قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27826
ڈاؤنلوڈ: 1543

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27826 / ڈاؤنلوڈ: 1543
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

انہوں نے عرض كيا : جب ايسا ہى ہے تو ہمارى تمنا ہے كہ ہمارے پيغمبر كو ہماراسلام كو پہنچادے ، ہمارى حالت ہمارے پسما ندگان كوبتادے اور انہيں ہمارى حالت كى بشارت دے تاكہ ہمارے بارے ميں انہيں كسى قسم كى پريشانى نہ ہو_

حنظلہ غسيل الملائلكہ

''حنظلہ بن ابى عياش'' جس رات شادى كرنا چاہتے تھے اس سے اگلے دن جنگ احد برپاہوئي پيغمبر اكرم (ص) اپنے اصحاب سے جنگ كے بارے ميں مشورہ كررہے تھے كہ وہ آپ كے پاس آئے اور عرض كى اگر رسول اللہ (ص) اجازت دےديں تو يہ رات ميں بيوى كے ساتھ گزرالوں ، آنحضرت (ص) نے انہيں اجازت دےدى _

صبح كے وقت انہيں جہاد ميں شركت كرنے كى اتنى جلدى تھى كہ وہ غسل بھى نہ كرسكے اسى حالت ميں معركہ كارزار ميں شريك ہوگئے اور بالآخر جام شہادت نوش كيا ،رسول اللہ (ص) نے ان كے بارے ميں ارشاد فرمايا :ميں نے فرشتوں كو ديكھا ہے كہ وہ آسمان وزمين كے درميان حنظلہ كو غسل دے رہے ہيں _

اسى لئے انہيں حنظلہ كو:'' غسيل الملائكہ'' كے نام سے ياد كيا جاتاہے _

۵۴۱

قبيلہ بنى نضير كى سازش

مدينہ ميں يہوديوں كے تين قبيلے رہتے تھے ، بنى نظير، بنو قريظہ اور بنو قينقاع، كہا جاتاہے كہ وہ اصلاً اہل حجازنہ تھے ليكن چونكہ اپنى مذہبى كتب ميں انہوں نے پڑھا تھا كہ ايك پيغمبر مدينہ ميں ظہور كرے گا لہذا انہوں نے اس سر زمين كى طرف كوچ كيا اور وہ اس عظيم پيغمبر (ص) كے انتظار ميں تھے_

جس وقت رسول خدا نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائي تو آپ نے ان كے ساتھ عدم تعرض كا عہد باندھا ليكن ان كو جب بھى موقع ملا انہوں نے يہ عہد توڑا _

دوسرى عہد شكنيوں كے علاوہ يہ كہ جنگ احد(جنگ احد ہجرت كے تيسرے سال واقع ہوئي ) كعب ابن اشرف چاليس سواروں كے ساتھ مكہ پہنچا وہ اور اس كے ساتھى سب قريش كے پاس اور ان سے عہد كيا كہ سب مل كر محمد (ص) كے خلاف جنگ كريں اس كے بعد ابوسفيان چاليس مكى افراد كے ساتھ اور كعب بن اشرف ان چاليس يہوديوں كے ساتھ مسجد الحرام ميں وارد ہوئے اور انہوں نے خانہ كعبہ كے پاس اپنے عہددپيمان كو مستحكم كيا يہ خبر بذريعہ وحى پيغمبر اسلام (ص) كو مل گئي_

دوسرے يہ كہ ايك روز پيغمبر اسلام (ص) اپنے چند بزرگ اصحاب كے ساتھ قبيلہ بنى نضير كے پاس آئے يہ لوگ مدينہ كے قريب رہتے تھے_

پيغمبر اسلام (ص) اور آپ كے صحابہ كا حقيقى مقصديہ تھا كہ آپ اس طرح بنى نظير كے حالات قريب سے ديكھناچاہتے تھے اس لئے كہ كہيں ايسانہ ہو كہ مسلمان غفلت كا شكار ہوكر دشمنوں كے ہاتھوں مارے

۵۴۲

جائيں _

پيغمبر اسلام (ص) يہود يوں كے قلعہ كے باہر تھے آپ(ص) نے كعب بن اشرف سے اس سلسلہ ميں بات كى اسى دوران يہوديوں كے درميان سازش ہونے لگى وہ ايك دوسرے سے كہنے لگے كہ ايسا عمدہ موقع اس شخض كے سلسلہ ميں دوبارہ ہاتھ نہيں آئے گا، اب جب كہ يہ تمہارى ديوار كے پاس بيٹھا ہے ايك آدمى چھت پر جائے اور ايك بہت بڑا پتھر اس پر پھينك دے اور ہميں اس سے نجات دلادے ايك يہودى ،جس كا نام عمر بن حجاش تھا ،اس نے آمادگى ظاہر كى وہ چھت پر چلا گيا رسول خدا (ص) بذريعہ وحى باخبر ہوگئے اور وہاں سے اٹھ كر مدينہ آگئے آپ نے اپنے اصحاب سے كوئي بات نہيں كى ان كا خيال تھا كہ پيغمبر اكرم (ص) لوٹ كر مدينہ جائيں گے ان كو معلوم ہوا كہ آپ مدينہ پہنچ گئے ہيں چنانچہ وہ بھى مدينہ پلٹ آئے يہ وہ منزل تھى كہ جہاں پيغمبر اسلام (ص) پر يہوديوں كى پيما ن شكنى واضح وثابت ہوگئي تھى آپ نے مسلمانوں كو جنگ كے لئے تيار ہوجانے كا حكم ديا_

بعض روايات ميں يہ بھى آيا ہے كہ بنى نظير كے ايك شاعر نے پيغمبر اسلام (ص) كى ہجوميں كچھ اشعار كہے اور آپ كے بارے ميں بد گوئي بھى كى ان كى پيمان شكنى كى يہ ايك اور دليل تھي_

پيغمبر اسلام (ص) نے اس وجہ سے كہ ان پر پہلے سے ايك كارى ضرب لگائيں ، محمد بن مسلمہ كو جو كعب بن اشرف رئيس يہود سے آشنائي ركھتا تھا ،حكم ديا كہ وہ كعب كو قتل كردے اس نے كعب كو قتل كرديا، كعب بن اشرف كے قتل ہوجانے نے يہوديوں كو متزلزل كرديا،ا س كے ساتھ ہى پيغمبر اكرم (ص) نے حكم ديا كہ ہر مسلمان اس عہد شكن قوم سے جنگ كرنے كے لئے چل پڑے جس وقت وہ اس صورت حال سے باخبر ہوئے تو انہوں نے اپنے مضبوط ومستحكم قلعوں ميں پناہ لے لى اور دروازے بند كرلئے ،پيغمبر اسلام (ص) نے حكم ديا كہ وہ چند كھجوروں كے درخت جو قلعوں كے قريب ہيں ، كاٹ ديے جائيں يا جلادئے جائيں _

يہ كام غالبا ًاس مقصد كے پيش نظر ہوا كہ يہودى اپنے مال واسباب سے بہت محبت ركھتے تھے وہ اس نقصان كى وجہ سے قلعوں سے باہرنكل كر آمنے سامنے جنگ كريں گے مفسرين كى طرف سے يہ احتمال بھى تجويز

۵۴۳

كيا گيا ہے كہ كاٹے جانے والے كھجوروں كے يہ درخت مسلمانوں كى تيز نقل وحركت ميں ركاوٹ ڈالتے تھے لہذا انہيں كاٹ ديا جانا چاہئے تھا بہرحال اس پر يہوديوں نے فرياد كى انہوں نے كہا :''اے محمد ًآپ تو ہميشہ اس قسم كے كاموں سے منع كرتے تھے يہ كيا سلسلہ ہے'' تو اس وقت وحى نازل ہوئي(۱) اور انہيں جواب ديا كہ يہ ايك مخصوص حكم الہى تھا_

محاصرہ نے كچھ دن طول كھينچا اور پيغمبر اسلام (ص) نے خوں ريزى سے پرہيز كرتے ہوئے ان سے كہا كہ وہ مدينہ كو خير باد كہہ ديں اور كہيں دوسرى جگہ چلے جائيں انہوں نے اس بات كو قبول كرليا كچھ سامان اپنا لے ليا اور كچھ چھوڑديا ايك جماعت'' اذرعات '' شام كى طرف اور ايك مختصر سى تعداد خيبر كى طرف چلى گئي ايك گروہ'' حيرہ'' كى طرف چلا گيا ان كے چھوڑے ہوئے اموال،زمينيں ،باغات اور گھر مسلمانوں كے ہاتھ لگے، چلتے وقت جتنا ان سے ہوسكا انہوں نے اپنے گھر توڑپھوڑدئےے يہ واقعہ جنگ احد كے چھ ماہ بعد اور ايك گروہ كى نظركے مطابق جنگ بدر كے چھ ماہ بعد ہوا(۲)

____________________

(۱)سورہ حشر ايت۵

(۲)يہ واقعہ سورہ حشركى ابتدائي آيات ميں بيان ہوا ہے.

۵۴۴

۹ حضرت رسول اكرم (ص)

جنگ احزاب

تاريخ اسلام كے اہم حادثوں ميں سے ايك جنگ احزاب بھى ہے يہ ايك ايسى جنگ جو تاريخ اسلام ميں ايك اہم تاريخى موڑ ثابت ہوئي اور اسلام وكفر كے درميان طاقت كے موازنہ كے پلڑے كو مسلمانوں كے حق ميں جھكاديا اور اس كى كاميابى آئندہ كى عظيم كاميابيوں كے لئے كليدى حيثيت اختياركر گئي اور حقيقت يہ ہے كہ اس جنگ ميں دشمنوں كى كمر ٹوٹ گئي اور اس كے بعد وہ كوئي خاص قابل ذكر كار نامہ انجام دينے كے قابل نہ رہ سكے _

'' يہ جنگ احزاب'' جيسا كہ اس كے نام سے ظاہر ہے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گرو ہوں كى طرف سے ہر طرح كا مقابلہ تھا كہ اس دين كى پيش رفت سے ان لوگوں كے ناجائز مفادات خطرے ميں پڑگئے تھے _ جنگ كى آگ كى چنگاري''نبى نضير'' يہوديوں كے اس گروہ كى طرف سے بھڑكى جو مكہ ميں آئے اور قبيلہ ''قريش'' كو آنحضرت (ص) سے لڑنے پر اكسايا اور ان سے وعدہ كيا كہ آخرى دم تك ان كا ساتھ ديں گے پھر قبيلہ ''غطفان '' كے پاس گئے اور انھيں بھى كارزار كے لئے آمادہ كيا _

ان قبائل نے اپنے ہم پيمان اور حليفوں مثلاً قبيلہ '' بنى اسد '' اور'' بنى سليم '' كو بھى دعوت دى اور چونكہ يہ سب قبائل خطرہ محسوس كئے ہوئے تھے، لہذا اسلام كا كام ہميشہ كے لئے تمام كرنے كے لئے ايك دوسرے كے ہاتھ ميں ہاتھ دےديا تاكہ وہ اس طرح سے پيغمبر كو شہيد ، مسلمانوں كو سر كوب ، مدينہ كو غارت اور اسلام كا چراغ ہميشہ كے لئے گل كرديں _

۵۴۵

كل ايمان كل كفر كے مقابلہ ميں

جنگ احزاب كفر كى آخرى كوشش ،ان كے تركش كا آخرى تيراور شرك كى قوت كا آخرى مظاہرہ تھا اسى بنا پر جب دشمن كا سب سے بڑا پہلو ان عمروبن عبدودعالم اسلام كے دلير مجاہد حضرت على ابن ابى طالب عليہ السلام كے مقابلہ ميں آيا تو پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا :''سارے كا سارا ايمان سارے كے سارے (كفر اور ) شرك كے مقابلہ ميں آگيا ہے ''_

كيونكہ ان ميں سے كسى ايك كى دوسرے پر فتح كفر كى ايمان پر يا ايمان كى كفر پر مكمل كا ميابى تھى دوسرے لفظوں ميں يہ فيصلہ كن معركہ تھا جو اسلام اور كفر كے مستقبل كا تعين كررہا تھا اسى بناء پر دشمن كى اس عظيم جنگ اور كار زار ميں كمر ٹوٹ گئي اور اس كے بعد ہميشہ مسلمانوں كاپلہ بھارى رہا _

دشمن كا ستارہ اقبال غروب ہوگيا اور اس كى طاقت كے ستون ٹوٹ گئے اسى لئے ايك حديث ميں ہے كہ حضرت رسول گرامى (ص) نے جنگ احزاب كے خاتمہ پر فرمايا :

''اب ہم ان سے جنگ كريں گے اور ان ميں ہم سے جنگ كى سكت نہيں ہے'' _

لشكر كى تعداد

بعض مو رخين نے لشكر كفار كى تعداد دس ہزار سے زيادہ لكھى ہے _مقريزى اپنى كتاب ''الا متاع '' ميں لكھتے ہيں :''صرف قريش نے چارہزار جنگ جوئوں ، تين سو گھوڑوں اور پندرہ سواونٹوں كے ساتھ خندق كے كنارے پڑائو ڈالا تھا ،قبيلہ '' بنى سليم ''سات سو افراد كے ساتھ ''مرالظہران '' كے علاقہ ميں ان سے آملا، قبيلہ ''بنى فرازہ'' ہزار افراد كے ساتھ ، ''بنى اشجع'' اور'' بنى مرہ'' كے قبائل ميں سے ہر ايك چار چار سو افراد كے ساتھ پہنچ گيا _ اور دوسرے قبائل نے بھى اپنے آدمى يہ بھيجے جن كى مجموعى تعداد دس ہزار سے بھى زيادہ بنتى ہے ''

جبكہ مسلمانوں كى تعداد تين ہزار سے زيادہ نہ تھى انہوں نے (مدينہ كے قريب )'' سلع '' نامى

۵۴۶

پہاڑى كے دامن كو جو ايك بلند جگہ تھى وہاں پر لشكر كفر نے مسلمانوں كا ہر طرف سے محاصرہ كرليا اور ايك روايت كے مطابق بيس دن دوسرى روايت كے مطابق پچيس دن اور بعض روايات كے مطابق ايك ماہ تك محاصرہ جارى رہا _

باوجوديكہ دشمن مسلمانوں كى نسبت مختلف پہلوئوں سے برترى ركھتا تھا ليكن جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں ،آخر كار ناكام ہو كر واپس پلٹ گيا_

خندق كى كھدائي

خندق كے كھودنے كا سلسلہ حضرت سلمان فارسى كے مشورہ سے وقوع پذير ہوا خندق كے اس زمانے ميں ملك ايران ميں دفاع كا موثر ذريعہ تھا اور جزيرة العرب ميں اس وقت تك اس كى مثال نہيں تھى اور عرب ميں اس كا شمار نئي ايجادات ميں ہوتا تھا اطراف مدينہ ميں اس كا كھود نا فوجى لحاظ سے بھى اہميت كا حامل تھا يہ خندق دشمن كے حوصلوں كو پست كرنے اور مسلمانوں كے لئے روحانى تقويت كا بھى ايك موثر ذريعہ تھى _

خندق كے كو ائف اور جزئيات كے بارے ميں صحيح طور پر معلومات تك رسائي تو نہيں ہے البتہ مورخين نے اتنا ضرور لكھا ہے كہ اس كا عرض اتنا تھاكہ دشمن كے سوار جست لگا كر بھى اس كو عبور نہيں كرسكتے تھے اس كى گہرائي يقينا اتنى تھى كہ اگر كو ئي شخص اس ميں داخل ہوجاتاہے تو آسانى كے ساتھ دوسرى طرف باہر نہيں نكل سكتا تھا ،علاوہ ازيں مسلمان تير اندازوں كا خندق والے علاقے پر اتنا تسلط تھا كہ اگر كوئي شخص خندق كو عبور كرنے كا ارداہ كرتا تھا تو ان كے لئے ممكن تھا كہ اسے خندق كے اندرہى تير كا نشانہ بناليتے _

رہى اس كى لمبائي تو مشہور روايت كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ حضرت رسالت ماب (ص) نے دس ،دس افراد كو چاليس ہاتھ (تقريباً ۲۰ ميڑ) خندق كھودنے پر مامور كيا تھا،اور مشہور قول كے پيش نظر لشكر اسلام كى تعداد تين ہزار تھى تو مجموعى طورپر اس كى لمبائي اندازاً بارہ ہزار ہاتھ (چھ ہزار ميڑ) ہوگي_

اس بات كا بھى اعتراف كرنا چاہئے كہ اس زمانے ميں نہايت ہى ابتدائي وسائل كے ساتھ اس قسم كى

۵۴۷

خندق كھودنا بہت ہى طاقت فرسا كام تھا خصوصاً جب كہ مسلمان خوراك اور دوسرے وسائل كے لحاظ سے بھى سخت تنگى ميں تھے _

يقينا خندق كھودى بھى نہايت كم مدت ميں گئي يہ امر اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ لشكر اسلام پورى ہوشيارى كے ساتھ دشمن كے حملہ آور ہونے سے پہلے ضرورى پيش بندى كرچكا تھا اور وہ بھى اس طرح سے كہ لشكر كفر كے مدينہ پہنچنے سے تين دن پہلے خندق كى كھدائي كا كام مكمل ہوچكا تھا _

عمرو بن عبدود دسے حضرت على (ع) كى تاريخى جنگ

اس جنگ كا ايك اہم واقعہ حضرت على عليہ السلام كا دشمن كے لشكر كے نامى گرامى پہلو ان عمروبن عبددد كے ساتھ مقابلہ تھا تاريخ ميں آيا ہے كہ لشكر احزاب نے جن دلاوران عرب ميں سے بہت طاقت ور افراد كو اس جنگ ميں اپنى امداد كے لئے دعوت دے ركھى تھي، ان ميں سے پانچ افراد زيادہ مشہور تھے، عمروبن عبدود ، عكرمہ بن ابى جہل ،ہبيرہ ، نوفل اور ضرار يہ لوگ دوران محاصرہ ايك دن دست بدست لڑائي كے لئے تيار ہوئے ، لباس جنگ بدن پر سجايا اور خندق كے ايك كم چوڑے حصے سے ، جو مجاہدين اسلام كے تيروں كى پہنچ سے كسى قدر دور تھا ، اپنے گھوڑوں كے ساتھ دوسرى طرف جست لگائي اور لشكر اسلام كے سامنے آكھڑے ہوئے ان ميں سے عمروبن عبدود زيادہ مشہور اور نامور تھا اس كي''كوئي ہے بہادر ''كى آواز ميدان احزاب ميں گونجى اور چونكہ مسلمانوں ميں سے كوئي بھى اس كے مقابلہ كے لئے تيار نہ ہوا لہذا وہ زيادہ گستاخ ہوگيا اور مسلمانوں كے عقايد اورنظريات كا مذاق اڑا نے لگا اور كہنے لگا :

''تم تويہ كہتے ہو كہ تمہارے مقتول جنت ميں ہيں اور ہمارے مقتول جہنم ميں توكياتم ميں سے كوئي بھى ايسا نہيں جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے جہنم كى طرف روانہ كرے ؟''

اس موقع پر پيغمبر اسلام (ص) نے حكم ديا كہ كوئي شخص كھڑا ہواور اس كے شر كو مسلمانوں كے سرسے كم كردے ليكن حضرت على ابن ابى طالب عليہ السلام كے سوا كوئي بھى اس كے ساتھ جنگ كے لئے آمادہ نہ ہوا تو آنحضرت نے على ابن اطالب عليہ السلام سے فرمايا : يہ عمر وبن عبدود ہے '' حضرت على عليہ السلام نے عرض كى

۵۴۸

حضور : ميں بالكل تيار ہوں خواہ عمروہى كيوں نہ ہو، پيغمبر اكرم (ص) نے ان سے فرمايا '' ميرے قريب آئو : چنانچہ على عليہ السلام آپ كے قريب گئے اور آنحضرت (ص) نے ان كے سر پر عمامہ باندھا اور اپنى مخصوص تلوار ذوالفقار انہيں عطا فرمائي اور ان الفاظ ميں انھيں دعا دى :

خدايا ،على كے سامنے سے ، پيچھے سے ، دائيں اور بائيں سے اور اوپر اور نيچے سے حفاظت فرما _

حضرت على عليہ السلام بڑى تيزى سے عمرو كے مقابلہ كےلئے ميدان ميں پہنچ گئے _

يہى وہ موقع تھا كہ پيغمبر اكرم (ص) ختمى المرتبت (ص) نے وہ مشہور جملہ ارشاد فرمايا :

''كل ايمان كل كفر كے مقابلہ ميں جارہا ہے ''_

ضربت على (ع) ثقلين كى عبادت پر بھاري

امير المو منين على عليہ السلام نے پہلے تو اسے اسلام كى دعوت دى جسے اس نے قبول نہ كيا پھر ميدان چھوڑكر چلے جانے كو كہا اس پر بھى اس نے انكار كيا اور اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھا آپ كى تيسرى پيشكش يہ تھى كہ گھوڑے سے اتر آئے اور پيادہ ہوكر دست بدست لڑائي كرے _

عمرو آگ بگولہ ہوگيا اور كہا كہ ميں نے كبھى سوچا بھى نہ تھا كہ عرب ميں سے كوئي بھى شخص مجھے ايسى تجويزدے گا گھوڑے سے اتر آيا اور على عليہ السلام پر اپنى تلوار كا وار كيا ليكن اميرالمومنين على عليہ السلام نے اپنى مخصوص مہارت سے اس وار كو اپنى سپركے ذريعے روكا ،مگر تلوار نے سپر كو كاٹ كرآپ كے سرمبارك كو زخمى كرديا اس كے بعد حضرت على عليہ السلام نے ايك خاص حكمت عملى سے كام ليا عمر وبن عبدود سے فرمايا :تو عرب كا زبردست پہلو ان ہے ، جب كہ ميں تجھ سے تن تنہا لڑرہا ہوں ليكن تو نے اپنے پيچھے كن لوگوں كو جمع كرركھا ہے اس پر عمر ونے جيسے ہى پيچھے مڑكر ديكھا _

حضرت على عليہ السلام نے عمرو كى پنڈلى پر تلوار كا وار كيا ، جس سے وہ سروقد زمين پر لوٹنے لگا شديد گردوغبار نے ميدان كى فضا كو گھيرركھا تھا كچھ منافقين يہ سوچ رہے تھے كہ حضرت على عليہ السلام ، عمرو كے

۵۴۹

ہاتھوں شہيد ہوگئے ہيں ليكن جب انھوں نے تكبير كى آواز سنى تو على كى كاميابى ان پر واضح ہوگئي اچانك لوگوں نے ديكھا كہ آپ كے سرمبارك سے خون بہہ رہا تھا اور لشكر گاہ اسلام كى طرف خراماں خراماں واپس آرہے تھے جبكہ فتح كى مسكراہٹ آپ كے لبوں پر كھيل رہى تھى اور عمر و كا پيكر بے سر ميدان كے كنارے ايك طرف پڑا ہوا تھا _

عرب كے مشہور پہلوان كے مارے جانے سے لشكر احزاب اور ان كى آرزوئوں پر ضرب كارى لگى ان كے حوصلے پست اور دل انتہائي كمزور ہوگئے اس ضرب نے ان كى فتح كى آرزوو ں پر پانى پھيرديا اسى بناء پر آنحضرت (ص) نے اس كاميابى كے بارے ميں حضرت على عليہ السلام سے ارشاد فرمايا :

''اگر تمہارے آج كے عمل كو سارى امت محمد كے اعمال سے موازنہ كريں تو وہ ان پر بھارى ہوگا، كيونكہ عمرو كے مارے جانے سے مشركين كا كوئي ايسا گھر باقى نہيں رہا جس ميں ذلت وخوارى داخل نہ ہوئي ہو اور مسلمانوں كا كوئي بھى گھر ايسا نہيں ہے جس ميں عمرو كے قتل ہوجانے كى وجہ سے عزت داخل نہ ہوئي ہو'' _

اہل سنت كے مشہور عالم ، حاكم نيشاپورى نے اس گفتگو كو نقل كيا ہے البتہ مختلف الفاظ كے ساتھ اور وہ يہ ہے :

'' لمبارزة على بن ابيطالب لعمروبن عبدود يوم الخندق افضل من اعمال امتى الى يوم القيامة ''

'' يعنى على بن ابى طالب كى خندق كے دن عمروبن عبدود سے جنگ ميرى امت كے قيامت تك كے اعمال سے ا فضل ہے ''

آپ كے اس ارشاد كا فلسفہ واضح ہے ، كيونكہ اس دن اسلام اور قرآن ظاہراً نابودى كے كنارے پر پہنچ چكے تھے، ان كے لئے زبردست بحرانى لمحات تھے،جس شخص نے پيغمبر اكرم (ص) كى فداكارى كے بعد اس ميدان ميں سب سے زيادہ ايثار اور قربانى كا ثبوت ديا،اسلام كو خطرے سے محفوظ ركھا، قيامت تك اس كے دوام كى ضمانت دي،اس كى فداكارى سے اسلام كى جڑيں مضبوط ہوگئيں اور پھر اسلام عالمين پر پھيل گيا

۵۵۰

لہذا سب لوگوں كى عبادتيں اسكى مرہون منت قرار پا گئيں _

بعض مورخين نے لكھا ہے كہ مشركين نے كسى آدمى كو پيغمبر (ص) كى خدمت ميں بھيجا تاكہ وہ عمر و بن عبدود كے لاشہ كو دس ہزار درہم ميں خريد لائے (شايد ان كا خيال يہ تھا كہ مسلمان عمرو كے بدن كے ساتھ وہى سلوك كريں گے جو سنگدل ظالموں نے حمزہ(ص) كے بدن كےساتھ جنگ ميں كياتھا)ليكن رسول اكرم(ص) نے فرمايا: اس كا لاشہ تمھا رى ملكيت ہے ہم مردوں كى قيمت نہيں ليا كرتے_

يہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ جس وقت عمرو كى بہن اپنے بھائي كے لاشہ پر پہنچى اوراس كى قيمتى زرہ كو ديكھا كہ حضرت على عليہ السلام نے اس كے بدن سے نہيں اتارى تو اس نے كہا:

''ميں اعتراف كرتى ہوں كہ اس كا قاتل كريم اور بزرگوارشخص ہى تھا''

نعيم بن مسعود كى داستان اور دشمن كے لشكر ميں پھوٹ

نعيم جو تازہ مسلمان تھے اور ان كے قبيلہ''غطفان ''كو لشكر اسلام كى خبر نہيں تھي،وہ پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں آئے اور عرض كى كہ آپ(ص) مجھے جو حكم بھى ديں گے ،ميں حتمى كاميابى كے لئے اس پر كار بند رہوں گا_

رسول اللہ (ص) نے فرمايا :

''تمہارے جيسا شخص ہمارے درميان اور كوئي نہيں ہے _اگر تم دشمن كے لشكر كے درميان پھوٹ ڈال سكتے ہو تو ڈ الو _كيونكہ جنگ پوشيدہ تدابير كا مجموعہ ہے ''_

نعيم بن مسعود نے ايك عمدہ تدبير سوچى اور وہ يہ كہ وہ بنى قريظہ كے يہوديوں كے پاس گيا ،جن سے زمانہ جاہليت ميں ان كى دوستى تھى ان سے كہا اے بنى قريظہ تم جانتے ہوكہ مجھے تمہارے ساتھ محبت ہے_

انھوں نے كہا آپ سچ كہتے ہيں :ہم آپ پراس بارے ميں ہر گز كوئي الزام نہيں لگاتے _

نعيم بن مسعود نے كہا :قبيلہ قريش اور عظفان تمہارى طرح نہيں ہيں ، يہ تمہارا اپنا شہر ہے، تمہارا مال

۵۵۱

اولاد اور عورتيں يہاں پر ہيں اور تم ہر گز يہ نہيں كر سكتے كہ يہاں سے كو چ كر جا ئو_

قريش اور قبيلہ عظفان محمد(ص) اور ان كے اصحاب كے ساتھ جنگ كرنے كے لے آئے ہوئے ہيں اور تم نے ان كى حمايت كى ہے جبكہ ان كا شہر كہيں او رہے اور ان كے مال او رعورتيں بھى دوسرى جگہ پر ہيں ، اگر انھيں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گرى كر كے اپنے ساتھ لے جائيں گے، اگر كوئي مشكل پيش آجا ئے تو اپنے شہر كو لوٹ جائيں گے، ليكن تم كو اور محمد(ص) كو تو اسى شہر ميں رہنا ہے او ريقيناتم اكيلے ان سے مقابلہ كرنے كى طاقت نہيں ركھتے ،تم اس وقت تك اسلحہ نہ اٹھائوجب تك قريش سے كوئي معاہدہ نہ كر لو او رو ہ اس طرح كہ وہ چندسرداروں اور بزرگوں كو تمہارے پاس گروى ركھ ديں تاكہ وہ جنگ ميں كو تاہى نہ كريں _

بنى قريظہ كے يہوديوں نے اس نظريہ كوبہت سراہا_

پھر نعيم مخفى طور پر قريش كے پاس گيا اور ابو سفيان اور قريش كے چندسرداروں سے كہا كہ تم اپنے ساتھ ميرى دوستى كى كيفيت سے اچھى طرح آگاہ ہو، ايك بات ميرے كانوں تك پہنچى ہے، جسے تم تك پہنچا نا ميں اپنا فريضہ سمجھتا ہوں تا كہ خير خواہى كا حق اداكر سكوں ليكن ميرى خواہش يہ ہے كہ يہ بات كسى او ركو معلو م نہ ہونے پائے _

انھوں نے كہا كہ تم بالكل مطمئن رہو _

نعيم كہنے لگے : تمہيں معلوم ہو نا چاہيے كہ يہودى محمد(ص) كے بارے ميں تمھارے طرز عمل سے اپنى برائت كا فيصلہ كر چكے ہيں ،يہوديوں نے محمد(ص) كے پاس قاصد بھيجا ہے او ركہلوايا ہے كہ ہم اپنے كئے پر پشيمان ہيں اور كيا يہ كافى ہو گا كہ ہم قبيلہ قريش او رغطفان كے چندسردار آپ(ص) كے لئے يرغمال بناليں اور ان كو بندھے ہاتھوں آپ كے سپرد كرديں تاكہ آپ ان كى گردن اڑاديں ، اس كے بعد ہم آپ كے ساتھ مل كر ان كى بيخ كنى كريں گے ؟محمد(ص) نے بھى ان كى پيش كش كوقبول كرليا ہے، اس بنا ء پر اگر يہودى تمہارے پاس كسى كو بھيجيں او رگروى ركھنے كا مطالبہ كريں تو ايك آدمى بھى ان كے سپرد نہ كر نا كيونكہ خطرہ يقينى ہے _

پھر وہ اپنے قبيلہ غطفان كے پاس آئے اور كہا :تم ميرے اصل اور نسب كو اچھى طرح جانتے ہو_

۵۵۲

ميں تمھاراعاشق او رفريفتہ ہوں او رميں سوچ بھى نہيں سكتا كہ تمھيں ميرے خلوص نيت ميں تھوڑا سابھى شك اور شبہ ہو _

انھوں نے كہا :تم سچ كہتے ہو ،يقينا ايسا ہى ہے _

نعيم نے كہا : ميں تم سے ايك بات كہنا چاہتا ہوں ليكن ايسا ہو كہ گو يا تم نے مجھ سے بات نہيں سنى _

انھوں نے كہا :مطمئن رہويقينا ايسا ہى ہو گا ،وہ بات كيا ہے ؟

نعيم نے وہى بات جو قريش سے كہى تھى يہوديوں كے پشيمان ہونے او رير غمال بنانے كے ارادے كے بارے ميں حرف بحرف ان سے بھى كہہ ديا او رانھيں اس كام كے انجام سے ڈرايا _

اتفاق سے وہ ( ماہ شوال سن ۵ ہجرى كے ) جمعہ او رہفتہ كى درميانى رات تھى _ ابو سفيان او رغطفان كے سرداروں نے ايك گروہ بنى قريظہ كے يہوديوں كے پاس بھيجا او ركہا : ہمارے جانور يہاں تلف ہو رہے ہيں اور يہاں ہمارے لئے ٹھہر نے كى كو ئي جگہ نہيں _ كل صبح ہميں حملہ شروع كرنا چاہيے تاكہ كام كو كسى نتيجے تك پہنچائيں _

يہوديوں نے جواب ميں كہا :كل ہفتہ كا دن ہے او رہم اس دن كسى كام كو ہاتھ نہيں لگاتے ،علاوہ ازيں ہميں اس بات كا خوف ہے كہ اگر جنگ نے تم پر دبائو ڈالا تو تم اپنے شہروں كى طرف پلٹ جائو گے او رہميں يہاں تنہاچھوڑدوگے _ ہمارے تعاون او رساتھ دينے كى شرط يہ ہے كہ ايك گروہ گروى كے طور پر ہمارے حوالے كردو، جب يہ خبر قبيلہ قريش او رغطفان تك پہنچى تو انھوں نے كہا :خداكى قسم نعيم بن مسعود سچ كہتا تھا،دال ميں كالا ضرو رہے _

لہذا انھوں نے اپنے قاصد يہوديوں كے پاس بھيجے اور كہا : بخدا ہم تو ايك آدمى بھى تمھارے سپرد نہيں كريں گے او راگر جنگ ميں شريك ہو تو ٹھيك ہے شروع كرو _

بنى قريظہ جب اس سے با خبر ہوئے تو انھوں نے كہا :واقعا نعيم بن مسعود نے حق بات كہى تھى يہ جنگ نہيں كرنا چاہتے بلكہ كوئي چكر چلا رہے ہيں ، يہ چا ہتے ہيں كہ لوٹ مار كر كے اپنے شہروں كو لوٹ جائيں او

۵۵۳

رہميں محمد(ص) كے مقابلہ ميں اكيلا چھوڑجا ئيں پھر انہوں نے پيغام بھيجا كہ اصل بات وہى ہے جو ہم كہہ چكے ہيں ،بخدا جب تك كچھ افرادگروى كے طور پر ہمارے سپرد نہيں كروگے ،ہم بھى جنگ نہيں كريں گے ،قريش اورغطفان نے بھى اپنى بات پراصرار كيا، لہذا ان كے درميان بھى اختلاف پڑ گيا _ اور يہ وہى موقع تھا كہ رات كو اس قدر زبردست سرد طوفانى ہوا چلى كہ ان كے خيمے اكھڑگئے اور ديگيں چو لہوں سے زمين پر آپڑيں _

يہ سب عوامل مل ملاكر اس بات كا سبب بن گئے كہ دشمن كو سر پر پائوں ركھ كر بھا گنا پڑا اور فرار كو قرار پر ترجيح دينى پڑى _ يہاں تك كہ ميدان ميں انكا ايك آدمى بھى نہ رہا_

حذيفہ كا واقعہ

بہت سى تواريخ ميں آيا ہے ،كہ حذيفہ يمانى كہتے ہيں كہ ہم جنگ خندق ميں بھوك او رتھكن ،وحشت اوراضطراب اس قدر دو چار تھے كہ خدا ہى بہتر جانتا ہے ،ايك رات (لشكر احزاب ميں اختلاف پڑ جانے كے بعد )پيغمبر (ص) نے فرمايا:كيا تم ميں سے كوئي ايسا شخص ہے جو چھپ چھپا كر دشمن كى لشكر گاہ ميں جائے اور ان كے حالات معلوم كر لائے تا كہ وہ جيت ميں ميرا رفيق اور ساتھى ہو_

حذيفہ كہتے ہيں : خدا كى قسم كوئي شخض بھى شدت وحشت ، تھكن اور بھوك كے مارے اپنى جگہ سے نہ اٹھا _

جس وقت آنحضرت(ص) نے يہ حالت ديكھى تو مجھے آوازدي، ميں آپ كى خدمت ميں حاضر ہوا تو فرماياجائو اور ميرے پاس ان لوگوں كى خبر لے آئو _ ليكن وہاں كوئي اور كام انجام نہ دينا يہاں تك كہ ميرے پاس آجائو _

ميں ايسى حالت ميں وہاں پہنچا جب كہ سخت آندھى چل رہى تھى اور طوفان برپا تھا اور خدا كا يہ لشكر انھيں تہس نہس كررہا تھا _ خيمے تيز آندھى كے سبب ہوا ميں اڑ رہے تھے _ آگ بيابان ميں پھيل چكى تھي_ كھانے كے برتن الٹ پلٹ گئے تھے اچانك ميں نے ابو سفيان كا سايہ محسوس كياكہ وہ اس تاريكى ميں بلند آواز سے كہہ رہا تھا: اے قريش تم ميں سے ہر ايك اپنے پہلو ميں بيٹھے ہوئے كو اچھى طرح سے پہچان لے تا

۵۵۴

كہ يہاں كوئي بے گانہ نہ ہو ، ميں نے پہل كر كے فوراًہى اپنے پاس بيٹھنے والے شخص سے پوچھا كہ تو كون ہے ؟ اس نے كہا ، فلاں ہوں ، ميں نے كہابہت اچھا _

پھر ابو سفيان نے كہا:خدا كى قسم يہ ٹھہرنے كى جگہ نہيں ہے، ہمارے اونٹ گھوڑے ضائع ہو چكے ہيں اور بنى قريظہ نے اپنا پيمان توڑ ڈالا ہے اور اس طوفان نے ہمارے لئے كچھ نہيں چھوڑا _

پھر وہ بڑى تيزى سے اپنے اونٹ كى طرف بڑھا اور سوار ہو نے كے لئے اسے زمين سے اٹھا يا، اور اس قدر جلدى ميں تھا كہ اونٹ كے پائوں ميں بندھى ہوئي رسى كھولنا بھول گيا ،لہذا اونٹ تين پائوں پر كھڑا ہو گيا، ميں نے سوچا ايك ہى تيرسے اسكا كام تمام كردوں ،ابھى تير چلہ كمان ميں جوڑا ہى تھا كہ فوراًآنحضرت(ص) كا فرمان يادآگيا كہ جس ميں آپ (ص) نے فرمايا تھا كچھ كاروائي كے بغير واپس آجا نا،تمہارا كام صرف وہاں كے حالات ہمارے پاس لانا ہے، لہذا ميں واپس پلٹ گيا اور جا كر تمام حا لات عرض كئے _ پيغمبر اكرم (ص) نے بارگاہ ايزدى ميں عرض كيا :

''خداوندا تو كتاب كو نازل كرنے والا او رسريع الحساب ہے ، توخود ہى احزاب كو نيست و نا بو دفرما خدايا انہيں تباہ كردے اور ان كے پائوں نہ جمنے دے ''_

جنگ احزاب قرآن كى روشنى ميں

قرآن اس ماجرا تفصيل بيان كرتے ہوئے كہتا ہے: ''اے وہ لوگ جو ايمان لائے ہو، اپنے اوپر خدا كى عظيم نعمت كو ياد كرو،اس موقع پر جب كہ عظيم لشكر تمہارى طرف آئے ''_(۱)

''ليكن ہم نے ان پر آندھى اور طوفان بھيجے اور ايسے لشكر جنہيں تم نہيں ديكھتے رہے تھے اور اس ذريعہ سے ہم نے ان كى سركوبى كى اور انھيں تتر بتر كرديا ''_(۲)

'' نہ دكھنے والے لشكر '' سے مراد جو رسالت ماب (ص) كى نصرت كے لئے آئے تھے ، وہى فرشتے

____________________

(۱)سورہ احزاب آيت ۹

(۲) سورہ احزاب آيت ۹

۵۵۵

تھے جن كا مومنين كى جنگ بدر ميں مدد كرنا بھى صراحت كے ساتھ قرآن مجيد ميں آيا ہے ليكن جيسا (كہ سورہ انفال كى آيہ ۹ كے ذيل ميں ) ہم بيان كرچكے ہيں ہمارے پاس كوئي دليل نہيں ہے كہ يہ نظر نہ آنے والا فرشتوں كا خدائي لشكر باقاعدہ طور پر ميدان ميں داخل ہوا اور وہ جنگ ميں بھى مصروف ہوا ہو بلكہ ايسے قرائن موجود ہيں جو واضح كرتے ہيں كہ وہ صرف مومنين كے حوصلے بلند كرنے اور ان كا دل بڑھانے كے لئے نازل ہوئے تھے _

بعد والى آيت جو جنگ احزاب كى بحرانى كيفيت ، دشمنوں كى عظيم طاقت اور بہت سے مسلمانوں كى شديد پريشانى كى تصوير كشى كرتے ہوئے يوں كہتى ہے '' اس وقت كو ياد كرو جب وہ تمہارے شہر كے اوپر اور نيچے سے داخل ہوگئے ،اور مدينہ كو اپنے محاصرہ ميں لے ليا) اور اس وقت كو جب آنكھيں شدت وحشت سے پتھرا گئي تھيں اور جاں بلب ہوگئے تھے اور خدا كے بارے ميں طرح طرح كى بدگمانيان كرتے تھے ''_(۱)

اس كيفيت سے مسلمانوں كى ايك جماعت كے لئے غلط قسم كے گمان پيدا ہوگئے تھے كيونكہ وہ ابھى تك ايمانى قوت كے لحاظ سے كمال كے مرحلہ تك نہيں پہنچ پائے تھے يہ وہى لوگ ہيں جن كے بارے ميں بعد والى آيت ميں كہتا ہے كہ وہ شدت سے متزلزل ہوئے _

شايدان ميں سے كچھ لوگ گمان كرتے تھے كہ آخر كار ہم شكست كھا جائيں گے اور اس قوت و طاقت كے ساتھ دشمن كا لشكر كامياب ہوجائے گا، اسلام كے ز ندگى كے آخر ى دن آپہنچے ہيں اور پيغمبر (ص) كا كا ميابى كا وعدہ بھى پورا ہوتا دكھا ئي نہيں ديتا _

البتہ يہ افكار اور نظريات ايك عقيدہ كى صورت ميں نہيں بلكہ ايك وسوسہ كى شكل ميں بعض لوگوں كے دل كى گہرائيوں ميں پيدا ہو گئے تھے بالكل ويسے ہى جيسے جنگ احد كے سلسلہ ميں قرآن مجيد ان كا ذكر كرتے ہو ئے كہتا ہے :''يعنى تم ميں سے ايك گروہ جنگ كے ان بحرانى لمحات ميں صرف اپنى جان كى فكر ميں تھا اور

____________________

(۱)سورہ احزاب ايت۱۰

۵۵۶

دورجا ہليت كے گمانوں كى مانند خدا كے بارے ميں بدگمانى كررہے تھے ''_

يہى وہ منزل تھى كہ خدائي امتحان كا تنور سخت گرم ہوا جيسا كہ بعد والى آيت كہتى ہے كہ ''وہاں مومنين كو آزمايا گيا اور وہ سخت دہل گئے تھے_(۱)

فطرى امر ہے كہ جب انسان فكرى طوفانوں ميں گھر جاتا ہے تو اس كا جسم بھى ان طوفانوں سے لا تعلق نہيں رہ سكتا ،بلكہ وہ بھى اضطراب اور تزلزل كے سمندر ميں ڈوبنے لگتا ہے ،ہم نے اكثر ديكھا ہے كہ جب لوگ ذہنى طور پر پريشان ہوتے ہيں تو وہ جہاں بھى بيٹھتے ہيں اكثر بے چين رہتے ہيں ، ہاتھ ملتے كاپنتے رہتے ہيں اور اپنے اضطراب اور پريشانيوں كو اپنى حركات سے ظاہر كرتے رہتے ہيں _

اس شديد پريشانى كے شواہد ميں سے ايك يہ بھى تھا جسے مورخين نے بھى نقل كيا ہے كہ عرب كے پانچ مشہور جنگجو پہلوان جن كا سردار عمرو بن عبدود تھا ،جنگ كا لباس پہن كر اورمخصوص غرور اور تكبر كے ساتھ ميدان ميں آئے اور ''ھل من مبارز''( ہے كو ئي مقابلہ كرنے والا )كى آواز لگانے لگے ، خاص كر عمرو بن عبدود رجز پڑھ كر جنت اور آخرت كا مذاق اڑا رہا تھا ،وہ كہہ رہا تھا كہ ''كيا تم يہ نہيں كہتے ہوكہ تمہارے مقتول جنت ميں جائيں گے ؟تو كيا تم ميں سے كوئي بھى جنت كے ديدار كا شوقين نہيں ہے ؟ليكن اس كے ان نعروں كے برخلاف لشكر اسلام پر بُرى طرح كى خاموشى طارى تھى اور كوئي بھى مقابلہ كى جر ائت نہيں ركھتا تھا سوائے على بن ابى طالب عليہ السلام كے جو مقابلہ كے لئے كھڑے ہوئے اور مسلمانوں كو عظيم كاميابى سے ہم كنار كرديا _اس كى تفصيل نكات كى بحث ميں آئےگي_

جى ہاں جس طرح فولاد كو گرم بھٹى ميں ڈالتے ہيں تا كہ وہ نكھر جائے اسى طرح اوائل كے مسلمان بھى جنگ احزاب جيسے معركوں كى بھٹى ميں سے گزريں تا كہ كندن بن كر نكليں او رحوادثات كے مقابل ميں جرا ت اور پا مردى كا مظاہرہ كر سكيں _

____________________

(۱)سورہ احزاب آيت ۱۱

۵۵۷

منافقين او رضعيف الايمان جنگ احزاب ميں

ہم كہہ چكے ہيں كہ امتحان كى بھٹى جنگ احزاب ميں گرم ہوئي او رسب كے سب اس عظيم امتحان ميں گھر گئے_ واضح رہے كہ اس قسم كے بحرانى دور ميں جولوگ عام حالات ميں ظاہراًايك ہى صف ميں قرارپاتے ہيں ،كئي صفوں ميں بٹ جاتے ہيں ،يہاں پربھى مسلمان مختلف گروہوں ميں بٹ گئے تھے، ايك جماعت سچے مومنين كى تھى ،ايك گروہ ہٹ دھرم اور سخت قسم كے منافقين كا تھا اور ايك گروہ اپنے گھر بار ،زندگى اور بھاگ كھڑے ہونے كى فكر ميں تھا ،اور كچھ لوگوں كى يہ كوشش تھى كہ دوسرے لوگوں كو جہاد سے روكيں _ اور ايك گروہ اس كوشش ميں مصروف تھا كہ منافقين كے ساتھ اپنے رشتہ كو محكم كريں _

خلاصہ يہ كہ ہر شخص نے اپنے باطنى اسراراس عجيب ''عرصہ محشر''اور ''يوم البروز''ميں آشكار كرديئے_

ميں نے ايران، روم اور مصركے محلوں كو ديكھا ہے

خندق كھودنے كے دوران ميں جب ہر ايك مسلمان خندق كے ايك حصہ كے كھودنے ميں مصروف تھا تو ايك مرتبہ پتھر كے ايك سخت اوربڑے ٹكڑے سے ان كا سامنا ہوا كہ جس پر كوئي ہتھوڑا كار گر ثابت نہيں ہورہا تھا ،حضرت رسالت مآب (ص) كو خبر دى گئي تو آنحضرت (ص) بنفس نفيس خندق ميں تشريف لے گئے او راس پتھر كے پاس كھڑے ہو كراورہتھوڑا لے كر پہلى مرتبہ ہى اس كے دل پر ايسى مضبوط چوٹ لگائي كہ اس كا كچھ حصہ ريزہ ريزہ ہو گيا اور اس سے ايك چمك نكلى جس پر آپ(ص) نے فتح وكامرانى كى تكبير بلند كي_ آپ(ص) كے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے بھى تكبيركہي_

آپ(ص) نے ايك اورسخت چوٹ لگائي تو اس كا كچھ حصہ او رٹوٹا اوراس سے بھى چمك نكلي_اس پر بھى سروركونين (ص) نے تكبيركہى اور مسلمانوں نے بھى آپ(ص) (ص) (ص) كے ساتھ تكبيركہى آخر كاآپ(ص) نے تيسرى چوٹھى لگائي جس سے بجلى كوند ى اورباقى ماندہ پتھر بھى ٹكڑے ٹكڑے ہو گيا ،حضوراكرم (ص) نے پھر تكبير كہى او ر

۵۵۸

مسلمانوں نے بھى ايسا ہى كيا، اس موقع پر جناب سلمان فارسي نے اس ماجرا كے بارے ميں دريافت كيا تو سركاررسالت مآب (ص) نے فرمايا :''پہلى چمك ميں ميں نے ''حيرہ''كى سرزمين او رايران كے بادشاہوں كے قصر ومحلات ديكھے ہيں او رجبرئيل نے مجھے بشارت دى ہے كہ ميرى امت ان پر كاميابى حاصل كرے گي،دوسرى چمك ميں ''شام او رروم''كے سرخ رنگ كے محلات نماياں ہوئے او رجبرئيل نے پھر بشارت دى كہ ميرى امت ان پرفتح ياب ہوگي، تيسرى چمك ميں مجھے ''صنعا و يمن ''كے قصور ومحلات دكھائي ديئےورجبرئيل نے نويد دى كہ ميرى امت ان پربھى كاميابى حاصل كرے گي، اے مسلمانوتمھيں خوشخبرى ہو

منافقين نے ايك دوسرے كى طرف ديكھا او ركہا: كيسى عجيب و غريب باتيں كر رہے ہيں اور كيا ہى باطل اور بے بنياد پروپيگنڈاہے ؟مدينہ سے حيرہ او رمدائن كسرى كو تو ديكھ كر تمہيں ان كے فتح ہونے كى خبرديتا ہے حالانكہ اس وقت تم چند عربوں كے چنگل ميں گرفتا رہو (او رخو ددفاعى پوزيشن اختيار كئے ہوئے ہو )تم تو'' بيت الحذر''(خوف كى جگہ ) تك نہيں جا سكتے ( كيا ہى خيال خام او رگمان باطل ہے _

الہى وحى نازل ہوئي او ركہا:

''يہ منا فق او ردل كے مريض كہتے ہيں كہ خدا او راس كے رسو ل نے سوائے دھوكہ و فريب كے ہميں كوئي وعدہ نہيں ديا، (وہ پر و ردگاركى بے انتہا قدرت سے بے خبر ہيں ''_)(۱)

اس وقت اس قسم كى بشارت او رخوشخبرى سوائے آگاہ او ربا خبر مو منين كى نظر كے علاوہ ( باقى لوگوں كے لئے )دھوكا او ر فريب سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتى تھى ليكن پيغمبر (ص) كى ملكوتى آنكھيں ان آتشيں چنگاريوں كے درميان سے جو كدالوں او رہتھوڑوں كے خندق كھودنے كے لئے زمين پرلگنے سے نكلتى تھيں ، ايران روم او ريمن كے بادشاہوں كے قصرو محلات كے دروازوں كے كھلنے كو ديكھ سكتے تھے او رآئندہ كے اسرارو رموز سے پردے بھى اٹھاسكتے تھے_

____________________

(۱)سورہ احزاب آيت ۱۲

۵۵۹

منافقانہ عذر

جنگ احزاب كے واقعہ كے سلسلے ميں قرآن مجيدمنافقين او ردل كے بيمارلوگوں ميں سے ايك خطرناك گروہ كے حالات تفصيل سے بيان كرتا ہے جو دوسروں كى نسبت زيادہ خبيث او رآلودہ گناہ ہيں ، چنانچہ كہتا ہے: ''او راس وقت كو بھى يا دكرو، جب ان ميں سے ايك گروہ نے كہا: اے يثرب (مدينہ )كے رہنے والويہاں تمہارے رہنے كى جگہ نہيں ہے ،اپنے گھروں كى طرف لوٹ جائو''(۱)

خلاصہ يہ كہ دشمنوں كے اس انبوہ كے مقابلہ ميں كچھ نہيں ہو سكتا، اپنے آپ كو معركہ كار زار سے نكال كرلے جائو او راپنے آپ كو ہلاكت كے اور بيوى بچوں كو قيد كے حوالے نہ كرو_ اس طرح سے وہ چاہتے تھے كہ ايك طرف سے تو وہ انصار كے گروہ كو لشكر اسلام سے جدا كرليں اوردوسرى طرف ''انہيں منافقين كا ٹولہ جن كے گھر مدينہ ميں تھے ،نبى اكرم (ص) سے اجازت مانگ رہے تھے كہ وہ واپس چلے جا ئيں او راپنى اس واپسى كے لئے حيلے بہانے پيش كررہے تھے ، وہ يہ بھى كہتے تھے كہ ہمارے گھردل كے دروديوارٹھيك نہيں ہيں حالانكہ ايسا نہيں تھا ،اس طرح سے وہ ميدان كو خالى چھوڑكر فراركرنا چاہتے تھے''_(۲)

منافقين اس قسم كا عذر پيش كركے يہ چاہتے تھے كہ وہ ميدان جنگ چھوڑكر اپنے گھروں ميں جاكرپناہ ليں _

ايك روايت ميں آيا ہے كہ قبيلہ ''بنى حارثہ ''نے كسى شخص كو حضور رسالت پناہ (ص) كى خدمت ميں بھيجااو ركہا كہ ہمارے گھر غير محفوظ ہيں اور انصار ميں سے كسى كا گھر بھى ہمارے گھروں كى طرح نہيں اور ہمارے او رقبيلہ ''غطفان ''كے درميان كوئي ركا وٹ نہيں ہے جو مدينہ كى مشرقى جانب سے حملہ آور ہو رہے ہيں ، لہذا اجا زت ديجئے تا كہ ہم اپنے گھروں كو پلٹ جا ئيں او راپنے بيوى بچوں كا دفاع كريں تو سركار رسالت (ص) (ص) نے انھيں اجازت عطا فرمادى _

____________________

(۱)سورہ احزاب آيت ۱۲

(۲)سورہ احزاب آيت ۱۳

۵۶۰