قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27842
ڈاؤنلوڈ: 1543

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27842 / ڈاؤنلوڈ: 1543
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

يہاں تك كہ اس نے انھيں قتل كرنے كا ارادہ كرليا_ حضرت موسى عليہ السلام اس خطرے كو بھاپ گئے اوربھاگ كر شہر ميں آگئے_ يہاں وہ اس واقعے سے دوچار ہوئے كہ دو آدمى لڑرہے تھے جن ميں سے ايك قبطى اور ايك سبطى تھا_(۱)

موسى عليہ السلام مظلوموں كے مددگار كے طورپر

اب ہم حضرت موسى عليہ السلام كى نشيب و فراز سے بھرپور زندگى كے تيسرے دور كو ملاحظہ كر تے ہيں _

اس دور ميں ان كے وہ واقعات ہيں جو انھيں دوران بلوغ اور مصر سے مدين كو سفر كرنے سے پہلے پيش آئے اور يہ وہ اسباب ہيں جو ان كى ہجرت كا باعث ہوئے_

''بہر حال حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں اس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے''_(۲)

يہ واضح نہيں ہے كہ يہ كونسا شہر تھا_ليكن احتمال قوى يہ ہے كہ يہ مصر كا پايہ تخت تھا_ بعض لوگوں كا قول ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اس مخالفت كى وجہ سے جو ان ميں فوعون اور اس كے وزراء ميں تھى اور بڑھتى جارہى تھي،مصر كے پايہ تخت سے نكال ديا گيا تھا_ مگر جب لوگ غفلت ميں تھے _ موسى عليہ السلام كو موقع مل گيا اور وہ شہر ميں آگئے_

اس احتمال كى بھى گنجائش ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے محل سے نكل كر شہر ميں آئے ہوں كيونكہ عام طور پر فرعونيوں كے محلات شہر كے ايك كنارے پر ايسى جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر كى طرف آمدورفت كے راستوں كى نگرانى كرسكيں _

____________________

(۱)اس واقعہ كى تفصيل آئندہ آئے گي

(۲)سورہ قصص آيت ۱۸

۲۸۱

شہر كے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہوچكے تھے اور كوئي بھى شہر كى حالت كى طرف متوجہ نہ تھا_ مگر يہ كہ وہ وقت كونسا تھا؟بعض كا خيال ہے كہ''ابتدائے شب''تھي،جب كہ لوگ اپنے كاروبار سے فارغ ہوجاتے ہيں ،ايسے ميں كچھ تو اپنے اپنے گھروں كى راہ ليتے ہيں _كچھ تفريح اور رات كوبيٹھ كے باتيں كرنے لگتے ہيں _

بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں آئے اور وہاں ايك ماجرے سے دوچار ہوئے ديكھا :'' دو آدمى آپس ميں بھڑے ہوئے ہيں اور ايك دوسرے كو مار رہے ہيں _ان ميں سے ايك حضرت موسى عليہ السلام كا طرف دار اور ان كا پيرو تھا اور دوسراان كا دشمن تھا''_(۱)

كلمہ ''شيعتہ'' اس امر كا غماز ہے كہ جناب موسى (ع) اور بنى اسرائيل ميں اسى زمانے سے مراسم ہوگئے تھے اور كچھ لوگ ان كے پيرو بھى تھے احتمال يہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنے مقلدين اور شيعوں كى روح كو فرعون كى جابرانہ حكومت كے خلاف لڑنے كے لئے بطور ايك مركزى طاقت كے تيار كررہے تھے _

جس وقت بنى اسرائيل كے اس آدمى نے موسى عليہ السلام كو ديكھا:'' تو ان سے اپنے ،دشمن كے مقابلے ميں امداد چاہي''_(۲)

حضرت موسى عليہ السلام اس كى مدد كرنے كےلئے تيار ہوگئے تاكہ اسے اس ظالم دشمن كے ہاتھ سے نجات دلائيں بعض علماء كا خيال ہے كہ وہ قبطى فرعون كا ايك باورچى تھا اور چاہتاتھا كہ اس بنى اسرائيل كو بيكار ميں پكڑكے اس سے لكڑياں اٹھوائے'' حضرت موسى عليہ السلام نے اس فرعونى كے سينے پر ايك مكامارا وہ ايك ہى مكے ميں مرگيا اور زمين پر گر پڑا ''_(۳)

اس ميں شك نہيں كہ حضرت موسى كا اس فرعونى كو جان سے ماردينے كا ارادہ نہ تھا قرآن سے بھى يہ خوب واضح ہوجاتاہے ايسا اس لئے نہ تھا كہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلكہ انھيں ان نتائج كا خيال تھا جو خود حضرت موسى اور بنى اسرائيل كو پيش آسكتے تھے _

____________________

(۱)سورہ قصص آيت ۱۵ (۲)سورہ قصص آيت۱۵ (۳) سورہ قصص آيت۱۵

۲۸۲

لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے فوراً كہا:'' كہ يہ كام شيطان نے كرايا ہے كيونكہ وہ انسانوں كا دشمن اور واضح گمراہ كرنے والاہے ''_(۱)

اس واقعے كى دوسرى تعبير يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام چاہتے تھے كہ بنى اسرئيلى كا گريبان اس فرعونى كے ہاتھ سے چھڑا ديں ہر چند كہ وابستگان فرعون اس سے زيادہ سخت سلوك كے مستحق تھے ليكن ان حالات ميں ايسا كام كر بيٹھنا قرين مصلحت نہ تھا اور جيسا كہ ہم آگے ديكھيں گے كہ حضرت موسى اسى عمل كے نتيجے ميں پھر مصر ميں نہ ٹھہرسكے اور مدين چلے گئے _

پھر قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كا يہ قول نقل كيا گيا ہے اس نے كہا:''پروردگار اميں نے اپنے اوپر ظلم كيا تو مجھے معاف كردے ،اور خدا نے اسے بخش ديا كيونكہ وہ غفورو رحيم ہے ''_(۲)

يقينا حضرت موسى عليہ السلام اس معاملے ميں كسى گناہ كے مرتكب نہيں ہوئے بلكہ حقيقت ميں ان سے ترك اولى سرزد ہوا كيونكہ انہيں ايسى بے احتياطى نہيں كرنى چاہيئے تھى جس كے نتيجے ميں وہ زحمت ميں مبتلا ہوں حضرت موسى نے اسى ترك اولى كے لئے خدا سے طلب عفو كيا اور خدا نے بھى انھيں اپنے لطف وعنايت سے بہرہ مند كيا _

حضرت موسى عليہ السلام نے كہا: خداوندا تيرے اس احسان كے شكرانے ميں كہ تونے ميرے قصور كو معاف كرديا اور دشمنوں كے پنجے ميں گرفتار نہ كيا اور ان تمام نعمتوں كے شكريہ ميں جو مجھے ابتداء سے اب تك مرحمت كرتا رہا،ميں عہد كرتا ہوں كہ ہر گز مجرموں كى مدد نہ كروں گا اور ظالموں كا طرف دار نہ ہوں گا ''_(۳)

بلكہ ہميشہ مظلومين اور ستم ديدہ لوگوں كا مددگارر ہوں گا _(۴)

____________________

(۱) سورہ قصص آيت۱۵

(۲)سورہ قصص آيت۱۵

(۳)سورہ قصص آيت ۱۷

(۴)كيا حضرت موسى عليہ السلام كا يہ كا م مقام عصمت كے خلاف نہيں ہے ؟

مفسرين نے ، اس قبطى اور بنى اسرائيل كى باہمى نزاع اور حضرت موسى كے ہاتھ سے مرد قبطى كے مارے جانے كے بارے ميں بڑى طويل بحثيں كى ہيں _

۲۸۳

درحقيقت يہ معاملہ كوئي اہم اور بحث طلب تھا ہى نہيں كيونكہ ستم پسند وابستگان فرعون نہايت بے رحم اور مفسد تھے انہوں نے بنى اسرائيل كے ہزاروں بچوں كے سرقلم كيے اور بنى اسرائيل پر كسى قسم كا ظلم كرنے سے بھى دريغ نہ كيا اس جہت سے يہ لوگ اس قابل نہ تھے كہ بنى اسرائيل كےلئے ان كا قتل احترام انسانيت كے خلاف ہو _

البتہ مفسرين كے لئے جس چيزنے دشوارياں پيدا كى ہيں وہ اس واقعے كى وہ مختلف تعبيرات ہيں جو خود حضرت موسى نے كى ہيں چنانچہ وہ ايك جگہ تو يہ كہتے ہيں :

''هذا من عمل الشيطان ''

''يہ شيطانى عمل ہے ''_

اور دوسرى جگہ يہ فرمايا:

''رب انى ظلمت نفسى فاغفرلى ''

''خداياميں نے اپنے نفس پر ظلم كيا تو مجھے معاف فرمادے ''_

جناب موسى عليہ السلام كى يہ دونوں تعبيرات اس مسلمہ حقيقت سے كيونكر مطابقت ركھتى ہيں كہ :

عصمت انبيا ء كا مفہوم يہ ہے كہ انبيا ء ماقبل بعثت اور ما بعد عطائے رسالت ہر دو حالات ميں معصوم ہوتے ہيں '' _

ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے اس عمل كى جو توضيح ہم نے آيات فوق كى روشنى ميں پيش كى ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے كہ حضرت موسى سے جو كچھ سرزد ہوا وہ ترك اولى سے زيادہ نہ تھا انھوں نے اس عمل سے اپنے آپ كو زحمت ميں مبتلاكرليا كيونكہ حضرت موسى كے ہاتھ سے ايك قبطى كا قتل ايسى بات نہ تھى كہ وابستگان فرعون اسے آسانى سے برداشت كرليتے_

نيز ہم جانتے ہيں كہ ''ترك اولى ''كے معنى ايسا كام كرنا ہے جو بذات خود حرام نہيں ہے_ بلكہ اس كا مفہوم يہ ہے كہ ''عمل احسن ''ترك ہوگيا بغير اس كے كہ كوئي عمل خلاف حكم الہى سرزد ہوا ہو؟

۲۸۴

موسى عليہ السلام كى مخفيانہ مدين كى طرف روانگي

فرعونيوں ميں سے ايك آدمى كے قتل كى خبر شہر ميں بڑى تيزى سے پھيل گئي قرائن سے شايد لوگ يہ سمجھ گئے تھے كہ اس كا قائل ايك بنى اسرائيل ہے اور شايد اس سلسلے ميں لوگ موسى عليہ السلام كا نام بھى ليتے تھے_

البتہ يہ قتل كوئي معمولى بات نہ تھى اسے انقلاب كى ايك چنگارى يا اس كا مقدمہ شمار كيا جاتاتھا اورحكومت كى مشينرى اسے ايك معمولى واقعہ سمجھ كراسے چھوڑنے والى نہ تھى كہ بنى اسرائيل كے غلام اپنے آقائوں كى جان لينے كا ارادہ كرنے لگيں _

لہذا ہم قرآن ميں يہ پڑھتے ہيں كہ'' اس واقعے كے بعد موسى شہر ميں ڈررہے تھے اور ہر لحظہ انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا اور وہ نئي خبروں كى جستجو ميں تھے ''_(۱)

ناگہاں انہيں ايك معاملہ پيش آيا آپ نے ديكھا كہ وہى بنى اسرائيلى جس نے گزشتہ روز ان سے مدد طلب كى تھى انھيں پھر پكاررہا تھا اور مدد طلب كررہاتھا (وہ ايك اور قبطى سے لڑرہا تھا) _

''ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اس سے كہا كہ تو آشكارا طور پر ايك جاہل اور گمراہ شخص ہے''_(۲)

توہر روز كسى نہ كسى سے جھگڑ پڑتا ہے اور اپنے لئے مصيبت پيدا كرليتا ہے اور ايسے كام شروع كرديتا ہے جن كا ابھى موقع ہى نہيں تھا كل جو كچھ گزرى ہے ميں تو ابھى اس كے عواقب كا انتظار كرہا ہوں اور تونے وہى كام از سر نو شروع كرديا ہے _

بہر حال وہ ايك مظلوم تھا جو ايك ظالم كے پنجے ميں پھنسا ہو تھا ( حواہ ابتداء اس سے كچھ قصور ہوا ہو يانہ ہوا ہو ) اس لئے حضرت موسى كے لئے يہ ضرورى ہوگيا كہ اس كى مدد كريں اور اسے اس قبطى كے رحم وكرم پر نہ چھوڑديں ليكن جيسے ہى حضرت موسى نے يہ اراداہ كيا كہ اس قبطى آدمى كو (جو ان دونوں كا دشمن تھا )پكڑ كر اس بنى اسرائيل سے جدا كريں وہ قبطى چلايا، اس نے كہا :

اے موسى : كيا تو مجھے بھى اسى طرح قتل كرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے كل ايك شخص كو قتل كيا تھا''_(۳) ''تيرى حركات سے تو ايسا ظاہر ہوتا ہے كہ تو زمين پر ايك ظالم بن كررہے گا اور يہ نہيں چاہتا كہ مصلحين ميں سے ہو ''_(۴)

____________________

(۱)سورہ قصص آيت۱۵ (۲)سورہ قصص آيت۱۶ (۳)سورہ قصص آيت۱۹ (۴)سورہ قصص آيت ۱۹

۲۸۵

اس جملے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام نے فرعون كے محل اور اس كے باہر ہر دو جگہ اپنے مصلحانہ خيالات كا اظہار شروع كرديا تھا بعض روايات سے يہ بھى معلوم ہوتا ہے كہ اس موضوع پر ان كے فرعون سے اختلافات بھى پيدا ہوگئے تھے اسى لئے تو اس قبطى آدمى نے يہ كہا :

يہ كيسى اصلاح طلبى ہے كہ تو ہر روز ايك آدمى كو قتل كرتاہے ؟

حالانكہ اگر حضرت موسى كا يہ ارادہ ہوتا كہ اس اس ظالم كو بھى قتل كرديں تو يہ بھى راہ اصلاح ميں ايك قدم ہوتا _

بہركيف حضرت موسى كو يہ احساس ہوا كہ گزشتہ روز كا واقعہ طشت ازبام ہوگيا ہے اور اس خوف سے كہ اور زيادہ مشكلات پيدا نہ ہوں ، انھوں نے اس معاملے ميں دخل نہ ديا _

حضرت موسى عليہ السلام كے ليے سزا ئے موت

اس واقعے كى فرعون اور اس كے اہل دربار كو اطلاع پہنچ گئي انھوں نے حضرت موسى سے اس عمل كے مكرر سرزد ہونے كو اپنى شان سلطنت كے لئے ايك تہديد سمجھا _ وہ باہم مشورے كے لئے جمع ہوئے اور حضرت موسى كے قتل كا حكم صادر كرديا _

(جہاں فرعون اور اس كے اہل خانہ رہتے تھے)وہاں سے ايك شخص تيزى كے ساتھ حضرت موسى كے پاس آيا اور انھيں مطلع كيا كہ آپ كو قتل كرنے كا مشورہ ہورہا ہے ، آپ فورا شہرسے نكل جائيں ، ميں آپ كا خير خواہ ہوں _''(۱)

يہ آدمى بظاہر وہى تھا جو بعد ميں ''مومن آل فرعون ''كے نام سے مشہور ہوا ،كہا جاتاہے كہ اس كا نام حزقيل تھا وہ فرعون كے قريبى رشتہ داروں ميں سے تھا اور ان لوگوں سے اس كے ايسے قريبى روابط تھے كہ ايسے مشوروں ميں شريك ہوتا تھا _

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۱۹

۲۸۶

اسے فرعون كے جرائم اور اس كى كرتوتوں سے بڑا دكھ ہوتا تھا اور اس انتظار ميں تھا كہ كوئي شخص اس كے خلاف بغاوت كرے اور وہ اس كار خير ميں شريك ہوجائے _

بظاہر وہ حضرت موسى عليہ السلام سے يہ آس لگائے ہوئے تھا اور ان كى پيشانى ميں من جانب اللہ ايك انقلابى ہستى كى علامات ديكھ رہا تھا اسى وجہ سے جيسے ہى اسے يہ احساس ہوا كہ حضرت موسى خطرے ميں ہيں ، نہايت سرعت سے ان كے پاس پہنچا اور انھيں خطرے سے بچاليا _

ہم بعد ميں ديكھيں گے كہ وہ شخص صرف اسى واقعے ميں نہيں ، بلكہ ديگر خطرناك مواقع پر بھى حضرت موسى كے لئے بااعتماد اور ہمدرد ثابت ہواحضرت موسى عليہ السلام نے اس خبر كو قطعى درست سمجھا اور اس ايماندار آدمى كى خيرخواہى كو بہ نگاہ قدر ديكھا اور اس كى نصيحت كے مطابق شہر سے نكل گئے_''اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ہر گھڑى انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا ''_(۱)

حضرت موسى عليہ السلام نے نہايت خضوع قلب كے ساتھ متوجہ الى اللہ ہوكر اس بلا كو ٹالنے كےلئے اس كے لطف وكرم كى درخواست كى :''اے ميرے پروردگار : تو مجھے اس ظالم قوم سے رہائي بخش ''_(۲)

ميں جانتاہوں كہ وہ ظالم اور بے رحم ہيں ميں تو مظلوموں كى مدافعت كررہاتھا اور ظالموں سے ميرا كچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے ميں نے اپنى توانائي كے مطابق مظلوموں سے ظالموں كے شركو دور كيا ہے تو بھى اے خدائے بزرگ ظالموں كے شركو مجھ سے دور ركھ _

حضرت موسى عليہ السلام نے پختہ ارادہ كرليا كہ وہ شہرمدين كو چلے جائيں يہ شہر شام كے جنوب اور حجاز كے شمال ميں تھا اور قلم رو مصر اور فراعنہ كى حكومت ميں شامل نہ تھا _

مدين كہاں تھا؟

''مدين '' ايك شہر كانام تھا جس ميں حضرت شعيب اور ان كا قبيلہ رہتا تھا يہ شہر خليج عقبہ كے مشرق ميں

____________________

(۱)سورہ قصص آيت۲۱

(۲)سورہ قصص آيت۲۱

۲۸۷

تھا (يعنى حجاز كے شمال اور شامات كے جنوب ميں )وہاں كے باشندے حضرت اسماعيل (ع) كى نسل سے تھے وہ مصر، لبنان اور فلسطين سے تجارت كرتے تھے آج كل اس شہر كانام معان ہے(۱)

نقشے كو غور سے دبكھيں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كا مصر سے كچھ زبادہ فاصلہ نہيں ہے،اسى لئے حضرت موسى عليہ السلام چند روز ميں وہاں پہنچ گئے_

ملك اردن كے جغرافيائي نقشہ ميں ، جنوب غربى شہروں ميں سے ايك شہر'' معان '' نام كا ملتا ہے ، جس كا محل وقوع ہمارے مذكورہ بالا بيان كے مطابق ہے _

ليكن وہ جوان جو محل كے اندار نازو نعم ميں پلا تھا ايك ايسے سفر پر روانہ ہو رہا تھا جيسے كہ سفر اسے كبھى زندگى بھر پيش نہ آيا تھا_

اس كے پاس نہ زادراہ تھا، نہ توشہ سفر، نہ كوئي سوارى ، نہ رفيق راہ اور نہ كوئي راستہ بتانے والا ،ہردم يہ خطرہ لاحق تھا_

كہ حكومت كے اہلكار اس تك پہنچ جائيں اور پكڑكے قتل كرديں اس حالت ميں ظاہر ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كا كيا حال ہوگا _

ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ مقدر ہوچكا تھا كہ وہ سختى اور شدت كے دنوں كو پيچھے چھوڑديں اور قصرفرعون انھيں جس جال ميں پھنسانا چاہتا تھا_

اسے توڑكر باہر نكل آئيں اور وہ كمزور اور ستم ديدہ لوگوں كے پاس رہيں ان كے درد وغم كا بہ شدت احساس كريں ور مستكبرين كے خلاف ان كى منفعت كے لئے بحكم الہى قيام فرمائيں _

____________________

(۱) بعض لوگ كلمہ '' مدين '' كا اطلاق اس قوم پر كرتے ہيں جو خليج عقيہ سے كوہ سينا تك سكونت پذير تھى توريت ميں بھى اس قوم كو '' مديان ''كہا گيا ہے _

بعض اہل تحقيق نے اس شہر كى وجہ تسميہ بھى لكھى ہے كہ حضرت ابراہيم (ع) كا ايك بيٹا جس كا نام '' مدين '' تھا اس شہر ميں رہتا تھا_

۲۸۸

اس طويل ، بے زادو راحلہ اور بے رفيق ورہنما سفر ميں ايك عظيم سرمايہ ان كے پاس تھا اور وہ تھا ايمان اور توكل برخدا _

''لہذا جب وہ مدين كى طرف چلے تو كہا : خدا سے اميد ہے كہ وہ مجھے راہ راست كى طرف ہدايت كرے گا''_(۱)

ايك نيك عمل نے موسى (ع) پر بھلائيوں كے دروازے كھول ديئے

اس مقام پر ہم اس سرگزشت كے پانچوں حصے پر پہنچ گئے ہيں اور وہ موقع يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام شہرمدين ميں پہنچ گئے ہيں _

يہ جوان پاكباز انسان كئي روز تك تنہا چلتا رہا يہ راستہ وہ تھا جو نہ كبھى اس نے ديكھا تھا نہ اسے طے كيا تھا بعض لوگوں كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام مجبور تھے كہ پابرہنہ راستہ طے كريں ، بيان كيا گيا ہے كہ مسلسل آٹھ روز تك چلتے رہے يہاں تك كہ چلتے چلتے ان كے پائوں ميں چھالے پڑگئے _

جب بھوك لگتى تھى تو جنگل كى گھاس اور درختوں كے پتے كھاليتے تھے ان تمام مشكلات اور زحمات ميں صرف ايك خيال سے ان كے دل كوراحت رہتى تھى كہ انھيں افق ميں شہرمدين كا منظر نظر آنے لگا ان كے دل ميں آسود گى كى ايك لہر اٹھنے لگى وہ شہر كے قريب پہنچے انہوں نے لوگوں كا ايك انبوہ ديكھا وہ فورا سمجھ گئے كہ يہ لوگ چرواہے ہيں كہ جو كنويں كے پاس اپنى بھيڑوں كو پانى پلانے آئے ہيں _

''جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے تو انھوں نے وہاں بہت سے آميوں كو ديكھا جو كنويں سے پانى بھر كے اپنے چوپايوں كو پلارہے تھے،انھوں نے اس كنويں كے پاس دو عورتوں كو ديكھا كہ وہ اپنى بھيڑوں كو لئے كھڑى تھيں مگر كنويں كے قريب نہيں آتى تھيں ''_(۲)

ان باعفت لڑكيوں كى حالت قابل رحم تھى جو ايك گوشے ميں كھڑى تھيں اور كوئي آدمى بھى ان كے

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۲۲

(۲)سورہ قصص آيت۲۳

۲۸۹

ساتھ انصاف نہيں كرتا تھا چرواہے صرف اپنى بھيڑوں كى فكر ميں تھے اور كسى اور كو موقع نہيں ديتے تھے حضرت موسى عليہ السلام نے ان لڑكيوں كى يہ حالت ديكھى تو ان كے نزديك آئے اور پوچھا :

'' تم يہاں كيسے كھڑى ہو''_(۱)

تم آگے كيوں نہيں بڑھتيں اور اپنى بھيڑوں كو پانى كيوں نہيں پلاتيں ؟

حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ حق كشى ، ظلم وستم ، بے عدالتى اور مظلوموں كے حقوق كى عدم پاسدارى جو انھوں نے شہر مدين ميں ديكھي، قابل برداشت نہ تھى _

مظلوموں كو ظالم سے بچانا ان كى فطرت تھى اسى وجہ سے انھوں نے فرعون كے محل اور اس كى نعمتوں كو ٹھكراديا تھا اور وطن سے بے وطن ہوگئے تھے وہ اپنى اس روش حيات كو ترك نہيں كرسكتے تھے اور ظلم كو ديكھ كر خاموش نہيں رہ سكتے تھے _

لڑكيوں نے حضرت موسى عليہ السلام سے جواب ميں كہا :'' ہم اس وقت تك اپنى بھيڑوں كو پانى نہيں پلاسكتے، جب تك تمام چرواہے اپنے حيوانات كو پانى پلاكر نكل نہ جائيں ''_(۲)

ان لڑكيوں نے اس بات كى وضاحت كے لئے كہ ان باعفت لڑكيوں كے باپ نے انھيں تنہا اس كام كے لئے كيوں بھيج ديا ہے يہ بھى اضافہ كيا كہ ہمارا باپ نہايت ضعيف العمرہے _

نہ تو اس ميں اتنى طاقت ہے كہ بھيڑوں كو پانى پلاسكے اور نہ ہمارا كوئي بھائي ہے جو يہ كام كرلے اس خيال سے كہ كسى پر بارنہ ہوں ہم خود ہى يہ كام كرتے ہيں _

حضرت موسى عليہ السلام كو يہ باتيں سن كر بہت كوفت ہوئي اور دل ميں كہا كہ يہ كيسے بے انصاف لوگ ہيں كہ انھيں صرف اپنى فكر ہے اور كسى مظلوم كى ذرا بھى پرواہ نہيں كرتے _

وہ آگے آئے ،بھارى ڈول اٹھايا اور اسے كنوئيں ميں ڈالا، كہتے ہيں كہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا كہ چند

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۲۳

(۲)سورہ قصص آيت ۲۴

۲۹۰

آدمى مل كر اسے كھينچ سكتے تھے ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے قوى بازوئوں سے اسے اكيلے ہى كھينچ ليا اور ان دونوں عورتوں كى بھيڑوں كو پانى پلاديا ''_(۱)

بيان كيا جاتاہے كہ جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے اورلوگوں كو ايك طرف كيا تو ان سے كہا:'' تم كيسے لوگ ہو كہ اپنے سوا كسى اور كى پرواہ ہى نہيں كرتے ''_

يہ سن كر لوگ ايك طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسى كے حوالے كركے بولے :

'' ليجئے، بسم اللہ، اگرآپ پانى كھينچ سكتے ہيں ،انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كو تنہاچھوڑ ديا،ليكن حضرت موسى عليہ السلام اس وقت اگرچہ تھكے ہوئے تھے،اور انھيں بھوك لگ رہى تھى مگر قوت ايمانى ان كى مدد گار ہوئي ، جس نے ان كى جسمانى قوت ميں اضافہ كرديا اور كنويں سے ايك ہى ڈول كھينچ كر ان دنوں عورتوں كى بھيڑوں كو پانى پلاديا _

اس كے بعد حضرت موسى عليہ السلام سائے ميں آبيٹھے اور بارگاہ ايزدى ميں عرض كرنے لگے :'' خداوند اتو مجھے جو بھى خيراور نيكى بخشے ، ميں اس كا محتاج ہوں ''_(۲)

حضرت موسى عليہ السلام ( اس وقت ) تھكے ہوئے اور بھوكے تھے اس شہر ميں اجنبى اور تنہاتھے اور ان كے ليے كو ئي سرچھپانے كى جگہ بھى نہ تھى مگر پھر بھى وہ بے قرار نہ تھے آپ كا نفس ايسا مطمئن تھا كہ دعا كے وقت بھى يہ نہيں كہا كہ'' خدايا تو ميرے ليے ايسا ياويسا كر'' بلكہ يہ كہا كہ : تو جو خير بھى مجھے بخشے ميں اس كا محتاج ہوں '' _

يعنى صرف اپنى احتياج اور نياز كو عرض كرتے ہيں اور باقى امور الطاف خداوندى پر چھوڑديتے ہيں _

ليكن ديكھو كہ كار خير كيا قدرت نمائي كرتا ہے اور اس ميں كتنى عجيب بركات ہيں صرف ''لوجہ اللہ'' ايك قدم اٹھانے اور ايك نا آشنا مظلوم كى حمايت ميں كنويں سے پانى كے ايك ڈول كھيچنے سے حضرت موسى كي

____________________

(۱) سورہ قصص آيت۲۴

(۲) سورہ قصص آيت ۲۴

۲۹۱

زندگى ميں ايك نياباب كھل گيا اور يہ عمل خيران كے ليے بركات مادى اور روحانى دنيا بطور تحفہ لايا اور وہ ناپيدا نعمت (جس كے حصول كےلئے انھيں برسوں كوشش كرنا پڑتى ) اللہ نے انھيں بخش دى حضرت موسى عليہ السلام كے لئے خوش نصيبى كا دور اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے يہ ديكھا كہ ان دونوں بہنوں ميں سے ايك نہايت حياسے قدم اٹھاتى ہوئي آرہى ہے اس كى وضع سے ظاہر تھا كہ اسكوايك جوان سے باتيں كرتے ہوئے شرم آتى ہے وہ لڑكى حضرت موسى عليہ السلام كے قريب آئي اور صرف ايك جمكہ كہا : ميرے والد صاحب آپ كو بلاتے ہيں تاكہ آپ نے ہمارى بكريوں كے لئے كنويں سے جو پانى كھينچا تھا ، اس كا معاوضہ ديں ''_(۱)

يہ سن كر حضرت موسى عليہ السلام كے دل ميں اميد كى بجلى چمكى گوياانھيں يہ احساس ہوا كہ ان كے لئے ايك عظيم خوش نصيبى كے اسباب فراہم ہورہے ہيں وہ ايك بزرگ انسان سے مليں گے وہ ايك ايسا حق شناس انسان معلوم ہوتا ہے جو يہ بات پسند نہيں كرتا كہ انسان كى كسى زحمت كا، يہاں تك كہ پانى كے ايك ڈول كھيچنے كا بھى معاوضہ نہ دے يہ ضرور كوئي ملكوتى اور الہى انسان ہوگا يا اللہ يہ كيسا عجيب اور نادر موقع ہے ؟

بيشك وہ پير مرد حضرت شعيب(ع) پيغمبر تھے انہوں نے برسوں تك اس شہر كے لوگوں كو'' رجوع الى اللہ''كى دعوت دى تھى وہ حق پرستى اور حق شناسى كا نمونہ تھے _

جب انھيں كل واقعے كا علم ہوا تو انھوں نے تہيہ كرليا كہ اس اجنبى جوان كو اپنے دين كى تبليغ كريں گے _

حضرت موسى (ع) جناب شعيب(ع) كے گھر ميں

چنانچہ حضرت موسى عليہ السلام اس جگہ سے حضرت شعيب كے مكان كى طرف روانہ ہوئے _

بعض روايات كے مطابق وہ لڑكى رہنمائي كے لئے ان كے آگے چل رہى تھى اور حضرت موسى عليہ السلام اس كے پيچھے چل رہے تھے اس وقت تيز ہوا سے اس لڑكى كا لباس اڑرہا تھا اور ممكن تھا كہ ہوا كى تيزي

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۲۵

۲۹۲

لباس كو اس كے جسم سے اٹھادے حضرت موسى (ع) كى پاكيزہ طبيعت اس منظر كو ديكھنے كى اجازت نہيں ديتى تھي،اس لڑكى سے كہا:ميں آگے آگے چلتا ہوں ،تم راستہ بتاتے رہنا_

جب جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر پہنچ گئے ايسا گھر جس سے نور نبوت ساطع تھا اور اس كے ہر گوشے سے روحانيت نماياں تھى انھوں نے ديكھا كہ ايك پير مرد، جس كے بال سفيد ہيں ايك گوشے ميں بيٹھا ہے اس نے حضرت موسى عليہ السلام كو خوش آمديد كہا اور پوچھا:

'' تم كون ہو ؟ كہاں سے آرہے ہو ؟ كيا مشغلہ ہے ؟ اس شہر ميں كيا كرتے ہو ؟ اور آنے كا مقصد كيا ہے ؟ تنہا كيوں ہو ؟

حضرت موسى عليہ السلام نے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس پہنچے اور انھيں اپنى سرگزشت سنائي تو حضرت شعيب عليہ السلام نے كہا مت ڈرو، تمہيں ظالموں كے گروہ سے نجات مل گئي ہے _''(۱)

ہمارى سرزمين ان كى حدود سلطنت سے باہر ہے يہاں ان كا كوئي اختيار نہيں چلتا اپنے دل ميں ذرہ بھر پريشانى كو جگہ نہ دينا تم امن وامان سے پہنچ گئے ہو مسافرت اور تنہائي كا بھى غم نہ كرو يہ تمام مشكلات خدا كے كرم سے دور ہوجائيں گى _ حضرت مو سى عليہ السلام فورا ًسمجھ گئے كہ انھيں ايك عالى مرتبہ استاد مل گيا ہے، جس كے وجود سے روحانيت ، تقوى ، معرفت اور زلال عظيم كے چشمے پھوٹ رہے ہيں اور يہ استاد ان كى تشنگى تحصيل علم ومعرفت كو سيراب كرسكتا ہے _

حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى يہ سمجھ ليا كہ انھيں ايك لائق اور مستعد شاگرد مل گيا ہے، جسے وہ اپنے علم ودانش اور زندگى بھر كے تجربات سے فيض ياب كرسكتے ہيں _

يہ مسلم ہے كہ ايك شاگرد كو ايك بزرگ اور قابل استاد پاكر جتنى مسرت ہوتى ہے استاد كو بھى ايك لائق شاگرد پاكر اتنى ہى خوشى ہوتى ہے_

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۲۵

۲۹۳

جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب (ع) كے داماد بن گئے

اب حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے چھٹے دور كا ذكر شروع ہوتا ہے حضرت موسى عليہ السلام جناب شعيب عليہ السلام كے گھر آگئے يہ ايك سادہ ساديہاتى مكان تھا، مكان صاف ستھرا تھا اور روحانيت سے معمور تھا جب حضرت موسى عليہ السلام نے جناب شعيب عليہ السلام كو اپنى سرگزشت سنائي تو ان كى ايك لڑكى نے ايك مختصر مگر پر معنى عبارت ميں اپنے والد كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ موسى عليہ السلام كو بھيڑوں كى حفاظت كے لئے ملازم ركھ ليں وہ الفاظ يہ تھے :

اے بابا : آپ اس جوان كو ملازم ركھ ليں كيونكہ ايك بہترين آدمى جسے آپ ملازم ركھ سكتے ہيں وہ ايسا ہونا چاہئے جو قوى اور امين ہو اور اس نے اپنى طاقت اور نيك خصلت دونوں كا امتحان دے ديا ہے'' _(۱)

جس لڑكى نے ايك پيغمبر كے زيرسايہ تربيت پائي ہوا سے ايسى ہى مو دبانہ اور سوچى سمجھى بات كہنى چاہئے نيز چاہئے كہ مختصر الفاظ اور تھوڑى سى عبارت ميں اپنا مطلب ادا كردے _

اس لڑكى كو كيسے معلوم تھا كہ يہ جوان طاقتور بھى ہے اور نيك خصلت بھى كيونكہ اس نے پہلى باركنويں پر ہى اسے ديكھا تھا اور اس كى گزشتہ زندگى كے حالات سے وہ بے خبر تھي؟

اس سوال كا جواب واضح ہے اس لڑكى نے اس جوان كى قوت كو تو اسى وقت سمجھ ليا تھا جب اس نے ان مظلوم لڑكيوں كا حق دلانے كے لئے چرواہوں كو كنويں سے ايك طرف ہٹايا تھا اور اس بھارى ڈول كو اكيلے ہى كنويں سے كھينچ ليا تھا اور اس كى امانت اور نيك چلنى اس وقت معلوم ہوگئي تھى كہ حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر كى راہ ميں اس نے يہ گوارا نہ كيا كہ ايك جوان لڑكى اس كے آگے آگے چلے كيونكہ ممكن تھا كہ تيز ہوا سے اس كا لباس جسم سے ہٹ جائے _

علاوہ بريں اس نوجوان نے اپنى جو سرگزشت سنائي تھى اس كے ضمن ميں قبطيوں سے لڑائي كے ذكر

____________________

(۱)سورہ قصص ايت ۲۶

۲۹۴

ميں اس كى قوت كا حال معلوم ہوگيا تھا اور اس امانت وديانت كى يہ شہادت كافى تھى كہ اس نے ظالموں كى ہم نوائي نہ كى اور ان كى ستم رانى پر اظہار رضا مندى نہ كيا _

حضرت شعيب عليہ السلام نے اپنى بيٹى كى تجويز كو قبول كرليا انھوں نے موسى (ع) كى طرف رخ كركے يوں كہا :''ميرا ارادہ ہے كہ اپنى ان دولڑكيوں ميں سے ايك كا تيرے ساتھ نكاح كردوں ، اس شرط كے ساتھ كہ تو آٹھ سال تك ميرى خدمت كرے ''_(۱)

اس كے بعد يہ اضافہ كيا:'' اگر تو آٹھ سال كى بجائے يہ خدمت دس سال كردے تو يہ تيرا احسان ہوگا مگر تجھ پر واجب نہيں ہے :''(۲)

بہرحال ميں يہ نہيں چاہتا كہ تم سے كوئي مشكل كام لوں انشاء اللہ تم جلد ديكھو گے كہ ميں صالحين ميں سے ہوں ، اپنے عہدوپيمان ميں وفادار ہوں تيرے ساتھ ہرگز سخت گيرى نہ كروں گا اور تيرے ساتھ خيراور نيكى كا سلوك كروں گا _(۳)

حضرت موسى عليہ السلام نے اس تجويزاور شرط سے موافقت كرتے ہوئے اور عقد كو قبول كرتے ہوئے كہا : '' ميرے اور آپ كے درميان يہ عہد ہے '' _ البتہ'' ان دومدتوں ميں سے (آٹھ سال يا دس سال ) جس مدت تك بھى خدمت كروں ، مجھ پر كوئي زيادتى نہ ہوگى اور ميں اس كے انتخاب ميں آزاد ہوں ''_(۴)

عہد كو پختہ اور خدا كے نام سے طلب مدد كے لئے يہ اضافہ كيا : ''جو كچھ ہم كہتے ہيں خدا اس پر شاہد ہے ''_(۵)

اوراس اسانى سے موسى عليہ السلام داماد شعيب(ع) بن گئے حضرت شعيب عليہ السلام كى لڑكيوں كا نام '' صفورہ ''( يا صفورا ) اور '' ليا ''بتايا جاتاہے حضرت موسى عليہ السلام كى شادى '' صفورہ '' سے ہوئي تھى _

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۲۷

(۲)سورہ قصص آيت ۲۷

(۳)سورہ قصص آيت ۲۷

(۴) سورہ قصص آيت ۲۸

(۵)سورہ قصص آيت ۲۸

۲۹۵

حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين ايام

كوئي آدمى بھى حقيقتاً يہ نہيں جانتا كہ ان دس سال ميں حضرت موسى عليہ السلام پر كيا گزرى ليكن بلاشك يہ دس سال حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين سال تھے يہ سال دلچسپ، شيريں اور آرام بخش تھے نيز يہ دس سال ايك منصب عظيم كى ذمہ دارى كے لئے تربيت اور تيارى كے تھے _

درحقيقت اس كى ضرورت بھى تھى كہ موسى عليہ السلام دس سال كا عرصہ عالم مسافرت اور ايك بزرگ پيغمبر كى صحبت ميں بسر كريں اور چرواہے كاكام كريں تاكہ ان كے دل ودماغ سے محلول كى ناز پروردہ زندگى كا اثر بالكل محوہوجائے حضرت موسى كو اتنا عرصہ جھونپڑيوں ميں رہنے والوں كے ساتھ گزارنا ضرورى تھا تاكہ ان كى تكاليف اور مشكلات سے آگاہ ہوجائے اور ساكنان محلول كے ساتھ جنگ كرنے كے لئے آمادہ ہوجائيں _

ايك اور بات يہ بھى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اسرار آفرينش ميں غور كرنے اور اپنى شخصيت كى تكميل كے لئے بھى ايك طويل وقت كى ضرورت تھى اس مقصد كے لئے بيابان مدين اور خانہ شعيب سے بہتر اور كو نسى جگہ ہوسكتى تھى _

ايك اولوالعزم پيغمبر كى بعثت كوئي معمولى بات نہيں ہے كہ يہ مقام كسى كو نہايت آسانى سے نصيب ہوجائے بلكہ يہ كہہ سكتے ہيں كہ پيغمبر اسلام (ص) كے بعد تمام پيغمبروں ميں سے حضرت موسى عليہ السلام كى ذمہ دارى ايك لحاظ سے سب سے زيادہ اہم تھى اس لئے كہ :

روئے زمين كے ظالم ترين لوگوں سے مقابلہ كرنا، ايك كثير الا فراد قوم كى مدت اسيرى كو ختم كرنا _

اور ان كے اندر سے ايام اسيرى ميں پيدا ہوجانے والے نقائص كو محو كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے _

حضرت شعيب عليہ السلام نے موسى عليہ السلام كى مخلصانہ خدمات كى قدر شناسى كے طور پر يہ طے كرليا تھا كہ بھيڑوں كے جو بچے ايك خاص علامت كے ساتھ پيداہوں گے، وہ موسى عليہ السلام كو ديديں گے،اتفاقاًمدت مو عود كے آخرى سال ميں جبكہ موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام سے رخصت ہو كر

۲۹۶

مصر كو جانا چاہتے تھے تو تمام يا زيادہ تر بچے اسى علامت كے پيدا ہوئے اور حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى انھيں بڑى محبت سے موسى عليہ السلام كو دےديا _

يہ امر بديہى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنى سارى زندگى چرواہے بنے رہنے پر قناعت نہيں كرسكتے تھے ہر چند ان كے لئے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس رہنا بہت ہى غنيمت تھا مگر وہ اپنا يہ فرض سمجھتے تھے كہ اپنى اس قوم كى مدد كے لئے جائيں جو غلامى كى زنجيروں ميں گرفتارہے اور جہالت نادانى اور بے خبرى ميں غرق ہے _

حضرت موسى عليہ السلام اپنا يہ فرض بھى سمجھتے تھے كہ مصر ميں جو ظلم كا بازار گرم ہے اسے سرد كريں ،طاغوتوں كو ذليل كريں اور توفيق الہى سے مظلوموں كو عزت بخشيں ان كے قلب ميں يہى احساس تھا جو انھيں مصر جانے پر آمادہ كررہا تھا _

آخركار انھوں نے اپنے اہل خانہ، سامان واسباب اور اپنى بھيڑوں كو ساتھ ليا اوراس وقت موسى عليہ السلام كے ساتھ ان كى زوجہ كے علاوہ ان كا لڑكا يا كوئي اور اولاد بھى تھي، اسلامى روايات سے بھى اس كى تائيد ہوتى ہے تو ريت كے '' سفر خروج '' ميں بھى ذكر مفصل موجود ہے علاوہ ازيں اس وقت ان كى زوجہ اميد سے تھى _

وحى كى تابش اول

جب حضرت موسى عليہ السلام مدين سے مصر كو جارہے تھے تو راستہ بھول گئے يا غالبا ًشام كے ڈاكوئوں كے ہاتھ ميں گرفتار ہوجانے كے خوف سے بوجہ احتياط رائج راستے كو چھوڑكے سفر كررہے تھے _

بہركيف قرآن شريف ميں يہ بيان اس طور سے ہے كہ :''جب موسى عليہ السلام اپنى مدت كو ختم كرچكے اور اپنے خاندان كو ساتھ لے كر سفر پر روانہ ہوگئے تو انھيں طور كى جانب سے شعلہ آتش نظر آيا _

حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے اہل خاندان سے كہا :'' تم يہيں ٹھہرو'' مجھے آگ نظر آئي ہے ميں

۲۹۷

جاتاہوں شايد تمہارے لئے وہاں سے كوئي خبرلائوں يا آگ كا ايك انگارالے آئوں تاكہ تم اس سے گرم ہوجائو''_(۱)

''خبر لائوں '' سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ راستہ بھول گئے تھے اور ''گرم ہوجائو''يہ اشارہ كررہاہے كہ سرد اور تكليف دہ رات تھى _

قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كى زوجہ كى حالت كا كوئي ذكر نہيں ہے مگر تفاسير اور روايات ميں مذكورہے كہ وہ اميد سے تھيں اور انہيں دروازہ ہورہا تھا اس لئے موسى عليہ السلام پريشان تھے _

حضرت موسى عليہ السلام جس وقت آگ كى تلاش ميں نكلے تو انھوں نے ديكھا كہ آگ تو ہے مگر معمول جيسى آگ نہيں ہے، بلكہ حرارت اور سوزش سے خالى ہے وہ نور اور تابندگى كا ايك ٹكڑا معلوم ہوتى تھى ،حضرت موسى عليہ السلام اس منظر سے نہايت حيران تھے كہ ناگہاں اس بلندو پُر بركت سرزمين ميں وادى كے دا ھنى جانب سے ايك درخت ميں سے آواز آئي: ''اے موسى ميں اللہ رب العالمين ہوں ''_(۲)

اس ميں شك نہيں كہ يہ خدا كے اختيار ميں ہے كہ جس چيز ميں چاہے قوت كلام پيدا كردے يہاں اللہ نے درخت ميں يہ استعداد پيدا كردى كيونكہ اللہ موسى عليہ السلام سے باتيں كرنا چاہتا تھا ظاہر ہے كہ موسى عليہ السلام گوشت پوست كے انسان تھے، كان ركھتے تھے اور سننے كے لئے انہيں امواج صوت كى ضروت تھى البتہ انبياء عليہم السلام پر اكثر يہ حالت بھى گزرى ہے كہ وہ بطور الہام درونى پيغام الہى كو حاصل كرتے رہے ہيں ،اسى طرح كبھى انھيں خواب ميں بھى ہدايت ہوتى رہى ہے مگر كبھى وہ وحى كو بصورت صدا بھى سنتے رہے ہيں ، بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام نے جو آواز سنى اس سے ہم ہرگز يہ نتيجہ نہيں نكال سكتے كہ خدا جسم ركھتا ہے _

اے موسى جوتى اتاردو

موسى عليہ السلام جب آگ كے پاس گئے اور غور كيا توديكھا كہ درخت كى سبز شاخوں ميں آگ

____________________

(۱)سورہ قصص ايت۲۹

(۲)سورہ قصص آيت ۳۰

۲۹۸

چمك رہى ہے اور لحظہ بہ لحظہ اس كى تابش اور درخشندگى بڑھتى جاتى ہے جو عصا ان كے ہاتھ ميں تھا اس كے سہارے جھكے تاكہ اس ميں سے تھوڑى سى آگ لے ليں تو آگ موسى عليہ السلام كى طرف بڑھى موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے اس وقت حالت يہ تھى كہ كبھى موسى عليہ السلام آگ كى طرف بڑھتے تھے اور كبھى آگ ان كى طرف، اسى كشمكش ميں ناگہاں ايك صدا بلند ہوئي ،اور انھيں وحى كى بشارت دى گئي _

اس طرح ناقابل انكار قرائن سے حضرت موسى عليہ السلام كو يقين ہوگيا كہ يہ آواز خدا ہى كى ہے، كسى غير كى نہيں ہے _

''ميں تيرا پروردگار ہوں ، اپنے جوتے اتاردے كيونكہ تو مقدس سرزمين ''طوى ''ميں ہے ''_(۱)

موسى عليہ السلام كو اس مقدس سرزمين كے احترام كا حكم ديا گيا كہ اپنے پائوں سے جوتے اتاردے اور اس وادى ميں نہايت عجزوانكسارى كے ساتھ قدم ركھے حق كو سنے اور فرمان رسالت حاصل كرے _

موسى عليہ السلام نے يہ آوازكہ '' ميں تيرا پروردگار ہوں '' سنى تو حيران رہ گئے اور ايك ناقابل بيان پر كيف حالت ان پر طارى ہوگئي، يہ كون ہے ؟ جو مجھ سے باتيں كررہا ہے ؟ يہ ميرا پروردگارہے، كہ جس نے لفظ'' ربك '' كے ساتھ مجھے افتخار بخشا ہے تاكہ يہ ميرے لئے اس بات كى نشاندہى كرے كہ ميں نے آغاز بچپن سے لے كر اب تك اس كى آغوش رحمت ميں پرورش پائي ہے اور ايك عظيم رسالت كے لئے تياركيا گيا ہوں _''

حكم ملاكہ پائوں سے اپنا جوتا اتار دو، كيونكہ تو نے مقدس سرزمين ميں قدم ركھا ہے وہ سرزمين كہ جس ميں نور الہى جلوہ گرہے ، وہاں خدا كا پيغام سننا ہے ، اور رسالت كى ذمہ دارى كو قبول كرنا ہے، لہذا انتہائي خضوع اور انكسارى كے ساتھ اس سرزمين ميں قدم ركھو ،يہ ہے دليل پائوں سے جوتا اتارنے كى _

ايك حديث ميں امام صادق عليہ السلام سے ،حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے اس واقعہ سے

____________________

(۱) سورہ طہ آيت ۱۲

۲۹۹

متعلق ايك عمدہ مطلب نقل ہوا ہے ،آپ فرماتے ہيں :

جن چيزوں كى تمہيں اميد نہيں ہے ان كى ان چيزوں سے بھى زيادہ اميد ركھو كہ جن كى تمہيں اميد ہے كيونكہ موسى بن عمران ايك چنگارى لينے كے لئے گئے تھے ليكن عہدہ نبوت ورسالت كے ساتھ واپس پلٹے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ اكثر ايسا ہوتا ہے كہ انسان كسى چيز كى اميد ركھتا ہے مگر وہ اسے حاصل نہيں ہوتى ليكن بہت سى اہم ترين چيزيں جن كى اسے كوئي اميد نہيں ہوتى لطف پروردگار سے اسے مل جاتى ہيں _

موسى عليہ السلام كا عصا اور يد بيضا

اس ميں شك نہيں كہ انبياء عليہم السلام كو اپنے خدا كے ساتھ ربط ثابت كرنے كے لئے معجزے كى ضرورت ہے ، ورنہ ہر شخص پيغمبر ى كا دعوى كرسكتا ہے اس بناء پر سچے انبياء عليہم السلام كا جھوٹوں سے امتياز معجزے كے علاوہ نہيں ہوسكتا، يہ معجزہ خود پيغمبر كى دعوت كے مطالب اور آسمانى كتاب كے اندر بھى ہوسكتا ہے اور حسى اور جسمانى قسم كے معجزات اوردوسرے امور ميں بھى ہوسكتے ہيں علاوہ ازيں معجزہ خود پيغمبر كى روح پر بھى اثرانداز ہوتا ہے اور وہ اسے قوت قلب، قدرت ايمان اور استقامت بخشتا ہے _

بہرحال حضرت موسى عليہ السلام كو فرمان نبوت ملنے كے بعد اس كى سند بھى ملنى چاہئے، لہذا اسى پُر خطر رات ميں جناب موسى عليہ السلام نے دو عظيم معجزے خدا سے حاصل كئے _

قرآن اس ماجرے كو اس طرح بيان كرتا ہے :

''خدا نے موسى سے سوال كيا : اے موسى يہ تيرے دائيں ہاتھ ميں كيا ہے ''؟_(۱)

اس سادہ سے سوال ،ميں لطف ومحبت كى چاشنى تھى ، فطرتاً موسى عليہ السلام، كى روح ميں اس وقت طوفانى لہريں موجزن تھيں ايسے ميں يہ سوال اطمينان قلب كے لئے بھى تھا اورايك عظيم حقيقت كو بيان كرنے كى تمہيد بھى تھا _''موسى عليہ السلام نے جواب ميں كہا: يہ لكڑى ميرا عصا ہے ''_(۲)

____________________

(۱)سورہ طہ آيت ۱۷

(۲)سورہ طہ آيت ۱۸

۳۰۰