قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 25784
ڈاؤنلوڈ: 1379

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 25784 / ڈاؤنلوڈ: 1379
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

درحقيقت حضرت موسى عليہ السلام يہ سوچ رہے تھے كہ يہ عدل تو نہيں كہ انسان ان لوگوں سے ايثار كا سلوك كرے كہ جو اس قدر فرومايہ اور كم ظرف ہوں _دوسرے لفظوں ميں نيكى اچھى چيز ہے مگر جب محل پر ہو، يہ ٹھيك ہے كہ برائي كے جواب ميں نيكى كرنا مردان خدا كا طريقہ ہے ليكن وہاں كہ جہاں بروں كے لئے برائي كى تشويق كا باعث نہ ہو ''

فراق دوست ،زندگى كے سخت ترين ايام

اس موقع پر اس عالم بزرگوار نے حضرت موسى سے آخرى بات كہى كيونكہ گزشتہ تمام واقعات كى بناء پر انہيں يقين ہوگيا تھا كہ موسى ان كے كاموں كو برداشت نہيں كرسكتے لہذا فرمايا :'' لواب تمہارے اور ميرے درميان جدائي كا وقت آگيا ہے جلد ميں تمہيں ان امور كے اسرار سے آگاہ كروں گا كہ جن پر تم صبر نہ كرسكے''_(۱)

حضرت موسى نے بھى اس پر كوئي اعترا ض نہ كيا كيونكہ گزشتہ واقعے ميں يہى بات وہ خود تجويز كر چكے تھے يعنى خود حضرت موسى پر يہ حقيقت ثابت ہوچكى تھى كہ ان كا نباہ نہيں ہوسكتا ليكن پھر بھى جدائي كى خبر موسى كے دل پر ہتھوڑے كى ضرب كى طرح لگى ايسے استاد سے جدائي كہ جس كا سينہ مخزن اسرار ہو، جس كى ہمراہى باعث بركت ہو اور جس كى ہر بات ايك درس ہو، جس كا طرز عمل الہام بخش ہو، جس كى پيشانى سے نور خدا ضوفشاں ہو اور جس كا دل علم الہى كا گنجينہ ہو ايسے رہبر سے جدائي باعث رنج وغم تھى ليكن يہ ايك ايسى تلخ حقيقت تھى جو موسى كو بہرحال قبول كرنا تھى _

مشہور مفسر''ابوالفتوح رازي'' كہتے ہيں كہ ايك روايت منقول ہے :

لوگوں نے حضرت موسى سے پوچھا: آپ كى زندگى ميں سب سے بڑى مشكل كونسى تھي؟

حضرت موسى (ع) نے كہا : ميں نے بہت سختياں جھيلى ہيں (فرعون كے دور كى سختياں اور پھر بنى اسرائيل

____________________

(۱)سورہ كہف آيت ۷۸

۴۰۱

كے دور كى مشكلات كى طرف اشارہ ہے ) ليكن كسى مشكل اور رنج نے ميرے دل كو اتنا رنجور نہيں كيا جتنا حضرت خضرسے جدائي كى خبر نے _

ان واقعات كاراز

جب حضرت موسى اور حضرت خضر كا جدا ہونا طے پاگيا تو ضرورى تھا كہ يہ الہى استاد اپنے ان كاموں كے اسرار ظاہر كرے كہ حضرت موسى جنھيں گوارانہيں كرپائے تھے درحقيقت ان سے ہمراہى كا فائدہ حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہى تھا كہ وہ ان تين عجيب واقعات كا راز سمجھ ليں اور يہى راز بہت سے مسائل كى تفہيم كے لئے كليدبن سكتا تھا اور مختلف سوالوں كا جواب اس ميں پنہاں تھا _

حضرت خضر(ع) نے كشتى والے واقعے سے بات شروع كى اور كہنے لگے : ''ہاں ، تووہ كشتى والى بات يہ تھى كہ وہ چند غريب ومسكين افرادكى ملكيت تھى وہ اس سے دريا ميں كام كرتے تھے ميں نے سوچا كہ اس ميں كوئي نقص ڈال دوں كيونكہ ميں جانتا تھا كہ ايك ظالم بادشاہ ان كے پيچھے ہے اور وہ ہر صحيح سالم كشتى كو زبردستى ہتھياليتا ہے''_(۱)

گويا كشتى ميں سوارخ كرنا ظاہرا تو برالگتا تھا ليكن اس كام ميں ايك اہم مقصد پوشيدہ تھا اور وہ تھا كشتى كے غريب مالكوں كو ايك غاصب بادشاہ كے ظلم سے بچانا كيونكہ اس كے نزديك عيب دار كشتياں اس كے كام كى نہ تھيں اور ايسى كشتيوں پروہ قبضہ نہيں جماتا تھا خلاصہ يہ كہ يہ كام چند مسكينوں كے مفاد كى حفاظت كے لئے تھا اور اسے انجام پاناہى چاہئے تھا _

اس كے بعد حضرت خضر(ع) لڑكے قتل كے مسئلے كى طرف آتے ہيں كہتے ہيں : ''رہاوہ لڑكا، تو اس كے ماں باپ صاحب ايمان تھے ہميں يہ بات اچھى نہ لگى كہ وہ اپنے ماں باپ كو راہ ايمان سے بھٹكادے اور سركشى وكفر پر ابھارے _''(۲)

____________________

(۱)سورہ كہف آيت۷۹

(۲)سورہ كہف آيت۸۰

۴۰۲

بہرحال اس عالم نے اس لڑكے كو قتل كرديا اور اس لڑكے كے زندہ رہنے كى صورت ميں اس كے ماں باب كو آئندہ جو ناگوار واقعات پيش آنے والے تھے انہيں اس قتل كى دليل قرار ديا _

اس كے بعد مزيد فرمايا گيا ہے : ''ہم نے چاہا كہ ان كارب ان كو اس كے بدلے زيادہ پاك اور زيادہ پر محبت اولاد عطا فرمائے _''(۱)

آخرى اور تيسرے كام يعنى ديوار بنانے كے واقعے كا جواب ہے ،اس عالم نے اس واقعے كے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے كہا: رہى ديواركى بات _تو وہ اس شہر كے دو يتيم بچوں كى تھى اس ديوار كے نيچے ان كا خزانہ چھپا ہوا تھا اور ان كا باپ ايك نيك اور صالح شخص تھا ،تيرا پروردگار چاہتا تھا كہ وہ بالغ ہوجائيں اور اپنا خزانہ نكال ليں ،يہ تو تيرے رب كى طرف سے رحمت تھے_

اور ان كے نيك ماں باپ كى وجہ سے ميں مامور تھا كہ اس ديوار كو تعمير كروں كہ كہيں وہ گرنہ جائے اور خزانہ ظاہر ہوكر خطرے سے دوچار نہ ہوجائے_(۲)

لہذا انہوں نے كہا : اور ميں نے يہ كام خود سے نہيں كئے بلكہ اللہ كے حكم تحت انجام ديئے _(۳)

جى ہاں : يہ تھے ان كاموں كے راز كہ جن پرصبر كى تم ميں تاب نہيں تھى _(۴)(۵)

____________________

(۱)سورہ كہف آيت ۸۱

(۲)سورہ كہف آيت۸۲

(۳)سورہ كہف آيت۸۲

(۴)سورہ كہف آيت۸۲

(۵)خضر كى ماموريت تشريعى تھى يا تكوينى ؟

يہ وہ اہم ترين مسئلہ ہے جس نے بزرگ علماء كو اپنى طرف متوجہ كيا ہے تين واقعات كہ جو اس عالم كے ہاتھوں انجام پائے ان پر حضرت موسى نے اعتراض كيا كيونكہ وہ باطن امر سے آگاہ نہ تھے ليكن بعد ميں استاد نے وضاحت كى تو مطمئن ہوگئے _ سوال يہ ہے كہ كيا واقعاً كسى كے مال ميں اس كى اجازت كے بغير نقص پيدا كيا جاسكتا ہے، كہ غاصب اسے لے نہ جائے _ اور كيا كسى لڑكے كو اس كام پر سزادى جاسكتى ہے جو وہ آئندہ ميں انجام دے گا؟ اور كيا ضرورى ہے كہ كسى كے مال كى حفاظت كے لئے ہم مفت زحمت برداشت كريں _؟

۴۰۳

ان سوالات كے جواب ميں ہمارے سامنے دوراستے ہيں : پہلايہ كہ ان امور كو ہم فقہى احكام اور شرعى قوانين كى روشنى ميں ديكھيں _بعض مفسرين نے يہى راستہ اختيا ر كيا ہے _ انہوں نے پہلے واقعے كو اہم اور اہم تر قوانين پر سمجھا ہے اور كہا ہے كہ مسلم ہے كہ سارى كشتى اور پورى كشتى كى حفاظت اہم كام تھا جبكہ جزوى نقص سے حفاظت زيادہ اہم نہيں تھا دوسرے لفظوں ميں حضرت خضر (ع) نے كم نقصان كے ذريعے زيادہ نقصان كو روكا، فقہى زبان ميں '' افسد كو فاسد سے دفع كيا'' خصوصا ًجبكہ يہ بات ان كے پيش نظر تھى كہ كشتى والوں كى باطن رضا مندى انہيں حاصل ہے كيونكہ اگر وہ اصل صورت حال سے آگاہ ہوجاتے تو اس كام پر راضى ہوجاتے (فقہى تعبير كے مطابق حضرت خضر (ع) كو اس مسئلے ميں '' اذن فحوى '' حاصل تھا)_ اس لڑكے كے بارے ميں مفسرين كا اصرار ہے كہ يقيناً وہ بالغ تھا اور وہ مرتد يا فاسد تھا لہذا وہ اپنے موجودہ اعمال كى وجہ سے جائز القتل تھا اور يہ جو حضرت خضراپنے اقدام كے لئے اس كے آئندہ جرائم كو دليل بناتے ہيں تو وہ اس بناء پر ہے كہ وہ كہنا چاہتے ہيں كہ يہ مجرم نہ صرف يہ كہ اس وقت اس كام ميں مبتلا ہے بلكہ آئندہ بھى اس سے بڑھ كر جرائم كا مرتكب ہوگا لہذا اس كاقتل قوانين شريعت كے مطابق تھا اور وہ اپنے افعال اورخود كردہ گناہوں كى وجہ سے جائز القتل تھا _ رہا تيسرا واقعہ تو كوئي شخص كسى پر يہ اعتراض نہيں كرسكتا كہ تم دوسرے كے لئے كيوں ايثار كرتے ہو اور اس كے اموال كو بچانے كے لئے كيوں بيگار اٹھاتے ہو،ہوسكتا ہے يہ ايثار واجب نہ ہو ليكن مسلم ہے كہ يہ اچھا كام ہے اور لائق تحسين ہے بلكہ ہوسكتا ہے كہ بعض مواقع پر سرحد وجوب تك پہنچ جائے مثلاً كسى يتيم بچے كا بہت سامال ضائع ہو رہا ہو اور تھوڑى سى زحمت كركے اسے بچايا جاسكے تو بعيد نہيں ہے كہ ايسے موقع پريہ كام واجب ہو _ دوسرا راستہ اس بنياد پر ہے كہ مذكورہ بالا تو ضيحات اگرچہ خزانے اور ديوار كے بارے ميں لائق اطمينان ہوں ليكن جو جوان مارا گيا اس كے بارے ميں مذكورہ وضاحتيں ظاہر قرآنى گفتگو سے مناسبت نہيں ركھتيں كيونكہ اس كے قتل كا قصدظاہرا اس كے آئندہ كا عمل قرار ديا گيا ہے نہ كہ موجودہ عمل _ كشتى كے بارے ميں بھى مذكورہ وضاحت كسى حدتك قابل بحث ہے _

لہذا ضرورى ہے كہ كوئي اور راہ اختيار كى جائے اور وہ يہ ہے :

اسى جہان ميں ہميں دو نظاموں سے سابقہ پڑتا ہے ايك نظام تكوين ہے اور دوسرا نظام تشريع يہ دونوں نظام اگرچہ كلى اصول ميں تو ہم آہنگ ہيں ليكن كبھى ايسا ہوتا ہے كہ جزئيات ميں ايك دوسرے سے مختلف ہوتے ہيں _

مثلا اللہ تعالى اپنے بندوں كى آزمائش خوف، اموال وثمرات كے نقصان ، اپنى اور عزيزوں كى موت اور قتل كے ذريعے كرتا ہے تاكہ يہ معلوم ہوكہ كون شخص ان حوادث ومصائب پر صبر وشكيبائي اختيار كرتا ہے _

تو كيا كوئي فقيہ بلكہ كوئي پيغمبر ايسا كرسكتا ہے _يعنى اموال ونفوس، ثمرات اور امن كو ختم كركے لوگوں كو آزمائے ؟

يا كبھى ايسا ہوتا ہے كہ اللہ تعالى اپنے بعض نبيوں اور صالح بندوں كو خبر دار كرنے اور انہيں تنبيہ كرنے كے لئے كسى ترك اولى پر بڑى مصيبتوں ميں گرفتار كرتاہے جيسا كہ حضرت يعقوب مصيبت ميں گرفتار ہوئے اس بات پر كہ انہوں نے بعض مساكين كى طرف كم توجہ دى يا حضرت يونس كو ايك معمولى ترك اولى پر مصيبت ميں گرفتار ہونا پڑا تو كيا كوئي حق ركھتا ہے كہ كسى كو سزا كے طور پر ايسا كرے يا يہ كہ ہم ديكھتے ہيں كبھى اللہ تعالى كسى انسان كى ناشكرى كى وجہ سے اس سے كوئي نعمت چھين ليتا ہے مثلاً كوئي شخص مال ملنے پر شكر ادا نہيں كرتا تو اس كا مال دريا ميں غرق ہوجاتاہے يا صحت پر شكر ادا نہيں كرتا تو اللہ تعالى اس سے صحت لے ليتا ہے تو كيا فقہى اور شرعى قوانين كى رو سے كوئي ايسا كرسكتا ہے كہ ناشكرى كى وجہ سے كسى كا مال ضائع كردے اور اس كى مثاليں مجموعى طور پر ظاہر كرتى ہيں كہ جہان آفرينش خصوصا خلقت انسان اس احسن نظام پر استوار ہے كہ اللہ نے انسان كو كمال تك پہنچا نے كے لئے كچھ تكوينى قوانين بنائے ہيں كہ جن كى خلاف ورزى سے مختلف نتائج مرتب ہوتے ہيں حالانكہ قانوں شريعت كے لحاظ سے ہم ان قوانين پر عمل نہيں كرسكتے _

۴۰۴

مثلاً كسى انسان كى انگلى ڈاكڑ اس لئے كاٹ سكتا ہے كہ زہراس كے دل كى طرف سرايت نہ كرجائے ليكن كيا كوئي شخص كسى انسان ميں صبر پيدا كرنے كے لئے يا كفران نعمت كى وجہ سے اس كى انگلى كاٹ سكتا ہے ؟(جبكہ يہ بات مسلم ہے كہ خدا ايسا كرسكتا ہے كيونكہ ايسا كرنا نظام احسن كے مطابق ہے )

اب جبكہ ثابت ہوگيا كہ ہم دو نظام ركھتے ہيں اور اللہ تعالى دونوں نظاموں پر حاكم ہے تو كوئي چيز مانع نہيں ہے كہ اللہ ايك گروہ كو نظام تشريعى كو عملى شكل دينے پر مامور كرے اورفرشتوں كے ايك گروہ يا بعض انسانوں كو (مثلا حضرت خضر كو )نظام تكوين كو عملى شكل دينے پر مامور كرے _

اللہ تعالى كے نظام تكوين كے لحاظ سے كوئي مانع نہيں كہ وہ كسى نابالغ بچے كو بھى كسى حادثے ميں مبتلا كر دے اور اس ميں اس كى جان چلى جائے كيونكہ ہوسكتا ہے اس كا وجود مستقبل كے لئے بہت بڑے خطرات كاباعث ہو، نيز كوئي مانع نہيں كہ اللہ مجھے آج كسى سخت بيمارى ميں مبتلا كردے ، اس طرح سے كہ ميں گھرسے باہر نہ نكل سكوں كيونكہ وہ چاہتا ہے _

۴۰۵

حضرت خضر كون تھے؟

جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ حضرت خضر(ع) كانام صراحت كے ساتھ قرآن ميں نہيں ليا گيا اور حضرت موسى كے دوست اور استاد كا ذكر ان الفاظ ميں كيا گيا ہے :''ہمارے بندوں ميں سے ايك بندہ جسے ہم نے اپنى رحمت عطا كى اور جسے ہم نے اپنے علم سے نوازا''_اس تعارف ميں ان كے مقام عبوديت كا تذكرہ ہے اور ان كے خاص علم كو واضح كيا گيا ہے لہذا ہم نے بھى عالم كے طور پر ان كا زيادہ ذكر كيا ہے_

ليكن متعدد روايات ميں اس عالم كا نام''خضر''بتايا گيا ہے_بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ ان كا اصلى نام''بليا ابن ملكان''تھا اور''خضر''ان كا لقب تھاكيونكہ وہ جہاں كہيں قدم ركھتے ان كے قدموں كى بدولت زمين سر سبز ہوجاتى تھي_

دوسرے لفظوں ميں اس عالم ميں مامورين كا ايك گروہ باطن پر مامور ہے اور ايك گروہ ظاہر پر مامور ہے جو باطن پر مامور ہيں ان كے لئے اپنے اصول وضوابط اور پروگرام ہيں اور جو ظاہر پر مارمور ہيں ان كے لئے اپنے خاص اصول وضوابط ہے_

يہ ٹھيك ہے كہ ان دونوں پر وگراموں كا اصلى اور كلى مقصد انسان كو كمال كى طرف لے جانا ہے اس لحاظ سے دونوں ہم آہنگ ہيں ، شك نہيں كہ ان دونوں طريقوں ميں سے كسى ميں بھى كوئي خود سرى سے كوئي اقدام نہيں كرسكتا بلكہ ضرورى ہے كہ وہ حقيقى مالك وحاكم كى طرف سے مجاز ہو لہذا حضرت خضر عليہ السلام نے صراحت كے ساتھ اس حقيقت كو بيان كيا اور كہا:

ميں نے يہ كام حكم الہى كے مطابق اور اسى كے ضابطے اور طريقے كے مطابق انجام ديئےيں اس طرح ان اقدامات ميں جو ظاہرى تضاد نظر آتا ہے وہ ختم ہوجاتاہے _اور يہ ہم ديكھ رہے ہيں كہ حضرت موسى حضرت خضر كے كاموں كو برداشت نہيں كرپاتے تھے تو يہ اسى بناء پر تھا كہ ان كى ماموريت اور ذمہ دارى كا طريقہ جناب خضر(ع) كى ذمہ دارى كے راستے سے الگ تھا لہذا جب انہوں نے حضرت خضر كاكام ظاہراً شرعى قوانين كے خلاف ديكھا تو اس پر اعتراض كيا ليكن خضر نے ٹھنڈے دل سے اپنا كام جارى ركھا اور چونكہ يہ دو عظيم خدائي رہبر مختلف ذمہ داريوں كى بناء پر ہميشہ كے لئے اكٹھے نہيں رہ سكتے تھے لہذا حضرت خضرا نے كہا :

''يہ اب ميرے اور تمہارے جدا ہونے كا مرحلہ آگيا ہے ''_

۴۰۶

بعض نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ اس عالم كا نام''اليا(ع) س''ہے يہى سے يہ تصور پيدا ہوا كہ ہوسكتا ہے''الياس''اور''خضر''ايك ہى شخص كے دو نام ہوں ليكن مشہور و معروف مفسرين اور راويوں نے پہلى بات ہى بيان كى ہے_

واضح ہے كہ يہ بات كوئي خاص اہميت نہيں ركھتى كہ اس شخض كا نام كيا ہے_اہم بات يہ ہے كہ وہ ايك عالم ربانى تھے اور پروردگار كى خاص رحمت ان كے شامل حال تھي_وہ باطن اور نظا م تكوينى پر مامور تھے اور كچھ اسرار سے آگاہ تھے اور ايك لحاظ سے موسى (ع) بن عمران كے معلم تھے اگر چہ حضرت موسى عليہ السلام كئي لحاظ سے ان پر مقدم تھے_

يہ كہ وہ پيغمبر تھے يا نہيں _اس سلسلے ميں روايات مختلف ہيں _اصول كافى جلد اول ميں متعدد روايات ہيں كہ جو اس بات پر دلالت كرتى ہيں كہ وہ پيغمبر نہيں تھے بلكہ وہ''ذوالقرنين''اور''آصف ابن برخيا''كى طرح ايك عالم تھے_

جبكہ كچھ اور روايات ايسى بھى ہيں كہ جن سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ مقام نبوت كے حامل تھے اور زير نظر روايات ميں بھى بعض تعبيرات كا ظاہرى مفہوم بھى يہى ہے_كيونكہ ايك موقع پروہ كہتے ہيں :

''ميں نے يہ كام اپنى طرف سے نہيں كيا''_

ايك اور مقام پر كہتے ہيں :

''ہم چاہتے تھے كہ ايسا ہو''_

نيز بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ايك لمبى عمر كے حامل تھے_(۱)

____________________

(۱)يہاں ايك سوال سامنے آتا ہے_ وہ يہ كہ كيا اس عالم بزرگوار كا واقعہ يہوديوں اور عيسائيوں كى كتابوں ميں بھى ہے؟

سوال كا جواب يہ ہے:

اگر كتب سے مراد كتب عہدين(توريت و انجيل)ہيں ،تو ان ميں تو نہيں ہے ليكن بعض يہودى علماء كى كتابيں كہ جو گيارہويں صدى عيسوى ميں مدون ہوئي ہيں ،ان ميں ايك داستان نقل ہوئي ہے كہ جو حضرت موسى عليہ السلام كى مذكورہ داستان سے كچھ مشابہت ركھتى ہے_اگر چہ اس داستان كے ہيرو''الياس''اور''يوشع بن لاوي''ہيں كہ جو تيسرى صدى عيسوى كے''تلمود''كے مفسرين ميں سے تھے_يہ داستان اور كئي پہلوئوں سے بھى موسى عليہ السلام و خضر عليہ السلام سے مختلف ہے_

مزيد وضاحت كے لئے تفسير نمونہ ج۷ص۱۷۱پر رجوع كريں

۴۰۷

خود ساختہ افسانے

حضرت موسى عليہ السلام اور حضرت خضر عليہ السلام كى داستان كى بنياد وہى ہے كہ جو كچھ قرآن ميں آيا ہے ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ اس سے منسلك كركے بہت سے افسانے گھڑلئے گئے ہيں _ ان افسانوں كو اس داستان كے ساتھ خلط ملط كرنے سے اصل داستان كى صورت بھى بگڑ جاتى ہے_ جاننا چاہئے كہ يہ كوئي پہلى داستان نہيں ہے كہ جس كے ساتھ يہ سلوك كيا گيا ہے اور بہت سى سچى داستانوں كے ساتھ يہى حال كيا گيا ہے_

لہذا حقيقت تك رسائي كے لئے قرآن كو بنياد قرار ديا جانا چاہئے جس ميں يہ داستا ن بيان ہوئي ہے_ يہاں تك كہ احاديث كو بھى اسى صورت ميں قبول كيا جاسكتا ہے جب وہ قرآن كے موافق ہوں _اگر كوئي حديث اس كے برخلاف ہو تو يقينا وہ قابل قبول نہيں ہے اور خوش قسمتى سے معتبر احاديث ميں ايسى كوئي حديث نہيں ہے_

علم موسى (ع) و خضر (ع) ،علم خدا كے مقابلہ ميں

پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے:

''جس وقت موسى عليہ السلام خضر عليہ السلام سے ملے تو ايك پرندہ ان كے سامنے ظاہر ہوا_ اس نے پانى كا ايك قطرہ اپنى چونچ ميں ليا تو حضرت موسى عليہ السلام سے خضر عليہ السلام نے كہا:

جانتے ہو كہ پرندہ كيا كہتا ہے:

۴۰۸

موسى عليہ السلام نے كہا:كيا كہتا ہے؟

خضر عليہ السلام كہنے لگے: كہتا ہے:

''تيرا علم اور موسى كا علم، خدا كے علم كے مقابلے ميں اس قطرے كى طرح ہے جو ميں نے پانى سے چونچ ميں ليا ہے''_

وہ خزانہ كيا تھا؟

اس داستان كے بارے ميں ايك سوال اور بھى ہے اور وہ يہ كہ وہ خزانہ آخر كيا تھا جسے موسى عليہ السلام كے عالم دوست پوشيدہ ركھنا چاہتے تھے اور آخر اس با ايمان شخص يعنى يتيموں كے باپ نے يہ خزا نہ كيوں چھپا ديا تھا؟

بعض نے كہا ہے كہ وہ خزانہ مادى پہلو كى بجائے زيادہ معنوى پہلو ركھتا تھا_ بہت سى شيعہ سنى روايا ت كے مطابق وہ ايك تختى تھى جس پر حكمت آميز كلمات نقش تھے_ اس بارے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے كہ وہ حكمت آميز كلمات كيا تھے_

كتاب كافى ميں امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:

يہ سونے چاندى كا خزانہ نہيں تھا_ يہ تو صرف ايك تختى تھى جس پر چار جملے ثبت تھے_

اللہ كے سوا كوئي معبود نہيں _

جو موت پر يقين ركھتا ہے وہ(بے ہودہ)نہيں ہنستا_

اور جسے اللہ كى طرف سے حساب كا يقين ہے(اوراسے جو ابدہى كى فكر ہے)وہ خوش نہيں رہتا_

اور جسے تقدير الہى كا يقين ہے وہ اللہ كے سوا كسى سے نہيں ڈرتا_

۴۰۹

اوربنى اسرائيل كى نافرماني اصحاب سبت،سنيچر كى چھٹي بنى اسرائيل كا ايك گروہ جو ايك سمندر (بظاہر بحيرہ احمر جو فلسطين كے پاس ہے)كے كنارے شہر''ايلہ''(جسے آج كل''ايلات''كہتے ہيں )ميں رہتے تھے،ان كى آزمائش كے لئے اللہ نے انہيں حكم ديا تھا كہ ہفتہ كے روز مچھلى كا شكار نہ كريں ،سارے دنوں ميں شكار كريں صرف ايك دن تعطيل كرديا كريں ليكن ان لوگوں نے اس حكم كى صريحاًمخالفت كى جس كے نتيجے ميں وہ درد ناك عذاب ميں مبتلا ہوئے جس كى تفصيل قرآن ميں بيان كى گئي ہے_

قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:''جو يہودى تمہارے زمانہ ميں موجود ہيں ان سے اس شہر كے ماجرے كے متعلق سوال كرو جو سمندر كے كنارے آباد تھا''_اور انہيں وہ زمانہ ياددلائو جبكہ وہ ہفتہ كے روز قانون الہى كى مخالفت كرتے تھے_''(۱)

كيونكہ ہفتہ كے روز ان كى تعطيل كا دن تھا جس ميں ان كو يہ حكم ملا تھا كہ اس روز وہ اپنا كاروبار ترك كرديں اور عبادت خدا ميں مشغول ہوں ليكن انہوں نے اس حكم كى طرف كوئي توجہ نہ دي_

____________________

(۱)سورہ اعراف ۱۶۲

۴۱۰

اس كے بعد قرآن كريم اس جملے كى جو اجمالى طور پر پہلے گزر چكا ہے اس طرح شرح كرتاہے كہ ياد كرو:'' جب ہفتہ كے دن مچھلياں پانى كے اوپر ظاہر ہوتى تھيں اور دوسرے دنوں ميں وہ كم دكھلائي ديتى تھيں ''_(۱)

يہ بات واضح ہے كہ جو لوگ سمندر كے كنارے زندگى بسر كرتے تھے ان كى خوراك اور آمدنى كا بڑا ذريعہ مچھلى كاشكار ہوتا ہے،اور چونكہ ہفتہ كے روز مسلسل تعطيل ان كے درميان رائج تھي، لہذا اس روز مچھلياں امن محسوس كرتى تھيں اور وہ گروہ در گروہ پانى كى سطح پر ظاہر ہوتى تھيں ليكن دوسرے دنوں ميں چونكہ ان كا شكار كيا جاتا تھا اس لئے وہ گہرے پانى ميں بھاگ جاتى تھيں _ بہر حال يہ كيفيت چاہے كسى فطرى امر كے نتيجہ ميں ہو يا كوئي خلاف معمول الہى بات ہو اس سے ان لوگوں كى آزمائش مطلوب تھى جيسا كہ قرآن بيان كرتا ہے:

''ہم نے اس طرح ان لوگوں كى آزمائش كى اس چيز كے ذريعے جس كى وہ مخالفت كرتے تھے''_(۲)

جس وقت بنى اسرائيل اس بڑى آزمائش سے دوچار ہوئے جو ان كى زندگى كے ساتھ وابستہ تھى تو وہ تين گروہوں ميں بٹ گئے:

اول:جن كى اكثريت تھي،وہ لوگ تھے جنہوں نے اس فرمان الہى كى مخالفت پر كمر باندھ لي_

دوم:جو حسب معمولى ايك چھوٹى اقليت پر مشتمل تھا وہ گروہ اول كے مقابلے ميں امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كى شرعى ذمہ دارى ادا كرتا تھا_

سوم:يہ وہ لوگ تھے جو ساكت اور غير جانبدار تھے_يہ نہ تو گنہگاروں كے ساتھ تھے اور نہ انہيں گناہوں سے منع كرتے تھے_

قرآن ميں اس گروہ نے دوسرے گروہ سے جو گفتگو كى ہے اسے نقل كيا گيا ہے_

____________________

(۱)سورہ اعراف آيت ۱۶۲

(۲)سورہ اعراف آيت ۱۶۳

۴۱۱

اس وقت كو ياد كرو جب ان ميں سے ايك گروہ نے دوسرے سے كہا:

تم ان لوگوں كو كيوں وعظ و نصيحت كرتے ہو جنہيں آخر كار خدا ہلاك كرنے والا ہے يا درد ناك عذاب ميں مبتلا كرنے والا ہے_

انہوں نے جواب ميں كہا:ہم اس لئے برائي سے منع كرتے ہيں كہ خدا كے سامنے اپنى ذمہ دارى كو ادا كرديں اور وہ اس بارے ہم سے كوئي باز پرس نہ كرے_

علاوہ ازيں شايد ان كے دلوں ميں ہمارى باتو ں كا كوئي اثر بھى ہوجائے اور وہ طغيان و سركشى سے ہاتھ اٹھاليں _(۱)

''آخر كار دنيا پرستى نے ان پر غلبہ كيا_اور انہوں نے خدا كے فرمان كو فراموش كرديا_ اس وقت ہم نے ان لوگوں كو جو لوگوں كو گناہ سے منع كرتے تھے،نجات دي،ليكن گناہگاروں كو ان كے گناہ كے سبب سخت عذاب ميں مبتلا كرديا''_(۲)

اس كے بعد انہيں سزاديئے جانے كى كيفيت اس طرح بيان فرمائي گئي ہے:''انہوں نے اس بات كے مقابلے ميں سركشى كى جس سے انہيں روكا گيا تھا_(لہذا)ہم نے ان سے كہا دھتكارے ہوئے بندروں كى شكل ميں ہوجائو''_(۳)

بنى اسرائيل نے كس طرح گناہ كيا تھا؟

اس امر ميں كہ بنى اسرائيل نے كس وقت قانون شكنى كي،مفسرين كے درميان بحث ہے_بعض روايات سے پتہ چلتا ہے كہ انہوں نے ايك حيلہ اختيار كيا،انہوں نے سمندر كے كنارے بہت سے حوض بنالئے تھے اور انہيں نہروں كے ذريعے سمندر سے ملا ديا تھا_ہفتہ كے روز ان حوضوں كے راستے كھول ديتے تھے پانى كے ساتھ مچھلياں ان حوضوں كے اندر آجاتى تھيں ،غروب كے وقت جب واپس جانا چاہتى تھيں تو

____________________

(۱)سورہ اعراف ۱۶۴

(۲)سورہ اعراف آيت ۱۶۵

(۳)سورہ اعراف آيت ۱۶۶

۴۱۲

واپسى كا راستہ بند كر ديتے تھے،جب اتوار كا دن ہوتا تھا تو پھر ان كا شكار كرليتے تھے اور يہ كہتے تھے كہ ہم نے ہفتہ كے روز شكار تھوڑى كيا ہے بلكہ ہم نے تو صرف انہيں حوضوں ميں محصور كرليا تھا اصل شكار تو اتواركے روز ہوا ہے_

بعض مفسرين نے يہ كہا ہے كہ وہ لوگ ہفتہ كے روز مچھلى پكڑنے كے كانٹوں كو دريا ميں ڈال ديتے تھے اس كے بعد جب اس ميں مچھلياں پھنس جاتى تھيں تو دوسرے روز انہيں نكال ليتے تھے اور اس حيلہ سے ان كا شكار كرتے تھے_

بعض روايات سے يہ بھى پتہ چلتا ہے كہ وہ بغير كسى حيلہ كے بروز شنبہ بڑى ڈھٹائي كے ساتھ شكار ميں مشغول ہوتے تھے_

ممكن ہے كہ يہ تمام روايات صحيح ہوں اس طرح كہ ابتدا ء ميں حوضوں يا قلابوں كے ذريعے حيلے سے شكار كرتے ہوں ،جب اس طرح سے ان كى نظر ميں گناہ كى اہميت كم ہوگئي ہو تو پھر انہوں نے اعلانيہ گناہ كرنا شروع كرديا ہو اور ہفتہ كے دن كى حرمت كو ضائع كركے مچھلى كى تجارت سے مالدار ہوگئے ہوں _(۱)

____________________

(۱)آيا يہ مسخ جسمانى تھايا روحاني؟

''مسخ''يا دوسرے لفظوں ميں ''انسانى شكل كا كسى حيوان كى شكل ميں تبديل ہو جانا''مسلمہ طور پر ايك خلاف معمول اور خلاف طبيعت بات ہے اگر چہ ميوٹيشن( mutation )بعض حيوانات كا دوسرے حيوانات كى شكل اختيار كرلينا نادر طور پر ديكھا گيا ہے اور سائنس ميں تكامل حيات كى بنياد بھى اس بات پر ركھى گئي ہے،ليكن ميوٹيشن( mutation )جہاں ديكھا گيا ہے وہ بہت نادر الموقع موارد ہيں ،وہ بھى حيوانات كى جزوى صفات ميں پايا جاتا ہے نہ كہ ان كى كلى صفات ميں ،بلكہ ايسا ہرگز نہيں ہواكہ ميوٹيشن( mutation )كى وجہ سے ايك حيوان اپنى نوع مثلاً بندر سے بكرى بن گيا ہو_ہاں يہ ممكن ہے كہ كسى حيوان كى خصوصيات دگر گوں ہو جائيں ،پھر يہ كہ يہ تبديلى اس كى نسل ميں پيدا ہوتى ہے نہ كہ جو حيوان پيدا ہوگيا ہے اس كى شكل يك بيك بدل گئي ہو،بنا بريں كسى انسان يا حيوان كى شكل كا بدل كر دوسرى نوع اختيار كرلينا ايك خلاف معمول بات ہے_

ہم نے بارہا يہ بات كہى ہے كہ كچھ مسائل ايسے بھى ہيں جو طبيعت اور عادت كے بر خلاف واقع ہوتے ہيں جو كبھى تو پيغمبروں كے معجزوں كى صورت ميں اور كبھى بعض خارق العادت كاموں كى صورت ميں بعض انسانوں سے ظاہر ہوتے ہيں ، -

۴۱۳

بنى اسرائيل كى گائے كا واقعہ

بنى اسرائيل ميں سے ايك شخص نا معلوم طور پر قتل ہو جاتا ہے _اس كے قاتل كا كسى طرح پتا نہيں چلتا_

تاريخ اور تفاسير سے جو كچھ ظاہر ہوتاہے وہ يہ ہے كہ قتل كا سبب مال تھا يا شادي_

بعض مفسرين كہتے ہيں كہ بنى اسرائيل ميں ايك ثروت مند شخص تھا_ اس كے پاس بے پناہ دولت تھي_اس دولت كا وارث اس كے چچا زاد بھائي كے علاوہ كوئي نہ تھا_وہ دولت مند كافى عمر رسيدہ ہوچكا تھا_اس كے چچازاد بھائي نے بہت انتظار كيا كہ وہ دنيا سے چلا جائے تاكہ اس كا وارث بن سكے ليكن اس كا انتظار بے نتيجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم كردينے كا تہيہ كرليا _بالاخر اسے تنہائي ميں پاكر قتل كرديا اور اس كى لاش سڑك پر ركھ دى اور گريہ وزارى كرنے لگا اورحضرت موسى عليہ السلام كى بارگاہ ميں مقدمہ پيش كيا كہ بعض لوگوں نے ميرے چچا زاد بھائي كو قتل كرديا ہے_

۴۱۴

۴۱۵

۴۱۶

۴۱۷

سليمان (ع) اپنى فوجى طاقت كامظاہرہ ديكھتے ہيں

قرآن ميں موجود مختلف قرائن سے مجموعى طور پر نتيجہ نكلتا ہے كہ ايك روز حضرت سليمان(ع) اپنے تيز رفتار گھوڑوں كا معائنہ كررہے تھے كہ جنھيں ميدان جہاد كے لئے تيار كيا گيا تھا_ عصر كا وقت تھا_ مامورين مذكورہ گھوڑوں كے ساتھ مارچ كرتے ہوئے ان كے سامنے سے گزر رہے تھے_

ايك عادل اور با اثر حكمران كے لئے ضرورى ہے كہ اس كے پاس طاقتور فوج ہو اور اس زمانے ميں لشكر كے اہم ترين وسائل ميں سے تيز رفتار گھوڑے تھے لہذا حضرت سليمان(ع) كا مقام ذكر كرنے كے بعد نمونے كے طورپر گھوڑوں كا ذكر آيا ہے_

____________________

۴۱۸
۴۱۹

۴۲۰