت رکھتا ہے میری حاجت کو جانتا ہے پس محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

اَلسَّلاَمُ لَمَّا قَضَیْتَها لِی

واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری فرما۔

اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو یہ نماز پڑھے اور حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوجائے گی ۔

تعقیب نماز عشائ منقول از متہجد

اَللَّٰهُمَّ إنَّهُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی، وَ إنَّما أَطْلُبُهُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَأَجُولُ

خداوند ا! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے

فِی طَلَبِهِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِیَما أَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ، لاَ أَدْرِی أَفِی سَهْلٍ هُوَ أَمْ فِی جَبَلٍ، أَمْ

چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میںہوں اس میں سرگرداں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں

فِی أَرْضٍ أَمْ فِی سَمائٍ، أَمْ فِی بَرٍّ أَمْ فِی بَحْرٍ، وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ

زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں، کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے

أَنَّ عِلْمَهُ عِنْدَکَ، وَأَسْبابَهُ بِیَدِکَ، وَأَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُهُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُهُ بِرَحْمَتِکَ

پاس ہے اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے

اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَهُ سَهْلاً وَمَأْخَذَهُ

یا خدایا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور

قَرِیباً، وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْهِ رِزْقاً فَ إنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَأَ نَا فَقِیرٌ إلَی

اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں

رَحْمَتِکَ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ

بینیاز ہے میں تیر ی رحمت کا محتاج ہوں پس محمدوآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے۔

مولف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعائوں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشائ کی تعقیب میں سات مرتبہ سورئہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ( نماز عشائ کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ) میںقرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سوآیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورئہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھیں:

تعقیب نمازصبح منقول از مصباح متہجد

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاهْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ

اے معبود ! محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور حق میں اختلاف کے مقام پر اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے۔ بے شک تو

تَهْدِی مَنْ تَشَائُ إلی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہیں:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ

جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اے معبود ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد

وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیائِ الرَّاضِینَ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ، وَبارِکْ عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ

پر رحمت فرما جو اوصیائ ہیں کہ جو خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی ہے،ان کے لیے اپنی بہترین رحمتیں اور اپنی بہترین

بَرَکَاتِکَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِمْ وَعَلی أَرْواحِهِمْ وَأَجْسَادِهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

برکتیں قرار دے، ان پر اوران کی ارواح واجسام پرسلام ہو اور ﷲ کی رحمت وبرکت نازل ہو۔

اس درود و سلام کی جمعہ کے عصر میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اسکے بعد کہیں:

اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی عَلی مَا أَحْیَیْتَ عَلَیْهِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، وَأَمِتْنِی عَلَی مَا ماتَ عَلَیْهِ عَلِیُّ

اے معبود ! مجھے اس راہ پر زندہ رکھ جس پر تو نے علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام کوزندہ رکھا اور مجھے اسی راہ پر موت دے جس پر تونے

بْنُ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَغْفِرُ ﷲ وَأَتُوبُ إلَیْهِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْٲَلُ

امیر المومنین علی بن ابی طالبعليه‌السلام کو شہادت عطا فرمائی میں ﷲ سے بخشش چاہتاہوں اور اسکے حضور توبہ کرتا ہوں خدا سے

ﷲ الْعَافِیَةَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَجِیرُ بِالله مِنَ النَّارِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:وَأَسْأَلُهُ الْجَنَّةَ ۔پھر سو مرتبہ

صحت وعافیت مانگتاہوں میں آتش جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے جنت کا طالب ہوں

کہیں:أَسْأَلُ ﷲ الْحُورَ الْعِینَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ ۔ سومرتبہ

میں ﷲ سے حورعین کا طالب ہوں ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور روشن حق ہے۔

سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سو مرتبہ کہیں:صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔سو مرتبہ کہیں:

محمد وآل محمد پر خدا کی رحمت ہو

سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

ﷲپاک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ برتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو ﷲ بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

سو مرتبه کهیں: مَا شَاءَ ﷲ کَانَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِپهر کهیں: أَصْبَحْتُ

جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے اور ﷲ بزرگ و بر ترسے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت نہیں ہے۔ اے معبود میں نے

اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمَامِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ شَرِّ کُلِّ غاشِمٍ وَطَارِقٍ

تیری عظیم نگہبانی میں صبح کی ہے ،جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا، نہ کوئی نیرنگ بار شب میں اس پر یورش کر پاتا ہے، اس مخلوق میں

مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّةٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ

سے جو تو نے خلق فرمائی ہے اور نہ وہ مخلوق جسے تو نے زبان دی اور جسے زبان نہیں دی ہر خوف میں تیری پناہ

بِلِبَاسٍ سَابِغَةٍ وَلاَئِ أَهْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ مُحْتَجِباً مِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلی أَذِیَّةٍ، بِجِدَارٍ حَصِینِ

میں تیرے نبی کے اہلبیتعليه‌السلام کی ولا سے ساختہ لباس میں ملبوس ہر چیز سے محفوظ جو میرے اخلاص کی مضبوط دیوار میں

الاِِخْلاَصِ في الاعْتِرافِ بِحَقِّهِمْ وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِهِمْ، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَمَعَهُمْ

رخنا ڈالنا چاہے، یہ مانتے ہوئے کہ وہ حق ہیں ان کی رسی سے وابستگی ہے اس یقین سے کہ حق ان کیلئے ان کے ساتھ اور

وَفِیهِمْ وَبِهِمْ، أُوالِی مَنْ وَالَوْا، وَأُجانِبُ مَنْ جَانَبُوا، فَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا

ان میں ہے جو ان کو چاہے میں اسے چاہتا ہوںجوان سے دور ہو میں اس سے دور ہوں پس اے خدا ان کے طفیل مجھے ہر اس شر

أَتَّقِیهِ یَا عَظِیمُ حَجَزْتُ الْاَعادِیَ عَنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ

سے پناہ دے جسکا مجھے خوف ہے اے بلند ذات زمین وآسمان کی پیدائش کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور کر دے بے شک ہم

أَیْدِیهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْناهُمْ فَهُمْ لاَ یُبْصِرُوُنَ

نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی پس ان کو ڈھانپ دیا کہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔

یہ امیرالمومنین - کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے اورتہذیب میں روایت ہے کہ جوشخص نمازِ صبح کے بعددرج ذیل دعا دس مرتبہ پڑھے توحق تعالیٰ اسکو اندھے پن، دیوانگی، کوڑھ، تہی دستی، چھت تلے دبنے، اور بڑھاپے میں حواس کھو بیٹھنے سے محفوظ فرماتا ہے:

سُبْحَانَ ﷲ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

پاک ہے خدائے برتر اور تعریف سب اسی کی ہے اور نہیں کوئی حرکت وقوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز شیخ کلینیرحمه‌الله نے حضرت امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ جو نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیتا ہے( ان میں سب سے معمولی زہرباد ، پھلبھری اور دیوانگی ہے) اور اگر وہ شقی ہے تو اسے اس زمرے سے نکال کر سعیدونیک بخت لوگوں میں داخل کر دیا جائے گا۔

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

ﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے نہیں کوئی حرکت وقوت مگرخدائے بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت ہے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اور دردِچشم کے خاتمے کیلئے صبح اور مغرب کی نماز کیبعدیہ دعا پڑھیں:

اَللَّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

خداوندا! محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جو تجھ پر حق ہے میں اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پر اپنی رحمت نازل فرما

واجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی

کہ میری آنکھوںمیںنور ، میرے دین میں بصیرت، میرے دل میں یقین،میرے عمل میں اخلاص،

وَالسَّلامَةَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَةَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی

میرے نفس میں سلامتی اورمیرے رزق میں کشادگی عطا فرما اورجب تک زندہ رہوں مجھے اپنے شکر کی توفیق دیتا رہ۔

شیخ ابن فہد نے عدۃالداعی میں امام رضا - سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تووہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خداپوری فرمائے گا اور اسکی ہر مشکل آسان کردے گا:

بِسْمِ ﷲ وَ صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍوَآلِهِ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إلَی ﷲ إنَّ ﷲ بَصِیرٌ

ﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ خدا رحمت فرمائے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور میں اپنا معاملہ سپرد خدا کرتا ہوں بے شک خدا بندوں کو دیکھتا ہے

بِالْعِبادِ فَوَقَاهُ ﷲ سَیِّئاتِ مَا مَکَرُوا لاَ إلهَ إلاَّأَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی

پس خدا اس شخص کو ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے پیدا کیں۔اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات ۔بیشک

کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ حَسْبُنَاﷲ

میں ظالموں میں سے تھا تو ہم (خدا)نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے

وَنِعْمَ الْوَکیلُ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمةٍ مِنَ ﷲ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْهُمْ سُوئٌ مَا شَا ءَ ﷲ لاَ حَوْلَ وَلَا

اور بہترین سرپرست ہے پس (مجاہد) خدا کے فضل وکرم سے اسطرح آئے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچی تھی جو ﷲ چاہے وہ ہو گا نہیں کوئی طاقت وقوت مگروہ

قُوَّةَ إلاَّ بِالله، مَا شَاءَ ﷲ لاَ مَا شَاءَ النَّاسُ مَا شَاءَ ﷲ وَ إنْ کَرِهَ النَّاسُ، حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ

جو ﷲسے ملتی ہے جو ﷲ چاہے وہ ہوگا نہ وہ جو لوگ چاہیں اور جو ﷲ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں پر گراں ہو میرے لئے پلنے والوں کے بجائے پالنے والا

الْمَرْبُوبِینَ حَسْبِیَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِینَ حَسْبِیَ ﷲ رَبُّ

کافی ہے میرے لئے خلق ہونے والوں کی بجائے خلق کرنے والا کافی ہے میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔جہانوں کا

الْعالَمِینَ حَسْبِی مَنْ هُوَ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ کَانَ مُذْ

پالنے والا ؛ﷲ؛ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے وہی میرے لیے کافی ہے وہ جو ہمیشہ سے کافی ہے میرے لیے کافی ہے۔وہ جو کافی

کُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ

ہے میں جب سے ہوں اور کافی رہے گا ،میرے لیے کافی ہے وہ ﷲ جسکے سوا کوئی معبودنہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

مؤلف کہتے ہیں میرے استاد ثقۃ الاسلام نوریرحمه‌الله (خدا انکی قبر کو روشن کرے) کتاب دارالسلام میں اپنے استاد عالم ربانی حاج ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی ،سختی اور بد حالی میںمبتلا تھے انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے ، جب پوچھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہ (عج)کا خیمہ ہے۔یہ سن کر جلدی سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرت نے انکو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور انکے خیمہ کی طرف اشارہ کیا اخوند حضرت کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید سند حبرمعتمد عالم امجد، مؤید بارگاہ آقای سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا وقرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے انکو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی ،وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبرہوچکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا ۔حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور انکے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو انکو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا ۔وہ مصلے پر بیٹھے ،اذکارواستغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویاوہ صورت حال سے واقف ہیں اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔حاج ملا فتح علی سلطان آبادی علیہ الرحمہ سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ انکی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملافتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:

( ۱ )فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہیَافَتَّاحُ کہیں۔ ( ۲ )پابندی سے کافی میںمذکورہ دعا پڑھتے رہیںجس کی رسول ﷲ نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اوراس دعا کی برکت سے چنددنوں میں اس کی پریشانی دور ہوگئی

( ۳ )نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ دعا پڑھا کریں اسکو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں۔ اور وہ دعا یہ ہے:

لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ

نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو خدا سے ملتی ہے میں نے اس زندہ خدا پر توکل کیا جس کیلئے موت نہیں اور حمد اس ﷲ کیلئے ہے جسکی کوئی

وَلَداً، ولَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً

اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو

نیز جاننا چاہیے کہ نمازوں کے بعد سجدہ شکر مستحب ِمؤکد ہے اور اس کیلئے بہت سی دعائیں اور اذکاربیان ہوئے ہیں۔ امام علی رضا -فرماتے ہیں کہ سجدئہ شکر میں چاہیں تو سومرتبہشُکْرًا شُکْرًا یا سومرتبہعَفْوًا عَفْوًا کہیں، حضرت سے یہ بھی منقول ہے کہ سجدئہ شکر میںکم سے کم تین مرتبہ شُکْرًﷲ کہیں۔واضح رہے کہ رسول ﷲ اورآئمہ طاہرین سے طلوع وغروب آفتاب کے وقت بہت سی دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں نیز معتبر روایات میں ان دونوں وقتوں میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس مختصر کتاب میں ہم محض چند مستند دعائوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

بعض ادعیہ صبح و شام

اول:مشائخِ حدیث نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پرواجب ہے کہ وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:بعض روایات میںہے کہ اگر یہ دعا وقت پر نہ پڑھ سکے تو اسکی قضا کرنا ضروری ہے

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ

خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کا ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے

وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

اور موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیںآتی۔ بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے

دوم:انہی حضرتعليه‌السلام کی معتبر روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ طلوع وغروب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

أَعُوذُ بِالله السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَعُوذُ بِالله أَنْ یَحْضُرُونَ، إنَّ

میں شیاطین کے وسوسوں سے سننے جاننے والے خدا کی پناہ کا طلبگار ہوں اورخدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے قریب

ﷲ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ

آئیں بے شک ﷲہی سننے اور جاننے والا ہے۔

سوم:آنجناب سے منقول ہے کہ تمہارے لیے کیا رکاوٹ ہے کہ صبح اور شام یہ دعا پڑھ لیا کریں:

اَللّٰهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَ بْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی

اے دلوں اور آنکھوں کے منقلب کرنے والے خدائے پاک میرے دل کو اپنے دین پر جما دے اسکے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر جب تو نے

وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ، وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ

مجھے ہدایت دی ہے۔ مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اسمیں شک نہیں کہ تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے

امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی

آگ سے بچا اور محفوظ رکھ اے ﷲ میری عمر طویل کر دے میرے رزق میںوسعت پیدا کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور

أُمِّ الْکِتابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتابِ

اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے یقینا تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔

چہارم:آنجناب سے مروی ہے کہ صبح شام یہ دعا پڑھے :

اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشَائُ، وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرهُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا یُحِبُّ

ساری تعریف اس ﷲ کیلئے ہے کہ جو وہ چاہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو چاہے کر پائے ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے کہ جیسی

ﷲ أَنْ یُحْمَدَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا هُوَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ

تعریف وہ پسندکرتا ہے اور ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے جیسا کہ وہ اسکا اہل ہے اے معبود! مجھے ہر اس نیکی میں داخل فرما جس میں تو

مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مَحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، صَلَّی

نے محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو داخل فرمایا ہے اور مجھے ہر اس برائی سے بچا کہ جس سے تونے محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ ومامون رکھا خدا کی رحمت ہو

ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍسُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ

محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر۔ ﷲ پاک ہے ساری تعریفیں اسی کیلئے ہیں اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ ہی بزرگتر ہے۔

دوسری فصل

تعقیبات مخصوص

تعقیب نماز ظہر

کتاب المتہجد میں ہے کہ نماز ظہر کی تعقیبات کے حوالے سے یہ دعا میں پڑھیں:

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ

خدائے عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود نہیں، رب ِعرش بریں کے سوا کوئی سزاوارِ عبادت نہیں۔تمام حمد عالمین کے پالنے والے خدا ہی کیلئے ہے،

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ

اے خدا میں تجھ سے تیری رحمت اور یقینی مغفرت کے اسباب کا سوال کرتا ہوں ،ہر نیکی سے حصہ پانے اور ہر گناہ سے

وَالسَّلامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ اَللّٰهُمَّ لاَتَدَعْ لِی ذَنْباً إلاَّغَفَرْتَهُ، وَلاَهَمَّاً إلاَّفَرَّجْتَهُ وَلاَسُقْماً إلاَّ

بچائو کا طلب گار ہوں، اے معبود! میرے ذمہ کوئی ایسا گناہ نہ چھوڑ جسے تو معاف نہ کرے۔ کوئی غم نہ دے جسے تو دور نہ کر دے، بیماری نہ دے مگر

شَفَیْتهَُ، وَلاَعَیْباً إلاَّسَتَرْتَهُ، وَلاَرِزْقاً إلاَّبَسَطْتَهُ وَلاَخَوْفاً إلاَّ

وہ جس سے شفا عطا کردے۔ عیب نہ لگا مگر وہ جسے تو پوشیدہ رکھے،رزق نہ دے مگر وہ جس میں فراخی عطا کرے، خوف نہ ہومگر

آمَنْتَهُ، وَلاَسُوئً إلاَّصَرَفْتَهُ، وَلاَحاجَةً هِیَ لَکَ رِضاً

جس سے تو امن عطا کرے، برائی نہ آئے مگر وہ جسے تو ہٹا دے، کوئی حاجت نہ ہو مگر جسے تو پورا فرمائے اور اس میں تیری رضا

وَلِیَ فِیها صَلاحٌ إلاَّقَضَیْتَها یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔پھر دس مرتبہ یہ کہیں:

اور میری بہتری ہو۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔ آمین اے عالمین کے پالنے والے

بِالله اعْتَصَمْتُ، وَبِالله أَثِقُ، وَعَلَی ﷲ أَتَوَکَّلُ اس کے بعد یہ کہیں:اَللّٰهُمَّ إنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِی

ﷲ ہی سے متوسل ہوتاہوں، ﷲ ہی پر اعتماد ہے اور ﷲ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے معبود! اگر میرا گناہ بڑا ہے

فَأَنْتَ أَعْظَمُ، وَ إنْ کَبُرَ تَفْرِیطِی فَأَنْتَ أَکْبَرُ، وَ إنْ دامَ بُخْلِی فَأَنْتَ أَجْوَدُ

تو تیری ذات سب سے بلند ہے۔ اگر میری کوتاہی بڑی ہے تو تیری ذات بزرگ تر ہے اور اگر میرا بخل دائمی ہے تو، تو زیادہ دینے والا ہے

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی عَظِیمَ ذُنُوبِی بِعَظِیمِ عَفْوِکَ، وَکَثِیرَ تَفْرِیطِی بِظَاهِرِ کَرَمِکَ، وَاقْمَعْ

اے ﷲ! اپنے عظیم عفو سے میرے بڑے گناہ بخش دے، اپنے لطف وکرم سے میری بہت سی کوتاہیاں معاف کر دے اور اپنے فضل

بُخْلِی بِفَضْلِ جُودِکَ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ

اورعطا سے میرا بخل دور کردے۔ یا خدایا! ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں تجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔

تعقیب نماز عصر منقول از متہجد

أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّهُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ

اس خدا سے بخشش چاہتاہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے بڑے رحم والا مہربان صاحب جلال و اکرام ہے،

وَأَسْألُهُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تَوْبَةَ عَبْدٍ ذَلِیلٍ خاضِعٍ فَقِیرٍ بَائِسٍ مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ مُسْتَجِیرٍ

میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عاجز خاضع محتاج مصیبت زدہ مسکین بے چارہ طالب پناہ بندے کی توبہ قبول فرمائے جو

لاََ یَمْلِکُ لِنَفْسِهِ نَفْعاً وَلاَ ضَرَّاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیَاةً وَلاَ نُشُوراً ۔ اس کے بعد کہیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی

اپنے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے نہ ہی اپنی موت وحیات اور آخرت پر اختیار رکھتا ہے۔ اے معبود میں سیر

أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَمِنْ صَلاةٍ لاَ

نہ ہونے والے نفس۔خوف نہ رکھنے والے دل۔ نفع نہ دینے والے علم۔قبول نہ ہونے والی نماز

تُرْفَعُ ، وَمِنْ دُعائٍ لاَیُسْمَعُ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْیُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ وَالْفَرَجَ بَعْدَ الْکَرْبِ

اور نہ سنی جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے مشکل کے بعد آسانی، دکھ کے بعد سکھ

وَالرَّخاءَ بَعْدَ الشِّدَ ةِ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ

اور تنگی کے بعد فراخی دے۔ یاخدایا! ہمارے پاس جو تیری نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میںتجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

حضرت امام جعفرصادق -فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے توخدا اسکے سات سو گناہ معاف کردے گا۔ حضرت امام محمدتقی -کا فرمان ہے کہ جوشخص بعد از نماز عصر دس مرتبہ سورئہإنَّا أَ نْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْر پڑھے تو قیامت میں اس کا یہ عمل مخلوق کے اس دن کے اعمال کے برابر اجر وثواب کے لائق ٹھہرے گا۔نیز ہر صبح وشام دعائ عثرات کا پڑھنا مستحب ہے لیکن بہترہے کہ یہ دعا روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھی جائے ۔ اس دعا کا ذکر بعد میں ہو گا۔

تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد

تسبیح فاطمہ زہرا =کے بعد کہیں:

إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً

بے شک ﷲ اور اسکے فرشتے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والو تم بھی نبی پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جسطرح سلام کا حق ہے،

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَعَلی ذُرِّیَّتِهِ وَعَلی أَهْلِبَیْتِهِ پھر سات مرتبہ کہیں:بِسْمِ ﷲ

خداوندا! (ہمارے ) نبی محمد ، ان کی اولاد اور ان کے اہلبیتعليه‌السلام پر رحمت فرما۔ خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں)

الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تین مرتبه کهیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی

جو رحمن ورحیم ہے۔ خدا ئے بزرگ وبرتر کے علاوہ کسی کو طاقت و قوت نہیں ہے۔ ہر قسم کی تعریف خدا کیلئے ہے وہ

یَفْعَلُ مَا یَشَائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرُهُپهر یه کهیں: سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اغْفِرْلِی

جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو جی چاہے کرسکے پاک ہے تو کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے سارے کے

ذُنُوبِی کُلَّها جَمِیعاً، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّها جَمِیعاً إلاَّ أَنْتَ ۔

سارے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔

پھر دو سلاموں کیساتھ مغرب کی چار رکعت نماز نافلہ بجالائیں اور درمیان میں کسی سے بات نہ کریں ۔شیخ مفیدرحمه‌الله فرماتے ہیں: مروی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور دیگر دو رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھیں۔البتہ روایت ہے کہ امام علی نقی - تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیت سےوَهُوَ عَلِیْمُ، بِذَاتِ الصُّدُوْرِتک اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیتلَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْاَن سے آخر سورہ پڑھا کرتے تھے اور مستحب ہے کہ ہر شب کے نوافل کے آخری سجدہ اور خصوصاً شب جمعہ کو سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ أَنْ تُصَلِّی عَلیٰ

خدا وندا! تیری ذات کریم ،تیرے بلند وبالا نام اور تیرے قدیم اقتدار کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوںکہ تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ

اور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور میرے کبیرہ(بڑے) گناہ معاف کردے کہ بڑے گناہ کو عظیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے ۔

جب مغرب کے نوافل سے فارغ ہوجائیں تو جو چاہیں پڑھیں۔ اور پھر دس مرتبہ کہیں :

مَا شَاءَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله أَسْتَغْفِرُ ﷲ پهر یه کهیں : اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ

جو کچھ خدا چاہے۔ نہیں کوئی قوت سوائے خدا کے میں اس سے بخشش چاہتا ہوں، خداوند میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تیری رحمت

وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالنَّجاةَ مِنَ النَّارِ، وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّةٍ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالرِّضْوانَ فِی دارِ

کے وسائل اورتیری طرف سے یقینی مغفرت آتش جہنم سے نجات ،بلائوں سے بچانے، جنت میں داخل کیے جانے ، دارالسلام

السَّلاَمِ، وَجِوَارِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ

میں تیری خوشنودی حاصل ہونے اور تیرے نبی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قرب کا ، خداوندا ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إلَیْکَ

تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

نماز مغرب وعشائ کے درمیان دو رکعت نماز غفیلہ پڑھیں۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پڑھیں:

وَذَا النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادَی فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ

اور جب ذالنون غصے کی حالت میں چلا گیا تو اس کا گمان تھا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر اس نے تاریکیوں میں فریاد کی کہ تیرے

إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ

سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میںہی خطا کار وں میں سے ہوں تب ہم نے اسکی گزارش قبول کی اور اسے پریشانی سے

نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ ۔دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پڑھیں:

بچایا اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُهَا إلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إلاَّ

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی کو معلوم ہے جو کچھ خشکی وتری میں ہے کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ

یَعْلَمُها وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ اس کے بعد

کہ وہ اسے جانتا ہے اورزمین کی تاریکیوں میںکوئی دانہ نہیں۔ کوئی خشک وتر نہیں مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

دعائے قنوت کیلئے ہاتھ اٹھائیں اور پڑھیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُها

خداوندا میں تجھ سے کلیدہائے غیب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جسے سوائے تیرے کوئی

إلاّ أَنْتَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا، پهر کهیں : اَللّٰهُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ

نہیں جانتا کہ محمدوآل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور میرے حق میں یہ کام کر دے کذاوکذا کی جگہ اپنی حاجت بیان کریں اے معبود!

نِعْمَتِی، وَالْقَادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حَاجَتِی، فَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ

تومجھے نعمت عطا کرنے والا ہے اور میری حاجت پر قدرت رکھتا ہے میری حاجت کو جانتا ہے پس محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

اَلسَّلاَمُ لَمَّا قَضَیْتَها لِی

واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری فرما۔

اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو یہ نماز پڑھے اور حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوجائے گی ۔

تعقیب نماز عشائ منقول از متہجد

اَللَّٰهُمَّ إنَّهُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی، وَ إنَّما أَطْلُبُهُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَأَجُولُ

خداوند ا! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے

فِی طَلَبِهِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِیَما أَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ، لاَ أَدْرِی أَفِی سَهْلٍ هُوَ أَمْ فِی جَبَلٍ، أَمْ

چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میںہوں اس میں سرگرداں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں

فِی أَرْضٍ أَمْ فِی سَمائٍ، أَمْ فِی بَرٍّ أَمْ فِی بَحْرٍ، وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ

زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں، کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے

أَنَّ عِلْمَهُ عِنْدَکَ، وَأَسْبابَهُ بِیَدِکَ، وَأَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُهُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُهُ بِرَحْمَتِکَ

پاس ہے اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے

اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَهُ سَهْلاً وَمَأْخَذَهُ

یا خدایا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور

قَرِیباً، وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْهِ رِزْقاً فَ إنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَأَ نَا فَقِیرٌ إلَی

اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں

رَحْمَتِکَ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ

بینیاز ہے میں تیر ی رحمت کا محتاج ہوں پس محمدوآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے۔

مولف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعائوں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشائ کی تعقیب میں سات مرتبہ سورئہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ( نماز عشائ کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ) میںقرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سوآیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورئہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھیں:

تعقیب نمازصبح منقول از مصباح متہجد

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاهْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ

اے معبود ! محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور حق میں اختلاف کے مقام پر اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے۔ بے شک تو

تَهْدِی مَنْ تَشَائُ إلی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہیں:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ

جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اے معبود ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد

وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیائِ الرَّاضِینَ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ، وَبارِکْ عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ

پر رحمت فرما جو اوصیائ ہیں کہ جو خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی ہے،ان کے لیے اپنی بہترین رحمتیں اور اپنی بہترین

بَرَکَاتِکَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِمْ وَعَلی أَرْواحِهِمْ وَأَجْسَادِهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

برکتیں قرار دے، ان پر اوران کی ارواح واجسام پرسلام ہو اور ﷲ کی رحمت وبرکت نازل ہو۔

اس درود و سلام کی جمعہ کے عصر میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اسکے بعد کہیں:

اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی عَلی مَا أَحْیَیْتَ عَلَیْهِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، وَأَمِتْنِی عَلَی مَا ماتَ عَلَیْهِ عَلِیُّ

اے معبود ! مجھے اس راہ پر زندہ رکھ جس پر تو نے علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام کوزندہ رکھا اور مجھے اسی راہ پر موت دے جس پر تونے

بْنُ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَغْفِرُ ﷲ وَأَتُوبُ إلَیْهِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْٲَلُ

امیر المومنین علی بن ابی طالبعليه‌السلام کو شہادت عطا فرمائی میں ﷲ سے بخشش چاہتاہوں اور اسکے حضور توبہ کرتا ہوں خدا سے

ﷲ الْعَافِیَةَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَجِیرُ بِالله مِنَ النَّارِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:وَأَسْأَلُهُ الْجَنَّةَ ۔پھر سو مرتبہ

صحت وعافیت مانگتاہوں میں آتش جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے جنت کا طالب ہوں

کہیں:أَسْأَلُ ﷲ الْحُورَ الْعِینَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ ۔ سومرتبہ

میں ﷲ سے حورعین کا طالب ہوں ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور روشن حق ہے۔

سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سو مرتبہ کہیں:صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔سو مرتبہ کہیں:

محمد وآل محمد پر خدا کی رحمت ہو

سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

ﷲپاک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ برتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو ﷲ بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

سو مرتبه کهیں: مَا شَاءَ ﷲ کَانَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِپهر کهیں: أَصْبَحْتُ

جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے اور ﷲ بزرگ و بر ترسے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت نہیں ہے۔ اے معبود میں نے

اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمَامِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ شَرِّ کُلِّ غاشِمٍ وَطَارِقٍ

تیری عظیم نگہبانی میں صبح کی ہے ،جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا، نہ کوئی نیرنگ بار شب میں اس پر یورش کر پاتا ہے، اس مخلوق میں

مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّةٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ

سے جو تو نے خلق فرمائی ہے اور نہ وہ مخلوق جسے تو نے زبان دی اور جسے زبان نہیں دی ہر خوف میں تیری پناہ

بِلِبَاسٍ سَابِغَةٍ وَلاَئِ أَهْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ مُحْتَجِباً مِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلی أَذِیَّةٍ، بِجِدَارٍ حَصِینِ

میں تیرے نبی کے اہلبیتعليه‌السلام کی ولا سے ساختہ لباس میں ملبوس ہر چیز سے محفوظ جو میرے اخلاص کی مضبوط دیوار میں

الاِِخْلاَصِ في الاعْتِرافِ بِحَقِّهِمْ وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِهِمْ، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَمَعَهُمْ

رخنا ڈالنا چاہے، یہ مانتے ہوئے کہ وہ حق ہیں ان کی رسی سے وابستگی ہے اس یقین سے کہ حق ان کیلئے ان کے ساتھ اور

وَفِیهِمْ وَبِهِمْ، أُوالِی مَنْ وَالَوْا، وَأُجانِبُ مَنْ جَانَبُوا، فَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا

ان میں ہے جو ان کو چاہے میں اسے چاہتا ہوںجوان سے دور ہو میں اس سے دور ہوں پس اے خدا ان کے طفیل مجھے ہر اس شر

أَتَّقِیهِ یَا عَظِیمُ حَجَزْتُ الْاَعادِیَ عَنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ

سے پناہ دے جسکا مجھے خوف ہے اے بلند ذات زمین وآسمان کی پیدائش کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور کر دے بے شک ہم

أَیْدِیهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْناهُمْ فَهُمْ لاَ یُبْصِرُوُنَ

نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی پس ان کو ڈھانپ دیا کہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔

یہ امیرالمومنین - کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے اورتہذیب میں روایت ہے کہ جوشخص نمازِ صبح کے بعددرج ذیل دعا دس مرتبہ پڑھے توحق تعالیٰ اسکو اندھے پن، دیوانگی، کوڑھ، تہی دستی، چھت تلے دبنے، اور بڑھاپے میں حواس کھو بیٹھنے سے محفوظ فرماتا ہے:

سُبْحَانَ ﷲ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

پاک ہے خدائے برتر اور تعریف سب اسی کی ہے اور نہیں کوئی حرکت وقوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز شیخ کلینیرحمه‌الله نے حضرت امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ جو نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیتا ہے( ان میں سب سے معمولی زہرباد ، پھلبھری اور دیوانگی ہے) اور اگر وہ شقی ہے تو اسے اس زمرے سے نکال کر سعیدونیک بخت لوگوں میں داخل کر دیا جائے گا۔

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

ﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے نہیں کوئی حرکت وقوت مگرخدائے بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت ہے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اور دردِچشم کے خاتمے کیلئے صبح اور مغرب کی نماز کیبعدیہ دعا پڑھیں:

اَللَّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

خداوندا! محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جو تجھ پر حق ہے میں اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پر اپنی رحمت نازل فرما

واجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی

کہ میری آنکھوںمیںنور ، میرے دین میں بصیرت، میرے دل میں یقین،میرے عمل میں اخلاص،

وَالسَّلامَةَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَةَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی

میرے نفس میں سلامتی اورمیرے رزق میں کشادگی عطا فرما اورجب تک زندہ رہوں مجھے اپنے شکر کی توفیق دیتا رہ۔

شیخ ابن فہد نے عدۃالداعی میں امام رضا - سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تووہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خداپوری فرمائے گا اور اسکی ہر مشکل آسان کردے گا:

بِسْمِ ﷲ وَ صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍوَآلِهِ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إلَی ﷲ إنَّ ﷲ بَصِیرٌ

ﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ خدا رحمت فرمائے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور میں اپنا معاملہ سپرد خدا کرتا ہوں بے شک خدا بندوں کو دیکھتا ہے

بِالْعِبادِ فَوَقَاهُ ﷲ سَیِّئاتِ مَا مَکَرُوا لاَ إلهَ إلاَّأَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی

پس خدا اس شخص کو ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے پیدا کیں۔اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات ۔بیشک

کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ حَسْبُنَاﷲ

میں ظالموں میں سے تھا تو ہم (خدا)نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے

وَنِعْمَ الْوَکیلُ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمةٍ مِنَ ﷲ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْهُمْ سُوئٌ مَا شَا ءَ ﷲ لاَ حَوْلَ وَلَا

اور بہترین سرپرست ہے پس (مجاہد) خدا کے فضل وکرم سے اسطرح آئے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچی تھی جو ﷲ چاہے وہ ہو گا نہیں کوئی طاقت وقوت مگروہ

قُوَّةَ إلاَّ بِالله، مَا شَاءَ ﷲ لاَ مَا شَاءَ النَّاسُ مَا شَاءَ ﷲ وَ إنْ کَرِهَ النَّاسُ، حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ

جو ﷲسے ملتی ہے جو ﷲ چاہے وہ ہوگا نہ وہ جو لوگ چاہیں اور جو ﷲ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں پر گراں ہو میرے لئے پلنے والوں کے بجائے پالنے والا

الْمَرْبُوبِینَ حَسْبِیَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِینَ حَسْبِیَ ﷲ رَبُّ

کافی ہے میرے لئے خلق ہونے والوں کی بجائے خلق کرنے والا کافی ہے میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔جہانوں کا

الْعالَمِینَ حَسْبِی مَنْ هُوَ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ کَانَ مُذْ

پالنے والا ؛ﷲ؛ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے وہی میرے لیے کافی ہے وہ جو ہمیشہ سے کافی ہے میرے لیے کافی ہے۔وہ جو کافی

کُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ

ہے میں جب سے ہوں اور کافی رہے گا ،میرے لیے کافی ہے وہ ﷲ جسکے سوا کوئی معبودنہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

مؤلف کہتے ہیں میرے استاد ثقۃ الاسلام نوریرحمه‌الله (خدا انکی قبر کو روشن کرے) کتاب دارالسلام میں اپنے استاد عالم ربانی حاج ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی ،سختی اور بد حالی میںمبتلا تھے انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے ، جب پوچھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہ (عج)کا خیمہ ہے۔یہ سن کر جلدی سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرت نے انکو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور انکے خیمہ کی طرف اشارہ کیا اخوند حضرت کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید سند حبرمعتمد عالم امجد، مؤید بارگاہ آقای سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا وقرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے انکو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی ،وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبرہوچکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا ۔حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور انکے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو انکو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا ۔وہ مصلے پر بیٹھے ،اذکارواستغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویاوہ صورت حال سے واقف ہیں اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔حاج ملا فتح علی سلطان آبادی علیہ الرحمہ سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ انکی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملافتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:

( ۱ )فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہیَافَتَّاحُ کہیں۔ ( ۲ )پابندی سے کافی میںمذکورہ دعا پڑھتے رہیںجس کی رسول ﷲ نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اوراس دعا کی برکت سے چنددنوں میں اس کی پریشانی دور ہوگئی

( ۳ )نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ دعا پڑھا کریں اسکو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں۔ اور وہ دعا یہ ہے:

لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ

نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو خدا سے ملتی ہے میں نے اس زندہ خدا پر توکل کیا جس کیلئے موت نہیں اور حمد اس ﷲ کیلئے ہے جسکی کوئی

وَلَداً، ولَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً

اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو

نیز جاننا چاہیے کہ نمازوں کے بعد سجدہ شکر مستحب ِمؤکد ہے اور اس کیلئے بہت سی دعائیں اور اذکاربیان ہوئے ہیں۔ امام علی رضا -فرماتے ہیں کہ سجدئہ شکر میں چاہیں تو سومرتبہشُکْرًا شُکْرًا یا سومرتبہعَفْوًا عَفْوًا کہیں، حضرت سے یہ بھی منقول ہے کہ سجدئہ شکر میںکم سے کم تین مرتبہ شُکْرًﷲ کہیں۔واضح رہے کہ رسول ﷲ اورآئمہ طاہرین سے طلوع وغروب آفتاب کے وقت بہت سی دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں نیز معتبر روایات میں ان دونوں وقتوں میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس مختصر کتاب میں ہم محض چند مستند دعائوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

بعض ادعیہ صبح و شام

اول:مشائخِ حدیث نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پرواجب ہے کہ وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:بعض روایات میںہے کہ اگر یہ دعا وقت پر نہ پڑھ سکے تو اسکی قضا کرنا ضروری ہے

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ

خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کا ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے

وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

اور موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیںآتی۔ بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے

دوم:انہی حضرتعليه‌السلام کی معتبر روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ طلوع وغروب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

أَعُوذُ بِالله السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَعُوذُ بِالله أَنْ یَحْضُرُونَ، إنَّ

میں شیاطین کے وسوسوں سے سننے جاننے والے خدا کی پناہ کا طلبگار ہوں اورخدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے قریب

ﷲ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ

آئیں بے شک ﷲہی سننے اور جاننے والا ہے۔

سوم:آنجناب سے منقول ہے کہ تمہارے لیے کیا رکاوٹ ہے کہ صبح اور شام یہ دعا پڑھ لیا کریں:

اَللّٰهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَ بْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی

اے دلوں اور آنکھوں کے منقلب کرنے والے خدائے پاک میرے دل کو اپنے دین پر جما دے اسکے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر جب تو نے

وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ، وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ

مجھے ہدایت دی ہے۔ مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اسمیں شک نہیں کہ تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے

امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی

آگ سے بچا اور محفوظ رکھ اے ﷲ میری عمر طویل کر دے میرے رزق میںوسعت پیدا کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور

أُمِّ الْکِتابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتابِ

اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے یقینا تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔

چہارم:آنجناب سے مروی ہے کہ صبح شام یہ دعا پڑھے :

اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشَائُ، وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرهُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا یُحِبُّ

ساری تعریف اس ﷲ کیلئے ہے کہ جو وہ چاہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو چاہے کر پائے ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے کہ جیسی

ﷲ أَنْ یُحْمَدَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا هُوَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ

تعریف وہ پسندکرتا ہے اور ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے جیسا کہ وہ اسکا اہل ہے اے معبود! مجھے ہر اس نیکی میں داخل فرما جس میں تو

مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مَحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، صَلَّی

نے محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو داخل فرمایا ہے اور مجھے ہر اس برائی سے بچا کہ جس سے تونے محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ ومامون رکھا خدا کی رحمت ہو

ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍسُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ

محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر۔ ﷲ پاک ہے ساری تعریفیں اسی کیلئے ہیں اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ ہی بزرگتر ہے۔


10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88