قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27020
ڈاؤنلوڈ: 1526

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27020 / ڈاؤنلوڈ: 1526
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

۴۶۱

۴۶۲

۴۶۳

۸ حضرت رسول اكرم (ص)

حضرت رسول اكرم (ص)

۴۶۴

نبوت سے پہلے آنحضرت (ص) كس دين پر تھے؟

اس بات ميں تو شك كى گنجائش ہى نہيں كہ بعثت سے پہلے آنحضرت(ص) نے نہ تو كسى بت كو سجدہ كيا اور نہ ہى تو حيد كى راہ سے سر موانحراف كيا،ليكن سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ وہ كس دين پر پابندتھے؟ تو اس بارے ميں علماء كى آراء مختلف ہيں _

بعض كہتے ہيں كہ آپ(ص) دين مسيح(ع) پر تھے،كيونكہ آنحضرت(ص) كى بعثت سے پہلے جو مستقل،قانونى اور غير منسوخ دين تھا وہ حضرت عيسى (ع) كا دين ہى تھا_

بعض علماء آپ(ص) كو دين ابراہيمى پرپا بند سمجھتے ہيں _ كيونكہ جناب ابراہيم(ع) شيخ الانبياء اور ابوالانبياء تھے اور قرآن كى بعض آيات ميں بھى دين اسلام كا دين ابراہيم(ع) كے نام سے تعارف كروايا گيا ہے_(۱)

بعض علماء نے اس بارے ميں اپنى لا علمى كا اظہار كيا ہے اور دليل يہ دى ہے كہ يقينا آپ(ص) كسى دين پر تو پا بند تھے ليكن يہ نہيں معلوم كہ وہ كونسا دين تھا؟

____________________

(۱)''ملة ابيكم ابراھيم'' (سورہ حج ايت ۷۸)

۴۶۵

اگر چہ ان احتمالات ميں سے ہر ايك كى اپنى جگہ پر دليل تو ہے ليكن مسلم كوئي بھى نہيں _ البتہ ان تينوں اقوال سے ہٹ كر ايك چوتھااحتمال زيادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ يہ كہ''آنحضرت(ص) خداوند عالم كى طرف سے اپنے لئے ايك خاص پروگرام ركھتے تھے،اور اسى پر عمل پيرا تھے اور درحقيقت يہ آپ(ص) كى ذات كے ليے مخصوص ايك دين تھا،جب تك كہ اسلام نازل نہيں ہوگيا''_

اس قول پر وہ حديث شاہد ہے جو نہج البلاغہ ميں موجود ہے :

''جس وقت سے پيغمبر(ص) كى دودھ بڑھائي ہوئي،اللہ نے اپنے فرشتوں ميں سے ايك عظيم فرشتے كو آپ(ص) كے ساتھ ملاديا،جوشب وروز مكارم الاخلاق اور نيك راستوں پر آپ(ص) كو اپنے ساتھ ركھتا''_

اس قول كا ايك اور گواہ يہ ہے كہ كسى بھى تاريخ ميں نہيں ملتاكہ پيغمبر اسلام(ص) يہوديا نصارى ياكسى اور مذہب كے عبادت خانوں ميں عبادت كے ليے تشريف لے گئے ہوں ،نہ تو كفار كے ساتھ مل كر كبھى كسى بت خانے ميں گئے اور نہ ہى اہل كتاب كے ساتھ كسى عبادت خانے ميں بلكہ ہميشہ راہ توحيد پر گامزن رہے اور آپ(ص) اخلاقى اصولوں اور عبادت الہى كے سخت پابند تھے_

بحار الانوار ميں علامہ مجلسي كے مطابق ،بہت سى اسلامى روايات اس بات كا پتہ ديتى ہيں كہ پيغمبر اسلام(ص) اپنى عمر كے آغاز ہى سے روح القدس كے ساتھ مو يد تھے اور اس تائيد كے ساتھ يقيناوہ روح القدس كى راہنمائي كے مطابق عمل كيا كرتے تھے_

علامہ مجلسي ذاتى طور پر اس بات كے معتقد ہيں كہ پيغمبر اسلام(ص) رسالت كے مرتبے پر فائز ہونے سے پہلے مقام نبوت پر فائز تھے،اور كبھى آپ(ص) ان كى آواز سنا كرتے تھے اور كبھى سچے خواب كى صورت ميں آپ(ص) پر خدائي الہام ہوا كرتاتھا_ چاليس سال كے بعد اعلان رسالت كا حكم ہوا اور اسلام و قرآن با قاعدہ طور پر آپ(ص) پر نازل ہوئے_

علامہ مجلسي نے اپنے اس مدعا پر چھ دلائل ذكر كئے ہيں جن ميں سے كچھ ان دلائل كے ساتھ ملتے جلتے اور ہم آہنگ ہيں جو ہم اوپر بيان كرچكے ہيں _

۴۶۶

آغاز وحي

پيغمبر اكرم (ص) كوہ حرا پر گئے ہوئے تھے كہ جبرئيل آئے اور كہا : اے محمد پڑھ:پيغمبر (ص) نے فرمايا ميں پڑھا ہوانہيں ہوں _ جبرئيل نے انہيں آغوش ميں لے كردبايا اور پھر دوبارہ كہا : پڑھ، پيغمبر (ص) نے پھر اسى جواب كو دہرايا_ اس كے بعد جبرئيل نے پھر وہى كام كيا اور وہى جواب سنا ، اور تيسرى باركہا: ( اقراباسم ربك الذى خلق)(۱)

جبرئيل (ع) يہ بات كہہ كر پيغمبر (ص) كى نظروں سے غائب ہوگئے رسول خدا (ص) جو وحى كى پہلى شعاع كو حاصل كرنے كے بعد بہت تھكے ہوئے تھے خديجہ كے پاس آئے اور فرمايا : '' زملونى ودثرونى '' مجھے اڑھادو اور كوئي كپڑا ميرے اوپر ڈال دوتاكہ ميں آرام كروں _

''علامہ طبرسي'' بھى مجمع البيان ميں يہ نقل كرتے ہيں كہ رسو لخدا (ص) نے خديجہ سے فرمايا :

''جب ميں تنہا ہوتا ہوں تو ايك آواز سن كر پريشان ہوجاتاہوں '' _ حضرت خديجہ(ع) نے عرض كيا : خداآپ كے بارے ميں خير اور بھلائي كے سواكچھ نہيں كرے گا كيونكہ خدا كى قسم آپ امانت كو ادا كرتے ہيں اور صلہ رحم بجالاتے ہيں 'اور جوبات كرتے ہيں اس ميں سچ بولتے ہيں _

____________________

(۱) سورہ علق آيت ۱

۴۶۷

''خديجہ''(ع) كہتى ہيں : اس واقعہ كے بعد ہم ورقہ بن نوفل كے پاس گئے (نوفل خديجہ كا زاد بھائي اور عرب كے علماء ميں سے تھا )رسول اللہ (ص) نے جو كچھ ديكھا تھا وہ'' ورقہ'' سے بيان كيا '' ورقہ '' نے كہا : جس وقت وہ پكارنے والا آپ كے پاس آئے تو غور سے سنو كہ وہ كيا كہتا ہے ؟ اس كے بعد مجھ سے بيان كرنا_

پيغمبر (ص) نے اپنى خلوت گاہ ميں سنا كہ وہ كہہ رہاہے :

اے محمد كہو :

''بسم اللّه الرحمن الرحيم الحمد للّه رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اياك نعبدواياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غيرالمغضوب عليهم ولاالضالين'' _

اور كہو '' لاالہ الاالله '' اس كے بعد آپ ورقہ كے پاس آئے اور اس ماجرے كو بيان كيا _

'' ورقہ '' نے كہا : آپ كو بشارت ہو ' پھر بھى آپ كو بشارت ہو _ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ وہى ہيں جن كى عيسى بن مريم نے بشارت دى ہے' آپ موسى عليہ السلام كى طرح صاحب شريعت ہيں اور پيغمبر مرسل ہيں _ آج كے بعد بہت جلدہى جہاد كے ليے مامور ہوں گے اور اگر ميں اس دن تك زندہ رہا تو آپ كے ساتھ مل كر جہاد كروں گا '' جب '' ور قہ دنيا سے رخصت ہو گيا تو رسول خدا (ص) نے فرمايا:

''ميں نے اس روحانى شخص كو بہشت (برزخى جنت ) ميں ديكھا ہے كہ وہ جسم پر ريشمى لباس پہنے ہوئے تھا' كيونكہ وہ مجھ پر ايمان لايا تھا اور ميرى تصديق كى تھي_ ''(۱)

____________________

(۱)يقينى طورپر مفسرين كے بعض كلمات يا تاريخ كى كتابوں ميں پيغمبر اكرم (ص) كى زندگى كى اس فصل كے بارے ميں ايسے ناموزوں مطالب نظرآتے ہيں جو مسلمہ طور پر جعلي' وضعى ' گھڑى ہوئي روايات اور اسرائيليات سے ہيں ' مثلاًيہ كہ پيغمبر (ص) نزول وحى كے پہلے واقعہ كے بعد بہت ہى ناراحت ہوئے اور ڈرگئے كہ كہيں يہ شيطانى القاآت نہ ہوں ' يا آپ نے كئي مرتبہ

۴۶۸

پہلا مسلمان(۱)

اس سوال كے جواب ميں سب نے متفقہ طور پر كہا ہے كہ عورتوں ميں سے جو خاتون سب سے پہلے مسلمان ہوئيں وہ جناب خديجہ(ع) تھيں جو پيغمبر اكرم (ص) كى وفاداراور فدا كار زوجہ تھيں باقى رہا مردوں ميں سے تو تمام شيعہ علماء ومفسرين اور اہل سنت علماء كے ايك بہت بڑے گروہ نے كہا ہے كہ حضرت على (ع) وہ پہلے شخض تھے جنہوں نے مردوں ميں سے دعوت پيغمبر (ص) پر لبيك كہى علماء اہل سنت ميں اس امركى اتنى شہرت ہے كہ ا ن ميں سے ايك جماعت نے اس پر اجماع واتفاق كا دعوى كيا ہے ان ميں سے حاكم نيشاپورى(۲) نے كہا ہے :

مورخين ميں اس امر پر كوئي اختلاف نہيں كہ على ابن ابى طالب اسلام لانے والے پہلے شخص ہيں _ اختلاف اسلام قبول كرتے وقت انكے بلوغ كے بارے ميں ہے _

جناب ابن عبدالبر(۳) لكھتے ہيں : اس مسئلہ پر اتفاق ہے كہ خديجہ(ع) وہ پہلى خاتون ہيں جو خدا اور

____________________

اس بات كا پختہ ارادہ كرليا كہ خود كو پہاڑ سے گراديں ' اور اسى قسم كے فضول اور بے ہودہ باتيں جو نہ تو نبوت كے بلند مقام كے ساتھ سازگار ہيں اور نہ ہى پيغمبر (ص) كى اس عقل اور حد سے زيادہ دانش مندى ' مدبريت ' صبر وتحمل وشكيبائي ' نفس پر تسلط اور اس اعتماد كو ظاہر كرتى ہيں جو تاريخوں ميں ثبت ہے _

ايسا دكھائي ديتا ہے كہ اس قسم كى ضعيف وركيك روايات دشمنان اسلام كى ساختہ وپرداختہ ہيں جن كا مقصد يہ تھا كہ اسلام كو بھى مورد اعتراض قراردے ديں اور پيغمبر اسلام (ص) كى ذات گرامى كو بھى _

(۱)اس سوال كو اكثر مفسرين نے سورہ توبہ ايت۱۰۰''السابقون الاولون''كے ضمن ميں بيان كيا ہے

(۲)مستدرك على صحيحين كتاب معرفت ص۲۲

(۳)استيعاب ،ج ۲ ص۴۵۷

۴۶۹

اس كے رسول پر ايمان لائيں اور جو كچھ وہ لائے تھے اسى كى تصديق كى _ پھر حضرت على نے ان كے بعد يہى كام انجام ديا _ (۱)

ابوجعفر الكافى معتزلى لكھتا ہے : تمام لوگوں نے يہى نقل كيا ہے كہ سبقت اسلام كا افتخار على سے مخصوص ہے _(۲) قطع نظر اس كے كہ پيغمبر اكرم (ص) سے،خود حضرت على (ع) سے اور صحابہ سے اس بارے ميں بہت سى روايات نقل ہوئي ہيں جو حد تواتر تك پہنچى ہوئي ہيں ،ذيل ميں چند روايات ہم نمونے كے طور پر نقل كرتے ہيں : پيغمبر اكر م(ص) نے فرمايا :

۱_پہلا شخص جو حوض كوثر كے كنارے ميرے پاس پہنچے گا وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اسلام لايا اور وہ على بن ابى طالب ہے_(۳)

۲_ علماء اہل سنت كے ايك گروہ نے پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كيا ہے كہ آنحضرت(ص) نے حضرت على (ع) كا ہاتھ پكڑكر فرمايا :

يہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ايمان لايا اور پہلا شخص ہے جو قيامت ميں مجھ سے مصافحہ كرے گا اور يہ ''صديق اكبر'' ہے _(۴)

۳_ابو سعيد خدرى رسول اكرم (ص) سے نقل كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حضرت على عليہ السلام كے دونوں شانوں كے درميان ہاتھ ماركر فرمايا :''اے على (ع) : تم سات ممتاز صفات كے حامل ہو كہ جن كے بارے ميں روز قيامت كوئي تم سے حجت بازى نہيں كرسكتا _ تم وہ پہلے شخص ہو جو خدا پر ايمان لائے اور خدائي پيمانوں كے زيادہ وفادار ہو اور فرمان خداكى اطاعت ميں تم زيادہ قيام كرنيوالے ہو ''(۵)

____________________

(۱)الغدير ج ،۳ص۲۳۷

(۲)الغدير ج ،۳ص۲۳۷

(۳)الغديرميں يہ حديث مستدرك حاكم ج۲ص۶ ۱۳ ،استيعاب ج۲ ص ۴۵۷ اور شرح ابن ابى الحديد ج ۳ ص ۲۵۸ سے نقل كى گئي ہے

(۴) الغدير ہى ميں يہ حديث طبرانى اور بيہقى سے نقل كى گئي ہے نيز بيہقى نے مجمع ميں ، حافظ گنجى نے كفايہ اكمال ميں اور كنز العمال ميں نقل كى ہے

(۵) الغدير ميں يہ حديث حليتہ الاولياء ج اص ۶۶ كے حوالے سے نقل كى گئي ہے

۴۷۰

تحريف تاريخ

يہ امر لائق توجہ ہے كہ بعض لوگ ايسے بھى جوايمان اوراسلام ميں حضرت على كى سبقت كا سيدھے طريقے سے تو انكار نہيں كرسكے ليكن كچھ واضح البطلان علل كى بنياد پر ايك اور طريقے سے انكار كى كوشش كى ہے يا اسے كم اہم بنا كر پيش كيا ہے بعض نے كو شش كى ہے ان كى جگہ حضرت ابوبكر كو پہلا مسلمان قرار ديں يہ لوگ كبھى كہتے ہيں كہ على اس وقت دس سال كے تھے لہذا طبعاًنا با لغ تھے اس بناء پر ان كا اسلام ايك بچے كے اسلام كى حيثيت سے دشمن كے مقابلے ميں مسلمانوں كے محاذ كے ليے كوئي اہميت نہيں ركھتا تھا_(۱)

يہ بات واقعاً عجيب ہے اور حقيقت ميں خود پيغمبر خدا پر اعتراض ہے كيونكہ ہميں معلوم ہے كہ يوم الدار(دعوت ذى العشيرہ كے موقع پر )رسول اللہ (ص) نے اسلام اپنے قبيلے كے سامنے پيش كيا اور كسى نے حضرت علي(ع) كے سوا اسے قبول نہ كيا اس وقت حضرت على كھڑے ہوگئے اور اسلام كا اعلان كيا تو آپ نے ان كے اسلام كو قبول كيا بلكہ يہاں تك اعلان كيا كہ تو ميرے بھائي ،ميرا وصى اور ميرا خليفہ ہے _

يہ وہ حديث ہے جو شيعہ سنى حافظان حديث نے كتب صحاح اور مسانيد ميں نقل كى ہے، اسى طرح كئي مورخين اسلام نے اسے نقل كيا ہے يہ نشاندہى كرتى ہے كہ رسول اللہ (ص) نے حضرت على (ع) كى اس كم سنى ميں نہ صرف ان كا اسلام قبول كيا ہے بلكہ ان كا اپنے بھائي ، وصى اور جانشين كى حيثيت سے تعارف بھى كروايا ہے _(۲)

كبھى كہتے ہيں كہ عورتوں ميں پہلى مسلمان خديجہ تھيں ، مردوں ميں پہلے مسلمان ابوبكر تھے اور بچوں

____________________

(۱)يہ بات فخرالدين رازى نے اپنى تفسير ميں سورہ توبہ آيت ۱۰۰ كے ذيل ميں ذكر كى ہے

(۲)يہ حديث مختلف عبارات ميں نقل ہوئي ہے اور جو كچھ ہم نے بيان كيا ہے اسے ابو جعفر اسكافى نے كتاب ''نہج العثمانيہ'' ميں ،برہان الدين نے'' نجبا الانبا'' ميں ،ابن اثير نے كامل ميں اور بعض ديگر علماء نے نقل كيا ہے (مزيد وضاحت كے لئے الغدير،عربى كى جلد دوم ص۲۷۸ تا۲۸۶كى طرف رجوع كريں )

۴۷۱

ميں پہلے مسلمان على تھے يوں دراصل وہ اس امر كى اہميت كم كرنا چاہتے ہيں(۱)

حالانكہ اول تو جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں حضرت على عليہ السلام كى اہميت اس وقت كى سن سے اس امر كى اہميت كم نہيں ہوسكتى خصوصاً جب كہ قرآن حضرت يحيي(ع) كے بارے ميں كہتا ہے : ''ہم نے اسے بچپن كے عالم ميں حكم ديا''_(۲)

حضرت عيسى عليہ السلام كے بارے ميں بھى ہے كہ وہ بچپن كے عالم ميں بھى بول اٹھے اور افراد ان كے بارے ميں شك كرتے تھے ان سے كہا : ''ميں اللہ كا بندہ ہوں مجھے اس نے آسمانى كتاب دى اور مجھے نبى بنايا ہے ''_(۳)

ايسى آيات كو اگر ہم مذكورہ حديث سے ملاكرديكھيں كہ جس ميں آپ نے حضرت على (ع) كو اپنا وصي، خليفہ اور جانشين قرار ديا ہے توواضح ہوجاتاہے كہ صاحب المنار كى متعصبانہ گفتگو كچھ حيثيت نہيں ركھتى _

دوسرى بات يہ ہے كہ يہ امرتاريخى لحاظ سے مسلم نہيں ہے كہ حضرت ابوبكر اسلام لانے والے تيسرے شخص تھے بلكہ تاريخ وحديث كى بہت سى كتب ميں ان سے پہلے بہت سے افراد كے اسلام قبول كرنے ذكر ہے _ يہ بحث ہم اس نكتے پر ختم كرتے ہيں كہ حضرت على (ع) نے خود اپنے ارشادات ميں اس امر كى طرف اشارہ كيا ہے كہ ميں پہلا مومن ، پہلا مسلمان اور سول اللہ (ص) كے ساتھ پہلا نماز گذارہوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام وحيثيت كو واضح كيا ہے يہ بات آپ سے بہت سى كتب ميں منقول ہے_

علاوہ ازيں ابن ابى الحديد مشہور عالم ابو جعفر اسكافى معتزلى سے نقل كرتے ہيں كہ يہ جو بعض لوگ كہتے ہيں كہ ابوبكر اسلام ميں سبقت ركھتے تھے اگر يہ امر صحيح ہے تو پھر خود انھوں نے اس سے كسى مقام پر اپنى فضيلت كے ليے استدلال كيوں نہيں كيا اور نہ ہى ان كے حامى كسى صحابى نے ايسا دعوى كيا ہے_(۴)

____________________

(۱)يہ تعبير مشہور اور متعصب مفسر مو لف المنارنے بھى سورہ توبہ آيت ۱۰۰كے ذيل ميں ذكر ہے

(۲)سورہ مريم آيت۱۲

(۳)سورہ مريم آيت ۳۰

(۴)الغدير ج۲ ص ۲۴۰

۴۷۲

دعوت ذوالعشيرة

تاريخ اسلام كى رو سے آنحضرت (ص) كو بعثت كے تيسرے سال اس دعوت كا حكم ہوا كيونكہ اب تك آپ كى دعوت مخفى طورپرجارى تھى اور اس مدت ميں بہت كم لوگوں نے اسلام قبول كيا تھا ،ليكن جب يہ آيت نازل ہوئي '' وانذر عشيرتك الا قربين ''(۱)

اور يہ آيت بھى '' فاصدع بما تومرواعرض عن المشركين ''(۲) تو آپ كھلم كھلا دعوت دينے پر مامور ہوگئے اس كى ابتداء اپنے قريبى رشتہ داروں سے كرنے كا حكم ہوا _

اس دعوت اور تبليغ كى اجمالى كيفيت كچھ اس طرح سے ہے : آنحضرت (ص) نے اپنے قريبى رشتہ داروں كو جناب ابوطالب كے گھر ميں دعوت دى اس ميں تقريباً چاليس افراد شريك ہوئے آپ كے چچائوں ميں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولہب نے بھى شركت كى _

كھانا كھالينے كے بعد جب آنحضرت (ص) نے اپنا فريضہ ادا كرنے كا ارادہ فرمايا تو ابولہب نے بڑھ كر كچھ ايسى باتيں كيں جس سے سارا مجمع منتشر ہوگيالہذا آپ نے انھيں كل كے كھانے كى دعوت دے دى _

دوسرے دن كھانا كھانے كے بعد آپ نے ان سے فرمايا : '' اے عبد المطلب كے بيٹو: پورے عرب ميں مجھے كوئي ايسا شخص دكھائي نہيں ديتا جو اپنى قوم كے ليے مجھ سے بہتر چيز لايا ہو ، ميں تمہارے ليے دنيا اور آخرت كى بھلائي لے كر آيا ہوں اور خدا نے مجھے حكم ديا ہے كہ تمھيں اس دين كى دعوت دوں ، تم ميں سے كون

____________________

(۱) سورہ شعراء آيت ۲۱۴

(۲)سورہ حجرات آيہ ۹۴

۴۷۳

ہے جو اس كام ميں ميرا ہاتھ بٹائے تاكہ وہ ميرا بھائي ، ميرا وصى اور ميرا جانشين ہو'' ؟ سب لوگ خاموش رہے سوائے على بن ابى طالب كے جو سب سے كم سن تھے، على اٹھے اور عرض كى : ''اے اللہ كے رسول اس راہ ميں ميں آپ(ص) كا ياروومددگار ہوں گا'' آنحضرت (ص) نے اپنا ہاتھ على (ع) كى گردن پر ركھا اور فرمايا : ''ان ھذا اخى ووصى وخليفتى فيكم فاسمعوالہ واطيعوہ ''_ يہ (على (ع) ) تمہارے درميان ميرا بھائي ، ميرا وصى اور ميرا جانشين ہے اس كى باتوں كو سنو اور اس كے فرمان كى اطاعت كرو _ يہ سن كر سب لوگ اٹھ كھڑے ہوئے اور تمسخر آميز مسكراہٹ ان كے لبوں پر تھى ، ابوطالب (ع) سے سے كہنے لگے، ''اب تم اپنے بيٹے كى باتوں كو سنا كرو اور اس كے فرمان پر عمل كيا كرنا''_(۱)

اس روايت سے معلوم ہوتا ہے كہ آنحضرت (ص) ان دنوں كس حدتك تنہا تھے اور لوگ آپ كى دعوت كے جواب ميں كيسے كيسے تمسخرآميزجملے كہا كرتے تھے اور على عليہ السلام ان ابتدائي ايام ميں جب كہ آپ بالكل تنہا تھے كيونكر آنحضرت (ص) كے مدافع بن كر آپ كے شانہ بشانہ چل رہے تھے_

ايك اور روايت ميں ہے كہ پيغمبراكرم (ص) نے اس وقت قريش كے ہر قبيلے كا نام لے لے كر انھيں بلايا اور انھيں جہنم كے عذاب سے ڈرايا، كبھى فرماتے:'' يابنى كعب انقذواانفسكم من النار ''_

اے بنى كعب : خود كو جہنم سے بچائو، كبھى فرماتے : ''يا بنى عبد الشمس'' __ كبھى فرماتے :'' يابنى عبدمناف'' _كبھى فرماتے : ''يابنى ہاشم ''_كبھى فرماتے : ''يابنى عبد المطلب انقذ وانفسكم النار ''_ تم خودہى اپنے آپ كو جہنم سے بچائو ، ورنہ كفر كى صورت ميں ميں تمہارا دفاع نہيں كرسكوں گا _

____________________

(۱)اس روايت كو بہت سے اہل سنت علماء نے نقل كيا ہے جن ميں سے چند ايك كے نام يہ ہيں :

ابن ابى جرير، ابن ابى حاتم ، ابن مردويہ ، ابونعيم ، بيہقى ، ثعلبى اور طبرى مورخ ابن اثير نے يہ واقعہ اپنى كتاب '' كامل '' ميں اور '' ابوالفداء '' نے اپنى تاريخ ميں اور دوسرے بہت سے مورخين نے اپنى اپنى كتابوں ميں اسے درج كيا ہے مزيد اگاہى كے لئے كتاب'' المرجعات ''ص۱۳۰ كے بعد سے اور كتاب ''احقاق الحق''ج۲،ص۶۲ ملاحظہ فرمائيں

۴۷۴

ايمان ابوطالب

تمام علمائے شيعہ اور اہل سنت كے بعض بزرگ علماء مثلاً ''ابن ابى الحديد''شارح نہج البلاغہ نے اور''قسطلاني'' نے ارشاد السارى ميں اور'' زينى دحلان'' نے سيرةحلبى كے حاشيہ ميں حضرت ابوطالب كو مومنين اہل اسلام ميں سے بيان كيا ہے_اسلام كى بنيادى كتابوں كے منابع ميں بھى ہميں اس موضوع كے بہت سے شواہد ملتے ہيں كہ جن كے مطالعہ كے بعد ہم گہرے تعجب اور حيرت ميں پڑجاتے ہيں كہ حضرت ابوطالب پرايك گروہ كى طرف سے اس قسم كى بے جا تہميں كيوں لگائي گئيں ؟

جو شخص اپنے تمام وجود كے ساتھ پيغمبر اسلام كا دفاع كيا كرتا تھا اور بار ہا خوداپنے فرزند كو پيغمبراسلام كے وجود مقدس كو بچانے كے لئے خطرات كے مواقع پر ڈھال بناديا كرتا تھايہ كيسے ہوسكتا ہے كہ اس پر ايسى تہمت لگائي جائے_

يہى سبب ہے كہ دقت نظر كے ساتھ تحقيق كرنے والوں نے يہ سمجھا ہے كہ حضرت ابوطالب كے خلاف، مخالفت كى لہر ايك سياسى ضرورت كى وجہ سے ہے جو '' شجرہ خبيثہ بنى اميّہ'' كى حضرت على عليہ السلام كے مقام ومرتبہ كى مخالفت سے پيداہوئي ہے_

كيونكہ يہ صرف حضرت ابوطالب كى ذات ہى نہيں تھى كہ جو حضرت على عليہ السلام كے قرب كى وجہ سے ايسے حملے كى زد ميں آئي ہو ،بلكہ ہم ديكھتے ہيں كہ ہر وہ شخص جو تاريخ اسلام ميں كسى طرح سے بھى اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام سے قربت ركھتا ہے ايسے ناجو انمردانہ حملوں سے نہيں بچ سكا، حقيقت ميں

۴۷۵

حضرت ابوطالب كا كوئي گناہ نہيں تھا سوائے اس كے وہ حضرت على عليہ السلام جيسے عظيم پيشوائے اسلام كے باپ تھے_

ايمان ابو طالب پر سات دليل

ہم يہاں پر ان بہت سے دلائل ميں سے جو واضح طور پر ايمان ابوطالب كى گواہى ديتے ہيں كچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بيان كرتے ہيں تفصيلات كے لئے ان كتابوں كى طرف رجوع كريں جو اسى موضوع پر لكھى گئي ہيں _

۱_ حضرت ابوطالب پيغمبر اكرم (ص) كى بعثت سے پہلے خوب اچھى طرح سے جانتے تھے كہ ان كا بھتيجا مقام نبوت تك پہنچے گا كيونكہ مورخين نے لكھا ہے كہ جس سفر ميں حضرت ابوطالب قريش كے قافلے كے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سالہ بھتجے محمد (ص) كو بھى اپنے ساتھ لے گئے تھے _ اس سفر ميں انہوں نے آپ سے بہت سى كرامات مشاہدہ كيں _

ان ميں ايك واقعہ يہ ہے كہ جو نہيں قافلہ ''بحيرا''نامى راہب كے قريب سے گزرا جو قديم عرصے سے ايك گرجے ميں مشغول عبادت تھا اور كتب عہدين كا عالم تھا ،تجارتى قافلے اپنے سفر كے دوران اس كى زيارت كے لئے جاتے تھے، توراہب كى نظريں قافلہ والوں ميں سے حضرت محمد (ص) پر جم كررہ گئيں ، جن كى عمراس وقت بارہ سال سے زيادہ نہ تھى _

بحيرانے تھوڑى دير كے لئے حيران وششدر رہنے اور گہرى اور پُرمعنى نظروں سے ديكھنے كے بعد كہا:يہ بچہ تم ميں سے كس سے تعلق ركھتا ہے؟لوگوں نے ابوطالب كى طرف اشارہ كيا، انہوں نے بتايا كہ يہ ميرا بھتيجا ہے_

'' بحيرا'' نے كہا : اس بچہ كا مستقبل بہت درخشاں ہے، يہ وہى پيغمبر ہے كہ جس كى نبوت ورسالت كى آسمانى كتابوں نے خبردى ہے اور ميں نے اسكى تمام خصوصيات كتابوں ميں پڑھى ہيں _

ابوطالب اس واقعہ اور اس جيسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھى پيغمبر اكرم (ص) كى

۴۷۶

نبوت اور معنويت كو سمجھ چكے تھے _

اہل سنت كے عالم شہرستانى (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء كى نقل كے مطابق: ''ايك سال آسمان مكہ نے اپنى بركت اہل مكہ سے روك لى اور سخت قسم كى قحط سالى نے لوگوں كوگھير لياتو ابوطالب نے حكم ديا كہ ان كے بھتيجے محمد كو جو ابھى شير خوارہى تھے لاياجائے، جب بچے كو اس حال ميں كہ وہ ابھى كپڑے ميں لپيٹا ہوا تھا انہيں ديا گيا تو وہ اسے لينے كے بعد خانہ كعبہ كے سامنے كھڑے ہوگئے اور تضرع وزارى كے ساتھ اس طفل شير خوار كو تين مرتبہ اوپر كى طرف بلند كيا اور ہر مرتبہ كہتے تھے، پروردگارا، اس بچہ كے حق كا واسطہ ہم پر بركت والى بارش نازل فرما _

كچھ زيادہ دير نہ گزرى تھى كہ افق كے كنارے سے بادل كا ايك ٹكڑا نمودار ہوا اور مكہ كے آسمان پر چھا گيا اور بارش سے ايسا سيلاب آيا كہ يہ خوف پيدا ہونے لگا كہ كہيں مسجد الحرام ہى ويران نہ ہوجائے ''_

اس كے بعد شہرستانى لكھتا ہے كہ يہى واقعہ جوابوطالب كى اپنے بھتيجے كے بچپن سے اس كى نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت كرتا ہے ان كے پيغمبر پر ايمان ركھنے كا ثبوت بھى ہے اور ابوطالب نے بعد ميں اشعار ذيل اسى واقعہ كى مناسبت سے كہے تھے :

و ابيض يستسقى الغمام بوجهه

ثمال اليتامى عصمة الارامل

'' وہ ايسا روشن چہرے والا ہے كہ بادل اس كى خاطر سے بارش برساتے ہيں وہ يتيموں كى پناہ گاہ اور بيوائوں كے محافظ ہيں ''

يلوذ به الهلاك من آل هاشم

فهم عنده فى نعمة و فواضل

'' بنى ہاشم ميں سے جوچل بسے ہيں وہ اسى سے پناہ ليتے ہيں اور اسى كے صدقے ميں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ مند ہوتے ہيں ،،

۴۷۷

وميزان عدلہ يخيس شعيرة

ووزان صدق وزنہ غير ہائل

'' وہ ايك ايسى ميزان عدالت ہے كہ جو ايك جَوبرابر بھى ادھرادھر نہيں كرتا اور درست كاموں كا ايسا وزن كرنے والا ہے كہ جس كے وزن كرنے ميں كسى شك وشبہ كا خوف نہيں ہے ''

قحط سالى كے وقت قريش كا ابوطالب كى طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب كا خدا كو آنحضرت كے حق كا واسطہ دينا شہرستانى كے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظيم مورخين نے بھى نقل كيا ہے _''(۱)

اشعار ابوطالب زندہ گواہ

۲_اس كے علاوہ مشہور اسلامى كتابوں ميں ابوطالب كے بہت سے اشعار ايسے ہيں جو ہمارى دسترس ميں ہيں ان ميں سے كچھ اشعار ہم ذيل ميں پيش كررہے ہيں :

والله ان يصلواليك بجمعهم

حتى اوسدفى التراب دفينا

''اے ميرے بھتيجے خدا كى قسم جب تك ابوطالب مٹى ميں نہ سوجائے اور لحد كو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تك نہيں پہنچ سكيں گے''

فاصدع بامرك ماعليك غضاضته

وابشربذاك وقرمنك عيونا

''لہذا كسى چيز سے نہ ڈراور اپنى ذمہ دارى اور ماموريت كا ابلاع كر، بشارت دے اور آنكھوں كو ٹھنڈا كر''_

____________________

(۱) علامہ امينى نے اسے اپنى كتاب''الغدير'' ميں '' شرح بخاري'' ،''المواہب اللدنيہ'' ،'' الخصائص الكبرى '' ،'' شرح بہجتہ المحافل'' ،''سيرہ حلبي''، '' سيرہ نبوي'' اور '' طلبتہ الطالب'' سے نقل كيا ہے

۴۷۸

ودعوتنى وعلمت انك ناصحي

ولقد دعوت وكنت ثم امينا

''تونے مجھے اپنے مكتب كى دعوت دى اور مجھے اچھى طرح معلوم ہے كہ تيرا ہدف ومقصد صرف پندو نصيحت كرنا اور بيدار كرنا ہے، تو اپنى دعوت ميں امين اور صحيح ہے''

ولقد علمت ان دين محمد(ص)

من خير اديان البرية ديناً

'' ميں يہ بھى جانتا ہوں كہ محمد كا دين ومكتب تمام دينوں اور مكتبوں ميں سب سے بہتردين ہے''_

اور يہ اشعار بھى انہوں نے ہى ارشاد فرمائے ہيں :

الم تعلمواانا وجدنا محمد اً

رسولا كموسى خط فى اول الكتب

'' اے قريش كيا تمہيں معلوم نہيں ہے كہ محمد( (ص) )موسى (عليہ السلام) كى مثل ہيں اور موسى عليہ السلام كے مانند خدا كے پيغمبر اور رسول ہيں جن كے آنے كى پيشين گوئي پہلى آسمانى كتابوں ميں لكھى ہوئي ہے اور ہم نے اسے پالياہے''_

وان عليه فى العباد محبة

ولاحيف فى من خصه الله فى الحب

'' خدا كے بندے اس سے خاص لگائو ركھتے ہيں اور جسے خدا وندمتعال نے اپنى محبت كے لئے مخصوص كرليا ہو اس شخص سے يہ لگائوبے موقع نہيں ہے_''

ابن ابى الحديد نے جناب ابوطالب كے كافى اشعار نقل كرنے كے بعد (كہ جن كے مجموعہ كو ابن شہر آشوب نے '' متشابہات القرآن'' ميں تين ہزار اشعار كہا ہے) كہتا ہے : ''ان تمام اشعار كے مطالعہ سے ہمارے لئے كسى قسم كے شك وشبہ كى كوئي گنجائش باقى نہيں رہ جاتى كہ ابوطالب اپنے بھتيجے كے دين پر ايمان

۴۷۹

ركھتے تھے''_

۳_ پيغمبر اكرم (ص) سے بہت سى ايسى احاديث بھى نقل ہوئي ہيں جو آنحضرت (ص) كى ان كے فدا كار چچا ابوطالب كے ايمان پر گواہى ديتى ہيں منجملہ ان كے كتاب '' ابوطالب مومن قريش'' كے مولف كى نقل كے مطابق ايك يہ ہے كہ جب ابوطالب كى وفات ہوگئي تو پيغمبر اكرم (ص) نے ان كى تشيع جنازہ كے بعد اس سوگوارى كے ضمن ميں جو اپنے چچا كى وفات كى مصيبت ميں آپ كررہے تھے آپ يہ بھى كہتے تھے:

''ہائے ميرے بابا ہائے ابوطالب ميں آپ كى وفات سے كس قدر غمگين ہوں كس طرح آپ كى مصيبت كو ميں بھول جائوں ، اے وہ شخص جس نے بچپن ميں ميرى پرورش اور تربيت كى اور بڑے ہونے پر ميرى دعوت پر لبيك كہى ، ميں آپ كے نزديك اس طرح تھا جيسے آنكھ خانہ چشم ميں اور روح بدن ميں ''_

نيز آپ ہميشہ يہ كيا كرتے تھے :''مانالت منى قريش شيئًااكرهه حتى مات ابوطالب ''

''اہل قريش اس وقت تك كبھى ميرے خلاف ناپسنديدہ اقدام نہ كرسكے جب تك ابوطالب كى وفات نہ ہوگئي''_

۴_ ايك طرف سے يہ بات مسلم ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كو ابوطالب كى وفات سے كئي سال پہلے يہ حكم مل چكا تھا كہ وہ مشركين كے ساتھ كسى قسم كا دوستانہ رابطہ نہ ركھيں ،اس كے باوجود ابوطالب كے ساتھ اس قسم كے تعلق اور مہرو محبت كا اظہار اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) انھيں مكتب توحيد كا معتقد جانتے تھے، ورنہ يہ بات كس طرح ممكن ہوسكتى تھى كہ دوسروں كو تو مشركين كى دوستى سے منع كريں اور خود ابوطالب سے عشق كى حدتك مہرومحبت ركھيں _

۵_ان احاديث ميں بھى كہ جو اہل بيت پيغمبر كے ذريعہ سے ہم تك پہنچى ہيں حضرت ابوطالب كے ايمان واخلاص كے بڑى كثرت سے مدارك نظر آتے ہيں ، جن كا يہاں نقل كرنا طول كا باعث ہوگا، يہ احاديث منطقى استدلالات كى حامل ہيں ان ميں سے ايك حديث چوتھے امام عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے اس ميں امام عليہ السلام نے اس سوال كے جواب ميں كہ كيا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دينے كے بعد ارشاد فرمايا:

۴۸۰