مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)3%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205911 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

چوتھی قسم

ماہ رمضان میں دنوں کے اعمال

ان میں چند امور ہیں:

( ۱ )شیخ و سید سے منقول یہ دعا ہر روز پڑھے:

اَللّٰهُمَّ هذَا شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ هُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی

اے معبود!یہ رمضان کا مہینہ ہے کہ جس میں تو نے قرآن پاک اتارا جو لوگوں کے لیے رہنما ہے اس میں ہدایت کی دلیلیں اور حق و

وَالْفُرْقانِ، وَهذَا شَهْرُ الصِّیامِ، وَهذَا شَهْرُ الْقِیامِ وَهذَا شَهْرُ الْاِنابَةِ، وَهذَا شَهْرُ

باطل کا فرق واضح ہے یہ روزے رکھنے کا مہینہ ہے یہ راتوں کی عبادت کا مہینہ ہے اور یہ خداکی طرف واپسی کا مہینہ ہے یہ توبہ

التَّوْبَةِ، وَهذَا شَهْرُ الْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ وَهذَا شَهْرُ الْعِتْقِ مِنَ النَّارِ وَالْفَوْزِ بِالْجَنَّةِ

قبول ہونے کا مہینہ ہے یہ بخشے جانے اور رحمت نازل ہونے کا مہینہ ہے یہ جہنم سے رہائی پانے اور جنت میں جانے کی کامیابی کا

وَهذَا شَهْرٌ فِیهِ لَیْلَةُ الْقَدْرِ الَّتِی هِیَ خَیْرٌ مِنَ أَ لْفِ شَهْرٍ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں شب قدر ہے کہ جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے پس اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِنِّی عَلَی صِیامِهِ وَقِیامِهِ، وَسَلِّمْهُ لِی وَسَلِّمْنِی فِیهِ، وَأَعِنِّی عَلَیْهِ

رحمت نازل فرما اور اس ماہ کے روزے رکھنے اور عبادت میں میری مدد فرما اسے میرے لیے پورا کراور مجھے اس میں سلامت رکھ

بِأَفْضَلِ عَوْ نِکَ، وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِطاعَتِکَ وَطاعَةِ رَسُو لِکَ وَأَوْ لِیائِکَ صَلَّی ﷲ

اور اس ماہ میں میری بہترین مدد فرما اس میں اپنی بندگی نیز اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اپنے دوستوں کی پیروی کی توفیق دے

عَلَیْهِمْ، وَفَرِّغْنِی فِیهِ لِعِبادَتِکَ وَدُعائِکَ وَتِلاوَةِ کِتابِکَ، وَأَعْظِمْ لِی فِیهِ الْبَرَکَةَ

رحمت خدا ہو ان پر اور اس مہینے میں اپنی عبادت کرنے دعا مانگنے اور تلاوت قرآن کا موقع دے اس ماہ میں مجھے بہت زیادہ برکت دے

وَأَحْسِنْ لِی فِیهِ الْعافِیَةَ، وَأَصِحَّ فِیهِ بَدَنِی، وَأَوْسِعْ فِیهِ رِزْقِی، وَاکْفِنِی فِیهِ مَا

مجھے بہتر سے بہتر آسائش عطا فرما میرے بدن کو سلامت رکھ میرے رزق میں وسعت دے اس ماہ میں میری پریشانی میں مددگار

أَهَمَّنِی، وَاسْتَجِبْ فِیهِ دُعائِی، وَبَلِّغْنِی فِیهِ رَجائِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

بن میری دعا کو شرف قبولیت عطا فرما اور میری امید پوری کر اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت

مُحَمَّدٍ وَأَذْهِبْ عَنِّی فِیهِ النُّعاسَ وَالْکَسَلَ وَالسَّأْمَةَ وَالْفَتْرَةَ وَالْقَسْوَةَ وَالْغَفْلَةَ

نازل فرما اور اس مہینے میں مجھ سے اونگھ، سستی، چڑچڑاہٹ ،سستی سنگ دلی، بے خبری اور فریب کو مجھ سے

وَ الْغِرَّةَ وَجَنِّبْنِی فِیهِ الْعِلَلَ وَالْاَسْقامَ وَالْهُمُومَ وَالْاَحْزانَ وَالْاَعْراضَ وَالْاَمْراضَ

دور رکھ اور اس مہینے میں دردوں بیماریوں پریشانیوں غموں دکھوں بیماریوں خطاؤں اور گناہوں

وَالْخَطایا وَالذُّنُوبَ، وَاصْرِفْ عَنِّی فِیهِ السُّوئَ وَالْفَحْشائَ وَالْجَهْدَ وَالْبَلائَ وَالتَّعَبَ

سے مجھے بچائے رکھ اور اس مہینے میں مجھ سے ہر برائی بے حیائی، رنج، کٹھن، سختی اور بے دلی

وَالْعَنائَ إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِذْنِی فِیهِ مِنَ

دور کردے بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں مجھے دھتکارے ہوئے

الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ وَهَمْزِهِ وَلَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ وَوَسْوَسَتِهِ وَتَثْبِیطِهِ وَبَطْشِهِ

شیطان سے پناہ دے اور اس کے اشارے، سرگوشی اس کے منتر اس کی پھونک اس کے برے خیال رکاوٹ

وَکَیْدِهِ وَمَکْرِهِ وَحَبائِلِهِ وَخُدَعِهِ وَأَمانِیِّهِ وَغُرُورِهِ وَفِتْنَتِهِ وَشَرَکِهِ وَأَحْزابِهِ

داؤ بناوٹ اور اس کے پھندے، دھوکے، آرزو، بھلاوے، بہکاوے اور اس کے جالوں، ٹولیوں،

وَأَتْباعِهِ وَأَشْیاعِهِ وَأَوْ لِیائِهِ وَشُرَکائِهِ وَجَمِیعِ مَکائِدِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

پیروکاروں، ساتھیوں، دوستوں اور اس کے ہمکاروں اور اس کے دھوکوں سے پناہ دے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنا قِیامَهُ وَصِیامَهُ وَبُلُوغَ الْاَمَلِ فِیهِ وَفِی قِیامِهِ وَاسْتِکْمالَ مَا

رحمت نازل فرما اور ہمیں اس ماہ میں نماز روزہ نصیب فرما اور اس میں امید پوری فرما اور اس ماہ میں عبادت کرنے کی کمال حد جس

یُرْضِیکَ عَنِّی صَبْراً وَاحْتِساباً وَ إیماناً وَیَقِیناً، ثُمَّ تَقَبَّلْ ذلِکَ مِنِّی بِالْاَضْعافِ

میں تو مجھ سے راضی ہو اس میں مجھے برداشت خوش رفتاری ایمان اور یقین عطا فرما پھر اسے میری طرف سے قبول فرما

الْکَثِیرَةِ، وَالْاَجْرِ الْعَظِیمِ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

کئی گنا بڑھا کر اور اس پر بہت بڑا اجر دے اے جہانو ںکے پالنے والے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما

وَارْزُقْنِی الْحَجَّ وَا لْعُمْرَةَ وَالْجِدَّ وَالاجْتِهادَ وَالْقُوَّةَ وَالنَّشاطَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ

اور نصیب فرما مجھے حج و عمرہ، کوشش، طاقت، جوش،

وَالتَّوْفِیقَ وَالْقُرْبَةَ وَالْخَیْرَ الْمَقْبُولَ وَالرَّغْبَةَ وَالرَّهْبَةَ وَالتَّضَرُّعَ وَالْخُشُوعَ وَالرِّقَّةَ

بازگشت، توبہ، تقرب، پسندیدہ نیکی، چاہت، ڈر، عاجزی، فروتنی، نرمی،

وَالنِّیَّةَ الصّادِقَةَ، وَصِدْقَ اللِّسانِ، وَالْوَجَلَ مِنْکَ، وَالرَّجائَ لَکَ، وَالتَّوَکُّلَ عَلَیْکَ،

اور کھری نیت رکھنے اور سچ بولنے کی توفیق دے اور یوں کر کہ میں تجھ سے ڈروں تجھ سے امید رکھوں تجھ پر بھروسہ کروں

وَالثِّقَةَ بِکَ، وَالْوَرَعَ عَنْ مَحارِمِکَ مَعَ صالِحِ الْقَوْلِ، وَمَقْبُولِ السَّعْیِ ، وَمَرْفُوعِ

اور تجھے سہارا بناؤں اور تیری حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کروں اس کے ساتھ بات میں نرمی ہو کوشش قبول ہو کردار

الْعَمَلِ وَمُسْتَجابِ الدَّعْوَةِ وَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ شَیْئٍ مِنْ ذلِکَ بِعَرَضٍ وَلاَ مَرَضٍ

بلند ہو اور میری ہر دعا مقبول بارگاہ ہو اور میرے اور ان چیزوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ آنے دے جیسے دکھ بیماری

وَلاَ هَمٍّ وَلاَ غَمٍّ وَلاَ سُقْمٍ وَلاَ غَفْلَةٍ وَلاَ نِسْیانٍ، بَلْ بِالتَّعاهُدِ وَالتَّحَفُّظِ لَکَ وَفِیکَ

پریشانی رنج نقص بے خبری اور فراموشی و غیرہ بلکہ ان عبادتوں میں تیری طرف سے توفیق و حفاظت ہو تیرے لیے ان پر کاربند

وَالرِّعایَةِ لِحَقِّکَ وَالْوَفائِ بِعَهْدِکَ وَوَعْدِکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ

رہوں تیرے حق کا لحاظ کروں اور تو اپنا پیمان اور اپنا وعدہ پورا فرمائے الٰہی اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے

صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْسِمْ لِی فِیهِ أَفْضَلَ مَا تَقْسِمُهُ لِعِبادِکَ الصَّالِحِینَ

معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں تو نے جو حصہ اپنے نیک بندوں کیلئے رکھا ہے مجھے اس میں سے زیادہ عطا کر

وَأَعْطِنِی فِیهِ أَ فْضَلَ مَا تُعْطِی أَوْ لِیائَکَ الْمُقَرَّبِینَ مِنَ الرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ وَالتَّحَنُّنِ

اور اس مہینے میں تو نے اپنے قریبی دوستوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے مجھے زیادہ حصہ دے یعنی رحمت ،بخشش، محبت،

وَالْاِجابَةِ وَالْعَفْوِ وَالْمَغْفِرَةِ الدَّائِمَةِ وَالْعافِیَةِ وَالْمُعافاةِ وَالْعِتْقِ مِنَ النَّارِ وَالْفَوْزِ

قبولیت اور درگزر نیز ہمیشہ کے لیے بخشش آرام، آسودگی اور آگ سے خلاصی جنت میں جانے کی

بِالْجَنَّةِ وَخَیْرِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ دُعائِی

کامیابی اور دنیا و آخرت کی بھلائی میں زیادہ حصہ دے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور اس مہینے میں میری دعا کو ایسا بنا

فِیهِ إلَیْکَ واصِلاً، وَرَحْمَتَکَ وَخَیْرَکَ إلَیَّ فِیهِ نازِلاً، وَعَمَلِی فِیهِ مَقْبُولاً، وَسَعْیِی

کہ تجھ تک پہنچ جائے اور تیری رحمت اور بھلائی ا س میں مجھ پر نازل ہو اور اس ماہ میں میرا عمل تجھے قبول میری کوشش

فِیهِ مَشْکُوراً وَذَ نْبِی فِیهِ مَغْفُوراً حَتّی یَکُونَ نَصِیبِی فِیهِ الْاَکْثَرُ وَحَظِّی فِیهِ الْاَوْفَرُ

تجھے پسند اور اس میں تو میرا گناہ بخش دے یہاں تک کہ اس ماہ میں میرا نصیب بڑھ جائے اور میرا حصہ زیادہ ہوجائے

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِلَیْلَةِ الْقَدْرِ عَلَی أَفْضَلِ حالٍ

اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں مجھے شب قدر سے بہرہ ور فرما اس بہترین صورت

تُحِبُّ أَنْ یَکُونَ عَلَیْها أَحَدٌ مِنْ أَوْ لِیائِکَ وَأَرْضاها لَکَ، ثُمَّ اجْعَلْها لِی خَیْراً مِنْ

میں جسے تو پسند کرے کہ تیرے دوستوں میں سیہر ایک اسی حال میں ہو جو تیرے لیے بہت پسندیدہ ہے پھر شب قدر کو میرے لیے

أَلْفِ شَهْرٍ، وَارْزُقْنِی فِیها أَ فْضَلَ مَا رَزَقْتَ أَحَداً مِمَّنْ بَلَّغْتَهُ إیَّاها وَأَکْرَمْتَهُ بِها

ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے اور اس میں وہ بہترین روزی دے جو تو نے کسی شخص کو دی اور وہ استک پہنچائی اور یوں اسکو سرفراز کیا

وَاجْعَلْنِی فِیها مِنْ عُتَقائِکَ مِنْ جَهَنَّمَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ وَسُعَدائِ خَلْقِکَ بِمَغْفِرَتِکَ

ہے مجھے اس میں جہنم سے آزاد کیے گئے لوگوں میں قرار دے کہ جو آگ سے خلاصی پاگئے ہیں اور تیری بخشش و خوشنودی کے ساتھ

وَرِضْوانِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنا فِی

تیری مخلوق میں سے خوش بخت ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس ماہ

شَهْرِنا هذَا الْجِدَّ وَالاجْتِهادَ وَالْقُوَّةَ وَالنَّشاطَ وَمَا تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْفَجْرِ

رمضان میں نصیب کر سعی، کوشش، طاقت ولولہ اور وہ چیز جسے تو چاہے اور پسند کرے اے اللہ! اے ایک صبح

وَلَیالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَرَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ وَمَا أَنْزَلْتَ فِیهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَرَبَّ

اور دس راتوں اور شفع و وتر کے رب اور ماہ رمضان کے مالک اور اس قرآن کے مالک جو تو نے اس ماہ میں نازل کیا

جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَعِزْرائِیلَ وَجَمِیعِ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَرَبَّ إبْراهِیمَ

اور جبرائیلعليه‌السلام و میکائیلعليه‌السلام و اسرافیلعليه‌السلام و عزرائیلعليه‌السلام اور تمام مقرب فرشتوں کے رب اور اے حضرت ابراہیمعليه‌السلام

وَ إسْمعِیلَ وَ إسْحقَ وَیَعْقُوبَ وَرَبَّ مُوسی وَعِیسی وَجَمِیعِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ

و اسماعیلعليه‌السلام و اسحاقعليه‌السلام و یعقوبعليه‌السلام کے رب اور حضرت موسیٰعليه‌السلام و عیسیٰعليه‌السلام اور سارے نبیوں اور رسولوں کے رب اور اے نبیوں کے خاتم حضرت

وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ، وَأَسْأَ لُکَ بِحَقِّکَ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رب ان پر اور سب پہلے نبیوں پر تیری رحمتیں ہوں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے حق کے واسطے سے جوان پر ہے، اور

عَلَیْهِمْ وَبِحَقِّهِمْ عَلَیْکَ وَبِحَقِّکَ الْعَظِیمِ لَمَّا صَلَّیْتَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ

انکے حق کے واسطے سے جو تجھ پر ہے اور تیرے بزرگتر حق کے واسطے سے کہ ضرور ان پر اور انکی آل پررحمت کر اور ان سب پر رحمت کر

وَنَظَرْتَ إلَیَّ نَظْرَةً رَحِیمَةً تَرْضی بِها عَنِّی رِضیً لاَ سَخَطَ عَلَیَّ بَعْدَهُ أَبَداً

اور مجھ پر ایسی نظر فرما جو مہربانی کی نظر ہو کہ تو مجھ سے ایسا راضی ہوجائے اور اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہو

وَأَعْطَیْتَنِی جَمِیعَ سُؤْلِی وَرَغْبَتِی وَأُمْنِیَتِی وَ إرادَتِی وَصَرَفْتَ عَنِّی مَا أَکْرَهُ

اور میری تمام مرادیں خواہشیں آرزوئیں اور ارادے پورے فرما وہ چیزیں مجھ سے دور کردے جن سے میں اپنی جان کیلئے ڈرتا

وَأَحْذَرُ وَأَخافُ عَلَی نَفْسِی وَمَا لاَ أَخافُ وَعَنْ أَهْلِی وَمالِی وَ إخْوانِی وَذُرِّیَّتِی

اور خوف کھاتا ہوں اور خوف نہیں کھاتااور انہیں میرے رشتہ داروں میرے مال میرے بھائیوں اور اولاد سے بھی دور فرما

اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ فَرَرْنا مِنْ ذُ نُوبِنا فَآوِنا تائِبِینَ، وَتُبْ عَلَیْنا مُسْتَغْفِرِینَ، وَاغْفِرْ لَنا

اے معبود! ہم اپنے گناہوں سے تیری طرفبھاگے ہیں ہمیں توبہ کرنیوالوں کی سی پناہ دے اور توجہ کر کہ ہم بخشش کے طالب ہیں

مُتَعَوِّذِینَ، وَأَعِذْنا مُسْتَجِیرِینَ، وَأَجِرْنا مُسْتَسْلِمِینَ، وَلاَ تَخْذُلْنا راهِبِینَ،

لے ہیں ہم خواہاں ہیں امان ہمیں بخش دے پناہ دیتے ہوئے پناہ دے کہ طالب پناہ ہیں ہمیں پناہ میں لے کہ سرنگوں ہیں ہمیں رسوا

وَآمِنَّا راغِبِینَ، وَشَفِّعْنا سائِلِینَ، وَأَعْطِنا إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ قرِیبٌ مُجِیبٌ

نہ کر کہ ڈرنے وادے ہم سائل ہیں شفاعت قبول فرما اور حاجت پوری کر بے شک تو دعا سننے والا ہے قریب تر قبول کرنے والا ہے

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی وَأَ نَا عَبْدُکَ وَأَحَقُّ مَنْ سَأَلَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَلَمْ یَسْأَلِ

اے معبود! تو میرا پروردگار اور میں تیرا بندہ ہوں اور بندے کو زیادہ حق ہے کہ اپنے پروردگار سے سوال کرے اور بندوں سے تیرے

الْعِبادُ مِثْلَکَ کَرَماً وَجُوداً یَا مَوْضِعَ شَکْوَی السَّائِلِینَ وَیَا مُنْتَهی حاجَةِ الرَّاغِبِینَ

جیسے کرم و بخشش کا سوال نہیں کیا جاسکتا اے سائلوں کے لیے مرکز شکایت اور اے محتاجوں کی حاجت برآری کی آخری امیدگاہ

وَیَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، وَیَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، وَیَا مَلْجَأَ الْهارِبِینَ، وَیَا

اے فریاد کرنے والوں کے فریادرس اے بے چاروں کی دعائیں قبول کرنے والے اے بھاگنے والوں کی جائے پناہ

صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا رَبَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ، وَیَا کاشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوبِینَ،

اے چیخ و پکار کرنے والوں کے مددگار اور ایزیردستوں کے پروردگار اے دکھی لوگوں کے دکھ دور کرنے والے

وَیَا فارِجَ هَمِّ الْمَهْمُومِینَ، وَیَا کاشِفَ الْکَرْبِ الْعَظِیمِ، یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ

اے پریشانوں کی پریشانی ہٹانے والے اور اے بڑی مصیبت کے دور کرنے والے یا اللہ اے رحم کرنے والے اے مہربان

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی ذُ نُوبِی وَعُیُوبِی

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور بخش دے میرے گناہ میرے عیب

وَ إسائَتِی وَظُلْمِی وَجُرْمِی وَ إسْرافِی عَلَی نَفْسِی وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ

میری برائیاں میری ناانصافی میرا جرم اور اپنے نفس پر میری زیادتی اور مجھ پر اپنا فضل و کرم اور رحمت فرما

فَ إنَّهُ لاَ یَمْلِکُها غَیْرُکَ، وَاعْفُ عَنِّی، وَاغْفِرْ لِی کُلَّ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِی، وَاعْصِمْنِی

کیونکہ تیرے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں اور مجھے معاف فرما اور میرے گزشتہ گناہ معاف کردے اور بقایا زندگی میں

فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی وَاسْتُرْ عَلَیَّ وَعَلَی والِدَیَّ وَوَلَدِی وَقَرابَتِی وَأَهْلِ حُزانَتِی

مجھے گناہ سے بچائے رکھاور میری میرے والدین کی میری اولاد اور عزیزوں کی میرے ملنے والوں کی اور مومنین

وَمَنْ کانَ مِنِّی بِسَبِیلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ فَ إنَّ ذلِکَ کُلَّهُ

و مومنات میں سے جو میرے ہمقدم ہیں ان سب کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی فرماکیونکہ یہ باتکلی طور پر تیرے اختیار میں ہے

بِیَدِکَ وَأَ نْتَ واسِعُ الْمَغْفِرَةِ فَلا تُخَیِّبْنِی یَا سَیِّدِی، وَلاَ تَرُدَّ دُعائِی وَلاَ یَدِی إلی

اور تو بخش دینے میں وسعت والا ہے پس ناامید نہ کر میرے آقا! میری دعا رد نہ کر اور میرا ہاتھ میرے سینے

نَحْرِی حَتّی تَفْعَلَ ذلِکَ بِی وَتَسْتَجِیبَ لِی جَمِیعَ مَا سَأَلْتُکَ وَتَزِیدَنِی مِنْ

کی طرف نہ پلٹا یہاں تک کہ مجھے وہ سب کچھ دے اور میری سب حاجتیں پوری کردے جو میں نے طلب کیں اور اپنے فضل سے

فَضْلِکَ، فَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَنَحْنُ إلَیْکَ راغِبُونَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْاَسْمائُ

مجھے کچھ زیادہ بھی دے کہ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہیاور ہم تیری ہی طرف رغبت کرتے ہیں اے معبود! تیرے لیے اچھے

الْحُسْنی، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیَائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ

اچھے نام ہیں اور بلندترین شانیں ہیں بڑائیاں اور نعمتیں ہیں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے نام (اللہ، رحمن،

الرَّحِیمِ إنْ کُنْتَ قَضَیْتَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ تَنَزُّلَ الْمَلائِکَةِ وَالرُّوحِ فِیها أَنْ تُصَلِّیَ

رحیم) کے اگر تو نیاس رات میں ملائکہ اور روح کو زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر رکھا ہے تو اس رات

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ،

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میرا نام نیک بختوں میں میری روح کو شہیدوں کے ساتھ میری نیکی کو درجہ علیین میں

وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسَائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی،

اور میرے گناہوں کو بخشے ہوئے قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں جما رہے

وَ إیماناً لاَ یَشُوبُهُ شَکٌّ، وَرِضیً بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنِی فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی

وہ ایمان عطا کر جسے شک کا خطرہ نہ ہو جو کچھ تو نے دیا اس پر راضی رکھ مجھے اس دنیا میں نیکی اور

الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنِی عَذابَ النّارِ وَ إنْ لَمْ تَکُنْ قَضَیْتَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ تَنَزُّلَ

آخرت میں خوشی نصیب فرما اور مجھے آگ کے عذاب سے بچائے رکھاور اگر تو نے آج کی رات میں ملائکہ اور روح کو نازل کرنے

الْمَلائِکَةِ وَالرُّوْحِ فِیها فَأَخِّرْنِی إلی ذلِکَ وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَطاعَتَکَ

کا فیصلہ نہیں کیا تو پھر مجھ کو ایسی رات تک مہلت دے اور اس میں مجھے اپنے ذکر، شکر فرمانبرداری اور بہترین

وَحُسْنَ عِبادَتِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ

عبادت کی توفیق دے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اپنی بہترین رحمتوں سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والا

یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا رَبَّ مُحَمَّدٍ اغْضَبِ الْیَوْمَ لِمُحَمَّدٍ وَ لاِبْرارِ عِتْرَتِهِ وَاقْتُلْ أَعْدائَهُمْ

اے یگانہ اے بے نیاز اے ربِ محمد ! آج غضبناک ہو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خاندان کے نیکوکارں کی خاطر اور ان کے دشمنوں کے ٹکڑے

بَدَداً، وَأَحْصِهِمْ عَدَداً، وَلاَ تَدَعْ عَلَی ظَهْرِ الْاَرْضِ مِنْهُمْ أَحَداً، وَلاَ تَغْفِرْ لَهُمْ أَبَداً

ٹکڑے کردے انہیں ایک ایک کرکے چن لے اور ان میں سے کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ چھوڑ انہیں کبھی بھی معاف نہ فرما

یَا حَسَنَ الصُّحْبَةِ، یَا خَلِیفَةَ النَّبِیِّینَ أَ نْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، الْبَدِیئُ الْبَدِیعُ الَّذِی

اے بہترین رفیق اینبیوں کے بعدباقی رہنے والے تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ایسا آغاز کرنیوالا ہے پیدا کرنیوالا ہے کہ

لَیْسَ کَمِثْلِکَ شَیْئٌ، وَالدَّائِمُ غَیْرُ الْغافِلِ، وَالْحَیُّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ، أَ نْتَ کُلَّ یَوْمٍ

کوئی بھی چیز تیرے جیسی نہیں ہے اے ہمیشہ کے بیدار جو غافل نہیں ہوتا اور وہ زندہ جسے موت نہیں آتی تو وہ ہے جو ہر روز نرالی

فِی شَأْنٍ، أَنْتَ خَلِیفَةُ مُحَمَّدٍ، وَناصِرُ مُحمَّدٍ، وَمُفَضِّلُ مُحَمَّدٍ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تَنْصُرَ

شان رکھتا ہے تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پشت پناہ ان کا مددگار اور ان کو فضیلت دینے والا ہیمیں سوالی ہوں تیرا کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ان کے

وَصِیَّ مُحَمَّدٍ وَخَلِیفَةَ مُحَمَّدٍ وَالْقائِمَ بِالْقِسْطِ مِنْ أَوْصِیائِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ

جانشین اور ان کے جانشینوں میں سے عدل و انصاف قائم کرنے والے کی مدد فرما اس پر اور ان سب پر تیری رحمتیں ہوں

وَعَلَیْهِمْ، اعْطِفْ عَلَیْهِمْ نَصْرَکَ، یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ صَلِّ عَلَی

ان سبھوں کی مددو نصرت فرما اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں کے واسطے سے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی مَعَهُمْ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ، وَاجْعَلْ عاقِبَةَ أَمْرِی إلی

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے دنیا اور آخرت میں انہی کے ساتھ قرار دے اور میری زندگی کو اپنی بخشش و رحمت

غُفْرانِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَکَذلِکَ نَسَبْتَ نَفْسَکَ یا سَیِّدِی بِاللُّطْفِ

کے شمول پر ختم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور جیسا کہ اپنے آپ کو لطیف و مہربان کے نام سے موسوم کیا ہے میرے

بَلَی إنَّکَ لَطِیفٌ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَالْطُفْ بِی لِما تَشائُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

مالک ہاں بے شک تو مہربان ہے پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور جس پر چاہے لطف و کرم کر اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فِی عامِنا هذَا وَتَطَوَّلْ عَلَیَّ بِجَمِیعِ

پر رحمت نازل فرما اور نصیب فرمامجھے حج اور عمرہ کی ادائیگی اسی رواں سال میں اور مجھ پر عنایت کرتے ہوئے میری دنیا و آخرت

حَوائِجِی لِلاَْخِرَةِ وَالدُّنْیاپهر تین مرتبه کهے : أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَ أَ تُوبُ إلَیْهِ إنَّ رَبِّی

کی تمام حاجتیںپوری فرما بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں بیشک

قَرِیبٌ مُجِیبٌ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَأَ تُوبُ إلَیْهِ إنَّ رَبِّی

میرا رب نزدیک اور دعا قبول کرنیوالا ہے بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں بے شک میرا

رَحِیمٌ وَدُودٌ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَأَتُوبُ إلَیْهِ إنَّهُ کانَ غَفَّاراً

رب مہربان محبت والا ہے بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت بخشنے والا ہے

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی إنَّکَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، رَبِّ إنِّی عَمِلْتُ سُوئ اً وَظَلَمْتُ نَفْسِی

اے معبود! مجھے بخش دے بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے میرے رب میں نے برا عمل کیا اور اپنی جان پرظلم کیا

فَاغْفِرْ لِی إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أَ نْتَ ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ

پس مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں بخشش چاہتاہوں اللہ سے جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ

الْقَیُّومُ الْحَلِیمُ الْعَظِیمُ الْکَرِیمُ الْغَفَّارُ لِلذَّنْبِ الْعَظِیمِ وَأَ تُوبُ إلَیْهِ، اَسْتَغْفِرُ ﷲ

پائندہ بردبار بڑائی والا مہربان بڑے سے بڑے گناہ کو بخش دینے والا ہے میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوںاللہ سے بخشش چاہتا ہوں

إنَّ ﷲ کانَ غَفُوراً رَحِیماً ۔ اس کے بعد یہ پڑھے :اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی

بے شک اللہ ہے بخش دینے والا مہربان ہے اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْعَظِیمِ الْمَحْتُومِ فِی

رحمت نازل فرما ور یہ کہ تو شب قدر میں جن بڑے اور یقینی امور کے بارے میں بست و کشاد کا حکم لگائے جو تیرے

لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ

ایسے فیصلے ہوں جن میںکسی طرح کا التوا اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی ان کے ضمن میں مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ان حاجیوں میں

الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ الْمُکَفَّرِ عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ

لکھ دے جن کا حج قبول جن کی سعی پسندیدہ جن کے گناہ معاف شدہ اور جن کی خطائیں ان سے دور کردی گئی ہوں

وَأَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی، وَتُوَسِّعَ رِزْقِی، وَتُؤَدِّیَ عَنِّی

اور یہ کہ جن باتوں میں تو بست و کشاد کرے ان میں میری عمر کو طولانی میرے رزق میں فراوانی فرما اور میری طرف سے

أَمانَتِی وَدَیْنِی، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِیَ فَرَجاً وَمَخْرَجَاً

امانتیں اور قرضے ادا کردے ایسا ہی ہو اے جہانوںکے پالنے والے اے اللہ! میرے معاملوں میں کشادگی اور سہولت قرار دے

وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ وَاحْرُسْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَرِسُ

اور مجھے رزق دے جہاں سے مجھے توقع ہے اور جہاں سے مجھے اس کے ملنے کی توقع نہیں ہے اور میری حفاظت کر جہاں میں اپنی

وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَرِسُ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمْ کَثِیراً

حفاظت کرسکوں اور جہاں اپنی حفاظت نہ کرسکوں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور بہت زیادہ سلام ۔

( ۲ )بزرگوں کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں ہر روز یہ تسبیحات پڑھے کہ یہ دس جزئ ہیں اور ہر جزئ میں دس مرتبہ سبحان اللہ آیا ہے:

﴿۱﴾ سُ بْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ

( ۱ )پاک ہے اللہ جاندوروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہتمام موجودات میں جوڑے

کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی

بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا

سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ

پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے

ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ السَّمِیعِ الَّذِی لَیْسَ

اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ایسا سننے والا ہے کہ اس سے

شَیْئٌ أَسْمَعَ مِنْهُ، یَسْمَعُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ مَا تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِینَ، وَیَسْمَعُ مَا فِی

زیادہ سننے والا کوئی نہیںوہ اپنے عرش کی بلندیوں پر سات زمینوں کے نیچے کی آواز سنتا ہے اور خشکی و تری کی

ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَیَسْمَعُ الْاَنِینَ وَالشَّکْوی، وَیَسْمَعُ السِّرَّ وَأَخْفی، وَیَسْمَعُ

تاریکیوں میں سے ہر آواز سنتا ہے وہ نالہ و شکایت سنتا ہے ڈھکی چھپی باتیں سنتا ہے اور دلوں میں

وَساوِسَ الصُّدُورِ، وَلاَ یُصِمُّ سَمْعَهُ صَوْتٌ ﴿ ۲ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَم

گزرنے والے خیالوں کو بھی سنتا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو ختم نہیں کرتی ( ۲ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا

سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ

پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میںجوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا

الظُّلُماتِ وَالنُّورِ سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ،

پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا

سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ

پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ

رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الْبَصِیرِ الَّذِی لَیْسَ شَیْئٌ أَبْصَرَ مِنْهُ، یُبْصِرُ مِنْ فَوْقِ

جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ایسا دیکھنے والا ہے کہ اس سے زیادہ دیکھنے والا کوئی نہیں وہ اپنے عرش کے

عَرْشِهِ مَا تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِینَ وَیُبْصِرُ مَا فِی ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لاَ تُدْرِکُهُ

اوپر سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو سات زمینوں کے نیچے ہے وہ ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو خشکی و تری کیتاریکیوں میں ہیں آنکھیں

الْاَبْصارُ، وَهُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصارَ، وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ، وَلاَ تُغْشِی بَصَرَهُ الظُّلْمَةُ،

اسے نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کو پالیتا ہے اور وہ باریک بین ہے خبردار تاریکی اسکی آنکھ کو ڈھانپ نہیں سکتی کوئی چھپی چیز اس سے

وَلاَ یُسْتَتَرُ مِنْهُ بِسِتْرٍ، وَلاَ یُوارِی مِنْهُ جِدارٌ، وَلاَ یَغِیبُ عَنْهُ بَرٌّ وَلاَ بَحْرٌ، وَلاَ یَکُنُّ

چھپ نہیں سکتی اور کوئی دیوار اس کے لیے پردہ نہیں بن پاتی صحرا اور دریا اس سے اوجھل نہیں ہوسکتے نہیں چھپاسکتا اس

مِنْهُ جَبَلٌ مَا فِی أَصْلِهِ وَلاَ قَلْبٌ مَا فِیهِ وَلاَ جَنْبٌ مَا فِی قَلْبِهِ وَلاَ یَسْتَتِرُ مِنْهُ صَغِیرٌ

سے کوئی پہاڑ جو کچھ اسکے نیچے ہے نہ کوئی دل کہ جو اس کے اندر ہے نہ کوئی پہلو کہ جو اس کے بیچ میںہے اور کوئی چھوٹی بڑی چیز اس

وَلاَ کَبِیرٌ، وَلاَ یَسْتَخْفِی مِنْهُ صَغِیرٌ لِصِغَرِهِ، وَلاَ یَخْفی عَلَیْهِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ

سے اوجھل نہیں ہوسکتی کوئی چھوٹی چیز چھوٹائی کی وجہ سے اس سے چھپی نہیں رہتی اور نہ زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز اس سے پنہاں

وَلاَ فِی السَّمائِ، هُوَ الَّذِی یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحامِ کَیْفَ یَشائُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْعَزِیزُ

ہے وہ وہی تو ہے جس نے رحموں میں تمہاری صورت بنائی جیسے اس نیچاہی اس کے سوا کوئی معبود نہیںجو اقتدار والا

الْحَکِیمُ ﴿ ۳ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ

حکمت والا ہے( ۳ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والاپاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ

خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ

تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور

الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ

بیج کو چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا

یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی

کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کاپالنے والا پاک ہے اللہ جو بوجھل بادلوں

یُنْشئُ السَّحابَ الثِّقالَ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلائِکَةُ مِنْ خِیفَتِهِ، وَیُرْسِلُ

کو پیدا کرتا ہے اور بجلی کی کڑک اس کی حمد کرتی ہے اور فرشتے خوف سے اس کی تسبیح پڑھتے ہیںوہ جلانے والی

الصَّواعِقَ فَیُصِیبُ بِها مَنْ یَشائُ، وَیُرْسِلُ الرِّیاحَ بُشْراً بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ، وَیُنَزِّلُ

بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہے ان کا نشانہ بنادیتا ہے وہ ہواؤں کو بھیجتاہے جو اس کی رحمت کامژدہ دیتی ہیں اور اپنے حکم سے

الْمائَ مِنَ السَّمائِ بِکَلِمَتِهِ، وَیُنْبِتُ النَّباتَ بِقُدْرَتِهِ، وَیَسْقُطُ الْوَرَقُ بِعِلْمِهِ، سُبْحانَ

آسمانوں کی طرف سے پانی اتارتا ہے اپنی قدرت سے سبزیاگاتا ہے اور اپنے علم کے ساتھ پتوں کو توڑگراتا ہے پاک ہے

ﷲ الَّذِی لاَ یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمائِ وَلاَ أَصْغَرُ مِنْ

اللہ جس کی لیے زمین اور آسمانوں میں کوئیذرہ برابر چیز اوجھل نہیں ہے اور ان میںسے کوئی چھوٹی

ذلِکَ وَلاَ أَکْبَرُ إلاَّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ ﴿ ۴ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ

بڑی چیز نہیں ہے جو ایکواضح کتاب میں نہ لکھی ہوئی ہو( ۴ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ

الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ

صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کاپیدا کرنے والا

سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ

پاک ہے اللہ دانے اور بیج کا چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ

خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ،

دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا

سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ أُ نْثی وَمَا تَغِیضُ الْاَرْحامُ وَمَا تَزْدادُ وَکُلُّ

پاک ہے اللہ جس کو معلوم ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور جو کچھ ماؤں کے رحموں میں ہے اور جو کچھ بڑھتا ہے وہ اس

شَیْئٍ عِنْدَهُ بِمِقْدارٍ عالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ سَوائٌ مِنْکُمْ مَنْ أَسَرَّ

کا اندازہ رکھتا ہے وہ ہر کھلی چھپی چیز کا جاننے والا بزرگتر بلندتر ہے برابر ہے اس کے لیے تم میں جو کوئی راز کی

الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ

بات کرے یا کھول کر اور وہ جو رات کو چھپ کر چلے اور جو دن کے وقت سفر کرے ہر ایک کے آگے اور پیچھے کچھ پیکر ہوتے ہیں

بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ یَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ ﷲ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یُمِیتُ الْاَحْیائَ

جو خدا کے حکم کے مطابق اس کی حفاظت کیا کرتے ہیں پاک ہے اللہ کہ جو زندوں کو موت دیتا

وَیُحْیِی الْمَوْتی وَیَعْلَمُ مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ وَیُقِرُّ فِی الْاَرْحامِ مَا یَشائُ إلی

اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ جانتا ہے زمین ان میں جو کمی کرتی ہے اور جو چاہتا ہے وقت مقررہ تک رحموں میں

أَجَلٍ مُسَمّیً ﴿ ۵ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ

قرار دیتا ہے ( ۵ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے

ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ

اللہ تمام موجودات میں جوڑیبنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو

الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ

چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا

یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ مالِکِ

کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ملک کا

الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشائُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشائُ وَتُذِلُّ مَنْ

مالک ہے جسے چاہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل

تَشائُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ تُو لِجُ اللَّیْلَ فِی النَّهارِ، وَتُو لِجُ النَّهارَ

کرتا ہے بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات

فِی اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشائُ

میں داخل کرتا ہے مردہ سے زندہ کو نکالتا اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور جسے چاہے بغیر حساب کے

بِغَیْرِ حِسابٍ ﴿ ۶ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ

رزق دیتا ہے( ۶ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے

ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ

اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو

الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ

چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا

یُری سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ سُبْحانَ ﷲ الَّذِی عِنْدَهُ

کرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جس کے پاس

مَفاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُها إلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إلاَّ

غیب کی کنجیاں ہیں جن کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں وہ جانتا ہے جو کچھ ہے صحرائ و دریا میں اور نہیں گرتا کوئی پتا مگر وہ

یَعْلَمُها وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یابِسٍ إلاَّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ ﴿ ۷ ﴾

اسے جانتا ہے اور نہیں کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور نہیں کوئی خشک وتر مگر یہ کہ وہ واضح کتاب میں مذکورہے( ۷ )

سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ

پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے

کُلِّها سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی

بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا

سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری سُبْحانَ ﷲ

پاک ہے اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ

مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی لاَ یُحْصِی مِدْحَتَهُ

اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے وہ اللہ کہ بولنے والے جس کی تعریف کا حق ادا نہیں کر

الْقائِلُونَ، وَلاَ یَجْزِی بِآلائِهِ الشَّاکِرُونَ الْعابِدُونَ، وَهُوَ کَما قالَ وَفَوْقَ مَا نَقُولُ

پاتے اس کا شکر کرنے اور عبادت کرنے والے اس کا حق نعمت ادا نہیں کرسکتے وہ ایسا ہے جیسا اس نے کہا اور جو ہم کہتے ہیں

وَﷲ سُبْحانَهُ کَما أَثْنی عَلَی نَفْسِهِ، وَلاَ یُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِهِ إلاَّ بِما شائَ

اس سے بلند ہے اور اللہ پاک ہے جیسے اس نے اپنی تعریف فرمائی اور وہ اس کے علم میں سے کچھ نہیں جان سکتے مگر وہی جو وہ چاہے

وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَلاَ یَؤُودُهُ حِفْظُهُما وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ﴿ ۸ ﴾

اس کی حکومت زمین اور آسمانوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بلند ہے بڑائی والا ( ۸ )

سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ

پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے

کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی

بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا بنانے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا

سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ

پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے

ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی

اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے کہ جو جانتا ہے زمین میں

الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها، وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها، وَلاَ یَشْغَلُهُ مَا یَلِجُ

داخل ہونے اور اس سے خارج ہونے والی چیزوں کو اور جو آسمان سے اترتا ہے اور اس کی طرف بلند ہوتا ہے اور اسے زمین

فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها عَمَّا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها، وَلاَ یَشْغَلُهُ مَا

میں داخل اور اس سے خارج ہونے والی چیزیں آسمان سے نازل ہونے اور اس طرف بلند ہونے والی چیزوں سے غافل نہیں

یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها عمَّا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها، وَلاَ یَشْغَلُهُ

کرتیں اور آسمان سے اترنے اور اس میں چڑھنے والی چیزیں زمین میں داخل اور اس سے خارج ہونے والی چیزوں سے غافل نہیں کرتیں

عِلْمُ شَیْئٍ عَنْ عِلْمِ شَیْئٍ وَلاَ یَشْغَلُهُ خَلْقُ شَیْئٍ عَنْ خَلْقِ شَیْئٍ، وَلاَ حِفْظُ شَیْئٍ

اوراسے ایک چیز کا علم دوسری کے علم سے غافل نہیں کرتا اور ایک چیز کا پیدا کرنا دوسری کے پیدا کرنے سے غافل نہیں کرتا اور ایک

عَنْ حِفْظِ شَیْئٍ، وَلاَ یُساوِیهِ شَیْئٌ ، وَلاَ یَعْدِلُهُ شَیْئٌ، لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَهُوَ

چیز کی نگہبانی دوسری کی نگہبانی سے غافل نہیں کرتی اور نہ کوئی چیز اس کے برابر ہے نہ کوئی چیز اس جیسی ہے کوئی چیز اس کی مانند ہے

السَّمِیعُ الْبَصِیرُ ﴿ ۹ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ

ہی نہیں اور وہ ہے سننے والا دیکھنے والا( ۹ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیداکرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنے والا پاک ہے

ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّوْرِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ

اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا بنانے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج

الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ

کو چیرنے والا پاک ہے اللہ ہر چیز کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا

یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ فاطِرِ

کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ تمام جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جس نے پیدا کیے

السَّمَاواتِ وَالْاَرْضِ جاعِلِ الْمَلائِکَةِ رُسُلاً أُولِی أَجْنِحَةٍ مَثْنی وَثُلاثَ وَرُباعَ

آسمان اور زمین اور ملائکہ کو اپنے قاصد قراردیا جو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے ہیں وہ مخلوق

یَزِیدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشائُ إنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ مَا یَفْتَحِ ﷲ لِلنّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ

میں جتنا چاہے اضافہ کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اللہ رحمت کا جو در چاہے لوگوں پر کھول دیتا ہے تو کوئی

فَلا مُمْسِکَ لَها وَمَا یُمْسِکْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ﴿۱۰﴾

اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں اور وہ ہے غلبے والا حکمت والا (۱۰)

سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها

پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ صورت گری کرنے والا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا

سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ

پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کو جد اجدا بنانے والا پاک ہے اللہ زیرزمین دانے اور بیج کو چیرنے والا پاک ہے

ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ

اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ تمام دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو

کَلِماتِهِ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا فِی السَّماواتِ وَمَا

بڑھانے والا پاک ہے اللہ تمام جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ وہی ہے جو جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ

فِی الْاَرْضِ مَا یَکُونُ مِنْ نَجْوی ثَلاثَةٍ إلاَّ هُوَ رابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إلاَّ هُوَ سادِسُهُمْ

زمینوں میں ہے کہیں تین آدمی سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے پانچ آدمی نہیں مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے

وَلاَ أَدْنی مِنْ ذلِکَ وَلاَ أَکْثَرَ إلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَیْنَما کانُوا ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِما عَمِلُوا یَوْمَ

اور اس سے کم و بیش آدمی سرگوشی نہیں کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں مگر وہ قیامت کے روز انہیں ان

الْقِیامَةِ إنَّ ﷲ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ

کے اعمال سے آگاہ کرے گا بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

( ۳ )علمائ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرہر روز یہ صلٰوۃ پڑھے:

إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَ یُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا

بے شک اللہ اوراس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پاک پر تو اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام جو سلام

تَسْلِیماً، لَبَّیْکَ یَا رَبِّ وَسَعْدَیْکَ وَسُبْحانَکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

کا حق ہے حاضر ہوں اے پروردگار تیرے سامنے اور تو سعادت کامالک اور پاک تر ہے اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیج

وَبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ عَلَی إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ

اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے جناب ابراہیمعليه‌السلام اور آل ابراہیمعليه‌السلام پر درود بھیجا اور برکت نازل کی بے شک تو

حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ کَما رَحِمْتَ إبْراهِیمَ وَآلَ إبْراهِیمَ إنَّکَ

تعریف و بزرگی والا ہے اے اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحم فرما جیسا کہ تو نے ابراہیمعليه‌السلام و آل ابراہیمعليه‌السلام پر رحم فرمایا بے شک تو

حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ سَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما سَلَّمْتَ عَلَی نُوحٍ فِی الْعالَمِینَ

تعریف و بزرگی والا ہے اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام بھیج جیسا کہ تو نے عالمین میں حضرت نوحعليه‌السلام پر سلام بھیجا

اَللّٰهُمَّ امْنُنْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما مَنَنْتَ عَلَی مُوسی وَهارُونَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احسان فرما جیسا کہ تو نے موسیٰعليه‌السلام و ہارونعليه‌السلام پر احسان فرمایا اے اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما شَرَّفْتَنا بِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما

درود بھیج جیسا کہ تونے ہمیں اس سے مشرف کیا اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وا ٓل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیج جیسا کہ تو نے ہمیں ان کے

هَدَیْتَنا بِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْهُ مَقاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ

ذریعے ہدایت دی اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیج اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مقام محمود پر سرفراز فرما کہ اس سے پہلے پچھلے

الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ، عَلَی

ان پر رشک کرنے لگ جائیں۔ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو جب تک سورج کا طلوع و غروب ہو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما طَرَفَتْ عَیْنٌ أَوْ بَرَقَتْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما ذُکِرَ

ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو جب تک آنکھ جھپکتی یا کھلتی رہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو جب تک سلام کیا

اَلسَّلاَمُ، عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما سَبَّحَ ﷲ مَلَکٌ أَوْ قَدَّسَهُ، اَلسَّلاَمُ عَلَی

جاتا رہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو جب تک فرشتے اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے رہیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَی

سلام ہو اولین میں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو آخرین میں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، وَرَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ،

پر سلام ہو دنیا اور آخرت میں۔ اے اللہ! اے حرمت والے شہر مکہ کے رب اے رکن اور مقام کے رب

وَرَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ أَبْلِغْ مُحَمَّداً نَبِیَّکَ عَنَّا السَّلامَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً مِنَ الْبَهائِ

اور اے حل و حرام کے رب اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور ہمارا سلام پہنچادے اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تابش، تازگی،

وَالنَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ وَالْکَرامَةِ وَالْغِبْطَةِ وَالْوَسِیلَةِ وَالْمَنْزِلَةِ وَالْمَقامِ وَالشَّرَفِ

شادمانی، بزرگواری، فضیلت، وسیلہ، بلندی، مرتبہ، عزت،

وَالرِّفْعَةِ وَالشَّفاعَةِ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیامَةِ أَفْضَلَ ما تُعْطِی أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ، وَأَعْطِ

برتری اور قیامت میں اپنے حضور شفاعت کرنے کا حق عطا فرما اس سے زیادہ جو تو نے مخلوق میں سے کسی کو دیا اور عطا فرما محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو

مُحَمَّداً فَوْقَ مَا تُعْطِی الْخَلائِقَ مِنَ الْخَیْرِ أَضْعافاً کَثِیرَةً لاَ یُحْصِیها غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ

اس سے فوقیت جو بھلائی تو نے مخلوق کو دی ہے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کئی گنا زیادہ دے جسے بجز تیرے کوئی شمار نہ کرسکے اے اللہ!

صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَطْیَبَ وَأَطْهَرَ وَأَزْکی وَأَ نْمی وَأَ فْضَلَ مَا صَلَّیْتَ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیج پاک تر پاکیزہ تر عمدہ بہترین اور زیادہ اس سے جو درود تو نے اگلے پچھلے

عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ وَعَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ

لوگوں میں کسی پر بھیجا اور اپنی مخلوق میں سے کسی پر بھیجا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے اللہ!

صَلِّ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَوالِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ

امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام پر رحمت فرما ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی رکھ اور ان کے قتل میں شریک پر

عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ

دوچند عذاب نازل کر اے اللہ! اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر فاطمہعليه‌السلام پر رحمت فرما کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر سلام ہو

وَوالِ مَنْ وَالاها، وَعادِ مَنْ عَادَاهَا، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَها، وَالْعَنْ مَنْ

ان کے دوست سے دوستی رکھ اور انے کے دشمن سے دشمنی رکھ اور ان پر ظلم کرنے والے کے عذاب کو دو چند کر دے اور لعنت کر جس

آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إمامَیِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ

نے فاطمہعليه‌السلام کے بارے میں تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستایا اے اللہ! حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے دو امامعليه‌السلام ہیں ان دونوں کے دوست

وَالاهُما، وَعادِ مَنْ عَاداهُما، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دِمائِهِما اَللّٰهُمَّ

سے دوستی رکھ اور ان دونوں کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے انکا خون بہانے میں شرکت کی انکا عذاب دوچند کردے اے اللہ!

صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ،

علیعليه‌السلام بن الحسینعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر

وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ

جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اور ان کا عذاب دو چند کر دے اے اللہ! محمدعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں

وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا ع ذاب دوچند کردے۔ اے اللہ! جعفرعليه‌السلام بن

عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ وَضاعِفِ

محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں اور ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جہنوں نے آپ پر ظلم کیا

الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ

ان کا عذاب دوچند کردے اے اللہ! موسیٰعليه‌السلام بن جعفرعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے

مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر جنہوں نے آپ کا خون بہانے میں شرکت کی ان کا عذاب دو چند کردے اے اللہ ! علیعليه‌السلام بن

عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ وَضاعِفِ

موسیٰعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے آپ کا خون

الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ،

بہانے میں شرکت کی ان کا عذاب دوچند کردے اے ﷲ ! علیعليه‌السلام بن محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما کہ جو مسلمانوں کے امام ہیں

وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کراور جنہوں نے آپعليه‌السلام پر ظلم کیا ان کا عذاب دو چند کر دے اے ﷲ! علیعليه‌السلام بن

عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ

محمدعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کراور جنہوں آپعليه‌السلام پر ظلم کیا ان کا

الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ

عذاب دو چند کر دے اے ﷲ ! حسنعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے

مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی

دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا عذاب دو چند کر دے اے ﷲ! ان کے ما بعد

الْخَلَفِ مِنْ بَعْدِهِ إمامِ الْمُسْلِمِینَ وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ

جانشین پر رحمت فرماجو مسلمانوں کے امام ہیں انکے دوست سے دوستی رکھ اور انکے دشمن سے دشمنی کر اور ان کے ظہور میں جلدی فرما

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْقاسِمِ وَالطَّاهِرِ ابْنَیْ نَبِیِّکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی رُقَیَّةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ

اے ﷲ جناب قاسمعليه‌السلام و جناب طاہرعليه‌السلام پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیٹے ہیں اے ﷲ ! رقیہ پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی لے پالک بیٹی ہیں

وَالْعَنْ مَنْ آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أُمِّ کُلْثُومَ بِنْتِ نَبِیِّکَ،

اور لعنت کر اس پر جس نے ان کے بارے میں تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستایا اے ﷲ! ام کلثوم پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی لے پالک بیٹی ہیں

وَالْعَنْ مَنْ آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی ذُرِّیَّةِ نَبِیِّکَ اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ

اور لعنت کر اس پر جس نے انکے بارے میں تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستایا اے ﷲ! اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اولاد پر رحمت فرما اے ﷲ اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے

نَبِیَّکَ فِی أَهْلِ بَیْتِهِ اَللّٰهُمَّ مَکِّنْ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا مِنْ عَدَدِهِمْ وَمَدَدِهِمْ

ان کے اہل بیتعليه‌السلام کا مددگار بن اے ﷲ ! انہیں زمین میں مقتدر بنا اے ﷲ! ہمیں حق کے بارے میں ان کے کھلے چھپے حامیوں

وَأَنْصارِهِمْ عَلَی الْحَقِّ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ اَللّٰهُمَّ اطْلُبْ بِذَحْلِهِمْ وَوِتْرِهِمْ وَدِمائِهِمْ

مددگاروں اور ناصروں میں سے قرار دے اے ﷲ ! ان سے دشمنی کرنے ان کو تنہا چھوڑنے اور ان کا خون بہانے کا بدلہ لے

وَکُفَّ عَنّا وَعَنْهُمْ وَعَنْ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ بَأْسَ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ وَکُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ

ہماری، ان کی اور ہر مومن و مومنہ کی مدد فرما ہر ایک نا فرمان سرکش اور ہر حیوان کی اذیت پر کہ وہ تیرے قبضہ

بِناصِیَتِها إنَّکَ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْکِیلاً

قدرت میں ہیں بے شک تو ہے سخت عذاب والا بڑے دباؤ والا۔

سید ابن طاؤس نے فرمایا ہے کہ پھر یہ کہے:

یَا عُدَّتِی فِی کُرْبَتِی، وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی ، وَیَا غایَتِی

اے مصیبت میں میرے سرمایہ اے سختی میں میرے ساتھی اے میری نعمت کے نگہبان اے میری چاہت

فِی رَغْبَتِی، أَ نْتَ السَّاتِرُ عَوْرَتِی، وَالْمُؤْمِنُ رَوْعَتِی، وَالْمُقِیلُ عَثْرَتِی، فَاغْفِرْ لِی

کے مرکز تو میرے عیبوں کے چھپانے والا خوف میں ڈھارس دینے والا اور خطائیں معاف کرنے والا پس میری غلطیاں

خَطِیئَتِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

معاف کردے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

اس کے بعد یہ کہے :اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ لِهَمٍّ لاَ یُفَرِّجُهُ غَیْرُکَ، وَ لِرَحْمَةٍ لاَ تُنالُ إلاَّ بِکَ،

اے معبود ! میں تجھے پکارتا ہوں پریشانی میں کہ اسے تیرے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا رحمت کیلئے کہ جو تجھی سے ملتی ہے اور

وَ لِکَرْبٍ لاَ یَکْشِفُهُ إلاَّ أَ نْتَ، وَ لِرَغْبَةٍ لاَ تُبْلَغُ إلاَّ بِکَ، وَ لِحاجَةٍ لاَ یَقْضِیها إلاَّ أَ نْتَ

دکھ میں کہ اسے سوائے تیرے کوئی ہٹا نہیں سکتا اور خواہش کیلئے کہ وہ تو ہی پوری کرتا ہے اور حاجت کیلئے کہ اسے تو ہی روا فرماتا ہے

اَللّٰهُمَّ فَکَما کانَ مِنْ شَأْنِکَ مَا أَذِنْتَ لِی بِهِ مِنْ مَسْأَلَتِکَ، وَرَحِمْتَنِی بِهِ مِنْ ذِکْرِکَ

اے ﷲ! جیسے تو نے اپنی شان و کرم سے مجھے اجازت دی ہے کہ میں تجھ سے سوال کروں اور مانگوں اور تو نے اپنی یاد سے مجھ پر رحمت فرمائی

فَلْیَکُنْ مِنْ شَأْنِکَ سَیِّدِی الْاِجابَةُ لِی فِیما دَعَوْتُکَ وَعَوائِدُ الْاِفْضالِ فِیما رَجَوْتُکَ

پس اسی طرح اے میرے سرداراپنی مہربانی سے میری طلب کردہ حاجت پوری فرما جن چیزوں کی امید کرتا ہوں وہ مجھے عطا کردے

وَالنَّجاةُ مِمَّا فَزِعْتُ إلَیْکَ فِیهِ فَ إنْ لَمْ أَکُنْ أَهْلاً أَنْ أَبْلُغَ رَحْمَتَکَ فَ إنَّ رَحْمَتَکَ أَهْلٌ

اور ہر اس چیز سے نجات دے جس سے تیری پناہ مانگی ہے اگر میں اس لائق نہیں کہ مجھ پر تیری رحمت ہو تو بھی تیری رحمت اسکی اہل ہے

أَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی، وَ إنْ لَمْ أَکُنْ لِلاِِْجابَةِ أَهْلاً فَأَ نْتَ أَهْلُ الْفَضْلِ، وَرَحْمَتُکَ

کہ مجھ تک پہنچے اور مجھے گھیر لے اور اگر میں اس لائق نہیں کہ میری دعا قبول ہو تو بھی تو فضل کرنے کا اہل ہے اور تیری رحمت

وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ، فَلْتَسَعْنِی رَحْمَتُکَ یَا إلهِی یَا کَرِیمُ أَسْأَ لُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَنْ

ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے پس ضرور ہے کہ تیری رحمت مجھے گھیر لے اے معبود! اے مہربان میں تیری ذات کریم کے واسطے سے سوالی

تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تُفَرِّجَ هَمِّی وَتَکْشِفَ کَرْبِی وَغَمِّی، وَتَرْحَمَنِی

ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور انکے اہل بیتعليه‌السلام پر رحمت نازل کر اور یہ کہ میری پریشانی دور کردے میرا دکھ اور غم ہٹا دے بواسطہ اپنی

بِرَحْمَتِکَ، وَتَرْزُقَنِی مِنْ فَضْلِکَ، إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ قَرِیبٌ مُجِیبٌ

رحمت کے مجھ پر رحم کر اور اپنے فضل سے مجھے روزی دے بے شک تو دعا کا سننے والا قریب سے جواب دینے والاہے ۔

( ۴ ) شیخ و سید فرماتے ہیں کہ ہر روز یہ دعا بھی پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ بِأَ فْضَلِهِ وَکُلُّ فَضْلِکَ فاضِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ

اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے فضل میں سے زیادہ فضل کا اور تیر اسارا ہی فضل بہت بڑھا ہوا ہے اے معبود !میں سوال کرتا ہوں

بِفَضْلِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ رِزْقِکَ بِأَعَمِّهِ وَکُلُّ رِزْقِکَ عامٌّ

تجھ سے تیرے سارے ہی فضل کا اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے رزق میں سے عمومی رزق کا اور تیرا سارا رزق عام ہے

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِرِزْقِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عَطائِکَ بِأَهْنَئِهِ

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر رزق کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری عطا میں سے گوارا تر کا اور

وَکُلُّ عَطائِکَ هَنِیئٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِعَطائِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ

تیری تمام عطائیں ہی گواراتر ہیں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ہر ایک عطا کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے

مِنْ خَیْرِکَ بِأَعْجَلِهِ وَکُلُّ خَیْرِکَ عاجِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِخَیْرِکَ کُلِّهِ

تیری بھلائی میں سے جلد پہنچنے والی کا اور تیری ہر بھلائی جلد پہنچنے والی ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام بھلائیوں کا

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ إحْسانِکَ بِأَحْسَنِهِ وَکُلُّ إحْسانِکَ حَسَنٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ

اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہترین احسان کا اور تیرے تمام احسان بہترین ہیں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں

بِ إحْسانِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِما تُجِیبُنِی بِهِ حِینَ أَسْأَلُکَ فَأَجِبْنِی یَا ﷲ وَصَلِّ

تجھ سے تیرے تمام تر احسانوں کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس واسطے سے جس کو تو قبول فرماتا ہے پس میری دعا قبول

عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ الْمُرْتَضی، وَرَسُو لِکَ الْمُصْطَفی، وَأَمِینِکَ وَنَجِیِّکَ دُونَ

کر اے ﷲ اور اپنے رضا یافتہ بندے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما جو تیرے چنے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرے امانتدار ساری مخلوق میںتیرے

خَلْقِکَ وَنَجِیبِکَ مِنْ عِبادِکَ، وَنَبِیِّکَ بِالصِّدْقِ وَحَبِیبِکَ، وَصَلِّ عَلَی رَسُولِکَ

رازدار بندوں میں سے تیرے پسندیدہ تیرے سچے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تیرے دوست ہیں اور اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما

وَخِیَرَتِکَ مِنَ الْعالَمِینَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ، السِّراجِ الْمُنِیرِ، وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الْاَ بْرارِ

جو سارے جہانوں میں تیرے منتخب بشارت دینے والے ڈرانے والے اور چراغِ روشن ہیں اور ان کے نیک پاک اہل بیتعليه‌السلام پر

الطّاهِرِینَ، وَعَلَی مَلائِکَتِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِکَ وَحَجَبْتَهُمْ عَنْ خَلْقِکَ،

اور اپنے فرشتوں پر رحمت فرما جن کو تو نے اپنے لئے خاص کیا اور انہیں اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا اور اپنے نبیوں

وَعَلَی أَنْبِیائِکَ الَّذِینَ یُنْبِئُونَ عَنْکَ بِالصِّدْقِ وَعَلَی رُسُلِکَ الَّذِینَ خَصَصْتَهُمْ بِوَحْیِکَ

پر رحمت کر جو تیری سچی خبر دیتے رہے ہیں اور ان رسولوں پر جن کو تونے اپنی وحی کیلئے مخصوص کیا

وَفَضَّلْتَهُمْ عَلَی الْعالَمِینَ بِرِسالاتِکَ، وَعَلَی عِبادِکَ الصَّالِحِینَ الَّذِینَ أَدْخَلْتَهُمْ

اور ان کو اپنے پیغاموں کا حامل بنا کر جہانوں میں فضیلت دی اور اپنے نیک بندوں پر رحمت کر جن کو تونے اپنے

فِی رَحْمَتِکَ آلاَءِمَّةِ الْمُهْتَدِینَ الرَّاشِدِینَ وَأَوْ لِیائِکَ الْمُطَهَّرِینَ، وَعَلَی جَبْرائِیلَ

رحمت میں داخل فرمایا ہدایت یافتہ امام اور پیشوا ہیں اور تیرے پاک دل دوست ہیں اور جبرائیلعليه‌السلام

وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَمَلَکِ الْمَوْتِ، وَعَلَی رِضْوانَ خازِنِ الْجِنانِ، وَعَلَی مالِکٍ

میکائیلعليه‌السلام اسرافیلعليه‌السلام اور فرشتہ موت پر رحمت فرما اور رضوان داروغہ جنت پر اور مالک پر رحمت کر

خازِنِ النَّارِ، وَرُوحِ الْقُدُسِ، وَالرُّوحِ الْاَمِینِ، وَحَمَلَةِ عَرْشِکَ الْمُقَرَّبِینَ، وَعَلَی

جو داروغہ جہنم ہے اور روح القدس و روح الامین پر رحمت کر اور حاملان عرش پر جو تیرے مقرب ہیں اور ان دو فرشتوں

الْمَلَکَیْنِ الْحافِظَیْنِ عَلَیَّ بِالصَّلاةِ الَّتِی تُحِبُّ أَنْ یُصَلِّیَ بِها عَلَیْهِمْ أَهْلُ السَّماواتِ

پر رحمت کرجو نماز میں میرے نگہبان ہیں جو تجھے پسند ہے کہ اس کے ذریعے ان کیلئے رحمت طلب کرتے ہیں آسمانوں والے

وَأَهْلُ الْاَرَضِینَ صَلاةً طَیِّبَةً کَثِیرَةً مُبارَکَةً زاکِیَةً نامِیَةً ظاهِرَةً باطِنَةً شَرِیفَةً

اور زمین والے پاکیزہ رحمت بہت زیادہ برکت والی نکھری ہوئی بڑھنے والی جو ظاہر و باطن میں عزت و قدر والی

فاضِلَةً تُبَیِّنُ بِها فَضْلَهُمْ عَلَی الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ

ہو کہ اس سے اگلوں پچھلوں پر ان کی بزرگی آشکار ہوجائے اے معبود! حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ذریعہ قرب،

وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ وَاجْزِهِ خَیْرَ مَا جَزَیْتَ نَبِیّاً عَنْ أُمَّتِهِ اَللّٰهُمَّ وَأَعْطِ مُحَمَّداً

بزرگی اور بلندی عطا کر اور ان کو امت کی طرف سے وہ بہترین بدلہ دے جو کسی نبی کو اس کی امت سے ملا اے معبود! حضرت محمد

صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَعَ کُلِّ زُلْفَةٍ زُلْفَةً، وَمَعَ کُلِّ وَسِیلَةٍ وَسِیلَةً وَمَعَ کُلِّ فَضِیلَةٍ

کو ہر تقرب کے ساتھ ایک اور تقرب ہر ذریعے کے ساتھ ایک اور ذریعہ ہر بزرگی کے ساتھ ایک اور بزرگی

فَضِیلَةً، وَمَعَ کُلِّ شَرَفٍ شَرَفاً تُعْطِی مُحَمَّداً وَآلَهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ أَ فْضَلَ مَا أَعْطَیْتَ

اور ہر بڑائی کے ساتھ ایک اور بڑائی دے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام کو روز قیامت اس سے بڑا مقام دے جو اس روز تو اگلوں پچھلوں

أَحَداً مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَدْنَی

میں سے کسی کو عطا فرمائے گا اے معبود! حضرت محمد کو تمام نبیوں کی

الْمُرْسَلِینَ مِنْکَ مَجْلِساً وَأَفْسَحَهُمْ فِی الْجَنَّةِ عِنْدَکَ مَنْزِلاً وَأَ قْرَبَهُمْ إلَیْکَ وَسِیلَةً

نسبت خود سے زیادہ قریب کی نشست دے اور جنت میں انہیں بہت کشادہ مکان عطا کر اور اپنے قرب کا نزدیکی ذریعہ عنایت فرما

وَاجْعَلْهُ أَوَّلَ شافِعٍ، وَأَوَّلَ مُشَفَّعٍ، وَأَوَّلَ قائِلٍ، وَأَ نْجَحَ سائِلٍ، وَابْعَثْهُ الْمَقامَ

اور بنا دے ان کو پہلا شفیع اور جس کی شفاعت قبول ہوئی انہیں پہلا کلام کرنے والا بنا جس کا سوال پورا ہوا اور انہیں مقام محمود پر

الْمَحْمُودَ الَّذِی یَغْبِطُهُ بِهِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَأَسْأَ لُکَ

فائز فرما جس سے سب اگلے پچھلے ان پر رشک کرنے لگیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے میں سوال کرتا ہوں

أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَسْمَعَ صَوْتِی وَتُجِیبَ دَعْوَتِی، وَتَتَجاوَزَ

تجھ سے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میری آواز سن میری دعا قبول فرما میرے گناہوں سے

عَنْ خَطِیئَتِی، وَتَصْفَحَ عَنْ ظُلْمِی، وَتُنْجِحَ طَلِبَتِی، وَتَقْضِیَ حاجَتِی، وَتُنْجِزَ لِی

در گزر کر میرے ناروا عمل سے چشم پوشی فرمامیری ضرورت پوری کر میری حاجت بر لا اور مجھ سے کیا

مَا وَعَدْتَنِی، وَتُقِیلَ عَثْرَتِی، وَتَغْفِرَ ذُ نُوبِی، وَتَعْفُوَ عَنْ جُرْمِی، وَتُقْبِلَ عَلَیَّ وَلاَ

ہوا وعدہ پورا فرما میری لغزشیں معاف کرمیرے گناہ بخش دے میرا جرم معاف فرما میری طرف توجہ کر اور مجھ

تُعْرِضَ عَنِّی وَتَرْحَمَنِی وَلاَ تُعَذِّبَنِی، وَتُعافِیَنِی وَلاَ تَبْتَلِیَنِی، وَتَرْزُقَنِی مِنَ الرِّزْقِ

سے دھیان نہ ہٹا مجھ پر رحم کر اور عذاب نہ دے مجھے بچائے رکھ اور مصیبت میں نہ ڈال مجھے بہترین روزی عطا فرما

أَطْیَبَهُ وَأَوْسَعَهُ وَلاَ تَحْرِمَنِی، یَا رَبِّ وَاقْضِ عَنِّی دَیْنِی، وَضَعْ عَنِّی وِزْرِی،

اور اس میں وسعت دے اور مجھے محروم نہ کر اے پروردگار میرا قرض ادا کر دے اور مجھ سے بوجھ ہٹا دے اور مجھ پر وہ بار نہ ڈال

وَلاَ تُحَمِّلْنِی مَا لاَ طاقَةَ لِی بِهِ، یَا مَوْلایَ وَأَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ

جو میری طاقت سے زیادہ ہو اے میرے مالک اور مجھے ہر اس نیکی میں داخل کر جس میں تو نے

مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ سُوئٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو داخل کیا اور مجھے ہر اس بدی سے دور رکھ جس سے تو نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دور رکھا تیری صلوات ہو ان پر اور

صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آلعليه‌السلام پر اور سلام ہو ان پر اور انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آلعليه‌السلام پر اور خدا کی رحمت اور برکتیں ہوں

پهر تین مرتبه کهے : اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِیپهر کهے : اَللّٰهُمَّ

اے معبود ! میں پکارتا ہوں تجھے جیسا تونے حکم دیا بس میری دعا قبول کر جیساکہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا اے معبود! میں تجھ

إنِّی أَسْأَلُکَ قَلِیلاً مِنْ کَثِیرٍ مَعَ حاجَةٍ بِی إلَیْهِ عَظِیمَةٍ، وَغِناکَ عَنْهُ قَدِیمٌ، وَهُوَ عِنْدِی

سے مانگتا ہوں بہت میں سے تھوڑا جس کی مجھے بڑی ضرورت ہے اور تو اس سے ہمیشہ بے نیاز ہے اور وہ میرے نزدیک بہت ہے

کَثِیرٌ وَهُوَ عَلَیْکَ سَهْلٌ یَسِیرٌ فَامْنُنْ عَلَیَّ بِهِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

اور تیرے لئے وہ بہت معمولی و آسان ہے پس وہ مجھے عطا فرما بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ایسا ہی ہو اے سب جہانوں کے رب ۔

( ۵ ) یہ دعا بھی پڑھے:اَلَّلهُمَّ اِنِّی اَدْعُوْکَ کَمَا اَمَرْتَنِیْ فَاسْتَجِبْ لِیْ کَمَا وَعَدْتَّنِیْ

اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیساکہ تو نے حکم دیا پس میری دعا قبول کر جیساکہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ۔

چونکہ یہ دعا بہت طویل ہے لہذا اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے یہاں نقل نہیں کیا گیا ۔ جو شخص یہ دعا پڑھنا چاہے وہ کتاب اقبال یا زاد المعاد کی طرف رجوع کرے ۔

( ۶ ) کتاب مقنعہ میں شیخ مفیدرحمه‌الله نے ثقہ جلیل علی بن مہزیار سے روایت کی ہے کہ امام محمد تقی -نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے دنوں اور راتوں میں اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھے :

یَا ذَا الَّذِی کانَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، ثُمَّ خَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ، ثُمَّ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْئٍ

اے وہ جو ہر چیز سے پہلے موجود تھا پھر ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو وہ جو باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی

یَا ذَا الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَیَا ذَا الَّذِی لَیْسَ فِی السَّمٰوَاتِ الْعُلی، وَلاَ فِی

اے وہ جس کی مانند کوئی چیز نہیں اے وہ جو نہ بلند آسمانوں میں ہے اور نہ پست ترین

الْاَرَضِینَ السُّفْلی، وَلاَ فَوْقَهُنَّ وَلاَ تَحْتَهُنَّ وَلاَ بَیْنَهُنَّ إلهٌ یُعْبَدُ غَیْرُهُ، لَکَ الْحَمْدُ

زمینوں میں ہے اور نہ ان کے اوپر اور نہ ان کے نیچے ہے اور نہ درمیان میں ہے وہ معبود جس کے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے حمد

حَمْداً لاَ یَقْوی عَلَی إحْصائِهِ إلاَّ أَ نْتَ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاةً لاَ

ہے وہ حمد کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے پس حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما

یَقْوی عَلَی إحْصائِها إلاَّ أَ نْتَ

وہ رحمت کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے ۔

( ۷ )بلد الامین و مصباح میں شیخ کفعمی نے سید بن باقی سے نقل کیا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے شب وروز میں یہ دعا پڑھے تو ﷲ اسکے چالیس سال کے گناہ معاف کردیگا اور وہ یہ دعا ہے:

اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ الَّذِی أَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ، وَافْتَرَضْتَ عَلَی عِبادِکَ فِیهِ

اے معبود ! اے ماہ رمضان کے پروردگار کہ جس میں تو نے قرآن نازل کیا اور تونے اپنے بندوں پر اس کے

الصِّیامَ، ارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی هذَا الْعامِ وَفِی کُلِّ عامٍ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ

روزے فرض کیئے کہ مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج نصیب فرما اس سال میں اور آئیندہ سالوں میں اور میرے بڑے بڑے گناہ

الْعِظامَ فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ

بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی انہیں نہیں بخش سکتا اے جلالت اور برزگیوں والے۔

( ۸ ) یہ ذکر جو محدث فیض نے خلاصۃ الاذکار میں نقل کیا ہے اس کا ہر روز سو مرتبہ ورد کرے :

سُبْحانَ الضَّارِّ النَّافِعِ سُبْحانَ الْقاضِی بِالْحَقِّ، سُبْحانَ الْعَلِیِّ الْاَعْلی سُبْحانَهُ

پاک ہے نقصان و نفع دینے والا پاک ہے وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا پاک ہے وہ بلند و برتر پاکیزگی ہے

وَبِحَمْدِهِ، سُبْحانَهُ وَتَعالی

اس کی حمد کے ساتھ پاکیزگی ہے اس کی اور بلندی۔

( ۹ ) مقنعہ میں شیخ مفیدرحمه‌الله نے فرمایا کہ ماہ رمضان کی سنتوں میں سے ایک حضرت رسول پر صلوٰۃ بھیجنا ہے کہ ہر روز سو مرتبہ صلوات بھیجے اور اگر اس سے زیادہ بھیجے تو یہ افضل عمل ہے :

سورہ روم

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الَمَ ﴿۱﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲﴾ فِی أَدْنَی الاََرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿۳﴾ فِی

الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا

بِضْعِ سِنِینَ لِلّهِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿۴﴾ بِنَصْرِ ﷲ یَنْصُرُ

کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے

مَنْ یَشَائُ وَهُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۵﴾وَعْدَ ﷲ لاَ یُخْلِفُ ﷲ وَعْدَهُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ

اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے

یَعْلَمُونَ ﴿۶﴾ یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿۷﴾ أَوَ

یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے

لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ ﷲ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَأَجَلٍ

دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت

مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ﴿۸﴾أَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ

کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان

فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الاََرْضَ

لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد

وَعَمَرُوهَا أَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ وَلکِنْ

کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے

کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ﴿۹﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ أَسَاؤُوا السُّوأی أَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ

ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے

وَکَانُوا بِهَا یَسْتَهْزِیُونَ﴿۱۰﴾ ﷲ یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ﴿۱۱﴾ وَیَوْمَ

اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس

تَقُومُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿۱۲﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَکَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَکَانُوا

دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا

بِشُرَکَائِهِمْ کَافِرِینَ﴿۱۳﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَمَّا الَّذِینَ

اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا

آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِی رَوْضَةٍ یُحْبَرُونَ ﴿۱۵﴾ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا

اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں

بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَةِ فَأُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿۱۶﴾فَسُبْحَانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ

اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور

وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ ﴿۱۸﴾

جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے

یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذٰلِکَ

وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی

تُخْرَجُونَ ﴿۱۹﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿۲۰﴾

مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے

وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت

إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿۲۱﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ

و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے (خداکی) نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری

وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿۲۲﴾وَمِنْ آیَاتِهِ مَنَامُکُمْ

زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و

بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِهِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَمِنْ

کرم (روزی) کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی

آیَاتِهِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِهِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ

نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،

فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿۲۴﴾وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إذَا

بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم

دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِنَ الاََرْضِ إذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿۲۵﴾وَلَهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ

ہیں پھر(موت کے بعد) جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم (زندہ ہوکر) زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے

لَهُ قَانِتُونَ ﴿۲۶﴾ وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ المَثَلُ الاََعْلَی

اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے

فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۲۷﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ هَلْ

اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم

لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَأَنْتُمْ فِیهِ سَوَائٌ تَخَافُونَهُمْ

نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائو

کَخِیفَتِکُمْ أَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۲۸﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا

(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے

أَهْوَاءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَهْدِی مَنْ أَضَلَّ ﷲ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۹﴾ فَأَقِمْ وَجْهَکَ

بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے

لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَةَ ﷲ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ ﷲ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ

پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ

وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾ مُنِیبِینَ إلَیْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِیمُوا الصَّلاةَ وَلاَ تَکُونُوا

میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی

مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ

سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو

فَرِحُونَ ﴿۳۲﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِیبِینَ إلَیْهِ ثُمَّ إذا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً

دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب

إذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ﴿۳۳﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿۳۴﴾

وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے

أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطَاناً فَهُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِهِ یُشْرِکُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إذَا أَذَقْنَا النَّاسَ

انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟

رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَ إنْ تُصِبْهُمْ سَیِّءَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ إذَا هُمْ یَقْنَطُونَ ﴿۳۶﴾ أَوَ لَمْ

اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا

یَرَوْا أَنَّ ﷲ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۳۷﴾

ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.

فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّهُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ

پس(اے رسول ) اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی

وَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُفْلِحُونَ ﴿۳۸﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ

چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں

عِنْدَ ﷲ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ فَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُضْعِفُونَ ﴿۳۹﴾ ﷲ

بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے

الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ

جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں

مِنْ شَیئٍ سُبْحانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿۴۰﴾ ظَهَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا

میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں

کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ﴿۴۱﴾قُلْ سِیرُوا فِی

کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں

الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُهُمْ مُشْرِکِینَ ﴿۴۲﴾ فَأَقِمْ

(اے رسول ) کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.

وَجْهَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَهُ مِنَ ﷲ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿۴۳﴾

(اے رسول ) وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا

مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِهِمْ یَمْهَدُونَ ﴿۴۴﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ

ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور

آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿۴۵﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ یُرْسِلَ

اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے

الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ

کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں

وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿۴۶﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِهِمْ فَ جَاءُوهُمْ

چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور(اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ

بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿۴۷﴾ﷲ الَّذِی

روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے

یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفاً فَتَرَی

جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو

الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِهِ فَ إذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿۴۸﴾

کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں

وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِینَ ﴿۴۹﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَةِ ﷲ

اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ

کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿۵۰﴾

مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَأَوْهُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ یَکْفُرُونَ ﴿۵۱﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ

اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس (اے رسول ) تم اپنی آواز نہ

المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿۵۲﴾ وَمَا أَنْتَ بِهَادِی العُمْیِ عَنْ

مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو

ضَلاَلَتِهِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ﴿۵۳﴾ ﷲ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ

تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز

ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَیْبَةً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ

(نطفہ) سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے

وَهُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿۵۴﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ

اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی

کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿۵۵﴾ وَقَالَ الَّذِینَ أُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ

طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے

ﷲ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَهذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۵۶﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ

تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے

الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلاَ هُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿۵۷﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی هذَا القُرْآنِ

عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے

مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآیَةٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ أَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿۵۸﴾

اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو

کَذالِکَ یَطْبَعُ ﷲ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۵۹﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ وَلاَ

جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو (اے رسول ) تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے

یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿۶۰﴾

اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔

سورہ دخان

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حمَ ﴿۱﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ۲﴾ إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿۳﴾ فِیهَا

حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب

یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿۴﴾ أَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿۵﴾ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ إنَّهُ

قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے

هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿۷﴾

بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو

لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿۸﴾بَلْ هُمْ فِی شَکٍّ

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں

یَلْعَبُونَ﴿۹﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿۱۰﴾ یَغْشَی النَّاسَ هذَا عَذَابٌ

پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو

أَلِیمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿۲۱﴾أَ نَّی لَهُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ

(کافربھی) کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں (بھلا) اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،

جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿۱۴﴾ إنَّا کَاشِفُواْ

جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے (اچھا) ہم تھوڑے دنوں

العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَاءِدُونَ ﴿۱۵﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿۱۶﴾

کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿۱۷﴾ أَنْ أَدُّوا إلیَّ عِبَادَ ﷲ إنِّی

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر (موسیٰ) آئے (اورکہا) کہ بندگان خدا(بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو کہ

لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ ﴿۱۸﴾وَأَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی ﷲ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿۱۹﴾وَ إنِّی

میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس

عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ﴿۲۰﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا

چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو( وہ تنگ کرنے لگے) تب موسیٰ

رَبَّهُ أَنَّ هؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿۲۲﴾فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَاتْرُکِ

نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو (حکم ملا) تم میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم

البَحْرَ رَهْواً إنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿۲۴﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿۲۵﴾وَزُرُوعٍ

ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،

وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿۲۶﴾وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیهَا فَاکِهِینَ﴿۲۷﴾کَذٰ لِکَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿۲۸﴾

نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا

فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿۲۹﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ

پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے

العَذَابِ المُهِینِ﴿۳۰﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّهُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿۳۱﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ

نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر

عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿۳۲﴾ وَآتَیْنَاهُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیهِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿۳۳﴾ إنَّ هؤُلاَئِ

سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ (کفار مکہ) مسلمانوں سے کہتے ہیں

لَیَقُولُونَ ﴿۳۴﴾ إنْ هِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿۳۵﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إنْ

کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ

کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۳۶﴾ أَهُمْ خَیْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَکْنَاهُمْ إنَّهُمْ کَانُوا

کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار

مُجْرِمِینَ﴿۳۷﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَالاَعِبِینَ ﴿۳۸﴾ مَاخَلَقْناهُمَا

لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک

إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۹﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿۴۰﴾

مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے( قیامت) کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے

یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ یُنْصَرُونَ ﴿۴۱﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،

العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۴۲﴾ إنّ َشَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿۴۳﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿۴۴﴾ کَالْمُهْلِ یَغْلِی

رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح

فِی البُطُونِ ﴿۴۵﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿۴۷﴾

پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے (حکم ہوگا فرشتو!) اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو

ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿۴۸﴾ ذُقْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿۴۹﴾

پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.

إنَّ هذَا مَا کُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ﴿۵۰﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ أَمِینٍ﴿۵۱﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿۵۲﴾

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،

یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿۵۳﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿۵۴﴾

وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے

یَدْعُونَ فِیهَا بِکُلِّ فَاکِهَةٍ آمِنِینَ ﴿۵۵﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَةَ الاَُولَیٰ

وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے

وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿۵۶﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ هُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿۵۷﴾

اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.

فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿۵۸﴾فَارْتَقِبْ إنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿۵۹﴾

پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی (قیامت کے) منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔

مقدمہ تعارف

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِهِ، وَخَلَقَ الْاَشْیاءَ ناطِقَةً بِحَمْدِهِ وَشُکْرِهِ،

سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں

وَ الصَّلاَةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُهُ مِنِ اسْمِهِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِهِ

اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی

الطَّاهِرِینَ أُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ ۔

پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔

امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی (خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے) عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان(جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے)کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:

پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔

دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تیسرا باب : اس میں آئمہعليه‌السلام کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔(مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں)۔جزاک اللہ احسن الجزا

سورہ روم

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الَمَ ﴿۱﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲﴾ فِی أَدْنَی الاََرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿۳﴾ فِی

الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا

بِضْعِ سِنِینَ لِلّهِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿۴﴾ بِنَصْرِ ﷲ یَنْصُرُ

کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے

مَنْ یَشَائُ وَهُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۵﴾وَعْدَ ﷲ لاَ یُخْلِفُ ﷲ وَعْدَهُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ

اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے

یَعْلَمُونَ ﴿۶﴾ یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿۷﴾ أَوَ

یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے

لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ ﷲ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَأَجَلٍ

دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت

مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ﴿۸﴾أَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ

کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان

فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الاََرْضَ

لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد

وَعَمَرُوهَا أَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ وَلکِنْ

کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے

کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ﴿۹﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ أَسَاؤُوا السُّوأی أَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ

ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے

وَکَانُوا بِهَا یَسْتَهْزِیُونَ﴿۱۰﴾ ﷲ یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ﴿۱۱﴾ وَیَوْمَ

اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس

تَقُومُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿۱۲﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَکَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَکَانُوا

دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا

بِشُرَکَائِهِمْ کَافِرِینَ﴿۱۳﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَمَّا الَّذِینَ

اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا

آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِی رَوْضَةٍ یُحْبَرُونَ ﴿۱۵﴾ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا

اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں

بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَةِ فَأُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿۱۶﴾فَسُبْحَانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ

اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور

وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ ﴿۱۸﴾

جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے

یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذٰلِکَ

وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی

تُخْرَجُونَ ﴿۱۹﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿۲۰﴾

مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے

وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت

إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿۲۱﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ

و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے (خداکی) نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری

وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿۲۲﴾وَمِنْ آیَاتِهِ مَنَامُکُمْ

زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و

بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِهِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَمِنْ

کرم (روزی) کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی

آیَاتِهِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِهِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ

نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،

فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿۲۴﴾وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إذَا

بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم

دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِنَ الاََرْضِ إذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿۲۵﴾وَلَهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ

ہیں پھر(موت کے بعد) جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم (زندہ ہوکر) زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے

لَهُ قَانِتُونَ ﴿۲۶﴾ وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ المَثَلُ الاََعْلَی

اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے

فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۲۷﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ هَلْ

اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم

لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَأَنْتُمْ فِیهِ سَوَائٌ تَخَافُونَهُمْ

نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائو

کَخِیفَتِکُمْ أَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۲۸﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا

(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے

أَهْوَاءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَهْدِی مَنْ أَضَلَّ ﷲ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۹﴾ فَأَقِمْ وَجْهَکَ

بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے

لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَةَ ﷲ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ ﷲ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ

پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ

وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾ مُنِیبِینَ إلَیْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِیمُوا الصَّلاةَ وَلاَ تَکُونُوا

میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی

مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ

سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو

فَرِحُونَ ﴿۳۲﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِیبِینَ إلَیْهِ ثُمَّ إذا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً

دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب

إذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ﴿۳۳﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿۳۴﴾

وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے

أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطَاناً فَهُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِهِ یُشْرِکُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إذَا أَذَقْنَا النَّاسَ

انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟

رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَ إنْ تُصِبْهُمْ سَیِّءَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ إذَا هُمْ یَقْنَطُونَ ﴿۳۶﴾ أَوَ لَمْ

اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا

یَرَوْا أَنَّ ﷲ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۳۷﴾

ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.

فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّهُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ

پس(اے رسول ) اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی

وَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُفْلِحُونَ ﴿۳۸﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ

چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں

عِنْدَ ﷲ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ فَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُضْعِفُونَ ﴿۳۹﴾ ﷲ

بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے

الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ

جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں

مِنْ شَیئٍ سُبْحانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿۴۰﴾ ظَهَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا

میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں

کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ﴿۴۱﴾قُلْ سِیرُوا فِی

کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں

الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُهُمْ مُشْرِکِینَ ﴿۴۲﴾ فَأَقِمْ

(اے رسول ) کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.

وَجْهَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَهُ مِنَ ﷲ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿۴۳﴾

(اے رسول ) وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا

مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِهِمْ یَمْهَدُونَ ﴿۴۴﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ

ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور

آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿۴۵﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ یُرْسِلَ

اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے

الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ

کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں

وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿۴۶﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِهِمْ فَ جَاءُوهُمْ

چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور(اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ

بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿۴۷﴾ﷲ الَّذِی

روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے

یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفاً فَتَرَی

جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو

الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِهِ فَ إذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿۴۸﴾

کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں

وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِینَ ﴿۴۹﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَةِ ﷲ

اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ

کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿۵۰﴾

مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَأَوْهُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ یَکْفُرُونَ ﴿۵۱﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ

اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس (اے رسول ) تم اپنی آواز نہ

المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿۵۲﴾ وَمَا أَنْتَ بِهَادِی العُمْیِ عَنْ

مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو

ضَلاَلَتِهِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ﴿۵۳﴾ ﷲ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ

تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز

ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَیْبَةً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ

(نطفہ) سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے

وَهُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿۵۴﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ

اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی

کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿۵۵﴾ وَقَالَ الَّذِینَ أُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ

طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے

ﷲ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَهذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۵۶﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ

تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے

الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلاَ هُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿۵۷﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی هذَا القُرْآنِ

عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے

مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآیَةٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ أَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿۵۸﴾

اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو

کَذالِکَ یَطْبَعُ ﷲ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۵۹﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ وَلاَ

جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو (اے رسول ) تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے

یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿۶۰﴾

اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔

سورہ دخان

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حمَ ﴿۱﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ۲﴾ إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿۳﴾ فِیهَا

حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب

یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿۴﴾ أَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿۵﴾ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ إنَّهُ

قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے

هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿۷﴾

بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو

لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿۸﴾بَلْ هُمْ فِی شَکٍّ

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں

یَلْعَبُونَ﴿۹﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿۱۰﴾ یَغْشَی النَّاسَ هذَا عَذَابٌ

پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو

أَلِیمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿۲۱﴾أَ نَّی لَهُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ

(کافربھی) کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں (بھلا) اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،

جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿۱۴﴾ إنَّا کَاشِفُواْ

جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے (اچھا) ہم تھوڑے دنوں

العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَاءِدُونَ ﴿۱۵﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿۱۶﴾

کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿۱۷﴾ أَنْ أَدُّوا إلیَّ عِبَادَ ﷲ إنِّی

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر (موسیٰ) آئے (اورکہا) کہ بندگان خدا(بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو کہ

لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ ﴿۱۸﴾وَأَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی ﷲ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿۱۹﴾وَ إنِّی

میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس

عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ﴿۲۰﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا

چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو( وہ تنگ کرنے لگے) تب موسیٰ

رَبَّهُ أَنَّ هؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿۲۲﴾فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَاتْرُکِ

نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو (حکم ملا) تم میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم

البَحْرَ رَهْواً إنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿۲۴﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿۲۵﴾وَزُرُوعٍ

ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،

وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿۲۶﴾وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیهَا فَاکِهِینَ﴿۲۷﴾کَذٰ لِکَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿۲۸﴾

نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا

فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿۲۹﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ

پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے

العَذَابِ المُهِینِ﴿۳۰﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّهُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿۳۱﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ

نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر

عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿۳۲﴾ وَآتَیْنَاهُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیهِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿۳۳﴾ إنَّ هؤُلاَئِ

سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ (کفار مکہ) مسلمانوں سے کہتے ہیں

لَیَقُولُونَ ﴿۳۴﴾ إنْ هِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿۳۵﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إنْ

کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ

کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۳۶﴾ أَهُمْ خَیْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَکْنَاهُمْ إنَّهُمْ کَانُوا

کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار

مُجْرِمِینَ﴿۳۷﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَالاَعِبِینَ ﴿۳۸﴾ مَاخَلَقْناهُمَا

لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک

إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۹﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿۴۰﴾

مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے( قیامت) کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے

یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ یُنْصَرُونَ ﴿۴۱﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،

العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۴۲﴾ إنّ َشَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿۴۳﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿۴۴﴾ کَالْمُهْلِ یَغْلِی

رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح

فِی البُطُونِ ﴿۴۵﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿۴۷﴾

پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے (حکم ہوگا فرشتو!) اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو

ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿۴۸﴾ ذُقْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿۴۹﴾

پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.

إنَّ هذَا مَا کُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ﴿۵۰﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ أَمِینٍ﴿۵۱﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿۵۲﴾

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،

یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿۵۳﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿۵۴﴾

وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے

یَدْعُونَ فِیهَا بِکُلِّ فَاکِهَةٍ آمِنِینَ ﴿۵۵﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَةَ الاَُولَیٰ

وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے

وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿۵۶﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ هُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿۵۷﴾

اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.

فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿۵۸﴾فَارْتَقِبْ إنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿۵۹﴾

پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی (قیامت کے) منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔

مقدمہ تعارف

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِهِ، وَخَلَقَ الْاَشْیاءَ ناطِقَةً بِحَمْدِهِ وَشُکْرِهِ،

سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں

وَ الصَّلاَةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُهُ مِنِ اسْمِهِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِهِ

اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی

الطَّاهِرِینَ أُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ ۔

پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔

امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی (خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے) عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان(جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے)کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:

پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔

دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تیسرا باب : اس میں آئمہعليه‌السلام کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔(مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں)۔جزاک اللہ احسن الجزا


18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88