قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27521
ڈاؤنلوڈ: 1530

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27521 / ڈاؤنلوڈ: 1530
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

قصص القرآن

منتخب از تفسير نمونه

ناصر مكارم شيرازي

۳

حرف اوّل

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عصر حاضر ميں جوانوں اور نوجوانوں كو راہ ہدايت سےگمراہ كرنے كے لئے جس قدر پروپيگنڈے كئے جارہے ہيں ،تاريخ ميں اس كى مثال نہيں ملتي،اخبار اور جرائد ايك طرف،توريڈيو، ٹى وى دوسرى طرف اور آج كل انٹرنيٹ جس نے پورى دنيا كى اچھائياں كم اور برائياں زيادہ ايك ميز پر لاكر ركھ دى ہيں ،ہر طرف سے اسلام كے خلاف پروپيگنڈے كئے جارہے ہيں ،اسلام كى ترقى ديكھ كر اسلام دشمن طاقتيں ايڑى چوٹى كے زور لگارہى ہيں ، خصوصاً جبكہ دشمن سمجھ چكاہے كہ دين حقيقى كے ماننے والے يہى شيعہ اثنا عشرى ہيں ، كہيں يورپ اور امريكہ سے اسلام كے خلاف اعتراضات بيان ہوتے ہيں تو كبھى فرقہ وہابيت كى طرف سے شيعيت پر بے جاشبہات وارد كئے جاتے ہيں _

لہذا ايسے ماحول ميں اپنے جوانوں كو دينى راستے پر قائم ركھنا واقعاً ہم سب كى ذمہ دارى ہے، علمائے كرام، دينى رہبروں اورقوم وملت كے صاحبان حيثيت افرادكافريضہ ہے كہ اس سلسلے ميں ہر ممكن كوشش كريں ،ورنہ كل روز قيامت خدا كى بارگاہ ميں جواب دہ ہوں گے

اسى چيز كے پيش نظر الحاج جناب آقائے انصاريان صاحب كى فرمائش پر تفسير نمونہ(تاليف استاد

۴

محترم آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى دام ظلہ) سے منتخب شدہ قرآنى واقعات كو قارئين كرام كى خدمت ميں پيش كيا جارہا ،كيونكہ قرآنى واقعات ہمارى زندگى كے لئے بہترين نمونہ عمل بن سكتے ہيں _

كتاب ''قصص قرآن'' ،تفسيرنمونہ(مترجم حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين اعلى اللہ مقامہ) سے تلاش كرنا، نشانات لگانا، كمپوز كرنا پھر تصحيح اور مطابقت كرناواقعاً مشكل كام تھا، بسا اوقات ہم كو يہ فكر لاحق ہوتى تھى كہ شايد اس سےآسان تو ترجمہ ہى ہوجاتا ، الحمدللہ توفيق الہى اوربعض برادران كے تعاون سے ايك سال كى مدت ميں يہ كام پايہ تكميل تك پہونچ گياہے، ہم تہہ دل سے ان كے شكر گزار ہيں _

خداوند عالم ہمارى توفيقات ميں مزيد اضافہ فرمائے_

''ربّنا تقبل منا انك انت السميع العليم _''

والسلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ_

اقبال حيدر حيدري

۱۵ /صفر المظفر ۱۴۲۵ھ

حوزہ علميہ ، قم المقدسہ_ايران

Emial: ihh@yahoo.com

۵

تقريظ

حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى مدظلہ العالي

بسم اللہ الرحمن الرحيم

قرآن مجيد ايك تاريخى كتاب ہے، نہ گزشتہ لوگوں كى سوانح حيات كا مجموعہ،يہ نہ علوم طبيعى نصاب ہے اور نہ زمين و آسمان كے اسرار و رموز كو بيان كرنے كى كتاب ہے بلكہ وہ ''كتاب ہدايت'' ہے_

ہاں قرآن كريم ميں چونكہ گزشتہ لوگوں خصوصاً انبيائے كرام اور اقوام و ملل كے عبرت ناك واقعات بيان ہوئے ہيں جن ميں سے بہت سے لوگ زمين كے ايك عظيم حصہ پر حكومت كرتے تھے،اور اب ان كا نام و نشان تك نہيں رہا، اور كائنات كے پُر اسرار مخلوقات ميں ''توحيد خدا'' اور'' معرفت اللہ''كے بہترين درس چھپے ہوئے ہيں لہذا قرآن كريم نے اپنے مخصوص انداز ميں انھيں بيان كيا ہے اور انسانى ہدايت كے لئے موثر اور كامياب نمونے بيان كئے ہيں _

قابل توجہ بات يہ ہے كہ ان نكات كو بيان كرتے ہوئے قرآنى آيات كا لب و لہجہ اس انداز كا ہے جس سے نہ صرف يہ كہ ان واقعات كى تازگى ختم نہيں ہوتى بلكہ مرور زمان كے باوجود اس كے معنى و مفاہيم ميں

۶

ترو تازگى اور سبق آموزى پيدا ہوجاتى ہے، اس طرح ہر پيرو جوان اور عوام الناس و دانشور اپنے لحاظ سے اس نورہدايت سے فيضياب ہوتے ہيں _

يہ صرف ايك دعوى ہى نہيں ہے بلكہ آپ حضرات بھى قرآن سے نزديك ہوسكتے ہيں ، اور اس حقيقت كا تجربہ كرسكتے ہيں ، اس كا ايك واضح نمونہ ''كتاب ہذا قصص قرآن'' ہے، جس ميں انبياء عليہم السلام كے واقعات، گزشتہ اقوام ملل كى داستانيں جو حجة الاسلام عالى جناب سيد حسين حسينى نے ''تفسير نمونہ'' سے انتخاب كى ہيں ، اور كافى زحمت كركے اپنے بہترين سليقہ كو بروئے كار لائے ہيں ،جس سے ہر پڑھنے والے كو ہدايت و روشنى ملتى ہے اور اس كى زندگى كو ''سعادت و فلاح و بہبودي'' كا راستہ دكھاتى ہے_

آخر ميں ہم مولاناموصوف كى زحمتوں كى قدر دانى كرتے ہوئے ان كے شكر گزار ہيں اورسبھى كو كتاب ہذا كے مطالعہ كى سفارش كرتے ہيں خداوندعالم موصوف كى اس كاوش اور ہم سب كى جد و جہد كو قبول فرمائے_

ناصر مكارم شيرازي

حوزہ علميہ قم

ذى الحجہ ۱۴۲۱ھ

۷

پيش گفتار

حالانكہ ہميشہ سے شيعہ علمائے كرام نے قرآن مجيد كى بہت سے تفاسير لكھى ہيں ، جن سے بہت سے علمائے كرام اور حوزات علميہ فيض حاصل كرتے رہے ہيں ، ليكن جن صفات كى حامل ''تفسير نمونہ'' ہے وہ بھى فارسى زبان ميں جس كى ضرورت محسوس كى جارہى تھي، خصوصاً دور حاضر ميں كہ جب قرآن فہمى كا جذبہ ہر طبقہ ميں پيدا ہوگيا ہے_

حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى نے چند علماء كے ساتھ مل كر اس ضرورت كو پورا كيا اور اس تفسير كے ذريعہ قرآن مجيد كى شايان شان خدمت انجام دي_

اس تفسير كى خاص صفات جن كى وجہ سے يہ مقبول عام ہوئي ہے حسب ذيل ہيں :

۱_ اگرچہ يہ تفسير فارسى زبان ميں ہے ليكن اس كے علمى اور تحقيقاتى نكات ميں كافى رعايت كى گئي ہے، تاكہ علمائے كرام اور طلاب بھى اس سے فيضاب ہوسكيں اور قرآن فہمى كا شوق ركھنے والے عوام الناس بھي_

۲_ تفسير آيات ميں بعض غير ضرورى مسائل ميں الجھنے كے بجائے ان مسائل سے خصوصى بحث كى گئي ہيں جو انسان كے لئے واقعاً زندگى ساز ہيں جن كے ذريعہ انسان كى فردى اور معاشرتى زندگى ميں كافى موثر

۸

ہوتى ہے_

۳_آيات ميں بيان شدہ عناوين كے تحت ايك مختصر و مفيد عنوان سے الگ بحث كى گئي ہے جس كے مطالعہ كے بعد قارئين كرام كو دوسرى كتابوں كے مطالعہ كى ضرورت نہيں رہے گي_

۴_ تفسير ميں مشكل اور پيچيدہ اصطلاحات سے پرہيز كيا گيا ہے ليكن ضرورت كے وقت حاشيہ ميں ضرورى وضاحت بھى كى گئي ہے، تاكہ علمائے اور صاحبان نقدحضرات كے علاوہ عام قارئين كرام كے لئے بھى مفيد واقع ہوسكے_

۵_ اس تفسير كا ايك اہم امتياز يہ ہے كہ اس ميں قرآنى واقعات سليس زبان اورپُر كشش انداز ميں بيان كيا گيا ہے اور ہر طرح كے پيچيدہ مسائل سے اجتناب كيا گيا ہے_

اسى لئے حقير نے استاد معظم سے اجازت طلب كى تاكہ قرآنى واقعات كو جمع كركے ايك الگ كتاب كى شكل ديدى جائے جو عام قارئين كرام كے لئے مفيد واقع ہوسكے، ہمارى خوش قسمتى ہے كہ استادبزرگوار نے اجازت مرحمت فرمادي، اور ہم نے تفسير نمونہ كا ايك دقيق دورہ كيا اور اس سے قرآنى واقعات كو جمع كيا، جن كو آپ حضرات كتاب ہذا كى شكل ميں ديكھ رہے ہيں _

چند ضرورى نكات:

۱_ كہيں كہيں ايسا ہوا ہے كہ ايك واقعہ تفسير كى مختلف جلدوں ميں بيان ہوا ہے مثال كے طور پر جناب موسى عليہ السلام كا واقعہ تيس سے زيادہ سوروں ميں ۱۳۰/ بار سے زيادہ بيان ہوا ہے، ہم نے ان كو ايك جگہ جمع كيا اور ان كو مقدم و موخر كيا تاكہ واقعہ كى كيفيت ختم نہ ہونے پائے، اسى وجہ سے اگرچہ ظاہراً اس كتاب كا مواد جمع كرنا آسان كام ہے ليكن اس كے مختلف مراحل طے كرنے پڑے ہےں ، منجملہ تفسيرى دورہ، واقعات كى جمع آورى اور ان كو منظم و مرتب كرنا واقعاً ايك فرصت طلب كام تھا(جو الحمد للہ مكمل ہوگيا)

۲_ چونكہ واقعات قران سے ہم آہنگ ہيں حاشہ ميں سورہ اور آيت كا حوالہ لكھ ديا گيا ہے جس سے اگر كوئي تفسير نمونہ پر رجوع كرنا چاہے تو اس كے لئے آسان ہوجائے، اسى وجہ سے ان واقعيات كے حوالے

۹

نہيں لكھے گئے ہيں _

۳_ قرآن كريم ميں مختلف واقعات كے علاوہ ۲۶/ انبياء عليہم السلام كا نام مبارك وضاحت كے ساتھ لياگيا ہے، جو درج ذيل ہيں :

حضرت آدم، ادريس، نوح، ہود، صالح، ابراہيم،اسماعيل، اسحاق، لوط، يوسف، يعقوب، شعيب، موسي، ہارون، داو د، سليمان، ايوب، يونس، الياس، اليَسع، ذاالكفل، عزير، زكريا، يحيى ، عيسى عليہم السلام اور حضرت محمد (ص) _

ضمناً عرض ہے كہ حضرت اشموئيل (ع) نبى جن كا نام صراحت كے ساتھ قرآن كريم ميں نہيں ہے، ان كا واقعہ بھى بيان كيا گيا ہے_

اس كتاب كو تين حصوں ميں تقسيم كيا گيا ہے:

پہلا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ انبياء عليہ السلام كے واقعات_

دوسرا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ دوسرے واقعات_

تيسرا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ پيغمبر اكرم (ص) كے واقعات_

اميد ہے كہ يہ ناچيز كوشش حضرت بقية اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف كى بارگاہ ميں مقبول و منظور قرار پائے گي_

سيد حسين حسينى

قم المقدسہ

۱۰

انسانى زندگى پر داستان كااثر

قران كريم كا بہت ساحصہ گزشتہ قوموں كى سرگذشت اور گزرنے ہوئے لوگوں كے واقعات زندگى كى صورت ميں ہے،اس پہلو پر نظر كرنے سے يہ سوال سامنے اتا ہے كہ ايك تربيت كنندہ اور انسان ساز كتاب ميں يہ سب تاريخ اور داستانيں كيوں ہيں _

ليكن ذيل كے چند نكات كى طرف توجہ كرنے سے يہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے -:

۱_تاريخ انسانى زندگى كے مختلف مسائل كى تجربہ گاہ ہے اور جو چيزيں انسان عقلى دلائل سے اپنى ذہن ميں منعكس كرتا ہے انھيں تاريخ كے صفحات ميں عينى صورت ميں كھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ معلومات ميں سے زيادہ قابل اعتماد وہ ہيں جو حسى پہلو ركھتى ہيں ،واقعات زندگى ميں تاريخ كا اثر واضح طور پر ديكھا جا سكتا ہے ،انسان اپنى انكھوں سے صفحات تاريخ ميں اختلاف و انتشار كى وجہ سے كسى قوم كى مرگ بار شكست ديكھتا ہے اور اسى طرح اتحاد و ہم بستگى كے باعث كسى دوسرى قوم كى درخشاں كاميابى كا مشاہدہ كرتا ہے _

گزشتہ لوگوں كے حالات ان كے نہايت قيمتى تجربات كا مجموعہ ہيں اور ہم جانتے ہيں كہ زندگى كا ماحصل تجربے كے علاوہ كچھ بھى نہيں _

تاريخ ايك ائينہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانى معاشروں كا ڈھانچہ منعكس كرتا ہے ،يہ ائينہ ان كى

۱۱

برائياں اچھائياں ،كاميابياں ،ناكامياں ،فتوحات ،شكستيں اور ان سب امور كے عوامل و اسباب دكھاديتا ہے ،اسى بنا پر ان كى پورى عمر كے تجربات سميٹ ليتا ہے ،اسى بنا پر حضرت على (ع) اپنے ابرو مند فرزند كے نام اپنے تاريخى وصيت نامہ ميں فرماتے ہيں :

''اے ميرے بيٹےاگر گزشتہ لوگوں كى عمر يكجا مجھے حاصل نہيں تاہم ميں نے ان كے اعمال ديكھے ہيں ،ان كے واقعات ميں غور و فكر كيا ہے اور ان كے اثار كى سير و سياحت كى ہے اس طرح سے گويا ميں ان ميں سے ايك ہوگيا ہوں ،بلكہ اس بناپر كہ ميں نے ان كى تاريخ كے تجربات معلوم كئے ہيں تو گويا ميں نے ان كے اولين واخرين كے ساتھ زندگى گذارى ہے''_(۱)

البتہ_يہاں تاريخ سے مراد وہ تاريخ ہے جو خرافات ،اتہامات ،دروغ گوئيوں ،چاپلوسيوں ،ثناخوانيوں ،تحريفوں اور مسخ شدہ واقعات سے خالى ہو ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے_

كہ ايسى تاريخيں بہت كم ہيں ،اس سلسلے ميں قران نے حقيقى تاريخ كے جو نمونے پيش كئے ہيں اس كے اثر كو نظر سے اوجھل نہيں رہنا چاہئے_

ايسى تاريخ كى ضرورت ہے كہ جو ائينے كى طرح صاف ہو نہ كہ كثرنما ہو ،ايسى تاريخ كہ جو صرف واقعات ذكر نہ كرے بلكہ اس كى بنياد اور تنائج بھى تلاش كرے_

ان حالات ميں قران كى جو تربيت كى ايك اعلى كتاب ہے تاريخ سے استفادہ كيوں نہ كرے اور گزشتہ لوگوں كے واقعات سے مثاليں اور شواہد كيوں پيش نہ كرے _

۲_علاوہ ازيں تاريخ ايك خاص قوت جاذبہ ركھتى ہے اور انسان بچپن سے لے كر بڑھاپے تك اپنى عمر كے تمام ادوار ميں اس زبر دست قوت جاذبہ كے زير اثر رہتا ہے ،اسى بنا پر دنيا كى ادبيات كا ايك اہم حصہ اور انشا پر دازوں كے عظيم اثار تاريخ اور واقعات پر مشتمل ہيں _

____________________

(۱) نہج البلاغہ ،مكتوب ۳۱،بنام امام حسن مجتبى عليہ السلام

۱۲

شعرا اور عظيم مصنفين كے بہترين اثار چاہے وہ فارسى ميں ہوں يا دوسرى زبانوں ميں يہى داستانيں اور واقعات ہيں گلستان سعدى ،شاہنامہ فردوسى ،خمسہ نظامى اور معاصر مصنفين كے دلكش اثار ،اسى طرح ہيجان افرين فرانسيسى مصنف ،ويكٹر ہوگو ،برطانيہ كے ،شكس پئير، اورجرمنى كے، گوئٹے، سب كى تصانيف داستان كى صورت ميں ہيں _

داستان اور واقعہ چاہے نظم كى صورت ميں ہويا نثر كى ،نمائش كے انداز ميں ہو يا فلم كى شكل ميں پڑھنے والے اور ديكھنے والے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ايسى تاثير عقلى استدلالات كے بس كى بات نہيں ہے _

اس كى وجہ شايد يہ ہے كہ انسان عقلى سے پہلے حسى ہے اور وہ جس قدر فكر ى مسائل ميں غور وفكر كرتا ہے اس سے زيادہ حتى مسائل ميں غوطہ زن ہوتا ہے ،زندگى كے مختلف مسائل ميں جس قدر ميدان حس سے دور ہوتے ہيں اور خالص عقلى حوالے سے ہوتے ہيں اسى قدر ثقيل اور سنگين ہوتے ہيں اور اتنى ہى دير سے ہمضم ہوتے ہيں _

اسى طرح ہم ديكھتے ہيں كہ ہميشہ عقلى استدلالات كے مضبوط بنانے كے لئے حسى مثالوں سے مدد لى جاتى ہے ،بعض اوقات ايك مناسب اور برمحل مثال استدلال كا اثر كئي گنا زيادہ كر ديتى ہے ،اسى لئے كامياب علماء وہ ہيں جو بہترين مثاليں انتخاب كرنے پر زيادہ دسترس ركھتے ہيں اورا يساكيوں نہ ہو جب كہ عقلى استدلال حسى ،عينى اور تجرباتى مسائل كا ماحصل ہيں _

۳_داستان اور تاريخ ہر شخص كے لئے قابل فہم ہے جب كہ اس كے بر عكس عقلى استدلالات كى رسائي ميں سب لوگ برابر كے شريك نہيں ہيں _

اسى لئے وہ كتاب كہ جو عموميت ركھتى ہے اور سب كے لئے ہے ،نيم وحشى ،ان پڑھ عرب كے بيابانى بدّو سے لے كر عظيم مفكر اور فلسفى تك كے استفادہ كے لئے ہے اسے حتمى طورپر تاريخ ،داستانوں اور مثالوں كا سہارا لينا چاہئے_

ان تمام پہلوو ں كو مجموعى طورپر ديكھا جائے تو يہ بات واضح ہوتى ہے كہ يہ تمام تاريخيں اور داستانيں

۱۳

بيان كر كے قران نے تعليم و تربيت كے لحاظ سے بہترين راستہ اہنايا ہے_

خصوصاًاس نكتے كى طرف توجہ كرتے ہوئے كہ قران نے كسى موقع پر بھى خالى تاريخى واقعات ہى بيان نہيں كرديئے بلكہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ كئے ہيں اور اس سے تربيتى حوالے سے استفادہ كيا ہے چنانچہ اپ اسى سورت ميں اس كے كئي نمونے ديكھيں گے_

* * * * *

۱۴

۱ انبياء عليهم السلام کے واقعات

حضرت آدم عليہ السلام

خدا كى خواہش يہ تھى كہ روئے زمين پر ايك ايسا موجود خلق فرمائے جواس كا نمائندہ ہو ،اس كے صفات، صفات خداوندى كا پرتوہوں اور اس كا مرتبہ ومقام فرشتوں سے بالا ترہو، خدا كى خواہش اور ارادہ يہ تھا كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں ،تمام قوتيں ،سب خزانے ،تمام كانيں اور سارے وسائل بھى اس كے سپرد كردئےے جا ئيں ، ضرورى ہے كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں عقل وشعور ،ادر اك كے و افرحصے اور خصوصى استعداد كاحامل ہو جس كى بناء پر موجودات ارضى كى رہبرى اور پيشوائي كا منصب سنبھال سكے _

يہى وجہ ہے كہ قرآن كہتا ہے :''ياد كريں اس وقت كو جب آپ كے پروردگار نے فرشتوں سے كہا كہ ميں روئے زمين پر جانشين مقرركرنے والا ہوں ''_(۱)

بہر حال خدا چاہتا تھا كہ ايسے وجود كو پيدا كرے جو عالم وجود كا گلدستہ ہواور خلافت الہى كے مقام كى اہليت ركھتا ہو اور زمين پراللہ كا نمائندہ ہو مربوط آيات كى تفسير ميں ايك حديث جوامام صادق عليہ السلام سے مروى ہے وہ بھى اسى معنى كى طرف اشارہ كرتى ہے كہ فرشتے مقام آدم پہچاننے كے بعد سمجھ گئے كہ ادم اور ان كى اولا دزيادہ حقدار ہيں كہ وہ زمين ميں خلفاء الہى ہوں اور مخلوق پر اس كى حجت ہوں _

____________________

(۱) سورہ بقرہ آيت۳۰

۱۵

فرشتوں كا سوال

فرشتوں نے حقيقت كا ادراك كرنے كے لئے نہ كہ اعتراض كى غرض سے عرض كيا :''كيا زمين ميں اسے جانشين قرار دے گا جو فساد كرے گا اور خون بہا ئے گا_ جب كہ ہم تيرى عبادت كرتے ہيں ،تيرى تسبيح وحمد كرتے ہيں اور جس چيز كى تيرى ذات لائق نہيں اس سے تجھے پاك سمجھے ہيں ''_(۱)

مگر يہاں پرخدانے انہيں سربستہ ومجمل جواب ديا جس كى وضاحت بعد كے مراحل ميں آشكار ہو فرمايا :''ميں ايسى چيزوں كو جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جانتے''_(۲)

فرشتوں كى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ وہ سمجھ گئے تھے كہ يہ انسان سر براہى نہيں بلكہ فساد كرے گا، خون بہائے گا اور خرابياں كرے گا ليكن ديكھنا يہ ہے كہ آخروہ كس طرح سمجھے تھے _

بعض كہتے ہيں خدا نے انسان كے آئندہ حالات بطور اجمال انہيں بتا ئے تھے جب كہ بعض كا احتمال ہے كہ ملائكہ خود اس مطلب كو لفظ ''فى الارض''(زمين ميں ) سے سمجھ گئے تھے كيونكہ وہ جانتے تھے انسان مٹى سے پيدا ہوگا اور مادہ اپنى محدوديت كى وجہ سے طبعاً مركز نزاع وتزاحم ہے كيونكہ محدود مادى زمانہ انسانوں كى اس طبيعت كو سيروسيراب نہيں كرسكتا جوزيادہ كى طلب ركھتى ہے يہاں تك كہ اگر سارى دنيا بھى ايك فرد كو دے دى جائے تو ممكن ہے وہ پھر بھى سير نہ ہو اگر كافى احساس ذمہ دارى نہ ہو تو يہ كيفيت فساد اور خونريزى كا سبب بنتى ہے _

بعض دوسرے مفسرين معتقد ہيں كہ فرشتوں كى پيشين گوئي اس وجہ سے تھى كہ آدم روئے زمين كى پہلى مخلوق نہيں تھے بلكہ اس سے قبل بھى ديگر مخلوقات تھيں ;جنہوں نے نزاع،جھگڑااور خونريزى كى تھي،ان سے پہلے مخلوقات كى برى فائل نسل آدم كے بارے ميں فرشتوں كى بد گمانى كا باعث بنى _

يہ تين تفاسير ايك دوسرے سے كچھ زيادہ اختلاف نہيں ركھتيں يعنى ممكن ہے يہ تمام امور فرشتوں كي

____________________

(۱)سورہ بقرہ آيت۳۰

(۲)سورہ بقرہ آيت۳۰

۱۶

اس توجہ كا سبب بنا ہو اور دراصل يہ ايك حقيقت بھى تھى جسے انہوں نے بيان كيا تھا يہى وجہ ہے كہ خدا نے جواب ميں كہيں بھى اس كا انكار نہيں كيا بلكہ اس حقيقت كے ساتھ ساتھ ايسى مزيد حقيقتيں انسان اور اس كے مقام كے بارے ميں موجود ہيں جن سے فرشتے آگاہ نہيں تھے _

فرشتے سمجھتے تھے اگر مقصد عبوديت اور بند گى ہے تو ہم اس كے مصداق كامل ہيں ،ہميشہ عبادت ميں ڈوبے رہتے ہيں لہذا سب سے زيادہ ہم خلافت كے لائق ہيں ليكن وہ اس سے بے خبرتھے كہ ان كے وجود ميں شہوت وغضب اور قسم قسم كى خواہشات موجود نہيں جب كہ انسان كو ميلانات وشہوات نے گھير ركھا ہے اور شيطان ہر طرف سے اسے وسوسہ ميں ڈالتا رہتا ہے لہذا ان كى عبادت انسان كى عبادت سے بہت زيادہ فرق ركھتى ہے كہاں اطاعت اور فرمانبردارى ايك طوفان زدہ كى اور كہاں عبادت ان ساحل نشينوں كى جو مطمئن، خالى ہاتھ اور سبك بارہيں _

انہيں كب معلوم تھا كہ اس آدم كى نسل سے محمد ،ابراہيم،نوح،موسي، عيسى عليہم السلام جيسے انبياء اور ائمہ اہل بيت (ع) جيسے معصوم اور ايسے صالح بندے اور جانباز شہيد مرد اور عورتيں عرصئہ وجود ميں قدم ركھيں گے جو پروانہ وار اپنے آپ كو راہ خدا ميں پيش كريں گے ايسے افراد جن كے غور وفكر كى ايك گھڑى فرشتوں كى سالہا سال كى عبادت كے بہتر ہے _

يہ بات قابل توجہ ہے كہ فرشتوں نے اپنے صفات كے بارے ميں تين چيزوں كا سہارا ليا تسبيح، حمد اور تقديس ،در حقيقت وہ يہ كہنا چاہتے تھے كہ اگر ہدف اور غرض ،اطاعت اور بندگى ہے تو ہم فرمانبردار ہيں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس ميں مشغول رہتے ہيں اور اگر اپنے آپ كو پاك ركھنا يا صفحہ ارضى كو پاك ركھنا ہے تو ہم ايسا كريں گے جب كہ يہ مادى انسان خود بھى فاسد ہے اور روئے زمين كو بھى فاسد كردے گا _

حقائق كو تفصيل سے ان كے سامنے واضح كرنے كے لئے خداوندعالم نے ان كى آزمائش كے لئے اقدام كيا تاكہ وہ خود اعتراف كريں كہ:

'' ان كے اور اولاد آدم كے درميان زمين وآسمان كا فرق ہے ''_

۱۷

فرشتے امتحان كے سانچے ميں

پروردگار كے لطف وكرم سے آدم حقائق عالم كے ادراك كى كافى استعدادركھتے تھے خدا نے ان كى اس استعداد كو فعليت كے درجے تك پہنچا يا اور قرآن كے ارشاد كے مطابق آدم كو تمام اسما ء (عالم وجود كے حقائق واسرار )كى تعليم دى گئي_(۱)(۲)

____________________

(۱)سورہ بقرہ آيت۳۱

(۲) مفسرين نے اگر چہ ''علم اسماء كى تفسير ميں قسم قسم كے بيانات ديئے ہيں ليكن مسلم ہے كہ آدم كو كلمات واسماء كى تعليم بغير معنى كے نہيں دى تھى كيونكہ يہ كو ئي قابل فخربات نہيں بلكہ مقصد يہ تھا كہ ان اسماء كے معانى ومفاہيم اورجن چيزوں كے وہ نام تھے ان سب كى تعليم ہے البتہ جہان خلقت اور عالم ہستى كے مختلف موجودات كے اسماء خواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ كيا جانا حضرت ادم كے لئے بہت بڑا اعزاز تھا _

ايك حديث ميں ہے كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے اس آيت (وعلم آدم الاسماء كلہا)كے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمايا : (الارضين والجبال والشعاب والا وديہ ثمہ نظر الى بساط تحتہ فقال وہزا ابساط مما علمہ)_

اسماء سے مرادزمينيں ،پہاڑ،دريا،اوروادياں (غرض يہ كہ تمام موجودات ) تھے، اس كے بعد امام (ع) نے اس فرش كى طرف نگاہ كى جو آپ كے نيچے بچھا ہوا تھا اور فرمايا يہاں تك كہ يہ فرش بھى ان امور ميں سے ہے كہ خدا نے جن كى آدم كو تعليم دى _

لہذا معلوم يہ ہوا كہ علم لغت كے مشابہ نہ تھا بلكہ اس كا تعلق فلسفہ ،اور اسرار اور كيفيات وخواص كے ساتھ تھا، خداوندعالم نے آدم كو اس علم كى تعليم دى تاكہ وہ اپنى سيرتكامل ميں اس جہان كى مادى اور روحانى نعمتوں سے بہرہ ورہوسكيں اسى طرح مختلف چيزوں كے نام ركھنے كى استعداد بھى انہيں دى تاكہ وہ چيزوں كے نام ركھ سيكيں اور ضرورت كے وقت ان كا نام لے كر انہيں بلا سكيں يا منگواسكيں اور يہ ضرورى نہ ہو كہ اس كے لئے ويسى چيز دكھانى پڑے، يہ خود ايك بہت بڑى نعمت ہے اس موضوع كى اہميت ہم اس وقت سمجھتے ہيں جب ديكھتے ہيں كہ انسان كے پاس اس وقت جو كچھ ہے كتاب اور لكھنے كى وجہ سے ہے اور گزرے ہوئے لوگوں كے سب علمى ذخائران كى تحريروں ميں جمع ہيں اور يہ سب كچھ چيزوں كے نام ركھنے اور ان كے خواص كى وجہ سے ہے ورنہ كبھى بھى ممكن نہ تھا كہ ہم گذشتہ لوگوں كے علوم آنے والوں تك منتقل كرسكتے _

۱۸

پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمايا :''اگر سچ كہتے ہوتو ان اشياء اور موجودات كے نام بتاو جنہيں ديكھ رہے ہو اور ان كے اسرارو كيفيات كو بيان كرو،ليكن فرشتے جو اتنا علم نہ ركھتے تھے اس امتحان ميں پيچھے رہ گئے لہذا جواب ميں كہنے لگے خدا وندا :''تومنزہ ہے ،تونے ہميں جوتعليم دى ہے ہم اس كے علاوہ كچھ نہيں جانتے ہميں نہيں معلوم تو خود ہى عليم وحكيم ہے_(۱)

اگر ہم نے اس سلسلے ميں سوال كيا ہے تو يہ ہمارى ناآگا ہى كى بناء پرتھا اور آدم كى اس عجيب استعداد اور قدرت سے بے خبر تھے جو ہمارے مقابلے ميں اس كا بہت بڑا امتياز ہے ،بے شك وہ تيرى خلافت وجانشينى كى اہليت ركھتا ہے جہان ہستى كى سرزمين اس كے وجود كے بغير نا قص تھي_

اب آدم عليہ السلام كى بارى آئي كہ وہ ملائكہ كے سامنے موجود ات كا نام ليں اور ان كے اسرار بيان كريں خداوند عالم نے فرمايا :''اے آدم :فرشتوں كو ان موجود ات كے ناموں اور كاموں سے آگاہ كرو،جب آدم نے انہيں ان اسماء سے آگاہ كيا تو خداوند عالم نے فرمايا : كياميں نے تمہيں بتايا نہيں تھا كہ ميں آسمان وزمين كے غيب سے واقف ہوں اور تم جو كچھ ظاہر كرتے اور چھپا تے ہوسب سے باخبر ہوں ''_(۲)

اس مقام پر ملائكہ نے اس انسان كى وسيع معلومات اور فراواں حكمت ودانائي كے سامنے سرتسليم خم كرديا اور ان پر واضح ہوگيا كہ صرف يہى زمين پر خلافت كى اہليت ركھتا ہے _

آدم عليہ السلام جنت ميں

گذشتہ بحثيں جوانسان كے مقام وعظمت كے بارے ميں تھيں ان كے ساتھ قرآن نے ايك اور فصل بيان كى ہے، پہلے كہتا ہے : ''يادكرووہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے كہا آدم كے لئے سجدہ وخضوع كرو، ان سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے، جس نے انكار كيا اور تكبر كيا اور اسى تكبر ونا فرمانى كى وجہ سے كافروں ميں داخل ہوگيا ''_(۳)

____________________

(۱) سورہ بقرہ آيت۳۱

(۲) سورہ بقرہ آيت۳۳

(۳) سورہ بقرہ آيت۳۴

۱۹

بہر حال مربوط آيت انسانى شرافت اور اس كى عظمت ومقام كى زندہ اور واضح دليل ہے كہ اس كى تكميل خلقت كے بعد تمام ملائكہ كو حكم ملتا ہے كہ اس عظيم مخلوق كے سامنے سر تسليم خم كردو، واقعاوہ شخص جو مقام خلافت الہى اور زمين پر خدا كى نمائندگى كا منصب حاصل كرے ،تمام ترتكا مل وكمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں كى پرورش كا ذمہ دار ہو جن ميں انبيا ء اورخصوصا ًپيامبر اسلام (ص) اور ان كے جانشين شامل ہوں ، ايسا انسان ہر قسم كے احترام كے لائق ہے _

ابليس نے مخالفت كيوں كي

ہم جانتے ہيں كہ لفظ ''شيطان ''اسم جنس ہے جس ميں پہلا شيطان اور ديگر تمام شيطان شامل ہيں ليكن ابليس مخصوص نام ہے، اور يہ اسى شيطان كى طرف اشارہ ہے جس نے حضرت آدم كو ورغلايا تھا وہ صريح آيات قرآن كے مطابق ملائكہ كى نوع سے نہيں تھا صرف ان كى صفوں ميں رہتا تھا وہ گروہ جن ميں سے تھا جو ايك مادى مخلوق ہے _(۱)

اس مخالفت كاسبب كبر و غرور اور خاص تعصب تھا جو اس كى فكر پر مسلط تھا_وہ سوچتا تھا كہ ميں آدم سے بہتر ہوں لہذا آدم كو سجدہ كرنے كا حكم نہيں ديا جانا چاہئے بلكہ آدم كو سجدہ كرنا چاہئے اور اسے مسجود ہونا چاہئے_

خدانے ''ابليس''كى سركشى اور طغيانى كى وجہ اس كا مواخذہ كيا اور كہا:اس بات كا كيا سبب ہے كہ تو نے آدم كو سجدہ نہيں كيا اور ميرے فرمان كو نظر انداز كرديا ہے؟(۲)

اس نے جواب ميں ايك نادرست بہانے كا سہارا ليا اور كہا:''ميں اس سے بہتر ہوں كيونكہ تو نے مجھے آگ سے پيدا كيا ہے اور آدم كو آب و گل سے_(۳)

____________________

(۱)سورہ كہف آيت ۵۰ ميں ہے :''سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے جو جنوں ميں سے تھا''

(۲)سورہ اعراف آيت۱۲

(۳)سورہ اعراف آيت۱۲

۲۰