قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 28514
ڈاؤنلوڈ: 1553

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 28514 / ڈاؤنلوڈ: 1553
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

انہوں نے يوسف كو نہيں پہچانا ''( ۱)

وہ يوسف كو نہ پہچا ننے ميں حق بجا نب تھے كيو نكہ ايك طرف تو تيس سے چا ليس سال تك كا عر صہ بيت چكا تھا ( اس دن سے لے كر جب انہوں نے حضرت يوسف كو كنويں ميں پھينكا تھا ان كے مصر ميں انے تك ) اور دوسرى طرف وہ سوچ بھى نہ سكتے تھے كہ ان كا بھا ئي عزيز مصر ہو گيا ہے يہا ں تك كہ اگر وہ اسے اپنے بھا ئي سے مشا بہ بھى پا تے تو اسے ايك اتفاق ہى سمجھتے ان تمام امور سے قطع نظر حضر ت يوسف كے لباس كا اندازبھى بالكل بدل چكا تھا انہيں مصر يوں كے نئے لباس ميں پہچا ننا كو ئي اسان نہيں تھا بلكہ يوسف كے ساتھ جو كچھ ہو گزرا تھا اس كے بعد ان كى زندگى كا احتمال بھى ان كے لئے بہت بعيد تھا _

بہر حال انہوں نے اپنى ضرورت كا غلہ خريد ا اور اس كى قيمت نقدى كى صورت ميں اور يا مو زے ، جوتے يا كچھ اور اجناس كى صورت ميں ادا كى كہ جو وہ كنعان سے مصر لا ئے تھے _

جناب يوسف (ع) نے اپنے بھا ئيوں سے ايك پيشكش كي

حضرت يوسف (ع) نے اپنے بھا ئيوں سے بہت محبت كا برتائو كيا اور ان سے بات چيت كرنے لگے بھائيوں نے كہا :ہم دس بھائي ہيں اور حضرت يعقوب كے بيٹے ہيں ہمارے والد خدا كے عظيم پيغمبر ابراہيم خليل كے پوتے ہيں اگر اپ ہمارے باپ كو پہچا نتے ہو تے تو ہمارا بہت احترام كرتے ہمارا بوڑھا باپ انبياء الہى ميں سے ہے ليكن ايك نہا يت گہرے غم نے اس كے پورے وجود كو گھير ركھا ہے _

حضرت يوسف نے پوچھا :يہ غم كس بناء پر ہے _انہوں نے كہا :

ان كا ايك بيٹا تھا جس سے وہ بہت محبت كر تے تھے ،عمر ميں وہ ہم سے بہت چھوٹا تھا ايك دن وہ ہمارے سا تھ شكار اور تفريح كے لئے صحرا ميں گيا ہم اس سے غافل ہو گئے تو ايك بھيڑيا اسے چير پھاڑ ا گيا اس دن سے لے كر اج تك باپ اس كے لئے گرياں اورغمگين ہيں _

____________________

(۱)سورہ يوسف آيت ۵۸

۲۲۱

حضرت يوسف (ع) كى عادت تھى كہ ايك شخص كو ايك اونٹ كے بارسے زيادہ غلہ نہيں بيچتے تھے حضرت يوسف كے يہ بھا ئي چو نكہ دس تھے لہذا انہيں غلے كے دس بار ديئے گئے _

انہوں نے كہا : ہمارا بوڑ ھا باپ ہے اور ايك چھو ٹا بھا ئي ہے جو وطن ميں رہ گيا ہے باپ غم واندوہ كى شدت كى وجہ سے سفر نہيں كر سكتا اور چھوٹا بھائي خدمت كے لئے اور مانوسيت كى وجہ سے اس كے پاس رہ گيا ہے لہذا ان دونوں كا حصہ بھى ہميں دے ديجئے _

حضرت يوسف (ع) نے حكم ديا كہ دو او نٹوں كے باركا اضا فہ كيا جائے پھر حضرت يوسف ان كى طرف متوجہ ہو ئے اور كہا : ميں ديكھ رہا ہوں كہ تم ہوشمند اور مو دب افراد ہوا ور يہ جو تم كہتے ہو كہ تمہارے باپ كو تمہارے سب سے چھوٹے بھا ئي سے لگا ئو ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ غير معمولى اور عام بچوں سے ہٹ كر ہے ميرى خواہش ہے كہ تمہارے ايندہ سفر ميں ميں اسے ضرور ديكھوں اس كے علاوہ يہاں كے لوگوں كو تمہارے بارے ميں كئي بدگمانيا ں ہيں كيو نكہ تم ايك دوسرے ملك سے تعلق ركھتے ہو لہذا بدگمانى كى اس فضا ء كو دور كرنے كے لئے ايندہ سفر ميں چھو ٹے بھائي كو نشانى كے طور پر ساتھ لے انا _

يہا ں قران كہتا ہے :

'' جب يوسف نے ان كے بارتيار كئے تو ان سے كہا : تمہارا بھائي جو باپ كى طرف سے ہے اسے ميرے پاس لے ائو''_(۱)

اس كے بعد مزيد كہا :

''كيا تم ديكھتے نہيں ہو كہ ميں پيما نہ كا حق ادا كرتا ہوں اور بہترين ميزبان ہوں '' _(۲)

اس تشويق اور اظہار محبت كے بعد انہيں يوں تہديد بھى كى :'' اگر اس بھا ئي كو ميرے پاس نہ لائے تو نہ تمہيں ميرے پاس سے غلہ ملے گا اور نہ تم خود ميرے پاس پھٹكنا_ ''(۳)

____________________

(۱)سورہ يوسف آيت ۵۹

(۲) سورہ يوسف آيت ۵۹

(۳) سورہ يوسف آيت ۶۰

۲۲۲

حضرت يوسف چاہتے تھے كہ جيسے بھى ہو بنيا مين كو اپنے پاس بلائيں اس كے لئے كبھى وہ لطف و محبت كا طريقہ اختيا ر كر تے اور كبھى تہديد كا _ ان تعبيرات سے ضمنى طور پر واضح ہو تا ہے كہ مصر ميں غلاّت كى خريدو فروخت تو ل كر نہيں ہو تى تھى بلكہ پيما نے سے ہو تى تھى _ نيز يہ بھى واضح ہو تا ہے كہ حضرت يوسف اپنے بھا ئيوں اور دوسرے مہمانوں كى بہت اچھے طريقے سے پذير ائي كر تے تھے اور ہر حوا لے سے مہمان نواز تھے _ بھائيوں نے ان كے جواب ميں كہا :'' ہم اس كے باپ سے بات كريں گے اور كو شش كريں گے كہ وہ رضا مند ہو جائيں اور ہم يہ كام ضرور كريں گے ''(۱)

اس مو قع پر ان كى ہمدردى اور توجہ كو زيادہ سے زيادہ اپنى طرف مبذول كر نے كے لئے ''حضر ت يوسف نے اپنے كا رندوں سے كہا كہ ان كى نظر بچا كروہ اموال ان كے غلے ميں ركھ ديں جو انہوں نے غلہ اس كے بدلے ميں ديئےھے تا كہ جب وہ واپس اپنے خاندان ميں جاكر اپنا سامان كھوليں تو انہيں پہچان ليں اور دو بارہ مصر كى طرف لوٹ ائيں ''_( ۲)(۳)

____________________

(۱)سورہ يوسف آيت ۶۱

(۲)سورہ يوسف آيت ۶۲

(۳) حضرت يوسف(ع) نے بھائيوں سے اپنا تعارف كيوں نہ كر وايا : مندر جہ بالا واقعہ كے مطالعہ سے جو پہلا سوال سامنے اتا ہے وہ يہ ہے كہ حضرت يوسف نے بھائيوں سے اپنا تعارف كيوں نہ كروايا كہ وہ جلداز جلد اپ كو پہچان ليتے اور باپ كے پاس واپس جا كر انہيں ا پ كى جدائي كے جانكاہ غم سے نكالتے ؟

يہ سوال زيادہ وسيع حوالہ سے بھى سامنے اسكتا ہے اور وہ يہ كہ جس وقت حضرت يوسف كے بھا ئي اپ كے پاس ائے اس وقت اپ كى زندان سے رہائي كو كو ئي اٹھ سال گزر چكے تھے كيو نكہ گزشتہ سات سال فراوان نعمتوں پر مشتمل گزر چكے تھے جن كے دوران اپ قحط سالى كے عر صہ كے لئے اناج ذخير ہ كر نے ميں مشغول رہے اٹھويں سال قحط كا دور شرع ہوا اس سال يا اس كے بعد اپ كے بھا ئي غلہ لينے كے لئے مصر ائے ،كيا چا ہئے نہ تھا كہ ان اٹھ سالوں ميں اپ كو ئي قاصد كنعان كى طرف بھيجتے اور اپنے والد كو اپنے حالات سے اگاہ كر تے اور انہيں شديد غم سے نجات دلاتے ؟

بہت سے مفسر ين نے مثلاً طبرسى نے مجمع البيان ميں ، علامہ طباطبائي نے الميزان ميں اور قرطبى نے الجامع الا حكام القران ميں اس سوال كا جواب ديا ہے اور اس سلسلے ميں كئي جوابات پيش كئے ہيں ان ميں سے زيادہ بہتر يہ نظر اتا ہے كہ حضرت يوسف كو خدا تعالى كى طرف سے اس كى اجازت نہ تھى كيو نكہ فراق يو سف ديگر پہلوئوں كے علاوہ يعقوب كے لئے بھى ايك امتحان بھى تھا،اور ضرورى تھا كہ آزمائش كى يہ دور فرمان الہى سے ختم ہوتا،اور اس سے پہلے حضرت يوسف(ع) خبردينے كے مجا ز نہ تھے _

اس كے علاوہ اگر حضرت يو سف فوراً ہى اپنے بھا ئيوں كو اپنا تعارف كرو اديتے تو ممكن تھا كہ اس كا نتيجہ اچھا نہ ہو تا اور ہو سكتا تھا كہ وہ اس سے ايسے وحشت زدہ ہو تے كہ پھر لوٹ كر اپ كے پاس نہ اتے كيونكہ انہيں يہ خيال پيدا ہو تا كہ ممكن ہے يوسف ان كے گزشتہ رويہ كا انتقام ليں

۲۲۳

اخر كار باپ راضى ہو گيا

حضرت يو سف(ع) كے بھا ئي ما لامال ہو كر خو شى خو شى كنعان واپس ائے ليكن ايند ہ كى فكر تھى كہ اگر باپ چھو ٹے بھا ئي ( بنيا مين ) كو بھيجنے پر راضى نہ ہوئے تو عزيز مصر ان كى پذيرائي نہيں كرے گا اور انہيں غلے كا حصہ نہيں دے گا _ اسى لئے قران كہتا ہے :

''جب وہ باپ كے پاس لوٹ كر ائے تو انہوں نے كہا : ابا جان حكم ديا گيا ہے كہ ايندہ ہميں غلے كا حصہ نہ ديا جائے اور پيمانہ ہم سے روك ديا جا ئے، '' اب جب يہ صورت در پيش ہے تو ہمارے بھا ئي كو ہمارے ساتھ بھيج ديں تا كہ ہم پيمانہ حاصل كرسكيں ،''اور اپ مطمئن رہيں ہم اس كى حفا ظت كر يں گے'' _(۱)

باپ كہ جو يو سف كو ہر گز نہيں بھو لتا تھا يہ بات سن كر پريشا ن ہو گيا ،ان كى طرف رخ كر كے اس نے كہا :'' كيا ميں تم پر اس بھا ئي كے بارے ميں بھروسہ كر لوں جب كہ اس كے بھائي يو سف كے بارے ميں گزشتہ زمانے ميں تم پر بھروسہ كيا تھا ''(۲)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۶۳

(۲) سورہ يوسف آيت ۶۴

۲۲۴

يعنى جب تمہارا ايسا برا ما ضى ہے جو بھولنے كے قابل نہيں تو تم كس طرح تو قع ركھتے ہو كہ دوبارہ تمہارى فرمائش مان لوں اور اپنے فرزند دل بند كو تمہارے سپرد كر دوں اور وہ بھى ايك دور درازسفر اور پرا ئے ديس كے لئے ،اس كے بعد اس نے مزيد كہا :'' ہر حالت ميں خدا بہتر ين محا فظ اور''ارحم الرحمين'' ہے_(۱)

''پھر ان بھا ئيوں نے جب اپنا سامان كھولا تو انہوں نے بڑے تعجب سے ديكھا كہ وہ تمام چيز يں جو انہوں نے غلے كى قيمت كے طور پر عزيز مصر كو دى تھيں سب انہيں لوٹادى گئي ہيں اور وہ ان كے سامان ميں موجود ہيں ''_(۲) جب انہوں نے ديكھا كہ يہ تو ان كى گفتگو پر سند قاطع ہے تو باپ كے پاس ائے اور كہنے لگے: ''اباجا ن ہميں اس سے بڑھ كر اور كيا چا ہيے ، ديكھئے انہوں نے ہمارا تمام مال ومتاع ہميں واپس كر ديا ہے''_(۳) كيا اس سے بڑھ كر كوئي عزت واحترام اور مہر بانى ہو سكتى ہے كہ ايك غير ملك كا سربراہ ايسے قحط اور خشك سالى ميں ہميں اناج بھى دے اور اس كى قيمت بھى واپس كر دے ، وہ بھى ايسے كہ ہم سمجھ ہى نہ پائيں اور شرمندہ نہ ہو ں ؟ اس سے بڑھ كر ہم كيا تصور كر سكتے ہيں ؟

ابا جا ن اب كسى پر يشا نى كى ضرورت نہيں ہمارے بھا ئي كو ہما رے ساتھ بھيج ديں ہم اپنے گھر والوں كے لئے اناج لے آئيں گے،اور اپنے بھائي كى حفاظت كى كو شش كر يں گے _نيز اس كى وجہ سے ايك اونٹ كا بار بھى زيادہ لا ئيں گے _ اور عزيز مصر جيسے محترم ، مہربان اور سخى شخص كے لئے كہ جسے ہم نے ديكھا ہے ''ايك آسان اور معمولى كا م ہے ''_(۴)

ان تمام امور كے باوجود حضرت يعقوب اپنے بيٹے بنيا مين كو ان كے ساتھ بھيجنے كے لئے راضى نہ تھے ليكن دوسرى طرف ان كا اصرار تھا جو واضح منطق كى بنياد پرتھا يہ صور ت حال انھيں آمادہ كرتى تھى كہ وہ ان

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۶۴

(۲) سورہ يوسف آيت ۶۵

(۳) سورہ يوسف آيت ۶۵

(۴)سورہ يوسف آيت ۶۵

۲۲۵

كى تجويز قبول كرليں آخر كار انہوں نے ديكھا كہ اس كے بغير چارہ نہيں كہ مشروط طور پر بيٹے كو بھيج ديا جا ئے لہذا آپ نے ان سے اس طرح سے كہا : ''ميں اسے ہر گز تمہارے ساتھ نہيں بھيجوں گا ، جب تك كہ تم ايك خدائي پيمان نہ دو اور كو ئي ايسا كا م نہ كرو كہ جس سے مجھے اعتماد پيدا ہو جا ئے كہ تم اسے واپس لے كر آئو گے مگر يہ موت يا دوسرے عوامل كى وجہ سے يہ امر تمہارے بس ميں نہ رہے''_(۱)

''وثيقہ الہي'' سے مراد وہى قسم ہے جو خدا كے نام كے ساتھ ہے_

بہر حال يوسف(ع) كے بھائيوں نے باپ كى شرط قبول كرلي،اور جب انھوں نے اپنے باپ سے عہد و پيمان باندھاتو يعقوب(ع) نے كہا:خدا شاہد،ناظر اورمحافظ ہے اس بات پر كہ جو ہم كہتے ہيں _(۲)

____________________

(۱)سورہ يوسف آيت ۶۶

(۲) حضرت يعقوب كيسے راضى ہو گئے : مند رجہ بالاو اقعہ كے سلسلے ميں جو پہلا سوال ذہن ميں آتا ہے يہ ہے كہ حضرت يعقوب بنيا مين كو ان كے سپر د كرنے پر كيسے آمادہ ہوگئے جب كہ ان كے بھائي ،يو سف (ع) كے بارے ميں سلوك كى وجہ سے پہلے برے كردا ركے شمار ہو تے تھے حالا نكہ ہم جانتے ہيں كہ وہ صر ف يو سف كے بارے ميں اپنے دل ميں كينہ وحسد نہيں ركھتے تھے بلكہ وہ يہى احساسات اگر چہ نسبتا خفيف ہى سہى بنيا مين كے لئے بھى ركھتے تھے جيسا كہ شروع داستان ميں پڑھا_''انہوں نے كہا كہ يوسف اوراس كا بھائي باپ كے نزديك ہم سے زيادہ محبوب ہے جب كہ ہم زيادہ طاقتور ہيں ''_

اس نكتہ كى طرف تو جہ كر نے سے اس سوال كا جواب واضح ہو جا تا ہے كہ حضرت يوسف والے حا دثے كو تيس سے چاليس سال تك كا عر صہ بيت چكا تھا اور حضر ت يو سف كے جو ان بھا ئي بڑھا پے كو پہنچ گئے تھے اور فطر تا ان كا ذہن پہلے زما نے كى نسبت پختہ ہو چكا تھا اس كے علاوہ گھر كے ما حول پر اور اپنے مضطرب وجدان پر اپنے برے ارادے كے اثرات وہ اچھى طرح سے محسوس كر تے تھے اور تجربے نے ان پر ثابت كر ديا كہ يوسف كے فقدان سے نہ صرف يہ كہ ان كے لئے باپ كى محبت ميں اضا فہ نہ ہوا بلكہ مزيد بے مہر ى اور بے التفاتى پيدا ہو گئي _ان سب باتوں سے قطع نظر يہ تو ايك زندگى كا مسئلہ ہے ،قحط سالى ميں ايك گھر انے كے لئے اناج مہياكر نا ايك بہت بڑى چيز تھى اور يہ سيرو تفريح كا معا ملہ نہ تھا جيسا كہ انہوں نے ماضى ميں حضرت يو سف كے متعلق فر ما ئش كى تھى _ان تمام پہلوئوں كے پيش نظر حضرت يعقوب (ع) نے ان كى بات مان لي، ليكن اس شرط كے سا تھ وہ كہ آپ سے عہد وپيمان باندھيں كہ وہ اپنے بھا ئي بنيامين كو صحيح وسالم آپ كے پاس واپس لے آئيں گے _

۲۲۶

ايك دروازے سے داخل نہ ہو نا

آخر كار حضر ت يو سف كے بھائي باپ كى رضا مندى كے بعد اپنے چھوٹے بھائي كو ہمراہ لے كر دوسرى مر تبہ مصر جانے كو تيار ہو ئے تو اس موقع پر باپ نے انہيں نصيحت كى ''اس نے كہا : ميرے بيٹو تم ايك درواز ے سے داخل نہ ہو نا بلكہ مختلف در وازوں سے داخل ہو نا _''(۱)

اس ميں شك نہيں كہ اس زمانے ميں دوسرے شہروں كى طرح مصر كے دارالخلافت كے گرد اگر د بھى فصيل تھى اس كے بھى برج وبار تھے اور اس كے متعدد دروازے تھے _

رہا يہ سوال كہ حضرت يعقوب نے كيوں نصيحت كى كہ ان كے بيٹے ايك دروازے سے داخل نہ ہوں بلكہ مختلف حصوں ميں تقسيم ہو كر مختلف دروازوں سے شہر ميں داخل ہوں ، اس كى وجہ قرآن ميں مذ كور نہيں ہے بعض مفسرين كہتے ہيں كہ حضر ت يو سف كے بھا ئي ايك تو بہت حسين وجميل تھے ( اگر چہ وہ يو سف نہ تھے مگر يوسف كے بھا ئي تو تھے ) ان كا قد وقامت بہت اچھا تھا_

لہذا ان كے باپ پريشان تھے كہ گيا رہ افراد اكھٹے جن كے چہرے مہرے سے معلوم ہو كہ وہ مصر كے علاوہ كسى اور ملك سے آئے ہيں ، لوگ ان كى طرف متوجہ نہ ہوں وہ نہيں چا ہتے تھے كہ اس طرح انہيں نظربد لگ جائے _

حضرت يعقوب كے اس حكم كے بارے ميں جو دوسرى علت بيان كى گئي ہے وہ يہ ہے كہ ہو سكتا ہے جب اونچے لمبے چوڑے چكلے مضبوط جسموں والے اكٹھے چليں تو حاسدوں كو انہيں ديكھ كر حسد پيدا ہواور وہ ان كے بارے ميں حكومت سے كو ئي شكايت كرنے لگيں اور ان كے متعلق يہ بدگمانى كر يں كہ وہ فتنہ وفساد كا ارادہ ركھتے ہيں اس لئے باپ نے انہيں حكم ديا كہ مختلف در وازوں سے داخل ہوں تاكہ لوگ ان كى طرف متوجہ نہ ہوں _

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۶۷

۲۲۷

بعض مفسرين نے اس كى ايك عرفانى تفسير بھى كى ہے وہ يہ كہ حضرت يعقوب راہنما ئے راہ كے حوالے سے اپنے بيٹوں كو ايك باہم معا شرتى مسئلہ سمجھا نا چاہتے تھے اور وہ يہ كہ كھو ئي ہو ئي چيز كو صر ف ايك ہى راستے سے تلاش نہ كر يں بلكہ ہردروازے سے داخل ہو كر اسے ڈھونڈيں كيونكہ اكثر ايساہوتا ہے كہ انسان ايك مقصد تك پہنچنے كے لئے صرف ايك ہى راہ كا انتخاب كر تا ہے اور جب آگے راستہ بند پاتا ہے تو مايوس ہو كر بيٹھ جاتا ہے ليكن اگر وہ اس حقيقت كى طرف متوجہ ہو كہ گمشدہ افراد اور چيز يں عمو ماً ايك ہى راستے پر جانے سے نہيں ملتيں بلكہ مختلف راستوں سے ان كى جستجو كر نا چا ہيے تو عام طور پر كامياب ہو جاتاہے _

برادر ان يو سف (ع) روانہ ہو ئے اور كنعان ومصر كے در ميان طويل مسا فت طے كر نے كے بعد سر زمين مصر ميں داخل ہو گئے _

بھا ئي كو روكنے كى كو شش

آخر كار بھائي، يو سف (ع) كے پاس پہنچے اور انہيں بتايا كہ ہم نے آپ كے حكم كى تعميل كى ہے اور باوجود اس كے ہمارے والد پہلے چھو ٹے بھا ئي كو ہمارے ساتھ بھيجنے پر راضى نہ تھے ليكن ہم نے اصرار كر كے اسے راضى كيا ہے تا كہ آپ جان ليں كہ ہم نے قول وقرا ر پورا كيا ہے _

حضرت يو سف (ع) نے بڑى عزت واحترام سے ان كى پذيرائي كي، انہيں مہمان بلايا اور حكم ديا كہ دستر خوان يا طبق كے پا س دو دو افراد آئيں ، انہوں نے ايسا ہى كيا اس مو قع پر بنيا مين جو تنہارہ گيا تھا رونے لگا اوركہنے لگا كہ ميرا بھائي يو سف زندہ ہو تا تو مجھے اپنے ساتھ ايك دسترخوان پر بٹھا تا كيونكہ ہم پدر ى بھائي تھے_ پھر حكم ديا كہ دو دو افراد كے لئے ايك ايك كمرہ سونے كے لئے تيار كيا جا ئے بنيا مين پھر اكيلا رہ گيا تو حضرت يوسف نے فرمايا : اسے ميرے پاس بھيج دو اس طرح حضرت يو سف (ع) نے اپنے بھا ئي كو اپنے يہاں جگہ دى ليكن ديكھا كہ وہ بہت دكھى اور پريشان ہے اور ہميشہ اپنے كھوئے ہوئے بھائي يوسف(ع) كى ياد ميں رہتا ہے كہ ايسے ميں يو سف كے صبر كا پيمانہ لبر يز ہو گيا اور آپ نے حقيقت كے چہرے سے پر دہ ہٹا ديا ، جيسا كہ قرآن كہتا ہے :''

۲۲۸

جب يوسف (ع) كے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھا ئي كو اپنے يہا ں جگہ دى اوركہا كہ ميں وہى تمہارا بھائي يو سف ہوں ، غمگين نہ ہو اور اپنے دل كو دكھى نہ كر اور ان كے كسى كا م سے پر يشا ن نہ ہو ''_(۱)

بھا ئيوں كے كا م كہ جو بنيا مين كو دكھى اور پريشان كر تے تھے ان سے مرادان كى وہ نامہر بانيا ں او ر بے التفا تياں تھيں جو وہ اس كے اور يو سف كے لئے رواركھتے تھے اور وہ سازشيں كہ جو اسے گھر والوں سے دور كرنے كے لئے انجام ديتے تھے ،حضرت يوسف(ع) كى مراد يہ تھى كہ تم ديكھ رہے ہو كہ ان كى كار ستانيوں سے مجھے كو ئي نقصان نہيں پہنچا بلكہ وہ ميرى تر قى اور بلندى كا ذريعہ بن گئيں لہذا اب تم بھى اس بارے ميں اپنے دل كو دكھى نہ كرو _

اے اہل قافلہ تم چو رہو

اس مو قع پر حضرت يوسف (ع) نے اپنے بھائي بنيامين سے كہا:كيا تم پسند كر تے ہو كہ ميرے پاس رہ جائو ،اس نے كہا : ہا ں ميں تو راضى ہوں ليكن بھائي ہر گز راضى نہيں ہوں گے كيو نكہ انہوں نے باپ سے قول وقرار كيا ہے اور قسم كھا ئي ہے كہ مجھے ہر قيمت پر اپنے ساتھ واپس لے جائيں گے _

حضر ت يوسف(ع) نے كہا :تم فكر نہ كرو ميں ايك منصوبہ بناتا ہوں جس سے وہ مجبور ہو جائيں گے كہ تمہيں ميرے پاس چھوڑجائيں _ ''غلاّت كے بارتيار ہو گئے تو حكم ديا كہ مخصوص قيمتى پيمانہ بھائي كے بارميں ركھ ديں ''_(۲) ( كيو نكہ ہرشخص كے لئے غلے كا ايك بار ديا جاتا تھا _

البتہ يہ كام مخفى طور پر انجام پايا اور شايد اس كا علم مامور ين ميں سے فقط ايك شخص كو تھا _

جب اناج كو پيما نے سے دينے والوں نے ديكھا كہ مخصوص قيمتى پيما نے كا كہيں نام ونشان نہيں ہے حالانكہ پہلے وہ ان كے پاس موجود تھا لہذا جب قافلہ چلنے لگا ''تو كسى نے پكار كر كہا : اے قافلے والو : تم چور ہو''_(۳)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۶۹

(۲)سورہ يوسف آيت ۷۰

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۰

۲۲۹

يو سف كے بھائيوں نے جب يہ جملہ سنا تو سخت پريشان ہو ئے اورو حشت زدہ ہوگئے كيو نكہ ان كے ذہن ميں تو اس كا خيال بھى نہ آسكتا تھا كہ اس احترام واكرم كے بعد ان پر چورى كا الزام لگا يا جائے گا لہذا انہوں نے ان كى طرف رخ كر كے كہا :'' تمہارى كو نسى چيز چورى ہو گئي ہے''_(۱)

''انہوں نے كہا ہم سے بادشاہ كا پيمانہ گم ہو گيا ہے اور ہميں تمہارے بارے ميں بد گمانى ہے'' _(۲)

پيمانہ چو نكہ گراں قيمت ہے اور بادشاہ كو پسند ہے لہذا '' وہ جس شخص كو ملے اور وہ اسے لے آئے تو اسے ايك اونٹ كا باربطور انعام ديا جائے گا ''_(۳)

پھر بات كہنے والے نے مزيد تاكيد كے لئے كہا:''اور ميں ذاتى طور پر اس انعام كا ضامن ہوں ''_(۴)

بھائي يہ بات سن كر سخت پريشان ہوئے اور حواس باختہ ہوگئے، وہ نہيں سمجھتے تھے كہ معاملہ كيا ہے،ان كى طرف رخ كر كے انھوں نے كہا:

''انھوں نے كہا:خدا كى قسم تم جانتے ہو كہ ہم يہاں اس لئے نہيں آئے ہيں كہ فتنہ و فساد كريں اور ہم كبھى بھى چور نہيں تھے ''_(۵)

يہ سن كر وہ ان كى طرف متوجہ ہو ئے اور ''كہا : ليكن اگر تم جھوٹے ہو ئے تو اس كى سزا كيا ہوگي؟(۶)

انہوں نے جواب ميں كہا :'' اس كى سزا يہ ہے كہ جس شخص كے بارميں سے بادشاہ كا پيمانہ مل جائے اسے روك لو اور اسے اس كے بدلے ميں لے لو ''_(۷) ''جى ہاں : ہم اسى طرح ظالموں كو سزا ديتے ہيں _''(۸)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۱ (۲) سورہ يوسف آيت ۷۲ (۳) سورہ يوسف آيت ۷۲

(۴)سورہ يوسف آيت۷۲ (۵)سورہ يوسف آيت۷۳ (۶) سورہ يوسف آيت ۷۴

(۷) سورہ يوسف آيت ۷۵ (۸) سورہ يوسف آيت ۷۵

۲۳۰

اس مو قع پرحضرت يوسف نے حكم ديا كہ ان كے غلات كے باركھولے جائيں اور ايك ايك كى جانچ پڑتال كى جائے البتہ اس بناء پر كہ ان كے اصلى منصوبے كا كسى كو پتہ نہ چلے ،'' اپنے بھائي بنيا مين كے بارسے پہلے دوسروں كے سامان كى پڑتال كى اور پھر وہ مخصوص پيمانہ اپنے بھائي كے بار سے برآمد كر ليا''(۱)

اے بنيا مين تم نے ہميں ذليل كر ديا

پيمانہ بر آمد ہوا تو تعجب سے بھائيوں كے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے گويا غم واندوہ كا پہاڑان كے سروں پر آگرا اور انہيں يوں لگا جيسے وہ ايك عجيب مقام پر پھنس گئے ہيں كہ جس كے چاروں طرف كے راستے بند ہو گئے ہيں ايك طرف ان كا بھائي ظاہر ًا ايسى چورى كا مر تكب ہوا جس سے ان كے سرندامت سے جھك گئے اور دوسرى طرف ظاہراً عزيز مصر كى نظروں ميں ان كى عزت وحيثيت خطرے ميں جاپڑى كہ اب آيندہ كے لئے اس كى حمايت حاصل كرنا ان كے لئے ممكن نہ رہا اور ان تمام باتو ں سے قطع نظر انہوں نے سوچا كہ باپ كو كيا جواب ديں گے اور وہ كيسے يقين كر ے گا كہ اس ميں ان كا كوئي قصور نہيں ہے _

بعض مفسرين نے لكھا ہے كہ اس مو قع پربھائيوں نے بنيامين كى طرف رخ كر كے كہا : اے بے خبر : تو نے ہميں رسوا كرديا ہے اور ہمارا منہ كالا كرديا ہے تو نے يہ كيساغلط كام انجام ديا ہے ؟(نہ تو نے اپنے آپ پر رحم كيا ،نہ ہم پر اور نہ خاندان يعقوب (ع) پر كہ جو خاندان نبوت ہے ) آخر ہميں بتا تو سہى كہ تو نے كس وقت پيمانہ اٹھا يا اور اپنے بار ميں ركھ ليا؟ بنيامين نے جو معاملے كى اصل اور قضيے كے باطن كو جانتا تھا ٹھنڈے دل سے جواب ديا كہ يہ كام اسى شخص نے كيا ہے جس نے تمہارى دى ہوئي قيمت تمہارے بارميں ركھ دى تھى ليكن بھائيوں كو اس حادثے نے اس قدر پريشان كر ركھا تھا كہ انھيں پتہ نہيں چلا كہ وہ كيا كہہ رہا ہے_

پھر قرآن مزيد كہتا ہے:'' ہم نے اس طرح يوسف (ع) كے لئے ايك تدبير كي''_(۲) ( تاكہ وہ اپنے

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۶

(۲) سورہ يوسف ايت۷۶

۲۳۱

بھائي كو دوسرے بھائيوں كى مخالفت كے بغير روك سكيں )(۱) اسى بناء پر قرآن كہتا ہے:'' يوسف ملك مصر كے قانون كے مطا بق اپنے بھائي كو نہيں لے سكتے تھے اور اپنے پاس نہيں ركھ سكتے تھے_''(۲)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۶

(۲)يہاں پر دو سوال پيدا ہوتے ہيں :

۱_بے گناہ پر چورى كا الزام ؟

كيا جائز تھا كہ ايك بے گناہ شخص پر چورى كا اتہام لگايا جائے،ايسا اتہام كہ جس كے بُرے اثار نے باقى بھائيوں كو بھى كسى حد تك اپنى لپٹ ميں لے ليا؟

اس سوال كا جواب بھى خود واقعے ميں موجود ہے اور وہ يہ كہ يہ معاملہ خودبنيامين كى رضا مندى سے انجام پايا تھا ،كيونكہ حضرت يوسف نے پہلے اپنے اپ كو اس سے متعارف كروايا تھا اور وہ جانتا تھا كہ يہ منصوبہ خود اس كى حفاظت كے لئے بنايا گيا ہے،نيز اس سے بھائيوں پر بھى كوئي تہمت نہيں لگى البتہ انھيں اضطراب و پريشانى ضرور ہوئي جس ميں كہ ايك اہم امتحان كى وجہ سے كوئي ہرج نہ تھا _

۲_چورى كى نسبت سب كى طرف كيوں دى گئي ؟

كيا (انكم اسارقون )''يعنى تم چور ہو ''كہہ كر سب كى طرف چورى كى نسبت نہيں دينا جھوٹ نہ تھا اور اس جھوٹ اور تہمت كا كيا جواز تھا ؟ ذيل كے تجزيے سے اس سوال كا جواب واضح ہو جا ئے گا : اولاً يہ معلوم نہيں كہ يہ بات كہنے والے كو ن لو گ تھے قرآن ميں صرف اس قدر ہے ''قالوا ''يعنى انہوں نے كہا'' ہوسكتا ہے يہ بات كہنے والے حضرت يوسف كے كچھ كار ندے ہوں كہ جب انہوں نے ديكھا كہ مخصوص پيمانہ نہيں ہے يقين كر ليا كہ كنعان كے قافلے ميں سے كسى شخص نے اسے چراليا ہے اور يہ معمول ہے كہ اگر كوئي چيز ايسے افراد ميں چورى ہو جائے كہ جو ايك ہى گروہ كى صورت ميں متشكل ہو اور اصل چور پہچا نا نہ جائے تو سب كو مخاطب كر تے ہيں اور كہتے ہيں كہ تم نے يہ كام كيا ہے يعنى تم ميں سے ايك نے يا تم ميں سے بعض نے ايسا كيا ہے_

ثانيا ًاس بات كا اصلى نشانہ بنيامين تھا جو كہ اس نسبت پر راضى تھا كيونكہ اس منصوبے ميں ظاہرا تو اس پر چورى كى تہمت لگى تھى ليكن درحقيقت وہ اس كے اپنے بھائي يو سف كے پاس رہنے كے لئے مقدمہ تھى اور يہ جو سب پر الزام آيا يہ ايك بالكل عارضى سى بات تھى جو صرف برادران يو سف كے سامان كى تلاشى پر ختم ہو گيا اور جودر حقيقت مراد تھا يعنى ''بنيامين ''وہ پہچان لياگيا_

۲۳۲

قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ مصريوں اور كنعان كے باشندوں ميں چورى كى سزا مختلف تھي_ حضرت يوسف عليہ السلام كے بھائيوں اور احتمالاً اہل كنعان ميں اس عمل كى سزا يہ تھى كہ چور كو اس چورى كے بدلے ميں (ہميشہ كے ليے يا وقتى طور پر)غلام بناليا جاتا _ليكن مصريوں ميں يہ سزارائج نہ تھى بلكہ چوروں كو دوسرے ذرائع سے مثلاً مار پيٹ سے اور قيد و بند وغيرہ سے سزا ديتے تھے_

علامہ طبرسى نے مجمع البيان ميں نقل كيا ہے كہ اس زمانے ميں ايك گروہ ميں يہ طريقہ رائج تھا كہ وہ چور كو ايك سال كے ليے غلام بناليتے تھے_ نيز يہ بھى نقل كيا گيا ہے كہ خاندان يعقوب عليہ السلام ميں چورى كى مقدار كے برابر غلامى كى مدت معين كى جاتى تھى (تا كہ وہ اسى كے مطابق كام كرے)_

يوسف نے بھى چورى كى تھي

آخر كار بھائيوں نے يقين كر ليا كہ ان كے بھا ئي بنيامين نے ايسى قبيح اور منحوس چورى كى ہے اور اس طرح اس نے عزيز مصر كى نظروں ميں ان كا سا بقہ ريكار ڈسارا خراب كرديا ہے لہذا اپنے آپ كو برى الذمہ كرنے كے لئے انہوں نے كہا : ''اگر اس لڑكے نے چورى كى ہے تو يہ كوئي تعجب كى بات نہيں كيو نكہ اس كا بھائي يوسف بھى پہلے ايسے كا م كا مرتكب ہو چكا ہے ''_(۱) اور يہ دونوں ايك ہى ماں اور باپ سے ہيں اور ہم جو دوسرى ماں سے ہيں ہمارا حساب كتاب ان سے الگ ہے _

اس طرح سے انہوں نے اپنے اور بنيا مين كے درميان ايك حد فاصل قائم كر نا چاہى اور كا تعلق يوسف سے جوڑديا _

يہ بات سن كر يو سف بہت دكھى اور پريشان ہوئے اور ''اسے دل ميں چھپا ئے ركھا اور ان كے سامنے اظہار نہ كيا ''_(۲)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۷

(۲) سورہ يوسف آيت ۷۷

۲۳۳

كيو نكہ وہ جانتے تھے كہ يہ بات كہہ كر انہوں نے ايك بہت بڑا بہتان باندھا ہے ليكن انہوں نے اس كا كو ئي جواب نہ ديا بس اجمالى طور پر اتنا كہا كہ جس كى طرف تم يہ نسبت ديتے ہو تم اس سے بد تر ہو يا ميرے نزديك مقام و منزلت كے لحاظ سے تم بد ترين لوگ ہو_''(۱)

اس كے بعد مزيد كہا :'' جو كچھ تم كہتے ہو خدا اس كے بارے ميں زيادہ جاننے والا ہے ''_(۲)

يہ ٹھيك ہے كہ يوسف كے بھائيوں نے ان بحرانى لمحوں ميں اپنے آپ كو برى الذمہ ثابت كر نے كے لئے اپنے بھائي يو سف پر ايك نا روا تہمت باندھى تھي_

ليكن پھر بھى اس كا م كے لئے كو ئي بہا نہ اور سند ہو نا چا ہيے جس كى بناء پر وہ يو سف كى طرف ايسى نسبت ديں _

اس سلسلے ميں مفسرين كا وش وزحمت ميں پڑے ہيں اور گذشتہ لو گوں كى تواريخ سے انہوں نے تين روايات نقل كى ہيں _

پہلى يہ كہ يو سف اپنى ما ں كى وفات كے بعد اپنى پھوپھى كے پاس رہا كرتے تھے اور انہيں يو سف سے بہت زيا دہ پيار تھا جب آپ بڑے ہوگئے اور حضرت يعقوب (ع) نے انہيں ان كى پھوپھى سے واپس لينا چاہا تو ان كى پھوپھى نے ايك منصوبہ بنايا اور وہ يہ كہ كمر بند يا ايك خاص شال جو حضرت اسحاق (ع) كى جانب سے ان كے خاندان ميں بطور ياد گار چلى آرہى تھى يو سف كى كمر سے باندھ دى اور دعوى كيا كہ يو سف اسے چھپا لے جانا چا ہتا تھا ايسا انہوں نے اس لئے كيا تا كہ اس كمر بند يا شال كے بدلے يو سف كو اپنے پاس ركھ ليں _

دوسرى روايت يہ ہے كہ حضرت يو سف كے مادرى رشتہ داروں ميں سے ايك كے پاس ايك بت تھا جسے يو سف نے اٹھا كر توڑ ديا اور اسے سٹرك پر لاپھينكا لہذا انہوں نے حضرت يوسف پر چورى كا الزام لگا ديا حالا نكہ اس ميں تو كوئي گناہ نہيں تھا _

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۷۷

(۲) سورہ يوسف آيت ۷۷

۲۳۴

تيسرى روايت يہ ہے كہ كبھى كبھا روہ دستر خوان سے كچھ كھانا لے كر مسكينوں اور حاجت مندوں كو دے ديتے تھے لہذا بہا نہ تراش بھائيوں نے اسے بھى چورى كا الزام دينے كے لئے سند بنا ليا حالانكہ ان ميں سے كو ئي چيز گناہ كے زمرے ميں نہيں تھا _

اگر ايك شخص كسى كو كوئي لباس پہنا دے اور پہننے والا نہ جانتا ہو كہ يہ كسى دوسرے كا مال ہے تو كيا اسے چورى كا الزام دينا صحيح ہے _ اسى طرح كيا كسى بت كو اٹھاكر پٹخ دينا گناہ ہے _ نيز انسان كو ئي چيز اپنے باپ كے دستر خوان سے اٹھا كر مسكينوں كو دے دے جب كہ اسے يقين ہو كہ اس كا باپ اس پر راضى ہے تو كيا اسے گناہ قرار ديا جاسكتا ہے _

برادران يو سف كى فداكا رى كيوں قبول نہ ہوئي

بھا ئيوں نے ديكھا كہ ان كے چھوٹے بھائي بنيامين كو اس قانون كے مطابق عزيز مصر كے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خو د قبول كر چكے ہيں اور دوسرى طرف انہوں نے باپ سے پيمان باند ھا تھا كہ بنيامين كى حفاظت اور اسے واپس لانے كے لئے اپنى پورى كو شش كريں گے ايسے ميں انہوں نے يوسف كى طرف رخ كيا جسے ابھى تك انہوں نے پہچانا نہيں تھا اور كہا : ''اے عزيز مصر : اے بزر گور صاحب اقتدار : اس كا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس كى جدا ئي كو برداشت كر نے كى طاقت نہيں ركھتا ہم نے آپ كے اصرار پر اسے باپ سے جدا كيا اور باپ نے ہم سے تاكيد ى وعدہ ليا كہ ہم ہر قيمت پر اسے واپس لائيں گے اب ہم پر احسان كيجئے اور اس كے بدلے ميں ہم ميں سے كسى ايك كو ركھ ليجئے ، ''كيونكہ ديكھ رہے ہيں كہ آپ نيكوكاروں ميں سے ہيں ''_(۱)

اور يہ پہلا مو قع نہيں كہ آپ نے ہم پر لطف وكرم اور مہرومحبت كى ہے ، مہر بانى كر كے اپنى كر م نوازيوں كى تكميل كيجئے _

____________________

(۱)سورہ يوسف آيت ۷۸

۲۳۵

حضرت يو سف (ع) نے اس تجويز كى شدت سے نفى كى ''اور كہا :پناہ بخدا : يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ جس كے پاس سے ہمارا مال ومتا ع برآمد ہوا ہے ہم اس كے علاوہ كسى شخص كو ركھ ليں ''كبھى تم نے سنا ہے كہ ايك منصف مزاج شخص نے كسى بے گناہ كو دوسرے كے جرم ميں سزا دى ہو _(۱) '' اگر ہم ايسا كريں تو يقينا ہم ظالم ہوں گے''_(۲) يہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت يوسف نے اپنى اس گفتگو ميں بھائي كى طرف چورى كى كوئي نسبت نہيں دى بلكہ كہتے ہيں كہ ''جس شخص كے پاس سے ہميں ہمارامال ومتا ع ملا ہے ''اور يہ اس امر كى دليل ہے كہ وہ اس امر كى طرف سنجيد گى سے متوجہ تھے كہ اپنى پورى زندگى ميں كبھى كوئي غلط بات نہ كريں _

بھا ئي سر جھكا ئے باپ كے پاس پہنچے

بھا ئيوں نے بنيا مين كى رہائي كے لئے اپنى آخرى كو شش كرڈالى ليكن انہوں نے اپنے سا منے راستے بند پا ئے ايك طرف تو اس كام كو كچھ اس طرح سے انجام ديا گيا تھا كہ ظاہرا بھائي كى برائت ممكن نہ تھى اور دوسرى طرف عزيز مصر نے اس كى جگہ كسى اور فرد كو ركھنے كى تجويز قبول نہ كى لہذا وہ مايو س ہوگئے يو ں انہوں نے كنعان كى طرف لوٹ جا نے اور باپ سے سارا ماجر ا بيان كر نے كا ارادہ كر ليا قرآن كہتا ہے : ''جس وقت وہ عزيز مصر سے يا بھائي كى نجات سے مايوس ہو گئے ،تو ايك طرف كو آئے دوسروں سے الگ ہو گئے اور سر گوشى كرنے لگے'' _( ۳)

بہر حال سب سے بڑے بھا ئي نے اس خصوصى ميٹنگ ميں ان سے'' كہا : كيا تم جا نتے نہيں ہو كہ تمہارے باپ نے تم سے الہى پيمان ليا ہے كہ بنيامين كو ہر ممكنہ صورت ميں ہم واپس لائيں گے ''_(۴) '' اور تمہيں نے اس سے پہلے بھى يو سف كے بارے ميں كو تا ہى كى ''اور باپ كے نزديك تمہارا گزشتہ كر داربرا ہے''_(۵)

____________________

(۱)(۲)سورہ يوسف آيت ۷۹

(۳)سورہ يوسف آيت ۸۰

(۴) سورہ يوسف آيت ۸۰

(۵) سورہ يوسف آيت ۸۰

۲۳۶

''اب جبكہ معاملہ يو ں ہے تو ميں اپنى جگہ سے ( ياسر زمين مصر سے ) نہيں جائوں گا اور يہيں پڑائو ڈالوں گا ، مگر يہ كہ مير ا باپ مجھے اجازت دے دے يا خدا ميرے متعلق كو ئي فرمان صادر كرے جو كہ بہتر ين حاكم وفرماں روا ہے'' _( ۱)

پھر بڑے بھا ئي نے دوسرے بھائيوں كو حكم ديا كہ ''تم باپ كے پاس لوٹ جائو اور كہو : اباجان آپ كے بيٹے نے چورى كى ہے ، اور يہ جو ہم گواہى دے رہے ہيں اتنى ہى ہے جتنا ہميں علم ہوا ہے'' _(۲) بس ہم نے اتنا ديكھا كہ بادشا ہ كا پيمانہ ہمارے بھائي كے بار سے برآمد ہو ا جس سے ظاہر ہو تا تھا كہ اس نے چورى كى ہے، باقى رہا امر باطن تو وہ خدا جانتا ہے ،'' اور ہميں غيب كى خبر نہيں '' _( ۳)

ممكن ہے يہ احتمال بھى ہے كہ بھيا ئيوں كا مقصد يہ ہو كہ وہ باپ سے كہيں كہ اگر ہم نے تيرے پاس گواہى دى اور عہد كيا كہ ہم بھائي كو لے جائيں گے اور واپس لے آئيں گے تو يہ اس بناء پر تھا كہ ہم اس كے باطن سے باخبر نہ تھے اور غيب سے آگاہ نہ تھے كہ اس كا انجام يہ ہوگا ،پھر اس بناء پر كہ باپ سے ہر طرح كى بدگمانى دور كريں اور اسے مطمئن كريں كہ ماجر ا اسى طرح ہے نہ اس سے كم اور نہ اس سے زيادہ ، انہوں نے كہا:''مزيد تحقيق كے لئے اس شہر سے سوال كر ليں جس ميں ہم تھے ،اسى طرح اس قافلہ سے پوچھ ليں ''_(۴)

بہرحال ''آپ مطمئن رہيں كہ ہم اپنى بات ميں سچے ہيں اور حقيقت كے سواكچھ نہيں كہتے''_(۵) اس سارى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ بنيا مين كى چورى كا واقعہ مصر ميں مشہور ہو چكا تھا يہ بات شہرت پاچكى تھى كہ كنعان سے ايك قافلہ يہاں آيا ہے اس ميں سے ايك شخص بادشاہ كا پيمانہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا بادشاہ كے مامور ين بروقت پہنچ گئے اور انہوں نے اس شخص كو روك ليا ،شايد بھائيوں نے جويہ كہا كہ مصر كے علاقے سے پو چھ ليں يہ اس طرف كنايہ ہو كہ يہ واقعہ اس قدر مشہور ہو چكا ہے كہ درو ديوار كو اس كا علم ہے _

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۸۰

(۲) سورہ يوسف آيت ۸۱

(۳) سورہ يوسف آيت ۸۱

(۴) سورہ يوسف آيت ۸۲

(۵) سورہ يوسف آيت ۸۲

۲۳۷

ميں وہ الطاف الہى جانتا ہوں جو تم نہيں جانتے

بھائي مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائي كو وہاں چھوڑآئے اور پريشان وغم زدہ كنعان پہنچے باپ كى خدمت ميں حاضر ہوئے اس سفر سے واپسى پر باپ نے جب گز شتہ سفر كے برعكس واندوہ كے اثار ان كے چہروں پر ديكھے تو سمجھ گئے كہ كوئي ناگوار خبر لائے ہيں خصوصاً جب كہ بنيا مين اور سب سے بڑا بھائي ان كے ہمرا ہ نہ تھا جب بھائيوں نے بغير كسى كمى بيشى كے سارى آپ بيتى كہہ دى تو يعقوب بہت حيران ہوئے اور ان كى طرف رخ كر كے كہنے لگے :'' تمہارى نفسا نى خواہشات نے يہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پيش كيا ہے اور اسے اس طرح سے مزين كياہے '' _(۱) اس كے بعد يعقوب اپنى جانب متوجہ ہوئے اور ''كہنے لگے كہ ميں صبر كا دامن اپنے ہاتھ سے نہيں چھوڑوں گا'' اور ميں اچھا صبر كروں گا كہ جو كفر ان سے خالى ہو_''( ۲)

''مجھے اميد ہے كہ خدا ان سب كو ( يو سف ، بنيامين اور ميرے بڑے بيٹے كو ) ميرى طرف پلٹا دے گا'' _( ۳) كيونكہ ميں جانتاہوں كہ ''وہ ان سب كے دل كى داخلى كيفيات سے باخبر ہے ، اس كے علاوہ، وہ حكيم بھى ہے ،''اور وہ كوئي كا م بغير كسى حساب كتاب كے نہيں كر تا_ ''(۴) اس وقت يعقوب رنج وغم ميں ڈوب گئے بنيامين كہ ان كے دل كى ڈھارس تھا واپس نہ آيا تو انہيں اپنے پيارے يو سف كى ياد آگئي انہيں خيال آيا كہ اے كا ش آج وہ آبرومند ، باايمان اور حسين وجميل بيٹا ان كى آغوش ميں ہو تا اور اس كى پيار ى خو شبو ہر لمحہ باپ كو ايك حيات نو بخشتى ليكن آج نہ صرف يہ كہ اس كا نام و نشان نہيں بلكہ اس كا جانشين بنيا مين بھى اس كى طرح ايك درد ناك معاملے ميں گر فتا ر ہو گيا ہے ''اس وقت انہوں نے اپنے بيٹوں سے رخ پھير ليا اور كہا : ہائے يو سف ''_(۵)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۸۳

(۲)سورہ يوسف آيت ۸۳

(۳) سورہ يوسف آيت ۸۳

(۴) سورہ يوسف آيت ۸۳

(۵) سورہ يوسف آيت ۸۴

۲۳۸

برادران يوسف شر مند ہ اور حضرت يعقوب نابينا ہو گئے

بھا ئي جو پہلے ہى بنيا مين كے ماجرے پر باپ كے سامنے شرمندہ تھے يوسف كا نام سن كر فكر ميں ڈوب گئے ان كے ماتھے پر عرق ندامت كے قطرے چمكنے لگے _''حزن وملال اتنا بڑھا كہ يعقوب كى آنكھوں سے بے اختيار اشكوں كا سيلاب بہہ نكلا يہاں تك كہ ان كى آنكھيں درد وغم سے سفيد اور نابينا ہوگئيں ''_(۱) ليكن اس كے باوجود وہ كو شش كر تے تھے كہ ضبط كريں اور اپنا غم وغصہ پى جائيں اورر ضائے حق كے خلاف كو ئي بات نہ كہيں ''وہ باحوصلہ اور جواں مرد تھے اور انہيں اپنے غصہ پر پورا كنٹرول تھا ''_(۲)

ظاہرقرآن سے اندازہ ہو تاہے كہ حضرت يعقوب كى اس وقت تك نابينا نہيں ہوئے تھے ليكن جب كہ رنج و غم كئي گناہ بڑھ گيا اور آپ مسلسل گريہ و زارى كرتے رہے اورآپ كے آنسوتھمنے نہ پائے تو آپ كى بينا ئي ختم ہوگئي اور جيسا كہ ہم وہاں بھى اشارہ كر چكے ہيں كہ يہ كوئي اختيارى چيز نہ تھى كہ جو صبر جميل كے منافى ہو_

بھائي كہ جو ان تمام واقعات سے بہت پريشا ن تھے ، ايك طرف تو ان كا ضمير حضرت يو سف كے واقعے كى بناء پر انہيں عذاب ديتا اور دوسرى طرف وہ بنيامين كى وجہ سے اپنے آپ كو ايك نئے امتحان كى چو كھٹ پر پاتے اور تيسرى طرف باپ كا اتنا غم اور دكھ ان پر بہت گراں تھا، لہذا انہوں نے پريشانى اور بے حوصلگى كے ساتھ باپ سے ''كہا : بخدا تو اتنا يو سف يوسف كر تا ہے كہ بيمار ہو جائے گا اور موت كے كنارے پہنچ جا ئے گا يا ہلاك ہو جائے گا''_( ۳) ليكن كنعان كے اس مرد بزرگ اور روشن ضمير پيغمبر نے ان كے جواب ميں كہا : ''ميں نے تمہارے سامنے اپنى شكا يت پيش نہيں كى جو اس طرح كى باتيں كر تے ہو ، ميں اپنا درد وغم بارگا ہ الہى ميں پيش كر تا ہوں اور اس كے يہاں اپنى شكايت پيش كر تاہوں ،اور اپنے خدا كى طرف سے مجھے معلوم ہے كہ جن سے غم بے خبر ہوا''_(۴)

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۸۴

(۲) سورہ يوسف آيت ۸۴

(۳) سورہ يوسف آيت ۸۵

(۴) سورہ يوسف آيت ۸۶

۲۳۹

كوشش كرو اور مايوس نہ ہو،كيونكہ مايوسى كفر كى نشانى ہے

مصر اور اطراف مصر جس ميں كنعان بھى شامل تھا ;ميں قحط ظلم ڈھا رہا تھا _انا ج بالكل ختم ہو گيا توحضرت يعقوب نے دو بارہ اپنے بيٹوں كو مصر كى طرف جا نے اور غلہ حاصل كر نے كا حكم ديا ليكن اس مر تبہ اپنى آرزئوں كى بنياد يوسف اور ان كے بھا ئي بنيا مين كى تلاش كو قرار ديا ''اور كہا : ميرے بيٹو جائو اور يو سف اور اسكے بھا ئي كو تلاش كرو ''_(۱)

حضرت يعقوب كے بيٹے چو نكہ اس بارے ميں تقريبا مطمئن تھے كہ يو سف مو جود ہى نہيں اس لئے وہ باپ كى اس نصيحت اور تا كيد پر تعجب كرتے تھے ،يعقوب ان كے گو ش گزار كر رہے تھے : ''رحمت الہى سے كبھى ما يو س نہ ہو نا '' كيو نكہ اس كى قدرت تمام مشكلوں اور سختيوں سے ما فوق ہے _(۲) ''كيو نكہ صر ف يہ كا فرہى ہيں كہ جو قدرت خدا سے بے خبر ہيں اس كى رحمت سے مايوس ہو تے ہيں '' _( ۳)

بہر حال فرزندان يعقوب نے اپنا مال واسباب باندھا اور مصر كى طرف چل پڑے اور اب كے وہ تيسرى مرتبہ داستا نو ں سے معمو ر اس سر زمين پر پہنچے گزشتہ سفر وں كے بر خلاف اس سفر ميں ان كى روح كو ايك احساس ندا مت كچوكے لگا رہا تھا كيو نكہ مصر ميں اور عزيز مصر كے نزديك ان كا سابقہ كر دار بہت برا تھا اور وہ بد نام ہو چكے تھے اور اند يشہ تھا كہ شا يد بعض لو گ انہيں ''كنعان كے چور '' كے عنوان سے پہچا نيں دوسرى طرف ان كے پاس گندم اور دوسرے اناج كى قيمت دينے كے لئے در كا رمال ومتاع موجود نہيں تھا اور ساتھ ہى بھائي بنيا مين كے كھو جا نے اور باپ كى انتہا ئي پر يشانى نے ان كى مشكلات ميں اضافہ كر ديا تھا _ گويا تلوار ان كے حلقوم تك پہنچ گئي تھى بہت سارى مشكلات اور روح فرسا پريشانيوں نے انہيں گھير ليا تھا ايسے ميں جوچيز ان كے تسكين قلب كا باعث تھى وہ صرف باپ كا اخرى جملہ تھا جس ميں اپ نے فرماياتھا كہ كبھى خدا كى رحمت سے مايوس نہ ہوناكيو نكہ اس كے لئے ہر مشكل آساں ہے_

____________________

(۱) سورہ يوسف آيت ۸۷

(۲) سورہ يوسف آيت ۸۷

(۳) سورہ يوسف آيت ۸۷

۲۴۰