شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)0%

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) مؤلف:
زمرہ جات: امام حسین(علیہ السلام)
صفحے: 38

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)

مؤلف: ترتیب:محمدوارث
زمرہ جات:

صفحے: 38
مشاہدے: 1652
ڈاؤنلوڈ: 653

تبصرے:

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)
  • حرفِ آغاز 2

  • سلام ۔ میرزا اسد اللہ خان غالب 5

  • حسرت موہانی 8

  • امام حسین ۔ واصف علی واصف 9

  • محمد علی جوہر 11

  • احمد ندیم قاسمی 12

  • انور مسعود 14

  • سیّد الشّہداء ۔ احمد فراز 16

  • سلام اُس پر ۔ احمد فراز 18

  • ہم جیسے ۔ احمد فراز 21

  • کوثر نیازی 23

  • مرثیۂ امام ۔ فیض احمد فیض 24

  • سلام ۔ منیر نیازی 28

  • حفیظ تائب 29

  • مرثیہ از میر تقی میر 30

  • شامِ غریباں ۔ پروین شاکر 39

  • امجد اسلام امجد 41

  • آنسوؤں کے موسم میں ۔ اقبال ساجد 42

  • قتیل شفائی 43

  • عبدالحمید عدم 45

  • فارغ بخاری 46

  • عطاءالحق قاسمی 47

  • خالد احمد 48

  • محمد اعظم چشتی 50

  • رباعیات ۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر 51

  • سبط علی صبا 53

  • گردھاری پرشاد باقی 54

  • نظم طباطبائی 55

  • ثروت حسین 57

  • صدائے استغاثہ - افتخار عارف 58

  • شورش کاشمیری 60

  • شہزاد احمد 62

  • امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری 64

  • صبا اکبر آبادی 65

  • غلام محمد قاصر 67

  • خورشید رضوی 69

  • جلیل عالی 70

  • رباعیات - جوش ملیح آبادی 71

  • شبِ درمیان۔ عرفان صدیقی 72

  • عرفان صدیقی 73

  • عرفان صدیقی 75

  • عرفان صدیقی 76

  • عرفان صدیقی 78

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 38 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 1652 / ڈاؤنلوڈ: 653
سائز سائز سائز
شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)

شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت)

مؤلف:
اردو
حرفِ آغاز حرفِ آغاز سید الشہدا، سبطِ نبی (ص) ، فرزندِ علی (ع)، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت بھرا سلام کہنا اردو شاعری میں موضوع کے لحاظ سے ایک اہم صنفِ سخن ہے۔ قدیم و جدید اردو شعراء نے بلا تفریقِ مذہب و ملت و عقیدہ، امام عالی مقام کے حضور میں نذرانۂ عقیدت پیش کیے ہیں۔
واقعۂ کربلا، امام حسین کی اولوالعزمی، شجاعت، استقامت، آپ کے رفقا کی وفاداری و جان نثاری، آپ کے اہلِ بیت کے مصائب، حُر کی حق شناسی، نہ صرف مرثیہ اور سلام کے اہم موضوع ہیں بلکہ اردو شاعری میں استعارہ اور علامت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور قریب قریب سبھی مشہور شعراء نے اپنی اپنی فکر کے مطابق ان کو استعمال کیا ہے۔
میں یہاں پر ایک جسارت کر رہا ہوں کہ اردو شعراء کرام کے کلام میں جو سلام موجود ہیں ان کو پیش کر رہا ہوں۔ میرے مآخذ، شعراء کے دواوین و کلیات اور مختلف انتخاب ہیں۔ ویب پر بھی مختلف کلام ملتا ہے لیکن بہر حال ان میں املاء کی اغلاط ہیں۔
سب سے پہلے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف فارسی رباعی پیشِ خدمت ہے، اور اسی رباعی سے عنوان لینے کی سعادت حاصل کی ہے۔

شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین
دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین

سر داد نداد دست در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین


۱
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) سلام میرزا اسد اللہ خان غالب سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس iiکوتو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس iiکو
نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش iiہے؟کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس iiکو
خدا کی راہ میں شاہی و خسروی iiکیسی؟کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس iiکو
خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں iiکااگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟
فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ iiعلیکہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس iiکو
کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں iiپڑتیاگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس iiکو
مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں iiبخشیستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو
وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل iiسبیلشہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس iiکو
عدو کے سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ iiباتکہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس iiکو
بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین iiبلندبہ قدرِ فہم ہے اگر کیمیا کہیں اُس iiکو
نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ iiخاککہ ایک جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس iiکو
ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ iiملےاگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو
ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حُسنِ صبر کی داد؟مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس iiکو
زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیںپس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس iiکو
وہ ریگِ تفتۂ وادی پہ گام فرسا iiہےکہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس iiکو
امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عنادپیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اُس iiکو
یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیںعلی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اُس iiکو
یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا iiپایہبُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس iiکو
علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد iiحسینکرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟
نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر iiہےرکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس iiکو؟
بھرا ہے غالبِ دل خستہ کے کلام میں iiدردغلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس iiکو

۲
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) حسرت موہانیامامِ بر حقِ اہلِ رضا سلام iiعلیکشہیدِ معرکۂ کربلا سلام علیک
کلِ مرادِ ولایت حسین ابنِ iiعلیتتمۂ شرفِ مصطفیٰ سلام iiعلیک
ثبوت یہ ہے کہ نُورِ شہادتِ iiکُبریٰتری جبیں سے نمایاں ہوا، سلام iiعلیک
عبث ہے اور کہیں راہِ صبر و حق کی تلاشتری مثال ہے جب رہنما، سلام iiعلیک
ترے طفیل میں، حسرت بھی ہو شہیدِ iiوفایہی دعا ہے، یہی مدّعا، سلام iiعلیک

۳
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) امام حسین واصف علی واصف السّلام اے نُورِ اوّل کے iiنشاںالسّلام اے راز دارِ کُن فکاں
السّلام اے داستانِ بے کسیالسّلام اے چارہ سازِ بے کساں
السّلام اے دستِ حق، باطل شکنالسّلام اے تاجدارِ ہر زماں
السّلام اے رہبرِ علمِ iiلَدُنالسّلام اے افتخارِ iiعارفاں
السّلام اے راحتِ دوشِ iiنبیالسّلام اے راکبِ نوکِ iiسناں
السّلام اے بوترابی کی iiدلیلالسّلام اے شاہبازِ لا iiمکاں
السّلام اے ساجدِ بے iiآرزوالسّلام اے راز دارِ iiقُدسیاں
السّلام اے ذو الفقارِ حیدریالسّلام اے کشتۂ تسلیمِ iiجاں
السّلام اے مستیِ جامِ iiنجفالسّلام اے جنبشِ کون و iiمکاں
السّلام اے رازِ قرآنِ مبیںالسّلام اے ناطقِ رازِ iiنہاں
السّلام اے ہم نشینِ ریگِ iiدشتالسّلام اے کج کلاہِ iiخسرواں
السّلام اے دُرِ دینِ iiمُصطفیٰالسّلام اے معدنِ علمِ iiرواں
السّلام اے گوہرِ عینِ iiعلیدینِ پیغمبر کے عنوانِ iiجلی

(مجموعہ"شب.چراغ")

۴
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) محمد علی جوہربیتاب کر رہی ہے تمنّائے iiکربلایاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے iiکربلا
ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی iiبہارہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے iiکربلا
روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ iiحیاتجائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے iiکربلا
جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں iiاُسےسمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے iiکربلا
مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات iiسےہوں تشنۂ شہادت و شیدائے iiکربلا
جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ iiچیزاور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا

۵
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) احمد ندیم قاسمیلب پر شہدا کے تذکرے iiہیںلفظوں کے چراغ جل رہے iiہیں
جن پہ گزری ہے ان سے iiپوچھوہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں
میدان کا دل دہک رہا iiہےدریاؤں کے ہونٹ جل رہے iiہیں
کرنیں ہیں کہ بڑھ رہے ہیں iiنیزےجھونکے ہیں کہ شعلے چل رہے ہیں
پانی نہ ملا تو آنسوؤں iiسےچُلو بچوں کے بھر دیئے ہیں
آثار جوان بھائیوں iiکےبہنوں نے زمیں سے چن لیے ہیں
بیٹوں کے کٹے پھٹے ہوئے iiجسمماؤں نے ردا میں بھر لیے iiہیں
یہ لوگ اصولِ حق کی iiخاطرسر دیتے ہیں، جان بیچتے iiہیں
میدان سے آ رہی ہے iiآوازجیسے شبّیر بولتے iiہیں
جیسے غنچے چٹک رہے iiہیںجیسے کہسار گونجتے iiہیں
"ہم نے جنہیں سر بلندیاں iiدیں"سر کاٹتے کیسے لگ رہے iiہیں
ہیں یہ رگِ نبی کے قطرےجو ریت میں جذب ہو رہے iiہیں
دیکھو اے ساکنانِ عالمیوں کشتِ حیات سینچتے iiہیں

۶
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) انور مسعودشعر

شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ iiکربلا
لاکھ مضموں باندھ لیجیے تشنگی رہ جائے گی


مسدس

سوارِ دوشِ محمد (ص) کا رتبۂ iiعالی
حدیثِ عجز ہے میرا بیانِ iiاجمالی

کھلی ہے آج تخیل کی بے پر و iiبالی
دکھائی دیتی ہیں لفظوں کی جھولیاں iiخالی

یہاں ضعیف ہر اظہار کا وسیلہ iiہے
بس ایک دیدۂ خوں بار کا وسیلہ iiہے



مثیلِ شاہِ شہیدِ شہیر نا iiممکن
کوئی غریب ہو ایسا امیر نا iiممکن

حسین سا کوئی روشن ضمیر نا ممکن
جہانِ عشق میں اس کی نظیر نا iiممکن

وہ جاں نثار عجب اک مثال چھوڑ iiگیا
کہ اس کا صبر ستم کا غرور توڑ iiگیا



چھپی ہے اس کے تدبّر میں معرفت کیسی
کہ مصلحت کی جنوں سے مناسبت iiکیسی

ہوس کے ساتھ وفا کی مفاہمت کیسی
ستم گروں کے ستم سے مصالحت iiکیسی

اسی کی دین ہے یہ سوچ کا قرینہ iiبھی
کہ ایک جرم ہے ظالم کے ساتھ جینا iiبھی



مثالِ مہرِ جہاں تاب ضو فشاں ہے iiحسین
ہمہ خلوص ہے ایثارِ بے کراں ہے iiحسین

حیات راز ہے اور اس کا راز داں ہے iiحسین
ریاضِ دہر میں خوشبوئے جاوداں ہے iiحسین

وہ ظالموں کو ہمیشہ کا انتباہ بھی iiہے
وہ اپنی ذات میں تفسیرِ لا الہ بھی iiہے

۷
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) سیّد الشّہداء احمد فراز دشتِ غربت میں صداقت کے تحفظ کے لیے
تُو نے جاں دے کے زمانے کو ضیا بخشی تھی

ظلم کی وادیِ خونیں میں قدم رکھا تھا
حق پرستوں کو شہادت کی ادا بخشی تھی

آتشِ دہر کو گلزار بنایا تو نے
تو نے انساں کی عظمت کو بقا بخشی تھی

اور وہ آگ وہ ظلمت وہ ستم کے iiپرچم
بڑے ایثار ترے عزم سے شرمندہ iiہوئے

جرأت و شوق و صداقت کی تواریخ کے iiباب
تری عظمت، ترے کردار سے تابندہ iiہوئے

ہو گیا نذرِ فنا دبدبۂ شمر و iiیزید
کشتگانِ رہِ حق مر کے مگر زندہ iiہوئے

لیکن اے سیّدِ کونین حسین ابنِ iiعلی
آج بھر دہر میں باطل کی صف آرائی iiہے

آج پھر حق کے پرستاروں کا انعام ہے iiدار
زندگی پھر اس وادی میں اتر آئی ہے

آج پھر مدِ مقابل ہیں کئی شمر و iiیزید
صدق نے جن کو مٹانے کی قسم کھائی iiہے

دل کہ ہر سال ترے غم میں لہو روتے iiہیں
یہ اسی عہدِ جنوں کیش کی تجدید تو iiہے

جاں بکف حلقۂ اعدا میں جو دیوانے iiہیں
ان کا مذہب ترے کردار کی تقلید تو iiہے

جب سے اب تک اسی زنجیرِ وفا کا iiرشتہ
بیعتِ دستِ جفا کار کی تردید تو iiہے



(مجموعہ۔"شب.خون")

۸
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) سلام اُس پر ---------------------------------------------------------احمد فراز
حُسین
اے میرے سر بریدہ
بدن دریدہ
سدا ترا نام برگزیدہ
میں کربلا کے لہو لہو دشت میں تجھے
دشمنوں کے نرغے میں
تیغ در دست دیکھتا ہوں
میں دیکھتا ہوں
کہ تیرے سارے رفیق
سب ہمنوا
سبھی جانفروش
اپنے سروں کی فصلیں کٹا چکے ہیں
گلاب سے جسم اپنے خوں میں نہا چکے ہیں
ہوائے جانکاہ کے بگولے
چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہیں
مسافرانِ رہِ وفا، لٹ لٹا چکے ہیں
اور اب فقط تُو
زمین کے اس شفق کدے میں
ستارۂ صبح کی طرح
روشنی کا پرچم لیے کھڑا ہے
یہ ایک منظر نہیں ہے
اک داستاں کا حصہ نہیں ہے
اک واقعہ نہیں ہے
یہیں سے تاریخ
اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے
یہیں سے انسانیت
نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے

میں آج اسی کربلا میں
بے آبرو ۔۔۔۔ نگوں سر
شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں
جہاں سے میرا عظیم ہادی
حسین کل سرخرو گیا ہے

میں جاں بچا کر
فنا کے دلدل میں جاں بلب ہوں
زمین اور آسمان کے عزّ و فخر
سارے حرام مجھ پر
وہ جاں لٹا کر
منارۂ عرش چھو گیا ہے

سلام اُس پر
سلام اُس پر

(مجموعہ ۔ "جاناں جاناں)

۹
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) ہم جیسے احمد فراز حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم iiجیسےکہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم iiجیسے
برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ iiجیساتو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم iiجیسے
وہ اپنی ذات کی پہچان کو ترستے ہیںجو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم iiجیسے
یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیںیہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے
بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم iiپہنچےسبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے
خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ iiسلطاںترے لہو کو کریں گے سلام ہم iiجیسے
تُو سر بریدہ ہوا شہرِ نا سپاساں iiمیںزباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے
پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فرازبغاوتوں کے علم تھے مدام ہم iiجیسے

(مجموعہ۔"نابیناشہرمیںآئینہ")

۱۰
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) کوثر نیازیدل و دماغ میں مہر و وفا کے iiافسانے
تصورات میں روشن فضائے بدر و iiحُنین

خوشا یہ اوجِ مقدر، زہے یہ عز و شرف
مری زباں پہ جاری ہے آج ذکرِ iiحُسین


نہ فکر سود و زیاں کی، نہ ذکرِ تیغ و iiتبر
حُسین، راہِ خدا میں تری یہ بے iiتابی

بہار گلشنِ اسلام میں پلٹ iiآئی
کہ تیرے خون سے قائم ہے اس کی iiشادابی


کہیں بھی اہلِ محبت کی تشنگی نہ iiبجھی
فرات و نیل کے ساحل سے تا بہ گنگ و جمن

برائے لالہ و گل اجنبی ہے فصلِ iiبہار
خزاں کے دستِ تصرف میں آگیا ہے iiچمن


ہر ایک سمت میں عفریت ظلم کے iiرقصاں
خدا کے دین کا حلقوم ہے تہِ iiشمشیر

نئے یزید، نئی کربلا ہوئی iiپیدا
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے کوئی نیا iiشبّیر

۱۱
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) مرثیۂ امام فیض احمد فیض رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے
ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا iiہے

مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے
مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے

تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے
یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب iiہے




دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی iiتھی
پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی iiتھی

ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی iiتھی
یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی iiتھی

رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے iiایسے
تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے




اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار
اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے iiسردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار
اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ iiاحرار

مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے iiتھے
ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے




کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی
ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی

ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا iiتھی
ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا iiتھی

پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو iiدیکھا
پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے iiگویا




الحمد قریب آیا غمِ عشق کا iiساحل
الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی iiنازل

بازی ہے بہت سخت میانِ حق و iiباطل
وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل

بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو
باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو




پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ iiچمکی
اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی

نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ iiچمکی
شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ iiچمکی

دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا iiصحرا
خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا iiصحرا




پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ iiاعدا
تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا

ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا
یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا

کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا iiنے
خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء iiنے




فرمایا کہ کیوں در پئے ‌آزار ہو iiلوگو
حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو iiلوگو

واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو iiلوگو
معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو iiلوگو

کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی iiہے
معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی iiہے




سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم iiکو
اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم iiکو

زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو
جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم iiکو

سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس iiہے
اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس iiہے




طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے iiطلبگار
باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے iiپرستار

انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے iiطرفدار
ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے iiمددگار

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں iiہے
جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ii‌ہے




تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے iiگا
تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا

جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے iiگا
جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے iiگا

نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے iiگا
نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے iiگا




کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے iiشبّیر
پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے iiشبیر

قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے iiشبیر
خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے iiشبیر

مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر iiتھا
اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا


(مجموعہ۔"شامِ.شہرِیاراں")

۱۲
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) سلام منیر نیازی خوابِ جمالِ عشق کی تعبیر ہے iiحُسین
شامِ ملالِ عشق کی تصویر ہے iiحسین


حیراں وہ بے یقینیِ اہلِ جہاں سے ہے
دنیا کی بیوفائی سے دلگیر ہے iiحسین


یہ زیست ایک دشت ہے لا حد و بے کنار
اس دشتِ غم پہ ابر کی تاثیر ہے iiحسین


روشن ہے اس کے دم سے الم خانۂ جہاں
نورِ خدائے عصر کی تنویر ہے iiحسین


ہے اس کا ذکر شہر کی مجلس میں iiرہنما
اجڑے نگر میں حسرتِ تعمیر ہے iiحسین



(مجموعہ۔"ساعتِ.سیّار")

۱۳
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) حفیظ تائبرموزِ عشق و محبت تمام جانتا iiہوں
حسین ابنِ علی کو امام جانتا iiہوں


انہی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ iiمقصود
انہی کے گھر کو میں دارالسلام جانتا iiہوں


میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ iiناچیز
کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا iiہوں


مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات
سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا iiہوں


نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر
جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا iiہوں


میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں
جو خود کو پیروِ خیر الانام جانتا iiہوں


شکارِ مصلحت و یاس کیوں ہو پھر تائب
جو اس کٹے ہوئے سر کا پیام جانتا ہوں

۱۴
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) مرثیہ از میر تقی میر بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور iiیار
جاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک iiبار

ناچار اپنے مرنے کا ہو گا iiامیدوار
ہے آج رات اور یہ مہمان iiروزگار




فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید

یک دم کہ تیری ہستی میں ہو جائے گا iiغضب
سادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ iiلب

برسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی iiسبب
مت آ عدم سے عالمِ ہستی میں iiزینہار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




ماریں گے تیر شام کے نامرد سارے لوگ
دیویں گے ساتھ اس کا جنہوں نے لیا ہے iiجوگ

تا حشر خلق پہنے رہیں گے لباسِ iiسوگ
ہو گا جہاں جوان سیہ پوش iiسوگوار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




اکبر مرے گا جان سے قاسم بھی جائے گا
عباس دل جہان سے اپنا اٹھائے iiگا

اصغر بغل میں باپ کی اک تیر کھائے iiگا
شائستہ ایسے تیر کا وہ طفل شیر خوار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




اے کاش کوئی روز شبِ تیغ اب iiرہے
تا اور بھی جہاں میں وہ عالی نسب iiرہے

لیکن عزیز جس کے مریں سب وہ کب iiرہے
بے چارہ سینہ خستہ و بے یار و بے iiوتار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




ذات مقدس ابن علی کی ہے iiمغتنم
اک دم میں اس کے ہوویں الٰہی بزار iiدم

کیا شب رہے تو ہووے ہے ایام ہی میں iiکم
آتا ہے کون عالمِ خاکی میں بار iiبار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




کاکل میں تیرے فتنے ہیں ہر اک شکن کے iiساتھ
ہنگامہ لگ رہا ہے ترے دم زدن کے iiساتھ

رہ کوئی دن عدم میں ہی رنج و محن کے iiساتھ
یہ بات دونوں صمع میں رکھتی ہے iiاشتہار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




جلوے میں تیرے سینکڑوں جلووں کی مے فنا
یعنی سحر پہ آنا قیامت کا ہے iiرہا

دن ہو گیا کہ سبط نبی مرنے کو iiچلا
ساتھ اپنے دے چکا ہے تلف ہونے کا iiقرار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




آبِ فرات پر تو بہ شب دن نہ پھر iiکبھی
خوں ریز ورنہ ہونے لگے گا بہم iiابھی

سیِّد تڑپ کے پیاس سے مر جائیں گے iiسبھی
پیغمبرِ خدا ہی کا پروردۂ iiکنار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




دن شب کو کس امید کے اوپر کرے iiبھلا
جو جانتا ہو یہ کہ ستم ہو گا iiبرملا

نکلے گی تیغِ جور کٹے گا مرا گلا
اے وائے دل میں اپنے لیے حسرتیں iiہزار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




ایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتاب
وہ جو غیور مرنے میں اپنے کرے شتاب

دے بیٹھے سر کو مصر کے میں کھا کے پیچ و تاب
تر خوں میں دونوں کسو ہوں سر پر پڑے غبار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




جس دم خطِ شعاعی ہوئے رونقِ iiزمیں
افگار ہو کے نیزہ خطی سیوہ iiحسیں

ہوویں گے جمع پیادے سوار آن کر iiوہیں
ہو گا جدا وہ گھوڑے سے مجروح بے iiشمار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




لوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کر کے iiجوش
فرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہو گا iiہوش

سجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تئیں خموش
آنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا iiانتظار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




خورشید کی بلند نہ ہو تیغ خوں iiفشاں
ہے درمیاں نبی کے نواسے کا پائے iiجاں

ایسا اگر ہوا تو قیامت ہوئی iiعیاں
وہ حلق تشنہ ہو گا تہِ تیغ آب iiدار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




روشن ہوا جو روز تو اندھیر ہے نداں
میداں میں صاف ہو کے کھڑا دے چکے گا iiجاں

ناموس کی پھر اس کے نہ عزت ہے کچھ نہ iiشاں
اک شش جہت سے ہو گی بلا آن کر دو چار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




پھر بعد قتل اس کے غضب ایک ہے یہ iiاور
بختی چرخ راہ چلے گا انہوں کے iiطور

شیوہ جفا شعار ستم طرز جن کی iiجور
عابد کے دست بستہ میں دی جائے گی iiمہار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید



خورشید سا سر اس کا سناں پر چڑھائیں گے
عالم میں دن وہی ہے سیہ کر دکھائیں iiگے

بیٹے کے تئیں سوار پیادہ چلائیں iiگے
ہو گا عنان دل پہ نہ کچھ اس کا iiاختیار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




پیکر میں ایک کشتہ کے ہو گی نہ نیم iiجان
خیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ iiنشاں

شوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ iiکہاں
یہ جائے اعتبار ہے کیا یاں کا iiاعتبار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید



صاحب موئے اسیر ہوئے شام جائیں iiگے
سو کر جھکائے شرم سے ہر گام جائیں iiگے

ناچار رنج کھینچتے ناکام جائیں iiگے
لطف خدائے عز و جل کے iiامیدوار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




لازم ہے خوں چکان روش گفتگو سے iiشرم
کر اس نمود کرنے کی ٹک آرزو سے شرم

تجھ کو مگر نہیں ہے محمد کے رو سے iiشرم
بے خانماں بے دل و بے خویش بے iiتبار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




راہِ رضا میں عاقبتِ کار سر iiگیا
ایسی گھڑی چلا کہ مدینے نہ پھر iiگیا

ہوں آفتاب جانبِ شام آ کے گھر iiگیا
خاطر شکستہ غم زدہ آزردہ دل فگار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید




آثار دکھ کے ہیں در و دیوار سے iiعیاں
چھایا ہے غم زمین سے لے تا بہ iiآسماں

کچھ میر ہی کے چہرے پہ آنسو نہیں رواں
آیا ہے ابر شام سے روتا ہے زار iiزار


فردا حسین می شود از دہر نا iiامید
اے صبح دل سیہ بہ چہ رومی شوی iiسفید

۱۵
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) شامِ غریباں ۔------------------------------- پروین شاکر
غنیم کی سرحدوں کے اندر
زمینِ نا مہرباں پہ جنگل کے پاس ہی
شام پڑ چکی ہے
ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے
اور ان شگوفوں کی سبز خوشبو
جو اپنی نو خیزیوں کی پہلی رتوں میں
رعنائیِ صلیبِ خزاں ہوئے
اور بہار کی جاگتی علامت ہوئے ابد تک
جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے ہوئے سر
ردائے عفت اڑھانے والے
بریدہ بازو کو ڈھونڈتے ہیں
بریدہ بازو کہ جن کا مشکیزہ
ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پایا
مگر وفا کی سبیل بن کر
فضا سے اب تک چھلک رہا ہے
برہنہ سر بیبیاں ہواؤں میں سوکھے پتوں
کی سرسراہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں
بادِ صرصر کے ہاتھ سے بچنے
والے پھولوں کو چومتی ہیں
چھپانے لگتی ہیں اپنے دل میں
بدلتے، سفاک موسموں کی ادا شناسی نے چشمِ
حیرت کو سہمناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے
چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں
کٹے ہوئے سر
شکستہ خوابوں سے کیسا پیمان لے رہے ہیں
کہ خالی آنکھوں میں روشنی آتی جا رہی ہے


میں نوحہ گر ہوں-------------------------------امجد اسلام امجد
میں نوحہ گر ہوں
میں اپنے چاروں طرف بکھرتے ہوئے زمانوں کا نوحہ گر ہوں
میں آنے والی رتوں کے دامن میں عورتوں کی اداس بانہوں کو دیکھتا ہوں
اور انکے بچوں کی تیز چیخوں کو سن رہا ہوں
اور انکے مَردوں کی سرد لاشوں کو گن رہا ہوں
میں اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر فصیلِ دہشت کو چھو رہا ہوں
زمیں کے گولے پر زرد کالے تمام نقطے لہو کی سرخی میں جل رہے ہیں
نئی زمینوں کے خواب لے کر
مسافر اِن تباہ یادوں کے ریگ زاروں میں چل رہے ہیں میں نو
حہ گر ہوں مسافروں کا جو اپنے رستے سے بے خبر ہیں میں ہوش والوں کی بد حواسی کا نوحہ گر ہوں
حُسین،
میں اپنے ساتھیوں کی سیہ لباسی کا نوحہ گر ہوں
ہمارے آگے بھی کربلا ہے، ہمارے پیچھے بھی کربلا ہے
حُسین، میں اپنے کارواں کی جہت شناسی کا نوحہ گر ہوں
نئے یزیدوں کو فاش کرنا ہے کام میرا
ترے سفر کی جراحتوں سے
ملا ہے مجھ کو مقام میرا
حُسین، تجھ کو سلام میرا



۱۶
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) آنسوؤں کے موسم میں اقبال ساجد حُسین تیرے لیے خواہشوں نے خوں iiرویا
فضائے شہرِ تمنّا بہت اداس ہوئی


غبارِ ظلم پہ رنگِ شفق بھڑک اٹھا
زمیں پہ آگ بگولا گُلوں کی باس iiہوئی


غموں کو کاشت کیا آنسوؤں کے موسم iiمیں
یہ فصل اب کے بہت دل کے آس پاس ہوئی


وہ پیاس جس کو سمندر سلام کرتے iiہیں
ہوئی تو تیرے لبوں سے ہی روشناس ہوئی


جو تُو نے خون سے لکھی حُسین وہ iiتحریر
کتابِ حق و صداقت کا اقتباس iiہوئی


کبھی بجھا نہ سکے گی ترے چراغ کی iiلو
کہ جمع تیری امانت ہوا کے پاس iiہوئی


دکھوں میں ڈوب گئی دشتِ کربلا کی سحر
ہوائے شام ترے غم میں بد حواس iiہوئی

۱۷
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) قتیل شفائیسلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا iiہے
ii

پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ iiہے

تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے
جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا iiہے


برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں iiکی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ iiہے


علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے
نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ iiہے


کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی
سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ iiہے


نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر iiبھی
مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے


قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی iiپر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا iiہے


قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے iiمیرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفیٰ سا iiہے

۱۸
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) عبدالحمید عدمتھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین


دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق
کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین


وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند
درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ iiحسین


کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے iiکے
نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ iiحسین


وفا سرشت بہتّر نفوس کی iiٹولی
گئی تھی جوڑنے تاریخِ زر نگارِ حسین

۱۹
شاہ است حُسین شاہ است حُسین(امامِ عالی مقام کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت) فارغ بخاریحُسین نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے
حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ iiسے


ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا iiغرور
یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ iiسے


بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا iiمقام
صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ iiسے


ترے لہو کا یہ ادنیٰ سا اک کرشمہ iiہے
ہوئی ہے عام شہادت کی آرزو تجھ iiسے


کبھی نہ جبر کی قوت سے دب سکا فارغ
ملی ہے ورثے میں یہ سر کشی کی خُو تجھ سے

۲۰