مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)3%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205964 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

چوتھی فصل

زیارت امیرالمومنین - کی فضیلت وکیفیت

اس میں چند مطالب ہیں۔

مطلب اول

فضیلت زیارت حضرت امیرالمومنین-

شیخ طوسیرحمه‌الله نے بہ سند صحیح محمد بن مسلم کے واسطے سے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا: خدا نے فرشتوں سے زیادہ کوئی مخلوق پیدا نہیں کی چنانچہ ہر روز ستر ہزار فرشتے بیت المعمور پر اترتے اور اسکا طواف کرتے ہیں اسکے بعد کعبہ میں آکر اسکا طواف کرتے ہیں، پھر روضہ رسول پر حاضر ہوتے اور سلام عرض کرتے ہیں اس کے بعد قبر امیر المؤمنین - پر آکر سلام پیش کرتے ہیں۔

پھر قبر امام حسین - پر حاضر ہو کر سلام کرتے ہیں اور یہاں سے آسمان کی طرف پرواز کر جاتے ہیں ۔اور تا قیامت فرشتو ں کی آمد ورفت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔آپ نے مزید فرمایا: جو شخص امیر المومنین- کی ان کے حق کو پہچانتے ہوئے زیارت کرے یعنی ان کے واجب الاطاعت امام اور خلیفہ بلا فصل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور اس نے یہ زیارت مجبورا ً یا بڑائی جتانے کے لئے نہ کی ہو تو خدا اس کے لئے ایک لاکھ شھیدوں کا ثواب لکھے گا ،اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا ۔ وہ قیامت کے خوف و خطر سے امن میں ہو گا ،خدا اس کا حساب آسان کر دے گا اور فرشتے اس کا استقبال کر رہے ہوں گے ۔ جب وہ زیارت سے واپس جائے گا تو فرشتے اسکے ساتھ ہو ں گے جو اسکے گھر تک جائیں گے ،وہ بیمار ہو گا تو فرشتے اسکی عیادت کریں گے مرے گا تو وہ اسکے جنازے کے ہمراہ چلیں گے اور قبر تک اس کیلئے مغفرت کی دعا کرتے جائیں گے۔ سید عبد الکریم ابن طاؤس نے اپنی کتاب فرحتہ الغری میں امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ فرمایا: جو شخص امیرالمومنین- کی زیارت کو پاپیادہ جائے تو حق تعالیٰ ہر قدم کے عوض ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا ۔اگر واپسی میں بھی پا پیادہ چلے تو حق سبحانہ اس کے ہر قدم کے بدلے میں اس کے لئے دو حج اور دو عمرے کا ثواب لکھے گا ۔انہوں نے امام جعفر صادق - سے یہ روایت بھی کی ہے کہ آپ نے ابن مارو سے فرمایا: اے ابن مارو! جو شخص میرے جد امیر المومنین- کے حق کو پہچانتے ہوئے آپ کی زیارت کرے تو حق تعالیٰ اسکے ہر قدم کے بدلے میں اس کیلئے حج مقبول اور عمرہ پسندیدہ کا ثواب لکھے گا۔ اے ابن مارو!جو قدم حضرت امیرالمومنین- کی زیارت میں گرد آلود ہوگا اسے آتش جہنم نہ جلائے گی خواہ پیادہ جائے یا سوار ہوکر جائے اے ابن مارو!اس حدیث کو آب زر کے ساتھ لکھ لو۔نیز آنجنابعليه‌السلام سے ہی یہ روایت کی ہے کہ فرمایا:ہم کہتے ہیں کہ شہر کوفہ کے عقب میں ایک قبر ہے کہ جو دکھی شخص اس کی پناہ لیتا ہے ،حق تعالی اس کا دکھ دور کر دیتا ہے :

مؤلف کہتے ہیں : معتبر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالی نے امیر المومنین- اور ان کی پاکیزہ اولاد کے مزارات کو خوف زدہ اور ستم رسیدہ لوگوں کے لئے جائے پناہ اور اہل زمین کے لئے وسیلہ امان قرار دے رکھا ہے ۔جب کوئی غمزدہ ان کے پاس آ جاتا ہے اس کا غم دور ہوجاتا ہے اورآسیب زدہ خود کو اس سے مس کر کے شفا حاصل کرتا ہے اور جو پناہ چاہتا ہے،امان میں ہوتا ہے عبد الکریم ابن طاؤس نے محمد بن علی شیبانی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا :میں،میرا باپ اور میرا چچا حسین ۰۶۲ ھ خفیہ طور پر قبر امیر المومنین- کی زیارت کو گئے ۔جب کہ میں چھوٹا بچہ تھا ۔جب ہم قبر مبارک پر پہنچے تو دیکھا کہ آپ کی قبر کے چاروں طرف سیاہ پتھر رکھے ہوئے تھے اور اس پر کوئی عمارت نہیں بنی ہوئی تھی ۔ہم قبر مطہر کے نزدیک گئے ہم میں بعض تلاوت،بعض نماز اور بعض زیارت پڑھنے میں مشغول ہوگئے ،اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ ایک شیر ہماری طرف آرہا ہے جب وہ ہمارے قریب آیا تب ہم قبر شریف سے ایک نیزہ بھر دور ہٹ گئے ۔وہ حیوان قبر مبارک کے نزدیک ہوا اور اپنی اگلی ٹانگیں اس سے مس کرنے لگا ہم میںسے ایک شخص اس کے قریب گیا اور اسے دیکھا۔ مگر شیر نے اسے کچھ نہ کہا ،وہ واپس آیا اور ہمیں شیر کے حال سے باخبر کیا۔تب ہمارا خوف دور ہو گیا اور ہم قبر شریف کے نزدیک چلے گئے ،ہم نے دیکھا کہ شیر کے بازو زخمی ہیں اور وہ ان کو قبر سے ملتا اور مس کرتا جارہا ہے وہ کچھ دیر کے بعد وہاں سے چلا گیا تو ہم دوبارہ تلاوت و نماز اور زیارت میں مصروف ہوگئے ۔

شیخ مفید نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن ہارون الرشید شکار کے ارادے سے کوفہ سے باہر گیا اور غریین و ثویہ ّ(نجف وا شرف)کی طرف جا نکلا۔اس نے وہاں چند ہرن دیکھے تو شکاری باز اور شکاری کتے ان کے پیچھے لگا دیئے ،یہ دیکھ کر ہرن وہاں سے بھاگے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے ۔اس پر شکاری باز ایک طرف بیٹھ گئے اور کتے پلٹ آئے،ہارون یہ صورتحال دیکھ کر حیران رہ گیا ۔وہ ہرن ٹیلے سے نیچے اترے تو بازوں اور کتوں نے دوبارہ ان کا پیچھا کیا ۔وہ پھر ٹیلے پر چڑھ گئے اور شکاری جانور پلٹ پڑے۔ یہاں تک کہ تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ۔ہارون سخت حیران ہوا، اس نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ جلدی سے کسی ایسے شخص کو لاؤجو اس مقام کے حالات سے واقف ہو غلام بھاگے ہوئے گئے اور قبیلہ بنی اسد میں سے ایک بوڑھے آدمی کو لے آئے، ہارون نے اس سے پوچھا کہ اس ٹیلے کا کیا ماجرا ہے اس جگہ کی کیا خصوصیت ہے ؟ اس بوڑھے نے کہا اگر آپ مجھے امان دیں تو عرض کروں !ہارون بولا: میں خدا سے عہد کرتا ہوں کہ تجھے کوئی اذیت نہ دوں گا اور تو امان میں رہے گا ،بس اب تو بات بتا دے جو تجھے اس مقام کے بارے معلوم ہے ۔بوڑھا کہنے لگا : میرے باپ نے اپنے آباؤ اجداد سے سنا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس ٹیلے میں حضرت امیر المومنین - کی قبر ہے کہ خدا نے اس کو امن وامان کا حرم قرار دیا ہے ،جو اس کی پناہ لے گا وہ امان میں میں رہے گافقیر کہتا ہے:عرب کی کہاوتوں میں کہا گیا ہے ’’احمیٰ مِنْ مُجِیرِ الْجَرادُ‘‘یعنی فلاں شخص ٹڈیوں کو پناہ دینے والے سے زیادہ پناہ دینے والا ہے ۔اس کا قصہ یہ ہے کہ قبیلہ بنی طی کا ایک شخص مدلج بن سوید اپنے خیمے میں بیٹھا تھا کہ قبیلہ کے کچھ لوگ برتن لئے ہوئے وہاں آگئے۔ اس نے پوچھا تو کہنے لگے تمہارے خیمے کے پاس بہت سی ٹڈیاں جمع ہو گئی ہیں اور ہم پکڑنے آئے ہیں ،یہ سن کر مدلج گھوڑے پر سوار نیزہ لئے باہر نکل آیااور کہنے لگا ۔ قسم بخداجو بھی ان ٹڈیوں کو پکڑنے کی کوشش کرے گا ،میں اسے قتل کر دوں گا ، کیا یہ ٹڈی میرے پڑوس اور میری پناہ میں نہیں ہے ؟ اور تم انہیں پکڑنے آ گئے ہو ۔ایسا کبھی نہ ہوگا ! وہ ان کی نگہبانی کرتا رہا ،یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا اور وہ ٹڈیاں وہاں سے اڑ گئیں تب اس نے لوگوں سے کہا کہ اب یہ میری پناہ میں نہیں ہیں ۔ لہذا ان کے بارے میں تم جو چاہو کرتے رہو۔

صاحب قاموس کہتے ہیں کہ ذوالاعوادایک معزز اور محترم شخص کا لقب تھا بعض کا خیال ہے کہ وہ اکثم بن صیفی کا دادا تھا قبیلہ مضر کے لوگ ہر سال اسے خراج دیتے تھے، جب وہ بوڑھا ہوگیا تو وہ اسے ایک تخت پر بٹھائے قبائل عرب میں اٹھائے اٹھائے پھرتے اور اس کے نام پر خراج وصول کرتے تھے،وہ اس قدر محترم شخص تھا کہ جو خوف زدہ خود کو اس کے تخت تک پہنچاتا وہ امن میں ہوجاتا جو پست آدمی اس کے تخت کے قریب آتا وہ عزت دار بن جاتا اور جو بھوکا اس کے پاس چلا آتا وہ بھوک سے نجات پا جاتا تھا۔جب ایک عرب کے تخت کی یہ عزت و رفعت ہے تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ خدائے تعالی نے اپنے ولی کہ جس کے جنازے کو اٹھانے والے جبرائیلعليه‌السلام و میکائیلعليه‌السلام اور امام حسن و امام حسین + رہے ہوں ،ان کی قبر کو خوف زدہ لوگوں کی پناہ ، بھاگنے والوں کی قرار گاہ اور بے کسوں کی جائے فریاد قرار دیا ہے بیماروں کی فریاد رسی اور دردمندوں کیلئے شفا قرار دیا ہو ایسا مومن جہاں کہیں بھی ہو وہ خود کو امیرالمومنین- کی قبر مطہر پر پہنچائے اور اس سے لپٹ کر آہ و زاری کرے تاکہ وہ فریاد کو پہنچے اور اس کو دنیا و آخرت کی ہلاکتوں سے نجات عطا کرے۔

لُذْ إلَی جُودِهِ تَجِدْهُ زَعِیماً

بِنَجاةِ الْعُصاةِ یَوْمَ لِقَاهَا

اس کے وجود کی پناہ لے اس سردار کے پاس آجا

وہ قیامت میں گناہ سے معافی دلائے گا

عائِدٌ لِلْمُؤَمِّلِینَ مُجِیبٌ

سامِعٌ مَا تُسِرُّ مِنْ نَجْوَاهَا

وہ امیدواروں کی امید بر لانے والا ہے

وہ راز و نیاز کا سننے والا ہے

دارالاسلام میں شیخ ویلمی سے نقل ہوا ہے اور انہوں نے نجف اشرف کے صالح بزرگوں سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس بارگاہ کے اندر اور باہر جتنی قبریں ہیں ان میں ہر قبر سے ایک رسی قبئہ حضرت امیرالمومنین- تک تنی ہوئی ہے ،یہ امید افزا منظر دیکھ کر اس شخص نے یہ اشعار کہے:

إذا مُتُّ فَادْفِنِّی إلَی جَنْبِ حَیْدَرٍ

أَبِی شُبَّرٍ أَکْرِمْ بِهِ وَشُبَیْرِ

جب میں مروں تو مجھے پہلوئے حیدر میں دفن کرو

کتنا بزرگوار ہے حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کا باپ

فَلَسْتُ أَخافُ النَّارَ عِنْدَ جِوارِهِ

وَلا أَتَّقِی مِنْ مُنْکَرٍ وَنَکِیرِ

ان کے زیر سایہ مجھے جہنم کا کچھ بھی خوف نہیں

اور نہ مجھ کو منکر نکیر کا ڈر ہے

فَعارٌ عَلَی حامِی الْحِمیٰ وَهُوَ فِی الْحِمیٰ

إذَا ضَلَّ فِی الْبَیْدائِ عِقالُ بَعِیرِ

حمایت کرنے والوں کے لئے عار ہے اس کی حمایت میں

اونٹ کے پاؤں کی رسی بھی گم ہو جائے

مطلب دوم

کیفیت زیارت حضرت امیرالمومنین

معلوم ہو کہ حضرت کی زیارت کی دو قسمیں ہیں

( ۱ )مطلقہ :جو کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں۔

( ۲ )مخصوصہ:جن کے پڑھنے کا وقت معین ہے ۔

مقصد اول

یہ زیارات مطلقہ کے بارے میں ہے اور وہ کثیر تعداد میں ہیں لیکن یہاں ہم چند ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے ان میں سے پہلی زیارت وہ ہے، جس کا ذکر شیخ مفید،شہید،سید ابن طاؤس وغیرہ نے کیا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب زیارت کا ارادہ ہو تو غسل کرے دو پاک کپڑے پہنے اگر ہوسکے تو خوشبو بھی لگائے ۔جب گھر سے روانہ ہو تو کہے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِی أَبْغِی فَضْلَکَ وَأَزُورُ وَصِیَّ نَبِیِّکَ

اے اللہ: بے شک میں اپنے گھر سے نکلا ہوں تیرے فضل کا طالب ہوںاور تیرے نبی کے وصی کی زیارت کو آیا ہوں

صَلَواتُکَ عَلَیْهِما اَللّٰهُمَّ فَیَسِّرْ ذلِکَ لِی وَسَبِّبِ الْمَزارَ لَهُ، وَاخْلُفْنِی

تیری رحمت ہو دونوں پر اے اللہ تو اسے میرے لئے آسان بنا یہ زیارت نصیب فرمااور میرے بعد میرے کاموں

فِی عاقِبَتِی وَحُزانَتِی بِأَحْسَنِ الْخِلافَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اور میرے گھر والوں کا بہترین نگران بن اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

پھر چل پڑے جب کہ زبان پر یہ ذکر ہو

الْحَمْدُ ﷲِ، وَسُبْحانَ ﷲ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ

حمد خدا کے لئے ہے پاک تر ہے خدا اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

اور جب خندق کوفہ پر پہنچے تو کھڑے ہوکر کہے:

ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ أَهْلَ الْکِبْرِیائِ وَالْمَجْدِ وَالْعَظَمَةِ ﷲ أَکْبَرُ أَهْلَ التَّکْبِیرِ

اللہ بزر گ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے کہ وہ بہت بڑی بڑائی کا مالک ہے بڑی شان اور بزرگی والا ہے اللہ بزرگ تر ہے وہ بڑائی کیے

وَالتَّقْدِیسِ وَالتَّسْبِیحِ وَالْاَلائِ ﷲ أَکْبَرُ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ

جانے پاکیزگی بیان کیے جانے اور یاد کیے جانے کے لائق اور نعمت والا ہے اللہ بزرگ تر ہے ہر اس چیز سے جس سے میں خائف و

ﷲ أَکْبَرُ عِمَادِی وَعَلَیْهِ أَتَوَکَّلُ، ﷲ أَکْبَرُ رَجَائِی وَ إلَیْهِ

ترساں ہوں اللہ بزرگ تر ہے جو میرا سہارا ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہوں اللہ بزرگ تر ہے اور میری امید ہے اسی کی طرف پلٹتا

أُنِیبُ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ نِعْمَتِی، وَالْقادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حاجَتِی وَمَا تُضْمِرُهُ هَو

ہوں اے اللہ: تو ہی مجھے نعمت دینے والا اور میری حاجت بر لانے پر قادر ہے تو میری حاجت کو جانتا اور سینوں میں چھپی تمناؤں اور

اجِسُ الصُّدُورِ وَخَواطِرُ النُّفُوسِ، فأَسْأَلُکَ بِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَی الَّذِی قَطَعْتَ بِهِ

دلوں میں گزرنے والے خیالوں سے واقف ہے پس میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واسطے سے جن کے ذریعے تو حجت

حُجَجَ الْمُحْتَجِّینَ وَعُذْرَ الْمُعْتَذِرِینَ وَجَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ أَنْ لاَ تَحْرِمَنِی ثَوابَ

لانے والوں کی دلیل اور عذر کرنے والوں کے عذر قطع کر دیے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جہانوں کیلئے رحمت قرار دیا یہ کہ مجھے اپنے ولیعليه‌السلام اور

زِیارَةِ وَلِیِّکَ وَأَخِی نَبِیِّکَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ وَقَصْدَهُ، وَتَجْعَلَنِی مِنْ وَفْدِهِ الصَّالِحِینَ

اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی امیرالمومنینعليه‌السلام کی زیارت اور قصد زیارت کے ثواب سے محروم نہ فرمامجھے ان کی بارگاہ میں آنے والے نیکو کاروں

وَشِیعَتِهِ الْمُتَّقِینَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اور پرہیز گار پیروکاروں میں قرار دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

اور جب امیر المومنین کا قبہ شریفہ نظر آنے لگے تو یہ کہے:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی مَا اخْتَصَّنِی بِهِ مِنْ طِیبِ الْمَوْلِدِ، وَاسْتَخْلَصَنِی إکْراماً بِهِ

حمد خدا کے لئے ہے اس پرکہ اس نے مجھ کو پاکیزگیئ ولادت کا شرف عطا کیا اور وہ بزرگوارجو نشان فضیلت پاکیزہ تر پیغام

مِنْ مُوَالاةِ الْاََبْرارِ السَّفَرَةِ الْاََطْهارِ، وَالْخِیَرَةِ الْاََعْلامِ اَللّٰهُمَّ فَتَقَبَّلْ سَعْیِی إلَیْکَ

رساںاور چنے ہوئے نمایاں افراد ہیں مجھے ان سے محبت رکھنے کی عزت بخشی ہے اے اللہ: میں نے تیری طرف آنے کی جو کوشش کی

وَتَضَرُّعِی بَیْنَ یَدَیْکَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی لاَ تَخْفَیٰ عَلَیْکَ، إنَّکَ أَنْتَ ﷲ

اور تیرے حضور جو تضرع و زاری کی ہے اسے قبول فرما اور میرے گناہ معاف کردے کہ جو تجھ سے مخفی و پوشیدہ نہیں ہیں بے شک تو وہ

الْمَلِکُ الْغَفّارُ

اللہ ہے جو بہت بخشنے والا بادشاہ ہے۔

مؤلف کہتے ہیں: جب قبئہ امیر المومنینعليه‌السلام کی دیدار سے زائر پر شوق و شادمانی کی حالت طاری ہوتی جائے اور وہ چاہتا ہو کہ اپنی پوری توجہ آنجناب کیطرف کرے تو جس زبان و بیان میں ممکن ہو حضرت کی مدح و ثنائ میں مصروف ہو جائے اور خصوصا زائر اگر اہل علم و کمال ہو تو وہ چاہتا ہے کہ اگر اسے اس سلسلے میں کچھ بہترین اشعار یاد ہوں تو ان کے ذریعے سے اپنے جذبات کا اظہار کرے ۔

اس بنا پر مجھے خیال آیا کہ شیخ ازری کے قصیدہ ہائیہّ أُزریہ میں سے چند مناسب حال اشعار یہاں نقل کردوں ۔امید واثق ہے کہ زائر مجھ جیسے سیاہ کار کا سلام بھی اس بارگاہ عالی میں پہنچائے گا اور اس عاجز کو دعائے خیر میں فراموش نہ کرے گا ۔ وہ اشعار یہ ہیں ۔

أَیُّهَا الرَّاکِبُ الْمُجِدُّ رُوَیْداً

بِقُلُوبٍ تَقَلَّبَتْ فِی جَوَاها

اے تیز رفتار سوار مہلت دے

ان دلوں کو جو سوز میں تڑپتے ہیں

إنْ تَرائَتْ أَرْضُ الْغَرِیَّیْنِ فَاخْضَعْ

وَاخْلَعِ النَّعْلَ دُونَ وادِی طُواها

جب تو زمین نجف کو دیکھے تو جھک جا

اس وادی طویٰ میں آنے سے قبل جوتے اتار دے

وَ إذا شِمْتَ قُبَّةَ الْعالَمِ

الْاََعْلیٰ وَأَنْوارُ رَبِّها تَغْشاها

جب تو عالم بالا کے اس قبئہ کو دیکھے گا

تو اس کے رب کا نور تیری آنکھیں منور کردے گا ۔

فَتَواضَعْ فَثَمَّ دارَةُ قُدْسٍ

تَتَمَنَّیٰ الْاََفْلاکُ لَثْمَ ثَراها

جھک جا کہ یہ پاکیزگی کا وہ میدان ہے ،

کہ آسمان اس کی خاک کو چومنا چاہتا ہے

قُلْ لَهُ وَالدُّمُوعُ سَفْحُ عَقِیقٍ

وَالْحَشا تَصْطَلِی بِنارِ غَضاها

ان سے کہو جبکہ آنکھوں میں خون کے آنسو ہوں

اور دل ان کے عشق میں سوزاں ہو

یَابْنَ عَمِّ النَّبِیِّ أَنْتَ یَدُ ﷲ

الَّتِی عَمَّ کُلَّ شَیْئٍ نَداها

اے نبی کے ابن عم آپ اللہ کا وہ ہاتھ ہیں

جس سے ہر چیز کو عطا وبخشش ملتی ہے

أَنْتَ قُرْآنُهُ الْقَدِیمُ وَأَوْصافُکَ

آیاتُهُ الَّتِی أَوْحاها

آپ وہ قرآن اول ہیں جس کے اوصاف

ان آیتوں میں آئے جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوئیں

خَصَّکَ ﷲ فِی مَأثِرَ شَتّیٰ

هِيَ مِثْلُ الْاََعْدادِ لاَ تَتَناهیٰ

خدا نے آپ کو بہت سی صفات میں خاص کیا

کہ جو اعداد کی طرح بے انتہا ہیں

لَیْتَ عَیْناً بِغَیْرِ رَوْضِکَ تَرْعیٰ

قَذِیَتْ وَاسْتَمَرَّ فِیها قَذاها

ہائے وہ آنکھ جو آپ کے روضہ کے سوا کسی چیز کو دیکھے

اس میں خاک پڑے اور ہمیشہ ہی پڑی رہے ۔

أَنْتَ بَعْدَ النَّبِیِّ خَیْرُ الْبَرایا

وَالسَّما خَیْرُ ما بِها قَمَراها

بعد از نبی آپ ساری مخلوق سے بہتر ہیں

جیسے آسمان میں شمس و قمر سب سے بہتر ہیں

لَکَ ذاتٌ کَذاتِهِ حَیْثُ لَوْلا

أَنَّها مِثْلُها لَما آخاها

آپ نبی اکرم کی مانند ہیں کہ آپ نہ ہوتے

تو نہ کوئی ان کی مانند ہوتا نہ ان کا بھائی بنتا

قَدْ تَراضَعْتُما بِثَدْیِ وِصالٍ

کانَ مِنْ جَوْهَرِ التَّجَلِّی غِذاها

آپ دونوں نے ایک جگہ سے روحانی غذا پائی

تجلیات کا جوہر ہی آپ دونوں کی غذا ہے

یا أَخَا الْمُصْطَفیٰ لَدَیَّ ذُنُوب

هِيَ عَیْنُ الْقَذا وَأَنْتَ جَلاها

اے مصطفی کے بھائی میں گناہ گار ہوں

میری آنکھوں میں دھول ہے اور آپ اس کی روشنی ہیں

لَکَ فِی مُرْتَقَی الْعُلیٰ وَالْمَعالِی

دَرَجاتٌ لاَ یُرْتَقیٰ أَدْناها

آپ کے لئے درجات کی بہت بلندیاں ہیں

وہ درجات جن تک کوئی نہیں پہنچ پاتا

لَکَ نَفْسٌمِنْ مَعْدِنِ اللُّطْفِ صِیغَتْ

جَعَلَ ﷲ کُلَّ نَفْسٍ فِداها

آپ کا نفس لطافت کے خزانے سے بنایا گیا

خدا ہر نفس کو آپ کا فدیہ قرار دے

جب نجف اشرف کے دروازے پر پہنچے تو کہے :

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدانا لِهَذا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلا أَنْ هَدانَا ﷲ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی

حمد خدا کے لئے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا اور اگر وہ رہبری نہ فرماتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہو سکتے تھے حمد خدا کے لئے ہے جس نے

سَیَّرَنِی فِی بِلادِهِ وَحَمَلَنِی عَلَی دَوابِّهِ وَطَویٰ لِیَ الْبَعِیدَ وَصَرَفَ عَنِّی الْمَحْذُورَ

مجھے شہروں سے گزارااپنے چوپایوں پر سواری کرائی دور کی مسافت طے کرنے کی توفیق دی رکاوٹیں رفع فرمائیں

وَدَفَعَ عَنِّی الْمَکْرُوهَ، حَتَّی أَقْدَمَنِی حَرَمَ أَخِی رَسُو لِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ

اور برائی کو مجھ سے دور رکھا یہاں تک کہ میں اس کے رسول کے برادر کی بارگاہ میں پہنچ گیا ہوں۔

پس شہر نجف میں داخل ہو کہ کہے:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَدْخَلَنِی هذِهِ الْبُقْعَةَ الْمُبارَکَةَ الَّتِی بارَکَ ﷲ فِیها وَاخْتارَها

حمد خدا کے لئے ہے جس نے مجھے اس بابرکت پر نور حرم میں داخل کیاجسے اللہ نے مبارک بنایا اور اس کو اپنے نبی کے وصی کیلئے

لِوَصِیِّ نَبِیِّهِ اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْها شاهِدَةً لِی

پسند کیا اے معبود ! اس روضہ کو میرا گواہ قرار دے۔

جب پہلے دروازہ پر پہنچے:

اَللّٰهُمَّ بِبابِکَ وَقَفْتُ وَبِفِنٰائِکَ نَزَلْتُ وَبِحَبْلِکَ اعْتَصَمْتُ وَلِرَحْمَتِکَ تَعَرَّضْتُ

اے معبود ! تیرے آستاں پر کھڑا ہوں تیرے در پر آیا ہوںتیری رسی پکڑے ہوں تیری رحمت کا امیدوار ہوں تیرے ولی کو وسیلہ

وَبِوَلِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ تَوَسَّلْتُ، فَاجْعَلْها زِیارَةً مَقْبُولَةً، وَدُعَاء مُسْتَجاباً

بنایا ہے ان پر تیری رحمت ہو پس میری اس زیارت کو قبول فرمااور دعائیں سن لے۔

جب صحن کے دروازہ پر آئے تو کہے:

اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا الْحَرَمَ حَرَمُکَ، وَالْمَقامَ مَقامُکَ، وَأَنَا أَدْخُلُ إلَیْهِ أُناجِیکَ بِمَا أَنْتَ

اے معبود! بے شک یہ بارگاہ تیری بارگاہ ہے یہ مقام تیرا مقام ہے اور میں اس میں داخل ہوا ہوں میں تجھ سے مناجات کررہا ہوں کہ

أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی وَمِنْ سِرِّی وَنَجْوایَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الْمُتَطَوِّلِ الَّذِی مِنْ

تو مجھ سے زیادہ میرے باطن و راز کوجانتا ہے حمد خدا کے لئے ہے جو محبت والا احسان والا عطا والا ہے وہ جس کی عطا یہ ہے کہ اپنے

تَطَوُّلِهِ سَهَّلَ لِی زِیارَةَ مَوْلایَ بِ إحْسانِهِ، وَلَمْ یَجْعَلْنِی عَنْ زِیارَتِهِ مَمْنُوعاً، وَلاَ

احسان سے میرے مولا کی زیارت مجھ پر آسان کر دی اس نے مجھے ان کی زیارت سے باز نہیں رکھا اور نہ

عَنْ وِلایَتِهِ مَدْفُوعاً، بَلْ تَطَوَّلَ وَمَنَحَ اَللّٰهُمَّ کَمَا مَنَنْتَ عَلَیَّ بِمَعْرِفَتِهِ فَاجْعَلْنِی

انکی ولایت سے دور کیا ہے بلکہ مجھ پر عطا و بخشش کی ہے اے معبود ! جیسے تو نے مجھ پر مولا کی معرفت کا احسان فرمایا ہے پس مجھے ان

مِنْ شِیعَتِهِ، وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ بِشَفاعَتِهِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

کے شیعوں میں قرار دے اور ان کی شفاعت سے مجھے جنت میں داخل فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔

پھر داخل ہو جائے اور کہے:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِهِ وَمَعْرِفَةِ رَسُو لِهِ وَمَنْ فَرَضَ عَلَیَّ طاعَتَهُ رَحْمَةً

حمد خدا کیلئے ہے جس نے اپنی معرفت اور اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی معرفت سے مجھے عزت دی وہ جس نے مجھ پر رحمت فرماتے ہوئے اور مجھ

مِنْهُ لِی، وَتَطَوُّلاً مِنْهُ عَلَیَّ، وَمَنَّ عَلَیَّ بِالْاِیْمانِ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَدْخَلَنِی حَرَمَ

پر احسان کرتے ہوئے اپنی اطاعت مجھ پر واجب ٹھہرائی اور ایمان دے کر مجھ پر مہربانی فرمائی حمد اللہ کیلئے ہے جس نے مجھ کو اپنے نبی

أَخِی رَسُو لِهِ وَأَرانِیهِ فِی عافِیَةٍ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَنِی مِنْ زُوّارِ قَبْرِ وَصِیِّ

کے بھائی کے حرم میں داخل کیا اور امن کے ساتھ یہ جگہ دکھائی حمد اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے وصیعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے روضہ کے زائرین

رَسُو لِهِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ

میں قرار دیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ

مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ جائَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ ﷲ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِیَّاً عَبْدُ ﷲ وَأَخُو

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے بندے و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں وہ خدا کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علیعليه‌السلام خدا کے بندے اور

رَسُولِ ﷲ، ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ

رسول خدا کے بھائی ہیں اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگ تر ہے حمد خدا

عَلَی هِدایَتِهِ وَتَوْفِیقِهِ لِما دَعا إلَیْهِ مِنْ سَبِیلِهِ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَ فْضَلُ مَقْصُودٍ

کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کی ہدایت و توفیق دی جسکی طرف اس نے بلایا اے معبود! بے شک تو سب سے بڑا مطلوب اور

وَأَکْرَمُ مَأْتِیٍّ، وَقَدْ أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ،

وہ بہترین ہے جسکے پاس آیا جاتا ہے اور میں تیری خدمت میں حاضر ہوا قرب کے لئے بوسیلہ تیرے نبی کے جو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحمت ہیں اور

وَبِأَخِیهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِمَا اَلسَّلَامُ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

بواسطہ ان کے بھائی امیرالمومنین علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام کے سلام ہو ان دونوں پر پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمد

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تُخَیِّبْ سَعْیِی، وَانْظُرْ إلَیَّ نَظْرَةً رَحِیمَةً تَنْعَشُنِی بِها، وَاجْعَلْنِی

پر رحمت فرما اور میری یہ کوشش ناکام نہ بنا نظر فرما مجھ پر مہربانی کی نظر کہ جس سے تو مجھے سنبھالا دے اور مجھے دنیا و آخرت

عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ

میں اپنے نزدیک عزت دار اور اپنے مقربین میں قرار دے۔

جب برآمدے کے دروازہ پر پہنچے تو کھڑا ہو جائے اور کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ أَمِینِ ﷲ عَلَی وَحْیِهِ وَعَزائِمِ أَمْرِهِ، الْخاتِمِ لِمَا سَبَقَ

سلام ہو خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرجو وحیئ خدا کے امین اسرار الہی کے شناسا نبیوں کے خاتم علوم آسمانی کے بیان کر نے والے

وَالْفاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ، وَالْمُهَیْمِنِ عَلَی ذلِکَ کُلِّهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَی

اورتمام تر مادی و روحانی علوم کے نگہبان ہیں آپ پر اللہ کی رحمت ہواور اس کی برکتیں سلام ہو

صاحِبِ السَّکِینَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَدْفُونِ بِالْمَدِینَةِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَنْصُورِ

سکینہ و وقار کے مالک نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام ہو حضرت پر جو مدینہ میں دفن ہیں سلام ہو نصرت دیئے گئے تائید شدہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

الْمُؤَیَّدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْقاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

سلام ہو ابولقاسم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابن عبد اللہ پراور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔

پھر برآمدے میں داخل ہو اور اس وقت دایاں پاؤں آگے رکھے اور دروازہ حرم پر کھڑے ہو کر کہے:

أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اورگواہی دیتا ہوں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے بندہ اور

جائَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِهِ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ، اَلسَّلَامُ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو اس کی طرف سے حق لے کر آئے اور رسولوں کی تصدیق فرمائی آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ پر

عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ وَخِیَرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیر الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِ ﷲ

سلام ہو اے خدا کے دوست اور اس کی مخلوق میں اس کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو امیرالمومنینعليه‌السلام پر جو خدا کے بندے اور اس کے

وَأَخِی رَسُولِ ﷲ، یَا مَوْلایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی ہیں اے میرے آقا اے مومنوں کے سردار آپ کا غلام آپ کے غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹا آپ کی

جَاءَکَ مُسْتَجِیراً بِذِمَّتِکَ، قاصِداً إلی حَرَمِکَ، مُتَوَجِّهاً إلی مَقَامِکَ، مُتَوَسِّلاً إلَی

خدمت میں آیا آپ سے پناہ لینے آپ کے حرم میں حاضر ہوا ہے آپ کے مقام بلند کے ذریعے اللہ کے حضور آپ کو اپنا

ﷲ تَعَالی بِکَ، أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ أَأَدْخُلُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَأَدْخُلُ یَا حُجَّةَ ﷲ

وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے آقا کیا میں اندر آجاؤں اے مومنوں کے سردار کیا میں اندر آجاؤں اے حجت خدا آیا میں اندر آجاؤں

أَأَدْخُلُ یَا أَمِینَ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْمَشْهَدِ یَا مَوْلایَ

اے امین خدا میں اندر آؤں اے خدا کے فرشتو جو اس بارگاہ میں رہتے ہو کیا میں اندر داخل ہو جاؤں اے میرے مولا کیا آپ مجھے

أَتَأْذَنُ لِی بِالدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ لاََِحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ فَ إنْ لَمْ أَکُنْ لَهُ أَهْلاً

اندر آنے کی اجازت دیتے ہیں اس سے بہتر اجازت جو آپ نے اپنے کسی محب کو دی پس اگر میں ایسی اجازت ملنے کا اہل نہیں

فَٲَنْتَ ٲَھْلٌ لِذلِکَ

آپ تو یہ اجازت دینے کے اہل ہیں ۔

پھر چوکھٹ پر بوسہ دے دایاں پاؤں اندر رکھے اور داخل ہوتے وقت کہے:

بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَفِی سَبِیلِ ﷲ، وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی راہ میںاور خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین پر کہ خدارحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوّابُ الرَّحِیمُ

اے اللہ!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کر لے بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔

اب آگے بڑھے تاکہ قبر شریف کے سامنے پہنچے پھر کھڑا ہوجائے اور قبر کے نزدیک ہونے سے پہلے اپنا رخ قبر کی طرف کرے اور کہے :

اَلسَّلَامُ مِنَ ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ ﷲ أَمِینِ ﷲ عَلَی وَحْیِهِ وَرِسالاتِهِ وَعَزائِمِ

خدا کی طرف سے سلام ہو خدا کے رسول حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جو خدا کی وحی اور اس کے پیغاموں اور احکام دین کے امین ہیں

أَمْرِهِ وَمَعْدِنِ الْوَحْیِ وَالتَّنْزِیلِ الْخاتِمِ لِما سَبَقَ، وَالْفاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ، وَالْمُهَیْمِنِ

وحی و آیات کے خزینہ دار ہیں نبیوں کے خاتم علوم آسمانی کے بیان کرنے والے اور تمام مادی و روحانی علوم

عَلَی ذلِکَ کُلِّهِ، الشَّاهِدِ عَلَی الْخَلْقِ، السِّراجِ الْمُنِیرِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ

کے محافظ ہیں مخلوق پر گواہ و شاہد روشنی پھیلانے والا چراغ ہیں سلام ہو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی

وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الْمَظْلُومِینَ أَفْضَلَ وَأَکْمَلَ وَأَرْفَعَ

برکتیں اے معبود! حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہلبیتعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما جو مظلوم ہیں ان پر بہترین اس سے کامل تر بلند تر

وَأَشْرَفَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأَصْفِیائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی

اور بزرگتر رحمت فرماجو تو نے اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے پسند کئے ہوؤں میں سے کسی پر کی ہے اے معبود! مومنوں کے

أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِکَ وَخَیْرِ خَلْقِکَ بَعْدَ نَبِیِّکَ، وَأَخِی رَسُولِکَ، وَوَصِیِّ

سردار پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے اور تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ساری مخلوق میں بہترین تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی اور تیرے وصی کے

حَبِیبِکَ الَّذِی انْتَجَبْتَهُ مِنْ خَلْقِکَ، وَالدَّلِیلِ عَلَی مَنْ بَعَثْتَهُ بِرِسالاتِکَ، وَدَیَّانِ

حبیب ہیں کہ جنکو تو نے اپنی مخلوق کے درمیان سے چنا وہ رہنمائی کرتے ہیں اس ہستی کیطرف جسے تو نے اپنا پیغمبر بنایا وہ قیامت

الدِّینِ بِعَدْلِکَ، وَفَصْلِ قَضائِکَ بَیْنَ خَلْقِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ

میں تیرے عدل سے جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں انصاف کا فیصلہ کرنے والے ہیں سلام ہو امیر المؤمنینعليه‌السلام پر اور خدا کی رحمت ہو

وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ الْقَوَّامِینَ بِأَمْرِکَ مِنْ بَعْدِهِ

اور اس کی برکتیں اے معبود! ان ائمہ پر رحمت فرماجو ان کی اولاد سے ہیں کہ ان کے بعد تیرے امر دین کو قائم رکھنے والے ہیں وہ

الْمُطَهَّرِینَ الَّذِینَ ارْتَضَیْتَهُمْ أَنْصاراً لِدِینِکَ وَحَفَظَةً لِسِرِّکَ، وَشُهَدائَ عَلَی خَلْقِکَ

پاک پاکیزہ ہیں جن کو تو نے اپنے دین کی نصرت کے لئے پسند فرمایا وہ تیرے اسرار کے محافظ تیری مخلوق پر گواہ وشاہد اور تیرے

وَأَعْلاماً لِعِبادِکَ، صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ

بندوں کے لئے نشان ہدایت ہیں تیری رحمتیں ہوں ان سب پر سلام ہو امیر المومنین علیعليه‌السلام ابن

أَبِی طالِبٍ وَصِیِّ رَسُولِ ﷲ وَخَلِیفَتِهِ وَالْقَائِمِ بِأَمْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ

ابی طالبعليه‌السلام پر جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے وصی ان کے جانشین اور ان کے بعد ان کی ذمہ داریاں نبھانے والے اور اوصیائ کے سردار ہیں

وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی فاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ

خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں سلام ہو جناب فاطمہ پر جو خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر

سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو حضرت حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام پر جو دونوں ساری مخلوق میں سے جوانان

مِنَ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الرَّاشِدِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ

جنت کے سردار ہیں سلام ہو ہدایت دینے والے ائمہعليه‌السلام پر سلام ہو تمام نبیوں اور رسولوں پر سلام ہو

اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الْمُسْتَوْدَعِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی خاصَّةِ ﷲ مِنْ خَلْقِهِ، اَلسَّلَامُ

ان ائمہعليه‌السلام پر جن کو نبوت کی امانتیں دی گئیں سلام ہو ان پر جو مخلوق میں سے خاصان خدا ہیں سلام ہو

عَلَی الْمُتَوَسِّمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ قامُوا بِأَمْرِهِ وَوازَرُوا أَوْلِیائَ ﷲ وَخافُوا

صاحبان عقل وخرد پر سلام ہو ان مومنوں پر جو حکم خدا پر کاربند ہوئے خدا کے اولیائ کے مددگار بنے

بِخَوْفِهِمْ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنا وَعَلَی عِبَادِ ﷲ الصَّالِحِینَ

اور ان کے خوف میں خائف ہیں سلام ہو مقرب بارگاہ فرشتوں پر سلام ہوہم پر اور خدا کے نیک اور خوش کردار بندوں پر۔

یہاں تک کہ قبر کے نزدیک کھڑا ہو جائے پھر پشت بہ قبلہ اور قبر کی طرف رخ کرے اور کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیر آپ پر سلام ہو اے خدا کے حبیب آپ پر سلام ہو اے

صَفْوَةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

خدا کے چنے ہوئے آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی سلام ہو آپ پر اے خدا کی حجت آپ پر سلام ہو

یَا إمامَ الْهُدیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلَمَ التُّقیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ

اے ہدایت والے امام آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاری کے نشان آپ پر سلام ہو اے وصی نیک

التَّقِیُّ النَّقِیُّ الْوَفِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ

پرہیزگار پاکباز اور وفادار آپ پر سلام ہو اے حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کے والد آپ پر سلام ہو اے دین کے

الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، وَأَمِینَ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَدَیَّانَ یَوْمِ الدِّینِ،

ستون آپ پر سلام ہو اے اوصیائ کے سردار جہانوں کے رب کے امانتدار روز قیامت بحکم خدا جزا دینے والے،

وَخَیْرَ الْمُؤْمِنِینَ، وَسَیِّدَ الصِّدِّیقِینَ، وَالصَّفْوَةَ مِنْ سُلالَةِ النَّبِیِّینَ، وَبابَ حِکْمَةِ

مومنوں میں بہترین، صدیقوں کے سردار نبیوں کی اولاد میں سے برگزیدہ و پسندیدہ، جہانوں کے رب کی

رَبِّ الْعالَمِینَ وَخازِنَ وَحْیِهِ، وَعَیْبَةَ عِلْمِهِ، وَالنَّاصِحَ لاَُِمَّةِ نَبِیِّهِ، وَالتَّالِیَ لِرَسُولِهِ

حکمت کے دروازے، وحی خدا کے خزینہ دار اور اس کے علم کا ذخیرہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی امت کے خیر خواہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروکار

وَالْمُواسِیَ لَهُ بِنَفْسِهِ، وَالنَّاطِقَ بِحُجَّتِهِ، وَالدَّاعِیَ إلی شَرِیعَتِهِ، وَالْماضِیَ عَلَی

اور ان کے جانثار رفیق ان کی حجت کے بیان کرنے والے ان کی شریعت کی طرف بلانے والے اور ان کی سنت پر

سُنَّتِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنْ رَسُولِکَ مَا حُمِّلَ، وَرَعیٰ مَا اسْتُحْفِظَ،

چلنے والے اے معبود! میں گواہی دیتا ہوں کہ امیرالمومنینعليه‌السلام نے تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علوم بیان فرمائے اور جو علوم انکے پاس تھے انکی نگہداری کی

وَحَفِظَ مَا اسْتُودِعَ، وَحَلَّلَ حَلالَکَ، وَحَرَّمَ حَرامَکَ، وَأَقامَ أَحْکامَکَ، وَجاهَدَ

جو اسرار انکے سپرد ہوئے ان کی حفاظت فرمائی تیرے حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا تیرے احکام کو نافذ کیا انہوں نے بیعت

النَّاکِثِینَ فِی سَبِیلِکَ، وَالْقاسِطِینَ فِی حُکْمِکَ، وَالْمَارِقِینَ عَنْ أَمْرِکَ، صابِراً

توڑ دینے والے تیرے حکم سے منہ موڑ لینے والوں اور تیرے دین سے نکل جانے والوں سے تیری راہ میں جہاد کیا جس میں صبر و

مُحْتَسِباً لاَ تَأْخُذُهُ فِیکَ لَوْمَةُ لائِمٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ

حوصلہ سے کا م لیا اور تیرے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کی اے اللہ !رحمت فرما حضرت امیرعليه‌السلام پر بہترین رحمت جو تو

مِنْ أَوْلِیائِکَ وَأَصْفِیائِکَ وَأَوْصِیائِ أَنْبِیائِکَ اَللّٰهُمَّ هذَا قَبْرُ وَلِیِّکَ الَّذِی فَرَضْتَ

نے اپنے ولیوں اپنے برگزیدہ اور اپنے نبیوں کے وصیوں میں سے کسی پر کی ہو اے معبود! یہ تیرے اس ولی کی قبر ہے جسکی اطاعت

طاعَتَهُ، وَجَعَلْتَ فِی أَعْناقِ عِبادِکَ مُبایَعَتَهُ، وَخَلِیفَتِکَ الَّذِی بِهِ تَأْخُذُ

تو نے واجب کی جس کی بیعت کا حلقہ تو نے اپنے بندوں کی گردنوں میں ڈالا یہ تیرے خلیفہ کی قبر ہے جس کے ذریعے تو اخذ کرتا ہے

وَتُعْطِی، وَبِهِ تُثِیبُ وَتُعاقِبُ، وَقَدْ قَصَدْتُهُ طَمَعاً لِما أَعْدَدْتَهُ لاََِوْلِیائِکَ، فَبِعَظِیمِ

اور عطا کرتا ہے وہی تیرے ثواب و عقاب کا معیار ہے میں نے ان کی زیارت کا قصد کیا اس اجر کی خواہش میں جو تو نے اپنے اولیائ

قَدْرِهِ عِنْدَکَ وَجَلِیلِ خَطَرِهِ لَدَیْکَ وَقُرْبِ مَنْزِلَتِهِ مِنْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

کیلئے رکھا ہے پس بواسطہ انکی بڑی شان اور مرتبہ کے جو تیرے ہاں ہے اور انکو جو تقرب تجھ سے ہے اسکا واسطہ کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما

وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ فَ إنَّکَ أَهْلُ الْکَرَمِ وَالْجُودِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ

اور مجھ سے وہ برتاؤ کر جو تیرے شایاں ہے کہ یقینا تو کرم و بخشش والا ہے اور آپ پر سلام ہو اے میرے آقا

وَعَلَی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

اور سلام آپ کے دونوں ساتھیوں آدمعليه‌السلام اور نوحعليه‌السلام پرجو آپ کے پہلو میں ہیں خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ۔

پس ضریح مبارک کو بوسہ دے اور سر کی جانب کھڑے ہو کر کہے:

یَا مَوْلایَ إلَیْکَ وُفُودِی، وَبِکَ أَتَوَسَّلُ إلَی رَبِّی فِی بُلُوغِ مَقْصُودِی ، وَأَشْهَدُ أَنَّ

اے میرے آقا میں آپ کی بارگاہ میں آیا ہوں اپنے رب کے حضور آپ کو وسیلہ بنا رہا ہوں کہ میرا مقصد حاصل ہو جائے اور گواہی

الْمُتَوَسِّلَ بِکَ غَیْرُ خَائِبٍ وَالطَّالِبَ بِکَ عَنْ مَعْرِفَةٍ غَیْرُ مَرْدُودٍ إلاَّ بِقَضَائِ حَوَائِجِهِ

دیتا ہوں کہ آپ کو وسیلہ بنانے والا ناکام نہیں ہوتا آپ کے ذریعے طلب کرنے والا بامعرفت حاجات پوری کیے بغیر کبھی نہیں لوٹایا

فَکُنْ لِی شَفِیعاً إلَی ﷲ رَبِّکَ وَرَبِّی فِی قَضائِ حَوائِجِی وَتَیْسِیرِ أُمُورِی

گیا پس آپ خدا کے حضور میں شفاعت کریں جو آپکا اور میرا رب ہے تاکہ میری حاجتیں پوری ہوں میرے کام بن جائیں میری

وَکَشْفِ شِدَّتِی، وَغُفْرانِ ذَنْبِی، وَسَعَةِ رِزْقِی، وَتَطْوِیلِ عُمْرِی، وَ إعْطَائِ سُؤْلِی

مشکل حل ہو جائے میرے گناہ بخشے جائیں میرے رزق میں فراوانی ہو میری زندگی بڑھ جائے اور میری دنیا و آخرت کی تمام

فِی آخِرَتِی وَدُنْیایَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحَسَنِ

حاجات پوری ہوجائیں اے معبود! امیرالمومنینعليه‌السلام کے قاتلوں پر لعنت فرما اے معبود! حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کے قاتلوں

وَالْحُسَیْنِ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ آلاَءِمَّةِ وَعَذِّبْهُمْ عَذَاباً أَلِیماً لاَ تُعَذِّبُهُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِینَ

پر لعنت فرما اے معبود! تمام ائمہعليه‌السلام کے قاتلوں پر لعنت کر اوران کو ایسا دردناک عذاب دے جو تمام جہانوں میں کسی کو نہ دیا ہوبہت

عَذاباً کَثِیراً لاَ انْقِطاعَ لَهُ وَلاَ أَجَلَ وَلاَ أَمَدَ بِما شاقُّوا وُلاةَ أَمْرِکَ، وَأَعِدَّ لَهُمْ

زیادہ عذاب جو کبھی ختم نہ ہو نہ اس کی مدت مقرر ہو نہ کوئی انتہا ہو جیسا کہ انہوں نے تیرے والیان امر کو ستایا ان کے لئے وہ عذاب

عَذاباً لَمْ تُحِلَّهُ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ وَأَدْخِلْ عَلَی قَتَلَةِ أَ نْصارِ رَسُولِکَ، وَعَلَی

مہیا کر جو تو نے مخلوق میں سے کسی پرنہ اتارا ہو اے معبود ! یہ عذاب قاتلان انصار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی دے اور قاتلان

قَتَلَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَعَلَی قَتَلَةِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، وَعَلَی قَتَلَةِ أَنْصارِ الْحَسَنِ

امیرالمومنینعليه‌السلام قاتلان حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام اور قاتلان انصار حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام اور ان سب کے قاتلوں کو

وَالْحُسَیْنِ، وَقَتَلَةِ مَنْ قُتِلَ فِی وِلایَةِ آلِ مُحَمَّدٍ أَجْمَعِینَ عَذاباً أَلِیماً مُضاعَفاً فِی

یہ عذاب دے جو ولایت آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ماننے کی پاداش میں قتل ہوئے ان قاتلوں کو سخت عذاب دے جو بڑھتا رہے دوزخ کے سب سے

أَسْفَلِ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ لاَ یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذابُ وَهُمْ فِیهِ مُبْلِسُونَ مَلْعُونُونَ

نچلے طبقے جحیم میں کہ ان کے عذاب میں کبھی کمی نہ آئے اور وہ اس میں مایوس و ملعون اپنے رب کے

ناکِسُو رُؤُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَدْ عَایَنُوا النَّدامَةَ وَالْخِزْیَ الطَّوِیلَ لِقَتْلِهِمْ عِتْرَةَ

سامنے سر جھکائے ہوئے اپنی پشیمانی اور طویل ذلت کو دیکھتے ہوں کیونکہ انہوں نے تیرے

أَنْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأَتْباعَهُمْ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ فِی مُسْتَسِرِّ

نبیوں اور رسولوں کی اولاد اور انکے ساتھیوں کو قتل کیا جو تیرے نیک بندوں میں سے تھے اے اللہ ! اپنی زمین اور آسمان میں ان پر پوشیدہ

السِّرِّ، وَظاهِرِ الْعَلانِیَةِ فِی أَرْضِکَ وَسَمَائِکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ فِی

اور ظاہر طور پر لعنت کی بوچھاڑ کرتا رہ اے معبود ! مجھے اپنے دوستوں کی راہ پر ثابت قدم

أَوْلِیائِکَ، وَحَبِّبْ إلَیَّ مَشَاهِدَهُمْ وَمُسْتَقَرَّهُمْ حَتَّی تُلْحِقَنِی بِهِمْ وَتَجْعَلَنِی لَهُمْ

فرما اور مجھے ان کی مزاروں اور بارگاہوں کی محبت سے معمور کردے حتی کہ مجھے ان سے ملا دے اور مجھے دنیا و آخرت

تَبَعاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

میں ان کا تابع قرار دے اے سب سے زیادہ رحم والے ۔

اس کے بعد امیرالمومنین- کی ضریح مبارک کو بوسہ دے اور پشت بہ قبلہ کھڑا ہو اور امام حسین- کی قبر کی طرف رخ کرے اور کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے ابو عبدعليه‌السلام اللہ آپ پر سلام ہو اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے

أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ

امیرالمومنینعليه‌السلام کے فرزند سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہرا کے فرزند جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو

عَلَیْکَ یَا أَبَا آلاَءِمَّةِ الْهادِینَ الْمَهْدِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَرِیعَ الدَّمْعَةِ السَّاکِبَةِ،

آپ پر اے ان ائمہعليه‌السلام کے باپ جو ہدایت یافتہ ہدایت دینے والے ہیںسلام ہو آپ پر اے وہ مقتول جس کے نام پر آنسو نکلتے ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْمُصِیبَةِ الرَّاتِبَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی جَدِّکَ وَأَبِیکَ،

سلام ہو آپ پر اے لگاتار مصیبت والے مظلوم سلام ہو آپ پر اور آپ کے نانا اور بابا پر

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی أُمِّکَ وَأَخِیکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ وَبَنِیکَ

سلام ہو آپ پر اور آپ کی والدہ پر اور بھائی پر سلام ہو آپ پر اور ان ائمہعليه‌السلام پر جو آ پ کی ذریت و اولاد میں ہیں

أَشْهَدُ لَقَدْ طَیَّبَ ﷲ بِکَ التُّرابَ، وَأَوْضَحَ بِکَ الْکِتابَ، وَجَعَلَکَ

میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے آپ کے خون سے زمین کو پاکیزہ بنایا آپ کے وجود سیحقیقت کتاب واضح فرمائی اور آپ کو آپ کے

وَأَبَاکَ وَجَدَّکَ وَأَخاکَ وَبَنِیکَ عِبْرَةً لاَُِولِی الْاََلْبَابِ ، یَابْنَ الْمَیَامِینَ الْاََطْیَابِ

والد، نانا جان کو آپ کے بھائی کو اور آپ کے فرزندوں کو صاحبان عقل کے لئے

التَّالِینَ الْکِتابَ، وَجَّهْتُ سَلامِی إلَیْکَ، صَلَواتُ ﷲ وَسَلامُهُ عَلَیْکَ

عبرت بنایا اے تلاوت قرآن کرنے والے پاکیزہ و مبارک بزرگوں کے فرزند میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوںآپ پر خدا کی طرف

وَجَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إلَیْکَ مَا خابَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکَ وَلَجَأَ إلَیْکَ

سے درود و سلام ہو اور وہ نیک لوگوں کے دلوں کو آپکی طرف مائل کرے آپ سے تعلق رکھنے اور آپکی پناہ لینے والا کبھی ناکام نہیں ہو گا ۔

پھر ضریح مبارک کی پائنتی جا ئے اور کھڑے ہو کر یہ کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ وَخَلِیلِ النُّبُوَّةِ وَالْمَخْصُوصِ بِالْاَُخُوَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو ائمہعليه‌السلام کے پدر بزرگوار مقام نبوت کے خلیل اور پیغمبر کے برادر خاص پر سلام ہو

یَعْسُوبِ الدِّینِ وَالْاِیمانِ وَکَلِمَةِ الرَّحْمٰنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مِیزانِ الْاََعْمالِ وَمُقَلِّبِ

دین و ایمان کے سردار اور کلمہ رحمان پر سلام ہو اعمال کے معیار اور میزان پر

الْاََحْوالِ وَسَیْفِ ذِی الْجَلالِ وَساقِی السَّلْسَبِیلِ الزُّلالِ، اَلسَّلَامُ عَلَی صالِحِ

جو حالات کو بدل دینے والے صاحب جلال خدا کی تلوار اور آب کوثر و سلسبیل کے ساقی ہیں سلام ہو سب سے بہتر مومن پر

الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ وَالْحاکِمِ یَوْمَ الدِّینِ، اَلسَّلَامُ عَلَی شَجَرَةِ التَّقْویٰ

جو نبیوں کے علوم کے وارث اور روز جزا میں حکم کرنے والے ہیں سلام ہو ان پر جو تقوی کادرخت ہیں راز اور سرگوشی کو

وَسامِعِ السِّرِّ وَالنَّجْویٰ، اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ ﷲ الْبالِغَةِ وَنِعْمَتِهِ السَّابِغَةِ وَنِقْمَتِهِ

سننے والے ہیںسلام ہو خدا کی کامل ترین حجت پر جو اس کی نعمت واسعہ اور اس کی طرف سے سزا دینے

الدَّامِغَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الصِّراطِ الْواضِحِ وَالنَّجْمِ اللاَّئِحِ وَالْاِمَامِ النَّاصِحِ وَالزِّنادِ

والے ہیں سلام ہو ان پر جو خدا کا روشن راستہ چمکتا ہوا ستارہ شفقت کرنے والا امام اور منارئہ

الْقَادِحِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

نور ہیں ان پر خدا کی رحمت اور برکتیں ۔

اس کے بعد کہے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ أَخِی نَبِیِّکَ وَوَلِیِّهِ وَناصِرِهِ

اے معبود! رحمت فرما مومنوں کے سردار علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام پر جو تیرے نبی کے بھائی ان کے ولی ان کے مددگار

وَوَصِّیِهِ وَوَزِیرِهِ وَمُسْتَوْدَعِ عِلْمِهِ وَمَوْضِعِ سِرِّهِ وَبابِ حِکْمَتِهِ وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِهِ

ان کے وصی ان کے وزیر ان کے علم کے خزینہ دار ان کے راز داںان کی حکمت کے دروازہ ان کی حجت بیان کرنے والے ان کی

وَالدَّاعِی إلی شَرِیعَتِهِ، وَخَلِیفَتِهِ فِی أُمَّتِهِ، وَمُفَرِّجِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَاصِمِ

شریعت کی طرف بلانے والے امت میں ان کے قائم مقام اور خلیفہ ان سے سختی دورہٹانے والے کافروں کی کمر

الْکَفَرَةِ وَمُرْغِمِ الْفَجَرَةِ، الَّذِی جَعَلْتَهُ مِنْ نَبِیِّکَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسیٰ اَللّٰهُمَّ

توڑنے والے اور فاجروں کو پست کرنے والے کہ جن کو تو نے اپنے نبی کے ساتھ وہ مرتبہ دیا جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کا تھا اے اللہ !

والِ مَنْ والاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَالْعَنْ مَنْ

اس کے دوست سے دوستی اور اس کے دشمن سے دشمنی رکھ جو اس کی کرے اس کی مدد کر اور چھوڑ دے اس کوجو اس کو چھوڑ دے

نَصَبَ لَهُ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ

اور لعنت کر اس پر اولین و آخرین میں سے جو ان کے مقابل آیا اور رحمت فرما حضرت امیرعليه‌السلام پر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں

أَوْصِیائِ أَ نْبِیائِکَ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ

کے اوصیائ میں سے کسی پر کی ہو اے جہانوں کے پالنے والے ۔

نماز و زیارت آدم و نوح

پھر ضریح مبارک کے سرہا نے کی طرف جائے اور حضرت آدمعليه‌السلام اور حضرت نوحعليه‌السلام کی زیارت کرے پس حضرت آدمعليه‌السلام کی زیارت کے لئے کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے چنے ہوئے آپ پر سلام ہو اے خدا کے دوست سلام ہو آپ پر اے خدا

ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، اَلسَّلَامُ

کے نبیعليه‌السلام سلام ہو آپ پر اے وحی الہی کے امین سلام ہو آپ پر اے زمین میں خدا کے خلیفہ سلام ہو

عَلَیْکَ یَا أَبَا الْبَشَرِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ، وَعَلَی الطَّاهِرِینَ مِنْ

آپ پر اے ابو البشر سلام ہو آپ پر آپ کی روح پر آپ کے جسم پر اور سلام ان پاک بزرگواروں پر جو آپ کے فرزند اور آپ کی

وُلْدِکَ وَذُرِّیَّتِکَ وَصَلَّی ﷲ عَلَیْکَ صَلاةً لاَ یُحْصِیها إلاَّ هُوَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

اولاد میں ہیں خدا رحمت کرے آپ پر وہ رحمت جس کا اندازہ اس کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ۔

پھر حضرت نوح - کی زیارت کے لئے کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ

سلام ہو آپ پر اے خدا کے نبیعليه‌السلام سلام ہو آپ پر اے خدا کے چنے ہوئے سلام ہو آپ پر اے خدا کے ولی

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَیْخَ الْمُرْسَلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست سلام ہو آپ پر اے نبیوں کے بزرگ سلام ہو آپ پر اے

أَمِینَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، صَلَوَاتُ ﷲ وَسَلامُهُ عَلَیْکَ وَعَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ وَعَلَی

زمین میں وحی خدا کے امین خدا کا درود و سلام ہو آپ پر آپ کی روح پرآپ کے بدن پر اور سلام ہو ان پاک بزرگواروں پر

الطَّاهِرِینَ مِنْ وُلْدِکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

جو آپ کی اولاد میں سے ہیں اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔

پھر اسکے بعد چھ رکعت نماز پڑھے، دو رکعت برائے امیرالمومنین- کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورئہ رحمن اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ یٰس کی تلاوت کرے نماز کے بعد تسبیح فاطمہ زہرا =پڑھے اور اپنے لئے بخشش طلب کرتے ہوئے دعا کرے اور کہے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ هاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ هَدِیَّةً مِنِّی إلی سَیِّدِی وَمَوْلایَ وَلِیِّکَ وَأَخِی

اے معبود! یقینا میں نے جو یہ دو رکعت نماز پڑھی میری طرف سے یہ ہدیہ ہے میرے سردار اور میرے آقا کے لئے جو تیرے ولی

رَسُولِکَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّدِ الْوَصِیِّینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ

اور تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی مومنوں کے امیراور اوصیائ کے سردار علیعليه‌السلام ابن ابیطالبعليه‌السلام ہیں کہ ان پر خدا کی

وَعَلَی آلِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْها مِنِّی وَاجْزِنِی عَلَی ذلِکَ جَزَائَ

رحمتیں ہوں اور ان کی اولاد پر پس اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمد پر رحمت فرما میری یہ نماز قبول فرما اور اس پر مجھے جزا دے

الْمُحْسِنِینَ اَللّٰهُمَّ لَکَ صَلَّیْتُ وَلَکَ رَکَعْتُ وَلَکَ سَجَدْتُ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ

جو نیک بندوں کے لئے ہے اے معبود ! میں نے تیرے لئے نماز پڑھی تیرے لئے رکوع کیا اور تیرے لئے سجدہ کیا تو یکتا ہے تیرا

لاََِ نَّهُ لاَتَکُونُ الصَّلاة وَالرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إلاَّ لَکَ لاََِنَّکَ أَ نْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ

کوئی شریک نہیں لہذا تیرے سوا کسی کیلئے نماز رکوع اور سجدہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بے شک تو ہی اللہ ہے تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ مِنِّی زِیَارَتِی، وَأَعْطِنِی سُؤْلِی بِمُحَمَّدٍ

اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما میری یہ زیارت قبول فرما اور میری حاجت بر لا حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی

وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ

پاک آلعليه‌السلام کے واسطہ سے ۔

اس کے بعد مزید چار رکعت نماز برائے ہدیہ حضرت آدم و نوح + پڑھے پھر سجدہ شکر بجالائے اور حالت سجدہ میں کہے :

اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ وَبِکَ اعْتَصَمْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی

اے معبود ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تجھ سے تعلق جوڑا ہے اور تجھ پر بھروسہ کیا ہے اے معبود ! تو ہی میرا سہارا اور میری امید

فَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی وَمَا لاَ یُهِمُّنِی وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی، عَزَّ جارُکَ، وَجَلَّ ثَناؤُکَ

ہے پس میرے سب چھوٹے بڑے کاموں میں میری مدد فرما اور ان امور میں جن کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے تیری پناہ بڑی اور

وَلاَ إلهَ غَیْرُکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَرِّبْ فَرَجَهُمْ

تیری ثنائ بزرگ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور ان کے ظہور کو قریب فرما ۔

اب اپنا دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:

ارْحَمْ ذُ لِّی بَیْنَ یَدَیْکَ،وَتَضَرُّعِی إلَیْکَ، وَوَحْشَتِی مِنَ النَّاسِ، وَأُ نْسِی بِکَ، یَا

خدایا اپنے حضور میری عاجزی اور میری آہ و زاری پر رحم فرما رحم کر کہ میں لوگوں سے دور اور تیرے قریب ہوا ہوں اے

کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ

مہربان اے مہربان اے مہربان ۔

اب اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:

لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ رَبِّی حَقَّاً حَقَّاً، سَجَدْتُ لَکَ یَا رَبِّ تَعَبُّداً وَرِقَّاً اَللّٰهُمَّ

تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے جو میرا سچا رب ہے اے پروردگار میں نے تیرے لئے سجدہ کیا عبادت و بندگی کے ساتھ اے معبود!

إنَّ عَمَلِی ضَعِیفٌ فَضاعِفْهُ لِی، یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ

بے شک میرا عمل کمتر ہے تو اسے میرے لئے بڑھا دے اے مہربان اے مہربان اے مہربان ۔

حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا

اس کے بعد سجدے میں جائے اور سو (۱۰۰) مرتبہ کہے شکراً اور بہت زیادہ دعائیں مانگے یہ طلب حاجات کا بہترین مقام ہے۔ زیادہ سے زیادہ استغفار کرے کہ یہ گناہوں کے بخشے جانے کا موقع ہے اور خدائے تعالی سے اپنی حاجتیں طلب کرے کہ یہاں دعائیں قبول ہونے کی جگہ ہے ۔ اور سید ابن طاؤس اور دیگر علمائ کا کہنا ہے کہ زائر جب تک نجف اشرف میں مزار کے اندر رہے تو ہر نماز کے بعد خواہ ’’فریضہ ہو یا نافلہ‘‘یہ دعا پڑھتا رہے :

اَللّٰهُمَّ لاَبُدَّ مِنْ أَمْرِکَ، وَلاَبُدَّ مِنْ قَدَرِکَ، وَلاَبُدَّ مِنْ قَضَائِکَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ

اے معبود تیرا حکم یقینی ہے تیری تقدیر حتمی اور لازمی ہے تیرا فیصلہ ضروری ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر

بِکَ اَللّٰهُمَّ فَمَا قَضَیْتَ عَلَیْنَا مِنْ قَضَائٍ أَوْ قَدَّرْتَ عَلَیْنَا مِنْ قَدَرٍ فَأَعْطِنَا مَعَهُ صَبْراً

وہ جو تجھی سے ہے اے معبود !اپنی قضا میں سے جو تو نے ہم پر جاری کی ہے یا اپنی جو تقدیر ہم پر لازم کی ہے اس کیلئے ہمیں ایسا صبر

یَقْهَرُهُ وَیَدْمَغُهُ، وَاجْعَلْهُ لَنا صَاعِداً فِی رِضْوانِکَ، یُنْمِی فِی حَسَناتِنا وَتَفْضِیلِنا

عطا فرما جو خواہشوں پرغالب ہو اور ان کو دبائے اسے ہمارے لئے وسیلہ بنا کہ تیری خوشنودی حاصل کریں جو دنیا و آخرت میں

وَسُوَْدَدِنا وَشَرَفِنا وَمَجْدِنا وَنَعْمائِنا وَکَرامَتِنا فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَلاَ تَنْقُصْ

ہماری نیکیوں ہماری بلندیوں ہماری بزرگیوںہماری عزتوں ہماری بڑائیوں ہماری نعمتوں اور منزلتوں میں اضافے کا ذریعہ بنے اور تو

مِنْ حَسَناتِنا اَللّٰهُمَّ وَمَا أَعْطَیْتَنا مِنْ عَطائٍ، أَوْ فَضَّلْتَنا بِهِ مِنْ فَضِیلَةٍ، أَوْ أَکْرَمْتَنا

ہماری نیکیوں میں کچھ کمی نہ آنے دے اے معبود ! جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے یا جو بڑائی تو نے ہمیں بخشی ہے یا جو عزت ووقار

بِهِ مِنْ کَرامَةٍ فَأَعْطِنا مَعَهُ شُکْراً یَقْهَرُهُ وَیَدْمَغُهُ، وَاجْعَلْهُ لَنا صاعِداً فِی رِضْوانِکَ

ہمیں عنایت کیا ہے ہمیں اس کے ساتھ شکر کی توفیق دے جو اس پر غالب رہے اس کو ہمارے لئے وسیلہ بنا کہ تیری خوشنودی حاصل

وَفِی حَسَناتِنا وَسُوَْدَدِنا وَشَرَفِنا وَنَعْمائِنا وَ کَرامَتِنَا فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَلاَ

کریں جو دنیا و آخرت میں ہماری نیکیوں ہماری بلندیوں ہماری بزرگیوں نعمتوں اورہماری عزتوںمیں اضافے کا ذریعہ بن جائے

تَجْعَلْهُ لَنا أَشَراً وَلاَبَطَراً وَلاَفِتْنَةً وَ لاَ مَقْتاً وَلاَ عَذاباً وَلاَ خِزْیاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ

اور اسے ہمارے لئے غرور و تکبر اور فتنہ قرار نہ دینا اور دنیا و آخرت میں ہمارے لئے عذاب و رسوائی کا موجب نہ بنا

اَللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ عَثْرَةِ اللِّسَانِ، وَسُوئِ الْمَقامِ، وَخِفَّةِ الْمِیزانِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

اے معبود! ہم تیری پناہ لیتے ہیںزبان کی لغزش، برے ٹھکانے اور میزان عمل کی کمی سے اے معبود!

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلَقِّنا حَسَناتِنا فِی الْمَماتِ، وَلاَ تُرِنا أَعْمالَنا حَسَراتٍ،

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل و محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور موت کے بعد ہمیں ہماری نیکیاں دکھا اور ہماری بد کرداریاں ہمارے آگے نہ لا

وَلاَ تُخْزِنا عِنْدَ قَضائِکَ، وَلاَ تَفْضَحْنا بِسَیِّئاتِنا یَوْمَ نَلْقاکَ، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا تَذْکُرُکَ

اپنے فیصلے کے وقت ہمیں رسوا نہ کر اور جس روز ہم تیرے حضور میں پیش ہوں ہمیں گناہوں پر شرمندہ نہ کر ہمارے دلوں کو اپنی یاد میں

وَلاَ تَنْسَاکَ، وَتَخْشَاکَ کَأَ نَّها تَراکَ حَتَّی تَلْقاکَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

لگا کہ تجھے فراموش نہ کریں اور تجھ سے ایسے ڈریں گویا تجھے دیکھ رہے ہیں پھر اسی حال میں حاضر ہوجائیں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل و محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت

وَبَدِّلْ سَیِّئاتِنَا حَسَنَاتٍ، وَاجْعَلْ حَسَناتِنَا دَرَجَاتٍ، وَاجْعَلْ دَرَجاتِنا غُرُفاتٍ

فرما اور ہماری بدیاں نیکیوں میں بدل کر دے نیکیوں کو بلندی درجات کا ذریعہ بنا دے ہمارے درجات کو مکانات جنت بنا دے اور

وَاجْعَلْ غُرُفاتِنا عَالِیاتٍ اَللّٰهُمَّ وَأَوْسِعْ لِفَقِیرِنا مِنْ سَعَةِ مَا قَضَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ

ہمارے مکانات جنت کو بلند تر کر دے اے اللہ! ہم میں سے جو محتاج ہے اسے وسعت رزق دے جیسا کہ تو نے خود پر واجب کر رکھا ہے

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمُنَّ عَلَیْنا بِالْهُدَی مَا أَبْقیْتَنا، وَالْکَرامَةِ مَا

اے معبود! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور جب تک ہم باقی ہیں ہدایت دے کر ہم پر احسان فرما جب تک زندہ ہیں عزت و آبرو

أَحْیَیْتَنا، وَالْکَرامَةِ إذا تَوَفَّیْتَنا، وَالْحِفْظِ فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِنا، وَالْبَرَکَةِ فِیما رَزَقْتَنا

دے جب مریں تو ہمیں بخشش سے نواز ہماری بقا و زندگی میں ہماری حفاظت فرما جو رزق ہمیں دیا ہے اس میں برکت عطا کر فرائض

وَالْعَوْنِ عَلَی مَا حَمَّلْتَنا، وَ الثَّباتِ عَلَی مَا طَوَّقْتَنا، وَلاَ تُؤاخِذْنا بِظُلْمِنا، وَلاَ

کی ادائیگی میں مدد فرما جو طاقت ہمیں دی ہے اسے قائم رکھ ہمارے ظلم پر ہماری گرفت نہ فرما ہماری

تُقایِسْنا بِجَهْلِنا، وَ لاَ تَسْتَدْرِجْنا بِخَطَایَانا، وَاجْعَلْ أَحْسَنَ مَا نَقُولُ ثابِتاً فِی

جہالت پر حساب نہ کر ہماری خطاؤں کے باعث عذاب میں اضافہ نہ کر ہم جو اچھی بات کہتے ہیں وہ ہمارے دلوں میں

قُلُوبِنا، وَ اجْعَلْنا عُظَمائَ عِنْدَکَ، وَأَذِلَّةً فِی أَ نْفُسِنا، وَانْفَعْنا بِما عَلَّمْتَنا، وَزِدْنا

نقش فرما دے اورہمیں اپنے حضور بڑا بنا اور خود ہمارے نزدیک ہمیں پست بنائے رکھ جو علم تو نے دیا ہے اسے مفید قرار دے اور مفید

عِلْماً نافِعاً، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عَیْنٍ لاَ تَدْمَعُ، وَمِنْ صَلاةٍ لاَ

علم میں اضافہ فرما اور میں تیری پناہ لیتا ہوں نہ ڈرنے والے دل سے اور آنسو نہ بہانے والی آنکھ سے اور قبول نہ ہونے

تُقْبَلُ، أَجِرْنا مِنْ سُوئِ الْفِتَنِ یَا وَلِیَّ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ

والی نماز سے ہمیں بری آزمائش سے بچائے رکھ اے دنیا و آخرت کے ولی و حاکم ۔

مصباح الزائر میں سید فرماتے ہیں کہ امیر المومنین- کی نماز زیارت کے بعد ایک اور مستحب دعا بھی پڑھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:

یَاﷲ یَاﷲ یَاﷲ یَا مُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ.الخ

اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ۔

یہ فقیر کہتا ہے کہ یہ وہی دعائے صفوان ہے جو دعائے علقمہ کے نام سے معروف ہے اس کا ذکر زیارت عاشور کے ذیل میں آئے گا ۔

حرم امیر المومنین ـ میںزیارت امام حسین ـ

واضح رہے کہ امام حسین- کے سر کی زیارت مستحب ہے جو قبر امیرالمومنین- کے نزدیک ہے وسائل ومستدرک میں اسکے بارے میں ایک علیحدہ باب ترتیب دیا گیا ہے۔

مستدرک میں محمد بن مشہدی کی کتاب مزار سے نقل کیا گیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے امیر المومنین- کے سرہانے کیطرف امام حسین- کے سر کی زیارت پڑھی اور اسکے قریب چار رکعت نماز ادا فرمائی۔ وہ زیارت یہ ہے۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

آپ پر سلام ہو اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليه‌السلام کے فرزند آپ پر سلام ہو

یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاهِرَةِ سَیِّدةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ

اے صدیقہ طاہرہ کے فرزند جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہوآپ پر اے میرے مولا اے ابو عبدعليه‌السلام اللہ

ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ أَ قَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ

خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا فرمائی آپ نے نیکی

بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ

کرنے کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا آپ نے تلاوت قرآن کا حق ادا کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا

جِهادِهِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِهِ مُحْتَسِباً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ

اس میں آپ نے اذیت پر صبر کیا اصلاح حال کی خاطر حتیٰ کہ شہادت قبول کر لی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک

الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ، وَأَنَّ الَّذِینَ خَذَلُوکَ، وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلَی

جنہوں نے آپ کی مخالفت کی آپ سے جنگ کی جنہوں نے آپ کی نصرت نہ کی اور جنہوں نے آپ کو قتل کیا وہ نبی امی کے فرمان

لِسانِ النَّبِیِّ الْاَُمِّیِّ، وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ، لَعَنَ ﷲ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاََوَّلِینَ

کے مطابق ملعون ٹھہرائے گئے ہیں اور جس نے آپ پر بہتان باندھا وہ رسو اہوا خدا کی لعنت ہو اولین و آخرین پر جنہوں نے آپ

وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ الْاََلِیمَ، أَ تَیْتُکَ یَا مَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ

پر ظلم ڈھایا ان کے دردناک عذاب میں اضافہ ہوتاچلا جائے اے میرے مولا اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے فرزند میں آپ کی زیارت کو آیا

زائِراً عارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً لاََِوْ لِیائِکَ مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ مُسْتَبْصِراً بِالْهُدَیٰ الَّذِی

ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں آپکے دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اس ہدایت کو حق سمجھتا ہوں جس کو آپ نے

أَنْتَ عَلَیْهِ عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ

اختیار کیا آپ کے مخالفوں کی گمراہی سے واقف ہوں پس اپنے رب کے ہاں میری شفاعت فرمائیں۔

زیارت امام حسین مسجد حنانہ

مؤلف کہتے ہیں کہ اس زیارت کو مسجد حنانہ میں پڑھنا مستحب ہے ۔کیونکہ شیخ محمد بن مشہدی نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مسجد حنانہ میں امام حسین- کیلئے یہی زیارت پڑھی اور چار رکعت نماز ادا فرمائی ۔مخفی نہ رہے کہ مسجد حنانہ نجف اشرف کی مقدس مسجدوں میں سے ہے اور ایک روایت میں ہے کہ امام حسین- کا سر اقدس وہیں مدفون ہے ۔ایک روایت ہے کہ امام جعفر صادق - نے وہاں دو رکعت نماز پڑھی ،لوگوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا کہ یہ کونسی نماز ہے، آپ نے فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں میرے جد امجد امام حسین- کا سر اقدس رکھا گیا تھا جب کربلا سے لا کر یہاں ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ آنجناب سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا :اس مقام پر یہ دعا پڑھا کرو :

اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَریٰ مَکَانِی، وَتَسْمَعُ کَلامِی، وَلاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ شَیْئٌ مِنْ أَمْرِی، وَکَیْف

اے معبود ! بے شک تو دیکھتا ہے جہاں میں کھڑا ہوں اور میری بات سنتا ہے میرے امور میں سے کچھ بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اور

یَخْفیٰ عَلَیْکَ مَا أَنْتَ مُکَوِّنُهُ وَبارِئُهُ وَقَدْ جِئْتُکَ مُسْتَشْفِعاً بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ

کیونکر تجھ سے پوشیدہ رہے جسے تو نے خود وجود دیا اور پیدا کیا یقینا میں تیرے حضور تیرے رحمت والے نبی کی شفاعت لایا ہوں

وَمُتَوَسِّلاً بِوَصِیِّ رَسُو لِکَ، فأَسْأَلُکَ بِهِما ثَباتَ الْقَدَمِ، وَالْهُدَیٰ وَالْمَغْفِرَةَ فِی

اور تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی کو وسیلہ بنایا ہے لہذا ان دونوں کے واسطے سے مانگتا ہوںثابت قدمی ہدایت اور مغفرت اس دنیا

الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ

میں اور آخرت میں۔

دوسری زیارت

یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور انتہائی معتبر زیارت ہے جو زیارات کی تمام کتب اور مصابیح میں منقول ہے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ متن اور سند کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے اور اسے تمام مبارک روضوں میں پڑھنا چاہیے (مترجم)(زائرین حضرات کو چاہیے کہ امیرالمومنین- کے علاوہ اگر کسی اور امام کی زیارت کر رہے ہیں تو امیرالمومنین- کے بجائے اس معصوم امامعليه‌السلام کا نام لے مثلًا امام علی رضا -کی زیارت کر رہا ہے تو کہے: السلام علیک یا علی ابن موسی رضاعليه‌السلام ۔اس کی کیفیت یہ ہے کہ معتبر اسناد کے ساتھ جابر نے امام محمد باقر - کے ذریعے امام زین العابدین- سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے قبر امیرالمومنین- کے قریب کھڑے ہو کر روتے ہوئے ان کلمات کے ساتھ آپ کی زیارت کی :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، وَحُجَّتَهُ عَلَی عِبادِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ

آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین اور اس کے بندوں پر اس کی حجت سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے

الْمُوَْمِنِینَ، أَشْهَدُ أَنَّکَ جاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ وَعَمِلْتَ بِکِتابِهِ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ

سردار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیااس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنتوں کی پیروی کی

نَبِیِّهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتّی دَعاکَ ﷲ إلی جِوارِهِ فَقَبَضَکَ إلَیْهِ بِاخْتِیارِهِ

خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی اور آپ کے

وَأَلْزَمَ أَعْدائَکَ الْحُجَّةَ مَعَ مَا لَکَ مِنَ الْحُجَجِ الْبالِغَةِ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِهِ اَللّٰهُمَّ

دشمنوں پر حجت قائم کی جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں اے اللہ میرے

فَاجْعَلْ نَفْسِی مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِکَ، راضِیَةً بِقَضائِکَ، مُولَعَةً بِذِکْرِکَ وَدُعائِکَ، مُحِبَّةً

نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میںحریص ہو تیرے برگزیدہ

لِصَفْوَةِ أَوْلِیائِکَ، مَحْبُوبَةً فِی أَرْضِکَ وَسَمائِکَ، صابِرَةً عَلَی نُزُولِ بَلائِکَ

دوستوں سے محبت کرنے والا تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو تیری

شاکِرَةً لِفَواضِلِ نَعْمائِکَ، ذاکِرَةً لِسَوابِغِ آلائِکَ، مُشْتاقَةً إلی فَرْحَةِ لِقائِکَ،

بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ

مُتَزَوِّدَةً التَّقْویٰ لِیَوْمِ جَزائِکَ، مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ أَوْلِیائِکَ، مُفارِقَةً لاََِخْلاقِ أَعْدائِکَ،

بنانے والا ہو تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور اور دنیا سے بچ بچا کر

مَشْغُولَةً عَنِ الدُّنْیا بِحَمْدِکَ وَثَنائِکَ

تیری حمد و ثنائ میں مشغول رہنے والا ہو۔

پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:

اَللّٰهُمَّ إنَّ قُلُوبَ الْمُخْبِتِینَ إلَیْکَ والِهَةٌ وَسُبُلَ الرَّاغِبِینَ إلَیْکَ شارِعَةٌ، وَأَعْلامَ

اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیںشوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں تیرا قصد

الْقاصِدِینَ إلَیْکَ واضِحَةٌ، وَأَفْئِدَةَ الْعارِفِینَ مِنْکَ فازِعَةٌ، وَأَصْواتَ الدَّاعِینَ إلَیْکَ

کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں

صاعِدَةٌ وَأَبْوابَ الْاِجابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ وَدَعْوَةَ مَنْ ناجاکَ مُسْتَجابَةٌ وَتَوْبَةَ مَنْ أَنابَ

بلند ہیں اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے جو تیری طرف پلٹ

إلَیْکَ مَقْبُولَةٌ، وَعَبْرَةَ مَنْ بَکَیٰ مِنْ خَوْفِکَ مَرْحُومَةٌ، وَالْاِغاثَةَ لِمَنِ اسْتَغاثَ بِکَ

آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے جو تجھ سے فریاد کرے اس کے

مَوْجُودَةٌ، وَالْاِعانَةَ لِمَنِ اسْتَعانَ بِکَ مَبْذُولَةٌ، وَعِدٰاتِکَ لِعِبادِکَ مُنْجَزَةٌ، وَزَلَلَ مَنِ

لئے داد رسی موجود ہے جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں

اسْتَقالَکَ مُقالَةٌ وَأَعْمالَ الْعامِلِینَ لَدَیْکَ مَحْفُوظَةٌ وَأَرْزاقَکَ إلَی الْخَلائِقِ مِنْ لَدُنْکَ

تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں مخلوقات کے لئے رزق

نازِلَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ إلَیْهِمْ واصِلَةٌ، وَذُنُوبَ الْمُسْتَغْفِرِینَ مَغْفُورَةٌ، وَحَوائِجَ

و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں طالبان بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ساری

خَلْقِکَ عِنْدَکَ مَقْضِیَّةٌ، وَجَوائِزَ السَّائِلِینَ عِنْدَکَ مُوَفَّرَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ مُتَواتِرَةٌ

مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے اور پے در پے عطائیں

وَمَوائِدَ الْمُسْتَطْعِمِینَ مُعَدَّةٌ، وَمَناهِلَ الظِّمائِ مُتْرَعَةٌ اَللّٰهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعائِی

ہوتی ہیں کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے

وَاقْبَلْ ثَنائِی، وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَ أَوْ لِیائِی، بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ

اس ثنائ کو پسند فرما مجھے میرے اولیائ کے ساتھ جمع کر دے کہ واسطہ دیتا ہوں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و علیعليه‌السلام و فاطمہ(س)

وَالْحُسَیْنِ إنَّکَ وَ لِیُّ نَعْمائِی، وَمُنْتَهَیٰ مُنایَ، وَغایَةُ رَجائِی فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوَایَ

و حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کا بے شک تو مجھے نعمتیں دینے والادنیاو آخرت میں میری آرزوؤں کی انتہائ میری امیدوں کا مرکز۔

کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے :

أَنْتَ إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ اغْفِرْ لاََِوْ لِیائِنا، وَکُفَّ عَنَّا أَعْدائَنا، وَاشْغَلْهُمْ عَنْ

تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ

أَذَانَا وَأَظْهِرْ کَلِمَةَ الْحَقِّ وَاجْعَلْهَا الْعُلْیَا، وَأَدْحِضْ کَلِمَةَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْهَا السُّفْلی

کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے کہ

إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

اس کے بعد امام محمد باقر - نے فرمایاہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس زیارت اور دعا کو ضریح امیر المومنین- کے نزدیک یا ان کے جانشین ائمہ میں سے کسی مزار کے پاس پڑھے گا تو حق تعالی اس کی پڑھی ہوئی اس زیارت و دعا کو ایک نورانی نوشتہ میں عالم بالا تک پہنچا کراس پر حضرت رسول کی مہر ثبت کرائے گا ۔وہ نوشتہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا اور ظہور قائم آل محمد - کے وقت ان کے حوالے کر دیا جائے گا آنجناب- جنت کی بشارت سلام خاص اور عزت کے ساتھ اس کا استقبال فرمائیں گے انشائ اللہ۔

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ باشرف زیارت زیارت مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور روز غدیر کی زیارات مخصوصہ میں بھی شمار ہوتی ہے ۔نیز یہ زیارت جامعہ کے طور پر بھی معروف ہے کہ جو سبھی ائمہ کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے ۔

تیسری زیارت

عبدالکریم ابن طاؤس نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ :ہم امام جعفر صادق - کے ہمراہ کوفہ میں داخل ہوئے آپ ابو جعفر دوانقی (منصور عباسی)کے پاس جا رہے تھے آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے صفوان اونٹ کو بٹھا دو میرے جد بزرگوار امیرالمومنین- کا مزار یہاں سے نزدیک ہے آپ اونٹ سے اتر پڑے ،پھر غسل فرمایا،لباس تبدیل کیا، پا برہنہ ہوگئے اور فرمایا کہ تم بھی ایسا کرو اسکے بعد آپ نجف اشرف کی سمت روانہ ہوئے اور فرمایا کہ قدم چھوٹا رکھو اورسر جھکا کے چلو کہ ﷲ اس راستے میں اٹھائے تمہارے ہر قدم کے بدلے میں تمہارے لئے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا تمہارے ایک لاکھ گناہ معاف فرمائے گا ایک لاکھ درجے بلند کرے گا اور تمہاری ایک لاکھ حاجات بر لائے گا نیز تمہارے اعمال میں ہر صدیق و شہید کا ثواب لکھے گا جو زندہ ہے یا مارا جا چکا ہے پس آنجناب چل پڑے اور میں بھی آپ کے ساتھ اطمینا ن اور سنجیدگی کے ساتھ ذکر الہی کرتا ہوا چلا جارہا تھا یہاں تک کہ ہم ٹیلوں کے قریب پہنچ گئے وہاں آپ نے دائیں بائیں نگاہ فرمائی اور اپنی ہاتھ کی چھڑی سے ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا کہ اس جگہ کو دیکھو لہذا میں نے جستجو کی تو مجھے نشان قبر نظر آگیایہ دیکھ کر آپ کے آنسوجاری ہو کر چہرے پر آگئے اور آپ نے یوں کہا:

إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ پهر فرمایا اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ التَّقِیُّ

ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے وصی نیک و پرہیزگار

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبَأُ الْعَظِیمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الصِّدِّیقُ الرَّشِیدُ، اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو اے خبر عظیم (امامت)آپ پر سلام ہو اے صاحب صدق و ہدایت یافتہ آپ پر

عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْبَرُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ

سلام ہو اے نیک و پاکیزہ آپ پر سلام ہو اے جہانوں کے رب کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصیعليه‌السلام و جانشین آپ پر

عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ حَبِیبُ ﷲ وَخاصَّةُ ﷲ

سلام ہو اے ساری مخلوق پر خدا کی طرف سے برگزیدہ میں گواہی دیتا ہو ں کہ آپ خدا کے حبیب اور اس کے خاص اور مخلص بندے

وَخالِصَتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَمَوْضِعَ سِرِّهِ وَعَیْبَةَ عِلْمِهِ وَخازِنَ وَحْیِهِ

ہیں سلام ہو آپ پر اے خدا کے ولی اسرار الہی کے امین اس کے علم کے گنجینہ اور اس کے وحی کے خزینہ دار ۔

پھر آپ قبر اطہر سے لپٹ گئے اور فرمایا :

بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا حُجَّةَ الْخِصامِ، بِأَبِی

قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے امیرالمومنینعليه‌السلام قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے دشمنوں پر حجت قربان ہوں آپ

أَنْتَ وَأُمِّی یَا بَابَ الْمَقَامِ، بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا نُورَ ﷲ التَّامَّ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ

پر میرے ماں باپ اے ہر مقصود کے دروازے قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے خدا کے کامل نور میں گواہی دیتا ہوں کہ

قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ ﷲ وَعَنْ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَا حُمِّلْتَ، وَرَعَیْتَ

آپ نے خدا اور اس کے رسول کے وہ احکام لوگوں تک پہنچائے جو آپ نے حاصل کیے جو علوم ملے

مَا اسْتُحْفِظْتَ، وَحَفِظْتَ مَا اسْتُودِعْتَ، وَحَلَّلْتَ حَلالَ ﷲ، وَحَرَّمْتَ حَرامَ ﷲ،

ان کی نگہبانی کی جو امور آپ کے سپرد ہوئے انہیں فراموش نہیں کیا اور آپ نے حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام ٹھہرایا

وَأَقَمْتَ أَحْکامَ ﷲ، وَلَمْ تَتَعَدَّ حُدُودَ ﷲ، وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ،

آپ نے احکام الہی کو نافذ کیا خدا کی حدوں سے تجاوز نہیں کیا اور خدا کی خالص بندگی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ شہادت پاگئے

صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ بَعْدِکَ

خدا رحمت کرے آپ پر اور آپ کے جانشین ائمہعليه‌السلام پر ۔

اس کے بعدحضرت امام جعفر صادق - اٹھے اور قبر کے سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر چند رکعت نماز پڑھی ۔اور پھر فرمایا : اے صفوان ! جو شخص امیرالمومنین- کی زیارت کرنے میں یہ زیارت پڑھے اس طرح نماز گزارے تو وہ اپنے اہل خانہ کے پاس اس حال میںلوٹے گا کہ اس کے گناہ بخشے جا چکے ہوں گے اس کا یہ عمل زیارت مقبول ہو گا اور اس کے لئے وہ ثواب لکھا جائے گا جو فرشتوں میں سے حضرت کی زیارت کو آنے والے کسی فرشتے کو ملتا ہے ۔

صفوان نے حیران ہو کر پوچھا آیا کو ئی فرشتہ بھی حضرت امیرالمومنین- کی زیارت کرنے آتا ہے؟ حضرت نے فرمایا : ہاں ہر رات ملائکہ میں سے ستر قبیلے آپ کی زیارت کو آتے ہیں اس نے پوچھا ہر قبیلے میں کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہر قبیلے میں ایک لاکھ فرشتے ہوتے ہیںپھر آنجناب الٹے پاؤں چلتے ہوئے قبرحضرت امیرالمومنین- سے واپس ہوئے۔ جبکہ آپ فرما رہے تھے:

یَا جَدَّاهُ یَا سَیِّداهُ یَا طَیِّباهُ یَا طاهِراهُ لاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْکَ

اے میرے جد بزرگواراے میرے سردار اے خوش کردار اے پاکیزہ تر خدا آپ کی اس زیارت کو میرے لئے آخری نہ بنائے اور

وَرَزَقَنِی الْعَوْدَ إلَیْکَ، وَالْمَقامَ فِی حَرَمِکَ، وَالْکَوْنَ مَعَکَ وَمَعَ الْاََبْرارِ مِنْ وُلْدِکَ

مجھے دوبارہ حاضر ہونا اور آپکے حرم میں ٹھہرنا نصیب کرے آپکی خدمت میں آنے اور آپکی پاک اولاد کے حضور حاضری کی توفیق دے

صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ

خدا رحمت کرے آپ پر اور ان ملائکہ پر جو آپ کی قبر کا طواف کرتے ہیں ۔

صفوان کہتا ہے کہ میں نے آنجناب کی خدمت میںعرض کی کہ آیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں کوفہ میں اپنے مومن بھائیوں کو اس واقعہ کی خبر دوں اور انہیں اس قبر کے نشان سے آگاہ کروں آپ نے فرمایا ہاں تمہیں اجازت ہے پھر آپ نے مجھے کچھ درہم عنایت کیے ۔ جن سے میں نے قبر امیرالمومنین- کی مرمت کرائی ۔

چھٹی فصلماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال عشرہ اول ذی الحجہ

واضح ہو کہ ذوالحجہ ایک عظیم اور بزرگ تر مہینہ ہے، جب اس مہینے کا چاند نظر آتا تو اکثر صحابہ(رض) و تابعین عبادت میں خاص اہتمام کرتے تھے قرآن مجید میں اس کے پہلے دس دنوں کو ایام معلومات کہا گیا ہے اور یہ بڑی فضیلت اور برکت والے ایام ہیں۔ حضرت رسول اللہ کا فرمان ہے کہ کسی بھی دن کی نیکی و عبادت خدا کے ہاںاس نیکی و عبادت سے زیادہ محبوب نہیں جو ان دس دنوں میں کی جائے۔

ان دس دنوں میںچند ایک اعمال ہیں۔

( ۱ )پہلے نو دن کے روزے رکھے تو ایسا ہے گویا ساری زندگی روزے رکھے ہوں ۔

( ۲ )ان دس دنوں میں مغرب و عشا کے درمیان دو رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سورہ توحید اور یہ آیت پڑھے تا کہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہوجائے۔

وَوٰاعَدْنا مُوسیٰ ثَلاَثِینَ لَیْلَةً وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِینَ لَیْلَةً وَقالَ

وعدہ کیا ہم نے موسیٰعليه‌السلام سے تیس راتوں کا اورمزید دس راتوں کا اضافہ کیا تو پھر اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا ہوگیا

مُوسی لاََِخِیهِ هارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیلَ المُفْسِدِینَ

اور کہا موسیٰعليه‌السلام نے اپنے بھائی ہارونعليه‌السلام سے میری امت میںجانشین بن اور ان کی اصلاح کر اور فساد کرنیوالوں کی راہ پر نہ چلنا۔

( ۳ )پہلے دن سے عرفہ کے دن تک نماز فجر کے بعد اور نمازمغرب سے پہلے یہ دعا پڑھے، جو شیخ و سید نے امام جعفر صادق -سے نقل کی اور وہ یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ هذِهِ الْاَیَّامُ الَّتِی فَضَّلْتَها عَلَی الْاَیَّامِ وَشَرَّفْتَها وَقَدْ بَلَّغْتَنِیها بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ

اے معبود! یہ وہ دن ہیں جن کو تو نے دوسرے دنوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے تو نے اپنے احسان اور رحمت سے یہ دن ہم کو دکھائے

فَأَنْزِلْ عَلَیْنا مِنْ بَرَکاتِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیْنا فِیها مِنْ نَعْمائِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ

ہیں پس ان دنوں میں ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما اور اپنی نعمتوں میں وسعت فرما اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ

تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهْدِیَنا فِیها لِسَبِیلِ الْهُدی وَالْعَفافِ وَالْغِنی

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں راہ ہدایت، پاکدامنی اور سیر چشمی کی طرف ہماری رہنمائی کر اور ان میں ہمیں

وَالْعَمَلِ فِیها بِما تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَیَا

اپنا پسندیدہ عمل کرنے کی توفیق دے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے ہر شکایت کی امیدگاہ اے ہر سرگوشی

سامِعَ کُلِّ نَجْوی، وَیَا شاهِدَ کُلِّ مَلَأَ، وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ

کے سننے والے اے ہر جماعت پر حاضر گواہ اور اے ہر راز کے جاننے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنَّا فِیهَا الْبَلائَ، وَتَسْتَجِیبَ لَنا فِیهَا الدُّعائَ، وَتُقَوِّیَنا فِیها

رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہم سے مصیبت کو دور کر ان ایام میں ہماری دعا قبول فرما اور قوت عطا کر

وَتُعِینَنا وَتُوَفِّقَنا فِیها لِما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضی وَعَلَی مَا افْتَرَضْتَ عَلَیْنا مِنْ طاعَتِکَ

ان دنوں میں ہمیں اس عمل پر مدد اور توفیق دے جس سے تو راضی ہو اور اس کی بھی توفیق کہ جس کو تو نے اور اپنے رسول اور اپنے اہل

وَطاعَةِ رَسُو لِکَ وَأَهْلِ وِلایَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ أَنْ تُصَلِّیَ

ولایت کی اطاعت کے عنوان سے ہم پرفرض کیا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے کہ

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهَبَ لَنا فِیهَا الرِّضا إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ، وَلاَ تَحْرِمْنا

تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہمیں اپنی خوشنودی عطاکر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اور ہمیں اس بھلائی

خَیْرَ مَا تُنْزِلُ فِیها مِنَ السَّمائِ، وَطَهِّرْنا مِنَ الذُّنُوبِ یَا عَلاّمَ الْغُیُوبِ، وَأَوْجِبْ

سے محروم نہ کر جو تو نے آسمان سے نازل کی ہے اور ہمارے گناہ دھوڈال اے غیبوں کے جاننے والے اور اس دنوں ہمارے لیے

لَنا فِیها دارَ الْخُلُودِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَتْرُکْ لَنا فِیها ذَ نْباً إلاَّ

ہمیشگی والی جنت واجب کردے اے معبود؛ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ہمارا کوئی گناہ نہ رہنے دے جسے تونے نہ بخشا ہو اور نہ

غَفَرْتَهُ، وَلاَ هَمّاً إلاَّ فَرَّجْتَهُ، وَلاَ دَیْناً إلاَّ قَضَیْتَهُ، وَلاَ غائِباً إلاَّ أَدَّیْتَهُ، وَلاَ حاجَةً

کوئی غم کہ جس سے تو نے گشائش نہ دی ہو اور نہ کوئی قرض کہ جسے تو نے ادا نہ کیا ہو اور نہ گمشدہ شی کہ جسے تو نے (ہم تک)نہ پہنچایا

مِنْ حَوٰائِجِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ إلاَّ سَهَّلْتَها وَیَسَّرْتَها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ

ہو اور نہ دنیا وآخرت کی حاجات میں سے کوئی حاجت کہ جسے تو نے پورا نہ کیا ہو اور اسے آسان نہ بنایا ہوبے شک تو ہرچیز پر قدرت

قَدِیرٌ ۔ اَللّٰھُمَّ یَا عالِمَ الْخَفِیَّاتِ، یَا راحِمَ الْعَبَراتِ، یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَبَّ

رکھتا ہے اے معبود! اے چھپی چیزوں سے واقف اے گرتے آنسوؤں پر رحم کھانے والے اے دعائیں قبول کرنے والے اے

الْاَرَضِینَ وَالسَّماواتِ، یَا مَنْ لاَ تَتَشابَهُ عَلَیْهِ الْاَصْواتُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

زمینوں و آسمانوں کے پروردگار اے وہ جس کو آوازیں شبہ میں نہیں ڈال سکتیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنا فِیها مِنْ عُتَقائِکَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، وَالْفائِزِئنَ بِجَنَّتِکَ وَالنَّاجِینَ

رحمت فرما اور ان دنوں ہمیں اپنی طرف سے آتش جہنم سے آزاد اور رہاکیئے ہوئے قرار دے نیز اپنی جنت میں داخل شدہ اور نجات

بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ

یافتہ شمار کر اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا ہمارے سردار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی ساری آلعليه‌السلام پررحمت فرمائے ۔

( ۴ ) وہ پانچ دعائیں پڑھے جو جبرائیل خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰ -کیلئے بطور ہدیہ لائے تھے تاکہ حضرت اس عشرہ میں ہر روز یہ دعائیں پڑھیں ۔ وہ پانچ دعائیں یہ ہیں ۔

﴿ ۱ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیَدِهِ

( ۱ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں حکومت اسی کی ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اسی کے

الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۲ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ،

ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۲ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا

أَحَداً صَمَداً لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً ﴿ ۳ ﴾ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ

ثانی نہیں وہ یکتا بے نیاز ہے نہ اس نے کوئی زوجہ کی نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ۔ ( ۳ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں

وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، أَحَداً صَمَداً لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ﴿ ۴ ﴾

جو یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیںہے وہ یکتا و بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ثانی ہو سکتا ہے۔ ( ۴ )

أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی

میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کی ہے وہ زندہ کرتا ہے وہ

وَیُمِیتُ، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۵ ﴾ حَسْبِیَ

موت دیتا ہے اور وہ زندہ جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۵ ) ﷲ میرے لئے

ﷲ وَکَفی، سَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ وَرائَ ﷲ مُنْتَهی، أَشْهَدُ لِلّٰهِ بِما دَعا

اور کافی وراضی ہے جو اسکو پکارے نہیں (اس کی پکار کو) سنتاہے خدا کے علاوہ کوئی انتہا نہیں جسکی اس نے دعوت دی اسکی گواہی دیتا ہوں

وَأَ نَّهُ بَرِیئٌ مِمَّنْ تَبَرَّأَ، وَأَنَّ لِلّٰهِِ الْآخِرَةَ وَالاَُْولیٰ

اور ﷲ تعالیٰ سے دور ہے جو اس سے دور ہونا چاہے اور ﷲ کیلئے ہی ابتدائ وانتہا ہے ۔

حضرت عیسیٰ -نے ان دعاؤں میں سے ہر ایک کو روزانہ سو مرتبہ پڑھنے پر بہت زیادہ ثواب کا ذکر کیا ہے علامہ مجلسیرحمه‌الله کے فرمان کے مطابق یہ بعید نہیں کہ اگر کوئی شخص ان پانچ دعاؤں کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو بھی روایت پر عمل ہوجائے گا لیکن اگر ہر دعا کو سو مرتبہ پڑھے تو بہت بہتر ہے ۔

( ۵ ) ان دس دنوں میں ہر روز یہ تہلیلات پڑھے جو حضرت امیرا لمومنین -سے منقول ہیں اور ان پر ثواب کثیر کا ذکر ہوا ہے اگر ان کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو خوب ہے وہ تہلیلات یہ ہیں :

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ اللَّیالِی وَالدُّهُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ أَمْواجِ الْبُحُورِ، لاَ إلهَ

ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں راتوں اور زمانوں کی تعداد میں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں سمندروں کی موجوں کے برابر ﷲ کے سوا

إلاَّ ﷲ وَ رَحْمَتُهُ خَیْرٌ مِمّا یَجْمَعُونَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّوْکِ وَالشَّجَرِ

کوئی معبود نہیں اور اس کی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں درختوں اور کانٹوں کی تعداد کے

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الْحَجَرِ وَالْمَدَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ

برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں بالوں اور دن کے ریشوں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پتھروں اور ڈھیلوں کی تعداد

ﷲ عَدَدَ لَمْحِ الْعُیُونِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ فِی اللَّیْلِ إذا عَسْعَسَ، وَالصُّبْحِ

کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پلکوںکے جھپکنے کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں رات جب تاریک ہوجائے اور صبح

إذا تَنَفَّسَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الرِّیاحِ فِی الْبَرارِی وَالصُّخُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِنَ

کو جب وہ روشن ہو ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہواؤں اور بیابانوں اور صحراؤں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں آج

الْیَوْمِ إلی یَوْمِ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ

سے صور پھونکنے کے دن تک کے دنوں میں ۔

ذالحجہ کا پہلا دن

اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔

( ۱ ) روزہ رکھے اس کا ثواب اَ سیّ(۸۰) مہینوں کے روزے رکھنے کے ثواب کے برابر ہے ۔

( ۲ ) نماز حضرت فاطمہ الزہرا =بجالائے شیخ فرماتے ہیں کہ یہ نماز چار رکعت ہے دو دو کرکے پڑھے جیسے کہ امیر المومنین -کی نماز پڑھی جاتی ہے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید اور بعداز نماز تسبیح فاطمہ الزہرا =پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے:

سُبْحانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ سُبْحانَ ذِی الْجَلالِ الْباذِخِ الْعَظِیمِ سُبْحانَ

پاک ہے وہ جو بلند و بالا عزت کا مالک ہے پاک ہے وہ صاحب جلالت شان و عظمت والا پاک ہے

ذِی الْمُلْکِ الْفاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحانَ مَنْ یَریٰ أَثَرَ النَّمْلَةِ فِی الصَّفا سُبْحانَ مَنْ

وہ قدیمی قابل فخر حکومت کا مالک پاک ہے وہ جو چٹیل پتھر پر چیونٹی کے پاؤں کا نشان دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو فضا میں پرندے

یَریٰ وَقْعَ الطَّیْرِ فِی الْهَوائِ سُبْحانَ مَنْ هُوَ هکَذا وَلاَ هکَذا غَیْرُهُ

کے اڑنے کے خط دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور اس کے سوا کوئی ایسا نہیں ۔

( ۳ ) زوال سے آدھ گھنٹہ پہلے دو رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس دس مرتبہ سورہ توحید آیۃ الکرسی اور سورہ قدر پڑھے :

( ۴ ) جو شخص کسی ظالم سے خوف زدہ ہو وہ آج کے دن یہ کلمات کہے تاکہ حق تعالیٰ اسے ظالم کے شر سے محفوظ فرمائے وہ کلمات یہ ہیں :

حَسْبِی حَسْبِی حَسْبِی مِنْ سُؤالِی عِلْمُکَ بِحالِی

مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے سوال کی نسبت میرے حال سے متعلق تیرا علم۔

واضح ہو کہ آج کے دن ہی حضرت ابراہیم -کی ولادت ہوئی تھی اور شیخین کی روایت کے مطابق امیر المومنین -کے ساتھ حضرت فاطمہ الزہرا =کی تزویج بھی اسی دن ہوئی ۔

ساتویں ذی الحجہ کا دن

سات ذی الحجہ ۴۱۱ ھ میں بمقام مدینہ منورہ امام محمد باقر - کی وفات ہوئی پس یہ مسلمانوں کیلئے یوم غم ہے۔

آٹھویں ذی الحجہ کا دن

یہ ترویہ کا دن ہے اور اس میں روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے روایت ہے کہ اس دن کا روزہ ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور شیخ شہید کا فرمان ہے کہ اس روز غسل کرنا مستحب ہے۔

نویں ذی الحجہ کی رات

یہ بڑی مبارک رات ہے یہ قاضی الحاجات سے مناجات اور راز و نیاز کی رات ہے اس رات توبہ قبول اور دعا مستجاب ہوتی ہے۔ پس جو شخص یہ رات عبادت میں گزارے گویا وہ ایک سو ستر سال تک عبادت میں مصروف رہا ہے اس رات کے چند اعمال ہیں :

( ۱ ) یہ دعا پڑھے روایت ہے کہ شب عرفہ یا شب جمعہ میں اس دعا کے پڑھنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں وہ دعا یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ یَا شاهِدَ کُلِّ نَجْوی، وَمَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَعالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَمُنْتَهی کُلِّ

اے ﷲ ! اے ہر راز کے گواہ اے ہر شکایت کے پہنچنے کے مقام اے ہر پوشیدہ چیز کے جاننے والے اور ہر حاجت کی

حاجَةٍ، یَا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ عَلَی الْعِبادِ، یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا جَوادُ،

آخری جگہ اے بندوں پر اپنی نعمتوں کا آغاز کرنے والے اے مہربان معاف کرنے والے اے بہترین در گزر کرنے والے اے عطا والے

یَا مَنْ لاَ یُوارِی مِنْهُ لَیْلٌ داجٍ وَلاَ بَحْرٌ عَجَّاجٌ وَلاَ سَمائٌ ذاتُ أَبْراجٍ، وَلاَ ظُلَمٌ ذاتُ

اے وہ جس سے نہاں نہیں ہے تاریک رات نہ بے کراں سمندر نہ برجوں والا آسمان اور نہ یکبارگی اٹھنے والی موجیں

ارْتِتاجٍ، یَا مَنِ الظُّلْمَةُ عِنْدَهُ ضِیائٌ، أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ الَّذِی تَجَلَّیْتَ

نہاں ہیں اے وہ تاریکیاں جس کیلئے روشن ہیں سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری عزت والی ذات کے نور کے جسکو تونے پہاڑ پر چمکایا تو

بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً، وَبِاسْمِکَ الَّذِی رَفَعْتَ بِهِ السَّماواتِ

وہ بکھر کر رہ گیا اور حضرت موسیٰعليه‌السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تونے آسمانوں کو

بِلا عَمَدٍ، وَسَطَحْتَ بِهِ الْاَرْضَ عَلَی وَجْهِ مَائٍ جَمَدٍ، وَبِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ

بغیر ستونوں کے بلند کیا اور زمین کو جمے ہوئے پانی کی سطح کے اوپر پھیلایا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے محفوظ پوشیدہ

الْمَکْتُوبِ الطَّاهِرِ الَّذِی إذا دُعِیتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَ إذا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَیْتَ، وَبِاسْمِکَ

لکھے ہوئے پاک تر نام کے کہ جس سے تجھے پکارا جائے تو جواب دیتا ہے اور جب اس کے ذریعے تجھ سے مانگا جائے تو عطاکرتا

السُّبُّوحِ الْقُدُّوسِ الْبُرْهانِ الَّذِی هُوَ نُورٌ عَلَی کُلِّ نُورٍ، وَنُورٌ مِنْ نُورٍ یُضِیئُ مِنْهُ

ہے اور بواسطہ تیرے پاکسا وپاکیزہ نام کے سوالی ہوں جو ہر نور سے بالا تر نور ہے وہ نور ہے اس نورمیںسے اورجس سے

کُلُّ نُورٍ، إذا بَلَغَ الْاَرْضَ انْشَقَّتْ، وَ إذا بَلَغَ السَّماواتِ فُتِحَتْ، وَ إذا بَلَغَ الْعَرْشَ

ہر نور چمکتا ہے جب وہ زمین پر پہنچا تو وہ پھٹ گئی جب آسمانوں پر پہنچا تووہ کشادہ ہوگئے جب عرش پر پہنچا تو

اهْتَزَّ وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَرْتَعِدُ مِنْهُ فَرائِصُ مَلائِکَتِکَ وَاَسأَلُکَ بِحَقِّ جَبْرَائِیلَ

وہ لرزنے لگا اور بواسطہ تیرے اس نام کے کہ جس سے تیرے فرشتوںکے دل دہل جاتے ہیں اورسوالی ہوںجبرائیل میکائیل

وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ

اور اسرافیل کے واسطے سے اور حضرت محمد مصطفےٰ کے اس حق کے واسطے سے سوالی ہوں جوتمام نبیوںاورفرشتوںپرہے اور

الْاَ نْبِیائِ وَجَمِیعِ الْمَلائِکَةِ، وَبِالاسْمِ الَّذِی مَشی بِهِ الْخِضْرُ عَلَی قُلَلِ الْمائِ کَما

سوالی ہوں کہ جس کی برکت سے خضر پانی کی لہروں پر چلتے تھے جیساکہ وہ اس

مَشی بِهِ عَلَی جَدَدِ الْاَرْضِ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی فَلَقْتَ بِهِ الْبَحْرَ لِمُوسی وَأَغْرَقْتَ

زمین کی بلندیوں پر چلتے تھے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تو نے موسیعليه‌السلام کیلئے دریا کو چیرا فرعون کو اس کی

فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ وَأَنْجَیْتَ بِهِ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ وَمَنْ مَعَهُ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ

قوم سمیت غرق کیا اور موسیعليه‌السلام بن عمران کو ساتھیوں سمیت نجات دی اور بواسطہ اس نام کے جس سے موسیعليه‌السلام بن عمران نے

مُوسَی بْنُ عِمْرانَ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَأَلْقَیْتَ عَلَیْهِ مَحَبَّةً مِنْکَ

طور ایمن کی ایک سمت سے پکارا تھا پس تو نے اس کو جواب دیا اور اس پر اپنی محبت نازل فرمائی

وَبِاسْمِکَ الَّذِی بِهِ أَحْیَا عِیسَی بْنُ مَرْیَمَ الْمَوْتی وَتَکَلَّمَ فِی الْمَهْدِ صَبِیّاً، وَأَبْرَأَ

اور سوالی ہوں بواسطہ اس نام کے جس کی برکت سے عیسیٰ بن مریم نے مردے زندہ کیئے بچپنے میں گہوارے میں کلام کیا اور تیرے

الْاَکْمَهَ والْاَ بْرَصَ بِ إذْنِکَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ حَمَلَةُ عَرْشِکَ وَجَبْرَائِیلُ

حکم سے اس نام کے ساتھ جذام و برص والوں کو شفا دی اور بواسطہ تیرے اس نام کے جس سے تجھے حاملان عرش اور جبرائیل

وَمِیکائِیلُ وَ إسْرافِیلُ وَحَبِیبُکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمَلائِکَتُکَ الْمُقَرَّبُونَ،

میکائیل اور اسرافیل اور تیرے حبیب حضرت محمد تجھے پکارتے ہیں نیز جس نام سے تیرے مقرب فرشتے

وَأَنْبِیاؤُکَ الْمُرْسَلُونَ، وَعِبادُکَ الصَّالِحُونَ مِنْ أَهْلِ السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ،

تیرے بھیجے ہوئے انبیائ اور تیرے نیکوکار بندے تجھے پکارتے ہیں جو آسمان والوں اور زمین والوں میں ہیں اور بواسطہ تیرے اس

وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ ذُو النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ تَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادی

نام کے جس سے تجھے پکارا مچھلی والے نے جب وہ غصے میں جا رہا تھا تو اس نے خیال کیا کہ تو اسے نہ پکڑے گا پس اس نے وہ پانی

فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَهُ

کی تاریکیوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں پس تو نے اسکی دعا قبول

وَنَجَّیْتَهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ تُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الَّذِی دَعاکَ

کی اور تو نے اسے رنج و غم میں سے نکالا اور تو مومنوں کو اسی طرح رہائی دیتا ہے اور سوالی ہوں تیرے بزرگتر نام کے واسطے سے

بِهِ داوُدُ وَخَرَّ لَکَ ساجِداً فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعَتْکَ بِهِ آسِیَةُ

جسکے ساتھ تجھے داؤدعليه‌السلام نے سجدے کی حالت میں پکارا پس بخش دی تو نے اسکی بھول اور بواسطہ تیرے نام کے جسکے ساتھ تجھے آسیہ زوجہ

امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ إذْ قالَتْ رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ وَنَجِّنِی مِنْ فِرْعَوْنَ

فرعون نے پکارا جب کہنے لگی کہ میرے رب میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اسکے عمل سے نجات

وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِی مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَها دُعائَهَا، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ

دے اور مجھے ظالموں کے گروہ سے نجات دے پس تو نے اسکی دعا سن لی اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے

بِهِ أَیُّوبُ إذْ حَلَّ بِهِ الْبَلائُ فَعافَیْتَهُ وَآتَیْتَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِکَ

ایوبعليه‌السلام نے پکارا جب ان پر سختی آن پڑی پس تونے انکو نجات دی اور اپنی رحمت سے انہیں اہلبیت دیئے اور ان جیسے اور بھی عطا کیئے

وَذِکْری لِلْعابِدِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ یَعْقُوبُ فَرَدَدْتَ عَلَیْهِ بَصَرَهُ

تاکہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار بنے اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے یعقوبعليه‌السلام نے پکارا پس تو نے انہیں

وَقُرَّةَ عَیْنِهِ یُوسُفَ وَجَمَعْتَ شَمْلَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ سُلَیْمانُ

آنکھیں واپس دیں اور انکا نور نظر یوسفعليه‌السلام بھی اور اس بکھرے خاندان کو یکجاہ کردیا اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے

فَوَهَبْتَ لَهُ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لاََِحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنَّکَ أَ نْتَ الْوَهَّابُ،

سلیمانعليه‌السلام نے پکارا پس تو نے انہیں ایسا ملک و حکومت بخشا جو ان کے بعد کسی کیلئے نہیں بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے اور بواسطہ

وَبِاسْمِکَ الَّذِی سَخَّرْتَ بِهِ الْبُراقَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إذْ قالَ تَعالی

تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تو نے براق کو بخاطر محمد مطیع کیا جیساکہ فرمایا خدائے تعالیٰ

سُبْحانَ الَّذِی أَسْری بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصی

نے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی راتوں رات کعبہ شریف سے مسجد اقصی تک کی

وَقَوْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنا هَذا وَما کُنَّا لَهُ مُقْرِنِینَ وَ إنَّا إلی رَبِّنا لَمُنْقَلِبُونَ

اور قول خدا ہے پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لئے مطیع کیا ورنہ ہم میں ایسی طاقت نہ تھی اور اپنے

وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَنَزَّلَ بِهِ جَبْرَائِیلُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَبِاسْمِکَ

پروردگار کی طرف پلٹنے والے ہیں اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسے جبرائیل حضرت محمد کے پاس لے کے آئے ۔اور

الَّذِی دَعاکَ بِهِ آدَمُ فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ وَأَسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ، وَأَسْأَ لُکَ بِحَقِّ الْقُرْآنِ

بواسطہ تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تجھے آدمعليه‌السلام نے پکارا پس معاف کی تو نے ان کی بھول اور انہیں اپنی جنت میں ٹہرایا اور سوال

الْعَظِیمِ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ ، وَبِحَقِّ فَصْلِکَ

کرتا ہوں تجھ سے عظمت والے قرآن کے واسطے سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبیوں کے خاتم کے واسطے سے اور ابراہیمعليه‌السلام کے واسطے سے اور

یَوْمَ الْقَضائِ، وَبِحَقِّ الْمَوازِینِ إذا نُصِبَتْ، وَالصُّحُفِ إذا نُشِرَتْ، وَبِحَقِّ الْقَلَمِ

قیامت کے روز تیرے فیصلے کے واسطے سے اور میزان و عدل کے واسطے سے جب نصب کی جائے گی اور صحیفے کھولے جائیں گے

وَمَا جَری، وَاللَّوْحِ وَمَا أَحْصی، وَبِحَقِّ الاسْمِ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ

اور قلم کے واسطے سے جب وہ چلے گا اور لوح کے واسطے سے جب وہ پر ہوجائے گی اور اس نام کے واسطے سے جس کو تونے عرش

الْعَرْشِ قَبْلَ خَلْقِکَ الْخَلْقَ وَالدُّنْیا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ بِأَ لْفَیْ عامٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ

کے پردوں پر لکھااس سے پہلے کہ تونے مخلوق، سورج اور چاند کو دو ہزار سال میں بنایا اور گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوائ

إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس نام کے

الْمَخْزُونِ فِی خَزائِنِکَ الَّذِی اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ لَمْ یَظْهَرْ عَلَیْهِ

جو تیرے خزانوں میں محفوظ ہے جسکو خاص کیا ہے تونے علم غیب کے ساتھ اپنے حضور میں جس پر تیری مخلوق میں سے کوئی بھی آگاہ

أَحَدٌ مِنْ خَلْقِکَ لاَ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ عَبْدٌ مُصْطَفی وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

نہیں ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی بھیجا ہوا نبی اور نہ ہی کوئی برگزیدہ بندہ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جس

الَّذِی شَقَقْتَ بِهِ الْبِحارَ وَقامَتْ بِهِ الْجِبالُ وَاخْتَلَفَ بِهِ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ وَبِحَقِّ السَّبْعِ

کے ساتھ تو نے دریاؤں کو چیرا پہاڑوں کو قائم فرمایا اور اس سے دن رات میں تفریق کی ہے اور بواسطہ دوبارہ نازل ہونے والی

الْمَثانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَبِحَقِّ الْکِرامِ الْکاتِبِینَ، وَبِحَقِّ طه وَیسَ وَکَهیعَصَ،

سات آیتوں اور عظمت والے قرآن کے بواسطہ عزت والے کاتبوں کے بواسطہ طہ و یٰس اور کھیعص

وَحمَعَسَقَ، وَبِحَقِّ تَوْراةِ مُوسی، وَ إنْجِیلِ عِیسی، وَزَبُورِ داوُدَ، وَفُرْقانِ مُحَمَّدٍ

اور حمعسق اور بواسطہ موسٰیعليه‌السلام کی توریت عیسیٰعليه‌السلام کی انجیل داؤدعليه‌السلام کی زبور اور بواسطہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قرآن

صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ الرُّسُلِ وَباهِیّاً شَراهِیّاً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ

کے خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل پر اور تمام رسولوں پر اور اپنے دونوں اسمائ اعظم پر اے ﷲ میں سوال کرتا ہوں تجھ سے

تِلْکَ الْمُناجاةِ الَّتِی کانَتْ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مُوسَی بْنِ عِمْرانَ فَوْقَ جَبَلِ طُورِ سَیْنائَ

بواسطہ اس راز و نیاز کے جو تیرے اور موسیٰعليه‌السلام بن عمران کے درمیان طور سینا ئ کے با برکت پہاڑ پر ہوا تھا

وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی عَلَّمْتَهُ مَلَکَ الْمَوْتِ لِقَبْضِ الْاَرْواحِ، وَأَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ

اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو تونے روحیں قبض کرنے کیلئے فرشتہ موت کو تعلیم فرمایا اور سوال کرتا ہوں تجھ

الَّذِی کُتِبَ عَلَی وَرَقِ الزَّیْتُونِ فَخَضَعتِ النِّیرانُ لِتِلْکَ الْوَرَقَةِ فَقُلْتَ یا نارُ کُونِی

سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو شجر زیتون کے پتے پر لکھا گیا پس دوزخ اس پتے کے آگے جھک گیاپھر کہا تونے کہ اے آگ

بَرْداً وَسَلاماً وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ الْمَجْدِ وَالْکَرامَةِ، یَا مَنْ

ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی والی اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جسے تونے عزت اور بزرگی کے پردوں پر لکھا ہے

لاَ یُخْفِیهِ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُهُ نائِلٌ، یَا مَنْ بِهِ یُسْتَغاثُ وَ إلَیْهِ یُلْجَأُ، أَسْأَلُکَ

اے وہ کہ جسے سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور عطائ سے کمی نہیں آتی اے وہ جس سے مدد مانگی اور جس سے پناہ لی جاتی ہے سوال کرتا

بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ، وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ، وَجَدِّکَ

ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے عرش کے عزت والے مقامات تیری کتاب میں موجود انتہائی رحمت کے اور بواسطہ تیرے اسم اعظم

الْاَعْلی وَکَلِماتِکَ التَّامَّاتِ الْعُلی اَللّٰهُمَّ رَبَّ الرِّیاحِ وَمَا ذَرَتْ وَالسَّمائِ وَمَا أَظَلَّتْ

تیری بلند شان اور تیرے کامل اور بلندتر کلمات کے اے اللہ اے ہواؤں اور ان کے اثرات کے رب اے آسمان اور اس کے سایہ

وَالْاَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ وَالشَّیاطِینِ وَمَا أَضَلَّتْ، وَالْبِحارِ وَمَا جَرَتْ، وَبِحَقِّ کُلِّ حَقٍّ

کے رب اے زمین اور اس کے بوجھ کے رب اے شیطانوں اور ان کے گمراہ کردہ کے رب اے دریاؤں اور ان کی روانی کے رب

هُوَ عَلَیْکَ حَقٌّ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالرَّوْحانِیِّینَ وَالْکَرُوبِیِّینَ وَالْمُسَبِّحِینَ

اور بواسطہ ہر اس حق کے جو تجھ پر ہے اور بواسطہ مقرب فرشتوں روحانیوں کروبیوں اور رات اور دن میں

لَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ لاَ یَفْتُرُونَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ خَلِیلِکَ، وَبِحَقِّ کُلِّ وَ لِیٍّ یُنادِیکَ

تیری تسبیح کرنے والوں کے جو تھکتے نہیں ہیں اور بواسطہ تیرے خلیل ابراہیمعليه‌السلام کے اور بواسطہ تیرے ہر دوست کے جو صفا و مروہ کے

بَیْنَ الصَّفا وَالْمَرْوَةِ وَتَسْتَجِیبُ لَهُ دُعائَهُ، یَا مُجِیبُ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذِهِ الْاَسْمائِ

درمیان تجھے پکارتا ہے اور تو اس کی دعا قبول کرتا ہے اے قبول کرنے والے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ ان ناموں کے

وَبِهذِهِ الدَّعَواتِ أَنْ تَغْفِرَ لَنٰا مَا قَدَّمْنا وَمَا أَخَّرْنٰا وَمَا أَسْرَرْنٰا وَمَا أَعْلَنَّا

اور بواسطہ ان دعاؤں کے یہ کہ ہمارے گناہ بخش دے جو ہم کرچکے اور کریں گے اور جو ہم نے چھپ کر کیے ہیں اور جو ظاہر کیے ہیں

وَمَا أَبْدَیْنٰا وَمَا أَخْفَیْنٰا وَمَا أَ نْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَّا إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

اور جو ہم نے بیان کیے ہیں اور جو ہم نے چھپائے اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا حافِظَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، یَا قُوَّةَ

بذریعہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے ہر بے وطن کے نگہبان اے ہر تنہا کے مونس وغمخوار اے ہر کمزور

کُلِّ ضَعِیفٍ یَا ناصِرَ کُلِّ مَظْلُومٍ، یَا رازِقَ کُلِّ مَحْرُومٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ مُسْتَوْحِشِ

کی قوت اے ہر ستم دیدہ کی مدد کرنے والے اے ہر محروم کے رازق اے ہر خوف زدہ کے ہمدم

یَا صاحِبَ کُلِّ مُسافِرٍ، یَا عِمادَ کُلِّ حاضِرٍ، یَا غافِرَ کُلِّ ذَ نْبٍ وَخَطِیئَةٍ، یَا غِیاثَ

اے ہر مسافر کے ہمراہی اے ہر حاضر کے سہارے اے ہر گناہ اور خطا کے بخشنے والے اے فریادیوں کے

الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا کاشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا فارِجَ هَمِّ

فریادرس اے ہر پکارنے والے کی (پکار) سننے والے اے دکھیارے لوگوں کے دکھوں کے دور کرنے والے اے غم زدوں کے غم

الْمَهْمُومِینَ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرَضِینَ، یَا مُنْتَهی غایَةِ الطَّالِبِینَ، یَا مُجِیبَ

مٹانے والے اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے اے طلبگاروںکے مقصد کی انتہائ اے پریشان لوگوںکی دعا

دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا دَیَّانَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا

قبول کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے سب جہانوں کے رب اے یوم جزا کو بدلہ دینے والے اے عطا

أَجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ

کرنے والوں سے زیادہ عطا کرنے والے اے مہربانوں سے زیادہ مہربان اے سننے والوں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے

النَّاظِرِینَ، یَا أَ قْدَرَ الْقادِرِینَ، اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ

والوں سے زیادہ دیکھنے والے اے طاقتوروں سے زیادہ طاقت والے میرے وہ گناہ معاف کردے جو نعمتوں سے محروم کرتے ہیں

الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ النَّدَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ السَّقَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ

میرے وہ گناہ بخش دے جو شرمندگی کا باعث بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو بیماریاں پیدا کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش

الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ

دے جو پردوں کو فاش کرتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو دعا کو روک دیتے ہیںمیرے وہ گناہ بخش دے

الَّتِی تَحْبِسُ قَطْرَ السَّمائِ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ

جو بارشوں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو جلد موت لاتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو بدبختی

الَّتِی تَجْلِبُ الشَّقائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُظْلِمُ الْهَوائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی

کا موجب بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو میری دنیا کو تاریک کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو

تَکْشِفُ الْغِطائَ ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا ﷲ، وَاحْمِلْ عَنِّی کُلَّ

بے پردگی کا سبب بنتے ہیں اور میرے وہ گناہ معاف کردے جن کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا اے اللہ! تیری مخلوق میں سے

تَبِعَةٍ لاََِحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً وَیُسْراً وَأَنْزِلْ یَقِینَکَ

مجھ پر کسی کا جو بوجھ ہے وہ مجھ سے ہٹادے میرے کاموں میںکشائش آسانی اور سہولت پیدا کردے میرے سینے میں اپنا یقین اور

فِی صَدْرِی، وَرَجائَکَ فِی قَلْبِی حَتَّی لاَ أَرْجُوَ غَیْرَکَ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِی وَعافِنِی

میرے دل میں اپنی امید کو جگہ دے یہاں تک کہ تیرے غیر سے امید نہ رکھوں اے اللہ! میرے مقام میں میری حفاظت کر

فِی مَقامِی وَاصْحَبْنِی فِی لَیْلِی وَنَهارِی، وَمِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی

اور مجھے پناہ دے اور میرے ساتھ رہ دن میں رات میں میری نگہبانی کر میرے آگے سے پیچھے سے میرے دائیں

وَعَنْ شِمالِی وَمِنْ فَوْقِی وَمِنْ تَحْتِی، وَیَسِّرْ لِیَ السَّبِیلَ، وَأَحْسِنْ لِیَ التَّیْسِیرَ،

سے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور نیچے سے اور میرا راستہ آسان کردے میرے لیے بہتر آسائش پیدا کردے

وَلاَ تَخْذُلْنِی فِی الْعَسِیرِ وَاهْدِنِی یَا خَیْرَ دلِیلٍ، وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی فِی الاَُْمُورِ

اور مجھے تنگی میں ذلیل و خوار نہ کر مجھے راہ سمجھا دے اے بہترین رہبر اور معاملات میں مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر مجھے ہر طرح

وَلَقِّنِی کُلَّ سُرُورٍ وَاقْلِبْنِی إلی أَهْلِی بِالْفَلاحِ وَالنَّجاحِ مَحْبُوراً فِی الْعاجِلِ وَالْآجِلِ

کی خوشی عطا فرما اور بہتری اور کامیابی کے ساتھ اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے ساتھ مجھے اپنے کنبے میں واپس لے چل

إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ طَیِّباتِ رِزْقِکَ،

بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور مجھ پر اپنا فضل و کرم کر میرے لیے اپنے پاکیزہ رزق میں فراوانی فرما

وَاسْتَعْمِلْنِی فِی طاعَتِکَ، وَأَجِرْنِی مِنْ عَذابِکَ وَنارِکَ، وَاقْلِبْنِی إذا تَوَفَّیْتَنِی إلی

مجھے اپنی فرمانبرداری میں لگادے مجھے اپنی سزا اور آگ سے پناہ دے اور جب تو مجھے وفات دے تو اپنی رحمت سے مجھے جنت میں

جَنَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوالِ نِعْمَتِکَ، وَمِنْ تَحْوِیلِ عافِیَتِکَ

پہنچادے اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھ سے تیری نعمت چھن جائے اور تیری نگہبانی حاصل نہ رہے اور تیری پناہ

وَمِنْ حُلُولِ نَقِمَتِکَ وَمِنْ نُزُولِ عَذابِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ جَهْدِ الْبَلائِ وَدَرَکِ الشَّقائِ

چاہتا ہوں تیری طرف سے سختی اورعذاب کے آنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں سخت آزمائش سے بدبختی کے آنے سے

وَمِنْ سُوئِ الْقَضائِ، وَشَماتَةِ الْاَعْدائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا

بری تقدیر سے دشمنوں کے طعن سے اور اس تکلیف سے جو آسمان سے نازل ہو اور ہر اس برائی سے جس کا

فِی الْکِتابِ الْمُنْزَلِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْاَشْرارِ، وَلاَ مِنْ أَصْحابِ النَّارِ، وَلاَ

ذکر نازل شدہ کتاب میں ہے اے اللہ! مجھے برے لوگوں میں قرار نہ دے اور نہ ہی اہل جہنم میں سے قرار دے اور نہ ہی مجھے نیک

تَحْرِمْنِی صُحْبَةَ الْاَخْیارِ، وَأَحْیِنِی حَیَاةً طَیِّبَةً، وَتَوَفَّنِی وَفاةً طَیِّبَةً تُلْحِقُنِی

افراد کی صحبت سے محروم رکھ مجھے پاکیزہ زندگی نصیب کرمجھ کو بہترین حالت میں موت دے نیکوکاروں میں شامل کردینا

بِالْاَ بْرارِ، وَارْزُقْنِی مُرافَقَةَ الْاَنْبِیائِ فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ اَللّٰهُمَّ لَکَ

مجھے انبیائ کا ساتھ عطا فرمانا اس مقام صدق و صفا میں جو تیری زبردست حکومت میں ہے اے معبود! حمد تیرے ہی

الْحَمْدُ عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی الْاِسْلامِ وَاتِّباعِ السُّنَّةِ، یَا

لیے ہے تیری طرف سے بہترین آزمائش میں مدد کرنے پر اور حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے اسلام کی پیروی اور سنت پر عمل کرنے کی

رَبِّ کَما هَدَیْتَهُمْ لِدِینِکَ وَعَلَّمْتَهُمْ کِتابَکَ فَاهْدِنا وَعَلِّمْنا، وَلَکَ الْحَمْدُ

توفیق دی ہے اے پروردگار جیسے تونے ان کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کی اپنی کتاب انہیں سکھائی پس ہماری بھی رہنمائی کر اور

عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ عِنْدِی خاصَّةً کَما خَلَقْتَنِی

ہمیں سکھا اور حمد تیرے لیے ہے بہترین آزمائش پر اور اس خاص احسان پر جو تو نے مجھ پر کیا ہے جیسا کہ تو نے مجھے پیدا کیا ہے تو

فَأَحْسَنْتَ خَلْقِی وَعَلَّمْتَنِی فَأَحْسَنْتَ تَعْلِیمِی وَهَدَیْتَنِی فَأَحْسَنْتَ هِدایَتِی، فَلَکَ

اچھی صورت دی ہے مجھے علم سکھایا تو بہترین تعلیم دی ہے اور میری رہنمائی کی تو کیا خوب رہنمائی کی ہے پس حمد تیرے

الْحَمْدُ عَلَی إنْعامِکَ عَلَیَّ قَدِیماً وَحَدِیثاً، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ فَرَّجْتَهُ وَکَمْ

لیے ہے کہ تو نے مجھے اول سے آخر تک مسلسل نعمتیں دیں پس اے میرے سردار کتنے ہی دکھ تھے جو تو نے دور کردیے میرے آقا

مِنْ غَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ نَفَّسْتَهُ وَکَمْ مِنْ هَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ کَشَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ بَلائٍ یَا

کتنے ہی غم تھے جو تو نے مٹادیے اے میرے مالک! کتنے ہی اندیشے تھے جو تو نے محو کردیئے اے میرے

سَیِّدِی قَدْ صَرَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ عَیْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ سَتَرْتَهُ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ حالٍ

آقا کتنی ہی پریشانیاں تھیں جو تو نے ختم کردیںاور کتنے ہی عیب تھے جو تو نے ڈھانپ لیے پس حمد تیرے لیے ہے

فِی کُلِّ مَثْویً وَزَمَانٍ وَمُنْقَلَبٍ وَمَقامٍ وَعَلَی هذِهِ الْحالِ وَکُلِّ حالٍ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی

ہر ایک حال میں ہرجگہ ہر زمانے میں ہر ایک منزل اور ہر ایک مقام پر اور اس موجودہ حالت میں اور ہر حالت میں اے معبود! آج

مِنْ أَفْضَلِ عِبادِکَ نَصِیباً فِی هذَا الْیَوْمِ مِنْ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ أَوْ ضُرٍّ تَکْشِفُهُ، أَوْ سُوئٍ

کے دن مجھے حصہ و نصیب کے لحاظ سے اپنے سب بندوں سے برتر قرار دے اس بھلائی میں جوتو نے تقسیم کی یا جو تکلیف تو نے دور

تَصْرِفُهُ أَوْ بَلائٍ تَدْفَعُهُ أَوْ خَیْرٍ تَسُوقُهُ، أَوْ رَحْمَةٍ تَنْشُرُها، أَوْ عافِیَةٍ تُلْبِسُها فَ إنَّکَ

کی یا جو برائی تو نے ہٹائی یا جو سختی تو نے ٹالی یا جو خیر تو نے عطا کی یا جو رحمت تو نے عام کی یا جو عافیت تو نے عنایت کی ہے کہ بے شک

عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِیَدِکَ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَأَنْتَ الْواحِدُ الْکَرِیمُ

تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے تیرے قبضے میں ہیںاور تو وہ یکتا بزرگی والا

الْمُعْطِی الَّذِی لاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُهُ، وَلاَ یَنْقُصُ نائِلُهُ، وَلاَ یَنْفَدُ مَا عِنْدَهُ

عطا کرنے والا ہے جو کسی سائل کو ہٹکاتا نہیں کسی امیدوار کو مایوس نہیں کرتا اور جس کی عطاکم نہیں ہوتی اور جو کچھ اس کے پاس ہے

بَلْ یَزْدادُ کَثْرَةً وَطِیباً وَعَطائً وَجُوداً، وَارْزُقْنِی مِنْ خَزٰائِنِکَ الَّتِی لاَ تَفْنی، وَمِنْ

ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑھتاہے مقدارمیں پاکیزگی میں عطا میں اور سخاوت میں اور مجھے اپنے ان خزانوں سے عنایت کر جو ختم نہیں

رَحْمَتِکَ الْواسِعَةِ إنَّ عَطائَکَ لَمْ یَکُنْ مَحْظُوراً وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ بِرَحْمَتِکَ

ہوتے اور اپنی وسیع رحمت میں سے مجھے عطا کر کہ بے شک تیری عطا کبھی بند نہیں ہوتی اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اپنی رحمت کے

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

( ۲ )وہ دس تسبیحات جو سید نے ذکر کی ہیں ان کو ہزار مرتبہ پڑھے اور وہ روز عرفہ کے اعمال میں آئیںگیں۔

( ۳ )دعااَللّٰهُمَّ تَعَبَّأَ وَ تَهَیَّأَ پڑھے کہ جو شب جمعہ کے اعمال میں مذکور ہے اور اسے روز عرفہ میں پڑھنا بھی وارد ہوا ہے۔

( ۴ )زمین کربلا میں امام حسین -کی زیارت کرے اور یوم عید تک وہیں رہے تا کہ اس سال میں ہر شر سے محفوظ رہ سکے۔

نویں ذی الحجہ کا دن

یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی عید کا دن ہے۔ اگر چہ اس کو عید کے نام سے موسوم نہیں کیا گیا، یہی وہ دن ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے بندوں کو اپنی اطاعت و عبادت کی طرف بلایاہے ، آج کے دن ان کے لیے اپنے جود و سخا کا دسترخوان بچھایا ہے اور آج شیطان کو دھتکارا گیا اور وہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔

روایت ہے کہ امام زین العابدین -نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے حالانکہ آج تو یہ امید ہے کہ ماؤں کے پیٹ کے بچے بھی خدا کے لطف و کرم سے مالامال ہو کر سعید و خوش بخت ہو جائیں ۔

اس دن کے چند ایک اعمال ہیں:

( ۱ )غسل کرے۔

( ۲ )امام حسین -کی زیارت کرے اس کا ثواب ہزار حج وعمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں ۔ کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے سائے میں رہے تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں زیادہ ہے اور وہ ان لوگوں سے مقدم ہے۔ حضرت کی زیارت کی کیفیت باب زیارت میں آئے گی ۔ تا ہم یہ یاد رہے کہ یہ ثواب اور درجہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنا واجب حج چھوڑ کر زیارات کو نہ گیا ہو۔

( ۳ )نماز عصر کے بعد دعائ عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دو رکعت نماز بجا لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کا ثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد ائمہ طاہرین ٪کے حکم کے مطابق دعائ عرفہ پڑھے اور اعمال عرفہ بجا لائے اور یہ اعمال بہت زیادہ ہیں کہ اس مختصر کتاب میں ان کا بیان ممکن نہیں، پھر بھی حسب گنجائش ہم یہاں چند اعمال کا ذکر کرتے ہیں۔

شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعائ عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری کا بھی خوف نہ ہو۔ زوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اور شب عرفہ وروز عرفہ زیارت امام حسین -بھی مستحب ہے۔

زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر و عصر نہایت متانت اور سنجیدگی سے بجا لائے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے، اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہررکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی پڑھے:

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ چار رکعت وہی امیر المومنین -کی نماز ہے جو اعمال روز جمعہ میں مذکور ہے، پھر فرماتے ہیں کہ چار رکعت نماز کے بعد یہ دس تسبیحات پڑھے۔ جو رسول اللہ سے مروی ہیں اور سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اقبال میں درج کیں اور وہ یہ ہیں۔

سُبْحانَ الَّذِی فِی السَّمائِ عَرْشُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْاَرْضِ حُکْمُهُ سُبْحانَ الَّذِی

پاک ہے وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے پاک ہے وہ خدا جس کا حکم زمین میں نافذ ہے پاک ہے وہ خد اجس کا

فِی الْقُبُورِ قَضاؤُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْبَحْرِ سَبِیلُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی النَّارِ سُلْطانُهُ

فیصلہ قبروں میں نافذ ہے پاک ہے وہ خدا جس کا دریا میں راستہ ہے پاک ہے وہ خدا جو جہنم پر اختیار رکھتا ہے

سُبْحانَ الَّذِی فِی الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْقِیامَةِ عَدْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی رَفَعَ

پاک ہے وہ خدا جنت میں جس کی رحمت ہے پاک ہے وہ خداقیامت میں جس کا عدل ہے پاک ہے وہ خدا جس نے آسمان

السَّمائَ سُبْحانَ الَّذِی بَسَطَ الْاَرْضَ سُبْحانَ الَّذِی لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجی مِنْهُ إلاَّ إلَیْهِ

بلند کیا پاک ہے وہ خدا جس نے زمین بچھائی پاک ہے وہ خدا جس سے پناہ و نجات نہیں مگر اسی کے ہاں سے

پھر سو مرتبہ کہے :سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ ﷲ اَکْبَرُ نیز سورہ توحید و آیت الکرسی اور صلوات

اللہ پاک ہے اللہ ہی کے لیے حمد ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اورا للہ بزرگتر ہے

سوسو مرتبہ پڑھے، دس مرتبہ کہے:لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَحْدَه، لَا شَرِیْکَ لَه، لَه، الْمُلْکُ وَ لَهُ

نہیںکوئی معبود سوائے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں اسی کے لیے حکومت اور حمد

الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ یُمِیْتُ وَ یُحْیِیْ وَ هُوَ حَیُّ، لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ

وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ ایسازندہ ہے جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ

عَلیٰ کُلِّ شَئْیٍ قَدِیْرُ ، دس مرتبہ کہے:اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذٰی لاٰ اِلهَ اِلاّٰ هُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ

ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے بخشش چاہتاہوں اس اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ و پائندہ ہے اور

وَاَتَوُبُ اِلَیْہِ دس مرتبہ کہے: یٰا ﷲ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحْمٰنُ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحیٰمُ دس مرتبہ کہے:

میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں اے اللہ اے بڑے مہربان اے رحم والے

یٰا بَدیٰعُ السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ یٰا ذَا الْجَلاٰلِ وَ الْاِکْرٰامِ دس مرتبہ کہے:یٰا حَيُّ یَا قَیُّومُ

اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے جلالت و بزرگی کے مالک اے

دس مرتبہ کہے: یٰا حَنَّانُ یٰا مَنَّانُ دس مرتبہ کہے: یٰا لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ اَنْتَ دس

زندہ اے پائندہ اے محبت والے اے احسان والے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں

مرتبہ کہے: آمین پھر یہ کہے :اَللّٰهُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ یٰا مَنْ هُوَ اَقْرَبُ اِلَیَّ مِنْ حَبْلِ

اے معبود! سوال کرتا ہوں تجھ سے اے وہ جو شہ رگ سے زیادہ میرے قریب و نزدیک

الْوَریٰد یٰا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِه یَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی وَ بِالْاُفُقِ

ہے اے وہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اے وہ جو بلند مقام اور واضح

الْمُبیٰنِ یٰا مَنْ هُوَ الْرَحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰی یٰا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ

افق میں ہے اے وہ جو بڑے رحم والا ہے اور عرش پر مسلط ہے اے وہ جس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ

سَمیٰعُ الْبَصٰیرْ اَسْئَلُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ

سننے دیکھنے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما ۔

پس اپنی حاجت طلب کرے کہ انشائ ﷲ پوری ہوگی ۔

امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص یہ صلوات پڑھے تو گویا اس نے اہل بیتعليه‌السلام کو مسرور کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطی، وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

اے اللہ! اے ہر عطا کرنے والے سے زیادہ سخی اے ہر سوال کئے ہوئے سے بہتر اور اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اے اللہ

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَی

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور انکی آل پر رحمت نازل فرما پہلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی آل پر رحمت نازل کر پچھلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلیٰ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ

اور ان کی آل پر رحمت نازل کر معالم بالا میں اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل کر مرسلوں کے ساتھ اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّداً وَآلَهُ الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالرِّفْعَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ إنِّی

و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ذریعہ و وسیلہ بڑائی بزرگی بلندی اور بہت بڑا درجہ و مقام عطا کر اے اللہ! بے شک میں

آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی فِی الْقِیامَةِ رُؤْیَتَهُ

ایمان لایا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میںمجھے ان کے دیدار سے محروم نہ رکھنا

وَارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ، وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِ، وَاسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَباً رَوِیّاً ساِئغاً

اور ان کی صحبت نصیب کرنا نیز مجھے ان کے دین پر موت دے ان کے حوض کوثر میں سے پانی پلانا جو سیر کردینے والا خوش مزہ و

هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَداً، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی

شیریں ہو کہ اس کے بعد میں کبھی پیاسا نہ ہوں بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بیشک میں ایمان لاتا ہوں حضرت محمد

ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَعَرِّفْنِی فِی الْجِنانِ وَجْهَهُ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ

پر اور انہیں دیکھا نہیں پس جنت میں مجھے ان کی پہچان کرادینا اے اللہ! پہنچادے حضرت محمد

عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،

کو میری طرف سے بہت بہت آداب اور سلام۔

اس کے بعد دعائ ام داؤد پڑھے جو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے۔

پھر یہ تسبیح پڑھے کہ جس کے ثواب کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا اور بوجہ اختصا ر ہم نے اس کوبیان نہیں کیا ، وہ تسبیح یہ ہے:

سُبْحانَ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ

پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز سے پہلے ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے بعد ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے ساتھ ہے

وَسُبْحانَ ﷲ یَبْقی رَبُّنا وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

پاک ہے خدا ہمارا رب جو وہ باقی رہے گا جب کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر ایک چیز سے پہلے اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍوَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیز کے بعد اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیزکے ساتھ اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً لاَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے کہ ہمارا رب باقی رہے گاجب کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی پاک ہے نہایت پاکیزہ ہے کہ

یُحْصی وَلاَ یُدْری وَلاَ یُنْسی وَلاَ یَبْلی وَلاَ یَفْنی وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهی وَسُبْحانَ ﷲ

شمار نہیں ہوسکتا سمجھ میں نہیں آتا فراموش نہیں ہوتا پرانا نہیں ہوتا ناپید نہیں ہوتا اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے پاک ہے خدا

تَسبِیحاً یَدُومُ بِدَوامِهِ وَیَبْقی بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ

نہایت پاکیزہ ہے جو ہمیشہ ہے اسکی ہمیشگی سے باقی ہے اسکی بقاکیساتھ جہانوں کے برسوں ہر زمانے کے مہینوں دنیا کے تمام دنوں

الدُّنْیا وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَسُبْحانَ ﷲ أَبَدَ الْاَبَدِ وَمَعَ الْاَ بَدِ مِمّا لاَ یُحْصِیهِ

اور رات دن کی ہر ہر گھڑی میں پاک ہے وہ خدا جو ہمیشہ ہمیشہ ہے ہمیشگی کے ساتھ کہ جس کی ذات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا وہ زمانہ

الْعَدَدُ، وَلاَ یُفْنِیهِ الْاَمَدُ، وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاَ بَدُ، وَ تَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ

گزرنے سے فنا نہیں ہوا اور ہمیشگی اس سے جدا نہیں ہوسکتی اور برکت والا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے۔

پھر کہے :وَالْحَمْدُ ﷲِ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ وَالْحَمْدُ ﷲِ بَعْدَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہ

حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز سے پہلے اور حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے بعد

سُبْحَانَ ﷲ کی بجائےاَلْحَمْدُ ﷲِ کہے اور جباَحْسَنُ الْخَالِقِین تک پہنچے تو کہےلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ

پاک ہے خدا حمد خدا ہی کے لیے ہے جو بہترین خالق ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک مگر ہر جگہسُبْحَانَ ﷲ ہے وہاںلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ کہے اور اسکے بعد کہے

جو ہر چیز سے پہلے ہے۔ پاک ہے خدا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

وَﷲ اَکْبَرُ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہسُبْحٰانَ ﷲ کی بجائے ﷲ اَکْبَرُکہے پھر یہ

سب سے بڑا ہے خدا جو ہرچیز سے پہلے ہے پاک ہے ﷲ خدا بزرگتر ہے

دعا پڑھے جو شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوئی ہےاَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَیَّأ َ۔بعد میں امام زین العابدین-

اے اللہ! جو آمادہ ہؤا اور تیار ہوا

کی یہ دعا پڑھے جو شیخ طوسیرحمه‌الله نے مصباح المتہجد میں ذکر کی ہے:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعٰالَمیٰنَ

اے اللہ! تو ہی وہ خدا ہے جو جہانوں کا رب ہے۔

دعائے عرفہ امام حسین

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ دعا مقام عرفات کی ہے اور پھرطویل بھی ہے۔ لہذا ہم نے یہاں درج نہیں کی ہے۔علاوہ ازیں آج کے دن امام زین العابدین -ہی کی وہ دعا پڑھے جو صحیفہ کاملہ میں سینتالیسویں دعا ہے اور دونوں جہانوں کے تمام مطالب و مقاصد پر مشتمل ہے۔ اس دعائ کو صدق دل سے پڑھنے والے پر خد اکی رحمت ہو۔

اس دن پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ایک امام حسین -کی دعا ہے بشر وبشیر پسران غالب اسدی سے روایت ہے کہ روز عرفہ بوقت عصر میدان عرفات میں ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تب آپ اپنے فرزندوں اور شیعوں کے ساتھ نہایت عاجزانہ طور پراپنے خیمے سے باہر آئے اور پہاڑ کی بائیں طرف کھڑے ہوکر کعبے کی طرف رخ کرلیا، اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے لا کر پھیلادیئے۔ خدا کے حضور عاجزی اور انکساری کی حالت میں یہ کلمات کہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَیْسَ لِقَضائِهِ دافِعٌ، وَلاَ لِعَطائِهِ مانِعٌ، وَلاَ کَصُنْعِهِ صُنْعُ صانِعٍ

حمد ہے خدا کے لیے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں کوئی اس کی عطا روکنے والا نہیں اور کوئی اس جیسی صنعت والا نہیں

وَهُوَ الْجَوادُ الْواسِعُ، فَطَرَ أَجْناسَ الْبَدائِعِ، وَأَ تْقَنَ بِحِکْمَتِهِ الصَّنائِعَ، لاَ تَخْفی

اور وہ کشادگی کیساتھ دینے والاہے اس نے قسم قسم کی مخلوق بنائی اور بنائی ہوئی چیزوں کو اپنی حکمت سے محکم کیا دنیا میں آنے والی کوئی

عَلَیْهِ الطَّلائِعُ، وَلاَ تَضِیعُ عِنْدَهُ الْوَدائِعُ، جازِی کُلِّ صانِعٍ، وَرایِشُ کُلِّ قانِعٍ

چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کے ہاں کوئی امانت ضائع نہیں ہوتی وہ ہر کام پر جزا دینے والا ہے وہ ہر قانع کو زیادہ دینے والا اور ہر

وَراحِمُ کُلِّ ضارِعٍ وَمُنْزِلُ الْمَنافِعِ وَالْکِتابِ الْجامِعِ بِالنُّورِ السَّاطِعِ وَهُوَ

نالاں پر رحم کرنے والا ہے وہ بھلائیاںنازل کرنے والا اور چمکتے نور کے ساتھ مکمل و کامل کتاب اتارنے والا ہے وہ لوگوںکی

لِلدَّعَواتِ سامِعٌ، وَ لِلْکُرُباتِ دافِعٌ، وَ لِلدَّرَجاتِ رافِعٌ، وَ لِلْجَبابِرَةِ قامِعٌ، فَلا إلهَ

دعاؤں کا سننے والا لوگوںکے دکھ دور کرنے والا درجے بلند کرنے والا اور سرکشوں کی جڑ کاٹنے والا ہے پس اس کے سوا کوئی

غَیْرُهُ وَلاَ شَیْئَ یَعْدِلُهُ، وَلَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ

معبود نہیںکوئی چیز اس کے برابر کوئی چیز اس کے مانند نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے باریک بین خبر رکھنے والا ہے

وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَرْغَبُ إلَیْکَ وَأَشْهَدُ بِالرُّبُوبِیَّةِ لَکَ مُقِرّاً بِأَنَّکَ

اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بے شک میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں تیرے پروردگار ہونے کی گواہی دیتا اور

رَبِّی، وَأَنَّ إلَیْکَ مَرَدِّی، ابْتَدَأْتَنِی بِنِعْمَتِکَ قَبْلَ أَنْ أَکُونَ شَیْئاً مَذْکُوراً، وَخَلَقْتَنِی

مانتاہوں کہ تو میرا پالنے والا ہے اور تیری طرف لوٹا ہوں کہ تو نے مجھ سے اپنی نعمت کا آغاز کیا اس سے پہلے کہ میں وجود میں آتا اور تو

مِنَ التُّرابِ ثُمَّ أَسْکَنْتَنِی الْاَصْلابَ آمِناً لِرَیْبِ الْمَنُونِ وَاخْتِلافِ الدُّهُورِ وَالسِّنِینَ

نے مجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر بڑوں کی پشتوں میں جگہ دی مجھے موت سے اور ماہ وسال میں آنے والی آفات سے امن دیا پس میں

فَلَمْ أَزَلْ ظاعِناً مِنْ صُلْبٍ إلی رَحِمٍ فِی تَقادُمٍ مِنَ الْاَیَّامِ الْماضِیَةِ وَالْقُرُونِ

پے در پے ایک پشت سے ایک رحم میں آیا ان دنوں میں جو گزرے ہیں اور ان صدیوں میں جو بیت چکی

الْخالِیَةِ لَمْ تُخْرِجْنِی لِرَأْفَتِکَ بِی وَلُطْفِکَ لِی وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فِی دَوْلَةِ أَئِمَّةِ الْکُفْرِ

ہیں تو نے بوجہ اپنی محبت و مہربانی کے مجھ پر احسان کیا اور مجھے کافر بادشاہوں کے دور میں پیدا نہیں کیا کہ جنہوں نے تیرے فرمان کو

الَّذِینَ نَقَضُوا عَهْدَکَ وَکَذَّبُوا رُسُلَکَ، لَکِنَّکَ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدَی

توڑا اور تیرے رسولوں کو جھٹلایا لیکن تو نے مجھ کو اس زمانے میں پیدا کیا جس میں تھوڑے عرصے میں مجھے

الَّذِی لَهُ یَسَّرْتَنِی وَفِیهِِ أَنْشَأْتَنِی وَمِنْ قَبْلِ ذلِکَ رَؤُفْتَ بِی بِجَمِیلِ صُنْعِکَ وَسَوابِغِ

ہدایت میسر آگئی کہ اس میں تو نے مجھے پالا اور اس سے پہلے تو نے اچھے عنوان سے میرے لیے محبت ظاہر فرمائی اور بہترین نعمتیں

نِعَمِکَ فَابْتَدَعْتَ خَلْقِی مِنْ مَنِیٍّ یُمْنی، وَأَسْکَنْتَنِی فِی ظُلُماتٍ ثَلاثٍ بَیْنَ لَحْمٍ وَدَمٍ

عطا کیں پھر میرے پیدا کرنے کاآغاز ٹپکنے والے آب حیات سے کیا اور مجھ کو تین تاریکیوں میں ٹھرادیا یعنی گوشت خون اور جلد کے

وَجِلْدٍ لَمْ تُشْهِدْنِی خَلْقِی، وَلَمْ تَجْعَلْ إلَیَّ شَیْئاً مِنْ أَمْرِی، ثُمَّ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی

نیچے جہاں میں نے بھی اپنی خلقت کو نہ دیکھا اور تو نے میرے اس معاملے میں سے کچھ بھی مجھ پر نہ ڈالا پھر تو نے مجھے رحم مادر سے

سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدیٰ إلَی الدُّنْیا تامّاً سَوِیّاً، وَحَفِظْتَنِی فِی الْمَهْدِ طِفْلاً صَبِیّاً،

نکالا کہ مجھے ہدایت دے کر دنیا میں درست و سالم جسم کے ساتھ بھیجا اور گہوارے میں میری نگہبانی کی جب میں چھوٹا بچہ تھا تو

وَرَزَقْتَنِی مِنَ الْغِذائِ لَبَناً مَرِیّاً، وَعَطَفْتَ عَلَیَّ قُلُوبَ الْحَواضِنِ، وَکَفَّلْتَنِی الاَُْمَّهاتِ

نے میرے لیے تازہ دودھ کی غذا بہم پہنچائی اور دودھ پلانے والیوں کے دل میرے لیے نرم کردیے تو نے مہربان ماؤں کو میری

الرَّواحِمَ وَکَلاََْتَنِی مِنْ طَوارِقِ الْجانِّ وَسَلَّمْتَنِی مِنَ الزِّیادَةِ وَالنُّقْصانِ فَتَعالَیْتَ

پرورش کا ذمہ دار بنایا جن و پری کے آسیب سے میری حفاظت فرمائی اور مجھے ہر قسم کی کمی بیشی سے بچائے رکھا پس تو برتر ہے

یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ حَتَّی إذَا اسْتَهْلَلْتُ ناطِقاً بِالْکَلامِ أَتْمَمْتَ عَلَیَّ سَوابِغَ الْاِنْعامِ

اے مہربان اے عطاؤں والے یہاں تک کہ میں باتیں کرنے لگا اور یوں تو نے مجھے اپنی بہترین نعمتیں پوری کردیں

وَرَبَّیتَنِی زائِداً فِی کُلِّ عامٍ، حَتَّی إذَا اکْتَمَلَتْ فِطْرَتِی وَاعْتَدَلَتْ مِرَّتِی أَوْجَبْتَ عَلَیَّ

اور ہر سال میرے جسم کو بڑھایا حتی کہ میری جسمانی ترقی اپنے کمال تک پہنچ گئی اور میری شخصیت میں توازن پیدا ہوگیا تو مجھ پر تیری

حُجَّتَکَ بِأَنْ أَلْهَمْتَنِی مَعْرِفَتَکَ، وَرَوَّعْتَنِی بِعَجائِبِ حِکْمَتِکَ، وَأَیْقَظْتَنِی لِما ذَرَأْتَ

حجت قائم ہوگئی اس لیے کہ تو نے مجھے اپنی معرفت کرائی اور اپنی عجیب عجیب حکمتوں کے ذریعے مجھے خائف کردیا اورمجھے بیدار کیا

فِی سَمائِکَ وَأَرْضِکَ مِنْ بَدائِعِ خَلْقِکَ، وَنَبَّهْتَنِی لِشُکْرِکَ وَذِکْرِکَ، وَأَوْجَبْتَ

ان چیزوں کے ذریعے جو تو نے آسمان و زمین میں عجیب طرح سے خلق کیں اسطرح مجھے اپنے شکر اور ذکر سے آگاہ کیا اور مجھ پر اپنی

عَلَیَّ طاعَتَکَ وَعِبادَتَکَ وَفَهمْتَنِی مَا جائَتْ بِهِ رُسُلُکَ، وَیَسَّرْتَ لِی تَقَبُّلَ مَرْضاتِکَ

فرمانبرداری اور عبادت لازم فرمائی تو نے مجھے وہ چیز سمجھائی جو تیرے رسول لائے اور میرے لیے اپنی رضاؤں کی قبولیت آسان کی

وَمَنَنْتَ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ بِعَوْ نِکَ وَلُطْفِکَ، ثُمَّ إذْ خَلَقْتَنِی مِنْ خَیْرِ الثَّریٰ، لَمْ

تو ان سب باتوں میں مجھ پر تیرا احسان ہے اس کے ساتھ تیری مدد اور مہربانی ہے پھر جب تو نے مجھے پیدا کیا بہترین خاک سے تو

تَرْضَ لِی یَا إلهِی نِعْمَةً دُونَ أُخْری، وَرَزَقْتَنِی مِنْ أَ نْواعِ الْمَعاشِ وَصُنُوفِ

میرے لیے اے اللہ! تو نے ایک آدھ نعمت پر ہی بس نہیں کی بلکہ مجھے معاش کے کئی طریقے اور فائدے کے کئی راستے عطا کیے مجھ

الرِّیاشِ بِمَنِّکَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ عَلَیَّ، وَ إحْسانِکَ الْقَدِیمِ إلَیَّ، حَتَّی إذا أَتْمَمْتَ

پر اپنے بڑے بہت بڑے احسان و کرم سے اور مجھ پر اپنی سابقہ مہربانیوں سے یہاں تک کہ جب مجھے تو نے یہ

عَلَیَّ جَمِیعَ النِّعَمِ وَصَرَفْتَ عَنِّی کُلَّ النِّقَمِ لَمْ یَمْنَعْکَ جَهْلِی وَجُرْأَتِی عَلَیْکَ أَنْ

تمام نعمتیں دے دیں اور تکلیفیںمجھ سے دور کردیں تیرے آگے میری جرات اور میری نادانی اس میں رکاوٹ

دَلَلْتَنِی إلَی مَا یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِما یُزْ لِفُنِی لَدَیْکَ، فَ إنْ دَعَوْتُکَ

نہیں بنی کہ تو نے مجھے وہ راستے بتائے جو مجھ کو تیرے قریب کرتے اور تو نے مجھے توفیق دی کہ تیرا پسندیدہ بنوں پس میں نے جو دعا

أَجَبْتَنِی، وَ إنْ سَأَلْتُکَ أَعْطَیْتَنِی، وَ إنْ أَطَعْتُکَ شَکَرْتَنِی، وَ إنْ شَکَرْتُکَ زِدْتَنِی،

مانگی تو نے قبول کی اور جو سوال کیا وہ تو نے پورا فرمایا اگر میں نے تیری اطاعت کی تو نے قدر فرمائی اورمیں نے شکر کیا تو نے زیادہ

کُلُّ ذلِکَ إکْمالاً لاََِ نْعُمِکَ عَلَیَّ وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فَسُبْحانَکَ سُبْحانَکَ مِنْ مُبْدِیًَ

دیا یہ سب مجھ پر تیری نعمتوں کی کثرت اور مجھ پر تیرا احسان و کرم ہے پس تو پاک ہے تو پاک ہے کہ تو آغاز کرنے والا لوٹانے والا

مُعِیدٍ حَمِیدٍ مَجِیدٍ وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ، وَعَظُمَتْ آلاؤُکَ، فَأَیُّ نِعَمِکَ یَا إلهِی

تعریف والا بزرگی والا ہے اور پاک ہیں تیرے نام اور بہت بڑی ہیں تیری نعمتیں تو اے میرے خدا! تیری کس نعمت کی گنتی کروں

أُحْصِی عَدَداً وَذِکْراً أَمْ أَیُّ عَطایاکَ أَقُومُ بِها شُکْراً وَهِیَ یَا رَبِّ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ

اور اسے یاد کروں یاتیری کون کونسی عطاؤں کا شکر بجا لاؤں اور اے میرے پروردگار یہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ شمار

یُحْصِیهَا الْعادُّونَ، أَوْ یَبْلُغَ عِلْماً بِهَا الْحافِظُونَ ثُمَّ مَا صَرَفْتَ وَدَرَأْتَ عَنِّی اَللّٰهُمَّ مِنَ

کرنے والے انہیں شمار نہیں کرسکتے یا یاد کرنے والے ان کو یاد نہیں رکھ سکتے پھر اے اللہ! جو تکلیفیں

الضُّرِّ وَالضَّرَّائِ أَکْثَرُ مِمَّا ظَهَرَ لِی مِنَ الْعافِیَةِ وَالسَّرَّائِ، وَ أَنَا أَشْهَدُ

اور سختیاں تو نے مجھ سے دور کیں اور ہٹائی ہیں ان میں اکثر ایسی ہیں جن سے میرے لیے آرام اور خوشی ظاہر ہوئی ہے اور میں گواہی

یَا إلهِی بِحَقِیقَةِ إیمانِی وَعَقْدِ عَزَماتِ یَقِینِی، وَخالِصِ صَرِیحِ تَوْحِیدِی

دیتا ہوں اے اللہ! اپنے ایمان کی حقیقت اپنے اٹل ارادوں کی مظبوطی اپنی واضح و آشکار توحید

وَباطِنِ مَکْنُونِ ضَمِیرِی وَعَلائِقِ مَجارِی نُورِ بَصَرِی، وَأَسارِیرِ صَفْحَةِ جَبِینِی

اپنے باطن میں پوشیدہ ضمیر اپنی آنکھوں کے نور سے پیوستہ راستوں اپنی پیشانی کے نقوش کے رازوں

وَخُرْقِ مَسارِبِ نَفْسِی، وَخَذارِیفِ مارِنِ عِرْنِینِی، وَمَسارِبِ صِماخِ سَمْعِی، وَمَا

اپنے سانس کی رگوں کے سوراخوںاپنی ناک کے نرم و ملائم پردوں اپنے کانوں کی سننے والی جھلیوں اور اپنے

ضُمَّتْ وَأَطْبَقَتْ عَلَیْهِ شَفَتایَ، وَحَرَکاتِ لَفْظِ لِسانِی، وَمَغْرَزِ حَنَکِ فَمِی وَفَکِّی،

چپکنے اور ٹھیک بند ہونے والے ہونٹوں اپنی زبان کی حرکات سے نکلنے والے لفظوںاپنے منہ کے اوپر نیچے کے حصوںکے ہلنے اپنے

وَمَنابِتِ أَضْراسِی، وَمَساغِ مَطْعَمِی وَمَشْرَبِی، وَحِمالَةِ أُمِّ رَأْسِی، وَبُلُوعِ فارِغِ

دانتوں کے اگنے کی جگہوں اپنے کھانے پینے کے ذائقہ دار ہونے اپنے سر میں دماغ کی قرارگاہ اپنی گردن میں غذا کی

حَبائِلِ عُنُقِی وَمَا اشْتَمَلَ عَلَیْهِ تامُورُ صَدْرِی وَحَمائِلِ حَبْلِ وَتِینِی وَ نِیاطِ حِجابِ

نالیوں اور ان ہڈیوں، جن سے سینہ کا گھیرا بناہے اپنے گلے کے اندر لٹکی ہوئی شہ رگ اپنے دل میں آویزاں

قَلْبِی وَأَفْلاذِ حَواشِی کَبِدِی، وَمَا حَوَتْهُ شَراسِیفُ أَضْلاعِی، وَحِقاقُ مَفاصِلِی،

پردے اپنے جگر کے بڑھے ہوئے کناروں اپنی ایک دوسری سے ملی اور جھکی ہوئی پسلیوں اپنے جوڑوں کے حلقوں اپنے

وَقَبْضُ عَوامِلِی، وَأَطْرافُ أَنامِلِی، وَلَحْمِی وَدَمِی وَشَعْرِی وَبَشَرِی وَعَصَبِی

اعضائ کے بندھنوں اپنی انگلیوں کے پوروں اور اپنے گوشت خون اپنے بالوں اپنی جلد اپنے پٹھوں

وَقَصَبِی وَعِظامِی وَمُخِّی وَعُرُوقِی وَجَمِیعُ جَوارِحِی وَمَا انْتَسَجَ عَلَی ذلِکَ أَیَّامَ

اور نلیوں اپنی ہڈیوں اپنے مغز اپنی رگوں اور اپنے ہاتھ پاؤں اور بدن کی جو میری شیرخوارگی

رِضاعِی، وَمَا أَ قَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی وَنَوْمِی وَیَقْظَتِی وَسُکُونِی، وَحَرَکاتِ رُکُوعِی

میں پیدا ہوئیں اور زمین پر پڑنے والے اپنے بوجھ اپنی نینداپنی بیداری اپنے سکون اور اپنے رکوع

وَسُجُودِی أَنْ لَوْ حاوَلْتُ وَاجْتَهَدْتُ مَدَی الْاَعْصارِ وَالْاَحْقابِ لَوْ عُمِّرْتُها أَنْ

و سجدے کی حرکات ان سب چیزوں پر اگر تیرا شکر ادا کرناچاہوں اور تمام زمانوں اور صدیوں میں کوشاںرہوں اور عمر وفا کرے تو

أُؤَدِّیَ شُکْرَ واحِدَةٍ مِنْ أَ نْعُمِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ذلِکَ إلاَّ بِمَنِّکَ الْمُوجَبِ عَلَیَّ بِهِ

بھی میں تیری ان نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر تیرے احسان کے ذریعے جس سے مجھ پر تیرا

شُکْرُکَ أَبَداً جَدِیداً، وَثَنائً طارِفاً عَتِیداً، أَجَلْ وَلَوْ حَرَصْتُ أَ نَا وَالْعادُّونَ مِنْ

ایک اور شکر واجب ہو جاتا ہے اور تیری لگاتار ثنا واجب ہو جاتی ہے اور اگر میں ایسا کرنا چاہوں اور تیری مخلوق میں سے شمار کرنے

أَنامِکَ أَنْ نُحْصِیَ مَدی إنْعامِکَ سالِفِهِ وَآنِفِهِ مَا حَصَرْناهُ عَدَداً، وَلاَ أَحْصَیْناهُ

والے بھی شمار کرنا چاہیں کہ ہم تیری گزشتہ و آیندہ نعمتیں شمار کریں تو ہم نہ انکی تعداد کا اور نہ ان کی مدت کا حساب کرسکیں گے یہ ممکن ہی

أَمَداً هَیْهاتَ أَنَّی ذلِکَ وَأَ نْتَ الْمُخْبِرُ فِی کِتابِکَ النَّاطِقِ وَالنَّبَاََ الصَّادِقِ وَ إنْ تَعُدُّوا

نہیں ہے کیونکہ تو نے اپنی خبر دینے والی گویا کتاب میں سچی خبر دے کر بتایا ہے کہ اور اگر تم خدا کی

نِعْمَةَ ﷲ لاَ تُحْصُوها صَدَقَ کِتابُکَ اَللّٰهُمَّ وَ إنْباؤُکَ، وَبَلَّغَتْ أَ نْبِیاؤُکَ وَرُسُلُکَ مَا

نعمتوں کو گنو تو ان کا حساب نہ لگا سکوگے تیری کتاب سچی ہے اے اللہ! اور تیری خبریں بھی سچی ہیں جو تیرے نبیوں اور رسولوں نے تبلیغ

أَنْزَلْتَ عَلَیْهِمْ مِنْ وَحْیِکَ، وَشَرَعْتَ لَهُمْ وَبِهِمْ مِنْ دِینِکَ، غَیْرَ أَنِّی

کی وہ سچ ہے جو تو نے ان پر وحی نازل کی وہ سچ ہے اور جو ان کیلئے اور انکے ذریعے اپنے دین کو جاری کیا وہ سچ ہے دیگر یہ کہ اے

یَا إلهِی أَشْهَدُ بِجُهْدِی وَجِدِّی وَمَبْلَغِ طاقَتِی وَوُسْعِی، وَأَ قُولُ مُؤْمِناً مُوقِناً

میرے اللہ! گواہی دیتا ہوں میںاپنی محنت و کوشش اور اپنی فرمانبرداری و ہمت کے ساتھ اور میں ایمان و یقین سے

الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً فَیَکُونَ مَوْرُوثاً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی مُلْکِهِ

کہتا ہوں کہ حمد خدا کے لیے ہے جس نے اپنا کوئی بیٹا نہیں بنایا جو اس کا وارث ہو اور نہ ملک و حکومت میں کوئی اس کا شریک ہے جو

فَیُضادَّهُ فِیَما ابْتَدَعَ، وَلاَ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ فَیُرْفِدَهُ فِیما صَنَعَ، فَسُبْحانَهُ سُبْحانَهُ لَوْ

پیدا کرنے میں اس کا ہمکار ہو اور نہ وہ کمزور ہے کہ اشیائ کے بنانے میں کوئی اس کی مدد کرے پس وہ پاک ہے پاک ہے اگر

کانَ فِیهِما آلِهَةٌ إلاَّ ﷲ لَفَسَدَتا وَتَفَطَّرَتاسُبْحانَ ﷲ الْواحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی

زمین و آسمان میں خدا کے سوا کوئی معبود ہوتا تو یہ ٹوٹ پھوٹ کر گرپڑتے پاک ہے خدا یگانہ یکتا بے نیاز جس نے

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ حَمْداً یُعادِلُ حَمْدَ مَلائِکَتِهِ

نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے حمد ہے خدا کے لیے برابر اس حمد کے جو اس کے مقرب فرشتوں

الْمُقَرَّبِینَ وَأَ نْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی خِیَرَتِهِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ

اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں نے کی ہے اور اس کے پسند کیے ہوئے محمد نبیوں کے خاتم پر خدا کی رحمت ہو اور ان کی آل پر

الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْمُخْلَصِینَ وَسَلَّمَ

جو نیک پاک خالص ہیں اور ان پر سلام ہو ۔

پھر آپ نے خدائے تعالیٰ سے حاجات طلب کرنا شروع کیں۔ جب کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اسی حالت میں آپ بارگاہ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوئے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَخْشاکَ کَأَ نِّی أَراکَ، وَأَسْعِدْنِی بِتَقْواکَ، وَلاَ تُشْقِنِی بِمَعْصِیَتِکَ

اے اللہ! مجھے ایسا ڈرنے والا بنادے گویا تجھے دیکھ رہا ہوں مجھے پرہیزگاری کی سعادت عطا کر اور نافرمانی کے ساتھ بدبخت نہ بنا

وَخِرْ لِی فِی قَضائِکَ، وَبارِکْ لِی فِی قَدَرِکَ، حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ وَلاَ

اپنی قضا میں مجھے نیک بنادے اور اپنی تقدیر میں مجھے برکت عطا فرما یہاںتک کہ جس امر میں تو تاخیر کرے اس میں جلدی نہ چاہوں

تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ غِنایَ فِی نَفْسِی، وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَالْاِخْلاصَ

اور جس میں تو جلدی چاہے اس میں تاخیر نہ چاہوں اے اللہ! پیدا کردے میرے نفس میں بے نیازی میرے دل میں یقین میرے عمل

فِی عَمَلِی وَالنُّوْرَ فِی بَصَرِی، وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی، وَمَتِّعْنِی بِجَوارِحِی، وَاجْعَلْ

میں خلوص میری نگاہ میںنور میرے دین میں سمجھ اور میرے اعضا میں فائدہ پیدا کردے اور میرے

سَمْعِی وَبَصَرِی الْوارِثَیْنِ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی، وَأَرِنِی فِیهِ ثارِی

کانوں و آنکھوں کو میرا مطیع بنادے اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے مقابل میری مدد کر مجھے اس سے بدلہ لینے والا بنا

وَمَآرِبِی، وَأَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی اَللّٰهُمَّ اکْشِفْ کُرْبَتِی، وَاسْتُرْ عَوْرَتِی، وَاغْفِرْ لِی

یہ آرزو پوری کر اور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی فرما اے اللہ! میری سختی دور کردے میری پردہ پوشی فرما میری خطائیں معاف

خَطِیئَتِی، وَاخْسَأْ شَیْطانِی، وَفُکَّ رِهانِی، وَاجْعَلْ لِی یَا إلهِی الدَّرَجَةَ الْعُلْیا فِی

کردے میرے شیطان کو ذلیل کر اور میری ذمہ داری پوری کرادے میرے لیے اے میرے خدا دنیا اور آخرت میں بلند سے بلندتر

الْآخِرَةِ وَالْاُوْلیٰ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی سَمِیعاً بَصِیراً وَلَکَ الْحَمْدُ

مرتبے قرار دے اے اللہ! حمد تیریہی لیے ہے کہ تو نے مجھے پیدا کیا تو نے مجھ کو سننے والا دیکھنے والا بنایا حمدتیرے ہی لیے ہے

کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی خَلْقاً سَوِیّاً رَحْمَةً بِی وَقَدْ کُنْتَ عَنْ خَلْقِی غَنِیّاً رَبِّ

کہ تو نے مجھے پیدا کیاتواپنی رحمت سے بہترین تربیت عطا کی حالانکہ تو مجھے خلق کرنے سے بے نیاز تھا میرے پروردگار تو

بِما بَرَأْتَنِی فَعَدَّلْتَ فِطْرَتِی رَبِّ بِما أَنْشَأْتَنِی فَأَحْسَنْتَ صُورَتِی رَبِّ بِما أَحْسَنْتَ

نے مجھے پیدا کیا ہے تو متوازن بنایا ہے اے میرے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی ہے تو ہدایت بھی عطا کی ہے اے پروردگار تو نے مجھ پر احسان کیا

إلَیَّ وَفِی نَفْسِی عافَیْتَنِی، رَبِّ بِما کَلاََْتَنِی وَوَفَّقْتَنِی رَبِّ بِما أَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَهَدَیْتَنِی

اور مجھے صحت وعافیت دی اے پروردگار تو نے میری حفاظت کی اور توفیق دی اے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی تو ہدایت بھی عطاکر

رَبِّ بِما أَوْلَیْتَنِی وَمِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَعْطَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَطْعَمْتَنِی وَسَقَیْتَنِی، رَبِّ بِما

اے پروردگار تو نے مجھے اپنی پناہ میں لیا اور ہر بھلائی مجھے عطا فرمائی اے پروردگار تو نے مجھے کھانا اور پانی دیا اے پروردگار تو نے مجھے

أَغْنَیْتَنِی وَأَ قْنَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَعَنْتَنِی وَأَعْزَزْتَنِی، رَبِّ بِما أَ لْبَسْتَنِی مِنْ سِتْرِکَ

مال دیا میری نگہبانی کی اے پروردگار تو نے میری مدد کی اور عزت بخشی اے پروردگار تو نے اپنی عنایت سے مجھے

الصَّافِی، وَیَسَّرْتَ لِی مِنْ صُنْعِکَ الْکافِی، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعِنِّی

لباس عطا کیا اور اپنی چیزیں میری دسترس میں دی ہیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرمااور زمانے کی سختیوں

عَلَی بَوائِقِ الدُّهُورِ وَصُرُوفِ اللَّیالِی وَالْاَیَّامِ، وَنَجِّنِی مِنْ أَهْوالِ الدُّنْیا وَکُرُباتِ

اور شب و روز کی گردش کے مقابلے میں میری مدد فرما دنیا کے خوفوں اور آخرت کی سختیوں سے مجھے نجات دے اور

الْآخِرَةِ وَاکْفِنِی شَرَّ مَا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِی الْاَرْضِ اَللّٰهُمَّ مَا أَخافُ فَاکْفِنِی وَمَا

اس زمین پر ظالموں کے پھیلائے ہوئے فساد سے محفوظ رکھ اے اللہ! حالت خوف میں میری مدد فرما اور ہر اس سے بچائے رکھ

أَحْذَرُ فَقِنِی، وَفِی نَفْسِی وَدِینِی فَاحْرُسْنِی، وَفِی سَفَرِی فَاحْفَظْنِی، وَفِی

جس سے میں ڈرتا ہوں میری جان اور میرے ایمان کی نگہداری فرما دوران سفر میری حفاظت کر اور میری عدم موجودگی میں

أَهْلِی وَمالِی فَاخْلُفْنِی وَفِیما رَزَقْتَنِی فَبارِکْ لِی، وَفِی نَفْسِی فَذَلِّلْنِی، وَفِی أَعْیُنِ

میرے مال و اولاد کو نظر میں رکھ جو رزق تو نے مجھے دیا اس میں برکت دے میرے نفس کو میرا مطیع بنا دے اور لوگوں کی نگاہوں میں

النَّاسِ فَعَظِّمْنِی، وَمِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فَسَلِّمْنِی، وَبِذُ نُوبِی فَلا تَفْضَحْنِی،

مجھے عزت دے مجھ کو جنّوں اور اور انسانوں کی بدی سے محفوظ فرما میرے گناہوں پر مجھے بے پردہ نہ کر

وَبِسَرِیرَتِی فَلا تُخْزِنِی، وَبِعَمَلِی فَلا تَبْتَلِنِی، وَ نِعَمَکَ فَلا تَسْلُبْنِی، وَ إلی غَیْرِکَ

میرے باطن سے مجھے رسوا نہ کر میرے عمل پر میری گرفت نہ کر اپنی نعمتیں مجھ سے نہ چھین مجھے اپنے غیر کے

فَلا تَکِلْنِی إلهِی إلی مَنْ تَکِلُنِی إلی قَرِیبٍ فَیَقْطَعُنِی، أَمْ إلی بَعِیدٍ فَیَتَجَهَّمُنِی

حوالے نہ کر میرے خدا تو مجھے جس کے بھی حوالے کرے گاوہ جلد ہی نظریں پھیرے یا تھوڑے عرصے کے بعد مجھ سے نفرت

أَمْ إلَی الْمُسْتَضْعِفِینَ لِی وَأَنْتَ رَبِّی وَمَلِیکُ أَمْرِی أَشْکُو إلَیْکَ غُرْبَتِی، وَبُعْدَ

کرے گا یا انکے حوالے کرے گا جو پست سمجھیں جبکہ تو میرا پروردگار اور میرا مالک ہے میں اپنی اس بے کسی اپنے گھر سے دوری اور

دارِی وَهَوانِی عَلَی مَنْ مَلَّکْتَهُ أَمْرِی، إلهِی فَلا تُحْلِلْ عَلَیَّ غَضَبَکَ، فَ إنْ لَمْ تَکُنْ

جسے تو نے مجھ پر اختیار دیا ہے تجھی سے اس کی شکایت کرتا ہوںمیرے اللہ! مجھ پر اپنا غضب نازل نہ فرما پس اگر تو ناراض نہ ہو

غَضِبْتَ عَلَیَّ فَلا أُبالِی سِواکَ، سُبْحانَکَ غَیْرَ أَنَّ عافِیَتَکَ أَوْسَعُ لِی، فَأَسْأَلُکَ یَا

تو پھر مجھے تیرے سوا کسی کی پروا نہیں تیری ذات پاک ہے تیری مہربانی مجھ پر بہت زیادہ ہے پس مزید سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے

رَبِّ بِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَشْرَقَتْ لَهُ الْاَرْضُ وَالسَّماواتُ، وَکُشِفَتْ بِهِ الظُّلُماتُ،

نور کے جس سے زمین اور سارے آسمانوں روشن ہوئے تاریکیاں اس کے ذریعے سے چھٹ گئیں

وَصَلُحَ بِهِ أَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ أَنْ لاَ تُمِیتَنِی عَلَی غَضَبِکَ وَلاَ تُنْزِلْ بِی سَخَطَکَ

اور اس سے اگلے پچھلے لوگوں کے کام سدھر گئے یہ کہ مجھے موت نہ دے جب تو مجھ سے ناراض ہو اور مجھ پر سختی نہ ڈال تجھ سے معافی

لَکَ الْعُتْبیٰ، لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَّی تَرْضیٰ قَبْلَ ذلِکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ

کاطالب ہوں معافی کا طالب ہوں حتیٰ کہ تو میری موت سے پہلے مجھ سے راضی ہوجائے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ تو حرمت

وَالْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَالْبَیْتِ الْعَتِیقِ الَّذِی أَحْلَلْتَهُ الْبَرَکَةَ وَجَعَلْتَهُ لِلنَّاسِ أَمْناً، یَا مَنْ

والے شہر حرمت والے مشعر اور پاکیزہ گھر کعبہ کا رب ہے جس میں تو نے برکت نازل کی اور اسے لوگوں کیلئے جائے امن قرار دیا اے

عَفا عَنْ عَظِیمِ الذُّنُوبِ بِحِلْمِهِ، یَا مَنْ أَسْبَغَ النَّعْمائَ بِفَضْلِهِ، یَا مَنْ أَعْطَیٰ الْجَزِیلَ

وہ جو اپنی نرمی سے بڑے بڑے گناہ معاف کرتا ہے اے وہ جو اپنے فضل سے نعمتیں کامل کرتا ہے اے وہ جو اپنے کرم سے بہت عطا

بِکَرَمِهِ یَا عُدَّتِی فِی شِدَّتِی یَا صاحِبِی فِی وَحْدَتِی، یَا غِیاثِی فِی کُرْبَتِی، یَا وَلِیِّی

کرتا ہے اے سختی کے وقت میری مدد پر آمادہ اے تنہائی کے ہنگام میرے ساتھی اے مشکل میں میرے فریادرس اے مجھے نعمت دینے

فِی نِعْمَتِی، یَا إلهِی وَ إلهَ آبائِی إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ وَیَعْقُوبَ وَرَبَّ

والے مالک اے میرے معبود اور میرے آبائ و اجداد ابراہیمعليه‌السلام ، اسمٰعیلعليه‌السلام ، اسحاقعليه‌السلام اور یعقوبعليه‌السلام کے معبود اور مقرب

جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ وَمُنْزِلَ

فرشتوںجبرائیل میکائیل اور اسرافیل کے رب اور اے نبیوں کے خاتم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے گرامی قدرآل کے رب

التَّوْراةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَمُنَزِّلَ کهیَعَصَ وَطه وَیسَ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ

اے تورات، انجیل، زبور اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے اے کٰھٰیٰعص، طٰہٰ،یس اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے

أَنْتَ کَهْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذاهِبُ فِی سَعَتِها، وَتَضِیقُ بِیَ الْاَرْضُ بِرُحْبِها وَلَوْلاَ

تو ہی میری جائے پناہ ہے جب زندگی کے وسیع راستے مجھ پر تنگ ہوجائیں اور زمین کشادگی کے باوجود میرے لیے تنگ ہوجائے

رَحْمَتُکَ لَکُنْتُ مِنَ الْهالِکِینَ، وَأَنْتَ مُقِیلُ عَثْرَتِی، وَلَوْلا سَتْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ

اور اگر تیری رحمت شامل حال نہ ہوتی تو میں تباہ ہوجاتا تو ہی میرے گناہ معاف کرنیوالا ہے اور اگر تو میری پردہ پوشی نہ کرتا تو میں رسوا

مِنَ الْمَفْضُوحِینَ، وَأَنْتَ مُؤَیِّدِی بِالنَّصْرِ عَلَی أَعْدائِی وَلَوْلا نَصْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ

ہوکر رہ جاتا اور تو اپنی مدد کے ساتھ دشمنوں کے مقابل میں مجھے قوت دینے والا ہے اور اگر تیری مدد حاصل نہ ہوتی تو میں زیر ہو جانے

مِنَ الْمَغْلُوبِینَ، یَا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالسُّمُوِّ وَالرِّفْعَةِ فَأَوْ لِیاؤُهُ بِعِزِّهِ یَعْتَزُّونَ، یَا

والوں میں سے ہوجا اے وہ جس نے اپنی ذات کو بلندی اور برتری کے لیے خاص کیا اور جس کے دوست اس کی عزت سے عزت

مَنْ جَعَلَتْ لَهُ الْمُلُوکُ نِیرَ الْمَذَلَّةِ عَلَی أَعْناقِهِمْ فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خائِفُونَ، یَعْلَمُ

پاتے ہیں اے وہ جسکے دربار میں بادشاہوں نے اپنی گردنوں میں عاجزی کا طوق پہنا پس وہ اس کے دبدبے سے ڈرتے ہیں وہ

خایِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَغَیْبَ مَا تَأْتِی بِهِ الْاَزْمِنَةُ وَالدُّهُورُ،

آنکھوں کے اشاروں کو اور جوسینوں میں چھپاہے اسے جانتا ہے اور ان غیب کی باتوں کو جانتا ہے جو آیندہ زمانوں میں ظاہر ہونگی

یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ کَیْفَ هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا

اے وہ جسکی حقیقت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود اے وہ جس کی حقیقیت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود ا اے وہ کوئی جسکا علم نہیں رکھتا مگر وہ خود

یَعْلَمُهُ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ کَبَسَ الْاَرْضَ عَلَی الْمائِ وَسَدَّ الْهَوائَ بِالسَّمائِ یَا مَنْ لَهُ أَکْرَمُ

اے وہ جس نے زمین کو پانی کی سطح پر رکھا ہوا اور ہوا کو فضائ آسمان میں باندھا اے وہ جس کیلئے سب سے بہترین نام ہے اے

الْاَسْمائِ، یَا ذَا الْمَعْرُوفِ الَّذِی لاَ یَنْقَطِعُ أَبَداً، یَا مُقَیِّضَ الرَّکْبِ لِیُوسُفَ فِی الْبَلَدِ

احسان کے مالک جو کسی وقت میں منقطع نہ ہوتا اے یوسفعليه‌السلام کے لیے بے آب بیابان میں کاروان کو روکنے والے اور انہیں کنوئیں میں

الْقَفْرِ وَمُخْرِجَهُ مِنَ الْجُبِّ وَجاعِلَهُ بَعْدَ الْعُبُودِیَّةِ مَلِکاً، یَا رادَّهُ عَلَی یَعْقُوبَ بَعْدَ

سے نکالنے والے اور غلامی کے بعد ان کو بادشاہ بنانے والے اے یوسفعليه‌السلام کو یعقوبعليه‌السلام سے ملانے والے جبکہ ان کی آنکھیں روتے

أَنِ ابْیَضَّتْ عَیْناهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ کَظِیمٌ، یَا کاشِفَ الضُّرِّ وَالْبَلْویٰ عَنْ أَ یُّوبَ،

روتے سفید ہوچکی تھیںاور وہ سخت غم زدہ رہتے تھے اے ایوبعليه‌السلام کو نقصان اور مصیبت سے نجات دینے والے اے

وَمُمْسِکَ یَدَیْ إبْراهِیمَ عَنْ ذَبْحِ ابْنِهِ بَعْدَ کِبَرِ سِنِّهِ وَفَنائِ عُمُرِهِ، یَا مَنِ اسْتَجابَ

اپنے بیٹے کو ذبح کرنے میں ابراہیمعليه‌السلام کے ہاتھوں کو روکنے والے جب وہ بہت بوڑھے اور زندگی کی آخری منزل میں تھے اے وہ جس

لِزَکَرِیَّا فَوَهَبَ لَهُ یَحْییٰ وَلَمْ یَدَعْهُ فَرْداً وَحِیداً یَا مَنْ أَخْرَجَ یُونُسَ مِنْ بَطْنِ

نے زکریاعليه‌السلام کی دعا قبول کی پس انہیں یحییٰ عطا کیا اور انہیں یکہ و تنہا نہ چھوڑا تھا اے وہ جس نے یونسعليه‌السلام کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا

الْحُوتِ، یَا مَنْ فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِی إسْرائِیلَ فَأَنْجاهُمْ وَجَعَلَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ مِنَ

اے وہ جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا میں راستے بنائے پس انہیں نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکروں

الْمُغْرَقِینَ، یَا مَنْ أَرْسَلَ الرِّیاحَ مُبَشِّراتٍ بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ، یَا مَنْ لَمْ یَعْجَلْ عَلَی

کو غرق کردیا اے وہ جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اے وہ جو اپنی مخلوق میں نافرمانی

مَنْ عَصاهُ مِنْ خَلْقِهِ یَا مَنِ اسْتَنْقَذَ السَّحَرَةَ مِنْ بَعْدِ طُولِ الْجُحُودِ وَقَدْ غَدَوْا فِی

کرنے والے کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا اے وہ جس نے جادوگروں کو مدتوں کے کفر سے نجات عطا فرمائی جبکہ وہ اس کی نعمتوں

نِعْمَتِهِ یَأْکُلُونَ رِزْقَهُ وَیَعْبُدُونَ غَیْرَهُ وَقَدْ حادُّوهُ وَنادُّوهُ وَ

سے فائدہ اٹھاتے اسکی دی ہوئی روزی کھاتے اور عبادت اس کے غیر کی کرتے تھے وہ خدا سے دشمنی کرتے شرک کی راہ پر چلتے اور

کَذَّبُوا رُسُلَهُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا بَدِیئُ، یَا بَدِیعاً لاَ نِدَّ لَکَ، یَا دائِماً لاَ نَفادَ لَکَ،

اس کے رسولوں کو جھٹلاتے تھے اے اللہ اے اللہ! اے آغاز کرنے والے اے پیدا کرنے والے تیرا کوئی ثانی نہیں اے ہمیشگی والے

یَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتی، یَا مَنْ هُوَ قایِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ،

تجھے فنا نہیں اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے ہر نفس کے اعمال پر نگہبان جو اس نے انجام دیے

یَا مَنْ قَلَّ لَهُ شُکْرِی فَلَمْ یَحْرِمْنِی وَعَظُمَتْ خَطِیئَتِی فَلَمْ یَفْضَحْنِی، وَرَآنِی عَلَی

اے وہ میں نے جس کا شکر کم کیا تب بھی اس نے مجھے محروم نہ کیا میں نے بڑی بڑی خطائیں کیں تب بھی اس نے مجھے رسوا نہ کیا اس

الْمَعاصِی فَلَمْ یَشْهَرْنِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی فِی صِغَرِی، یَا مَنْ رَزَقَنِی فِی کِبَرِی، یَا

نے مجھے نافرمان دیکھا تو پردہ فاش نہ کیا اے وہ جس نے میرے بچپنے میں میری حفاظت کی اے وہ جس نے میرے بڑھاپے میں

مَنْ أَیَادِیهِ عِنْدِی لاَ تُحْصی وَ نِعَمُهُ لاَ تُجازی یَا مَنْ عارَضَنِی بِالْخَیْرِ وَالْاِحْسانِ

روزی دی اے وہ جس کی نعمتوں کا کوئی شمار ہی نہیں اور جس کی نعمتوں کا کوئی بدلہ نہیں اے وہ جس نے مجھ سے بھلائی اور احسان کیا

وَعارَضْتُهُ بِالْاِسائَةِ وَالْعِصْیانِ، یَا مَنْ هَدانِی لِلاِِْیمانِ مِنْ قَبْلِ أَنْ أَعْرِفَ شُکْرَ

اور میں نے برائی اور نافرمانی پیش کی اے وہ جس نے مجھے ایمان کی راہ بتائی اس سے پہلے کہ اس پر میری طرف سے شکر ادا ہوتا اے

الْاِمْتِنانِ، یَا مَنْ دَعَوْتُهُ مَرِیضاً فَشَفانِی، وَعُرْیاناً فَکَسانِی، وَجائِعاً فَأَشْبَعَنِی

وہ جسے میں نے بیماری میں پکارا تو مجھے شفا دی عریانی میں پکارا تو لباس دیا بھوک میں پکارا تو مجھے سیر کیا

وَعَطْشاناً فَأَرْوانِی، وَذَلِیلاً فَأَعَزَّنِی، وَجاهِلاً فَعَرَّفَنِی، وَوَحِیداً فَکَثَّرَنِی، وَغائِباً

پیاس میں پکارا تو سیراب کیا پستی میں عزت دی نادانی میں معرفت بخشی تنہائی میں کثرت دی سفر سے

فَرَدَّنِی، وَمُقِلاًّ فَأَغْنانِی، وَمُنْتَصِراً فَنَصَرَنِی، وَغَنِیّاً فَلَمْ یَسْلُبْنِی، وَأَمْسَکْتُ عَنْ

وطن پہنچایا تنگدستی میں مجھے مال دیامدد مانگی تو میری مدد فرمائی تونگر تھا تو میرا مال نہیں چھینا اور میں نے ان چیزوں کا شکر نہ کیا

جَمِیعِ ذلِکَ فَابْتَدَأَنِی، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ یَا مَنْ أَقالَ عَثْرَتِی، وَنَفَّسَ کُرْبَتِی،

تو اس نے دینے میں پہل کی پس ساری تعریف اور شکرتیرے ہی لیے ہے اے وہ جس نے میری لغزش معاف کی میری تکلیف دور کی

وَأَجابَ دَعْوَتِی، وَسَتَرَ عَوْرَتِی، وَغَفَرَ ذُ نُوبِی، وَبَلَّغَنِی طَلِبَتِی، وَنَصَرَنِی عَلَی

میری دعا قبول فرمائی میرے عیبوں کو چھپایا میرے گناہ بخش دیے میری حاجت پوری کی اور دشمن کے خلاف میری

عَدُوِّی، وَ إنْ أَعُدَّ نِعَمَکَ وَمِنَنَکَ وَکَرایِمَ مِنَحِکَ لاَ أُحْصِیها، یَا مَوْلایَ أَنْتَ الَّذِی

مدد کی اور اگر میں تیری نعمتوں تیرے احسانوں اور عطاؤں کو شمار کروں تو شمار نہیںکرسکتا اے میرے مالک تو وہ ہے جس نے احسان

مَنَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَنْعَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَحْسَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَجْمَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی

کیا تو وہ ہے جس نے نعمت دی تو وہ ہے جس نے بہتری کی تو وہ ہے جس نے جمال دیا تو وہ ہے جس نے

أَفْضَلْتَ أَنْتَ الَّذِی أَکْمَلْتَ أَنْتَ الَّذِی رَزَقْتَ أَنْتَ الَّذِی وَفَّقْتَ أَنْتَ الَّذِی أَعْطَیْتَ

بڑائی دی تو وہ ہے جس نے کمال عطا کیا تو وہ ہے جس نے روزی دی تو وہ ہے جس نے توفیق دی تو وہ ہے جس نے عطا کیا تو وہ ہے

أَنْتَ الَّذِی أَغْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَقْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی آوَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی کَفَیْتَ، أَنْتَ

جس نے مال دیا تو وہ ہے جس نے نگہداری کی تو وہ ہے جس نے پناہ دی تو وہ ہے جس نے کام بنایا تو وہ ہے جس نے

الَّذِی هَدَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی عَصَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی سَتَرْتَ، أَنْتَ الَّذِی غَفَرْتَ، أَنْتَ

ہدایت کی تو وہ ہے جس نے گناہ سے بچایا تو وہ ہے جس نے پرورش کی تو وہ ہے جس نے معاف کیا تو وہ ہے

الَّذِی أَقَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی مَکَّنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعْزَزْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی

جس نے بخش دیا تو وہ ہے جس نے قدرت دی تو وہ ہے جس نے عزت بخشی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے

عَضَدْتَ أَنْتَ الَّذِی أَیَّدْتَ أَنْتَ الَّذِی نَصَرْتَ أَنْتَ الَّذِی شَفَیْتَ أَنْتَ الَّذِی عافَیْتَ

سہارا دیا تو وہ ہے جس نے حمایت کی تو وہ ہے جس نے مدد کی تو وہ ہے جس نے شفا دی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے

أَنْتَ الَّذِی أَکْرَمْتَ تَبارَکْتَ وَتَعالَیْتَ، فَلَکَ الْحَمْدُ دائِماً، وَلَکَ الشُّکْرُ واصِباً أَبَداً

بزرگی دی تو بڑا برکت والا اور برتر ہے ہمیشہ پس حمد ہی تیرے لیے ہے اور شکر لگاتار ہمیشہ ہمیشہ تیرے ہی لیے ہے

ثُمَّ أَنَا یَا إلهِیَ الْمُعْتَرِفُ بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْهالِی أَنَا الَّذِی أَسَأْتُ أَنَا

پھر میں ہوں اے میرے معبود اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے والا پس مجھے ان سے معافی دے میں وہ ہوں جس نے برائی کی میں

الَّذِی أَخْطَأْتُ أَنَا الَّذِی هَمَمْتُ، أَنَا الَّذِی جَهِلْتُ، أَنَا الَّذِی غَفَلْتُ، أَنَا الَّذِی

وہ ہوں جس نے خطا کی میں وہ ہوں جس نے برا ارادہ کیا میں وہ ہوں جس نے نادانی کی میں وہ ہوں جس سے بھول ہوئی میں وہ

سَهَوْتُ أَنَا الَّذِی اعْتَمَدْتُ، أَنَا الَّذِی تَعَمَّدْتُ، أَنَا الَّذِی وَعَدْتُ، وَأَنَا الَّذِی أَخْلَفْتُ

ہوں جو چوک گیا میں نے خود پر اعتماد کیا میں نے دانستہ گناہ کیا میں وہ ہوں جس نے وعدہ کیا میں وہ ہوںجس نے وعدہ خلافی کی

أَنَا الَّذِی نَکَثْتُ، أَنَا الَّذِی أَقْرَرْتُ، أَنَا الَّذِی اعْتَرَفْتُ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَعِنْدِی وَأَبُوئُ

میں وہ ہوں جس نے عہد توڑا میں وہ ہوں جو اقرار کرتا اور میں وہ ہوں جو تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں جو مجھے ملی ہیں اور میرے

بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْها لِی یَا مَنْ لاَ تَضُرُّهُ ذُنُوبُ عِبادِهِ وَهُوَ الْغَنِیُّ عَنْ طاعَتِهِمْ

پاس ہیں مجھ پر گناہوں کا بڑا بوجھ ہے پس مجھے معاف کردے اے وہ جسے اس کے بندوں کے گناہ نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ ان کی

وَالْمُوَفِّقُ مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْهُمْ بِمَعُونَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ

بندگی سے بے نیاز ہے اور توفیق دیتا ہے اسے اپنی مہربانی اور مدد سے جو ان میں سے نیک عمل کرے پس حمد تیرے ہی لیے ہے

إلهِی وَسَیِّدِی إلهِی أَمَرْتَنِی فَعَصَیْتُکَ، وَنَهَیْتَنِی فَارْتَکَبْتُ نَهْیَکَ، فَأَصْبَحْتُ لاَ ذا

اے میرے معبود و سردار اے میرے معبود تو نے حکم دیاتو میں نے نافرمانی کی جس سے تو نے مجھے روکا میں وہ کام کر گزرا پس حال یہ

بَرائَةٍ لِی فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذا قُوَّةٍ فَأَنْتَصِرُ ، فَبِأَیِّ شَیْئٍ أَسْتَقْبِلُکَ یَا مَوْلایَ

ہے کہ نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں نہ یہ طاقت ہے کہ کامیاب ہوجاؤں پس کیا چیزلے کر تیرے سامنے آؤںاے میرے مالک

أَبِسَمْعِی أَمْ بِبَصَرِی أَمْ بِلِسانِی أَمْ بِیَدِی أَمْ بِرِجْلِی أَلَیْسَ کُلُّها نِعَمَکَ عِنْدِی

آیا اپنے کان یا اپنی آنکھ یا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے پاؤں کے ساتھ کیا یہ سب میرے پاس تیری نعمتیں نہیں ہیں ؟اور ان سب

وَبِکُلِّها عَصَیْتُکَ یَا مَوْلایَ فَلَکَ الْحُجَّةُ وَالسَّبِیلُ عَلَیَّ، یَا مَنْ سَتَرَنِی مِنَ الْآبائِ

کے ساتھ میں نے تیری نافرمانی کی اے میرے مولا پس تیرے پاس میرے خلاف حجت اور دلیل ہے اے وہ جس نے ماں باپ

وَالْاُمَّهاتِ أَنْ یَزْجُرُونِی، وَمِنَ الْعَشائِرِ وَالْاِخْوانِ أَنْ یُعَیِّرُونِی، وَمِنَ

سے میری پردہ پوشی کی کہ وہ مجھے دھتکار دیں گے اہل قبیلہ اور بھائی بندوں سے میرا پردہ رکھا کہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کریں گے اور

السَّلاطِینِ أَنْ یُعاقِبُونِی ، وَلَوِ اطَّلَعُوا یَا مَوْلایَ عَلَی مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّی إذاً مَا

حاکموں سے میرا پردہ رکھا کہ وہ مجھے سزا دیں گے اے میرے مولا اگر وہ میرے بارے میں وہ جان لیتے جو کچھ تو جانتا ہے تو وہ مجھے

أَنْظَرُونِی، وَلَرَفَضُونِی وَقَطَعُونِی، فَها أَنَا ذا یَا إلهِی، بَیْنَ یَدَیْکَ یَا سَیِّدِی

کبھی مہلت نہ دیتے مجھے چھوڑ جاتے اور قطع تعلق کر جاتے پس اے میرے معبود میں تیرے سامنے حاضر ہوں اے میرے سردار

خاضِعٌ ذَلِیلٌ حَصِیرٌ حَقِیرٌ لاَ ذُو بَرائَةٍ فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذُو قُوَّةٍ فَأَ نْتَصِرُ، وَلاَ حُجَّةٍ

میں پست عاجز قیدی بے مایہ ہوں نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں اور نہ طاقت ہے کہ کامیاب ہو جاؤں نہ کوئی دلیل ہے

فَأَحْتَجُّ بِها وَلاَ قائِلٌ لَمْ أَجْتَرِحْ وَلَمْ أَعْمَلْ سُوئ اً، وَمَا عَسَی الْجُحُودُ وَلَوْ جَحَدْتُ

کہ وہ پیش کروں نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ گناہ نہیں کیا اور نہ یہ کہ برائی نہیں کی اس سے انکار کا کوئی راستہ نہیںاور اگر انکار کروں تو

یَا مَوْلایَ یَنْفَعُنِی، کَیْفَ وَأَنَّی ذلِکَ وَجَوارِحِی کُلُّها شاهِدَةٌ عَلَیَّ بِما قَدْ عَمِلْتُ،

اے میرے مولا اسکا کچھ فائدہ نہیں اور ایسا کیونکر ہو سکتا ہے جب میرے اعضا ئ مجھ پرگواہ ہیں کہ جو کچھ میں نے عمل کیا ہے اور میں

وَعَلِمْتُ یَقِیناً غَیْرَ ذِی شَکٍّ أَ نَّکَ سائِلِی مِنْ عَظائِمِ الاَُْمُورِ، وَأَ نَّکَ الْحَکَمُ الْعَدْلُ

جانتا ہوں یقین کے ساتھ جس میں شک نہیں ضرور تو بڑے معاملوں میں میری بازپرس کرے گا بلا شبہ تو انصاف کا فیصلہ دینے والا

الَّذِی لاَ تَجُورُ وَعَدْلُکَ مُهْلِکِی وَمِنْ کُلِّ عَدْلِکَ مَهْرَبِی فَ إنْ تُعَذِّبْنِی

ہے کہ جو زیادتی نہیں کرتا تیرا انصاف مجھے نابود کردے گا اور میں تیرے ہر عدل سے ڈرتا بھاگتا ہوں پس اگر تو مجھے عذاب دے

یَا إلهِی فَبِذُنُوبِی بَعْدَ حُجَّتِکَ عَلَیَّ، وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی فَبِحِلْمِکَ

اے میرے اللہ تو وہ میرے گناہوں کی وجہ سے مجھ پر تیری حجت ہے اور اگر تو مجھے معاف فرما دے تو یہ تیری طرف مہربانی تیری

وَجُودِکَ وَکَرَمِکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، لاَ إلهَ

بخشش اور تیرے کرم کا نتیجہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں ستم کاروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود

إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں معافی مانگنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں

الْمُوَحِّدِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْخائِفِینَ، لاَ إلهَ

توحید پرستوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تجھ سے ڈرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا

إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْوَجِلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں خوف رکھنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں

الرَّاجِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الرَّاغِبِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ

امیدواروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں توجہ کرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود

أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُهَلِّلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں نام لیواؤں میں ہوںنہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک تر ہے بے شک میں سوال کرنے والوں

السَّائِلِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ

میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تسبیح کرنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے

إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُکَبِّرِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ رَبِّی وَرَبُّ آبائِیَ الْاَوَّلِینَ

بے شک میں تکبیر کہنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے کہ میرا رب اور میرے پہلے بزرگوں کا رب ہے

اَللّٰهُمَّ هذَا ثَنایِی عَلَیْکَ مُمَجِّداً، وَ إخْلاصِی لِذِکْرِکَ مُوَحِّداً، وَ إقْرارِی

اے معبودمیری طرف سے یہ تیری ثنائ ہے تیری شان بیان کرتے ہوئے یہ تیرے ذکر کے بارے میں میرا خلوص توحید کو مانتے ہوئے

بِآلائِکَ مُعَدِّداً، وَ إنْ کُنْتُ مُقِرّاً أَنِّی لَمْ أُحْصِها لِکَثْرَتِها

اور میری طرف سے یہ تیری مہربانیوں کا اقرار ہے ان کو شمار کرتے ہوئے اگرچہ یہ مانتا ہوں کہ میں ان کا شمار نہیں کرسکتا کیونکہ وہ

وَسُبُوغِها وَتَظاهُرِها وَتَقادُمِها إلی حادِثٍ مَا لَمْ تَزَلْ تَتَعَهَّدُنِی بِهِ مَعَها مُنْذُ

زیادہ ہیں اور بہت سی ہیں وہ عیاں ہیں اور پہلے سے اب تک مل رہی ہیں تو نے مجھ کو یہ نعمات دینے میں ہمیشہ یاد رکھا ہے جب سے

خَلَقْتَنِی وَبَرَأْتَنِی مِنْ أَوَّلِ الْعُمْرِ مِنَ الْاِغْنائِ مِنَ الْفَقْرِ، وَکَشْفِ الضُّرِّ، وَتَسْبِیبِ

تو نے مجھے پیدا کیا اور اول عمر میں مجھے بے مائیگی میں تو نگری کا حصہ عنایت فرمایا تنگدستی سے بچایا آسائش کے اسباب

الْیُسْرِ، وَدَفْعِ الْعُسْرِ، وَتَفْرِیجِ الْکَرْبِ، وَالْعافِیَةِ فِی الْبَدَنِ، وَالسَّلامَةِ فِی الدِّینِ،

فراہم کیے اور سختی دور فرمائی مصیبت سے چھٹکارا دلایا جسمانی صحت نصیب کی اور دین و ایمان پر پوری طرح قائم رکھا

وَلَوْ رَفَدَنِی عَلَی قَدْرِ ذِکْرِ نِعْمَتِکَ جَمِیعُ الْعالَمِینَ مِنَ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ مَا قَدَرْتُ

اور اگر تیری نعمتوں کا اندازہ کرنے کیلئے دنیا جہان کے لوگ اولین اور آخرین میں سے میرا ساتھ دیں تو بھی میں اندازہ نہ کر سکوں گا

وَلاَ هُمْ عَلَی ذلِکَ، تَقَدَّسْتَ وَتَعالَیْتَ مِنْ رَبٍّ کَرِیمٍ عَظِیمٍ رَحِیمٍ لاَ تُحْصیٰ آلاؤُکَ

اور نہ ہی وہ اندازہ کرسکیں گے تو پاکیزہ ہے اور بلند تر ہے اے پروردگار شان والا بڑائی والا رحم والا تیری مہربانیوں کا شمار نہیں

وَلاَ یُبْلَغُ ثَناؤُکَ، وَلاَ تُکافی نَعْماؤُکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَتْمِمْ عَلَیْنا

تیری تعریف کا حق ادا نہیں ہو پاتا اور تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دیا جاسکتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری فرما

نِعَمَکَ، وَأَسْعِدْنا بِطاعَتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تُجِیبُ الْمُضْطَرَّ

اپنی بندگی کے ساتھ خوش بخت بنا دے پاک تر ہے تو تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ تو بے شک لاچار کی دعا قبول کرتا ہے

وَتَکْشِفُ السُّوئَ وَتُغِیثُ الْمَکْرُوبَ وَتَشْفِی السَّقِیمَ وَتُغْنِی الْفَقِیرَ وَتَجْبُرُ الْکَسِیرَ

برائی دور کرتا ہے مصیبت زدہ کی فریاد کو پہنچتا ہے بیمار کو صحت دیتا ہے مفلس کو مال دیتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے

وَتَرْحَمُ الصَّغِیرَ، وَتُعِینُ الْکَبِیرَ، وَلَیْسَ دُونَکَ ظَهِیرٌ، وَلاَ فَوْقَکَ قَدِیرٌ ، وَأَ نْتَ

چھوٹے پر رحم کرتا ہے بڑے کی مدد کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی سہار ہ دینے والا نہیں ہے اور تجھ پر کوئی بالادست نہیں ہے تو برتر

الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ یَا مُطْلِقَ الْمُکَبَّلِ الْاَسِیرِ یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ

بزرگی والا ہے اے قیدی کو پھندے سے چھڑانے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ڈرے ہوئے پناہ کے طالب کو

الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَلاَ وَزِیرَ ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعْطِنِی

بچانے والے اے وہ ذات جس کا کوئی ثانی نہیں نہ کوئی وزیر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور آج کی شب مجھے اس

فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ أَفْضَلَ مَا أَعْطَیْتَ وَأَنَلْتَ أَحَداً مِنْ عِبادِکَ مِنْ نِعْمَةٍ تُولِیها وَآلائٍ

سے بہتر دے جو تو نے کسی کو دیا ہے اور اپنے بندوں میں سے کسی کو کوئی نعمت عطا فرمائی اور جو مہربانیاں

تُجَدِّدُها وَبَلِیَّةٍ تَصْرِفُها وَکُرْبَةٍ تَکْشِفُها وَدَعْوَةٍ تَسْمَعُها وَحَسَنَةٍ تَتَقَبَّلُها وَسَیِّئَةٍ

کسی پر کی ہیں اور جو سختی دور کی ہے جو مصیبت ہٹائی ہے جو دعا تو نے سنی ہے جو نیکی قبول کی ہے اور جو برائی

تَتَغَمَّدُها، إنَّکَ لَطِیفٌ بِما تَشائُ خَبِیرٌ وَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَقْرَبُ مَنْ

معاف کی ہے بے شک جس پر چاہے تو لطف کرتا ہے اور خبر رکھتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ بے شک تو قریب تر ہے

دُعِیَ، وَأَسْرَعُ مَنْ أَجابَ، وَأَکْرَمُ مَنْ عَفا، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطیٰ، وَأَسْمَعُ مَنْ

جسے پکارا جاتا ہے تو تیز تر ہے جو قبول کرتا ہے معاف کرنے والوں میں بہترین عطا کرنے والوں میں زیادہ عطا والا اور سوالی کی

سُئِلَ، یَا رَحْمنَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما، لَیْسَ کَمِثْلِکَ مَسْؤُولٌ، وَلاَ

بہت سننے والا اے دنیا و آخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں جگہ پر مہربان کوئی تیرے جیسا نہیں جس سے سوال کیا جائے اور

سِواکَ مَأْمُولٌ، دَعَوْتُکَ فَأَجَبْتَنِی، وَسَأَلْتُکَ فَأَعْطَیْتَنِی، وَرَغِبْتُ إلَیْکَ

سوائے تیرے کوئی نہیں جس پر امید رکھی جائے میں نے دعا کی تو نے قبول کی میں نے مانگا پس تو نے عطا کیا میں نے تیری طرف

فَرَحِمْتَنِی، وَوَثِقْتُ بِکَ فَنَجَّیْتَنِی، وَفَزِعْتُ إلَیْکَ فَکَفَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

توجہ کی پس تو نے رحمت فرمائی تیرا سہار الیا پس تو نے نجات دی میں تجھ سے ڈرا تو نے میری مدد فرمائی اے اللہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما

عَبْدِکَ وَرَسُو لِکَ وَنَبِیِّکَ وَعَلَی آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ وَتَمِّمْ لَنا نَعْمائَکَ

جو تیرے بندے تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور انکی آل پر جو سب کے سب بے عیب اور پاک تر ہیں اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری کر

وَهَنِّئْنا عَطائَکَ، وَاکْتُبْنا لَکَ شاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ ذاکِرِینَ، آمِینَ آمِینَ

اور ہم پر خوشگوار عطائیں فرما ہمیں اپنے شکر گزاروں میں رکھ دے اور اپنے احسانوں کا ذکر کرنے والوں میں رکھ ایسا ہی ہو ایسا ہی ہو

رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ، وَقَدَرَ فَقَهَرَ، وَعُصِیَ فَسَتَرَ، وَ

اے جہانوں کے پروردگار اے اللہ اے وہ مالک جو باقدرت ہے اے با قدرت جو غالب ہے اے وہ جو نافرمانی کو ڈھانپتا ہے اور

اسْتُغْفِرَ فَغَفَرَ، یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ الرَّاغِبِینَ وَمُنْتَهیٰ أَمَلِ الرَّاجِینَ، یَا مَنْ أَحاطَ

بخشش چاہنے پر بخشتا ہے اے طلبگاروں توجہ کرنے والوں کی امید گاہ اور آرزومندوں کے مقام آرزو اے وہ کہ جس کا علم

بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، وَوَسِعَ الْمُسْتَقِیلِینَ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَحِلْماً اَللّٰهُمَّ إنَّا نَتَوَجَّهُ إلَیْکَ

ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور تو بہ کرنے والوں کے لئے محبت و مہربانی اور ملائمت سے جس کا دامن وسیع ہے اے اللہ ہم نے توجہ کی

فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ الَّتِی شَرَّفْتَها وَعَظَّمْتَها بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَرَسُولِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ

ہے تیری طرف آج کی رات میں جسے تو نے بزرگی اور بڑائی دی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مخلوقات میں

خَلْقِکَ وَأَمِینِکَ عَلَی وَحْیِکَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ السِّراجِ الْمُنِیرِ، الَّذِی أَ نْعَمْتَ بِهِ عَلَی

سے تیرے چنے ہوئے تیری وحی کے امانتدار بشارت دینے والے ڈرانے والے روشن چراغ ہیں جن کے وجود کو تو نے مسلمانوں

الْمُسْلِمِینَ وَجَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما

کیلئے نعمت بنایا اور ان کو سارے جہانوں کے لئے رحمت قراردیا اے اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ان کی آل پر جیسا کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٌ أَهْلٌ لِذلِکَ مِنْکَ یَا عَظِیمُ فَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ الطَّیِّبِینَ

تیری طرف سے اس کے لائق ہیں اے بزرگتر ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت نازل کر جو سب کے سب بلند تر نیک نہاد

الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ، وَتَغَمَّدْنا بِعَفْوِکَ عَنَّا، فَ إلَیْکَ عَجَّتِ الْاَصْواتُ بِصُنُوفِ

اور پاک ہیں اور ہمیں معافی دیکر ہماری پردہ پوشی کر کیونکہ تیرے حضور فریادیں ہو رہی ہیں ہر ہر دیس کی

اللُّغاتِ، فَاجْعَلْ لَنَا اَللّٰهُمَّ فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ بَیْنَ عِبادِکَ

زبان میں پس اے اللہ آج کی رات میں ہر نیکی میں سے حصہ قراردے ہمارے لئے جو تو نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کی نور

وَنُورٍ تَهْدِی بِهِ، وَرَحْمَةٍ تَنْشُرُها، وَبَرَکَةٍ تُنْزِلُها، وَعافِیَةٍ تُجَلِّلُها، وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ

میں جس سے ہدایت فرمائی رحمت میں جو عام کی برکت میں جو تو نے نازل کی عافیت کے لباس میں جو تو نے پہنایا رزق میں جو وسیع

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ أَقْلِبْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مُنْجِحِینَ مُفْلِحِینَ مَبْرُورِینَ

کیا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں بدل کر بنا دے کامیاب ہو نے والے فلاح پانے والے پسندیدہ

غانِمِینَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنَ الْقانِطِینَ، وَلاَ تُخْلِنا مِنْ رَحْمَتِکَ ، وَلاَ تَحْرِمْنا مَا

عمل والے اور نفع اٹھانے والے اور ہمیں مایوس ہونے والوں میں قرار نہ دے ہمیں اپنی رحمت سے دور نہ کر ہمیں اس چیز میں سے

نُؤَمِّلُهُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنْ رَحْمَتِکَ مَحْرُومِینَ، وَلاَ لِفَضْلِ مَا نُؤَمِّلُهُ مِنْ

محروم نہ فرما جس کی تیرے فضل میں سے امید کریں اور ہم کو اپنی رحمت سے محروم و خالی قرارنہ دے تیری عطا میں سے جس عنایت

عَطائِکَ قانِطِینَ وَلاَ تَرُدَّنا خائِبِینَ، وَلاَ مِنْ بابِکَ مَطْرُودِینَ، یَا أَجْوَدَ

کی امید کریں اس سے مایوس نہ فرما ہمیں ناکام کرکے نہ پلٹا اور اپنی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے قرار نہ دے اے بہت عطاوالوں

الْاََجْوَدِینَ، وَأَکْرَمَ الْاََکْرَمِینَ، إلَیْکَ أَقْبَلْنا مُوقِنِینَ، وَ لِبَیْتِکَ الْحَرامِ آمِّینَ

میں بڑی عطا والے اور عزت داروں میں بڑی عزت والے ہم تیری درگاہ میں لوٹ کے آئے ہیں معتقد بن کر ہم تیرے محترم گھر

قاصِدِینَ، فَأَعِنَّا عَلَی مَناسِکِنا، وَأَکْمِلْ لَنا حَجَّنا، وَاعْفُ عَنَّا وَعافِنا، فَقَدْ

کعبہ میں پکار کرتے ہوئے آئے ہیں پس اعمال حج میں ہماری مدد فرما اور ہمارا حج مکمل کرادے ہمیں معاف فرما پناہ دے کہ ہم نے

مَدَدْنا إلَیْکَ أَیْدِیَنا فَهِیَ بِذِلَّةِ الاعْتِرافِ مَوْسُومَةٌ اَللّٰهُمَّ فَأَعْطِنا فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ

اپنے ہاتھ تیرے آگے پھیلائے ہیں کہ جن پر گناہوں کے اقرارو اعتراف کے نشان ہیں اے اللہ پس ہمیں آج کی رات میں جو ہم

مَا سَأَلْناکَ، وَاکْفِنا مَا اسْتَکْفَیْناکَ، فَلا کافِیَ لَنا سِواکَ، وَلاَ رَبَّ لَنا غَیْرُکَ، نافِذٌ

نے تجھ سے مانگا عطا فرما تمام کاموں میں ہماری مدد کر کہ تیرے سوا کوئی ہماری کفایت کرنے والا نہیں اور سوائے تیرے کوئی ہمارا

فِینا حُکْمُکَ، مُحِیطٌ بِنا عِلْمُکَ، عَدْلٌ فِینا قَضاؤُکَ، اقْضِ لَنَا الْخَیْرَ، وَاجْعَلْنا مِنْ

رب نہیں کہ تیرا حکم ہی ہم پر جاری ہے تیرا علم ہمیں گھیرے ہوئے ہے ہمارے لئے تیرا فیصلہ درست ہے ہمارے لئے اچھا فیصلہ کر

أَهْلِ الْخَیْرِ اَللّٰهُمَّ أَوْجِبْ لَنا بِجُودِکَ عَظِیمَ الْاَجْرِ، وَکَرِیمَ الذُّخْرِ، وَدَوامَ الْیُسْرِ،

اور ہمیں نیکوکارں میں سے قراردے اے اللہ ہمارے لئے اپنی عطا سے بہت بڑا اجر بہترین ذخیرہ اور ہمیشہ کی آسائش واجب

وَاغْفِرْ لَنا ذُ نُوبَنا أَجْمَعِینَ، وَلاَ تُهْلِکْنا مَعَ الْهالِکِینَ، وَلاَ تَصْرِفْ عَنَّا رَأْفَتَکَ

کردے ہمارے سارے کے سارے گناہ بخش دے اور ہمیں تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ نہ کر اور اپنی مہربانی اور رحمت

وَرَحْمَتَکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مِمَّنْ سَئَلَکَ

ہم سے دور نہ فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں ان لوگوں میںقراردے جنہوں نے تجھ سے مانگا تو

فَأَعْطَیْتَهُ،وَشَکَرَکَ فَزِدْتَهُ، وَثابَ إلَیْکَ فَقَبِلْتَهُ، وَتَنَصَّلَ إلَیْکَ مِنْ ذُ نُوبِهِ کُلِّها

نے عطا کیا جنہوں نے شکر کیا تو نے زیادہ دیا تیری طرف پلٹے تو نے انہیں قبول کیا اپنے گناہوں کے ساتھ تیری طرف آئے

فَغَفَرْتَها لَهُ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ وَنَقِّنا وَسَدِّدْناوَاقْبَلْ تَضَرُّعَنا، یَا خَیْرَ

تو ان کے سبھی گناہ معاف کردیئے اے جلالت و عزت کے مالک اے اللہ ہمیں پاک کر ہماری رہنمائی فرما اور ہماری زاری قبول کر

مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ إغْماضُ الْجُفُونِ، وَلاَ

اے بہترین سوال شدہ اور طلب رحمت پر زیادہ رحمت کرنے والے اے وہ جس پر پوشیدہ نہیں ہے پلک کا جھپکنا نہ

لَحْظُ الْعُیُونِ، وَلاَ مَا اسْتَقَرَّ فِی الْمَکْنُونِ، وَلاَ مَا انْطَوَتْ عَلَیْهِ مُضْمَراتُ الْقُلُوبِ

آنکھوں کا اشارہ نہ وہ چیز جو پردے کے نیچے ہو اور نہ وہ بات جو دلوں کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہو ہاں ان

أَلاَ کُلُّ ذلِکَ قَدْ أَحْصاهُ عِلْمُکَ وَوَسِعَهُ حِلْمُکَ سُبْحانَکَ وَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ

سب کو تیرے علم نے شمار کررکھا ہے اور تیری نرمی ان پر چھائی ہوئی ہے تو پاک تر اور بلند تر ہے اس سے جو ناحق کہنے والے کہتے ہیں

عُلُوّاً کَبِیراً، تُسَبِّحُ لَکَ السَّماواتُ السَّبْعُ وَالْاََرَضُونَ وَمَنْ فِیهِنَّ وَ إنْ مِنْ شَیْئٍ

تو بلندتر بزرگتر ہے تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے نہیں کوئی چیز موجود ہے مگر

إلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالْمَجْدُ وَعُلُوُّ الْجَدِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ،

وہ تیری حمد کررہی ہے پس حمد تیرے لئے ہے اے بزرگی بلند شان اے جلالت و عزت کے مالک فضل

وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ، وَالْاَیادِی الْجِسامِ، وَأَ نْتَ الْجَوادُ الْکَرِیمُ، الرَّؤُوفُ الرَّحِیمُ

کرنے والے نعمت دینے والے بڑی بڑی عطائیں کرنے والے اور تو بخشش کرنے والا کرم کرنے والا نرمی کرنے والا مہربان ہے

اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ، وَعافِنِی فِی بَدَنِی وَدِینِی، وَآمِنْ خَوْفِی،

اے اللہ میرے لئے اپنا رزق حلال وسیع فرما میرے بدن اور میرے دین کی حفاظت فرما مجھے خوف سے بچا اور میری گردن کو جہنم کی

وَأَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَمْکُرْ بِی وَلاَ تَسْتَدْرِجْنِی وَلاَ تَخْدَعْنِی، وَادْرَ

آگ سے آزاد کردے اے اللہ مجھے غلط فہمی میں نہ ڈال دھوکے میں نہ رکھ مجھے فریب نہ کھانے دے اور نابکار

أْعَنِّی شَرَّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ

جنّوں اور انسانوں کو مجھ سے دور کر دے ۔

پھر آپ نے اپنے سر اور انکھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا جبکہ آپ کی انکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ با آواز بلند عرض کر رہے تھے:

یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ وَیَا أَرحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے سب سے تیز ترحساب کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم

صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ السَّادَةِ الْمَیامِینِ وَأَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ حاجَتِیَ الَّتِی إنْ

کرنے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما جو برکت والے سردار ہیں اورمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ اپنی اس حاجت کا

أَعْطَیْتَنِیها لَمْ یَضُرَّنِی مَا مَنَعْتَنِی، وَ إنْ مَنَعْتَنِیها لَمْ یَنْفَعْنِی مَا أَعْطَیْتَنِی، أَسْأَ لُکَ

کہ اگر تو وہ عطا کردے تو جو کچھ تو نے نہیں دیا اس سے مجھے نقصان نہیں اور اگر تو وہ عطا نہ کرے تو جو تونے دیا اس سے مجھے کوئی نفع

فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَکَ الْمُلْکُ

نہیں سوال کرتا ہوں کہ میری گردن جہنم سے آزاد کردے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں تیرے لئے حکومت

وَلَکَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ،

تیرے لئے حمد ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھتا ہے اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب۔

حضرت امام حسین -بار بار یارب یارب کہتے رہے جب کہ آپکے اردگرد کھڑے لوگ آپکی دعا سنتے ہوئے آمین کہتے رہے یہاں تک کہ آپکے ساتھ ساتھ ان سب کی رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ،غروب آفتاب تک یہی حالت رہی پھر سب لوگ مشعر الحرام روانہ ہو گئے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ بلدالامین میں کفعمی نے امام حسین -کی دعائے عرفہ اس قدر نقل کی ہے جو اوپر ذکر ہوئی ہے اور زادالمعاد میں علامہ مجلسی نے بھی کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا یہیں تک ذکر کی ہے ،لیکن ابن طاؤس نے یارب یارب کے بعد یہ اضافی کلمات بھی تحریر فرمائے ہیں۔

إلهِی أَنَا الْفَقِیرُ فِی غِنایَ فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ فَقِیراً فِی فَقْرِی إلهِی أَنَا الْجاهِلُ فِی

میرے اللہ میں اپنی تونگری میں بھی محتاج ہوں تو اپنے فقر کی حالت میں کیوں نہ محتاج ہوں گا میرے اللہ میں علم رکھتے ہوئے

عِلْمِی فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ جَهُولاً فِی جَهْلِی إلهِی إنَّ اخْتِلافَ تَدْبِیرِکَ وَسُرْعَةَ طَوائِ

بھی جاہل ہوں تو اپنی جہالت میں کیوں نہ جاہل ہوں گا اے اللہ بے شک تیری تدبیر کے تغیر و تبدل اور تیری جلد وارد ہونے والی

مَقادِیرِکَ مَنَعا عِبادَکَ الْعارِفِینَ بِکَ عَنِ السُّکُونِ إلی عَطائٍ وَالْیَأْسِ مِنْکَ فِی بَلائٍ

تقدیر نے تیری معرفت رکھنے والے بندوں کو ہے تیری عطا کی امید نہ رکھنے اور مشکل کے وقت تجھ سے مایوس ہو جانے سے روکا ہوا ہے

إلهِی مِنِّی مَا یَلِیقُ بِلُؤْمِی وَمِنْکَ مَا یَلِیقُ بِکَرَمِکَ إلهِی وَصَفْتَ

میرے اللہ میں نے وہ کیا جو میری پستی کا تقاضہ ہے اور تو وہ کرے گا جو تیری بڑائی کے لائق ہے میرے اللہ میری کمزوری سے پہلے

نَفْسَکَ بِاللُّطْفِ وَالرَّأْفَةِ لِی قَبْلَ وُجُودِ ضَعْفِی أَفَتَمْنَعُنِی مِنْهُما بَعْدَ وُجُودِ ضَعْفِی

ہی تیری ذات لطف و کرم کے اوصاف رکھتی ہے تو کیا میری کمزوری کے بعد مجھ سے تو یہ مہربانیاں روک دے گا

إلهِی إنْ ظَهَرَتِ الْمَحاسِنُ مِنِّی فَبِفَضْلِکَ وَلَکَ الْمِنَّةُ عَلَیَّ وَ إنْ ظَهَرَتِ الْمَساوئُ

میرے اللہ اگر مجھ سے نیکیاں ظاہر ہوئیں تو یہ تیرا فضل ہے اور مجھ پر یہ تیرا احسان ہے اور اگر مجھ سے برائیوں کا ظہور ہوا ہے تو یہ تیرا

مِنِّی فَبِعَدْلِکَ وَلَکَ الْحُجَّةُ عَلَیَّ إلهِی کَیْفَ تَکِلُنِی وَقَدْ تَکَفَّلْتَ لِی وَکَیْفَ أُضامُ

عدل ہے اور مجھ پر تیری حجت قائم ہو گئی ہے میرے اللہ کیسے تو مجھ کو چھوڑ دے گا جب کہ تو میرا کفیل ہے کیونکر میں روند دیا جاؤں

وَأَنْتَ النَّاصِرُلِی أَمْ کَیْفَ أَخِیبُ وَأَنْتَ الْحَفِیُّ بِی ها أَنَا أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِفَقْرِی إلَیْکَ

جب کہ تو میرا مددگار ہے یا کیسے بے آس ہوجاؤں جب کہ تو مجھ پر مہربان ہے اب میں تیری درگاہ میں اپنے فقر کے ساتھ آیا ہوں

وَکَیْفَ أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمَا هُوَ مَحالٌ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أَشْکُو إلَیْکَ حالِی

اور کسطرح تجھے اپنا وسیلہ بناؤں جب کہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی تجھ تک پہنچ پائے یا کیونکر تجھ سے اپنے حالات کی شکایت کروں جب کہ

وَهُوَ لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أُتَرْجِمُ بِمَقالِی وَهُوَ مِنْکَ بَرَزٌ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ

وہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں یا کسطرح اپنی زبان سے ان کی تشریح کروں جب کہ وہ تیری طرف سے اور تجھ پر عیاں ہیں یا کیونکر میری

آمالِی وَهِیَ قَدْ وَفَدَتْ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ لاَ تُحْسِنُ أَحْوالِی وَبِکَ

آرزوئیں ناکام رہیں گی جب کہ یہ تیرے جناب میں پیش کی جا چکی ہیں یا کیونکر میرے حالات بہتر نہ ہونگے جب کہ میں تیری وجہ

قامَتْ إلهِی مَا أَلْطَفَکَ بِی مَعَ عَظِیمِ جَهْلِی وَمَا أَرْحَمَکَ بِی مَعَ قَبِیحِ فِعْلِی

سے قائم ہوں میرے اللہ تیرا کتنا لطف ہے مجھ پر جبکہ میں بڑا ہی نادان ہوں اور تو کس قدر مہربان ہے مجھ پر جبکہ میں خطاکار ہوں

إلهِی مَا أَقْرَبَکَ مِنِّی وَأَبْعَدَنِی عَنْکَ وَمَا أَرْأَ فَکَ بِی فَمَا الَّذِی یَحْجُبُنِی عَنْکَ

میرے اللہ تو کتنا نزدیک ہے مجھ سے جبکہ میں تجھ سے بہت دور ہوں اور کتنا مہربان ہے تو مجھ پر پھر کس نے مجھے تجھ سے ہٹا دیا ہے

إلهِی عَلِمْتُ بِاِخْتِلافِ الْآثارِ وَتَنَقُّلاتِ الْآطْوارِ، أَنَّ مُرادَکَ مِنِّی أَنْ تَتَعَرَّفَ إلَیَّ

میرے اللہ دنیا کے حالات کی تبدیلیوں اور طریقوں کے تغیرات کے ذریعے میں جان گیا کہ تیری مراد یہ ہے کہ تو ہر چیز سے مجھے اپنی

فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی لا أَجْهَلَکَ فِی شَیْئٍ إلهِی کُلَّما أَخْرَسَنِی لُؤْمِی أَنْطَقَنِی

شناسائی کرائے تاکہ میں کسی چیز کے ضمن میں تیری قدرت سے ناواقف نہ رہوں میرے اللہ جب میری پستی مجھے گنگ کر دیتی ہے تو

کَرَمُکَ وَکُلَّما آیَسَتْنِی أَوْصافِی أَطْمَعَتْنِی مِنَنُکَ إلهِی

تیرا کرم مجھے گویا کر دیتا ہے جب بھی میرے برے اوصاف مجھے مایوس کرتے ہیں تیرے احسان مجھے حوصلہ دیتے ہیں میرے اللہ

مَنْ کانَتْ مَحاسِنُهُ مَساوِیََ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ مَساویُهُ مَساوِیََ وَمَنْ کانَتْ حَقائِقُهُ

جس شخص کی خوبیاں بھی برائیاں ہوں تو اس کی برائیاں کیوں نہ برائیاں شمار کی جائیں گی اور جس شخص کی حقیقت ہی محض

دَعاوِیَ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ دَعاواهُ دَعاوِیَ إلهِی حُکْمُکَ النَّافِذُ وَمَشِیئَتُکَ الْقاهِرَةُ

کھوکھلی باتیں ہوں تو اس کی خالی خولی باتیں کیوں نہ محض باتیں تصور کی جائیں گی میرے اللہ تیرا حکم جاری ہے اور تیری مرضی قاہر

لَمْ یَتْرُکا لِذِی مَقالٍ مَقالاً، وَلاَ لِذِی حالٍ حالاً إلهِی کَمْ مِنْ طاعَةٍ

و غالب ہے کہ ان کے مقابل بولنے والا بول نہیں سکتا اور نہ کوئی صاحب حال کچھ کرسکتا ہے میرے اللہ کتنی ہی بار میں نے اطاعت

بَنَیْتُها، وَحالَةٍ شَیَّدْتُها هَدَمَ اعْتِمادِی عَلَیْها عَدْلُکَ، بَلْ أَقالَنِی مِنْها

کرتے ہوئے عبادت کی شکل بنائی ہے مگر تیرے عدل کے خوف سے اس پر میرا بھروسہ نہ رہا بلکہ وہ تیرے فضل سے میری بخشش کا

فَضْلُکَ إلهِی إنَّکَ تَعْلَمُ أَ نِّی وَ إنْ لَمْ تَدُمِ الطَّاعَةُ مِنِّی فِعْلاً جَزْماً فَقَدْ دامَتْ

ذریعہ بنی میرے اللہ بے شک تو جانتا ہے اگرچہ میں عبادت میں مستقلاً مشغول نہیں ہوں تو بھی تجھ سے میری محبت

مَحَبَّةً وَعَزْماً إلهِی کَیْفَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْقاهِرُ وَکَیْفَ لاَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْاَمِرُ إلهِی

ہمیشہ راسخ ہے میرے اللہ کس قدر بندگی کا ارادہ کروں جب کہ تو غالب ہے اور کیونکر ارادہ نہ کروں جب کہ تو حکم دیتا ہے میرے اللہ

تَرَدُّدِی فِی الْاَثارِ یُوجِبُ بُعْدَ الْمَزارِ فَاجْمَعْنِی عَلَیْکَ بِخِدْمَةٍ تُوصِلُنِی إلَیْکَ کَیْفَ

تیری قدرت کے آثار میں غور کرنا تیرے دیدار سے دوری کا سبب ہے پس مجھے اپنے حضور حاضر رکھ تیری سرکار میں پہنچ پاؤں کیونکر

یُسْتَدَلُّ عَلَیْکَ بِما هُوَ فِی وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ إلَیْکَ أَیَکُونُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّهُورِ مَا لَیْسَ

وہ چیز تیری طرف رہنمائی کر سکتی ہے جو اپنے وجود ہی میں تیری محتاج ہے آیا تیرے غیر کیلئے ایسا ظہور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے

لَکَ حَتَّی یَکُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَکَ مَتی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ إلی دَلِیلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتی

یہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والا بن جائے تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہو جو تیری دلیل ٹھہرے اور تو کب دور

بَعُدْتَ حَتَّی تَکُونَ الْاَثارُ هِیَ الَّتِی تُوصِلُ إلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْنٌ لاَ تَراکَ عَلَیْها رَقِیباً

تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچانے کا ذریعہ و وسیلہ بنیں اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی اس

وَخَسِرَتْ صَفْقَةُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَهُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیباً إلهِی أَمَرْتَ بِالرُّجُوعِ إلَی

بندے کا سودہ خسارے والا ہے جس کو تو نے اپنی محبت کا حصہ نہیں دیا میرے اللہ تو نے اپنی قدرت کے آثار پر توجہ کا

الْاَثارِ فَأَرْجِعْنِی إلَیْکَ بِکِسْوَةِ الْاََ نْوارِ وَهِدایَةِ الاسْتِبْصارِ حَتَّی أَرْجِعَ إلَیْکَ

حکم کیا پس مجھ کو اپنے نور کے پردوں اور بصیرت کے راستوں کی طرف لے چل تاکہ اس کے ذریعے تیری

مِنْها کَما دَخَلْتُ إلَیْکَ مِنْها مَصُونَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ إلَیْها، وَمَرْفُوعَ الْهِمَّةِ عَنِ

درگاہ میں آؤں جس طرح انہی کے ذریعے تیری طرف راہ پائی انہیں دیکھ کر راز حقیقت کی خبر پاؤں اور ان کے سہارے اپنی ہمت کو

الاعْتِمادِ عَلَیْها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ إلهِی هذَا ذُ لِّی ظاهِرٌ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَهذَا

بلند کروں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے میرے اللہ یہ ہے میری پستی جو تیرے آگے عیاں ہے اور یہ ہے

حالِی لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ مِنْکَ أَطْلُبُ الْوُصُولَ إلَیْکَ، وَبِکَ أَسْتَدِلُّ عَلَیْکَ فَاهْدِنِی

میری بری حالت جو تجھ سے پوشیدہ نہیں میں تیری بارگاہ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور تجھ پر تجھی کو دلیل ٹھہراتا ہوں پس اپنے نور سے میری

بِنُورِکَ إلَیْکَ وَأَقِمْنِی بِصِدْقِ الْعُبُودِیَّةِ بَیْنَ یَدَیْکَ إلهِی عَلِّمْنِی مِنْ عِلْمِکَ الْمَخْزُونِ

اپنی طرف سے رہنمائی کر اور اپنے حضور مجھے سچی بندگی پر قائم رکھ میرے اللہ مجھے اپنے پوشیدہ علوم میں سے تعلیم دے

وَصُنِّی بِسِتْرِکَ الْمَصُونِ إلهِی حَقِّقْنِی بِحَقایِقِ أَهْلِ الْقُرْبِ، وَاسْلُکْ بِی مَسْلَکَ

اور اپنے محکم پردے کے ساتھ میری حفاظت کر میرے اللہ مجھے اپنے اہل قرب کے حقائق سے بہرہ ور فرما اور ان کی راہ پر ڈال جو

أَهْلِ الْجَذْبِ إلهِی أَغْنِنِی بِتَدْبِیرِکَ لِی عَنْ تَدْبِیرِی، وَبِاخْتِیارِکَ عَن إخْتِیارِی،

تیری طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں میرے اللہ اپنے تدبراور پسند کے ذریعے مجھے میرے تدبر اور پسند سے بے نیاز کردے اور

وَأَوْقِفْنِی عَلَی مَراکِزِ اضْطِرارِی إلهِی أَخْرِجْنِی مِنْ ذُلِّ نَفْسِی، وَطَهِّرْنِی مِنْ

پریشانی کے عالم میں مجھے ثابت قدم رکھ میرے معبود مجھے میرے نفس کی پستی سے نکال لے مجھے شک اور

شَکِّی وَشِرْکِی قَبْلَ حُلُولِ رَمْسِی بِکَ أَنْتَصِرُ فَانْصُرْنِی وَعَلَیْکَ أَتَوَکَّلُ فَلاتَکِلْنِی

شرک سے پاک کردے قبل اسکے کہ میں قبر میں جاؤں، تجھ سے مدد چاہتا ہوں میری مدد فرما تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے چھوڑ نہ

وَ إیَّاکَ أَسْئَلُ فَلا تُخَیِّبْنِی، وَفِی فَضْلِکَ أَرْغَبُ فَلا تَحْرِمْنِی، وَبِجَنابِکَ أَ نْتَسِبُ

دے تجھ سے مانگتا ہوں پس ناامید نہ کر تیرے فضل کی آس لگائی ہے پس مجھے محروم نہ کر تیری بارگاہ سے تعلق جوڑا ہے پس مجھے دور نہ

فَلا تُبْعِدْنِی، وَبِبابِکَ أَقِفُ فَلا تَطْرُدْنِی إلهِی تَقَدَّسَ رِضاکَ أَنْ یَکُونَ لَهُ عِلَّةٌ

فرما تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں پس مجھے بھگا نہ دے میرے اللہ تیری رضا پاک ہے ممکن نہیں اس میں تیری طرف سے

مِنْکَ فَکَیْفَ یَکُونُ لَهُ عِلَّةٌ مِنِّی إلهِی أَ نْتَ الْغَنِیُّ بِذاتِکَ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ النَّفْعُ مِنْکَ

نقص آئے پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نقص دار کہوں میرے اللہ تو اپنی ذات میں بے نیاز ہے اس سے کہ تجھے اپنی ذات سے نفع

فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ غَنِیّاً عَنِّی إلهِی إنَّ الْقَضائَ وَالْقَدَرَ یُمَنِّینِی، وَ إنَّ الْهَویٰ بِوَثائِقِ

پہنچے کیوں کر تو مجھ سے بے نیاز نہ ہوگا میرے اللہ قضا وقدر مجھ کو آرزومند بناتی ہے اور خواہش نفس مجھے آرزوؤں کا قیدی

الشَّهْوَةِ أَسَرَنِی فَکُنْ أَنْتَ النَّصِیرَ لِی حَتَّی تَنْصُرَنِی وَتُبَصِّرَنِی وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ

بنا لیتی ہے پس تو میرا مددگار بن جا تاکہ کامیاب ہو جاؤں بینا ہو جاؤں اور اپنے فضل سے مجھ کو بے نیاز کردے

حَتَّی أَسْتَغْنِیَ بِکَ عَنْ طَلَبِی أَنْتَ الَّذِی أَشْرَقْتَ الْاََ نْوارَ فِی قُلُوبِ أَوْلِیائِکَ حَتَّی

تاکہ تیرے ذریعے حاجت سے بے نیاز ہو جاؤں تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں کو نور کی شعاؤں سے روشن کردیا تو

عَرَفُوکَ وَوَحَّدُوکَ ، وَأَ نْتَ الَّذِی أَزَلْتَ الْاََغْیارَ عَنْ قُلُوبِ أَحِبَّائِکَ حَتَّی لَمْ یُحِبُّوا

انہوں نے تجھے پہچانا اور تجھے ایک مانا اور تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں سے غیروں کو دور کردیا تو وہ

سِواکَ وَلَمْ یَلْجَأُوا إلی غَیْرِکَ، أَ نْتَ الْمُؤْ نِسُ لَهُمْ حَیْثُ أَوْحَشَتْهُمُ الْعَوالِمُ

سوائے تیرے کسی سے محبت نہیں رکھتے اور تیرے غیر کی پناہ نہیں لیتے جب زمانہ ان کو ہراساں کرے اس وقت تو ہی انکا ہمدم ہے

وَأَنْتَ الَّذِی هَدَیْتَهُمْ حَیْثُ اسْتَبانَتْ لَهُمُ الْمَعالِمُ، مَاذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذِی

اور تو وہ ہے جس نے ان کی رہنمائی کی جب وہ تیرے نشان و برھان سے دور ہوئے اس نے کیا پایاجس نے تجھے کھویا اور اس نے

فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ لَقَدْ خابَ مَنْ رَضِیَ دُونَکَ بَدَلاً وَلَقَدْ خَسِرَ مَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً

کچھ نہ کھویا جس نے تجھ کو پایا اور یقینا ناکام ہوا جو تیری بجائے کسی اور کو پسند کرنے لگا اور وہ گھاٹے میں پڑا جو سرکشی کیساتھ تجھ سے پھر گیا

کَیْفَ یُرْجیٰ سِواکَ وَأَنْتَ مَا قَطَعْتَ الْاِحْسانَ وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَأَنْتَ مَا

کس طرح تیرے غیر سے امید رکھی جا سکتی ہے جبکہ تیرا احسان و کرم رکتا ہی نہیں اور کیونکر تیرے غیر سے سو،ال کیا جاسکتا ہے جبکہ

بَدَّلْتَ عادَةَ الامْتِنانِ یَا مَنْ أَذاقَ أَحِبَّائَهُ حَلاوَةَ الْمُؤانَسَةِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ

تیرے فضل و احسان کرنے کی عادت میں تبدیلی نہیں آتی اور وہ جو اپنے دوستوںکو الفت کی مٹھاس چکھاتا ہے پس وہ اس کے حضور

مُتَمَلِّقِینَ وَیَا مَنْ أَلْبَسَ أَوْلِیائَهُ مَلابِسَ هَیْبَتِهِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ

تعریفیں کرتے کھڑے ہو جاتے ہیں اے وہ جو اپنے دوستوں کو اپنی ہیبت کا لباس پہناتا ہے تو وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں

مُسْتَغْفِرِینَ، أَ نْتَ الذَّاکِرُ قَبْلَ الذَّاکِرِینَ، وَأَ نْتَ الْبادئُ بِالاحْسانِ قَبْلَ تَوَجُّهِ

بخشش مانگتے ہوئے تو یاد کرنے والوں سے پہلے انکو یاد رکھنے والا ہے تو احسان میں ابتدا کرنے والا ہیعبادت گزاروں کے توجہ کرنے

الْعابِدِینَ، وَأَنْتَ الْجَوادُ بِالْعَطائِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِینَ، وَأَ نْتَ الْوَهَّابُ ثُمَّ لِما

سے پہلے تو عطا میں اضافہ کرنے والا ہے مانگنے والوں کے مانگنے سے پہلے تو بہت دینے والا ہے پھر اس میں سے بطور قرض مانگتا

وَهَبْتَ لَنا مِنَ الْمُسْتَقْرِضِینَ إلهِی اطْلُبْنِی بِرَحْمَتِکَ حَتَّی أَصِلَ إلَیْکَ وَاجْذِبْنِی

ہے جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے میرے اللہ اپنی رحمت سے مجھ کو بلا لے تاکہ میں تیرے حضور پہنچ سکوں مجھے اپنی طرف کھینچ لے

بِمَنِّکَ حَتَّی أُقْبِلَ عَلَیْکَ إلهِی إنَّ رَجائِی لاَ یَنْقَطِعُ عَنْکَ وَ إنْ عَصَیْتُکَ، کَما أَنَّ

تاکہ تیری بارگاہ میں آسکوں میرے اللہ بے شک میری آس تجھ سے نہیں ٹوٹے گی اگرچہ میں تیری نافرمانی کروں جیسا کہ میرا

خَوفِی لاَ یُزایِلُنِی وَ إنْ أَطَعْتُکَ، فَقَدْ دَفَعَتْنِی الْعَوالِمُ إلَیْکَ، وَقَدْ أَوْقَعَنِی عِلْمِی

خوف دور نہ ہوگا اگرچہ میں تیری اطاعت بھی کروں پس زمانے کی سختیوں نے مجھ کو تیری طرف دھکیل دیا اور تیری نوازش کے علم نے

بِکَرَمِکَ عَلَیْکَ إلهِی کَیْفَ أَخِیبُ وَأَ نْتَ أَمَلِی أَمْ کَیْفَ أُهانُ وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی

تیری بارگاہ میں پہنچا دیا میرے اللہ کیونکر ناامید ہو جاؤں جب کہ تو میری آرزو ہے یا کیسے پست ہوں گا جب کہ میرا بھروسہ تجھ پر ہے

إلهِی کَیْفَ أَسْتَعِزُّ وَفِی الذِّلَّةِ أَرْکَزْتَنِی أَمْ کَیْفَ لاَ أَسْتَعِزُّ وَ إلَیْکَ نَسَبْتَنِی

میرے اللہ کیسے عزت کا دعوی کروں جب کہ اس خواری میں تو نے مجھے یاد کیا یا کیسے عزت کا دعوا کروںمیری نسبت تیری طرف ہے

إلهِی کَیْفَ لاَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی فِی الْفُقَرائِ أَقَمْتَنِی أَمْ کَیْفَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی بِجُودِکَ

میرے اللہ کیونکر فقیر نہ بنوں جب کہ تو نے مجھے فقیروں کی صف میں رکھا ہے یا کسیے میں فقیر بنوں جب کہ تو نے مجھ کو اپنی عطا سے غنی

أَغْنَیْتَنِی وَأَنْتَ الَّذِی لاَ إلهَ غَیْرُکَ تَعَرَّفْتَ لِکُلِّ شَیْئٍ فَما جَهِلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ

کیا ہوا ہے اور تو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہر چیز کو اپنی پہچان کرائی پس کوئی چیز نہیں جو تجھے پہچانتی نہ ہو اور تو وہ ہے

الَّذِی تَعَرَّفْتَ إلَیَّ فِی کُلِّ شَیْئٍ فَرَأَیْتُکَ ظاهِراً فِی کُلِّ شَیْئٍ، وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ لِکُلِّ

جس نے ہر چیز کے ذریعے مجھے اپنی معرفت کرائی پس میں نے تجھے ہر چیز میں عیاں و نمایاں دیکھا اور تو ہر چیز پر ظاہر و آشکار

شَیْئٍ یَا مَنِ اسْتَویٰ بِرَحْمانِیَّتِهِ فَصارَ الْعَرْشُ غَیْباً فِی ذاتِهِ مَحَقْتَ الْآثارَ بِالْآثارِ

ہے اے وہ جو اپنی رحمت عامہ کیساتھ قائم ہے کہ عرش اس کی ذات میں نہاں ہو گیا ہے تو نے اپنی نشانیوں سے دیگر نشانیوں کو مٹا دیا

وَمَحَوْتَ الْأَغْیارَ بِمُحِیطاتِ أَ فْلاکِ الْاََ نْوارِ، یَا مَنِ احْتَجَبَ فِی سُرادِقاتِ عَرْشِهِ

تو نے اپنے غیروں کو نورانی آسمانوں کے حلقوں میں نابود کردیا اے وہ جو اپنے عرش کی چلمنوں میں پنہاں ہو گیا

عَنْ أَنْ تُدْرِکَهُ الْاََ بْصارُ، یَا مَنْ تَجَلَّیٰ بِکَمالِ بَهائِهِ فَتَحَقَّقَتْ عَظَمَتُهُ مِنَ الاسْتِوائَ

دیکھتی آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتیں اے وہ جس نے اپنے نورکامل کا جلوہ دکھایا تو اس کی عظمت قائم و برقرار

کَیْفَ تَخْفیٰ وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ أَمْ کَیْفَ تَغِیبُ وَأَ نْتَ الرَّقِیبُ الْحاضِرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ

ہو گئی کیونکر پوشیدہ ہے تو جب کہ آشکار ہے یا کیسے تو پنہاں ہے جبکہ تو نگہبان اور حاضر ہے بے شک تو ہر چیز پر

شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ

قدرت رکھتا ہے اور اللہ کیلئے حمد ہے جو یکتا ہے ۔

بہرحال جس کو خدا توفیق عطا فرما ئے اور وہ آج کے دن عرفات میں موجود ہو تو اس کیلئے آج کے دن کے بہت سے اعمال اور دعائیں ہیں ۔لیکن آج کے دن کی اہم ترین دعا ۔دعائے عرفہ ہے ۔دعا و مناجات کے لحاظ سے آج کا دن پورے سال کے دنوں میں ایک خاص امتیاز رکھتا ہے ۔پس اس روز اپنے زندہ و مردہ مومن بھائیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے ۔

عبد اللہ بن جندب کی حالت کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ وہ عرفات میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔ ان کی حالت کیا ہوتی تھی اور وہ اپنے مومن بھائیوں کے لئے کس طرح دعا کرتے تھے ۔نیز زید نرسی کی روایت میں ہے کہ ثقئہ جلیل معاویہ ابن وہب عرفات میں کس طرح کھڑے ہوتے اور کیسے اپنے ایک ایک مومن بھائی کے لئے دعا کرتے تھے ۔

علاوہ ازیں آج کے دن کی عظمت کے بارے میں انہوں نے امام جعفر صادق -سے بھی روایت کی ہے کہ اس روز دعا کرنا ایک بہترین اور پسندیدہ عمل ہے پس امید واثق ہے کہ برادران دینی اور بزرگواروں کی پیروی کرتے ہوئے اس روز اپنے مومن بھائیوں کیلئے دعا کرینگے اور مجھ گناہ گار کو میری زندگی اور موت ہر حال میں اپنی روز عرفہ کی دعا میں فراموش نہیں کرینگے ۔

آج کے دن تیسری زیارت جامع پڑھے ،جو گیارہویں فصل میں ہے اور اس دن کے آخری حصے میں یہ دعا پڑھے :

یَا رَبِّ إنَّ ذُ نُوبِی لاَ تَضُرُّکَ، وَ إنَّ مَغْفِرَتَکَ لِی لاَ تَنْقُصُکَ، فَأَعْطِنِیمَا لاَ

اے پروردگاربے شک میرے گناہ تجھے نقصان نہیں دیتے اور یقینا مجھ کو بخش دینے سے تیری عطا میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی پس مجھے

یَنْقُصُکَ، وَاغْفِرْ لِی مَا لاَ یَضُرُّکَپھر یہ بھی پڑھے : اَللّٰهُمَّ لاَ تَحْرِمْنِی خَیْرَ مَا

عطا کر کہ اس سے تجھے کمی نہیں آتی اور مجھے بخش دے کہ اس میں تیرا نقصان نہیں اے اللہ ! مجھے اپنی بھلائی سے محروم نہ کر

عِنْدَکَ لِشَرِّ مَا عِنْدِی، فَ إنْ أَ نْتَ لَمْ تَرْحَمْنِی بِتَعَبِی وَنَصَبِی فَلا تَحْرِمْنِی أَجْرَ

اس برائی کی وجہ سے جو میں نے کی پس اگر تو نے اس رنج اور تکلیف میںمجھ پر رحم نہیں کیا تو مجھے اس شخص جیسے اجر سے محروم نہ فرما

الْمُصابِ عَلَی مُصِیبَتِهِ

جس نے سختی پر سختی جھیلی ہو ۔

مؤلف کہتے ہیں کہ روز عرفہ کی دعاؤں کے سلسلے میں سید ابن طاؤس نے غروب آفتاب کے وقت پڑھنے کے لئے اس دعا کا ذکر فرمایا ہے :

بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَ سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِیه دعا وہی دعا عشرات ہے جو قبل از یں چھٹی فصل میں ذکر ہو چکی ہے پس یہ دعا جو ہر صبح شام پڑھی جاتی ہے اس کو آخر روز عرفہ میں پڑھنا ترک نہ کرے ۔یہ دہ گانہ اذکار جن کو شیخ کفعمیرحمه‌الله نے نقل کیا ہے وہی اذکار ہیں جو سید نے بھی تحریر فرمائے ہیں ۔

چھٹی فصلماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال عشرہ اول ذی الحجہ

واضح ہو کہ ذوالحجہ ایک عظیم اور بزرگ تر مہینہ ہے، جب اس مہینے کا چاند نظر آتا تو اکثر صحابہ(رض) و تابعین عبادت میں خاص اہتمام کرتے تھے قرآن مجید میں اس کے پہلے دس دنوں کو ایام معلومات کہا گیا ہے اور یہ بڑی فضیلت اور برکت والے ایام ہیں۔ حضرت رسول اللہ کا فرمان ہے کہ کسی بھی دن کی نیکی و عبادت خدا کے ہاںاس نیکی و عبادت سے زیادہ محبوب نہیں جو ان دس دنوں میں کی جائے۔

ان دس دنوں میںچند ایک اعمال ہیں۔

( ۱ )پہلے نو دن کے روزے رکھے تو ایسا ہے گویا ساری زندگی روزے رکھے ہوں ۔

( ۲ )ان دس دنوں میں مغرب و عشا کے درمیان دو رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سورہ توحید اور یہ آیت پڑھے تا کہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہوجائے۔

وَوٰاعَدْنا مُوسیٰ ثَلاَثِینَ لَیْلَةً وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِینَ لَیْلَةً وَقالَ

وعدہ کیا ہم نے موسیٰعليه‌السلام سے تیس راتوں کا اورمزید دس راتوں کا اضافہ کیا تو پھر اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا ہوگیا

مُوسی لاََِخِیهِ هارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیلَ المُفْسِدِینَ

اور کہا موسیٰعليه‌السلام نے اپنے بھائی ہارونعليه‌السلام سے میری امت میںجانشین بن اور ان کی اصلاح کر اور فساد کرنیوالوں کی راہ پر نہ چلنا۔

( ۳ )پہلے دن سے عرفہ کے دن تک نماز فجر کے بعد اور نمازمغرب سے پہلے یہ دعا پڑھے، جو شیخ و سید نے امام جعفر صادق -سے نقل کی اور وہ یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ هذِهِ الْاَیَّامُ الَّتِی فَضَّلْتَها عَلَی الْاَیَّامِ وَشَرَّفْتَها وَقَدْ بَلَّغْتَنِیها بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ

اے معبود! یہ وہ دن ہیں جن کو تو نے دوسرے دنوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے تو نے اپنے احسان اور رحمت سے یہ دن ہم کو دکھائے

فَأَنْزِلْ عَلَیْنا مِنْ بَرَکاتِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیْنا فِیها مِنْ نَعْمائِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ

ہیں پس ان دنوں میں ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما اور اپنی نعمتوں میں وسعت فرما اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ

تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهْدِیَنا فِیها لِسَبِیلِ الْهُدی وَالْعَفافِ وَالْغِنی

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں راہ ہدایت، پاکدامنی اور سیر چشمی کی طرف ہماری رہنمائی کر اور ان میں ہمیں

وَالْعَمَلِ فِیها بِما تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَیَا

اپنا پسندیدہ عمل کرنے کی توفیق دے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے ہر شکایت کی امیدگاہ اے ہر سرگوشی

سامِعَ کُلِّ نَجْوی، وَیَا شاهِدَ کُلِّ مَلَأَ، وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ

کے سننے والے اے ہر جماعت پر حاضر گواہ اور اے ہر راز کے جاننے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنَّا فِیهَا الْبَلائَ، وَتَسْتَجِیبَ لَنا فِیهَا الدُّعائَ، وَتُقَوِّیَنا فِیها

رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہم سے مصیبت کو دور کر ان ایام میں ہماری دعا قبول فرما اور قوت عطا کر

وَتُعِینَنا وَتُوَفِّقَنا فِیها لِما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضی وَعَلَی مَا افْتَرَضْتَ عَلَیْنا مِنْ طاعَتِکَ

ان دنوں میں ہمیں اس عمل پر مدد اور توفیق دے جس سے تو راضی ہو اور اس کی بھی توفیق کہ جس کو تو نے اور اپنے رسول اور اپنے اہل

وَطاعَةِ رَسُو لِکَ وَأَهْلِ وِلایَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ أَنْ تُصَلِّیَ

ولایت کی اطاعت کے عنوان سے ہم پرفرض کیا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے کہ

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهَبَ لَنا فِیهَا الرِّضا إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ، وَلاَ تَحْرِمْنا

تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہمیں اپنی خوشنودی عطاکر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اور ہمیں اس بھلائی

خَیْرَ مَا تُنْزِلُ فِیها مِنَ السَّمائِ، وَطَهِّرْنا مِنَ الذُّنُوبِ یَا عَلاّمَ الْغُیُوبِ، وَأَوْجِبْ

سے محروم نہ کر جو تو نے آسمان سے نازل کی ہے اور ہمارے گناہ دھوڈال اے غیبوں کے جاننے والے اور اس دنوں ہمارے لیے

لَنا فِیها دارَ الْخُلُودِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَتْرُکْ لَنا فِیها ذَ نْباً إلاَّ

ہمیشگی والی جنت واجب کردے اے معبود؛ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ہمارا کوئی گناہ نہ رہنے دے جسے تونے نہ بخشا ہو اور نہ

غَفَرْتَهُ، وَلاَ هَمّاً إلاَّ فَرَّجْتَهُ، وَلاَ دَیْناً إلاَّ قَضَیْتَهُ، وَلاَ غائِباً إلاَّ أَدَّیْتَهُ، وَلاَ حاجَةً

کوئی غم کہ جس سے تو نے گشائش نہ دی ہو اور نہ کوئی قرض کہ جسے تو نے ادا نہ کیا ہو اور نہ گمشدہ شی کہ جسے تو نے (ہم تک)نہ پہنچایا

مِنْ حَوٰائِجِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ إلاَّ سَهَّلْتَها وَیَسَّرْتَها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ

ہو اور نہ دنیا وآخرت کی حاجات میں سے کوئی حاجت کہ جسے تو نے پورا نہ کیا ہو اور اسے آسان نہ بنایا ہوبے شک تو ہرچیز پر قدرت

قَدِیرٌ ۔ اَللّٰھُمَّ یَا عالِمَ الْخَفِیَّاتِ، یَا راحِمَ الْعَبَراتِ، یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَبَّ

رکھتا ہے اے معبود! اے چھپی چیزوں سے واقف اے گرتے آنسوؤں پر رحم کھانے والے اے دعائیں قبول کرنے والے اے

الْاَرَضِینَ وَالسَّماواتِ، یَا مَنْ لاَ تَتَشابَهُ عَلَیْهِ الْاَصْواتُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

زمینوں و آسمانوں کے پروردگار اے وہ جس کو آوازیں شبہ میں نہیں ڈال سکتیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنا فِیها مِنْ عُتَقائِکَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، وَالْفائِزِئنَ بِجَنَّتِکَ وَالنَّاجِینَ

رحمت فرما اور ان دنوں ہمیں اپنی طرف سے آتش جہنم سے آزاد اور رہاکیئے ہوئے قرار دے نیز اپنی جنت میں داخل شدہ اور نجات

بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ

یافتہ شمار کر اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا ہمارے سردار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی ساری آلعليه‌السلام پررحمت فرمائے ۔

( ۴ ) وہ پانچ دعائیں پڑھے جو جبرائیل خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰ -کیلئے بطور ہدیہ لائے تھے تاکہ حضرت اس عشرہ میں ہر روز یہ دعائیں پڑھیں ۔ وہ پانچ دعائیں یہ ہیں ۔

﴿ ۱ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیَدِهِ

( ۱ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں حکومت اسی کی ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اسی کے

الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۲ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ،

ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۲ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا

أَحَداً صَمَداً لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً ﴿ ۳ ﴾ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ

ثانی نہیں وہ یکتا بے نیاز ہے نہ اس نے کوئی زوجہ کی نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ۔ ( ۳ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں

وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، أَحَداً صَمَداً لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ﴿ ۴ ﴾

جو یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیںہے وہ یکتا و بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ثانی ہو سکتا ہے۔ ( ۴ )

أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی

میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کی ہے وہ زندہ کرتا ہے وہ

وَیُمِیتُ، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۵ ﴾ حَسْبِیَ

موت دیتا ہے اور وہ زندہ جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۵ ) ﷲ میرے لئے

ﷲ وَکَفی، سَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ وَرائَ ﷲ مُنْتَهی، أَشْهَدُ لِلّٰهِ بِما دَعا

اور کافی وراضی ہے جو اسکو پکارے نہیں (اس کی پکار کو) سنتاہے خدا کے علاوہ کوئی انتہا نہیں جسکی اس نے دعوت دی اسکی گواہی دیتا ہوں

وَأَ نَّهُ بَرِیئٌ مِمَّنْ تَبَرَّأَ، وَأَنَّ لِلّٰهِِ الْآخِرَةَ وَالاَُْولیٰ

اور ﷲ تعالیٰ سے دور ہے جو اس سے دور ہونا چاہے اور ﷲ کیلئے ہی ابتدائ وانتہا ہے ۔

حضرت عیسیٰ -نے ان دعاؤں میں سے ہر ایک کو روزانہ سو مرتبہ پڑھنے پر بہت زیادہ ثواب کا ذکر کیا ہے علامہ مجلسیرحمه‌الله کے فرمان کے مطابق یہ بعید نہیں کہ اگر کوئی شخص ان پانچ دعاؤں کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو بھی روایت پر عمل ہوجائے گا لیکن اگر ہر دعا کو سو مرتبہ پڑھے تو بہت بہتر ہے ۔

( ۵ ) ان دس دنوں میں ہر روز یہ تہلیلات پڑھے جو حضرت امیرا لمومنین -سے منقول ہیں اور ان پر ثواب کثیر کا ذکر ہوا ہے اگر ان کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو خوب ہے وہ تہلیلات یہ ہیں :

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ اللَّیالِی وَالدُّهُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ أَمْواجِ الْبُحُورِ، لاَ إلهَ

ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں راتوں اور زمانوں کی تعداد میں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں سمندروں کی موجوں کے برابر ﷲ کے سوا

إلاَّ ﷲ وَ رَحْمَتُهُ خَیْرٌ مِمّا یَجْمَعُونَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّوْکِ وَالشَّجَرِ

کوئی معبود نہیں اور اس کی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں درختوں اور کانٹوں کی تعداد کے

لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الْحَجَرِ وَالْمَدَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ

برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں بالوں اور دن کے ریشوں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پتھروں اور ڈھیلوں کی تعداد

ﷲ عَدَدَ لَمْحِ الْعُیُونِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ فِی اللَّیْلِ إذا عَسْعَسَ، وَالصُّبْحِ

کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پلکوںکے جھپکنے کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں رات جب تاریک ہوجائے اور صبح

إذا تَنَفَّسَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الرِّیاحِ فِی الْبَرارِی وَالصُّخُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِنَ

کو جب وہ روشن ہو ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہواؤں اور بیابانوں اور صحراؤں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں آج

الْیَوْمِ إلی یَوْمِ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ

سے صور پھونکنے کے دن تک کے دنوں میں ۔

ذالحجہ کا پہلا دن

اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔

( ۱ ) روزہ رکھے اس کا ثواب اَ سیّ(۸۰) مہینوں کے روزے رکھنے کے ثواب کے برابر ہے ۔

( ۲ ) نماز حضرت فاطمہ الزہرا =بجالائے شیخ فرماتے ہیں کہ یہ نماز چار رکعت ہے دو دو کرکے پڑھے جیسے کہ امیر المومنین -کی نماز پڑھی جاتی ہے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید اور بعداز نماز تسبیح فاطمہ الزہرا =پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے:

سُبْحانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ سُبْحانَ ذِی الْجَلالِ الْباذِخِ الْعَظِیمِ سُبْحانَ

پاک ہے وہ جو بلند و بالا عزت کا مالک ہے پاک ہے وہ صاحب جلالت شان و عظمت والا پاک ہے

ذِی الْمُلْکِ الْفاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحانَ مَنْ یَریٰ أَثَرَ النَّمْلَةِ فِی الصَّفا سُبْحانَ مَنْ

وہ قدیمی قابل فخر حکومت کا مالک پاک ہے وہ جو چٹیل پتھر پر چیونٹی کے پاؤں کا نشان دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو فضا میں پرندے

یَریٰ وَقْعَ الطَّیْرِ فِی الْهَوائِ سُبْحانَ مَنْ هُوَ هکَذا وَلاَ هکَذا غَیْرُهُ

کے اڑنے کے خط دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور اس کے سوا کوئی ایسا نہیں ۔

( ۳ ) زوال سے آدھ گھنٹہ پہلے دو رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس دس مرتبہ سورہ توحید آیۃ الکرسی اور سورہ قدر پڑھے :

( ۴ ) جو شخص کسی ظالم سے خوف زدہ ہو وہ آج کے دن یہ کلمات کہے تاکہ حق تعالیٰ اسے ظالم کے شر سے محفوظ فرمائے وہ کلمات یہ ہیں :

حَسْبِی حَسْبِی حَسْبِی مِنْ سُؤالِی عِلْمُکَ بِحالِی

مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے سوال کی نسبت میرے حال سے متعلق تیرا علم۔

واضح ہو کہ آج کے دن ہی حضرت ابراہیم -کی ولادت ہوئی تھی اور شیخین کی روایت کے مطابق امیر المومنین -کے ساتھ حضرت فاطمہ الزہرا =کی تزویج بھی اسی دن ہوئی ۔

ساتویں ذی الحجہ کا دن

سات ذی الحجہ ۴۱۱ ھ میں بمقام مدینہ منورہ امام محمد باقر - کی وفات ہوئی پس یہ مسلمانوں کیلئے یوم غم ہے۔

آٹھویں ذی الحجہ کا دن

یہ ترویہ کا دن ہے اور اس میں روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے روایت ہے کہ اس دن کا روزہ ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور شیخ شہید کا فرمان ہے کہ اس روز غسل کرنا مستحب ہے۔

نویں ذی الحجہ کی رات

یہ بڑی مبارک رات ہے یہ قاضی الحاجات سے مناجات اور راز و نیاز کی رات ہے اس رات توبہ قبول اور دعا مستجاب ہوتی ہے۔ پس جو شخص یہ رات عبادت میں گزارے گویا وہ ایک سو ستر سال تک عبادت میں مصروف رہا ہے اس رات کے چند اعمال ہیں :

( ۱ ) یہ دعا پڑھے روایت ہے کہ شب عرفہ یا شب جمعہ میں اس دعا کے پڑھنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں وہ دعا یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ یَا شاهِدَ کُلِّ نَجْوی، وَمَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَعالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَمُنْتَهی کُلِّ

اے ﷲ ! اے ہر راز کے گواہ اے ہر شکایت کے پہنچنے کے مقام اے ہر پوشیدہ چیز کے جاننے والے اور ہر حاجت کی

حاجَةٍ، یَا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ عَلَی الْعِبادِ، یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا جَوادُ،

آخری جگہ اے بندوں پر اپنی نعمتوں کا آغاز کرنے والے اے مہربان معاف کرنے والے اے بہترین در گزر کرنے والے اے عطا والے

یَا مَنْ لاَ یُوارِی مِنْهُ لَیْلٌ داجٍ وَلاَ بَحْرٌ عَجَّاجٌ وَلاَ سَمائٌ ذاتُ أَبْراجٍ، وَلاَ ظُلَمٌ ذاتُ

اے وہ جس سے نہاں نہیں ہے تاریک رات نہ بے کراں سمندر نہ برجوں والا آسمان اور نہ یکبارگی اٹھنے والی موجیں

ارْتِتاجٍ، یَا مَنِ الظُّلْمَةُ عِنْدَهُ ضِیائٌ، أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ الَّذِی تَجَلَّیْتَ

نہاں ہیں اے وہ تاریکیاں جس کیلئے روشن ہیں سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری عزت والی ذات کے نور کے جسکو تونے پہاڑ پر چمکایا تو

بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً، وَبِاسْمِکَ الَّذِی رَفَعْتَ بِهِ السَّماواتِ

وہ بکھر کر رہ گیا اور حضرت موسیٰعليه‌السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تونے آسمانوں کو

بِلا عَمَدٍ، وَسَطَحْتَ بِهِ الْاَرْضَ عَلَی وَجْهِ مَائٍ جَمَدٍ، وَبِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ

بغیر ستونوں کے بلند کیا اور زمین کو جمے ہوئے پانی کی سطح کے اوپر پھیلایا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے محفوظ پوشیدہ

الْمَکْتُوبِ الطَّاهِرِ الَّذِی إذا دُعِیتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَ إذا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَیْتَ، وَبِاسْمِکَ

لکھے ہوئے پاک تر نام کے کہ جس سے تجھے پکارا جائے تو جواب دیتا ہے اور جب اس کے ذریعے تجھ سے مانگا جائے تو عطاکرتا

السُّبُّوحِ الْقُدُّوسِ الْبُرْهانِ الَّذِی هُوَ نُورٌ عَلَی کُلِّ نُورٍ، وَنُورٌ مِنْ نُورٍ یُضِیئُ مِنْهُ

ہے اور بواسطہ تیرے پاکسا وپاکیزہ نام کے سوالی ہوں جو ہر نور سے بالا تر نور ہے وہ نور ہے اس نورمیںسے اورجس سے

کُلُّ نُورٍ، إذا بَلَغَ الْاَرْضَ انْشَقَّتْ، وَ إذا بَلَغَ السَّماواتِ فُتِحَتْ، وَ إذا بَلَغَ الْعَرْشَ

ہر نور چمکتا ہے جب وہ زمین پر پہنچا تو وہ پھٹ گئی جب آسمانوں پر پہنچا تووہ کشادہ ہوگئے جب عرش پر پہنچا تو

اهْتَزَّ وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَرْتَعِدُ مِنْهُ فَرائِصُ مَلائِکَتِکَ وَاَسأَلُکَ بِحَقِّ جَبْرَائِیلَ

وہ لرزنے لگا اور بواسطہ تیرے اس نام کے کہ جس سے تیرے فرشتوںکے دل دہل جاتے ہیں اورسوالی ہوںجبرائیل میکائیل

وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ

اور اسرافیل کے واسطے سے اور حضرت محمد مصطفےٰ کے اس حق کے واسطے سے سوالی ہوں جوتمام نبیوںاورفرشتوںپرہے اور

الْاَ نْبِیائِ وَجَمِیعِ الْمَلائِکَةِ، وَبِالاسْمِ الَّذِی مَشی بِهِ الْخِضْرُ عَلَی قُلَلِ الْمائِ کَما

سوالی ہوں کہ جس کی برکت سے خضر پانی کی لہروں پر چلتے تھے جیساکہ وہ اس

مَشی بِهِ عَلَی جَدَدِ الْاَرْضِ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی فَلَقْتَ بِهِ الْبَحْرَ لِمُوسی وَأَغْرَقْتَ

زمین کی بلندیوں پر چلتے تھے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تو نے موسیعليه‌السلام کیلئے دریا کو چیرا فرعون کو اس کی

فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ وَأَنْجَیْتَ بِهِ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ وَمَنْ مَعَهُ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ

قوم سمیت غرق کیا اور موسیعليه‌السلام بن عمران کو ساتھیوں سمیت نجات دی اور بواسطہ اس نام کے جس سے موسیعليه‌السلام بن عمران نے

مُوسَی بْنُ عِمْرانَ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَأَلْقَیْتَ عَلَیْهِ مَحَبَّةً مِنْکَ

طور ایمن کی ایک سمت سے پکارا تھا پس تو نے اس کو جواب دیا اور اس پر اپنی محبت نازل فرمائی

وَبِاسْمِکَ الَّذِی بِهِ أَحْیَا عِیسَی بْنُ مَرْیَمَ الْمَوْتی وَتَکَلَّمَ فِی الْمَهْدِ صَبِیّاً، وَأَبْرَأَ

اور سوالی ہوں بواسطہ اس نام کے جس کی برکت سے عیسیٰ بن مریم نے مردے زندہ کیئے بچپنے میں گہوارے میں کلام کیا اور تیرے

الْاَکْمَهَ والْاَ بْرَصَ بِ إذْنِکَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ حَمَلَةُ عَرْشِکَ وَجَبْرَائِیلُ

حکم سے اس نام کے ساتھ جذام و برص والوں کو شفا دی اور بواسطہ تیرے اس نام کے جس سے تجھے حاملان عرش اور جبرائیل

وَمِیکائِیلُ وَ إسْرافِیلُ وَحَبِیبُکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمَلائِکَتُکَ الْمُقَرَّبُونَ،

میکائیل اور اسرافیل اور تیرے حبیب حضرت محمد تجھے پکارتے ہیں نیز جس نام سے تیرے مقرب فرشتے

وَأَنْبِیاؤُکَ الْمُرْسَلُونَ، وَعِبادُکَ الصَّالِحُونَ مِنْ أَهْلِ السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ،

تیرے بھیجے ہوئے انبیائ اور تیرے نیکوکار بندے تجھے پکارتے ہیں جو آسمان والوں اور زمین والوں میں ہیں اور بواسطہ تیرے اس

وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ ذُو النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ تَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادی

نام کے جس سے تجھے پکارا مچھلی والے نے جب وہ غصے میں جا رہا تھا تو اس نے خیال کیا کہ تو اسے نہ پکڑے گا پس اس نے وہ پانی

فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَهُ

کی تاریکیوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں پس تو نے اسکی دعا قبول

وَنَجَّیْتَهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ تُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الَّذِی دَعاکَ

کی اور تو نے اسے رنج و غم میں سے نکالا اور تو مومنوں کو اسی طرح رہائی دیتا ہے اور سوالی ہوں تیرے بزرگتر نام کے واسطے سے

بِهِ داوُدُ وَخَرَّ لَکَ ساجِداً فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعَتْکَ بِهِ آسِیَةُ

جسکے ساتھ تجھے داؤدعليه‌السلام نے سجدے کی حالت میں پکارا پس بخش دی تو نے اسکی بھول اور بواسطہ تیرے نام کے جسکے ساتھ تجھے آسیہ زوجہ

امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ إذْ قالَتْ رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ وَنَجِّنِی مِنْ فِرْعَوْنَ

فرعون نے پکارا جب کہنے لگی کہ میرے رب میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اسکے عمل سے نجات

وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِی مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَها دُعائَهَا، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ

دے اور مجھے ظالموں کے گروہ سے نجات دے پس تو نے اسکی دعا سن لی اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے

بِهِ أَیُّوبُ إذْ حَلَّ بِهِ الْبَلائُ فَعافَیْتَهُ وَآتَیْتَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِکَ

ایوبعليه‌السلام نے پکارا جب ان پر سختی آن پڑی پس تونے انکو نجات دی اور اپنی رحمت سے انہیں اہلبیت دیئے اور ان جیسے اور بھی عطا کیئے

وَذِکْری لِلْعابِدِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ یَعْقُوبُ فَرَدَدْتَ عَلَیْهِ بَصَرَهُ

تاکہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار بنے اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے یعقوبعليه‌السلام نے پکارا پس تو نے انہیں

وَقُرَّةَ عَیْنِهِ یُوسُفَ وَجَمَعْتَ شَمْلَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ سُلَیْمانُ

آنکھیں واپس دیں اور انکا نور نظر یوسفعليه‌السلام بھی اور اس بکھرے خاندان کو یکجاہ کردیا اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے

فَوَهَبْتَ لَهُ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لاََِحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنَّکَ أَ نْتَ الْوَهَّابُ،

سلیمانعليه‌السلام نے پکارا پس تو نے انہیں ایسا ملک و حکومت بخشا جو ان کے بعد کسی کیلئے نہیں بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے اور بواسطہ

وَبِاسْمِکَ الَّذِی سَخَّرْتَ بِهِ الْبُراقَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إذْ قالَ تَعالی

تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تو نے براق کو بخاطر محمد مطیع کیا جیساکہ فرمایا خدائے تعالیٰ

سُبْحانَ الَّذِی أَسْری بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصی

نے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی راتوں رات کعبہ شریف سے مسجد اقصی تک کی

وَقَوْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنا هَذا وَما کُنَّا لَهُ مُقْرِنِینَ وَ إنَّا إلی رَبِّنا لَمُنْقَلِبُونَ

اور قول خدا ہے پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لئے مطیع کیا ورنہ ہم میں ایسی طاقت نہ تھی اور اپنے

وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَنَزَّلَ بِهِ جَبْرَائِیلُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَبِاسْمِکَ

پروردگار کی طرف پلٹنے والے ہیں اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسے جبرائیل حضرت محمد کے پاس لے کے آئے ۔اور

الَّذِی دَعاکَ بِهِ آدَمُ فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ وَأَسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ، وَأَسْأَ لُکَ بِحَقِّ الْقُرْآنِ

بواسطہ تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تجھے آدمعليه‌السلام نے پکارا پس معاف کی تو نے ان کی بھول اور انہیں اپنی جنت میں ٹہرایا اور سوال

الْعَظِیمِ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ ، وَبِحَقِّ فَصْلِکَ

کرتا ہوں تجھ سے عظمت والے قرآن کے واسطے سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نبیوں کے خاتم کے واسطے سے اور ابراہیمعليه‌السلام کے واسطے سے اور

یَوْمَ الْقَضائِ، وَبِحَقِّ الْمَوازِینِ إذا نُصِبَتْ، وَالصُّحُفِ إذا نُشِرَتْ، وَبِحَقِّ الْقَلَمِ

قیامت کے روز تیرے فیصلے کے واسطے سے اور میزان و عدل کے واسطے سے جب نصب کی جائے گی اور صحیفے کھولے جائیں گے

وَمَا جَری، وَاللَّوْحِ وَمَا أَحْصی، وَبِحَقِّ الاسْمِ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ

اور قلم کے واسطے سے جب وہ چلے گا اور لوح کے واسطے سے جب وہ پر ہوجائے گی اور اس نام کے واسطے سے جس کو تونے عرش

الْعَرْشِ قَبْلَ خَلْقِکَ الْخَلْقَ وَالدُّنْیا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ بِأَ لْفَیْ عامٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ

کے پردوں پر لکھااس سے پہلے کہ تونے مخلوق، سورج اور چاند کو دو ہزار سال میں بنایا اور گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوائ

إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس نام کے

الْمَخْزُونِ فِی خَزائِنِکَ الَّذِی اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ لَمْ یَظْهَرْ عَلَیْهِ

جو تیرے خزانوں میں محفوظ ہے جسکو خاص کیا ہے تونے علم غیب کے ساتھ اپنے حضور میں جس پر تیری مخلوق میں سے کوئی بھی آگاہ

أَحَدٌ مِنْ خَلْقِکَ لاَ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ عَبْدٌ مُصْطَفی وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ

نہیں ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی بھیجا ہوا نبی اور نہ ہی کوئی برگزیدہ بندہ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جس

الَّذِی شَقَقْتَ بِهِ الْبِحارَ وَقامَتْ بِهِ الْجِبالُ وَاخْتَلَفَ بِهِ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ وَبِحَقِّ السَّبْعِ

کے ساتھ تو نے دریاؤں کو چیرا پہاڑوں کو قائم فرمایا اور اس سے دن رات میں تفریق کی ہے اور بواسطہ دوبارہ نازل ہونے والی

الْمَثانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَبِحَقِّ الْکِرامِ الْکاتِبِینَ، وَبِحَقِّ طه وَیسَ وَکَهیعَصَ،

سات آیتوں اور عظمت والے قرآن کے بواسطہ عزت والے کاتبوں کے بواسطہ طہ و یٰس اور کھیعص

وَحمَعَسَقَ، وَبِحَقِّ تَوْراةِ مُوسی، وَ إنْجِیلِ عِیسی، وَزَبُورِ داوُدَ، وَفُرْقانِ مُحَمَّدٍ

اور حمعسق اور بواسطہ موسٰیعليه‌السلام کی توریت عیسیٰعليه‌السلام کی انجیل داؤدعليه‌السلام کی زبور اور بواسطہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قرآن

صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ الرُّسُلِ وَباهِیّاً شَراهِیّاً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ

کے خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل پر اور تمام رسولوں پر اور اپنے دونوں اسمائ اعظم پر اے ﷲ میں سوال کرتا ہوں تجھ سے

تِلْکَ الْمُناجاةِ الَّتِی کانَتْ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مُوسَی بْنِ عِمْرانَ فَوْقَ جَبَلِ طُورِ سَیْنائَ

بواسطہ اس راز و نیاز کے جو تیرے اور موسیٰعليه‌السلام بن عمران کے درمیان طور سینا ئ کے با برکت پہاڑ پر ہوا تھا

وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی عَلَّمْتَهُ مَلَکَ الْمَوْتِ لِقَبْضِ الْاَرْواحِ، وَأَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ

اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو تونے روحیں قبض کرنے کیلئے فرشتہ موت کو تعلیم فرمایا اور سوال کرتا ہوں تجھ

الَّذِی کُتِبَ عَلَی وَرَقِ الزَّیْتُونِ فَخَضَعتِ النِّیرانُ لِتِلْکَ الْوَرَقَةِ فَقُلْتَ یا نارُ کُونِی

سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو شجر زیتون کے پتے پر لکھا گیا پس دوزخ اس پتے کے آگے جھک گیاپھر کہا تونے کہ اے آگ

بَرْداً وَسَلاماً وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ الْمَجْدِ وَالْکَرامَةِ، یَا مَنْ

ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی والی اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جسے تونے عزت اور بزرگی کے پردوں پر لکھا ہے

لاَ یُخْفِیهِ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُهُ نائِلٌ، یَا مَنْ بِهِ یُسْتَغاثُ وَ إلَیْهِ یُلْجَأُ، أَسْأَلُکَ

اے وہ کہ جسے سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور عطائ سے کمی نہیں آتی اے وہ جس سے مدد مانگی اور جس سے پناہ لی جاتی ہے سوال کرتا

بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ، وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ، وَجَدِّکَ

ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے عرش کے عزت والے مقامات تیری کتاب میں موجود انتہائی رحمت کے اور بواسطہ تیرے اسم اعظم

الْاَعْلی وَکَلِماتِکَ التَّامَّاتِ الْعُلی اَللّٰهُمَّ رَبَّ الرِّیاحِ وَمَا ذَرَتْ وَالسَّمائِ وَمَا أَظَلَّتْ

تیری بلند شان اور تیرے کامل اور بلندتر کلمات کے اے اللہ اے ہواؤں اور ان کے اثرات کے رب اے آسمان اور اس کے سایہ

وَالْاَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ وَالشَّیاطِینِ وَمَا أَضَلَّتْ، وَالْبِحارِ وَمَا جَرَتْ، وَبِحَقِّ کُلِّ حَقٍّ

کے رب اے زمین اور اس کے بوجھ کے رب اے شیطانوں اور ان کے گمراہ کردہ کے رب اے دریاؤں اور ان کی روانی کے رب

هُوَ عَلَیْکَ حَقٌّ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالرَّوْحانِیِّینَ وَالْکَرُوبِیِّینَ وَالْمُسَبِّحِینَ

اور بواسطہ ہر اس حق کے جو تجھ پر ہے اور بواسطہ مقرب فرشتوں روحانیوں کروبیوں اور رات اور دن میں

لَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ لاَ یَفْتُرُونَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ خَلِیلِکَ، وَبِحَقِّ کُلِّ وَ لِیٍّ یُنادِیکَ

تیری تسبیح کرنے والوں کے جو تھکتے نہیں ہیں اور بواسطہ تیرے خلیل ابراہیمعليه‌السلام کے اور بواسطہ تیرے ہر دوست کے جو صفا و مروہ کے

بَیْنَ الصَّفا وَالْمَرْوَةِ وَتَسْتَجِیبُ لَهُ دُعائَهُ، یَا مُجِیبُ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذِهِ الْاَسْمائِ

درمیان تجھے پکارتا ہے اور تو اس کی دعا قبول کرتا ہے اے قبول کرنے والے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ ان ناموں کے

وَبِهذِهِ الدَّعَواتِ أَنْ تَغْفِرَ لَنٰا مَا قَدَّمْنا وَمَا أَخَّرْنٰا وَمَا أَسْرَرْنٰا وَمَا أَعْلَنَّا

اور بواسطہ ان دعاؤں کے یہ کہ ہمارے گناہ بخش دے جو ہم کرچکے اور کریں گے اور جو ہم نے چھپ کر کیے ہیں اور جو ظاہر کیے ہیں

وَمَا أَبْدَیْنٰا وَمَا أَخْفَیْنٰا وَمَا أَ نْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَّا إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

اور جو ہم نے بیان کیے ہیں اور جو ہم نے چھپائے اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا حافِظَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، یَا قُوَّةَ

بذریعہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے ہر بے وطن کے نگہبان اے ہر تنہا کے مونس وغمخوار اے ہر کمزور

کُلِّ ضَعِیفٍ یَا ناصِرَ کُلِّ مَظْلُومٍ، یَا رازِقَ کُلِّ مَحْرُومٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ مُسْتَوْحِشِ

کی قوت اے ہر ستم دیدہ کی مدد کرنے والے اے ہر محروم کے رازق اے ہر خوف زدہ کے ہمدم

یَا صاحِبَ کُلِّ مُسافِرٍ، یَا عِمادَ کُلِّ حاضِرٍ، یَا غافِرَ کُلِّ ذَ نْبٍ وَخَطِیئَةٍ، یَا غِیاثَ

اے ہر مسافر کے ہمراہی اے ہر حاضر کے سہارے اے ہر گناہ اور خطا کے بخشنے والے اے فریادیوں کے

الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا کاشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا فارِجَ هَمِّ

فریادرس اے ہر پکارنے والے کی (پکار) سننے والے اے دکھیارے لوگوں کے دکھوں کے دور کرنے والے اے غم زدوں کے غم

الْمَهْمُومِینَ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرَضِینَ، یَا مُنْتَهی غایَةِ الطَّالِبِینَ، یَا مُجِیبَ

مٹانے والے اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے اے طلبگاروںکے مقصد کی انتہائ اے پریشان لوگوںکی دعا

دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا دَیَّانَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا

قبول کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے سب جہانوں کے رب اے یوم جزا کو بدلہ دینے والے اے عطا

أَجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ

کرنے والوں سے زیادہ عطا کرنے والے اے مہربانوں سے زیادہ مہربان اے سننے والوں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے

النَّاظِرِینَ، یَا أَ قْدَرَ الْقادِرِینَ، اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ

والوں سے زیادہ دیکھنے والے اے طاقتوروں سے زیادہ طاقت والے میرے وہ گناہ معاف کردے جو نعمتوں سے محروم کرتے ہیں

الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ النَّدَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ السَّقَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ

میرے وہ گناہ بخش دے جو شرمندگی کا باعث بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو بیماریاں پیدا کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش

الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ

دے جو پردوں کو فاش کرتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو دعا کو روک دیتے ہیںمیرے وہ گناہ بخش دے

الَّتِی تَحْبِسُ قَطْرَ السَّمائِ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ

جو بارشوں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو جلد موت لاتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو بدبختی

الَّتِی تَجْلِبُ الشَّقائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُظْلِمُ الْهَوائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی

کا موجب بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو میری دنیا کو تاریک کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو

تَکْشِفُ الْغِطائَ ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا ﷲ، وَاحْمِلْ عَنِّی کُلَّ

بے پردگی کا سبب بنتے ہیں اور میرے وہ گناہ معاف کردے جن کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا اے اللہ! تیری مخلوق میں سے

تَبِعَةٍ لاََِحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً وَیُسْراً وَأَنْزِلْ یَقِینَکَ

مجھ پر کسی کا جو بوجھ ہے وہ مجھ سے ہٹادے میرے کاموں میںکشائش آسانی اور سہولت پیدا کردے میرے سینے میں اپنا یقین اور

فِی صَدْرِی، وَرَجائَکَ فِی قَلْبِی حَتَّی لاَ أَرْجُوَ غَیْرَکَ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِی وَعافِنِی

میرے دل میں اپنی امید کو جگہ دے یہاں تک کہ تیرے غیر سے امید نہ رکھوں اے اللہ! میرے مقام میں میری حفاظت کر

فِی مَقامِی وَاصْحَبْنِی فِی لَیْلِی وَنَهارِی، وَمِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی

اور مجھے پناہ دے اور میرے ساتھ رہ دن میں رات میں میری نگہبانی کر میرے آگے سے پیچھے سے میرے دائیں

وَعَنْ شِمالِی وَمِنْ فَوْقِی وَمِنْ تَحْتِی، وَیَسِّرْ لِیَ السَّبِیلَ، وَأَحْسِنْ لِیَ التَّیْسِیرَ،

سے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور نیچے سے اور میرا راستہ آسان کردے میرے لیے بہتر آسائش پیدا کردے

وَلاَ تَخْذُلْنِی فِی الْعَسِیرِ وَاهْدِنِی یَا خَیْرَ دلِیلٍ، وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی فِی الاَُْمُورِ

اور مجھے تنگی میں ذلیل و خوار نہ کر مجھے راہ سمجھا دے اے بہترین رہبر اور معاملات میں مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر مجھے ہر طرح

وَلَقِّنِی کُلَّ سُرُورٍ وَاقْلِبْنِی إلی أَهْلِی بِالْفَلاحِ وَالنَّجاحِ مَحْبُوراً فِی الْعاجِلِ وَالْآجِلِ

کی خوشی عطا فرما اور بہتری اور کامیابی کے ساتھ اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے ساتھ مجھے اپنے کنبے میں واپس لے چل

إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ طَیِّباتِ رِزْقِکَ،

بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور مجھ پر اپنا فضل و کرم کر میرے لیے اپنے پاکیزہ رزق میں فراوانی فرما

وَاسْتَعْمِلْنِی فِی طاعَتِکَ، وَأَجِرْنِی مِنْ عَذابِکَ وَنارِکَ، وَاقْلِبْنِی إذا تَوَفَّیْتَنِی إلی

مجھے اپنی فرمانبرداری میں لگادے مجھے اپنی سزا اور آگ سے پناہ دے اور جب تو مجھے وفات دے تو اپنی رحمت سے مجھے جنت میں

جَنَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوالِ نِعْمَتِکَ، وَمِنْ تَحْوِیلِ عافِیَتِکَ

پہنچادے اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھ سے تیری نعمت چھن جائے اور تیری نگہبانی حاصل نہ رہے اور تیری پناہ

وَمِنْ حُلُولِ نَقِمَتِکَ وَمِنْ نُزُولِ عَذابِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ جَهْدِ الْبَلائِ وَدَرَکِ الشَّقائِ

چاہتا ہوں تیری طرف سے سختی اورعذاب کے آنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں سخت آزمائش سے بدبختی کے آنے سے

وَمِنْ سُوئِ الْقَضائِ، وَشَماتَةِ الْاَعْدائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا

بری تقدیر سے دشمنوں کے طعن سے اور اس تکلیف سے جو آسمان سے نازل ہو اور ہر اس برائی سے جس کا

فِی الْکِتابِ الْمُنْزَلِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْاَشْرارِ، وَلاَ مِنْ أَصْحابِ النَّارِ، وَلاَ

ذکر نازل شدہ کتاب میں ہے اے اللہ! مجھے برے لوگوں میں قرار نہ دے اور نہ ہی اہل جہنم میں سے قرار دے اور نہ ہی مجھے نیک

تَحْرِمْنِی صُحْبَةَ الْاَخْیارِ، وَأَحْیِنِی حَیَاةً طَیِّبَةً، وَتَوَفَّنِی وَفاةً طَیِّبَةً تُلْحِقُنِی

افراد کی صحبت سے محروم رکھ مجھے پاکیزہ زندگی نصیب کرمجھ کو بہترین حالت میں موت دے نیکوکاروں میں شامل کردینا

بِالْاَ بْرارِ، وَارْزُقْنِی مُرافَقَةَ الْاَنْبِیائِ فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ اَللّٰهُمَّ لَکَ

مجھے انبیائ کا ساتھ عطا فرمانا اس مقام صدق و صفا میں جو تیری زبردست حکومت میں ہے اے معبود! حمد تیرے ہی

الْحَمْدُ عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی الْاِسْلامِ وَاتِّباعِ السُّنَّةِ، یَا

لیے ہے تیری طرف سے بہترین آزمائش میں مدد کرنے پر اور حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے اسلام کی پیروی اور سنت پر عمل کرنے کی

رَبِّ کَما هَدَیْتَهُمْ لِدِینِکَ وَعَلَّمْتَهُمْ کِتابَکَ فَاهْدِنا وَعَلِّمْنا، وَلَکَ الْحَمْدُ

توفیق دی ہے اے پروردگار جیسے تونے ان کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کی اپنی کتاب انہیں سکھائی پس ہماری بھی رہنمائی کر اور

عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ عِنْدِی خاصَّةً کَما خَلَقْتَنِی

ہمیں سکھا اور حمد تیرے لیے ہے بہترین آزمائش پر اور اس خاص احسان پر جو تو نے مجھ پر کیا ہے جیسا کہ تو نے مجھے پیدا کیا ہے تو

فَأَحْسَنْتَ خَلْقِی وَعَلَّمْتَنِی فَأَحْسَنْتَ تَعْلِیمِی وَهَدَیْتَنِی فَأَحْسَنْتَ هِدایَتِی، فَلَکَ

اچھی صورت دی ہے مجھے علم سکھایا تو بہترین تعلیم دی ہے اور میری رہنمائی کی تو کیا خوب رہنمائی کی ہے پس حمد تیرے

الْحَمْدُ عَلَی إنْعامِکَ عَلَیَّ قَدِیماً وَحَدِیثاً، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ فَرَّجْتَهُ وَکَمْ

لیے ہے کہ تو نے مجھے اول سے آخر تک مسلسل نعمتیں دیں پس اے میرے سردار کتنے ہی دکھ تھے جو تو نے دور کردیے میرے آقا

مِنْ غَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ نَفَّسْتَهُ وَکَمْ مِنْ هَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ کَشَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ بَلائٍ یَا

کتنے ہی غم تھے جو تو نے مٹادیے اے میرے مالک! کتنے ہی اندیشے تھے جو تو نے محو کردیئے اے میرے

سَیِّدِی قَدْ صَرَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ عَیْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ سَتَرْتَهُ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ حالٍ

آقا کتنی ہی پریشانیاں تھیں جو تو نے ختم کردیںاور کتنے ہی عیب تھے جو تو نے ڈھانپ لیے پس حمد تیرے لیے ہے

فِی کُلِّ مَثْویً وَزَمَانٍ وَمُنْقَلَبٍ وَمَقامٍ وَعَلَی هذِهِ الْحالِ وَکُلِّ حالٍ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی

ہر ایک حال میں ہرجگہ ہر زمانے میں ہر ایک منزل اور ہر ایک مقام پر اور اس موجودہ حالت میں اور ہر حالت میں اے معبود! آج

مِنْ أَفْضَلِ عِبادِکَ نَصِیباً فِی هذَا الْیَوْمِ مِنْ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ أَوْ ضُرٍّ تَکْشِفُهُ، أَوْ سُوئٍ

کے دن مجھے حصہ و نصیب کے لحاظ سے اپنے سب بندوں سے برتر قرار دے اس بھلائی میں جوتو نے تقسیم کی یا جو تکلیف تو نے دور

تَصْرِفُهُ أَوْ بَلائٍ تَدْفَعُهُ أَوْ خَیْرٍ تَسُوقُهُ، أَوْ رَحْمَةٍ تَنْشُرُها، أَوْ عافِیَةٍ تُلْبِسُها فَ إنَّکَ

کی یا جو برائی تو نے ہٹائی یا جو سختی تو نے ٹالی یا جو خیر تو نے عطا کی یا جو رحمت تو نے عام کی یا جو عافیت تو نے عنایت کی ہے کہ بے شک

عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِیَدِکَ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَأَنْتَ الْواحِدُ الْکَرِیمُ

تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے تیرے قبضے میں ہیںاور تو وہ یکتا بزرگی والا

الْمُعْطِی الَّذِی لاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُهُ، وَلاَ یَنْقُصُ نائِلُهُ، وَلاَ یَنْفَدُ مَا عِنْدَهُ

عطا کرنے والا ہے جو کسی سائل کو ہٹکاتا نہیں کسی امیدوار کو مایوس نہیں کرتا اور جس کی عطاکم نہیں ہوتی اور جو کچھ اس کے پاس ہے

بَلْ یَزْدادُ کَثْرَةً وَطِیباً وَعَطائً وَجُوداً، وَارْزُقْنِی مِنْ خَزٰائِنِکَ الَّتِی لاَ تَفْنی، وَمِنْ

ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑھتاہے مقدارمیں پاکیزگی میں عطا میں اور سخاوت میں اور مجھے اپنے ان خزانوں سے عنایت کر جو ختم نہیں

رَحْمَتِکَ الْواسِعَةِ إنَّ عَطائَکَ لَمْ یَکُنْ مَحْظُوراً وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ بِرَحْمَتِکَ

ہوتے اور اپنی وسیع رحمت میں سے مجھے عطا کر کہ بے شک تیری عطا کبھی بند نہیں ہوتی اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اپنی رحمت کے

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

( ۲ )وہ دس تسبیحات جو سید نے ذکر کی ہیں ان کو ہزار مرتبہ پڑھے اور وہ روز عرفہ کے اعمال میں آئیںگیں۔

( ۳ )دعااَللّٰهُمَّ تَعَبَّأَ وَ تَهَیَّأَ پڑھے کہ جو شب جمعہ کے اعمال میں مذکور ہے اور اسے روز عرفہ میں پڑھنا بھی وارد ہوا ہے۔

( ۴ )زمین کربلا میں امام حسین -کی زیارت کرے اور یوم عید تک وہیں رہے تا کہ اس سال میں ہر شر سے محفوظ رہ سکے۔

نویں ذی الحجہ کا دن

یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی عید کا دن ہے۔ اگر چہ اس کو عید کے نام سے موسوم نہیں کیا گیا، یہی وہ دن ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے بندوں کو اپنی اطاعت و عبادت کی طرف بلایاہے ، آج کے دن ان کے لیے اپنے جود و سخا کا دسترخوان بچھایا ہے اور آج شیطان کو دھتکارا گیا اور وہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔

روایت ہے کہ امام زین العابدین -نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے حالانکہ آج تو یہ امید ہے کہ ماؤں کے پیٹ کے بچے بھی خدا کے لطف و کرم سے مالامال ہو کر سعید و خوش بخت ہو جائیں ۔

اس دن کے چند ایک اعمال ہیں:

( ۱ )غسل کرے۔

( ۲ )امام حسین -کی زیارت کرے اس کا ثواب ہزار حج وعمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں ۔ کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے سائے میں رہے تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں زیادہ ہے اور وہ ان لوگوں سے مقدم ہے۔ حضرت کی زیارت کی کیفیت باب زیارت میں آئے گی ۔ تا ہم یہ یاد رہے کہ یہ ثواب اور درجہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنا واجب حج چھوڑ کر زیارات کو نہ گیا ہو۔

( ۳ )نماز عصر کے بعد دعائ عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دو رکعت نماز بجا لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کا ثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد ائمہ طاہرین ٪کے حکم کے مطابق دعائ عرفہ پڑھے اور اعمال عرفہ بجا لائے اور یہ اعمال بہت زیادہ ہیں کہ اس مختصر کتاب میں ان کا بیان ممکن نہیں، پھر بھی حسب گنجائش ہم یہاں چند اعمال کا ذکر کرتے ہیں۔

شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعائ عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری کا بھی خوف نہ ہو۔ زوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اور شب عرفہ وروز عرفہ زیارت امام حسین -بھی مستحب ہے۔

زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر و عصر نہایت متانت اور سنجیدگی سے بجا لائے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے، اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہررکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی پڑھے:

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ چار رکعت وہی امیر المومنین -کی نماز ہے جو اعمال روز جمعہ میں مذکور ہے، پھر فرماتے ہیں کہ چار رکعت نماز کے بعد یہ دس تسبیحات پڑھے۔ جو رسول اللہ سے مروی ہیں اور سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اقبال میں درج کیں اور وہ یہ ہیں۔

سُبْحانَ الَّذِی فِی السَّمائِ عَرْشُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْاَرْضِ حُکْمُهُ سُبْحانَ الَّذِی

پاک ہے وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے پاک ہے وہ خدا جس کا حکم زمین میں نافذ ہے پاک ہے وہ خد اجس کا

فِی الْقُبُورِ قَضاؤُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْبَحْرِ سَبِیلُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی النَّارِ سُلْطانُهُ

فیصلہ قبروں میں نافذ ہے پاک ہے وہ خدا جس کا دریا میں راستہ ہے پاک ہے وہ خدا جو جہنم پر اختیار رکھتا ہے

سُبْحانَ الَّذِی فِی الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْقِیامَةِ عَدْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی رَفَعَ

پاک ہے وہ خدا جنت میں جس کی رحمت ہے پاک ہے وہ خداقیامت میں جس کا عدل ہے پاک ہے وہ خدا جس نے آسمان

السَّمائَ سُبْحانَ الَّذِی بَسَطَ الْاَرْضَ سُبْحانَ الَّذِی لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجی مِنْهُ إلاَّ إلَیْهِ

بلند کیا پاک ہے وہ خدا جس نے زمین بچھائی پاک ہے وہ خدا جس سے پناہ و نجات نہیں مگر اسی کے ہاں سے

پھر سو مرتبہ کہے :سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ ﷲ اَکْبَرُ نیز سورہ توحید و آیت الکرسی اور صلوات

اللہ پاک ہے اللہ ہی کے لیے حمد ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اورا للہ بزرگتر ہے

سوسو مرتبہ پڑھے، دس مرتبہ کہے:لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَحْدَه، لَا شَرِیْکَ لَه، لَه، الْمُلْکُ وَ لَهُ

نہیںکوئی معبود سوائے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں اسی کے لیے حکومت اور حمد

الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ یُمِیْتُ وَ یُحْیِیْ وَ هُوَ حَیُّ، لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ

وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ ایسازندہ ہے جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ

عَلیٰ کُلِّ شَئْیٍ قَدِیْرُ ، دس مرتبہ کہے:اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذٰی لاٰ اِلهَ اِلاّٰ هُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ

ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے بخشش چاہتاہوں اس اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ و پائندہ ہے اور

وَاَتَوُبُ اِلَیْہِ دس مرتبہ کہے: یٰا ﷲ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحْمٰنُ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحیٰمُ دس مرتبہ کہے:

میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں اے اللہ اے بڑے مہربان اے رحم والے

یٰا بَدیٰعُ السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ یٰا ذَا الْجَلاٰلِ وَ الْاِکْرٰامِ دس مرتبہ کہے:یٰا حَيُّ یَا قَیُّومُ

اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے جلالت و بزرگی کے مالک اے

دس مرتبہ کہے: یٰا حَنَّانُ یٰا مَنَّانُ دس مرتبہ کہے: یٰا لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ اَنْتَ دس

زندہ اے پائندہ اے محبت والے اے احسان والے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں

مرتبہ کہے: آمین پھر یہ کہے :اَللّٰهُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ یٰا مَنْ هُوَ اَقْرَبُ اِلَیَّ مِنْ حَبْلِ

اے معبود! سوال کرتا ہوں تجھ سے اے وہ جو شہ رگ سے زیادہ میرے قریب و نزدیک

الْوَریٰد یٰا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِه یَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی وَ بِالْاُفُقِ

ہے اے وہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اے وہ جو بلند مقام اور واضح

الْمُبیٰنِ یٰا مَنْ هُوَ الْرَحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰی یٰا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ

افق میں ہے اے وہ جو بڑے رحم والا ہے اور عرش پر مسلط ہے اے وہ جس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ

سَمیٰعُ الْبَصٰیرْ اَسْئَلُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ

سننے دیکھنے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما ۔

پس اپنی حاجت طلب کرے کہ انشائ ﷲ پوری ہوگی ۔

امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص یہ صلوات پڑھے تو گویا اس نے اہل بیتعليه‌السلام کو مسرور کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطی، وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ

اے اللہ! اے ہر عطا کرنے والے سے زیادہ سخی اے ہر سوال کئے ہوئے سے بہتر اور اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اے اللہ

عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَی

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور انکی آل پر رحمت نازل فرما پہلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی آل پر رحمت نازل کر پچھلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلیٰ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ

اور ان کی آل پر رحمت نازل کر معالم بالا میں اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل کر مرسلوں کے ساتھ اے اللہ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّداً وَآلَهُ الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالرِّفْعَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ إنِّی

و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ذریعہ و وسیلہ بڑائی بزرگی بلندی اور بہت بڑا درجہ و مقام عطا کر اے اللہ! بے شک میں

آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی فِی الْقِیامَةِ رُؤْیَتَهُ

ایمان لایا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میںمجھے ان کے دیدار سے محروم نہ رکھنا

وَارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ، وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِ، وَاسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَباً رَوِیّاً ساِئغاً

اور ان کی صحبت نصیب کرنا نیز مجھے ان کے دین پر موت دے ان کے حوض کوثر میں سے پانی پلانا جو سیر کردینے والا خوش مزہ و

هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَداً، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی

شیریں ہو کہ اس کے بعد میں کبھی پیاسا نہ ہوں بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بیشک میں ایمان لاتا ہوں حضرت محمد

ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَعَرِّفْنِی فِی الْجِنانِ وَجْهَهُ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ

پر اور انہیں دیکھا نہیں پس جنت میں مجھے ان کی پہچان کرادینا اے اللہ! پہنچادے حضرت محمد

عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،

کو میری طرف سے بہت بہت آداب اور سلام۔

اس کے بعد دعائ ام داؤد پڑھے جو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے۔

پھر یہ تسبیح پڑھے کہ جس کے ثواب کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا اور بوجہ اختصا ر ہم نے اس کوبیان نہیں کیا ، وہ تسبیح یہ ہے:

سُبْحانَ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ

پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز سے پہلے ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے بعد ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے ساتھ ہے

وَسُبْحانَ ﷲ یَبْقی رَبُّنا وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

پاک ہے خدا ہمارا رب جو وہ باقی رہے گا جب کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر ایک چیز سے پہلے اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍوَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیز کے بعد اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیزکے ساتھ اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی

الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً لاَ

تسبیح سے بہت بہت برتر ہے کہ ہمارا رب باقی رہے گاجب کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی پاک ہے نہایت پاکیزہ ہے کہ

یُحْصی وَلاَ یُدْری وَلاَ یُنْسی وَلاَ یَبْلی وَلاَ یَفْنی وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهی وَسُبْحانَ ﷲ

شمار نہیں ہوسکتا سمجھ میں نہیں آتا فراموش نہیں ہوتا پرانا نہیں ہوتا ناپید نہیں ہوتا اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے پاک ہے خدا

تَسبِیحاً یَدُومُ بِدَوامِهِ وَیَبْقی بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ

نہایت پاکیزہ ہے جو ہمیشہ ہے اسکی ہمیشگی سے باقی ہے اسکی بقاکیساتھ جہانوں کے برسوں ہر زمانے کے مہینوں دنیا کے تمام دنوں

الدُّنْیا وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَسُبْحانَ ﷲ أَبَدَ الْاَبَدِ وَمَعَ الْاَ بَدِ مِمّا لاَ یُحْصِیهِ

اور رات دن کی ہر ہر گھڑی میں پاک ہے وہ خدا جو ہمیشہ ہمیشہ ہے ہمیشگی کے ساتھ کہ جس کی ذات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا وہ زمانہ

الْعَدَدُ، وَلاَ یُفْنِیهِ الْاَمَدُ، وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاَ بَدُ، وَ تَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ

گزرنے سے فنا نہیں ہوا اور ہمیشگی اس سے جدا نہیں ہوسکتی اور برکت والا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے۔

پھر کہے :وَالْحَمْدُ ﷲِ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ وَالْحَمْدُ ﷲِ بَعْدَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہ

حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز سے پہلے اور حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے بعد

سُبْحَانَ ﷲ کی بجائےاَلْحَمْدُ ﷲِ کہے اور جباَحْسَنُ الْخَالِقِین تک پہنچے تو کہےلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ

پاک ہے خدا حمد خدا ہی کے لیے ہے جو بہترین خالق ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک مگر ہر جگہسُبْحَانَ ﷲ ہے وہاںلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ کہے اور اسکے بعد کہے

جو ہر چیز سے پہلے ہے۔ پاک ہے خدا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

وَﷲ اَکْبَرُ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہسُبْحٰانَ ﷲ کی بجائے ﷲ اَکْبَرُکہے پھر یہ

سب سے بڑا ہے خدا جو ہرچیز سے پہلے ہے پاک ہے ﷲ خدا بزرگتر ہے

دعا پڑھے جو شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوئی ہےاَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَیَّأ َ۔بعد میں امام زین العابدین-

اے اللہ! جو آمادہ ہؤا اور تیار ہوا

کی یہ دعا پڑھے جو شیخ طوسیرحمه‌الله نے مصباح المتہجد میں ذکر کی ہے:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعٰالَمیٰنَ

اے اللہ! تو ہی وہ خدا ہے جو جہانوں کا رب ہے۔

دعائے عرفہ امام حسین

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ دعا مقام عرفات کی ہے اور پھرطویل بھی ہے۔ لہذا ہم نے یہاں درج نہیں کی ہے۔علاوہ ازیں آج کے دن امام زین العابدین -ہی کی وہ دعا پڑھے جو صحیفہ کاملہ میں سینتالیسویں دعا ہے اور دونوں جہانوں کے تمام مطالب و مقاصد پر مشتمل ہے۔ اس دعائ کو صدق دل سے پڑھنے والے پر خد اکی رحمت ہو۔

اس دن پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ایک امام حسین -کی دعا ہے بشر وبشیر پسران غالب اسدی سے روایت ہے کہ روز عرفہ بوقت عصر میدان عرفات میں ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تب آپ اپنے فرزندوں اور شیعوں کے ساتھ نہایت عاجزانہ طور پراپنے خیمے سے باہر آئے اور پہاڑ کی بائیں طرف کھڑے ہوکر کعبے کی طرف رخ کرلیا، اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے لا کر پھیلادیئے۔ خدا کے حضور عاجزی اور انکساری کی حالت میں یہ کلمات کہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَیْسَ لِقَضائِهِ دافِعٌ، وَلاَ لِعَطائِهِ مانِعٌ، وَلاَ کَصُنْعِهِ صُنْعُ صانِعٍ

حمد ہے خدا کے لیے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں کوئی اس کی عطا روکنے والا نہیں اور کوئی اس جیسی صنعت والا نہیں

وَهُوَ الْجَوادُ الْواسِعُ، فَطَرَ أَجْناسَ الْبَدائِعِ، وَأَ تْقَنَ بِحِکْمَتِهِ الصَّنائِعَ، لاَ تَخْفی

اور وہ کشادگی کیساتھ دینے والاہے اس نے قسم قسم کی مخلوق بنائی اور بنائی ہوئی چیزوں کو اپنی حکمت سے محکم کیا دنیا میں آنے والی کوئی

عَلَیْهِ الطَّلائِعُ، وَلاَ تَضِیعُ عِنْدَهُ الْوَدائِعُ، جازِی کُلِّ صانِعٍ، وَرایِشُ کُلِّ قانِعٍ

چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کے ہاں کوئی امانت ضائع نہیں ہوتی وہ ہر کام پر جزا دینے والا ہے وہ ہر قانع کو زیادہ دینے والا اور ہر

وَراحِمُ کُلِّ ضارِعٍ وَمُنْزِلُ الْمَنافِعِ وَالْکِتابِ الْجامِعِ بِالنُّورِ السَّاطِعِ وَهُوَ

نالاں پر رحم کرنے والا ہے وہ بھلائیاںنازل کرنے والا اور چمکتے نور کے ساتھ مکمل و کامل کتاب اتارنے والا ہے وہ لوگوںکی

لِلدَّعَواتِ سامِعٌ، وَ لِلْکُرُباتِ دافِعٌ، وَ لِلدَّرَجاتِ رافِعٌ، وَ لِلْجَبابِرَةِ قامِعٌ، فَلا إلهَ

دعاؤں کا سننے والا لوگوںکے دکھ دور کرنے والا درجے بلند کرنے والا اور سرکشوں کی جڑ کاٹنے والا ہے پس اس کے سوا کوئی

غَیْرُهُ وَلاَ شَیْئَ یَعْدِلُهُ، وَلَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ

معبود نہیںکوئی چیز اس کے برابر کوئی چیز اس کے مانند نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے باریک بین خبر رکھنے والا ہے

وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَرْغَبُ إلَیْکَ وَأَشْهَدُ بِالرُّبُوبِیَّةِ لَکَ مُقِرّاً بِأَنَّکَ

اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بے شک میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں تیرے پروردگار ہونے کی گواہی دیتا اور

رَبِّی، وَأَنَّ إلَیْکَ مَرَدِّی، ابْتَدَأْتَنِی بِنِعْمَتِکَ قَبْلَ أَنْ أَکُونَ شَیْئاً مَذْکُوراً، وَخَلَقْتَنِی

مانتاہوں کہ تو میرا پالنے والا ہے اور تیری طرف لوٹا ہوں کہ تو نے مجھ سے اپنی نعمت کا آغاز کیا اس سے پہلے کہ میں وجود میں آتا اور تو

مِنَ التُّرابِ ثُمَّ أَسْکَنْتَنِی الْاَصْلابَ آمِناً لِرَیْبِ الْمَنُونِ وَاخْتِلافِ الدُّهُورِ وَالسِّنِینَ

نے مجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر بڑوں کی پشتوں میں جگہ دی مجھے موت سے اور ماہ وسال میں آنے والی آفات سے امن دیا پس میں

فَلَمْ أَزَلْ ظاعِناً مِنْ صُلْبٍ إلی رَحِمٍ فِی تَقادُمٍ مِنَ الْاَیَّامِ الْماضِیَةِ وَالْقُرُونِ

پے در پے ایک پشت سے ایک رحم میں آیا ان دنوں میں جو گزرے ہیں اور ان صدیوں میں جو بیت چکی

الْخالِیَةِ لَمْ تُخْرِجْنِی لِرَأْفَتِکَ بِی وَلُطْفِکَ لِی وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فِی دَوْلَةِ أَئِمَّةِ الْکُفْرِ

ہیں تو نے بوجہ اپنی محبت و مہربانی کے مجھ پر احسان کیا اور مجھے کافر بادشاہوں کے دور میں پیدا نہیں کیا کہ جنہوں نے تیرے فرمان کو

الَّذِینَ نَقَضُوا عَهْدَکَ وَکَذَّبُوا رُسُلَکَ، لَکِنَّکَ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدَی

توڑا اور تیرے رسولوں کو جھٹلایا لیکن تو نے مجھ کو اس زمانے میں پیدا کیا جس میں تھوڑے عرصے میں مجھے

الَّذِی لَهُ یَسَّرْتَنِی وَفِیهِِ أَنْشَأْتَنِی وَمِنْ قَبْلِ ذلِکَ رَؤُفْتَ بِی بِجَمِیلِ صُنْعِکَ وَسَوابِغِ

ہدایت میسر آگئی کہ اس میں تو نے مجھے پالا اور اس سے پہلے تو نے اچھے عنوان سے میرے لیے محبت ظاہر فرمائی اور بہترین نعمتیں

نِعَمِکَ فَابْتَدَعْتَ خَلْقِی مِنْ مَنِیٍّ یُمْنی، وَأَسْکَنْتَنِی فِی ظُلُماتٍ ثَلاثٍ بَیْنَ لَحْمٍ وَدَمٍ

عطا کیں پھر میرے پیدا کرنے کاآغاز ٹپکنے والے آب حیات سے کیا اور مجھ کو تین تاریکیوں میں ٹھرادیا یعنی گوشت خون اور جلد کے

وَجِلْدٍ لَمْ تُشْهِدْنِی خَلْقِی، وَلَمْ تَجْعَلْ إلَیَّ شَیْئاً مِنْ أَمْرِی، ثُمَّ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی

نیچے جہاں میں نے بھی اپنی خلقت کو نہ دیکھا اور تو نے میرے اس معاملے میں سے کچھ بھی مجھ پر نہ ڈالا پھر تو نے مجھے رحم مادر سے

سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدیٰ إلَی الدُّنْیا تامّاً سَوِیّاً، وَحَفِظْتَنِی فِی الْمَهْدِ طِفْلاً صَبِیّاً،

نکالا کہ مجھے ہدایت دے کر دنیا میں درست و سالم جسم کے ساتھ بھیجا اور گہوارے میں میری نگہبانی کی جب میں چھوٹا بچہ تھا تو

وَرَزَقْتَنِی مِنَ الْغِذائِ لَبَناً مَرِیّاً، وَعَطَفْتَ عَلَیَّ قُلُوبَ الْحَواضِنِ، وَکَفَّلْتَنِی الاَُْمَّهاتِ

نے میرے لیے تازہ دودھ کی غذا بہم پہنچائی اور دودھ پلانے والیوں کے دل میرے لیے نرم کردیے تو نے مہربان ماؤں کو میری

الرَّواحِمَ وَکَلاََْتَنِی مِنْ طَوارِقِ الْجانِّ وَسَلَّمْتَنِی مِنَ الزِّیادَةِ وَالنُّقْصانِ فَتَعالَیْتَ

پرورش کا ذمہ دار بنایا جن و پری کے آسیب سے میری حفاظت فرمائی اور مجھے ہر قسم کی کمی بیشی سے بچائے رکھا پس تو برتر ہے

یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ حَتَّی إذَا اسْتَهْلَلْتُ ناطِقاً بِالْکَلامِ أَتْمَمْتَ عَلَیَّ سَوابِغَ الْاِنْعامِ

اے مہربان اے عطاؤں والے یہاں تک کہ میں باتیں کرنے لگا اور یوں تو نے مجھے اپنی بہترین نعمتیں پوری کردیں

وَرَبَّیتَنِی زائِداً فِی کُلِّ عامٍ، حَتَّی إذَا اکْتَمَلَتْ فِطْرَتِی وَاعْتَدَلَتْ مِرَّتِی أَوْجَبْتَ عَلَیَّ

اور ہر سال میرے جسم کو بڑھایا حتی کہ میری جسمانی ترقی اپنے کمال تک پہنچ گئی اور میری شخصیت میں توازن پیدا ہوگیا تو مجھ پر تیری

حُجَّتَکَ بِأَنْ أَلْهَمْتَنِی مَعْرِفَتَکَ، وَرَوَّعْتَنِی بِعَجائِبِ حِکْمَتِکَ، وَأَیْقَظْتَنِی لِما ذَرَأْتَ

حجت قائم ہوگئی اس لیے کہ تو نے مجھے اپنی معرفت کرائی اور اپنی عجیب عجیب حکمتوں کے ذریعے مجھے خائف کردیا اورمجھے بیدار کیا

فِی سَمائِکَ وَأَرْضِکَ مِنْ بَدائِعِ خَلْقِکَ، وَنَبَّهْتَنِی لِشُکْرِکَ وَذِکْرِکَ، وَأَوْجَبْتَ

ان چیزوں کے ذریعے جو تو نے آسمان و زمین میں عجیب طرح سے خلق کیں اسطرح مجھے اپنے شکر اور ذکر سے آگاہ کیا اور مجھ پر اپنی

عَلَیَّ طاعَتَکَ وَعِبادَتَکَ وَفَهمْتَنِی مَا جائَتْ بِهِ رُسُلُکَ، وَیَسَّرْتَ لِی تَقَبُّلَ مَرْضاتِکَ

فرمانبرداری اور عبادت لازم فرمائی تو نے مجھے وہ چیز سمجھائی جو تیرے رسول لائے اور میرے لیے اپنی رضاؤں کی قبولیت آسان کی

وَمَنَنْتَ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ بِعَوْ نِکَ وَلُطْفِکَ، ثُمَّ إذْ خَلَقْتَنِی مِنْ خَیْرِ الثَّریٰ، لَمْ

تو ان سب باتوں میں مجھ پر تیرا احسان ہے اس کے ساتھ تیری مدد اور مہربانی ہے پھر جب تو نے مجھے پیدا کیا بہترین خاک سے تو

تَرْضَ لِی یَا إلهِی نِعْمَةً دُونَ أُخْری، وَرَزَقْتَنِی مِنْ أَ نْواعِ الْمَعاشِ وَصُنُوفِ

میرے لیے اے اللہ! تو نے ایک آدھ نعمت پر ہی بس نہیں کی بلکہ مجھے معاش کے کئی طریقے اور فائدے کے کئی راستے عطا کیے مجھ

الرِّیاشِ بِمَنِّکَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ عَلَیَّ، وَ إحْسانِکَ الْقَدِیمِ إلَیَّ، حَتَّی إذا أَتْمَمْتَ

پر اپنے بڑے بہت بڑے احسان و کرم سے اور مجھ پر اپنی سابقہ مہربانیوں سے یہاں تک کہ جب مجھے تو نے یہ

عَلَیَّ جَمِیعَ النِّعَمِ وَصَرَفْتَ عَنِّی کُلَّ النِّقَمِ لَمْ یَمْنَعْکَ جَهْلِی وَجُرْأَتِی عَلَیْکَ أَنْ

تمام نعمتیں دے دیں اور تکلیفیںمجھ سے دور کردیں تیرے آگے میری جرات اور میری نادانی اس میں رکاوٹ

دَلَلْتَنِی إلَی مَا یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِما یُزْ لِفُنِی لَدَیْکَ، فَ إنْ دَعَوْتُکَ

نہیں بنی کہ تو نے مجھے وہ راستے بتائے جو مجھ کو تیرے قریب کرتے اور تو نے مجھے توفیق دی کہ تیرا پسندیدہ بنوں پس میں نے جو دعا

أَجَبْتَنِی، وَ إنْ سَأَلْتُکَ أَعْطَیْتَنِی، وَ إنْ أَطَعْتُکَ شَکَرْتَنِی، وَ إنْ شَکَرْتُکَ زِدْتَنِی،

مانگی تو نے قبول کی اور جو سوال کیا وہ تو نے پورا فرمایا اگر میں نے تیری اطاعت کی تو نے قدر فرمائی اورمیں نے شکر کیا تو نے زیادہ

کُلُّ ذلِکَ إکْمالاً لاََِ نْعُمِکَ عَلَیَّ وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فَسُبْحانَکَ سُبْحانَکَ مِنْ مُبْدِیًَ

دیا یہ سب مجھ پر تیری نعمتوں کی کثرت اور مجھ پر تیرا احسان و کرم ہے پس تو پاک ہے تو پاک ہے کہ تو آغاز کرنے والا لوٹانے والا

مُعِیدٍ حَمِیدٍ مَجِیدٍ وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ، وَعَظُمَتْ آلاؤُکَ، فَأَیُّ نِعَمِکَ یَا إلهِی

تعریف والا بزرگی والا ہے اور پاک ہیں تیرے نام اور بہت بڑی ہیں تیری نعمتیں تو اے میرے خدا! تیری کس نعمت کی گنتی کروں

أُحْصِی عَدَداً وَذِکْراً أَمْ أَیُّ عَطایاکَ أَقُومُ بِها شُکْراً وَهِیَ یَا رَبِّ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ

اور اسے یاد کروں یاتیری کون کونسی عطاؤں کا شکر بجا لاؤں اور اے میرے پروردگار یہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ شمار

یُحْصِیهَا الْعادُّونَ، أَوْ یَبْلُغَ عِلْماً بِهَا الْحافِظُونَ ثُمَّ مَا صَرَفْتَ وَدَرَأْتَ عَنِّی اَللّٰهُمَّ مِنَ

کرنے والے انہیں شمار نہیں کرسکتے یا یاد کرنے والے ان کو یاد نہیں رکھ سکتے پھر اے اللہ! جو تکلیفیں

الضُّرِّ وَالضَّرَّائِ أَکْثَرُ مِمَّا ظَهَرَ لِی مِنَ الْعافِیَةِ وَالسَّرَّائِ، وَ أَنَا أَشْهَدُ

اور سختیاں تو نے مجھ سے دور کیں اور ہٹائی ہیں ان میں اکثر ایسی ہیں جن سے میرے لیے آرام اور خوشی ظاہر ہوئی ہے اور میں گواہی

یَا إلهِی بِحَقِیقَةِ إیمانِی وَعَقْدِ عَزَماتِ یَقِینِی، وَخالِصِ صَرِیحِ تَوْحِیدِی

دیتا ہوں اے اللہ! اپنے ایمان کی حقیقت اپنے اٹل ارادوں کی مظبوطی اپنی واضح و آشکار توحید

وَباطِنِ مَکْنُونِ ضَمِیرِی وَعَلائِقِ مَجارِی نُورِ بَصَرِی، وَأَسارِیرِ صَفْحَةِ جَبِینِی

اپنے باطن میں پوشیدہ ضمیر اپنی آنکھوں کے نور سے پیوستہ راستوں اپنی پیشانی کے نقوش کے رازوں

وَخُرْقِ مَسارِبِ نَفْسِی، وَخَذارِیفِ مارِنِ عِرْنِینِی، وَمَسارِبِ صِماخِ سَمْعِی، وَمَا

اپنے سانس کی رگوں کے سوراخوںاپنی ناک کے نرم و ملائم پردوں اپنے کانوں کی سننے والی جھلیوں اور اپنے

ضُمَّتْ وَأَطْبَقَتْ عَلَیْهِ شَفَتایَ، وَحَرَکاتِ لَفْظِ لِسانِی، وَمَغْرَزِ حَنَکِ فَمِی وَفَکِّی،

چپکنے اور ٹھیک بند ہونے والے ہونٹوں اپنی زبان کی حرکات سے نکلنے والے لفظوںاپنے منہ کے اوپر نیچے کے حصوںکے ہلنے اپنے

وَمَنابِتِ أَضْراسِی، وَمَساغِ مَطْعَمِی وَمَشْرَبِی، وَحِمالَةِ أُمِّ رَأْسِی، وَبُلُوعِ فارِغِ

دانتوں کے اگنے کی جگہوں اپنے کھانے پینے کے ذائقہ دار ہونے اپنے سر میں دماغ کی قرارگاہ اپنی گردن میں غذا کی

حَبائِلِ عُنُقِی وَمَا اشْتَمَلَ عَلَیْهِ تامُورُ صَدْرِی وَحَمائِلِ حَبْلِ وَتِینِی وَ نِیاطِ حِجابِ

نالیوں اور ان ہڈیوں، جن سے سینہ کا گھیرا بناہے اپنے گلے کے اندر لٹکی ہوئی شہ رگ اپنے دل میں آویزاں

قَلْبِی وَأَفْلاذِ حَواشِی کَبِدِی، وَمَا حَوَتْهُ شَراسِیفُ أَضْلاعِی، وَحِقاقُ مَفاصِلِی،

پردے اپنے جگر کے بڑھے ہوئے کناروں اپنی ایک دوسری سے ملی اور جھکی ہوئی پسلیوں اپنے جوڑوں کے حلقوں اپنے

وَقَبْضُ عَوامِلِی، وَأَطْرافُ أَنامِلِی، وَلَحْمِی وَدَمِی وَشَعْرِی وَبَشَرِی وَعَصَبِی

اعضائ کے بندھنوں اپنی انگلیوں کے پوروں اور اپنے گوشت خون اپنے بالوں اپنی جلد اپنے پٹھوں

وَقَصَبِی وَعِظامِی وَمُخِّی وَعُرُوقِی وَجَمِیعُ جَوارِحِی وَمَا انْتَسَجَ عَلَی ذلِکَ أَیَّامَ

اور نلیوں اپنی ہڈیوں اپنے مغز اپنی رگوں اور اپنے ہاتھ پاؤں اور بدن کی جو میری شیرخوارگی

رِضاعِی، وَمَا أَ قَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی وَنَوْمِی وَیَقْظَتِی وَسُکُونِی، وَحَرَکاتِ رُکُوعِی

میں پیدا ہوئیں اور زمین پر پڑنے والے اپنے بوجھ اپنی نینداپنی بیداری اپنے سکون اور اپنے رکوع

وَسُجُودِی أَنْ لَوْ حاوَلْتُ وَاجْتَهَدْتُ مَدَی الْاَعْصارِ وَالْاَحْقابِ لَوْ عُمِّرْتُها أَنْ

و سجدے کی حرکات ان سب چیزوں پر اگر تیرا شکر ادا کرناچاہوں اور تمام زمانوں اور صدیوں میں کوشاںرہوں اور عمر وفا کرے تو

أُؤَدِّیَ شُکْرَ واحِدَةٍ مِنْ أَ نْعُمِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ذلِکَ إلاَّ بِمَنِّکَ الْمُوجَبِ عَلَیَّ بِهِ

بھی میں تیری ان نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر تیرے احسان کے ذریعے جس سے مجھ پر تیرا

شُکْرُکَ أَبَداً جَدِیداً، وَثَنائً طارِفاً عَتِیداً، أَجَلْ وَلَوْ حَرَصْتُ أَ نَا وَالْعادُّونَ مِنْ

ایک اور شکر واجب ہو جاتا ہے اور تیری لگاتار ثنا واجب ہو جاتی ہے اور اگر میں ایسا کرنا چاہوں اور تیری مخلوق میں سے شمار کرنے

أَنامِکَ أَنْ نُحْصِیَ مَدی إنْعامِکَ سالِفِهِ وَآنِفِهِ مَا حَصَرْناهُ عَدَداً، وَلاَ أَحْصَیْناهُ

والے بھی شمار کرنا چاہیں کہ ہم تیری گزشتہ و آیندہ نعمتیں شمار کریں تو ہم نہ انکی تعداد کا اور نہ ان کی مدت کا حساب کرسکیں گے یہ ممکن ہی

أَمَداً هَیْهاتَ أَنَّی ذلِکَ وَأَ نْتَ الْمُخْبِرُ فِی کِتابِکَ النَّاطِقِ وَالنَّبَاََ الصَّادِقِ وَ إنْ تَعُدُّوا

نہیں ہے کیونکہ تو نے اپنی خبر دینے والی گویا کتاب میں سچی خبر دے کر بتایا ہے کہ اور اگر تم خدا کی

نِعْمَةَ ﷲ لاَ تُحْصُوها صَدَقَ کِتابُکَ اَللّٰهُمَّ وَ إنْباؤُکَ، وَبَلَّغَتْ أَ نْبِیاؤُکَ وَرُسُلُکَ مَا

نعمتوں کو گنو تو ان کا حساب نہ لگا سکوگے تیری کتاب سچی ہے اے اللہ! اور تیری خبریں بھی سچی ہیں جو تیرے نبیوں اور رسولوں نے تبلیغ

أَنْزَلْتَ عَلَیْهِمْ مِنْ وَحْیِکَ، وَشَرَعْتَ لَهُمْ وَبِهِمْ مِنْ دِینِکَ، غَیْرَ أَنِّی

کی وہ سچ ہے جو تو نے ان پر وحی نازل کی وہ سچ ہے اور جو ان کیلئے اور انکے ذریعے اپنے دین کو جاری کیا وہ سچ ہے دیگر یہ کہ اے

یَا إلهِی أَشْهَدُ بِجُهْدِی وَجِدِّی وَمَبْلَغِ طاقَتِی وَوُسْعِی، وَأَ قُولُ مُؤْمِناً مُوقِناً

میرے اللہ! گواہی دیتا ہوں میںاپنی محنت و کوشش اور اپنی فرمانبرداری و ہمت کے ساتھ اور میں ایمان و یقین سے

الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً فَیَکُونَ مَوْرُوثاً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی مُلْکِهِ

کہتا ہوں کہ حمد خدا کے لیے ہے جس نے اپنا کوئی بیٹا نہیں بنایا جو اس کا وارث ہو اور نہ ملک و حکومت میں کوئی اس کا شریک ہے جو

فَیُضادَّهُ فِیَما ابْتَدَعَ، وَلاَ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ فَیُرْفِدَهُ فِیما صَنَعَ، فَسُبْحانَهُ سُبْحانَهُ لَوْ

پیدا کرنے میں اس کا ہمکار ہو اور نہ وہ کمزور ہے کہ اشیائ کے بنانے میں کوئی اس کی مدد کرے پس وہ پاک ہے پاک ہے اگر

کانَ فِیهِما آلِهَةٌ إلاَّ ﷲ لَفَسَدَتا وَتَفَطَّرَتاسُبْحانَ ﷲ الْواحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی

زمین و آسمان میں خدا کے سوا کوئی معبود ہوتا تو یہ ٹوٹ پھوٹ کر گرپڑتے پاک ہے خدا یگانہ یکتا بے نیاز جس نے

لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ حَمْداً یُعادِلُ حَمْدَ مَلائِکَتِهِ

نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے حمد ہے خدا کے لیے برابر اس حمد کے جو اس کے مقرب فرشتوں

الْمُقَرَّبِینَ وَأَ نْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی خِیَرَتِهِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ

اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں نے کی ہے اور اس کے پسند کیے ہوئے محمد نبیوں کے خاتم پر خدا کی رحمت ہو اور ان کی آل پر

الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْمُخْلَصِینَ وَسَلَّمَ

جو نیک پاک خالص ہیں اور ان پر سلام ہو ۔

پھر آپ نے خدائے تعالیٰ سے حاجات طلب کرنا شروع کیں۔ جب کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اسی حالت میں آپ بارگاہ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوئے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَخْشاکَ کَأَ نِّی أَراکَ، وَأَسْعِدْنِی بِتَقْواکَ، وَلاَ تُشْقِنِی بِمَعْصِیَتِکَ

اے اللہ! مجھے ایسا ڈرنے والا بنادے گویا تجھے دیکھ رہا ہوں مجھے پرہیزگاری کی سعادت عطا کر اور نافرمانی کے ساتھ بدبخت نہ بنا

وَخِرْ لِی فِی قَضائِکَ، وَبارِکْ لِی فِی قَدَرِکَ، حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ وَلاَ

اپنی قضا میں مجھے نیک بنادے اور اپنی تقدیر میں مجھے برکت عطا فرما یہاںتک کہ جس امر میں تو تاخیر کرے اس میں جلدی نہ چاہوں

تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ غِنایَ فِی نَفْسِی، وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَالْاِخْلاصَ

اور جس میں تو جلدی چاہے اس میں تاخیر نہ چاہوں اے اللہ! پیدا کردے میرے نفس میں بے نیازی میرے دل میں یقین میرے عمل

فِی عَمَلِی وَالنُّوْرَ فِی بَصَرِی، وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی، وَمَتِّعْنِی بِجَوارِحِی، وَاجْعَلْ

میں خلوص میری نگاہ میںنور میرے دین میں سمجھ اور میرے اعضا میں فائدہ پیدا کردے اور میرے

سَمْعِی وَبَصَرِی الْوارِثَیْنِ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی، وَأَرِنِی فِیهِ ثارِی

کانوں و آنکھوں کو میرا مطیع بنادے اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے مقابل میری مدد کر مجھے اس سے بدلہ لینے والا بنا

وَمَآرِبِی، وَأَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی اَللّٰهُمَّ اکْشِفْ کُرْبَتِی، وَاسْتُرْ عَوْرَتِی، وَاغْفِرْ لِی

یہ آرزو پوری کر اور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی فرما اے اللہ! میری سختی دور کردے میری پردہ پوشی فرما میری خطائیں معاف

خَطِیئَتِی، وَاخْسَأْ شَیْطانِی، وَفُکَّ رِهانِی، وَاجْعَلْ لِی یَا إلهِی الدَّرَجَةَ الْعُلْیا فِی

کردے میرے شیطان کو ذلیل کر اور میری ذمہ داری پوری کرادے میرے لیے اے میرے خدا دنیا اور آخرت میں بلند سے بلندتر

الْآخِرَةِ وَالْاُوْلیٰ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی سَمِیعاً بَصِیراً وَلَکَ الْحَمْدُ

مرتبے قرار دے اے اللہ! حمد تیریہی لیے ہے کہ تو نے مجھے پیدا کیا تو نے مجھ کو سننے والا دیکھنے والا بنایا حمدتیرے ہی لیے ہے

کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی خَلْقاً سَوِیّاً رَحْمَةً بِی وَقَدْ کُنْتَ عَنْ خَلْقِی غَنِیّاً رَبِّ

کہ تو نے مجھے پیدا کیاتواپنی رحمت سے بہترین تربیت عطا کی حالانکہ تو مجھے خلق کرنے سے بے نیاز تھا میرے پروردگار تو

بِما بَرَأْتَنِی فَعَدَّلْتَ فِطْرَتِی رَبِّ بِما أَنْشَأْتَنِی فَأَحْسَنْتَ صُورَتِی رَبِّ بِما أَحْسَنْتَ

نے مجھے پیدا کیا ہے تو متوازن بنایا ہے اے میرے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی ہے تو ہدایت بھی عطا کی ہے اے پروردگار تو نے مجھ پر احسان کیا

إلَیَّ وَفِی نَفْسِی عافَیْتَنِی، رَبِّ بِما کَلاََْتَنِی وَوَفَّقْتَنِی رَبِّ بِما أَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَهَدَیْتَنِی

اور مجھے صحت وعافیت دی اے پروردگار تو نے میری حفاظت کی اور توفیق دی اے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی تو ہدایت بھی عطاکر

رَبِّ بِما أَوْلَیْتَنِی وَمِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَعْطَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَطْعَمْتَنِی وَسَقَیْتَنِی، رَبِّ بِما

اے پروردگار تو نے مجھے اپنی پناہ میں لیا اور ہر بھلائی مجھے عطا فرمائی اے پروردگار تو نے مجھے کھانا اور پانی دیا اے پروردگار تو نے مجھے

أَغْنَیْتَنِی وَأَ قْنَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَعَنْتَنِی وَأَعْزَزْتَنِی، رَبِّ بِما أَ لْبَسْتَنِی مِنْ سِتْرِکَ

مال دیا میری نگہبانی کی اے پروردگار تو نے میری مدد کی اور عزت بخشی اے پروردگار تو نے اپنی عنایت سے مجھے

الصَّافِی، وَیَسَّرْتَ لِی مِنْ صُنْعِکَ الْکافِی، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعِنِّی

لباس عطا کیا اور اپنی چیزیں میری دسترس میں دی ہیں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرمااور زمانے کی سختیوں

عَلَی بَوائِقِ الدُّهُورِ وَصُرُوفِ اللَّیالِی وَالْاَیَّامِ، وَنَجِّنِی مِنْ أَهْوالِ الدُّنْیا وَکُرُباتِ

اور شب و روز کی گردش کے مقابلے میں میری مدد فرما دنیا کے خوفوں اور آخرت کی سختیوں سے مجھے نجات دے اور

الْآخِرَةِ وَاکْفِنِی شَرَّ مَا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِی الْاَرْضِ اَللّٰهُمَّ مَا أَخافُ فَاکْفِنِی وَمَا

اس زمین پر ظالموں کے پھیلائے ہوئے فساد سے محفوظ رکھ اے اللہ! حالت خوف میں میری مدد فرما اور ہر اس سے بچائے رکھ

أَحْذَرُ فَقِنِی، وَفِی نَفْسِی وَدِینِی فَاحْرُسْنِی، وَفِی سَفَرِی فَاحْفَظْنِی، وَفِی

جس سے میں ڈرتا ہوں میری جان اور میرے ایمان کی نگہداری فرما دوران سفر میری حفاظت کر اور میری عدم موجودگی میں

أَهْلِی وَمالِی فَاخْلُفْنِی وَفِیما رَزَقْتَنِی فَبارِکْ لِی، وَفِی نَفْسِی فَذَلِّلْنِی، وَفِی أَعْیُنِ

میرے مال و اولاد کو نظر میں رکھ جو رزق تو نے مجھے دیا اس میں برکت دے میرے نفس کو میرا مطیع بنا دے اور لوگوں کی نگاہوں میں

النَّاسِ فَعَظِّمْنِی، وَمِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فَسَلِّمْنِی، وَبِذُ نُوبِی فَلا تَفْضَحْنِی،

مجھے عزت دے مجھ کو جنّوں اور اور انسانوں کی بدی سے محفوظ فرما میرے گناہوں پر مجھے بے پردہ نہ کر

وَبِسَرِیرَتِی فَلا تُخْزِنِی، وَبِعَمَلِی فَلا تَبْتَلِنِی، وَ نِعَمَکَ فَلا تَسْلُبْنِی، وَ إلی غَیْرِکَ

میرے باطن سے مجھے رسوا نہ کر میرے عمل پر میری گرفت نہ کر اپنی نعمتیں مجھ سے نہ چھین مجھے اپنے غیر کے

فَلا تَکِلْنِی إلهِی إلی مَنْ تَکِلُنِی إلی قَرِیبٍ فَیَقْطَعُنِی، أَمْ إلی بَعِیدٍ فَیَتَجَهَّمُنِی

حوالے نہ کر میرے خدا تو مجھے جس کے بھی حوالے کرے گاوہ جلد ہی نظریں پھیرے یا تھوڑے عرصے کے بعد مجھ سے نفرت

أَمْ إلَی الْمُسْتَضْعِفِینَ لِی وَأَنْتَ رَبِّی وَمَلِیکُ أَمْرِی أَشْکُو إلَیْکَ غُرْبَتِی، وَبُعْدَ

کرے گا یا انکے حوالے کرے گا جو پست سمجھیں جبکہ تو میرا پروردگار اور میرا مالک ہے میں اپنی اس بے کسی اپنے گھر سے دوری اور

دارِی وَهَوانِی عَلَی مَنْ مَلَّکْتَهُ أَمْرِی، إلهِی فَلا تُحْلِلْ عَلَیَّ غَضَبَکَ، فَ إنْ لَمْ تَکُنْ

جسے تو نے مجھ پر اختیار دیا ہے تجھی سے اس کی شکایت کرتا ہوںمیرے اللہ! مجھ پر اپنا غضب نازل نہ فرما پس اگر تو ناراض نہ ہو

غَضِبْتَ عَلَیَّ فَلا أُبالِی سِواکَ، سُبْحانَکَ غَیْرَ أَنَّ عافِیَتَکَ أَوْسَعُ لِی، فَأَسْأَلُکَ یَا

تو پھر مجھے تیرے سوا کسی کی پروا نہیں تیری ذات پاک ہے تیری مہربانی مجھ پر بہت زیادہ ہے پس مزید سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے

رَبِّ بِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَشْرَقَتْ لَهُ الْاَرْضُ وَالسَّماواتُ، وَکُشِفَتْ بِهِ الظُّلُماتُ،

نور کے جس سے زمین اور سارے آسمانوں روشن ہوئے تاریکیاں اس کے ذریعے سے چھٹ گئیں

وَصَلُحَ بِهِ أَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ أَنْ لاَ تُمِیتَنِی عَلَی غَضَبِکَ وَلاَ تُنْزِلْ بِی سَخَطَکَ

اور اس سے اگلے پچھلے لوگوں کے کام سدھر گئے یہ کہ مجھے موت نہ دے جب تو مجھ سے ناراض ہو اور مجھ پر سختی نہ ڈال تجھ سے معافی

لَکَ الْعُتْبیٰ، لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَّی تَرْضیٰ قَبْلَ ذلِکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ

کاطالب ہوں معافی کا طالب ہوں حتیٰ کہ تو میری موت سے پہلے مجھ سے راضی ہوجائے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ تو حرمت

وَالْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَالْبَیْتِ الْعَتِیقِ الَّذِی أَحْلَلْتَهُ الْبَرَکَةَ وَجَعَلْتَهُ لِلنَّاسِ أَمْناً، یَا مَنْ

والے شہر حرمت والے مشعر اور پاکیزہ گھر کعبہ کا رب ہے جس میں تو نے برکت نازل کی اور اسے لوگوں کیلئے جائے امن قرار دیا اے

عَفا عَنْ عَظِیمِ الذُّنُوبِ بِحِلْمِهِ، یَا مَنْ أَسْبَغَ النَّعْمائَ بِفَضْلِهِ، یَا مَنْ أَعْطَیٰ الْجَزِیلَ

وہ جو اپنی نرمی سے بڑے بڑے گناہ معاف کرتا ہے اے وہ جو اپنے فضل سے نعمتیں کامل کرتا ہے اے وہ جو اپنے کرم سے بہت عطا

بِکَرَمِهِ یَا عُدَّتِی فِی شِدَّتِی یَا صاحِبِی فِی وَحْدَتِی، یَا غِیاثِی فِی کُرْبَتِی، یَا وَلِیِّی

کرتا ہے اے سختی کے وقت میری مدد پر آمادہ اے تنہائی کے ہنگام میرے ساتھی اے مشکل میں میرے فریادرس اے مجھے نعمت دینے

فِی نِعْمَتِی، یَا إلهِی وَ إلهَ آبائِی إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ وَیَعْقُوبَ وَرَبَّ

والے مالک اے میرے معبود اور میرے آبائ و اجداد ابراہیمعليه‌السلام ، اسمٰعیلعليه‌السلام ، اسحاقعليه‌السلام اور یعقوبعليه‌السلام کے معبود اور مقرب

جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ وَمُنْزِلَ

فرشتوںجبرائیل میکائیل اور اسرافیل کے رب اور اے نبیوں کے خاتم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے گرامی قدرآل کے رب

التَّوْراةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَمُنَزِّلَ کهیَعَصَ وَطه وَیسَ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ

اے تورات، انجیل، زبور اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے اے کٰھٰیٰعص، طٰہٰ،یس اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے

أَنْتَ کَهْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذاهِبُ فِی سَعَتِها، وَتَضِیقُ بِیَ الْاَرْضُ بِرُحْبِها وَلَوْلاَ

تو ہی میری جائے پناہ ہے جب زندگی کے وسیع راستے مجھ پر تنگ ہوجائیں اور زمین کشادگی کے باوجود میرے لیے تنگ ہوجائے

رَحْمَتُکَ لَکُنْتُ مِنَ الْهالِکِینَ، وَأَنْتَ مُقِیلُ عَثْرَتِی، وَلَوْلا سَتْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ

اور اگر تیری رحمت شامل حال نہ ہوتی تو میں تباہ ہوجاتا تو ہی میرے گناہ معاف کرنیوالا ہے اور اگر تو میری پردہ پوشی نہ کرتا تو میں رسوا

مِنَ الْمَفْضُوحِینَ، وَأَنْتَ مُؤَیِّدِی بِالنَّصْرِ عَلَی أَعْدائِی وَلَوْلا نَصْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ

ہوکر رہ جاتا اور تو اپنی مدد کے ساتھ دشمنوں کے مقابل میں مجھے قوت دینے والا ہے اور اگر تیری مدد حاصل نہ ہوتی تو میں زیر ہو جانے

مِنَ الْمَغْلُوبِینَ، یَا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالسُّمُوِّ وَالرِّفْعَةِ فَأَوْ لِیاؤُهُ بِعِزِّهِ یَعْتَزُّونَ، یَا

والوں میں سے ہوجا اے وہ جس نے اپنی ذات کو بلندی اور برتری کے لیے خاص کیا اور جس کے دوست اس کی عزت سے عزت

مَنْ جَعَلَتْ لَهُ الْمُلُوکُ نِیرَ الْمَذَلَّةِ عَلَی أَعْناقِهِمْ فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خائِفُونَ، یَعْلَمُ

پاتے ہیں اے وہ جسکے دربار میں بادشاہوں نے اپنی گردنوں میں عاجزی کا طوق پہنا پس وہ اس کے دبدبے سے ڈرتے ہیں وہ

خایِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَغَیْبَ مَا تَأْتِی بِهِ الْاَزْمِنَةُ وَالدُّهُورُ،

آنکھوں کے اشاروں کو اور جوسینوں میں چھپاہے اسے جانتا ہے اور ان غیب کی باتوں کو جانتا ہے جو آیندہ زمانوں میں ظاہر ہونگی

یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ کَیْفَ هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا

اے وہ جسکی حقیقت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود اے وہ جس کی حقیقیت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود ا اے وہ کوئی جسکا علم نہیں رکھتا مگر وہ خود

یَعْلَمُهُ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ کَبَسَ الْاَرْضَ عَلَی الْمائِ وَسَدَّ الْهَوائَ بِالسَّمائِ یَا مَنْ لَهُ أَکْرَمُ

اے وہ جس نے زمین کو پانی کی سطح پر رکھا ہوا اور ہوا کو فضائ آسمان میں باندھا اے وہ جس کیلئے سب سے بہترین نام ہے اے

الْاَسْمائِ، یَا ذَا الْمَعْرُوفِ الَّذِی لاَ یَنْقَطِعُ أَبَداً، یَا مُقَیِّضَ الرَّکْبِ لِیُوسُفَ فِی الْبَلَدِ

احسان کے مالک جو کسی وقت میں منقطع نہ ہوتا اے یوسفعليه‌السلام کے لیے بے آب بیابان میں کاروان کو روکنے والے اور انہیں کنوئیں میں

الْقَفْرِ وَمُخْرِجَهُ مِنَ الْجُبِّ وَجاعِلَهُ بَعْدَ الْعُبُودِیَّةِ مَلِکاً، یَا رادَّهُ عَلَی یَعْقُوبَ بَعْدَ

سے نکالنے والے اور غلامی کے بعد ان کو بادشاہ بنانے والے اے یوسفعليه‌السلام کو یعقوبعليه‌السلام سے ملانے والے جبکہ ان کی آنکھیں روتے

أَنِ ابْیَضَّتْ عَیْناهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ کَظِیمٌ، یَا کاشِفَ الضُّرِّ وَالْبَلْویٰ عَنْ أَ یُّوبَ،

روتے سفید ہوچکی تھیںاور وہ سخت غم زدہ رہتے تھے اے ایوبعليه‌السلام کو نقصان اور مصیبت سے نجات دینے والے اے

وَمُمْسِکَ یَدَیْ إبْراهِیمَ عَنْ ذَبْحِ ابْنِهِ بَعْدَ کِبَرِ سِنِّهِ وَفَنائِ عُمُرِهِ، یَا مَنِ اسْتَجابَ

اپنے بیٹے کو ذبح کرنے میں ابراہیمعليه‌السلام کے ہاتھوں کو روکنے والے جب وہ بہت بوڑھے اور زندگی کی آخری منزل میں تھے اے وہ جس

لِزَکَرِیَّا فَوَهَبَ لَهُ یَحْییٰ وَلَمْ یَدَعْهُ فَرْداً وَحِیداً یَا مَنْ أَخْرَجَ یُونُسَ مِنْ بَطْنِ

نے زکریاعليه‌السلام کی دعا قبول کی پس انہیں یحییٰ عطا کیا اور انہیں یکہ و تنہا نہ چھوڑا تھا اے وہ جس نے یونسعليه‌السلام کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا

الْحُوتِ، یَا مَنْ فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِی إسْرائِیلَ فَأَنْجاهُمْ وَجَعَلَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ مِنَ

اے وہ جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا میں راستے بنائے پس انہیں نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکروں

الْمُغْرَقِینَ، یَا مَنْ أَرْسَلَ الرِّیاحَ مُبَشِّراتٍ بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ، یَا مَنْ لَمْ یَعْجَلْ عَلَی

کو غرق کردیا اے وہ جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اے وہ جو اپنی مخلوق میں نافرمانی

مَنْ عَصاهُ مِنْ خَلْقِهِ یَا مَنِ اسْتَنْقَذَ السَّحَرَةَ مِنْ بَعْدِ طُولِ الْجُحُودِ وَقَدْ غَدَوْا فِی

کرنے والے کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا اے وہ جس نے جادوگروں کو مدتوں کے کفر سے نجات عطا فرمائی جبکہ وہ اس کی نعمتوں

نِعْمَتِهِ یَأْکُلُونَ رِزْقَهُ وَیَعْبُدُونَ غَیْرَهُ وَقَدْ حادُّوهُ وَنادُّوهُ وَ

سے فائدہ اٹھاتے اسکی دی ہوئی روزی کھاتے اور عبادت اس کے غیر کی کرتے تھے وہ خدا سے دشمنی کرتے شرک کی راہ پر چلتے اور

کَذَّبُوا رُسُلَهُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا بَدِیئُ، یَا بَدِیعاً لاَ نِدَّ لَکَ، یَا دائِماً لاَ نَفادَ لَکَ،

اس کے رسولوں کو جھٹلاتے تھے اے اللہ اے اللہ! اے آغاز کرنے والے اے پیدا کرنے والے تیرا کوئی ثانی نہیں اے ہمیشگی والے

یَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتی، یَا مَنْ هُوَ قایِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ،

تجھے فنا نہیں اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے ہر نفس کے اعمال پر نگہبان جو اس نے انجام دیے

یَا مَنْ قَلَّ لَهُ شُکْرِی فَلَمْ یَحْرِمْنِی وَعَظُمَتْ خَطِیئَتِی فَلَمْ یَفْضَحْنِی، وَرَآنِی عَلَی

اے وہ میں نے جس کا شکر کم کیا تب بھی اس نے مجھے محروم نہ کیا میں نے بڑی بڑی خطائیں کیں تب بھی اس نے مجھے رسوا نہ کیا اس

الْمَعاصِی فَلَمْ یَشْهَرْنِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی فِی صِغَرِی، یَا مَنْ رَزَقَنِی فِی کِبَرِی، یَا

نے مجھے نافرمان دیکھا تو پردہ فاش نہ کیا اے وہ جس نے میرے بچپنے میں میری حفاظت کی اے وہ جس نے میرے بڑھاپے میں

مَنْ أَیَادِیهِ عِنْدِی لاَ تُحْصی وَ نِعَمُهُ لاَ تُجازی یَا مَنْ عارَضَنِی بِالْخَیْرِ وَالْاِحْسانِ

روزی دی اے وہ جس کی نعمتوں کا کوئی شمار ہی نہیں اور جس کی نعمتوں کا کوئی بدلہ نہیں اے وہ جس نے مجھ سے بھلائی اور احسان کیا

وَعارَضْتُهُ بِالْاِسائَةِ وَالْعِصْیانِ، یَا مَنْ هَدانِی لِلاِِْیمانِ مِنْ قَبْلِ أَنْ أَعْرِفَ شُکْرَ

اور میں نے برائی اور نافرمانی پیش کی اے وہ جس نے مجھے ایمان کی راہ بتائی اس سے پہلے کہ اس پر میری طرف سے شکر ادا ہوتا اے

الْاِمْتِنانِ، یَا مَنْ دَعَوْتُهُ مَرِیضاً فَشَفانِی، وَعُرْیاناً فَکَسانِی، وَجائِعاً فَأَشْبَعَنِی

وہ جسے میں نے بیماری میں پکارا تو مجھے شفا دی عریانی میں پکارا تو لباس دیا بھوک میں پکارا تو مجھے سیر کیا

وَعَطْشاناً فَأَرْوانِی، وَذَلِیلاً فَأَعَزَّنِی، وَجاهِلاً فَعَرَّفَنِی، وَوَحِیداً فَکَثَّرَنِی، وَغائِباً

پیاس میں پکارا تو سیراب کیا پستی میں عزت دی نادانی میں معرفت بخشی تنہائی میں کثرت دی سفر سے

فَرَدَّنِی، وَمُقِلاًّ فَأَغْنانِی، وَمُنْتَصِراً فَنَصَرَنِی، وَغَنِیّاً فَلَمْ یَسْلُبْنِی، وَأَمْسَکْتُ عَنْ

وطن پہنچایا تنگدستی میں مجھے مال دیامدد مانگی تو میری مدد فرمائی تونگر تھا تو میرا مال نہیں چھینا اور میں نے ان چیزوں کا شکر نہ کیا

جَمِیعِ ذلِکَ فَابْتَدَأَنِی، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ یَا مَنْ أَقالَ عَثْرَتِی، وَنَفَّسَ کُرْبَتِی،

تو اس نے دینے میں پہل کی پس ساری تعریف اور شکرتیرے ہی لیے ہے اے وہ جس نے میری لغزش معاف کی میری تکلیف دور کی

وَأَجابَ دَعْوَتِی، وَسَتَرَ عَوْرَتِی، وَغَفَرَ ذُ نُوبِی، وَبَلَّغَنِی طَلِبَتِی، وَنَصَرَنِی عَلَی

میری دعا قبول فرمائی میرے عیبوں کو چھپایا میرے گناہ بخش دیے میری حاجت پوری کی اور دشمن کے خلاف میری

عَدُوِّی، وَ إنْ أَعُدَّ نِعَمَکَ وَمِنَنَکَ وَکَرایِمَ مِنَحِکَ لاَ أُحْصِیها، یَا مَوْلایَ أَنْتَ الَّذِی

مدد کی اور اگر میں تیری نعمتوں تیرے احسانوں اور عطاؤں کو شمار کروں تو شمار نہیںکرسکتا اے میرے مالک تو وہ ہے جس نے احسان

مَنَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَنْعَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَحْسَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَجْمَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی

کیا تو وہ ہے جس نے نعمت دی تو وہ ہے جس نے بہتری کی تو وہ ہے جس نے جمال دیا تو وہ ہے جس نے

أَفْضَلْتَ أَنْتَ الَّذِی أَکْمَلْتَ أَنْتَ الَّذِی رَزَقْتَ أَنْتَ الَّذِی وَفَّقْتَ أَنْتَ الَّذِی أَعْطَیْتَ

بڑائی دی تو وہ ہے جس نے کمال عطا کیا تو وہ ہے جس نے روزی دی تو وہ ہے جس نے توفیق دی تو وہ ہے جس نے عطا کیا تو وہ ہے

أَنْتَ الَّذِی أَغْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَقْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی آوَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی کَفَیْتَ، أَنْتَ

جس نے مال دیا تو وہ ہے جس نے نگہداری کی تو وہ ہے جس نے پناہ دی تو وہ ہے جس نے کام بنایا تو وہ ہے جس نے

الَّذِی هَدَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی عَصَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی سَتَرْتَ، أَنْتَ الَّذِی غَفَرْتَ، أَنْتَ

ہدایت کی تو وہ ہے جس نے گناہ سے بچایا تو وہ ہے جس نے پرورش کی تو وہ ہے جس نے معاف کیا تو وہ ہے

الَّذِی أَقَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی مَکَّنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعْزَزْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی

جس نے بخش دیا تو وہ ہے جس نے قدرت دی تو وہ ہے جس نے عزت بخشی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے

عَضَدْتَ أَنْتَ الَّذِی أَیَّدْتَ أَنْتَ الَّذِی نَصَرْتَ أَنْتَ الَّذِی شَفَیْتَ أَنْتَ الَّذِی عافَیْتَ

سہارا دیا تو وہ ہے جس نے حمایت کی تو وہ ہے جس نے مدد کی تو وہ ہے جس نے شفا دی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے

أَنْتَ الَّذِی أَکْرَمْتَ تَبارَکْتَ وَتَعالَیْتَ، فَلَکَ الْحَمْدُ دائِماً، وَلَکَ الشُّکْرُ واصِباً أَبَداً

بزرگی دی تو بڑا برکت والا اور برتر ہے ہمیشہ پس حمد ہی تیرے لیے ہے اور شکر لگاتار ہمیشہ ہمیشہ تیرے ہی لیے ہے

ثُمَّ أَنَا یَا إلهِیَ الْمُعْتَرِفُ بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْهالِی أَنَا الَّذِی أَسَأْتُ أَنَا

پھر میں ہوں اے میرے معبود اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے والا پس مجھے ان سے معافی دے میں وہ ہوں جس نے برائی کی میں

الَّذِی أَخْطَأْتُ أَنَا الَّذِی هَمَمْتُ، أَنَا الَّذِی جَهِلْتُ، أَنَا الَّذِی غَفَلْتُ، أَنَا الَّذِی

وہ ہوں جس نے خطا کی میں وہ ہوں جس نے برا ارادہ کیا میں وہ ہوں جس نے نادانی کی میں وہ ہوں جس سے بھول ہوئی میں وہ

سَهَوْتُ أَنَا الَّذِی اعْتَمَدْتُ، أَنَا الَّذِی تَعَمَّدْتُ، أَنَا الَّذِی وَعَدْتُ، وَأَنَا الَّذِی أَخْلَفْتُ

ہوں جو چوک گیا میں نے خود پر اعتماد کیا میں نے دانستہ گناہ کیا میں وہ ہوں جس نے وعدہ کیا میں وہ ہوںجس نے وعدہ خلافی کی

أَنَا الَّذِی نَکَثْتُ، أَنَا الَّذِی أَقْرَرْتُ، أَنَا الَّذِی اعْتَرَفْتُ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَعِنْدِی وَأَبُوئُ

میں وہ ہوں جس نے عہد توڑا میں وہ ہوں جو اقرار کرتا اور میں وہ ہوں جو تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں جو مجھے ملی ہیں اور میرے

بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْها لِی یَا مَنْ لاَ تَضُرُّهُ ذُنُوبُ عِبادِهِ وَهُوَ الْغَنِیُّ عَنْ طاعَتِهِمْ

پاس ہیں مجھ پر گناہوں کا بڑا بوجھ ہے پس مجھے معاف کردے اے وہ جسے اس کے بندوں کے گناہ نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ ان کی

وَالْمُوَفِّقُ مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْهُمْ بِمَعُونَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ

بندگی سے بے نیاز ہے اور توفیق دیتا ہے اسے اپنی مہربانی اور مدد سے جو ان میں سے نیک عمل کرے پس حمد تیرے ہی لیے ہے

إلهِی وَسَیِّدِی إلهِی أَمَرْتَنِی فَعَصَیْتُکَ، وَنَهَیْتَنِی فَارْتَکَبْتُ نَهْیَکَ، فَأَصْبَحْتُ لاَ ذا

اے میرے معبود و سردار اے میرے معبود تو نے حکم دیاتو میں نے نافرمانی کی جس سے تو نے مجھے روکا میں وہ کام کر گزرا پس حال یہ

بَرائَةٍ لِی فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذا قُوَّةٍ فَأَنْتَصِرُ ، فَبِأَیِّ شَیْئٍ أَسْتَقْبِلُکَ یَا مَوْلایَ

ہے کہ نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں نہ یہ طاقت ہے کہ کامیاب ہوجاؤں پس کیا چیزلے کر تیرے سامنے آؤںاے میرے مالک

أَبِسَمْعِی أَمْ بِبَصَرِی أَمْ بِلِسانِی أَمْ بِیَدِی أَمْ بِرِجْلِی أَلَیْسَ کُلُّها نِعَمَکَ عِنْدِی

آیا اپنے کان یا اپنی آنکھ یا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے پاؤں کے ساتھ کیا یہ سب میرے پاس تیری نعمتیں نہیں ہیں ؟اور ان سب

وَبِکُلِّها عَصَیْتُکَ یَا مَوْلایَ فَلَکَ الْحُجَّةُ وَالسَّبِیلُ عَلَیَّ، یَا مَنْ سَتَرَنِی مِنَ الْآبائِ

کے ساتھ میں نے تیری نافرمانی کی اے میرے مولا پس تیرے پاس میرے خلاف حجت اور دلیل ہے اے وہ جس نے ماں باپ

وَالْاُمَّهاتِ أَنْ یَزْجُرُونِی، وَمِنَ الْعَشائِرِ وَالْاِخْوانِ أَنْ یُعَیِّرُونِی، وَمِنَ

سے میری پردہ پوشی کی کہ وہ مجھے دھتکار دیں گے اہل قبیلہ اور بھائی بندوں سے میرا پردہ رکھا کہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کریں گے اور

السَّلاطِینِ أَنْ یُعاقِبُونِی ، وَلَوِ اطَّلَعُوا یَا مَوْلایَ عَلَی مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّی إذاً مَا

حاکموں سے میرا پردہ رکھا کہ وہ مجھے سزا دیں گے اے میرے مولا اگر وہ میرے بارے میں وہ جان لیتے جو کچھ تو جانتا ہے تو وہ مجھے

أَنْظَرُونِی، وَلَرَفَضُونِی وَقَطَعُونِی، فَها أَنَا ذا یَا إلهِی، بَیْنَ یَدَیْکَ یَا سَیِّدِی

کبھی مہلت نہ دیتے مجھے چھوڑ جاتے اور قطع تعلق کر جاتے پس اے میرے معبود میں تیرے سامنے حاضر ہوں اے میرے سردار

خاضِعٌ ذَلِیلٌ حَصِیرٌ حَقِیرٌ لاَ ذُو بَرائَةٍ فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذُو قُوَّةٍ فَأَ نْتَصِرُ، وَلاَ حُجَّةٍ

میں پست عاجز قیدی بے مایہ ہوں نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں اور نہ طاقت ہے کہ کامیاب ہو جاؤں نہ کوئی دلیل ہے

فَأَحْتَجُّ بِها وَلاَ قائِلٌ لَمْ أَجْتَرِحْ وَلَمْ أَعْمَلْ سُوئ اً، وَمَا عَسَی الْجُحُودُ وَلَوْ جَحَدْتُ

کہ وہ پیش کروں نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ گناہ نہیں کیا اور نہ یہ کہ برائی نہیں کی اس سے انکار کا کوئی راستہ نہیںاور اگر انکار کروں تو

یَا مَوْلایَ یَنْفَعُنِی، کَیْفَ وَأَنَّی ذلِکَ وَجَوارِحِی کُلُّها شاهِدَةٌ عَلَیَّ بِما قَدْ عَمِلْتُ،

اے میرے مولا اسکا کچھ فائدہ نہیں اور ایسا کیونکر ہو سکتا ہے جب میرے اعضا ئ مجھ پرگواہ ہیں کہ جو کچھ میں نے عمل کیا ہے اور میں

وَعَلِمْتُ یَقِیناً غَیْرَ ذِی شَکٍّ أَ نَّکَ سائِلِی مِنْ عَظائِمِ الاَُْمُورِ، وَأَ نَّکَ الْحَکَمُ الْعَدْلُ

جانتا ہوں یقین کے ساتھ جس میں شک نہیں ضرور تو بڑے معاملوں میں میری بازپرس کرے گا بلا شبہ تو انصاف کا فیصلہ دینے والا

الَّذِی لاَ تَجُورُ وَعَدْلُکَ مُهْلِکِی وَمِنْ کُلِّ عَدْلِکَ مَهْرَبِی فَ إنْ تُعَذِّبْنِی

ہے کہ جو زیادتی نہیں کرتا تیرا انصاف مجھے نابود کردے گا اور میں تیرے ہر عدل سے ڈرتا بھاگتا ہوں پس اگر تو مجھے عذاب دے

یَا إلهِی فَبِذُنُوبِی بَعْدَ حُجَّتِکَ عَلَیَّ، وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی فَبِحِلْمِکَ

اے میرے اللہ تو وہ میرے گناہوں کی وجہ سے مجھ پر تیری حجت ہے اور اگر تو مجھے معاف فرما دے تو یہ تیری طرف مہربانی تیری

وَجُودِکَ وَکَرَمِکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، لاَ إلهَ

بخشش اور تیرے کرم کا نتیجہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں ستم کاروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود

إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں معافی مانگنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں

الْمُوَحِّدِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْخائِفِینَ، لاَ إلهَ

توحید پرستوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تجھ سے ڈرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا

إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْوَجِلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں خوف رکھنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں

الرَّاجِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الرَّاغِبِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ

امیدواروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں توجہ کرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود

أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُهَلِّلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ

نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں نام لیواؤں میں ہوںنہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک تر ہے بے شک میں سوال کرنے والوں

السَّائِلِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ

میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تسبیح کرنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے

إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُکَبِّرِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ رَبِّی وَرَبُّ آبائِیَ الْاَوَّلِینَ

بے شک میں تکبیر کہنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے کہ میرا رب اور میرے پہلے بزرگوں کا رب ہے

اَللّٰهُمَّ هذَا ثَنایِی عَلَیْکَ مُمَجِّداً، وَ إخْلاصِی لِذِکْرِکَ مُوَحِّداً، وَ إقْرارِی

اے معبودمیری طرف سے یہ تیری ثنائ ہے تیری شان بیان کرتے ہوئے یہ تیرے ذکر کے بارے میں میرا خلوص توحید کو مانتے ہوئے

بِآلائِکَ مُعَدِّداً، وَ إنْ کُنْتُ مُقِرّاً أَنِّی لَمْ أُحْصِها لِکَثْرَتِها

اور میری طرف سے یہ تیری مہربانیوں کا اقرار ہے ان کو شمار کرتے ہوئے اگرچہ یہ مانتا ہوں کہ میں ان کا شمار نہیں کرسکتا کیونکہ وہ

وَسُبُوغِها وَتَظاهُرِها وَتَقادُمِها إلی حادِثٍ مَا لَمْ تَزَلْ تَتَعَهَّدُنِی بِهِ مَعَها مُنْذُ

زیادہ ہیں اور بہت سی ہیں وہ عیاں ہیں اور پہلے سے اب تک مل رہی ہیں تو نے مجھ کو یہ نعمات دینے میں ہمیشہ یاد رکھا ہے جب سے

خَلَقْتَنِی وَبَرَأْتَنِی مِنْ أَوَّلِ الْعُمْرِ مِنَ الْاِغْنائِ مِنَ الْفَقْرِ، وَکَشْفِ الضُّرِّ، وَتَسْبِیبِ

تو نے مجھے پیدا کیا اور اول عمر میں مجھے بے مائیگی میں تو نگری کا حصہ عنایت فرمایا تنگدستی سے بچایا آسائش کے اسباب

الْیُسْرِ، وَدَفْعِ الْعُسْرِ، وَتَفْرِیجِ الْکَرْبِ، وَالْعافِیَةِ فِی الْبَدَنِ، وَالسَّلامَةِ فِی الدِّینِ،

فراہم کیے اور سختی دور فرمائی مصیبت سے چھٹکارا دلایا جسمانی صحت نصیب کی اور دین و ایمان پر پوری طرح قائم رکھا

وَلَوْ رَفَدَنِی عَلَی قَدْرِ ذِکْرِ نِعْمَتِکَ جَمِیعُ الْعالَمِینَ مِنَ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ مَا قَدَرْتُ

اور اگر تیری نعمتوں کا اندازہ کرنے کیلئے دنیا جہان کے لوگ اولین اور آخرین میں سے میرا ساتھ دیں تو بھی میں اندازہ نہ کر سکوں گا

وَلاَ هُمْ عَلَی ذلِکَ، تَقَدَّسْتَ وَتَعالَیْتَ مِنْ رَبٍّ کَرِیمٍ عَظِیمٍ رَحِیمٍ لاَ تُحْصیٰ آلاؤُکَ

اور نہ ہی وہ اندازہ کرسکیں گے تو پاکیزہ ہے اور بلند تر ہے اے پروردگار شان والا بڑائی والا رحم والا تیری مہربانیوں کا شمار نہیں

وَلاَ یُبْلَغُ ثَناؤُکَ، وَلاَ تُکافی نَعْماؤُکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَتْمِمْ عَلَیْنا

تیری تعریف کا حق ادا نہیں ہو پاتا اور تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دیا جاسکتا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری فرما

نِعَمَکَ، وَأَسْعِدْنا بِطاعَتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تُجِیبُ الْمُضْطَرَّ

اپنی بندگی کے ساتھ خوش بخت بنا دے پاک تر ہے تو تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ تو بے شک لاچار کی دعا قبول کرتا ہے

وَتَکْشِفُ السُّوئَ وَتُغِیثُ الْمَکْرُوبَ وَتَشْفِی السَّقِیمَ وَتُغْنِی الْفَقِیرَ وَتَجْبُرُ الْکَسِیرَ

برائی دور کرتا ہے مصیبت زدہ کی فریاد کو پہنچتا ہے بیمار کو صحت دیتا ہے مفلس کو مال دیتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے

وَتَرْحَمُ الصَّغِیرَ، وَتُعِینُ الْکَبِیرَ، وَلَیْسَ دُونَکَ ظَهِیرٌ، وَلاَ فَوْقَکَ قَدِیرٌ ، وَأَ نْتَ

چھوٹے پر رحم کرتا ہے بڑے کی مدد کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی سہار ہ دینے والا نہیں ہے اور تجھ پر کوئی بالادست نہیں ہے تو برتر

الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ یَا مُطْلِقَ الْمُکَبَّلِ الْاَسِیرِ یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ

بزرگی والا ہے اے قیدی کو پھندے سے چھڑانے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ڈرے ہوئے پناہ کے طالب کو

الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَلاَ وَزِیرَ ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعْطِنِی

بچانے والے اے وہ ذات جس کا کوئی ثانی نہیں نہ کوئی وزیر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور آج کی شب مجھے اس

فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ أَفْضَلَ مَا أَعْطَیْتَ وَأَنَلْتَ أَحَداً مِنْ عِبادِکَ مِنْ نِعْمَةٍ تُولِیها وَآلائٍ

سے بہتر دے جو تو نے کسی کو دیا ہے اور اپنے بندوں میں سے کسی کو کوئی نعمت عطا فرمائی اور جو مہربانیاں

تُجَدِّدُها وَبَلِیَّةٍ تَصْرِفُها وَکُرْبَةٍ تَکْشِفُها وَدَعْوَةٍ تَسْمَعُها وَحَسَنَةٍ تَتَقَبَّلُها وَسَیِّئَةٍ

کسی پر کی ہیں اور جو سختی دور کی ہے جو مصیبت ہٹائی ہے جو دعا تو نے سنی ہے جو نیکی قبول کی ہے اور جو برائی

تَتَغَمَّدُها، إنَّکَ لَطِیفٌ بِما تَشائُ خَبِیرٌ وَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَقْرَبُ مَنْ

معاف کی ہے بے شک جس پر چاہے تو لطف کرتا ہے اور خبر رکھتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ بے شک تو قریب تر ہے

دُعِیَ، وَأَسْرَعُ مَنْ أَجابَ، وَأَکْرَمُ مَنْ عَفا، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطیٰ، وَأَسْمَعُ مَنْ

جسے پکارا جاتا ہے تو تیز تر ہے جو قبول کرتا ہے معاف کرنے والوں میں بہترین عطا کرنے والوں میں زیادہ عطا والا اور سوالی کی

سُئِلَ، یَا رَحْمنَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما، لَیْسَ کَمِثْلِکَ مَسْؤُولٌ، وَلاَ

بہت سننے والا اے دنیا و آخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں جگہ پر مہربان کوئی تیرے جیسا نہیں جس سے سوال کیا جائے اور

سِواکَ مَأْمُولٌ، دَعَوْتُکَ فَأَجَبْتَنِی، وَسَأَلْتُکَ فَأَعْطَیْتَنِی، وَرَغِبْتُ إلَیْکَ

سوائے تیرے کوئی نہیں جس پر امید رکھی جائے میں نے دعا کی تو نے قبول کی میں نے مانگا پس تو نے عطا کیا میں نے تیری طرف

فَرَحِمْتَنِی، وَوَثِقْتُ بِکَ فَنَجَّیْتَنِی، وَفَزِعْتُ إلَیْکَ فَکَفَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

توجہ کی پس تو نے رحمت فرمائی تیرا سہار الیا پس تو نے نجات دی میں تجھ سے ڈرا تو نے میری مدد فرمائی اے اللہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما

عَبْدِکَ وَرَسُو لِکَ وَنَبِیِّکَ وَعَلَی آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ وَتَمِّمْ لَنا نَعْمائَکَ

جو تیرے بندے تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور انکی آل پر جو سب کے سب بے عیب اور پاک تر ہیں اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری کر

وَهَنِّئْنا عَطائَکَ، وَاکْتُبْنا لَکَ شاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ ذاکِرِینَ، آمِینَ آمِینَ

اور ہم پر خوشگوار عطائیں فرما ہمیں اپنے شکر گزاروں میں رکھ دے اور اپنے احسانوں کا ذکر کرنے والوں میں رکھ ایسا ہی ہو ایسا ہی ہو

رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ، وَقَدَرَ فَقَهَرَ، وَعُصِیَ فَسَتَرَ، وَ

اے جہانوں کے پروردگار اے اللہ اے وہ مالک جو باقدرت ہے اے با قدرت جو غالب ہے اے وہ جو نافرمانی کو ڈھانپتا ہے اور

اسْتُغْفِرَ فَغَفَرَ، یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ الرَّاغِبِینَ وَمُنْتَهیٰ أَمَلِ الرَّاجِینَ، یَا مَنْ أَحاطَ

بخشش چاہنے پر بخشتا ہے اے طلبگاروں توجہ کرنے والوں کی امید گاہ اور آرزومندوں کے مقام آرزو اے وہ کہ جس کا علم

بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، وَوَسِعَ الْمُسْتَقِیلِینَ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَحِلْماً اَللّٰهُمَّ إنَّا نَتَوَجَّهُ إلَیْکَ

ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور تو بہ کرنے والوں کے لئے محبت و مہربانی اور ملائمت سے جس کا دامن وسیع ہے اے اللہ ہم نے توجہ کی

فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ الَّتِی شَرَّفْتَها وَعَظَّمْتَها بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَرَسُولِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ

ہے تیری طرف آج کی رات میں جسے تو نے بزرگی اور بڑائی دی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مخلوقات میں

خَلْقِکَ وَأَمِینِکَ عَلَی وَحْیِکَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ السِّراجِ الْمُنِیرِ، الَّذِی أَ نْعَمْتَ بِهِ عَلَی

سے تیرے چنے ہوئے تیری وحی کے امانتدار بشارت دینے والے ڈرانے والے روشن چراغ ہیں جن کے وجود کو تو نے مسلمانوں

الْمُسْلِمِینَ وَجَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما

کیلئے نعمت بنایا اور ان کو سارے جہانوں کے لئے رحمت قراردیا اے اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور ان کی آل پر جیسا کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٌ أَهْلٌ لِذلِکَ مِنْکَ یَا عَظِیمُ فَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ الطَّیِّبِینَ

تیری طرف سے اس کے لائق ہیں اے بزرگتر ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت نازل کر جو سب کے سب بلند تر نیک نہاد

الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ، وَتَغَمَّدْنا بِعَفْوِکَ عَنَّا، فَ إلَیْکَ عَجَّتِ الْاَصْواتُ بِصُنُوفِ

اور پاک ہیں اور ہمیں معافی دیکر ہماری پردہ پوشی کر کیونکہ تیرے حضور فریادیں ہو رہی ہیں ہر ہر دیس کی

اللُّغاتِ، فَاجْعَلْ لَنَا اَللّٰهُمَّ فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ بَیْنَ عِبادِکَ

زبان میں پس اے اللہ آج کی رات میں ہر نیکی میں سے حصہ قراردے ہمارے لئے جو تو نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کی نور

وَنُورٍ تَهْدِی بِهِ، وَرَحْمَةٍ تَنْشُرُها، وَبَرَکَةٍ تُنْزِلُها، وَعافِیَةٍ تُجَلِّلُها، وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ

میں جس سے ہدایت فرمائی رحمت میں جو عام کی برکت میں جو تو نے نازل کی عافیت کے لباس میں جو تو نے پہنایا رزق میں جو وسیع

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ أَقْلِبْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مُنْجِحِینَ مُفْلِحِینَ مَبْرُورِینَ

کیا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں بدل کر بنا دے کامیاب ہو نے والے فلاح پانے والے پسندیدہ

غانِمِینَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنَ الْقانِطِینَ، وَلاَ تُخْلِنا مِنْ رَحْمَتِکَ ، وَلاَ تَحْرِمْنا مَا

عمل والے اور نفع اٹھانے والے اور ہمیں مایوس ہونے والوں میں قرار نہ دے ہمیں اپنی رحمت سے دور نہ کر ہمیں اس چیز میں سے

نُؤَمِّلُهُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنْ رَحْمَتِکَ مَحْرُومِینَ، وَلاَ لِفَضْلِ مَا نُؤَمِّلُهُ مِنْ

محروم نہ فرما جس کی تیرے فضل میں سے امید کریں اور ہم کو اپنی رحمت سے محروم و خالی قرارنہ دے تیری عطا میں سے جس عنایت

عَطائِکَ قانِطِینَ وَلاَ تَرُدَّنا خائِبِینَ، وَلاَ مِنْ بابِکَ مَطْرُودِینَ، یَا أَجْوَدَ

کی امید کریں اس سے مایوس نہ فرما ہمیں ناکام کرکے نہ پلٹا اور اپنی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے قرار نہ دے اے بہت عطاوالوں

الْاََجْوَدِینَ، وَأَکْرَمَ الْاََکْرَمِینَ، إلَیْکَ أَقْبَلْنا مُوقِنِینَ، وَ لِبَیْتِکَ الْحَرامِ آمِّینَ

میں بڑی عطا والے اور عزت داروں میں بڑی عزت والے ہم تیری درگاہ میں لوٹ کے آئے ہیں معتقد بن کر ہم تیرے محترم گھر

قاصِدِینَ، فَأَعِنَّا عَلَی مَناسِکِنا، وَأَکْمِلْ لَنا حَجَّنا، وَاعْفُ عَنَّا وَعافِنا، فَقَدْ

کعبہ میں پکار کرتے ہوئے آئے ہیں پس اعمال حج میں ہماری مدد فرما اور ہمارا حج مکمل کرادے ہمیں معاف فرما پناہ دے کہ ہم نے

مَدَدْنا إلَیْکَ أَیْدِیَنا فَهِیَ بِذِلَّةِ الاعْتِرافِ مَوْسُومَةٌ اَللّٰهُمَّ فَأَعْطِنا فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ

اپنے ہاتھ تیرے آگے پھیلائے ہیں کہ جن پر گناہوں کے اقرارو اعتراف کے نشان ہیں اے اللہ پس ہمیں آج کی رات میں جو ہم

مَا سَأَلْناکَ، وَاکْفِنا مَا اسْتَکْفَیْناکَ، فَلا کافِیَ لَنا سِواکَ، وَلاَ رَبَّ لَنا غَیْرُکَ، نافِذٌ

نے تجھ سے مانگا عطا فرما تمام کاموں میں ہماری مدد کر کہ تیرے سوا کوئی ہماری کفایت کرنے والا نہیں اور سوائے تیرے کوئی ہمارا

فِینا حُکْمُکَ، مُحِیطٌ بِنا عِلْمُکَ، عَدْلٌ فِینا قَضاؤُکَ، اقْضِ لَنَا الْخَیْرَ، وَاجْعَلْنا مِنْ

رب نہیں کہ تیرا حکم ہی ہم پر جاری ہے تیرا علم ہمیں گھیرے ہوئے ہے ہمارے لئے تیرا فیصلہ درست ہے ہمارے لئے اچھا فیصلہ کر

أَهْلِ الْخَیْرِ اَللّٰهُمَّ أَوْجِبْ لَنا بِجُودِکَ عَظِیمَ الْاَجْرِ، وَکَرِیمَ الذُّخْرِ، وَدَوامَ الْیُسْرِ،

اور ہمیں نیکوکارں میں سے قراردے اے اللہ ہمارے لئے اپنی عطا سے بہت بڑا اجر بہترین ذخیرہ اور ہمیشہ کی آسائش واجب

وَاغْفِرْ لَنا ذُ نُوبَنا أَجْمَعِینَ، وَلاَ تُهْلِکْنا مَعَ الْهالِکِینَ، وَلاَ تَصْرِفْ عَنَّا رَأْفَتَکَ

کردے ہمارے سارے کے سارے گناہ بخش دے اور ہمیں تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ نہ کر اور اپنی مہربانی اور رحمت

وَرَحْمَتَکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مِمَّنْ سَئَلَکَ

ہم سے دور نہ فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں ان لوگوں میںقراردے جنہوں نے تجھ سے مانگا تو

فَأَعْطَیْتَهُ،وَشَکَرَکَ فَزِدْتَهُ، وَثابَ إلَیْکَ فَقَبِلْتَهُ، وَتَنَصَّلَ إلَیْکَ مِنْ ذُ نُوبِهِ کُلِّها

نے عطا کیا جنہوں نے شکر کیا تو نے زیادہ دیا تیری طرف پلٹے تو نے انہیں قبول کیا اپنے گناہوں کے ساتھ تیری طرف آئے

فَغَفَرْتَها لَهُ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ وَنَقِّنا وَسَدِّدْناوَاقْبَلْ تَضَرُّعَنا، یَا خَیْرَ

تو ان کے سبھی گناہ معاف کردیئے اے جلالت و عزت کے مالک اے اللہ ہمیں پاک کر ہماری رہنمائی فرما اور ہماری زاری قبول کر

مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ إغْماضُ الْجُفُونِ، وَلاَ

اے بہترین سوال شدہ اور طلب رحمت پر زیادہ رحمت کرنے والے اے وہ جس پر پوشیدہ نہیں ہے پلک کا جھپکنا نہ

لَحْظُ الْعُیُونِ، وَلاَ مَا اسْتَقَرَّ فِی الْمَکْنُونِ، وَلاَ مَا انْطَوَتْ عَلَیْهِ مُضْمَراتُ الْقُلُوبِ

آنکھوں کا اشارہ نہ وہ چیز جو پردے کے نیچے ہو اور نہ وہ بات جو دلوں کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہو ہاں ان

أَلاَ کُلُّ ذلِکَ قَدْ أَحْصاهُ عِلْمُکَ وَوَسِعَهُ حِلْمُکَ سُبْحانَکَ وَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ

سب کو تیرے علم نے شمار کررکھا ہے اور تیری نرمی ان پر چھائی ہوئی ہے تو پاک تر اور بلند تر ہے اس سے جو ناحق کہنے والے کہتے ہیں

عُلُوّاً کَبِیراً، تُسَبِّحُ لَکَ السَّماواتُ السَّبْعُ وَالْاََرَضُونَ وَمَنْ فِیهِنَّ وَ إنْ مِنْ شَیْئٍ

تو بلندتر بزرگتر ہے تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے نہیں کوئی چیز موجود ہے مگر

إلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالْمَجْدُ وَعُلُوُّ الْجَدِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ،

وہ تیری حمد کررہی ہے پس حمد تیرے لئے ہے اے بزرگی بلند شان اے جلالت و عزت کے مالک فضل

وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ، وَالْاَیادِی الْجِسامِ، وَأَ نْتَ الْجَوادُ الْکَرِیمُ، الرَّؤُوفُ الرَّحِیمُ

کرنے والے نعمت دینے والے بڑی بڑی عطائیں کرنے والے اور تو بخشش کرنے والا کرم کرنے والا نرمی کرنے والا مہربان ہے

اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ، وَعافِنِی فِی بَدَنِی وَدِینِی، وَآمِنْ خَوْفِی،

اے اللہ میرے لئے اپنا رزق حلال وسیع فرما میرے بدن اور میرے دین کی حفاظت فرما مجھے خوف سے بچا اور میری گردن کو جہنم کی

وَأَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَمْکُرْ بِی وَلاَ تَسْتَدْرِجْنِی وَلاَ تَخْدَعْنِی، وَادْرَ

آگ سے آزاد کردے اے اللہ مجھے غلط فہمی میں نہ ڈال دھوکے میں نہ رکھ مجھے فریب نہ کھانے دے اور نابکار

أْعَنِّی شَرَّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ

جنّوں اور انسانوں کو مجھ سے دور کر دے ۔

پھر آپ نے اپنے سر اور انکھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا جبکہ آپ کی انکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ با آواز بلند عرض کر رہے تھے:

یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ وَیَا أَرحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے سب سے تیز ترحساب کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم

صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ السَّادَةِ الْمَیامِینِ وَأَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ حاجَتِیَ الَّتِی إنْ

کرنے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما جو برکت والے سردار ہیں اورمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ اپنی اس حاجت کا

أَعْطَیْتَنِیها لَمْ یَضُرَّنِی مَا مَنَعْتَنِی، وَ إنْ مَنَعْتَنِیها لَمْ یَنْفَعْنِی مَا أَعْطَیْتَنِی، أَسْأَ لُکَ

کہ اگر تو وہ عطا کردے تو جو کچھ تو نے نہیں دیا اس سے مجھے نقصان نہیں اور اگر تو وہ عطا نہ کرے تو جو تونے دیا اس سے مجھے کوئی نفع

فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَکَ الْمُلْکُ

نہیں سوال کرتا ہوں کہ میری گردن جہنم سے آزاد کردے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں تیرے لئے حکومت

وَلَکَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ،

تیرے لئے حمد ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھتا ہے اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب۔

حضرت امام حسین -بار بار یارب یارب کہتے رہے جب کہ آپکے اردگرد کھڑے لوگ آپکی دعا سنتے ہوئے آمین کہتے رہے یہاں تک کہ آپکے ساتھ ساتھ ان سب کی رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ،غروب آفتاب تک یہی حالت رہی پھر سب لوگ مشعر الحرام روانہ ہو گئے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ بلدالامین میں کفعمی نے امام حسین -کی دعائے عرفہ اس قدر نقل کی ہے جو اوپر ذکر ہوئی ہے اور زادالمعاد میں علامہ مجلسی نے بھی کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا یہیں تک ذکر کی ہے ،لیکن ابن طاؤس نے یارب یارب کے بعد یہ اضافی کلمات بھی تحریر فرمائے ہیں۔

إلهِی أَنَا الْفَقِیرُ فِی غِنایَ فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ فَقِیراً فِی فَقْرِی إلهِی أَنَا الْجاهِلُ فِی

میرے اللہ میں اپنی تونگری میں بھی محتاج ہوں تو اپنے فقر کی حالت میں کیوں نہ محتاج ہوں گا میرے اللہ میں علم رکھتے ہوئے

عِلْمِی فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ جَهُولاً فِی جَهْلِی إلهِی إنَّ اخْتِلافَ تَدْبِیرِکَ وَسُرْعَةَ طَوائِ

بھی جاہل ہوں تو اپنی جہالت میں کیوں نہ جاہل ہوں گا اے اللہ بے شک تیری تدبیر کے تغیر و تبدل اور تیری جلد وارد ہونے والی

مَقادِیرِکَ مَنَعا عِبادَکَ الْعارِفِینَ بِکَ عَنِ السُّکُونِ إلی عَطائٍ وَالْیَأْسِ مِنْکَ فِی بَلائٍ

تقدیر نے تیری معرفت رکھنے والے بندوں کو ہے تیری عطا کی امید نہ رکھنے اور مشکل کے وقت تجھ سے مایوس ہو جانے سے روکا ہوا ہے

إلهِی مِنِّی مَا یَلِیقُ بِلُؤْمِی وَمِنْکَ مَا یَلِیقُ بِکَرَمِکَ إلهِی وَصَفْتَ

میرے اللہ میں نے وہ کیا جو میری پستی کا تقاضہ ہے اور تو وہ کرے گا جو تیری بڑائی کے لائق ہے میرے اللہ میری کمزوری سے پہلے

نَفْسَکَ بِاللُّطْفِ وَالرَّأْفَةِ لِی قَبْلَ وُجُودِ ضَعْفِی أَفَتَمْنَعُنِی مِنْهُما بَعْدَ وُجُودِ ضَعْفِی

ہی تیری ذات لطف و کرم کے اوصاف رکھتی ہے تو کیا میری کمزوری کے بعد مجھ سے تو یہ مہربانیاں روک دے گا

إلهِی إنْ ظَهَرَتِ الْمَحاسِنُ مِنِّی فَبِفَضْلِکَ وَلَکَ الْمِنَّةُ عَلَیَّ وَ إنْ ظَهَرَتِ الْمَساوئُ

میرے اللہ اگر مجھ سے نیکیاں ظاہر ہوئیں تو یہ تیرا فضل ہے اور مجھ پر یہ تیرا احسان ہے اور اگر مجھ سے برائیوں کا ظہور ہوا ہے تو یہ تیرا

مِنِّی فَبِعَدْلِکَ وَلَکَ الْحُجَّةُ عَلَیَّ إلهِی کَیْفَ تَکِلُنِی وَقَدْ تَکَفَّلْتَ لِی وَکَیْفَ أُضامُ

عدل ہے اور مجھ پر تیری حجت قائم ہو گئی ہے میرے اللہ کیسے تو مجھ کو چھوڑ دے گا جب کہ تو میرا کفیل ہے کیونکر میں روند دیا جاؤں

وَأَنْتَ النَّاصِرُلِی أَمْ کَیْفَ أَخِیبُ وَأَنْتَ الْحَفِیُّ بِی ها أَنَا أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِفَقْرِی إلَیْکَ

جب کہ تو میرا مددگار ہے یا کیسے بے آس ہوجاؤں جب کہ تو مجھ پر مہربان ہے اب میں تیری درگاہ میں اپنے فقر کے ساتھ آیا ہوں

وَکَیْفَ أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمَا هُوَ مَحالٌ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أَشْکُو إلَیْکَ حالِی

اور کسطرح تجھے اپنا وسیلہ بناؤں جب کہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی تجھ تک پہنچ پائے یا کیونکر تجھ سے اپنے حالات کی شکایت کروں جب کہ

وَهُوَ لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أُتَرْجِمُ بِمَقالِی وَهُوَ مِنْکَ بَرَزٌ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ

وہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں یا کسطرح اپنی زبان سے ان کی تشریح کروں جب کہ وہ تیری طرف سے اور تجھ پر عیاں ہیں یا کیونکر میری

آمالِی وَهِیَ قَدْ وَفَدَتْ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ لاَ تُحْسِنُ أَحْوالِی وَبِکَ

آرزوئیں ناکام رہیں گی جب کہ یہ تیرے جناب میں پیش کی جا چکی ہیں یا کیونکر میرے حالات بہتر نہ ہونگے جب کہ میں تیری وجہ

قامَتْ إلهِی مَا أَلْطَفَکَ بِی مَعَ عَظِیمِ جَهْلِی وَمَا أَرْحَمَکَ بِی مَعَ قَبِیحِ فِعْلِی

سے قائم ہوں میرے اللہ تیرا کتنا لطف ہے مجھ پر جبکہ میں بڑا ہی نادان ہوں اور تو کس قدر مہربان ہے مجھ پر جبکہ میں خطاکار ہوں

إلهِی مَا أَقْرَبَکَ مِنِّی وَأَبْعَدَنِی عَنْکَ وَمَا أَرْأَ فَکَ بِی فَمَا الَّذِی یَحْجُبُنِی عَنْکَ

میرے اللہ تو کتنا نزدیک ہے مجھ سے جبکہ میں تجھ سے بہت دور ہوں اور کتنا مہربان ہے تو مجھ پر پھر کس نے مجھے تجھ سے ہٹا دیا ہے

إلهِی عَلِمْتُ بِاِخْتِلافِ الْآثارِ وَتَنَقُّلاتِ الْآطْوارِ، أَنَّ مُرادَکَ مِنِّی أَنْ تَتَعَرَّفَ إلَیَّ

میرے اللہ دنیا کے حالات کی تبدیلیوں اور طریقوں کے تغیرات کے ذریعے میں جان گیا کہ تیری مراد یہ ہے کہ تو ہر چیز سے مجھے اپنی

فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی لا أَجْهَلَکَ فِی شَیْئٍ إلهِی کُلَّما أَخْرَسَنِی لُؤْمِی أَنْطَقَنِی

شناسائی کرائے تاکہ میں کسی چیز کے ضمن میں تیری قدرت سے ناواقف نہ رہوں میرے اللہ جب میری پستی مجھے گنگ کر دیتی ہے تو

کَرَمُکَ وَکُلَّما آیَسَتْنِی أَوْصافِی أَطْمَعَتْنِی مِنَنُکَ إلهِی

تیرا کرم مجھے گویا کر دیتا ہے جب بھی میرے برے اوصاف مجھے مایوس کرتے ہیں تیرے احسان مجھے حوصلہ دیتے ہیں میرے اللہ

مَنْ کانَتْ مَحاسِنُهُ مَساوِیََ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ مَساویُهُ مَساوِیََ وَمَنْ کانَتْ حَقائِقُهُ

جس شخص کی خوبیاں بھی برائیاں ہوں تو اس کی برائیاں کیوں نہ برائیاں شمار کی جائیں گی اور جس شخص کی حقیقت ہی محض

دَعاوِیَ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ دَعاواهُ دَعاوِیَ إلهِی حُکْمُکَ النَّافِذُ وَمَشِیئَتُکَ الْقاهِرَةُ

کھوکھلی باتیں ہوں تو اس کی خالی خولی باتیں کیوں نہ محض باتیں تصور کی جائیں گی میرے اللہ تیرا حکم جاری ہے اور تیری مرضی قاہر

لَمْ یَتْرُکا لِذِی مَقالٍ مَقالاً، وَلاَ لِذِی حالٍ حالاً إلهِی کَمْ مِنْ طاعَةٍ

و غالب ہے کہ ان کے مقابل بولنے والا بول نہیں سکتا اور نہ کوئی صاحب حال کچھ کرسکتا ہے میرے اللہ کتنی ہی بار میں نے اطاعت

بَنَیْتُها، وَحالَةٍ شَیَّدْتُها هَدَمَ اعْتِمادِی عَلَیْها عَدْلُکَ، بَلْ أَقالَنِی مِنْها

کرتے ہوئے عبادت کی شکل بنائی ہے مگر تیرے عدل کے خوف سے اس پر میرا بھروسہ نہ رہا بلکہ وہ تیرے فضل سے میری بخشش کا

فَضْلُکَ إلهِی إنَّکَ تَعْلَمُ أَ نِّی وَ إنْ لَمْ تَدُمِ الطَّاعَةُ مِنِّی فِعْلاً جَزْماً فَقَدْ دامَتْ

ذریعہ بنی میرے اللہ بے شک تو جانتا ہے اگرچہ میں عبادت میں مستقلاً مشغول نہیں ہوں تو بھی تجھ سے میری محبت

مَحَبَّةً وَعَزْماً إلهِی کَیْفَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْقاهِرُ وَکَیْفَ لاَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْاَمِرُ إلهِی

ہمیشہ راسخ ہے میرے اللہ کس قدر بندگی کا ارادہ کروں جب کہ تو غالب ہے اور کیونکر ارادہ نہ کروں جب کہ تو حکم دیتا ہے میرے اللہ

تَرَدُّدِی فِی الْاَثارِ یُوجِبُ بُعْدَ الْمَزارِ فَاجْمَعْنِی عَلَیْکَ بِخِدْمَةٍ تُوصِلُنِی إلَیْکَ کَیْفَ

تیری قدرت کے آثار میں غور کرنا تیرے دیدار سے دوری کا سبب ہے پس مجھے اپنے حضور حاضر رکھ تیری سرکار میں پہنچ پاؤں کیونکر

یُسْتَدَلُّ عَلَیْکَ بِما هُوَ فِی وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ إلَیْکَ أَیَکُونُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّهُورِ مَا لَیْسَ

وہ چیز تیری طرف رہنمائی کر سکتی ہے جو اپنے وجود ہی میں تیری محتاج ہے آیا تیرے غیر کیلئے ایسا ظہور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے

لَکَ حَتَّی یَکُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَکَ مَتی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ إلی دَلِیلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتی

یہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والا بن جائے تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہو جو تیری دلیل ٹھہرے اور تو کب دور

بَعُدْتَ حَتَّی تَکُونَ الْاَثارُ هِیَ الَّتِی تُوصِلُ إلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْنٌ لاَ تَراکَ عَلَیْها رَقِیباً

تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچانے کا ذریعہ و وسیلہ بنیں اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی اس

وَخَسِرَتْ صَفْقَةُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَهُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیباً إلهِی أَمَرْتَ بِالرُّجُوعِ إلَی

بندے کا سودہ خسارے والا ہے جس کو تو نے اپنی محبت کا حصہ نہیں دیا میرے اللہ تو نے اپنی قدرت کے آثار پر توجہ کا

الْاَثارِ فَأَرْجِعْنِی إلَیْکَ بِکِسْوَةِ الْاََ نْوارِ وَهِدایَةِ الاسْتِبْصارِ حَتَّی أَرْجِعَ إلَیْکَ

حکم کیا پس مجھ کو اپنے نور کے پردوں اور بصیرت کے راستوں کی طرف لے چل تاکہ اس کے ذریعے تیری

مِنْها کَما دَخَلْتُ إلَیْکَ مِنْها مَصُونَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ إلَیْها، وَمَرْفُوعَ الْهِمَّةِ عَنِ

درگاہ میں آؤں جس طرح انہی کے ذریعے تیری طرف راہ پائی انہیں دیکھ کر راز حقیقت کی خبر پاؤں اور ان کے سہارے اپنی ہمت کو

الاعْتِمادِ عَلَیْها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ إلهِی هذَا ذُ لِّی ظاهِرٌ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَهذَا

بلند کروں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے میرے اللہ یہ ہے میری پستی جو تیرے آگے عیاں ہے اور یہ ہے

حالِی لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ مِنْکَ أَطْلُبُ الْوُصُولَ إلَیْکَ، وَبِکَ أَسْتَدِلُّ عَلَیْکَ فَاهْدِنِی

میری بری حالت جو تجھ سے پوشیدہ نہیں میں تیری بارگاہ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور تجھ پر تجھی کو دلیل ٹھہراتا ہوں پس اپنے نور سے میری

بِنُورِکَ إلَیْکَ وَأَقِمْنِی بِصِدْقِ الْعُبُودِیَّةِ بَیْنَ یَدَیْکَ إلهِی عَلِّمْنِی مِنْ عِلْمِکَ الْمَخْزُونِ

اپنی طرف سے رہنمائی کر اور اپنے حضور مجھے سچی بندگی پر قائم رکھ میرے اللہ مجھے اپنے پوشیدہ علوم میں سے تعلیم دے

وَصُنِّی بِسِتْرِکَ الْمَصُونِ إلهِی حَقِّقْنِی بِحَقایِقِ أَهْلِ الْقُرْبِ، وَاسْلُکْ بِی مَسْلَکَ

اور اپنے محکم پردے کے ساتھ میری حفاظت کر میرے اللہ مجھے اپنے اہل قرب کے حقائق سے بہرہ ور فرما اور ان کی راہ پر ڈال جو

أَهْلِ الْجَذْبِ إلهِی أَغْنِنِی بِتَدْبِیرِکَ لِی عَنْ تَدْبِیرِی، وَبِاخْتِیارِکَ عَن إخْتِیارِی،

تیری طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں میرے اللہ اپنے تدبراور پسند کے ذریعے مجھے میرے تدبر اور پسند سے بے نیاز کردے اور

وَأَوْقِفْنِی عَلَی مَراکِزِ اضْطِرارِی إلهِی أَخْرِجْنِی مِنْ ذُلِّ نَفْسِی، وَطَهِّرْنِی مِنْ

پریشانی کے عالم میں مجھے ثابت قدم رکھ میرے معبود مجھے میرے نفس کی پستی سے نکال لے مجھے شک اور

شَکِّی وَشِرْکِی قَبْلَ حُلُولِ رَمْسِی بِکَ أَنْتَصِرُ فَانْصُرْنِی وَعَلَیْکَ أَتَوَکَّلُ فَلاتَکِلْنِی

شرک سے پاک کردے قبل اسکے کہ میں قبر میں جاؤں، تجھ سے مدد چاہتا ہوں میری مدد فرما تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے چھوڑ نہ

وَ إیَّاکَ أَسْئَلُ فَلا تُخَیِّبْنِی، وَفِی فَضْلِکَ أَرْغَبُ فَلا تَحْرِمْنِی، وَبِجَنابِکَ أَ نْتَسِبُ

دے تجھ سے مانگتا ہوں پس ناامید نہ کر تیرے فضل کی آس لگائی ہے پس مجھے محروم نہ کر تیری بارگاہ سے تعلق جوڑا ہے پس مجھے دور نہ

فَلا تُبْعِدْنِی، وَبِبابِکَ أَقِفُ فَلا تَطْرُدْنِی إلهِی تَقَدَّسَ رِضاکَ أَنْ یَکُونَ لَهُ عِلَّةٌ

فرما تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں پس مجھے بھگا نہ دے میرے اللہ تیری رضا پاک ہے ممکن نہیں اس میں تیری طرف سے

مِنْکَ فَکَیْفَ یَکُونُ لَهُ عِلَّةٌ مِنِّی إلهِی أَ نْتَ الْغَنِیُّ بِذاتِکَ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ النَّفْعُ مِنْکَ

نقص آئے پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نقص دار کہوں میرے اللہ تو اپنی ذات میں بے نیاز ہے اس سے کہ تجھے اپنی ذات سے نفع

فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ غَنِیّاً عَنِّی إلهِی إنَّ الْقَضائَ وَالْقَدَرَ یُمَنِّینِی، وَ إنَّ الْهَویٰ بِوَثائِقِ

پہنچے کیوں کر تو مجھ سے بے نیاز نہ ہوگا میرے اللہ قضا وقدر مجھ کو آرزومند بناتی ہے اور خواہش نفس مجھے آرزوؤں کا قیدی

الشَّهْوَةِ أَسَرَنِی فَکُنْ أَنْتَ النَّصِیرَ لِی حَتَّی تَنْصُرَنِی وَتُبَصِّرَنِی وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ

بنا لیتی ہے پس تو میرا مددگار بن جا تاکہ کامیاب ہو جاؤں بینا ہو جاؤں اور اپنے فضل سے مجھ کو بے نیاز کردے

حَتَّی أَسْتَغْنِیَ بِکَ عَنْ طَلَبِی أَنْتَ الَّذِی أَشْرَقْتَ الْاََ نْوارَ فِی قُلُوبِ أَوْلِیائِکَ حَتَّی

تاکہ تیرے ذریعے حاجت سے بے نیاز ہو جاؤں تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں کو نور کی شعاؤں سے روشن کردیا تو

عَرَفُوکَ وَوَحَّدُوکَ ، وَأَ نْتَ الَّذِی أَزَلْتَ الْاََغْیارَ عَنْ قُلُوبِ أَحِبَّائِکَ حَتَّی لَمْ یُحِبُّوا

انہوں نے تجھے پہچانا اور تجھے ایک مانا اور تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں سے غیروں کو دور کردیا تو وہ

سِواکَ وَلَمْ یَلْجَأُوا إلی غَیْرِکَ، أَ نْتَ الْمُؤْ نِسُ لَهُمْ حَیْثُ أَوْحَشَتْهُمُ الْعَوالِمُ

سوائے تیرے کسی سے محبت نہیں رکھتے اور تیرے غیر کی پناہ نہیں لیتے جب زمانہ ان کو ہراساں کرے اس وقت تو ہی انکا ہمدم ہے

وَأَنْتَ الَّذِی هَدَیْتَهُمْ حَیْثُ اسْتَبانَتْ لَهُمُ الْمَعالِمُ، مَاذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذِی

اور تو وہ ہے جس نے ان کی رہنمائی کی جب وہ تیرے نشان و برھان سے دور ہوئے اس نے کیا پایاجس نے تجھے کھویا اور اس نے

فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ لَقَدْ خابَ مَنْ رَضِیَ دُونَکَ بَدَلاً وَلَقَدْ خَسِرَ مَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً

کچھ نہ کھویا جس نے تجھ کو پایا اور یقینا ناکام ہوا جو تیری بجائے کسی اور کو پسند کرنے لگا اور وہ گھاٹے میں پڑا جو سرکشی کیساتھ تجھ سے پھر گیا

کَیْفَ یُرْجیٰ سِواکَ وَأَنْتَ مَا قَطَعْتَ الْاِحْسانَ وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَأَنْتَ مَا

کس طرح تیرے غیر سے امید رکھی جا سکتی ہے جبکہ تیرا احسان و کرم رکتا ہی نہیں اور کیونکر تیرے غیر سے سو،ال کیا جاسکتا ہے جبکہ

بَدَّلْتَ عادَةَ الامْتِنانِ یَا مَنْ أَذاقَ أَحِبَّائَهُ حَلاوَةَ الْمُؤانَسَةِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ

تیرے فضل و احسان کرنے کی عادت میں تبدیلی نہیں آتی اور وہ جو اپنے دوستوںکو الفت کی مٹھاس چکھاتا ہے پس وہ اس کے حضور

مُتَمَلِّقِینَ وَیَا مَنْ أَلْبَسَ أَوْلِیائَهُ مَلابِسَ هَیْبَتِهِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ

تعریفیں کرتے کھڑے ہو جاتے ہیں اے وہ جو اپنے دوستوں کو اپنی ہیبت کا لباس پہناتا ہے تو وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں

مُسْتَغْفِرِینَ، أَ نْتَ الذَّاکِرُ قَبْلَ الذَّاکِرِینَ، وَأَ نْتَ الْبادئُ بِالاحْسانِ قَبْلَ تَوَجُّهِ

بخشش مانگتے ہوئے تو یاد کرنے والوں سے پہلے انکو یاد رکھنے والا ہے تو احسان میں ابتدا کرنے والا ہیعبادت گزاروں کے توجہ کرنے

الْعابِدِینَ، وَأَنْتَ الْجَوادُ بِالْعَطائِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِینَ، وَأَ نْتَ الْوَهَّابُ ثُمَّ لِما

سے پہلے تو عطا میں اضافہ کرنے والا ہے مانگنے والوں کے مانگنے سے پہلے تو بہت دینے والا ہے پھر اس میں سے بطور قرض مانگتا

وَهَبْتَ لَنا مِنَ الْمُسْتَقْرِضِینَ إلهِی اطْلُبْنِی بِرَحْمَتِکَ حَتَّی أَصِلَ إلَیْکَ وَاجْذِبْنِی

ہے جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے میرے اللہ اپنی رحمت سے مجھ کو بلا لے تاکہ میں تیرے حضور پہنچ سکوں مجھے اپنی طرف کھینچ لے

بِمَنِّکَ حَتَّی أُقْبِلَ عَلَیْکَ إلهِی إنَّ رَجائِی لاَ یَنْقَطِعُ عَنْکَ وَ إنْ عَصَیْتُکَ، کَما أَنَّ

تاکہ تیری بارگاہ میں آسکوں میرے اللہ بے شک میری آس تجھ سے نہیں ٹوٹے گی اگرچہ میں تیری نافرمانی کروں جیسا کہ میرا

خَوفِی لاَ یُزایِلُنِی وَ إنْ أَطَعْتُکَ، فَقَدْ دَفَعَتْنِی الْعَوالِمُ إلَیْکَ، وَقَدْ أَوْقَعَنِی عِلْمِی

خوف دور نہ ہوگا اگرچہ میں تیری اطاعت بھی کروں پس زمانے کی سختیوں نے مجھ کو تیری طرف دھکیل دیا اور تیری نوازش کے علم نے

بِکَرَمِکَ عَلَیْکَ إلهِی کَیْفَ أَخِیبُ وَأَ نْتَ أَمَلِی أَمْ کَیْفَ أُهانُ وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی

تیری بارگاہ میں پہنچا دیا میرے اللہ کیونکر ناامید ہو جاؤں جب کہ تو میری آرزو ہے یا کیسے پست ہوں گا جب کہ میرا بھروسہ تجھ پر ہے

إلهِی کَیْفَ أَسْتَعِزُّ وَفِی الذِّلَّةِ أَرْکَزْتَنِی أَمْ کَیْفَ لاَ أَسْتَعِزُّ وَ إلَیْکَ نَسَبْتَنِی

میرے اللہ کیسے عزت کا دعوی کروں جب کہ اس خواری میں تو نے مجھے یاد کیا یا کیسے عزت کا دعوا کروںمیری نسبت تیری طرف ہے

إلهِی کَیْفَ لاَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی فِی الْفُقَرائِ أَقَمْتَنِی أَمْ کَیْفَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی بِجُودِکَ

میرے اللہ کیونکر فقیر نہ بنوں جب کہ تو نے مجھے فقیروں کی صف میں رکھا ہے یا کسیے میں فقیر بنوں جب کہ تو نے مجھ کو اپنی عطا سے غنی

أَغْنَیْتَنِی وَأَنْتَ الَّذِی لاَ إلهَ غَیْرُکَ تَعَرَّفْتَ لِکُلِّ شَیْئٍ فَما جَهِلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ

کیا ہوا ہے اور تو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہر چیز کو اپنی پہچان کرائی پس کوئی چیز نہیں جو تجھے پہچانتی نہ ہو اور تو وہ ہے

الَّذِی تَعَرَّفْتَ إلَیَّ فِی کُلِّ شَیْئٍ فَرَأَیْتُکَ ظاهِراً فِی کُلِّ شَیْئٍ، وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ لِکُلِّ

جس نے ہر چیز کے ذریعے مجھے اپنی معرفت کرائی پس میں نے تجھے ہر چیز میں عیاں و نمایاں دیکھا اور تو ہر چیز پر ظاہر و آشکار

شَیْئٍ یَا مَنِ اسْتَویٰ بِرَحْمانِیَّتِهِ فَصارَ الْعَرْشُ غَیْباً فِی ذاتِهِ مَحَقْتَ الْآثارَ بِالْآثارِ

ہے اے وہ جو اپنی رحمت عامہ کیساتھ قائم ہے کہ عرش اس کی ذات میں نہاں ہو گیا ہے تو نے اپنی نشانیوں سے دیگر نشانیوں کو مٹا دیا

وَمَحَوْتَ الْأَغْیارَ بِمُحِیطاتِ أَ فْلاکِ الْاََ نْوارِ، یَا مَنِ احْتَجَبَ فِی سُرادِقاتِ عَرْشِهِ

تو نے اپنے غیروں کو نورانی آسمانوں کے حلقوں میں نابود کردیا اے وہ جو اپنے عرش کی چلمنوں میں پنہاں ہو گیا

عَنْ أَنْ تُدْرِکَهُ الْاََ بْصارُ، یَا مَنْ تَجَلَّیٰ بِکَمالِ بَهائِهِ فَتَحَقَّقَتْ عَظَمَتُهُ مِنَ الاسْتِوائَ

دیکھتی آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتیں اے وہ جس نے اپنے نورکامل کا جلوہ دکھایا تو اس کی عظمت قائم و برقرار

کَیْفَ تَخْفیٰ وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ أَمْ کَیْفَ تَغِیبُ وَأَ نْتَ الرَّقِیبُ الْحاضِرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ

ہو گئی کیونکر پوشیدہ ہے تو جب کہ آشکار ہے یا کیسے تو پنہاں ہے جبکہ تو نگہبان اور حاضر ہے بے شک تو ہر چیز پر

شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ

قدرت رکھتا ہے اور اللہ کیلئے حمد ہے جو یکتا ہے ۔

بہرحال جس کو خدا توفیق عطا فرما ئے اور وہ آج کے دن عرفات میں موجود ہو تو اس کیلئے آج کے دن کے بہت سے اعمال اور دعائیں ہیں ۔لیکن آج کے دن کی اہم ترین دعا ۔دعائے عرفہ ہے ۔دعا و مناجات کے لحاظ سے آج کا دن پورے سال کے دنوں میں ایک خاص امتیاز رکھتا ہے ۔پس اس روز اپنے زندہ و مردہ مومن بھائیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے ۔

عبد اللہ بن جندب کی حالت کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ وہ عرفات میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔ ان کی حالت کیا ہوتی تھی اور وہ اپنے مومن بھائیوں کے لئے کس طرح دعا کرتے تھے ۔نیز زید نرسی کی روایت میں ہے کہ ثقئہ جلیل معاویہ ابن وہب عرفات میں کس طرح کھڑے ہوتے اور کیسے اپنے ایک ایک مومن بھائی کے لئے دعا کرتے تھے ۔

علاوہ ازیں آج کے دن کی عظمت کے بارے میں انہوں نے امام جعفر صادق -سے بھی روایت کی ہے کہ اس روز دعا کرنا ایک بہترین اور پسندیدہ عمل ہے پس امید واثق ہے کہ برادران دینی اور بزرگواروں کی پیروی کرتے ہوئے اس روز اپنے مومن بھائیوں کیلئے دعا کرینگے اور مجھ گناہ گار کو میری زندگی اور موت ہر حال میں اپنی روز عرفہ کی دعا میں فراموش نہیں کرینگے ۔

آج کے دن تیسری زیارت جامع پڑھے ،جو گیارہویں فصل میں ہے اور اس دن کے آخری حصے میں یہ دعا پڑھے :

یَا رَبِّ إنَّ ذُ نُوبِی لاَ تَضُرُّکَ، وَ إنَّ مَغْفِرَتَکَ لِی لاَ تَنْقُصُکَ، فَأَعْطِنِیمَا لاَ

اے پروردگاربے شک میرے گناہ تجھے نقصان نہیں دیتے اور یقینا مجھ کو بخش دینے سے تیری عطا میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی پس مجھے

یَنْقُصُکَ، وَاغْفِرْ لِی مَا لاَ یَضُرُّکَپھر یہ بھی پڑھے : اَللّٰهُمَّ لاَ تَحْرِمْنِی خَیْرَ مَا

عطا کر کہ اس سے تجھے کمی نہیں آتی اور مجھے بخش دے کہ اس میں تیرا نقصان نہیں اے اللہ ! مجھے اپنی بھلائی سے محروم نہ کر

عِنْدَکَ لِشَرِّ مَا عِنْدِی، فَ إنْ أَ نْتَ لَمْ تَرْحَمْنِی بِتَعَبِی وَنَصَبِی فَلا تَحْرِمْنِی أَجْرَ

اس برائی کی وجہ سے جو میں نے کی پس اگر تو نے اس رنج اور تکلیف میںمجھ پر رحم نہیں کیا تو مجھے اس شخص جیسے اجر سے محروم نہ فرما

الْمُصابِ عَلَی مُصِیبَتِهِ

جس نے سختی پر سختی جھیلی ہو ۔

مؤلف کہتے ہیں کہ روز عرفہ کی دعاؤں کے سلسلے میں سید ابن طاؤس نے غروب آفتاب کے وقت پڑھنے کے لئے اس دعا کا ذکر فرمایا ہے :

بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَ سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِیه دعا وہی دعا عشرات ہے جو قبل از یں چھٹی فصل میں ذکر ہو چکی ہے پس یہ دعا جو ہر صبح شام پڑھی جاتی ہے اس کو آخر روز عرفہ میں پڑھنا ترک نہ کرے ۔یہ دہ گانہ اذکار جن کو شیخ کفعمیرحمه‌الله نے نقل کیا ہے وہی اذکار ہیں جو سید نے بھی تحریر فرمائے ہیں ۔


27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88