مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)2%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205914 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

(آٹھو یں فصل )

بیماریوں کیلئے چند دعائیں۔

(پہلی دعا)

منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فر ما یا کہ درد کے لئے یہ دعا پڑھو:

بِسْمِ ﷲ وَبِالله کَمْ مِنْ نِعْمَةٍ لِلّٰهِ، فِی عِرْقٍ ساکِنٍ وَغَیْرِ ساکِنٍ، عَلَی عَبْدٍ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی کتنی نعمتیں جو ساکن اور متحرک رگوںمیں ہیں شکر کرنے والے اور ناشکرے

شاکِرٍ وَغَیْرِ شاکِرٍ

بندوں پر۔

پھر فریضہ نماز کے بعد اپنی دا ڑھی کو پکڑے اور تین مر تبہ کہے:

اَللّٰهُمَّ فَرِّجْ عَنِّی کُرْبَتِی وَعَجِّلْ عافِیَتِیْ وَاکْشِفْ ضُرِّی

اے معبود میری مصیبت دور کر دے جلد عا فیت عطا کر اور میرا غم مٹا دے۔

اس میں کوشش کرے کہ یہ عمل گریہ اور آنسوئوں کے ساتھ انجام پائے ۔

(دوسری دعا)

امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ درد کی جگہ پر ہا تھ رکھے اور کہے:

بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَمُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے اور خدا کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور نہیںکو ئی طاقت و قوت مگر جو خدا

بِالله اَللّٰهُمَّ امْسَحْ عنِّی مَا أَجِدُ

کی ہے اے معبو د وہ درد ہٹا دے جسے محسوس کرتاہوں۔

اس کے بعد اپنا دایاں ہاتھ تین مر تبہ درد کے مقام پر پھیرے ۔

(تیسری دعا)

امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ حضرت امیر المومنین- بیمار ہوئے تو رسول خدا ان کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لا ئے اور فرمایا کہ اے علیعليه‌السلام یہ دعا پڑھو:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ تَعْجِیلَ عافِیَتِکَ وَصَبْراً عَلَی بَلِیَّتِکَ وَخُرُوجاً إلَی رَحْمَتِکَ

اے معبود تجھ سے مانگتا ہوں تیری طرف سے جلد صحت تیری طرف سے آئی مصیبت پر صبر اور تیری رحمت کی طرف جا نے کی توفیق ۔

(چو تھی دعا)

امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھو :

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُک بِحَقِّ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ الَّذِی نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاََمِینُ وَهُوَ عِنْدَکَ

اے معبو د میں تجھ سے سوال کرتا ہوں قرآن عظیم کے حق کا وا سطہ دے کر کہ جس کو لے کر رو ح الامین نا زں ہوتے رہے اور

فِی أُمِّ الْکِتابِ عَلِیٌّ حَکِیمٌ، أَنْ تَشْفِیَنِی بِشِفائِکَ وَتُدَاوِیَنِی

تیرے ہا ں دفتر کل مو جو د ہےبلند مر تبہ حکمت و ا لا ہے یہ کہ تو مجھے اپنی طرف سے شفا دے اور دوا سے

بِدَوَائِکَ وَتُعافِیَنِی مِنْ بَلائِکَ

میری چارہ گری فرما اور اپنی بلائوں سے محفوظ و مامو ن رکھ ۔

اس کے بعد آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجے ۔

(پا نچویں دعا)

ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میرے گھٹنے میں درد ہو گیا تو میں نے امام محمد باقر - سے اس کا ذکر کیا پس آ پ نے فرما یا کہ جب نماز ادا کر چکو تو یہ دعا پڑھا کرو:

یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطَیٰ وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ

اے سب سے دینے والوں سے زیادہ سخی اے سوا ل کیے جا نے وا لو ں میں بہترین اور اے رحم مانگے جا نے والوں میں زیادہ

اِرْحَمْ ضَعْفِی وَقِلَّةَ حِیلَتِی، وَاعْفِنِی مِنْ وَجَعِی

رحم والے رحم فرما میری کمزوری اور میری ناکام تد بیروں پر اور مجھ کو اس درد سے نجا ت دے۔

ابو حمزہ کہتے ہیں میں نے یہ دعا پڑھی اور اس درد سے شفا پا ئی ۔

مؤ لف کہتے ہیں اس کتاب کے تیسرے باب کے شروع میں امراض اور بیماریوں کو دور کر نے کی بہت سے دعایں ذکر کی جا چکی ہیں۔

(نو یں فصل )

چند حرزوں اور تعویذوں کا ذکر ۔

اس فصل میں پا نچ چیزوں کا ذکر ہو گا ۔

رات دن میں وحشت وتنہائی سے بچنے کی دعا

( ۱ )روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادق - سے اپنی وحشت وتنہائی کی شکا یت کی تو آپ نے فرمایاآیا میں تمہیںوہ چیز نہ بتاؤں کہ جسے تم پڑھو تو رات یادن میں کسی بھی وقت تمہیںڈرنہ لگے پس وہ دعا یہ ہے۔

بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَتَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ إنَّهُ مَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے میرا بھروسہ خدا پر ہے یقینا جو بھی خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو

ﷲ فَهُوَ حَسْبُهُ إنَّ ﷲ بالِغُ أَمْرِهِقَدْ جَعَلَ ﷲ لِکُلِّشَیْئٍ قَدْراً

وہ اس کے لئے کافی ہو رہتا ہے ضرور خدا اپنے کام پر حاوی ہے یقینا خدا نے قرار دیا ہے ہر چیز

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ فِیْ کَنَفِکَ وَفِی جِوارِکَ وَاجْعَلْنِی فِی أَمانِکَ وَفِی مَنْعِکَ

اندازہ اے معبود مجھے اپنے آستانےپر اور اپنے قریب رکھ اور مجھ کواپنی پناہ اور حفاظت میں قرار دے۔

روایت میں آیا ہے ایک شخص متواتر تیس برس تک یہ دعا پڑھتا رہا لیکن ایک رات اسے نہ پڑھا تو بچھو نے اسے ڈس لیا۔

تنہائی میں سوتے وقت کی دعا

( ۲ ) جو شخص کسی مکان یا کمرے میں رات کو تنہا سوتا ہو تو ضروری ہے کہ وہ آیت الکرسی کے بعد یہ دعا پڑ ھا کرے:

اَللّٰهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِی وَآمِنْ رَوْعَتِی وَأَعِنِّی عَلَی وَحْدَتِی

اے معبو د تو تنہا ئی میں میرا رفیق بن اورمیرا خو ف دور کر دے اور اس تنہائی میں میری مدد فر ما۔

تعویذ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حسنین کیلئے

( ۳ ) روایت ہے کہ رسول اکرم نے جناب حسنین+ کو ان کلمات پر مشتمل تعو یذ پہنا یا:

أُعِیذُکُما بِکَلِماتِ ﷲ التَّامَّةِ وَأَسْمَائِهِ الْحُسْنَیٰ کُلِّها عامَّةً

میں نے تم دو نوں کے کا مل کلمات کی پنا ہ میں اور اس کے سبھی بہترین نا موں کی پناہمیں دیا عمو ما ہر ڈ سنے

مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهامَّةِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ عَیْنٍ لامَّةٍ، وَمِنْ شَرِّ حاسِدٍ إذا حَسَدَ

وا لے اور کاٹ کھانے وا لے سے بر ی نظر ڈ النے وا لی ہرآنکھ کے شر سے اور حسد کر نے وا لے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بھی فر ما یا کہ حضرت ابرا ہیمعليه‌السلام نے اپنے فر زندان اسماعیلعليه‌السلام اور اسحاقعليه‌السلام کو اسی طرح سے خدا کی پنا ہ میں دیا تھا ۔

کھٹمل، پسو اور لال بیگ کی اذیت سے بچنے والی دعا

( ۴ ) روا یت ہوئی ہے کہ کسی غزوہ میں صحابہ کرام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کھٹمل، پسو اور لال بیگ سے پہنچنے والی اذیت سے شکایت کی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا رات کو سوتے وقت یہ دعا پڑھا کرو ۔

أَیُّهَا الْاََسْوَدُ الْوَثَّابُ الَّذِی لاَ یُبالِی غَلَقاً وَلاَ باباً، عَزَمْتُ عَلَیْکَ بِأُمِّ الْکِتابِ

اے جھپٹنے وا لے سیا ہ کیڑ ے کہ جو نہ قفل سے اور نہ دروا زے سے ڈ رتا ہے میں تجھے ام الکتا ب کی قسم دیتا ہوں کہ نہ مجھے اذیت دے اور نہ

أَنْ لاَ تُؤْذِیَنِی وَأَصْحابِی إلَی أَنْ یَذْهَبَ اللَّیْلُ وَیَجِیئَ الصُّبْحُ بِمَا جَاءَ

میرے اصحاب کواس وقت تک کہ رات چلی جائے اور صبح آ جائے کہ جس کے ساتھ صبح آ تی ہے۔

چیرنے پھاڑنے والے جانور کو دیکھتے وقت کی دعا

( ۵ ) حضرت امیرلمو منین علی ابن ابی طا لب+ سے ر و ا یت ہے کہ فر ما یا جب کسی چیر نے پھا ڑ نے و ا لے جا نو ر مثلا شیر چیتے ا ور بھیڑئیے کو دیکھو تو یہ پڑھو:

أَعُوذُ بِرَبِّ دانْیالَ وَالْجُبِّ مِنْ کُلِّ أَسَدٍ مُسْتَأْسِد

پناہ لیتا ہوں دانیال کے رب اورکنویںکے رب کی ہر چیر نے پھاڑنے والے شیر سے ۔

امام جعفرصادق - فرماتے ہیں کہ جب کسی درندے کو دیکھوتو اس کے منہ پر آیت الکرسی اوریہ دعا پڑھ کرپھونکو:

عَزَمْتُ عَلَیْکَ بِعَزِیمَةِ ﷲ وَعَزِیمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ

میں نے تجھے باندھ دیاخدا کے ارادے سے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارادے سے

وَعَزِیمَةِ سُلَیَْمانَ بْنِ داوُدَ وَعَزِیمَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ

اورسیلمان بن داود کے ارادے سے مومنوںکے امیر علی ابن ابی طالب +

اَلسَّلَامُ، وَآلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ مِنْ بَعْدِهِ

اور ان کے بعد ہونے والےآئمہ طاہرین کے ارادے کے ساتھ ۔

پس وہ درندہ واپس چلا جائے گا۔

مشکل مصیبت دور ہونے کی دعا

( ۶ ) حضور نے فرمایا یاعلیعليه‌السلام جب تم کسی مشکل یا مصیبت میں پھنس جا ئو تو یہ دعا پڑھو:

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَلاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

خدا کے نام سے جو بڑا رحم و الا مہربان ہے اور نہیں کوئیطاقت و قوت مگر جو خداے بلند و بزرگ کی ہے ۔

تو خدا وند عالم تم سے جس مصیبت کو چاہیگا دور کردے گا

(دسویں فصل)

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے چند مختصر دعائیں۔

اس فصل میں تیس دعائوں کا ذکر کیا جائیگا۔

(پہلی دعا)

امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ مشکل کے و قت یہ د عا پڑھو:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَخْشَاکَ کَأَنِّی أَرَاکَ وَأَسْعِدْنِی بِتَقْوَاکَ وَلاَ تُشْقِنِی

اے معبود مجھے ایسا بنا دے گو یا تجھےدیکھ رہا ہو ں مجھے اپنی حفا ظت میں نیک بخت بنا اور اپنی نافرمانیوں

بِنَشْطِی لِمَعاصِیکَ وَخِرْ لِی فِی قَضائِکَ وَبارِکْ لِی فِی

کے نشے میں مجھے بد بخت نہ بنا اپنے فیصلے میں میرے لیے بہتری فرما اپنی تقدیر کو میرے لیے

قَدَرِکَ حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ وَلاَ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ، وَاجْعَلْ

بابرکت بنا یہاںتک کہ جن باتوں میں تو جلدی کرتا ان میں تاخیر اور جن میں تیزی کرتا ہے ان میں جلدی نہ کر

غِنَایَ فِی نَفْسِی وَمَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَیْنِ مِنِّی وَانْصُرْنِی

میرے نفس کو سیری عطا فرما مجھے میرے کانوں آنکھوں سے فا ئدہ دے ان دونوں کو میرا وارث بنا دے ظلم کرنے

عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی وَأَرِنِی فِیهِ قُدْرَتَکَ یَارَبِّ وَأَقِرَّ بِفَضْلِکَ عَیْنِی

والوں کے خلا ف میری مدد کر اے ب اس میں مجھے اپنی قدرت دکھااور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی کر۔

(دوسری دعا)

امام جعفر صادق - ہی سے روایت ہے کہ یہ دعا پڑھا کرو۔

اَللّٰهُمَّ أَعِنِّی عَلَی هَوْلِ یَوْمِ الْقِیامَةِ وَأَخْرِجْنِی مِنَ الدُّنْیا

اے معبود روز قیامت کے خطروں میںمیری مدد فرمانا مجھے دنیا سے سلامتی کے

سالِماً وَزَوِّجْنِی مِنَ ایمان الْحُورِ الْعِینِ وَاکْفِنِی مَؤُونَتِی وَمَؤُونَةَ عِیٰالِیْ

ساتھ اٹھانا حور العین کےساتھ میرا نکاح کرانا میرے اخراجات میرے عیال کے اخراجات اور لوگوں کے

وَمَؤُونَةَ النَّاسِ وَأَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ

اخراجات میں میری مدد فرما اور مجھےاپنی رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں داخل فرما ۔

( تیسری دعا)

یہ وہ دعا ہے جوانسانوںکو گناہوں سے بچاتی ہے اور دنیا وآخرت کیلئے برابر کی مفید ہے۔

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم یَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ وَلَمْ یَهْتِکِ

خدا کے نام سے جوبڑا رحم والا مہربان ہے اے وہ ذات جسں نے نیکی کو ظاہر کیا اور بدی کو ڈھانپ دیا اور میری پردہ دری

السِّتْرَ عَنِّی یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ یَا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ وَیَا باسِطَ الْیَدَیْنِ

نہیں کی اے معا فی د ینے میں سخی بہترین درگذر کرنے والے اے بہت بخشنے والے اے رحمت کرنے میں کھلے ہاتھوں والے

بِالرَّحْمَةِ یَا صاحِبَ کُلِّ نَجْوَیٰ وَیَا مُنْتَهی کُلِّ شَکْوَیٰ یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ

اے سرگوشی کے وقت حاضراور اے ہر شکایت کے پہنچنے کےمقام اے در گزر میں دریا دل اے بڑے احسان والے اے حق داری

یَا مُبْتَدِیََ کُلِّ نِعْمَةٍ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها، یَا رَبَّاهُ یَا سَیِّداهُ یَا مَوْلاهُ

سے پہلے نعمت عطا کر دینے والے اے پالنے والے اے سردار اے مالک اے مقصود

یَا غایَتَاهُ یَا غِیَاثاهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وأَسْأَلُکَ أَنْ لاَ تَجْعَلَنِی فِی النَّارِ

اے فریاد رس رحمت فرما محمد وآل محمدپراورتجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنممیں نہ ڈالنا ۔

(چوتھی دعا)

امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ حاجتوں میں یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِی فِی کُلِّ کُرْبَةٍ وَأَنْتَ رَجائِی فِی کُلِّ شِدَّةٍ

اے معبود تو ہر مصیبت میں میرا سہارا ہے ہر سختی میں تو ہی میری امیدکی جگہ ہے ہر تنگی جو مجھ پر آتی

وَأَنْتَ لِی فِی کُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِی ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ کَمْ مِنْ کَرْبٍ یَضْعُفُ

ہے اس میں تو ہی میرا آسرا ہےاور پونجی ہے کتنی ہی مشکلیںہیں جن سے میرا دل کمزور ہوجاتا ہے

عَنْهُ الْفُؤادُ وَتَقِلُّ فِیهِ الْحِیلَةُ وَیَخْذُلُ عَنْهُ الْقَرِیبُ وَالْبَعِیدُ وَیَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ

تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں اوراپنے بیگانے سا تھ چھوڑ جاتے ہیں دشمن طعنے دیتے ہیں اور ہرکام پڑا رہ جاتا ہے

وَتُعْیِینِی فِیهِ الْاَُمُورُ أَنْزَلْتُهُ بِکَ وَشَکَوْتُهُ إلَیْکَ راغِباً فِیهِ

جب تیر ے حضور آ تا ہوں تجھ سے عرض کرتا ہوں تیرے سوا دوسروں سے منہ موڑ لیتا ہوں

عَمَّنْ سِوَاکَ فَفَرَّجْتَهُ وَکَشَفْتَهُ وَکَفَیْتَنِیهِ فَأَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ نِعْمَةٍ

پس تو مشکل حل کرتا ہے سختی دور کرتا ہے اور میری سر پر ستی کرتا ہے اور تو ہی ہر نعمت کا مالک ہے ہر

وَصاحِبُ کُلِّ حاجَةٍ وَمُنْتَهَیٰ کُلِّ رَغْبَةٍ فَلَکَ الْحَمْدُ کَثِیراً وَلَکَ الْمَنُّ فاضِلاً

حاجت میں مدد گار ہے اور ہر خوہش پوری کرنے وا لا ہے پس تیرے لئے حمد ہے بہت بہت اور تو ہی احسان میں بڑھا ہوا ہے۔

مؤ لف کہتے ہیں یہ وہی دعا ہے جو حضرت رسول خدا نے بدر اور خندق کی جنگو ں کے مو قعہ پر پڑ ھی تھی اور سید الشھداعليه‌السلام ئ نے عا شورا کے دن پڑھی تھی علا وہ ازیں دو اور دعا ئیں بھی ہیں جو آپ نے یوم عاشور کو پڑھیں ان میں سے ایک وہ ہے جو آپ نے امام زین العابدین- کو تعلیم فرمائی جب کہ آپعليه‌السلام کے بدن سے خون بہہ رہا تھا پس آپعليه‌السلام نے امام سجا د - کو سینہ سے لگا یا اور یہ دعا تعلیم فرمائی جو اہم حاجتوں اور سخت مصیبتوں اور غم اندیشوں کو دور کر نے کے لئے ہے ۔

بِحَقِّ یسَ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ وَبِحَقِّ طه وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ

واسطہ دیتا ہو ں یٰسین اور قرآن حکیم کا اور واسطہ دیتا ہوں طہٰ و القرآن عظیم کا

یَا مَنْ یَقْدِرُ عَلَی حَوائِجِ السَّائِلِینَ یَا مَنْ یَعْلَمُ ما فِی الضَّمِیرِ یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ

اے وہ جو سوال کرنے والوں کی حاجتوں پر قادر ہے اے وہ کہ دلوں کی باتیں جانتاہے اور دکھیا روں کے دکھ دور کرتا ہے

یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُوْمِْینَ یَا مُفَرِّجاً راحِمَ الشَّیخِ الْکَبِیرِ یَا رازِقَ الطِّفْلِ

اورغم زدوں کے غم مٹاتا ہےاے بوڑ ہوںپر رحم کرنے والےعليه‌السلام اے چھوٹے بچوں کوروزی دینے

یا من لا یحتاج الیٰ تفسیر صلی علیٰ محمد و اٰل محمد وفعل بی کذا کذا

والے اے وہ جسے شرح بیان کی ضرورت نہیں رحمت فرما سر کار محمد و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور میری یہ حاجات پوری فرما۔

کذ اکذا کی جگہ اپنی حاجات گنا ئے ۔

(پانچویں دعا)

منقو ل ہے کہ ا مام جعفر صادق - نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیئے اور پھر اس طرح دعا مانگی:

رَبِّ لاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً لاَ أَقَلَّ مِنْ ذلِکَ وَلاَ أَکْثَرَ

پالنے والے مجھے کبھی پلک جھپکنے کے وقت کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا نہ ہی اس سے کم یا زیا د ہ وقت کے لیے

( چھٹی دعا )

امام جعفر صا د ق - ہی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے:

ارْحَمْنِی مِمَّا لاَ طاقَةَ لِی بِهِ وَلاَ صَبْرَ لِی عَلَیْهِ

رحم کر مجھ پر ان تکلیفوں میں جن کیلئے مجھ میں طا قت ہے نہ صبر کا یا را

(سا تو یں دعا)

امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ حا جا ت میں اس طرح دعا مانگو:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِجَلالِکَ وَجَمالِکَ وَکَرَمِکَ أَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا

اے معبود میںتجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دبدے تیری زیبائی اورتیری عطا کا واسطہ دے کر کہ میری یہ ا ور یہ حاجات پوری فرما۔

کذوا کذ اکی بجا ئے اپنی حا جا ت بیان کرے۔

(آٹھویں دعا)

افضل بن یونس کہتے ہیں کہ امام موسی کاظم - نے مجھ سے فرمایا کہ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرو

اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْمُعَارِینَ وَلاَ تُخْرِجْنِی مِنَ التَّقْصِیرِ

اے معبود مجھے ان لوگوںمیں نہ رکھ جن کا ایمان کچا ہے اور مجھے کوتاہی کرنے والوں میں سے شمار نہ کر۔

یعنی اے پروردگار مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن کا ایمان عاریہ وبے ثبات ہے یا ایسے لوگ کہ جن کو تو نے شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا ہے کہ جہاں چاہیں چرتے پھریں اور جہاں چاہیں چلے جائیں اور مجھ کو تقصیر سے باہر نہ نکا ل یعنی مجھے ایسا نہ بنا دے کہ خود کو قصور وار نہ سمجھوں بلکہ ایسا بنا کہ ہمیشہ خودکو تیرے حضور کوتاہی کرنے والا اورناقص عمل والا تصور کروں۔

( نویں دعا)

امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ نے ایک دیہاتی کو ان کلموں کے سبب بخش دیا کہ جن کے ذریعے وہ دعا کیا کرتا تھا ۔

اَللّٰهُمَّ إنْ تُعَذِّبْنِی فَأَهْلٌ لِذلِکَ أَنَا وَ إنْ تَغْفِرْ لِی فَأَهْلٌ لِذلِکَ أَنْتَ

اے معبود اگر تو مجھے عذاب دے تو میں اسی لائق ہوں اگر تو مجھے بخش دے تو یہ تیرے شایان ہے۔

(دسویں دعا )

دائود رقی سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق - کو سنا آپ دعا میں جس چیز کے ساتھ زاری کر رہے تھے وہ پنجتن پاک یعنی محمد و علی و فاطمہ اور حسنین کا واسطہ دیتے اور دعا مانگ رہے تھے۔

(گیارہویںدعا)

یزید صائغ سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے لیے خدا سے دعا کریں تب آپ نے ہمارے لئے یہ دعا فرمائی۔

اَللّٰهُمَّ ارْزُقْهُمْ صِدْقَ الْحَدِیثِ وَأَدائَ الْاََمانَةِ وَالْمُحَافَظَةَ عَلَی

اے معبود تو ان لوگوں کوسچی بات کہنے امانت ادا کرنے اور نماز قائم رکھنے کی توفیق دے اے معبود وہ

الصَّلَوَاتِ اَللّٰهُمَّ إنَّهُمْ أَحَقُّ خَلْقِکَ أَنْ تَفْعَلَهُ بِهِمْ اَللّٰهُمَّ افْعَلْهُ بِهِمْ

تیری مخلوق میں سے اس کے زیادہ مستحق ہیں تو ایسا کرے اے معبود تو ان کےلیے ایسا ہی کر۔

(بارہویں دعا)

امیر المومنین- کی یہ دعا پڑ ھے:

اَللّٰهُمَّ مُنَّ عَلَیَّ بِالتَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَالتَّفوِیضِ إلَیْکَ، وَالرِّضا

اے معبود مجھ پر یہ احسان فرما کہ تجھ پربھروسہ رکھوں اپنے معاملے کو تیرے حوالہ کردوں

بِقَدَرِکَ وَالتَّسْلِیمِ لِاَِمْرِکَ حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ

تیری تقدیر پر راضی رہوںا ور تیرے حکم کے آگے جھکوں وہ یوں کہ تیری تاخیر میں جلدی نہ

مَا أَخَّرْتَ وَلاَ تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ

چاہوں اورتیری جلدی میں تاخیر نہ چاہوں اے جہانوں کے رب ۔

( تیرہویںدعا )

روایت ہوئی ہے کہ جبرائیل امین آئے حضرت رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کیا آپ کا پروردگار فرمارہا ہے کہ ا گر آپ شب و روزمیں میری عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ہاتھ میرے حضور پھیلا کر یہ کہا کریں ۔

اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً خالِداً مَعَ خُلُودِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ

اے معبود تیرے لیے حمد ہےہمیشہ تیری ہمیشگی کے ساتھ،تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد کہ جس کی انتہا نہیں سوائے

مُنْتَهَیٰ لَهُ دُونَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ أَمَدَ لَهُ دُونَ مَشِیئَتِکَ وَلَکَ

تیرے علم کے تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد کہ جس کے لیے مدت نہیں سوائے تیری مرضی کے اورتیرے لیے حمد ہے

الْحَمْدُ حَمْداً لاَ جَزائَ لِقائِلِهِ إلاَّ رِضاکَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّهُ

ایسی حمد کہ حمد کرنے والے کی جزا نہیں سواے تیری خشنودی کے اے معبود تیرے لیے حمد ہے کل کی

وَلَکَ الْمَنُّ کُلُّهُ وَلَکَ الْفَخْرُ کُلُّهُ وَلَکَ الْبَهائُ کُلُّهُ

کل تیرے لیے ہے احسان تمام تر تیرے لیے ہے فخرتمام تر تیرے لیے ہے زیبائی تمام تر

وَلَکَ النُّورُ کُلُّهُ وَلَکَ الْعِزَّةُ کُلُّها وَلَکَ الْجَبَرُوتُ

تیرے لیے ہے نور تمام تر تیرے لیے ہے عزت تمام تر تیرے لیے ہے بلندی تمام تر

کُلُّها وَلَکَ الْعَظَمَةُ کُلُّها، وَلَکَ الدُّنْیا کُلُّها وَلَکَ الْاَخِرَةُ

تیرے لیے ہے بڑائی تمام تر تیرے لیے ہے دنیا تمام تر تیرے لیے ہے آخرت تمام تر

کُلُّها وَلَکَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ کُلُّهُ وَلَکَ الْخَلْقُ کُلُّهُ وَبِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّهُ وَ إلَیْکَ

تیرے لیے ہے رات اور دن تمام تر تیرے لیےہے مخلوق تمام تر تیرے ہاتھ ہے بھلائی تمام تر اور تیری طرف

یَرْجِعُ الْاََمْرُ کُلُّهُ عَلانِیَتُهُ وَسِرُّهُ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً أَبَداً أَنْتَ حَسَنُ

لوٹتے ہیں تمام معاملے وہ ظاہر ہوں یا باطنی اے معبود تیرے لیے حمد ہے ہمیشہ کی حمد کہ توبہتر طریقے سے آزماتا

الْبَلائِ جَلِیلُ الثَّنائِ سابِغُ النَّعْمائِ عَدْلُ الْقَضائِ جَزِیلُ الْعَطائ

ہے۔ بہترین تعریف والا ہےتیری نعمت وسیع ہے تیرا فیصلہ عدل ہے تیری عطا عظیم ہے

حَسَنُ الْاَلائ إلهٌ فِی الْاََرْضِ وَ إلهٌ فِی السَّمائِ اَللّٰهُمَّ لَکَ

تیری نعمتیں عمدہ ہیں تو زمین میں معبود ہے اور آسمان میں معبود ہے۔ اے معبود تیرے لیے

الْحَمْدُ فِی السَّبْعِ الشِّدادِ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْاََرْضِ الْمِهادِ وَلَکَ الْحَمْدُ طاقَةَ

حمد ہے ساتوں آسمانوں میں اور تیرے لیے حمد ہےبچھی ہوی زمین میں تیرے لیے حمد ہے بندوں کی

الْعِبادِ وَلَکَ الْحَمْدُ سَعَةَ الْبِلادِ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْجِبالِ الْاَوْتَادِ وَلَکَ الْحَمْدُ

طاقت اور شہروں کی وسعت کے مطابق اور تیرے لیے حمد ہے گڑھے ہوے پہاڑوں میں اور تیرے لیے حمد ہے

فِی اللَّیْلِ إذا یَغْشَیٰ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی النَّهارِ إذا تَجَلَّیٰ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی

رات میں جب وہ چھا جائےاور تیرے لیے حمد ہے دن میں جب وہ روشن ہو جائے تیرے لیے حمد ہے

الْآخِرَةِ وَالْاَُولی وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْمَثَانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَسُبْحانَ ﷲ

آخرت اور دنیا میں تیرے لیے حمد ہے سورۃ حمد اور عظمت والے قرآن میں اور پاک تر ہے

وَبِحَمْدِهِ، وَالْاََرْضُ جَمِیعاً قَبْضَتُهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَالسَّمٰوَاتُ

اللہ اپنی حمد کے ساتھ قیامت کےروز ساری زمین پر اس کا قبضہ ہوگا اور اس کے دست

مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِهِ سُبْحانَهُ وَتَعالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ، سُبْحانَ ﷲ

قدرت سے آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے وہ پاک اور بلند ہے مشرکوں کی باتوں سے پاک تر ہے اللہ

وَبِحَمْدِهِ کُلُّ شَیْئٍ هالِکٌ إلاَّ وَجْهَهُ سُبْحانَکَ رَبَّنا

اپنی حمد کیساتھ ہر چیزتباہ ہو جائیگی سوائے اس کی ذات کے تو پاک ہے ہمارے رب

وَتَعالَیْتَ وَتَبارَکْتَ وَتَقَدَّسْتَ، خَلَقْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِقُدْرَتِکَ

تو بلند ہے بابرکت ہےاور پاکیزہ ہے تو نے ہر چیز کو اپنی قدرت سے پیدا کیا تو اپنی بلندی

وَقَهَرْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِعِزَّتِکَ وَعَلَوْتَ فَوْقَ کُلِّ شَیْئٍ بِارْتِفاعِکَ وَغَلَبْتَ

کے ساتھ ہر چیز پر غالب ہوا تو اپنی اونچائی کے ساتھ ہر چیز سے بلند تر ہو گیاتو اپنی قوت کے ساتھ

کُلَّ شَیْئٍ بِقُوَّتِکَ وَابْتَدَعْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِحِکْمَتِک وَعِلْمِکَ، وَبَعَثْتَ

ہر چیز پر حاوی ہوا تو نے ہر چیز کو اپنی حکمت وعلم کے ساتھ ایجاد وموجود کیاتو نے رسولوں کو کتا بیں دے کر بھیجا

الرُّسُلَ بِکُتُبِکَ وَهَدَیْتَ الصَّالِحِینَ بِ إذْنِکَ، وَأَیَّدْتَ الْمُؤْمِنِینَ بِنَصْرِکَ

اور اپنے حکم کے ساتھ نیک دل افراد کو ہدایت دی اور اپنی نصرت کے ساتھ مومنوں کی تائیدکی اور اپنی حکومت

وَقَهَرْتَ الْخَلْقَ بِسُلْطانِکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ، لاَ

سے مخلوق پر غالب ہوا نہیں معبود سوائے تیرےتو یکتا ہے تیرا کوئی ثانی نہیں ہم تیرے غیر کی عبادت نہیں کرتے

نَعْبُدُ غَیْرَکَ، وَلاَ نَسْأَلُ إلاَّ إیَّاکَ وَلاَ نَرْغَبُ إلاَّ إلَیْکَ

ہم تیرے علاوہ کسی سے نہیں مانگتے اور تیرے علاوہ کسی کی طرف نہیں جھکتے تو ہی ہماری شکائتیں

أَنْتَ مَوْضِعُ شَکْوَانا وَمُنْتَهَیٰ رَغْبَتِنا وَ إلهُنا وَمَلِیکُنا

سننے والا ہماری رغبت کا آخری مقام ہمارا معبود اورہمارا مالک ہے ۔

( چودہویں دعا)

روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص نے امیر المومنین- سے اپنی دعاؤں کے دیر سے قبول ہونے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا تم دعا سریع الاجابتہ‘‘جلد قبول ہونے والی دعا کیوں نہیں پڑھتے اس نے پوچھا کہ وہ کونسی دعاہے آپعليه‌السلام نے فرمایا وہ دعا یہ ہے۔

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الْاََعْظَمِ الْاََجَلِّ الْاََکْرَمِ الَْمخْزُونِ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے عظیم سے عظیم تر نام کے ساتھ کہ جو دبدبہ وعزت والا خزانوں میں چھپا ہوا

الْمَکْنُونِ النُّورِ الْحَقِّ الْبُرْهانِ الْمُبِینِ الَّذِی هُوَ نُورٌ مَعَ نُورٍ وَنُورٌ مِنْ نُورٍ وَنُورٌ فِی نُورٍ وَنُورعَلَی کُلِّ

حق کا نور اور کھلی ہوئی محکم دلیل ہے تیرا وہ نام جو نور کے ساتھ نورمیں سے نور، نور میں نور ،ہر نور پر دوسرا نور،

نُورٍ، وَنُورٌ فَوْقَ کُلِّ نُورٍ وَنُورٌ تُضِیئُ بِهِ کُلَّ ظُلْمَةٍ، وَیُکْسَرُ بِهِ کُلُّ شِدَّةٍ، وَکُلُّ

ہر نور کے اوپر ایک اور نور ہےوہ نورکے جس سے ہر تاریکی روشن ہو جاتی ہے وہ نام ہر سختی کو توڑتا ہے ہر

شَیْطانٍ مَرِیدٍ وَکُلُّ جَبَّارٍ عَنِید لاَ تَقِرُّ بِهِ أَرْضٌوَلاَ تَقُومُ بِهِ سَمائٌ وَیَأْمَنُ بِهِ کُلُّ

سرکش انسان کو دباتا ہے ہر سخت گیر کو نرم بنا تا اس نام کوزمین سہار نہیں سکتی اور آسمان اسے اٹھا نہیں سکتا اس کے

خائِفٍ وَیَبْطُلُ بِه سِحْر کُلِّ ساحِرٍ وَبَغْی کُلِّ باغٍ حَسَدُ کُل حاسِدٍ وَیَتَصَدَّعُ لِعَظَمَتِهِ الْبَرُّ

ذریعے ہر خائف امن پاتا ہے ہر جادو گر کا جادو ٹوٹتا ہے سرکش کی سرکشی ختم ہوتی ہے حاسد کا حسد مٹ جاتا ہے اس نام کی عظمت

وَالْبَحْرُ وَیَسْتَقِلُّ بِهِ الْفُلْکُ حِینَ یَتَکَلَّمُ بِهِ الْمَلَکُ فَلا یَکُونُ لِلْمَوجِ عَلَیْهِ سَبِیلٌ

سے میدان وسمندر کانپتے ہیں اس کے ذریعے کشتیاں ٹھہر جاتی ہیں جب فرشتہ اسے زبان پر لاتاہے پھر لہریں اس کشتی پر کچھ اثر نہیںکر

وَهُوَ اسْمُکَ الْاََعْظَم الْاََعْظَمُ الْاََجَلُّ الْاََجَلُّ النُّورُ الْاََکْبَرُ الَّذِی

پاتیں اور وہ ہے تیراعظیم سے عظیم تر نام کہ جو روشن سے روشن تر سب سے بڑا نور ہے وہی

سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ وَاسْتَوَیْتَ بِهِ عَلَی عَرْشِکَ وَأَتَوَجَّهُ

جس سے تو نے اپنی ذات کو موسوم کیا اور اسی کے ذریعے تو نے اپنے عرش کو سنوارا ہے

إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وأَسْأَلُکَ بِک وَبِهِمْ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

میں محمد اور ان کی اہل بیت کے ذریعے تیری طرف آیا ہوں اور سوال کرتا ہوںتیرے اور ان کے واسطے سے کہ تو رحمت نازل فرما

مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمد پر اور یہ کہ میرا یہ اور یہ کام بنادے۔

کذا وکذا کی بجاے اپنی حاجات بیان کرے۔

(پندرھویںدعا)

عمر بن ابی مقدام سے روایت ہے کہ انہوںنے کہا حضرت امام جعفر صادق - نے یہ دعا مجھے لکھوائی کہ جو دنیا اور آخرت کیلئے جامع دعا ہے دعا اس طرح ہے کہ پہلے خداے تعالیٰ کی حمد ثنا کی جائے اور پھر اسے پڑھا جاے۔

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْت الْحَلِیمُ الْکَرِیم وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْعَزِیزُ

اے معبود تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جو بردبارو سخی ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو غالب و

الْحَکِیمُ، وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْت الْواحِدُ الْقَهَّارُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ

حکمت والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیںکوئی معبود مگر تو کہ جو تنہا سب پر چھایا ہوا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں

إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَلِکُ الْجَبَّارُ، وَأَنْتَ ﷲ لا إلهَ إلاَّ أَنْت الرَّحِیمُ

کوئی معبود مگر تو کہ جو قابو یافتہ بادشاہ ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو بخشنے والا

الْغَفَّارُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الشَّدِیدُ الْمِحالُ وَأَنْتَ ﷲ

مہربان ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو سخت تر بدلہ لینے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ السَّمِیعُ

کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو بڑائی والا بلند ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو سننے،

الْبَصِیرُ وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَنِیعُ الْقَدِیرُ، وَأَنْتَ ﷲ

دیکھنے والا ہے تو ہی وہ ﷲ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو قدرت والا اور روکنے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَفُورُ الشَّکُورُ وَأَنْت اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَمِیدُ

کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو معاف کرنے والا قدردان ہے تو ہی وہ اللہ ہےکہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو خوبیوں

الْمَجِیدُ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَنِیُّ الْحَمِیدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ

والا شان والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو بے نیاز و تعریف والا ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَفُورُ الْوَدُودُوَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَنَّانُ

ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو پردہ ڈالنےاور محبت کرنے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہےکہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو احسان کرنے

الْمَنَّانُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَلِیمُ الدَّیَّانُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ

والا مہربان ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو جزا دینے والا بردبارہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں

إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْجَوادُ الْماجِدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْواحِدُ

کوئی معبودمگرتوجو بڑا سخی و بزرگ ہے تو ہی وہ ﷲ ہے ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو یگانہ

الْاََحَدُ، وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغائِبُ الشَّاهِدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ

و یکتاہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو نہاں و عیاں ہے تو ہی وہ اللہ ہے

لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الظَّاهِرُ الْباطِنُ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ بِکُلِّ

کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو پو شیدہ وآشکار ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو ہر

شَیْئٍ عَلِیمٌ تَمَّ نُورُکَ فَهَدَیْتَ، وَبَسَطْتَ یَدَکَ فَأَعْطَیْتَ رَبَّنا

چیز کا علم رکھتا ہے تیرا نور کامل ہے کہ تو نے ہدایت دی تیرا ہاتھ کھلا ہے کہ عطا فرماتا ہے اے ہمارے رب

وَجْهُکَ أَکْرَمُ الْوُجُوهِ وَجِهَتُکَ خَیْرُ الْجِهاتِ وَعَطِیَّتُکَ أَفْضَلُ

تیری ذات سب سے زیادہ عزت والی ہے تیری سمت سب سمتوں سے بہتر ہے تیری عطا سب عطائوں سے افضل

الْعَطایَا وَأَهْنَأُها تُطاعُ رَبَّنا فَتَشْکُرُ وَتُعْصیٰ رَبَّنا فَتَغْفِرُ لِمَنْ شِئْتَ

اور خوشگوار ہے اے ہمارے رب تو اطاعت پر قدر دانی کرتا ہے اے ہمارے رب تو نافرمانی پر جسے

تُجِیبُ الْمُضْطَرِّینَ وَتَکْشِفُ السُّوئَ وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ وَتَعْفُو

چاہے بخش دیتاہے تو بے کسوں کی دعائیں سنتا ہے تکلیفیں دور کرتا ہے توبہ قبول فرماتاہے گناہوں

عَنِ الذُّنُوبِ لاَ تُجَازَی أَیادِیکَ وَلاَ تُحْصی نِعَمُکَ، وَلاَ یَبْلُغُ

کی معافی دیتا ہے تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دیا جاسکتا تیری نعمتوں کا شمار نہیں ہو سکتا اور کسی بولنے

مِدْحَتَکَ قَوْلُ قائِلٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

والے کی گفتگو تیری تعریف نہیں کر سکتی اے معبود رحمت فرما محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَرَوْحَهُمْ وَراحَتَهُمْ وَسُرُورَهُمْ، وَأَذِقْنِی طَعْمَ فَرَجِهِمْ وَأَهْلِکْ

ان کو جلد کشادگی دے ان کو جلد خوشی واطمینان اور مسرت عطا فرما اور مجھے ان کی کشا ئش کا زمانہ دکھا اور ان کے

أَعْدائَهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا

دشمنوں کو تباہ کر دے جو جنوں اور انسانوں میں ہیں ہمیں دنیا میں بہتری اور آخرت میں فلا ح عطا فرما ہمیں جہنم کی سختی

عَذَابَ النَّارِ وَاجْعَلْنا مِنَ الَّذِینَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ

سے امان دے اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جن کو نہ خوف آتا ہےنہ انہیں غم ستاتا ہے مجھے ان لوگوں

وَاجْعَلْنِی مِنَ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ وَثَبِّتْنِی

میں رکھ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے رہے۔ مجھے اچھی باتوں پر قائم رکھ دنیاوی

بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَفِی الْاَخِرَةِ وَبارِکْ لِی فِی الْمَحْیَا وَالْمَماتِ

زندگی اورآخرت کی زندگی میں میرے لئے زندگی اور موت کو بابرکت بنا نیز پیشی کی جگہ دوبارہ اٹھنے حساب دینے

وَالْمَوْقِفِ وَالنُّشُورِ وَالْحِسابِ وَالْمِیزانِ وَأَهْوَالِ یَوْمِ الْقِیامَةِ وَسَلِّمْنِی عَلَی الصِّراطِ

اعمال کے تلنے اور قیامت کے خطرات میں بہتری عطا کرنا مجھے پل صراط پر قائم رکھنا اور اس سے پار کردینا

وَأَجِزْنِی عَلَیْهِ وَارْزُقْنِی عِلْماً نافِعاً وَیَقِیناً صادِقاً، وَتُقیً وَبِرّاً وَوَرَعاً وَخَوْفاً مِنْکَ

نیز مجھ کو نفع بخش علم اور پکار اور سچا یقین ، پرہیزگاری نیکی قناعت اور اپنا خوف عطا کر مجھے ایسی تڑپ

وَفَرَقاً یُبَلِّغُنِی مِنْکَ زُلْفَیٰ وَلاَ یُبَاعِدُنِی عَنْکَ وَأَحْبِبْنِی وَلاَ تُبْغِضْنِی وَتَوَلَّنِی

دے جو مجھے تیرے قریب کرے اور تجھ سے دورنہ ہٹاے۔ مجھے دوست رکھ اور مجھ سے ناراض نہ ہو میری سرپرستی کر

وَلاَ تَخْذُلْنِی وَأَعْطِنِی مِنْ جَمِیعِ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاَخِرَةِ مَا عَلِمْتُ

اور تنہا نہ چھوڑ مجھے دنیا اور آخرت کی بھلایوں میں سے ہربھلائی سے نواز کہ جسے میں جانتا ہوں اور جسے

مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ وَأَجِرْنِی مِنَ السُّوئِ کُلِّهِ بِحَذَافِیرِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ

نہیں جانتا اور مجھے ہر طرح کی برایوں سے پوری طرح بچاے رکھ کہ جنہیں میں جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا۔

(سولہویں دعا)

معاویہ بن عمار سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کیا کہ آیا آپ مجھے تعلیم دعا کے ساتھ مخصوص نہیں فرمائیں گے حضرتعليه‌السلام نے فرمایا کیوں نہیں تم یہ دعا پڑھا کرو ۔

یَا واحِدُ یَا ماجِدُ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ، یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ

اے یگانہ اے بزرگوار اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے

یَا عَزِیزُ یَا کَرِیمُ یَا حَنَّانُ، یَا سامِعَ الدَّعَوَاتِ، یَا أَجْوَدَ

اے با عزت اے سخی اے مہربان اے دعائوںکے سننے والے اے سب سے سخی جن سے سوال

مَنْ سُئِلَ وَیَا خَیْرَ مَنْ أَعْطَیٰ یَا اَللّٰهُ یَا ﷲ یَا ﷲ، قُلْتَ وَلَقَدْ نَادَانا نُوحٌ

ہوتا ہے اے عطا کرنے والوں میں بہتر یا اللہ یا اللہ یا اللہ تو نے فرمایا ہے کہ نوحعليه‌السلام نے ہمیں پکارا تو ہم کیا

فَلَنِعْمَ الْمُجِیبُونَ

ہی اچھے قبول کرنے والے ہیں ۔

پھر آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ رسول خدا یہ بھی کہا کرتے تھے:

نَعَمْ لَنِعْمَ الْمُجِیبُ أَنْتَ وَنِعْم الْمَدْعُوُّ وَنِعْمَ الْمَسْؤُولُ أَسْأَلُکَ

ہاں ضرور تو اچھا کرنے والا ہے تو اچھا پکارا جانے والا ہے اور اچھا سوال کیے جانے والا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں

بِنُورِ وَجْهِکَ وأَسْأَلُکَ بِعِزَّتِکَ وَقُدْرَتِکَ وَجَبَرُوتِکَ وَأَسْأَلُک َبِمَلَکُوتِکَ

تیرے نور ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں تیری عزت تیری قدرت اور اقتدار کے واسطے سے سوال کرتا ہوں تیری بادشاہی

وَدِرْعِکَ الْحَصِینَةِ وَبِجَمْعِکَ وَأَرْکانِکَ کُلِّها وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَبِحَقِّ الْاََوْصِیائِ بَعْدَ

تیری محکم زرہ تیری تمام چیزوں اور تیرے پیدا کردہ عناصر کے واسطے سے اور حضرت محمد اور انکے اوصیاعليه‌السلام کے حق کے واسطے سے

مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَل بِی کَذا کَذا

یہ کہ تو درود بھیج محمد و آلعليه‌السلام عليه‌السلام محمد پر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما

کذا کذا کی بجاے اپنی حاجات گنواے ۔

(سترہویں دعا )

روایت ہوئی ہے کہ کوفہ کا ایک شخص جس کا نام ابو جعفر تھا وہ حضرت امام جعفر صادق - کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا بتائیں جو میں پڑھا کروں تو آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو ۔

یَا مَنْ أَرْجُوهُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَیَا مَنْ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ کُلِّ عَثْرَةٍ وَیَا مَنْ یُعْطِی بِالْقَلِیلِ

اے وہ جس سے ہر بھلائیکا امید وار ہوں اے وہ کہ ہر تنگی میں جس کی ناراضگی سے محفوظ ہوں اے وہ جو کم عمل پر زیادہ اجر

الْکَثِیرَ یَا مَنْ أَعْطَیٰ مَنْ سَأَلَهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً یَا مَنْ أَعْطَیٰ

دیتا ہے اے وہ کہ جو سوال کرے اسے مہربانی و رحم کے ساتھ عطا کرتا ہے اے وہ جو اسے بھی دیتا

مَنْ لَمْ یَسْأَلْهُ وَلَمْ یَعْرِفْهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعْطِنِی بِمَسْأَلتِی

ہے جو نہ اس سے مانگتا ہے نہ اسے پہچانتا ہے تو درود بھیج محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور میری ہر وہ حاجت

مِنْ جَمِیعِ خَیْرِ الدُّنْیا وَجَمِیعِ خَیْرِ الْاَخِرَةِ فَ إنَّهُ غَیْرُ مَنْقُوصٍ

پوری کر جو دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے مجھے در پیش ہیں کیونکہ جو کچھ تو عطا کرتا ہے وہ کم

مَا أَعْطَیْتَنِی، وَزِدْنِی مِنْ سَعَةِ فَضْلِکَ یَا کَرِیمُ

نہیں ہوتااور مجھے اپنے وسیع فضل میں سے عطا فرما اے سخی ۔

(اٹھارہویں دعا)

روایت ہے کہ یہ دعا حضرت امام محمد باقر - نے اپنے بھائی عبد اللہ بن علی کو تعلیم فرمائی تھی ۔

اَللّٰهُمَّ ارْفَعْ ظَنِّی صاعِداً وَلاَ تُطْمِعْ فِیَّ عَدُوّاً وَلاَ حاسِداً

اے معبود میرے گمان کو بلند کر دے اور دشمن اور حاسد کو میرے متعلق ارادہ نہ کرنے دے

وَاحْفَظْنِی قائِماً وَقاعِداً وَیَقْظاناً وَرَاقِداً اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی

اور میری حفاظت فرما جب کھڑا ہوں بیٹھا ہوں بیدار اور سویا ہوا ہوں اے معبود مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر

وَاهْدِنِی سَبِیلَکَ الاَقْوَمَ وَقِنِی حَرَّ جَهَنَّمَ وَاحْطُطْ عَنِّی الْمَغْرَمَ

اور مجھے اپنے سیدھے راستے پر لگا دے مجھے آتش جہنم سے بچا اور مجھ پر قرض اور گناہوں کا بوجھ

وَالْمَأْثَمَ وَاجْعَلْنِی مِنْ خِیارِ الْعالَمِ

اتار دے اور مجھے دنیا کے اچھے لوگوں میں قرار دے ۔

(انیسویں دعا )

روایت میں ہے کہ یہ عاجزی و انکساری والی دعا ہے :

اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَما بَیْنَهُنَّ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیم ِوَرَبَّ

اے معبود اے ساتوں آسمانوں اور اسکے درمیان کی چیز کے رب اے عظمت والے عرش کے رب اے

جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَرَبَّ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ

جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے بڑی شان والے قرآن کے

مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ إنِّی أَسْأَلُکَ بِالَّذِی تَقُومُ بِهِ السَّمائُ وَبِهِ

رب اے نبیوں کے خاتم محمد مصطفے کے رب میں اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے آسمان قائم اور زمین

تَقُومُ الْاََرْضُ، وَبِهِ تُفَرِّقُ بَیْنَ الْجَمْع وَبِهِ تَجْمَعُ بَیْنَ الْمُتَفَرِّقِ

ٹھہری ہوئی ہے جس کے ذریعےتو لشکروں کو منتشر کرتاہے اور بچھڑےہوؤں کو ملاتا ہے جس کے ذریعے

وَبِهِ تَرْزُقُ الْاََحْیائَ وَبِهِ أَحْصَیْتَ عَدَدَ الرِّمالِ وَوَزْنَ الْجِبالِ وَکَیْلَ الْبُحُور

زندہ کو تو روزی دیتا ہے جسکے ذریعے توریت کے ذرات، پہاڑ کے وزن اور سمند ر کے پانی کا حساب کرتا ہے ۔

پھر محمد و آل محمد پر درود بھیجے عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا مانگے اور اپنی حاجات پر اصرار طلب کرے ۔

چھٹی فصل

فضیلت واعمال مسجد سہلہ مسجد زید اور مسجد صعصعہ

مسجد کوفہ کے بعد وہاں کوئی مسجد فضیلت میں مسجد سہلہ سے بڑھ کر نہیں ہے( مسجد سہلہ اب کوفہ سے کچھ فاصلے پر موجود ہے۔) در اصل یہ حضرت ادریس- اور حضرت ابراہیم - کا گھر حضرت خضر - کی آمد کا مقام اور ان کی جائے سکونت ہے۔ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ آپ نے ابو بصیر سے فرمایا: اے ابو محمد؟! گویا میں یہ دیکھتا ہوں کہ امام صاحب الزمان ا پنے اہل وعیال سمیت مسجد سہلہ میں اتر تے ہیں اور یہ انکا مسکن ہے خدا نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا جس نے مسجد سہلہ میں نماز نہ پڑھی ہو جو شخص اس مسجد میں ٹھہرے وہ ایسے ہے جیسے اسنے رسول اکرم کے خیمے میں قیام کیا ہوہر مؤمن مرد اور مومنہ عورت کا دل اس مسجد کی طرف مائل ہے اس مسجد میں ایک پتھر ہے کہ جس پر ہر پیغمبر کی صورت نقش ہے پس جو شخص بھی خالص نیت کے ساتھ اس مسجد میں نماز ادا کرے اور دعا مانگے تو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے جو شخص اس مسجد میں امان طلب کرے تو اسے ہر خوف سے امان مل جاتی ہے ۔ ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ کیااس مسجد کی فضیلت یہی ہے؟ آپ نے فرمایا اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے اس سے جو میں نے تمہیں بتائی ہے۔ہاں تو یہ و ہ مقام ہے جسے خدا تعالی پسند فرماتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے اس مسجد میں یاد کیا جائے اور اس سے سوال کیا جائے چنانچہ کوئی رات دن نہیں گزرتا سوائے اس کے کہ ملائکہ اس مسجد کی زیارت کو آتے ہیں۔ اور یہاں خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اے ابو محمد! اگر تمہاری طرح میں بھی ا س مسجد کے نزدیک رہنے والا ہوتا تو یہیںتمام نمازیں پڑھا کرتا۔ پھر فرمایا کہ اے ابو محمد! میں نے اس مسجد کے جو خصائص نہیں بتائے وہ ان سے زیادہ ہیں جو تمہیں بتائے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ پر قربان ہوجائوں! کیا قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ اس مسجد میںہوں گے۔ تو آپ نے فرمایا ہاں!

مسجد سہلہ کے اعمال

مغربین اور سونے کے درمیانی وقت میں دو رکعت نماز مسجد سہلہ میں بجالانا مستحب ہے امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص یہ نماز پڑھے اور پھر دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم دور کردے گا بعض کتب زیارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسجد سہلہ میں داخل ہونے لگے تو دروازے پر کھڑے ہوکر کہے:

بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَمِنَ ﷲ، وَ إلَی ﷲ، وَمَا شائَ ﷲ، وَخَیْرُ الْاََسْمائِ ﷲِ، تَوَکَّلْتُ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی طرف اور جو کچھ خدا چاہے اور خدا کے بہترین نام سے بھروسہ کرتا ہوں خدا پر

عَلَی ﷲ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ عُمّارِ

اس علی وعظیم کے سوا کوئی حرکت و قوت نہیں ہے اے معبود!مجھے ان میں سے قرار دے جو تیری

مَساجِدِکَ وَبُیُوتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأُقَدِّمُهُمْ بَیْنَ یَدَیْ

مسجدوں اور تیرے گھروں کو آباد کرتے ہیں اے معبود! میں آیا ہوں تیری طرف محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واسطے سے اور انہیں وسیلہ بناتاہوں

حَوائِجِی فَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ

اپنی حاجات میں پس اے معبود! مجھے اپنے نزدیک دنیا اور آخرت میں با عزت قراردے اور اپنے نزدیکوں میں رکھ

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلاتِی بِهِمْ مَقْبُولَهً، وَذَ نْبِی بِهِمْ مَغْفُوراً، وَرِزْقِی بِهِمْ مَبْسُوطاً

اے معبود!میری نمازکو انکے واسطے سے قبول فرما اور میرے گناہ کو انکے ذریعہ سے بخش دے میرے رزق میں انکے واسطے سے وسعت دے

وَدُعائِی بِهِمْ مُسْتَجاباً، وَحَوائِجِی بِهِمْ مَقْضِیَّةً وَانْظُرْ إلَیَّ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ نَظْرَةً

اور میری دعا کو انکے واسطے سے قبول فرما میری حاجات پوری کردے بواسطہ ان کے اور نظر فرما مجھ پر بواسطہ اپنی ذات کریم کے وہ نظر

رَحِیمَةً أَسْتَوْجِبُ بِهَا الْکَرامَةَ عِنْدَکَ، ثُمَّ لاَ تَصْرِفْهُ عَنِّی أَبَداً، بِرَحْمَتِکَ

جو مہربان ہو لازم فرما اسکے ذریعے اپنے حضور میرے لیے عزت اور پھر یہ نظر رحمت مجھ سے نہ ہٹا ہمیشہ تک اپنی رحمت کے واسطے

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاََ بْصارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ وَدِینِ

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اے دلوں اور آنکھوں کو پلٹا نے والے ثابت قدم رکھ میرے دل کو اپنے دین پر اپنے نبی

نَبِیِّکَ وَوَلِیِّکَ وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ

کے دین پر اور اپنے ولیعليه‌السلام کے دین پر اورمیرے دل کو نہ بھٹکا جب کہ مجھے ہدایت دی ہے مجھ پر رحمت فرما اپنی جناب سے کہ بیشک تو

الْوَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ، وَمَرْضاتَکَ طَلَبْتُ، وَثَوابَکَ ابْتَغَیْتُ، وَبِکَ

بہت بخشش کرنے والا ہے اے معبود! تیری طرف مائل ہوا ہوں تیری رضائوں کا طالب ہوں اور تجھ سے ثواب چاہتاہوں تجھ پر

آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰهُمَّ فَأَ قْبِلْ بِوَجْهِکَ إلَیَّ، وَأَ قْبِلْ بِوَجْهِی إلَیْکَ

ایمان رکھتا ہوں اور تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اے معبود! پس اپنا رخ میری طرف کر اور میرا رخ اپنی طرف موڑدے۔

اس کے بعد آیۃ الکرسی‘ سورئہ فلق‘ اور سورئہ ناس کی قرائت کرے اور پھر سات مرتبہ سُبْحانَ ﷲ، سات مرتبہ وَالْحَمْدُ ﷲِ، سات مرتبہوَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، سات مرتبه وﷲ أَکْبَرُ،

پاک تر ہے ﷲ حمد ﷲ کیلئے ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ سب سے بڑا ہے۔

پھر کہے:

اَللّٰهُمَّ لَکَالْحَمْدُ عَلَی مَا هَدَیْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی مَا فَضَّلْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی

اے معبود! تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو ہدایت دی تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو برتری بخشی تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو

مَا شَرَّفْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ بَلائٍ حَسَنٍ ابْتَلَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ صَلاتِی وَدُعائِی،

بڑائی عطا کی اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو ہر اچھی آزمائش میں ڈالا اے معبود! قبول فرما میری نماز اور میری دعا پاک کر

وَطَهِّرْقَلْبِی، وَاشْرَحْ لِی صَدْرِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إنَّکَ أَ نْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ

میرے دل کو کھول دے میرے سینے کو اور میری توبہ قبول کر کہ یقینا تو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔

سید بن طائوسرحمه‌الله نے فرمایا ہے کہ جب مسجد سہلہ جانے کا ارادہ ہو تو بدھ کی رات مغرب وعشائ کے درمیان اس مسجد میں آئے کہ یہ وقت بقیہ اوقات سے افضل ہے جب مسجد میں آئے تو پہلے نماز مغرب اور اس کے نافلہ ادا کرے ۔

اور پھر کھڑے ہوکر دو رکعت نماز تحیت مسجد قربت الی اللہ کی نیت سے بجا لائے اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے یہ دعا پڑھے:

أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مُبْدئُ الْخَلْقِ وَمُعِیدُهُمْ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ

تو وہ اللہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو خلق کا آغاز کرنے اور اسے لوٹانے والا ہے تو وہ اللہ ہے کہ جسکے سوائ کوئی معبود نہیں

أَنْتَ خالِقُ الْخَلْقِ وَرَازِقُهُمْ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْقَابِضُ الْباسِطُ، وَأَنْتَ

جو مخلوق کو پیدا کرنے اور رزق دینے والا ہے تو وہ اللہ ہے تیرے سوائ کوئی معبود نہیں تو روکنے والا اور عطا کرنے والا ہے تو

ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مُدَبِّرُ الْاَُمُورِ وَباعِثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، أَنْتَ وارِثُ الْاََرْضِ وَمَنْ

وہ اللہ ہے کہ جس کے سوائ کوئی معبود نہیں جو معاملات کو چلانے والا اور قبروں میں سے زندہ اٹھانے والا ہے تو وارث ہے زمین کا اور

عَلَیْها أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ الْحَیِّ الْقَیُّومِ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ

جو کچھ اس پر ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے محفوظ پوشیدہ زندہ وپائیندہ نام کے واسطے سے تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوائ کوئی

إلاَّ أَنْتَ عالِمُ السِّرِّ وَأَخْفیٰ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی إذا دُعِیتَ بِهِ

معبود نہیں جو پوشیدہ اور مخفی چیزوں کو جاننے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے اس نام سے کہ جب تجھے اس سے پکارا جائے تو

أَجَبْتَ، وَ إذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَیْتَ ، وأَسْأَلُکَ بِحَقِّکَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ،

جواب دیتا ہے جب اسکے ذریعے مانگا جائے تو عطا کرتا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے حق کے جو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکے اہل بیتعليه‌السلام پر ہے

وَبِحَقِّهِمُ الَّذِی أَوْجَبْتَهُ عَلَی نَفْسِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ

اور بواسطہ ان کے حق کے جو تونے اپنی ذات پر لازم کیا ہے یہ کہ تو رحمت نازل فرما محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما نیز یہ کہ تو میری

لِی حَاجَتِی، السَّاعَةَ السَّاعَةَ، یَا سامِعَ الدُّعائِ، یَا سَیِّداهُ یَا مَوْلاهُ یَا غِیَاثَاهُ،

حاجت پوری فرما ابھی اسی وقت اسی گھڑی اے دعا کے سننے والے اے میرے سردار اے میرے مالک اے میرے فریاد رس

أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ

سوال کرتا ہوں تیرے تمام ناموں کے ذریعے جن سے تو نے خود کو موسوم کیا یا اسے اپنے لیے خاص کیا علم غیب میں جو تیرے پاس

أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعَجِّلَ فَرَجَنَا السَّاعَةَ، یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ

ہے سوالی ہوں کہ تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور یہ کہ جلدی فرما ہماری گشائش میں اسی وقت اے دلوں اور آنکھوں

وَالْاََ بْصَارِ، یَا سَمِیعَ الدُّعَاءِ

کو پلٹانے والے اے دعا کے سننے والے۔

اس کے بعد سجدے میں جائے اور بہت زیادہ عاجزی وفروتنی کرے پھر جو چیز بھی چاہے خدا سے مانگے اس کے بعد اس گوشے میں چلا جائے جو شمال ومغرب کی طرف ہے حضرت ابراہیمعليه‌السلام کا گھر اسی گوشے میں تھا اور یہیں سے آپ عمالقہ سے جنگ کرنے گئے تھے اس مقام پر دو رکعت نماز بجالائے بعد میں تسبیح فاطمہعليه‌السلام زہرائ پڑھے اور پھر کہے:

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذِهِ الْبُقْعَةِ الشَّرِیفَةِ، وَبِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَکَ فِیها، قَدْ عَلِمْتَ حَوَائِجِی

اے معبود! اس شرف وبرکت والے مکان کے واسطے سے اور اسکے واسطے سے جو اس میں تیری عبادت کرتا ہے تو میری حاجتوںکو جانتا ہے

فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْضِها، وَقَدْ أَحْصَیْتَ ذُنُوبِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت کر اور میری حاجات پوری فرما تو میرے گناہوں کو جانتا ہے پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْها اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی مَا إذا کانَتِ الْحَیَاةُ خَیْراً لِی، وَأَمِتْنِی إذا

رحمت نازل فرما اور میرے گناہ بخش دے اے معبود! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے اور مجھے موت دے

کانَتِالْوَفاةُ خَیْراً لِی عَلَی مُوالاةِ أَوْلِیائِکَ وَمُعاداةِ أَعْدائِکَ، وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ

جب موت میرے لیے بہتر ہو کہ وہ تیرے دوستو کی محبت پر اورتیرے دشمنوںسے عداوت پر ہو اور میرے ساتھ وہ سلوک کر جو

أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

تیرے لائق ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

اس کے بعد مغرب وقبلہ والے گوشے کی طرف میں دو رکعت نماز بجالائے اور پھر ہاتھوں کو اٹھا کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ هذِهِ الصَّلاةَ ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ وَطَلَبَ نائِلِکَ وَرَجائَ رِفْدِکَ

اے معبود! میں نے یہ نماز تیری رضائوں کے حصول کی خاطر پڑھی ہے تیری عطا کی طلب میں تیری طرف سے امید قبولیت

وَجَوائِزِکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْها مِنِّی بِأَحْسَنِ قَبُولٍ، وَبَلِّغْنِی

اور تیرے انعامات کے لیے پڑھی ہے پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اوراچھی طر ح سے قبول کرے اور مجھے پہنچا اپنی رحمت

بِرَحْمَتِکَ الْمَأْمُولَ، وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

تک جو میں نے چاہی ہے مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

پھر سجدے میں جائے اور دونوں رخساروں کو زمین پر لگائے۔ پھر اس گوشے میں جائے جو مشرق کی طرف ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے اور ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إنْ کانَتِ الذُّنُوبُ وَالْخَطایا قَدْ أَخْلَقَتْ وَجْهِی عِنْدَکَ فَلَمْ تَرْفَعْ لِی إلَیْکَ

اے معبود! اگر میرے گناہوں اور لغزشوں کے باعث میرا چہر ہ تیرے سامنے آلودہ ہے میری آواز تجھ تک نہیں پہنچ رہی ہے

صَوْتاً وَلَمْ تَسْتَجِبْ لِی دَعْوَةً فَ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکَ یَا ﷲ فَ إنَّهُ لَیْسَ مِثْلَکَ أَحَدٌ

اور تو میری دعا قبول نہیں کررہا ہے تو بھی میں سوال کرتا ہوں تیرا واسطہ دے کر اے اللہ کہ نہیں ہے تیرے جیسا کوئی اور نیز میں وسیلہ

وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ وأَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُقْبِلَ

بناتا ہوں تیرے حضور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی آل کو اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور یہ کہ توجہ فرما

إلَیَّ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَتُقْبِلَ بِوَجْهِی إلَیْکَ وَلاَ تُخَیِّبْنِی حیِنَ أَدْعُوکَ، وَلاَ تَحْرِمْنِی

مجھ پر بواسطہ اپنی ذات کریم کے اور میرا رخ اپنی طرف کردے مجھے مایوس نہ کر جب کہ تجھے پکارتا ہوں اور مجھے ناکام نہ کر جب کہ

حیِنَ أَرْجُوکَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

تجھ سے امید رکھتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

مؤلف کہتے ہیں: بعض زیارات کی غیر معروف کتب سے نقل ہوا ہے کہ اس کے بعد مشرق کی طرف واقع دوسرے گوشے میں جائے وہاں دو رکعت ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا ﷲ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے نام کے ذریعے اے ا للہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر یہ رحمت نازل فرمااور یہ کہ میری آخری عمر

خَیْرَ عُمْرِی آخِرَهُ، وَخَیْرَ أَعْمَالِی خَواتِیمَها، وَخَیْرَ أَیَّامِی یَوْمَ أَلْقاکَ فِیهِ، إنَّکَ

کو بہتر قراردے میرے اعمال کا انجام بخیر فرما میرے دنوں میں وہ دن بہتر بنا جس میں تجھ سے ملوں بے شک تو

عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ دُعائِی وَاسْمَعْ نَجْوایَ، یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا قادِرُ

ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! میری دعا قبول کر اور میری مناجات سن لے اے بلند اے بزرگ اے قدرت والے

یَا قاهِرُ یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی بَیْنِی

اے زندہ جسے موت نہیںمحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور میرے گناہ معاف کردے جو میرے

وَبَیْنَکَ، وَلاَ تَفْضَحْنِی عَلَی رُوَُوسِ الْاََشْهادِ، وَاحْرُسْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنامُ

اور تیرے درمیان ہیں مجھے لوگوں کے سامنے رسوا نہ کر میری نگہداری کر ان آنکھوں سے جو سوتی نہیںہیں

وَارْحَمْنِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیَّ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ

اور رحم کر اپنی قدرت سے جو تو مجھ پر رکھتاہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا رحم فرمائے ہمارے سردار محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور ان کی

الطَّاهِرِینَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ

پاکیزہ آلعليه‌السلام پر اے جہانوں کے پروردگار۔

اس کے بعد اس مقام پر جو مسجد کے وسط میں واقع ہے دو رکعت نماز بجالائے اور پھر یہ دعا پڑھے:

یَا مَنْ هُوَ أَ قْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ، یَا فَعَّالاً لِما یُرِیدُ، یَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ

اے وہ کہ جو میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اے وہ جو چاہتا ہے کردیتا ہے اے وہ جو انسان کے

وَقَلْبِهِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَحُلْ بَیْنَنا وَبَیْنَ مَنْ یُؤْذِینا بِحَوْلِکَ

اور اسکے دل کے درمیان حائل ہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکی آلعليه‌السلام پر رحمت نازل فرما اور ہمارے اور ہمیں اذیت دینے والوں کے درمیان حائل ہو جا

وَقُوَّتِکَ یَا کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ اکْفِنَا الْمُهِمَّ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا

اپنی حرکت وقوت کے ساتھ اے ہر چیز سے بے نیاز کرنے والے جس سے کوئی چیز بے نیاز نہیں کرسکتی دنیاوآخرت میں پیش آنے

وَالْاَخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

والی مشکلوں میں ہماری مدد فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔

پھر اپنے دونوں رخسارے زمین پر لگائے:

مؤلف کہتے ہیں: وسط مسجد کے جس مقام کا ذکر ہوا ہے وہ آج کل مقام حضرت امام علی ابن الحسین - کے نام سے معروف ہے مزار قدیم میں اس مقام پر دو رکعت نماز ادا کرنے اور یہ دعا پڑھنے کو کہا گیا ہے: اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ یَا مَنْ لَا تَرَاہُ الْعُیُونْ. الخ جو دکّہ امیر المؤمنین- کے اعمال میں گزر چکی ہے اس مقام کے قریب ایک حجرہ ہے اور یہ مقام امام زمانہ (عج) کے نام سے مشہور ہے لہذا یہاں امام زمانہ(عج ) کی زیارت پڑھنا مناسب ہے، بعض کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر کھڑے ہوکر حضرت کی زیارت یوں پڑھے: سَلَامُ ﷲ الْکَاْمِلُ التَّامُ الشَّامِلُ ۔۔۔الخ یہ وہی استغاثہ ہے جو باب اول کی ساتویں فصل میں گزر چکا ہے ہم نے اسے کلم طیب سے نقل کیا ہے اب اسکا تکرار نہیں کرنا چاہتے سید ابن طائوس نے دور کعت نماز کے بعد اسے سر داب میں پڑھی جانے والی زیارتوں میں شمار کیا ہے۔

مسجد زیدرحمه‌الله میں نماز ودعا

مسجد سہلہ کے نزدیک ایک اور مسجد زیدرحمه‌الله کے نام سے موسوم ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے اور بعد میں ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے:

إلهِی قَدْ مَدَّ إلَیْکَ الْخَاطئُ الْمُذْنِبُ یَدَیْهِ بِحُسْنِ ظَنِّهِ بِکَ إلهِی قَدْ جَلَسَ الْمُسِیئُ

میرے معبود یہ خطا کار گنہگار تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے کہ وہ تجھ سے حسن ظن رکھتا ہے میرے معبود! یہ بد کردار تیرے

بَیْنَ یَدَیْکَ مُقِرَّاً لَکَ بِسُوئِ عَمَلِهِ وَراجِیاً مِنْکَ الصَّفْحَ عَنْ زَلَلِهٰٓ إلهِی قَدْ رَفَعَ إلَیْکَ

حضور آبیٹھا ہے جو اپنی بد عملی کا اقرار کرتے ہوئے تجھ سے اپنی لغزشوں پر چشم پوشی کی امید رکھتا ہے میرے معبود! یہ ناروا کام کرنے

الظَّالِمُ کَفَّیْهِ رَاجِیاً لِما لَدَیْکَ فَلاَ تُخَیِّبْهُ بِرَحْمَتِکَ مِنْ فَضْلِکَ

والا تیرے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اس رحمت کا امید وار ہے جو تیرے پاس ہے اسے اپنے فضل سے ناامیدنہ کر بواسطہ اپنی

إلهِی قَدْ جَثَا الْعائِدُ إلَی الْمَعَاصِی بَیْنَ یَدَیْکَ خائِفاً مِنْ یَوْمٍ تَجْثُو فِیهِ الْخَلائِقُ

رحمت کے میرے معبود باربار گناہ کرنے والا تیرے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے ڈر رہا ہے اس دن سے جب لوگ تیرے سامنے

بَیْنَ یَدَیْکَ إلهِی جَاءَکَ الْعَبْدُ الْخَاطئُ فَزِعاً مُشْفِقاً وَرَفَعَ إلَیْکَ طَرْفَهُ حَذِراً راجِیاً

گھٹنے ٹیکے ہوئے ہوں گے میرے معبود خطاکار بندہ تیرے پاس آیا ہے گھبرایا سہما ہوا تیری طرف نیچی نظروں سے دیکھتا ہے امید کیساتھ

وَفاضَتْ عَبْرَتُهُ مُسْتَغْفِراً نادِماً، وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ مَا أَرَدْتُ بِمَعْصِیَتِی

بخشش کی طلب میں شرمندگی سے اسکے آنسو نکل رہے ہیں قسم ہے تیری بڑائی اور مرتبے کی کہ نافرمانی کرتے وقت میں تیری مخالفت

مُخالَفَتَکَ، وَمَا عَصَیْتُکَ إذْ عَصَیْتُکَ وَأَ نَا بِکَ جاهِلٌ، وَلاَ لِعُقُوبَتِکَ

کا ارادہ نہ رکھتا تھا جب میں نے نافرمانی کی تو وہ نافرمانی اس لیے نہ تھی کہ میں تجھے جانتا نہیں تھا اور نہ ہی اس لیے تھی کہ میں تیری سزا

مُتَعَرِّضٌ، وَلاَ لِنَظَرِکَ مُسْتَخِفٌّ، وَلکِنْ سَوَّلَتْ لِی نَفْسِی، وَأَعانَتْنِی عَلَی ذلِکَ

کو روک لوں گا اور نہ اس لیے تھی کہ میں تیری نظر کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ میرے نفس نے مجھے دھوکہ دیا میری بدبختی نے مجھے

شِقْوَتِی وَغَرَّنِی سِتْرُکَ الْمُرْخیٰ عَلَیَّ فَمِنَ الْاَنَ مِنْ عَذابِکَ مَنْ یَسْتَنْقِذُنِی وَبَحَبْلِ

اکسایا اور تیری پردہ پوشی نے مجھے دلیر کر دیا پس اب مجھے تیرے عذاب سے کون چھڑائے گا جس رسی کو میں

مَنْ أَعْتَصِمُ إنْ قَطَعْتَ حَبْلَکَ عَنِّی فَیا سَوْأَتاهُ غَداً مِنَ الْوُقُوفِ بَیْنَ یَدَیْکَ إذا قِیلَ

پکڑ ے ہوئے ہوں اگر تو اس رسی کو کاٹ دے تو ہائے افسوس کل تیرے سامنے پیش ہونے کے وقت میرا کیا حال ہوگا جب نیک لوگوں

لِلْمُخِفِّینَ جُوزُوا، ولِلْمُثْقِلِینَ حُطُّوا، أَ فَمَعَ الْمُخِفِّینَ أَجُوزُ أَمْ مَعَ الْمُثْقِلِینَ

سے کہا جائے گا گزر جائو اور گنہگاروں سے کہا جائے گاجہنم میں جائو کیا میں نیک افرادکے ہمراہ گزروں گا یا گنہگاروں کیساتھ جہنم میں

أَحُطُّ وَیْلِی کُلَّما کَبُرَ سِنِّی کَثُرَتْ ذُ نُوبِی وَیْلِی کُلَّما طالَ عُمْرِی کَثُرَتْ مَعَاصِیَّ

جائونگا ہائے میری ہلاکت کہ جوں جوں میری عمر بڑھتی جارہی ہے میرے گناہ بڑھ رہے ہیں ہائے میری مصیبت کہ میری عمر جتنی لمبی ہورہی ہے

فَکَمْ أَتُوبُ وَکَمْ أَعُودُ أَمَا آنَ لِی أَنْ أَسْتَحْیِیَ مِنْ رَبِّی اللّهُمَ فَبِحَقِّ

میرے گناہ بڑھتے جاتے ہیں کہاں تک توبہ کروں اور کتنی بار لوٹ آؤں کیا وہ وقت نہیں آیا کہ اپنے رب سے حیا کروں اے معبود! پس بواسطہ

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَخَیْرَ الْغَافِرِینَ

محمد وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور سب سے زیادہ معاف کرنے والے۔

پھر گریہ کرے چہرہ خاک پر رکھے اور کہے:اِرْحَمْ مَنْ اَسٰآئَ وَاقْتَرَفَ وَاسْتَکٰانَ وَاعْتَرَفَ

رحم کر اس گنہگار پر جس نے گناہ کئے جو بے چارہ ہے اور اپنے گناہوں کااعتراف کرتا ہے

اب دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:اِنْ کُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَاَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ پھر بایاںرخسار

اگر میں برا بندہ ہوں توبہترین پروردگار ہے

زمین پر رکھے اور کہے:عَظُمَ الذَّنْبَ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَا کَری ٰم اب

تیرے بندے کے گناہ عظیم ہیںتو تیری بخشش بھی حسین اے کرم کرنے والے خدا اے بخشنے والے

دوبارہ سجدہ کرے اور سو مرتبہ کہے :اَلْعَفْوَ اَلْعَفْوَ

بخش دے بخش دے۔

اعمال مسجد صعصعہ

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ کوفہ کی مساجد میں سے ایک ہے اور زید بن صوحان کی طرف منسوب ہے۔ زید بن صوحان امیر المومنین- کے بزرگ اصحاب میں سے تھے اور ان کو ابدال تصور کیا جاتا ہے۔ وہ جنگ جمل میں امیر المومنین- کی نصرت کرتے ہوئے مقام شہادت پر سرفراز ہوئے جو دعا اوپر ذکر ہوئی ہے وہ انہی کی دعاہے جسے وہ نماز تہجد میں پڑھتے تھے۔ حضرت زید کی مسجد کے قریب ان کے بھائی صعصعہ بن صوحان کی مسجد بھی ہے اور وہ بھی امیر المومنین- کے اصحاب میں سے تھے کہ صاحبان ایمان اور حق امیر المومنین- کے عارف سمجھے جاتے تھے وہ اس قدر فصیح و بلیغ تھے کہ امیر المومنین- انہیں خطیب شحشح (وسعت بیان والا مقرر) کہا کرتے تھے اور ان کی خطابت و فصاحت کو بہت سراہا کرتے تھے امیر المؤمنین- نے انہیں کم خرچ اور زیادہ مدد کرنے والے کا لقب دیا جس رات آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی اور آپ کے فرزند آپ کے جنازے کو کوفہ سے نجف لے جارہے تھے تو صعصعہ تشییع جنازہ کرنے والوں میں سے تھے جب آنجنابعليه‌السلام کو دفن کیا جا چکا تو صعصعہ نے حضرت کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر ایک مٹھی خاک لی اور اسے اپنے سر میںڈالتے ہوئے کہا کہ امیر المومنین-! میرے ماں باپ آپ پر قربان! خدا کی دی ہوئی بڑائیاں آپ کو مبارک ہوں بے شک آپ کی پیدائش پاکیزہ اور آپ کا صبر عظیم تھا۔ آپ کا جہاد شاندار تھا اورجس چیز کی آرزو کی اسے حاصل کرلیا ہے۔ آپ نے بہت نفع بخش تجارت کی اور اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ آپ ایسے بہت سے کلمات کہتے اورگر یہ کرتے رہے اور وہاں موجود افراد کو رلاتے رہے حقیقت یہ ہے کہ امیر المومنین- کی قبر پر پہلی مجلس رات کے اندھیرے میں برپا ہوئی‘ جس میں صعصعہ بن صوحان ذاکر تھے اور سامعین میں امام حسن‘ امام حسین‘ حضرت محمد بن حنفیہ‘ حضرت عباس اور مولا علی کے دیگر فرزندان اور آپ کے متعلقین تھے جب مجلس میں بیان کیے جانے والے یہ کلمات اختتام کو پہنچے تو صعصعہ امام حسن اور امام حسین + اور تمام فرزندوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو والد گرامی کا پرسہ دیا۔ ان کی دلجوئی کی اور پھرسب کے سب کوفہ لوٹ آئے۔ مختصر یہ کہ مسجد صعصعہ بن صوحان کوفہ کی محترم مسجدوں میں سے ہے اور ایک گروہ نے ماہ رجب میں اسی مسجد میں امام العصر- کو دیکھا کہ آپ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی جس کے بعد آپ یہ دعا پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔

اَللَّهُمَّ یَا ذَالْمِنَنِ السَّابِغَةِ وَالْاَ لآَئِ الوَازِعَةِالخ

اے معبود! اے بڑے بڑے احسان کرنے اور گراں تر نعمتیں دینے والے۔

امام العصر - کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا اس بابرکت مسجد سے مخصوص اور اس میں انجام دیے جانے والے اعمال میں شامل ہے۔ جیسا کہ مسجد سہلہ و مسجد زید کی مخصوص دعائیں نقل ہوئی ہیں لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ حضرتعليه‌السلام کو رجب کے مہینے میں وہاں دیکھا گیا تھا لہذا ممکن ہے کہ یہ ماہ رجب کی دعائوں میں سے ہو۔ چنانچہ بہت سے علمائ نے اس دعا کو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور ہم نے بھی اسے رجب کے اعمال میں نقل کیا ہے پس خواہشمند مومنین اسے ماہ رجب کی دعائوں میں ہی ملاحظہ فرمائیں۔ہم یہاں تکرار نہیں کرتے ۔


52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88