دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید0%

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں
صفحے: 228

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

مؤلف: حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور
زمرہ جات:

صفحے: 228
مشاہدے: 10487
ڈاؤنلوڈ: 1192

تبصرے:

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 228 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 10487 / ڈاؤنلوڈ: 1192
سائز سائز سائز
دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید

مؤلف:
اردو

مولف کہتے ہیں:”زیارت آل یٰسین “ کی شہرت قدماء کے درمیان ”زیارت ندبہ“ اور اس کا شرف صدور ناحیہ مقدسہ سے تھا ،جو احتمالاً اس بات کا باعث ہوا کہ بعض متاخرین یہ تصور کریں کہ مشہور دعائے ندبہ بھی ناحیہ مقدسہ سے صادر ہوئی ہے۔

چھٹا نکتہ :

کیوں دعائے ندبہ چار عظیم عیدوں میں پڑھی جاتی ہے؟

مستحب ہے کہ دعائے ندبہ چار عظیم عیدوں ،عید غدیر ،عید الفطر ،عید قربان اور جمعہ میں پڑھی جائے ۔اس دعا کے چار عظیم عیدوں سے مخصوص ہونے کی دلیل قول امام ہے اور شاید اس کا ان چار دنوں سے مخصوص ہونے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہو کہ یہ چار دن سال بھر کی عظیم ترین اسلامی عیدوں میں سے ہے ،اور روایات کی بنیاد پر،ہر ایک عید کے دن خاندان عصمت و طہارت کا غم و اندوہ تازہ ہوتا ہے جیسا کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں:

”کسی عید کا دن مسلمانوں کے لیے نہیں آتاہے ،نہ عید الفطر ،نہ عید قرباں، مگر یہ کہ آل محمد کا غم و اندوہ اس میں تازہ ہوتا ہے “۔

راوی نے اس کی وجہ دریافت کی:تو امام نے فرمایا: ”کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا حق دوسروں کے ہاتھوں میں ہے(۱)

____________________

۱۔علل الشرائع ،شیخ صدوق ، ج۲،ص ۳۸۹۔

۱۸۱

امام سجاد ان اشعار میں جو حضرت سے منسوب ہیں اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

یفرح ھذا الوری بعیدھم ونحن اعیادنا مَآ تمنا

یہ لوگ ایام عید میں اپنی عید آنے کی وجہ سے خوشی مناتے ہیں لیکن ہم خاندان اہل بیت کی عیدوں کا دن ہمارا گریہ و ماتم ہے(۱)

چار عظیم عیدوں میں سے جمعہ کا دن مخصوص حیثیت رکھتا ہے ،اس لیے کہ یہ حضرت صاحب الزمان سے مخصوص ہے ۔(۲) اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کا ظہور اسی دن واقع ہو گا۔

”علی بن فاضل “کی روایت میں ”جزیرة خضراء “ کے متعلق ذکر ہوا ہے کہ جزیرہ خضراء میں حضرت کے لشکر اور فوج کے تمام کمانڈر ہر مہینے کے وسط میں جمعہ کے دنوں میں اپنے اسلحے کو حمائل کر کے اپنی سواریوں پر سوار ہو کر باہر آتے ہیں اور صاحب الامر علیہ السلام کے ظہور کا انتظا ر کرتے ہیں۔(۳)

اس طریقے سے ہر آنے والا جمعہ کا دن کہ جس میں امر ظہور پر امضا اور تائید نہ ہو اہل بیت عصمت و طہارت اور ان کے عاشق دل باختہ کے لیے غم و اندوہ کا دن ہے اور مناسب ترین متن کہ جس کے پڑھنے سے ان کے دلوں پر مرہم رکھا جا سکے تاکہ ان کے پریشان دلوں کی تسلی کا باعث ہو سکے وہ دعائے ندبہ ہے ۔اس لحاظ سے ان

____________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ،ابو جعفر محمد بن علی ابن شہر آشوب ،ج۴،ص ۱۶۹۔

۲۔ جما ل الاسبوع ،سید ابن طاو وس ،ص۳۷۔

۳۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۵۲،ص ۱۷۱۔

۱۸۲

کے ظہور کے منتظر اور عاشق شیعہ ہر جمعہ کی صبح میں،اپنے آقا ،مولا ،منجی،سید و سردار اور اپنے امام کی یاد منانے کے لیے دعائے ندبہ برقرار ہونے والے مراکز کی طرف سرنگوں ہوتے ہیں،فراق یار میں اشک بہاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اپنے حجت کو ظہور کی اجازت دے تاکہ حضرت کے فرج سے بے سروسامانی کو دور کرے ، جرائم اور خیانتوں کا خاتمہ کرے ، مشکلات ،تمام گرانی اور نگرانی کو دور کرے ، عدل و انصاف کے پر افتخار پرچم کو اپنے ولی کے ہاتھ میں بلند کرے ، ایک عالمی حکومت کو عدالت و آزادی کی بنیاد پر قائم کرے ، وسیع دنیا کو ظلم وستم کی آلودگی ،جہل ،بے جا برتری ،تجاوز ،قتل ،فقر و فاقہ سے پاک و پاکیزہ کرے ،نور علم ،عدالت اور حق و حقیقت سے زینت بخشے اس دن کے انتظار کی امید میں

انشاء اللہ

۱۸۳

چوتھی فصل

دعائے ندبہ مع ترجمہ

صرف اس لیے کہ کتاب دعائے ندبہ کے متن سے خالی نہ رہے اور مبارک دعائے ندبہ کی مجالس میں دعا کے قارئین کرام کے کام آئے ہم دعائے ندبہ کے متن کو سلیس اور سادہ ترجمہ(۱) کے ساتھ کتاب کے اس حصّے میں نقل کر رہے ہیں ۔ اس امید و کرم کے ساتھ کہ حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی لطف و عنایت اور رضایت ہمارے شامل حال ہوسکے۔

وہ متن جسے خاتم المحدثین، الحاج شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے مبارک کتاب مفاتیح الجنان میں نقل کیا ہے وہ سید ابن طاووس علیہ الرحمہ کی کتاب مصباح الزائر کے متن کے مطابق ہے۔ اگرچہ ہم کتاب المزار الکبیر ابن مشہدی کے مطبوعہ اور خطی نسخے تک دست رسی رکھتے تھے او وہ مصباح الزائر کے مقابلے میں زیادہ قدیمی اور اصل نسخہ کی حامل تھی۔ لیکن اس بات کے پیش نظر کہ مجالس دعائے ندبہ میں اکثر اس دعا کو مفاتیح یا ان کتابچوں سے قارئین پڑھتے ہیں جو اس سے ماخوذ ہے، ہم نے بھی صر ف اس لیے کہ نسخوں کا اختلاف درپیش نہ ہو اس متن کو مفاتیح الجنان کے مطابق نتیجے کے طور پر مصباح الزائر کے مطابق بھی نقل کیا ہے۔ اور نسخہ بدل کے موارد میں بھی ہم نے صرف اسی مقدار پر اکتفا کیا ہے کہ جس کی طرف محدث قمی نے اشارہ کیا ہے۔(۲)

_______________________

۱۔ یہ اردو ترجمہ مولانا ناظم علی خیر آبادی صاحب سے ماخوذ ہے ۔

۲۔ یہ عربی متن، مبارک کتاب مفاتیح الجنان، طبع انتشارات رسالت قم کے مطابق ہے جو مولف کی تصیح اور مقابلہ نگاری کے ساتھ زیور طبع سے آراستہ ہوا ہے۔

۱۸۴

دعائے ندبہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بنام خدائے رحمن و رحیم

الْحمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ

ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے اور خدا رحمت نازل کرے ہمارے سردار

نَبِیِّهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ تَسْلِیماً اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَیٰ مَا جَریٰ بِهِ

اور پیغمبر حضرت محمد اور ان کی آل پر اور ان پر سلام ہو۔ خدا تیری حمد ان تمام فیصلوں پر جو تیرے اولیاء

قَضَاوکَ فِي اوْلِیَآئِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِکَ وَ

کے بارے میں جاری ہوئے ہیں۔ جن کو تو نے اپنے لیے خالص اور منتخب قرار دیا ہے اور اپنے

دِینِکَ، إِذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِیلَ مَا عِنْدَکَ مِنَ النَّعِیمِ الْمُقِیمِ

دین کے لیے چن لیا ہے جب کہ تو نے ان کے لیے ان بہترین اور دائمی نعمتوں کو اختیار کیا ہے تو تیری

الَّذِي لاَزَوالَ لَهُ وَ لاَ اضْمِحْلاَلَ، بَعْدَ انْ شَرَطْتَ عَلَیْهِمُ

بارگاہ میں ہیں اور ان کے لیے کوئی زوال اور اضمحلال نہیں ہے اس کے بعدکہ تو نے ان سے ان

الزُّهْدَ فِي دَرَجَاتِ هٰذِهِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّةِ وَ زُخْرُفِهَا وَ زِبْرِجِهَا،

دنیائے دنی کے درجات میں اور اس کی آرائش و زیبائش کے سلسلہ زہد کی شرط کرلی اور انہوں نے

فَشَرَطُوا لَکَ ذٰلِکَ، وَ عَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفَآءَ بِهِ، فَقَبِلْتَهُمْ وَ

تجھ سے اس بات کا وعدہ کرلیا اور تجھے معلوم تھا کہ وہ اپنے وعدہ کو وفا کریں گے۔ تو تو نے انہیں

قَرَّبْتَهُمْ وَ قَدَّمْتَ لَهُمُ الذِّکْرَ الْعَلِيَّ وَ الثَّنَآءَ الْجَلِيَّ، وَ اهْبَطْتَ

قبول کرلیا اور اپنے سے قریب تر بنا لیا اور ان کے لیے بلند ترین ذکر اور واضح تعریف کو پیش کردیا

عَلَیْهِمْ مَلآئِکَتَکَ، وَ کَرَّمْتَهُمْ بِوَحْیِکَ، وَ رَفَدْتَهُمْ

اور ان کے یہاں اپنے ملائکہ کو اتار دیا اور انہیں اپنی وحی کے ذریعہ محترم بنا دیا۔ اور اپنے علم سے نواز دیا

۱۸۵

بِعِلْمِکَ، وَ جَعَلْتَهُمُ الذَّرِیعَةَ إِلَیکَ، وَالْوَسِیلَةَ إِلَیٰ

اور انہیں اپنی بارگاہ کے لیے ذریعہ اور اپنی رضا کے لیے وسیلہ قرار دے دیا۔ ان میں سے بعض کواپنی

رِضْوَانِکَ، فَبَعْضٌ اسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ إِلَیٰ انْ اخْرَجْتَهُ مِنْهَا، وَ

جنت میں ساکن بنایا اور پھر انہیں وہاں سے رخصت کرکے جنت میں بھیج دیا۔ اور بعض کو اپنی کشتی

بَعْضٌ حَمَلْتَهُ فِي فُلْکِکَ، وَ نَجَّیْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَکَةِ

میں سوار کرکے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ہلاکت سے اپنی رحمت کے ذریعہ نجات دے دی

بِرَحْمَتِکَ، وَ بَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِکَ خَلِیلاً، وَ سَالَکَ لِسَانَ

اور بعض کو اپنے لیے خلیل بنالیا۔ اور انہوں نے آخری دور میں صداقت کی زبان کا سوال کیا تو تو نے ان کی

صِدْقٍ فِي الآخِرِینَ فَاجَبْتَهُ، وَ جَعَلْتَ ذٰلِکَ عَلِیّاً، وَ بَعْضٌ

دعا قبول کرلیا اور اسے بلند بالا قرار دے دیا اور بعض سے درخت کے ذریعہ کلام کیا اور ان کے

کَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَرَةٍ تَکْلِیماً ، وَ جَعَلْتَ لَهُ مِنْ اخِیهِ رِدْء اً وَ

لیے ان کے بھائی کو پشت پناہ اور بوجھ بٹانے والے قرار دے دیا اور بعض کو بغیر باپ کے پیدا کردیا۔

وَزِیراً،وَ بَعْضٌ اوْلَدْتَهُ مِنْ غَیْرِ ابٍ، وَ آتَیْتَهُ الْبَیِّنَاتِ، وَ ایَّدْتَهُ

اور انہیں واضح نشانیاں عطا کردیں اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کردی اور ہر ایک کے

بِرُوحِ الْقُدُسِ، وَ کُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَرِیعَةً، وَ نَهَجْتَ لَهُ مِنْهَاجاً،

لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ حیات مقرر کردیا اور ان کے لیے اولیاء منتخب کیا۔ جو ایک کے بعد ایک

وَ تَخَیَّرْتَ لَهُ اوْصِیَآءَ مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ، مِنْ مُدَّةٍ إِلَیٰ

دین کے محافظ بنے ایک مدت سے دوسری مدت تک اپنے دین کو قائم کرنے والا اور اپنے

مُدَّةٍ، إِقَامَةً لِدِینِکَ، وَ حُجَّةً عَلَیٰ عِبَادِکَ ، وَ لِئَلَّا یَزُولَ

بندوں پر اپنی حجت تمام کرنے کے لیے اور اس لیے کہ حق اپنے مرکز سے ہٹنے نہ پائے اور باطل اہل حق

۱۸۶

الحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ، وَ یَغْلِبَ الْبَاطِلُ عَلَیٰ اهْلِهِ، وَ لاَ یَقُولَ احَدٌ لَوْ

پر غالب نہ آنے پائے اور کوئی شخص یہ نہ کہنے پائے کہ تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول کیوں

لاَ ارْسَلْتَ إِلَیْنَا رَسُولاً مُنْذِراً، وَ اقَمْتَ لَنَا عَلَماً هَادِیاً فَنَتَّبِعَ

نہ بھیج دیا اور ہمارے لیے نشانی ہدایت کیوں نہ قائم کردیا۔ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں

آیَاتِکَ مِنْ قَبْلِ انْ نَذِلَّ وَ نَخْزیٰ، إِلَیٰ انِ انْتَهَیْتَ بِالْامْرِ إِلَی

کا اتباع کرلیتے یہاں تک کہ تیرے امر کا سلسلہ تیرے حبیب تیرے شریف بندے حضرت محمد

حَبِیبِکَ وَ نَجِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ فَکَانَ کَمَا

مصطفی تک پہنچ گیا خدا ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل کرے وہ ویسے ہی شریف تھے جیسے تو نے

انْتَجَبْتَهُ سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ، وَ صَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَیْتَهُ، وَ افْضَلَ مَنِ

انہیں بنایا تھا تمام مخلوقات کے سردار اور تمام منتخب بندوں میں منتخب اور تمام چنے ہوئے بندوں

اجْتَبَیْتَهُ، وَ اکْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ، قَدَّمْتَهُ عَلَیٰ انْبِیَآئِکَ، وَ بَعَثْتَهُ

سے افضل اور تمام معتبر افراد مکرم و محترم تو نے انہیں تمام انبیاء پر مقدم قرار دیا اور انہیں تمام انس و جن کی

إِلَی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبَادِکَ، وَ اوْطَاتَهُ مَشَارِقَکَ وَ مَغَارِبَکَ، وَ

طرف مبعوث کیا اور ان کے لیے تمام مشرق و مغرب کو ہموار کردیا اور براق کو مسخر کردیا اور انہیں

سَخَّرْتَ لَهُ الْبُرَاقَ، وَ عَرَجْتَ بِهِ إِلَی سَمَآئِکَ، وَ اوْدَعْتَهُ عِلْمَ

اپنے آسمان کی بلندیوں تک لے گیا اور تمام ماضی مستقبل کے علوم کا خزانہ دار بنادیا اور دنیا کے خاتمہ تک

مَا کَانَ وَمَا یَکُونُ إِلَی انْقِضَآءِ خَلْقِکَ، ثُمَّ نَصَرْتَهُ بِالرُّعْبِ، وَ

اس کے بعد رعب کے ذریعے ان کی مدد کی اور جبرئیل اور میکائل اور ان تمام فرشتوں کے ذریعے

حفَفْتَهُ بِجَبْرَائِیلَ وَ مِیکَآئِیلَ وَ الْمُسَوِّمِینَ مِنْ مَلآئِکَتِکَ، وَ

محفوظ بنادیا جو تیری نمائندگی کی نشانیاں تھیں اور تو نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کے دین کو تمام ادیان پر

وَعَدْتَهُ انْ تُظْهِرَ دِینَهُ عَلَیَ الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشرِکُونَ، وَ

غالب بنائے گا چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے اور یہ اس وقت ہوا جب تو نے انہیں صداقت

۱۸۷

ذٰلِکَ بَعْدَ انْ بَوَّاتَهُ مُبَوَّا صِدْقٍ مِن اهْلِهِ، وَ جَعَلْتَ لَهُ وَ لَهُمْ

کے مرکز پر مستقر کردیا اور ان کے لیے اور ان کے اہل کے لیے اس پہلے گھر کو قرار دیا جسے تمام انسانوں

اوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَکَّةَ مُبَارَکاً وَ هُدًی لِلْعَالَمِینَ،

کے لیے بنایا گیا ہے اور جو مکہ میں ہے اور بابرکت اور عالمین کے لیے ہدایت ہے اس میں کھلی

فِیهِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِیمَ وَ مَنْ دَخَلَهُ کَانَ آمِناً، وَ قُلْتَ:

ہوئی نشانیاں اور مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوجائے وہ محفوظ ہوجاتا ہے اور تو نے اعلان کر

( إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ

دیا ہے اے اہل بیت الله کا اراده بس یه ہے که تم کو هر برائی سے دور رکهے اور تمهیں اس طرح پاک

تَطْهِیراً) ، ثُمَّ جَعَلْتَ اجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ

و پاکیزہ قرار دے جو پاکیزگی کا حق ہے اس کے بعد تو نے مرکز رحمت محمد اور آل محمد کا اجر اپنی کتاب میں

مَوَدَّتَهُمْ فِي کِتَابِکَ، فَقُلْتَ: ( قُلْ لاَ اسْالُکُمْ عَلَیْهِ اجْراً إِلَّا

ان کی مودت کو قرار دے کر اعلان کردیا اے پیغمبر کهه دو که میں تم سے کوئی اجر نهیں مانگتا هوں علاوه

الْمَوَدَّة فِي الْقُرْبَیٰ) وَ قُلْتَ: ( مَا سَالْتُکُمْ مِنْ اجْرٍ فَ هُوَ لَکُمْ )

اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور تو نے کہہ دیا کہ میں نے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی

وَ قُلْتَ: ( مَا اسْالُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اجْرٍ إِلَّا مَنْ شَآءَ انْ یَتِّخِذَ إِلَیٰ

فائدے کے لیے ہے اور کهه دیا که میں تم سے کوئی اجر نهیں چاهتا مگر وه شخص که جو الله کی طرف

رَبِّهِ سَبِیلاً) فَکَانُوا هُمُ السَّبِیلَ إِلَیْکَ، وَ الْمَسْلَکَ إِلَیٰ

راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ سب تیری بارگاہ کے لیے راہ ہدایت اور تیری رضا کے لیے

رِضْوَانِکَ فَلَمَّا انْقَضَتْ ایَّامُهُ اقَامَ وَلِیَّهُ عَلِيَّ بْنَ ابِي طَالِبٍ

بہترین مسلک بن گئے پھر جب ان کے دن تمام ہوگئے تو انہوں نے اپنے ولی علی ابن ابی طالب- کو

صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِمَا وَ آلِهِمَا هَادِیاً، إِذْ کَانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَ لِکُلِّ

قوم کا ہادی مقرر کردیا اس لیے خود عذاب الٰہی سے ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کے لیے ایک

۱۸۸

قَوْمٍ هَادٍ، فَقَالَ وَ الْمَلَا امَامَهُ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ،

ہادی ہے۔ انہوں نے مجمع عام کے سامنے اعلان کردیا جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔

اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ، وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَ

خدایا جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ اور جو اسے دشمن رکھے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد

اخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَ قَالَ: مَنْ کُنْتُ انَا نَبِیَّهُ فَعَلِيٌّ امِیرُهُ، وَ قَالَ:

کرے اس کی مدد کر جو اس کو چھوڑ دے اسے نظر انداز کر اور اس رسول نے اعلان کیا کہ جس کا میں

انَا وَ عَلِيٌّ مِنْ شَجَرَةٍ وَاحِدَةٍ وَ سَائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ، وَ

نبی ہوں اس کے علی امیر ہیں اور فرمایاکہ میں اور علی ایک ہی شجر سے ہیں اور تمام لوگ مختلف شجروں سے

احَلَّهُ مَحَلَّ هَارُونَ مِنْ مَوسیٰ، فَقَالَ لَهُ: انْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ

ہیں اور علی کو موسیٰ کے لیے ہارون کی منزل پر قرار دیا اور ان سے کہا کہ تم میرے لیے ویسے ہی

هَارُونَ مِنْ مُوسَیٰ إِلَّا انَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَ زَوَّجَهُ ابْنَتَهُ سَیِّدَةَ

ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے صرف میرے بعد نبی نہ ہوگا اور پھر اپنی بیٹی سردار نساء عالمین کا ان سے

نِسَآءِ الْعَالَمِینَ، وَ احَلَّ لَهُ مِنْ مَسْجِدِهِ مٰا حَلَّ لَهُ وَ سَدَّ

عقد کردیا اور ان کے لیے مسجد میں وہ سب حلال کردیا جو خود ان کے لیے حلال تھا اور ان کے

الْابْوَابَ إِلَّا بَابَهُ، ثُمَّ اوْدَعَهُ عِلْمَهُ وَ حِکْمَتَهُ، فَقَالَ: انَا مَدِینَةُ

دروازے کے علاوہ سب کے دروازے بند کردیئے پھر انہیں علم و حکمت کا خزانہ دار بنادیا اور اعلان کیا

الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ ارَادَ الْمَدِینَةَ وَ الْحِکْمَةَ فَلْیَاتِهَا مِنْ

کہ میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے تو جو شہر میں داخل ہونا چاہے اسے دروازہ پر آنا

بَابِهَا، ثُمَّ قَالَ: انْتَ اخِي وَ وَصِیِّي وَ وَارِثِي، لَحْمُکَ مِنْ

چاہیے پھر فرمایا ہے یا علی تم میرے بھائی ، وصی اور وارث ہو۔ تمہارا گوشت میرے گوشت سے تمہارا

لَحْمِي وَ دَمُکَ مِنْ دَمِي، وَ سِلْمُکَ سِلْمِي، وَ حَرْبُکَ

خون میرے خون سے ہے تمہاری صلح میری صلح ہے اور تمہاری جنگ میری جنگ ہے۔ اور ایمان

۱۸۹

حَرْبِي، وَ الإِیمَانُ مُخَالِطٌ لَحْمَکَ وَ دَمَکَ کَمَا خَالَطَ

تمہارے گوشت اور خون میں اس طرح پیوست ہے جس طرح میرے گوشت اور خون میں ہے اور تم

لَحْمِي وَ دَمِي، وَ انْتَ غَداً عَلَی الْحَوْضِ خَلِیفَتِي، وَ انْتَ

میرے قرض کو ادا کرو گے۔ اور میرے وعدوں کو پورا کرو گے۔ اور تمہارے شیعہ نور کے منبر پر

تَقْضِي دَیْنِي، وَ تُنْجِزُ عِدَاتِي، وَ شِیعَتُکَ عَلَیٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ

ہوں گے ان کے چہرے تابناک ہوں گے وہ میرے گرد جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے۔ اور اے علی

مُبْیَضَّةً وُجُوهُهُمْ حَوْلِي فِي الْجَنَّةِ وَ هُمْ جِیرَانِي، وَلَوْ لاَ انْتَ یَا

اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین کی شفاعت بھی نہ ہوسکتی اور وہ پیغمبر کے بعد گمراہی میں

عَلِيُّ لَمْ یُعْرَفِ الْمُومِنُونَ بَعْدِي، وَ کَانَ بَعْدَهُ هُدیً مِنَ

ہدایت اور تاریکی میں نور اللہ کی مضبوط ریسمان ہدایت اور اس کا سیدھا راستہ تھے۔ ان سے کوئی آگے

الضَّلاَلِ، وَ نُوراً مِنَ الْعَمیٰ، وَ حَبْلَ اللّٰهِ الْمَتِینَ، وَ صِرَاطَهُ َ

نہیں بڑھ سکتا نہ رشتہ داری کی قرب میں اور نہ دین کے سوابق میں اور کوئی ان کو ان کے مناقب

الْمُسْتَقِیمَ، لا یُسْبَقُ بِقَرَابَةً فِي رَحِمٍ، وَ لاَ بِسَابِقَةٍ فِي دِینٍ، وَ لاَ

میں پا بھی نہیں سکتا ہے وہ ہر امر میں رسول اکرم کے نقش قدم پر تھے ان دونوں اور ان کی اولاد پر رحمت

یُلْحَقُ فِي مَنْقَبَةٍ مِنْ مَنَاقِبِهِ، یَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ صَلَّی اللّٰهُ

نازل کرے اور وہ تاویل قرآن پر اس شان سے جہاد کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت

عَلَیْهِمَا وَ آلِهِمَا، وَ یُقَاتِلُ عَلَی التَّاوِیلِ، وَ لاَ تَاخُذُهُ فِي اللّٰهِ

کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں تھی انہوں نے اس راہ میں عرب کے سرداروں کو زیر کیا ان کے

لَوْمَةُ لآئِمٍ، قَدْ وَ تَرَفِیهِ صَنَادِیدَ الْعَرَبِ، وَ قَتَلَ ابْطَالَهُمْ، وَ

بہادروں کو قتل کیا ان کے بھیڑیوں کو فنا کردیا تو ان کے دلوں میں بدر اور خیبر اور حنین وغیرہ کے کینے ذخیرہ

نَاوَشَ ذُوبَانَهُمْ، فَاوْدَعَ قُلُوبَهُمْ احْقَاداً بَدْرِیَّةً وَ خَیْبَرِیَّةً وَ

ہوگئے اور انہوں نے ان کی عداوت پر اتفاق کرلیا اور ان سے مقابلہ پر سرجوڑ کر متحد ہوگئے یہاں

۱۹۰

حُنَیْنِیَّةً وَ غَیْرَهُنَّ، فَاضَبَّتْ، عَلَیٰ عَدَاوَتِهِ، وَ اکَبَّتْ عَلَی

تک کہ بیعت توڑنے والوں، دشمنان اسلام کو مقابلہ پر لانے والوں اور دین سے نکل جانے والوں کوقتل

مُنابَذَتِهِ، حَتَّیٰ قَتَلَ النّاکِثِینَ و الْقَاسِطینَ وَ الْمَارِقِینَ، وَ لَمَّا

کردیا اور جب اپنی مدت حیات پوری کرلی اور انہیں دور آخر کے بدترین انسان نے قتل کردیا دور

قَضَیٰ نَحْبَهُ وَ قَتَلَهُ اشْقَی الآخِرِینَ یَتْبَعُ اشْقَی الْاوَّلِینَ لَمْ یُمْتَثَلْ

قدیم کے بدترین انسان کا تابع تھا تو پھر رسول اکرم کے حکم کی ہدایت کرنے والوں کے بارے میں ایک

امْرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ فِي الْهَادِینَ بَعْدَ الْهَادِینَ،

کے بعد ایک مخالفت ہوتی رہی اور امت ان کی ناراضگی پر مصر اور ان سے تعلقات قطع کرلینے اور

وَ الْامَّةُ مُصِرَّةٌ عَلَی مَقتِهِ، مُجْتَمِعَةٌ عَلَی قَطِیعَةِ رَحِمِهِ، وَ إِقْصَآءِ

ان کی اولاد کو دور کردینے پر متفق رہی علاوہ ان چند افراد کے جنہوں نے آل رسول کے بارے میں حق

وُلْدِهِ، إِلَّا الْقَلِیلَ مِمَّنْ وَفیٰ لِرِعَایَةِ الْحَقِّ فِیهِمْ، فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ،

کی رعایت کے لیے وفاداری سے کام لیا تو جو قتل کیے گئے وہ قتل کردیئے گئے اور جو گرفتار کرلیے

وَ سُبِيَ مَنْ سُبِيَ، وَ اقْصِيَ مَنْ اقْصِيَ، وَ جَرَی الْقَضَآءُ لَهُمْ بِمَا

گئے اور جو دربدر کردیئے گئے اور ان کے حق میں فیصلہ الٰہی اس طرح جاری ہوا جس میں بہترین ثواب کی

یُرْجیٰ لَهُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ، إِذْ کَانَتِ الْارْضُ لِلّٰهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَآءُ

امید کی جاتی ہے اس لیے کہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے اس کاوارث

مِنْ عِبَادِهِ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ، وَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا

قرار دیتا ہے اور آخرت صرف صاحبان تقویٰ کے لیے ہے۔ اور ہمارا پروردگار پاک و بے نیاز ہے۔ اس

لَمَفْعُولاً، وَ لَنْ یُخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَ هَُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ، فَعَلَیَ

کا وعدہ بہرحال پورا ہونے والا ہے وہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور وہ صاحب

الْاطَآئِبِ مِنْ اهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِمَا وَ

عزت اور صاحب حکمت ہے تو اب حضرت محمد و علی کے اہل بیت کے پاکیزہ کردار افراد (خدا ان دونوں

۱۹۱

آلِهِمَا فَلْیَبْکِ الْبَاکُونَ وَ إِیَّاهُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُونَ، وَ لِمِثْلِهِمْ

اور ان کی اولاد پر رحمت نازل کرے) پر رونے والوں کو رونا چاہیے اور انہیں پر ندبہ کرنے والوں

فَلْتُذْرَفِ الدُّمُوعُ، وَلْیَصْرُخِ الصَّارِخُونَ، وَ یَضِجَّ الضَآجُّونَ،

کو ندبہ کرنا چاہیے اور انہیں جیسے افراد کے مصائب پر آنسو بہانا چاہیے اور فریاد کرنے والوں کو فریاد کرنی

وَیَعِجَّ الْعَآجُّونَ، ایْنَ الْحَسَنُ ایْنَ الْحُسَیْنُ ایْنَ ابْنَآءُ الْحُسَیْنَ

چاہیے اور نالہ و شیون کرنے والوں کو نالہ و شیون اور شور گریہ بلند کرنا چاہیے۔ کہاں ہےں حسن اور

صَالِحٌ بَعْدَ صَالِحٍ، وَ صَادِقٌ بَعْدَ صَادِقٍ، ایْنَ السَّبِیلُ بَعْدَ

کہاں ہیں حسین۔ کہاںہیں اولاد حسین نیک کردار کے بعد نیک کردار صادق کے بعد صادق کہاں ہے

السَّبِیلِ ایْنَ الخِیَرَةُ بَعْدَ الْخِیَرَةِ ایْنَ الشُّمُوسُ الطَّالِعَةُ، ایْنَ

راہ ہدایت کے بعد دوسرا راہ ہدایت کہاں ہے ایک منتخب کے بعد دوسرا منتخب روزگار کہاں ہے

الْاقْمَارُ الْمُنِیرَةُ ایْنَ الْانْجُمُ الزَّاهِرَةُ اینْ اعْلاَمُ الدِّینِ وَقَوَاعِدُ

طلوع کرتے ہوئے ہوئے آفتاب کہاں ہیں چمکتے ہوئے ماہتاب کہاں ہیں روشن ستارے کہاں ہیں

الْعِلْمِ ایْنَ بَقِیَّةُ اللّٰهِ الَّتِي لاَ تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهَادِیَةِ ایْنَ الْمُعَدُّ

دین کے لہراتے ہوئے پرچم اور علم کے مستحکم ستون کہاں ہے وہ بقیة اللہ جس سے ہدایت کرنے

لِقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ، ایْنَ الْمُنْتَظَرُ لإِقَامَةِ الْامْتِ وَ الْعِوَجِ ایْنَ

والی عترت پیغمبر سے دنیا خالی نہیں ہوسکتی کہاں ہے وہ جسے سلسلہ ظلم قطع کرنے کے لیے مہیا کیا گیا کہاں

الْمُرتَجیٰ لإِزَالَةِ الْجَورِ وَ الْعُدْوَانِ ایْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ

ہے جس کا کجی اور انحراف کو درست کرنے کے لیے انتظار ہورہا ہے کہاں ہے وہ جس سے ظلم و

الْفَرَآئِضِ وَ السُّنَنِ، ایْنَ الْمُتَخَیَّرُ لإِعَادَةِ الْمِلَّةِ و الشَّرِیعَةِ ایْنَ

تعدی کو زائل کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں، کہاں ہے وہ جسے فرائض و سنن کی تجدید کے لیے ذخیرہ کیا

الْمُومَّلُ لإِحْیَآءِ الْکِتَابِ وَ حُدُودِهِ، ایْنَ مُحْیِي مَعَالِمِ الدِّینِ وَ

گیا ہے کہاں ہے وہ جسے مذاہب اور شریعت کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لیے منتخب کیا گیا کہاں

۱۹۲

اهْلِهِ ایْنَ قَاصِمُ شَوْکَةِ الْمُعْتَدیِنَ ایْنَ هَادِمُ ابْنِیَةِ الشِّرْکِ وَ

ہے وہ جس سے کتاب اور خدا اور اس کے حدود کی زندگی کی امیدیں وابستہ ہیں کہاں ہے دین اور اہل دین

النِّفَاقِ، ایْنَ مُبِیدُ اهْلَ الْفُسُوقِ وَ الْعِصْیَانِ وَ الطُّغْیَانِ ایْنَ

کے آثار کا زندہ کرنے والا کہاں ہے اہل ستم کی شوکت کی کمر توڑنے والا کہاں ہے شرک و نفاق کی

حَاصِدُ فُرُوعِ الْغَيِّ وَ الشِّقَاقِ ایْنَ طَامِسُ آثَارِ الزَّیْغِ وَ

عمارت کو منہدم کرنے والا کہاں ہے فسق اور معصیت اور سرکشی کرنے والوں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے

الْاهْوَآءِ، ایْنَ قَاطِعُ حَبَآئِلِ الْکِذْبِ وَ الْاِفْتِرَآءِ ایْنَ مُبِیدْ الْعُتَاةِ وَ

گمراہی اور اختلاف کی شاخوں کا کاٹ دینے والا کہاں ہے انحراف اور خواہشات کے آثار کو محو

الْمَرَدَةِ ایْنَ مُسْتَاصِلْ اهْلِ الْعِنَادِ وَ التَّضْلِیلِ وَ اْلإِلْحَادِ ، ایْنَ

کردینے والا کہاں ہے کذب اور افتراء پردازیوں کی رسیوں کو کاٹ دینے والا کہاں ہے سرکشوں

مُعِزُّ الْاوْلِیَآءِ وَ مُذِلُّ الْاعْدَآءِ ایْنَ جَامِعُ الْکَلِمَةِ عَلَی التَّقْوَی

اور باغیوں کو ہلاک کرنے والا کہاں ہے عناد و الحاد و گمراہی کے ذمہ داروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے

ایْنَ بَابُ اللّٰهِ الَّذِي مِنْهُ یُوتیٰ، ایْنَ وَجْهُ اللّٰهِ الَّذِي إِلَیْهِ یَتَوَجَّهُ

والا کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والا اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے تمام کلمات کو

الْاوْلِیَآءُ ایْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَیْنَ الْارْضِ وَ السَّمَآءِ ایْنَ

تقویٰ پر جمع کرنے والا کہاں ہے وہ دروازہ فضل خدا جس سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوا جاتا ہے کہاں

صَاحِبَ یَوْمِ الْفَتْحِ وَ نَاشِرُ رَایَةِ الْهُدیٰ ایْنَ مُولِّفُ شَمْلِ

ہے وہ جو اللہ جس کی طرف اس کے دوست متوجہ ہوتے ہیں کہاں ہے وہ سلسلہ جو زمین و آسمان کا

الصَّلاَحِ وَ الرِّضَا، ایْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْانْبِیَآءِ وَ ابْنَاءِ الْانبِیَآءِ

اتصال قائم کرنے والا ہے کہاں ہے وہ جو روز فتح کا مالک ہے اور پرچم ہدایت لہرانے والا ہے کہاں

ایْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِکَرْبَلاَءِ ایْنَ الْمَنصُورُ عَلَیٰ مَنِ

ہے وہ جو نیکی اور رضا کے منتشر اجزاء کو جمع کرنے والا ہے کہاں ہے انبیاء اور اولاد انبیاء کے خون

۱۹۳

اعْتَدَیٰ وَ افْتَریٰ ایْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِي یُجَابُ إِذَا دَعَا، ایْنَ صَدْرُ

ناحق کا بدلہ لینے والا کہاں ہے شہید کربلا کے خون ناحق کا مطالبہ کرنے والا کہاں ہے وہ جس کی ہر ظلم اور

الْخَلآئِقِ ذُو الْبِرِّ وَ التَّقْوَیٰ ایْنَ ابْنُ النَّبْيِّ الْمُصْطَفَیٰ، وَ ابْنُ

افتراء کرنے والے کے مقابلہ میں مدد کی جانے والی ہے کہاں ہے وہ مضطر جس کی دعا مستجاب

عَلِيٍّ الْمُرْتَضیٰ، وَابْنُ خَدِیجَةَ الْغَرَّآءِ، وَ ابْنُ فَاطِمَةَ الْکُبْریٰ،

ہونے والی ہے وہ جب بھی دعا کرے کہاں ہے ساری مخلوقات کا سربراہ صاحب صلاح و تقویٰ کہاں ہے

بِابِي انْتَ وَ امِّي وَ نَفْسِي لَکَ الْوِقَآءُ وَ الْحِمیٰ، یَابْنَ السَّادَةِ

رسول مصطفی کا فرزند اور علی مرتضیٰ کا دلبر اور خدیجہ کا نور نظر اور فاطمہ کبریٰ کا لخت جگر تجھ پر میری

الْمُقَرَّبِینَ، یَابْنَ النُّجَبَآءِ الْاکْرَمِینَ، یَابْنَ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ، یَابْنَ

ماں باپ قربان اور میرا نفس تیرے لیے سپر اور محافظ ہے اے مقرب سرداروں کے فرزند! اے مکرم اشراف

الْخِیَرَةِ الْمُهَذَّبِینَ، یَابْنَ الْغَطَارِفَةِ الْانْجَبِینَ ، یَابْنَ الْاطَائِبِ

کے فرزند! اے ہدایت یافتہ ہدایت کرنے والوں کے فرزند! اے مہذب اور پاکیزہ خصال منتخب

الْمُطَهَّرِینَ، یَابْنَ الْخَضَارِمَةِ الْمُنْتَجَبِینَ یَابْنَ الْقَمَاقِمَةِ

افراد کے فرزند! اے شریف ترین بزرگوں کے فرزند! اے پاکیزہ اور طیب حضرات کے فرزند! اے منتخب

الْاکْرَمِینَ، یَابْنَ الْبُدُورِ الْمُنِیرَةِ یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیئَةِ، یَابْنَ

روزگار سرداروں کے فرزند! اے مکرم اور محترم ہدایت کے مناروںکے فرزند! اے چمکتے ہوئے

الشُّهُبِ الثَّاقِبَةِ، یَابْنَ الْانجُمِ الزَّاهِرَةِ، یَابْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ،

ماہتابوں کے فرزند! اے روشن چراغوں کے فرزند! اے ضو دیتے ہوئے شہابوں کے فرزند! تابناک

یَابْنَ الْاعْلاَمِ اللََّآئِحَةِ، یَابْنَ الْعُلوُمِ الْکَامِلَةِِ، یَابْنَ السُّنَنِ

ستاروں کے فرزند! اے واضح راہ ہائے ہدایت کے فرزند! اے روشن پرچم ہائے دین کے فرزند!

الْمَشْهُورَةِ ، یَا بْنَ ا لْمَعَالِمِ ا لْمَاثُورَةِ ، یَابْنَ الْمُعْجِزَاتِ

اے کامل علوم کے فرزند! اے مشہور سنن کے فرزند! اے ماثور آثار دین کے فرزند! اے موجود معجزات

۱۹۴

الْمَوْجُودَةِ، یَابْنَ الدَّلآئِلِ الْمَشْهُودَةِ یَابْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ،

کے فرزند! اے واضح دلائل کے فرزند! اے صراط مستقیم کے فرزند! اے ضیاء عظیم کے فرزند! اے

یَابْنَ النَّبَإِ الْعَظِیمِ، یَابْنَ مَنْ هُوَ فِي امِّ الْکِتَابِ لَدَی اللّٰهِ عَلِيٌّ

اس کے فرزند! جو کتاب خدا میں خدا کے نزدیک علی اور حکیم ہے۔ اے آیات و بینات کے فرزند! اے

حَکِیمٌ، یَابْنَ الآیَاتِ وَ الْبَیِّنَاتِ، یَابْنَ الدَّلآئِلِ الظَّاهِرَاتِ یَابْنَ

ظاہر اور روشن دلائل کے فرزند! اے واضح اور ظاہر برہانوں کے فرزند! اے کامل دلیلوں کے فرزند! !

الْبَرَاهِینِ الْوَاضِحَاتِ الْبَاهِرَاتِ، یَابْنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَاتِ، یَابْنَ

اے وسیع ترین نعمتوں کے فرزند! اے طہٰ و محکمات کے فرزنداے یٰسین اور ذاریات کے فرزند! اے طور

النِّعَمِ السَّابِغَاتِ، یَا بْنَ طٰهٰ وَ الْمُحْکَمَاتِ، یَابْنَ یٰسٓ وَ

اور عادیات کے فرزند! اے اس کے فرزند جو قرب خدا میں اس قدر بڑھا کہ دو کمانوں کا یا اس سے کم

الذَّارِیَاتِ، یَابْنَ الطُّورِ وَ العَادِیَاتِ، یَابْنَ مَنْ دَنَا فَتَدَلَّیٰ فَکَانَ

فاصلہ رہ گیا اور وہ خدائے علی اعلیٰ سے قریب ہوتا چلا گیا اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ تیرا مستقر اور مرکز

قَابَ قَوْسَیْنِ اوْ ادْنیٰ دُنُوّاً وَ اقْتِرَاباً مِنَ الْعَلِيِّ الْاعْلَیٰ، لَیْتَ

دوری نے کہاں پایا ہے اور کس زمین نے تجھے بسا رکھا ہے مقام رضویٰ ہے یا کوئی خط ارض یا مقام طویٰ

شِعْرِي ایْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّوَیٰ بَلْ ايُّ ارْضٍ تُقِلُّکَ اوْ ثَرَیٰ

ہے میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ ساری دنیا کو دیکھوں اور تو نظر نہ آئے اور نہ تیری آواز سنوں نہ

ابِرَضْویٰ اوْ غَیْرِهَا امْ ذِي طُویٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ ارَی الْخَلْقَ وَلاَ

تیری گفتگو۔ میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ بلائیں احاطہ کیے رہیں اور تجھ تک نہ میری فریاد پہنچے اور

تُریٰ وَلاَ اسْمَعُ لَکَ حَسِیساً وَلاَ نَجْویٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ

نہ شکایت۔ میری جان قربان تو ایسا غائب ہے جو کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوا میری جان قربان تو ایسا

تُحِیطَ بِکَ دونِيَ الْبَلْوَیٰ وَلاَ یَنَالُکَ مِنّي ضَجِیجٌ وَلاَ

بعید ہے جو کبھی ہم سے دور نہیں ہوا میری جان قربان تو ہر مشتاق کی آرزو ہے وہ مومن مرد یا عورت

۱۹۵

شَکْویٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّا، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ

جس نے تجھے یاد کیا اور تجھ سے اظہارمحبت کیا۔ میری جان قربان تجھ عزت کے پاسبان پر جس کی

نَازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا، بِنَفْسِي انْتَ امْنِیَّةُ شَائِقٍ یَتَمَنَّیٰ مِنْ مُومِنٍ وَ

برابری نہیں ہوسکتی میری جان قربان تجھ بزرگی کے بنیادی حصہ پر جس کا مقابلہ ممکن نہیں میری جان

مُومِنَةٍ ذَکَرٰا فَحَنَّا، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ عَقِیدِ عِزٍّ لاَ یُسَامیٰ بِنَفْسِي

قربان تجھ نعمتوں کے قدیم ترین مرکز پر جس کی مماثلت نہیں ہوسکتی میری جان قربان تجھ شرف کے برابر

انْتَ مِنْ اثِیلِ مَجْدٍ لاَ یُجارَیٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ تِلاَدِ نِعَمٍ

کے شریک پر جس کی کوئی برابری نہیں کرسکتا میرے مولا کب تک میں آپ کے بارے میں حیران و

لاَتُضَاهیٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ نَصِیفِ شَرَفٍ لاَ یُسَاوَیٰ، إِلیٰ مَتَیٰ

سرگرداں رہوں گا اور کس انداز سے تیرے بارے میں خطاب کروں گا اور کیسے راز و نیاز کروں گا

احَارُ فِیکَ یا مَوْلاَيَ وَ إِلَیٰ مَتَیٰ وَ ایَّ خِطَابٍ اصِفُ فِیکَ وَ

میرے لیے یہ بڑی سخت بات ہے کہ سب کا جواب سنوں اور تیرا جواب نہ سنوں۔ یہ بڑی سخت

ایَّ نَجْوَیٰ عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ اجَابَ دُونَکَ وَ انَاغَیٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ

منزل ہے کہ میں گریہ کروں اور دنیا تجھے نظر انداز کردے۔ میرے لیے یہ بڑی سخت بات ہے کہ

انْ ابْکِیَکَ وَ یَخْذُلَکَ الْوَرَیٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ یَجْرِيَ عَلَیْکَ

سارے حالات و مصائب صرف تجھ ہی پر گزرتے ہیں کیا کوئی میرا مددگار ہے جس کے ساتھ مل کر

دُونَهُمْ مَا جَرَیٰ، هَلْ مِنْ مُعِینٍ فَاطِیلَ مَعَهُ الْعَوِیلَ وَ الْبُکَآءَ، هَلْ

گریہ و زاری کروں کیا کوئی فریادی ہے جس کی تنہائی میں اس کی مساعدت کروں کیا کوئی اور آنکھ ہے

مِنْ جَزُوعٍ فَاسَاعِدَ جَزَعَهُ إِذَا خَلاَ، هَلْ قَدِیَتْ عَیْنٌ فَسَاعَدَتْهَا

جس میں خس و خاشاک ہوں تو میں اس کا بے چینی میں ساتھ دے سکوں کیا فرزند رسول کوئی راستہ

عَیْنِی عَلَی الْقَذَیٰ، هَلْ إِلَیْکَ یَابْنَ احْمَدَ سَبِیلٌ فَتُلْقیٰ، هَلْ

ہے جو تیری منزل تک پہنچا سکے اور کیا ہمارا آج کا دن اپنے کل سے متصل ہوگا کہ ہم اس سے استفادہ

۱۹۶

یَتَّصِلُ یَوْمُنَا مِنْکَ بِعِدَةٍ فَنَحْظیٰ، مَتَیٰ نَرِدُ مَنَاهلکَ الرَّوِیَّةَ

کرسکیں آخر ہم کب آپ کے سیراب کرنے والے چشموں پر وارد ہوں گے اور کب آب شیرین

فَنَرْوَیٰ، مَتَیٰ نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مَائِکَ فَقدْ طَالَ الصَّدیٰ، مَتیٰ

سے سیراب ہوں گے کہ اب پیاس کا عرصہ بہت طویل ہوگیا ہے آخر کب ہماری صبح و شام آپ کی

نُغَادِیکَ وَ نُرَاوِحُکَ فَنُقِرَّ عَیْناً مَتیٰ تَرَانَا وَ نَرَاکَ وَ قَدْ

خدمت میں ہوگی کہ ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرسکیں کب آپ ہمیں اور ہم آپ کو دیکھیں گے کہ

نَشَرْتَ لِوَآءَ النَّصْرِ تُرَیٰ اتُرَانَا نَحُفٌّ بِکَ وَ انْتَ تَومُّ الْمَلَا،

آپ نصرت الٰہی کا پرچم لہرا رہے ہیں کب آپ دیکھیں گے کہ ہم آپ کے گرد حاضر ہیں اور آپ

وَ قَدْ مَلَاتَ الْارْضَ عَدْلاً، وَ اذَقْتَ اعْدَائَکَ هَوَاناً وَ عِقَاباً، وَ

قوم کی قیادت کر رہے ہوں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا ہو اور دشمنوں کو ذلت اور عذاب

ابَرْتَ الْعُتَاةَ وَ جَحَدَةَ الْحَقِّ ، وَ قَطَعْتَ دَابِرَ الْمُتَکَبِّرِینَ ، وَ

کا مزہ چکھا دیا ہو اور سرکشوں اور حق کے منکروں کو ہلاک کردیا ہو اور مغروروں کے سلسلہ کو قطع

اجْتَثَثْتَ اصُولَ الظَّالِمِینَ، وَ نَحْنُ نَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ

کردیا ہو اور ظالموں کی جڑوں کو اکھاڑ دیا ہو اور ہم کہہ رہے ہیں کہ ساری تعریف اللہ کے لیے

الْعَالَمِینَ اَللّٰهُمَّ انْتَ کَشَّافُ الْکَرْبِ وَ الْبَلْوَیٰ، وَ إِلَیْکَ

ہے جو رب العالمین ہے خدایا تو رنج و غم اور بلاؤں کو دور کرنے والا ہے اور تجھ سے فریاد کرتے

اسْتَعْدِي فَعِنْدَکَ الْعَدْوَیٰ، وَ انْتَ رَبُّ الآخِرَةِ وَ الدُّنْیَا،

ہیں کہ تیرے پاس مدد کا سارا سامان ہے اور تو آخرت اور دنیا والوں کا مالک ہے تو اسے فریاد کرنے

فَاغِثْ یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ عُبَیْدَکَ الْمُبْتَلیٰ، وَ ارِهِ سَیِّدَهُ یَا

والوں کی فریاد رسی کرنے والے اپنے مصیبت زدہ بندے کی مدد کر اور اسے مستحکم طاقت والے

شَدِیدَ الْقُوَیٰ، وَ ازِلْ عَنْهُ بِهِ الْاسَیٰ وَ الْجَوَیٰ، وَ بَرِّدْ غَلِیلَهُ یَا

اسے اس کے مولا کی زیارت کرادے اور اس کے رنج و غم اور درد و تکلیف کو زائل کردے اور اس

۱۹۷

مَنْ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ، وَ مَنْ إِلَیْهِ الرُّجْعَیٰ وَ الْمُنْتَهَیٰ اَللّٰهُمَّ

کی تشنگی کورفع کردے اے وہ خدا جو عرش کا حاکم ہے اور جس کی طرف سب کی بازگشت اور انتہا

وَ نَحْنُ عَبِیدُکَ التَّآئِقُونَ إِلَیٰ وَلِیِّکَ الْمُذَکِّرِ بِکَ وَ

ہے خدایا ہم تیرے بندے ہیں تیرے ولی کی زیارت کے مشتاق جو تجھے اور تیرے نبی کو یاد دلانے

بِنَبِیِّکَ، خَلَقْتَهُ لَنَا عِصْمَةً وَ مَلاذاً، وَ اقَمْتَهُ لَنَا قِوَاماً وَ مَعَاذاً،

والا ہے اور جس کو تو نے ہمارے لیے پناہ گاہ اور سہارا بتایا ہے اور ہمارے لیے قیام کا ذریعہ اور پناہ

وَ جَعَلْتَهُ لِلْمُومِنِینَ مِنَّا إِمَاماً، فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَ سَلاَماً وَ زِدْنَا

کا سہارا بناکر قائم کیا اور ہم صاحبان ایمان کے لیے امام بنایا تو اب ہماری طرف سے تحیت او ر

بِذٰلِکَ یَا رَبِّ إِکْرَاماً، وَ اجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنَا مُسْتَقَرّاً وَ مُقَاماً، وَ

سلام پہنچا دے اور اس طرح ہمارے اعزاز میں اضافہ فرما اور ان کے مرکز کو ہمارا مرکز اور ہماری

اتْمِمْ نِعْمَتَکَ بِتَقْدِیمِکَ إِیَّاهُ امَامَنَا حَتَّیٰ تُورِدَنَا جِنَانَکَ وَ

منزل قرار دے اور اپنی نعمت کو اس طرح مکمل کردے کہ انہیں ہمارے سامنے منظر عام پر لے آ

مُرَافَقَةَ الشُّهَدَاءِ مِنْ خُلَصَآئِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ

یہاں تک کہ ہمیں اپنی جنت میں وارد کردے اور اپنے مخلص شہیدوں کی رفاقت نصیب کر خدایا

مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ جَدِّهِ وَ رَسُولِکَ السَّیِّدِ الْاکْبَرِ وَ

محمد و آل محمد پر رحمت نازل کر اور صلوات نازل فرما حضرت محمد پر جو ان کے جد اور تیرے رسول

عَلَیٰ ابِیهِ السَّیِّدِ الْاصْغَرِ وَ جَدَّتِهِ الصِّدِّیقَةِ الْکُبْریٰ فَاطِمَةَ

سردار اکبر ہیں اور ان کے باپ پر جو سردار اصغر ہیں۔ اور ان کی جدّہ ماجدہ جو صدیقہ کبریٰ فاطمہ

بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ، وَ عَلَیٰ مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ

بنت محمد ہیں اور جن کو بھی تو نے ان کے نیک کردار آباء و اجداد میں منتخب قرار دیا ہے اور خود ان پر

آبَائِهِ الْبَرَرَةِ وَ عَلَیْهِ افْضَلَ وَ اکْمَلَ وَ اتَمَّ وَ ادْوَمَ وَ اکْثَرَ وَ

بھی بہترین مکمل تربیت تام و تمام دائم و قائم اور کثیر و وافر صلوات جو تو نے کسی منتخب مختار اور چنے

۱۹۸

اوْفَرَ،مَا صَلَّیْتَ عَلَیٰ احَدٍ مِنْ اصْفِیَائِکَ وَ خِیَرَتِکَ مِنْ

ہوئے بندے پر نازل کی ہے اور ان پر وہ رحمت نازل کر جس کے عدد کی حد نہیں ہے اور جس کی

خَلْقِکَ وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلاةً لاَ غَایَةَ لِعَدَدِهَا وَ لاَ نِهَایَةَ لِمَدَدِهَا،

مدت کی انتہا نہیں ہے اور جس کی وسعت کا خاتمہ نہیں ہے خدایا ان کے ذریعہ حق کو قائم کر اور

وَ لاَ نَفَادَ لِامَدِهَا، اَللّٰهُمَّ وَ اقِمْ بِهِ الْحَقَّ، وَ ادْحِضْ بِهِ الْبَاطِلَ، وَ

باطل کو فنا کردے۔ اپنے دوستوں کو بلندی عطا فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر اور ہمارے

ادِلْ بِهِ اوْلِیَاءَ کَ، وَ اذْلِلْ بِهِ اعْدَاءَ کَ، وَصِلِ اللّٰهُمَّ بَیْنَنَا وَ

اور ان کے درمیان رفاقت حاصل ہو اورہمیںاس طرح کا رابطہ قائم کردے کہ اس کے نتیجہ میں

بَیْنَهُ وُصْلَةً تُودِّي إِلیٰ مُرَافَقَةِ سَلَفِهِ، وَ اجْعَلْنَا مِمَّنْ یَاخُذُ

ہمیں ان کے بزرگوں کی رفاقت حاصل ہو اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کے دامن

بِحُجْزَتِهِم، وَ یَمْکُثُ فِي ظِلِّهِمْ، وَ اعِنَّا عَلَیٰ تَادِیَةِ حُقُوقِهِ إِلَیْهِ،

سے وابستہ ہوں اور ان کے سایہ میں پناہ لے سکیں۔ اور ہماری مدد کر کہ ہم ان کے حقوق کو ادا

وَ الْاِجْتِهَادِ فِي طَاعَتِهِ، وَ اجْتِنَابِ مَعْصِیَتِهِ، وَ امْنُنْ عَلَیْنَا

کرسکیں اور ان کی اطاعت کی کوشش کریں اور ان کی نافرمانی سے پرہیز کریں۔ اور ہم پر یہ

بِرِضَاهُ، وَ هَبْ لَنَا رَافَتَهُ وَ رَحْمَتَهُ وَ دُعَاءَ هُ وَ خَیْرَهُ مَا نَنَالُ بِهِ

احسان کر کہ ان کی رضا حاصل ہوجائے۔ اور ہمیں ان کی مہربانی اور رحمت اور دعا و خیر عطا فرما کہ

سَعَةً مِنْ رَحْمَتِکَ، وَ فَوْزاً عِنْدَکَ، وَ اجْعَلْ صَلاَتَنَا بِهِ

جس سے ہم تیری وسیع رحمتوں کو حاصل کرسکیںاور تیرے نزدیک کامیاب ہوسکیں اور ہماری نماز کو

مَقْبُولَةً، وَ ذُنُوبَنَا بِهِ مَغْفُورَةً، وَ دُعَاءَ نَا بِهِ مُسْتَجَاباً، وَ اجْعَلْ

ان کے ذریعہ مقبول بنادے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے اورہماری دعائیں مستجاب قرار دے

ارْزَاقَنَا بِهِ مَبْسُوطَةً، وَ هُمُومَنَا بِهِ مَکْفِیَّةً، وَ حَوَائِجَنَا بِهِ مَقْضِیَّةً،

اور ہمارے رزق میں وسعت عطا فرما اور ہمارے رنج و غم میں ہماری کفایت فرما اور ہماری

۱۹۹

وَ اقْبِلْ إِلَیْنَا بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ، وَ اقْبَلْ تَقَرُّبَنَا إِلَیْکَ، وَ انْظُرْ

حاجتوں کو پوری فرما اور ہماری طرف اپنے صاحب کرم چہرے سے توجہ فرما اور ہمارے تقرب کو

إِلَیْنَا نَظْرَةً رَحِیمَةً نَسْتَکْمِلُ بِهَا الْکَرَامَةَ عِنْدَکَ، ثُمَّ لاَ تَصْرِفْهَا

قبول فرما اور ہماری طرف ایسی نظر کرم فرما جس کے ذریعہ ہم تیری بارگاہ میں عزت کی تکمیل

عَنَّا بِجُودِکَ، وَ اسْقِنَا مِنْ حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ

کرسکیں اور اس کے بعد اپنے جود و کرم کے رخ کو ہماری طرف سے موڑنا اور ہمیں ان کے جد

بِکَاسِهِ وَ بِیَدِهِ رَیّاً رَوِیّاً هَنِیئاً سَآئِغاً لاَ ظَمَا بَعْدَهُ،

کے جام کوثر اور ان کے دست کرم سے مکمل طور پر سیراب فرما جس کے بعد پھر تشنگی نہ پیدا ہو

یَا ارْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والے!

۲۰۰