قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27217
ڈاؤنلوڈ: 1527

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27217 / ڈاؤنلوڈ: 1527
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

حضرت نوح(ع) باسلامت اترآئے

حضرت نوح(ع) اور ان كى سبق آموزسرگزشت كے بارے ميں يہ آخرى حصہ ہے ہيں ان ميں حضرت نوح(ع) كے كشتى سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمين پر معمول كى زندگى گزارنے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے _

قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے :'' نوح(ع) سے كہا گيا كہ سلامتى اور بركت كے ساتھ جو ہمارى طرف سے تم پر اور تمہارے ساتھيوں پر ہے، اترآئو''_(۱)

اس ميں شك نہيں كہ ''طوفان ''نے زندگى كے تمام آثار كو درہم برہم كردےا تھا فطرى طور پر آباد زمينيں ،لہلہاتى چراگا ہيں اور سرسبز باغ سب كے سب ويران ہوچكے تھے اس موقع پر شديد خطرہ تھا كہ حضرت نوح اور ان كے اصحاب اور ساتھى زندگى گزارنے اور غذا كے سلسلے ميں بہت تنگى كا شكار ہوں گے _ليكن خدا نے ان مومنين كو اطمينان دلايا كہ بركات الہى كے دروازے تم پر كھل جائيں گے اور زندگى اور معاش كے حوالے سے تمہيں كوئي پريشانى لاحق نہيں ہوگي_

علاوہ ازيں ممكن تھا كہ حضرت نوح اور ان كے پيروكاروں كو اپنى سلامتى كے حوالے سے يہ پريشانى ہوتى كہ طوفان كے بعد باقى ماندہ ان گندے پانيوں ،جو ہڑوں اور دلدلوں كے ہوتے ہوئے زندگى خطرے سے دوچار ہوگى لہذا خدا تعالى اس سلسلے ميں بھى انہيں اطمنان دلاتا ہے كہ تمہيں كسى قسم كا كوئي خطرہ لاحق نہيں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں كى نابودى كے لئے طوفان بھيجا ہے اہل ايمان كى سلامتى اور بركت كے لئے بھى ماحول فراہم كرسكتى ہے _

اس بناء پر جس طرح حضرت نوح اور ان كے ساتھى پروردگار كے لامتناہى لطف وكرم كے سائے ميں طوفان كے بعد ان تمام مشكلات كے باوجود سلامتى وبركت كے ساتھ جيتے رہے ،اسى طرح مختلف

____________________

(۱) سورہ ہو دآيت۴۸

۶۱

قسم كے جانور جو حضرت نوح كے ساتھ كشتى سے اترے تھے خدا كى طرف سے سلامتى وحفا ظت كے ساتھ اور اس كے لطف وكرم كے سائے ميں زندگى بسر كرتے رہے _

كيا طوفان نوح(ع) عالمگير تھا ؟

قرآنى بہت سى آيات كے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے كہ طوفان نوح كسى خاص علاقے كے لئے نہ تھابلكہ پورى زمين پر رونما ہوا تھا كيونكہ لفظ ''ارض ''(زمين)مطلق طور پر آيا ہے :

''خداوندا روئے زمين پر ان كافروں ميں سے كسى كو زندہ نہ رہنے دے كہ جن كے بارے ميں اصلاح كى كوئي اميد نہيں ہے ''_(۱)

اسى طرح سورہ ہود ميں ارشاد ہوتا ہے: ''اے زمين اپنا پانى نگل لے ''_(۲)

بہت سى تواريخ سے بھى طوفان نوح(ع) كے عالمگير ہونے كى خبر ملتى ہے اسى لئے كہا جاتاہے كہ موجودہ تمام نسليں حضرت نوح(ع) كے تين بيٹوں حام،سام اور يافث كى اولاد ميں سے ہيں جو كہ زندہ بچ گئے تھے _

طبيعى تاريخ بھى سيلابى بارشوں كے نام سے ايك دور كا پتہ چلتاہے اس دور كو اگر لازمى طور پرجانداروں كى پيدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھيں تو وہ بھى طوفان نوح پر منطبق ہوسكتا ہے _(۳)(۴)

____________________

(۱) سورہ نوح ايت ۲۶

(۲)سورہ ہود آيت۴۴

(۳)زمين كى طبيعى تاريخ ميں يہ نظر يہ بھى ہے كہ كرہ زمين كا محور تدريجى طور پر تغير پيدا كرتا ہے يعنى قطب شمالى اور قطب جنوبى خطّ استوا ميں تبديل ہوجاتے ہيں اور خط استوا قطب جنوبى كى جگہ لے ليتا ہے، واضح ہے كہ جب قطب شمالى وجنوبى ميں موجود بہت زيادہ برف پگھل پڑے تو دريائوں اور سمندروں كے پانى كى سطح اس قدر اوپر آجائے گى كہ بہت سى خشكيوں كو اپنى لپيٹ ميں لے لے گى اور پانى زمين ميں جہاں جہاں اسے گنجائش ملے گى ابلتے ہوئے چشموں كى صورت ميں نكلے گا، پانى كى يہى وسعت بادلوں كى تخليق كا سبب بنتى ہے اور پھر زيادہ سے زيادہ بارشيں انہى بادلوں سے ہوتى ہيں

يہ امر كہ حضرت نوح نے زمين كے جانوروں كے چند نمونے بھى اپنے ساتھ لئے تھے طوفان كے عالمگير ہونے كا مو يد ہے _

(۴) اس روئے زمين پرسبھى حضرت نوح كى اولاد سے ہيں ؟ رجوع كريں تفسير نمونہ ج۱۰ ص۵۰۳ سورہ صافات آيت ۸۲ كى تفسير ميں

۶۲

طوفان كے ذريعے سزا كيوں دى گئي ؟

يہ صحيح ہے كہ ايك فاسداور برى قوم كو نابود ہونا چاہئے ،چاہے وہ كسى ذريعے سے نابودہو، اس سے فرق نہيں پڑتا ليكن آيات قرآنى ميں غور كرنے سے پتہ چلتا ہے كہ عذاب و سزا اور قوموں كے گناہوں ميں ايك قسم كى مناسبت تھى اور ہے ،فرعون نے عظيم دريائے نيل اور اس كے پر بركت پانى كو اپنى قوت وطاقت كا ذريعہ بناركھا تھا يہ با ت جا ذب نظر ہے كہ وہى اس كى نابودى كا سبب بنا نمرود كو اپنے عظيم ظلم پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہيں كہ حشرات الارض كے چھوٹے سے لشكر نے اسے اور اس كے ساتھيوں كو شكست دےدي_ قوم نوح زراعت پيشہ تھى ان كى كثير دولت كا دارومدار زراعت پر ہى تھا جيسا كہ بہت سى روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح كوفہ ميں رہتے تھے دوسرى طرف بعض روايات كے مطابق طوفان مكہ اور خانہ كعبہ تك پھيلا ہوا تھا تو يہ صورت بھى اس بات كى مو يد ہے كہ طوفان عالمگير تھا _

ليكن ان تمام چيزوں كے باوجود اس امر كى بھى بالكل نفى نہيں كى جاسكتى كہ طوفان نوح ايك منطقہ كے ساتھ مخصوص تھا كيونكہ لفظ ''ارض ''(زمين ) كا اطلاق قرآن ميں كئي مرتبہ زمين كے ايك وسيع قطعے پر بھى ہوا ہے جيسا كہ بنى اسرائيل كى سرگزشت ميں ہے : ''ہم نے زمين كے مشارق اور مغارب بنى اسرائيل كے مستضعفين كے قبضے ميں ديئے''(سورہ اعراف آيت۱۳۷)

كشتى ميں جانوروں كوشايد اس بناء پر ركھا گيا ہو كہ زمين كے اس حصے ميں جانوروں كى نسل منقطع نہ ہو خصوصاً اس زمانے ميں جانوروں كا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا كوئي آسان كام نہيں تھا_ اسى طرح ديگر مذكورہ قرائن اس بات پر منطبق ہوسكتے ہيں كہ طوفان نوح ايك خاص علاقہ ميں آيا تھا_ يہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ طوفان نوح تو اس سركش قوم كى سزا اور عذاب كے طورپر تھا اورہمارے پاس كوئي ايسى دليل نہيں ہے كہ جس كى بنا پر يہ كہا جاسكے كہ حضرت نوح كى دعوت تمام روئے زمين پر پہنچى تھى

اصولى طور پر اس زمانے كے وسائل وذرائع كے ساتھ ايك پيغمبر كى دعوت كا (اس كے اپنے زمانے ميں ) زمين كے تمام خطوں اور علاقوں تك پہنچنا بعيد نظر آتا ہے بہرحال اس عبرت خيز واقعے كو بيان كرنے سے قرآ ن كا مقصد يہ ہے كہ اس ميں چھپے اہم تربيتى نكات بيان كيے جائيں ، اس سے كوئي فرق نہيں پڑنا چاہيے كہ يہ واقعہ عالمى ہو يا كسى ايك علاقے سے تعلق ركھتا ہو _

۶۳

ہم جانتے ہيں كہ ايسے لوگ اپنا سب كچھ بارش كے حيات بخش قطروں كو سمجھتے ہيں ليكن آخر كار بارش ہى نے انہيں تباہ وبر باد كرڈالا _

جناب نوح(ع) كى بيوي

قرآن مجيد دوبے تقوى عورتوں كى سرنوشت جو دو بزرگ پيغمبر وں كے گھر ميں تھيں ،اور دومومن وايثارگر خواتين كى سرنوشت بيان كرتاہے جن ميں سے ايك تاريخ كے جابرترين شخص كے گھر ميں تھى _

پہلے فرماتا ہے ''خدا نے كافروں كے لئے ايك مثال بيان كى ہے نوح كى بيوى كى مثال اور لوط كى بيوى كى مثال '' وہ دونوں ہمارے دوصالح بندوں كے ما تحت تھيں ليكن انہوں نے ان سے خيانت كى ليكن ان دو عظيم پيغمبر وں سے ان كے ارتباط نے عذاب الہى كے مقابلہ ميں انھيں كوئي نفع نہيں ديا ''_(۱)

حضرت نوح كى بيوى كا نام ''والھہ'' اور حضرت لوط كى بيوى كا نام ''والعة''تھا ۱ اور بعض نے اس كے برعكس لكھا ہے يعنى نوح كى بيوى كانام''والعة'' اورلوط كى بيوى كا نام ''والھہ'' يا ''واہلہ'' كہا ہے_

بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظيم پيغمبروں كے ساتھ خيانت كى ،البتہ ان كى خيانت جائدہ عفت سے انحراف ہرگزنہيں تھا كيونكہ كسى پيغمبر كى بيوى ہرگز بے عفتى سے آلودہ نہيں ہوتى جيسا كہ پيغمبر اسلام سے ايك حديث ميں صراحت كے ساتھ بيان ہواہے : ''كسى بھى پيغمبر كى بيوى ہرگز منافى عفت عمل سے آلودہ نہيں ہوئي''_ حضرت لوط كى بيوى كى خيانت يہ تھى كہ وہ اس پيغمبر كے دشمنوں كے ساتھ تعاون كرتى تھى اور ان كے گھر كے راز انھيں بتاتى تھى اور حضرت نوح كى بيوى بھى ايسى ہى تھى _

قرآن آخر ميں كہتا ہے: ''اور ان سے كہا گيا كہ تم بھى آگ ميں داخل ہونے والے لوگوں كے ساتھ آگ ميں داخل ہوجائو ''(۲)

____________________

(۱)سورہ تحريم آيت ۱۰

(۲)سورہ تحريم آيت ۱۰

۶۴

۲ انبياء عليهم السلام کے واقعات

حضرت ہود عليہ السلام

قرآن مجيد ميں ذكر شدہ انبياء كے ناموں و ميں حضرت ہود بھى ہيں ، جو قوم عاد كى طرف مبعوث ہوئے ،بعض مورخين كا نظريہ ہے كہ عاد كا اطلاق دو قبيلوں پر ہوتا ہے ايك وہ جو بہت پہلے تھا اور قرآن نے اسے عاد الاولى سے تعبير كيا،()وہ غالباً تاريخ سے پہلے موجود تھا، دوسرا قبيلہ جو تاريخ بشر كے دَور ميں اور تقريباً ولادت مسيح سے سات سو سال پہلے تھا اور وہ عاد كے نام سے مشہور تھا_ يہ احقاف يايمن ميں رہائش پزير تھا_

اس قبيلہ كے افراد بلند قامت اور قوى الجثہ تھے اور اسى بنا پر بہت نماياں جنگجو شمار ہوتے تھے_

اس كے علاوہ و ہ متمدن بھى تھے_ان كے شہر آباد اور زمينيں سر سبز و شاداب تھيں _ان كے باغات پر بہار تھے اور انہوں نے بڑے بڑے محل تعمير كيے تھے_

بعض مو رخين كا خيال ہے كہ عاد اس قبيلے كے جد اعلى كا نام تھا اور وہ قبيلے كو اپنے جدّ(دادا) كے نام سے موسوم كر كے پكارتے تھے_

شہر ارم اور شداد كى بہشت

بعض مفسرين نے جزيرة العرب كے بيابانوں اور عدن كے صحرائوں ميں شہر ارم كے بر آمد ہونے كى ايك دلچسپ داستان بيان كى ہے جس ميں وہ اس شہر كى بلند و بالا عمارات اور سامان زينت وغيرہ كى بات كرتے ہيں _ليكن مذكورہ داستان واقعيت كى نسبت خواب يا افسانے سے زيادہ تعلق ركھتى ہے_

۶۵

ليكن اس ميں كوئي شك و شبہ نہيں كہ قوم عاد طاقتور قبائل پر مشتمل تھي،ان كے شہر ترقى يافتہ تھے اور جيسا كہ قرآن اشارہ كرتاہے،ان جيسے شہرپھر آباد نہيں ہوسكے_

بہت سى داستانيں شداد كى جو عاد كا بيٹا تھا،زبان زد عام ہيں اور تاريخ ميں مرقوم ہيں _ يہاں تك كہ شداد كى بہشت اور اس كے باغات ضرب المثل كى شكل اختيار كر گئے ہيں _ليكن ان داستانوں كى حقيقت كچھ نہيں ہے،يہ محض افسانے ہيں _يہ ايسے افسانے ہيں كہ ان كى حقيقت پر بعد ميں حاشيہ آرائي كر لى گئي_

حضرت ہود(ع) برادر قوم عاد

قرآن نبى اللہ كے سلسلہ ميں فرماتاہے :''ہم نے قوم عاد كى طرف ان كے بھائي ہود كو بھيجا''_(۱)

يہاں حضرت ہود كو بھائي كہا گيا تھا يہ تعبير ياتو اس بناء پر ہے كہ عرب اپنے تمام اہل قبيلہ كو بھائي كہتے ہيں كيونكہ نسب كى اصل ميں سب شريك ہوتے ہيں مثلا بنى اسد كے شخص كو ''اخواسدى '' كہتے ہيں اور مذحج قبيلہ كے شخص كو ''اخومذ حج ''كہتے ہيں ،يا ہوسكتا ہے كہ يہ اس طرف اشارہ ہوكہ حضرت ہود كا سلوك اپنى قوم سے ديگر انبياء كى طرح بالكل برادرا نہ تھا نہ كہ ايك حاكم كا سابلكہ ايسا بھى نہيں جو باپ اپنى اولاد سے كرتا ہے بلكہ آپ كا سلوك ايسا تھا جو ايك بھائي دوسرے بھائيوں سے كرتا ہے كہ جس ميں كوئي امتياز اوربر ترى كا اظہار نہ ہو_

حضرت ہود كى بہترين دليل

حضرت ہود نے بھى اپنى دعوت كا آغاز ديگر انبياء كى طرح كيا آپ كى پہلى دعوت توحيد اور ہر قسم كے شرك كى نفى كى دعوت تھي،''ہود نے ان سے كہا :''اے ميرى قوم خدا كى عبادت كرو ،كيونكہ اس كے علاوہ كوئي اللہ اور معبود لائق پرستش نہيں ،بتوں كے بارے ميں تمہارا اعتقاد غلطى اور اشتباہ پرمبنى ہے اور اس ميں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو''_(۲)

____________________

(۱) سورہ ہود آيت۵۰

(۲) سورہ ہود آيت ۵۰

۶۶

يہ بت خدا كے شريك نہيں ہيں ، نہ خير وشر كے منشاء ومبدا ء ،ان سے كوئي كام بھى نہيں ہوسكتا اس سے بڑھ كر كيا افتراء اور تہمت ہوگى كہ اس قدر بے وقعت موجودا ت كے لئے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت كا اعتقاد ركھتے ہو؟_

اس كے بعد حضرت ہود نے مزيد كہا :''اے ميرى قوم ميں اپنى دعوت كے سلسلے ميں تم سے كوئي توقع نہيں ركھتا تم سے كسى قسم كى اجرت نہيں چاہتا''_(۱)

كہ تم يہ گمان كروكہ ميرى يہ داد وفرياد اور جوش وخروش مال ومقام كے حصول كے ليئے ہے يا تم خيال كرو كہ تمہيں مجھے كو ئي بھارى معاوضہ دينا پڑے گا جس كى وجہ سے تم تسليم كرنے كو تيار نہيں ہو، ميرى اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پيدا كيا ہے ،جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہيں اور تمام چيزيں جس نے مجھے عطا كى ہيں وہى جو ميرا خالق ورازق ہے ميں اگر تمہارى ہدايت وسعادت كے لئے كوئي قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس كے حكم اطاعت ميں ہوتا ہے لہذا اجرو جزا بھى ميں اسى سے چاہتاہوں نہ كہ تم سے، علاوہ ازيں كيا تمہارے پاس اپنى طرف سے كچھ ہے جو تم مجھے دو، جو كچھ تمہارے پاس ہے اسى خدا كى طرف سے ہے، كيا تم سمجھتے نہيں ہو ؟''_(۲)

آخر ميں انہيں شوق دلانے كے لئے اور اس گمراہ قوم ميں حق و حق طلبى كا جذبہ بيدار كرنے كے لئے تمام ممكن وسائل سے استفادہ كرتے ہوئے مشروط طور پر مادى جزائوں كا ذكر كيا گيا ہے كہ جو اس جہان ميں خدا مومنين كو عطافرماتا ہے ارشاد ہوتا ہے :

''اے ميرى قوم اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب كرو ،پھر توبہ كرو اور اس كى طرف لوٹ آئو اگر تم ايسا كرلو تو وہ اسمان كو حكم دے گا كہ وہ بارش كے حيات بخش قطرے پيہم تمہارى طرف بھيجے_''(۳)

تاكہ تمہارے كھيت اور باغات كم آبى يا بے آبى كا شكار نہ ہوں اور ہميشہ سرسبز وشاداب رہيں علاوہ

____________________

(۱) سورہ ہود آيت ۵۱

(۲) سورہ ہود آيت ۵۱

(۳)سورہ ہود آيت۵۲

۶۷

ازيں تمہارے ايمان و تقوى ، گناہ سے پرہيز اور خدا كى طرف رجوع اور توبہ كى وجہ سے'' تمہارى قوت ميں مزيد قوت كا اضافہ كرے گا_''(۱)

يہ كبھى گمان نہ كرو كہ ايمان و تقوى سے تمہارى قوتميں كمى واقع ہوگى ايسا ہر گز نہيں بلكہ تمہارى جسمانى وروحانى قوت ميں اضافہ ہوگا _

اس كمك سے تمہارا معاشرہ آباد تر ہوگا ،جمعيت كثير ہوگى ،اقتصادى حالات بہتر ہونگے اور تم طاقتور، آزاداور خود مختار ملت بن جائو گے لہذا راہ حق سے روگردانى نہ كرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ ركھو _

اے ہود تم ہمارے خدائوں كے غضب سے ديوانہ ہوگئے ہو

اب ديكھتے ہيں كہ اس سركش اور مغرور قوم يعنى قوم عادنے اپنے بھائي ہود ،ان كے پندو نصائح اور ہدايت ورہنمائي كے مقابلے ميں كيا ردّعمل ظاہر كيا _

انہوں نے كہا : ''اے ہود :تو ہمارے لئے كوئي واضح دليل نہيں لايا ، ہم ہرگز تيرى باتوں پر ايمان نہيں لائيں گے ''_(۲) ان تين غير منطقى جملوں كے بعد انہوں نے مزيد كہا :''ہمارا خيال ہے كہ تو ديوانہ ہوگيا ہے اور اس كا سبب يہ ہے كہ تو ہمارے خدائوں كے غضب كا شكار ہوا ہے اور انہوں نے تيرى عقل كو آسيب پہنچا ياہے ''(۳)

اس ميں شك نہيں كہ (جيسے تمام انبياء كا طريقہ كارہوتا ہے اور ان كى ذمہ دارى ہے) حضرت ہود عليہ السلام نے انہيں اپنى حقانيت ثابت كرنے كے لئے كئي ايك معجزے دكھائے ہوں گے ليكن انہوں نے اپنے كبروغرور كى وجہ سے ديگر ہٹ دھرم قوموں كى طرح معجزات كا انكار كيا اور انہيں جادو قرار ديا اور انہيں اتفاقى حوادث گردانا كہ جنہيں كسى معاملے ميں دليل قرار نہيں ديا جاسكتا _

انہوں نے حضرت ہود پر ''جنون ''كى تہمت لگائي اور ''جنون ''بھى وہ جو ان كے زعم ناقص ميں ان

____________________

(۱)سورہ ہود آيت ۵۲

(۲)سورہ ہود آيت ۵۳

(۳)سورہ ہود آيت۵۴

۶۸

كے خدائوں كے غضب كا نتيجہ تھا ،ان كے بےہودہ پن اور خرافات پرستى كى خود ايك بہترين دليل ہے_

بے جان اور بے شعورپتھر اور لكڑياں جو خود اپنے ''بندوں '' كى مدد كى محتاج ہيں وہ ايك عقلمند انسان سے كس طرح اس كا عقل وشعور چھين سكتى ہيں علاوہ ازيں ان كے پاس ہود كے ديوانہ ہونے كو نسى دليل تھى ،اگر يہ ديوانگى كى دليل ہے توپھر تمام مصلحين جہان اور انقلابى لوگ جو غلط روش اور طريقوں كے خلاف قيام كرتے ہيں سب ديوانے ہونے چاہئيں _

كيوں بت مجھے نابود نہيں كرتے

بہرحال حضرت ہود كى ذمہ دارى تھى كہ اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم كو دندان شكن جواب ديتے، ايسا جواب جو منطق كى بنياد پر بھى ہوتا اور طاقت سے بھى ادا ہوتا، قرآن كہتا ہے كہ انہوں نے ان كے جواب ميں چند جملے كہےں :''ميں خدا كو گواہى كے لئے بلاتا ہوں ،اور تم سب بھى گواہ رہو كہ ميں ان بتوں اور تمہارے خدائوں سے بيزار ہوں ''_(۱)

يہ اس طرف اشارہ تھا كہ اگر يہ بت طاقت ركھتے ہيں تو ان سے كہو كہ مجھے ختم كرديں ،ميں جو على الاعلان ان كے خلاف جنگ كے لئے اٹھ كھڑہوا ہوں اور اعلانيہ ان سے بيزارى اورنفرت كا اعلان كررہا ہوں وہ كيوں خاموش اور معطل ہيں ،كس چيز كے منتظر ہيں اور كيوں مجھے نابود اور ختم نہيں كرديتے _

اس كے بعد مزيد فرمايا كہ نہ فقط يہ كہ ان سے كچھ نہيں ہو سكتا بلكہ تم بھى اتنى كثرت كے باوجود كسى چيز پر قدرت نہيں ركھتے ''اگر سچ كہتے ہو تو تم سب مل كر ميرے خلاف جوسازش كرسكتے ہو كرگز رو اور مجھے لمحہ بھر كى بھى مہلت نہ دو'' _(۲)

ميں تمہارى اتنى كثير تعداد كو كيوں كچھ نہيں سمجھتا اور كيوں تمہارى طاقت كى كوئي پرواہ نہيں كرتا ،تم جو كہ ميرے خون كے پياسے ہو اور ہر قسم كى طاقت ركھتے ہو، اس لئے كہ ميرا ركھ و الا اللہ ہے، وہ جس كى قدرت

____________________

(۱) سورہ ہود آيت۵۴

(۲)سورہ ہود آيت۵۰

۶۹

سب طاقتوں سے بالاتر ہے ''ميں نے خدا پر توكل كيا ہے جو ميرا اور تمہارا پروردگار ہے''_(۱)

يہ خود اس بات كى دليل ہے كہ ميں جھوٹ نہيں بول رہا ہوں ،يہ اس امر كى نشانى ہے كہ ميں نے دل كسى اور جگہ نہيں باندھ ركھا اگر صحيح طور پر سوچو تو يہ خود ايك قسم كا معجزہ ہے كہ ايك انسان تن تنہابہت سے لوگوں كے بے ہو دہ عقائد كے خلاف اٹھ كھڑا ہو_

جبكہ وہ طاقت ور اور متعصب بھى ہوں يہاں تك كہ انہيں اپنے خلاف قيام كى تحريك كرے اس كے باوجود اس ميں خوف وخطر كے كوئي آثار نظر نہ آئيں اور پھر نہ اس كے دشمن اس كے خلاف كچھ كرسكتے ہوں _

آخر كار حضرت ہودعليہ السلام ان سے كہتے ہيں :

''اگر تم راہ حق سے روگرانى كروگے تو اس ميں ميرا كوئي نقصان نہيں ہوگا كيونكہ ميں نے اپنا پيغام تم تك پہنچا ديا ہے ''_(۲)

يہ اس طرف اشارہ ہے كہ يہ گمان نہ كرو كہ اگر ميرى دعوت قبول نہ كى جائے تو ميرے لئے كوئي شكست ہے ميں نے اپنا فريضہ انجام دے ديا ہے اور فريضہ كى انجام دہى كاميابى ہے اگر چہ ميرى دعوت قبول نہ كى جائے _

دراصل يہ سچے رہبروں اور راہ حق كے پيشوائوں كے لئے ايك درس ہے كہ انہيں اپنے كام پر كبھى بھى خستگى وپريشانى كا احساس نہيں ہونا چاہئے چاہے لوگ ان كى دعوت كو قبول نہ بھى كريں _

جيسا كہ بت پرستوں نے آپ كودھمكى دى تھى ،اس كے بعد آپ انہيں شديد طريقے پر عذاب الہى كى دھمكى ديتے ہوئے كہتے ہيں :

''اگر تم نے دعوت حق قبول نہ كى تو خدا عنقريب تمہيں نابود كردے گا اور كسى دوسرے گروہ كو تمہارا جانشين بنا دے گا اور تم اسے كسى قسم كا نقصان نہيں پہنچا سكتے_''(۳)

____________________

(۱)سورہ ہود آيت۵۶

(۲)سورہ ہود ايت ۵۷

(۳)سورہ ہود آيت۵۷

۷۰

''اور يہ بھى جان لو كہ ميرا پروردگار ہر چيز كا محافظ ہے اور ہر حساب وكتاب كى نگہدارى كرتا ہے''_(۱)

نہ موقع اس كے ہاتھ سے جاتا ہے اورنہ وہ موقع كى مناسبت كو فراموش كرتا ہے نہ وہ اپنے انبياء اور دوستوں كو طاق نسياں كرتا ہے اور نہ كسى شخص كا حساب وكتاب اس كے علم سے پوشيدہ ہوتا ہے بلكہ وہ ہر چيز كو جانتا ہے اور ہر چيز پر مسلط ہے_

اس ظالم قوم پر ابدى لعنت

قوم عاد اور ان كے پيغمبر حضرت ہود كى سرگذشت سے مربوط آيات كے آخرى حصے ميں ان سركشوں كى درد ناك سزا اور عذاب كى طرف اشارہ كرتے ہوئے قرآن پہلے كہتا ہے :

'' جب ان كے عذاب كے بارے ميں ہمارا حكم آپہنچا تو ہود اور جو لوگ اس كے ساتھ ايمان لاچكے تھے ہمارى ان پر رحمت اور لطف خاص نے انہيں نجات بخشي''_(۲)

پھر مزيد تاكيد كے لئے فرمايا:''ہم نے اس صاحب ايمان قوم كو شديد عذاب سے رہائي بخشي''_(۳)

يہ امر جاذب نظر ہے كہ بے ايمان ،سركش اور ظالم افراد كے لئے عذاب وسزا معين كرنے سے پہلے صاحب ايمان قوم كى نجات كا ذكر كيا گيا ہے تاكہ يہ خيال پيدا نہ ہو جيسا كہ مشہور ضرب المثل ہے كہ عذاب الہى كے موقع پر خشك وترسب جل جاتے ہيں كيونكہ وہ حكيم اور عادل ہے اور محال ہے كہ وہ ايك بھى صاحب ايمان شخص كو بے ايمان اور گنہگار لوگوں كے درميان عذاب كرے، بلكہ رحمت الہى ايسے افراد كو عذاب وسزاكے نفاذ سے پہلے ہى امن وامان كى جگہ پر منتقل كرديتى ہے جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ اس سے پہلے كہ طوفان آئے،

____________________

(۱) سورہ ہود ايت ۵۷

( ۲،۳)سورہ ہود آيت ۵۸

۷۱

حضرت نوح كى كشتى نجات تيار تھي، اور اس سے پہلے كہ حضرت لوط كے شہر تباہ وبرباد ہوں حضرت لوط اور آپ كے انصار راتوں رات حكم الہى سے وہاں سے نكل آئے_

يہ مناسبت بھى قابل ملا حظہ ہے كہ قوم عاد كے لوگ سخت اور بلند قامت تھے ان كے قدكو كھجور كے درختوں سے تشبيہ دى گئي ہے اسى مناسبت سے ان كى عمارتيں مضبوط ،بڑى اور اونچى تھيں يہاں تك كہ قبل اسلام كى تاريخ ميں ہے كہ عرب بلند اور مضبوط عمارتوں كى نسبت قوم عاد ہى كى طرف ديتے ہوئے انہيں ''عدي'' كہتے تھے، اسى لئے ان پر آنے والا عذاب بھى انہى كى طرح غليظ اور سخت تھا ،نہ صرف اخرت كا عذاب،بلكہ اس دنيا ميں سخت سے سخت عذاب ديا گيا _

عذاب الہى ايك نحس دن ميں

قرآن مجيد قوم عا د پر عذاب الہى كے بارے ميں فرماتا ہے :

''ہم نے ان پروحشت ناك ،سرداور تيز آندھى ، ايك ايسے منحوس دن ميں جو بہت طويل تھا،ان كى طرف بھيجى ''_

اس كے بعد اس تيز آندھى كى كيفيت كے بارے ميں پروردگار عالم فرماتا ہے كہ ''لوگوں كو گھن كھائے ہوئے كھجوركے تنوں كى طرح اكھاڑديا اور وہ ان كو ہرطرف پھينكتى تھي_(۱)

قوم عاد كے لوگ قوى الجثہ تھے، انہوں نے تيز آندھى سے بچنے كے لئے زمين ميں گڑھے كھود ركھے تھے اور زير زمين پناہ گا ہيں بنا ركھى تھيں ليكن اس روز آنے والى آندھى اتنى زور دار اور طاقتور تھى كہ ان كو ان كى پناہ گا ہوں سے باہر نكالتى تھى اور ادھر اُدھر پھينكتى تھى وہ ان كو اس زور سے زمين پر پٹختى تھى كہ ان كے سرتن سے جدا ہوجا تے تھے _اندھى اس قدر تيز تھى كہ پہلے ان كے ہاتھ پيروں اور سروں كو جدا كرتى تھى ،اس كے بعد ان كے اجسام كو بے شاخ و برگ كھجور كى طرح زمين سے اكھاڑتى تھى اور ادھر ادھر لئے پھرتى تھي_

____________________

(۱)سورہ قمر آيت۲۰

۷۲

قرآن كريم اس قوم كے عذاب كے بارے ميں دوسرى جگہ كہتا ہے:

''قوم عاد كى سرگذشت ميں بھى ايك آيت وعبرت ہے ،جبكہ ہم نے ان پر ايك عقيم اور بغير بارش كا طوفان بھيجا ''_(۱)

ہوائوں كا عقيم اور بانجھ ہونااسوقت ہوتا ہے ،جب كہ وہ بارش برسانے والے بادل اپنے ساتھ لے كر نہ چليں ، گياہ ونباتات ميں اپنے عمدہ اثرات نہ چھوڑيں ،ان ميں كوئي فائدہ اور بركت نہ ہو ،ااور ہلاكت ونابودى كے سوا كوئي چيز ہمراہ نہ لائيں _

اس كے بعد اس سخت آندھى كى خصوصيت جو قوم عادپر مسلط ہوئي تھي، بيان كرتے ہوئے مزيد كہتا ہے: '' وہ جس چيز كے پاس سے گزرتى تھى اس كو نابود كئے بغير نہ چھوڑتى تھى ،اور خشك كٹى پھٹى گھاس يا بوسيدہ ہڈيوں كى صورت ميں بدل ديتى تھى ''_(۲)

يہ تعبير اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ قوم عاد كى تيز آندھى ايك عام تيز آندھى نہيں تھى ،بلكہ انہيں تباہ كرنے اور كوٹنے چھٹنے يا پھر پيٹنے كے علاوہ اور اصطلاح كے مطابق فزيكل دبائو سے ،جلانے اور زہريلابنا نے كى خاصيت ركھتى تھى ،جو طرح طرح كى اشيائوں كو بوسيدہ اور كہنہ بناديتى تھى ،جى ہاں ، اس طرح خدا كى قدرت ''نسيم سحر''كو ايك تيز اندھى ميں بدل كر بڑى بڑى طاقتور قوموں كو اس طرح درہم و برہم كر ديتى ہے كہ صرف ان كے بوسيدہ جسم باقى رہ جاتے ہيں _

كيا ان ميں سے كسى كو ديكھتے ہو

قران اس كے بعد اس تيز اور سر كوب كرنے والى آندھى كى ايك دوسرى توصيف كو بيان كرتے ہوئے مزيد كہتا ہے :''خدا نے اس كو اس قوم پر مسلسل سات راتيں اور آٹھ دن ان كى بنياديں اكھاڑنے كے لئے مسلط كئے ركھا ''(۳)

____________________

(۱)سورہ ذاريات ايت ۴۱

(۲)سورہ ذاريات ايت ۳۲

(۳)سورہ حاقہ آيت ۷

۷۳

سات راتوں اور آٹھ دنوں ميں اس عظيم قوم كى وسيع اور بارونق زندگى كوبالكل تباہ وبرباد كيا اور ان كو جڑسے اكھاڑ كر پر اگندہ كرديا _

نتيجہ يہ ہو ا كہ جيسا كہ قرآن كہتا ہے ''اگر تو وہاں ہوتا تو مشاہدہ كرتا كہ وہ سارى قوم منہ كے بل گرى پڑى ہے اور سوكھے اور كھوكھلے درختوں كى طرح ڈھير ہوگئے ہيں ''_(۱)

كتنى عمدہ تشبيہہ ہے،جو ان كے طويل قدوقامت كو بھى مشخص كرتى ہے ،ان كے جڑسے اكھڑجانے كو بھى ظاہر كرتى ہے اور خدا كے عذاب كے مقابلہ ميں ان كے اندر سے خالى ہونے كو بھى بيان كرتى ہے اس طرح كہ وہ تيز آندھى جدھر چاہتى ہے انھيں آسانى كے ساتھ لے جاتى ہے _

قرآن اس واقعہ كے آخر ميں مزيد كہتا ہے '' كيا تم ان سے كسى كو باقى ديكھتے ہو''؟_(۲)

ہاں :آج نہ صرف قوم عاد كا كوئي نام ونشان باقى نہيں بلكہ ان كے آباد شہروں اور پر شكوہ عمارتوں كے كھنڈرات اور ان كے سبز كھيتوں ميں سے كوئي چيز باقى نہيں ہے _

____________________

(۱)سورہ حاقہ آيت ۷

(۲)سورہ حاقہ آيت ۸

۷۴

حضرت صالح عليہ السلام

قوم ثمود اور اس كے پيغمبر جناب صالح(ع) كى جو''وادى القرى '' ميں رہتے تھے جو''مدينہ '' اور'' شام'' كے درميان واقع ہے يہ قوم اس سرزمين ميں خوشحال زندگى بسر كررہى تھى ليكن اپنى سركشى كى بناء پرصفحہ ہستى سے يوں مٹ گئي كہ آج اس كا نام ونشان تك باقى نہيں رہا_

قرآن اس سلسلے ميں فرماتا ہے : ''قوم ثمودنے (خدا كے )رسولوں كو جھٹلايا ''_(۱)

كيونكہ تمام انبياء كى دعوت حق ايك جيسى تھى اور اس قوم كا اپنے پيغمبر جناب صالح كى تكذيب كرنا در حقيقت تمام رسولوں كى تكذيب كے مترادف تھا_

''جبكہ ان كے ہمدرد پيغمبر صالح نے ان لوگوں سے كہاآيا تقوى اختيار نہيں كرتے ہو ؟''(۲)

وہ جو كہ تمہارے بھائي كى طرح تمہاراہادى اورراہبر تھا اس كى نظر ميں نہ برترى جتانا تھا اور نہ ہى مادى مفادات ، اسى لئے قرآن نے جناب صالح(ع) عليہ السلام كو '' اخوہم '' سے تعبير كيا ہے جناب صالح نے بھى دوسرے انبياء كى مانند اپنى دعوت كا آغاز تقوى اور فرض كے احساس سے كيا _

پھر اپنا تعارف كرواتے ہوئے فرماتے ہيں :''ميں تمہارے لئے امين پيغمبر ہوں ''(۳)

ميرا ماضى ميرے اس دعوى كى بين دليل ہے _

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت ۱۴۱

(۲)سورہ شعراء ايت ۱۴۲

(۳) سورہ شعراء ايت۱۴۳

۷۵

'' اسى لئے تم تقوى اختيار كرو ،خداسے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ''(۱)

كيونكہ ميرے مد نظر رضائے الہي، تمہارى خيرو خوبى اور سعادت كے سوا اور كچھ نہيں _

بنابريں '' اس دعوت كے بدلے ميں تم سے كوئي اجرت نہيں مانگتا_''(۲)

ميں تو كسى اور كے لئے كام كرتاہوں اور ميرا اجر بھى اسى كے پاس ہے '' ہاں تو ميرا اجر صرف عالمين كے پروردگار كے پاس ہے ''(۳)

يہ جناب صالح عليہ السلام كى داستان كا ابتدائي حصہ تھا جو دو جملوں ميں بيان كيا گيا ہے ايك دعوت كا پيش كرنا اوردوسرے رسالت كو بيان كرنا _

پھر دوسرے حصے ميں افراد قوم كى زندگى كے قابل تنقيد اور حساس پہلوئوں كى نشاندہى كرتے ہوئے انھيں ضمير كى عدالت كے كٹہرے ميں لاكھڑاكيا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ''آيا تم يہ سمجھتے ہو كہ ہميشہ امن وسكون اور نازونعمت كى زندگى بسركرتے رہوگے ''_(۴)

كيا تم يہ سمجھتے ہو كہ تمہارى يہ مادى اور غفلت كى زندگى ہميشہ كے لئے ہے اور موت ، انتقام اور سزا كا ہاتھ تمہارے گريبانوں تك نہيں پہنچے گا ؟

''كياتم گمان كرتے ہو كہ يہ باغات اور چشمے ميں اور يہ كھيت اور كھجور كے درخت جن كے پھل شيريں وشاداب اور پكے ہوئے ہيں ، ہميشہ ہميشہ كے لئے باقى ر ہيں گے _''(۵)

پھر ان پختہ اور خوشحال گھروں كو پيش نظر ركھتے ہوئے كہتے ہيں : ''تم پہاڑوں كو تراش كر گھر بناتے ہو اور اس ميں عياشى كرتے ہو _''(۶)

جبكہ قوم ثمودشكم كى اسيراور نازو نعمت بھرى خوشحال زندگى سے بہرہ مند تھى _

____________________

(۱)سورہ شعراء ايت۱۴۵ (۲)سورہ شعراء آيت۱۴۵ (۳) سورہ شعراء آيت۵ ۴ ۱

(۴)سورہ شعراء آيت ۱۴۵ (۵)سورہ شعراء آيت۴۷اتا ۱۴۸

(۶)سورہ شعراء آيت ۱۴۹

۷۶

فاسداوراسراف كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو

حضرت صالح عليہ السلام اس تنقيد كے بعد انھيں متبنہ كرتے ہو ئے كہتے ہيں : '' حكم خدا كى مخالفت سے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ،اور مسرفين كا حكم نہ مانو، وہى جو زمين ميں فساد كرتے ہيں اور اصلاح نہيں كرتے_''(۱) ''يہ دھيان ميں رہے كہ خدانے قوم ''عاد'' كے بعد تمہيں ان كا جانشين اور خليفہ قرار ديا ہے اور زمين ميں تمہيں جگہ دى ہے ''(۲)

يعنى ايك طرف تو تم كواللہ كى نعمتوں كا خيال رہناچاہيئے، دوسرے يہ بھى ياد رہے كہ تم سے پہلے جو قوم تھى وہ اپنى سركشى اور طغيانى كے باعث عذاب الہى سے تباہ وبرباد ہوچكى ہے_

پھر اس كے بعد انہيں عطا كى گئي كچھ نعمتوں كا ذكر كياگيا ہے ،ارشاد ہوتا ہے: '' تم ايك ايسى سرزمين ميں زندگى بسر كرتے ہو جس ميں ہموار ميدان بھى ہيں جن كے اوپر تم عاليشان قصر اور آرام دہ مكانات بناسكتے ہو ، نيز اس ميں پہاڑى علاقے بھى ہيں جن كے دامن ميں تم مضبوط مكانات تراش سكتے ہو (جو سخت موسم ، اورسرديوں كے زمانے ميں ) تمہارے كام آسكتے ہيں ''_(۳)

اس تعبير سے يہ پتہ چلتاہے كہ وہ لوگ (قوم عاد )سردى اور گرمى ميں اپنى سكونت كى جگہ بدل ديتے تھے فصل بہار اور گرميوں ميں وسيع اور پربركت ميدانوں ميں زراعت كرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے ميں مشغول رہا كرتے تھے اس وجہ سے وہ وہاں خوبصورت اور آرام دہ مكانات بناتے تھے جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش كربنائے تھے اور يہ مكانات انہيں سيلابوں اور طوفانوں سے محفوظ ركھتے تھے يہاں وہ اطمينان سے سردى كے دن گزار ديتے تھے_ آخر ميں فرمايا گيا ہے :

'' خداوندكريم كى ان سب نعمتوں كو ياد كرو اور زمين ميں فسادنہ كرو اور كفران نعمت نہ كرو''_(۴)

____________________

(۱) سورہ شعراء آيات ۱۵۰ تا ۱۵۲

(۲) سورہ اعراف آيت ۷۴ (۳)سورہ اعراف آيت ۷۴

(۴)سورہ اعراف آيت۷۴

۷۷

قوم صالح كى ہٹ دھرمي

آپ حضرات، گمراہ قوم كے سامنے حضرت صالح عليہ السلام كى منطقى اور خيرخواہى پر مبنى گفتگو ملاحظہ فرماچكے ہيں جناب صالح(ع) كے جواب ميں اس قوم كى گفتگو بھى سينے_

انھوں نے كہا:''اے صالح : تم سحرزدہ ہوكر اپنى عقل كھوچكے ہو، لہذا غير معقول باتيں كرتے ہو ''(۱)

ان كا يہ عقيدہ تھا كہ بسا اوقات جادو گر لوگ جادو كے ذريعے انسان كى عقل و ہوش كو بيكار بناديتے ہيں صرف انھوں نے جناب صالح پر ہى يہ تہمت نہيں لگائي بلكہ اور لوگوں نے بھى دوسرے انبياء پر ايسى تہمتيں لگائي ہيں ،حتى كہ خود پيغمبر اسلام (ص) كى ذات تك كو متہم كيا_

جى ہاں ان كے نزديك عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو ماحول ميں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائيوں پر منطبق ہو جائے اگر كوئي انقلابى مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام كے بطلان كے لئے قيام كرتا تو وہ اپنى اس منطق كى رو سے اسے ديوانہ ،مجنون اور سحر زدہ كہتے_

اسى طرح قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتاہے'' اس خود پسند طبقے نے اللہ كى وحدانيت كا انكار كيا كہ آخرت كى ملاقات كو جھٹلايا،حالانكہ ہم نے انہيں دنيا كى بہت سى نعمتوں سے مالا مال كرركھا تھا وہ كہنے لگے كہ يہ تمہارى ہى طرح كا انسان ہے جو تم كھاتے ہو يہ بھى كھاتاہے_ اور جو تم پيتے ہو يہ بھى پيتا ہے''_( ۲)

بے شك وہ اشراف كا خوشحال طبقہ جو قرآن مجيد كى اصطلاح ميں صرف ظاہربين تھا اور كور باطن تھا وہ اس عظيم پيغمبر كے مشن كو اپنے مفاد كا مخالف ،ناجائز منافع خوارى ، استحصال اور بے جابالادستى سے متصادم ديكھ رہاتھا ،يہ طبقہ اپنى پر عيش زندگى كى وجہ سے اللہ سے كوسوں دور چلاگيا تھا اور آخرت كا منكرتھا _

انہوں نے اللہ كے نمائندوں كے انسان ہونے اور ديگرانسانوں كى طرح كھانے پينے كو ان كى رسالت كى نفى كى دليل قرارديا حالانكہ يہ بات ان مايہ ناز شخصيتوں كى نبوت ورسالت كى پرزور تائيد تھى كہ وہ

____________________

(۱)سورہ شعراء آيت۵۳

(۲)سورہ مومنون آيت۳۳

۷۸

عام لوگوں ميں سے ہوں تاكہ انسان كى ضروريات اور مسائل سے اچھى طرح آگاہ ہوں ،مزيد برآں وہ ايك دوسرے سے كہتے تھے:''اگر تم اپنے ہى جيسے آدمى كے مطيع بنوگے تويہ بڑى نقصان دہ بات ہوگى ''_(۱)

يہ كور باطن اتنا نہيں سمجھتے تھے كہ خود تويہ توقع كررہے ہيں كہ لوگ ان كے شيطانى عزائم كى تكميل اور پيغمبر سے مقابلے كے لئے ان كى پيروى كريں ،مگر اس شخصيت كى اطاعت وپيروى كو جومركز وحى سے وابستہ ہے اور جس كا دل نور علم پروردگارعالمين سے منور ہے انسان كے لئے ذلت ،ننگ وعار اور حريت كے منافى بتارہے تھے _

كيا ہم دوبارہ زندہ كئے جائيں گے

اس كے بعد انھوں نے معاد اور قيامت كا انكار كيا ، جس كو ماننا ہميشہ سے خود سراور ہواو ہوس كے رہبر وں كے لئے مشكل رہا ہے اور كہا :

''كيا يہ شخص تم سے يہ وعدہ كرتا ہے كہ مرنے كے بعد مٹى اور بوسيدہ ہڈى ہوجانے كے بعد تم ايك بار پھر قبروں سے نكلوگے اور ايك نئي زندگى پائو گے _''(يہ بہت دور اور بہت دور كى بات ہے وہ و عدے جو تم سے كئے گئے ہيں وہ، بالكل بے بنياد اور كھوكھلے ہيں )(۲)

مجموعى طورپر كيا يہ ممكن ہے كہ ايك آدمى جو مرگيا ہو ،مٹى كے ساتھ مٹى ہوگيا ہو ، اس كے اجزاء ادھر ادھر بكھرگئے ہوں ، وہ دوبارہ زندہ ہوسكتا ہے ؟ نہيں يہ محال ہے ،يہ محال بات ہے _

آخرميں اپنے نبى پر ايك مجموعى الزام لگاتے ہوئے انہوں نے كہا يہ ايك جھوٹا شخص ہے ، جس نے اللہ پر بہتان باندھا ہے اور ہم اس پر ہرگز ايمان نہيں لائيں گے ''(۳)

نہ اس كى رسالت اللہ كى طرف سے ہے نہ قيامت سے متعلق اس كے وعدے سچے ہيں اور نہ ہى دوسرے احكام ايسے ہيں ،كوئي عقلمند آدمى اس پر كيسے ايمان لاسكتا ہے _

____________________

(۱) سورہ مومنون آيت۳۴

(۲) سورہ مومنون ۳۵ تا۳۶

(۳) سورہ مومنون آيت۳۷

۷۹

اے صالح(ع) ہم تم پراميد ركھتے تھے

انہوں نے حضرت صالح كو غير موثر بنانے كے لئے يا كم از كم ان كى باتوں كو بے تاثير كرنے كے لئے ايك نفسياتى حربہ استعمال كيا وہ آپ كو دھوكا دينا چاہتے تھے ، كہنے لگے :''اے صالح اس سے پہلے تو ہمارى اميدوں كا سرمايہ تھا _''(۱)

مشكلات ميں ہم تيرى پناہ ليتے تھے، تجھ سے مشورہ كرتے تھے، تيرے عقل وشعور پر ايمان ركھتے تھے، اور تيرى خير خواہى اور ہمدردى ميں ہميں ہرگز كوئي شك نہ تھا _

ليكن افسوس كہ تم نے ہمارى اميدوں پر پانى پھيرديا ،دين بت پرستى كى اور ہمارے خدائوں كى مخالفت كركے كہ جو ہمارے بزرگوں كا رسم ورواج تھا اور ہمارى قوم كے افتخارات ميں سے تھا تونے ظاہر كرديا كہ تو بزرگوں كے احترام كا قائل نہيں ہے نہ ہمارى عقل پر تمہيں كوئي اعتماد ہے اور نہ ہى تو ہمارے طور طريقوں كا حامى ہے _''كيا سچ مچ تو ہميں ان كى پرستش سے روك ديناچاہتا ہے جن كى عبادت ہمارے آبائو اجداكيا كرتے تھے_''(۲)

تم كتنے نحس قدم ہو

بہرحال اس سركش قوم نے اس عظيم پيغمبر كى ہمدردانہ نصيحتوں كو دل كے كانوں سے سننے اور ان پر عمل درآمد كرنے كى بجائے واہيات اور بے كار باتوں كے ذريعے ان كا مقابلہ كرنے كى ٹھان لي، منجملہ اور باتوں كے انھوں نے كہا:'' ہم تمھيں اور جو لوگ تمہارے ساتھ ہيں سب كو ايك برى فال سمجھتے ہيں ''_(۳)

معلوم ايسا ہوتا ہے كہ وہ سال خشك سالى اور قحط سالى كا تھا اسى لئے وہ صالح عليہ السلام سے كہنے لگے: ''كہ يہ سب كچھ تمہارے اور تمہارے ساتھيوں كے نامبارك قدموں كى بدولت ہوا ہے ''_تم منحوس لوگ

____________________

(۱)سورہ ہودآيت۶۲

(۲) سورہ ہودآيت ۶۲

(۳) سورہ نمل آيت ۴۷

۸۰