مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)3%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205931 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

چوتھی زیارت

مستدرک میں مزار قدیم سے نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے مولا امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ فرمایا میں اپنے والد بزرگوارکیساتھ اپنے دادا امیرالمومنین- کی زیارت قبر کیلئے نجف اشرف گیا وہاں میرے والد قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر روئے اور یوں گویا ہوئے :

اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ وَخَلِیلِ النُّبُوَّةِ وَالْمَخْصُوصِ بِالْاَُخُوَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو ائمہعليه‌السلام کے پدر بزرگوار پر نبوت کے خلیل اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے برادر خاص پر سلام ہو اسلام

یَعْسُوبِ الْأِیْمَانِ وَمِیزانِ الْأَعْمالِ وَسَیْفِ ذِی الْجَلالِ ، اَلسَّلَامُ عَلَی صالِحِ

و ایمان کے سردار اعمال کے معیار و میزان اور صاحب جلال خدا کی تلوار پر سلام ہو سب سے بہترین

الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ الْحاکِمِ فِی یَوْمِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَی شَجَرَةِ التَّقْویٰ

مومن پر جونبیوں کے علوم کے وارث اور روز جزا میں حکم کرنے والے ہیں سلام ہو ان پر جو شجر تقویٰ ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ ﷲ الْبالِغَةِ وَ نِعْمَتِهِ السَّابِغَةِ وَ نِقْمَتِهِ الدَّامِغَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو خدا کی کامل ترین حجت پر جو اس کی نعمت واسعہ اور اس کی طرف سے سزا دینے والے ہیں سلام ہو ان پر جو

الصِّراطِ الْواضِحِ وَالنَّجْمِ اللاَّئِحِ وَالْاِمامِ النَّاصِحِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُاسکے بعد یه فرمایا :

خدا کا واضح راستہ چمکتا ہوا ستارہ اور نصیحت کرنے والے امام ہیں ان پر رحمت ہو خدا کی اور برکتیں ہوں

أَنْتَ وَسِیلَتِی إلَی ﷲ وَذَرِیعَتِی وَلِی حَقُّ مُوالاتِی وَتَأْمِیلِی، فَکُنْ

آپ خدا کے حضور میرا وسیلہ اور میرا ذریعہ ہیں اور میرے لئے دوستی اور امید واری کا حق ہیں پس خدا عزوجل

شَفِیعِی إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی الْوُقُوفِ عَلَی قَضائِ حاجَتِی وَهِیَ فَکٰاکُ رَقَبَتِی مِنَ

کے ہاں میرے سفارشی بنئے میری حاجت برآری کے لئے اور وہ میری گردن کی آگ سے

النَّارِ، وَاصْرِفْنِی فِی مَوْقِفِی هذَا بِالنُّجْحِ وَبِمَا سَأَلْتُهُ کُلَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ اَللّٰهُمَّ

خلاصی ہے اس جگہ سے مجھے کامیاب کرا کے لوٹائیے اور وہ سب کچھ دلوایئے جو بواسطہ اسکی رحمت و قدرت کے مانگا ہے اے معبود!

ارْزُقْنِی عَقْلاً کامِلاً، وَلُبّاً راجِحاً، وَقَلْباً زَکِیّاً، وَعَمَلاً کَثِیراً، وَأَدَباً بارِعاً، وَاجْعَلْ

مجھے عطا فرما عقل کامل بہترین دماغپاکیزہ قلب کثرت عمل اور بلند تر اخلاق اور یہ سب نعمتیں

ذلِکَ کُلَّهُ لِی، وَلاَ تَجْعَلْهُ عَلَیَّ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

میرے لئے مفیدقرار دے اور ان کو بواسطہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

پانچویں زیارت

شیخ کلینی نے امام علی نقی - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت امیرالمومنین- کی ضریح مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھا کرو :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ ﷲ، أَنْتَ أَوَّلُ مَظْلُومٍ، وَأَوَّلُ مَنْ غُصِبَ حَقُّهُ، صَبَرْتَ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی کہ آپ پہلے مظلوم ہیں اور پہلے مومن ہیں جن کا حق چھینا گیا اس پر آپ نے صبر کیا

وَاحْتَسَبْتَ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَأَشْهَدُ أَنَّکَ لَقِیتَ ﷲ وَأَنْتَ شَهِیدٌ، عَذَّبَ ﷲ

اور حوصلے سے کام لیا یہاں تک کہ آپ کی شہادت ہو گئی میں گواہ ہوں کہ آپ خدا سے جا ملے ہیںاور آپ وہ شہید ہیںکہ جس کے

قاتِلَکَ بِأَ نْواعِ الْعَذابِ وَجَدَّدَ عَلَیْهِ الْعَذابَ، جِئْتُکَ عارِفاً بِحَقِّکَ، مُسْتَبْصِراً

قاتل کو خدا نے طرح طرح کے عذاب دیئے اور وہ اسے ایک پر دوسراعذاب دیا ہے میں حاضر ہوں آپ کے حق کو پہنچانتے ہوئے

بِشَأْنِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ وَمَنْ ظَلَمَکَ، أَ لْقیٰ عَلَی ذلِکَ

آپ کے مرتبے کو جانتے ہوئے میں آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا دشمن ہوں انشائ اللہ میں اسی

رَبِّی إنْ شَائَ ﷲ، یَا وَ لِیَّ ﷲ، إنَّ لِی ذُ نُوباً کَثِیرَةً فَاشْفَعْ لِی إلی رَبِّکَ فَ إنَّ لَکَ

عقیدے پر اپنے رب کے حضور جاؤں گا اے ولی خدا بے شک میرے گناہ بہت زیادہ ہیں پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش

عِنْدَ ﷲ مَقَاماً مَعْلُوماً، وَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ جَاهاً وَشَفاعَةً وَقَدْ قالَ ﷲ

کریں بے شک آپ خدا کے جناب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں خدا کے ہاں آپکی بڑی عزت اور شفاعت کا حق ہے اور یقینا اللہ

تَعالی وَلاَ یَشْفَعُونَ إلاَّ لِمَنِ ارْتَضی

تعالی نے فرمایا ہے اور شفاعت نہیں کریں گے مگر وہ جس سے خدا راضی ہو۔

چھٹی زیارت

یہ وہ زیارت ہے جسے علمائ کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ ان میں ایک شیخ محمد بن مشہدی ہیں جنہوں نے فرمایا محمد بن خالد طیالسی نے سیف بن عمیرہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں صفوان جمال اور دیگر مومن بھائیوں کیساتھ نجف اشرف کیطرف گیا اور ہم سب نے قبر امیرالمومنین- کی زیارت کا شرف حاصل کیا جب زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے روضہ امام حسین- کیطرف رخ کیا اور کہا زیارت کرتا ہوں امام حسین- کی اس مقام پر حضرت امیرالمومنین- کے سرہانے کی طرف پھر صفوان نے بیان کیا کہ ہم لوگ امام جعفر صادق - کے ہمراہ یہاں آئے تو حضرت نے اس طر ح زیارت پڑھی نماز ادا کی اور دعا مانگی جیسا کہ میں اس وقت عمل کر رہا ہوں حضرت نے فرمایا اے صفوان اس زیارت کو یا د کر لو اور اس دعا کو پڑھوپس ہمیشہ اس طرح امیرالمومنین- اور امام حسین- کی زیارت کرتے رہوجو شخص ان دونوں بزرگواروں کی اس طرح زیارت کرے اور یہ دعا پڑھے چاہے نزدیک ہو یا دور تو میں خدا کی طرف سے ضامن ہوں کہ اس شخص کی زیارت قبول ہو گی اور اس عمل کی جزا ملے گی اس کا سلام حضرت تک پہنچے گا اور اس کی حاجات پوری ہوں گی ۔خواہ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی مؤلف کہتے ہیں: اس روایت کا تتمہ اس عمل کی فضیلت کے سلسلے میں دعا صفوان و زیارت روز عاشور کے بعد آئے گا انشائ اللہ حضرت امیرالمؤمنین- کی وہ زیارت یہ ہے کہ قبر کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوکر کہے :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ پر سلام ہو اے خدا کے منتخب بندے سلام ہو آپ پر اے وحی خدا کے

ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی مَنِ اصْطَفاهُ ﷲ وَاخْتَصَّهُ وَاخْتارَهُ مِنْ بَرِیَّتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

امین سلام ہو اس پر جس کو خدا نے منتخب کیا اپنا خاص بنایا اور اپنی مخلوق میں سے پسند کیا آپ پر سلام ہو

یَا خَلِیلَ ﷲ مَا دَجَیٰ اللَّیْلُ وَغَسَقَ، وَأَضائَ النَّهارُ وَأَشْرَقَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مَا

اے خدا کے خلیل جب تک رات کی تاریکی پھیلے اور دن روشن اور چمکتا رہے آپ پر سلام ہوجب تک

صَمَتَ صامِتٌ، وَنَطَقَ نَاطِقٌ، وَذَرَّ شارِقٌ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی

خاموش رہنے والا خاموش اور بولنے والا بولتا رہے اور سورج چمکتا رہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں سلام ہو اے ہمارے مولا

مَوْلانا أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ صَاحِبِ السَّوابِقِ وَالْمَناقِبِ وَالنَّجْدَةِ

مومنوں کے امیر جناب علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام پر جو مالک ہیں فضیلتوں خوبیوں اور کامرانیوں کے اور بڑے بڑے

وَمُبِیدِ الْکَتَائِبِ الشَّدِیدِ الْبَأْسِ الْعَظِیمِ الْمِرَاسِ الْمَکِینِ الْاََسَاسِ سَاقِی الْمُؤْمِنِینَ

لشکروں کو ہزیمت دینے والے سخت جنگ کرنے والے بڑی یورش کرنے والے ڈٹ کر لڑنے والے حوض رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مؤمنوں

بِالْکَأْسِ مِنْ حَوْضِ الرَّسُولِ الْمَکِینِ الْاََمِینِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ النُّهیٰ

کو بھر بھر کر جام پلانے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں سلام ہو ان پر کہ وہ عقل و خرد والے

وَالْفَضْلِ وَالطَّوائِلِ وَالْمَکْرُماتِ وَالنَّوائِلِ اَلسَّلَامُ عَلَی فارِسِ الْمُؤْمِنِینَ، وَلَیْثِ

فضیلت والے سخاوتیں کرنے والے عزتوں والے اور عطاؤں والے ہیں سلام ہو مومنوں کے شہسواروں توحید پرستوں کے

الْمُوَحِّدِینَ وَقاتِلِ الْمُشْرِکِینَ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

شیر مشرکوں کو قتل کرنے والے اور رب العالمین کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی پر سلام ہو خدا کی رحمت اور برکتیں

اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ أَیَّدَهُ ﷲ بِجَبْرائِیلَ، وَأَعانَهُ بِمِیکائِیلَ، وَأَزْلَفَهُ فِی الدَّارَیْنِ،

سلام ہو اس پر جسے خدا نے جبرائیلعليه‌السلام کے ذریعے قوت دی میکائیلعليه‌السلام کے ذریعے مدد عطا کی دوجہان میں اپنا مقرب بنایا

وَحَباهُ بِکُلِّ مَا تَقِرُّ بِهِ الْعَیْنُ وَصَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ الطَّاهِرِینَ وَعَلَی أَوْلادِهِ

اور ہر نعمت دی جس سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی پاک آلعليه‌السلام پر ان کی پسندیدۂ خدا

الْمُنْتَجَبِینَ، وَعَلَی آلاَءِمَّةِ الرَّاشِدِینَ الَّذِینَ أَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ

اولاد پر اور سلام ان ہدایت یافتہ ائمہعليه‌السلام پر جنہوں نے اچھے کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے روکا

وَفَرَضُوا عَلَیْنا الصَّلَٰواتِ، وَأَمَرُوا بِ إیتائِ الزَّکاةِ، وَعَرَّفُونا صِیامَ شَهْرِ رَمَضانَ

اور جنہوں نے ہم کو فرض نمازوں کی تعلیم دی زکوٰۃ دینے کا حکم فرمایا اور ہمیں ماہ رمضان کے روزوں

وَقِرائَةَ الْقُرْآنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَعْسُوبَ الدِّینِ، وَقائِدَ الْغُرِّ

اور تلاوت قرآن کی معرفت کرائی آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیر دین کے سردار اور چمکتے چہروں والوں کے

الْمُحَجَّلِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ ﷲ النَّاظِرَةَ، وَیَدَهُ

پیشوا آپ پر سلام ہو اے معرفت خدا کے دروازے آپ پر سلام ہو اے خدا کی چشم بینا اس کے کھلے ہوئے

الْباسِطَةَ، وَأُذُ نَهُ الْواعِیَةَ ، وَحِکْمَتَهُ الْبَالِغَةَ، وَ نِعْمَتَهُ السَّابِغَةَ، وَ نِقْمَتَهُ الدَّامِغَةَ

ہاتھ اور اس کے گوش شنوا اس کی کامل حکمت کے مظہر اس کی نعمت واسعہ اور اس کے عذاب شدید

اَلسَّلَامُ عَلَی قَسِیمِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَی نِعْمَةِ ﷲ عَلَی الْاََ بْرارِ، وَ نِقْمَتِهِ

سلام ہو جنت و جہنم تقسیم کرنے والے پر سلام اس پر جو نیکوکاروں کیلئے خدا کی نعمت اور بدکاروں کیلئے

عَلَی الْفُجَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْمُتَّقِینَ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَخِی رَسُولِ ﷲ

اس کی سختی ہے سلام ہو نیک پرہیز گار لوگوں کے سردار پر سلام ہو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے بھائی اور

وَابْنِ عَمِّهِ، وَزَوْجِ ابْنَتِهِ، وَالْمَخْلُوقِ مِنْ طِینَتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََصْلِ الْقَدِیمِ،

ان کے چچازاد پر جو ان کی بیٹی کے شوہر اور ان کی طینت سے پیدا ہونے والے ہیں سلام ہو اس اصل امامت اور نبوت کی

وَالْفَرْعِ الْکَرِیمِ اَلسَّلَامُ عَلَی الثَّمَرِ الْجَنِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْحَسَنِ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ

سبز شاخ پر سلام ہو اس میوہ کامل پر سلام ہو ابو الحسن علی المرتضیعليه‌السلام پر سلام ہو

عَلَی شَجَرَةِ طُوبَیٰ ، وَسِدْرَةِ الْمُنْتَهیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ، وَنُوحٍ نَبِیِّ

اس درخت طوبی اور سدرۃ المنتھی پر سلام ہو آدمعليه‌السلام پر جو خدا کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو نوح نبی

ﷲ، وَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ، وَمُوسی کَلِیمِ ﷲ، وَعِیسی رُوحِ ﷲ، وَمُحَمَّدٍ حَبِیبِ

ﷲ پر سلام ہو ابراہیمعليه‌السلام خلیل خدا پر سلام ہو موسی کلیم خدا پر سلام ہو عیسی روح خدا پر سلام ہو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حبیب

ﷲ، وَمَنْ بَیْنَهُمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولئِکَ

خدا پر اور ان کے درمیان نبیوں صدیقوں شہیدوں اور نیک لوگوں پر کہ یہ سب بہت اچھے

رَفِیقاً اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ الْاََ نْوارِ، وَسَلِیلِ الْاََطْهارِ، وَعَناصِرِ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ

رفیق ہیں سلام ہو روشنیوں کی روشنی پاک بزرگوں کے فرزند اور پاکیزہ اولاد کے بزرگوار پر سلام ہو

عَلَی والِدِ آلاَءِمَّةِ الْاََبْرارِ اَلسَّلَامُ عَلَی حَبْلِ ﷲ الْمَتِینِ، وَجَنْبِهِ الْمَکِینِ وَرَحْمَةُ

نیک آئمہعليه‌السلام کے باپ پر سلام ہو خدا کی مضبوط رسی اور اس کے توانا طرف دار پر خدا کی رحمت ہو

ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِینِ ﷲ فِی أَرْضِهِ، وَخَلِیفَتِهِ وَالْحاکِمِ بِأَمْرِهِ وَالْقَیِّمِ

اور برکتیں ہوں سلام ہو خدا کی زمین پر اس کے امانت دار اور خلیفہ و نائب پر جو اس کے حکم سے حکم کرنے والے

بِدِینِهِ، وَالنَّاطِقِ بِحِکْمَتِهِ، وَالْعامِلِ بِکِتابِهِ، أَخِی الرَّسُولِ، وَزَوْجِ الْبَتُولِ وَسَیْفِ

اسکے دین کو محکم کرنے والے اسکی حکمتوں کو بیان کرنے والے اسکی کتاب پر عمل کرنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے برادر بتول کے شوہر اور خدا

ﷲ الْمَسْلُولِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الدَّلالاتِ، وَالْاَیاتِ الْباهِراتِ، وَالْمُعْجِزاتِ

کی تیز تر تلوار ہیں سلام ہو مولی علی المرتضیعليه‌السلام پرجو حق کے دلائل رکھنے والے روشن آیتوں کے جاننے والے غالبتر

الْقاهِراتِ وَالْمُنْجِی مِنَ الْهَلَکاتِ، الَّذِی ذَکَرَهُ ﷲ فِی مُحْکَمِ الْاَیاتِ، فَقالَ تَعالی

معجزوں کے حامل اور مصیبتوں سے چھڑانے والے ہیں جن کا ذکر خدا نے اپنی محکم آیتوں میں کیا ہے پس خدا تعالیٰ

وَ إنَّهُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ اَلسَّلَامُ عَلَی اسْمِ ﷲ الرَّضِیِّ، وَوَجْهِهِ

نے فرمایا کہ بے شک وہ بزرگ تر کتاب میں ہمارے نزدیک بلند اہل دانش ہے سلام ہو علیعليه‌السلام پر جو خدا کا پسندیدہ نام ہے اس کا روشن

الْمُضِیئِ وَجَنْبِهِ الْعَلِیِّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَجِ ﷲ وَأَوْصِیَائِهِ

نشان ہے اس کی بلند شان ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوںسلام ہو ان کے اوصیائ پر جو خدا کی حجتیں ہیں

وَخَاصَّةِ ﷲ وَأَصْفِیَائِهِ، وَخالِصَتِهِ وَأُمَنَائِهِ، وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ

خدا کے مقرب خاص ہیں اس کے چنے ہوئیاس کے خاص بندے اور امانت دار ہیں خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں ہوں

قَصَدْتُکَ یَا مَوْلایَ یَا أَمِینَ ﷲ وَحُجَّتَهُ زَائِراً عَارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً

اے میرے مولا میں حاضر ہوا ہوں اے خدا کے امانت دار اور اس کی حجت آپ کے حق کوپہچانتے ہوئے زیارت کو آیا آپ کے

لاََِوْ لِیَائِکَ مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ بِزِیَارَتِکَ، فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ

دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوںکا دشمن ہوں آپ کی زیارت سے خدا کاتقرب چاہتا ہوں پس خدا کے ہاں میری سفارش کریں

ﷲ رَبِّی وَرَبِّکَ فِی خَلاصِ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَقَضَائِ حَوَائِجِی حَوَائِجِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ

جو میرا اور آپ کا رب ہے یہ کہ میری گردن آگ سے آزاد ہو اور میری حاجتیں پوری ہوں جو بھی دنیا وآخرت کی حاجتیں ہیں۔

پھر خود کو قبر مبارک سے چپکائے اور اس پر بوسہ دے اور کہے:

سَلامُ ﷲ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ وَالْمُسَلَّمِینَ لَکَ بِقُلُوبِهِمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ

سلام ہو خدا کا سلام ہو مقرب فرشتوں کا اور سلام ہو اے مؤمنوں کے امیرعليه‌السلام ان کا جو آپ کو دل و جان سے مانتے ہیں

وَالنَّاطِقِینَ بِفَضْلِکَ وَالشَّاهِدِینَ عَلَی أَنَّکَ صَادِقٌ أَمِینٌ صِدِّیقٌ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ

اور آپکے فضائل بیان کرتے ہیں اور اس پر گواہ ہیں کہ بے شک آپ سچے اور امانت دار اور صدیق ہیں آپ پر سلام خدا کی رحمت

وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ طُهْرٌ طاهِرٌ مُطَهَّرٌ مِنْ طُهْرٍ طاهِرٍ مُطَهَّرٍ، أَشْهَدُ لَکَ یَا وَلِیَّ

اور برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ پاک پاکیزہ اور مطہر ہیں پاک پاکیزہ پاک نسل سے ہیں اے خدا کے ولیعليه‌السلام اور اس کے

ﷲ وَوَلِیَّ رَسُو لِهِ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ جَنْبُ ﷲ وَبابُهُ، وَأَنَّکَ حَبِیبُ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ولیعليه‌السلام میں گواہی دیتا ہوں آپ نے تبلیغ کیاور فرض ادا کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ طرفدار خدا ور باب خدا ہیں بے

ﷲ وَوَجْهُهُ الَّذِی یُؤْتیٰ مِنْهُ وَأَنَّکَ سَبِیلُ ﷲ وَأَنَّکَ

شک آپ خدا کے دوست اور مظہر ہیں جو اس کی طرف سے بھیجے گئے اور یہ کہ آپ خدا تک جانے کا راستہ ہیں نیز آپ خدا کے

عَبْدُ ﷲ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ

بندے اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی ہیں خدا رحمت کر ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر میں خدا کا تقرب حاصل کرنے کی خاطر آپ کی زیارت

بِزِیَارَتِکَ راغِباً إلَیْکَ فِی الشَّفاعَةِ أَبْتَغِی بِشَفاعَتِکَ خَلاصَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ،

کو آیا ہوں آپ سے شفاعت کا طلب گار ہوں آپ کی شفاعت کے ذریعے جہنم سے اپنی گلو خلاصی چاہتا ہوں جہنم کی آگ سے

مُتَعَوِّذاً بِکَ مِنَ النَّارِ، هارِباً مِنْ ذُ نُوبِیَ الَّتِی احْتَطَبْتُها عَلَی ظَهْرِی فَزِعاً إلَیْکَ

آپ کی پناہ لیتا ہوں میں اپنے گناہوں سے بھاگ کر آیا جو میری کمر توڑ رہے ہیں آپ کے حضور پہنچا اپنے رب کی

رَجائَ رَحْمَةِ رَبِّی، أَ تَیْتُکَ أَسْتَشْفِعُ بِکَ یَا مَوْلایَ وَأَتَقَرَّبُ بِکَ إلَی ﷲ لِیَقْضِیَ

رحمت کا امیدوار آپ کے پاس آیا ہوں میرے مولا آپ کی شفاعت اور تقرب چاہتا ہوں اور خدا کے حضور کہ وہ آپ کے ذریعے

بِکَ حَوَائِجِی فَاشْفَعْ لِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إلَی ﷲ فَ إنِّی عَبْدُ ﷲ وَمَوْلاکَ

میری حاجتیں پوری کرے پس اے امیرالمؤمنینعليه‌السلام خدا کے ہاں میرے سفارشی بنیں کہ میں اللہ کا بندہ اور آپ کا غلام

وَزائِرُکَ وَلَکَ عِنْدَ ﷲ الْمَقامُ الْمَحْمُودُ وَالْجَاهُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَةُ

و زائر ہوں اور آپ کو خدا کے ہاں بلند ترمقام بہت بڑی عزت بہت اونچی شان اور قبول شفاعت کا

الْمَقْبُولَةُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِکَ

درجہ حاصل ہے اے معبود! رحمت نازل کر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور رحمت فرما مؤمنوں کے امیرعليه‌السلام پرجو تیرے

الْمُرْتَضیٰ، وَأَمِینِکَ الْاَوْفیٰ، وَعُرْوَتِکَ الْوُثْقیٰ، وَیَدِکَ الْعُلْیا، وَجَنْبِکَ الْاََعْلیٰ

پسندیدہ بندے تیرے پکے امانتدار تیری مضبوط رسی تیرا دست بلند تیرے بہت بڑے طرفدار تیرے خوب تر

وَکَلِمَتِکَ الْحُسْنیٰ، وَحُجَّتِکَ عَلَی الْوَریٰ، وَصِدِّیقِکَ الْاَکْبَرِ، وَسَیِّدِ الْاََوْصِیائِ،

کلمہ مخلوق پر تیری حجت تیرے صدیق اکبر اوصیائ کے سید و سردار

وَرُکْنِ الْاََوْ لِیائِ، وَعِمادِ الْاََصْفِیائِ، أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَیَعْسُوبِ الدِّینِ، وَقُدْوَةِ

اولیائ کے ستون پاک باطنوں کے سہارے مؤمنوں کے امیر دین کے سردار نیکوکاروں کے

الصَّالِحِینَ وَ إمامِ الْمُخْلِصِینَ، الْمَعْصُومِ مِنَ الْخَلَلِ، الْمُهَذَّبِ مِنَ الزَّلَلِ الْمُطَهَّرِ

پیشوا پاکبازوں کے امام خرابی سے بچے ہوئے لغزش سے پاک و صاف ہر نقص سے پاک شک

مِنَ الْعَیْبِ، الْمُنَزَّهِ مِنَ الرَّیْبِ، أَخِی نَبِیِّکَ، وَوَصِیِّ رَسُو لِکَ، الْبائِتِ عَلَی فِراشِهِ،

و شبہ سے دور تیرے نبی کے برادر تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصیعليه‌السلام ان کے بستر پر سونے والے

وَالْمُواسِی لَهُ بِنَفْسِهِ وَکاشِفِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ الَّذِی جَعَلْتَهُ سَیْفاً لِنُبُوَّتِهِ وَآیَةً

ان پر جان فدا کرنے والے ان سے مصیبت کو دور کرنیوالے کہ جن کو تو نے بنایا ان کی نبوت کی حامی تلوار ان کے پیغام کیلئے

لِرِسالَتِهِ وَشاهِداً عَلَی أُمَّتِهِ وَدِلالَةً عَلَی حُجَّتِهِ، وَحامِلاً لِرایَتِهِ، وَوِقایَةً لِمُهْجَتِهِ

معجزہ ان کی امت پر گواہ ان کی حجت پر واضح دلیل ان کے پرچم کے اٹھانے والے ان کی جان کے نگہبان ان کی

وَهادِیاً لاَُِمَّتِهِ، وَیَداً لِبَأْسِهِ، وَتاجاً لِرَأْسِهِ، وَباباً لِسِرِّهِ، وَمِفْتاحاً لِظَفَرِهِ، حَتَّی

امت کے رہنما ان کی طرف سے جنگ آزما ان کے سر کا تاج ان کے اسرار کا دروازہ ان کی کامرانی کی کلید حتی کہ انہوں نے مشرکین

هَزَمَ جُیُوشَ الشِّرْکِ بِ إذْنِکَ وَأَبادَ عَساکِرَ الْکُفْرِ بِأَمْرِکَ، وَبَذَلَ نَفْسَهُ فِی مَرْضاةِ

کے لشکر تیرے حکم سے پچھاڑ دیے کفار کی فوجوں کو تیرے حکم سے نابود کر دیا تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا پر جان

رَسُولِکَ، وَجَعَلَها وَقْفاً عَلَی طاعَتِهِ، فَصَلِّ اَللّٰهُمَّ عَلَیْهِ صَلاةً دَائِمَةً بَاقِیَةً ۔پھر کہے:

قربان کر دی اور اپنے آپ کو ان کی اطاعت کے لئے وقف کر دیا پس اے اللہ رحمت فرما ان پر وہ رحمت جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہو

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَالشِّهابَ الثَّاقِبَ وَالنُّورَ الْعاقِبَ یَا سَلِیلَ الْاََطَائِبِ

آپ پر سلام ہواے خدا کے ولی تیز چمک والے ستارے اے باقی رہنے والے نور اے پاکیزہ بزرگوںکے فرزند

یَا سِرَّ ﷲ، إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ ﷲ تَعالی ذُ نُوباً قَدْ أَثْقَلَتْ ظَهْرِی وَلاَ یَأْتِی عَلَیْها إلاَّ

اے سر الہی بے شک میرے اور خدا کے درمیان گناہ حائل ہو گئے جو میری کمر توڑ رہے ہیں اور اس کی رضا ہی انہیں

رِضاهُ، فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّهِ، وَاسْتَرْعاکَ أَمْرِ خَلْقِهِ، کُنْ لِی إلَی ﷲ

ختم کر سکتی ہے پس بواسطہ اس کے حق کا جس نے آپ کو اپنے اسرار کا امین بنایا اور آپ کو اپنے امر خلق کا نگہبان بنایا خدا کی جانب

شَفِیعاً وَمِنَ النَّارِ مُجِیراً وَعَلَی الدَّهْرِ ظَهِیراً، فَ إنِّی عَبْدُﷲ وَوَلِیُّکَ وَزائِرُکَ صَلَّی

میں میرے سفارشی بنیں جہنم کی آگ سے پناہ اور زمانے کی سختیوں میں مدد گار بنیں کیونکہ میں خدا کا بندہ اور آپ کا محب و زائر ہوں

ﷲ عَلَیْکَ ۔ پھر چھ رکعت نماز پڑھے اور جو دعا چاہے مانگے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ

خدا آپ پر رحمت فرماتا رہے۔ سلام ہو آپ پر اے مؤمنوں

الْمُؤْمِنِینَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ

کے امیر آپ پر میری طرف سے اللہ کا سلام ہو ہمیشہ ہمیشہ جب تک میں زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں۔

اب قبر امام حسین- کی طرف متوجہ ہو کر اشارہ کرتے ہوئے کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ أَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً

آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہعليه‌السلام آپ پر سلام ہو اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے فرزند میں نے آپ دونوں کی زیارت کی اور اسے اللہ کی

إلَی ﷲ تَعالی رَبِّی وَرَبِّکُما، وَمُتَوَجِّهاً إلَی ﷲ بِکُما، وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی ﷲ

طرف وسیلہ بنایا جو میرا اور آپ دونوں کا رب ہے آپ کے ذریعے خدا کی طرف متوجہ ہوا اور آپ دونوں کو اپنی حاجت کیلئے خدا

فِی حاجَتِی هذِهِ

کے ہاں اپنا وسیلہ بنایا ہے۔

اس کے بعد دعائے صفوان آخر تک پڑھے: (انہ قریب مجیب )پس قبلہ رو ہو کر دعا کا پہلا حصہ پڑھنا شروع کرے :

یَآﷲ یَآﷲ یَآﷲ یَا مُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَیَآ کَاْشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوْبِیْنَسے ان جملوں تک

اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے پریشانوں کی دعا قبول کرنے والے اے غم زدہ لوگوں کے غم دور کرنے والے

وَاصْرِفْنِیْ بِقَضَآئِ حَاجَتِیْ وَکِفَایَةِ مَآ اَهَمَّنِیْ هَمُّهُ مِنْ اَمْرِ دُنْیَایَ

مجھے یہاں سے لوٹا جبکہ میری حاجت پوری ہو اور میری دنیا و آخرت کے پریشان کن امور میں تو میرا حامی

وَآخِرَتِیْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ پھر قبر امیر المومنین- کی طرف رخ کرے اور کہے : اَلسَّلاَمُ

و مدد گا ر ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے سلام ہو

عَلَیْکَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالسَّلاَمُ عَلَیٰ أَبِیْ عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ مَا بَقِیْتُ وَبَقِیَ

آپ پر اے مؤمنوں کے امیر سلام ہو ابی عبداللہ حسینعليه‌السلام پر جب تک میں زندہ ہوں اور دن رات کا سلسلہ

اللَّیْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا جَعَلَهُ ﷲ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنِّیْ لِزِیَارَتِکُمَا وَلاَ فَرَّقَ ﷲ بَیْنِیْ وَبِیْنَکُمَا

قائم ہے میں نے آپ دونوں کی جو زیارت کی خدا اسے میری آخری زیارت قرار نہ دے اور مجھ میں اور آپ میں جدائی نہ ڈالے ۔

مؤلف کہتے ہیں دعا صفوان وہی دعائے علقمہ ہے جس کا ذکر روز عاشور کے بعد آئے گا۔ انشائ اللہ تعالیٰ ۔

ساتویں زیارت

سید ابن طاؤس مصباح الزائر میں اس زیارت کی کیفیت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ باب السلام یعنی روضہ امیرالمؤمنین- کی طرف جاتے ہوئے جب ضریح مقدس دکھائی دینے لگے تو چونتیس مرتبہ ﷲ ٲَکْبَر کہے اور پھر پڑھے :

سَلامُ ﷲ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَ نْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَعِبادِهِ الصَّالِحِینَ

سلام ہو اللہ کا سلام ہو خدا کے مقرب فرشتگان کا خدا کے بھیجے ہوئے نبیوں کا خدا کے سبھی نیک بندوں کا

وَجَمِیعِ الشُّهَدائِ وَالصِّدِّیقِینَ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ

تمام شہیدان راہ خدا اور سلام ہو صدیقوں کا آپ پر اے مؤمنوں کے امیرعليه‌السلام سلام ہو آدم پر جو خدا کے برگزیدہ

ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ،اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی

ہیں سلام ہو نوح پرجو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیم پر جو خدا کے خلیل ہیں سلا م ہو موسی پر

مُوسی کَلِیمِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ

جو کلیم خدا ہیں سلام ہو عیسیٰ پر جو روح خدا ہیں سلام ہو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جو خدا کے حبیب ہیں

وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَی اسْمِ ﷲ الرَّضِیِّ، وَوَجْهِهِ الْعَلِیِّ، وَصِراطِهِ

خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ہوں سلام ہو خدا کے پسندیدہ نام اور بلند نور اور اس کے صراط

السَّوِیِّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُهَذَّبِ الصَّفِیِّ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْحَسَنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی

مستقیم پر سلام ہو خوش اطوار اور برگزیدہ پر سلام ہو ابی الحسن علی ابن ابی

طالِبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی خالِصِ الْاََخِلاَّئِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ

طالبعليه‌السلام پر اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خدا کے خالص و مخلص دوست پر سلام ہو اس پر جو خاص جناب سیدہ کی

بِسَیِّدَةِ النِّسَائِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَوْلُودِ فِی الْکَعْبَةِ الْمُزَوَّجِ فِی السَّمائِ اَلسَّلَامُ عَلَی

ہمسری کے لئے پیدا ہوا سلام ہو اس پر جو کعبہ مقدس میں پیدا ہوا جس کی تزویج آسمان میں ہوئی سلام ہو میدان جنگ

أَسَدِ ﷲ فِی الْوَغیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ شُرِّفَتْ بِهِ مَکَّةُ وَمِنیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ

میں خدا کے شیر پر سلام ہو اس پر جس کو مکہ و منی میں شرف ملا سلام ہو ساقی حوض

الْحَوْضِ وَحامِلِ اللِّوائِ، اَلسَّلَامُ عَلَی خَامِسِ أَهْلِ الْعَبائِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْبائِتِ

کوثر اور لوائ الحمد اٹھانے والے پر سلام ہو آل عبا میں پانچویں پر سلام ہو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

عَلَی فِراشِ النَّبِیِّ وَمُفْدِیهِ بِنَفْسِهِ مِنَ الْاََعْدائِ اَلسَّلَامُ عَلَی قالِعِ بابِ خَیْبَرَ

بے خوف ہو کر سونے والے اور دشمنوں کے مقابل ان پر جان قربان کرنے والے پر سلام ہو باب خیبر اکھاڑنے

وَالدَّاحِی بِهِ فِی الْفَضائِ اَلسَّلَامُ عَلَی مُکَلِّمِ الْفِتْیَةِ فِی کَهْفِهِمْ بِلِسانِ الْاََ نْبِیائِ

اور اس کو اوپر پھینکنے والے پر اس پر جس نے نبیوں کی زبان میں اصحاب کہف سے بات کی

اَلسَّلَامُ عَلَی مُنْبِعِ الْقَلِیبِ فِی الْفَلاَ، اَلسَّلَامُ عَلَی قالِعِ الصَّخْرَةِ وَقَدْ عَجَزَ عَنْهَا

سلام ہو بیابان میں ابلتا ہوا چشمہ نکالنے والے پر سلام پتھر اکھاڑنے والے پر کہ جسے بڑے بڑے پہلوان

الرِّجالُ الْاََشِدَّائُ اَلسَّلَامُ عَلَی مُخاطِبِ الثُّعْبانِ عَلَی مِنْبَرِ الْکُوْفَةِ بِلِسانِ الْفُصَحائِ

نہ اکھاڑ سکتے تھے سلام ہو اس پر جس نے منبر کوفہ پر اژدھا کے ساتھ فصیح تر زبان میں کلام کیا

اَلسَّلَامُ عَلَی مُخاطِبِ الذِّئْبِ وَمُکَلِّمِ الْجُمْجُمَةِ بِالنَّهْرَوانِ وَقَدْ نَخِرَتِ الْعِظامُ

سلام ہو بھیڑیئے سے بات کرنے والے پراور نہروان میں کھوپڑی سے کلام کرنے والے پر جب کہ وہ ٹوٹی پھوٹی پرانی

بِالْبِلَا، اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الشَّفاعَةِ فِی یَوْمِ الْوَرَیٰ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

ہڈیاں ہی تھیں سلام ہو روز قیامت میں شفاعت کرنے والے پر اس کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں

اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ الزَّکِیِّ حَلِیفِ الْمِحْرابِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الْمُعْجِزِ الْباهِرِ

سلام ہو اس پاکباز امام پر جو محراب عبادت کا شائق رہا سلام ہو اس پر جو واضح معجزے رکھنے والا

وَالنَّاطِقِ بِالْحِکْمَةِ وَالصَّوابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ عِنْدَهُ تَأْوِئلُ الْمُحْکَمِ والْمُتَشابِهِ

اور علم و دانش کی گفتگو کرنے والا ہے سلام ہو اس پر جسے واضح اور ذومعنی سبھی آیتوں کی تاویل معلوم

وَعِنْدَهُ أُمُّ الْکِتابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ رُدَّتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ حِینَ تَوارَتْ بِالْحِجابِ

اور اصل کتاب کا علم ہے سلام ہو اس پر جس کے لئے سورج پلٹا جبکہ وہ پردۂ تاریکی میں ڈوب چکا تھا

اَلسَّلَامُ عَلَی مُحْیِی اللَّیْلِ الْبَهِیمِ بِالتَّهَجُّدِ وَالاکْتِیابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ خاطَبَهُ

سلام ہو اس پر جو رات کی تاریکی میں عبادت و گریہ میں جاگتا رہا سلام ہو اس پر کہ جسے

جَبْرَئِیلُ بِ إمْرَةِ الْمُؤْمِنِینَ بِغَیْرِ ارْتِیابٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ

جبرائیلعليه‌السلام نے کسی شبہ کے بغیرامیرالمؤمنینعليه‌السلام کہہ کر مخاطب کیا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو سرداروں کے سردار پر

السَّاداتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الْمُعْجِزاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ عَجِبَ مِنْ حَمَلاتِهِ

سلام ہو معجزوں کے مالک پر سلا م ہو اس پر جس نے جنگوں میں اپنے پے در پے حملوں سے

فِی الْحُرُوبِ مَلائِکَةُ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ نَاجَی الرَّسُولَ فَقَدَّمَ بَیْنَ

ہفت آسمان کے فرشتوں کو حیران کر دیا سلام ہو اس پر جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سرگوشی کی

یَدَیْ نَجْواهُ صَدَقَاتٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْجُیُوشِ وَصَاحِبِ الْغَزَواتِ، اَلسَّلَامُ

اور قبل اس کے صدقہ دیا سلام ہو لشکروں کے سالار اور کثیر جنگیں لڑنے والے پر سلا م ہو

عَلَی مُخاطِبِ ذِئْبِ الْفَلَواتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ ﷲ فِی الظُّلُمَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

اس پر جس نے جنگل میں بھیڑیئے سے گفتگو کی سلام ہو اس پر جو تاریکیوں میں خدا کا نور ہے سلام ہو اس پر

مَنْ رُدَّتْ لَهُ الشَّمْسُ فَقَضیٰ مَا فَاتَهُ مِنَ الصَّلاةِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُه اَلسَّلَامُ

جس کے لئے سورج پلٹا تو اس نے اپنی چھوٹی ہوئی نماز وقت پر ادا کی خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو

عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی إمامِ الْمُتَّقِینَ

مؤمنوں کے امیر پر سلام ہو اوصیائ کے سردار پر سلام ہو پرہیزگاروں کے امام پر

اَلسَّلَامُ عَلَی وَارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَی یَعْسُوبِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَی عِصْمَةِ

سلام ہو نبیوں کے علوم کے حامل و وارث پر سلام ہو دین کے سردار پر سلام ہو مؤمنوں کے

الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی قُدْوَةِ الصَّادِقِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ

نگہبان و نگہدار پر سلام ہو سچ بولنے والوں کے پیشوا پر خدا کی رحمت ہو اوراس کی برکتیں سلام ہو نیک لوگوں

الْاََ بْرارِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ الْاََطْهارِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ بِذِی الْفَقارِ

کی حجت پر سلام ہو پاکیزہ ائمہ کے پدر بزرگوار پر سلام ہو عطائے ذوالفقار کے لئے خاص کیے جانے والے پر

اَلسَّلَامُ عَلَی ساقِی أَوْ لِیائِهِ مِنْ حَوْضِ النَّبِیِّ الْمُخْتارِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَا

سلام ہو اس پر جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مختار کے حوض سے اپنے دوستوں کو سیراب کرنے والا ہے خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر

اطَّرَدَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبَاََ الْعَظِیمِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ أَنْزَلَ ﷲ فِیهِ

جب تک رات دن آئیں جائیں سلام ہو اس پر جو خبر عظیم ہے سلام ہو اس پر جس کے لئے خدا نے نازل کیا:

وَ إنَّهُ فِی أُمِّ الْکِتابِ لَدَیْنا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ اَلسَّلَامُ عَلَی صِراطِ ﷲ الْمُسْتَقِیمِ اَلسَّلَامُ

اور بے شک وہ اصل کتاب میں ہمارے ہاں بلند تر علم والا ہے سلام ہو اس پر جو خدا کا سیدھا راستہ ہے سلام ہو

عَلَی الْمَنْعُوتِ فِی التَّوْرٰاةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

اس پر جس کا تورات انجیل اور قرآن حکیم میں تعارف کرایا گیا ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔

اب اپنے آپ کو ضریح مبارک پر گرا دے اور بوسہ دے اور کہے:

یَا أَمِینَ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ یَا وَلِیَّ ﷲ یَا صِرَاطَ ﷲ زَارَکَ عَبْدُکَ وَوَلِیُّکَ اللاَّئِذُ

اے خدا کے امین اے خدا کی حجت خدا کے ولی اے خدا کی راہ راست آپ کی زیارت کی ہے آپ کے غلام اور محب نے

بِقَبْرِکَ وَالْمُنِیخُ رَحْلَهُ بِفِنَائِکَ الْمُتَقَرِّبُ إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُسْتَشْفِعُ بِکَ إلَی

پناہ لیتے ہوئے اس قبر کی اور آپ کی بارگاہ میں حاضری کے ذریعے خدا عزوجل کا تقرب چاہتا ہے خدا کے حضور آپ کی شفاعت کا

ﷲ زِیارَةَ مَنْ هَجَرَ فِیکَ صَحْبَهُ وَجَعَلَکَ بَعْدَ ﷲ حَسْبَهُ أَشْهَدُ

طالب ہے یہ زیارت اس نے کی ہے جو آپ کیلئے سب کو چھوڑ آیا ہے اور خدا کے بعد آپ کو اپنے لئے کافی جانتا ہے میں گواہ ہوں

أَنَّکَ الطُّورُ وَالْکِتاب الْمَسْطُورُ، وَالرِّقُّ الْمَنْشُورُ، وَبَحْرُ الْعِلْمِ الْمَسْجُورُ، یَا

بے شک آپ کوہ طور ہیں لکھی ہوئی کتاب کھلا ہوا صحیفہ اور علوم کا موجزن سمندر ہیں اے

وَلِیَّ ﷲ إنَّ لِکُلِّ مَزُورٍ عَِنایَةً فِی مَنْ زارَهُ وَقَصَدَهُ وَأَتاهُ وَأَنَا وَلِیُّکَ وَقَدْ حَطَطْتُ

ولی خدا جس کی زیارت کی جائے وہ زیارت کرنے والے اور ارادت سے آنے والے پر مہربانی کرتا ہے اور میں جو آپ کا محب

رَحْلِی بِفِنائِکَ، وَلَجَأْتُ إلی حَرَمِکَ، وَلُذْتُ بِضَرِیحِکَ لِعِلْمِی بِعَظِیمِ

ہوں میں آپکی بارگاہ میں آیا ہوں آپ کے حرم کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی ضریح سے چمٹا ہوا ہوں کہ مجھے آپ کے بلند مرتبے کا علم

مَنْزِلَتِکَ وَشَرَفِ حَضْرَتِکَ، وَقَدْ أَثْقَلَتِ الذُّنُوبُ ظَهْرِی وَمَنَعَتْنِی رُقادِی، فَما أَجِدُ

ہے سرکار کے شرف کو جانتا ہوں جبکہ مجھ پر میرے بھاری گناہ کا بوجھ ہے میری قوت جواب دے گئی ہے میرا کوئی نگہدار نہیں کوئی

حِرْزاً وَلاَ مَعْقِلاً وَلاَمَلْجَأً أَلْجَأُ إلَیْهِ إلاَّﷲ تَعالی وَتَوَسُّلِی بِکَ إلَیْهِ وَاسْتِشْفاعِی

محفوظ مقام نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں پناہ لوں بس اللہ تعالی ہی ہے اور اس کیلئے آپ کو وسیلہ بناتا ہوں اس کے حضور آپ کو سفارشی

بِکَ لَدَیْهِ، فَها أَنَا نازِلٌ بِفِنائِکَ وَلَکَ عِنْدَ ﷲ جاهٌ عَظِیمٌ، وَمَقامٌ کَرِیمٌ، فَاشْفَعْ لِی

بناتا ہوں پس یہ میں ہوںکہ اب آپ کی بارگاہ میں آبیٹھا ہوں جبکہ آپ اللہ کے ہاں بہت بڑی عزت اور بلند مرتبہ رکھتے ہیں لہذا

عِنْدَ ﷲ رَبِّکَ یَا مَوْلایَ اس کے بعد ضریح مبارک کو بوسہ دے اور قبلہ رخ ہو کر کہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی

اے میرے مولا خدا کے حضور میری سفارش فرمائیں ۔ اے معبود! میں

أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ وَیَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ، وَیَا

تیرا تقرب چاہتا ہوں اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے تیز تر حساب کرنے والے اور اے

أَجْوَدَ الْاََجْوَدِینَ بِمُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ رَسُولِکَ إلَی الْعالَمِینَ وَبِأَخِیهِ وَابْنِ عَمِّهِ

سب سے زیادہ عطا کرنے والے بواسطہ نبیوں کے خاتم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جو عالمین کی طرف تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں بواسطہ ان کے بھائی اور چچا زاد

الْاَ نْزَعِ الْبَطِینِ الْعالِمِ الْمُبِینِ عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنِ الْاِمامَیْنِ

کے جو گہرے باطن والے علم میں آشکار امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کے اور بواسطہ حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کے جو دونوں امام

الشَّهِیدَیْنِ وَبِعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدِینَ وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ

اور شہید راہ خدا ہیں بواسطہ علی بن حسینعليه‌السلام زین العابدینعليه‌السلام کے اور بواسطہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بن علیعليه‌السلام کے جو اولین کے علم کو ظاہر کرنے والے ہیں

وَبِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ زَکِیِّ الصِّدِّیقِینَ وَبِمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْکاظِمِ الْمُبِینِ وَحَبِیسِ

بواسطہ جعفرعليه‌السلام بن محمدعليه‌السلام کے جو صدیقوں میں پاکیزہ ہیں بواسطہ موسیٰعليه‌السلام ابن جعفرعليه‌السلام کے جو ظاہر بظاہر غصے کو پینے والے اور ظالموں کے

الظَّالِمِینَ وَبِعَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا الْاََمِینِ وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ عَلَمِ الْمُهْتَدِینَ

اسیر ہیں بواسطہ علیعليه‌السلام ابن موسیعليه‌السلام کے جو راضی بہ رضا امین خدا ہیں بواسطہ محمدعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کے جو ہدایت یافتگان کے نشان جواد ہیں

وَبِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَرِّ الصَّادِقِ سَیِّدِ الْعابِدِینَ وَبِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَسْکَرِیِّ وَلِیِّ

بواسطہ علیعليه‌السلام بن محمدعليه‌السلام کے جو سچے نیک عبادت گزاروں کے سردار ہیں بواسطہ حسنعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کے جو عسکری اور مؤمنوں کے

الْمُؤْمِنِینَ وَبِالْخَلَفِ الْحُجَّةِ صاحِبِ الْاََمْرِ مُظْهِرِ الْبَراهِینِ، أَنْ تَکْشِفَ مَا بِی مِنَ

سرپرست ہیں بواسطہ خلف حجت صاحب امرعليه‌السلام جو دلائل کے مظہر ہیں ان سب کے واسطے میرے

الْهُمُومِ وَتَکْفِیَنِی شَرَّ الْبَلائِ الْمَحْتُومِ وَتُجِیرَنِی مِنَ النَّارِ ذاتِ السَّمُومِ، بِرَحْمَتِکَ

سب اندیشے دور کر دے ختم نہ ہونے والی سختیوں میں میری مدد فرما اور مجھے جہنم کی زہریلی آگ سے پناہ میں رکھ اپنی رحمت سے

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

اس کے بعد جس حاجت کے لئے چاہے دعا مانگے اور حضرت کو الوداع کر کے واپس لوٹے۔

مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز

مؤلف کہتے ہیں کہ سید عبدالکریم بن طاؤس نے فرحتہ الغرٰی میں روایت کی ہے کہ امام زین العابدین- کوفہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لائے وہاں ابو حمزہ ثمالی موجود تھے جن کا کوفہ کے عبادت گزاروں اور بزرگ لوگوں میں شمار ہوتا تھا حضرت نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ لہجہ کبھی نہیں سنا تھا ۔ میں ان کے نزدیک گیا تاکہ سنوں وہ کیا کہہ رہے ہیں چنانچہ میں نے سنا کہ وہ فرما رہے ہیں :

اِلٰهِیْ اِنْ کَانَ قَدْ عَصَیْتُکَ فَاِنِیْ قَدْ اَطَعْتُکَ فِیْ أَحِبَ الْأَشْیَائِ اِلَیْکَ

میرے معبود! اگر تیری نا فرمانی کی ہے تو بے شک میں نے تیری پسندیدہ چیزوں میں تیری اطاعت بھی کی ہے۔

اور یہ ایک مشہور دعا ہے ۔

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ دعا اعمال کوفہ میں ذکر کی جائے گی اور ابو حمزہ نے بیان کیا ہے کہ وہ بزرگوار ساتویں ستون کے قریب آئے ،اپنے جوتے اتارے اور کھڑے ہو گئے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ایک تکبیر کہی کہ جس کی دہشت سے میرے بدن کے تمام رونگٹے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں رکوع و سجود انتہائی خلوص سے انجام دیئے اس کے بعد یہ دعا پڑھیاِلَهِیْ اِنْ کُنْتُ قَدْ اَعْصَیْتُکَ تا آخردعا اور سابقہ روایت کے مطابق امامعليه‌السلام اٹھے اور چل دیئے ابو حمزہ نے کہا کہ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا اس طرف ہم کوفہ کے باہر اونٹ بٹھانے کی جگہ پر آ گئے ۔میں نے دیکھا وہاں ایک حبشی غلام ہے جس کے پاس ایک زخمی اونٹ اور اونٹنی ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا یہ شخص کون ہے ؟ اس شخص نے کہااو یخفیٰ عَلَیْکَ شمائله ۔۔۔ آؤ آیا تم نے اسے شکل و صورت سے نہیں پہچانا وہ علیعليه‌السلام بن الحسینعليه‌السلام ہیں ابو حمزہ کہتے ہیں یہ سنتے ہی میں نے خود کو ان کے قدموں میں ڈال دیا تا کہ ان کو بوسہ دوں ۔ مگر آنجناب نے مجھے ایسا نہ کرنے دیا اپنے ہاتھ سے میرا سر اٹھایا اور فرمایا ایسا مت کرو کیونکہ سوائے خدائے عز و جل کے کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ۔ میں نے عرض کی : اے فرزند رسول آپ یہاں کس لئے تشریف لائے ہیں ؟ فرمایا وہی کام تھا جو تونے دیکھا کہ میں نے مسجد کوفہ میں نماز ادا کی ہے اگر لوگوں کو اس نماز کی فضیلت کا علم ہوتا تو وہ بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل چل کر بھی یہاں آتے ۔ یعنی ہر تکلیف اٹھا کر یہاں پہنچتے پھر فرمایا کہ آیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ ہو کر میرے جد بزرگوار علی ابن ابی طالب - کی زیارت کرو ، میں نے عرض کی کہ ہاں میں آپ کے ہمراہ یہ زیارت کرنا چاہتا ہوں لہذا جب آپ روانہ ہوئے اور میں آپ کے ناقہ کے سائے میں چلنے لگا آپ مجھ سے گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نجف اشرف پہنچ گئے وہاں سفید روضہ تھا جو نور سے دمک رہا تھا آپ ناقہ سے اتر کر پیادہ ہوگئے اپنے دونوں رخسارے اس زمین پر رکھے اور فرمایا : اے ابو حمزہ ! یہ میرے جد بزرگوار علی ابن ابی طالب + کی قبر ہے : پھر ایک زیارت پڑھی ،جس کا آغاز یوں ہوتا ہے :

امام سجاد اور زیارت امیر ـ

اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ الرَّضِیَّ وَنُوْرِ وَجْهِهٰ الْمُضِیٓئِ

سلام ہو خدا کے اس نام پر جو اس کا پسندیدہ اور اس کا مظہر ہے ۔

اس کے بعد آپ نے اس قبر اطہر کو الوداع کہا اور مدینے کی طرف روانہ ہوگئے اور میں کوفہ واپس آ گیا ۔مؤلف کہتے ہیں کہ فرحتہ الغریٰ میں سید ابن طاؤس کی اس زیارت کو نقل نہ کرنے پر مجھے افسوس ہوا میں نے امیرالمؤمنین- کے لئے منقول ایک ایک زیارت تلاش کی اور اسے دیکھا لیکن مجھے وہ زیارت نہ ملی ،جس کی ابتدائ ان دو جملوںسے ہوتی ہو ،مگر یہ زیارت شریف کہ جس کا پہلا جملہ اس کے موافق اور دوسرا اس سے مختلف ہے ۔پس ممکن ہے کہ یہ وہی زیارت ہو اور اس کا یہ اختلاف چنداں اثر نہیں رکھتا ۔ اگر کوئی کہے کہ اس زیارت کا آغاز وہی :

سَلاَمُ ﷲ وَسَلاَمُ مَلاَئِکَتِهٰ ہے نہ کہ :اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ تو میں کہوں گا اس کا آغاز

سلام ہو خدا کا اور سلام ہو اس کے فرشتوں کا سلام ہو خدا کے اس نام پر

اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ الرَّضِیَّ

سلام ہو خدا کے اس نام پرجو اس کا پسندیدہ ہے ۔

اور دیگر سلام اجازت داخلہ اور طلب رخصت کیلئے ہیں اور اس کی دلیل امیرالمؤمنین- کے روز ولادت کی زیارت ہے جو ہماری زیر بحث زیارت سے بہت حد تک مشابہت رکھتی ہے ۔جو اس کی طرف رجوع کرے اسے معلوم ہو جائے گا نیز معلوم ہونا چاہیے کہ زیارت ششم اور زیارت روز ولادت میں یہ دو جملے بجز لفظ نور کے شامل ہیں لیکن وہ زیارت کے آغاز میں نہیں آئے ہیں ۔ وﷲ اعلم ۔ مختصر یہ کہ زیارات مطلقہ میں سے یہ سات زیارتیں ہی ہمارے لئے کافی ہیں جو ہم نے نقل کر دی ہیں اور اگر کوئی اس سے زیادہ کا خواہش مند ہو تو وہ زیارت جامعہ پڑھے یہ زیارت مبسوطہ ہے کہ جو اس کے بعد ہم روز غدیر کے لئے نقل کریں گے کیونکہ اس زیارت کے ہر جگہ اور ہر وقت پڑھنے کی روایت ہوئی ہے ۔یاد رہے کہ اس زیارت اور نماز کو امیرالمؤمنین- کے حرم مطہر میں پڑھنے کو غنیمت شمار کرے ان بزرگوار اور دیگر آئمہ کے قرب میں ایک نماز دو لاکھ نمازوں کے برابر ہے امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص واجب الاطاعت امام کی زیارت کرے اور وہاں چار رکعت نماز پڑھے تو اس کیلئے حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا نیز ہم نے ہدیۃ الزائرین میں قبر امیرالمؤمنین- کی مجاورت کی فضیلت نقل کی ہے۔

لیکن شرط یہ ہے کہ امیرالمؤمنین- کے قرب کا حق ملحوظ رکھا جائے جو کہ کافی مشکل ہے اور ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے اور اس مقام پر اس کا ذکر کیا جانا ضروری ہے۔پس خواہش مند اہل ایمان کتاب کلمہ طیبہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

ذکر وداع امیرالمؤمنین

جب زیارت سے فراغت پا کر نجف اشرف سے واپسی کا ارادہ کرے تو امیرالمؤمنین- کیلئے یہ وداع پڑھے جو علمائ کی کتب میں مذکور ہے اور ہم نے اسے زیارت پنجم کے بعد نقل کیا ہے ۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَسْتَرْعِیکَ وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ

آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں میں آپکو خدا کے سپرد کرتا ہوں آپ کی توجہ چاہتا ہوںاور آپ کو سلام عرض کرتا ہوں

آمَنّا بِالله وَبِالرُّسُلِ وَبِمَا جَاءَتْ بِهِ وَدَعَتْ إلَیْهِ، وَدَلَّتْ عَلَیْهِ فَاکْتُبْنا مَعَ

اور ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر رسولوں پر اور جو پیغام وہ لائے جسکی طرف دعوت دی اور جس کی طرف رہبری کی پس ہمارا نام گواہی

الشَّاهِدِینَ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی إیَّاهُ فَ إنْ تَوَفَّیْتَنِی قَبْلَ ذلِکَ

دینے والوں میں لکھ دے اے اللہ! اس زیارت کو میری ان کی آخری زیارت قرار نہ دے پس اگر میں قبل اس کے مر جاؤں تو

فَ إنِّی أَشْهَدُ فِی مَمَاتِی عَلَی مَا شَهِدْتُ عَلَیْهِ فِی حَیٰاتِی، أَشْهَدُ أَنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ

بے شک میری بعد از موت وہی گواہی ہوگی جو گواہی میں زندگی میں دے رہا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ مؤمنوں کے امیر

عَلِیَّاً وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ

علیعليه‌السلام ، حسنعليه‌السلام حسینعليه‌السلام علی بن الحسینعليه‌السلام ، محمدعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام ، جعفرعليه‌السلام بن محمدعليه‌السلام ،

وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنَ

موسیٰعليه‌السلام بن جعفرعليه‌السلام ، علیعليه‌السلام بن موسیعليه‌السلام ، محمدعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام ، علیعليه‌السلام بن محمدعليه‌السلام ، حسنعليه‌السلام

بْنَ عَلِیٍّ، وَالْحُجَّةَ بنَ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ أَئِمَّتِی، وَأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ

بن علیعليه‌السلام ، اور حجت بن الحسنعليه‌السلام ان سب پر تیری رحمت ہو میرے امام ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان سے جنگ کرنے

قَتَلَهُمْ وَحارَبَهُمْ مُشْرِکُونَ، وَمَنْ رَدَّ عَلَیْهِمْ فِی أَسْفَلِ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ، وَأَشْهَدُ

اور انہیں قتل کرنے والے مشرک ہیںجنہوں نے ان کے حکم کو رد کیا وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گیاور گواہی دیتا ہوں

أَنَّ مَنْ حارَبَهُمْ لَنا أَعْدائٌ وَنَحْنُ مِنْهُمْ بُرَائُ وَأَنَّهُمْ حِزْبُ الشَّیْطانِ وَعَلَی مَنْ قَتَلَهُمْ

کہ جو ان سے لڑے وہ ہمارے دشمن ہیں اور ہم ان سے بیزار ہیں کہ وہ شیطان کا گروہ ہیں اور جنہوں نے ائمہعليه‌السلام کو قتل کیا

لَعْنَةُ ﷲ وَالْمَلائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ وَمَنْ شَرِکَ فِیهِمْ وَمَنْ سَرَّهُ قَتْلُهُمْ اَللّٰهُمَّ

لعنت ہو ان پر اللہ کی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی اور ان پر بھی جو ان کے قتل میں شریک ہوئے اور اس پر خوش ہوئے اے اللہ !

إنِّی أَسْأَلُکَ بَعْدَ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِیمِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ

میں بعد از درود و سلام تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ رحمت نازل فرما محمد ، علیعليه‌السلام ، فاطمہ(س)، حسنعليه‌السلام ،

وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَجَعْفَرٍ وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُجَّةِ

حسینعليه‌السلام ، علیعليه‌السلام ، محمدعليه‌السلام ، جعفرعليه‌السلام ، موسیعليه‌السلام ، علیعليه‌السلام ، محمدعليه‌السلام ، علیعليه‌السلام ، حسنعليه‌السلام ،

وَلاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِهِ فَ إنْ جَعَلْتَهُ فَاحْشُرْنِی مَعَ هؤُلائِ الْمُسَمَّیْنَ آلاَءِمَّةِ

اور حجتعليه‌السلام پر اور میری اس زیارت کوزیارت آخر قرار نہ دے پس اگر تو ایسا کرے تو مجھے ان کے ساتھ اٹھانا جن ائمہعليه‌السلام کے نام لیے گئے

اَللّٰهُمَّ وَذَ لِّلْ قُلُوبَنا لَهُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْمُناصَحَةِ وَالْمَحَبَّةِ وَحُسْنِ الْمُٰؤَازَرَةِ وَالتَّسْلِیمِ

اے معبود! ہمارے دلوں کو انکی اطاعت کیلئے جھکادے نیز ان سے نصیحت حاصل کرنے محبت رکھنے انکے ہاں حاضر ہونے اور حکم ماننے میں لگا دے ۔

سورہ روم

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الَمَ ﴿۱﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲﴾ فِی أَدْنَی الاََرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿۳﴾ فِی

الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا

بِضْعِ سِنِینَ لِلّهِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿۴﴾ بِنَصْرِ ﷲ یَنْصُرُ

کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے

مَنْ یَشَائُ وَهُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۵﴾وَعْدَ ﷲ لاَ یُخْلِفُ ﷲ وَعْدَهُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ

اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے

یَعْلَمُونَ ﴿۶﴾ یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿۷﴾ أَوَ

یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے

لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ ﷲ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَأَجَلٍ

دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت

مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ﴿۸﴾أَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ

کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان

فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الاََرْضَ

لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد

وَعَمَرُوهَا أَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ وَلکِنْ

کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے

کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ﴿۹﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ أَسَاؤُوا السُّوأی أَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ

ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے

وَکَانُوا بِهَا یَسْتَهْزِیُونَ﴿۱۰﴾ ﷲ یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ﴿۱۱﴾ وَیَوْمَ

اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس

تَقُومُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿۱۲﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَکَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَکَانُوا

دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا

بِشُرَکَائِهِمْ کَافِرِینَ﴿۱۳﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَمَّا الَّذِینَ

اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا

آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِی رَوْضَةٍ یُحْبَرُونَ ﴿۱۵﴾ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا

اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں

بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَةِ فَأُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿۱۶﴾فَسُبْحَانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ

اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور

وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ ﴿۱۸﴾

جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے

یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذٰلِکَ

وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی

تُخْرَجُونَ ﴿۱۹﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿۲۰﴾

مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے

وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت

إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿۲۱﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ

و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے (خداکی) نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری

وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿۲۲﴾وَمِنْ آیَاتِهِ مَنَامُکُمْ

زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و

بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِهِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَمِنْ

کرم (روزی) کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی

آیَاتِهِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِهِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ

نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،

فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿۲۴﴾وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إذَا

بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم

دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِنَ الاََرْضِ إذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿۲۵﴾وَلَهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ

ہیں پھر(موت کے بعد) جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم (زندہ ہوکر) زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے

لَهُ قَانِتُونَ ﴿۲۶﴾ وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ المَثَلُ الاََعْلَی

اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے

فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۲۷﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ هَلْ

اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم

لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَأَنْتُمْ فِیهِ سَوَائٌ تَخَافُونَهُمْ

نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائو

کَخِیفَتِکُمْ أَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۲۸﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا

(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے

أَهْوَاءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَهْدِی مَنْ أَضَلَّ ﷲ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۹﴾ فَأَقِمْ وَجْهَکَ

بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے

لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَةَ ﷲ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ ﷲ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ

پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ

وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾ مُنِیبِینَ إلَیْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِیمُوا الصَّلاةَ وَلاَ تَکُونُوا

میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی

مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ

سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو

فَرِحُونَ ﴿۳۲﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِیبِینَ إلَیْهِ ثُمَّ إذا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً

دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب

إذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ﴿۳۳﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿۳۴﴾

وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے

أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطَاناً فَهُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِهِ یُشْرِکُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إذَا أَذَقْنَا النَّاسَ

انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟

رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَ إنْ تُصِبْهُمْ سَیِّءَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ إذَا هُمْ یَقْنَطُونَ ﴿۳۶﴾ أَوَ لَمْ

اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا

یَرَوْا أَنَّ ﷲ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۳۷﴾

ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.

فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّهُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ

پس(اے رسول ) اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی

وَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُفْلِحُونَ ﴿۳۸﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ

چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں

عِنْدَ ﷲ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ فَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُضْعِفُونَ ﴿۳۹﴾ ﷲ

بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے

الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ

جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں

مِنْ شَیئٍ سُبْحانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿۴۰﴾ ظَهَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا

میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں

کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ﴿۴۱﴾قُلْ سِیرُوا فِی

کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں

الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُهُمْ مُشْرِکِینَ ﴿۴۲﴾ فَأَقِمْ

(اے رسول ) کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.

وَجْهَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَهُ مِنَ ﷲ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿۴۳﴾

(اے رسول ) وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا

مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِهِمْ یَمْهَدُونَ ﴿۴۴﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ

ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور

آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿۴۵﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ یُرْسِلَ

اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے

الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ

کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں

وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿۴۶﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِهِمْ فَ جَاءُوهُمْ

چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور(اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ

بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿۴۷﴾ﷲ الَّذِی

روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے

یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفاً فَتَرَی

جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو

الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِهِ فَ إذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿۴۸﴾

کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں

وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِینَ ﴿۴۹﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَةِ ﷲ

اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ

کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿۵۰﴾

مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَأَوْهُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ یَکْفُرُونَ ﴿۵۱﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ

اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس (اے رسول ) تم اپنی آواز نہ

المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿۵۲﴾ وَمَا أَنْتَ بِهَادِی العُمْیِ عَنْ

مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو

ضَلاَلَتِهِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ﴿۵۳﴾ ﷲ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ

تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز

ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَیْبَةً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ

(نطفہ) سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے

وَهُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿۵۴﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ

اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی

کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿۵۵﴾ وَقَالَ الَّذِینَ أُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ

طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے

ﷲ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَهذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۵۶﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ

تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے

الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلاَ هُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿۵۷﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی هذَا القُرْآنِ

عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے

مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآیَةٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ أَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿۵۸﴾

اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو

کَذالِکَ یَطْبَعُ ﷲ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۵۹﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ وَلاَ

جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو (اے رسول ) تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے

یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿۶۰﴾

اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔

سورہ دخان

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حمَ ﴿۱﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ۲﴾ إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿۳﴾ فِیهَا

حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب

یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿۴﴾ أَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿۵﴾ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ إنَّهُ

قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے

هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿۷﴾

بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو

لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿۸﴾بَلْ هُمْ فِی شَکٍّ

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں

یَلْعَبُونَ﴿۹﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿۱۰﴾ یَغْشَی النَّاسَ هذَا عَذَابٌ

پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو

أَلِیمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿۲۱﴾أَ نَّی لَهُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ

(کافربھی) کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں (بھلا) اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،

جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿۱۴﴾ إنَّا کَاشِفُواْ

جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے (اچھا) ہم تھوڑے دنوں

العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَاءِدُونَ ﴿۱۵﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿۱۶﴾

کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿۱۷﴾ أَنْ أَدُّوا إلیَّ عِبَادَ ﷲ إنِّی

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر (موسیٰ) آئے (اورکہا) کہ بندگان خدا(بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو کہ

لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ ﴿۱۸﴾وَأَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی ﷲ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿۱۹﴾وَ إنِّی

میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس

عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ﴿۲۰﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا

چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو( وہ تنگ کرنے لگے) تب موسیٰ

رَبَّهُ أَنَّ هؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿۲۲﴾فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَاتْرُکِ

نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو (حکم ملا) تم میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم

البَحْرَ رَهْواً إنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿۲۴﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿۲۵﴾وَزُرُوعٍ

ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،

وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿۲۶﴾وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیهَا فَاکِهِینَ﴿۲۷﴾کَذٰ لِکَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿۲۸﴾

نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا

فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿۲۹﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ

پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے

العَذَابِ المُهِینِ﴿۳۰﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّهُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿۳۱﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ

نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر

عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿۳۲﴾ وَآتَیْنَاهُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیهِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿۳۳﴾ إنَّ هؤُلاَئِ

سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ (کفار مکہ) مسلمانوں سے کہتے ہیں

لَیَقُولُونَ ﴿۳۴﴾ إنْ هِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿۳۵﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إنْ

کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ

کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۳۶﴾ أَهُمْ خَیْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَکْنَاهُمْ إنَّهُمْ کَانُوا

کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار

مُجْرِمِینَ﴿۳۷﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَالاَعِبِینَ ﴿۳۸﴾ مَاخَلَقْناهُمَا

لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک

إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۹﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿۴۰﴾

مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے( قیامت) کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے

یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ یُنْصَرُونَ ﴿۴۱﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،

العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۴۲﴾ إنّ َشَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿۴۳﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿۴۴﴾ کَالْمُهْلِ یَغْلِی

رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح

فِی البُطُونِ ﴿۴۵﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿۴۷﴾

پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے (حکم ہوگا فرشتو!) اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو

ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿۴۸﴾ ذُقْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿۴۹﴾

پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.

إنَّ هذَا مَا کُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ﴿۵۰﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ أَمِینٍ﴿۵۱﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿۵۲﴾

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،

یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿۵۳﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿۵۴﴾

وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے

یَدْعُونَ فِیهَا بِکُلِّ فَاکِهَةٍ آمِنِینَ ﴿۵۵﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَةَ الاَُولَیٰ

وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے

وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿۵۶﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ هُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿۵۷﴾

اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.

فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿۵۸﴾فَارْتَقِبْ إنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿۵۹﴾

پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی (قیامت کے) منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔

مقدمہ تعارف

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِهِ، وَخَلَقَ الْاَشْیاءَ ناطِقَةً بِحَمْدِهِ وَشُکْرِهِ،

سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں

وَ الصَّلاَةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُهُ مِنِ اسْمِهِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِهِ

اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی

الطَّاهِرِینَ أُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ ۔

پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔

امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی (خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے) عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان(جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے)کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:

پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔

دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تیسرا باب : اس میں آئمہعليه‌السلام کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔(مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں)۔جزاک اللہ احسن الجزا

سورہ روم

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الَمَ ﴿۱﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲﴾ فِی أَدْنَی الاََرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿۳﴾ فِی

الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا

بِضْعِ سِنِینَ لِلّهِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿۴﴾ بِنَصْرِ ﷲ یَنْصُرُ

کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے

مَنْ یَشَائُ وَهُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۵﴾وَعْدَ ﷲ لاَ یُخْلِفُ ﷲ وَعْدَهُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ

اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے

یَعْلَمُونَ ﴿۶﴾ یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿۷﴾ أَوَ

یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے

لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ ﷲ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَأَجَلٍ

دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت

مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ﴿۸﴾أَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ

کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان

فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الاََرْضَ

لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد

وَعَمَرُوهَا أَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ وَلکِنْ

کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے

کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ﴿۹﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ أَسَاؤُوا السُّوأی أَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ

ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے

وَکَانُوا بِهَا یَسْتَهْزِیُونَ﴿۱۰﴾ ﷲ یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ﴿۱۱﴾ وَیَوْمَ

اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس

تَقُومُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿۱۲﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَکَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَکَانُوا

دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا

بِشُرَکَائِهِمْ کَافِرِینَ﴿۱۳﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَمَّا الَّذِینَ

اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا

آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِی رَوْضَةٍ یُحْبَرُونَ ﴿۱۵﴾ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا

اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں

بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَةِ فَأُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿۱۶﴾فَسُبْحَانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ

اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور

وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ ﴿۱۸﴾

جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے

یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذٰلِکَ

وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی

تُخْرَجُونَ ﴿۱۹﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿۲۰﴾

مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے

وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت

إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿۲۱﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ

و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے (خداکی) نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری

وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿۲۲﴾وَمِنْ آیَاتِهِ مَنَامُکُمْ

زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و

بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِهِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَمِنْ

کرم (روزی) کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی

آیَاتِهِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِهِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ

نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،

فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿۲۴﴾وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إذَا

بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم

دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِنَ الاََرْضِ إذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿۲۵﴾وَلَهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ

ہیں پھر(موت کے بعد) جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم (زندہ ہوکر) زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے

لَهُ قَانِتُونَ ﴿۲۶﴾ وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ المَثَلُ الاََعْلَی

اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے

فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۲۷﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ هَلْ

اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم

لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَأَنْتُمْ فِیهِ سَوَائٌ تَخَافُونَهُمْ

نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائو

کَخِیفَتِکُمْ أَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۲۸﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا

(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے

أَهْوَاءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَهْدِی مَنْ أَضَلَّ ﷲ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۹﴾ فَأَقِمْ وَجْهَکَ

بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے

لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَةَ ﷲ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ ﷲ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ

پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ

وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾ مُنِیبِینَ إلَیْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِیمُوا الصَّلاةَ وَلاَ تَکُونُوا

میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی

مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ

سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو

فَرِحُونَ ﴿۳۲﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِیبِینَ إلَیْهِ ثُمَّ إذا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً

دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب

إذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ﴿۳۳﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿۳۴﴾

وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے

أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطَاناً فَهُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِهِ یُشْرِکُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إذَا أَذَقْنَا النَّاسَ

انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟

رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَ إنْ تُصِبْهُمْ سَیِّءَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ إذَا هُمْ یَقْنَطُونَ ﴿۳۶﴾ أَوَ لَمْ

اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا

یَرَوْا أَنَّ ﷲ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۳۷﴾

ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.

فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّهُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ

پس(اے رسول ) اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی

وَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُفْلِحُونَ ﴿۳۸﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ

چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں

عِنْدَ ﷲ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ فَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُضْعِفُونَ ﴿۳۹﴾ ﷲ

بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے

الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ

جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں

مِنْ شَیئٍ سُبْحانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿۴۰﴾ ظَهَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا

میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں

کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ﴿۴۱﴾قُلْ سِیرُوا فِی

کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں

الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُهُمْ مُشْرِکِینَ ﴿۴۲﴾ فَأَقِمْ

(اے رسول ) کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.

وَجْهَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَهُ مِنَ ﷲ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿۴۳﴾

(اے رسول ) وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا

مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِهِمْ یَمْهَدُونَ ﴿۴۴﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ

ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور

آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿۴۵﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ یُرْسِلَ

اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے

الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ

کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں

وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿۴۶﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِهِمْ فَ جَاءُوهُمْ

چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور(اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ

بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿۴۷﴾ﷲ الَّذِی

روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے

یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفاً فَتَرَی

جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو

الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِهِ فَ إذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿۴۸﴾

کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں

وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِینَ ﴿۴۹﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَةِ ﷲ

اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ

کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿۵۰﴾

مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَأَوْهُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ یَکْفُرُونَ ﴿۵۱﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ

اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس (اے رسول ) تم اپنی آواز نہ

المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿۵۲﴾ وَمَا أَنْتَ بِهَادِی العُمْیِ عَنْ

مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو

ضَلاَلَتِهِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ﴿۵۳﴾ ﷲ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ

تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز

ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَیْبَةً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ

(نطفہ) سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے

وَهُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿۵۴﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ

اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی

کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿۵۵﴾ وَقَالَ الَّذِینَ أُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ

طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے

ﷲ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَهذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۵۶﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ

تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے

الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلاَ هُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿۵۷﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی هذَا القُرْآنِ

عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے

مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآیَةٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ أَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿۵۸﴾

اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو

کَذالِکَ یَطْبَعُ ﷲ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۵۹﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ وَلاَ

جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو (اے رسول ) تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے

یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿۶۰﴾

اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔

سورہ دخان

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حمَ ﴿۱﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ۲﴾ إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿۳﴾ فِیهَا

حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب

یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿۴﴾ أَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿۵﴾ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ إنَّهُ

قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے

هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿۷﴾

بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو

لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿۸﴾بَلْ هُمْ فِی شَکٍّ

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں

یَلْعَبُونَ﴿۹﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿۱۰﴾ یَغْشَی النَّاسَ هذَا عَذَابٌ

پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو

أَلِیمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿۲۱﴾أَ نَّی لَهُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ

(کافربھی) کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں (بھلا) اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،

جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿۱۴﴾ إنَّا کَاشِفُواْ

جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے (اچھا) ہم تھوڑے دنوں

العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَاءِدُونَ ﴿۱۵﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿۱۶﴾

کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿۱۷﴾ أَنْ أَدُّوا إلیَّ عِبَادَ ﷲ إنِّی

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر (موسیٰ) آئے (اورکہا) کہ بندگان خدا(بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو کہ

لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ ﴿۱۸﴾وَأَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی ﷲ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿۱۹﴾وَ إنِّی

میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس

عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ﴿۲۰﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا

چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو( وہ تنگ کرنے لگے) تب موسیٰ

رَبَّهُ أَنَّ هؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿۲۲﴾فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَاتْرُکِ

نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو (حکم ملا) تم میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم

البَحْرَ رَهْواً إنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿۲۴﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿۲۵﴾وَزُرُوعٍ

ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،

وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿۲۶﴾وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیهَا فَاکِهِینَ﴿۲۷﴾کَذٰ لِکَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿۲۸﴾

نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا

فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿۲۹﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ

پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے

العَذَابِ المُهِینِ﴿۳۰﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّهُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿۳۱﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ

نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر

عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿۳۲﴾ وَآتَیْنَاهُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیهِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿۳۳﴾ إنَّ هؤُلاَئِ

سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ (کفار مکہ) مسلمانوں سے کہتے ہیں

لَیَقُولُونَ ﴿۳۴﴾ إنْ هِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿۳۵﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إنْ

کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ

کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۳۶﴾ أَهُمْ خَیْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَکْنَاهُمْ إنَّهُمْ کَانُوا

کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار

مُجْرِمِینَ﴿۳۷﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَالاَعِبِینَ ﴿۳۸﴾ مَاخَلَقْناهُمَا

لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک

إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۹﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿۴۰﴾

مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے( قیامت) کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے

یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ یُنْصَرُونَ ﴿۴۱﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،

العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۴۲﴾ إنّ َشَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿۴۳﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿۴۴﴾ کَالْمُهْلِ یَغْلِی

رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح

فِی البُطُونِ ﴿۴۵﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿۴۷﴾

پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے (حکم ہوگا فرشتو!) اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو

ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿۴۸﴾ ذُقْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿۴۹﴾

پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.

إنَّ هذَا مَا کُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ﴿۵۰﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ أَمِینٍ﴿۵۱﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿۵۲﴾

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،

یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿۵۳﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿۵۴﴾

وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے

یَدْعُونَ فِیهَا بِکُلِّ فَاکِهَةٍ آمِنِینَ ﴿۵۵﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَةَ الاَُولَیٰ

وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے

وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿۵۶﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ هُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿۵۷﴾

اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.

فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿۵۸﴾فَارْتَقِبْ إنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿۵۹﴾

پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی (قیامت کے) منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔

مقدمہ تعارف

بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِهِ، وَخَلَقَ الْاَشْیاءَ ناطِقَةً بِحَمْدِهِ وَشُکْرِهِ،

سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں

وَ الصَّلاَةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُهُ مِنِ اسْمِهِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِهِ

اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی

الطَّاهِرِینَ أُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ ۔

پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔

امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی (خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے) عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان(جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے)کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:

پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔

دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تیسرا باب : اس میں آئمہعليه‌السلام کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔(مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں)۔جزاک اللہ احسن الجزا


27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88