مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)2%

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 170 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 205967 / ڈاؤنلوڈ: 12739
سائز سائز سائز

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

(چھٹا باب)

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص اور دیگر دعائیں اور اعمال۔

یہ باب چالیس امور پر مشتمل ہے :

(پہلا امر)

شیخ کلینی نے کافی میں امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ جوشخص سونے سے پہلے سورہ ہائے مسبحات یعنی سورہ حدید‘ حشر‘صف ‘جمعہ‘ تغابن اور اعلی کی تلاوت کرکے سوئے تو وہ حضرت امام العصر - کی زیارت سے مشرف ہوئے بغیر نہیں مرے گا اور بغیر زیارت کئے مر جائے تو وہ حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جوار میں رہے گا۔

(دوسرا امر)

اسی کتاب میں ہے کہ رسول ﷲ نے فرمایا جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات آیۃ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیات اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیات تلاوت کیا کرے تو وہ اپنی جان و مال میں ایسی کوئی بات نہیںدیکھے گا جو اسے ناگوار گزرے شیطان اس کے قریب نہ پھٹکے گا اور نہ قرآن کو فراموش کرے گا۔

(تیسرا امر)

شیخ کلینیرحمه‌الله نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ جو شخص سورہ قدر کو بآواز بلند پڑھے گا وہ ایسے ہوگا جیسے بے نیام تلوار سے راہ خدا میں جہاد کررہا ہو جو اس سورت کو آہستہ سے پڑھے گا وہ ایسے ہو گا جیسے راہ خدا میں اپنے خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ نیزجو شخص اس سورت کو دس مرتبہ پڑھے گا تو ﷲ تعالی اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ مٹا دے گا۔

(چوتھا امر)

شیخ کلینی نے بھی امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا .میرے والد گرامی فرمایا کرتے تھے کہ سورہ اخلاص قرآن کا تیسرا حصہ ہے اور سورہ کافرون قرآن کا چوتھا حصہ ہے ۔

(پانچواں امر)

امام موسی کاظم - سے منقول ہے کہ جو شخص آیتہ الکرسی پڑھ کر سوئے تو فالج کے حملے سے محفوظ رہے گاانشائ ﷲ اور جو شخص اسے ہر فریضہ نماز کے بعد پڑھے تو زہریلا حیوان اس تک نہ پہنچ سکے گانیز فرمایا کہ جو شخص سورہ اخلاص کو اپنے اور ظالم شخص کے درمیان پڑھے گا تو حق تعالی اسے اس کے شر سے محفوظ رکھے گااس سورہ کو اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں پڑھے اور پھر اس ظالم و جابر کے سامنے جائے تو ﷲ تعالی اسے اس کی طرف سے اچھائی دکھائے گااور اس کی برائی سے بچائے گا‘یہ بھی فرمایا کہ جب تمہیں کسی بات کا خطرہ ہو تو قرآن مجید کی کوئی سی سو آیات پڑھو اور پھر تین مرتبہ کہو:

اکْشِفْ عَنِّی الْبَلائَ

اے معبود میری مصیبت دور کر دے

(چھٹا امر)

شیخ کلینی نے امام جعفرصادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا جو شخص خدا اورروز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اس سورے کو پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دے گا اور اس کو اس کے والدین اور اس کی اولاد کو بخش دے گا۔

(ساتواں امر)

آپعليه‌السلام ہی سے روایت ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ و مامون رہے گا ۔

(آٹھواں امر)

آپعليه‌السلام ہی سے روایت ہے کہ اگر مردہ پر ستر مرتبہ سورہ حمد پڑھی جائے اور اس کی روح پلٹ آئے تو تعجب نہیں کرنا چاہیے

(نواں امر)

امام موسیٰ کاظم - سے روایت ہے کہ بچے پر ہر رات تین مرتبہ سورہ فلق تین مرتبہ سورہ والناس اور سو مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے اگر سورہ توحید سو مرتبہ نہ پڑھی جاسکے تو پچاس مرتبہ پڑھے اور اگر اس امر کی پابندی کی جائے تو وہ بچہ مرتے دم تک ہر قسم کی آفات سے امن میں رہے گا۔

(دسواں امر)

شیخ کلینی ہی نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے مفضل سے فرمایا اے مفضل تم خود کو تمام لوگوں سے بچائے رکھو بسم ﷲ الرحمن الرحیم اور سورہ توحید کے ساتھ وہ یوں کہ تم یہ سورہ پڑھ کر اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے دم کر لیا کرو جب تم کسی جابر حاکم کے پاس جاؤ تو اسے دیکھتے ہی بائیں ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے تین مرتبہ یہ سورہ پڑھو اور جب تک تم اس کے پاس رہو اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی کو بند رکھو جب باہر آ جاؤ تو اسے کھول دو بعض نے کہا ہے کہ جب تک اس کے پاس رہو یہ سورہ پڑھتے رہو ۔

(گیارہوں امر)

ایک حدیث میں حضرت امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھے:

ﷲ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ وَمَا قَدَرُوا ﷲ حَقَّ قَدَرِهِ وَالْاََرْضُ جَمِیعاً

وہی ﷲ ہے جس نے قرآن نازل کی وہ نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے لوگوں نے خدا کی وہ قدر نہیں کی جو اسکا حق ہے ساری زمین اسکے قبضہ

قَبْضَتُهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّات بِیَمِینِهِ سُبْحانَهُ وَتَعال عَمَّا یُشْرِکُون

قدرت میں ہے روز قیامت اور آسمان بھی لپیٹے ہوئے اسکے دست قدرت میں ہیںوہ پاک و بلند ہے اس سے جسے اسکا شریک بناتے ہیں ۔

(سر کش گھوڑے کو مطیع کرنے کیلئے اس کے دائیں کان میں کہے:)

وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ طَوْعاً وَکَرْهاً وَ إلَیْهِ یُرْجَعُونَ

اور خدا کے سامنے جھکے ہوئے ہیں وہ سبھی جو آسمانوں اور زمین میں ہیںچارو ناچار اور اس کی طرف پلٹ جائیں گے۔

(درندوں کی سرزمین میں ان کی گزند سے بچنے کے لیے یہ پڑھے:)

لقد جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ

یقینا تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آ چکا ہے کہ تم پر آنے والی سختی اسے ناگوار ہے وہ تمہیں

عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَؤُوفٌ رَحِیمٌ، فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ

بہت چاہتا ہے مومنوں کیلئے نرم خو مہربان ہے پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہو کہ مجھے کافی ہے

ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ

ﷲ مگر نہیں معبود مگر وہی میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عظمت والے عرش کا مالک ہے ۔

(گمشدہ بازیابی کے لیے دو رکعت نماز میں سورہ یٰسین پڑھے اور بعد میں یہ کہے:)

یَا هادِیَ الضَّالَّةِ رُدَّ عَلَیَّ ضالَّتِی

اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے میری گمشدہ چیز مجھے لا دے ۔

(بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کیلیے پڑھے:)

أَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْج الی قول عز وجل

یا جیسے گہرے سمندر میں تاریکیاں کہ ا نہیں ڈھانپتی ہے پانی کی ایک کے بعد دوسری لہر

وَمَنْ لَمْ یَجْعَلِ ﷲ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِنْ نُور

اور جسے خدا نور عطا نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا۔

(چور سے بچنے کے لیے بستر پر سوتے وقت پڑھے:)

قُلْ ادْعُوا ﷲ أَوِ ادْعُو الرَّحْمٰنَ تا وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً

کہہ دو کہ ﷲ کو پکارو یا رحمن کو پکارو اوراس کی بہت بڑائی کرو

(بارھواں امر)

شیخ کلینی نے امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایاسورہ زلزال کے پڑھنے میں تنگی محسوس نہ کرو کیونکہ جو شخص اسے نوافل میں پڑھے تو حق تعالی اسے زلزلے سے نقصان نہ پہنچنے دے گا۔ اور وہ مرتے دم تک زلزلے‘بجلی اور ہر قسم کی آفا ت سے محفوظ رہے گانیز اس شخص کی موت کے وقت ایک خوش جمال فرشتہ اس کے پاس آئے گاجو اس کے سرہانے بیٹھے گااور ملک الموت سے کہے گااے ملک الموت ﷲ تعالیٰ کے اس دوست کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو تاآخر روایت کہ مذکور ہے ۔اس وقت اس شخص کی آنکھوں سے پردے ہٹائے جائیں گے اور وہ جنت میں اپنی منزلوں کو دیکھ لے گا پھر بڑی سہولت کے ساتھ اس کی روح قبض کی جائے گی۔ سترہزار فرشتے اس کے جنازے کے پیچھے چلیں گے اور اسے سیدھا جنت میں لے جائیں گے ۔

(تیرھواں امر)

شیخ کلینی نے ہی امام محمدباقر - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایاسورہ ملک ’’سورہ مانعہ ‘‘ ہے یعنی عذاب قبر کو روکتی ہے ۔

(چودھواں امر)

آنجنابعليه‌السلام ہی سے روایت ہے کہ قرآن مجید کا ایک نسخہ دریا میں گر گیا اور جب اسے وہاں سے نکالا گیا تو اس کے تمام کلمات میں سے صرف یہ جملہ باقی تھا۔

أَلا إلَی ﷲ تَصِیرُ الْاَُمُور

خبر دار ہو کہ تمام معاملوں کی بازگشت ﷲ کی طرف ہے ۔

(پندرھواں امر)

شیخ کلینی نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ماہ رمضان کی دوسری تہائی میں قرآن کو کھول کر اپنے آگے رکھے اور پھر یہ کہے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکِتابِک الْمُنْزَلِ وَمَا فِیهِ وَفِیهِ اسْمُکَ الْاََعْظَمُ الْاََکْبَرُ وَأَسْمَاؤُکَ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری نازل کردہ کتاب کے اور جو اس میں ہے اس میں تیرا سب سے عظیم سب سے بڑا نام ہے

الْحُسْنَی وَمَا یُخافُ وَیُرْجَی أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ عُتَقائِکَ مِنَ النَّارِ

اور تیرے اچھے اچھے نام ہیں وہ چیز بھی جس سے خوف وامید ہے میرا سوال ہے کہ تو مجھے اپنے جہنم سے آزاد کردہ لوگوں میں رکھ۔

اس کے بعد خدا سے اپنی دیگر حاجات طلب کرے۔

(سولھواں امر)

شیخ کفعمی مصباح میں اور محدث فیض خلاصۃ الاذکار میں فرماتے ہیں میں نے بعض کتب امامیہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ خواب میں پیغمبر یاامامعليه‌السلام کی زیارت کرے یا اپنے کسی رشتہ دار یا اپنے والدین کو خواب میں دیکھے تو وہ باوضو ہو کر اپنے بستر پر دائیں پہلو پر لیٹے اور سورہ ہائے شمس‘لیل‘قدر‘کافرون‘ اخلاص‘ فلق اور والناس کی تلاوت کرنے کے بعد سومرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور سو مرتبہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردرود بھیجے اور پھر دائیں پہلو سوجائے تو جس کا بھی ارادہ کیا ہو گاانشائ ﷲ اسے خواب میں دیکھے گااور اس سے جو بات کرناچاہے وہ بھی کر پائے گا ایک اور نسخے میں دیکھا گیا ہے کہ یہ عمل سات راتوں تک بجا لائے اور مذکورہ سورتیں پڑھنے سے قبل یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لاَ یُوصَفُ وَالْاِیمانُ یُعْرَفُ

اے معبود تو وہ زندہ ہے جسکا وصف بیان نہیں ہو سکتا وہی جس سے ایمان کی معرفت ہوئی تجھی سے

مِنْهُ، مِنْکَ بَدَتِ الْاََشْیائُ وَ إلَیْکَ تَعُودُ فَمَا أَقْبَلَ مِنْها

چیزوں کا آغاز ہوا اور وہ تیری طرف پلٹ جائیں گی پس جو تیری طرف آئے گا

کُنْتَ مَلْجَأَهُ وَمَنْجاهُ وَما أَدْبَرَ مِنْها لَمْ یَکُنْ لَهُ مَلْجَأٌ وَلاَ مَنْجَیً مِنْکَ إلاَّ

تو اس کو پناہ و نجات دے گا اور جو منہ پھیرے گااسکے لئے نہ تجھ سے پناہ ہے نہ نجات مگر تیری مگر تیری طرف سے

إلَیْکَ فأَسْأَلُکَ بِلا إلهَ إلاَّ أَنْتَ وأَسْأَلُکَ بِبِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ

پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں میرے بر حق معبود ہو نے کے واسطے سے سوال کرتا ہوں بسم ﷲ الرحمن الرحیم کے واسطے سے

وَبِحَقِّ حَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ وَبِحَقِّ عَلِیٍّ خَیْرِ

اور تیرے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی ﷲعلیہ وآلہ کے حق کے واسطے سے جو نبیوں کے سردار ہیں اور اوصیا میں

الْوَصِیِّینَ وَبِحَقِّ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ وَبِحَقِّ الحَسَنِ

بہترحضرت علیعليه‌السلام کے حق کے واسطے سے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہعليه‌السلام کے حق اور حسنعليه‌السلام

وَالحُسَیْنِ اللَّذَیْنِ جَعَلْتَهُما سَیِّدَیْ شَبابِ أهْلِ الجَنَّةِ عَلَیْهِمْ

و حسینعليه‌السلام کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ دونوں کو تو نے جوانان جنت کاسردار قرار دیا ہے ان سب

أجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُرِیَنِی مَیِّتِی فِی

پر درود و سلام ہو کہ تو رحمت نازل فرما محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور یہ کہ مجھے دکھا دے میرا فلاں مردہ

الْحالِ الَّتِی هُوَ فِیها

اس حال میں کہ جس میں وہ ہے ۔

(سترھواں امر)

خلاصۃ الاذکار میں ہے بعض کتب میں منقول ہے کہ میں نے محمد بن جریرطبری کی کتاب آداب الحمیدہ میں دیکھا ہے کہ حارث بن روح اپنے والد سے ناقل ہیں کہ میرے والد نے اپنی اولاد سے فرمایاکہ جب کوئی معاملہ تمہیں غمزدہ کرے تو تم میں سے ہرشخص اس طرح رات بسر کرے کہ پاکیزہ ہو کر پاک صاف بستر میں اپنی بیوی سے الگ ہو کے سوئے اور سوتے وقت سات مرتبہ سورہ شمس اور سات مرتبہ سورہ لیل پڑھے اور پھر کہے :

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی هذَا فَرَجاً وَمَخْرَجاً

اے معبود تو میرے لئے اس معاملے کے سلجھانے اور اس سے نکلنے کا راستہ بنا دے۔

چنانچہ جب کوئی شخص یہ عمل کرے گاتو اسی شب ایک فرد خواب میں اس کے پاس آئے گا یا تیسری یا پانچویں رات اور میرا خیال ہے کہ ساتویں رات میں آنے کا بھی کہا ہے پس وہ شخص اسے اس مشکل سے نکلنے کا طریقہ بتائے گا۔

اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل

مؤلف کہتے ہیں بعض بزرگوں نے سورہ والضحی اور سورہ الم نشرح کے پڑھنے کا بھی ذکر کیا ہے ۔جواہر المنثورہ میں ہے کہ جو شخص اپنا مدعا خواب میں دیکھنا چاہے تو وہ سوتے وقت سات سات مرتبہ یہ سورتیں پڑھے’’ سورہ شمس‘ واللیل‘ والتین‘اخلاص‘ فلق‘ والناس ‘‘ پھر حالت وضو میں پاک لباس میں پاک جگہ پر قبلہ رخ ہو کر دائیں پہلو پر لیٹے جیسے میت کو قبر میں لٹایا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی اپنے مقصد کے حصول کی نیت کرکے سو جائے اگر پہلی رات کوئی صورت نظر نہ آئے تو اس کے بعد کی راتوں میں ضرور نظر آجائے گی اور سات راتوں سے زیادہ وقت نہیں لگے گا نیز کہا جاتا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے ۔

(اٹھارواں امر)

خلاصۃ الاذکار میں فاطمہ الزہرا = سے روایت ہے کہ میں سونے کے لئے بستر بچھا رہی تھی کہ میرے والد گرامی محمد مصطفی تشریف لائے اور فرمایا اے فاطمہعليه‌السلام اس وقت تک نہ سوناجب تک چار عمل بجا نہ لاؤ ( ۱ )قرآن مجید کا ختم کرلو ( ۲ )انبیائ کو اپنا شفیع بنا لو ( ۳ )مومنین کو خود سے راضی کر لو۔

( ۴ )حج اور عمرہ کو بجا لاؤ۔

اس ارشاد کے بعد آنحضرت نماز میں مشغول ہو گئے پس میں نے نما ز سے آپ کے فارغ ہو نے کا انتظار کیا اور جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ نے چار چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن یہ تو میرے بس سے باہر ہے کہ اسی وقت ان سب چیزوں کو بجا لاؤ؟تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا جب تم تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو گی تو گویا قرآن ختم کیا‘جب مجھ پر اور مجھ سے پہلے انبیاعليه‌السلام ئ پر صلوات بھیجو گی تو ہم سبھی انبیاعليه‌السلام قیامت میں تمہارے شفیع بن جائیں گے جب تمام مؤمنین کے لئے مغفرت طلب کرو گی تو سب تم سے راضی ہو جائیں گے اور جب

سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ

پاک ہے ﷲ تو حمد ﷲ ہی کیلئے نہیں کوئی معبود مگر ﷲ اور جب ﷲ بزرگ تر ہے۔

کہو گی تو حج و عمرہ بجا لاؤ گی ۔

مؤلف کہتے ہیں کفعمی نے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ

یَفْعَلُ ﷲ مَا یَشائُ بِقُدْرَتِهِ وَیَحْکُمُ مَا یُرِیدُ بِعِزَّتِهِ

خدا جو چاہتا ہے اپنی قدرت سے انجام دیتا ہے اور جو ارادہ ہو اپنی عزت سے اس کا حکم جاری کرتا ہے۔

کہے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی ہو ۔

(انیسواں امر)

خلاصۃ الاذکار ہی میں مذکور ہے کہ وقت مطالعہ یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ أَخْرِجْنِی مِنْ ظُلُماتِ الْوَهْمِ وَأَکرِمْنِی بِنُورِ الْفَهْمِ اَللّٰهُمَّ

اے معبودتو مجھ کو وہم کی تاریکیوں سے نکال اور عقل و فہم کے نور سے مجھے شرف عطا فرمااے معبود تو

افْتَحْ عَلَیْنا أَبْوابَ رَحْمَتِکَ، وَانْشُرْ عَلَیْنا خَزایِنَ عُلُومِکَ

ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور اپنے علوم کے خزانے ہم پر نچھاور کردے اپنی

بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

(بیسوا ں امر)

روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام محمد تقی - کی خدمت میں عریضہ بھیجاکہ میں بہت مقروض ہو گیا ہوں آنجنابعليه‌السلام نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو اور اپنی زبان کو سورہ انا انزلنا ہ کی تلاوت کے ساتھ ہمیشہ تر رکھو۔

(اکیسواں امر)

ایک حدیث میں وارد ہے کہ مفضل نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں سانس پھولنے کی شکایت کی اور بتایا کہ میں تھوڑی دور تک چلتاہوں تو سانس رکنے لگتی ہے اور میں دم لینے کو بیٹھ جاتا ہوں حضرتعليه‌السلام نے فرمایا کہ تم اونٹ کا پیشاب پیو تو یہ تکلیف دور ہو جائیگی ایک اور حدیث میں ہے۔

کہ کسی شخص نے آنجنابعليه‌السلام سے کھانسی کی شکایت کی تو آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ انجدان رومی اور اس کے ہم وزن مصری لے کر ان کا سفوف بنالو اور ایک دوروز تک اسے کھاؤ اس شخص کا کہنا ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تو کھانسی دور ہو گئی

(بائیسواں امر)

امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ کا ایک شہر سے گزر ہوا جس کے تمام باشندوں کا رنگ زرد اور آنکھیں نیلی ہو چکی تھیں انہوں نے آپعليه‌السلام سے بہت سی بیماریوں کی شکایت کی تو آپعليه‌السلام نے فرمایاتم گوشت کو دھوے بغیر پکاتے ہو جب کہ کوئی بھی جانور اس دنیا سے نہیں جاتا جو حالت جنابت میں نہ ہو یہ سن کر ان لوگوں نے گوشت کو دھو کر پکانا شروع کر دیا اور ان کی تمام بیماریاں جاتی رہیں حضرت عیسٰی- ایک اورشہر سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگوں کے دانت گر چکے تھے اور چہرے سوجے ہوئے تھے آپعليه‌السلام نے ان سے فرمایا کہ تم سوتے وقت ایک مرتبہ اپنا منہ کھول کے پھر اسے بند کر کے سویا کرو پس انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا اور ان کی یہ بیماری دور ہو گئی ۔

( تیئسواں امر )

امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ جب تم کسی مصیبت زدہ کو دیکھو تو نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ کہو :

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ بِهِ وَلَوْ شائَ فَعَلَ

حمد ہے اس ﷲ کیلئے جس نے مجھے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اگر وہ چاہتا تو ایسا کر دیتا۔

جو ایسا کرے وہ اس بلائ میں مبتلا نہ ہوگا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ یہ کہو:

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ بِهِ وَفَضَّلَنِی عَلَیْکَ وَعَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ

حمد اس ﷲ کیلئے جس نے مجھے بچایا جس نے تجھے مبتلا کیا اور مجھے تجھ پر اور اپنی بہت سی مخلوق پر بڑھائی دی ہے

(چوبیسواں امر)

امام جعفر صادق - کا ارشاد ہے کہ جب تمہاری زوجہ حاملہ ہو اور حمل پر چار مہینے گزر چکے ہوں تو اپنا منہ قبلہ رخ کر کے آیۃ الکرسی پڑھو اور پھر اس کے پہلو پر ہاتھ رکھ کر کہواَللّٰهُمَّ اِنِّی سَمْیِتَه، مُحَمَّد یعنی (اے معبود میں نے اس بچے کا نام محمد رکھا ہے) پس جو شخص بھی یہ عمل کرے گا ﷲ تعالی اسے بیٹا عطا فرمائے گا اگر وہ اس کا نام محمد رکھے گا تو وہ بچہ بڑا مبارک ہو گا اور اگر یہ نام نہیں رکھے گا تو خدا چاہے تو یہ بچہ اس سے لے لے گا اور چاہے تو اس کے پاس رہنے دے گا ۔

( پچیسواں امر)

روایت ہوئی ہے کہ عقیقہ کی بھیڑ بکری مینڈھا یا بکرا ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ ﷲ وَبِالله اَللّٰهُمَّ عَقِیقَةٌ عَنْ فُلانٍ

خدا کے نام خدا کی ذات سے اے معبود یہ عقیقہ فلاں کی طرف سے ہے

فلاں کی جگہ اس بچے کانام لیں۔

لَحْمُها بِلَحْمِهِ وَدَمُها بِدَمِهِ وَعَظْمُها بِعَظْمِهِاَللّٰهُمَّ اجْعَلْها

اس کا گوشت اس کے گوشت کا اسکا خون اسکے خون کا اسکی ہڈیاں اسکی ہڈیوں کا بدلہ ہے اے معبود تو اسے

وِقائً لاَِلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ السَّلام

آل محمد کیلئے حفاظت کا ذریعہ بنا ان پر اور ان کی آل پر سلام ہو۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ یہ دعا پڑھے:

یَا قَوْمِ إنِّی بَرِیئٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ إنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لَلَّذِی فَطَرَ

اے میری قوم میں بری ہوں اس سیجسے تم خدا کا شریک بناتے ہو میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا

السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضَ حَنِیفاً مُسْلِماً وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ

ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا میں نرا کھرا مسلمان ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں

إنَّ صَلاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیایَ وَمَماتِی لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ لاَ

ہوں یقینا میری نماز میری عبادت میری زندگی میری موت ﷲ کیلئے ہے جوجہانوں کا رب ہے جس کا

شَرِیکَ لَهُ وَبِذلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ اَللّٰهُمَّ مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ

کوئی شریک نہیں یہی حکم مجھے دیا گیا ہے اور میں سر جھکانے والوں میں سے ہوں اے خدا تیرے لئے اور تجھ سے ہے خدا کے

ﷲ وَبِالله وَاللّهُ أَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ مِنْ فُلانِ ابْنِ فُلان

نام خدا کے ساتھ اور ﷲ بزرگ تر ہے اے معبود رحمت نازل فرمامحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور فلاں ابن فلاں سے قبول فرما۔

(یہاں بچے کا نام بمعہ ولدیت کے لے)پھر جانور کو ذبح کرے

(عقیقہ کابیان )

علامہ مجلسی فرماتے ہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اولاد کا عقیقہ کرنا سنت موکدہ ہے ہر اس شخص پر جو اس کیلئے وسعت رکھتا ہے اور بعض علمااسے واجب جانتے ہیں بہتر ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو بچے کے بالغ ہونے سے قبل تک تو اس کے باپ پر سنت ہے اور اس کے بعد خود اس بچے پر آخر عمر تک سنت ہے بہت سی معتبر احادیث میں وارد ہے کہ جس شخص کو اولاد عطا ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور اکثر حدیثوں میں منقول ہے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے یعنی اگر اس کا عقیقہ نہیں کیا جائے گا تو اس کے مر جانے یا طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص مالدار ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور جو مفلس ہے جب مالدار ہو جائے تو عقیقہ کرلے ورنہ اس کے ذمہ کچھ نہیں ہے اگر والدین بچے کا عقیقہ نہ کریں لیکن پھر جب اس کی طرف سے قربانی کریں تو وہی کافی ہو جاتی ہے ایک اور حدیث میں مذکور ہے کہ امام جعفر صادق - سے پوچھا گیا کہ عقیقہ کے لیے جانور کی بہت تلاش کی ہے لیکن مل نہیں سکا پس آپعليه‌السلام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اس کی قیمت صدقہ کردی جائے آپعليه‌السلام نے فرمایا پھرتلاش کرو اور کہیں سے حاصل کرو کیونکہ حق تعالی خون بہانے اور کھانا کھلانے کو دوست رکھتا ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ امامعليه‌السلام سے پو چھا گیا کہ جو بچہ پیدائش کے ساتویں دن مرجا ئے تو کیا اس کاعقیقہ کرنا واجب ہے؟ فرمایا کہ اگر ظہر سے پہلے فوت ہوتو نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر ظہر کے بعد فوت ہو جائے تو اس کا عقیقہ کرنا چاہیے ایک معتبر حدیث میں عمر بن یزید سے منقول ہے کہ اس نے امامعليه‌السلام کی خدمت میں عرض کیا مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد نے میرا عقیقہ کیا ہے کہ نہیں؟ آپعليه‌السلام نے فرمایا تم اپنا عقیقہ خود کروپس اس نے بڑھاپے میں اپنا عقیقہ کیا حدیث حسن میں آپعليه‌السلام ہی سے منقول ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے عقیقہ کیا جائے اس کا سر منڈوایا جائے اور سر کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی جائے عقیقہ کے جانور کے ران اور پایے دایہ کو دیے جائیں کہ جس نے بچے کی پیدائش میں خدمت انجا م دی ہے باقی گوشت لوگوں کو کھلایا جائے اور تصدق کیا جائے ایک اور موثق حدیث میں فرماتے ہیں جب تمہارے ہاں لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو ساتویں دن اس کا عقیقہ کرواس کا نام رکھو اور اس کا سر منڈوا دو اور اسی روز اس کے سر کے بالوں کے برابر سونا چاندی صدقہ کر دوعقیقہ کا جانور گوسفند یا اونٹ ہو ایک اور حدیث میں ہے کہ عقیقہ کے گوشت کا چوتھا حصہ دایہ کو دیا جائے اگر بچہ دایہ کے بغیر پیدا ہو اہے تو وہ گوشت بچے کی ماں کو دیا جائے وہ جسے چاہے دے دے عقیقہ کا گوشت کم ازکم دس مسلمانوں کو کھلایا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو بہتر ہے لیکن یاد رہے کہ عقیقہ کے گوشت سے خود نہ کھائے اور دایہ اگر عیسائی ہے تو اسے چوتھائی گوشت کے بدلے اس کی قیمت دے دی جائے ایک اور روایت میں ہے کہ دایہ کو عقیقہ کے گوشت کی ایک تہائی دی جائے اور علمائ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ عقیقہ کا جانور اونٹ‘ بھیڑ یا بکری ہو نی چاہیے .امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ حضرات حسنین شریفین کی ولادت کے وقت رسول خدا نے ان کے کانوں میں اذان دی حضرت فاطمہ الزہرا = نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور دایہ کو اس کے پائے اور ایک اشرفی عطا کی .ضروری ہے کہ عقیقہ کا جانور اگر اونٹ ہے توپانچ سال کا یا چھٹے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کا ہو اگر بکری ہے تو ایک سال کی یا دوسرے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کی ہو اور اگر بھیڑ ہے تو کم از کم چھ یا سات ماہ کی ہو نی چاہیے اور سات ماہ پورے ہو چکے ہوں تو بہتر ہے نیز جانور خصی نہ ہونا چاہیے اور سینگ ٹوٹا‘ کان کٹا‘ لاغر‘ اندھا اور لولاا لنگڑا نہ ہونا چاہیے اور اگر لنگڑا ہو تو ایسا نہ کہ چل پھر نہ سکے۔یاد رہے کہ امام جعفر صادق - کے فرمان کے مطابق عقیقہ کا شمار قربانی میں نہیں ہوتا جو بھی گوسفندمل جائے بہتر ہے ‘اصل چیز تو گوشت ہے اور جانور جتنا موٹا تازہ ہو مناسب ہے علمائ میں مشہور قول یہ ہے کہ لڑکے کیلئے عقیقہ کا جانور اور لڑکی کیلئے مادہ ہونا چاہیے اور یہ حقیر مؤلف گمان کرتا ہے کہ دونوں کے لئے نرجانور ہو تو بہتر ہے اور یہ بات بہت سی معتبر حدیثوں سے مطابقت رکھتی ہے تاہم دونوں کیلئے مادہ جانور ہو نے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ بچے کے والدین عقیقہ کا گوشت نہ کھائیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ جو چیز اس میں پکائی جائے وہ بھی نہ کھائیں اور بچے کی ماں کا اس گوشت سے کھانا اشد مکروہ ہے بہتر ہے کہ بچے کے والدین خاندان جو اس گھر میں رہتے ہیں وہ بھی یہ گوشت نہ کھائیں یہ بھی سنت ہے کہ گوشت پکا کر کھلایا جائے اور کچا گوشت صدقہ میں نہ دیا جائے اس کے پکانے کی کم ازکم حد یہ کہ اسے نمک کے پانی میں پکایا جائے اور احتمال یہ ہے کہ یہی صورت بہتر ہے لیکن اگر کچا گوشت ہی تصدق کردیا جائے تو بھی بہتر ہے اگر عقیقہ کا جانور نہ مل سکے تو اس کی قیمت صدقے میں دینا بے فائدہ ہے بلکہ صبر کرناچاہیے یہاں تک کہ جانور مل جائے اور عقیقہ کر دیا جائے۔ اس میں شرط نہیں کہ جو لوگ کھانے میں آئیں وہ سب محتاج ہی ہوں بلکہ فقیروں کے ساتھ نیکوکار افراد کو بھی بلانا چاہیے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ عقیقہ کے گو شت میں اس کی ہڈیوں کو توڑنے کی کراہت ایک مشہور بات ہے اور روایت ہے

یکسر عظمها و یقطع لحمها و تصنع بها بعد الذبح ما شئت

اس کی ہڈیاں توڑ دی جائیں گوشت کاٹا جائے اور ذبح کے بعد تم جیسے چاہو گوشت تیار کرو ۔

اس کراہت کے منافی نہیں ہے ‘صاحب جواہر الکلام فرماتے ہیں کہ یہ بات جو اہل عراق میں مشہور ہے کہ عقیقہ کی ہڈیاں اکٹھی کر کے انہیں کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا مستحب ہے پس مجھے اس بارے میں کوئی نص نہیں مل سکی ‘خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

(چھبیسواں امر)

امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ بچے کے ختنے کے وقت یہ دعا پڑھی جائے اگر اس وقت نہ پڑھی جاسکے تو لڑکے کے بالغ ہونے تک جب بھی موقع ملے دعا پڑھی جائے کہ اس طرح گرم لوہے سے مرنے اور اس سے پہنچنے والی دوسری تکلیفوں سے محفوظ رہتا ہے وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰهُمَّ هذِهِ سُنَّتُکَ وَسُنَّةُ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَاتِّباعٌ مِنَّا لَکَ وَلِنَبِیِّکَ

اے معبود یہ تیرا طریقہ ہے اورتیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت ہے تیری رحمت ہو انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور ان کی آلعليه‌السلام پر ہماری طرف سے تیری اور تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی

بِمَشِیئَتِکَ وَبِ إرادَتِکَ وَقَضائِکَ اََِمْرٍ أَرَدْتَهُ وَقَضائٍ حَتَمْتَهُ وَأَمْرٍ

اتباع ہے تیری مشیت اور تیرے ارادے اور تیر احکم بجا لانے کے لئے جس کا تو نے ارادہ کیا

أَنْفَذْتَهُ وَأَذَقْتَهُ حَرَّ الْحَدِیدِ فِی خِتانِهِ وَحِجامَتِهِ بِأَمْرٍ أَنْتَ

فیصلے کو یقینی بنایا اور حکم جاری کردیا اور اس سے لوہے کی کاٹ اورزخم کی اذیت کا ذائقہ چکھایااس حکم سے

أَعْرَفُ بِهِ مِنِّی اَللّٰهُمَّ فَطَهِّرْهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَزِدْ فِی عُمْرِهِ وَادْفَع

جسے تو مجھ سے زیادہ پہچانتاہے اے معبود پس اسے گناہوں سے پاک کر اس کی عمر میں اضافہ فرما اس

ِالْأَفاتِ عَنْ بَدَنِهِ وَالْاََوْجاعَ عَنْ جِسْمِهِ وَزِدْهُ مِنَ الْغِنَیٰ وَادْفَعْ عَنْهُ الْفَقْرَ، فَ إنَّکَ تَعْلَمُ وَلاَ نَعْلَمُ

کے بدن سے آفتیں اور دکھ درد دورکردے اس کو زیادہ مال عطا کر اور محتاجی کو اس سےدور رکھ کہ یقینا تو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔

(ستائیسواں امر)

سید ابن طاؤس نے خطیب مستغفری کی کتاب ’’دعوات‘‘ اور اس نے رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا جب تم کتاب ﷲ(قرآن ) سے فال لینا چاہو تو تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو اور اس کے بعد محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تین مرتبہ درود بھیجو اس کے بعد یہ کہو:

اَللّٰهُمَّ إنِّی تَفَأَّلْتُ بِکِتابِکَ وَتَوَکَّلْتُ عَلَیْکَ فَأَرِنِی مِنْ کِتابِکَ مَا هُوَ مَکْتُومٌ

اے معبود میں تیری کتاب سے فال لے رہا ہوں تجھی پر میرا بھروسہ ہے پس مجھے اپنی کتاب میں سے وہ چیز دکھا جو پوشیدہ ہے تیرے چھپے

مِنْ سِرِّکَ الْمَکْنُونِ فِی غَیْبِکَ

ہوئے راز سے تیرے پردہ غیب میں ۔

اس کے بعد کہ قرآن جامع کہ جس میں تمام سورتیں اور آیتیں ہوں اسے ہاتھ میں لے کر کھولو پھر صفحہ و سطر شمار کیے بغیرداہنی طرف کی پہلی سطر سے فال لو۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ مجلسی نے بعض علمائ کی تالیفات میں شیخ یوسف قطیفی کے خط سے اور انہوں نے آیۃ ﷲ علامہ کے خط سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا جب تم کتاب عزیز (قرآن)سے استخارہ کرنے کا ارادہ کرو تو بسم ﷲ الرحمن الرحیم کے بعد یہ کہو:

إنْ کانَ فِی قَضائِکَ وَقَدَرِکَ أَنْ تَمُنَّ عَلَی شِیعَةِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ

الہی اگر تیرے حکم اور فیصلے میں یہ بات ہے کہ شیعیان آلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احسان فرمائے کشائش دے کر

اَلسَّلَامُ بِفَرَجِ وَلِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ فَأَخْرِجْ إلَیْنا آیَةً

اپنے ولی اور اپنی حجت پر جو تیری مخلوق کے لئے ہے تو ظاہر فرما ہم پر ایسی آیت

مِنْ کِتابِکَ نَسْتَدِلُّ بِها عَلَی ذلِکَ

اپنی کتاب سے جو اس پر ہماری دلیل بن جائے۔

پھر قرآن مجید کھولے اورو ہاں سے چھ صفحے شمار کرے پس ساتویں صفحے کی سطر پر نظر کرے اور اس سے مطلب اخذ کرے۔شیخ شہیدرحمه‌الله نے اپنی کتاب ذکریٰ میں فرمایا ہے کہ استخاروں میں سے ایک استخارہ عدد ہے جو سید کبیر رضی الدین محمد بن محمدآلاوی مجاور روضہ امیر المؤمنینعليه‌السلام سے قبل مشہور نہ تھا ہم اس استخارے کو تمام روایتوں کے ساتھ اپنے مشائخ میں سے شیخ کبیر فاضل جمال الدین بن مطہر سے اور وہ اپنے واالد گرامی سے اور وہ سید رضی الدین مذکور سے اور وہ حضرت صاحب العصرعليه‌السلام سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ دس مرتبہ اس سے کم تین مرتبہ اور کم ازکم ایک مرتبہ اور پھر سورہ قدر دس مرتبہ پڑھے اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُکَ لِعِلْمِکَ بِعاقِبَةِ الْاَُمُورِ وَأَسْتَشِیرُکَ لِحُسْنِ

اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا ہوںکہ تو معاملوں کے انجام کو جانتا ہے تجھ سے مشورہ کرتا ہوں کہ

ظَنِّی بِکَ فِی الْمَأْمُولِ وَالَْمحْذُورِ اَللّٰهُمَّ إنْ کانَ الْاََمْرُ الْفُلانِیّ مِمَّا نِیطَتْ بِالْبَرَکَةِ

امیدوں اور خطروں میں تجھ ہی سے حسن ظن ہے اے معبود فلاں کام ان کاموں میں سے ہے کہ جن کے انجام میں برکت

أَعْجازُهُ وَبَوادِیهِ وَحُفَّتْ بِالْکَرامَةِ أَیَّامُهُ وَلَیالِیهِ فَخِرْ لِی اَللّٰهُمَّ فِیهِ خِیَرَةً

ہے اور آغاز میں بھی اور اس کے دن رات نفع سے بھر پورہیں تو اے معبود تو میرے لئے اس خیر کو

تَرُدُّ شَمُوسَهُ ذَلُولاً وَتَقْعَضُ أَیَّامَهُ سُرُوراً اَللّٰهُمَّ إمَّا أَمْرٌ فَأْتَمِرُ

اختیار کرجس سے سرکش مطیع ہو جائے اور دن خوشیوں سے بھر جائیں اے معبود اگر کرنے کا حکم ہے تو

وَ إمَّا نَهْیٌ فَأَنْتَهِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِرَحْمَتِکَ خِیَرَةً فِی عافِیَةٍ

کروں اور نہیں ہے تو رکا رہوں اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں تیری رحمت سے ایسی خیر جس میں آرام ہو۔

پھر تسبیح کے کچھ دانے مٹھی میں لے کر اپنی حاجت دل میں لائے اگر مٹھی میں لئے ہوئے دانوں کی تعداد جفت ہے تو یہ ’’افعل ‘‘(اس کام کے کرنے کا حکم) اور طاق ہے تو یہ ’’لا تفعل‘‘(اس کام کے بجانہ لانے کا حکم )ہے یا اس کے برعکس کہ طاق بہتر ہے اور جفت بہتر نہیں ‘یہ استخارہ کرنے والوں کی نیت سے وابستہ ہے ۔مؤلف کہتے ہیں ’’تقعض‘‘ضاد معجمہ کے ساتھ ہے جس کے معنی ہیں لوٹ جائے پلٹ جائے اور ہم نے نمازوںکے باب میں استخارہ ذات الرقاع اور دیگر اقسام کے استخاروں کاذکر کیا ہے لہذا انکی طرف رجوع کیا جائے جانناچاہیے کہ سید ابن طاؤسرحمه‌الله فرماتے ہیں ان کاخلاصہ کلام یہ ہے کہ مجھے اس بار ے میں کوئی صریح حدیث نہیں ملی کہ انسان کسی اور کیلئے بھی استخارہ کرسکتا ہے؟ لیکن مجھے ایسی بہت سی احادیث میں یہ بات ضرور نظر آتی ہے کہ دعاؤں اور توسل کے دیگر ذریعوں کے ساتھ اپنے مؤمن بھائیوں کی حاجات پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ روایات میں تو مؤمن بھائیوں کیلئے دعاکرنے کے اتنے فوائد بیان ہوئے ہیں کہ جن کے دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے چونکہ استخارے کا شمار بھی دعاؤں اور حاجتوں میں ہے اور جب کوئی شخص کسی سے استخارہ کرنے کو کہتا ہے تو گویااس کے سامنے اپنی حاجت پیش کر رہا ہوتا ہے اور جو استخارہ کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے استخارہ کرتا ہے تاکہ اسے بتائے آیا اس میں مصلحت ہے کہ اس سے کہے یہ کام کرو یا نہ کرو وہ اسے بتانا چاہتا ہے کہ اس کام کے کرنے میں مصلحت ہے یا اس کے نہ کرنے میں مصلحت ہے پس اس بات کا تعلق استخاروں اور حاجتوں کے پورا کرنے کے ضمن میں نقل شدہ روایات سے ہے کہ علامہ مجلسیرحمه‌الله کا ارشاد ہے کہ سید کا کلام دوسروں کے لئے استخارہ کرنے کے جواز میں قوت سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق عوامی ضرورتوں سے ہے خصوصا اس صورت میں جب استخارہ کرانے والے کا نائب اس چیز کا قصد کرے کہ وہ اس شخص کا نائب بن کر کہہ رہا ہے کہ اس کام کو انجام دو یا انجام نہ دو .جیسا کہ سیدرحمه‌الله نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے یہ استخارے کو خاص روایات و اخبار کے تحت لانے کا ایک ذریعہ ہے تاہم زیادہ احتیاط اور زیادہ بہتری اسی میں ہے کہ صاحب حاجت اپنے لئے خود استخارہ کرے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی روایت نہیں ملی کہ جس میں استخارہ میں وکالت کو جائز قرار دیا گیا ہو اگر یہ عمل جائز یا قابل ترجیح ہوتا تو آئمہ کے اصحاب ان حضراتعليه‌السلام سے اس بارہ میں ضرور پوچھتے اور اگر پوچھا گیا ہوتا تو ضرور ہم تک یہ بات پہنچ جاتی اور کم ازکم ایک ہی ایسی روایت مل جاتی ہے ماسوائے اس کے کہ مضطر اور پریشان حال قبولیت دعا کے سلسلے میں فوقیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی دعا خلوص نیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

(اٹھائیسواں امر)

رسول ﷲ نے فرمایاجو شخص کسی یہودی یا عیسائی مجوسی کو دیکھے وہ یہ دعاپڑھے تو ﷲتعالی اسے اور اس کافر کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی فَضَّلَنِی عَلَیْکَ بِالْاِسْلامِ دِیناً وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ

حمد ہے ﷲ کے لئے جس نے مجھے تجھ پر فضیلت دی دین اسلام کے ساتھ کتاب قرآن کے ساتھ پیغمبرمحمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ علیعليه‌السلام ایسے امامعليه‌السلام

إماما،ً وَبِالْمُؤْمِنِینَ إخْوانا وَبِالْکَعْبَةِ قِبْلَةً

کے ساتھ مومنوں کی برادری کے ساتھ اور کعبہ ایسے قبلہ کے ساتھ۔

مؤلف کہتے ہیں بہت سی آیات وروایات کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کے ساتھ محبت اور مشابہت پیدا نہ کریں اور نہ ہی ان کی روش کو اپنائیں ﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔

قَدْ کَانَ لَکُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِی إبْرَاهِیمَ وَالَّذِینَ مَعَهُ إذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إنَّا بُرَأٰٓؤُا مِنْکُمْ

جیسا کہ ﷲ تعالی کا فرمان ہے ضرور تمہارے لیے ابراہیمعليه‌السلام اور ان کے ساتھیوں کے کردار میں بہترین نمونہ عمل ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ

وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ وَبَدَا بَیْنَنا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَائُ أَبَداً

ہم تم لوگوں سے بری ہیں اور خدا کےعلاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کی عداوت اور دشمنی ظاہر ہو چکی ہے۔

شیخ صدوقرحمه‌الله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ ایک نبیعليه‌السلام کی طرف یہ وحی آئی کہ اے نبی مومنوں سے کہہ دو کہ میرے دشمنوں کا جیسا لباس نہ پہنو میرے دشمنوں جیسی خوراک نہ کھاؤ اور میرے دشمنوں کی روش پر نہ چلو ورنہ تم لوگ بھی میرے دشمن تصور کیے جاؤ گے جیسے وہ میرے دشمن ہیں اسی وجہ سے بہت سی روایتوں میں مذکور ہے کہ فلاں عمل کو بجا لاؤاور خود کو کفار کے مشا بہ نہ کرومثلا وہ روایت جو حضرت رسول ﷲ سے منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا مونچھیں منڈواؤ اور داڑھی بڑھاؤ بس خود کو یہود ونصاری کے مشابہ نہ بناؤ کیونکہ نصاری اپنی داڑھیوں کو منڈواتے ہیں اور مونچھوں کو بڑھاتے ہیں جب کہ ہم داڑھی کو بڑھاتے اور مونچھوں کو کٹواتے ہیں چنانچہ جب حضرت رسول ﷲ کے تبلیغی مکتوب مختلف ملکوں کے بادشاہوں کو موصول ہوئے تو کسریٰ (شاہ ایران)نے یمن میں اپنے گورنرباذان کو حکم بھیجا کہ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کے پاس روانہ کردے تب اس نے اپنے کاتب ۔بانویہ۔ اور ایک دوسرے شخص ۔خر۔خسک۔ کو مدینہ روانہ کیا ان دونوں نے داڑھیاں منڈوائی اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں ان کی یہ حالت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہایت ناگوار گزری اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں دیکھنا بھی گوارا نہ کیا آپ نے ان سے فرمایا: افسوس ہے تم پر کس نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم دیا؟ انہوں نے کہا ہمارے رب یعنی کسریٰ نے اس پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا لیکن میرے رب (پروردگار) نے مجھے داڑھی رکھنے اور مونچھیں کاٹنے کاحکم دیا ہے نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ﷲ تعالی نے سورہ ہود میں فرمایا۔

وَلا تَرْکَنُوا إلَی الَّذیِنَ ظَلَمُوا َتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ ﷲ مِنْ أَوْلِیَائَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُونَ

ظالموں کی طرف میلان پیدا نہ کرو ورنہ جہنم کی آگ تمہیں لپیٹ میں لے گی اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی مدد گار نہ ہوگااور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی ۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ظالموں کی طرف تھوڑا ساجھکاؤبھی پیدا نہ کرو چہ جا ئیکہ بہت سارا جھکاؤ پیدا کیا جائے کیونکہ اس سے جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی بعض مفسرین کا قول ہے کہ جس قسم کے جھکاؤ سے روکا گیا ہے وہ ظالموں کے ظلم میں شریک ہونا ان کاموں میں راضی اور ان سے محبت کااظہار کرنا ہے روایات اہل بیتعليه‌السلام میں وارد ہے کہ ۔رکون۔ سے مرادان کے ساتھ محبت کرنا‘ان کی خیر خواہی اور ان کی اطاعت کرنا ہے :

(انتیسواں امر)

وہ انیس کلمات ہیں دعا مانگنے والے کی مصیبتوں کے دور ہونے کا سبب بنتے ہیں ‘یہ کلمات حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امیر المؤمنین- کو تعلیم فرمائے اور شیخ صدوقرحمه‌الله نے انہیں اپنی کتاب الخصال کے انیسویں باب میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہیں۔

یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ وَیَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ وَیَا سَنَدَ مَنْ لا اَسَنَدَ لَهُ وَیَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ

اے اس کے سہارے ‘جس کا کوئی سہارا نہیں اے اس کی پونچی جس کی کوئی پونجی نہیں اے اسکے آسرے جس کا کوئی آسرا نہیں اے اس کی

لَهُ وَیَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ وَیَا کَرِیمَ الْعَفْوِ وَیَا حَسَنَ الْبَلائِ وَیَا عَظِیمَ الرَّجائِ وَیَا

پناہ جس کی کوئی پناہ نہیں اے اس کے فریاد رس جس کا کوئی فریاد رس نہیں اے خوب معاف کرنے والے اے بہتر آزمائش کرنے والے

عِزَّ الضُّعَفائِ، وَیَا مُنْقِذَ الْغَرْقَیٰ وَیَا مُنْجِیَ الْهَلْکَیٰ یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ

اے بڑے امید دلانے والے اےاے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے ہلاکتوں سے بچانے والے احسان

یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ أَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ، وَضَوْئُ

کرنے والے اے خوش رفتار اے نعمت دینے والے اے عطا کرنے والے تو وہ ہے جسے سجدہ کرتے ہیں رات کی سیاہی دن کی روشنی ،چاند

الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ وَدَوِیُّ الْمائِ وَحَفِیفُ الشَّجَرِ یَاﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ

کی چاندنی، سورج کی شعاعیں، پانی کیلہریں اور درختوں کی حرکت یا ﷲ یا ﷲیا ﷲ تو ہی یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے

پھر کہے:

اَللّٰهُمَّ افْعَلْ بِی کَذا وَکَذا

اے معبود میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔

(دعا میں کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات بیان کرے)۔

ابھی وہ شخض اپنی جگہ سے اٹھا نہ ہو گا کہ دعا قبول ہو چکی ہوگی انشائ ﷲ:

(تیسواں امر)

شیخ کفعمی نے مفاتیح الغیب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے پر لفظ’’بسم ﷲ‘‘ لکھے وہ ہلاکتوں سے محفوظ رہے گاخواہ وہ کافر ہی ۔ہو کہا جاتا ہے کہ ﷲ تعالی نے فرعون کو اس لئے جلد ہلاک نہیں کیا اور اس کے دعویٰ ربوبیت کے باوجود اسے مہلت دی کہ اس نے اپنے محل کے بیرونی دروازے پر ’’بسم ﷲ‘‘ لکھی ہوئی تھی جب حضرت موسیٰٰ - نے اس کی ہلاکت کے لئے دعا کی تو ﷲ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیعليه‌السلام تم اس کے محل کو دیکھ رہے ہو اور میں اس کے دروازے پر نوشتے کو دیکھ رہا ہوں ۔

(اکتیسواں امر)

شیخ ابن فہد نے روایت کی ہے کہ ایک روز ابو دردائ کو بتایاگیا کہ تمہارا گھر جل گیا ہے اس نے کہا وہ نہیں جلا پھر ایک شخص نے بھی آکر یہی کہا اور اس نے وہی جواب دیا۔پھر ایک تیسرا شخص آیااور اس نے بھی گھر جلنے کی خبر دی لیکن ابو دردائ نے وہی جواب دیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے گھر کے اطراف میں سب گھر جل چکے تھے لیکن اس کا گھر محفوظ رہ گیا تھا لوگوں نے پوچھا تمہیں کہاں سے پتہ چلا کہ تمہاراگھر نہیں جلا؟ اس نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضرت رسول ﷲ سے سنا ہے کہ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے گا تو دن میں اس کا اور اگر شام کو پڑھے گا تو رات کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہو گااور میں آج صبح کو یہ دعا پڑھ چکا تھا:

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی لا إلهَ إلاَّ أَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَلاَ

اے معبود تو میرا رب ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے میںتجھ پربھروسہ کرتا ہوں توعظمت والے عرش کا مالک ہے نہیں ہے

حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ مَا شائَ ﷲ کانَ وَما لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ أَعْلَمُ أَنَّ ﷲ

طاقتت وقوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے خدا جو چاہے ہو جاتا ہے اور جووہ نہ چاہے نہیں ہوتا میں جانتا ہوں

عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَأَنَّ ﷲ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ

کہ ﷲ ہر چیز پر قادر ہےاور یقینا ﷲ کے علم نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں

شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ قَضائِ السُّوئِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ، وَ مِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ

اپنے نفس کے شر سے ہر بری شی کے شر سے ہر شریر کے شر سے جنوں اور انسانوں کے شر سے اور

وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِناصِیَتِها إنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ

ہرحیوان کے شر سے کہ جس کی مہار تیرے ہاتھ میں ہے یقینا میرا رب سیدھے راستے پر ملتا ہے ۔

(بتیسواں امر)

شیخ کلینیرحمه‌الله اور دیگر بزرگان نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليه‌السلام نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم فرمائی کہ ہمارے شیعہ امام العصرعليه‌السلام کی غیبت میں اور پھر ان کی کشائش کے وقت یہ دعا پڑھا کریں:

اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ

اے معبود تو مجھے اپنی معرفت عطا کر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں تیرے نبی کو نہ پہچان

نَبِیَّکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ، فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ

پاؤ نگا اے معبود مجھے اپنے رسول کی معرفت عطاکر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ کرائی

لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی

تو میں تیری حجتعليه‌السلام کو نہ پہچان پاؤنگااے معبود مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کر کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت

حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی

کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمرا ہ ہو جاؤں گا۔

(تینتیسواں امر)

کتاب:عدۃ الداعی میں ہے کہ امیر المؤمنین- سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو اپنادایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھے اور یہ کہے:

بِسْمِ ﷲ وَضَعْتُ جَنْبِی لِلّٰهِ، عَلَی مِلَّةِ إبْراهِیمَ وَدِینِ مُحَمَّدٍ

ﷲ کے نام سے میں نے اپنا پہلو ﷲ کے لئے رکھ دیا ہے ملت ابراہیم اور حضرت محمد صلی ﷲ

صلی ﷲ علیه وآله وسلم وَوِلایَةِ مَنِ افْتَرَضﷲ طاعَتَهُ مَا شَائَ ﷲکانَ وَما لَمْ

علیہ وآلہ وسلم کے دین پراور ان کی ولایت پرجن کی اطاعت ﷲ نے واجب ٹھہرائی ہے جو ﷲ چاہے ہو جاتا ہے اور جو وہ نہ چاہے

یَشَأْ لَمْ یَکُنْ

نہیں ہوتا۔

پس جو شخص سوتے وقت اس دعا کو پڑھے ﷲ تعالی اسے چور ڈاکو اور چھت تلے دبنے سے محفوظ رکھے گااور فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔

(چونتیسواں امر)

کتاب عدۃ الداعی میں ہے کہ ہر وہ چیز جو پوشیدہ طور پر استعمال کیلئے رکھی گئی ہے اس پر سورہ قدر کاپڑھنااسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے اور یہ بات آنجناب ہی سے روایت ہوئی ہے:

(پینتیسواں امر)

امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ جوشخص قرآن مجید میں سے کوئی سی سو آیات پڑھے پھر سات مرتبہ یا ﷲ کہے تو اگر وہ یہ عمل کسی پتھر پر بھی کرے گاتو اسے حق تعالی توڑ دے گا۔

(چھیتسواں امر)

امیرالمومنین- ہی سے منقول ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا تو ﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے پچاس ہزار فرشتے بھیجے گا جو رات بھر اس کی پاسبانی کرتے رہیں گے. امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جس شخص پر پورا دن گزر جائے اور وہ اپنی کسی بھی نماز میں سورہ اخلاص نہ پڑھے تو قیامت میں اس سے کہا جائے گا کہ اے بندے! تو نمازگذاروں میں سے نہیں تھا انہی جناب سے منقول ہے کہ جو شخص سات دنوں میں سورہ اخلاص (ایک مرتبہ بھی) نہ پڑھے اور مرجائے تو وہ ابولہب کے دین پر مرے گا۔ آپعليه‌السلام ہی سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مرض یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور اس وقت سورہ اخلاص نہ پڑھے تو وہ اہل جہنم سے ہوگا۔

( سینتیسواں امر)

عدۃ الداعی میں منقول ہے کہ اس تعویذ کو لکھ کر خربوزہ، خیار اور دوسری فصلوں کے لیے لٹکائے تو وہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں سے محفوظ رہیں گی اس کی کیفیت یہ ہے کہ اسے کپڑے کے چار ٹکڑوں پر لکھے اور لکڑی کے ساتھ باندھ کر کھیت کے چاروں کونوں پر نصب کر دے وہ تعویذ یہ ہے:

أَیُّهَا الْدُوْذُ أَیُّهَا الدَّوابُّ وَالْهَوامُّ وَالْحَیْواناتُ اخْرُجُوا مِنْ هذِهِ الْاََرْضِ وَالزَّرْعِ إلَی الْخَرابِ

اے کیڑے مکوڑو! اے جانوروں چرندو! اے جاندارو! اس زمین اور اس کھیت سے نکل کر ویرانے میںچلے جائو

کَما خَرَجَ ابْنُ مَتَّ مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ فَ إنْ لَمْ تَخْرُجُو أَرْسَلْتُ عَلَیْکُمْ شُواظاً مِنْ نارٍ وَنُحاسٍ فَلا

جیسے یونس ابن متیٰ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تھے پس اگر تم پر نہ نکلے تو میں پر آگ اور تابنےکے شعلے بھیجوں گا پھر

تَنْتَصِرانِ أَلَمْ تَرَ إلَی الَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ

تمہاری مدد نہیں کی جائے گی آیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گھروں سے نکلے ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کے تو

لُهُمُ ﷲ مُوتُوا فَماتُوا اخْرُج مِنْها فَ إنَّکَ رَجِیمٌ، فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً یَتَرَقَّبُ سُبْحانَ

ﷲ نے ان سے فرمایا کہ مرجائوپس وہ مرگئے تم یہاں سے نکل جائو کیونکہ تم راندہ درگاہ ہو تو وہ وہاں سے ڈرتا ہوا نکلا پاک ہے وہ ﷲ

الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِد الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِد الْاََقْصَیکَأَنَّهُمْ یَوْم یَرَوْنَها لَمْ یَلْبَثُوا

جس نے اپنے بندے کو راتوں رات سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو نہیں ٹھہریں

إلاَّ عَشِیَّةً أَوْ ضُحَاهَا فَأَخْرَجْناهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ کَرِیمٍ، وَنَعْمَةٍ کانُوا فِیها فاکِهِینَ فَما

گے مگر شام یا ظہر تک پس ہم نے نکالا ان کو باغوں چشموں کھیتوں حویلیوں اور نعمتوں سے جن میں وہ خوش تھے تو نہ ان پر

بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمائُ وَالْاََرْضُ وَما کانُوا مُنْظَرِینَ اُخْرُجْ مِنْها فَما یَکُونُ لَکَ أَنْ تَتَکَبَّر فِیها فَاخْرُجْ

آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت ملی تو یہاں سے نکل جا تجھے یہ حق نہیں کہ اس میں تکبر کیا کرے پس نکل جا کہ

إنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُوما مَدْحُوراً فَلَنَأْتِیَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لاَ قِبَلَ لَهُمْ

تو پست لوگوں میں سے ہےاس جگہ سے نکل جا بدحال و مردود ہوکر پس ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کا سامنا کر سکیں اور

وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْها أَذِلَّةً وَهُمْ صاغِرُونَ

ضرور ہم انہیں وہاں سے ذلیل و خوار کر کے نکالیں گے۔

(اڑتیسواں امر)

سید ابن طائوسرحمه‌الله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ہو تو وہ کسی اور چیز کی طرف نظر کرنے سے پہلے انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف پھیرے اور اس پر نگاہ رکھ کر سورہ قدر کو پڑھے اور اس کے بعد کہے:

آمَنْتُ بِالله وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَکَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَآمَنْتُ بِسِرِّ آلِ

میں ایمان رکھتا ہوں ﷲ پر جو یکتا ہے کوئی اس کاشریک نہیں انکار کرتا ہوں بت اور طاغوت کا ایمان رکھتا ہوںآلعليه‌السلام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

مُحَمَّدٍوَعَلانِیَتِهِمْ وَظاهِرِهِمْ وَباطِنِهِمْ وَأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ

نہاں و عیاں پر ان کے ظاہر پراور ان کے باطن پر ان کے اول پر اوران کے آخری پر۔

پس جو شخص یہ عمل کرے گا تو خدائے تعالیٰ اس دن کی شام تک آسمان سے اتر نے والی چیزوں اور آسمان کی طرف جانے والی چیزوں، زمین میں داخل ہونے والی چیزوں اور زمین سے نکلنے والی چیزوں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور خدا اور دوستان خدا کی حفاظت میں رہے گا

(انتالیسواں امر)

شیخ کفعمیرحمه‌الله نے کتاب جمع الشتات سے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم ہماری کوئی حدیث بیان کرنا چاہتے ہو ،لیکن شیطان تمہیں اس میں بھلا دیتا ہے پس اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھو اور یہ کہو:

صَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا مُذَکِّرَ الْخَیْرِ وَفاعِلَهُ

خدا رحمت کرے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پراے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں. اے خیر کو یاد دلانے اس پر عمل

وَالْاَمِرَ بِهِ ذَکِّرْنِی مَا أَنْسانِیهِ الشَّیْطانُ من لا یحضره

کرنے والے اور اس کا حکم دینے والے مجھے یاد دلا جو شیطان نے مجھے بھلا دیا ۔

نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا

. نیز کتاب ’’مَنْ لَا یَحضرہ الفقیہ‘‘ میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے جو شخص نماز میں بہت زیادہ بھولتا ہو تو اسے چاہیئے کہ جب بیت الخلائ میں جائے تویہ دعا پڑھے:

بِسْمِ ﷲ أَعُوذُ بِالله مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِیثِ الْمُخْبِثِ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ

خدا کے نام سے خدا کی پناہ لیتا ہوں پلید نجس خبیث آلودہ کرنے والے راندے ہوئے شیطان سے۔

قوت حافظہ کی دوا اور دعا

مولف کہتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حافظہ زیادہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ مسوا ک کرے ، روزہ رکھے ، قرآن کی اور خاص کر آیت الکرسی کی تلاوت کرے، ناشتے میں کشمش خصوصاً سرخ کشمش کے اکیس دانے پابندی سے کھائے یہ چیز فہم حافظہ اور ذہن کے لیے بہت ہی مفید ہے اسی طرح حلوہ ، جانور کی گردن کے قریب کا گوشت ، شہد اور مسور کا کھانا بھی ترقی حافظہ کا موجب ہوتا ہے یہ بھی منقول ہے کہ تجربہ شدہ دوائوں میں سے ایک یہ ہے کہ کندر، سعد اور شکر مساوی مقدار میں لے کر آہستہ آہستہ کوٹ کر سفوف بنالیا جائے اور اسے پانچ درہم کی مقدار میں ہر روز کھائے لیکن اس طرح کہ لگا تار تین دن کھائے اور پانچ دن کا ناغہ کرے نیز صبح کی نماز کے بعد کسی سے بات کیے بغیر یہ کہے:

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ، فَلا یَفُوتُ شَیْئاً عِلْمُهُ وَلاَ یَؤُدُهُ

اے زندہ! اے پایندہ! جس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں پاتی نہ اسے تھکاتی ہے

نیز ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:

سُبْحانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلَی أَهْلِ مَمْلِکَتِهِ

پاک ہے وہ اپنے زیر حکومت لوگوں پر زیادتی روا نہیں رکھتا۔

پھر وہ نماز پڑھے جو ہم نے دوسرے باب میں قوت حافظہ کے لیے لکھی ہے نیز ایسی چیزوں سے پرہیز کرے جو سہو و نسیان کا موجب ہوتی ہیں اور وہ یہ ہیں کھٹا سیب، سبز دھنیا، پنیر اور چوہے کا جھوٹا کھانا، کھڑے پانی میں پیشاب کرنا ، قبروں کی تختیوں کو پڑھنا ، دو عورتوں کے درمیان سے گزرنا، جو ئیں پکڑ کر زندہ چھوڑ دینا، ناخن نہ کٹوانا ، دنیوی امور میں بہ کثرت مشغول اور ان کے لیے مغموم رہنا ، سولی پر چڑھے ہوئے شخص کو دیکھنا اور اونٹوں کی قطار کے درمیان سے گزرنا۔

(چالیسواں امر)

شیخ ابن فہدرحمه‌الله نے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا: ہر وہ دعا جس کے آغاز میں خدا کی تمجید و بزرگی اور ثنائ و تعریف نہ ہو وہ ابتر و ناکام ہوتی ہے پہلے خدا کی تمجید ہوتی ہے پھر ثنائ اور تعریف ہوتی ہے، راوی نے پوچھا کم سے کم تمجید کیا ہے جو کافی ہو سکتی ہے؟ آپعليه‌السلام نے فرمایا:یوں کہا کرو:

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْاََوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْاَخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ

اے معبود! تو ایسا اول ہے کہ تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی توایسا آخر ہے کہ تیرے بعد کوئی چیز نہ ہوگی تو ایسا ظاہر

فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْباطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ

ہے کہ تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں تو ایسا باطن ہے کہ تجھ سے نیچے کوئی چیز نہیں اور تو غالب ہے حکمت والا.

فضیلت زیارت یوم عاشورا

ساتویں زیارت

عاشورا کے دن زیارت امام حسین-

معلوم ہونا چاہیئے کہ عاشورہ کے دن کے لیے امام حسین- کی بہت سی زیارتیں نقل ہوئی ہیں اور ہم بغرض اختصار دو زیارتوں کے نقل پر اکتفا کریں گے قبل ازیں دوسرے باب میں روز عاشورا کے اعمال میں ایک زیارت لکھی گئی ہے اور وہ مطالب بھی وہاں ذکر ہوئے ہیں جو اس مقام کے ساتھ مناسب ہیں اب رہیں دو زیارتیں تو ان میں سے ایک وہی زیارت عاشورا ہے جو معروف ہے اور دو ر و نزدیک سے پڑھی جاتی ہے اس کی تفصیل جیسا کہ شیخ ابو جعفر طوسی نے کتاب مصباح میں فرمائی کچھ اس طرح ہے کہ محمد بن اسماعیل بن بزیع نے صالح بن عقبہ سے اسنے اپنے باپ سے اور اسنے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دسویں محرم کے دن امام حسین- کی زیارت کرے اور اسکے ساتھ وہاں گر یہ بھی کرے تو روز قیامت وہ خدا سے ملاقات کریگا دو ہزار حج دو ہزار عمرہ دو ہزار غزوہ کے ثواب کے ساتھ اس شخص جس نے حج‘ عمرہ اور جہادحضرت رسول ﷲ اور ائمہ طاہرینکیساتھ مل کر کیا ہو راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جائوں ایسے شخص کے لیے کیا ثواب ہے جو کربلا سے دور دراز کے شہروں میں رہتا ہو اور اس کیلئے عاشورہ کے دن مزار امام حسین- کی زیارت کو آنا ممکن نہ ہو؟ آپ نے فرمایا اس صورت میں وہ شخص صحرا میں چلا جائے گا یا اپنے گھر کی سب سے اونچی چھت پر چڑھے اور حضرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلام کرے اور آپ کے قاتلوں پر جتنی ہو سکے لعنت بھیجے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ عمل دن کے پہلے حصے میں زوال سے قبل بجا لائے بعد میں امام حسین- کیلئے روئے اور فریاد بلند کرے نیز گھر میں جو افراد ہوں اگر ان سے تقیہ نہ کرنا ہو تو انہیں بھی کہے کہ وہ گریہ کریں۔

اس طرح وہ اپنے گھر میں سوگواری اور گریہ زاری کی صورت بنائے اور حضرت کے مصائب پر باآواز بلند روتے ہوئے وہ لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کریں تو میں خدا کی طرف سے ان لوگوں کیلئے ضامن ہوں کہ اگر وہ اس طرح عمل کریں تو ان کو بھی وہی ثواب ملے گا میں نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جائوں ! کیا آپ اس ثواب کے ضامن و کفیل ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ہر اس شخص کیلئے اس ثواب کا ضامن و کفیل ہوں جو یہ عمل انجام دے تب میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کس طرح ایک دوسرے سے تعزیت کریں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں:

أَعْظَمَ ﷲ أُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ، وَجَعَلَنا وَ إیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ

خدا ہماری جزائوں میں اضافہ کرے اس سوگواری پر جو ہم نے امام حسین- کیلئے کی اور ہمیں تمہیں انکے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے

بِثارِهِ مَعَ وَلِیِّهِ الْاِمامِ الْمَهْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ

ان کے وارث امام مہدیعليه‌السلام کی ہمراہی میں جو آل محمد میں سے ہیں۔

اگر ایسا ممکن ہو تو دسویں محرم کے دن کوئی شخص اپنے ذاتی اغراض کیلئے کہیں نہ جائے کیونکہ یہ دن نحس ہے جس میںکسی مومن کی حاجت پوری نہیں ہوتی اور اگر حاجت پوری ہو بھی جائے تو وہ اس مومن کیلئے بابرکت نہ ہو گی اور وہ اس میں بھلائی نہ دیکھے گا نیز کوئی مومن اس دن اپنے گھر کے لیے ذخیرہ نہ کرے کہ جو شخص اس دن کوئی چیز ذخیرہ کرے گا اس میں برکت نہ ہو گی۔ اور وہ اس کیلئے مفید ثابت نہ ہو گی نہ ان افراد کے لیے جن کی خاطر اس نے ذخیرہ کیا ہے۔ پس جو لوگ یہ عمل بجا لائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کے نام ہزار حج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد کا ثواب لکھے گا جو انہوں نے رسولا ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہمراہی میںکیا ہو۔ اسکے علاوہ ان کیلئے ہر پیغمبر رسول وصی اور شہید کی مصیبت کا ثواب ہو گا خواہ وہ طبعی موت سے فوت ہوا ہو یا شہید کیا گیا ہو اس وقت سے جب سے خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا اور اس وقت تک جب قیامت بپا ہو گی صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر - سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسین- کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسین- کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسین- کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جائو گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جائو گے جو امام حسین- کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے ابا عبداعليه‌السلام للہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین

أَمِیرِالْمُوَْمِنِینَ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ

عليه‌السلام کے فرزند اور اوصیائ کے سردار کے فرزند سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہعليه‌السلام جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ

آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر

الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ

جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں

یَا أَبا عَبْدِﷲ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ

اے ابا عبدﷲعليه‌السلام آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام

أَهْلِ الْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلَی جَمِیعِ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ

کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے

فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً

پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر

دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَأَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ ﷲ فِیها، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً

جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو

قَتَلَتْکُمْ وَلَعَنَ ﷲ الْمُمَهِّدِینَ لَهُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِیْتُ إلَی ﷲ وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ

قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان

وَأَشْیاعِهِمْ وَأَتْباعِهِمْ وَأَوْلِیائِهِمْ، یَا أَبا عَبْدِﷲ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ

سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے

لِمَنْ حارَبَکُمْ إلی یَوْمِ الْقِیامَةِ، وَلَعَنَ ﷲ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ، وَلَعَنَ ﷲ بَنِی

آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک اور خدا لعنت کرے اولاد زیاداور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے

أُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَلَعَنَ ﷲ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَلَعَنَ ﷲ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَلَعَنَ ﷲ شِمْراً،

خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر

وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَأَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی،

اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں

لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ، فَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَأَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی

یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ

طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ

مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصورعليه‌السلام کے ساتھ جو اہل بیت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ہوں گے اے معبود!

اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ یَا أَبا عَبْدِﷲ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی

مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین - کے واسطے سے دنیا و آخرت میں اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں

ﷲ، وَ إلی رَسُولِهِ، وَ إلی أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، وَ إلی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ

خدا کا اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا امیر المومنینعليه‌السلام کا فاطمۃ زہراعليه‌السلام کا حسن مجتبیٰعليه‌السلام کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری

بِمُوَالاتِکَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ

سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم

الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ وَ إلی رَسُولِهِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذلِکَ وَبَنی

کی بنیاد رکھی اور میں بری الذمہ ہوں ﷲ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی

عَلَیْهِ بُنْیانَهُ، وَجَریٰ فِی ظُلْمِهِ وَجَوْرِهِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی أَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی ﷲ

اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا

وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ، وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَمُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ

اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت

مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَالنَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِهِمْ وَأَتْبَاعِهِمْ، إنِّی

کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے

سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَوَلِیٌّ لِمَنْ والاکُمْ،

میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور

وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ، فَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَمَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ،

آپکے دشمن کا دشمن ہوں پس سوال کرتاہوںخدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے

وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ، أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَنْ یُثَبِّتَ

اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے

لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَسْأَلُهُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ

حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام

لَکُمْ عِنْدَ ﷲ، وَأَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ هُدیً ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ

پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے

مِنْکُمْ، وَأَسْأَلُ ﷲ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَهُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی

تم میں سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا

بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِهِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَها وَأَعْظَمَ

کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و

رَزِیَّتَها فِی الْاِسْلامِ وَفِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی

غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر

هذَا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ

ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش اے معبود قرار دے میرا جینا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل

مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو أُمَیَّةَ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سا جینا اور میری موت کو محمد و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موت کی مانند بنا اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی

وَابْنُ آکِلَةِ الْاََکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلَی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ

کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے

وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیهِ نَبِیُّکَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبا سُفْیانَ وَمُعَاوِیَةَ وَیَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْهِمْ

اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٹھہرے اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو

مِنْکَ اللَّعْنَةُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ، وَهذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ

تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین

صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاََلِیمَ اَللّٰهُمَّ إنِّی

صلوات ﷲ علیہ کو اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو اے معبود بے شک

أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی هذَا، وَأَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْهُمْ،

میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے

وَاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ ۔ پھر سو مرتبہ کہے:

اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آلعليه‌السلام سے ہے سلام ہو تیرے نبی اور ان کی آلعليه‌السلام پر

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَی ذلِکَ

اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد و آل محمد کا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی

اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلَی قَتْلِهِ

اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسینعليه‌السلام سے نیز ان پربھی جو قتل حسینعليه‌السلام میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے

اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِیعاً اب سو مرتبہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی

اے معبود ان سب پر لعنت بھیج سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے

حَلَّتْ بِفِنائِکَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، وَلاَ جَعَلَهُ

روضے پر آتی ہیں آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ

ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ،

دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع سلام ہو حسینعليه‌السلام پر اور شہزادہ علیعليه‌السلام فرزند حسینعليه‌السلام پر

وَعَلَی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ، وَعَلَی أَصْحابِ الْحُسَیْنِ ۔ پھر کہے:اَللّٰهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ

سلام ہو حسینعليه‌السلام کی اولاد اور حسینعليه‌السلام کے اصحاب پر اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کو

ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَن الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ

میری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج اے معبود!

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَالْعَنْ عُبَیْدَﷲ بْنَ زِیادٍ وَابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ

لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر

وَشِمْراً وَآلَ أَبِی سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوَانَ إلی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ۔ اس کے بعد سجدے

اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک

میں جائے اور کہے:اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلَی مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی

اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے

عَظِیمِ رَزِیَّتِی، اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ

عزاداری نصیب کی اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسینعليه‌السلام کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب

عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَأَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ

میں تیرے پاس آئوں حسینعليه‌السلام کے ساتھ اور اصحاب حسینعليه‌السلام کے ساتھ جنہوں نے حسینعليه‌السلام کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔

علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔

محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا :میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق - حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیر المومنین- کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسین- کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنین- کے سر اقدس کے قریب سے امام حسین- کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق - نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر - سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنین- کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔

زیارت عاشورا کے بعد کی دعا

یہ روایت جو نقل کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ بیان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب + سے وداع کے بعد صفوان نے حضرت امام حسین- کو سلام پیش کیا۔ جب کہ اس نے اپنا چہرہ ان کے روضہ اقدس کی سمت کیا ہوا تھا زیارت کے بعد اس نے حضرت کا وداع بھی کیا اور جو دعائیں اس نے نماز کے بعد پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ تھی:

یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا کاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا

اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے

غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ

داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے

الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِهِ، وَیَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاََعْلَی، وَبِالْاُفُقِ

قریب ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر

الْمُبِینِ، وَیَا مَنْ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ، وَیَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَةَ

کنارے میں ہے اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پرحاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا

الْاََعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَیَا مَنْ لا یَخْفیٰ عَلَیْهِ خافِیَةٌ، یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ

حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں اے وہ جس پر آوازیں

الْاََصْواتُ وَیَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُهُ الْحاجاتُ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ یَا مُدْرِکَ

گڈمڈ نہیں ہویں اے وہ جس کو حاجتوں میںبھول نہیں پڑتی اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ

کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ، وَیَا بارِیََ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ

کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز

فِی شَأْنٍ، یَا قاضِیَ الْحاجاتِ، یَا مُنَفِّسَ الْکُرُباتِ، یَا مُعْطِیَ السُّؤُلاتِ، یَا وَلِیَّ

نئی شان ہے اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں

الرَّغَباتِ، یَا کافِیَ الْمُهِمَّاتِ، یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ فِی

پر مختار اے مشکلوں میںمددگار اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں

السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ،

میں کوئی چیز مدد نہیںکرتی سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد کے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضیعليه‌السلام کے حق کے واسطے

وَبِحَقِّ فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، فَ إنِّی بِهِمْ أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ فِی

تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر فاطمہعليه‌السلام کے حق کے واسطے اور حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام کے حق کے واسطے کیونکہ میں نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا

مَقامِی هذَا، وَبِهِمْ أَتَوَسَّلُ، وَبِهِمْ أَتَشَفَّعُ إلَیْکَ، وَبِحَقِّهِمْ أَسْأَلُکَ وَأُقْسِمُ وَأَعْزِمُ

اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوںاسی کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے

عَلَیْکَ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ وَبِالْقَدْرِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ، وَبِالَّذِی فَضَّلْتَهُمْ

طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے

عَلَی الْعَالَمِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَهُ عِنْدَهُمْ، وَبِهِ خَصَصْتَهُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ،

انکو جہانوںمیں بڑائی دی اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوںمیں خصوصیت عطا فرمائی

وَبِهِ أَبَنْتَهُمْ وَأَبَنْتَ فَضْلَهُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتَّی فاقَ فَضْلُهُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ

ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے

جَمِیعاً، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی

زیادہ ہو گئی سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور

وَکَرْبِی، وَتَکْفِیَنِی الْمُهِمَّ مِنْ أُمُورِی، وَتَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی، وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ،

ہر دکھ اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ دے مجھ کو تنگدستی سے بچا

وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَةِ، وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْأَلَةِ إلَی الْمَخْلُوقِینَ، وَتَکْفِیَنِی هَمَّ مَنْ

مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اور میری مدد فرما اس

أَخافُ هَمَّهُ، وَعُسْرَ مَنْ أَخافُ عُسْرَهُ، وَحُزُونَةَ مَنْ أَخافُ حُزُونَتَهُ، وَشَرَّ مَنْ

اندیشے میں جس سے میں ڈرتا ہوں اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں اس تکلیف میں جس

أَخافُ شَرَّهُ، وَمَکْرَ مَنْ أَخافُ مَکْرَهُ، وَبَغْیَ مَنْ أَخافُ بَغْیَهُ، وَجَوْرَ مَنْ أَخافُ

سے خوف کھاتا ہوں اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا رہتا ہوں اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں اس بے گھر ہونے سے جس سے

جَوْرَهُ، وَسُلْطانَ مَنْ أَخافُ سُلْطانَهُ، وَکَیْدَ مَنْ أَخافُ کَیْدَهُ، وَمَقْدُرَةَ مَنْ أَخافُ

ترساں ہوں اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوںاس فریب سے جس سے خائف ہوں اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں

مَقْدُرَتَهُ عَلَیَّ، وَتَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ الْکَیَدَةِ، وَمَکْرَ الْمَکَرَةِ اَللّٰهُمَّ مَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْهُ،

دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو اے معبود جو میرے لیے جیسا قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کر

وَمَنْ کادَنِی فَکِدْهُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُ وَمَکْرَهُ وَبَأْسَهُ وَأَمانِیَّهُ وَامْنَعْهُ عَنِّی کَیْفَ

جو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو روک دے اسے مجھ سے

شِئْتَ وَأَنَّیٰ شِئْتَ اَللّٰهُمَّ اشْغَلْهُ عَنِّی بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُهُ، وَبِبَلائٍ لاَ تَسْتُرُهُ

جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے

وَبِفاقَةٍ لاَ تَسُدُّها، وَبِسُقْمٍ لاَ تُعافِیهِ، وَذُلٍّ لاَ تُعِزُّهُ، وَبِمَسْکَنَةٍ

ایسی تنگدستی سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے

لاَتَجْبُرُها اَللّٰهُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْهِ، وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِهِ

جسے تو دور نہ کرے اے معبود میرے دشمن کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں

وَالْعِلَّةَ وَالسُّقْمَ فِی بَدَنِهِ حَتَّی تَشْغَلَهُ عَنِّی بِشُغْلٍ شاغِلٍ لاَ فَراغَ لَهُ، وَأَنْسِهِ

دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے اسے میری یاد بھلا دے جیسے

ذِکْرِی کَما أَنْسَیْتَهُ ذِکْرَکَ وَخُذْ عَنِّی بِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَلِسانِهِ وَیَدِهِ وَرِجْلِهِ وَقَلْبِهِ

اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے پائوں اس کا دل

وَجَمِیعِ جَوارِحِهِ وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ فِی جَمِیعِ ذلِکَ السُّقْمَ وَلاَ تَشْفِهِ حَتَّی تَجْعَلَ ذلِکَ

اور اس کے تمام اعضائ کو روک دے اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے

لَهُ شُغْلاً شاغِلاً بِهِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی، وَاکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لاَ یَکْفِی سِواکَ

لیے ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں

فَ إنَّکَ الْکافِی لاَ کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ

کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے

لاَ مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لاَ جارَ سِواکَ، خابَ مَنْ کانَ جَارُهُ سِواکَ، وَمُغِیثُهُ

تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں نا امید ہوا جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جس کا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ

سِواکَ وَمَفْزَعُهُ إلی سِواکَ وَمَهْرَبُهُ إلی سِواکَ وَمَلْجَأهُ إلی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاهُ مِنْ

کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی پناہ لے اور جسے بچانے والا

مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ، فَأَنْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی وَمَفْزَعِی وَمَهْرَبِی وَمَلْجَأی

سوائے تیرے کوئی اور ہو کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو

وَمَنْجایَ، فَبِکَ أَسْتَفْتِحُ، وَبِکَ أَسْتَنْجِحُ، وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ

مجھے نجات دینے والا ہے پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد و آل محمد کے واسطے سے تیری طرف آیا

وَأَتَوَسَّلُ وَأَتَشَفَّعُ، فأَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَ إلَیْکَ

اور انہیں وسیلہ بنانا اور شفاعت چاہتا ہوں پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے

الْمُشْتَکَیٰ وَأَنْتَ الْمُسْتَعانُ، فأَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واسطے سے کہ

أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی وَکَرْبِی فِی

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں

مَقامِی هذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ هَمَّهُ وَغَمَّهُ وَکَرْبَهُ، وَکَفَیْتَهُ هَوْلَ عَدُوِّهِ، فَاکْشِفْ

کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اندیشہ ان کا غم اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی پس دور کر میری

عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْهُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ عَنْهُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَهُ، وَاصْرِفْ

مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی میرا خوف

عَنِّی هَوْلَ مَا أَخافُ هَوْلَهُ، وَمَؤُونَةَ مَا أَخافُ مَؤُونَتَهُ، وَهَمَّ مَا أَخافُ هَمَّهُ، بِلا

دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے

مَؤُونَةٍ عَلَی نَفْسِی مِنْ ذلِکَ، وَاصْرِفْنِی بِقَضائِ حَوائِجِی، وَکِفَایَةِ مَا أَهَمَّنِی هَمُّهُ

کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے

مِنْ أَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِﷲ، عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ ﷲ

میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبدﷲعليه‌السلام آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام

أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ والنَّهارُ وَلاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلاَ فَرَّقَ

ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ

ﷲ بَیْنِی وَبَیْنَکُما اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی حَیَاةَ مُحَمَّدٍ وَذُرِّیَّتِهِ، وَأَمِتْنِی مَمَاتَهُمْ، وَتَوَفَّنِی

بنائے اور میرے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے اے معبودمجھے زندہ رکھ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے

عَلَی مِلَّتِهِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِهِمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً فِی

مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی

الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِﷲ، أَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً إلَی

دنیا اور آخرت میں اے امیر المومنینعليه‌السلام اور اے ابا عبداللہعليه‌السلام میں آپ دونوں کی زیارت کو آیا کہاس کو خدا کے ہاںوسیلہ بنائوں جو میرا

ﷲ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّهاً إلَیْهِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی ﷲ تَعالی فِی حاجَتِی

اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی بناتا ہوں اپنی حاجت

هذِهِ فَاشْفَعا لِی فَ إنَّ لَکُما عِنْدَ ﷲ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاهَ الْوَجِیهَ، وَالْمَنْزِلَ

کے بارے میں پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور

الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَةَ، إنِّی أَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحاجَةِ وَقَضائِها وَنَجاحِها

محکم تعلق رکھتے ہیں بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے

مِنَ ﷲ بِشَفاعَتِکُما لِی إلَی ﷲ فِی ذلِکَ فَلا أَخِیبُ، وَلاَ یَکونُ مُنْقَلَبِی

خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیںاور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے

مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاًمُنْجِحاً مُسْتَجاباً

جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری

بِقَضائِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إلَی ﷲ انْقَلَبْتُ عَلَی مَا شائَ ﷲ وَلاَ حَوْلَ

ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیںمیں پلٹ رہا ہوں اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت

وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله، مُفَوِّضاً أَمْرِی إلَی ﷲ، مُلْجِئاً ظَهْرِی إلَی ﷲ، مُتَوَکِّلاً عَلَی

و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی

ﷲ، وَأَقُولُ حَسْبِیَ ﷲ وَکَفیٰ، سَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ لِی وَرائَ ﷲ

بھروسہ رکھتا ہوں اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے

وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَهیٰ، مَا شائَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ

اور سوائے آپ کے اے میرے سردار جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت

قُوَّةَ إلاَّ بِالله أَسْتَوْدِعُکُمَا ﷲ، وَلاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی إلَیْکُما، انْصَرَفْتُ

و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے میں واپس جاتا ہوں

یَا سَیِّدِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَأَنْتَ اُبْتُ یَاأَبا عَبْدِﷲ یَا سَیِّدِی وَسَلامِی

اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار اور آپ ہیں اے ابا عبداللہعليه‌السلام اے میرے سردار میرا سلام ہو

عَلَیْکُما مُتَّصِلٌ مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، واصِلٌ ذلِکَ إلَیْکُما غَیْرُ مَحْجُوبٍ عَنْکُما

آپ دونوں پر متواتر جب تک رات اور دن باقی ہیں یہ سلام آپ دونوں کو پہنچتا رہے کبھی رکنے نہ پائے آپ پر میرا

سَلامِی إنْ شَائَ ﷲ، وَأَسْأَلُهُ بِحَقِّکُما أَنْ یَشائَ ذلِکَ وَیَفْعَلَ فَ إنَّهُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ

یہ سلام اگر خدا چاہے تو سوال کرتا ہوں اس سے آپ کے واسطے کہ وہ یہی چاہے اور یہ کرے کیونکہ وہ ہے حمد والا بزرگی والا میں آپ

انْقَلَبْتُ یَا سَیِّدَیَّ عَنْکُما تائِباً حامِداً لِلّٰهِ شاکِراً راجِیاً لِلاِِْجابَةِ، غَیْرَ آیِسٍ وَلاَ

کے ہاں سے جاتا ہوں اے میرے سردار ا ور خدا سے توبہ کرتا ہوں اسکی حمد کرتا ہوں شکر کرتا ہوں قبولیت کا امید وار ہوں مجھے نا امید و مایوس

قَانِطٍ، آئِباً عائِداً راجِعاً إلی زِیارَتِکُما، غَیْرَ راغِبٍ عَنْکُما وَلاَ عَنْ زِیارَتِکُما بَلْ

نہ کرنا پھر آنے کی زیارت کرنے کے ارادے سے نہ کہ آپ سے اور نہ آپ کی زیارت سے

راجِعٌ عائِدٌ إنْ شَائَ ﷲ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله، یَا سادَتِی رَغِبْتُ إلَیْکُما

منہ موڑے ہوئے بلکہ دوبارہ آنے کے لیے اگر خدا چاہے اورنہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے اے میرے سردار میں شائق

وَ إلی زِیارَتِکُما بَعْدَ أَنْ زَهِدَ فِیکُما وَفِی زِیارَتِکُما أَهْلُ الدُّنْیا، فَلا خَیَّبَنِیَ

ہوں آپ کا اور آپ کی زیارت کا جبکہ بے رغبت ہو گئے ہیں آپ سے اور آپ دونوں کی زیارت کرنے سے یہ دنیا والے پس خدا

ﷲ مِمَّا رَجَوْتُ وَمَا أَمَّلْتُ فِی زِیارَتِکُما إنَّهُ قَرِیبٌ مُجِیبٌ

مجھے نا امید نہ کرے اس سے جسکی امید و آرزو رکھتا ہوں آپکی زیارت کے واسطے بے شک وہ نزدیک تر ہے قبول کرنے والا ہے۔

زیارت عاشورا کے فوائد

سیف ابن عمیر کہتا ہے کہ میں نے صفوان سے کہا کہ علقمہ ابن محمد نے امام محمد باقر -سے یہ دعا ہمارے لیے نقل نہیں کی بلکہ اس نے صرف زیارت عاشورہ ہی بیان کی ہے صفوان نے کہا کہ میں اپنے سردار امام جعفر صادق - کے ساتھ اس مقام پر آیا تھا تو آپ نے یہی عمل کیا جو ہم نے کیا ہے یعنی اس طرح زیارت پڑھی اور پھر دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد یہی دعائے وداع پڑھی تھی جیسا کہ ہم نے نماز پڑھی اور وداع کیا ہے صفوان نے مزید کہا کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اس زیارت اور دعا کا پڑھنا اپنا شیوہ بنا لو اور اسی طرح زیارت کیا کرو پس ضرور میں ضامن ہوں خدا کی جانب سے ہر اس شخص کے لیے جو اس طرح زیارت کرے اور اسی طرح دور یا نزدیک سے دعا پڑھے تو اس کی زیارت قبول ہو گی اس کا سلام حضرت تک پہنچے گا اور نا مقبول نہ ہو گا جب بھی وہ خدا سے حاجت طلب کرے گاوہ پوری ہوگی اور خدائے تعالیٰ اسے مایوسی کے عالم میں واپس نہ پلٹائے گا۔ اے صفوان میں نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت اپنے والد گرامی امام علی ابن الحسین + سے سنی انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ امام حسین- سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے برادر امام حسن- سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے والد بزرگوار امیر المومنین- سے انہوں نے اسی ضمانت کیساتھ حضرت رسول سے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسی ضمانت کے ساتھ جبرائیلعليه‌السلام سے اور جبرائیلعليه‌السلام نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت خدا وند عالم سے سنی کہ یقیناً حق تعالیٰ نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص یہ زیارت پڑھ کر امام حسین- کی دور یا نزدیک سے زیارت کرے اور پھر یہی دعا پڑھے تو میں اس کی زیارت قبول کروں گا۔

اس کی ہر خواہش پوری کروں گا وہ جتنی بھی ہو اس کا سوال پورا کروں گا اور وہ میری بارگاہ سے مایوس و ناکام نہیں پلٹے گا بلکہ وہ بہ چشم روشن واپس جائے گا کہ اس کی حاجت پوری ہو چکی ہو گی وہ حصول جنت میں کامیاب او رجہنم سے آزاد ہو چکا ہو گا میں اس کی شفاعت قبول کروں گا سوائے دشمن اہل بیت کے اس حق میں اس کی شفاعت قبول نہ ہو گی خدائے تعالیٰ نے اپنی ذات برحق کی قسم کھائی اور ہمیں اس پر گواہ بنایا ہے کہ جس کی اس کے ملائکہ نے گواہی دی ہے جبرائعليه‌السلام یل نے بھی یہ کہا کہ یا رسول اللہ ! خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ آپ کو بشارت دوں اور مسرور کروں نیز اس لیے بھیجا ہے کہ علی و فاطمہ و حسن و حسین اور آپ کی اولاد سے دیگر ائمہ معصومین کو بشارت دو کہ یہ خوشی اور شادمانی تا قیامت قائم رہے لہذا آپ کی خوشی علی، فاطمہ،حسن، حسین،اور دیگر ائمہ اور آپکے شعیوں کی یہ مسرت و شادمانی تا قیامت بحال و قائم رہے اس کے بعد صفوان نے کہا کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اے صفوان جب بھی بارگاہ الہٰی میں تجھے کوئی حاجت در پیش ہوا کرے تو تم جس جگہ پر بھی ہو وہاں یہ زیارت اور یہ دعا پڑھو اور پھر جو حاجت بھی خدا سے طلب کرو گے وہ پوری کی جائے گی اور حق تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ سے عطا وبخشش کا جووعدہ کر رکھا ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا والحمد للہ!

مولف کہتے ہیں نجم الثاقب میں حاج سید احمد رشتی کے سفر حج کے ذیل میں حضرت صاحب العصر ارواحنافداہ سے ان کے شرف ملاقات کی حکایت درج ہے جس میں امام العصر(عج) کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ تم زیارت عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے عاشورہ عاشورہ عاشورہ اور انشائ اللہ ہم یہ حکایت زیارت جامعہ کبیرہ کے ساتھ نقل کریں گے تاہم ہمارے استاد ثقتہ الاسلام نوریرحمه‌الله کا ارشاد ہے کہ زیارت عاشورہ کے مرتبہ و فضلیت میںاتنا ہی کافی ہے کہ یہ زیارت دیگر زیارتوں کی طرح معصوم کی طرف سے صرف ظاہری املائ و انشائ نہیں گو کہ ان کے پاک دلوں سے جو بات نکلتی ہے وہ عالم بالاسے آتی ہے لیکن یہ زیارت احادیث قدسیہ میں سے ہے جو اسی ترتیب سے زیارت و لعنت اورسلام و دعائ کے ساتھ ذات احدیت سے جبرائیل امینعليه‌السلام تک اور ان سے حضرت خاتم النبیینصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچی ہے اس کے تجربہ و آزمائش کے مطابق چالیس روز یا اس سے کم دنوں تک اس کو روزانہ پڑھنا حاجتوں کے پورا ہونے اور مقاصد کے برآنے اوردفعیہ دشمن کے لیے بے خطا اور بے نظیر ہے لیکن سب سے بڑا فائدہ جو اس کے متواتر پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے وہ وہی ہے جسے میں نے کتاب دارالسلام میں درج کیا ہے جو مختصراً یوں ہے کہ ثقہ صالح متقی حاج ملا حسن یزدیرحمه‌الله جو پارسا افراد میں سے تھے اور نجف اشرف میں عبادت و زیارت میںمصروف رہاکرتے تھے انہوں نے ثقہ امین حاج محمد علی یزدیرحمه‌الله سے نقل کیا ہے جو مرد فاضل و صالح تھے اور یزد میں ہمیشہ آخرت کی بھلائی کی خاطر مشغول عبادت رہتے ہیں یزد کے باہر واقع مقبرہ جس میں بہت سے صالحین مدفون ہیں اور اسے مزار کہتے ہیں اس میں راتیں گزارتے تھے ان کا ایک ہمسایہ تھا جو ان کے ساتھ پلا بڑھا تھا اور وہ دونوں ایک ہی استادکی شاگردی میں رہے جب وہ جوان ہوا تو اس نے وصولی عشر کا شغل اختیار کیا اور پھر اسی کام میں دنیا سے چل بسا وہ اسی جگہ کے قریب دفن ہوا جہاں یہ مرد صالح راتوں کو عبادت کرتے تھے اس کی مرگ پر ابھی ایک ماہ نہ گزرا تھا کہ اس نیک شخص نے اسے عمدہ لباس اور بہترین حالت میں دیکھا تب وہ اس کے قریب گئے اور اس سے کہا کہ میں تمہارے آغاز و انجام زندگی سے واقف ہوں اور تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہوں کہ تم ایسے لوگوں میں سے نہ تھے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ ان کا باطن صاف ہے نیز جو پیشہ تم نے اختیار کر رکھا تھا اس کا تقاضا بھی یہ تھا کہ تم عذاب میں پڑے رہو پس وہ کون سا عمل ہے جس کے ذریعے تم اس مرتبے پر پہنچے ہو؟اس نے کہا کہ معاملہ ایسا ہی تھا جیسے آپ نے فرمایا ہے اور جب سے قبر میں آیا ہوں بڑے ہی سخت عذاب میںرہا ہوں یہاں تک کہ ہمارے استاد اشرف لوہار کی بیوی یہاں دفن کی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی جائے دفن کی طرف اشارہ بھی کیا جو وہاں سے سو گز کے فاصلے پر تھی پھر بتایا کہ دفن کی رات میں امام ابو عبداللہ الحسین- نے تین بار اس خاتون کی خبر گیری فرمائی جب تیسری دفعہ تشریف لائے تو آپ نے حکم فرمایا کہ اس قبرستان پر سے عذاب اٹھا دیا جائے چنانچہ اس وقت سے ہم سبھی اہل قبور کی حالت بہتر ہو گئی اور ہم نعمت و رحمت میں بسر کر رہے ہیں اس پر وہ صالح حیرت زدہ ہو کر بیدار ہوئے جب کہ وہ نہ اس لوہار کو جانتے تھے نہ اس گھر کی جائے وقوع سے واقف تھے پس وہ لوہاروں کے بازار گئے اور جستجو کی تو اس عورت کا خاوند انہیں مل گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری کوئی بیوی تھی اس نے کہا ہاں وہ کل فوت ہو گئی اور اسے فلاں جگہ دفن کیاگیا ہے‘ ان بزرگ نے پوچھا کہ آیا وہ امام حسین- کی زیارت کو گئی تھی اس نے کہا نہیں کیا وہ ذکر و مصائب کیا کرتی تھی؟ اس نے کہا نہیں انہوںنے دریافت کیا آیا وہ مجلس عزا برپا کرتی تھی اس نے کہا نہیں تب وہ لوہار کہنے لگا کہ آپ کس بات کی جستجو میں ہیں؟ اب بزرگ نے اسے اپنا خواب سنایا تو وہ کہنے لگا کہ میری بیوی ہمیشہ زیارت عاشورہ پڑھا کرتی تھی۔

دوسری زیارت عاشورہ

یہ زیارت عاشورہ غیر معروف ہے جو زیارت مشہورہ ہی کیطرح اجر و ثواب کی حامل ہے اس میں سو مرتبہ لعنت کرنا اور سو مرتبہ سلام کرنا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کیلئے فوز عظیم کی حیثیت رکھتی ہے جو اہم کاموں میں مشغول رہتے ہیں مزار قدیم میں اسکا جو طریقہ درج ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص دور یا نزدیک سے حضرت امام حسین- کی زیارت کرنا چاہے تو وہ غسل کرے اور صحرا یااپنے گھر کی چھت پر جائے دو رکعت نماز بجا لائے اور الحمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھے اور جب سلام پھیرلے تو آنحضرت کی طرف سلام کے ساتھ اشارہ کرے اور اسی سلام ،اشارے اور نیت کے ساتھ اسی جہت کیطرف متوجہ ہو جس میں وہ ہے یعنی حضرت امام حسین- کے مزار کربلا معلی کیطرف رخ کرے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ یہ سلام پڑھے :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ

آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خوشخبری دینے والے ڈرانے والے کے فرزنداور اوصیائ کے سردار کے

الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليه‌السلام کے فرزند جوجہانوں کی عورتوں کی سردار ہیںآپ پر سلام ہو اے

خِیَرَةَ ﷲ وَابْنَ خِیَرَتِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثَارِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا

پسندیدہ خدا اور پسندیدہ خدا کے فرزند سلام ہو آپ پراے قربان خدااور قربان خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے

الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ الْهَادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی أَرْوَاح

وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے سلام ہوآپ پر اے وہ امام کہ جورہبر ہے پاک و پاکیزہ ہے اور سلام ہو ان روحوں پر جو

حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَقامَتْ فِی جِوارِکَ، وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا

آپ کی بارگاہ میں اترتی ہیں آپ کے قرب میں ٹھہرتی اور آپ کے زائروں کے ہمراہ آتی ہیں سلام ہو آپ پر

بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ

میری طرف سے جب تک زندہ ہوں اور رات دن کی آمد جاری ہے یقینا آپ کا سوگ بہت زیادہ اور بہت بھاری ہے

وَفِی أَهْل السَّمٰوَاتِ وَأَهْلِ الْاََرَضِینَ أَجْمَعِینَ فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ صَلَواتُ

مومنوں اور مسلمانوں کے لیے اور ان سب پر بھاری ہے جو آسمانوں پر اورزمینوں میں ہیں پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف

ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ وَعَلَی آبائِکَ الطَّیِّبِینَ

لوٹیں گے خدا کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اور سلام ہوں آپ پر اے ابا عبداللہ حسینعليه‌السلام اور سلام ہو آپ کے بزرگوں پر جو پاکیزہ

الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذُرِّیَّاتِکُمُ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ لَعَنَ ﷲ أُمَّةً خَذَلَتْکَ وَتَرَکَتْ نُصْرَتَکَ

اور منتخب ہیں اور سلام آپکے فرزندوں پر جو ہدایت یافتہ رہبر ہیں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا ساتھ چھوڑاآپ کی مدد نہ کی

وَمَعُونَتَکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَساسَ الظُّلْمِ لَکُمْ وَمَهَّدَتِ الْجَوْرَ عَلَیْکُمْ وَطَرَّقَتْ

اور کمک نہ پہنچائی اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کرنے کی بنیاد ڈالی آپ پرستم کرنے کا سامان فراہم کیا آپ کو

إلی أَذِیَّتِکُمْ وَتَحَیُّفِکُمْ وَجارَتْ ذلِکَ فِی دِیارِکُمْ وَأَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی ﷲ

آزار پہنچانے اور آپ کو بے گھر کرنے کی راہ نکالی اس ظلم و ستم کو آپ کے گھروں اورآپ کے ساتھیوں تک بڑھایا میں اظہار

عَزَّوَجَلَّ وَ إلَیْکُمْ یَا سَادَاتِی وَمَوَالِیَّ وَأَیِمَّتِی مِنْهُمْ وَمِنْ أَشْیاعِهِمْ وَأَتْباعِهِمْ،

بیزاری کرتا ہوں خدائے تعالیٰ کے اور آپکے سامنے اے میرے سردارمیرے آقا اور میرے امام ان سے انکے ساتھیوں سے انکے پیروکاروں سے

وَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَ یَا مَوالِیَّ مَقامَکُمْ وَشَرَّفَ مَنْزِلَتَکُمْ وَشَأْنَکُمْ أَنْ یُکْرِمَنِی

اور سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے اے میرے آقا بلند کیا آپ کا مقام بڑھائی آپ کی عزت اور شان یہ کہ وہ مجھے بزرگی دے

بِوِلایَتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَالائْتِمامِ بِکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدَائِکُمْ، وَأَسْأَلُ ﷲ الْبَرَّ

آپ کی ولایت آپ کی محبت آپ کی پیروی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے جو بڑا

الرَّحِیمَ أَنْ یَرْزُقَنِی مَوَدَّتَکُمْ وَأَنْ یُوَفِّقَنِی لِلطَّلَبِ بِثارِکُمْ مَعَ الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ

مہربان ہے یہ کہ وہ مجھے آپ کی مودّت نصیب کرے اور مجھے توفیق دے کہ آپ کے خون کابدلہ لوں اس امام کے ہمراہ

الْهادِی مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَنْ یُبَلِّغَنِی

جو آنے والے رہبر ہیں آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ہیں اور یہ کہ وہ قرار دے مجھ کو آپ کے ساتھ دنیا وآخرت میں نیزمجھے بھی اس مقام محمود پر

الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ ﷲ، وَأَسْأَلُ ﷲ عَزَّوَجَلَّ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّأْنِ الَّذِی جَعَلَ

پہنچائے جو اس نے آپ کیلئے خاص کیا ہے پھر سوال کرتا ہوں خدائے عزو جل سے آپ کے حق اور مرتبے کے واسطے سے جو خدا

ﷲ لَکُمْ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ أَفْضَلَ مَا أَعْطیٰ مُصاباً بِمُصِیبَةٍ،

نے آپ کیلئے قرار دیا ہے کہ وہ آپ کی عزا داری کے بدلے میں مجھے بہترین اجر دے جو اس نے آپ کے کسی عز دار کو عنایت کیا ہو

إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ، یَا لَها مِنْ مُصِیبَةٍ مَا أَفْجَعَها وَأَنْکاها لِقُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ

یقیناً ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے افسوس ہے کہ آپ کی اس مصیبت پر جوکتنی دلگداز اور گہری ہے مومنوں اور مسلمانوں

وَالْمُسْلِمِینَ فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی

کے دلوں کے لیے پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے اے معبود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور مجھے اس جگہ قرار دے

فِی مَقامِی مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ، وَاجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی

جہاں پر کھڑا ہوں ان افراد میں جن پر تیری سلامتی، رحمت اور بخشش ہوئی ہے اور مجھے قرار دے اپنے حضور باعزت

الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ

اور مقربین میں سے دنیا اور آخرت میں کیونکہ میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صدقے ان پر

وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ وَ إنِّی أَتَوَسَّلُ وَأَتَوَجَّهُ بِصَفْوَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ

اور انکی ساری آل پر تیری رحمتیں ہوں اے معبود! بے شک میں نے وسیلہ بنایا اور تیری طرف آیا بواسطہ مخلوق میں سے تیرے

وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالطَّیِّبِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا، اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

پسندیدہ کے اور کائنات میں تیرے چنے ہوئوں یعنی حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و حضرت علیعليه‌السلام اور ان دونوں کی پاکیزہ اولاد کو وسیلہ بنایا پس اے معبود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیاهُمْ، وَمَماتِی مَماتَهُمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ فِی

و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت فرما اور بنا دے میری زندگی انکی زندگی جیسی اور میری موت انکی موت جیسی اور جدائی نہ ڈال مجھ میں اور ان میں دنیا

الدُّنْیا وَالْاَخِرةِ، إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ وَهذَا یَوْمٌ تَجَدَّدَ فِیهِ النِّقْمَةُ، وَتَنَزَّلَ فِیهِ

وآخرت میں بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اے معبود آج وہ دن ہے جس میں نیا عذاب آتا ہے اور برستی ہے

اللَّعْنَةُ عَلَی اللَّعِینِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ زِیادٍ وَعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ وَالشِّمْرِ

لعنت پر لعنت ملعون ولعنتی یزید پر اور اولاد یزید پر اور زیاد پر اور لعنت ہے عمر بن سعد اور شمر پر

اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ وَالْعَنْ مَنْ رَضِیَ بِقَوْلِهِمْ وَفِعْلِهِمْ مِنْ أَوَّلٍ وَآخِرٍ لَعْناً کَثِیراً وَأَصْلِهِمْ

اے معبود لعنت بھیج ان پر لعنت بھیج اس پر جو انکے قول و فعل پر راضی ہو اولین و آخرین میں سے بہت بہت لعنت ڈال دے انکا اپنی

حَرَّنارِکَ وَأَسْکِنْهُمْ جَهَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیراً وَأَوْجِبْ عَلَیْهِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ شایَعَهُمْ

آگ کے شعلوں میں ٹھکانہ بنا ان کو جہنم میں ٹھہرا اور وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے ضرور لعنت کر ان پر اور ان کے ساتھیوں پر

وَبایَعَهُمْ وَتابَعَهُمْ وَساعَدَهُمْ وَرَضِیَ بِفِعْلِهِمْ وَافْتَحْ لَهُمْ وَعَلَیْهِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ

جنہوں نے ان سے پیمان باندھے انکی پیروی کی اور انکی مدد کرتے رہے اور انکے فعل پر راضی رہے کھول دے ان کیلئے اپنی ہر لعنت کا

رَضِیَ بِذلِکَ لَعَناتِکَ الَّتِی لَعَنْتَبِها کُلَّ ظالِمٍ، وَکُلَّ غاصِبٍ، وَکُلَّ جاحِدٍ،

راستہ اور ان پر بھی جو ان کے ظلم کو پسند کرتے ہیں اپنی طرف سے وہ لعنت کر جو لعنت کی ہے تو نے ہر ظالم پر ہر غاصب پرہر منکر پر ہر

وَکُلَّ کافِرٍ، وَکُلَّ مُشْرِکٍ، وَکُلَّ شَیْطانٍ رَجِیمٍ، وَکُلَّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ

کافر پر ہر مشرک پر اور جو لعنت کی ہے تو نے ہر مردود شیطان پر اور ہر ضدی ستمگار پر اے معبود لعنت بھیج یزید پر

وَآلَ یَزِیدَ وَبَنِی مَرْوانَ جَمِیعاً اَللّٰهُمَّ وَضَعِّفْ غَضَبَکَ وَسَخَطَکَ وَعَذابَکَ وَنَقِمَتَکَ

اولاد یزید پر اور اولاد مروان سب پر اے معبود دگنا کر دے اپنا غضب اپنا غصہ اپنا عذاب اور اپنی سزا

عَلَی أَوَّلِ ظالِمٍ ظَلَمَ أَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّکَ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ لَهُمْ وَانْتَقِمْ

اس پہلے ظالم پر جس نے تیرے نبی کے خاندان پر ظلم کاآغاز کیا اے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے اہل بیتعليه‌السلام پر ظلم کیا اور تو ان

مِنْهُمْ إنَّکَ ذُو نِقْمَةٍ مِنَ الْمُجْرِمِینَ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ أَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ آلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ،

سے انتقام لے کیونکہ تو مجرموں کو سزا دینے والا ہے اے معبود تو لعنت کر ان پہلے ظالموں پر جنہوں نے اہل بیت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ظلم کیا

وَالْعَنْ أَرْواحَهُمْ وَدِیارَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَالْعَنِ اَللّٰهُمَّ الْعِصابَةَ الَّتِی نازَلَتِ الْحُسَیْنَ

اورلعنت بھیج ان کی روحوں پر ان کے گھروں پر اور انکی قبروں پر نیز لعنت کر اے معبود اس گروہ پر جنہوں نے حسینعليه‌السلام سے جنگ کی جو

بْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ وَحارَبَتْهُ وَقَتَلَتْ أَصْحابَهُ وَأَنْصارَهُ وَأَعْوَانَهُ وَأَوْلِیَائَهُ وَشِیعَتَهُ

تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر کے فرزند ہیں لعنت کر ان پر جس نے ان سے جنگ کی اور قتل کیا انکے ساتھیوں اور مدد گاروں کو اورقتل کیاانکے حامیوں انکے دوستوں

وَمُحِبِّیهِ وَأَهْلَ بَیْتِهِ وَذُرِّیَّتَهُ، وَالْعَنِ اَللّٰهُمَّ الَّذِینَ نَهَبُوا مالَهُ،وَسَلَبُوا

انکے پیروکاروں اور محبوں کو اور قتل کیا ان کے خاندان اور انکی اولاد کو اے معبود لعنت بھیج ان کا مال لوٹنے والوںاور ان کے خیمے

حَرِیْمُهَُ، وَلَمْ یَسْمَعُوا کَلامَهُ وَلاَ مَقالَهُ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ کُلَّ مَنْ بَلَغَهُ ذلِکَ فَرَضِیَ

تاراج کرنے والوں پر جنہوں نے توجہ نہ کی انکی گفتار اور ان کی پکار پراے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے یہ واقعہ سنا اور وہ اس

بِهِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَالْخَلائِقِ أَجْمَعِینَ إلی یَوْمِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

پر خوش ہوئے اولین و آخرین میں سے اور ساری مخلوق میں سے سب پر قیامت کے دن تک، سلام ہو آپ پر

یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنَ وَعَلَی مَنْ سَاعَدَکَ وَعاوَنَکَ وَوَاسَاکَ بِنَفْسِهِ، وَبَذَلَ

اے ابا عبداللہ الحسینعليه‌السلام اور ان پر جنہوں نے آپ کا ساتھ دیاآپ کی مدد کی آپ کے لیے اپنی جانیں حاضر کر دیں اور آپ کا دفاع

مُهْجَتَهُ فِی الذَّبِّ عَنْکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَعَلَیْهِمْ، وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی

کرتے ہوئے اپنے خون میں نہا گئے سلام ہو آپ پر اے میرے آقا اور ان پر سلام آپ کی روح پر اور ان کی

أَرْواحِهِمْ، وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِهِمْ اَللّٰهُمَّ لَقِّهِمْ رَحْمَةً وَرِضْواناً وَرَوْحاً

روحوں پر اور سلام آپ کی قبر پر اور ان کی قبروں پر اے معبود ملاقات کر ان سے رحمت و خوشنودی سے اور راحت و

وَرَیْحاناً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدِ

مسرت سے آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے اباعبدﷲعليه‌السلام اے خاتم الانبیائ کے فرزند اے اوصیائ کے

الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَهِیدُ یَابْنَ الشَّهِیدِ

سردار کے فرزند اے جہانوں کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید ابن شہید

اَللّٰهُمَّ بَلِّغْهُ عَنِّی فِی هذِهِ السَّاعَةِ وَفِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی هذَا الْوَقْتِ وَکُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّةً

اے معبود! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی آج کے دن اور اسی وقت اور ہر وقت بہت بہت درود

وَسَلاماً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْعالَمِینَ، وَعَلَی الْمُسْتَشْهَدِینَ مَعَکَ سَلاماً

اور سلام، سلام ہو آپ پر اے جہانوں کے سردار کے فرزند اور ان پر جوآپ کے ہمراہ شہید ہوئے سلام ہو مسلسل

مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ

جب تک رات اور دن باقی رہیں سلام ہو حسینعليه‌السلام شہید پر جو علیعليه‌السلام کے فرزند ہیں سلام ہو

عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ الشَّهِیدِ

شہید علیعليه‌السلام پر جو حسینعليه‌السلام کے فرزند ہیں سلام ہو شہید عباسعليه‌السلام پر جو امیر المومنینعليه‌السلام کے فرزند ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ

سلام ہو ان شہیدوں پر جو امیر المومنینعليه‌السلام کی اولاد سے ہیں سلام ہو ان شہیدوں پر جو جعفرعليه‌السلام اور عقیلعليه‌السلام کی

جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی کُلِّ مُسْتَشْهَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

اولاد سے ہیں سلام ہو ان سب شہیدوں پر جو مومنوں میں سے ہیں اے معبود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُمْ عَنِّی تَحِیَّةً وَسَلاماً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ وَعَلَیْکَ

و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل کر اور ان کو میرا درود اور سلام پہنچا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ ں ،

سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور برکات ہوں خدا آپ کو اس غم کا بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسین - کے بارے میں پایا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

آپ پر سلام ہو اے ابا الحسنعليه‌السلام اے مومنوں کے امیر اور آپ پرسلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں خدا آپ کو

أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ یَا بِنْتَ رَسُولِ

اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسینعليه‌السلام کے بارے میں پایا آپ پر سلام ہو اے فاطمہعليه‌السلام اے جہانوں کے پرودگار کے

رَبِّ الْعالَمِینَ وَعَلَیْکِ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَحْسَنَ ﷲ لَکِ الْعَزائَ فِی وَلَدِکِ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دخترآپ پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا آپکو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسینعليه‌السلام کے

الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ

بارے میں دیکھا آپ پر سلام ہو اے ابا محمد الحسنعليه‌السلام آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں

أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی أَخِیکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَرْواحِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ

خدا آپ کو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے بھائی حسینعليه‌السلام کے بارے میں پایا سلام ہو مومنین و مومنات کی روحوں پر

الْاََحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاََمْواتِ، وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَحْسَنَ ﷲ لَهُمُ

کہ جو ان میں زندہ ہیں اور جو مر چکے ہیں ان سب پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوںخدا ان کو اس غم پر بہترین اجر

الْعَزائَ فِی مَوْلاهُمُ الْحُسَیْنِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا مِنَ الطَّالِبِینَ بِثارِهِ مَعَ إمامٍ عَدْلٍ

دے جو انہیں اپنے مولا حسینعليه‌السلام کے بارے میں ہے اے معبود! ہمیں ان کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے اس امام عادل

تُعِزُّ بِهِ الْاِسْلامَ وَأَهْلَهُ یَارَبَّ الْعالَمِینَ

کے ہمراہ جن کے ذریعے تو اسلام و مسلمانوں کو عزت دے گا اے جہانوں کے پروردگار۔

پھر سجدے میں جاکر پڑھے:اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی جَمِیعِ مَا نابَ مِنْ خَطْبٍ وَلَکَ الْحَمْدُ

اے معبود تیرے لیے حمد ہے بوجہ اس بڑی مصیبت کے جو پیش آئی تیرے لیے حمد ہے

عَلَی کُلِّ أَمْرٍ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُهِمَّاتِ بِخِیَرَتِکَ

ہر معاملے میں اور تیری بارگاہ میں شکایت ہے ان بڑی مصیبتوں پر جو تیرے برگزیدہ دوستوں

وَأَوْلِیائِکَ وَذلِکَ لِما أَوْجَبْتَ لَهُمْ مِنَ الْکَرَامَةِ وَالْفَضْلِ الْکَثِیرِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی

پر گزریں اس وجہ سے کہ تو نے لازم فرمائی ان کے لیے بزرگواری اور بہت زیادہ فضلیت پس اے معبود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَالْمَقامِ الْمَشْهُودِ

پر رحمت فرما اور مجھے نصیب کر حسین - کی شفاعت و سفارش جس دن آنا ہے مقام معین حوض کوثر پر جو وارد

وَالْحَوْضِ الْمَوْرُودِ، وَاجْعَلْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَأَصْحابِ

ہونے کی جگہ ہے اور قرار دے میری اپنے حضور کی بہترین آمد جو حسنعليه‌السلام اور حسینعليه‌السلام کے اصحاب

الْحُسَیْنِ الَّذِینَ وَاسَوْهُ بِأَنْفُسِهِمْ، وَبَذَلُوا دُونَهُ مُهَجَهُمْ، وَجاهَدُوا مَعَهُ أَعْدائَکَ

کے ہمراہ وہم رکاب ہو جنہوں نے ان پر اپنی جانیں قربان کیں انکے سامنے گردنیں کٹوا دیںاور انکے ساتھ ہو کرتیرے دشمنوں سے

ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ وَرَجَائِکَ، وَتَصْدِیقاً بِوَعْدِکَ، وَخَوْفاً مِنْ وَعِیدِکَ، إنَّکَ

لڑے کہ تیری رضا پائیں اور امید لگائیں تجھ سے انہوں نے تیرے وعدے کو سچا جانا اور تیری سخت گیری سے ڈرے بے شک تو

لَطِیفٌ لِمَا تَشائُ یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

مہربان ہے اس کے لیے جسے تو چاہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

آٹھویں زیارت

زیارت اربعین

یہ وہ زیارت ہے جو امام حسین- کے چہلم کے دن یعنی بیس صفر کو پڑھی جاتی ہے شیخرحمه‌الله نے تہذیب میں اور مصباح میں امام حسن عسکری - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مومن کی پانچ علامات ہیں ( ۱ )ہر شب و روز میںاکاون رکعت نماز پڑھنا کہ اس سے مراد سترہ رکعت فریضہ اور چونتیس رکعت نافلہ ہے ( ۲ )زیارت اربعین کا پڑھنا،( ۳ ) دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، ( ۴ )سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی خاک پر رکھنا ( ۵ )نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا:

پہلی زیارت

بیس صفر کو امام حسین- کی زیارت کے دو طریقے ہیں پہلا طریقہ وہ ہے جسے شیخ نے تہذیب اور مصباح میں صفوان جمال (ساربان) سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا مجھ کو میرے آقا امام جعفر صادق - نے زیارت اربعین کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ جب سورج بلند ہو جائے تو حضرت کی زیارت کرو اور کہو:

اَلسَّلَامُ عَلَی وَلِیِّ ﷲ وَحَبِیبِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَلِیلِ ﷲ وَنَجِیبِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو خدا کے ولی اور اس کے پیارے پر سلام ہو خدا کے سچے دوست اور چنے ہوئے پر سلام ہو خدا کے

صَفِیِّ ﷲ وَابْنِ صَفِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

پسندیدہ اور اس کے پسندیدہ کے فرزند پر سلام ہو حسینعليه‌السلام پر جو ستم دیدہ شہید ہیں سلام ہو حسینعليه‌السلام پر

أَسِیرِ الْکُرُباتِ وَقَتِیلِ الْعَبَرَاتِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ، وَصَفِیُّکَ

جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہے اے معبود میں گواہی دیتا ہوںکہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند تیرے پسندیدہ

وَابْنُ صَفِیِّکَ، الْفَائِزُ بِکَرَامَتِکَ، أَکْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ، وَحَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ، وَاجْتَبَیْتَهُ

اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں جنہوں نے تجھ سے عزت پائی تونے انہیں شہادت کی عزت دی انکو خوش بختی نصیب کی اور انہیں

بِطِیبِ الْوِلادَةِ، وَجَعَلْتَهُ سَیِّداً مِنَ السَّادَةِ، وَقَائِداً مِنَ الْقَادَةِ، وَذَائِداً مِنَ الذَّادَةِ،

پاک گھرانے میں پیدا کیا تو نے قرار دیاانہیں سرداروںمیں سردار پیشوائوں میں پیشوا مجاہدوں میں مجاہداور انہیں

وَأَعْطَیْتَهُ مَوَارِیثَ الْاََنْبِیَائِ، وَجَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی خَلْقِکَ مِنَ الْاََوْصِیَائِ، فَأَعْذَرَ فِی

نبیوں کے ورثے عنایت کیے تو نے قرار دیاان کو اوصیائ میں سے اپنی مخلوقات پر حجت پس انہوں نے تبلیغ کا

الدُّعَاءِ، وَمَنَحَ النُّصْحَ، وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَحَیْرَةِ

حق ادا کیابہترین خیر خواہی کی اور تیری خاطر اپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی وگمرا ہی کی پریشانیوں سے

الضَّلالَةِ، وَقَدْ تَوَازَرَ عَلَیْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا، وَبَاعَ حَظَّهُ بِالْاََرْذَلِ الْاََدْنیٰ، وَشَرَیٰ

جب کہ ان پر ان لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اور اپنی

آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْاََوْکَسِ، وَتَغَطْرَسَ وَتَرَدَّیٰ فِی هَوَاهُ، وَأَسْخَطَکَ وَأَسْخَطَ نَبِیَّکَ

آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا انہوں نے سرکشی کی اور لالچ کے پیچھے چل پڑے انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو

وَأَطَاعَ مِنْ عِبادِکَ أَهْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ، وَحَمَلَةَ الْاََوْزارِ، الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ،

ناراض کیا انہوںنے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کرجہنم کیطرف چلے گئے

فَجاهَدَهُمْ فِیکَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی سُفِکَ فِی طَاعَتِکَ دَمُهُ وَاسْتُبِیحَ حَرِیمُهُ

پس حسینعليه‌السلام ان سے تیرے لیے لڑے جم کرہوشمندی کیساتھ یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر انکا خون بہایا گیا اور انکے اہل حرم کو لوٹا گیا

اَللّٰهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبِیلاً، وَعَذِّبْهُمْ عَذاباً أَلِیماً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ،

اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اور عذاب دے ان کو درد ناک عذاب آپ پر سلام ہو اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْاََوْصِیائِ أَشْهَدُ أَنَّکَ أَمِینُ ﷲ وَابْنُ أَمِینِهِ عِشْتَ سَعِیداً

آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیائ کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اور اسکے امین کے فرزند ہیں آپ نیک بختی میں زندہ رہے

وَمَضَیْتَ حَمِیداً، وَمُتَّ فَقِیداً، مَظْلُوماً شَهِیداً، وَأَشْهَدُ أَنَّ ﷲ مُنْجِزٌ

قابل تعریف حال میںگزرے اور وفات پائی وطن سے دور کہ آپ ستم زدہ شہید ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا

مَا وَعَدَکَ، وَمُهْلِکٌ مَنْ خَذَلَکَ، وَمُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَکَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ

جسکا اس نے وعدہ کیا اور اسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اور اسکو عذاب دیگا جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ

وَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِهِ حَتّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ،

آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبھائی آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہیدہو گئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل کیا

وَلَعَنَ ﷲ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی

خدا لعنت کرے جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی اے معبود میں

أُشْهِدُکَ أَنِّی وَلِیٌّ لِمَنْ والاهُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداهُ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَابْنَ رَسُولِ ﷲ

تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں میرے ماں باپ قربان آپ پراے فرزند رسول خدا

أَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَةِ، وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میںرہے صاحب عزت صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست

الْجاهِلِیَّةُ بِأَنْجاسِها وَلَمْ تُلْبِسْکَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِیابِها وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ

سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے بے ہنگم لباس آپ کو پہنائے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں

وَأَرْکانِ الْمُسْلِمِینَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ

مسلمانوں کے سردار ہیں اور مومنوں کی پناہ گاہ ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امامعليه‌السلام ہیں نیک و پرہیز گار پسندیدہ

الزَّکِیُّ الْهادِی الْمَهْدِیُّ وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْوی وَأَعْلامُ الْهُدیٰ

پاک رہبر راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیز گاری کے ترجمان ہدایت کے

وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقی وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَأَشْهَدُ أَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ وَبِ إیابِکُمْ مُوقِنٌ

نشان محکم تر سلسلہ اور دنیا والوںپر خدا کی دلیل و حجت ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا

بِشَرائِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِی لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ

اپنے دینی احکام اور عمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری

وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یَأْذَنَ ﷲ لَکُمْ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُّوِکُمْ صَلَواتُ

مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ خدا کی رحمتیں ہوں

ﷲعَلَیْکُمْ وَعَلَی أَرْواحِکُمْ وَ أَجْسادِکُمْ وَشاهِدِکُمْ وَغَائِبِکُمْ وَظَاهِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ

آپ پر آپ کی پاک روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر پر آپ کے غائب پر آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر

آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

ایسا ہی ہو جہانوں کے پروردگار۔

اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اپنی حاجات طلب کرے اور پھر وہاں سے واپس چلا آئے

دوسری زیارت اربعین

یہ زیارت جابربن عبدا للہ انصاری سے منقول ہے اور اس کی کیفیت و طریقے کے بارے میں عطا سے روایت ہے کہ اس نے کہا میں جابر کے ساتھ تھا ہم بیس صفر کو غاضریہ پہنچے جابر نے دریائے فرات میں غسل کیا اور پاکیزہ لباس پہنا جو ان کے پاس تھا پھر مجھ سے کہا اے عطا تمہارے پاس کوئی خوشبو ہے؟ میںنے کہا کہ ہاں میرے پا س ُسعد ہے پس انہوں نے وہ تھوڑی سی لے لی اور اپنے سر اور بدن پر چھڑک دی پھر ننگے پائوں چل پڑے یہاں تک کہ امام حسین- کے سرہانے جا ٹھہرے تب انہوں نے تین بار ﷲ اَکْبَرُ کہا اور بے ہوش ہر کر گر پڑے جب ہوش آیا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھےاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا آلَ ﷲ..الخ جو بعینہ وہی پندرہ رجب والی زیارت ہے کہ جسے ہم نے اعمال رجب میں نقل کر چکے ہیں اور سوائے چند ایک کلمات کے اس میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ بھی جیسا کہ شیخ مرحوم نے احتمال دیا ہے کہ نقل در نقل (اختلاف نسخ ) ہونے کی وجہ سے ہوا ہے پس اگر کوئی شخص روز اربعین یہ زیارت بھی پڑھنا چاہے تو وہ پندرہ رجب کی زیارت کے صفحات میں سے پڑھ لے۔

امام حسین- کی زیارت کے خاص اوقات

مؤلف لکھتے ہیں کہ ان اوقات کے علاوہ جو ذکر ہوئے ہیں امام حسین- کی زیارت کے دیگر اوقات اور بابرکت شب و روز بھی ہیں جن میں آپ کی زیارت کرنا افضل ہے خصوصاً وہ دن اور راتیں جو حضرت کے ساتھ نسبت رکھتی ہیں۔ مثلاً روز مباہلہ ’’آیہ ھل اتی‘‘ کے نزول کا دن، آپ کی ولادت کی رات اور جمعہ کی راتیں ہیںجیساکہ ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا ئے تعالیٰ ہر شب جمعہ میںامام حسین- پر نظر کرم فرماتا ہے اور تمام نبیوں اور ان کے وصیوں کو آپ کی زیارت کرنے کے لیے بھیجتا ہے ابن قولویہ نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ فرمایا جو شخص شب جمعہ میں روضہ امام حسین- کی زیارت کرے تو وہ ضرور بخشا جائے گا اور وہ دنیا سے مایوسی و شرمندگی کی حالت میں نہیں جائے گا اور جنت میں اس کا گھر امام حسین- کے ساتھ ہو گا اعمش کی خبر میں آیا ہے کہ اس کے ہمسائے نے اس سے کہا میں نے خواب میںدیکھا کہ آسمان سے اوراق گر رہے ہیں جن پر ہر اس شخص کیلئے امان نامہ لکھا ہوا ہے جو شب جمعہ میں امام حسین- کی زیارت کرے آئندہ صفحات میں کاظمین کے اعمال کے ذیل میں حاجی علی بغدادی کی حکایت میںاس امر کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور ان اوقات زیارت کے علاوہ دیگر بہترین اوقات کا ذکر بھی آئیگا ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے امام جعفر صادق - سے پوچھا کہ امام حسین- کی زیارت کا کوئی ایسا وقت ہے جو دوسرے اوقات سے بہتر ہو؟ آپ نے فرمایا حضرت کی زیارت ہر وقت اور زمانے میں کرو کہ آپ کی زیارت ایک عمل خیر ہے جو اس کو جتنا زیادہ بجا لائے گا وہ اتنی ہی زیادہ نیکی حاصل کرے گا اور جو اسے کم بجا لائے گا وہ کم نیکی حاصل کر سکے گا۔ پس تم کوشش کرو کہ حضرت کی زیارت ان بابرکت اوقات میں کرو جن میں اعمال خیر کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے انہی مبارک اوقات میں ملائکہ آسمان سے اتر کر حضرت کی زیارت کرتے ہیں لیکن ان اوقات کے لیے کوئی زیارت مخصوصہ منقول نہیں ہے البتہ تین شعبان کو جو امام حسین- کا یوم ولادت ہے اس کیلئے ناحیہ مقدسہ سے ایک دعا صادر ہوئی ہے جو اس دن پڑھناچاہیے اورہم وہ دعا شعبان کے اعمال میں نقل کرچکے ہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ حضرت کی زیارت کربلائے معلی میںپڑھنے کے علاوہ دوسرے شہروں میں پڑھنے کی بھی بڑی فضلیت ہے اس ضمن میں یہاں ہم صرف دو روایتیں نقل کرتے ہیں جو کافی تہذیب اور فقیہ میں آئی ہیں۔

پہلی روایت

ابن ابی عمیر نے ہشام سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا تم میں سے جس کا راستہ دور دراز ہو اور اس کے گھر سے ہمارے مزاروں تک سفر زیادہ ہو تو وہ اپنے مکان کی سب سے اونچی چھت پر جائے اور دو رکعت نماز بجا لاکر ہماری قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم پر سلام بھیجے تو یقیناً اس کا سلام ہم تک پہنچ جاتا ہے۔

دوسری روایت

حنان ابن سدیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اے سدیر کیا تم ہر روز قبر حسین- کی زیارت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں کہ میں آپ پر قربان ہو جائوں اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ کس قدر جفا کار ہو کیا ہر جمعہ کو زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیںآپ نے فرمایا کیا ہر ماہ زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو کیا ہر سال زیارت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ کچھ سال ایسے تھے جن میں میں نے زیارت کی ہے تب آپ نے فرمایا کہ اے سدیر تم لوگ امام حسین- کے ساتھ کیسی جفا کرتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ خدائے تعالیٰ نے دو ہزار فرشتے مقرر کیے ہیں اور تہذیب و فقیہ میں ہے کہ وہ دس لاکھ فرشتے ہیں کہ جن کے بال بکھرے ہوئے اور خاک آلود ہیں۔ وہ حضرت پر گریہ کرتے ہیں آپ کی زیارت کرتے ہیں اور کبھی کوتاہی نہیں کرتے پس اے سدیر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہر جمعہ کو پانچ مرتبہ اور دن میں ایک مرتبہ روضہ امام حسین- کی زیارت نہیں کرتے؟ میں نے عرض کی کہ آپ پر فدا ہو جائوں ہمارے اور حضرت کے روضہ کے درمیان کئی فرسخ کا فاصلہ ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر کی چھت پر جائو پھر دائیں بائیں نظر کرو تو اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرو اور حضرت کے روضہ اقدس کی سمت اشارہ کر کے کہو’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ ﷲوَ بَرَکَاتُه‘‘ پس اس سے تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت حج و عمرہ کے برابر ہو گی سدیر کا بیان ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں مہینے میںبیس مرتبہ سے بھی زیادہ یہ عمل کیا کرتا تھااور زیارت مطلقہ کے آغاز میں وہ امور گزر چکے ہیںجو یہاں کیلئے مناسب تھے۔

اضافی بیان

قبر حسینعليه‌السلام کی خاک کے فوائد

جاننا چاہیے کہ ایسی بہت سی روایات آئی ہیں کہ جن کے مطابق امام حسین- کی قبر مبارک کی خاک میں سوائے موت کے ہر تکلیف اور مرض سے شفا ہے اس میں ہر بلا و مصیبت سے امان اور ہر خوف خطر سے تحفظ کی تاثیر ہے اس سلسلے میں اخبار و روایات متواتر ہیں اور اس مقدس خاک کی جو کرامتیں ظاہر ہوئیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ یہاں ان سب کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ میری کتاب فوائد الرضوّیہ کہ جو علمائ امامیہ کے حالات میں ہے میں نے اس میں محدث جلیل القدیر آقا سید نعمت اللہ جزائری کے حالات میں لکھا ہے کہ انہوں حصول علم میں بڑی زحمت اٹھائی اور بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔ آغاز تعلیم میں چونکہ ان میں چراغ کے خریدنے کی سکت نہ تھی لہذا وہ چاند کی چاندنی میں بیٹھ کر لکھتے پڑھتے تھے چاند کی چاندنی میںبیٹھ کر اتنا زیادہ لکھنے پڑھنے کے نتیجے میں ان کی آنکھوں کی بینائی کمزور ہو گئی چنانچہ وہ اپنی بینائی کی بحالی کیلئے امام حسین- کی قبر شریف کی خاک اور عراق میں واقع دیگر ائمہ معصومین کی قبور کی خاک بطور سرمہ استعمال فرماتے تھے پس اس خاک کی برکت سے ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے لوگ جن کا کفار و مشرکین کے ساتھ رہن سہن ہے ممکن ہے وہ اس کرامت پر تعجب کریں کمال الدین دمیری نے حیات العیون میں نقل کیا ہے کہ اژدھا جب ہزار سال کا ہو جاتا ہے تو اس کی آنکھیں اندھی اور بے نور ہو جاتی ہیں تب خدائے تعالیٰ اسے یہ سوجھ عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندھے پن کو دور کرنے کے لیے اپنی آنکھیں راز یا نج (ایک قسم کی گھاس) پر ملے‘ اس وقت وہ اژدھا اندھا ہونے کے باوجودبیابان سے نکل کر ان باغوں اور جگہوں کی طرف جاتا ہے جہاں راز یا نج گھاس پیدا ہوتی ہے پس وہ طویل راہیں طے کر کے اس گھاس کے پاس پہنچتا اور اپنی آنکھیں اس پر ملتا ہے تو اسکی بینائی پلٹ آتی ہے اس بات کو زمخشری وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے ہاں اگرخدائے قدیر نے ایک گھاس میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ اندھا اژدھا اس کی تلاش میںجائے تو اس کی آنکھیں پھر سے روشن ہو جائیں تو اس میں کیا تعجب ہو سکتا ہے فرزندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں ان کی قبور کی خاک میں وہ تمام بیماریوں سے شفا قراردے اور ان کو برکات دینے والی بنا دے تاکہ محبان اہل بیت ان سے فائدہ اٹھائیں اور آرام و راحت حاصل کریں یہاں ہم اس مضمون کی چند روایات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

پہلی روایت

اس روایت میں کہا گیا ہے کہ جنت کی حوریں جب دیکھتی ہیں کوئی فرشتہ کسی مقصد سے زمین پر جا رہا ہے تو وہ اس سے عرض کرتی ہیں کہ ان کیلئے قبر حسین- سے خاک شفا اور تسبیح بطور سوغات لے کر آئے

دوسری روایت

معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا امام علی رضا - نے میرے لیے خراسان سے کچھ چیزیں ایک پوٹلی میں باندھ کر بھیجیں میں نے اسے کھولا تو اس سے کچھ خاک ملی تب میں نے اسے لے کرآنے والے آدمی سے پوچھا کہ یہ کیسی خاک ہے اس نے کہا یہ امام حسین- کی قبر شریف کی خاک ہے امام علی رضا- جب بھی کسی کیطرف کوئی چیز یا کپڑا وغیرہ بھیجتے ہیں تو یہ خاک بھی اس کیساتھ رکھ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خدا کے اذن و مشیت سے یہ خاک بلائوں سے امان کا ذریعہ ہے۔

تیسری روایت

عبداللہ ابن ابی یعفور نے امام جعفر صادق - سے عرض کی کہ ایک شخص امام حسین- کی قبر سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے برکت حاصل ہوتی ہے لیکن دوسرا شخص وہاں سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے کچھ بھی نفع و برکت حاصل نہیں ہوتی حضرت نے فرمایا کہ بات یوں نہیں ہے بخدا جو بھی شخص یہ خاک اٹھائے اوریہ عقیدہ رکھے کہ اسے نفع دے گی تو اس کو ضرور نفع و برکت حاصل ہوتی ہے۔

چوتھی روایت

ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کی کہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض ساتھی امام حسین- کی قبر مبارک سے خاک اٹھاتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں آیا اس خاک میں شفا کی تاثیر رکھی گئی ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت کی قبر اطہر اردگردکے چار میل تک کی خاک سے شفا حاصل ہو سکتی ہے اور اسی طرح ہمارے جد بزرگو ار حضرت رسول کی قبر شریف کی خاک، امام حسن-، امام زین العابدین- اور امام محمدباقر - کی قبور کی خاک میں بھی یہ تاثیر موجود ہے پس تم بھی ان قبور سے خاک لیا کرو کہ وہ ہر دکھ کی دوا اور ہر خوف سے امان کا ذریعہ ہے نیز یہ کہ سوائے اس دعا کے جس سے شفا ملتی ہے کوئی اور چیز اس خاک کی برابری نہیں کر سکتی اسے ناپاک جگہ یا ناپاک برتن میںنہ رکھا جائے کہ اس طرح خاک شفا کا اثر زائل ہو جاتا ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اسے شفا کی خاطر تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس بات پر انہیں بہت کم یقین ہوتا ہے اور اگر کسی کو یقین ہو جائے کہ اس خاک میں شفا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے اور اسے کسی اور دوا کی حاجت نہیں رہتی اس خاک کے اثر کو کافر جنات زائل کر دیتے ہیں جو خود کو اس سے مس کر لیتے ہیں اس خاک کو جس چیز پررکھا جائے وہ اسے سونگھتے ہیں جس سے اسکی پاکیزہ خوشبو ختم ہو جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ کافر جنات انسانوں سے حسد کرتے ہیں جب بھی کوئی شخص حائر حسینی سے خاک اٹھاتا ہے تو وہ کافر جنات خود کو اس سے مس کرنے کیلئے اکھٹے ہو جاتے ہیں جنکی تعداد کو خدا کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا حالانکہ فرشتے ان کو روضہ پاک کے قریب آنے سے روکتے رہتے ہیں پس اگر یہ خاک ان کافر جنات کے مس کر لینے سے محفوظ رہ جائے تو جس بیماری کے علاج میں اسے کام میں لایا جائے اس سے ضرور شفا حاصل ہو گی لہذا جب اس خاک کو وہاں سے اٹھائے تو اسے چھپائے رکھے اور اس پر اللہ کا نام زیادہ سے زیادہ پڑھے:

میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جو لوگ اس خاک شفا کو وہاں سے لیتے ہیں وہ اسے کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور بعض افراد تواسے جانوروں پر لادے ہوئے بورے میں یا کسی ایسے برتن میںرکھ دیتے ہیں جس کوناپاک ہاتھ لگتے رہتے ہیں پس کیونکر ایسے شخص کو اس سے شفا ملے گی جو اسکا جائز احترام نہیں کرتا اور جو چیز اس کیلئے فائدہ مند ہے اسکو معمولی سمجھے تو وہ اپنے عمل کو فاسد کر دیتا ہے۔

پانچویں روایت

اس روایت میں کہاگیا ہے کہ جو شخص خاک کربلا کو اٹھانا چاہے وہ اسے انگلیوں کے پوروںکیساتھ اٹھائے اور اسکی مقدار چنے کے دانے کے برابر ہو پھر اسے اپنی آنکھوں اور جسم کے دیگر حصوں پر ملے اوریہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذِهِ التُّرْبَةِ وَبِحَقِّ مَنْ حَلَّ بِها وَثَوَیٰ فِیها وَبِحَقِّ جَدِّهِ وَأَبِیهِ وَأُمِّهِ وَأَخِیهِ

اے معبود اس خاک کے واسطے سے اور اس کے واسطے سے جو اس میں دفن اور مقیم ہے اور اسکے نانا اسکے بابا اسکی ماں اور اسکے بھائی کے واسطے سے

وَآلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَةِ الْحافِّینَ بِهِ إلاَّ جَعَلْتَها شِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ وَبُرْئاً

ان ائمہعليه‌السلام کے واسطے سے جو اسکی اولاد میں ہوئے اور ان فرشتوںکے واسطے سے جو اسکے اردگرد ہیں اس خاک کو ہر درد کی دوا بنادے

مِنْ کُلِّ مَرَضٍ، وَنَجاةً مِنْ کُلِّ آفَةٍ، وَحِرْزاً مِمَّا أَخافُ وَأَحْذَرُ

اسے ہر بیماری سے ذریعہ صحت اور ہر مصیبت سے بچنے کا ذریعہ بنا نیز اسے میری سپر بنااس چیز سے جس کا مجھے خوف و خطرہ ہے۔

اسکے بعد اس خاک شفا کو استعمال میں لائے روایت میں آیا ہے کہ امام حسین- کی خاک قبر کو مہر کرنے کا طریقہ یہ ہے۔کہ اس پر سورہ قدر پڑھے نیز روایت ہوئی ہے کہ جب خاک شفا خود کھائے یا کسی کو کھلائے تو اس وقت کہے:

بِسْمِ ﷲ وَبِﷲ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقاً واسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ إنَّکَ عَلَ

خدا کے نام سے اور خدا کی ذات سے اے معبود اس خاک کورزق کی فراوانی علم میں نفع اور ہر بیماری سے شفاکاذریعہ بنا بے شک تو

کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے۔

مؤلف کہتے ہیں امام حسین- کی خاک قبرکے بہت سے فائدے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کو میت کے ساتھ قبر میں رکھنا‘ اس سے کفن پر لکھنا اور اس پر سجدہ کرنا مستحب ہے روایت ہے کہ اس پر سجدہ کرنا سات پردوں کو ہٹا دیتا ہے یعنی یہ قبول نماز کا سبب بن جاتا ہے اور وہ نماز آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے نیز اس خاک سے تسبیح بنانا‘ اس تسبیح سے ذکر الہی کرنا اور اسے ہاتھ میں رکھنا بڑی فضلیت کا موجب ہے اس خاک سے بنائی گئی تسبیح کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کے ہاتھ میں تسبیح کرتی رہتی ہے اگرچہ وہ تسبیح نہ بھی پڑھ رہا ہو اور اس کا یہ تسبیح کرنا اور اس تسبیح کے علاوہ ہے جسے دنیا کی ہر چیز انجام دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٰ وَلَکِنْ لاَ تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ

اور کوئی ایسی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ اس کی تسبیح کرتی ہے حمد سے لیکن تم ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔

اس مفہوم کو مولانا رومیرحمه‌الله نے یوں ادا کیا ہے:

( ۱ )گر ترا از غیب چشمی باز شد

با تو ذات جہاں ہم راز شد

( ۲ )نطق خاک و نطق آب و نطق گل

ہست محسوس حواس اہل دل

( ۳ )جملہ ذرات در عالم نہاں

باتو میگویند روزان و شبان

( ۴ )ماسمیعیم و بصیر و باشیم

باشما نامحرماں ما خامشیم

( ۵ )از جمادی سوی جان جان شوید

غلغل اجزای عالم بشنوید

( ۶ )فاش تسبیح جمادات آیدت

وسوسہ تادیلہا بزوایدت

ترجمہ:

( ۱ ) اگر تمہارے باطن کی آنکھ کھل جائے توتم دنیا کے ذر ے ذرے کے رازداں بن جائو گے۔

( ۲ )مٹی پانی اور پھول کی گفتگو کو اہل باطن کے کان ہی سنتے ہیں۔

( ۳ )اس دنیا کا ذرہ ذرہ دن رات تم سے سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔

( ۴ )کہ ہم میں سے ہر ایک سنتا، دیکھتا اور سمجھتا ہے لیکن تم نامحرموں کیسامنے ہم چپ رہتے ہیں۔

( ۵ )تم اپنی جان لکڑی پتھر وغیرہ کی جان سے ملا دو اور دنیا کے ہر ذرے کی آواز سنو۔

( ۶ )اس طرح تم جمادات کی تسبیح سنو گے اور تمہارا تخیل تمہیں اس تسبیح کے معنی سے آشنا کرے گا۔

خلاصہ یہ کہ اس روایت میں قبر حسین- کی مٹی سے بنائی گئی تسبیح کا جوتسبیح کرنا بیان ہوا ہے وہ اس پاک خاک کی ایک خصوصیت ہے۔

چھٹی روایت

امام علی رضا - سے منقول ہے کہ جو شخص خاک شفا کی تسبیح ہاتھ میں لے کر ہر دانے پر یہ پڑھے:

سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ اِلَهَ اِلاَّ ﷲ وَﷲ اَکْبَرُ

پاک تر ہے خدا حمد ہے خدا کے لیے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگتر ہے۔

پس خدائے تعالی تسبیح کے ہر ہر دانے کے عوض اس کے لیے چھ ہزار نیکیاں لکھے گا اس کے چھ ہزار گناہ معاف کر دے گا ۔ اس کے چھ ہزار درجے بلند کرے گا اور اس کیلئے چھ ہزار شفاعتیں لکھے گا۔ امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص خاک کربلا سے بنائی ہوئی پختہ تسبیح پھیرے اور ایک بار استغفار کرے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ستر بار استغفار لکھے گا اور اگر اس تسبیح کو محض ہاتھ میں لیے رہے تو بھی اس کے ہر دانے کے عوض اس شخص کیلئے سات بار استعفار لکھی جائے گی۔

ساتویں روایت

یہ ایک معتبر روایت ہے جس میں منقول ہے کہ جب امام جعفر صادق - عراق آئے تو لوگوں کا ایک گروہ آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ہمیں اس بات کا تو علم ہے کہ امام حسین- کی خاک قبر ہر درد کی دوا ہے تو کیا یہ خاک پاک ہرخوف وخطر سے امن کا موجب بھی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہی ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ ہر خطرے سے امان میں رہے تو وہ خاک شفا کی بنی ہوئی تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے تین بار یہ دعا پڑھے:

أَصْبَحْتُ اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمامِکَ وَجِوَارِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ

صبح کی میں نے اے معبود کہ محفوظ ہوں تیری نگہداری وتیری پناہ میں جو بچائو کرتی ہے کہ نہ دست درازی کرتا ہے نہ گھیرتا ہے کوئی

شَرِّ کُلِّ غَاشِمٍ وَطَارِقٍ مِنْ سائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ

فریب کار اور تاریکی میں آزار پہنچانے والا تیری تمام مخلوقات میں سے اور نہ وہ جو مخلوق میں سے تو نے پیدا کیا چپ رہنے

وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّةٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ بِلِباسٍ سابِغَةٍ حَصِینَةٍ وَهِیَ وَلائُ أَهْلِ بَیْتِ

اور بولنے والے میں ہر خطرے سے حفاظت میں ہوں کہ پہنے ہوئے ہوںزرہ جو محکم ہے اور وہ ہے محبت ان اہلعليه‌السلام بیت کی

نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ مُحْتَجِزاًمِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلَی أَذِیَّةٍ بِجِدارٍ حَصِینٍ الْاِخْلاصِ فِی

جو تیرے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خاندان ہیں محفوظ ہوں ہراذیت پہنچانے والے سے محکم دیوار کے پیچھے کہ وہ ہے تہ دل سے ماننا

الاعْتِرافِ بِحَقِّهِمْ، وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِهِمْ جَمِیعاً، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَمَعَهُمْ وَمِنْهُمْ

ان کے حق کو اور تعلق رکھنا ان کے مضبوط سلسلے سے اس یقین کے ساتھ کہ حق ان کا ہے ان کے ساتھ ہے ان سے ہے اور ان سے

وَفِیهِمْ وَبِهِمْ، أُوَالِی مَنْ والَوْا، وَأُعَادِی مَنْ عادَوْا، وَأُجانِبُ مَنْ جانَبُوا،

محبت کرتا ہوں جو ان سے محبت کریں ان سے دشمنی رکھتا ہو ں جو ان سے دشمنی رکھیں اور ان سے دور ہوں جو ان سے دوری کریں

فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا أَتَّقِیهِ، یَا عَظِیمُ

پس محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آلعليه‌السلام پر رحمت فرما اور پناہ دے اے معبود بواسطہ انکے ہر چیز کے شر سے جس سے ڈرتا ہوںاے بزرگی والے

حَجَزْتُ الْاََعادِیَ عنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ سَدَّاً

دور کر دے دشمنوں کو مجھ سے بواسطہ آسمانوں اور زمین کی پرورش کے اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار

وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدَّاً فَأَغْشَیْناهُمْ فَهُمْ لاَیُبْصِرُونَ ۔ پھر تسبیح پر بوسہ دے اور دونوں آنکھوں پر

ان کے پیچھے بنا دی ہے پس ہم نے ڈھانپ دیا ان کو تو وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے

ملے اور کہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذِهِ التُّرْبَةِ الْمُبَارَکَةِ، وَبِحَقِّ صَاحِبِها، وَبِحَقِّ

اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس برکت والی خاک کے بواسطہ اس قبر والے کے بواسطہ

جَدِّهِ وَبِحَقِّ أَبِیهِ وَبِحَقِّ أُمِّهِ وَبِحَقِّ أَخِیهِ وَبِحَقِّ وُلْدِهِ الطَّاهِرِینَ اجْعَلْها شِفائً مِنْ

اسکے نانااور بابا کے اور بواسطہ اسکی ماں اور بھائی کے اور اسکے پاک فرزندوں کے واسطے سے اس خاک کو ہردرد کی دوا

کُلِّ دَاءٍ، وَأَمَاناً مِنْ کُلِّ خَوْفٍ، وَحِفْظاً مِنْ کُلِّ سُوئٍ

ہر خطرے سے امان اور ہر تکلیف سے حفاظت کرنے والی بنا دے۔

اس کے بعد تسبیح کو اپنی پیشانی پر ملے چنانچہ اگر یہ عمل صبح کے وقت کرے تو اس دن شام تک اور اگر شام کو کرے تو صبح تک وہ شخص خدا کی پناہ و امن میں رہے گا ایک روایت میں ہے کہ جس شخص کو کسی حاکم یا کسی اورشخص سے خوف لاحق ہو تو وہ جب گھر سے باہر جائے تو یہ عمل کرے پس وہ اس حاکم وغیرہ کے شروآزار سے محفوظ رہے گا۔

مولف کہتے ہیں کہ علمائ کے ہاں مشہور یہ ہے کہ خاک کا کھانا اگرچہ جائز نہیں ہے لیکن امام حسین- کی قبر مطہر کی خاک کو حصول شفا کی خاطر چنے کے دانے کی مقدار میںکھایا جاسکتا ہے بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسور کے دانے جتنی ہی کھائے اور بہتر یہ ہے کہ خاک شفا کو منہ میں ڈال کر اوپر سے پانی پیئے اور یہ پڑھے:

اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقاً وَاسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفَاء مِنْ کُلِ دَاءٍ وَسُقْمٍ

اے معبود اسے بنا دے رزق واسع، علم نافع اور ہر بیماری سے شفا اور ہر دکھ کی دوری کا ذریعہ۔

علامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ خاک کربلا سے جو تسبیح اور سجدہ گاہ بنائی جائے اسے بیچا اور خریدا نہ جائے بلکہ بطور ہدیہ و سوغات دیا جائے لیکن پہلے سے شرط کیے بغیر اگر بعد میں ایک دوسرے کو راضی کر لیں یعنی کچھ رقم سے لین دین کر دیں تو بہت بہتر ہوگا جیسا کہ ایک معتبر حدیث میں امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسین- کی خاک قبر کو بیچے تو یہ فعل ایسا ہے جیسے اس نے حضرت کی ہڈی اور گوشت کی خرید و فروخت کی ہے۔

مولف کہتے ہیں میرے استاد محترم ثقتہ الاسلام محدث نوری نے اپنی کتاب دارالسلام میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک دن میرے بھائیوں میں سے ایک والدہ مرحومہ کی خدمت میں حاضر ہوا والدہ مرحومہ نے دیکھا کہ اس نے سجدہ گاہ اپنی قبا کی اس جیب میںرکھی ہے جو پہلو کی طرف ہوتی ہے پس انہوں نے اسے یہ بے ادبی کرنے پر ڈانٹا کیونکہ اس کی جیب میں رکھنے سے سجدہ گاہ کبھی ران تلے دب کر ٹوٹ جاتی ہے تب میرے بھائی نے تسلیم کیا کہ بے شک آپ درست فرماتی ہیں کہ اب تک دو سجدہ گاہیں مجھ سے اسی طرح ٹوٹ چکی ہیں لہذا اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ایسی جیب میں سجدہ گاہ نہیں رکھوں گا اس بات کو کئی دن ہو گئے تھے کہ میرے والد علامہ مرحوم نے خواب دیکھا جن کو اس واقعہ کی خبر نہ تھی کہ آقا و مولا امام حسین- ان کے پاس تشریف لائے اور کتاب خانے میں اکھٹے بیٹھے ہیں‘ آپ نے والد مرحوم سے فرمایا کہ اپنے بیٹوں کوبلائیں کہ میں ان سے بھی ملاقات کروں چنانچہ میرے والد نے ہم پانچ بھائیوں کو وہاں بلایا اور ہم سب حضرت کے سامنے آ کھڑے ہوئے‘ آپ کے پاس ملبوسات اور ایک خاص چیز تھی جو ہم میں سے ہر ایک کو باری باری بلا کر عنایت فرماتے تھے جب میرے اس مذکورہ بھائی کی باری آئی تو حضرت نے اس پر غصے کی نظر ڈالی اور میرے والد سے فرمایا کہ اس نے میری خاک قبر سے بنی ہوئی دو سجدہ گاہیں توڑی ہیں۔ چنانچہ آپ نے وہ خاص چیز اسکی طرف پھینک دی اور دوسروں کی طرح اپنے پاس بلا کر عنایت نہیں فرمائی اور جہاں تک مجھے یاد ہے وہ شال بننے کی کنگھی تھی۔

اس وقت میرے والد کی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے اپنا یہ خواب میری والدہ مرحومہ کو سنایا تو انہوں نے سجدہ گاہ کے بارے میں میرے اس بھائی سے اپنی گفتگو کا قصہ بیان کیاتو وہ اس خواب کی صداقت پر متعجب ہو کر رہ گئے۔


57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88