قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 28021
ڈاؤنلوڈ: 1547

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 28021 / ڈاؤنلوڈ: 1547
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

اور چونكہ محبوب نے ان كے سامنے پہلى مرتبہ يوں اپنا دروازہ كھولا تھا لہذا وہ اپنے محبوب سے باتيں جارى ركھنا اور انہيں طول دينا چاہتے تھے اور اس وجہ سے بھى كہ شايد وہ يہ سوچ رہے تھے كہ ميرا صرف يہ كہنا كہ يہ ميرا عصا ہے، كافى نہ ہو بلكہ اس سوال كا مقصد اس عصا كے آثار و فوائد كو بيان كرنا مقصودہو، لہذا مزيد كہا : ''ميں اس پرٹيك لگاتاہوں ، اور اس سے اپنى بھيڑوں كے لئے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں ،اس كے علاوہ اس سے دوسرے كام بھى ليتا ہوں ''_(۱)

البتہ يہ بات واضح اور ظاہر ہے كہ عصا سے كون كون سے كام ليتے ہيں كبھى اس سے موذى جانوروں اور دشمنوں كا مقابلہ كرنے كے لئے ايك دفاعي، ہتھيار كے طور پر كام ليتے ہيں كبھى اس كے ذريعے بيابان ميں سائبان بنا ليتے ہيں ، كبھى اس كے ساتھ برتن باندھ كر گہرى نہرسے پانى نكالتے ہيں _

بہرحال حضرت موسى عليہ السلام ايك گہرے تعجب ميں تھے كہ اس عظيم بارگاہ سے يہ كس قسم كا سوال ہے اور ميرے پاس اس كا كيا جواب ہے ، پہلے جو فرمان ديئےئے تھے وہ كيا تھے ، اور يہ پرسش كس لئے ہے ؟

موسى سے كہا گيا كہ : اپنے عصا كو زمين پرڈال دو '' چنانچہ موسى عليہ السلام نے عصا كو پھينك ديا اب كيا ديكھتے ہيں كہ وہ عصا سانپ كى طرح تيزى سے حركت كررہا ہے يہ ديكھ كر موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے يہاں تك كہ مڑكے بھى نہ ديكھا '' _(۲)

جس دن حضرت موسى عليہ السلام نے يہ عصا ليا تھا تاكہ تھكن كے وقت اس كا سہارا لے ليا كريں ،اور بھيڑوں كے لئے اس سے پتے جھاڑليا كريں ، انھيں يہ خيال بھى نہ تھا كہ قدرت خدا سے اس ميں يہ خاصيت بھى چھپى ہوئي ہوگى اور يہ بھيڑوں كو چرانے كى لاٹھى ظالموں كے محل كو ہلادے گى _

موجودات عالم كا يہى حال ہے كہ وہ بعض اوقات ہمارى نظر ميں بہت حقير معلوم ہوتى ہيں مگرا ن ميں بڑى بڑى استعداد چھپى ہوتى ہے جو كسى وقت خدا كے حكم سے ظاہر ہوتى ہے _

____________________

(۱)سورہ طہ آيت۱۸

(۲) سورہ قصص آيت ۳۱

۳۰۱

اب موسى عليہ السلام نے دوبارہ آواز سنى جو ان سے كہہ رہى تھى :'' واپس آ اور نہ ڈر توامان ميں ہے''_(۱)(۲)

بہرحال حضرت موسى عليہ السلام پر يہ حقيقت آشكار ہوگئي كہ درگاہ رب العزت ميں مطلق امن وامان ہے اور كسى قسم كے خوف وخطر كا مقام نہيں ہے_

انذار و بشارت

حضرت موسى عليہ السلام كو جو معجزات عطا كئے گئے ان ميں سے پہلا معجزہ خوف كى علامت پر مشتمل تھا اس كے بعد موسى كو حكم ديا گيا كہ اب ايك دوسرا معجزہ حاصل كرو جو نورواميد كى علامت ہوگا اور يہ دونوں معجزہ گويا ''انذار اوربشارت'' تھے_

موسى عليہ السلام كو حكم ديا گيا كہ'' اپنا ہاتھ اپنے گريبان ميں ڈالو اور باہر نكا،لو موسى عليہ السلام نے جب گريبان ميں سے ہاتھ باہر نكالا تو وہ سفيد تھا اور چمك رہا تھا اور اس ميں كوئي عيب اور نقص نہ تھا ''_(۳)

حضرت موسى عليہ السلام كے ہاتھ ميں يہ سفيدى اور چمك كسى بيمارى (مثلا ''برص يا كوئي اس جيسى چيز) كى وجہ سے نہ تھى بلكہ يہ نور الہى تھا جو بالكل ايك نئي قسم كا تھا_

جب حضرت موسى عليہ السلام نے اس سنسان كو ہسار اور اس تاريك رات ميں يہ دوخارق عادت

____________________

(۱)سورہ قصص آيت۳۱

(۲) البتہ قرآن كى بعض دوسرى آيات ميں '' ثعبان مبين'' (واضح ادھا) بھى كہا گيا ہے _(اعراف ۱۰۷ شعراء ۳۲)

ہم نے قبل ازيں كہا ہے كہ اس سانپ كے لئے جو يہ دوالفاظ استعمال ہوئے ہيں ممكن ہے اس كى دو مختلف حالتوں كے لئے ہوں كہ ابتدا ميں وہ چھوٹا سا ہو اور پھر ايك بڑا ادھا بن گيا ہو اس مقام پر يہ احتمال بھى ہوسكتا ہے كہ موسى نے جب واوي طور ميں اسے پہلى بار ديكھا تو چھوٹا سا سانپ تھا، رفتہ رفتہ وہ بڑا ہوگيا _

(۳)سورہ قصص آيت۳۱

۳۰۲

اور خلاف معمول چيزيں ديكھيں تو ان پر لرزہ طارى ہوگيا، چنانچہ اس لئے كہ ان كا اطمينان قلب واپس اجائے انھيں حكم ديا گيا كہ'' اپنے سينے پر اپنا ہاتھ پھريں تاكہ دل كو راحت ہوجائے ''_(۱)

اس كے بعد موسى عليہ السلام نے پھروہى صدا سنى جو كہہ رہى تھى :'' خدا كى طرف سے تجھے يہ دودليليں فرعون اور اس كے ساتھيوں كے مقابلے كے لئے دى جارى ہيں كيونكہ وہ سب لوگ فاسق تھے اور ہيں ''_(۲)

جى ہاں يہ لوگ خدا كى طاعت سے نكل گئے ہيں اور سركشى كى انتہا تك جاپہنچے ہيں تمہارا فرض ہے كہ انھيں نصيحت كرو اور راہ راست كى تبلغ كرو اور اگر وہ تمہارى بات نہ مانيں تو ان سے جنگ كرو_

كاميابى كے اسباب كى درخواست

موسى عليہ السلام اس قسم كى سنگين مامورريت پر نہ صرف گھبرائے نہيں ،بلكہ معمولى سى تخفيف كےلئے بھى خدا سے درخواست نہ كي، اور كھلے دل سے اس كا استقبال كيا ،زيادہ سے زيادہ اس ماموريت كے سلسلے ميں كاميابى كے وسائل كى خدا سے درخواست كى اور چونكہ كاميابى كا پلااور ذريعہ، عظيم روح، فكر بلند اور عقل توانا ہے، اور دوسرے لفظوں ميں سينہ كى كشاد گى وشرح صدر ہے لہذا ''عرض كيا ميرے پروردگار ميرا سينہ كشادہ كردے ''_(۳)

ہاں ، ايك رہبر انقلاب كا سب سے اولين سرمايہ ، كشادہ دلى ، فراوان حوصلہ، استقامت وبرد بارى اور مشكلات كے بوجھ كو اٹھاناہے _

اور چونكہ اس راستے ميں بے شمار مشكلات ہيں ، جو خدا كے لطف وكرم كے بغير حل نہيں ہوتيں ، لہذا خدا سے دوسرا سوال يہ كيا كہ ميرے كاموں كو مجھ پر آسان كردے اور مشكلات كو راستے سے ہٹادے آپ نے عرض كيا : ''ميرے كام كو آسان كردے ''_(۴)

____________________

(۱) سورہ قصص آيت ۳۲

(۲)سورہ قصص آيت ۳۲

(۳)سورہ طہ آيت۲۳

(۴)سورہ طہ آيت۲۷

۳۰۳

اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام نے زيادہ سے زيادہ قوت بيان كا تقاضا كيا كہنے لگے:'' ميرى زبان كى گرہ كھول دے'' _(۱)

يہ ٹھيك ہے كہ شرح صدر كا ہونا بہت اہم بات ہے ، ليكن يہ سرمايہ اسى صورت ميں كام دے سكتا ہے جب اس كو ظاہر كرنے كى قدرت بھى كامل طور پر موجود ہو، اسى بناء پر جناب موسى عليہ السلام نے شرح صدر اور ركاوٹوں كے دور ہونے كى در خواستوں كے بعد يہ تقاضا كيا كہ خدا ان كى زبان كى گرہ كھول دے _

اور خصوصيت كے ساتھ اس كى علت يہ بيان كى :'' تاكہ وہ ميرى باتوں كو سمجھيں ''_(۲)

يہ جملہ حقيقت ميں پہلى بات كى تفسير كرر ہاہے اس سے يہ بات واضح ہورہى ہے كہ زبان كى گرہ كے كھلنے سے مراد يہ نہ تھى كہ موسى عليہ السلام كى زبان ميں بچپنے ميں جل جانے كى وجہ سے كوئي لكنت آگئي تھى (جيسا كہ بعض مفسرين نے ابن عباس سے نقل كيا ہے)بلكہ اس سے گفتگو ميں ايسى ركاوٹ ہے جو سننے والے كے لئے سمجھنے ميں مانع ہوتى ہے يعنى ميں ايسى فصيح وبليغ اور ذہن ميں بيٹھ جانے والى گفتگو كروں گہ ہر سننے والا ميرا مقصد اچھى طرح سے سمجھ لے _

ميرا بھائي ميراناصر ومددگار

بہرحال ايك كامياب رہبر ورہنما وہ ہوتا ہے كہ جو سعي ، فكر اور قدرت روح كے علاووہ ايسى فصيح وبليغ گفتگو كرسكے كہ جو ہر قسم كے ابہام اور نارسائي سے پاك ہو _

نيز اس بار سنگين كے لئے _ يعنى رسالت الہي، رہبرى بشر اور طاغوتوں اور جابروں كے ساتھ مقابلے كے لئے يارومددگار كى ضرورت ہے اور يہ كام تنہاانجام دينا ممكن نہيں ہے لہذا حضرت موسى (ع) نے پروردگار سے جو چوتھى درخواست كى :

''خداونداميرے لئے ميرے خاندان ميں سے ايك وزيراور مددگار قراردے''_(۳)

____________________

(۱)سورہ طہ آيت۲۷

(۲)سورہ طہ آيت۲۸

(۳)سورہ طہ آيت۲۹

۳۰۴

البتہ يہ بات كہ حضرت موسى عليہ السلام تقاضا كررہے ہيں كہ يہ وزير ان ہى كے خاندان سے ہو، اس كى دليل واضح ہے چونكہ اس كے بارے ميں معرفت اور شناخت بھى زيادہ ہوگى اور اس كى ہمدردياں بھى دوسروں كى نسبت زيادہ ہوں گى كتنى اچھى بات ہے كہ انسان كسى ايسے شخص كو اپنا شريك كار بنائے كہ جو روحانى اور جسمانى رشتوں كے حوالے سے اس سے مربوط ہو_

اس كے بعد خصوصى التماس كے بعد خصوصى طور پر اپنے بھائي كى طرف اشارہ كرتے ہوئے عرض كيا : ''يہ ذمہ دارى ميرے بھائي ہارون كے سپرد كردے ''_(۱)

ہارون بعض مفسرين كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام كے بڑے بھائي تھے اور ان سے تين سال بڑے تھے بلند قامت فصيح البيان اور اعلى علمى قابليت كے مالك تھے، انہوں نے حضرت موسى عليہ السلام كى وفات سے تين سال پہلے رحلت فرمائي _(۲)

اور وہ نور اور باطنى روشنى كے بھى حامل تھے، اور حق وباطل ميں خوب تميز بھى ركھتے تھے _(۳)

آخرى بات يہ ہے كہ وہ ايك ايسے پيغمبر تھے جنہيں خدا نے اپنى رحمت سے موسى عليہ السلام كو بخشا تھا_(۴)

وہ اس بھارى ذمہ دارى كى انجام دہى ميں اپنے بھائي موسى عليہ السلام كے دوش بدوش مصروف كار ہے _

يہ ٹھيك ہے كہ موسى عليہ السلام نے اس اندھيرى رات ميں ، اس وادي مقدس كے اندر، جب خدا سے فرمان رسالت كے ملنے كے وقت يہ تقاضا كيا ، تو وہ اس وقت دس سال سے بھى زيادہ اپنے وطن سے دور

____________________

(۱)سورہ طہ آيت۳۱

(۲)جيسا كہ سورہ مومنون كى آيہ ۴۵ ميں بيان ہوا ہے : (ثم ارسلنا موسى واخاه هارون بايا تنا وسلطان مبين )

(۳) جيسا كہ سورہ انبياء كى آيہ ۴۸ ميں بيان ہوا ہے : (ولقد اتينا موسى وهارون الفرقان وضيائ )

(۴) (وو هبناله من رحمتنا اخاه هارون نبيا ) (سورہ مريم آيت ۵۳)

۳۰۵

گزار كر آرہے تھے، ليكن اصولى طور پر اس عرصہ ميں بھى اپنے بھائي كے ساتھ ان كارابطہ كامل طور پر منقطع نہ ہو، اسى لئے اس صراحت اور وضاحت كے ساتھ ان كے بارے ميں بات كررہے ہيں ، اور خدا كى درگاہ سے اس عظيم مشن ميں اس كى شركت كے لئے تقاضا ركرہے ہيں _

اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام ہارون كو وزارت ومعاونت پر متعين كرنے كےلئے اپنے مقصد كو اس طرح بيان كرتے ہيں : ''خداوندا ميرى پشت اس كے ذريعے مضبوط كردے''_(۱)

اس مقصد كى تكميل كے لئے يہ تقاضا كرتے ہيں : '' اسے ميرے كام ميں شريك كردے_''(۲)

وہ مرتبہ رسالت ميں بھى شريك ہو اور اس عظيم كام كو رو بہ عمل لانے ميں بھى شريك رہيں ، البتہ حضرت ہارون ہر حال ميں تمام پروگراموں ميں جناب موسى عليہ السلام كے پيرو تھے او رموسى عليہ السلام ان كے امام و پيشوا كى حيثيت ركھتے تھے_

آخر ميں اپنى تمام درخواستوں كا نتيجہ اس طرح بيان كرتے ہيں : '' تاكہ ہم تيرى بہت بہت تسبيح كريں اور تجھے بہت بہت ياد كريں ، كيونكہ تو ہميشہ ہى ہمارے حالات سے آگاہ رہا ہے_''(۳)

تو ہمارى ضروريات و حاجات كو اچھى طرح جانتا ہے اور اس راستہ كى مشكلات سے ہر كسى كى نسبت زيادہ آگاہ ہے، ہم تجھ سے يہ چاہتے ہيں كہ تو ہميں اپنے فرمان كى اطاعت كى قدرت عطا فرمادے اور ہمارے فرائض، ذمہ داريوں اور فرائض انجام دينے كے لئے ہميں توفيق اور كاميابى عطا فرما_

چونكہ جناب موسى عليہ السلام كا اپنے مخلصانہ تقاضوں ميں سوائے زيادہ سے زيادہ اور كامل تر خدمت كے اور كچھ مقصد نہيں تھا لہذا خداوندعالم نے ان كے تقاضوں كو اسى وقت قبول كرليا،'' اس نے كہا: اے موسى تمہارى درخواستيں قبول ہيں _''(۴)

____________________

(۱) سورہ طہ آيت ۳۱

(۲) سورہ طہ آيت ۳۲

(۳) سورہ طہ آيت ۳۳ تا۳۵

(۴) سورہ طہ آيت ۳۶

۳۰۶

حقيقت ميں ان حساس اور تقدير ساز لمحات ميں چونكہ موسى عليہ السلام پہلى مرتبہ خدائے عظيم كى بساط مہمانى پر قدم ركھ رہے تھے،لہذا جس جس چيز كى انہيں ضرورت تھى ان كا خدا سے اكٹھا ہى تقاضا كرليا،اور اس نے بھى مہمان كا انتہائي احترام كيا،اور اس كى تمام درخواستوں اور تقاضوں كو ايك مختصر سے جملے ميں حيات بخش ندا كے سا تھ قبول كرليا اور اس ميں كسى قسم كى قيدو شرط عائد نہ كى اور موسى عليہ السلام كا نام مكرر لا كر،ہر قسم كے ابہام كو دور كرتے ہوئے اس كى تكميل كر دى ،يہ بات كس قدر شوق انگيز اور افتخار آفرين ہے كہ بندے كا نام مولا كى زبان پر بار بار آئے_

فرعون سے معركہ آرا مقابلہ

حضرت موسى عليہ السلام كى ماموريت كا پہلا مرحلہ ختم ہوا جس ميں بتايا گيا ہے كہ انھيں وحى اور رسالت ملى اور انھوں نے اس عظيم مقصد كو حاصل كرنے كے ليے وسائل كے حصول كى درخواست كى _

اس كے ساتھ ہى زير نظر دوسرے مرحلے كے بارے ميں گفتگو ہوتى ہے يعنى فرعون كے پاس جانا اور اس كے ساتھ گفتگو كرنا چنانچہ ان كے درميان جو گفتگو ہوئي ہے اسے يہاں پر بيان كيا جارہا ہے_

سب سے پہلے مقدمے كے طور پر فرمايا گيا ہے:اب جبكہ تمام حالات ساز گار ہيں تو تم فرعون كے پاس جائو ''اور اس سے كہو كہ ہم عالمين كے پروردگار كے رسول ہيں ''_(۱)

اور اپنى رسالت كا ذكر كرنے كے بعد بنى اسرائيل كى آزادى كا مطالبہ كيجئے اور كہيئے''كہ ہميں حكم ملا ہے كہ تجھ سے مطالبہ كريں كہ تو بنى اسرائيل كو ہمارے ساتھ بھيج دے''_(۲)

وہ مصر ميں گئے اور اپنے بھائي ہارون كو مطلع كيا اور وہ رسالت جس كے ليے آپ(ع) مبعوث تھے،اس كا پيغام اسے پہنچايا_پھر يہ دونوں بھائي فرعون سے ملاقات كے ارادے سے روانہ ہوئے_ آخر بڑى مشكل سے اس كے پاس پہنچ سكے_اس وقت فرعون كے وزراء اور مخصوص لوگ اسے گھيرے ہوئے تھے_

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۱۶

(۲)سورہ شعراء آيت۱۷

۳۰۷

حضرت موسى عليہ السلام نے ان كو خدا كا پيغام سنايا_

اس مقام پر فرعون نے زبان كھولى اور شيطنت پر مبنى چند ايك جچے تلے جملے كہے جس سے ان كى رسالت كى تكذيب كرنا مقصود تھا_ وہ حضرت موسى عليہ السلام كى طرف منہ كركے كہنے لگا:''آيا بچپن ميں ہم نے تجھے اپنے دامن محبت ميں پروان نہيں چڑھايا ''_(۱)

ہم نے تجھے دريائے نيل كى ٹھاٹھيں مارتى ہوئي خشمگين موجوں سے نجات دلائي وگرنہ تيرى زندگى خطرے ميں تھي_تيرے ليے دائيوں كو بلايا اور ہم نے اولاد بنى اسرائيل كے قتل كردينے كا جو قانون مقرر كر ركھا تھا اس سے تجھے معاف كرديا اور امن و سكون اور نازونعمت ميں تجھے پروان چڑھايا_

اور اس كے بعد بھى ''تو نے اپنى زندگى كے كئي سال ہم ميں گزارے''_(۲)

پھر وہ موسى عليہ السلام پر ايك اعتراض كرتے ہوئے كہتا ہے:تو نے وہ اہم كام كيا ہے_(فرعون كے حامى ايك قبطى كو قتل كيا ہے)_(۳)

يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ ايسا كام كرنے كے بعد تم كيونكررسول بن سكتے ہو؟

ان سب سے قطع نظر كرتے ہوئے ''تو ہمارى نعمتوں سے انكار كررہا ہے''_(۴)

تو كئي سالوں تك ہمارے دسترخوان پر پلتا رہا ہے،ہمارا نمك كھانے كے بعد نمك حلالى كا حق اس طرح ادا كررہا ہے؟اس قدر كفران نعمت كے بعد تو كس منہ سے نبوت كا دعوى كررہاہے؟

در حقيقت وہ بزعم خود اس طرح كى منطق سے ان كى كردار كشى كركے موسى عليہ السلام كو خاموش كرنا چاہتا تھا_

جناب موسى عليہ السلام نے فرعون كى شيطنت آميز باتيں سن كر اس كے تينوں اعتراضات كے

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۸

(۲)سورہ شعراء آيت ۱۸

(۳)سورہ شعراء آيت۱۹

(۴)سورہ شعراء آيت۱۹

۳۰۸

جواب دينا شروع كيے_ليكن اہميت كے لحاظ سے فرعون كے دوسرے اعتراض كا سب سے پہلے جواب ديا(يا پہلے اعتراض كو بالكل جواب كے لائق ہى نہيں سمجھا كيونكہ كسى كا كسى كى پرورش كرنا اس بات كى دليل نہيں بن جاتا كہ اگر وہ گمراہ ہوتو اسے راہ راست كى بھى ہدايت نہ كى جائے)_

بہر حال جناب موسى عليہ السلام نے فرمايا:''ميں نے يہ كام اس وقت انجام ديا جب كہ ميں بے خبر لوگوں ميں سے تھا''_(۱)

يعنى ميں نے اسے جو مكا مارا تھا وہ اسے جان سے ماردينے كى غرض نہيں بلكہ مظلوم كى حمايت كے طور پر تھا ،ميں تو نہيں سمجھتا تھا كہ اس طرح اس كى موت واقع ہوجائے گي_

پھر موسى عليہ السلام فرماتے ہيں :''اس حادثے كى وجہ سے جب ميں نے تم سے خوف كيا تو تمہارے پاس سے بھاگ گيا اور ميرے پروردگارنے مجھے دانش عطا فرمائي اور مجھے رسولوں ميں سے قرار ديا''_(۲)

پھر موسى عليہ السلام اس احسان كا جواب ديتے ہيں جو فرعون نے بچپن اور لڑكپن ميں پرورش كى صورت ميں ان پر كيا تھادو ٹوك انداز ميں اعتراض كى صورت ميں فرماتے ہيں :''تو كيا جو احسان تو نے مجھ پر كيا ہے يہى ہے كہ تو بنى اسرائيل كو اپنا غلام بنالے''_(۳)

يہ ٹھيك ہے كہ حوادث زمانہ نے مجھے تيرے محل تك پہنچاديا اور مجھے مجبوراًتمھارے گھر ميں پرورش پانا پڑى اور اس ميں بھى خدا كى قدرت نمائي كار فرما تھى ليكن ذرا يہ تو سوچو كہ آخر ايسا كيوں ہوا؟كيا وجہ ہے كہ ميں نے اپنے باپ كے گھر ميں اور ماں كى آغوش ميں تربيت نہيں پائي؟ آخر كس ليے؟

كيا تو نے بنى اسرائيل كو غلامى كى زنجيروں ميں نہيں جكڑ ركھا؟يہاں تك كہ تو نے اپنے خودساختہ قوانين كے تحت ان كے لڑكوں كو قتل كرديا اور ان كى لڑكيوں كو كنيز بنايا_

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۲۰

(۲)سورہء شعراء آيت۲۱

(۳)سورہ شعراء آيت۲۲

۳۰۹

تيرے بے حدوحساب مظالم اس بات كا سبب بن گئے كہ ميرى ماں اپنے نو مولود بچے كى جان بچانے كى غرض سے مجھے ايك صندوق ميں ركھ كر دريائے نيل كى بے رحم موجوں كے حوالے كردے اور پھر منشائے ايزدى يہى تھا كہ ميرى چھوٹى سى كشتى تمھارے محل كے نزديك لنگر ڈال دے_ہاں تو يہ تمہارے بے اندازہ مظالم ہى تھے جن كى وجہ سے مجھے تمھارا مرہون منت ہونا پڑا اور جنھوں نے مجھے اپنے باپ كے مقدس اور پاكيزہ گھر سے محروم كركے تمھارے آلودہ محل تك پہنچاديا_

ديوانگى كى تہمت

جب موسى عليہ السلام نے فرعون كو دوٹوك اور قاطع جواب دے ديا جس سے وہ لا جواب اور عاجز ہوگيا تو اس نے كلام كا رخ بدلا اور موسى عليہ السلام نے جو يہ كہا تھا''ميں رب العالمين كا رسول ہوں ''تو اس نے اسى بات كو اپنے سوال كا محور بنايا اور كہا يہ رب العالمين كيا چيز ہے؟(۱)

بہت بعيد ہے كہ فرعون نے و اقعاًيہ بات مطلب كے لئے كى ہو بلكہ زيادہ تر يہى لگتا ہے كہ اس نے تجاہل عارفانہ سے كام ليا تھا اور تحقير كے طور پر يہ بات كہى تھي_

ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے بيدار اور سمجھ دارافراد كى طرح اس كے سوا اور كوئي چارہ نہ ديكھا كہ گفتگو كو سنجيدگى پر محمول كريں اور سنجيدہ ہوكر اس كا جواب ديں اور چونكہ ذات پروردگار عالم انسانى افكار كى دسترس سے باہر ہے لہذا انھوں نے مناسب سمجھا كہ اس كے آثار كے ذريعے استدلال قائم كريں لہذا انھوں نے آيات آفاقى كا سہارا ليتے ہوئے فرمايا:''(خدا)آسمانوں اور زمين اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پر وردگار ہے اگر تم يقين كا راستہ اختيار كرو''_(۲)

اتنے وسيع و عريض اور باعظمت آسمان و زمين اور كائنات كى رنگ برنگى مخلوق جس كے سامنے تو اور تيرے چاہنے اور ماننے والے ايك ذرہ ناچيز سے زيادہ كى حيثيت نہيں ركھتے، ميرے پروردگار كى آفرينش

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۲۳

(۲)سورہ شعراء آيت ۲۴

۳۱۰

ہے اور ان اشياء كا خالق ومدبر اور ناظم ہى عبادت كے لائق ہے نہ كہ تيرے جيسى كمزور اور ناچيز سى مخلوق_

ليكن عظيم آسمانى معلم كے اس قدر محكم بيان اورپختہ گفتگو كے بعد بھى فرعون خواب غفلت سے بيدار نہ ہوا اس نے انپے ٹھٹھے مذاق اور استہزاء كو جارى ركھا اور مغرور مستكبرين كے پرانے طريقہ كار كو اپناتے ہوئے ''اپنے اطراف ميں بيٹھنے والوں كى طرف منہ كركے كہا: كيا سن نہيں رہے ہو(كہ يہ شخص كيا كہہ رہا ہے)''_(۱)

معلوم ہے كہ فرعون كے گردكون لوگ بيٹھے ہيں اسى قماش كے لوگ تو ہيں _صاحبان زوراور زرہيں يا پھرظالم اور جابر كے معاون _

وہاں پر فرعون كے اطراف ميں پانچ سوآدمى موجود تھے،جن كا شمار فرعون كے خواص ميں ہوتا تھا_

اس طرح كى گفتگو سے فرعون يہ چاہتا تھا كہ موسى عليہ السلام كى منطقى اور دلنشين گفتگو اس گروہ كے تاريك دلوں ميں ذرہ بھر بھى اثر نہ كرے اور لوگوں كو يہ باور كروائے كہ انكى باتيں بے ڈھنگى اور ناقابل فہم ہيں _

مگر جناب موسى عليہ السلام نے اپنى منطقى اور جچى تلى گفتگو كو بغير كسى خوف وخطر كے جارى ركھتے ہوئے فرمايا:''تمہارا بھى رب ہے اور تمھارے آباء واجداد كا رب ہے''_(۲)

درحقيقت بات يہ ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے پہلے تو آفاقى آيات كے حوالے سے استدلال كيا اب يہاں پر'' آيات انفس''اور خود انسان كے اپنے وجود ميں تخليق خالق كے اسرار اور انسانى روح اور جسم ميں خداوند عالم كى ربوبيت كے آثار كى طرف اشارہ كررہے ہيں تاكہ وہ عاقبت نا انديش مغرور كم از كم اپنے بارے ميں تو كچھ سوچ سكيں خود كو اور پھر اپنے خدا كو پہچان سكيں _

ليكن فرعون اپنى ہٹ دھرمى سے پھر بھى باز نہ آيا،اب استہزاء اور مسخرہ پن سے چند قدم آگے بڑھ

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۳۵

(۲)سورہ شعراء آيت ۲۶

۳۱۱

جاتا ہے اور موسى عليہ السلام كو جنون اور ديوانگى كا الزام ديتا ہے چنانچہ اس نے كہا:''جو پيغمبر تمھارى طرف آيا ہے بالكل ديوانہ ہے''_(۱)

وہى تہمت جو تاريخ كے ظالم اور جابر لوگ خدا كے بھيجے ہوئے مصلحين پر لگاتے رہتے تھے_

يہ بھى لائق توجہ ہے كہ يہ مغرور فريبى اس حد تك بھى روادارنہ تھا كہ كہے''ہمارا رسول''اور'' ہمارى طرف بھيجا ہوا ''بلكہ كہتا ہے''تمہارا پيغمبر''اور ''تمھارى طرف بھيجا ہوا'' كيونكہ''تمہارا پيغمبر''ميں طنز اور استہزاء پايا جاتا ہے او رساتھ ہى اس ميں غرور اور تكبر كا پہلو بھى نماياں ہے كہ ميں اس بات سے بالا تر ہوں كہ كوئي پيغمبر مجھے دعوت دينے كے لئے آئے اور موسى عليہ السلام پر جنون كى تہمت لگانے سے اس كا مقصد يہ تھا كہ جناب موسى عليہ السلام كے جاندار دلائل كو حاضرين كے اذہان ميں بے اثر بنايا جائے_

ليكن يہ ناروا تہمت موسى عليہ السلا م كے بلند حوصلوں كو پست نہيں كر سكى اور انھوں نے تخليقات عالم ميں آثار الہى اور آفاق و انفس كے حوالے سے اپنے دلائل كو برابر جارى ركھا اور كہا:''وہ مشرق ومغرب اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پروردگار ہے اگر تم عقل وشعور سے كام لو''_(۲)

اگر تمہارے پاس مصر نامى محدود سے علاقے ميں چھوٹى سى ظاہرى حكومت ہے توكيا ہوا؟ميرے پروردگار كى حقيقى حكومت تو مشرق و مغرب اور اس كے تمام درميانى علاقے پر محيط ہے اور اس كے آثار ہر جگہ موجودات عالم كى پيشانى پر چمك رہے ہيں اصولى طور پر خود مشرق و مغرب ميں آفتاب كا طلوع و غروب اور كائنات عالم پر حاكم نظام شمسى ہى اس كى عظمت كى نشانياں ہيں ، ليكن عيب خود تمہارے اندر ہے كہ تم عقل سے كام نہيں ليتے بلكہ تمہارے اندر سوچنے كى عادت ہى نہيں ہے_(۳)

درحقيقت يہاں پر حضرت موسى عليہ اسلام نے اپنى طرف جنون كى نسبت كا بڑے اچھے انداز ميں جواب ديا ہے_ دراصل وہ يہ كہنا چاہتے ہيں كہ ديوانہ ميں نہيں ہوں بلكہ ديوانہ اور بے عقل وہ شخص ہے جو

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۲۷

(۲)سورہ شعراء آيت۲۸

(۳)سورہ شعراء آيت۲۸

۳۱۲

اپنے پروردگار كے ان تمام آثار اور نشانات كو نہيں ديكھتا _

عالم وجود كے ہر دروديوار پر ذات پروردگار كے اس قدر عجيب وغريب نقوش موجود ہيں پھر بھى جو شخص ذات پروردگار كے بارے ميں نہ سوچے اسے خود نقش ديوار ہوجانا چاہئے _

ان طاقتور دلائل نے فرعون كو سخت بوكھلاديا، اب اس نے اسى حربے كا سہارا ليا جس كا سہارا ہربے منطق اور طاقتور ليتا ہے اور جب وہ دلائل سے عاجزہوجاتاہے تو اسے آزمانے كى كوشش كرتاہے_

'' فرعون نے كہا: اگر تم نے ميرے علاوہ كسى اور كو معبود بنايا تو تمہيں قيديوں ميں شامل كردوں گا''_(۱) ميں تمہارى اور كوئي بات نہيں سننا چاہتا ميں تو صرف ايك ہى عظيم الہ اور معبوے كو جانتاہوں اور وہ ميں خود ہوں اگر كوئي شخص اس كے علاوہ كہتا ہے تو بس سمجھ لے كہ اس كى سزا يا تو موت ہے يا عمر قيد جس ميں زندگى ہى ختم ہوجائے_

درحقيقت فرعون چاہتا تھا كہ اس قسم كى تيزوتند گفتگو كركے موسى عليہ السلام كو ہراساں كرے تاكہ وہ ڈركر چپ ہوجائيں كيونكہ اگر بحث جارى رہے گى تو لوگ اس سے بيدار ہوں گے اور ظالم وجابر لوگوں كے لئے عوام كى بيدارى اور شعور سے بڑھ كر كوئي اور چيز خطر ناك نہيں ہوتى _

تمہارا ملك خطرے ميں ہے

گزشتہ صفحات ميں ہم نے ديكھ ليا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے منطق اور استدلال كى روسے فرعون پر كيونكر اپنى فوقيت اوربر ترى كا سكہ منواليا اور حاضرين پر ثابت كرديا كہ ان كا خدائي دين كس قدر عقلى ومنطقى ہے اور يہ بھى واضح كرديا كہ فرعون كے خدائي دعوے كس قدر پوچ اور عقل وخردسے عار ى ہيں كبھى تو وہ استہزاء كرتا ہے ،كبھى جنون اور ديوانگى كى تہمت لگاتاہے اور آخر كار طاقت كے نشے ميں آكر قيدوبند اور موت كى دھمكى ديتا ہے _

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۲۹

۳۱۳

اس موقع پر گفتگو كارخ تبديل ہوجاتاہے اب جناب موسى كو ايسا طريقہ اختيار كرنا چاہئے تھا جس سے فرعون كى ناتوانى ظاہر ہوجائے _

موسى عليہ السلام كو بھى كسى طاقت كے سہارے كى ضرورت تھى ايسى خدائي طاقت جس كے معجزانہ اندازہوں ، چنانچہ آپ فرعون كى طرف منہ كركے فرماتے ہيں :'' آيا اگر ميں اپنى رسالت كے لئے واضح نشانى لے آئوں پھر بھى تو مجھے زندان ميں ڈالے گا ''_(۱)

اس موقع پر فرعون سخت مخمصے ميں پڑگيا، كيونكہ جناب موسى عليہ السلام نے ايك نہايت ہى اہم اور عجيب وغريب منصوبے كى طرف اشارہ كركے حاضرين كى توجہ اپنى طرف مبذول كرالى تھى اگر فرعون ان كى باتوں كو ان سنى كر كے ٹال ديتا تو سب حاضرين اس پر اعتراض كرتے اور كہتے كہ موسى كو وہ كام كرنے كى اجازت دى جائے اگر وہ ايسا كرسكتا ہے تو معلوم ہوجائے گا اور اس سے مقابلہ نہيں كيا جاسكے گا اور اگر ايسا نہيں كرسكتا تو بھى اس كى شخيى آشكار ہوجائے گى بہرحال موسى عليہ السلام كے اس دعوے كو آسانى سے مسترد نہيں كيا جاسكتا تھا آخركار فرعون نے مجبور ہوكر كہا'' اگر سچ كہتے ہو تو اسے لے آئو''(۲)

''اسى دوران ميں موسى عليہ السلام نے جو عصا ہاتھ ميں ليا ہوا تھا زمين پر پھينك ديا اور وہ (خدا كے حكم سے ) بہت بڑا اور واضح سانپ بن گيا''_(۳)

''پھر اپنا ہاتھ آستين ميں لے گئے اور باہر نكالا تو اچانك وہ ديكھنے والوں كے لئے سفيد اور چمك دار بن چكا تھا''_(۴) در حقيقت يہ دو عظيم معجزے تھے ايك خوف كا مظہر تھا تو دوسرا اميد كا مظہر، پہلے ميں انذار كا پہلو تھا تو دوسرے ميں بشارت كا ،ايك خدائي عذاب كى علامت تھى تو دوسرا نور اور رحمت كى نشانى ،كيونكہ معجزے كو پيغمبر خدا كى دعوت كے مطابق ہونا چاہئے_

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۳۱

(۲)سورہ شعراء آيت ۳۱

(۳)سورہ شعراء آيت ۳۲

(۴)سورہ شعراء آيت ۳۳

۳۱۴

فرعون نے جب صورت حال ديكھى تو سخت بوكھلا گيا اور وحشت كى گہرى كھائي ميں جاگرا ،ليكن اپنے شيطانى اقتدار كو بچانے كے لئے جو موسى عليہ السلام كے ظہور كے ساتھ متزلزل ہوچكا تھا اس نے ان معجزات كى توجيہ كرنا شروع كردى تاكہ اس طرح سے اطراف ميں بيٹھنے والوں كے عقائد محفوظ اور ان كے حوصلے بلند كرسكے اس نے پہلے تو اپنے حوارى سرداروں سے كہا: ''يہ شخص ماہر اور سمجھ دار جادو گر ہے''_(۱)

جس شخص كو تھوڑى دير پہلے تك ديوانہ كہہ رہا تھا اب اسے '' عليم'' كے نام سے ياد كررہا ہے، ظالم اور جابر لوگوں كا طريقہ كار ايسا ہى ہوتا ہے كہ بعض اوقات ايك ہى محفل ميں كئي روپ تبديل كرليتے ہيں اور اپنى انا كى تسكين كے لئے نت نئے حيلے تراشتے رہتے ہيں _

اس نے سوچا چونكہ اس زمانے ميں جادوكادور دورہ ہے لہذا موسى عليہ السلام كے معجزات پر جادو كا ليبل لگا ديا جائے تاكہ لوگ اس كى حقانيت كو تسليم نہ كريں _

پھر اس نے لوگوں كے جذبات بھڑكانے اور موسى عليہ السلام كے خلاف ان كے دلوں ميں نفرت پيدا كرنے كے لئے كہا : ''وہ اپنے جادو كے ذريعے تمہيں تمہارے ملك سے نكالنا چاہتا ہے،تم لوگ اس بارے ميں كيا سوچ رہے ہو اور كيا حكم ديتے ہو ''_(۲)

يہ وہى فرعون ہے جو كچھ دير پہلے تك تمام سرزمين مصر كو اپنى ملكيت سمجھ رہا تھا'' كيا سرزمين مصر پر ميرى حكومت اور مالكيت نہيں ہے ؟''اب جبكہ اسے اپنا راج سنگھا سن ڈوبتا نظرآرہا ہے تو اپنى حكومت مطلقہ كو مكمل طور پر فراموش كر كے اسے عوامى ملكيت كے طور پر ياد كركے كہتا ہے '' تمہارا ملك خطرات ميں گھر چكا ہے اسے بچانے كى سوچو''_وہى فرعون جو ايك لحظہ قبل كسى كى بات سننے پر تيار نہيں تھا بلكہ ايك مطلق العنان آمر كى حيثيت سے تخت حكومت پر براجمان تھا اب اس حد تك عاجز اور درماندہ ہوچكا ہے كہ اپنے اطرافيوں سے درخواست كررہا ہے كہ تمہارا كيا حكم ہے نہايت ہى عاجز اور كمزور ہوكر التجا كررہا ہے _

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۳۴

(۲)سورہ شعراء آيت۳۵

۳۱۵

قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ اس كے دربارى باہمى طور پر مشور ہ كرنے ميں لگ گئے وہ اس قدر حواس باختہ ہوچكے تھے كہ سوچنے كى طاقت بھى ان سے سلب ہوگئي تھى ہر كوئي دوسرے كى طرف منہ كركے كہتا :

''تمہارى كيا رائے ہے ؟''(۱)

بہرحال كافى صلاح مشورے كے بعد درباريوں نے فرعون سے كہا :'' موسى اور اس كے بھائي كو مہلت دو اور اس بارے ميں جلدى نہ كرو اور تمام شہروں ميں ہركارندے روانہ كردو،تاكہ ہر ماہر اور منجھے ہوئے جادو گر كو تمہارے پاس لے آئيں ''_(۲)

در اصل فرعون كے دربارى يا تو غفلت كا شكار ہوگئے يا موسى عليہ السلام پر فرعون كى تہمت كو جان بوجھ كر قبول كرليا اور موسى كو'' ساحر'' (جادوگر) سمجھ كر پروگرام مرتب كيا كہ ساحر كے مقابلے ميں '' سحار'' يعنى ماہر اور منجھے ہوئے جادو گروں كو بلايا جائے چنانچہ انھوں نے كہا : ''خوش قسمتى سے ہمارے وسيع وعريض ملك (مصر) ميں فن جادو كے بہت سے ماہر استاد موجود ہيں اگر موسى ساحر ہے تو ہم اس كے مقابلے ميں سحار لاكھڑا كريں گے اور فن سحر كے ايسے ايسے ماہرين كو لے آئيں گے جو ايك لمحہ ميں موسى كا بھرم كھول كر ركھ ديں گے''_

ہر طرف سے جادو گر پہنچ گئے

فرعون كے درباريوں كى تجويز كے بعد مصر كے مختلف شہروں كى طرف ملازمين روانہ كرديئےئے اورانھوں نے ہر جگہ پر ماہر جادو گروں كى تلاش شروع كردى '' آخر كار ايك مقررہ دن كى ميعادكے مطابق جادو گروں كى ايك جماعت اكٹھا كرلى گئي ''(۳)

دوسرے لفظوں ميں انھوں نے جادوگروں كو اس روزكے لئے پہلے ہى سے تيار كرليا تاكہ ايك مقرر دن مقابلے كے لئے پہنچ جائيں _

____________________

(۱)سورہ اعراف آيت ۱۱۰

(۲) سورہ شعراء ۳۶ تا ۳۶

(۳)سورہ شعراء آيت ۳۸

۳۱۶

''يوم معلوم '' سے كيا مراد ہے ؟جيسا كہ سورہ اعراف كى آيات سے معلوم ہوتا ہے مصريوں كى كسى مشہور عيد كا دن تھا جسے موسى عليہ السلام نے مقابلے كے لئے مقرر كيا تھا اور اس سے ان كا مقصد يہ تھا كہ اس دن لوگوں كو فرصت ہوگى اور وہ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں گے كيونكہ انھيں اپنى كاميابى كا مكمل يقين تھا اور وہ چاہتے تھے كہ آيات خداوندى كى طاقت اور فرعون اور اس كے ساتھيوں كى كمزورى اور پستى پورى دنيا پر آشكار ہوجائے ''اور زيادہ سے زيادہ لوگوں سے كہا گيا كہ آيا تم بھى اس ميدان ميں اكٹھے ہوگے؟(۱)

اس طرزبيان سے معلوم ہوتا ہے كہ فرعون كے كارندے اس سلسلے ميں سوچى سمجھى ا سكيم كے تحت كام كررہے تھے انھيں معلوم تھا كہ لوگوں كو زبردستى ميدان ميں لانے كى كوشش كى جائے تو ممكن ہے كہ اس كا منفى رد عمل ہو، كيونكہ ہر شخص فطرى طور پر زبردستى كو قبول نہيں كرتا لہذا انھوں نے كہا اگر تمہارى جى چاہے تو اس اجتماع ميں شركت كرو اس طرح سے بہت سے لوگ اس اجتماع ميں شريك ہوئے _

لوگوں كو بتايا گيا'' مقصد يہ ہے كہ اگر جادو گر كامياب ہوگئے كہ جن كى كاميابى ہمارے خدائوں كى كاميابى ہے تو ہم ان كى پيروى كريں گے ''(۲) اور ميدان كو اس قدر گرم كرديں گے كہ ہمارے خدائوں كا دشمن ہميشہ ہميشہ كے لئے ميدان چھوڑجائے گا _

واضح ہے كہ تماشائيوں كا زيادہ سے زيادہ اجتماع جو مقابلے كے ايك فريق كے ہمنوا بھى ہوں ايك طرف توان كى دلچسپى كا سبب ہوگا اور ان كے حوصلے بلند ہوں گے اور ساتھ ہى وہ كاميابى كے لئے زبردست كوشش بھى كريں گے اوركاميابى كے موقع پر ايسا شور مچائيں گے كہ حريف ہميشہ كے لئے گوشئہ گمنامى ميں چلاجائے گا اور اپنى عددى كثرت كى وجہ سے مقابلے كے آغاز ميں فريق مخالف كے دل ميں خوف وہراس اور رعب ووحشت بھى پيدا كرسكيں گے_

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۳۹

(۲)سورہ شعراء آيت۴۰

۳۱۷

يہى وجہ ہے كہ فرعون كے كارندے كوشش كررہے تھے كہ لوگ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں موسى عليہ السلام بھى ايسے كثيراجتماع كى خدا سے دعا كررہے تھے تاكہ اپنا مدعا اور مقصد زيادہ سے زيادہ لوگوں تك پہنچا سكيں _

يہ سب كچھ ايك طرف، ادھر جب جادو گر فرعون كے پاس پہنچے اور اسے مشكل ميں پھنسا ہوا ديكھا تو موقع مناسب سمجھتے ہوئے اس سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھانے اور بھارى انعام وصول كرنے كى غرض سے اس سے كہا :'' اگر ہم كامياب ہوگئے تو كيا ہمارے لئے كوئي اہم صلہ بھى ہوگا ؟''(۱)

فرعون جو برى طرح پھنس چكا تھا اور اپنے لئے كوئي راہ نہيں پاتاتھا انھيں زيادہ سے زيادہ مراعات اور اعزاز دينے پر تيار ہوگيا اس نے فورا ًكہا: : ''ہاں ہاں جو كچھ تم چاہتے ہوميں دوں گا اس كے علاوہ اس صورت ميں تم ميرے مقربين بھى بن جائوگے''_(۲)

در حقيقت فرعون نے ان سے كہا :تم كيا چاہتے ہو؟ مال ہے يا عہدہ: ميں يہ دونوں تمہيں دوں گا _

اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس ماحول اورزمانے ميں فرعون كا قرب كس حد تك اہم تھا كہ وہ ايك عظيم انعام كے طور پر اس كى پيش كش كررہا تھا درحقيقت اس سے بڑھ كر اور كوئي صلہ نہيں ہوسكتا كہ انسان اپنے مطلوب كے زيادہ نزديك ہو_

جادو گروں كا عجيب وغريب منظر

جب جادوگروں نے فرعون كے ساتھ اپنى بات پكى كرلى اور اس نے بھى انعام، اجرت اور اپنى بارگاہ كے مقرب ہونے كا وعدہ كركے انھيں خوش كرديا اور وہ بھى مطمئن ہوگئے تواپنے فن كے مظاہرے اور اس كے اسباب كى فراہمى كے لئے تگ ودوكرنى شروع كردي، فرصت كے ان لمحات ميں انھوں نے بہت سى رسياں اور لاٹھياں اكٹھى كرليں اور بظاہر ان كے اندر كو كھوكھلاكر كے ان ميں ايسا كوئي كيميكل مواد (پارہ وغيرہ

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۴۱

(۲)سورہ شعراء آيت ۴۲

۳۱۸

كى مانند)بھر ديا جس سے وہ سورج كى تپش ميں ہلكى ہوكر بھاگنے لگتى _

آخركاروعدے كا دن پہنچ گيا اور لوگوں كا اكثير مجمع ميدان ميں جمع ہوگيا تاكہ وہ اس تاريخى مقابلے كو ديكھ سكيں ،فرعون اور اس كے درباري، جادوگر اور موسى عليہ السلام اور ان كے بھائي ہارون عليہ السلام سب ميدان ميں پہنچ گئے _

ليكن حسب معمول قرآن مجيد اس بحث كو خدف كركے اصل بات كو بيان كرتا ہے _

يہاں پر بھى اس تاريخ ساز منظر كى تصوير كشى كرتے ہوئے كہتا ہے :''موسى نے جادو گروں كى طرف منہ كركے كہا :جو كچھ پھينكنا چاہتے ہو پھينكو اور جو كچھ تمہارے پاس ہے ميدان ميں لے آئو ''_(۱)

قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے يہ بات اس وقت كى جب جادوگروں نے ان سے كہا:'' آپ پيش قدم ہوكر اپنى چيز ڈاليں گے يا ہم ؟''(۲)

موسى عليہ السلام كى يہ پيش كش درحقيقت انھيں اپنى كاميابى پر يقين كى وجہ سے تھى اوراس بات كى مظہر تھى كہ فرعون كے زبردست حاميوں اور دشمن كے انبوہ كثير سے وہ ذرہ برابر بھى خائف نہيں ،چنانچہ يہ پيش كش كركے آپ نے جادوگروں پر سب سے پہلا كامياب وار كيا جس سے جادو گروں كو بھى معلوم ہوگيا كہ موسى عليہ السلام ايك خاص نفسياتى سكون سے بہرہ مند ہيں اور وہ كسى ذات خاص سے لولگائے ہوئے ہيں كہ جوان كا حوصلہ بڑھارہى ہے _

جادو گر تو غرور ونخوت كے سمندر ميں غرق تھے انھوں نے اپنى انتہائي كوششيں اس كام كے لئے صرف كردى تھيں اور انھيں اپنى كاميابى كا بھى يقين تھا'' لہذانھوں نے اپنى رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينك ديں اور كہافرعون كى عزت كى قسم ہم يقينا كامياب ہيں ''_(۳)

جى ہاں :انھوں نے دوسرے تمام چاپلوسيوں خوشامديوں كى مانند فرعون كے نام سے شروع كيا اور

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۴۳

(۲)سورہ اعراف آيت۱۱۵

(۳)سورہ شعراء آيت۴۴

۳۱۹

اس كے كھوكھلے اقتدار كا سہاراليا _

جيسا كہ قرآن مجيد ايك اور مقام پر كہتا ہے :

'' اس موقع پر انھوں نے جب رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينكيں تو وہ چھوٹے بڑے سانپوں كى طرح زمين پر حركت كرنے لگيں ''_(۱)

انھوں نے اپنے جادو كے ذرائع ميں سے لاٹھيوں كا انتخاب كيا ہوا تھا تاكہ وہ بزعم خود موسى كى عصا كى برابرى كرسكيں اور مزيد برترى كے لئے رسيوں كو بھى ساتھ شامل كرليا تھا _

اسى دوران ميں حاضرين ميں خوشى كى لہر دوڑگئي اور فرعون اور اس كے درباريوں كى آنكھيں خوشى كے مارے چمك اٹھيں اور وہ مارے خوشى كے پھولے نہيں سماتے تھے يہ منظر ديكھ كر ان كے اندر وجدو سرور كى كيفيت پيدا ہوگئي اور وہ جھوم رہے تھے _ چنانچہ بعض مفسرين كے قول كے مطابق ان ساحروں كى تعداد كئي ہزار تھى نيز ان كے وسائل سحر بھى ہزاروں كى تعداد ميں تھے چونكہ اس زمانے ميں مصر ميں سحرو ساحرى كا كافى زور تھا اس بناپر اس بات پر كوئي جائے تعجب نہيں ہے _

خصوصاً جيسا كہ قران(۲) كہتا ہے كہ :

وہ منظر اتنا عظيم ووحشتناك تھا كہ حضرت موسى نے بھى اس كى وجہ سے اپنے دل ميں كچھ خوف محسوس كيا _

اگرچہ نہج البلاغہ ميں اس كى صراحت موجود ہے كہ حضرت موسى كو اس بات كا خوف لاحق ہو گيا تھا كہ ان جادوگروں كو ديكھ كر لوگ اس قدر متاثر نہ ہوجائيں كہ ان كو حق كى طرف متوجہ كرنا دشوار ہوجائے بہرصورت يہ تمام باتيں اس بات كى مظہر ہيں كہ اس وقت ايك عظيم معركہ درپيش تھا جسے حضرت موسى عليہ السلام كو بفضل الہى سركرنا تھا_

____________________

(۱)سورہ طہ آيت ۶۶

(۲) سورہ طہ اايت ۶۷

۳۲۰