دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید0%

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں
صفحے: 228

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور
زمرہ جات:

صفحے: 228
مشاہدے: 3811
ڈاؤنلوڈ: 812

تبصرے:

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 228 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3811 / ڈاؤنلوڈ: 812
سائز سائز سائز
دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

صبحِ جمعہ ، دعائے ندبہ کے ہمراہ

تالیف: حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور

مترجم: حجة الاسلام جناب فیروز حیدر فیضی

۳

صبح ِ جمعہ غم زدہ عاشقوں اور دل باختہ شیعوں کے پُر شکوہ اجتماعات، اہل بیت کے خلاف حلف بردار دشمنوں کو شدید آزار و اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خواب راحت کو اڑا دیتے ہیں۔

لہٰذا اسی رہ گزر سے مدت مدید سے بہت سے سوالات، دعائے ندبہ کے متعلق اعتراض کے عنوان سے شک و شبہ ایجاد کرنے کے لیے دشمنوں کی طرف سے رونما اور بعض مقامات پر نا آگاہ دوستوں کے ذریعے منتشر ہوئے، جوانوں کے بعض گروہ کے درمیان شک و شبہ کا غبار پھیلایا اور ان کے اذہان میں علامتِ سوال پیدا کیا۔

ہم اس تحریر میں اس بات کے درپے ہیں کہ ان سوالات کو بیان کرکے صاف و شفاف اسی کے ساتھ ہی ان کے استدلالی و منطقی جوابات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کریں۔

کچھ اپنی باتیں

بعض افراد دعائے ندبہ کی حقیقت و معرفت سے نا آگاہی اور غفلت کی بنیاد پر طرح طرح کے بے جا اعتراضات اپنے زعم ناقص سے کرتے رہتے ہیں۔

مثلاً کبھی کہتے ہیں: یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیوں کہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو سرگرمیوں، سعی و کوشش، ترقی و سربلندی اور کامیابی و کامرانی کے اسباب کے بجائے اسی راستے پر گامزن کرکے صرف اسی پر قناعت کرنے کا درس دیتی ہے۔

کبھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں: یہ دعا اصولاً خدا کے معاملات میں بے جا دخل اندازی کا نام ہے، اللہ کی جیسی جو مصلحت ہوگی اسے انجام دے گا وہ ہم سے محبت کرتا ہے وہی ہمارا خالق ہے اور ہمارے مصالح و منافع کو بہتر جانتا ہے پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی کے مطابق اس سے سوال کرتے ہیں؟! یا یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ دعائے ندبہ قرآنی تعلیمات سے ناسازگار ہے وغیرہ وغیرہ ۔

۴

قارئین محترم ! جو لوگ اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں وہ دعا، گریہ و ندبہ اور نالہ و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی اور روحانی و معنوی آثار سے غافل ہیں، انسان ارادے کی تقویت اور رنج و الم کے دور ہونے کے لیے کسی سہارے کا محتاج ہے اور دعا انسان کے دل میں امید کی کرن بن کر اس کے تمام وجود کو روشن و منور کردیتی ہے۔

کسی مشہور ماہر نفسیات کا قول ہے: ”کسی قوم میں دعا اور گریہ و زاری کا فقدان اس ملت کی تباہی کے مترادف و مساوی ہے ، جس قوم نے دعا کی ضرورت کے احساس کا گلا گھونٹ دیا ہے وہ عموماً فساد اور زوال پذیر ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتی“۔

البتہ اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ صبح کے وقت دعا اور عبادت کرنا پھر بقیہ مکمل دن کے تمام اوقات وحشی جانوروں کی طرح گزارنا، بے کار اور فضول امر ہے لہٰذا دعا کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اس کے گہرے اثرات سے بہرہ مند نہ ہوسکے۔

مزید یہ کہ دعا انسان کے نفس میں اطمینان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی اور شادابی کیفیت پیدا کرتی ہے، مزید باطنی انبساط و سرور کا باعث ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ انسان کے لیے شجاعت و بہادری کی روح کو برانگیختہ کرتی ہے، دعا کے ذریعے انسان پر بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں سے بعض تو صرف دعا سے مخصوص ہیں، جیسے نگاہ کی پاکیزگی، کردار میں سنجیدگی، باطنی فرحت و مسرت، مطمئن چہرہ، استعدادِ ہدایت اور حوادث کا استقبال کرنے کا حوصلہ، یہ سب دعا کے اثرات و نتائج ہیں۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ ہماری کائنات میں دعا کے حقیقی خدو خال کی شناخت و معرفت رکھنے والے بہت کم ہیں۔

دعائے ندبہ حقیقت میں حجتِ زمانہ سرکار امام زمانہ (ع) عجل اللہ فرجہ الشریف روحی و ارواح العالمین لہ الفدا کے پس پردئہ غیبت، جمعہ کے دن پڑھی جانے والی ایک زیارت ہے جو شیعوں کے برحق اصول عقائد پر مشتمل ہے اور وہ انہیں ان کے وظائف و ذمہ داریوں کی تعلیم دیتی ہے تاکہ صاحبان ایمان اپنے اعتقادات میں ولایت و امامت کے متعلق بھی اپنے عظیم فریضے سے غافل نہ ہوں اور ان کے دلوں میں انتظار فرج و گشائش اور امید کی ضیاء پاشی ہوتی رہے۔

کتاب ہذا میں دعائے ندبہ کے مختلف اعتراضات جو اب تک دنیا کے گوشہ و کنار میں سامنے آتے رہے ہیں اس کے خاطر خواہ جوابات قارئین کرام کو دست یاب ہوجائیں گے ساتھ ہی ساتھ وہ امام زمانہ - کی معرفت سے بھی مالا مال ہوں گے۔

انشاء اللّٰہ المستعان

۵

(دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید)

عرض ناشر

مبارک دعائے ندبہ قدیم الایام سے شیعوں کے توجہات کا مرکز رہی ہے اور حضرت صاحب الامر (ارواحنا لہ الفداہ) کا انتظار کرنے والے طول تاریخ میں اپنے دل کی تپش کو اس دعا کی خنکی سے آرام بخشتے تھے ۔

دعائے ندبہ حقیقت میں حجتوں اور اولیاء الٰہی کے اس وسیع زمین پر حاضر رہنے کی مختصر تاریخ کی نشان دہی کرتی ہے ۔وہ سلسلہ جو حضرت آدم (ع) سے آغاز ہوا اور آخری حجت حضرت امام مہدی (ع) تک جاری رہے گا۔

جو شخص دعائے ندبہ سے مانوس ہو جائے اور دل کی گہرائی سے پیغمبر اکرم کے بر حق جانشینوں کی مظلومیت کو معلوم کرے ،تو ان کی ولایت و حجت کی شمع اس کے دل میں روشن و منور ہو گی اور اس کا تمام وجود حجت خدا کی ضرورت کا احساس کرے گا۔

دعائے ندبہ کے پڑھنے والے کو آخری حجت خدا کی غیبت کی وجہ سے جو انسانی معاشرے پر مصیبت وارد ہوئی ہے معلوم ہو جائے گی اور وہ عظیم مصیبت جو امام معصوم (ع) کے وجود سے محروم ہونے کی بنا پر عالمِ بشریت پر وارد ہوئی ہے اس سے بھی واقف ہو جائے گا اس لحاظ سے اس کو اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ شب و روز گریہ و زاری میں بسر کرے اور موجودہ سیاہ ترین حالات میں گرفتار ہونے پر آنسو بہائے ۔ لیکن یہ گریہ و زاری ایک طرح سے ان افراد پر اعتراض ہے جنہوں نے آخری امام - کی غیبت کا زمینہ فراہم کیا، اور دوسری طرف سے اس سر زمین پر امام معصوم (ع) کے ظہور کا زمینہ فراہم کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا اعلان ہے ۔ دعائے ندبہ اور اس کی استناد کے متعلق بہت سی باتیں کہی گئی ہیں اور متعدد رسالے اور کتابیں بھی اس سلسلہ میں تالیف ہوئی ہیں ،لیکن اب بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں زندگی بسر کرنے والے بعض ایسے بھی ہیں جو اس دعا میں شک و شبہ پیدا کرتے ہیں اور اس کی سند اور مضمون پر اعتراض کرتے ہیں ،اس وجہ سے لازم و ضروری ہے کہ دوسری مرتبہ اس دعا کے اعتراضات کو عمیق تحقیق کے ساتھ جواب دیا جائے ۔ کتابِ حاضر جو محقق محترم حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور کے عزم و ہمت سے منظر عام پر آئی ہے ،اس کی ابتدائی بحثوں میں آخری حجت حضرت مہدی (ع) کے لیے گریہ و زاری کرنے کی تاریخ بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد دعا ئے ندبہ کی تفصیلی سندی بحث ذکر کی گئی ہے مزید اس دعا کے متعلق بعض مضمونی اعتراضات کی تحقیق بھی کی گئی ہے ۔

کتاب کے محترم مولف کے شکریہ کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ یہ تالیف حضرت صاحب (ع)الامر (عج) کی خدمت میں شرفِ قبولیت حاصل کرے گی اور قارئین کرام کی رضایت بھی۔

انشاء اللہ

۶

ابتدائیہ

صبح ِ جمعہ غم زدہ عاشقوں اور دل باختہ شیعوں کے پُر شکوہ اجتماعات، اہل بیت کے خلاف حلف بردار دشمنوں کو شدید آزار و اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خواب راحت کو اڑا دیتے ہیں۔ شہر کی فضا میں ”یابن الحسن -“ کی ان اجتماعات سے آواز بلند ہوتی ہے اور ایک خون آلود تیر کی طرح دشمن کے سینے میں داخل ہوجاتی ہے اور ان کے آرام و سکون کو ان سے سلب کرلیتی ہے۔لہٰذا اسی رہ گزر سے مدت مدید سے بہت سے سوالات، دعائے ندبہ کے متعلق اعتراض کے عنوان سے شک و شبہ ایجاد کرنے کے لیے دشمنوں کی طرف سے رونما اور بعض مقامات پر نا آگاہ دوستوں کے ذریعے منتشر ہوئے، جوانوں کے بعض گروہ کے درمیان شک و شبہ کا غبار پھیلایا اور ان کے اذہان میں علامتِ سوال پیدا کیا۔ہم اس تحریر میں اس بات کے درپے ہیں کہ ان سوالات کو بیان کرکے صاف و شفاف اسی کے ساتھ ہی ان کے استدلالی و منطقی جوابات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کریں۔ اس کے وہ بعض سوالات یوں ہیں کہ:

۱ ۔ کیا یہ معقول امر ہے کہ ایک فرد کی ولادت سے قبل اس کے فراق میں گریہ و زاری کی جائے؟

۲ ۔ کیا دعائے ندبہ کی کوئی معتبر سند پائی جاتی ہے؟

۳ ۔ کیا دعائے ندبہ پیغمبر (ص) کی جسمانی معراج سے ناسازگار ہے؟

۴ ۔ کیا دعائے ندبہ کیسانیہ عقائد سے نشاة پائی ہے؟

۵ ۔ کیا دعائے ندبہ گوشہ نشینی جیسی حالت کی حامل ہے؟

۶ ۔ کیا دعائے ندبہ بدعت ہے؟

۷ ۔ کیا دعائے ندبہ عقل کے منافی ہے؟

۸ ۔ کیا دعائے ندبہ بارہ ائمہ کی امامت کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟

۹ ۔ کیا دعائے ندبہ کا معصوم سے صادر ہونا معقول ہے؟

۱۰ ۔ کیا دعائے ندبہ کے فقرات قرآن کے مخالف ہیں؟

ان سوالات کے بعض حصّے عظیم القدر اور ارزش مند مجلّہ موعود میں بیان ہوئے ہیں ان کے استدلالی جوابات گراں قدر مجلّہ کے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیے،(۱) اب یہ ہماری سعادت ہے کہ ان کے مجموعی مقالات کو جس صورت میں آپ ملاحظہ کر رہے ہیں آپ قارئین گرامی کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

علی اکبر مہدی پور

____________________

۱۔ ماہ نامہ موعود، شمارہ ۱۴ تا ۱۹، خردار ماہ ۷۸ تا فروردین ۷۹۔

۷

پہلی فصل

دعائے ندبہ سے آشنائی

۱ ۔ مہدی موعود کے فراق میں گریہ و زاری کا تاریخی پس منظر

اے نور یزداں! اے مہرتاباں! اے فروغ لامتناھی! اے دائمی روشن آفتاب! اے پرچم نجات کے مالک! اے چشمہ زار عطوفت و محبت کو پینے والے! اے وہ غائب جوناقابل فراموش ہے!

اے وہ کہ جہاں بھی فتنہ و فساد ہے تو اسے ختم کرنے والا ہے! اے وہ کہ جہاں کہیں بھی کوئی نظام چل رہا ہے تو اس کا ناظم ہے ! اے وہ کہ جہاں بھی کوئی قیام عمل میں آرہا ہے تو قائم ہے!

اے وہ کہ تو تمام ہم و غم کا منتہیٰ ہے! اے وہ کہ تو تمام درد و الم کا مداوا ہے! اے وہ کہ تو تمام بے اسباب افراد کا سرو سامان مہیا کرنے والا ہے !

آپ کی جاں گداز جدائی بہت طولانی ہو گئی ،تمام آنکھیں سو گئیں ،سوائے آپ کے عاشقوں کی ،جو غیبت کی طولانی شب میں آپ کے آفتاب عالم تاب کے طلوع کی متلاشی ہیں ،اے دنیا کے روشن آفتاب!

دریا طوفانی کیفیت کا حامل ہو گیا، تمام کشتیاں آپس میں ٹوٹ گئیں سوائے آپ کے چشم براہ لوگوں کے ،جو فتنوں کی موجوں کی بلندی پر آپ کے نجات بخش ساحل کی تلاش میں ہیں ، اے آرام بخش ساحلِ نجات!

تمام کرہ ارض خشک ہو گیا،ہر ایک گل بوٹے پژمردہ ہو گئے سوائے آپ کے عاشقوں کے گُل لالہ زار کے، اے موّاج چشمہ حیات!

ہاں! غیبت کی تاریک شب طولانی ہو گئی ،زندگی کا سیاہ دریا طوفانی صورت میں تبدیل ہو گیا، انسانیت کا وسیع صحرا گرم بے آب و گیاہ سر زمین میں بدل گیا اور میں اس شب تاریک میں وحشت زدہ ہو گیا، آپ کی آمد کے لیے تمام لمحات کو شمار کر رہا ہوں اور وہ بھی اس وحشت زدہ غار میں ،دل تنگ، تھکا ماندا آپ کے انتظار میں ستاروں کو گن رہا ہوں ، اے غم و درد کو ختم کرنے والے موعود امم!

۸

یقینا ”وصل وہجران“کی تاریخ میں اور ”عشق وحرمان“ کے دفتر میں اس قسم کی دیرپا محبت اور ایسے پا برجا محب نیز ایسے گریز پا محبوب کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہے کہ جس کے ۱۱۶۶ سال گزرچکے ہوں اور وہ اس عشق و جذبہ ناز اور راز و نیاز کے ساتھ برقرار ہو۔

یہ صرف زمانہ غیبت کے افراد ہی نہیں ہیں جو ظلم و ستم سے رنجیدہ اور عاجز ہو چکے ہوں اور حجت خدا کے ظہور کے انتظار میں لحظہ شماری کر رہے ہوں ان کی آتش فراق میں جل رہے ہوں اور ان کی غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے خون کے آنسو رو رہے ہوں ،بلکہ تمام پیغمبروں نے یوسفِ زہرا کی غیبت اور ظہور کے متعلق گفتگو کی ہے ، ان کے فضائل و مناقب کا قصیدہ پڑھا ان کے ظہور کے انتظار کے لیے اپنی امت کو نصیحت فرمائی ہے۔

یہ حضرت داؤد ہیں جنہوں نے کتاب زبور کی ہر فصل میں حضرت کے ظہور موفور السرور کے متعلق بیان فرمایا ہے ،آسمانوں کی خوشی ،اہل زمین کی مسرت ،دریاؤں کی کڑک صحراؤں کا وجد میں آنا، جنگلوں کے درختوں کا نغمہ سرائی کرنا اور ان کے ظہور کے وقت کی خبر دی ہے۔ دنیا کا آباد ہونا، انسان اور سب کو سکون و اطمینان کی سانس میسر ہونا آپ کی بہترین حکومت میں نمایاں طور پر حاصل ہو گی ،مزید انتظار کا حکم بھی دیا ہے۔(۱)

یہ حضرت دانیال ہیں جنہوں نے عدل و انصاف کے پھیلنے اور حضرت قا ئم - کے ہاتھوں ظلم و ستم کے ختم ہونے کی خبر دی ہے اور مردوں کی رجعت کے متعلق گفتگو کی ہے نیز ظہور کے منتظرین کی تعریف کی ہے ۔(۲)

یہ حیقوق نبی ہیں کہ جنہوں نے ظہور کی بشارت دی ہے اور آپ کی طولانی غیبت کو بیان کیا ہے اور اپنی امت سے فرمایا:

اگر چہ تاخیر بھی کریں پھر بھی تم ان کا انتظار کرو اس لیے کہ یقینا وہ آئیں گے ۔ “(۳)

____________________

۱۔ عہد عتیق، مزامیر، مزمور ۳۷/ ۹۔۱۸ و مزمور ۹۶/ ۱۰۔ ۱۳۔

۲۔ عہد عتیق، اشعیانبی، ۱۱/ ۴۔ ۱۰۔

۳۔ عہد عتیق، حیقوق نبی، ۱۲/ ۱۔ ۱۳۔

۹

یہ حضرت عیسیٰ - کی ذات گرامی ہے کہ جنہوں نے پچاس سے زائد مقامات پر عہد جدید (انجیل) میں حضرت کے ناگہانی ظہور کو بیان کیا ہے اور تعمیری انتظار کے موافق حکم دیا ہے مزید غفلت و بے توجہی سے ہوشیار کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

”اپنی اپنی کمر کو باندھ لو اپنے چراغوں کو روشن رکھو وہ تمام غلام خوش نصیب ہیں کہ جب ان کے آقا و مولا آئیں تو انہیں بیدار دیکھیں“۔(۱)

یہ رسول اکرم (ص) ہےں جو شب معراج حضرت علی و فاطمہ زہرا اور دوسرے ائمہ معصومین کے انوار طیبہ کا مشاہدہ فرماتے ہیں ،نیز حضرت بقیةاللہ ارواحنا فداہ کے مقدس نور کا جب دیدار کرتے ہیں کہ ان کے درمیان روشن ستارے کی طرح نور افشانی کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں:” پروردگارا! یہ کون لوگ ہیں؟“ خطاب ہوتا ہے :

”یہ ائمہ ہیں اور یہ وہی ”قائم“ ہے جو میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام کرے گا ،اسی کے بدست اپنے دشمنوں ،ظالموں ،کافروں اور منکرین سے انتقام لوں گا، وہ میرے دوستوں اور آپ کے شیعوں کے لیے آرام بخش ہونے کا وسیلہ ہے ، وہی لات و عزّیٰ (قریش کے دو بڑے بت) کو تروتازہ زمین کے اندر سے باہر لائے گا اور انہیں آگ کی نذر کرے گ“(۲)

_______________________

۱۔ عہد جدید، انجیل لوقا، ۱۲/ ۳۵ اور ۳۶۔

۲۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، ج۱، ص ۴۷۔

۱۰

اس وقت ایک بہت طولانی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:

طوبیٰ لمن لقیه و طوبی لمن احبّه و طوبی لمن قال به

”خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے ملاقات کرے ،خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کو دوست رکھے ،خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کا معتقد ہو“۔(۱)

اس طرح اشرف کائنات نے بھی منطق وحی سے دائمی منتظرین کی جماعت کے سوز و گداز آمیز انتظار سے پردہ اٹھایا جیسا کہ فرمایا:

( فقل انما الغیب للّه فانتظروا انی معکم من المنتظرین)

”آپ کہہ دیجیے کہ تمام غیب کا اختیار پروردگار کو ہے اور تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ۔ “(۲)

امام ناطق برحق حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا:

” اس آیت میں غیب سے مراد حجت غائب حضرت قائم ہیں ۔“(۳)

یہ امیر المومنین علی ہیں کہ جنہوں نے ایک نامور خطبہ میں حضرت مہدی کو بعنوان :

_____________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ،ج۱،ص۲۶۸۔

۲۔ سورئہ یونس (۱۰) آیت ۲۰۔

۳۔ ینابیع المودة سلیمان بن ابراہیم قندوزی ،ص۵۰۸۔

۱۱

”عرب کے بلند ترین پہاڑوں کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ہوں گے، علوم و فضیلت کے بحر زخار ہوں گے ۔وہ بے پناہوں کی پناہ ہوں گے ، ہمیشہ فاتح و سر بلند ، وہ شیر نر ہوں گے ، سب (ظالموں ) کو کاٹ کر رکھ دیں گے ، ظلم و ستم کے محلوں کو ڈھا دیں گے ، وہ اللہ تعالیٰ کی شمشیر برّاں ہو ں گے“

وغیرہ وغیرہ جیسی صفت سے یاد کرتے ہیں اور اپنا دست مبارک سینہ پر رکھ کر دل سے ایک آہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں :

هاه ، شوقا الی رویته

”آہ میں ان کے دیدار کا کتنا اشتیاق رکھتا ہوں ۔ “(۱)

دوسری حدیث میں حضرت کے ۳۱۳ ملکی اور فوجی کمانڈر کے متعلق حضرت نے خبر دی ہے ، دل کی گہرائیوں سے فرماتے ہیں:

” و یا شوقاه الی رویتهم فی حال ظهور دولتهم

”آہ ، میں ان کے ظہور کے وقت ان کی حکومت کا کتنا زیادہ شوق دیدار رکھتا ہوں ۔ “(۲)

اصبغ ابن نباتہ کا بیان ہے : ایک دن حضرت امیر المومنین کے خدمت میں شرفیاب ہوا میں نے دیکھا کہ دریائے فکر میں غوطہ زن ہیں اور اپنی انگشت مبارک

________________________

۱۔ بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، ج۵۱، ص ۱۱۵۔ بشارة الاسلام، سید مصطفی کاظمی، ص ۵۲۔

۲۔ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی، ج۱، ص ۱۷۰۔

۱۲

زمین پر رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ میں آپ کو متفکر دیکھ رہا ہوں ؟ اپنی انگشت مبارک زمین پر رکھتے ہیں ،کیا آپ کو آب و گِل سے لگاؤ پیدا ہو گیا ؟ فرمایا:

”ہرگز نہیں ، خدا کی قسم! میں نے ایک دن کے لیے بھی اس آب و گِل سے تعلق نہیں پیدا کیالیکن میں اس مولود کے متعلق فکر کر رہاہوں جو میری نسل سے دنیا میں آئے گا ۔وہ میرا گیارہواں فرزند ہے ۔ وہ وہی مہدی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے پُر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہو چکی ہو گی۔ اس کے لیے زمانہ غیبت میں حیرانی و سرگردانی ہے۔ ان دنوں میں کچھ قومیں راہ حق سے منحر ف ہو جائیں گی اور کچھ قومیں راہ راست کی طرف ہدایت پائیں گی ۔“(۱)

یہ سوز و گداز اور اشتیاق دیدار کا اظہار کرنا صرف امیر المومنین میں منحصر نہیں ہے بلکہ تمام ائمہ - صمیم قلب سے اس آفتاب عالم تاب کے دیدار کے خواہش مند ہیں اور ہر ایک نے اپنی اپنی تعبیر میں اس اندرونی عشق و محبت سے پردہ اٹھایا ہے۔

یہ سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰ - ہیں جو حضرت کی با عظمت حکومت کی وضاحت کے بعد فرماتے ہیں:

_______________________

۱۔ کفایة الاثر فی النص علی الائمة الاثنی عشر ، ابو القاسم علی الخراز القمی ، ص۲۲۰۔ کمال الدین و تمام النعمة ،شیخ صدوق ، ج۱،ص ۲۸۹۔

۱۳

”فطوبیٰ لمن ادرک ایامه و سمع کلامه “

”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کے ایام کو درک کریں اور ان کے احکام کی اطاعت کریں“۔(۱)

اور یہ سید الشہداء حضرت امام حسین ہیں جو ہمیشہ اپنے خون اور طول تاریخ کے دوسرے مظلوموں کے خون کا انتقام لینے والے کی یاد میں تھے اور حضرت کے عالمی قیام کو بیان کرتے وقت انہیں ” الموتور با بیہ“ (اپنے بابا کے خون کا انتقام لینے والے ) سے تعبیر کرتے ہیں ۔(۲)

”موتور“ ”صاحب خون“ اور ”منتقم“ کے معنی میں ہے ۔(۳)

آیہ کریمہ کی تفسیر میں :

( وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلاَیُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّهُ کَانَ مَنصُورًا)

”اور جو مظلوم قتل ہوتا ہے ہم اس کے ولی کو بدلہ کا اختیار دے دیتے ہیں لیکن اسے بھی چاہیے کہ قتل میں حد سے آگے نہ بڑھ جائے کہ اس کی بہر حال مدد کی جائے گی۔ “(۴)

_______________________

۱۔ یوم الخلاص ،کامل سلیمان ،ص۳۷۴۔

۲۔ کمال الدین و تمام النعمة ، شیخ صدوق ،ج۱،ص ۳۱۸۔

۳۔ النھایة فی غریب الحدیث والاثر، ابن ا لاثیر، ج۵، ص ۱۴۸۔

۴۔ سورئہ اسراء (۱۷)، آیت ۳۳۔

۱۴

امام صادق نے فرمایا:

”یہ آیت حضرت قائم آل محمد (ص) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ظہور کے بعد امام حسین- کے خون کا انتقام لیں گے ۔“(۱)

یہ امام سجاد ہیں جو اپنے مشہور خطبہ میں دربارِ یزید میں خاندان عصمت و طہارت کے امتیازات کو شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ نے ہمیں ، علم ،حِلم ،سخاوت ،شجاعت سے نوازا ہے اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت عطا کی ہے ، رسول خدا ہم میں سے ہیں،ان کے وصی کا تعلق ہمارے خاندان سے ہے ، سید الشہداء (جناب حمزہ ) جعفر طیار اور امت پیغمبر کے دو سبط ہم میں سے ہیں اور وہ مہدی جو دجّال کو قتل کریں گے وہ بھی ہم میں سے ہیں ۔“(۲)

یہ امام محمد باقر ہیں جو حضرت کے شوق دیدار کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”و یاطوبیٰ من ادرکه “

”وہ شخص خوش نصیب ہے جو انہیں درک کرے ۔“(۳)

”ام ہانی “کو خطاب کر کے فرمایا:

_______________________

۱۔ کامل الزیارات، ابن قولویہ، ص ۶۳۔ البرہان فی تفسیر القرآن، سید ہاشم بحرانی، ج۲، ص ۴۱۸۔

۲۔ نفس المھموم، شیخ عباس قمی، ص ۲۸۵۔

۳۔بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، ج۵۱ ، ص ۱۳۷۔

۱۵

”فان ادرکت زمانه قرّت عینک “

”اگر تم نے ان کے زمانہ کو درک کیا تو تمہاری آنکھیں روشن ہو جائیں گی۔“(۱)

یہ امام جعفر صادق ہیں کہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

” فطوبی لمن ادرک ذلک الزّمان “

”وہ شخص خوش نصیب ہے جو ان کے زمانہ کو درک کرے“ ۔(۲)

پھر بہت عظیم تعبیر نقل ہوئی ہے جو ایک طرف سے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی عظیم المرتبت عظمت کی حکایت کرتی ہے اور دوسری طرف سے امام جعفر صادق کا اپنے چھٹے فرزند ارجمند سے انتہائی عشق و محبت کی نشان دہی کرتی ہے ۔

”و لو ادرکته، لخدمته ایام حیاتی “

”اگر میں ان کے زمانہ کو درک کرتا تو تمام عمر ان کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہتا ۔“(۳)

اس وقت شیعوں کی مشکلات کو زمانہ غیبت میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

” و لتد معنّ علیه عیون المومنین “

”مومنین کی آنکھوں سے حضرت کے لیے آنسوؤں کا سیلاب امنڈ

____________________

۱۔ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی، ج۱، ص ۲۷۶۔

۲۔ بحار الانوار،محمد باقر مجلسی ،ج۵۱، ۱۴۴۔

۳۔ کتاب الغیبة ،محمد بن ابراہیم نعمانی ،ص۲۴۵۔

۱۶

پڑے گا“ ۔(۱)

لیکن حضرت امام جعفر صادق - نے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے فراق میں کس قدر اشک فشانی کی سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔

”سدیر صیرفی “ کہتے ہیں:” ایک مرتبہ ہم ،”مفضل“ ،”ابو بصیر“ اور ”ابان“ اپنے مولا امام جعفر صادق کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کاندھے پر ایک اونی خیبری عبا ہے جس کی آستینیں چھوٹی چھوٹی ہیں اور اس طرح گریہ فرمارہے ہیں جیسے کوئی ماں اپنے فرزند کی میت پر گریہ کرتی ہے۔

آپ کے چہرہ انور سے غم و اندوہ کے آثار نمایاں اور رخساروں کا رنگ بالکل متغیر تھا اور پرخون دل اور شدّت غم سے آنسوؤں کا سیلاب آپ کے رخساروں پر بہہ رہا ہے اور اس طرح مناجات کر رہے ہیں:

”سیدی غیبتک نفت رقادی ،وضیّقت علیّ مهادی ، و ابتزّت منّی راحة فوادی “

”اے میرے سید و سردار! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند اڑا دی ، عرصہ حیات مجھ پر تنگ کر دیا ہے میرے دل کا سکون جاتا رہا ہے “ ۔

سُدیر کا بیان ہے : امام صادق کو اس پر یشانی کے عالم میں دیکھ کر میری عقل جاتی رہی اور کلیجہ پاش پاش ہو گیا کہ کون سی جان لیوا مصیبت حجت خدا کے سر پر

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ، ج۲، ص ۳۴۷۔ کتاب الغیبة، محمد بن ابراہیم نعمانی، ص ۱۵۲۔

۱۷

آگئی؟ کون سا افسوس ناک عظیم واقعہ ان کے لیے رونما ہوا؟! ہم نے عرض کیا:

اے خیر خلق کے فرزند! آپ کے لیے یہ کون سا حادثہ پیش آگیا کہ اس طرح آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا ہے؟! اور آپ کے مبارک آنسو ابر بہاری کی طرح آپ کے چہرے پر رواں دواں ہیں؟! کس عظیم واقعہ کی بنا پر اس طرح کے سوگ میں بیٹھے ہوئے ہیں؟!

حضرت امام صادق نے یہ سن کر لرزتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے ایک سرد آہ بھر کر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا:

”آج صبح میں نے کتاب ”جفر“ دیکھی جو قیامت تک کے علم منایا و بلایا اور علم ما کان و ما یکون (یعنی: خواب اور آزمائشوں نیز جو کچھ ہوچکا ہے اور ہونے والا ہے ان امور کے علم) پر مشتمل ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد اور آپ کے بعد ائمہ طاہرین کے لیے مخصوص فرمادی ہے ،اس میں ہم نے اپنے قائم کے ولادت ،ان کی طولانی غیبت ،طول عمر اور زمانہ غیبت میں مومنین کے مصائب ،لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ کا پیدا ہونا ،اکثر لوگوں کا دین اسلام سے منحرف ہو جانا اور ہر انسان کا اپنے گلے سے اسلام کی حبل متین کا اتار پھینکنا دیکھا ہے ،میرا دل اس زمانے کے لوگوں کے لیے جل رہا ہے اور غم و اندوہ کی موجوں نے میرے جسم کو گھیر لیا ہے ۔“(۱)

_______________________

۱۔ کتاب الغیبة ، محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی)، ص۱۶۷۔

۱۸

اس زمانے کے شیعوں کے حالات کے مطالعے نے امام صادق کی کیفیت کو یوں متغیر کر دیا ان کے چہرہ مبارک پر سیل اشک رواں ہو گئے ،لیکن ہمارے پاس تو امام کی طرح وہ استحکام اور مقاومت و پائیداری نہیں ہے اور ہم زمانہ کے تلخ حوادث کا بار سنگین اپنے شانوں پر محسوس کر رہے ہیں ،ا س وقت ہمارا کیا حال ہو گا؟ یا یہ کہ کیوں ہم حیران و پریشان ہو کر صحرا میں نہیں چلے جاتے ،اور ہمارے دل کی آتش اس عالم ہستی کو آگ کی نذر کیوں نہیں کرتی۔کیوں اسی دلیل اور علت کی بنا پر عظیم واقعہ کی مصیبت کی گہرائی کو جیسا درک کرنا چاہیے محسوس نہیں کرتے ۔

یہ امام موسیٰ کاظم ہیں جو امام عصر کے غیبت کے متعلق بیان کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی ”علی بن جعفر“ سے فرماتے ہیں:

”انّما هی محنة من اللّٰه عزّوجلّ امتحن بها خلقه “

”یہ غیبت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہو گی اس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے گا۔“

اور جب علی بن جعفر مزید وضاحت طلب کرتے ہیں تو فرماتے ہیں :

”یا بنی عقولکم تضعف عن هذا و احلامکم تضیق عن حمله ولکن ان تعیشوا فسوف تدرکونه “

”اے میرے بیٹو! تمہاری عقلیں کوتاہ ہیں ،تم اس کا تصور بھی نہ کر سکو گے ،تمہاری عقل و فہم اتنی کم ہے کہ اس کی متحمل نہ ہو سکے گی ،لیکن اگر تم لوگ اس زمانہ تک زندہ رہے تو اس کو خود ہی دیکھ لو گے۔“(۱)

یہ حضرت امام رضا ہیں جو حضرت کی طولانی غیبت کو یاد کر کے فرماتے ہیں :

”یبکی علیه اهل السماء و الارض و کلّ حرّی و حرّان و کل حزین و لهفان “

”اس کے لیے تمام زمین و آسمان میں بسنے والے عاشقین گریہ کریں گے ،ہر مردوزن اس کے لیے محزون اور سب آہ و زاری کریں گے۔“(۲) جب ”دعبل خزاعی“ نے اپنے مشہور اشعار کو امام رضا کی خدمت میں پڑھا تو جیسے ہی آپ نے حضرت بقیة اللہ اور ان کے عظیم قیام کا ذکر کیا تو امام رضا اپنی جگہ کھڑے ہو گئے اور اپنا دست مبارک سر پر رکھا حضرت ولی عصر کے نام پر کھڑے ہو کر آپ کے ظہور کی دعا کی ۔(۳)

امام جعفر صاد ق سے سوال کیا گیا: قائم ، سن کر کھڑے ہونے کے لازم ہونے کا کیا سبب ہے ؟ فرمایا:

” صاحب الامر دراز مدت تک غیبت میں رہیں گے یہ لقب حضرت کی برحق حکومت کی نشان دہی کرتا ہے اور آپ کی غربت پر اظہار افسوس ہے ،لہذا جو شخص حضرت کو اس قائم لقب سے یاد کرے تو وہ اسے محبت

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة ، شیخ صدوق، ج۲،ص ۳۶۰۔۲۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج۵۱، ص ۱۵۲۔ ۳۔ قاموس الرجال، شوشتری، ج۴، ص ۲۹۰۔

۱۹

آمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔چونکہ اس وقت امام ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لہذا احترام کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور خدا سے آپ کے لیے تعجیل فرج کی دعا کرنی چاہیے“ ۔(۱)

یہ حضرت امام تقی الجواد ہیں جو چار سال کی عمر میں شدت غم واندوہ میں ڈوب جاتے ہیں،تو آپ کے پدربزرگوار اس ہمّ وغم کا سبب دریافت کرتے ہیں ۔

تو وہ اپنی مادرگرامی حضرت فاطمہ زہرا کے مصائب اور حضرت محسن کے خون کا انتقام لینے کو زمانہ ظہور میں بیان کرتے ہیں۔(۲)

دوسری حدیث میں امام عصر کے عظیم قیام کو بیان کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں:

” فاذا دخل المدینة اخرج اللات والعزّیٰ فاحرقهما“

”جب وہ مدینہ پہونچیں گے تو (قریش کے دو بڑے بت) لات و عزّیٰ کو زمین سے نکال کر جلا ڈالیں گے ۔“(۳)

یہ امام علی نقی ہیں جو سامرا کے زندان میں یوسف زہرا کی یاد میں ”صقر ابن ابی دُلف“ سے فرماتے ہیں:

”سنیچر کا دن رسول خدا سے مخصوص ہے جمعرات کا دن میرے فرزند

________________________

۱۔ منتخب الاثر، لطف اللہ صافی گلپائیگانی، ص ۵۰۶۔

۲۔ اعلام الوریٰ باعلام الھدیٰ، ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی، ص ۴۰۹۔

۳۔ حلیة الابرار فی احوال محمد و آلہ الاطہار، ج۲، ص ۵۹۸۔ بیت الاحزان، شیخ عباس قمی، ص ۱۰۰۔

۲۰