قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 28137
ڈاؤنلوڈ: 1553

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 28137 / ڈاؤنلوڈ: 1553
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

تاريخ كے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے كہ ان ميں سے كچھ افراد اگرچہ وہ تعداد ميں بہت كم تھے ، ليكن قدر وقيمت كے لحاظ سے بہت تھے ،ان پر ايمان لے آئے تھے اور نسبتاًكچھ آمادگى كا سامان دوسروں كے لئے بھى پيدا ہوگيا تھا _

ابراہيم (ع) كو جلا ديا جائے

اگرچہ ابراہيم(ع) كے عملى ومنطقى استدلالات كے ذريعے سب كے سب بت پرست مغلوب ہوگئے تھے اور انہوں نے اپنے دل ميں اس شكست كا اعتراف بھى كرليا تھا _

ليكن تعصب اور شديد ہٹ دھرمى حق كو قبول كرنے ميں ركاوٹ بن گئي لہذا اس ميں كوئي تعجب كى بات نہيں ہے كہ انہوں نے ابراہيم كے بارے ميں بہت ہى سخت اور خطرناك قسم كا ارادہ كرليا اور وہ لوگ ابراہيم(ع) كو بدترين صورت ميں قتل كرنا چاہتے تھے انہوں نے پروگرام بنايا كہ انہيں جلاكر راكھ كرديا جائے _

عام طور پر طاقت اور منطق كے درميا ن معكوسى رابطہ ہوتا ہے ، جس قدر انسان ميں طاقت اور قدرت زيادہ ہوتى جاتى ہے ، اتنى ہى اس كى منطق كمزور ہوتى جاتى ہے سوائے مردان حق كے كہ وہ جتنا زيادہ قوى اور طاقتور ہوتے ہيں ، اتناہى زيادہ متواضع اور منطقى ہوجاتے ہيں _

جو لوگ طاقت كى زبان سے بات كرتے ہيں جب وہ منطق كے ذريعے كسى نتيجے پر نہ پہنچ سكيں تو فورا ًاپنى طاقت وقدرت كا سہارالے ليتے ہيں حضرت ابراہيم كے بارے ميں ٹھيك يہى طرز عمل اختيار كيا گيا جيسا كہ قرآن كہتا ہے :

'' ان لوگوں نے (چيخ كر)كہا: اسے جلادواور اپنے خدائوں كى مدد كرو ، اگر تم سے كوئي كام ہوسكتا ہے_''(۱)

طاقتور صاحبان اقتداربے خبر عوام كو مشتعل كرنے كے لئے عام طور پر ان كى نفسياتى كمزوريوں سے

____________________

(۱) سورہ انبياء آيت ۶۸

۱۲۱

فائدہ اٹھاتے ہيں كيونكہ وہ نفسيات كو پہچانتے ہيں اور اپنا كام كرنا خوب جانتے ہيں _

جيساكہ انہوں نے اس قصہ ميں كيا اور ايسے نعرے لگائے اور ان كى غيرت كو للكارا: يہ تمہارے خدا ہيں ، تمہارے مقدسات خطرے ميں پڑگئے ہيں ، تمہارے بزرگوں كى سنت كو پائوں تلے روند ڈالاگيا ہے ، تمہارى غيرت وحميت كہاں چلى گئي ؟ تم اس قدرضعيف حال كيوں ہوگئے ہو؟ اپنے خدائوں كى مدد كيوں نہيں كرتے ؟ابراہيم كو جلادو اور اپنے خدائوں كى مدد كرو، اگر كچھ كام تم سے ہوسكتا ہے اور بدن ميں توانائي اورجان ہے ،ديكھو: سب لوگ اپنے مقدسات كا دفاع كرتے ہيں ، تمہارا تو سب كچھ خطرے ميں پڑگيا ہے_

خلاصہ يہ كہ انہوں نے اس قسم كى بہت سى فضول اور مہمل باتيں كيں اور لوگوں كو ابراہيم كے خلاف بھڑكايا اس طرح سے كہ لكڑيوں كے چند گٹھوں كى بجائے كہ جو كئي افرادكے جلانے كے لئے كافى ہوتے ہيں ، لكڑيوں كے ہزارہا گٹھے ايك دوسرے پر ركھ كر لكڑيوں كا ايك پہاڑ بناديا اور اس كے بعد آگ كا ايك طوفان اٹھ كھڑاہوا تاكہ اس عمل كے ذريعہ سے اپنا انتقام بھى اچھى طرح سے لے سكيں اور بتوں كا وہ خيالى رعب ودبدبہ اور عظمت بھي، جس كو ابراہيم (ع) كے طرز عمل سے سخت نقصان پہنچاتھا، كسى حدتك بحال ہوسكے _

تاريخ دانوں نے اس مقام پر بہت سے مطالب تحرير كيے ہيں كہ جن ميں سے كوئي بھى بعيدنظر نہيں آتا _

فرشتوں كى فرياد

سب لوگ چاليس دن تك لكڑياں جمع كرنے ميں لگے رہے اور ہر طرف سے بہت سى خشك لكڑياں لالا كر جمع كرتے رہے اور نوبت يہاں تك پہنچ گئي تھى كہ وہ عورتيں تك بھى كہ جن كاكام گھر ميں بيٹھ كر چرخا كاتنا تھا، وہ اس كى آمدنى سے لكڑيوں كا گٹھالے كر اس ميں ڈلواتى تھيں اور وہ لوگ كہ جو قريب مرگ ہوتے تھے ، اپنے مال ميں سے لكڑياں خريد نے كى وصيت كرتے تھے اور حاجت منداپنى حاجتوں كے پورے ہونے كے لئے يہ منت مانتے تھے كہ اگران كى حاجت پورى ہوگئي ، تو اتنى مقدار لكڑيوں كا اضافہ كريں گے _

يہى وجہ تھى كہ جب ان لكڑيوں ميں مختلف اطراف سے آگ لگائي گئي تو اس كے شعلے اتنے بلند

۱۲۲

ہوگئے تھے كہ پرندے اس علاقے سے نہيں گزر سكتے تھے _

يہ بات واضح ہے كہ اس قسم كى آگ كے تو قريب بھى نہيں جايا جاسكتا چہ جائيكہ ابراہيم عليہ السلام كو لے جاكر اس ميں پھينكيں مجبوراً منجنيق سے كام ليا گيا حضرت ابراہيم كو اس كے اندار بٹھاكر بڑى تيزى كے ساتھ آگ كے اس دريا ميں پھينك ديا گيا _

ان روايات ميں كہ جو شيعہ اور سنى فرقوں كى طرف سے نقل ہوئي ہيں ، يہ بيان ہواہے كہ:

''جس وقت حضرت ابراہيم(ع) كو منجنيق كے اوپر بٹھايا گيا اور انہيں آگ ميں پھينكاجانے لگا تو آسمان، زمين اور فرشتوں نے فرياد بلند كى اور بارگاہ خداوندى ميں درخواست كى كہ توحيد كے اس علمبرداراور حريت پسندوں كے ليڈركوبچالے _''

اس وقت جبرئيل، حضرت ابراہيم كے پاس آئے اور ان سے كہا :

كيا تمہارى كوئي حاجت ہے كہ ميں تمہارى مدد كروں ؟

ابراہيم عليہ السلام نے مختصر سا جواب ديا : تجھ سے حاجت ؟نہيں ، نہيں ،(ميں تو اسى ذات سے حاجت ركھتا ہوں كہ جو سب سے بے نياز اور سب پر مہربان ہے )

تواس موقع پر جبرئيل نے كہا : تو پھر تم اپنى حاجت خداسے طلب كرو _

انہوں نے جواب ميں كہا : ''ميرے لئے يہى كافى ہے كہ وہ ميرى حالت سے آگاہ ہے ''_

ايك حديث ميں امام باقر عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ اس موقع پر حضرت ابراہيم نے خداسے اس طرح رازونياز كيا:

''يااحد يا احد ياصمد يا صمد يا من لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواًاحد توكلت على اللّه _''

اے اكيلے: اے اكيلے اے بے نياز اے بے نياز اے وہ كہ جس نے كسى كو نہيں جنا اور نہ جو جنا گيا اور جس كا كوئي ہم پلہ نہيں : ميں اللہ پر ہى بھرسہ ركھتا ہوں _

۱۲۳

آگ گلزار ہوگئي

بہرحال لوگوں كے شوروغل ہو اور جوش وخروش كے اس عالم ميں حضرت ابراہيم(ع) آگ كے شعلوں كے اندر پھينك ديئے گئے لوگوں نے خوشى سے اس طرح لغرے لگائے گويا بتوں كو توڑنے والا ہميشہ كے لئے نابود اور خاكستر ہوگيا _

ليكن وہ خدا كہ جس كے فرمان كے سامنے تمام چيزيں سرخم كيے ہوئے ہيں _ جلانے كى صلاحيت اسى نے آگ ميں ركھى ہے اور مائوں كے دل ميں محبت بھى اسى نے ڈالى ہے اس نے ارادہ كرليا كہ يہ خالص بندئہ مومن آگ كے اس دريا ميں صحيح وسالم رہے تاكہ اس كے افتخاراور اعزاز كى سندوں ميں ايك اور سند كا اضافہ ہوجائے _

جيسا كہ قرآن اس مقام پر كہتا ہے :''ہم نے آگ سے كہا :اے آگ : ابراہيم پر سلامتى كے ساتھ ٹھنڈى ہوجا_''(۱)

مشہور يہ كہ آگ اس قدر ٹھنڈى ہوگئي كہ ابراہيم كے دانت ٹھنڈك كى شدت سے بجنے لگے اور بعض مفسرين كے قول كے مطابق تو اگر''سلاماً'' كى تعبير ساتھ نہ ہوتى تو آگ اس قدر سرد ہوجاتى كہ ابراہيم كى جان سردى سے خطرے ميں پڑجاتى _ مشہور روايت ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ نمرود كى آگ خوبصورت گلستان ميں تبديل ہوگئي _يہاں تك كہ بعض نے تو كہا ہے كہ جس دن ابراہيم آگ ميں رہے ، ان كى زندگى كے دنوں ميں سب سے بہترين راحت وآرام كا دن تھا ؟(۲)

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت ۶۹

(۲) آگ نے حضرت ابراہيم كو كيوں نہ جلايا ؟، مفسيرين كے درميان بہت اختلاف ہے ليكن اجمالاً بات يہ ہے كہ بينش توحيد ى كو مد نظر ركھتے ہوئے كسى سبب سے بھى خدا كے حكم كے بغير كوئي كام نہيں ہوسكتا ايك دن وہ ابراہيم كے ہاتھ ميں موجود چھرى سے كہتا ہے: نہ كاٹ اور دوسرے دن آگ سے كہتا : نہ جلا اور ايك دن پانى كوجو سبب حيات ہے حكم ديتا ہے كہ فرعون اور فرعونيوں كو غرق كردے

۱۲۴

يہ بات كہنے كى ضرورت نہيں ہے كہ ابراہيم كے آگ ميں صحيح وسالم رہ جانے سے صورت حال بالكل بدل گئي خوشى اورمسرت كا شور وغل ختم ہوگيا، تعجب سے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے كچھ لوگ ايك دوسرے كے كان ميں رونماہونے والى اس عجيب چيزكے بارے ميں باتيں كررہے تھے ابراہيم (ع) اور اس كے خدا كى عظمت كا ورد زبانوں پر جارى ہوگيا نمرود كا اقتدار خطرے ميں پڑگيا ليكن پھر بھى تعصب اور ہٹ دھرمى حق كو قبول كرنے ميں پورى طرح حائل ہوگئي اگرچہ كچھ بيداردل اس واقعہ سے بہرہ ور بھى ہوئے اور ابراہيم كے خدا كے بارے ميں ان كے ايمان ميں زيادتى اور اضافہ ہوا ، مگريہ لوگ اقليت ميں تھے _

بہادرنوجوان

حضرت ابراہيم كو جب آگ ميں ڈالاگيا تو ان كى عمر سولہ سال سے زيادہ نہيں تھى اوربعض نے اس وقت ان كا سن ۲۶ سال كا ذكر كيا ہے _

بہرحال وہ جوانى كى عمر ميں تھے اور باوجود اس كے كہ ظاہرى طور پر ان كا كوئي ياردمددگار نہيں تھا، اپنے زمانے كے اس عظيم طاغوت كے ساتھ پنجہ آزمائي كى كہ جو دوسرے طاغوتوں كا سرپرست تھا، آپ تن تنہا جہالت ، خرافات اور شرك كے خلاف جنگ كرنے كے لئے نكل كھڑے ہوئے اور ماحول كے تمام خيالى مقدسات كا مذاق اڑايا اور لوگوں كے غصے اور انتقام سے ذرا بھى نہ گھبرائے كيونكہ ان كا دل عشق خدا سے معمور تھا اور ان كا اس پاك ذات پر ہى توكل اور بھروسہ تھا _

ہاں : ايمان ايسى ہى چيز ہے كہ يہ جہاں پيدا ہوجاتاہے وہاں جرا ت وشجاعت پيدا كرديتا ہے اور جس ميں يہ موجود ہو، اسے شكت نہيں ہوسكتى _

ابراہيم عليہ السلام اور نمرود

حضرت ابراہيم(ع) كو جب آگ ميں ڈالا گيا، نمرود كو يقين ہوگياتھا كہ ابراہيم مٹى بھر خاك ميں تبديل ہوگئے ہيں ليكن جب اس نے غور سے ديكھا تو معلوم ہوا كہ وہ زندہ ہيں تو اپنے ارد گرد بيٹھے ہوئے لوگوں سے

۱۲۵

كہنے لگا مجھے تو ابراہيم زندہ دكھائي دے رہا ہے شايد مجھے اشتباہ ہورہا ہے وہ ايك بلند مقام پر چڑھ گيا اور خوب غور سے ديكھا تو اسے معلوم ہوا كہ معاملہ تو اسى طرح ہے _

نمرودنے پكار كركہا : اے ابراہيم(ع) : واقعاً تيرا خدا عظيم ہے اور اس قدر قدرت ركھتا ہے كہ اس نے تيرے اور آگ كے درميان ايك ركاوٹ پيدا كردى اب جبكہ يہ بات ہے تو ميں چاہتاہوں كہ اس كى قدرت اور عظمت كى وجہ سے اس كے لئے قربانى كروں (اور اس نے چار ہزار قربانياں اس مقصد كے لئے تياركيں ) ليكن ابراہيم نے اس سے كہا : تجھ سے كسى قسم كى قربانى او ر كارخير قبول نہيں كيا جائے گا مگر يہ كہ توپہلے ايمان لے آئے _

نمرودنے جواب ميں كہا :'' اس صورت ميں تو ميرى حكومت ختم ہوجائے گى اور ميں يہ بات گوارا نہيں كرسكتا _''

بہرحال يہى حادثات اس بات كا سبب بن گئے كہ كچھ آگاہ اور بيدار دل لوگ ابراہيم كے خدا پر ايمان لے آئے يا ان كے ايمان ميں اضافہ ہوگيا (اور شايد يہى واقعہ اس بات كا سبب بناكہ نمرود ابراہيم كے مقابلہ ميں كسى سخت رد عمل كا اظہار نہ كرے اور صرف ان كو سرزمين بابل سے جلاوطن كرنے پر قناعت كرے _)

نمرود سے گفتگو

سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ حضرت ابراہيم(ع) كے مد مقابل اس اجتماع ميں كون تھا اور كون آپ(ع) سے حجت بازى كررہا تھا؟

اس كا جواب يہ ہے كہ قرآن ميں اس كے نام كى صراحت نہيں ہے ليكن فرمايا گيا ہے:

اس غرور و تكبر كے باعث جو اس ميں نشہ حكومت كى وجہ سے پيدا ہوچكا تھا وہ ابراہيم(ع) سے حجت بازى كرنے لگا_

ليكن حضرت على عليہ السلام سے منقول درمنثور كى ايك حديث ميں اور اسى طرح تواريخ ميں اس كا نام ''نمرود بن كنعان''بيان كيا گيا ہے_

۱۲۶

يہاں پر اس مباحثے كا وقت نہيں بتايا گيا_ليكن قرائن سے اندازا ہوتا ہے كہ يہ واقعہ حضرت ابراہيم(ع) كى بت شكنى اور آگ كى بھٹى سے نجات كے بعد كا ہے كيونكہ يہ مسلم ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے سے قبل اس گفتگو كا سوال ہى پيدا نہيں ہوتا تھا،اور اصولى طور پر بت پرست آپ كو ايسے مباحثے كا حق نہ دے سكتے تھے وہ حضرت ابراہيم(ع) كو ايك ايسا مجرم اور گنہ گار سمجھتے تھے جسے ضرورى تھا كہ جتنى جلدى ہوسكے اپنے اعمال اور خدايان مقدس كے خلاف قيام كى سزا ملے_وہ تو انہوں نے بت شكنى كے اقدام كا صرف سبب پوچھا تھا اور اس كے بعد انتہائي غصے اور سختى سے انہيں آگ ميں جلانے كا حكم صادر ہوا تھا ليكن جب آپ(ع) حيرت انگيز طريقے سے آگ سے نجات پاگئے تو پھر اصطلاحى الفاظ ميں ''نمرود كے حضور رسائي ہوئي''اور پھر بحث و مباحثے كے ليے بيٹھ سكے_

بہر حال نمرود اپنى حكومت كى وجہ سے بادہ غرور سے سرمست تھا لہذا حضرت ابراہيم(ع) سے پوچھنے لگا تيرا خدا كون ہے_ حضرت ابراہيم(ع) نے كہا: ''وہى جو زندہ كرتا اور مارتا ہے''،حقيقت ميں آپ(ع) نے عظيم ترين شاہكار قدرت كو دليل كے طور پر پيش كيا_ مبداء جہان ہستى كے علم و قدرت كى واضح نشانى يہى قانون موت وحيات ہے ليكن اس نے مكر و فريب كى راہ اختيار كى اور مغالطہ پيدا كرنے كى كوشش كرنے لگا_ لوگوں اور اپنے حمايتيوں كو غافل ركھنے لے لئے كہا وہ تو ميں زندہ كرتا اور مارتا ہوں اور موت و حيات كا قانون ميرے ہاتھ ميں ہے_

قرآن ميں اس كے جملے كے بعد واضح نہيں ہے كہ اس نے اپنے پيدا كئے گئے مغالطے كى تائيد كے لئے كس طرح عملى اقدام كيا ليكن احاديث و تواريخ ميں آيا ہے كہ اس نے فوراًدو قيديوں كو حاضر كرنے كا حكم ديا_قيدى لائے گئے تو اس نے فرمان جارى كيا كہ ايك كو آزاد كردو اور دوسرے كو قتل كردو_ پھر كہنے لگا:تم نے ديكھا كہ موت و حيات كس طرح ميرے قبضے ميں ہے_

يہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت ابراہيم(ع) كى موت و حيات سے متعلق دليل ہر لحاظ سے قوى تھى ليكن دشمن شادہ لوح لوگوں كو جھل دے سكتا تھا لہذا حضرت ابراہيم عليہ السلام نے دوسرا استدلال پيش فرمايا كہ خدا

۱۲۷

آفتاب كو افق مشرق سے نكالتا ہے اگر جہاں ہستى كى حكومت تيرے ہاتھ ميں ہے تو تو اسے مغرب سے نكال كر دكھا_

يہاں دشمن خاموش،مبہوت اور عاجز ہوگيا_ اس ميں سكت نہ رہى كہ اس زندہ منطق كے بارے ميں كوئي بات كرسكے_ ايسے ہٹ دھرم دشمنوں كو لاجواب كرنے كايہ بہترين طريقہ ہے_

يہ مسلم ہے كہ موت و حيات كا مسئلہ كئي جہات سے آسمان اور گردش شمس و قمرى كى نسبت پروردگار عالم كے علم و قدرت پر زيادہ گواہى ديتاہے_ اسى بنا_ پر حضرت ابراہيم(ع) نے پہلے وہى مسئلہ پيش كيا اور يہ فطرى امر ہے كہ اگر صاحب فكر اور روشن ضمير افراد اس مجلس ميں ہوں گے تو وہ اسى دليل سے مطمئن ہوگئے ہوں گے كيونكہ ہر شخص اچھى طرح جانتا ہے كہ ايك قيدى كو آزاد كرنا اور دوسرے كو قتل كردينا يہ طبيعى اور حقيقى موت و حيات سے بالكل ربط نہيں ركھتا، ليكن جو لوگ كم عقل تھے اور اس دور كے ظالم حكمران كے پيدا كردہ مغالطے سے متا ثر ہوسكتے تھے ان كى فكر راہ حق سے منحرف ہوسكتى تھى لہذا آپ(ع) نے دوسرا استدلال پيش كيا اور سورج كے طلوع و غروب كا مسئلہ پيش كيا تا كہ حق ہر دو طرح كے افراد كے سامنے واضح ہوجائے_

اس بات كى توجہ كرنا مناسب ہے كہ قرآنى گفتگو سے يہ بات اچھى واضح ہوتى ہے كہ وہ ظالم اپنے بارے ميں الوہيت كا مدعى تھا، يہى نہيں كہ وہ اپنى پرستش كرواتا تھابلكہ اپنے آپ كو عالم ہستى كا پيدا كرنے والابھى بتاتا تھا، يعنى اپنے آپ كو ''معبود'' بھى سمجھتا تھا اور ''خالق'' بھي_

بت پرستوں كى سرزمين سے ابراہيم كى ہجرت

ابراہيم(ع) كے آگ ميں ڈالے جانے كے واقعہ اور اس خطرناك مرحلہ سے ان كى معجزانہ نجات نے نمرودكے اركان حكومت كو لرزہ براندام كرديا،نمرود تو بالكل حواس باختہ ہوگيا كيونكہ اب وہ ابراہيم كو ايك فتنہ كھڑا كرنے والا اور نفاق ڈالنے والا جوان نہيں كہہ سكتا تھا كيونكہ ابراہيم اب ايك خدائي رہبر اور بہادر رہبر كى حيثيت سے پہچانا جاتاتھا اس نے ديكھاكہ ابراہيم اس كے تمام ترطاقت ووسائل كے باوجود اس كے خلاف جنگ كى ہمت ركھتا ہے اس نے سوچا كہ اگر ابراہيم ان حالات ميں اس شہراور اس ملك ميں رہا تو اپنى باتوں

۱۲۸

،قوى منطق اور بے نظير شجاعت كے ساتھ ،مسلمہ طور پر اس جابر، خود سراور خود غرض حكومت كےلئے ايك خطرے كا مركز بن سكتا ہے لہذا اس نے فيصلہ كيا كہ ابراہيم كو ہر حالت ميں اس سرزمين سے چلا جانا چاہئے_

دوسرى طرف ابرہيم حقيقت ميں اپنى رسالت كا كام اس سرزمين ميں انجام دے چكے تھے وہ حكومت كى بنيادوں پر يكے بعد ديگرے چكنا چوركرنے والى ضربيں لگا چكے تھے اس سرزمين ميں ايمان وآگاہى كا بيج بوچكے تھے اب صرف ايك مدت كى ضرورت تھى كہ جس سے يہ بيج آہستہ آہستہ بار آور ہواور بت پرستى كى بساط الٹ جائے _

اب ان كے لئے بھى مفيد يہى تھا كہ يہاں سے كسى دوسرى سرزمين كى طرف چلے جائيں اور اپنى رسالت كے كام كو وہاں بھى عملى شكل ديں لہذا انہوں نے يہ ارادہ كرليا كہ لوط (جو آپ كے بھتيجے تھے )اور اپنى بيوى سارہ اور احتمالاً مومنين كے ايك چھوٹے سے گروہ كو ساتھ لے كر اس سرزمين سے شام كى طرف ہجرت كرجائيں _

جيسا كہ قرآن كہتا ہے : ہم نے ابراہيم اور لوط كو ايسى سرزمين كى طرف نجات دى كہ جسے ہم نے سارے جہان والوں كے لئے بركتوں والا بنايا تھا_''(۱)

اگرچہ قرآن ميں اس سرزمين كانام صراحت كے ساتھ بيان نہيں ہوا ہے ليكن سورہ بنى اسرائيل كى پہلى آيت( سبحان الذي_____باركناحوله _) پر توجہ كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مراد ہى شام كى سرزمين ہے جوظاہرى اعتبار سے بھى پر بركت ، زرخيز اور سرسبز وشاداب ہے اور معنوى لحاظ سے بھى ،كيونكہ وہ انبيا كى پرور ش كا مركز تھى _

ابراہيم (ع) نے يہ ہجرت خود اپنے آپ كى تھى يا نمرود كى حكومت نے انہيں جلاوطن كيا يا يہ دونوں ہى صورتيں واقع ہوئيں ، اس بارے ميں تفاسيروروايات ميں مختلف باتيں بيان كى گئي ہيں ان كا مجموعى مفہوم يہي

____________________

(۱)سورہ انبياء آيت ۷۱

۱۲۹

ہے كہ ايك طرف تو نمرود اور اس كے اركان حكومت ابراہيم(ع) كو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے،لہذا انھوں نے انھيں اس سرزمين سے نكلنے پر مجبور كرديا اور دوسرى طرف ابرہيم(ع) بھى اس سرزمين ميں اپنى رسالت كے كام تقريباً مكمل كرچكے تھے اور اب كسى دوسرے علاقے ميں جانے كے خواہاں تھے كہ دعوت توحيد كو وہاں بھى پھيلائيں خصوصاً بابل ميں باقى رہنے سے ممكن تھا كہ آپ كى جان چلى جاتى اور آپ كى عالمى دعوت نامكمل رہ جاتى _

يہ بات قابل توجہ ہے كہ امام صادق عليہ السلام سے ايك روايت ميں يہ بيان ہوا كہ جس وقت نمرود نے يہ ارادہ كيا كہ ابراہيم كو اس سرزمين سے جلاوطن كردے تو اس نے يہ حكم ديا كہ ابراہيم كى بھيڑيں اور ان كا سارا مال ضبط كرليا جائے اور وہ اكيلاہى يہاں سے باہر جائے حضرت ابراہيم نے ان سے كہا يہ ميرى عمربھر كى كمائي ہے اگر تم ميرا مال لينا چاہتے ہو تو ميرى اس عمر كو جو ميں نے اس سرزمين ميں گزارى ہے مجھے واپس دے دو لہذا طے يہ پايا كہ حكومت كے قاضيوں ميں سے ايك اس بارے ميں فيصلہ دے ،قاضى نے حكم ديا كہ ابراہيم (ع) كا مال لے ليا جائے اور جو عمر انہوں نے اس سرزمين ميں خرچ كى ہے وہ انہيں واپس كردى جائے _

جس وقت نمرود اس واقعے سے آگاہ ہوا تو اس نے بہادر قاضى كے حقيقى مفہوم كو سمجھ ليا اور حكم ديا كہ ابراہيم كا مال اور اس كى بھيڑيں اسے واپس كردى جائيں تاكہ وہ انہيں ساتھ لے جائے اور كہا: مجھے ڈر ہے كہ اگر وہ يہاں رہ گيا تو وہ تمہارے دين وآئين كو خراب كردے گا اور تمہارے خدائوں كو نقصان پہنچائے گا ''_

كس طرح مردوں كو زندہ كرے گا ؟

ايك دن حضرت ابراہيم(ع) دريا كے كنارے سے گزررہے تھے _ آپ نے دريا كے كنارے ايك مردار پڑاہوا ديكھا، اس كا كچھ حصہ دريا كے انداراور كچھ باہر تھا دريا اور خشكى كے جانور دونوں طرف سے اسے كھارہے تھے بلكہ كھاتے كھاتے ايك دوسرے سے لڑنے لگتے تھے ،اس منظر نے حضرت ابراہيم(ع) كو ايك ايسے مسئلہ كى فكر ميں ڈال ديا جس كى كيفيت سب تفصيل سے جاننا چاہتے ہيں اور وہ ہے موت كے بعد مردوں كے زندہ ہونے كى كيفيت ابراہيم(ع) سوچنے لگے كہ اگر ايسا ہى انسانى جسم كے ساتھ ہو اور انسان كا بدن جانوروں كے

۱۳۰

بدن كا جزء بن جائے تو قيامت ميں اٹھنے كا معاملہ كيسے عمل ميں آئے گا جب كہ وہاں انسان كو اسى بدن كے ساتھ اٹھنا ہے _

حضرت ابراہيم(ع) نے كہا : خدايا مجھے دكھا كہ تو مردوں كو كيسے زندہ كرے گا؟اللہ تعالى نے فرمايا : كيا تم اس بات پر ايمان نہيں ركھتے؟ انہوں نے كہا: ايمان تو ركھتا ہوں ليكن چاہتاہوں دل كو تسلى ہوجائے _

خدا متعال نے حكم ديا : چار پرندے لے لو اور ان كا گوشت ايك دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت كے كئي حصے كردو اور ہر حصہ كو ايك پہاڑپر ركھ دو اس كے بعد ان پرندوں كو پكار و تاكہ ميدان حشر كا منظر ديكھ سكو _ انہوں نے ايسا ہى كيا تو انتہائي حيرت كے ساتھ ديكھا كہ پرندوں كے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہوكر ان كے پاس آگئے ہيں اور ان كى ايك نئي زندگى كا آغاز ہوگيا ہے _

اس سلسلہ ميں قرآن كہتا ہے :

''اس وقت (كو ياد كرو)جب ابراہيم نے كہا : خدايا : مجھے دكھا دے تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے ،فرمايا : كيا تم ايمان نہيں لائے _ كہنے لگے : كيوں نہيں ، ميں چاہتاہوں ميرے دل كو اطمينان ہوجائے فرمايا : يہ بات ہے تو چار پرندے انتخاب كرلو (ذبح كرنے كے بعد ) انہيں ٹكڑے ٹكڑے كرلو (پھر ان كے گوشت كو آپس ميں ملادو ) پھر ہر پہاڑپر ايك حصہ ركھ دو ، پھر انہيں پكارو ، وہ تيزى سے تمہارے پاس آئےں گے، اور جان لوكہ خدا غالب اور حكيم ہے ''_(۱) (وہ مردوں كے اجزائے بدن كو بھى جانتا ہے اور انہيں جمع كرنے كى طاقت بھى ركھتا ہے _)

چندا ہم نكات

۱_ چار پرندے : اس ميں شك نہيں كہ مذكورہ چار پرندے مختلف قسم كے پرندوں ميں سے تھے كيونكہ اس كے بغير حضرت ابراہيم كا مقصد پورا نہيں ہوسكتاہے _ اس كے لئے ضرورى تھا كہ ہرايك كے اجزاء اس

____________________

(۱) سورہ بقرہ آيت ۲۵۹

۱۳۱

كے اصلى بدن ميں واپس آئيں اوريہ مختلف قسم كے ہونے كى صورت ميں ہى ظاہر ہوسكتا تھا _ مشہور روايت كے مطابق وہ چار پرندے اس طرح تھے مور، مرغ ،كبوتر اور كوا جو كہ كئي پہلوئوں سے ايك دوسرے سے بہت مختلف ہيں _

بعض ان پرندوں كو انسانوں كى مختلف صفات اور جذبات كا مظہر سمجھتے ہيں _

مور: خود نمائي، زيبائش اور تكبركا مظہر ہے _

مرغ : شديد جنسى ميلانات كا مظہرہے_

كبوتر : لہوولعب اور كھيل كود كا مظہر ہے _

كوا: لمبى چوڑى آرزئوں اور تمنائوں كا مظہر ہے _

۲_ پہاڑوں كى تعداد : جن پہاڑوں پر حضرت ابراہيم عليہ السلام نے پرندوں كے اجزاركھے تھے ان كى تعدا كى صراحت قرآن حكيم ميں نہيں ہے ليكن روايات اہل بيت ميں يہ تعداد دس بتائي گئي ہے _(۱)

۳_ واقعہ كب رونماہوا : جب حضرت ابراہيم بابل ميں تھے يا جب شام چلے آئے تھے ،يوں لگتا ہے ،يہ شام ميں آنے كے بعد كا واقعہ ہے كيونكہ سرزمين بابل ميں پہاڑنہيں ہيں _

اسماعيل (ع) اور ہاجرہ(ع) كو منتقل كرنے كا حكم

سالہا گذرگئے كہ جناب ابراہيم(ع) نے اس صالح فرزند كے انتظار اور خواہش ميں زندگى بسركرتے رہے، انھوں نے عرض كيا:'' پروردگارا: مجھے ايك فرزند صالح عطا فرما_''(۲)

آخر كار خدا نے ان كى دعا قبول كرلي، پہلے انھيں اسماعيل(ع) اور پھر اسحاق(ع) مرحمت فرمايا كہ جن ميں سے ہر ايك بزرگ پيغمبر اور صاحب منزلت تھے_

____________________

(۱)اسى لئے بعض روايات ميں آيا ہے كہ اگر كوئي شخص وصيت كرجائے كہ اس كے مال كا ايك جزء فلاں سلسلے ميں صرف كرنا اور اس كى مقدار معين نہ كرجائے تو مال كا دسواں حصہ دينا كافى ہے _

(۲)سورہ صافات آيت ۱۰۰

۱۳۲

آپ نے اپنى كنيزہاجرہ كو اپنى بيوى بناليا تھا _ اس سے انہيں اسماعيل جيسا بيٹا نصيب ہوا آپ كى پہلى بيوى سارہ نے ان سے حسد كيا يہى حسد سبب بنا كہ آپ ہاجرہ اور اپنے شيرخوار بچے كو حكم خدا سے فلسطين سے لے كر مكہ كى جلتى ہوئي سنگلاخ پہاڑوں كى سرزمين ميں لے گئے يہ وہ علاقہ تھا جہاں پانى كى ايك بوند بھى دستياب نہ تھى آپ(ع) حكم خدا سے ايك عظيم امتحان سے گزرتے ہوئے انہيں وہاں چھوڑ كر واپس فلسطين آگئے _

وہاں چشمہ زمزم پيدا ہوا اس اثنا ميں جرہم قبيلہ ادھر سے گزرا اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قيام كى اجازت چاہى __گويا واقعات كا ايك طولانى سلسلہ ہے كہ جو اس علاقے كى آبادى كا باعث بنا_

حضرت ابراہيم (ع) نے خدا سے دعا كى تھى كہ اس جگہ كو آباد اور پر بركت شہر بنادے اور لوگوں كے دل ميرى اولاد كى طرف مائل كردے ان كى اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگى تھى _(۱)

يہ بات جاذب نظر ہے كہ بعض مو رخين نے نقل كيا ہے كہ جب حضرت ابراہيم ہاجرہ اور شير خوار اسماعيل كو مكہ ميں چھوڑ كر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فرياد كي: اے ابراہيم(ع) آپ كو كس نے حكم ديا ہے كہ ہميں ايسى جگہ پر چھوڑ جائيں كہ جہاں نہ كوئي سبزہ ہے ، نہ دودھ دينے والا كوئي جانور،يہاں تك كہ يہاں پانى كا ايك گھونٹ بھى نہيں ہے آپ پھر بھى ہميں بغير زادو توشہ اور مونس ومدد گار كے چھوڑے جارہے ہيں _

حضرت ابراہيم(ع) نے مختصر سا جواب ديا : ميرے پروردگار نے مجھے يہى حكم ديا ہے _

ہاجرہ نے يہ سنا تو كہنے لگيں : اگر ايسا ہے تو پھر خدا ہرگز ہميں يونہى نہيں چھوڑے گا _

ابراہيم(ع) نے حكم خدا كى اطاعت كى اور انہيں سرزمين مكہ ميں لے گئے جو ايسى خشك اور بے آب وگياہ تھى كہ وہاں كسى پرندے كا بھى نام ونشان نہ تھا جب ابراہيم انہيں چھوڑ كر تنہا واپس ہولئے تو ان كى اہليہ رونے لگيں كہ ايك عورت اور ايك شيرخوار بچہ اس بے آب وگياہ بيابان ميں كيا كريں گے_

اس خاتون كے گرم آنسو اور ادھر بچے كا نالہ ودزارى اس منظرنے ابراہيم(ع) كا دل ہلاكے ركھ ديا _

____________________

(۱)سورہ ابراہيم ايت ۳۷ تا ۴۱

۱۳۳

انہوں نے بارگاہ الہى ميں ہاتھ اٹھائے اور عرض كيا:

خدا وندا: ميں تيرے حكم پر اپنى بيوى اور بچے كو اس جلادينے والے بے آب وگياہ بيابان ميں تنہا چھوڑ رہا ہوں ، تاكہ تيرا نام بلند اور تيرا گھر آباد ہو_

يہ كہہ كر غم واندوہ اور شديد محبت كے عالم ميں الوداع ہوئے _

زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ ماں كے پاس آب وغذا كا جو توشہ تھا ختم ہوگيا اور اس كى چھاتى كا دودھ بھى خشك ہوگيا شير خوار بچے كى بے تابى اور تضرع وزارى نے ماں كو ايسا مضطرب كرديا كہ وہ اپنى پياس بھول گئي وہ پانى كى تلاش ميں اٹھ كھڑى ہوئي، پہلے كوہ صفا كے قريب گئي تو پانى كا كوئي نام ونشان نظر نہ آيا، سراب كى چمك نے اسے كوہ مروہ كى طرف كھينچا تو وہ اس كى طرف دوڑى ليكن وہاں بھى پانى نہ ملا، وہاں ويسى چمك صفاپر دكھائي دى تو پلٹ كر آئي، زندگى كى بقاء اور موت سے مقابلہ كے لئے اس نے سات چكر لگائے، آخر شيرخوار بچہ زندگى كى آخرى سانسيں لينے لگا كہ اچانك اس كے پائوں كے پاس انتہائي تعجب خيز طريقہ سے زمزم كا چشمہ ابلنے لگا، ماں اور بچے نے پانى پيا اور موت جو يقينى ہوگئي تھى اس سے بچ نكلے_

زمزم كا پانى گويا آب حيات تھا، ہر طرف سے پرندے اس چشمہ كى طرف آنے لگے، قافلوں نے پرندوں كى پروازديكھى تو اپنے رُخ كو اس طرف موڑديا اور ظاہراً ايك چھوٹے سے خاندان كى فداكارى كے صلے ميں ايك عظيم مركز وجود ميں آگيا_

آج خانہ خدا كے پاس اس خاتون اور اس كے فرزند اسماعيل (ع) كا مسكن ہے، ہر سال تقريباً ۲۰ / لاكھ افراد اطراف عالم سے آتے ہيں ان كى ذمہ دارى ہے كہ اس مسكن كو جسے مقام اسماعيل كہتے ہيں اپنے طواف ميں شامل كريں گويا اس خاتون اور اس كے بيٹے كے مدفن كو كعبہ كا جز ء سمجھيں _

اسماعيل (ع) قربان گاہ ميں

اسماعيل كا سن ۱۳ /سال كا تھا كہ حضرت ابراہيم نے ايك عجيب اور حيرت انگيز خواب ديكھا ،يہ خواب اس عظيم الشان پيغمبر كے لئے ايك اور آزمائش كو بيان كرتا تھا _ انھوں نے خواب ديكھا كہ انھيں خدا كى طرف

۱۳۴

سے يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ اپنے اكلوتے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے قربانى كريں اور اسے ذبح كرديں _

ابراہيم(ع) وحشت زدہ خواب سے بيدار ہوئے ،وہ جانتے تھے كہ پيغمبروں كے خواب حقيقت اور شيطانى وسو سوں سے دور ہوتے ہيں ليكن اس كے باوجود دو راتوں ميں بھى يہى خواب ديكھا جو اس امر كے لازم ہونے اور اسے جلد انجام دينے كے لئے تاكيد تھى _

كہتے ہيں كہ پہلى مرتبہ '' شب ترويہ'' (آٹھ ذى الحجہ كى رات ) يہ خواب ديكھا اور '' عرفہ '' اور '' عيد قربان '' (نويں اور دسويں ذى الحجہ ) كى راتوں ميں خواب كا تكرار ہوا _ لہذا اب ان كے لئے ذراسا بھى شك باقى نہ رہا كہ يہ خدا كا قطعى فرمان ہے _

ابراہيم(ع) جو بار ہا امتحان خداوندى كى گرم بھٹى سے سرفراز ہو كر باہر آچكے تھے،اس دفعہ بھى چاہئے كہ بحر عشق ميں كود پڑيں اور خداوند عالم كے فرمان كے سامنے سرجھكاديں ،اور اس فرزند كو جس كے انتظار ميں عمر كا ايك حصہ گذارديا تھا اور اب وہ ايك آبرومند نوجوان تھا، اسے اپنے ہاتھ سے ذبح كرديں _

ليكن ضرورى ہے كہ ہر چيز سے پہلے اپنے فرزند كو اس كام كے لئے آمادہ كريں ، لہذا اس كى طرف رخ كركے فرمايا :'' ميرے بيٹے : ميں نے خواب ديكھا ہے كہ ميں تجھے ذبح كررہاہوں ، اب تم ديكھو: تمہارى اس بارے ميں كيا رائے ہے ''؟(۱)

بيٹا بھى تو ايثار پيشہ باپ كے وجود كا ايك حصہ تھا اور جس نے صبرو استقامت اور ايمان كا درس اپنى چھوٹى سى عمر ميں اسى كے مكتب ميں پڑھا تھا ، اس نے خوشى خوشى خلوص دل كے ساتھ اس فرمان الہى كا استقبال كيا اور صراحت اور قاطيعت كے ساتھ كہا:

''اباجان : جو حكم آپ كو ديا گيا ہے اس كى تعميل كيجئے''_(۲)

ميرى طرف سے بالكل مطمئن رہئے_ '' انشاء اللہ آپ مجھے صابرين ميں سے پائيں گے ''_(۳)

____________________

(۱)سورہ صافات آيت۱۰۲

(۲) سورہ صافات آيت ۱۰۲

(۳)سورہ صافات آيت۱۰۲

۱۳۵

باپ اور بيٹے كى يہ باتيں كس قدر معنى خيز ہيں اور كتنى باريكياں ان ميں چھپى ہوئي ہيں _

ايك طرف تو باپ، ۱۳/ سالہ بيٹے كے سامنے اسے ذبح كرنے كى بات بڑى صراحت كے ساتھ كرتا ہے اور اس سے اس كى رائے معلوم كرتا ہے اس كے لئے مستقل شخصيت اور ارادے كى آزادى كا قائل ہوتا ہے ، وہ ہرگز اپنے بيٹے كو دھوكے ميں ركھنا نہيں چاہتا اور اسے اندھيرے ميں ركھتے ہوئے امتحان كے اس عظيم ميدان ميں آنے كى دعوت نہيں ديتا وہ چاہتا ہے كہ بيٹا بھى اس عظيم امتحان ميں پورے دل كے ساتھ شركت كرے اور باپ كى طرح تسليم ورضا كا مزہ چكھے _

دوسرى طرف بيٹا بھى يہ چاہتا ہے كہ باپ اپنے عزم وارادہ ميں پكااور مضبوط رہے، يہ نہيں كہتا كہ مجھے ذبح كريں بلكہ كہتا ہے : جوآپ كو حكم ديا گيا ہے اسے بجالائيں ميں اس كے امرو فرمان كے سامنے سر تسليم خم ہوں ،خصوصاً باپ كو '' يا ابت '' (ابا جان :) كہہ كر مخاطب كرتا ہے ،تاكہ اس بات كى نشاندہى كردے كہ اس مسئلے پر جذبات فرزندو پدر كاسوئي كى نوك كے برابر بھى اثر نہيں ، كيونكہ فرمان خدا ہر چيز پر حاكم ہے _

اور تيسرى طرف سے پروردگار كى بارگاہ ميں مراتب اداب كى اعلى ترين طريقے سے پاسدارى كرتا ہے ،ہرگز اپنے ايمان اور عزم وارادہ كى قوت پر بھروسہ نہيں كرتا ، بلكہ خدا كى مشيت اور اس كے ارادہ پر تكيہ كرتاہے اور اس عبادت كے ساتھ اس سے پامردى اور استقامت كى توفيق چاہتاہے _

اس طرح سے باپ بھى اور بيٹا بھى اس عظيم آزمائش كے پہلے مرحلے كو مكمل كاميابى كے ساتھ گزارديتے ہيں _

شيطانى وسوسہ

شيطان نے بہت ہاتھ پائوں مارے كہ كوئي ايسا كام كرے كہ حضرت ابراہيم(ع) اس ميدان سے كامياب ہوكر نہ نكليں ، كبھى وہ (اسمعيل كي) ماں ہاجرہ كے پاس آيا اور ان سے كہا:كيا تمھيں معلوم ہے كہ ابراہيم نے كيا ارادہ كيا ہے ؟ وہ چاہتاہے كہ آج اپنے بيٹے كو ذبح كردے_

ہاجرہ نے كہا: دورہوجا ، محال اور نہ ہونے والى بات نہ كر، كيونكہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بيٹے كو

۱۳۶

كيسے ذبح كرسكتا ہے ؟ اصولاً كيا دنيا ميں كوئي ايسا انسان پيدا ہوسكتا ہے جو اپنے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كردے ؟

شيطان نے اپنے وسوسہ كو جارى ركھتے ہوئے كہا: اس كا دعوى ہے كہ خدانے اسے حكم ديا ہے _ ہاجرہ نے كہا : اگر خدا نے اسے حكم ديا ہے تو پھر اسے اطاعت كرنا چاہيے، اور سوائے رضاو تسليم كے كوئي دوسرى راہ نہيں ہے _

پھر شيطان ان كے بيٹے اسماعيل(ع) كے پاس آيا،اور انھيں ورغلانے لگا ،ان سے بھى اسے كچھ حاصل نہ ہوسكا، كيونكہ اس نے اسماعيل (ع) كو تسليم ورضا كا پيكر پايا _

آخرميں حضرت ابراہيم (ع) كے پاس آيا اور ان سے كہا: ابراہيم(ع) : جو خواب تم نے ديكھا ہے وہ شيطانى خواب ہے، تم شيطان كى اطاعت نہ كرو _

ابراہيم (ع) نے نور ايمان اور نبوت كے پر تو ميں اسے پہچان ليا : چلاكر كہا: ''دورہوجااے دشمن خدا _''

ايك حديث ميں منقول ہے كہ حضرت ابراہيم (ع) پہلے'' مشعرالحرام'' ميں آئے تاكہ بيٹے كى قربانى ديں ، تو شيطان ان كے پيچھے دوڑا _ وہ'' جمرہ اولى '' كے پاس آئے شيطان كو ديكھا ، اس كو سات پتھر مارے، اس كے بعد وہاں سے جمرہ دوم پر ائے وہاں شيطان كو ديكھا تو دوبارہ سات پتھراسے مارے يہاں تك كہ '' جمرہ عقبہ '' ميں آئے تو سات اور پتھراسے مارے _(اور اسے ہميشہ ہميشہ كے لئے اپنے سے مايوس كرديا)_

ميرى والدہ كو سلام كہنا

اس دوران كيا كيا حالات پيش آئے، قرآن نے انھيں تشريح كے ساتھ بيان نہيں كيا اور صرف اس عجيب ماجرے كے نہايت حساس پہلو ذكركئے ہيں _

بعض نے لكھا ہے كہ فدا كار بيٹے نے اس بنا پر كہ باپ كى اس ماموريت كى انجام دہى ميں مدد كرے اور ماں كے رنج واندوہ ميں كمى كرے جس وقت وہ اسے سرزمين '' منى ''كے خشك اور جلاڈالنے والے گرم

۱۳۷

پہاڑوں كے درميان ، قربان گاہ ميں لائے توباپ سے كہا: اباجان :رسى كو مضبوطى كے ساتھ باندھ ديجئے، تاكہ ميں فرمان خداوندى كے اجراء كے وقت ہاتھ پائوں نہ ہلا سكوں ،مجھے ڈرہے كہ كہيں اس سے ميرے اجر ميں كمى واقع نہ ہوجائے _

اباجان :چھرى تيزكر ليجيے اور تيزى كے ساتھ ميرے گلے پر چلايئےاكہ اسے برداشت كرنا مجھ پر بھى (اور آپ پر بھى ) زيادہ آسان ہوجائے_

اباجان : ميرا كرتا پہلے ہى ميرے بدن سے اتار ليجئے تاكہ وہ خون آلودنہ ہو، كيونكہ مجھے خوف ہے كہ كہيں ميرى ماں اسے ديكھے تو دامن صبر اس كے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے_

پھر مزيد كہا: ميرا سلام ميرى ماں كو پہنچاديجئے گا اور اگر كوئي امر مانع نہ ہو تو ميرا كرتا اس كے لئے لے جايئےا جو اسكى تسلى خاطر اور تسكين كا باعث بنے گا كيونكہ وہ اس سے بيٹے كى خوشبوسونگھے گى اور جس وقت دل بے قرار ہوگا تو اسے اپنى آغوش ميں لے لے گى اس طرح يہ اس كے درددل ميں تخفيف كا باعث ہوگا _

باپ بيٹے ايك دوسرے سے مل كررونے لگے

آخروہ حساس لمحے آن پہنچے جب فرمان الہى كى تعميل ہونا تھى حضرت ابراہيم(ع) نے جب بيٹے كے مقام تسليم كو ديكھا، اسے اپنى آغوش ميں لے ليا، اس كے ر خساروں كے بوسے لئے اوراس گھڑى دونوں رونے لگے _ ايسا گريہ تھا كہ ان كے جذبات اور لقائے خدا كےلئے ان كا شوق ظاہر ہوتا تھا _

قرآن مختصر اور معنى خيز عبارت ميں صرف اتنى سى بات كہتا ہے : ''جب دونوں آمادہ وتيار ہوگئے اور (باپ ) ابراہيم (ع) نے بيٹے كو ماتھے كے بل لٹايا''(۱)

قرآن يہاں پھر اختصار كے ساتھ گزرگيا ہے اور سننے والے كو اجازت ديتا ہے كہ وہ اپنے احساسات كى موجوں كى ساتھ قصے كو سمجھے _

____________________

(۱) سورہ صافات آيت ۱۰۳

۱۳۸

بعض نے كہا ہے كہ '' تلہ للجبين ''_سے مراد يہ تھى كہ پيشانى خود اس كى فرمائش پر زمين پر ركھى كہ مبادان كى نگاہ بيٹے كے چہرے پر پڑے اور پدرى جذبات جوش ميں آجائيں اور فرمان خدا كے اجراء ميں مانع ہوجائيں _

بہرحال حضرت ابراہيم نے بيٹے كے چہرے كو خاك پر ركھا اور چھرى كو حركت دى اور تيزى اور طاقت كے ساتھ اسے بيٹے كے گلے پر پھير ديا جب كہ ان كى روح ہيجان ميں تھى اور صرف عشق خداہى انھيں اپنى راہ ميں كسى شك كے بغير آگے بڑھا رہاتھا _

ليكن تيزدھار چھرى نے بيٹے كے لطيف ونازك گلے پر معمولى سا بھى اثر نہ كيا _

حضرت ابراہيم(ع) حيرت ميں ڈوب گئے ،دوبارہ چھرى كو چلايا ، ليكن پھر بھى وہ كار گر ثابت نہ ہوئي ، ہاں : خليل تو كہتے ہيں كہ ''كاٹ'' ليكن خدا وند جليل يہ حكم دے رہا ہے كہ ''نہ كاٹ '' اور چھرى تو صرف اسى كى فرمانبردارہے _

يہ وہ منزل ہے كہ جہاں قرآن ايك مختصر اور معنى خيز جملے كے ساتھ انتظار كو ختم كرتے ہوئے كہتا ہے:'' اس وقت ہم نے ندادى (اور پكار كر كہا ) كہ اے ابراہيم : خواب ميں جو حكم تمھيں ديا گيا تھا وہ تم نے پورا كرديا ،ہم نيكو كاروں كو اسى طرح جزا ديا كرتے ہيں _ ''(۱)

ہم ہى انھيں امتحان ميں كاميابى كى توفيق ديتے ہيں اور ہم ايسا بھى نہيں ہونے ديں گے كہ ان كا فرزند دل بندان كے ہاتھ ہى سے چلاجائے ہاں : جو شخص سرتاپا ہمارے حكم كے سامنے سر تسليم خم كئے ہوئے ہے اوراس نے نيكى كو اعلى حد تك پہنچا ديا ہے ، اس كى اس كے سوااور كوئي جزا نہيں ہوگى _

اس كے بعد مزيد كہتا ہے :'' بے شك يہ اہم اور آشكار امتحان ہے _''(۲)

بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كرنا ، وہ بھى نيك اور لائق بيٹا ،اس باپ كے لئے جس نے ايك عمر ايسے

____________________

(۱)سورہ صافات آيات ۱۰۴

(۲) سورہ صافات آيات ۱۰۶

۱۳۹

فرزند كے انتظار ميں گذارى ہو، آسان كام نہيں ہے _ ايسے فرزندكى ياد كس طرح دل سے نكال سكتا تھا ؟اس سے بھى بالا تر يہ كہ وہ انتہائي تسليم ورضا كے ساتھ ماتھے پرشكن لائے بغير ايسے فرمان كى تعميل كے لئے آگے بڑھے اور اس كے تمام مقدمات كو آخرى مرحلے تك انجام دے ، اس طور پر كہ روحانى اور عملى آمادگى كے لحاظ سے كوئي كسرباقى نہ چھوڑے _

اس سے بھى بڑھ كر عجيب، اس فرمان كے آگے اس نوجوان كى اطاعت شعارى كى انتہا ،وہ خوشى خوشى ، اطمينان قلب كے ساتھ پروردگار كے لطف سے ، اس كے ارادے كے سامنے ، سرتسليم خم كرتے ہوئے ، ذبح كے استقبال كےلئے آگے بڑھا _

جبرئيل (ع) كى فرياد تكبير

جس وقت يہ كام انجام پاچكا تو جبرئيل نے (تعجب كرتے ہوئے )پكاركر كہا '' اللّہ اكبر'''' اللّہ اكبر'' ابراہيم(ع) كے فرزندنے كہا : ''لااله الااللّه و اللّه اكبر ''_اور عظيم فداكار باپ نے بھى كہا '' اللّہ اكبر واللّہ الحمد '' _

اور يہ ان تكبيروں كے مشابہ ہے جو ہم عيد قربان كے دن پڑھتے ہيں _

ہم جانتے ہيں كہ اسلامى روايات ميں عيد الاضحى كے بارے ميں جو احكام آئے ہيں ان ميں كچھ مخصوص تكبيريں ہيں جو تمام مسلمان پڑھتے ہيں چاہے وہ مراسم حج ميں شريك ہوں اوريا منى ميں موجود ہوں اور چاہے دوسرے مقامات پر ہوں _ فرق اتنا ہے كہ جو منى ميں ہيں وہ ان نمازوں كے بعد پڑھتے ہيں جن سے پہلى عيد كے دن كى نماز ظہر ہے اور جو منى ميں نہيں ہوتے وہ ان نمازوں كے بعد تكرار كرتے ہيں اور ان تكبيرات كى صورت اس طرح ہے :

''اللّه اكبر، اللّه اكبر، لااله الاللّه ، اللّه اكبر ، اللّه اكبر، وللّه الحمد، اللّه اكبر على ماهدانا ''_

جس وقت ہم اس حكم كا اس حديث كے ساتھ موازنہ كركے ديكھتے ہيں ، جسے ہم پہلے نقل كرچكے

۱۴۰