قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27512
ڈاؤنلوڈ: 1530

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27512 / ڈاؤنلوڈ: 1530
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

جواب دينے كى بجائے اس كے برخلاف جواب ديا اور اس كے لئے پروردگار سے استغفار كرنے اور اس كے ليئے بخشش كى دعا كرنے كا وعدہ كيا _

اس كے بعد يہ فرمايا كہ :''ميں تم سے (تجھ سے اوراس بت پرست قوم سے )كنارہ كشى كرتاہوں اور اسى طرح ان سے بھى كہ جنہيں تم خدا كے علاوہ پكارتے ہو، يعنى بتوں سے بھى (كنارہ كشى كرتاہوں )''اور ميں تو صرف اپنے پروردگار كو پكارتاہوں اورمجھے اميد ہے كہ ميرى دعا ميرے پروردگاركى بارگاہ ميں قبول ہوئے بغير نہيں رہے گا ''_(۱)

قرآن ايك طرف حضرت ابراہيم (ع) كے آزر كے مقابلے ميں ادب كى نشاندہى كرتاہے _كہ اس نے كہا كہ مجھ سے دور ہوجا تو ابراہيم(ع) نے بھى اسے قبول كرليا اور دوسرى طرف ان كى اپنے عقيدہ ميں قاطعيت اوريقين كوواضح كرتى ہے يعنى وہ واضح كررہے ہيں كہ ميرى تم سے يہ دورى اس بناء پر نہيں ہے كہ ميں نے اپنے توحيد اعتقاد راسخ سے دستبردارى اختيار كرلى ہے بلكہ اس بناء پر ہے كہ ميں تمہارے نظريہ كو حق تسليم كرنے كے لئے تيار نہيں ہوں ، لہذا ميں اپنے عقيد ے پر اسى طرح قائم ہوں _

ضمنى طور پر يہ كہتے ہيں كہ اگر ميں اپنے خداسے دعا كروں تو وہ ميرى دعا كو قبول كرتاہے ليكن تم بيچارے تو اپنے سے زيادہ بيچاروں كو پكارتے ہو اور تمہارى دعا ہرگز قبول نہيں ہوتى يہاں تك كہ وہ تو تمہارى باتوں كو سنتے تك نہيں _

ابراہيم (ع) نے اپنے قول كى وفا كى اور اپنے عقيدہ پر جتنا زيادہ سے زيادہ استقامت كے ساتھ رہا جاسكتا ہے، باقى رہے ،ہميشہ توحيد كى منادى كرتے رہے اگرچہ اس وقت كے تمام فاسد اور برے معاشرے نے ان كے خلاف قيام كيا ليكن وہ جناب بالآخراكيلے نہ رہے اور تمام قرون واعصارميں بہت سے پيروكار پيدا كرلئے اس طورپر كہ دنيا كے تمام خدا پرست لوگ ان كے وجود پر فخركرتے ہيں _(۲)

____________________

(۱) سورہ مريم آيت ۴۸

(۲)كيا آزر حضرت ابراہيم(ع) كا باپ تھا؟

لفظ ''اب ''عربى زبان ميں عام طور پر باپ كے لئے بولا جاتا ہے،اور جيسا كہ ہم ديكھيں گے كہ بعض اوقات چچا،نانا،مربى و معلم اور اسى طرح وہ افراد كہ جو انسان كى تربيت ميں كچھ نہ كچھ زحمت و مشقت اٹھاتے ہيں ان پر بھى بولا جاتا ہے ليكن اس ميں شك نہيں كہ جب يہ لفظ بولا جائے اور كوئي قرينہ موجود نہ ہو تو پھر معنى كے لئے پہلے باپ ہى ذہن ميں آتا ہے_

۱۰۱

اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ كيا سچ مچ قرآن كہتا ہے كہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہيم عليہ السلام كاباپ تھا، تو كيا ايك بت پرست اور بت ساز شخص ايك اولوالعزم پيغمبر كا باپ ہوسكتا ہے،اس صورت ميں كيا انسان كى نفسيات و صفات كى وراثت اس كے بيٹے ميں غير مطلوب اثرات پيدا نہيں كردے گي_

اہل سنت مفسرين كى ايك جماعت نے پہلے سوال كا مثبت جواب ديا ہے اور آزر كو حضرت ابراہيم عليہ السلام كا حقيقى باپ سمجھا ہے،جب كہ تمام مفسرين و علماء شيعہ كا عقيدہ يہ ہے كہ آزر حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا،بعض اسے آپ كا نانا اور بہت سے حضرت ابراہيم عليہ السلام كا چچا سمجھتے ہيں _

وہ قرائن جو شيعہ علماء كے نقطہ نظر كى تائيد كرتے ہيں حسب ذيل ہيں :

۱_كسى تاريخى منبع و مصدر اور كتاب ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كے والد كا نام آزر شمار نہيں كيا گيا بلكہ سب نے''تارخ''لكھا ہے_كتب عہدين ميں بھى يہى نام آيا ہے،قابل توجہ بات يہ ہے كہ جو لوگ اس بات پر اصرار كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ آزر تھا،يہاں انہوں نے ايسى توجيہات كى ہيں جو كسى طرح قابل قبول نہيں ہيں _منجملہ ان كے يہ ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے باپ كا نام تارخ اور اس كا لقب آزر تھا_حالانكہ يہ لقب بھى منابع تاريخ ميں ذكر نہيں ہوا_يا يہ كہ آزر ايك بت تھا كہ جس كى ابراہيم عليہ السلام كا باپ پوجا كرتا تھا،حالانكہ يہ احتمال قرانى آيت كے ظاہر كے ساتھ جو يہ كہتى ہے كہ آزر ان كا باپ تھا كسى طرح بھى مطابقت نہيں ركھتي،مگر يہ كہ كوئي جملہ يا لفظ مقدر مانيں جو كہ خلاف ظاہر ہو_

۲_قرآن مجيد كہتا ہے كہ مسلمان يہ حق نہيں ركھتے كہ مشركين كے لئے استغفار كريں اگر چہ وہ ان كے عزيز و قريب ہى كيوں نہ ہوں _اس كے بعد اس غرض سے كہ كوئي آزر كے بارے ميں ابراہيم عليہ السلام كے استغفار كو دستاويز قرار نہ دے اس طرح كہتا ہے:

''ابراہيم عليہ السلام كى اپنے باپ آزر كے لئے استغفار صرف اس وعدہ كى بنا پر تھى جو انہوں نے اس سے كيا تھا_(سورہ توبہ آيت۱۱۴)

چونكہ آپ نے يہ كہا تھا كہ:''يعنى ميں عنقريب تيرے لئے استغفار كروں گا_''

يہ اس اميد پر تھا كہ شايد وہ اس وعدہ كى وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستى سے باز آجائے ليكن جب اسے -->

۱۰۲

بت پرستى كى راہ ميں پختہ اور ہٹ دھرم پايا تو اس كے لئے استغفار كرنے سے دستبردار ہوگئے_

يہاں سے يہ بات اچھى طرح معلوم ہوجاتى ہے كہ ابراہيم عليہ السلام نے آزر سے مايوس ہوجانے كے بعد پھر كبھى اس كے لئے طلب مغفرت نہيں كي_اور ايسا كرنا مناسب بھى نہيں تھا_ تمام قرائن اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ يہ واقعہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جوانى كے زمانے كا ہے جب كہ آپ شہر بابل ميں رہائش پذير تھے اور بت پرستوں كے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ كررہے تھے_ ليكن قرآن كى دوسرى آيات نشاندہى كرتى ہيں كہ ابراہيم عليہ السلام نے اپنى آخرى عمر ميں خانہ كعبہ كى تعمير كے بعد اپنے باپ كے لئے طلب مغفرت كى ہے(البتہ ان آيات ميں جيسا كہ آئندہ بيان ہوگا،باپ سے''اب''كو تعبير نہيں كيا بلكہ''والد''كے ساتھ تعبير كيا ہے جو صراحت كے ساتھ باپ كے مفہوم كو ادا كرتا ہے)_

جيسا كہ قرآن ميں ہے:

''حمدوثنا اس خدا كے لئے ہے كہ جس نے مجھے بڑھاپے ميں اسماعيل اور اسحاق عطا كيے ،ميرا پروردگار دعائوں كا قبول كرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے ،ميرے ماں باپ اور مومنين كو قيامت كے دن بخش دے ''_(سورہ ابراہيم آيت۳۹و۴۱

سورہ ابراہيم كى اس آيت كو سورہ توبہ كى آيت كے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں كو مشركين كےلئے استغفار كرنے سے منع كرتى ہے اور ابراہيم كو بھى ايسے كام سے سوائے ايك مدت محدود كے وہ بھى صرف ايك مقدس مقصدوہدف كے لئے روكتى ہے، اچھى طرح معلوم ہوجاتاہے كہ زيربحث قرآنى آيت ميں ''اب''سے مراد باپ نہيں ہے بلكہ چچايانانا يا كوئي اور اسى قسم كارشتہ ہے دوسرے لفظوں ميں '' والد'' باپ كے معنى ميں صريح ہے جب كہ'' اب'' ميں صراحت نہيں پائي جاتى _ قرآن كى آيات ميں لفظ'' اب'' ايك مقام پرچچا كے لئے بھى استعمال ہوا ہے مثلا سورہ بقرہ آيت۱۳۳:

يعقوب (ع) كے بيٹوں نے اس سے كہا ہم تيرے خدا اور تيرے آباء ابراہيم واسماعيل واسحاق كے خدائے يكتا كى پرستش كرتے ہيں _ ہم يہ بات اچھى طرح سے جانتے ہيں كہ اسماعيل (ع) يعقوب (ع) كے چچا تھے باپ نہيں تھے _

۳_مختلف اسلامى روايات سے بھى يہ بات معلوم ہوتى ہے ،پيغمبر اكرم (ص) كى ايك مشہور حديث ميں آنحضرت(ص) سے منقول ہے:

''خداوند تعالى مجھے ہميشہ پاك آبائو اجداد كے صلب سے پاك مائوں كے رحم ميں منتقل كرتارہا اور اس نے

۱۰۳

اسمانوں ميں توحيد كے دلائل

اس سر زنش اور ملامت كے بعد جو ابراہيم عليہ السلام بتوں كى كرتے تھے ،اور اس دعوت كے بعد جو اپ نے ازر كو بت پرستى كو ترك كرنے كے لئے كى تھى يہاں خدا ابراہيم عليہ السلام كے بت پرستوں كے مختلف گروہوں كے ساتھ منطقى مقابلوں كى طرف اشارہ كرتے ہوئے ان كے واضح عقلى استدلالات كے مجھے كبھى زمانہ جاہليت كى آلود گيوں اور گندگيوں ميں آلودہ نہيں كيا ''_

اس ميں شك نہيں ہے كہ زمانہ جاہليت كى واضح ترين آلودگى شرك وبت پرستى ہے اور جنہوں نے اسے آلودگى كوزنا ميں منحصر سمجھا ہے ان كے پاس اپنے قول پر كوئي دليل موجود نہيں ہے خصوصا جبكہ قرآن كہتا ہے: ''مشركين گندگى ميں آلودہ اور ناپاك ہيں ''_(سورہ توبہ ايت ۲۸)

طبرى جوعلماے اہل سنت ميں سے ہے اپنى تفسير جامع البيان ميں مشہور مجاہد سے نقل كرتا ہے _وہ صراحت كے ساتھ يہ كہتا ہے كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا_

اہل سنت كا ايك دوسرا مفسر الوسى اپنى تفسير روح المعانى ميں مندرجہ ذيل قرآنى گفتگو ميں كہتا ہے كہ جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ يہ عقيدہ كہ ازر، ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا شيعوں سے مخصوص ہے ان كى كم اطلاعى كى وجہ سے ہے كيونكہ بہت سے علماء (اہل سنت) بھى اسى بات كا عقيدہ ركھتے ہيں كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا چچا تھا_

''سيوطي''مشہور سنى عالم كتاب ''مسالك الحنفاء'' ميں فخر الدين رازى كى كتاب ''اسرارالتنزيل''سے نقل كرتا ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كے ماں باپ اور اجداد كبھى بھى مشرك نہيں تھے اور اس حديث سے جو ہم اوپر پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كر چكے ہيں استدلال كيا ہے ،اس كے بعد سيوطى خود اضافہ كرتے ہوئے كہتا ہے : ہم اس حقيقت كو دوطرح كى اسلامى روايات سے ثابت كر سكتے ہيں : پہلى قسم كى روايات تو وہ ہيں كہ جو يہ كہتى ہيں كہ پيغمبر كے اباء واجداد حضرت ادم عليہ السلام تك ہر ايك اپنے زمانہ كا بہترين فرد تھا (ان احاديث كو''صحيح بخاري''اور ''دلائل النبوة''سے بيہقى وغيرہ نے نقل كيا ہے)_ اور دوسرى قسم كى روايات وہ ہيں جو يہ كہتى ہيں كہ ہر زمانے ميں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہيں ،ان دونوں قسم كى روايت كو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے كہ اجداد پيغمبر (ص) كہ جن ميں سے ايك ابراہيم (ع) كے باپ بھى ہيں يقناً موحد تھے.

۱۰۴

طريق سے اصل توحيد كو ثابت كر نے كى كيفيت بيان كرتا ہے _

قرآن پہلے كہتا ہے :''جس طرح ہم نے ابراہيم عليہ السلام كو بت پرستى كے نقصانات سے اگاہ كيا اسى طرح ہم نے اس كے لئے تمام اسمانوں اور زمين پر پرودگار كى مالكيت مطلقہ اور تسلط كى نشاندہى كي''_(۱)

اس ميں شك نہيں ہے كہ ابراہيم عليہ السلام خدا كى يگانگيت كا استدلال و فطرى يقين ركھتے تھے،ليكن اسرار آفرينش كے مطالعہ سے يہ يقين درجہ كمال كو پہنچ گيا ،جيسا كہ وہ قيامت اور معاد كا يقين ركھتے تھے ،ليكن سربريدہ پرندوں كے زندہ كرنے كے مشاہدہ سے ان كاايمان''عين اليقين''كے مرحلہ كو پہنچ گيا _

اس كے بعد ميں اس موضوع كو تفصيلى طور پر بيان كيا ہے جو ستاروں اور افتاب كے طلوع و غروب سے ابراہيم عليہ السلام كے استدلال كو ان كے خدا نہ ہونے پر واضح كرتا ہے _

پہلے ارشاد ہوتا ہے:''جب رات كے تاريك پردے نے سارے عالم كو چھپا ليا تو ان كى آنكھوں كے سامنے ايك ستارہ ظاہر ہوا ،ابراہيم عليہ السلام نے پكا ر كر كہا كہ كيا يہ ميرا خدا ہے ؟ليكن جب وہ غروب ہو گيا تو انھوں نے پورے يقين كے ساتھ كہا كہ ميں ہرگز ہرگز غروب ہوجانے والوں كو پسند نہيں كرتا اور انھيں عبوديت و ربوبيت كے لائق نہيں سمجھتا''_(۲)

انھوں نے دوبارہ اپنى انكھيں صفحہ اسمان پر گاڑديں ،اس دفعہ چاند كى چاندى جيسى ٹكيہ وسيع اور دل پذير روشنى كے ساتھ صفحہ اسمان پر ظاہر ہوئي،جب چاند كو ديكھا تو ابراہيم عليہ السلام نے پكار كر كہا كہ كيا يہ ہے ميرا پروردگار ؟ليكن اخر كار چاند كا انجام بھى اس ستارے جيسا ہى ہوااور اس نے بھى اپنا چہرہ پر دہ افق ميں چھپا ليا ،تو حقيقت كے متلاشى ابراہيم عليہ السلام نے كہا كہ اگر ميرا پروردگار مجھے اپنى طرف رہنمائي نہ كرے تو ميں گمراہوں كى صف ميں جا كھڑا ہو ں گا_(:)

اس وقت رات اخر كو پہنچ چكى تھى اور اپنے تاريك پردوں كو سميٹ كر اسمان كے منظر سے بھاگ رہى تھى ،افتاب نے افق مشرق سے سر نكالا اور اپنى زيبا اور لطيف نور كو زر بفت كے ايك ٹكڑے كى طرح دشت و

____________________

(۱)سورہ انعام ايت ۷۶

(۲)سورہ انعام ايت ۷۶

(۳)سورہ انعام ايت ۷۷

۱۰۵

كوہ و بيابان پر پھيلا ديا،جس وقت ابراہيم عليہ السلام كى حقيقت بين نظر اس كے خيرہ كرنے والے نور پر پڑى تو پكار كر كہا :كيا ميرا خدا يہ ہے ؟جو سب سے بڑا ہے اور سب سے زيادہ روشن ہے ،ليكن سورج كے غروب ہوجانے اور افتاب كى ٹكيہ كے ہيولائے شب كے منہ ميں چلے جانے سے ابراہيم عليہ السلام نے اپنى اخرى بات ادا كى ،اور كہا:''اے گروہ(قوم)ميں ان تمام بناوٹى معبودوں سے جنھيں تم نے خدا كا شريك قرار دے ليا ہے برى و بيزار ہوں ''_(۱)

اب جبكہ ميں نے يہ سمجھ ليا ہے كہ اس متغير و محدود اور قوانين طبيعت كے چنگل ميں اسير مخلوقات كے ماوراء ايك ايسا خدا ہے كہ جو اس سارے نظام كائنات پر قادر و حاكم ہے،'' تو ميں تو اپنا رخ ايسى ذات كى طرف كرتا ہوں كہ جس نے آسمانوں اور زمين كو پيدا كيا ہے اور اس عقيدے ميں كم سے كم شرك كو بھى راہ نہيں ديتا،ميں تو موحد خالص ہوں اور مشركين ميں سے نہيں ہوں ''_(۲)(۳)

____________________

(۱)سورہ انعام ايت ۷۸

(۲)سورہ انعام آيت۷۹

(۳)جناب ابراہيم عليہ السلام جيسے موحد و يكتا پرست نے كس طرح اسمان كے ستارے كى طرف اشارہ كيا اور يہ كہا كہ يہ ميرا خدا ہے مفسرين نے بہت بحث كى ہے ،ان تمام تفاسير ميں سے دو تفسير يں زيادہ قابل ملاحظہ ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك كو بعض بزرگ مفسرين نے اختيا ر كيا ہے ہم ان ميں سے ايك كو بيا ن كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات ستارہ پرستوں اور سور ج پرست لوگوں سے گفتگو كرتے ہوئے كى اور احتمال يہ ہے كہ بابل ميں بت پرستوں كے ساتھ سخت قسم كے مقابلے اور مبارزات كرنے اور اس زمين سے شام كى طرف نكلنے كے بعد جب ان اقوام سے ان كا سامنا ہوا تو اس وقت يہ گفتگو كى تھى ،حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں نادان قوموں كى ہٹ دھرمى كو ان كى غلط راہ ورسم ميں ازما چكے تھے لہذا اس بنا پر كہ افتاب و ماہتاب كے پجاريوں اور ستارہ پرستوں كو اپنى طرف متوجہ كريں ،پہلے ان كے ہم صدا ہو گئے اور ستارہ پرستوں سے كہنے لگے كہ تم يہ كہتے ہو كہ يہ زہرہ ستارہ ميرا پروردگار ہے ،بہت اچھا چلو اسے ديكھتے ہيں يہاں تك كہ اس عقيدے كا انجام تمہارے سامنے پيش كروں ،تھوڑى ہى دير گزرى تھى كہ اس ستارے كا چمكدار چہرہ افق كے تاريك پردے كے پيچھے چھپ گيا،يہ وہ مقام تھا كہ ابراہيم عليہ السلام كے ہاتھ ميں ايك محكم ہتھيار اگيا اور وہ كہنے لگے ميں تو كبھى ايسے معبود كو قبول نہيں كر سكتا ،اس بنا پر''ھذاربي'' كا مفہوم يہ ہے كہ تمہارے عقيدے كے مطابق يہ ميرا خدا ہے ،يا يہ كہ اپ نے بطور استفہام فرمايا: ''كيا يہ ميرا خدا ہے ''؟

۱۰۶

ستارہ سے كون سا ستارہ مراد ہے ؟

اس بارے ميں مفسرين كے درميان اختلاف ہے ليكن زيادہ تر مفسرين نے زہرہ يا مشترى كا ذكر كيا ہے اور كچھ تواريخ سے معلوم ہوتا ہے كہ قديم زمانوں ميں ان دونوں ستاروں كى پرستش كى جايا كرتى تھى اورخداو ں كے حصہ شمار ہوتے تھے ليكن اس حديث ميں جو امام على بن موسى رضا عليہ السلام سے عيون الااخبار ميں نقل ہوئي ہے يہ تصريح ہوئي ہے كہ يہ زہرہ ستارہ تھا ،تفسير على بن ابراہيم ميں بھى امام جعفر صادق عليہ السلام سے يہى بات مروى ہے _

توحيد كى دعوت

قرآن دعوت حضرت ابراہيم عليہ السلام كو اس طرح بيان كرتاہے :''ہم نے ابراہيم (ع) كو بھيجا;اور جب اس نے اپنى قوم سے كہا كہ :خدائے واحد كى پرستش كرو اوراس كے لئے تقوى اختيار كروكيونكہ اگر تم جان لو تو يہ تمہارے لئے بہترہے ''_(۱)

اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) دلائل بت پرستى كا باطل ہونا ثابت كرتے ہيں آپ نے اس دعوى كو مختلف دلائل سے ثابت كيا ہے اور ان مشركين كے معتقدات اور روش حيات كو نا درست ثابت كيا ہے _

پہلى بات انھوں ں نے يہ فرمائي كہ :''تم خدا سے منحرف ہوكے بتوں كى عبادت كرتے ہو'' _(۲)

حالانكہ يہ بت بے روح مجسمے ہيں نہ يہ صاحب ارادہ ہيں نہ صاحب عقل اور نہ صاحب شعور وہ ان تمام اوصاف سے محروم ہيں ان كى ہيت ہى بت پرستى كے عقيدے كوباطل ثابت كرنے كے لئے كافى ہے _

اس كے بعد حضرت ابراہيم(ع) اور آگے بڑھتے ہيں اور فرماتے ہيں كہ :'' صرف ان بتوں كى وضع ہى يہ ثابت نہيں كرتى كہ يہ معبود نہيں ہيں ''بلكہ تم بھى جانتے ہو كہ ''تم جھوٹى باتيں كرتے ہو اور ان بتوں كو معبود كہتے ہو '' _(۳)

تمہارے پاس اس جھوٹ كو ثابت كرنے كى بجز چند اوہام وخرافات كے اور كيا دليل ہے _

____________________

(۱)سورہ عنكبوت آيت ۱۶

(۲)سورہ عنكبوت آيت ۱۷

(۳)سورہ عنكبوت آيت ۱۷

۱۰۷

اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) تيسرى دليل ديتے ہيں : اگر تم ان بتوں كو مادى منفعت كے لئے پوجتے ہو يا دوسرے جہان ميں فائدے كے لئے، دونوں صورتوں ميں تمہارا يہ خيال باطل ہے ''كيونكہ تم خدا كے علاوہ جن كى پرستش كرتے ہو وہ تمہيں رزق اور روزى نہيں دے سكتے ''_(۱)

تم خود اقرار كرتے ہو كہ يہ بت خالق نہيں ہيں بلكہ خالق حقيقى خدا ہے اس بناء پرروزى دينے والا بھى وہى ہے ''لہذا تم روزى خدا سے طلب كرو''_(۲)

اور چونكہ روزى دينے والاو ہى ہے '' لہذا اسى كى عبادت كرو اور اس كا شكربجالائو''_(۳)

اس مفہوم كا ايك پہلو يہ بھى ہے منعم حقيقى كے حضور ميں ''حس شگر گزاراى '' سے بھى عبادت كى تحريك ہوتى ہے _ تم جانتے ہو كہ منعم حقيقى خدا ہى ہے پس شكر اورعبادت بھى اسى كى ذات كے لئے مخصوص ہے _

''نيز اگر تم آخرت كى زندگى كے خواستگار ہو تو سمجھ لو كہ ہم سب كى باز گشت اسى طرف ہے ''نہ كہ بتوں كى طرف ''_(۴) اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) تہديد كے طور پر ان مشركين كى سركشى سے بے اعتنائي كا اظہار كرتے ہوئے فرماتے ہيں :'' اگر تم ميرے پيام كى تكذيب كرتے ہو تويہ كوئي نئي بات نہيں ہے،تم سے پہلے جو امتيں گزر چكى ہيں انھوں نے بھى اس طرح اپنے پيغمبروں كى تكذيب كى ہے اور آخركار ان كا انجام بڑا دردناك ہوا''_(۵)

''رسول اور فرستادئہ خدا كا فرض واضح ابلاغ كے علاوہ اور كچھ نہيں ''_(۶)

خواہ لوگ اسے قبول كريں يا نہ كريں _

____________________

(۱) سورہ عنكبوت آيت۱۷

(۲) سورہ عنكبوت آيت ۱۷

(۳)سورہ عنكبوت آيت۱۷

(۴)سورہ عنكبوت آيت۱۷

(۵) سورہ عنكبوت آيت۱۷

(۶)سورہ عنكبوت آيت ۱۸

۱۰۸

ہمارے بڑے بھى بتوں كى پوجا كرتے تھے ابراہيم عليہ السلام كے جواب ميں انھوں نے كہا : ''ہم بتوں كى عبادت كرتے ہيں اور سارادن ان پر توجہ ركھتے ہيں اور نہايت ہى ادب اور احترام كے ساتھ ان كى عبادت ميں لگے رہتے ہيں ''_(۱)

اس تعبير سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ نہ فقط اپنے اس عمل پر شرمندہ نہيں تھے بلكہ اس پر فخرو مباہات بھى كيا كرتے تھے كيونكہ (''ہم بتوں كى عبادت وپرستش كرتے ہيں '' )كا جملہ ان كے مقصود اور مدعا كے بيان كے لئے كافى تھا،ساتھ ہى انھوں نے يہ بھى كہا''ہم سارا سارادن ان كے آستان پر جبہ سائي كرتے رہتے ہيں ''_

بہرحال ابراہيم (ع) عليہ السلام نے ان كى يہ باتيں سن كران پر اعتراضات كى بوچھاركردى اور دوزبردست منطقى اور معتدل جملوں كے ذريعہ انھيں ايسى جگہ لاكھڑا كيا جہاں '' نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن ''كے مصداق ان سے كوئي جواب نہيں بن پڑتا تھا آپ نے ان سے فرمايا :''جب تم ان كو پكارتے ہوتو كيا وہ تمہارى فرياد سنتے بھى ہيں ؟''،''ياكيا وہ تمہيں كوئي نفع يانقصان پہنچاسكتے ہيں ''(۲)

ليكن متعصب لوگ بجائے اس كے كہ اس منطقى سوال كا كوئي ٹھوس جواب ديتے وہى پرانا اور بار بار كا دہرايا ہوا جواب پيش كرتے ہيں :''انھوں نے كہا ايسى كوئي بات نہيں سب سے اہم بات يہ ہے كہ ہم نے اپنے بزرگوں كو ايساكرتے ديكھا ہے ''(۳)

ان كا يہ جواب اپنے جاہل اور نادان بزرگوں كى اندھى تقليد كو بيان كررہا ہے وہ جوجواب ابراہيم(ع) كو دے سكتے تھے يہى تھا اور بس يہ ايسا جواب جس كے بطلان كى دليل خود اسى ميں موجود ہے اور كوئي بھى عقل مند انسان اپنے آپ كو اس بات كى اجازت نہيں دے سكتا كہ وہ آنكھيں بند كركے دوسروں كے پيچھے لگ جائے، خاص كر جبكہ آنے والے لوگوں كے تجربے گزشتہ لوگوں سے كہيں زيادہ ہوتے ہيں اور ان كى اندھى تقليد كا نہ تو كوئي جوازرہتا ہے اور نہ ہى كوئي دليل _

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۷۱

(۲) سورہ شعراء آيات ۷۲۰۷۳

(۳) سورہ شعراء آيت ۷۴

۱۰۹

ابراہيم عليہ السلام كى بت شكنى كا زبردست منظر

يہاں پر پہلے حضرت ابراہيم (ع) كى بت شكنى كے واقعہ اور ان سے بت پرستوں كى شديد مڈھ بھيڑكے بارے ميں گفتگوكى گئي ہے _(۱)

حضرت ابراہيم عليہ السلام نے اس بات كو ثابت كرنے كے لئے كہ يہ بات سوفى صد صحيح اور محكم ہے اور وہ اس عقيدہ پر ہر مقام تك قائم ہيں اور اس كے نتائج و لوازم كو جو كچھ بھى ہوں انھيں جان و دل سے قبول كرنے كے لئے تيار ہيں ، مزيد كہتے ہيں : مجھے خدا كى قسم جس وقت تم يہاں پر موجود نہيں ہوں گے اور يہاں سے كہيں باہر جائوگے تو ميں تمہارے بتوں كو نابود كرنے كا منصوبہ بنائوں گا''_(۲)

ان كى مراد يہ تھى كہ انھيں صراحت كے ساتھ سمجھاديں كہ آخر كار ميں اسى موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھيں نابود اور درہم و برہم كردوں گا_

ليكن شايد ان كى نظر ميں بتوں كى عظمت اور رعب اس قدر تھا كہ انھوں نے اس كو كوئي سنجيدہ بات نہ سمجھا او ركوئي ردّ عمل ظاہر نہ كيا شايد انھوں نے يہ سوچا كہ كيا يہ ممكن ہے كہ كوئي شخص كسى قوم و ملّت كے مقدسات كے ساتھ ايسا كھيل كھيلے ، جبكہ ان كى حكومت بھى سو فى صد ان كى حامى ہے وہ كس طاقت كے بل بوتے پر ايسا كام كرے گا_

____________________

(۱)قرآن مجيد ميں واقعہ ابراہيم كو قصہ كے ساتھ اس طرح سے منسلك كيا گيا ہے :'' اور ابراہيم ،نوح كے پيروكاروں ميں سے تھے_''( سورہ صافات ايت ۸۳)

وہ اسى راہ توحيد وعدل اورراسى راہ تقوى واخلاص پر گا مزن تھا جو نوح كى سنت تھي،كيونكہ انبياء سارے كے سارے ايك ہى مكتب كے مبلغ اور ايك ہى يونيورسٹى كے استاد ہيں اور ان ميں سے ہر ايك دوسرے كے پروگرام كو دوام بخشتا ، اسے آگے بڑھاتا اور اس كى تكميل كرتاہے ، كيسى عمدہ تعبير ہے كہ ابراہيم، (ع) نوح كے شيعوں ميں سے تھے حالانكہ ان دونوں كے زمانے ميں بہت فاصلہ تھا (بعض مفسرين كے قول كے مطابق تقريباً۲۶۰۰/ سال فاصلہ تھا، ليكن ہم جانتے ہيں كہ مكتبى رشتے ميں زمانے كى كوئي حيثيت نہيں ہے

(۲) سورہ انبياء آيت ۵۷

۱۱۰

اس سے يہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ يہ جو بعض نے كہا كہ حضرت ابراہيم(ع) نے يہ جملہ اپنے دل ميں كہا تھا يا بعض مخصوص افراد سے كہا تھا كسى لحاظ سے اس كى ضرورت نہيں ہے، خاص طور پر جبكہ يہ بات كامل طور سے قرآن كريم كے خلاف ہے_

اس كے علاوہ قرآن مجيد ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ بت پرستوں كو ابراہيم كى يہ بات ياد آگئي اور انھوں نے كہا كہ ہم نے سنا ہے كہ ايك جوان بتوں كے خلاف ايك سازش كى بات كرتا ہے_

بہر حال حضرت ابراہيم نے ايك دن جبكہ بُت خانہ خالى پڑا تھا، اور بُت پرستوں ميں سے كوئي وہاں موجود نہيں تھا، اپنے منصوبہ كو عملى شكل دےدي_

بابل كے بت پرست ہر سال ايك مخصوص عيد كے دن كچھ رسومات ادا كيا كرتے تھے بت خانہ ميں كھانے تيار كرتے ہيں اور وہيں انھيں دسترخوان پر چن ديتے تھے اس خيال سے كہ يہ كھانے متبرك ہوجائيں گے _اس كے بعد سب كے سب مل كر اكٹھے شہرسے باہر چلے جاتے تھے اور دن كے آخرميں واپس لوٹتے تھے اور عبادت كرنے اور كھانا كھانے كے لئے بت خانہ ميں آجاتے تھے _ ايك روز اسى طرح جب شہر خالى ہوگيا اور بتوں كو توڑنے اور انھيں درہم برہم كرنے كے لئے ايك اچھا موقع حضرت ابراہيم (ع) كے ہاتھ آگيا _يہ ايسا موقع تھا جس كا ابراہيم عرصے سے انتظار كررہے تھے اور وہ نہيں چاہتے تھے كہ موقع ہاتھ سے نكل جائے _

لہذا جب انھوں نے ابراہيم (ع) كو جشن ميں شركت كى دعوت دى تو '' اس نے ستاروں پر ايك نظر ڈالى ''اور كہا ميں تو بيمارہوں '' _(۱) اور اس طرح سے اپنى طرف سے عذرخواہى كي_

''انھوں نے رخ پھيرا اور جلدى سے اس سے دورہوگئے ''_(۲)

اور اپنے رسم ورواج كى طرف روانہ ہوگئے _(۳)

____________________

(۱) سورہ صافات ۸۸_۸۹

(۲)سورہ صافات آيت۹۰

(۳)يہاں دوسوال پيدا ہوتے ہيں :

پہلايہ كہ حضرت ابراہيم (ع) نے ستاروں كى طرف كيوں ديكھا ،اس ديكھنے سے ان كا مقصد كيا تھا ؟ -

۱۱۱

دوسرايہ كہ كيا واقعا وہ بيمار تھے كہ انھوں نے كہا ميں بيمارہوں ؟انھيں كيا بيمارى تھى ؟

پہلے سوال كا جواب بابل كے لوگوں كے اعتقادات اوررسوم وعادات كو ديكھتے ہوئے واضح وروشن ہے وہ علم بخوم ميں بہت ماہر تھے _يہاں تك كہ كہتے ہيں كہ ان كے بت بھى ستاروں كے ہيكلوں اور شكلوں ميں تھے اور اسى بناپر ان كا احترام كرتے تھے كہ وہ ستاروں كے سمبل تھے _

البتہ علم بخوم ميں مہارت كے ساتھ ساتھ بہت سى خرافات بھى ان كے يہاں پائي جاتى تھيں منجملہ يہ كہ وہ ستاروں كو اپنى تقدير ميں موثر جاتے تھے اور ان سے خيروبركت طلب كرتے تھے اور ان كى وضع وكيفيت سے آنے والے واقعات پر استدلال كرتے تھے ، ابراہيم نے اس غرض سے كہ انھيں مطمئن كرديں ، ان كى رسوم كے مطابق آسمان كے ستاروں پر ايك نظر ڈالى تاكہ وہ يہ تصور كريں كہ انھوں نے اپنى بيمارى كى پيشن گوئي ستاروں كے اوضاع كے مطالعے سے كى ہے اور وہ مطمئن ہوجائيں _

بعض بزرگ مفسرين نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ وہ چاہتے تھے كہ ستاروں كى حركت سے اپنى بيمارى كا وقت ٹھيك طورسے معلوم كرليں كيونكہ ايك قسم كى بيمارى انھيں تھى وہ يہ كہ بخار انھيں ايك خاص وقفہ كے ساتھ آتا تھا ليكن بابل كے لوگوں كے افكارونظريات كى طرف توجہ كرتے ہوئے پہلااحتمال زيادہ مناسب ہے _

بعض نے يہ احتمال بھى ذكركيا ہے كہ ان كا آسمان كى طرف ديكھنا درحقيقت اسرار آفرينش ميں مطالعہ كے لئے تھا اگر چہ وہ آپ كى نگاہ كو ايك منجم كى نگاہ سمجھ رہے تھے جو يہ چاہتا ہے كہ ستاروں كے اوضاع سے آئندہ كے واقعات كى پيش بينى كر ے_

دوسرے سوال كے مفسرين نے متعدد جواب ديئے ہيں ، منجملہ ان كے يہ ہے كہ وہ واقعا ًبيمار تھے ،اگرچہ وہ صحيح وسالم بھى ہوتے تب بھى جشن كے پروگرام ميں ہرگز شركت نہ كرتے ، ليكن ان كى بيمارى ان مراسم ميں شركت نہ كرنے اور بتوں كو توڑنے كے لئے ايك سنہرى موقع اور اچھا بہانہ بھى تھا، اور اس بات پر كوئي دليل نہيں ہے كہ ہم يہ كہيں كہ انھوں نے يہاں ''توريہ''كيا تھا ، كيونكہ انبياء كے لئے '' توريہ ''كرنا مناسب نہيں ہے

۱۱۲

تم يہ بہترين اور شيرين غذا كيوں نہيں كھاتے

حضرت ابراہيم (ع) اكيلے شہرميں رہ گئے اوربت پرست شہرخالى كركے باہر چلے گئے حضرت ابراہيم نے اپنے ادھر ادھر ديكھا، شوق كى بجلى ان كى آنكھوں ميں چمكى ،وہ لمحات جن كا وہ ايك مدت سے انتظار كررہے تھے آن پہنچے ،انھوں نے اپنے آپ سے كہا، بتوں سے جنگ كے لئے اٹھ كھڑاہو اور ان كے پيكروں پر سخت ضرب لگا ايسى ضرب جو بت پرستوں كے سوئے دماغوں كو ہلاكر ركھ دے اور انھيں بيداركردے _

۱۱۳

قرآن كہتاہے :''وہ ان كے خدائوں كے پاس آيا ،ايك نگاہ ان پر اور كھانے كے ان برتنوں پر جوان كے اطراف ميں موجودتھے ، ڈالى اور تمسخر كے طور پر كہا : تم يہ كھانے كھاتے كيوں نہيں '' ؟(۱)

يہ كھانے تو تمہارى عبادت كرنے والوں نے فراہم كيے ہيں _مرغن وشيرين ، طرح طرح كى رنگين غذائيں ہيں ، كھاتے كيوں نہيں ہو؟

اس كے بعد مزيد كہتا ہے :'' تمہيں كيا ہوگيا ہے ؟ تم بات كيوں نہيں كرتے ؟ تم گونگے كيوں بن گئے ہو ؟تمہارامنہ كيوں بندہے_''(۲)

اس طرح كے تمام بيہودہ اور گمراہ عقائد كامذاق اڑايا بلاشك وہ اچھى طرح جانتے تھے كہ وہ نہ كھانا كھاتے ہيں اور نہ ہى بات كرتے ہيں اور بے جان موجودات سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتے ،ليكن حقيقت ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى بت شكنى كے اقدام كى دليل اس عمدہ اور خوبصورت طريقہ سے پيش كريں _

پھر انھوں نے اپنى آستين چڑھالي، كلہاڑا ہاتھ ميں اٹھايا اور پورى طاقت كے ساتھ اسے گھمايا اور بھر پور ''توجہ كے ساتھ ايك زبردست ضرب ان كے پيكر پر لگائي ''_(۳)

بہرحال تھوڑى سى دير ميں وہ آباداور خوبصورت بت خانہ ايك وحشت ناك ويرانہ ہوگيا _تمام بت ٹوٹ پھوٹ گئے ہر ايك ہاتھ پائوں تڑوائے ہوئے ايك كونے ميں پڑاتھا اور سچ مچ بت پرستوں كے لئے ايك دلخراش ، افسوسناك اور غم انگيز منظر تھا _ ابراہيم اپنا كام كرچكے اور پورے اطمينان وسكون كے ساتھ بتكدہ سے باہر آئے اور اپنے گھر چلے گئے اب وہ اپنے آپ كو آئندہ كے حوادث كے لئے تيار كررہے تھے _

وہ جانتے تھے كہ انھوں نے شہرميں بلكہ پورے ملك بابل ميں ايك بہت بڑادھماكہ كيا ہے جس كى صدابعد ميں بلند ہوگى _غصہ اور غضب كا ايك ايسا طوفان اٹھے گا اور وہ اس طوفان ميں اكيلے ہوں گے _ليكن ان كا خدا موجود ہے اور وہى ان كے لئے كافى ہے _

____________________

(۱)سورہ صافات آيت۹۱

(۲)سورہ صافات آيت۹۲

(۳) سورہ صافات آيت ۹۳

۱۱۴

جناب ابراہيم (ع) نمروديوں كى عدالت ميں

آخر وہ عيد كا دن ختم ہوگيا اور بت پرست خوشى مناتے ہوئے شہر كى طرف پلٹے اور سب بت خانے كى طرف گئے تاكہ بتوں سے اظہار عقيدت بھى كريں اور وہ كھانا بھى كھائيں كہ جو ان كے گمان كے مطابق بتوں كے پاس ركھے رہنے سے بابركت ہوگيا تھا جو نہى وہ بت خانے كے اندر پہنچے تو ايك ايسا منظر ديكھا كہ ان كہ ہوش اڑگئے آبادبت خانہ كے بجائے بتوں كا ايك ڈھيرتھا ان كے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ ايك دوسرے پر گرے ہوئے تھے _'' وہ تو چيخنے چلانے لگے :''يہ بلا اور مصيبت ہمارے خدائوں كے سر پر كون لايا ہے ''؟ ''يقينا جو كوئي بھى تھا ، ظالموں ميں سے تھا ''_(۱)

اس نے ہمارے خدائوں پر بھى ظلم كيا ہے ، ہمارى قوم اور معاشرے پر بھى ،اور خود اپنے اوپر بھى كيونكہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ كو ہلاكت ميں ڈال ديا ہے _

ليكن وہ لوگ جو بتوں كے بارے ميں ابراہيم كى دھمكيوں سے آگاہ تھے اور ان جعلى خدائوں كے بارے ميں ان كى اھانت آميز باتوں كو جانتے تھے ، كہنے لگے :''ہم نے سنا ہے ايك جوان بتوں كے بارے ميں باتيں كرتا تھا اور انہيں برابھلاكہتا تھا ، اس كا نام ابراہيم (ع) ہے_''(۲)

يہ ٹھيك ہے كہ بعض روايات كے مطابق حضرت ابرہيم (ع) اس وقت مكمل طور پر جوان تھے اور احتمال يہ ہے كہ ان كى عمر۱۶/ سال سے زيادہ نہيں تھى اور يہ بھى درست ہے كہ جوانمردى كى تمام خصوصيات ، شجاعت ، شہامت ، صراحت اور قاطعيت ان كے وجود ميں جمع تھيں ليكن اس طرح سے بات كرنے سے بت پرستوں كى مراد يقينا تحقير كے علاوہ كچھ نہيں تھى ، بجائے اس كے كہ يہ كہتے كہ ابراہيم(ع) نے يہ كام كيا ہے ،كہتے ہيں كہ ايك جوان ہے كہ جسے ابراہيم(ع) كہتے ہيں ، وہ اس طرح كہتا تھا يعنى ايك ايسا شخص كہ جو بالكل گمنام اور ان كى نظر ميں بے حيثيت ہے _

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت۹ ۵

(۲)سورہ انبياء آيت ۶۰

۱۱۵

اصولاً معمول يہ ہے كہ جب كسى جگہ كوئي جرم ہوجائے تو اس شخص كو تلاش كرنے كے لئے كہ جس سے وہ جرم سرزد ہوا ہو ان سے دشمنى ركھنے والوں كو تلاش كيا جاتاہے اور اس ماحول ميں ابراہيم (ع) كے سوا مسلماً كوئي شخص بتوں كے ساتھ دست وگريبان نہيں ہوسكتا تھا لہذا تمام افكار انہيں كى طرف متوجہ ہوگئے اور بعض نے كہا : '' اب جب كہ معاملہ اس طرح ہے تو جائو اور اس كو لوگوں كے سامنے پيش كرو تاكہ وہ لوگ كہ جو پہچانتے ہيں اور خبر ركھتے ہيں گواہى ديں ''_(۱)

منادى كرنے والوں نے شہر ميں ہر طرف يہ منادى كى كہ جو شخص بھى ابراہيم(ع) كى بتوں سے دشمنى اور ان كى بدگوئي كے بارے ميں آگاہ ہے ، حاضر ہوجائے، جلدہى جو آگاہ تھے وہ لوگ بھى اور تمام دوسرے لوگ بھى جمع ہوگئے تاكہ ديكھيں كہ اس ملزم كا انجام كيا ہوتا ہے _

ايك عجيب وغريب شور وغل لوگوں ميں پڑا ہوا تھا ،چونكہ ان كے عقيدے كے مطابق ايك ايسا جرم جو پہلے كبھى نہ ہوا تھا جس نے ان كے دينى ماحول ميں ايك دھماكہ كر ديا تھا _

حضرت ابراہيم عليہ السلام كى دندان شكن دليل

آخركار عدالت لگى اور بازپرس ہوئي زعمائے قوم وہاں جمع ہوئے بعض كہتے ہيں كہ خود نمردو اس عمل كى نگرانى كررہاتھا _

پہلا سوال جو انہوں نے ابراہيم سے كيا وہ يہ تھا :'' اے ابراہيم :كيا تونے ہى ہمارے خدائوں كے ساتھ يہ كام كيا ہے_ ''(۲) وہ اس بات تك كے لئے تيار نہيں تھے كہ يہ كہيں كہ تونے ہمارے خدائوں كو توڑا ہے اور ان كے ٹكڑے ٹكڑے كرديئے ہيں ، بلكہ صرف يہ كہا كيا تونے ہمارے خدائوں كے ساتھ يہ كام كيا ہے ؟

ابراہيم(ع) نے ايسا جواب ديا كہ وہ خود گھرگئے اور ايسے گھرے كہ نكلنا ان كے بس ميں نہ تھا '' ابراہيم(ع) نے كہا : يہ كام اس بڑے بت نے كيا ہے ،ان سے پوچھو اگر يہ بات كرتے ہوں _''(۳)

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت ۶۱

(۲)سورہ انبيائ(ع) آيت ۶۲

(۳) سورہ انبياء آيت ۶۳

۱۱۶

جرائم كى تفتيش كے اصول يہ ہيں ، كہ جس كے پاس آثار جرم ملے، وہ ملزم ہے (مشہور روايت كے مطابق حضرت ابراہيم(ع) نے وہ كلہاڑا بڑے بت كى گردن ميں ڈال ديا تھا )_

اصلاً ،تم ميرے پيچھے كيوں پڑگئے ہو؟ تم اپنے بڑے خدا كو ملزم قرار كيوں نہيں ديتے ؟ كيا يہ احتمال نہيں ہے كہ وہ چھوٹے خدائوں پر غضبناك ہوگيا ہو يا اس نے انہيں اپنا آيندہ كا رقيب فرض كرتے ہوئے ان سب كا حساب ايك ہى ساتھ پاك كرديا ہو؟

ابراہيم (ع) نے قطعى طورپر اس عمل كو بڑے بت كى طرف منسوب كيا ، ليكن تمام قرائن اس بات كى گواہى دے رہے تھے كہ وہ اس بات سے كوئي پختہ اور مستقل قصد نہيں ركھتے تھے،بلكہ وہ اس سے يہ چاہتے تھے كہ بت پرستوں كے مسلمہ عقائد كو، جو كہ خرافاتى اور بے بنيادتھے، ان كے منہ پر دے ماريں اور ان كا مذاق اڑائيں اور انہيں يہ سمجھائيں كہ يہ بے جان پتھراور لكڑياں اس قدر حقير ہيں كہ ايك جملہ تك بھى منہ سے نہيں نكال سكتيں ، كہ اپنى عبادت كرنے والوں سے مدد طلب كرليں ،چہ جائيكہ وہ يہ چاہيں كہ ان كى مشكلات كوحل كرديں _

اس تعبير كے نظير ہمارے روز مرہ كے محاورات ميں بہت زيادہ ہے كہ مد مقابل كى بات كو باطل كرنے كے لئے اس كے مسلمات كوامر يا خبريا استفہام كى صورت ميں اس كے سامنے ركھتے ہيں تاكہ وہ مغلوب ہوجائے اور يہ بات كسى طرح بھى جھوٹ نہيں ہوتي'' جھوٹ وہ ہوتا ہے كہ جس كے ساتھ كوئي قرينہ نہ ہو ''_

اس روايت ميں كہ جو كتاب كافى ميں امام صادق عليہ ا لسلام سے نقل ہوئي ہے ،يہ بيان ہوا ہے كہ : ''ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات اس لئے كہى كہ وہ ان كے افكار كى اصلاح كرنا چاہتے تھے_اور انہيں سمجھانا چاہتے تھے كہ ايسے كام بتوں سے نہيں ہو سكتے_''

اس كے بعد امام عليہ السلام نے مزيد فرمايا:

''خدا كى قسم يہ كام بتوں نے نہيں كيا تھا اور ابراہيم عليہ السلام نے جھوٹ بھى نہيں بولا_''

۱۱۷

زودگذربيداري

ابراہيم (ع) كى باتوں نے بت پرستوں كو ہلاكرركھ ديا ، ان كے سوئے ہوئے وجدان كو بيداركيا اور اس طوفان كى مانند كہ جو آگ كى چنگاريوں كے اوپر پڑى ہوئي بہت سى راكھ كو ہٹا ديتاہے اور اس كى چمك كو آشكار كرديتا ہے ،ان كى فطرت توحيدى كو تعصب ،جہالت اور غرور كے پردوں كے پيچھے سے آشكار وظاہر كرديا_ زود گزرلمحے ميں وہ موت كى سى ايك گہرى نيند سے بيدار ہوگئے جيسا كہ قرآن كہتا ہے : '' وہ اپنے وجدان اور فطرت كى طرف پلٹے اور خود اپنے آپ سے كہنے لگے كہ حق بات يہ ہے كہ ظالم تو تم خود ہى ہو_''(۱)

تم نے تو خود اپنے اوپر بھى ظلم وستم كيا ہے اور اس معاشرے كے اوپر بھى كہ جس كے ساتھ تمہارا تعلق ہے اور نعمتوں كے بخشنے والے پروردگار كى ساحت مقدس ميں بھى _يہ بات قابل توجہ ہے كہ گزشتہ صفحات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ انہوں نے ابراہيم پر ظالم ہونے كا اتہام لگايا تھا ليكن اب انہيں يہاں معلوم ہوگيا كہ اصلى اورحقيقى ظالم تو وہ خود ہيں _

اور واقعا ًابراہيم(ع) كا اصل مقصد بتوں كے توڑنے سے يہى تھا _ مقصد تو بت پرستى كى فكر اور بت پرستى كى روح كو توڑنا تھا ورنہ بتوں كے توڑنے كا تو كوئي فائدہ نہيں ہے، ہٹ دھرم بت پرست ان سے زيادہ اور ان سے بھى بڑے اور بناليتے اور ان كى جگہ پر ركھديتے جيسا كہ نادان ،جاہل اور متعصب اقوام كى تاريخ ميں اس مسئلے كے بے شمار نمونے موجودہيں _ابراہيم(ع) اس حدتك كامياب ہوئے كہ انہوں نے اپنى تبليغ كے ايك بہت ہى حساس اور ظريف مرحلہ كو ايك نفسياتى طوفان پيدا كركے طے كرليا اور وہ تھا سوئے ہوئے وجدانوں كو بيداركرنا _

بت تو بولتے ہى نہيں

ليكن افسوس : كہ جہالت وتعصب اور اندھى تقليد كا زنگ اس سے كہيں زيادہ تھا كہ وہ توحيدكے اس

____________________

(۱) سورہ انبياء آيت ۶۴

۱۱۸

علمبرداركى صيقل بخش پكار سے كلى طورپر دور ہوجاتاہے _

افسوس كہ يہ روحانى اور مقدس بيدارى زيادہ دير تك نہ رہ سكى اور ان كے آلودہ اور تاريك ضمير ميں ، جہالت اور شيطانى قوتوں كى طرف سے اس نور توحيد كے خلاف قيام عمل ميں آگيا اور ہر چيز اپنى پہلى جگہ پر پلٹ آئي قرآن كتنى لطيف تعبير پيش كررہا ہے : '' اس كے بعد وہ اپنے سركے بل الٹے ہوگئے_''(۱)

اور اس غرض سے كہ اپنے گونگے اور بے زبان خدائوں كى طرف سے كوئي عذرپيش كريں ، انہوں نے كہا : '' تو تو جانتاہے كہ يہ باتيں نہيں كرتے_''(۲)

يہ توہميشہ چپ رہتے ہيں اور خاموشى كے رعب كو نہيں توڑتے _

اور اس تراشے ہوئے عذر كے ساتھ انہوں نے يہ چاہا كہ بتوں كى كمزورى ، بدحالى اور ذلت كو چھپائيں _

يہ وہ مقام تھا كہ جہاں ابراہيم جيسے ہيرو كے سامنے منطقى استدلال كے لئے ميدان كھل گيا تاكہ ان پر بھر پورحملے كريں اور ان كے ذہنوں كو ايسى سرزنش اور ملامت كريں كہ جو منطقى اور بيدار كرنے والى ہو '' (ابراہيم نے ) پكار كركہا: كيا تم خداكو چھوڑكر دوسرے معبودوں كى پرستش كرتے ہو كہ جونہ تمہيں كچھ فائدہ پہنچاتے ہيں اور نہ ضرر ''(۳)

يہ خيالى خدا كہ جو نہ بات كرنے كى قدرت ركھتے ہيں ،نہ شعورو ادراك ركھتے ہيں ،نہ خود اپنا دفاع كرسكتے ہيں ، نہ بندوں كو اپنى حمايت كے لئے بلاسكتے ہيں ،اصلا ًان سے كو نساكام ہوسكتا ہے اور يہ كس درد كى دوا ہيں ؟ ايك معبود كى پرستش يا تو اس بناء پرہوتى ہے كہ وہ عبوديت كے لائق ہے تو يہ بات بتوں كے بارے ميں كوئي مفہوم نہيں ركھتى ،يا كسى فائدہ كى اميدميں ہوتى ہے اور يا ان سے كسى نقصان كے خوف سے ، ليكن بتوں كے توڑنے كے ميرے اقدام نے بتاديا كہ يہ كچھ بھى نہيں كرسكتے تو كيا اس حال ميں تمہارا يہ كام احمقانہ نہيں ہے ؟

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت ۶۵

(۲) سورہ انبياء آيت ۶۵

(۳)سورہ انبياء آيت۶۶

۱۱۹

پھر يہ معلم توحيدبات كو اس سے بھى بالاترلے گيااور سرزنش كے تازيانے ان كى بے درد روح پر لگائے اور كہا : تف ہے تم پر بھى اور تمہارے ان خدائوں پر بھى كہ جنہيں تم نے خدا كوچھوڑكر اپنا ركھاہے _''

''كيا تم كچھ سوچتے نہيں ہو اور تمہارے سرميں عقل نہيں ہے _''(۱)

ليكن انہيں برابھلاكہنے اور اور سرزنش كرنے ميں نرمى اور ملاء مت كو بھى نہيں چھوڑا كہ كہيں اور زيادہ ہٹ دھرمى نہ كرنے لگيں درحقيقت ابراہيم نے بہت ہى جچے تلے انداز ميں اپنا منصوبہ آگے بڑھايا پہلى مرتبہ انہيں توحيد كى طرف دعوت ديتے ہوئے انہيں پكار كركہا : يہ بے روح مجسمے كيا ہيں ؟ كہ جن كى تم پرستش كرتے ہو؟ اگر تم يہ كہتے ہو كہ يہ تمہارے بڑوں كى سنت ہے تو تم بھى گمراہ ہو اور وہ بھى گمراہ تھے _

دوسرے مرحلے ميں ايك عملى اقدام كيا تاكہ يہ بات واضح كرديں كہ يہ بت اس قسم كى كوئي قدرت نہيں ركھتے كہ جو شخص ان كى طرف ٹيڑھى نگاہ سے ديكھے تو اس كو نابود كرديں ، خصوصيت كے ساتھ پہلے سے خبردار كركے بتوں كى طرف گئے اور انہيں بالكل درہم وبرہم كرديا تاكہ يہ بات واضح كريں كہ وہ خيالات وتصورات جو انہوں نے باندھے ہوئے ہيں سب كے سب فضول اور بے ہودہ ہيں _

تيسرے مرحلے ميں اس تاريخى عدالت ميں انہيں برى طرح پھنسا كے ركھ ديا كبھى ان كى فطرت كو ابھارا، كبھى ان كى عقل كو جھنجھوڑا، كبھى پندو نصيحت كى اور كبھى سرزنش وملامت _

خلاصہ يہ كہ اس عظيم خدائي معلم نے ہر ممكن راستہ اختيار كيا اور جو كچھ اس كے بس ميں تھا اسے بروئے كار لايا ليكن تاثيركے لئے ظرف ميں قابليت كا ہونا بھى مسلمہ شرط ہے _ افسوس يہ اس قوم ميں موجود نہيں تھي_

ليكن بلاشبہ ابراہيم كى باتيں اور كام ، توحيدكے بارے ميں كم از كم استفہامى علامات كى صورت ميں ان كے ذہنوں ميں باقى رہ گئے اور يہ آيندہ كى وسيع بيدارى اور آگاہى كے لئے ايك مقدمہ اور تمہيد بن گئے _

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت ۶۷

۱۲۰