قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27840
ڈاؤنلوڈ: 1543

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27840 / ڈاؤنلوڈ: 1543
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

ہيں _ تو معلوم ہوتا ہے كہ يہ تكبيريں حقيقت ميں جبرئيل(ع) اور اسماعيل (ع) اور ان كے باپ ابراہيم كى تكبيروں كا مجموعہ ہيں ، اور كچھ اس پراضافہ ہے _دوسرے لفظوں ميں يہ الفاظ حضرت ابراہيم(ع) اور حضرت اسماعيل كى اس عظيم آزمائش ميں كاميابى كى ياد لوگوں كى نظروں ميں زندہ كرتے ہيں ، اور تمام مسلمانوں كو ايك پيغام الہى ديتے ہيں چاہے وہ منى ميں ہوں يا منى كے علاوہ دوسرے مقامات پر _''(۱)

ذبح عظيم

ليكن اس غرض سے كہ ابراہيم(ع) كا پروگرام بھى نامكممل نہ رہ جائے اور خدا كى بارگاہ ميں ان كى طرف سے قربانى بھى ہوجائے اور ابرہيم كى آرزو پورى ہوجائے ، خدا نے ايك بہت بڑا مينڈھا بھيج ديا تاكہ بيٹے كى جگہ اس كى قربانى كريں اور مراسم '' حج'' اور سرزمين '' منى '' ميں آنے والوں كے لئے اپنى سنت چھوڑجائيں چنانچہ قرآن كہتا ہے :'' ہم نے ذبح عظيم كو اس كا فديہ قرارديا _''(۲)(۲)

اس ذبح كى عظمت كى ايك نشانى يہ ہے كہ زمانہ گذرنے كے ساتھ ساتھ ہر سال زيادہ وسعت پارہى ہے _

اس وقت ہر سال اس ذبح عظيم كى ياد ميں بيس لاكھ سے زيادہ'' منى ''ميں جانورذبح كيے جاتے ہيں اوراس ياد كو زندہ كيا جاتاہے_

____________________

(۱) سورہ حجر آيت ۵۱

(۲)سورہ صافات آيات ۱۰۷

(۳) اس بارے ميں كہ اس ذبح كى عظمت كس لحاظ سے تھى ، جسمانى اور ظاہرى لحاظ سے يااس جہت سے كہ فرزند ابراہيم كا فديہ تھى يا اس لحاظ سے كہ خدا كى راہ ميں اور خداكے لئے تھى يا اس لحاظ سے كہ قربانى خدا كى طرف سے ابراہيم كے لئے بھيجى گئي تھى _

مفسرين نے اس سلسلے ميں بہت كچھ كہا، ليكن كوئي مانع نہيں كہ يہ تمام جہات ذبح عظيم ميں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت كى حامل ہو_

۱۴۱

وہ بہت بڑامينڈھا ابراہيم كو كس طرح ديا گيا اس بارے ميں زيادہ تر اس بات كے معتقد ہيں كہ اسے جبرئيل لائے تھے ، بعض يہ بھى كہتے ہيں كہ وہ ''مني'' كے پہاڑوں كے دامن سے نيچے اتراتھا _ بہرحال جو كچھ بھى تھا خدا كے حكم اور اس كے ارادے سے تھا ،خدانے نہ صرف اس دن كے عظيم امتحان ميں حضرت ابراہيم كى كاميابى كى تعريف وتوصيف كى بلكہ اس كى ياد كو جاويدانى بناديا _

جيسا كہ قرآن ميں فرمايا گيا ہے :''ہم نے ابراہيم كے نيك نام كوبعد كى امتوں ميں باقى رہنے والا بنايا _''(۱)

وہ آنے والى سب نسلوں اور لوگوں كے لئے نمونہ اور تمام پاكباز اور كوئے دوست كے دلدادہ عاشقوں كے لئے راہنمابن گئے اور ہم نے ان كے طرز عمل كو رہتى دنيا تك كے لئے حج كى سنت كے طور پر جاويدانى بناديا وہ عظيم پيغمبروں كے باپ تھے وہ امت اسلامى اور پيغمبر اسلام كے باپ تھے _

'' ابراہيم پر سلام (جو مخلص اور پاكباز تھے) _''(۲) ہاں '' ہم اسى طرح سے نيكو كاروں كو بدلہ ديا كرتے ہيں _''(۳) عظمت دنيا كاصلہ، تمام زمانوں ميں باقى رہنے والا كاصلہ ،خدائے برزگ كے لائق درودوسلام كاصلہ _

ذبيح اللہ كون ہے ؟

اس بارے ميں كہ حضرات ابراہيم كے دونوں فرزندوں (اسماعيل (ع) اور اسحاق (ع) ) ميں سے كون قربان گاہ ميں لايا گيا اور كس نے ذبيح اللہ كا لقب پايا؟ مفسرين كے درميان شديد بحث ہے ايك گروہ حضرت اسحاق (ع) كو '' ذبيح'' جانتا ہے اور ايك جماعت حضرت اسماعيل (ع) ،كو پہلے نظريہ كو بہت سے مفسرين اہل سنت اور دوسرے نظريہ كو مفسرين شيعہ نے اختيار كيا ہے ،ليكن جو كچھ قرآن كى مختلف آيات كے ظاہر سے ہم آہنگ ہے وہ يہى ہے كہ '' ذبيح'' '' اسماعيل (ع) '' تھے_

____________________

(۱)سورہ صافات آيت ۱۰۸

(۲)سورہ صافات آيت ۱۰۹

(۳) سورہ صافات آيت۱۱۰

۱۴۲

جناب اسحاق كى بشارت

يہ امر جاذب نظر ہے كہ بات حضرت ابراہيم عليہ السلام كے مہمانوں كے واقعہ سے شروع كى گئي ہے (وہى فرشتے كہ جو آپ كے پاس انسانى لباس ميں آئے تھے پہلے انھوں نے آپ كو ايك ذى وقاربيٹے كى پيدائش كى بشارت دى اور پھر قوم لوط كے دردناك انجام كى خبردى )_

ارشادفرمايا : ميرے بندوں كو ابراہيم كے مہمانوں كے بارے ميں خبردو _''(۱)

يہ بن بلائے مہمان وہى فرشتے تھے جنہوں نے '' ابراہيم (ع) كے پاس پہنچ كر پہلے انجانے طور پر اسے سلام كيا _''(۲)

جيسا كہ ايك بزرگوار ميزبان كا فريضہ ہے، ابراہيم(ع) نے ان كى پذيرائي كا اہتمام كيا فورا ًان كےلئے مناسب غذافراہم كى ليكن جب دسترخوان بچھايا گيا تو انجانے مہمانوں نے غذا كى طرف ہاتھ نہ بڑھايا تو حضرت ابراہيم(ع) كو اس پر وحشت ہوئي ،انھوں نے اپنى پريشانى چھپائي نہيں صراحت سے ان سے كہا: ''ہم تم سے خوفزدہ ہيں _ ''(۳)

يہ خوف اس رواج كى بناء پر تھا كہ اس زمانے ميں اور بعد ميں بھى بلكہ ہمارے زمانے تك بعض قوموں كا معمول ہے كہ جب كوئي شخص كسى كا نان نمك كھاليتا ہے تو اسے ضرر نہيں پہنچاتااور اپنے آپ كو اس كا ممنون احسان سمجھتا ہے لہذا كھانے كى طرف ہاتھ نہ بڑھانے كو برا سمجھتا ہے اور اسے كينہ وعداوت كى دليل شمار كيا جاتاہے _

ليكن زيادہ ديرنہ گذرى تھى كہ فرشتوں نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو پريشانى سے نكال ديا اور ''ان سے كہا :'' ڈرو نہيں ہم تجھے ايك عالم ودانا بيٹے كى بشارت ديتے ہيں _''(۴)

____________________

(۱) سورہ حجر آيت ۵۱

(۲) سورہ حجر آيت ۵۲

(۳) سورہ حجر آيت۵۲

(۴)سورہ فجر آيت ۵۳

۱۴۳

يہ كہ غلام عليم(صاحب علم لڑكے ) سے كون مراد ہے؟

قرآن كى ديگر آيات كو سامنے ركھتے ہوئے واضح ہوجاتاہے كہ اس سے مراداسحاق ہيں كيونكہ فرشتوں نے جب حضرت ابراہيم كو يہ بشارت دى تو ان كى بيوى سارہ جوظاہراً ايك بانجھ عورت تھى وہ بھى موجود تھى انھوں نے اسے بھى يہ بشارت دي_(۱)

ہم يہ بھى جانتے ہيں كہ سار ہ حضرت اسحاق عليہ السلام كى والدہ تھيں اس سے پہلے حضرت ابراہيم عليہ السلام حضرت ہاجرہ سلام اللہ عليہا سے صاحب اولاد تھے حضرت اسماعيل عليہ السلام ان كے فرزند تھے ( حضرت ہاجرہ وہ كنيزتھيں جنھيں حضرت ابراہيم نے زوجيت كے لئے انتخاب كيا تھا ) ليكن حضرت ابراہيم(ع) اچھى طرح جانتے تھے كہ طبيعى اصولوں كے لحاظ سے ان سے ايسے بيٹے كى پيدائش بہت بعيد ہے اگرچہ خدا كى قدرت كاملہ كے لئے كوئي چيز محال نہيں ہے، مگر انھوں نے معمول كے طبيعى قوانين كى طرف توجہ كى جس نے ان كے تعجب كو ابھارا لہذا انھوں نے كہا مجھے ايسى بشارت ديتے ہو حالانكہ ميں بڑھاپے كى عمر كو پہنچ گيا ہوں ،واقعاً مجھے كس چيز كى بشارت دے رہے ہو _(۲)

''كيا تمہارى يہ بشارت حكم الہى سے ہے يا خود تمہارى طرف سے ہے صراحت سے كہو تاكہ مجھے زيادہ اطمينان ہو''_

''ممكن ہے كہا جائے كہ اس لحاظ سے ابراہيم ايك اچھے تجربے سے گذرے تھے كہ بڑھاپے ميں ہى ان كے بيٹے اسماعيل پيدا ہوئے تھے لہذا نئے بيٹے يعنى حضرت اسحاق كى پيدائش كے بارے ميں انھيں تعجب نہيں كرنا چاہئے تھا ليكن معلوم ہونا چاہئے ،كہ بعض مفسرين كے بقول حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق كى پيدائش ميں دس سال سے زيادہ كا فاصلہ تھا لہذابڑھاپے ميں دس سال گذر جائيں تو بچے كى پيدائش كا احتمال بہت ہى كم ہوتا ہے_

____________________

(۱) سورہ ہودكى آيہ ۷۱ميں ہے''اس كى بيوى كھڑى تھى ،وہ ہنسى اور ہم نے اسے اسحاق كى بشارت دي''

(۲)سورہ حجر ايت ۵۴

۱۴۴

ثانياً اگر كوئي واقعہ خلاف معمول ہو اگر چہ استثنائي طورپر ہو،اس سے مشابہ مواقع پر تعجب كرنے سے مانع نہيں ہے''_

كيونكہ ايسے سن وسال ميں بچے كى پيدائش بہرحال ايك امر عجيب ہے ،كہتے ہيں كہ جناب اسماعيل كى پيدائش كے وقت جناب ابرہيم (ع) كى ۹۹/ سال كى عمر تھى اور جناب اسماعيل كى ولادت كے وقت ۱۱۲/كى عمر ہوچكى تھي_(۱)

بہرحال فرشتوں نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ترد د يازيادہ تعجب كا موقع نہ ديا ، اور ان سے صراحت وقاطعيت سے كہا ہم تجھے حق كے ساتھ بشارت دے رہے ہيں _ ''(۲)

وہ بشارت كہ جوخدا كى طرف سے ہے اور اس كے حكم سے ہے اسى بناء پر يہ حق ہے مسلم ہے _

اس كے بعد اس لئے كہ مبادا ابراہيم مايوس ونااميد ہوں تاكيد كے طور پر كہنے لگے : ''اب جبكہ ايسا ہے تو مايوس ہونے والوں ميں سے نہ ہو ''_

ليكن ابراہيم عليہ السلام نے فوراً ان كے اس خيال كودور كرديا كہ يہاں پر مايوسى اوررحمت خدا سے نااميدى كا غلبہ نہيں ہے اور واضح كيا كہ يہ تو صرف طبيعى معمولات كے حوالے سے تعجب ہے، لہذا صراحت سے كہا: گمراہوں كے سوا اپنے پروردگار كى رحمت سے كون مايوس ہوگا_''(۳)

وہى گمراہ كہ جنھوں نے خدا كواچھى طرح نہيں پہچانا اور اس كى بے پاياں قدرت پر ان كى نگاہ نہيں _ وہ خدا كہ جو مشت خاك سے ايسا عجيب وغريب انسان پيدا كرتا ہے اور ناچيز نطفہ سے ايك مكمل بچہ وجود ميں لاتاہے خرمے كا خشك درخت جس كے حكم سے پھل سے لدجاتاہے اور جلانے والى آگ جس كے حكم سے گلزار ہوجاتى ہے، كون شخص ايسے پروردگار كى قدرت ميں شك كرے يا اس كى رحمت سے مايوس ہو _

____________________

(۱)سورہ حجر ايت ۵۵

(۲) سورہ حجر آيت۵۳

(۳)سورہ حجر آيت ۵۵

۱۴۵

حضرت ابراہيم (ع) كے ہاتھوں خانہ كعبہ كى تعمير نو

قرآن كى مختلف آيات،احاديث اور تو اريخ اسلامى سے واضح ہوتا ہے خانہ كعبہ حضرت ابراہيم سے پہلے ،بلكہ حضرت آدم (ع) كے زمانے ميں موجود تھا كيونكہ سورہ ابراہيم ميں حضرت ابراہيم (ع) جيسے عظيم پيغمبر كى زبانى يوں آياہے :

پروردگار :ميں اپنى ذريت ميں سے (بعض كو ) اس بے آب وگياہ وادى ميں تيرے محترم گھر كے پاس بسارہاہوں _ ''(۱)

يہ آيت واضح طور پر گواہى ديتى ہے كہ جب حضرت ابراہيم اپنے شير خوار بيٹے اسماعيل اور اپنى زوجہ كے ساتھ سرزمين مكہ ميں آئے تو خانہ كعبہ كے آثار موجود تھے _

اسى طرح سورہ آل عمران ميں بھى ہے :

''پہلا گھر جو عبادت خدا كى خاطر انسانوں كے لئے بنايا گيا وہ سرزمين مكہ ميں تھا'' _(۲)

يہ مسلم ہے كہ عبادت خدا اور مركز عبادت كى بنياد حضرت ابراہيم عليہ السلام كے زمانہ سے نہيں پڑى بلكہ حضرت آدم عليہ السلام كے زمانے سے يہ سلسلہ جارى تھا _

اتفاقاً قرآنى كى تعبير بھى اس معنى كو تقويت ديتى ہے كہ فرماياگيا ہے : ياد كرو اس وقت كو جب ابراہيم اور اسماعيل عليہما السلام (جب اسماعيل عليہ السلام كچھ بڑے ہوگئے تو ) خانہ كعبہ كى بنيادوں كو اونچا كررہے تھے اور كہتے تھے:''پروردگاراہم سے قبول فرما،تو سننے والا اور جاننے والا ہے_''(۳)

آيت كا يہ انداز بتاتا ہے كہ خانہ كعبہ كى بنياديں موجود تھيں اور ابراہيم(ع) اور اسماعيل(ع) اس كے ستون بلند كررہے تھے _

نہج البلاغہ كے مشہور خطبہ قاصعہ ميں بھى ہے :

____________________

(۱)سورہ ابراہيم آيت ۳۷

(۲)سورہ ال عمران ايت ۹۶

(۳)سورہ بقرہ آيت ۱۲۷

۱۴۶

''كيا ديكھتے نہيں كہ ہو كہ خدا نے آدم سے لے كر آج تك كچھ پتھروں كے ذريعہ ذريعہ امتحان ليا(وہ پتھر كہ) جنھيں اپنا محترم گھر قرار ديا، پھر آدم اور اولاد آدم كو حكم ديا كہ اس كے گرد طواف كريں ''_

مختصر يہ كہ آيات قرآن اور روايات ،تاريخ كى اس مشہور بات كى تائيد كرتى ہيں كہ خدا كعبہ پہلے پہل حضرت آدم عليہ السلام كے ہاتھوں بنا_ پھر طوفان نوح(ع) ميں گرگيا _ اس كے بعد حضرت ابراہيم عليہ السلام اوران كے فرزند حضرت اسماعيل عليہ السلام كے ہاتھوں اس كى تعمير نو ہوئي _

حضرت ابراہيم عليہ السلام كو انعام ميں امامت ملي

قرآن كريم حضرت ابراہيم عليہ السلام كى زندگى كے اہم ترين موڑ يعنى ان كى بڑى بڑى آزمائش وں اور ان ميں ان كى كاميابى كے متعلق گفتگو كرتا ہے وہ آزمائش يں جنھوں نے ابراہيم عليہ السلام كى عظمت، مقام اور شخصيت كو مكمل طور پر نكھار ديا اور ان كى شخصيت كى بلندى كو روشن كرديا، ارشاد ہوتا ہے:

''اس وقت كو ياد كرو جب خدا نے ابراہيم كو مختلف طريقوں سے آزمايا اور وہ ان آزمائش وں ميں اچھى طرح سے كامياب ہوئے_''(۱)

جب ابراہيم عليہ السلام ان امتحانات ميں كامياب ہوگئے تو وہ منزل آئي كہ خدا انھيں انعام دے ،تو فرمايا: ''ميں تمہيں لوگوں كا امام، رہبر اورپيشوا قرار ديتا ہوں _''(۲)

'' ابراہيم عليہ السلام نے درخواست كى كہ ميرى ذريت اور خاندان سے بھى آئمہ قرار دے ''تاكہ يہ رشتہ نبوت وامامت منقطع نہ ہو، اور صرف مجھ سے قائم نہ رہے_ ''(۳)

خدا نے اس كے جواب ميں فرمايا:''ميرا عہدہ يعنى مقام امامت ظالموں تك ہرگز نہيں پہنچے گا_''(۴)

____________________

(۱) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴

(۲) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴

(۳) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴

(۴) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴

۱۴۷

يعنى ہم نے تمہارى درخواست قبول كرلى ہے ليكن تمہارى ذريت ميں سے صرف وہ لوگ اس مقام كے لائق ہيں جو پاك اور معصوم ہيں _

ابراہيم عليہ السلام كا كن چيزوں كے ذريعہ امتحان ليا گيا

آيات قرآن سے اور ابراہيم عليہ السلام كے وہ نظر نوازاعمال جن كى خدانے تعريف كى ہے،ان كے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے كہ كلمات (وہ جملے جو خدانے ابراہيم عليہ السلام كو سكھائے ) در اصل ذمہ داريوں كا ايك گراں اور مشكل سلسلہ تھا جو خدانے ابراہيم عليہ السلام كے ذمہ كيا اور اس مخلص پيغمبر نے انہيں بہترين طريقے سے انجام ديا _

حضرت ابراہيم عليہ السلام كے امتحانات ميں يہ امور شامل تھے :

(۱)بيٹے كو قربان گاہ ميں لے جانا اور فرمان خدا سے اسے قربان كرنے كے لئے پر عزم آمادگى كا مظاہرہ كرنا _

(۲) اپنى بيوياں اور بيٹے كو مكہ كى خشك اور بے آب وگياہ سرزمين ميں لے جانا جہاں كوئي انسان نہ بستا تھا _

(۳) بابل كے بت پر ستوں كے مقابلے ميں قيام كرنا ،بتوں كو توڑنا اور اس تاريخى مقدمو ں ميں پيش ہونا اور نتيجتاًآگ ميں پھينكا جانا اور ان تمام مراحل ميں اطمينان وايمان كا ثبوت دينا _

(۴) بت پرستوں كى سرزمين سے ہجرت كرنا اور اپنى زندگى كے سرمائے كو ٹھوكرمارنا اور ديگر علاقوں ميں جاكر پيغام حق سنانا ،ايسے اور بھى بہت سے امور ہيں _

حقيقت يہ ہے كہ ان ميں سے ہر ايك بہت سخت اور مشكل آزمائش تھى ليكن ابراہيم عليہ السلام ايمانى قوت كے ذريعہ ان تمام امتحانات ميں پورا اترے اور ثابت كيا كہ وہ مقام'' امامت ''كى اہليت ركھتے تھے _

۱۴۸

امام كسے كہتے ہيں ؟

قرآن كريم سے اجمالاً يہ ظاہر ہوتا ہے كہ حضرت ابراہيم كو جو مقام امامت بخشا گيا وہ مقام نبوت ورسالت سے بالاتر تھا_ ''

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :

''خداوندعالم نے نبى بنانے سے قبل ابراہيم عليہ السلام كو عبد قرار ديا،اور اللہ نے انہيں رسول بنانے سے قبل نبى قرار ديا،اور انہيں خليل بنانے سے پہلے اپنى رسالت كے لئے منتخب كيا اور اس سے پہلے كہ امام بناتا انھيں اپنا كليل بناياجب يہ تمام مقامات و مناصب انہيں حاصل ہوچكے تو اللہ نے فرمايا ميں تمہيں انسانوں كے لئے امام بناتا ہو ں حضرت ابراہيم كو يہ مقام عظيم ديا تو انہوں نے عرض كيا : خدايا ميرى ذريت ميں سے بھى امام قرار دے _ ارشاد ہوا: ميرا عہدہ ظالموں تك نہيں پہنچے گا، بے وقوف شخص متقى لوگوں كا امام نہيں ہوسكتا _

۱۴۹

۳ انبياء عليهم السلام کے واقعات

حضرت لوط عليہ السلام

جناب لوط عليہ السلام خدا كے عظيم پيغمبر تھے اور حضرت ابراہيم (ع) كے ہم عصر تھے اور جناب ابراہيم(ع) سے قريبى رشتہ دارى تھى (كہا جاتاہے كہ آپ جناب ابراہيم(ع) كے خا لہ زاد بھائي تھے )_

يہ بات مسلمہ ہے كہ ابراہيم(ع) عراق اور سرزمين بابل سے ہجرت كرنے كے بعد شامات كى طرف گئے، كہتے ہيں كہ لوط بھى ان كے ساتھ تھے ليكن كچھ مدت كے بعد (توحيد كى طرف دعوت دينے اور فتنہ وفساد سے مبارزہ كے لئے ) شہر'' سدوم'' كى طرف گئے _

'' سدوم '' قوم لوط كے ايك شہر اور آبادى كا نام تھا جو شامات( ملك اردن ميں )'' بحر الميت'' كے قريب واقع تھا جو آباد اور درختوں اور سبزہ زار سے بھرا تھا، ليكن اس بدكاروبے غيرت قوم پر عذاب الہى كے نازل ہونے كے بعد، ان كے شہر مسمار اور تہ وبالا ہوگئے ، چنانچہ انہيں '' مدائن مو تفكات''_ (تہ وبالاہونے والے شہر) كہتے ہيں _

بعض كا نظر يہ، يہ ہے كہ ان شہروں كے ويرانے زير آب آگئے ہيں ، اور ان كا دعوى ہے كہ انہوں نے '' بحر الميت''كے ايك گوشہ ميں كچھ ستون اور دوسرے آثار جوان شہروں كے خرابوں پر دلالت كرتے ہيں ديكھے ہيں _

جب كہ بعض لوگوں كا نظريہ ہے كہ قوم لوط كے شہر زير اب نہيں ائے ،اور اب بھى ''بحر الميت''كے قريب ايك علاقہ ہے جو سياہ پتھروں كے نيچے ڈھكا ہوا ہے، احتمال ہے كہ قوم لوط كے شہروں كى جگہ يہيں ہو _

۱۵۰

اور يہ بھى كہا ہے كہ ابراہيم(ع) كا مركز شہر'' حبرون'' ميں تھا ، جو شہر'' سدوم '' سے چنداں دور فاصلہ پر نہيں تھا، اور جس وقت زلزلہ يا صاعقہ كے زيراثران كے شہروں كو آگ لگى تو اس وقت ابراہيم حبرون كے قريب كھڑے ہوئے تھے، اور شہر سے جو دھنواں اٹھ رہا تھا اسے اپنى آنكھ سے ديكھ رہے تھے _

اس گفتگو كے مجموعہ سے ان شہروں كے قريباً حدودواضح ہوگئے، اگرچہ ان كے جزئيات كے ابھى تك پردہ ابہام ميں ہيں _

قوم لوط كا سب سے بڑا اخلاقى انحراف

قرآن كريم اس عظيم پيغمبر اور ان كى قوم كے واقعہ كو اس طرح شروع كرتا ہے كہ ''لوط كى قوم نے خدا كے بھيجے ہوئے رسولوں كى تكذيب كي_''(۱)

'' مرسلين ''رسولوں كو جمع كى صورت ميں بيان كرنے كى وجہ يا تويہ ہے كہ انبياء عليہم السلام كى دعوت ايك ہوتى ہے لہذا كسى بھى پيغمبر كى تكذيب سب كى تكذيب شمار كى جاتى ہے يا پھر اس لئے ہے كہ وہ گزشتہ كسى بھى پيغمبر پر ايمان نہيں ركھتے تھے_پھر فرمايا گيا ہے : ميں تمہارے لئے امين رسول ہوں _

اب جبكہ صورت حال يہ ہے تو پرہيزگارى اختياركرو ، خدا سے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ،كيونكہ ميں راہ سعادت كا رہبر ہوں _''(۲)

كيا اب تك تم نے مجھ سے كوئي خيانت ديكھى ہے ؟اس كے بعد وحى الہى اور تمہارے رب كا پيغام پہنچانے ميں بھى يقينا امانت كو مدنظر ركھوں گا _

يہ نہ سمجھوكہ يہ دعوت الہى ميرے گزراوقات كا ايك ذريعہ ہے يا كسى مادى مقصد كو پيش نظر ركھ كر ايسا كام كررہاہوں ، نہ، ميں تو ذرہ بھر بھى تم سے اجرت نہيں مانگتا، ميرا اجر تو صرف عالمين كے رب كے پاس ہے_''(۳)

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۱

(۲)سورہ شعراء آيت ۱۶۲

(۳)سورہ شعراء آيت ۱۶۳

۱۵۱

پھروہ ان كے ناشائستہ اعمال اورا ن كى كچھ اخلاقى بے راہروى كى باتوں كو بيان كرتے ہيں اور چونكہ ان كا بڑا انحراف اور ہم جنس بازى تھا لہذا اسى بات پرزيادہ زوردے كر كہتے ہيں : آيا تم سارى دنيا ميں صرف مردوں كے پاس ہى جاتے ہو ''_(۱)

يعنى باوجود يكہ خداوندعالم نے اس قدر جنس مخالف تمہارے لئے خلق فرمائي ہے جن سے صحيح طريقے سے شادى كركے پاك وپاكيزہ اور اطمينان بخش زندگى بسركرسكتے ہو ں

خدا كى اس پاك اور فطرى نعمت كو چھوڑكر تم نے خود كو اس طرح كے پست اور حيا سوزكام سے آلودہ كرليا ہے _

''اپنى ازواج كو ترك كرديتے ہو جنھيں خدانے تمہارے لئے خلق فرمايا ہے تم تو تجاوز كرنے والى قوم ہو _''(۲)

يقينا كسى روحانى يا جسمانى فطرى ضرورت نے تمہيں اس بے راہروى پر آماوہ نہيں كيا بلكہ يہ تمہارى سركشى ہے جس نے تمہارے دامن كو اس شرمناك فعل كى گندگى سے آلودہ كرديا ہے _

تمہارے كام كى مثال ايسے ہے جيسے كوئي شخص خوشبودار ميوے ،مقوى اور صحيح سالم غذائيں چھوڑكرزہر آلوداور مارڈالنے والى غذائوں كو استعمال كرے يہ فطرى خواہش نہيں بلكہ سركشى ہے _

جہاں پر عفت ايك عيب ہو

قوم لوط كے افراد جو بادہ شہوت وغرور سے مست ہوچكے تھے، اس رہبر الہى كى نصيحتوں كو جان ودل سے قبول كرنے اور خود كو اس دلدل سے باہر نكالنے كى بجائے اس كے مقابلے پر تل گئے اور ان سے كہا :اے لوط(ع) كافى ہوچكا ہے ،اب خاموش رہو اگر ان باتوں سے بازنہ آئے تو تمہارا شمار بھى اس شہر سے نكال ديئےانے والوں ميں سے ہوگا ''_(۳)

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۵

(۲) سورہ شعراء آيت ۱۶۶

(۳)سورہ شعرا آيت ۱۶۷

۱۵۲

تمہارى باتيں ہمارى فكر اور آرام ميں خلل ڈال رہى ہيں ہم ان باتوں كے سننے كے ہرگز روادار نہيں ، اگر تمہارى يہى حالت رہى تو ہم تمہيں سزاديں گے جو كم از كم جلاوطنى كى صورت ميں ہوگى ہے _قرآن مجيدميں ايك اور مقام پر ہے كہ انھوں نے اپنى اس دھكى كو عملى جامہ بھى پہنايا اور حكم ديا كہ لوط(ع) كے خاندان كو شہرسے باہر نكال دو كيونكہ وہ پاك لوگ ہيں اور گناہ نہيں كرتے _

ان گمراہ اور گناہ سے آلود لوگوں كى جسارت اس حدتك جاپہنچى كہ تقوى اور طہارت ان كے درميان بہت بڑا عيب سمجھا جانے لگا اور ناپا كى اور گناہ سے آلود گى سرمايہ افتخار اور يہ كسى معاشرے كى تباہى كى علامت ہوتى ہے جو تيزى كے ساتھ برائيوں كى طرف بڑھ رہا ہوتا ہے _اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس فاسق وفاجر گروہ نے ايسے پاك وپاكيزہ لوگوں كوپہلے باہرنكال ديا جوان كوان كے بے ہودہ اعمال سے روكا كرتے تھے لہذا انھوں نے حضرت لوط عليہ السلام كو بھى يہى دھمكى دى كہ اگر تم نے اپنے اس تبليغى سلسلے كو جارى ركھا تو تمہارا بھى وہى انجام ہوگا _بعض تفسيروں ميں صراحت كے ساتھ تحرير ہے كہ وہ پاك دامن لوگوں كو بدترين طريقے سے جلاوطن كرديا كرتے تھے _

قرآن كہتا ہے ان كے پاس اس كے سوا اور كوئي جواب نہيں تھا كہ ايك دوسرے سے كہا: ''لوط كے خاندان كو اپنے شہر اور علاقے سے نكال باہر كرو كيونكہ يہ برے پاكباز لوگ ہيں اور يہ اپنے تئيں ہم سے ہم آہنگ نہيں كرسكتے ''_(۱)

يہ ايك ايسا جواب ہے جو ان كى فكرى پستى اور انتہائي اخلاقى تنزل كا آئينہ دار ہے _

جى ہاں : مجرم اور گناہ سے آلودہ ماحول ميں پاكيزگى ايك جرم وعيب ہوا كرتى ہے يوسف جيسے پاكدامن كو عفت وپارسائي كے جرم ميں زندانوں ميں ڈالا جاتا ہے جبكہ زليخائيں اس ماحول ميں آزاد اور صاحب جاہ ومقام ،ہوا كرتى ہيں اور قوم لوط(ع) اپنے اپنے گھروں ميں آرام وآساآش كے ساتھ رہتى ہے _

____________________

(۱) سورہ شعراء آيت ۱۶۷

۱۵۳

يہيں پر قرآن مجيد كا مصداق واضح ہوجاتاہے جووہ گمراہ لوگوں كے بارے ميں كہتا ہے كہ:

ہم (ان كے اپنے اعمال كى بناپر) ان كے دلوں پر مہرلگاديتے ہيں اور ان كى آنكھوں پر پردے ڈال ديتے اور ان كے كان بہرے ہوجائے _

ايك احتمال يہ بھى ہے كہ وہ گناہوں كى دلدل ميں اس حدتك پھنس چكے تھے كہ لوط كے خاندان كا تمسخراڑا كر كہتے تھے كہ وہ ہميں ناپاك سمجھتے ہيں اور خود بڑے پاكباز بنتے ہيں ، يہ كيسا مذاق ہے؟

يہ عجيب بات نہيں تو اور كيا ہے كہ بے حيائي اور بے شرمى كے فعل سے مانوس ہوجانے كى وجہ سے انسان كى حس شناخت ہى يكسر بدل جائے يہ بالكل اس چمڑارنگنے والے كى مثال ہے جوبدبوسے مانوس ہوچكا تھا اور جب ايك مرتبہ وہ عطاروں كے بازارسے گزررہا تھا تو عطر كى نامانوس بوكى وجہ سے بے ہوش ہوگيا، جب اسے حكيم كے پاس لے گئے تو اس نے حكم ديا كہ اسے دوبارہ چمڑار نگنے والوں كے بازار ميں لے جاياجائے چنانچہ ايسا ہى كيا گيا اور وہ ہوش ميں آگيا اور مرنے سے بچ گيايہ واقعاًاس بارے ميں ايك دلچسپ حسى مثال ہے _

۳۰ /سال سعى و كوشش

جناب لوط عليہ السلام نے اس قوم كو تيس سال تك تبليغ كي، ليكن اپنے خاندان كے سوا(اور وہ بھى بيوى كو مستثنى كر كے كيونكہ وہ مشركين كے ساتھ ہم عقيدہ ہوگئي تھي)، اور كوئي آپ پر ايمان نہيں لايا_

ليكن حضرت لوط عليہ السلام نے ان دھمكيوں كى كوئي پرواہ نہ كى اور اپنا كام جارى ركھا اور كہا :'' ميں تمہارے ان كاموں كا دشمن ہوں _''(۱)

يعنى ميں اپنا احتجاج برابر جارى ركھوں گا ،تم جو كچھ ميرا بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑلو ،مجھے راہ خدا اور برائيوں كے خلاف جہاد كے سلسلے ميں ان دھمكيوں كى قطعا ًكوئي پرواہ نہيں ہے_

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۷

۱۵۴

اس احتجاج ميں اور بھى بہت سے لوگ جناب لوط عليہ السلام كے ہمنوا ہوچكے تھے، يہ اوربات ہے كہ سركش قوم نے آخركارانھيں جلاوطن كرديا _

لائق توجہ بات يہ كہ حضرت لوط عليہ السلام فرماتے ہيں كہ '' تمہارے اعمال كا دشمن ہوں '' يعنى مجھے تمہارى ذات سے دشمنى نہيں بلكہ تمہارے شرمناك اعمال سے نفرت ہے اگر ان اعمال كو اپنے سے دور كردو تو پھر تم ميرے پكے دوست بن جاو گے _

بہرحال جناب لوط عليہ السلام كى ذمہ دارى كا آخرى مرحلہ آن پہنچا لہذا وقت آپہنچا كہ جناب لوط عليہ السلام خود كو بھى اور جو لوگ ان پر ايمان لاچكے ہيں انھيں بھى اس گناہ آلود علاقے سے باہر نكال كرلے جائيں تاكہ ہولناك عذاب اس بے حياقوم كو اپنى لپيٹ ميں لے لے _

حضرت لوط عليہ السلام نے اللہ كى بارگاہ ميں دست دعا بلند كركے كہا:

''پروردگار : جو كچھ يہ لوگ كہہ رہے ہيں مجھے اور ميرے خاندان كو اس سے نجات دے _''(۱)

يہ ہے گناہ گاروں كا انجام

آخركار حضرت لوط عليہ السلام كى دعا مستجاب ہوئي اور خدا كى طرف سے اس قوم تباہ كار كے خلاف سخت سزا كا حكم صادر ہوا ،وہ فرشتے جو عذاب نازل كرنے پر مامور تھے قبل اس كے كہ سرزمين لوط پر اپنا فرض ادا كرنے كے لئے جاتے، حضرت ابراہيم (ع) كے پاس ايك اور پيغام لے كر گئے اور وہ پيغام تھا، حضرت ابراہيم (ع) كو فرزند كى پيدائش كى خوشخبرى تھى _

'' اس كى وضاحت يہ ہے كہ:ابراہيم شام كى طرف جلا وطن ہونے كے بعد لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دينے اور ہر قسم كے شرك و بت پرستى كے خلاف مبارزہ كرنے ميں مصروف تھے،حضرت ''لوط''جو ايك عطيم پيغمبر تھے ،ان ہى كے زمانہ ميں ہوئے ہيں اور احتمال يہ ہے كہ اپ ہى كى طرف سے مامور ہوئے

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۹

۱۵۵

تھے،كہ گمراہوں كو تبليغ و ہدايت كرنے كے لئے شام كے ايك علاقہ (يعنى سدوم كے شہروں كى طرف) سفر كريں ،وہ ايك ايسى گناہگار قوم كے درميان ائے جو شرك اور بہت سے گناہوں ميں الودہ تھى ،اور سب سے قبيح گناہ اغلام اور لواطت تھى ،اخر كار فرشتوں كا ايك گروہ،اس قوم كى ہلاكت پر ما مور ہوا ليكن وہ پہلے ابراہيم (ع) كے پاس ائے_

ابراہيم (ع) مہمانوں كى وضع و قطع سے سمجھ گئے كہ يہ كسى اہم كام كے لئے جارہے ہيں ،اور صرف بيٹے كى ولادت كى بشارت كے لئے نہيں ائے، كيونكہ اس قسم كى بشارت كے لئے تو ايك ہى شخص كا فى تھا ،يا اس عجلت كى وجہ ہے جو وہ چلنے كے لئے كر رہے تھے ،اس سے محسوس كيا كہ كوئي اہم ڈيوٹى ركھتے ہيں ''_ قران ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام سے ملاقات كا ذكر ہے چنانچہ كہا گيا ہے : جس وقت ہمارے ايلچى حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس بشارت لے كرگئے _انھيں اسحاق اور يعقوب كے پيدا ہونے كى خوش خبرى سنائي اور پھر (قوم لوط كى بستى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے )كہا كہ ہم اس شہر اور اس ميں رہنے والوں كو ہلاك كرديں گے كيونكہ يہ لوگ ظالم ہيں _ ''(۱)

چونكہ فرشتوں نے ''ھذہ القرية''_ كہا اس سے ثابت ہوتا ہے كہ قوم لوط اسى مقام كے قرب جوار ميں رہتى تھى جہاں حضرت ابراہيم (ع) رہتے تھے_،اور اس قوم كو لفظ ''ظالم''سے ياد كرنا اس وجہ سے تھا كہ وہ اپنے نفوس پر ظلم كرتے تھے يہاں تك كہ اس طرف سے گزرنے والے مسافروں اور قافلوں پر بھى ستم كرتے تھے _

جب حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات سنى تو انھيں حضرت لوط پيغمبر خدا كى فكر ہوئي اور كہا :'' اس آبادى ميں تو لوط بھى ہے ''_(۲)

اس پر كيا گزرے گى ؟

مگر فرشتوں نے فورا ًجواب ديا :'' آپ فكر نہ كريں ہم ان سب لوگوں سے خوب واقف ہيں جو اس

____________________

(۱)سورہ عنكبوت آيت ۳۱

(۲)سورہ عنكبوت آيت ۳۲

۱۵۶

بستى ميں رہتے ہيں ''_(۱)

ہم اندھا دھند عذاب نازل نہيں كريں گے ہمارا پروگرام نہايت سنجيدہ اور نپاتلاہے _

فرشتوں نے يہ بھى كہا كہ'' ہم لوط(ع) اور اس كے خاندان كو نجات ديں گے بجز اس كى بيوى كے كہ جو اس قوم كے ساتھ ہى مبتلائے عذاب ہوگى ''_(۲)

صرف ايك خاندان مومن اور پاك

فرآن سے بخوبى ثابت ہوتاہے كہ اس علاقے كى تمام آباديوں اور بستيوں ميں صرف ايك ہى خاندان مومن اور پاك نفس تھا اور خدانے بھى اسے عذاب سے نجات دى جيسا كہ قرآن ميں مذكورہے :

''ہم نے وہاں ايك خاندان كے سوائے كوئي بھى مسلمان نہ پايا _''(۳)

يہاں تك كہ حضرت لوط كى زوجہ بھى مومنين كى صف سے خارج تھى اس لئے وہ بھى عذاب ميں گرفتار ہوئي _

وہ عورت جو خانوادہ نبوت ميں شامل تھى اسے تو ''مو منين اور مسلمين '' سے جدا نہيں ہونا چاہئے تھا مگر وہ اپنے كفرو شرك اور بت پرستى كى وجہ سے اس صنف سے جدا ہوگئي _

اس طرح كلام سے واضح ہوتاہے كہ وہ عورت منحرف العقيدہ تھى كچھ بعيد نہيں كہ اس ميں يہ بد عقيدگى اس مشرك معاشرے كے اثر سے پيداہوگئي ہو ا،ور ابتدا ميں مومن وموحد ہو اس صورت ميں حضرت لوط پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ انھوں نے ايسى مشركہ سے نكاح ہى كيوں كيا تھا ؟

يہ خيال بھى ہوتاہے كہ اگر كچھ اور لوگ حضرت لوط عليہ السلام پر ايمان لائے ہوں گے تو وہ حتما ًنزول عذاب سے پہلے اس گناہ آلود زمين سے ہجرت كرگئے ہوں گے ،تنہا حضرت لوط عليہ السلام اور ان كے اہل

____________________

(۱)سورہ عنكبوت آيت۳۲

(۲)سورہ عنكبوت آيت۳۲

(۳)سورہ ذاريات آيت۳۶

۱۵۷

وعيال اس مقام پر اس توقع سے آخرى وقت تك ٹھہرے ہوں گے كہ ممكن ہے ان كى تبليغ اور ڈرانے كا لوگوں پر اثرہو_

يہاں تك كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام سے فرشتوں كى گفتگو ختم ہوگئي اور وہ حضرت لوط عليہ السلام كے علاقے كى طرف روانہ ہوگئے _

حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كو ديكھ كر پريشان ہوگئے

قرآن ميں ارشاد ہوتاہے:

''جب ہمارے رسول،لوط(ع) كے پاس آئے تو وہ ان كے آنے پر بہت ہى ناراحت اور پريشان ہوئے ، ان كى فكر اورروح مضطرب ہوئي اور غم واندوہ نے انہيں گھيرليا _''(۱)

اسلامى روايات اور تفاسير ميں آيا ہے كہ حضرت لوط اس وقت اپنے كھيت ميں كام كررہے تھے، اچانك انہوں نے خوبصورت نوجوانوں كو ديكھا جو ان كى طرف آرہے تھے وہ ان كے يہاں مہمان ہونا چاہتے تھے ،اب حضرت لوط(ع) مہمانوں كى پذيرائي بھى چاہتے تھے ليكن اس حقيقت كى طرف بھى ان كى توجہ تھى كہ ايسے شہر ميں جو انحراف جنسى كى آلود گى ميں غرق ہے_

ان خوبصورت نوجوانوں كا آنا طرح طرح كے مسائل كا موجب ہے اور ان كى آبروريزى كا بھى احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوط سخت مشكل سے دوچار ہوگئے يہ مسائل ،روح فرسا افكار كى صورت ميں ان كے دماغ ميں ابھرے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے كہنا شروع كيا آج بہت سخت اورو حشتناك دن ہے _''(۲)

بہرحال حضرت لوط عليہ السلام كے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہ تھا كہ وہ اپنے نووارد مہمانوں كو اپنے گھرلے جاتے، ليكن اس بناء پر كہ وہ غفلت ميں نہ رہيں راستے ميں چند مرتبہ ان كے گوش گزار كرديا

____________________

(۱) سورہ ہودآيت ۷۷

(۲) سورہ ہودآيت ۷۷

۱۵۸

كہ اس شہر ميں شرير اور منحرف لوگ رہتے ہيں تاكہ اگر مہمان ان كا مقابلہ نہيں كرسكتے تو صورت حال كا اندازہ كرليں _

خداوند عالم نے فرشتوں كو حكم ديا تھا كہ جب تك يہ پيغمبر تين مرتبہ اس قوم كى برائي اور انحراف كى گواہى نہ دے انہيں عذاب نہ ديا جائے ( يعنى يہاں تك كہ ايك گنہگار قوم سے متعلق بھى حكم خدا عدالت كے ايك عادلانہ فيصلے كى روشنى ميں انجام پائے)اور ان رسولوں نے راستے ميں تين مرتبہ لوط عليہ السلام كى گواہى سن لى _

حضرت لوط عليہ السلام نے مہمانوں كو اتنى دير تك (كھيت ميں ) ٹھہرائے ركھا كہ رات ہوگئي تاكہ شايد اس طرح اس شرير اور آلودہ قوم كى آنكھ سے بچ كر حفظ آبرو كے ساتھ ان كى پذيرائي كر سكيں ليكن جب انسان كا دشمن خود اس كے گھر كے اندر موجود ہوتو پھر كيا كيا جاسكتا ہے حضرت لوط عليہ السلام كى بيوى كو جوايك بے ايمان عورت تھى اور اس گنہگار قوم كى مدد كرتى تھى جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں كے آنے كى خبر ہوئي تو چھت پر چڑھ گئي پہلے اس نے تالى بجائي پھر آگ روشن كركے اس كے دھوئيں كے ذريعے اس نے منحرف قوم كے بعض لوگوں كو آگاہ كيا كہ لقمہ تر جال ميں پھنس چكا ہے _

قوم لوط(ع) آپ كے گھر ميں داخل ہوگئي

شہروالوں كو جب لوط عليہ السلام كے پاس آنے والے نئے مہمانوں كا پتہ چلاتو وہ ان كے گھر كى طرف چل پڑے، راستے ميں وہ ايك دوسرے كو خوشخبرى ديتے تھے_ گمراہى كى شرمناك وادى ميں بھٹكنے والے ان افراد كا خيال تھا كہ گويا نرمال ان كے ہاتھ آگيا ہے خوبصورت اور خوش رنگ نوجوان اور وہ بھى لوط كے گھر ميں _

قرآن ميں اس جگہ اہل مدينہ استعمال ہوا ہے اوريہ كى تعبير نشاندہى كرتى ہے كہ كم از كم شہر كے بہت سے لوگ ٹوليوں ميں حضرت لوط عليہ السلام كے گھر كى طرف چل پڑے ،اس سے يہ امر واضح ہوتا ہے كہ وہ كس حدتك بے شرم ، ذليل اور جسور تھے خصوصا لفظ ''يستبشرون ''(ايك دوسرے كو بشارت ديتے تھے )ان كى

۱۵۹

آلودگى كى گہرائي كى حكايت كرتا ہے كيونكہ يہ ايك ايسا شرمناك عمل ہے كہ شايد كسى نے اس كى نظيرجانوروں ميں بھى بہت ہى كم ديكھى ہوگى اور يہ عمل اگر كوئي انجام ديتا بھى ہے تو كم از كم چھپ چھپا كراور احساس شرمندگى كے ساتھ ايسا كرتا ہے ليكن يہ بدكاراور كمينہ صفت قوم كھلم كھلا ايك دوسرے كو مباركباد ديتى تھي_

حضرت لوط عليہ السلام نے جب ان كا شوروغل سنا تو بہت گھبرائے اورمضطرب ہوئے انھيں اپنے مہمانوں كے بارے ميں بہت خوف ہوا كيونكہ ابھى تك وہ نہيں جانتے تھے كہ يہ مہمان مامورين عذاب ہيں اور قادر وقاہر خدا كے فرشتے ہيں لہذا وہ ان كے سامنے كھڑے ہوگئے اور كہنے لگے :يہ ميرے مہمان ہيں ، ميرى آبرونہ گنوائو_''(۱)

يعنى اگر تم خدا ، پيغمبر اور جزاء وسزا كے مسئلہ سے صرف نظر كرلو تو بھى كم از كم يہ انسانى مسئلہ ہے اور يہ بات تو سب انسانوں ميں چاہے مومن ہوں يا كافر ، موجود ہے كہ وہ مہمانوں كا احترام كرتے ہيں تم كيسے انسان ہو كہ اتنى سى بات بھى نہيں مانتے ہو اگر تمہارا كوئي دين نہيں تو كم ازكم آزاد انسان تو بنو _اس كے بعد آپ نے مزيد كہا : آئو خدا سے ڈرو اور مجھے ميرے مہمانوں كے سامنے شرمسار نہ كرو_''(۲)

ليكن ،وہ بہت جسوراورمنہ پھٹ تھے بجائے اس كے كہ و ہ شرمندہ ہوتے كہ انہوں نے اللہ كے پيغمبر حضرت لوط عليہ السلام سے كے سا مطالبہ كيا ہے الٹا اس طرح سے پيش آئے جيسے لوط عليہ السلام سے كوئي جرم سرزد ہوا ہے انھوں نے زبان اعتراض دراز كى اور كہنے لگے : '' كيا ہم نے تجھ سے نہ كہا تھا كہ دنيا والوں كو اپنے يہاں مہمان نہ ٹھہرانا اور كسى كو اپنے يہاں نہ آئے دينا _''(۳)

تم نے اس كى خلاف ورزى كيوں كى اور ہمارے كہنے پر عمل كيوں نہ كيا _

يہ اس بناء پر تھا كہ يہ قوم انتہائي كم ظرف اور كنجوس تھى يہ لوگ ہرگز كسى كو اپنے يہاں مہمان نہيں ٹھہراتے تھے اور اتفاق سے ان كے شہرقافلوں كے راستے ميں پڑتے تھے كہتے ہيں كہ انھوں نے يہ كام بعض

____________________

(۱)سورہ حجر آيت ۶۸

(۲)سورہ حجرآيت ۶۹

(۳)سورہ حجر آيت ۷۰

۱۶۰