قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   0%

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه   مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 667

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف: حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازي
زمرہ جات:

صفحے: 667
مشاہدے: 27819
ڈاؤنلوڈ: 1543

تبصرے:

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 667 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27819 / ڈاؤنلوڈ: 1543
سائز سائز سائز
قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

قصص القرآن-منتخب از تفسير نمونه

مؤلف:
اردو

بہرحال پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى سنت كے مطابق اپنى فوج سے مشورہ كيا كہ كيا پيش قدمى جارى ركھى جائے ياواپس پلٹ جايا جائے؟

اكثريت كى رائے يہ تھي، كہ پلٹ جانا بہتر ہے اور يہى اسلامى اصولوں كى روح سے زيادہ مناسبت ركھتا تھا خصوصاً جبكہ اس وقت طاقت فرسا سفر اور راستے كى مشقت وزحمت كے باعث اسلامى فوج كے سپاہى تھكے ہوئے تھے اور ان كى جسمانى قوت مزاحمت كمزور پڑچكى تھي، رسول اللہ نے اس رائے كو صحيح قرار ديا اور لشكر اسلام مدينہ كى طرف لوٹ آيا_

ايك عظيم درس

''ابو حثيمہ ''(۱) اصحاب پيغمبر (ص) ميں سے تھا ،منافقين ميں سے نہ تھا ليكن سستى كى وجہ سے پيغمبراكرم (ص) كے ساتھ ميدان تبوك ميں نہ گيا _

اس واقعہ كو دس دن گذر گئے ،ہوا گرم او رجلانے والى تھي،ايك دن اپنى بيويوں كے پاس آيا انھوں نے ايك سائبان تان ركھا تھا ، ٹھنڈا پانى مہيا كر ركھا تھا او ربہترين كھانا تيار كر ركھا تھا، وہ اچانك غم و فكر ميں ڈوب گيا او راپنے پيشوا رسول اللہ (ص) كى ياد اسے ستانے لگى ،اس نے كہا:رسول اللہ(ص) كہ جنھوں نے كبھى كوئي گناہ نہيں كيا او رخدا ان كے گذشتہ اور آئندہ كا ذمہ دار ہے ،بيابان كى جلا ڈالنے والى ہوائوں ميں كندھے پر ہتھيار اٹھائے اس دشوار گذار سفر كى مشكلات اٹھارہے ہيں او رابو حثيمہ كو ديكھو كہ ٹھنڈے سائے ميں تيار كھانے اور خوبصورت بيويوں كے پاس بيٹھا ہے ،كيا يہ انصاف ہے ؟

اس كے بعد اس نے اپنى بيويوں كى طرف رخ كيا او ركہا:

خدا كى قسم تم ميں سے كسى كے ساتھ ميں بات نہ كروں گا او رسائبان كے نيچے نہيں بيٹھوں گا جب تك

____________________

(۱)يہ شخص انہيں افراد ميں سے تھا جن كے بارے ميں كہا جاتا ہے كہ سورہ توبہ آيت۱۱۷/نازل ہوئي _

۶۲۱

پيغمبر (ص) سے نہ جاملوں _

يہ بات كہہ كر اس نے زادراہ ليا ،اپنے اونٹ پر سوار ہوااور چل كھڑا ہوا ،اس كى بيويوں نے بہت چاہا كہ اس سے بات كريں ليكن اس نے ايك لفظ نہ كہا او راسى طرح چلتا رہا يہاں تك كہ تبوك كے قريب جا پہنچا _

مسلماان ايك دوسرے سے كہنے لگے :يہ كوئي سوار ہے جو سڑك سے گذررہا ہے، ليكن پيغمبر اكرم(ص) نے فرمايا:اے سوار تم ابو حثيمہ ہو تو بہتر ہے_

جب وہ قريب پہنچا او رلوگوں نے اسے پہچان ليا تو كہنے لگے : جى ہاں ; ابو حثيمہ ہے _

اس نے اپنا اونٹ زمين پر بٹھايا او رپيغمبراكرم (ص) كى خدمت ميں سلام عرض كيا او راپنا ماجرابيان كيا _

رسول اللہ (ص) نے اسے خوش آمديد كہا اور اس كے حق ميں دعا فرمائي _

اس طرح وہ ايك ايسا شخص تھا جس كا دل باطل كى طرف مائل ہوگيا تھا ليكن اس كى روحانى آمادگى كى بنا ء پر خدا نے اسے حق كى طرف متوجہ كيا اور ثبات قدم بھى عطا كيا _

جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے تين لوگ

مسلمانوں ميں سے تين افراد كعب بن مالك ،مرارہ بن ربيع او ربلال بن اميہ نے جنگ تبوك ميں شركت نہ كى او رانھوں نے پيغمبر خدا (ص) كے ہمراہ سفر نہ كيا وہ منافقين ميں شامل نہيں ہو نا چاہتے تھے بلكہ ايسا انھوں نے سستى اور كاہلى كى بنا پر كيا تھا،تھوڑا ہى عرصہ گذرا تھا كہ وہ اپنے كئے پر نادم اور پشيمان ہوگئے_

جب رسول اللہ (ص) ميدان تبوك سے مدينہ لوٹے تو وہ آنحضرت (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور معذرت كى ليكن رسول اللہ(ص) نے ان سے ايك لفظ تك نہ كہا اور مسلمانوں كو بھى حكم ديا كہ كوئي شخص ان سے بات چيت نہ كرے وہ ايك عجيب معاشرتى دبائو كا شكار ہوگئے يہاں تك كہ ان كے چھوٹے بچے او رعورتيں رسول اللہ (ص) كے پاس آئيں او راجازت چاہى كہ ان سے الگ ہو جائيں ،آپ (ص) نے

۶۲۲

انھيں عليحدگى كى اجازت تو نہ دى ليكن حكم ديا كہ ان كے قريب نہ جائيں ،مدينہ كى فضااپنى وسعت كے باوجود ان پر تنگ ہو گئي ،وہ مجبور ہوگئے كہ اتنى بڑى ذلت اوررسوائي سے نجات حاصل كرنے كے لئے شہر چھوڑديں اوراطراف مدينہ كے پہاڑوں كى چوٹى پر جاكر پناہ ليں _

جن باتوں نے ان كے جذبات پر شديد ضرب لگائي ان ميں سے ايك يہ تھى كہ كعب بن مالك كہتا ہے :ميں ايك دن بازار مدينہ ميں پريشانى كے عالم ميں بيٹھا تھاكہ ايك شامى عيسائي مجھے تلاش كرتا ہوا آيا، جب اس نے مجھے پہچان ليا تو بادشاہ غسان كى طرف سے ايك خط ميرے ہاتھ ميں ديا ، اس ميں لكھاتھا كہ اگر تيرے ساتھى نے تجھے دھتكارديا ہے تو ہمارى طرف چلے آئو، ميرى حالت منقلب اور غير ہوگئي ،اور ميں نے كہا وائے ہو مجھ پر ميرا معاملہ اس حد تك پہنچ گيا ہے كہ دشمن ميرے بارے ميں لالچ كرنے لگے ہيں ، خلاصہ يہ كہ ان كے اعزا ء واقارب ان كے پاس كھانالے آتے مگر ان سے ايك لفظ بھى نہ كہتے ،كچھ مدت اسى صورت ميں گزر گئي او روہ مسلسل انتظار ميں تھے كہ اس كى توبہ قبول ہو اوركوئي آيت نازل ہو جو ان كى توبہ كى دليل بنے ، مگر كوئي خبر نہ تھى _

اس دوران ان ميں سے ايك كے ذہن ميں يہ بات آئي او راس نے دوسروں سے كہا اب جبكہ لوگوں نے ہم سے قطع تعلق كر ليا ہے ،كيا ہى بہتر ہے كہ ہم بھى ايك دوسرے سے قطع تعلق كرليں (يہ ٹھيك ہے كہ ہم گنہ گار ہيں ليكن مناسب ہے كہ دوسرے گنہ گار سے خوش او رراضى نہ ہوں )_

انھوں نے ايسا ہى كيا يہاں تك كہ ايك لفظ بھى ايك دوسرے سے نہيں كہتے تھے اوران ميں سے كوئي ايك دوسرے كے ساتھ نہيں رہتا تھا،اس طرح پچاس دن انھوں نے توبہ وزارى كى او رآخر كار ان كى توبہ قبول ہوگئي _(۱)

____________________

(۱)سورہ توبہ:آيت ۱۱۸_ اس سلسلے ميں نازل ہوئي ہے

۶۲۳

مسجد ضرار(۱)

كچھ منافقين رسول اللہ (ص) كے پاس آئے او رعرض كيا، ہميں اجازت ديجيئے كہ ہم قبيلہ ''بنى سالم'' كے درميان''مسحد قبا''كے قريب ايك مسجد بناليں تاكہ ناتواں بيمار اور بوڑھے جو كوئي كام نہيں كرسكتے اس ميں نماز پڑھ ليا كريں _ اسى طرح جن راتوں ميں بارش ہوتى ہے ان ميں جو لوگ آپ(ص) كى مسجد ميں نہيں آسكتے اپنے اسلامى فريضہ كو اس ميں انجام دے ليا كريں _

يہ اس وقت كى بات ہے جب پيغمبر خد (ص) جنگ تبوك كا عزم كرچكے تھے آنحضرت(ص) نے انھيں اجازت دےدي_

انھوں نے مزيد كہا: كيا يہ بھى ممكن ہے كہ آپ(ص) خود آكر اس ميں نماز پڑھيں ؟نبى اكرم(ص) نے فرمايا: اس وقت تو ميں سفر كا ارادہ كر چكا ہوں البتہ واپسى پر خدا نے چاہا تو اس مسجد ميں آكر نماز پڑھوں گا_

جب آپ(ص) جنگ تبوك سے لوٹے تو يہ لوگ آپ(ص) كے پاس آئے اور كہنے لگے ہمارى درخواست ہے كہ آپ(ص) ہمارى مسجد ميں آكر اس ميں نماز پڑھائيں اورخدا سے دعا كريں كہ ہميں بركت دے _

يہ اس وقت كى بات ہے جب ابھى آنحضرت(ص) مدينہ كے دروازے ميں داخل نہيں ہوئے تھے اس وقت وحى خدا كا حامل فرشتہ نازل ہوا اور خدا كى طرف سے پيغام لايا او ران كے كرتوت سے پردہ اٹھايا_

____________________

(۱)مسجد ضرار كے سلسلے ميں سورہ توبہ ۱۰۷ تا۱۱۰ ميں بيان ہوا ہے

۶۲۴

اس كے فوراً بعد رسول اللہ (ص) نے حكم ديا كہ مذكورہ مسجد كو جلا ديا جائے او راسكے باقى حصے كو مسماركرديا جائے او راس كى جگہ كوڑاكركٹ ڈالاجايا كرے_

ان لوگوں كے ظاہراًكام كو ديكھا جائے تو ہميں شروع ميں تو اس حكم پر حيرت ہوئي كہ كيا بيماروں اوربوڑھوں كى سہولت كے لئے اوراضطرارى مواقع كے لئے مسجد بنانا برا كام ہے جبكہ يہ ايك دينى او رانسانى خدمت معلوم ہوتى ہے كيا ايسے كام كے بارے ميں يہ حكم صادر ہوا ہے؟ليكن اگر ہم اس معاملہ كى حقيقت پر نظر كريں گے تو معلوم ہوگا كہ يہ حكم كس قدر بر محل اور جچاتلا تھا_

اس كى وضاحت يہ ہے كہ'' ابو عامر''نامى ايك شخص نے عيسائيت قبول كرلى تھى اور راہبوں كے مسلك سے منسلك ہوگيا تھا _ اس كا شمار عابدوں ميں ہوتا تھا ، قبيلہ خزرج ميں اس كا گہرا اثرورسوخ تھا _

رسول اللہ(ص) نے جب مدينہ كى طرف ہجرت كى او رمسلمان آپ(ص) كے گرد جمع ہوگئے تو ابو عامر جو خودبھى پيغمبر(ص) كے ظہور كى خبر دينے والوں ميں سے تھا،اس نے ديكھا كہ اس كے ارد گرد سے لوگ چھٹ گئے ہيں اس پر وہ اسلام كے مقابلے كے لئے اٹھ كھڑا ہوا ،وہ مدينہ سے نكلا اور كفار مكہ كے پاس پہنچا،اس نے ان سے پيغمبر اكرم(ص) كے خلاف جنگ كے لئے مدد چاہى اور قبائل عرب كو بھى تعاون كى دعوت دى ،وہ خود مسلمانوں كے خلاف جنگ احد كى منصوبہ بندى ميں شريك رہا تھا،اور راہنمائي كرنے والوں ميں سے تھا،اس نے حكم ديا كہ لشكر كى دو صفوں كے درميان گڑھے كھوددے جائيں _اتفاقاً پيغمبر اسلام(ص) ايك گڑھے ميں گر پڑے ،آپ(ص) كى پيشانى پر زخم آئے اور دندان مبارك ٹوٹ گئے _

جنگ احد ختم ہوئي،مسلمانوں كو اس ميدان ميں آنے والى مشكلات كے باوجود اسلام كى آواز بلند تر ہوئي او رہر طرف صدا ئے اسلام گونجنے لگي، تو وہ مدينہ سے بھاگ گيا او ربادشاہ روم ہرقل كے پاس پہنچا تاكہ اس سے مددچاہے اور مسلمانوں كى سركوبى كے لئے ايك لشكر مہيا كرے_

اس نكتے كا بھى ذكر ضرورى ہے كہ اس كى ان كارستانيوں كى وجہ سے پيغمبر اسلام(ص) نے اسے ''فاسق''كالقب دے ركھاتھا_

۶۲۵

بعض كہتے ہيں كہ موت نے اسے مہلت نہ دى كہ وہ اپنى آرزو ہرقل سے كہتا ليكن بعض دوسرى كتب ميں ہے كہ وہ ہرقل سے جاكر ملا اور اس كے وعدوں سے مطمئن اورخوش ہوا_

بہر حال اس نے مرنے سے پہلے مدينہ كے منافقين كو ايك خط لكھا اور انھيں خوشخبرى دى كہ روم كے ايك لشكر كے ساتھ وہ ان كى مدد كوآئے گا_اس نے انھيں خصوصى تاكيد كى كہ مدينہ ميں وہ اس كے لئے ايك مركز بنائيں تاكہ اس كى آئندہ كى كارگذاريوں كے لئے وہ كام دے سكے ليكن ايسا مركز چونكہ مدينہ ميں اسلام دشمنوں كى طرف سے اپنے نام پر قائم كرنا عملى طور پر ممكن نہ تھا_ لہذا منافقين نے مناسب يہ سمجھا كہ مسجد كے نام پر بيماروں اور معذوروں كى مدد كى صورت ميں اپنے پروگرام كو عملى شكل ديں _

آخر كار مسجد تعمير ہوگئي يہاں تك كہ مسلمانوں ميں سے ''مجمع بن حارثہ'' (يا مجمع بَن جاريہ)نامى ايك قرآن فہم نوجوان كو مسجد كى امامت كے لئے بھى چن ليا گيا ليكن وحى الہى نے ان كے كام سے پردہ اٹھاديا_

يہ جو پيغمبر اكرم(ص) نے جنگ تبوك كى طرف جانے سے قبل ان كے خلا ف سخت كاروائي كا حكم نہيں ديا اس كى وجہ شايد ايك تو ان كى حقيقت زيادہ واضح ہوجائے او ردوسرا يہ كہ تبوك كے سفر ميں اس طرف سے كوئي او رذہنى پريشانى نہ ہو_ بہر حال جو كچھ بھى تھا رسول اللہ(ص) نے نہ صرف يہ كہ مسجد ميں نماز نہيں پڑھى بلكہ بعض مسلمانوں (مالك بن دخشم،معنى بن عدى اور عامر بن سكر يا عاصم بن عدي)كو حكم ديا كہ مسجدكو جلاديں او رپھر اس كى ديواروں كو مسمار كرواديا_ او رآخر كار اسے كوڑاكركٹ پھيكنے كى جگہ قرار دےديا_

۶۲۶

مسجد قباء

يہ بات قابل توجہ ہے كہ خدا وند عالم اس حيات بخش حكم كى مزيد تاكيد كے لئے خداوند متعال فرماتا ہے كہ اس مسجد ميں ہرگز قيام نہ كرو اور اس ميں نمازنہ پڑھو_(۱)

''بلكہ اس مسجدكے بجائے زيادہ مناسب يہ ہے كہ اس مسجد ميں عبادت قائم كرو جس كى بنياد پہلے دن سے تقوى پر ركھى گئي ہے''(۲)

نہ يہ كہ يہ مسجد جس كى بنياد روز اول ہى سے كفر،نفاق،بے دينى اور تفرقہ پر ركھى گئي ہے_

''مفسرين نے كہا ہے كہ جس مسجد كے بارے ميں مندرجہ بالا جملے ميں كہا گيا ہے كہ زيادہ مناسب يہ ہے كہ پيغمبر(ص) اس ميں نماز پڑھيں اس سے مراد'' مسجد قبا ''ہے كہ جس كے قريب منافقين نے مسجد ضرار بنائي تھي''_

اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے :''كہ علاوہ اس كے كہ اس مسجد كى بنياد تقوى پر ركھى گئي ہے ،مردوں كا ايك گروہ اس ميں مشغول عباد ت ہے جو پسند كرتا ہے كہ اپنے آپ كو پاك وپاكيزہ ركھے اور خدا پاكباز لوگوں كو دوست ركھتا ہے ''_(۳)

____________________

(۱)سورہ توبہ آيت ۱۰۸

(۲)سورہ توبہ آيت ۱۰۸

(۳)سورہ توبہ آيت ۱۰۸

۶۲۷

سب سے پہلى نماز جمعہ

پہلا جمعہ جو حضرت رسول اللہ (ص) نے اپنے اصحاب كے ساتھ پڑھا وہ اس وقت پڑھا گيا جب آپ نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائي _ جب آپ(ص) مدينہ ميں وارد ہوئے تو اس دن پير كا دن بارہ ربيع الاول او رظہر كا وقت تھا_ حضرت چار دن تك''قبا ''ميں رہے او رمسجد قبا كى بنياد ركھى ، پھر جمعہ كے دن مدينہ كى طرف روانہ ہوئے(قبااور مدينہ كے درميان فاصلہ بہت ہى كم ہے اور موجودہ وقت ميں قبا مدينہ كا ايك داخلى محلہ ہے)

اور نماز جمعہ كے وقت آپ(ص) محلہ''بنى سالم''ميں پہنچے وہاں نماز جمعہ ادا فرمائي اور يہ اسلام ميں پہلا جمعہ تھا جو حضرت رسول اللہ (ص) نے اداكيا_ جمعہ كى نماز ميں آپ(ص) نے خطبہ بھى پڑھا_ جو مدينہ ميں آنحضرت(ص) كا پہلا خطبہ تھا_

۶۲۸

واقعہ غدير

پيغمبر اكرم (ص) كى زندگى كا آخرى سال تھا''حجة الوداع ''كے مراسم جس قدر باوقار و پرشكوہ ہو سكتے تھے اس قدر پيغمبر اكرم(ص) كى ہمراہى ميں اختتام پذير ہوئے_ سب كے دل روحانيت سے سرشار تھے ابھى ان كى روح اس عظيم عبادت كى معنوى لذت كا ذائقہ محسوس كررہى تھى _ اصحاب پيغمبر(ص) جن كى تعداد بہت زيادہ تھى اس عظيم نعمت سے فيض ياب ہوئے او راس سعادت كے حاصل ہونے پر جامے ميں پھولے نہيں سماتے تھے_

نہ صرف مدينہ كے لوگ اس سفر ميں پيغمبر(ص) كے ساتھ تھے بلكہ جزيرہ نمائے عرب كے ديگر مختلف حصوں كے مسلمان بھى يہ عظيم تاريخى اعزازوافتخار حاصل كرنے كے لئے آپ(ص) كے ہمراہ تھے_

سرزمين حجاز كا سورج دروں اور پہاڑوں پر آگ برسارہا تھا ليكن اس سفركى بے نظير روحانى مٹھاس تمام تكليفوں كو آسان بنارہى تھي_ زوال كا وقت نزديك تھا_ آہستہ آہستہ ''حجفہ ''كى سرزمين او راس كے بعد خشك اور جلانے والے''غديرخم'' كے بيابان نظر آنے لگے_

در اصل يہاں پر ايك چوراہا ہے جو حجاز كے لوگوں كوايك دوسرے سے جدا كرتا ہے_ شمالى راستہ مدينہ كى طرف دوسرا مشرقى راستہ عراق كى طرف،تيسرا مغربى ممالك او رمصر كى طرف اور چوتھا جنوبى راستہ سرزمين يمن كو جاتا ہے يہى وہ مقام ہے جہاں پر آخرى مقصد او راس عظيم سفر كااہم ترين كام انجام پذير ہوتا تھا

۶۲۹

تاكہ مسلمان پيغمبر(ص) كى اہم ذمہ داريوں ميں سے ان كا آخرى حكم جان كر ايك دوسرے سے جداہوں _

جمعرات كا دن تھا اورہجرت كا دسواں سال_ آٹھ دن عيد قربان كو گزرے تھے كہ اچانك پيغمبر(ص) كى طرف سے ان كے ہمراہيوں كو ٹھہر جانے كا حكم ديا گيا_ مسلمانوں نے بلندآواز سے ان لوگوں كو جو قافلے كے آگے چل رہے تھے واپس لوٹنے كے لئے پكارا اوراتنى دير كے لئے ٹھہر گئے كہ پيچھے آنے والے لوگ بھى پہنچ جائيں _ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گيا تو پيغمبر(ص) كے مو ذن نے ''اللہ اكبر ''كى صداكے ساتھ لوگوں كونماز ظہر پڑھنے كى دعوت دى _ مسلمان جلدى جلدى نماز پڑھنے كے لئے تيار ہوگئے _ ليكن فضاء اتنى گرم تھى كہ بعض لوگ مجبور تھے كہ وہ اپنى عبا كا كچھ حصہ پائوں كے نيچے اور باقى سر كے اوپر لے ليں ،ورنہ بيابان كى گرم ريت اور سورج كى شعاعيں ان كے سر اور پائوں كو تكليف دے رہى تھيں _

اس صحراء ميں كوئي سائبان نظر نہ آتا تھا اور نہ ہى كوئي سبزہ ياگھاس صرف چند بے برگ وبار بيابانى درخت تھے جو گرمى كا سختى كے ساتھ مقابلہ كر رہے تھے كچھ لوگ انہى چند درختوں كا سہارا لئے ہوئے تھے اور انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ايك كپڑاڈال ركھا تھا اور پيغمبر(ص) كے لئے ايك سائبان سا بنا ركھا تھا ليكن گرم ہوا اس سائبان كے نيچے سے گزرتى ہوئي سورج كى جلانے والى گرمى كو اس سائبان كے نيچے بھى پھيلا رہى تھي_ بہر حال ظہر كى نماز پڑھ لى گئي_

خطبہ غدير

مسلمان ارادہ كررہے تھے كہ فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خيموں ميں جاكر پناہ ليں جو انھوں نے اپنے ساتھ اٹھاركھے تھے ليكن رسول اللہ(ص) نے انہيں آگاہ كيا كہ وہ سب كے سب خداوندتعالى كا ايك نيا پيغام سننے كے لئے تيار ہوں جسے ايك مفصل خطبے كے ساتھ بيان كيا جائے گا_

جو لوگ رسول اللہ (ص) سے دور تھے وہ پيغمبر(ص) كا ملكوتى چہرہ اس عظيم اجتماع ميں دور سے ديكھ نہيں پارہے تھے لہذا اونٹوں كے پالانوں كا منبر بنايا گيا_پيغمبر(ص) اس كے اوپر تشريف لے گئے_پہلے پروردگار عالم كى حمد وثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے يوں خطاب فرمايا:ميں عنقرب خداوندمتعال كى دعوت پر لبيك

۶۳۰

كہتے ہوئے تمہارے درميان سے جارہا ہوں ،ميں بھى جوابدہ ہوں اورتم بھى جوابدہ ہو ،تم ميرے بارے ميں كيا گواہى دوگے لوگوں نے بلند آواز ميں كہا :

''ہم گواہى ديں گے كہ آپ(ص) نے فريضہ رسالت انجام ديا اورخير خواہى كى ذمہ دارى كو انجام ديا اور ہمارى ہدايت كى راہ ميں سعى و كوشش كي،خدا آپ(ص) كوجزا ئے خير دے''_

اس كے بعد آپ(ص) نے فرمايا كيا تم لوگ خدا كى وحدانيت،ميرى رسالت اور روز قيامت كى حقانيت اوراس دن مردوں كے قبروں سے مبعوث ہونے كى گواہى نہيں ديتے؟

سب نے كہا:كيوں نہيں ہم سب گواہى ديتے ہيں _

آپ(ص) نے فرمايا: خداوندگواہ رہنا_

آپ(ص) نے مزيد فرمايا:اے لوگو كيا تم ميرى آواز سن رہے ہو؟

انہوں نے كہا: جى ہاں _

اس كے بعد سارے بيابان پر سكوت كا عالم طارى ہوگيا_ سوائے ہوا كى سنسناہٹ كے كوئي چيز سنائي نہيں ديتى تھى _ پيغمبر(ص) نے فرمايا:ديكھو ميں تمہارے درميان دوگرانمايہ اور گرانقدر چيزيں بطور يادگار چھوڑے جارہا ہوں تم ان كے ساتھ كيا سلوك كروگے؟

حاضرين ميں سے ايك شخص نے پكار كر كہا:يا رسول اللہ (ص) وہ دو گرانمايہ چيزيں كونسى ہيں ؟

تو پيغمبراكرم(ص) نے فرمايا: پہلى چيز تو اللہ تعالى كى كتاب ہے جو ثقل اكبر ہے_ اس كا ايك سرا تو پروردگار عالم كے ہاتھ ميں ہے اور دوسرا سراتمہارے ہاتھ ميں ہے،اس سے ہاتھ نہ ہٹانا ورنہ تم گمراہ ہو جائوگے_ دوسرى گرانقدر يادگار ميرے اہل بيت ہيں اور مجھے خدائے لطيف وخبير نے خبردى ہے كہ يہ دونوں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوں گے يہاں تك كہ بہشت ميں مجھ سے آمليں گے_

ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز كرنے) كى كوشش نہ كرنا اور نہ ہى ان سے پيچھے رہنا كہ اس صورت ميں بھى تم ہلاك ہو جائوگے_

۶۳۱

اچانك لوگوں نے ديكھا كہ ر سول اللہ(ص) اپنے ارد گرد نگاہيں دوڑارہے ہيں گويا كسى كو تلاش كر رہے ہيں جو نہى آپ(ص) كى نظر حضرت على عليہ السلام پر پڑى فوراً ان كا ہاتھ پكڑليا اور انہيں اتنا بلند كيا كہ دونوں كى بغلوں كے نيچے كى سفيدى نظر آنے لگى اور سب لوگوں نے انہيں ديكھ كر پہچان لياكہ يہ تو اسلام كا وہى سپہ سالار ہے كہ جس نے كبھى شكست كا منہ نہيں ديكھا_

اس موقع پر پيغمبر(ص) كى آواز زيادہ نماياں اوربلند ہوگئي اور آپ(ص) نے ارشاد فرمايا:

''ايها الناس من اولى الناس بالمو منين من انفسهم''

يعنى اے لوگو بتائو وہ كون ہے جو تمام لوگوں كى نسبت مومنين پر خود ان سے زيادہ اوليت ركھتا ہے ؟ اس پر سب حاضرين نے بہ يك آواز جواب ديا كہ خدا اور اس كا پيغمبر(ص) بہتر جانتے ہيں _

تو پيغمبر(ص) نے فرمايا: خداا ميرا مولا اوررہبر ہے اور ميں مومنين كا مولااوررہبر ہوں اور ان كے اوپر ان كى نسبت خود ان سے زيادہ حق ركھتا ہوں (اور ميرا ارادہ ان كے ارادے سے مقدم ہے)_

اس كے بعد فرمايا:

''فمن كنت مولاه فهذا على مولاه'' .

''يعنى جس جس كا ميں مولاہ ہوں على (ع) بھى اس اس كے مولاہ اوررہبر ہے''_

پيغمبر اكرم(ص) نے اس جملے كى تين مرتبہ تكرار كى او ربعض راويوں كے قول كے مطابق پيغمبر(ص) نے يہ جملہ چار مرتبہ دہرايا اور اس كے بعد آسمان كى طرف سر بلند كر كے بارگاہ خداوندى ميں عرض كي:_

''اللّهم وال من والاه وعاد من عاداه واحب من احبه و ابغض من ابغضه و انصرمن نصره واخذل من خذله، وادرالحق معه حيث دار.''

يعنى بار الہا جو اس كو دوست ركھے تو اس كو دوست ركھ او رجو اس سے دشمنى كرے تو اس سے دشمنى ركھ_ جو اس سے محبت كرے تو اس سے محبت كر اور جو اس سے بغض ركھے تو اس سے بغض ركھ_ جو اس كى مدد كرے تو اس كى مددكر _ جو اس كى مدد سے كنارہ كشى كرے تو اسے اپنى مددسے محروم ركھ اور حق كو ادھرپھيردے

۶۳۲

جدھر وہ رخ كرے_

اس كے بعد فرمايا:

'' تمام حاضرين آگاہ ہوجائيں اس بات پر كہ يہ ان كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اس بات كوان لوگوں تك پہنچائيں جو يہاں پر اور اس وقت موجود نہيں ہيں ''_

روز اكمال دين

پيغمبر(ص) كا خطبہ ختم ہوگيا پيغمبر(ص) پسينے ميں شرابور تھے حضرت على عليہ السلام بھى پسينے ميں نہائے ہوئے تھے_ دوسرے تمام حاضرين كے بھى سر سے پائوں تك پسينہ بہہ رہا تھا_

ابھى اس جمعيت كى صفيں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوئي تھيں كہ جبرئيل (ع) امين وحى لے كر نازل ہوئے اور تكميل دين كى پيغمبر(ص) كو بايں الفاظ بشارت دي:

''اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ''_(۱)

''آج كے دن ميں نے تمہارے لئے تمہارے دين اور آئين كو كامل كرديا اور اپنى نعمت كو تم پر تمام كرديا''_

اتمام نعمت كا پيغام سن كر پيغمبر(ص) نے فرمايا:

''اللّه اكبر اللّه اكبر على اكمال الدين واتمام النعمة ورضى الرب برسالتى والولايةلعلى من بعدي'' .

''ہر طرح كى بزرگى وبڑائي خداہى كے لئے ہے كہ جس نے اپنے دين كو كامل فرمايا اور اپنى نعمت كو ہم پر تمام كيا اور ميرى نبوت ورسالت اور ميرے بعد كے لئے على (ع) كى ولايت كے لئے خوش ہوا_''

____________________

(۱) سورہ مائدہ آيت ۳

۶۳۳

اميرالمو منين على ابن ابى طالب عليہما السلام كى ولايت كا پيغمبر(ص) كى زبان مبارك سے اعلان سن كر حاضرين ميں مبارك باد كا شور برپا ہوا لوگ بڑھ چڑھ كر اس اعزازومنصب پر حضرت على (ع) كو اپنى طرف سے مبارك باد پيش كررہے تھے _ معروف شخصيتوں ميں سے حضرت ابو بكر اور حضرت عمر كى طرف سے مبارك باد كے يہ الفاظ تاريخ كے اوراق ميں محفوظ ہيں كہ انہوں نے كہا:

''بخ: بخ: لك يا بن ابى طالب اصبحت وامسيت مولائي و مولاكل مو من و مو منة:''

''مبارك ہو مبارك ہو اے فرزند ابى طالب كہ آپ(ع) ميرے اور تمام صاحبان ايمان مردوں اورعورتوں كے مولا اور رہبر ہوگئے''_

اس وقت ابن عباس نے كہا :بخدا يہ عہد وپيمان سب كى گردنوں ميں باقى رہے گا''_(۱)

____________________

(۱) اس سلسلے ميں مزيد آگہى كے لئے كتاب الغدير، علامہ اميني ،احقاق الحق ،قاضى نوراللہ شوشتري ،المراجعات شرف الدين اور دلائل الصدق محمدحسين مظفر پر رجوع كريں

۶۳۴

فدك

فدك اطراف مدينہ ميں تقريباً ايك سو چاليس كلو ميٹر كے فاصلہ پر خيبر كے نزديك ايك آباد قصبہ تھا_جب سات ہجرى ميں خيبر كے قلعے يكے بعد ديگر افواج اسلامى نے فتح كرلئے اور يہوديوں كى مركزى قوت ٹوٹ گئي تو فدك كے رہنے والے يہودى صلح كے خيال سے بارگاہ پيغمبر(ص) ميں سرتسليم خم كرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنى آدھى زمينيں اور باغات آنحضرت (ص) كے سپرد كرديئےور آدھے اپنے پاس ركھے _ اس كے علاوہ انہوں نے پيغمبر اسلام(ص) كے حصہ زمينوں كى كاشتكارى بھى اپنے ذمہ لي_ اپنى كاشتكارى كى زحمت كى اجرت وہ پيغمبر اسلام(ص) سے وصول كرتے تھے،(سورہ حشر آيت)كے پيش نظراس كى طرف توجہ كرتے ہوئے يہ زمينيں پيغمبر اسلام(ص) كى ملكيت خاص تھيں _ ان كى آمدنى كو آپ(ص) اپنے مصرف ميں لاتے تھے يا ان مدات ميں خرچ كرتے تھے جن كى طرف اس سورہ كى آيت نمبر۷ ميں اشارہ ہوا ہے _

لہذا پيغمبر(ص) نے يہ سارى زمينيں اپنى بيٹى حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ عليہا كوعنايت فرماديں _ يہ ايسى حقيقت ہے جسے بہت سے شيعہ اور اہل سنت مفسرين نے تصريح كے ساتھ تحرير كيا ہے_منجملہ ديگر مفسرين كے تفسير درالمنثور ميں ابن عباس سے مروى ہے كہ جس وقت آيت( فات ذاالقربى حقه ) (۱) نازل ہوئي تو پيغمبر (ص) نے جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كو فدك عنايت فرمايا:

____________________

(۱) سورہ روم ايت ۳۸

۶۳۵

كتاب كنزالعمال جو مسند احمد كے حاشيہ پر لكھى گئي ہے،ميں صلہ رحم كے عنوان كے ماتحت ابو سعيد خدرى سے منقول ہے كہ جس وقت مذكورہ بالاآيت نازل ہوئي تو پيغمبر (ص) نے فاطمہ سلام اللہ عليہا كو طلب كيا اور فرمايا:

''يا فاطمة لك فدك'' ''اے فاطمہ(ع) فدك تيرى ملكيت ہے''_

حاكم نيشاپورى نے بھى اپنى تاريخ ميں اس حقيقت كو تحريركيا ہے_

ابن ابى الحديد معتزلى نے بھى نہج البلاغہ كى شرح ميں داستان فدك تفصيل كے ساتھ بيان كى ہے اور اسى طرح بہت سے ديگر مورخين نے بھي،ليكن وہ افراد جو اس اقتصادى قوت كو حضرت على عليہ السلام كى زوجہ محترمہ كے قبضہ ميں رہنے دينا اپنى سياسى قوت كے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصصم ارادہ كيا كہ حضرت على عليہ السلام كے ياور وانصار كو ہر لحاظ سے كمزور اور گوشہ نشيں كرديں _ حديث مجہول(نحن معاشر الانبياء ولا نورث) كے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ ميں لے ليا اور باوجود يكہ حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا قانونى طور پر اس پر متصرف تھيں اور كوئي شخص ''ذواليد''(جس كے قبضہ ميں مال ہو)سے گواہ كا مطالبہ نہيں كرتا،جناب سيدہ سلام اللہ عليہا سے گواہ طلب كيے گئے _ بى بى نے گواہ پيش كيے كہ پيغمبر اسلام (ص) نے خود انہيں فدك عطا فرمايا ہے ليكن انہوں نے ان تمام چيزوں كى كوئي پرواہ نہيں كي_بعد ميں آنے والے خلفاء ميں سے جو كوئي اہلبيت سے محبت كا اظہار كرتا تو وہ فدك انہيں لوٹا ديتا ليكن زيادہ دير نہ گزرتى كہ دوسرا خليفہ اسے چھين ليتا اور دوبارہ اس پر قبضہ كرليتا _ خلفائے بنى اميہ اور خلفائے بنى عباس بارہا يہ اقدام كرتے رہے _

واقعہ فدك اور اس سے تعلق ركھنے والے مختلف النوع حوادث جو صدر اسلام ميں اور بعد كے ادوار ميں پيش آئے،زيادہ دردناك اورغم انگيز ہيں اور وہ تاريخ اسلام كا ايك عبرت انگيز حصہ بھى ہيں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ كا متقاضى ہے تا كہ تاريخ اسلام كے مختلف حوادث نگاہوں كے سامنے آسكيں _

قابل توجہ بات يہ ہے كہ اہل سنت كے نامور محدث مسلم بن حجاج نيشاپورى نے اپنى مشہور و معروف كتاب ''صحيح مسلم'' ميں جناب فاطمہ (سلام اللہ عليہا) كا خليفہ اول سے فدك كے مطالبہ كا واقعہ تفصيل سے

۶۳۶

بيان كيا ہے، اور جناب عائشہ كى زبانى نقل كيا ہے كہ جناب فاطمہ كو جب خليفہ اول نے فدك نہيں ديا تو بى بى ان سے ناراض ہوگئي اور آخر عمر ان سے كوئي گفتگو نہيں كي_(صحيح مسلم،كتاب جہاد ج۳ص۱۳۸۰حديث ۵۲)

''نحن معاشر الانبياء لا نورث''

اہل سنت كى مختلف كتابوں ميں پيغمبراسلام (ص) كى طرف منسوب ايك حديث موجود ہے جو اس طرح كے مضمون پر مشتمل ہے:

''نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة''

''ہم پيغمبر(ص) لوگ اپنى ميراث نہيں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہ خدا ميں صدقے كے طور پر خرچ كرديا جائے''_

اور بعض كتابوں ميں ''لا نورث''كا جملہ نہيں ہے بلكہ''ما تركناہ صدقة''كى صورت ميں نقل كيا گيا ہے _

اس روايت كى سند عام طور پر ابوبكر تك جا كر ختم ہوجاتى ہے جنھوں نے آنحضرت (ص) كے بعد مسلمانوں كى زمام امور اپنے قبضے ميں لے لى تھي_ اور جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا يا پيغمبر اكرم (ص) كى بعض بيويوں نے ان سے پيغمبر(ص) كى ميراث كا مطالبہ كيا تو انھوں نے اس حديث كا سہارا لےكر انھيں ميراث سے محروم كرديا_

اس حديث كو مسلم نے اپنى صحيح (جلد ۳ كتاب الجھاد والسير ص۱۳۷۹)ميں ،بخارى نے جزو ہشتم كتاب الفرائض كے صفحہ ۱۸۵پر اور اسى طرح بعض ديگر افراد نے اپنى اپنى كتابوں ميں درج كيا ہے_

يہ بات قابل توجہ ہے كہ مذكورہ كتابوں ميں سے بخارى ميں بى بى عائشہ سے ايك روايت نقل كى گئي ہے:فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور جناب عباس بن عبد المطلب (رسول (ص) كى وفات كے بعد )ابو بكر كے پاس آئے اور ان سے اپنى ميراث كا مطالبہ كيا _ اس وقت انھوں نے اپنى فدك كى اراضى اور خيبر سے ملنے والى

۶۳۷

ميراث كا مطالبہ كيا تو ابو بكر نے كہا ميں نے رسول اللہ (ص) سے سنا ہے كہ آپ(ص) نے فرمايا_''ہم ميراث ميں كوئي چيز نہيں چھوڑتے،جو كچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے''_

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا نے جب يہ سنا تو نا راض ہو كر وہاں سے واپس آگئيں اور مرتے دم تك ان سے بات نہيں كي_

البتہ يہ حديث مختلف لحاظ سے تجزيہ و تحليل كے قابل ہے ليكن اس تفسير ميں ہم چند ايك نكات بيان كريں گے:

۱_يہ حديث،قرآنى متن كے مخالف ہے اور اس اصول اور كليہ قاعدہ كى رو سے نا قابل اعتبار ہے كہ جو بھى حديث كتاب اللہ كے مطابق نہ ہو اس پر اعتبار نہيں كرنا چاہيے اور ايسى حديث كو پيغمبر اسلام (ص) يا ديگر معصومين عليھم السلام كا قول سمجھ كر قبول نہيں كيا جا سكتا_

ہم قرآنى آيات ميں پڑھتے ہيں كہ حضرت سليمان(ع) جناب دائود (ع) كے وارث بنے اورآيت كا ظاہر مطلق ہے كہ جس ميں اموال بھى شامل ہيں _ جناب يحيى (ع) اور زكريا (ع) كے بارے ميں ہے:

''يرثنى ويرث من ال يعقوب''

''خداوندا مجھے ايسا فرزند عطا فرما جو ميرا اور آل يعقوب كا وارث بنے''_(سورہ مريم آيت ۶)

حضرت''زكريا(ع) ''كے بارے ميں تو بہت سے مفسرين نے مالى وراثت پر زور ديا ہے_

اس كے علاوہ قرآن مجيدميں ''وراثت''كى آيات كا ظاہر بھى عمومى ہے كہ جو بلا استثناء سب كے لئے ہے_

شايد يہى وجہ ہے كہ اہل سنت كے مشہور عالم علامہ قرطبى نے مجبور ہوكر اس حديث كو غالب اور اكثر فعل كى حيثيت سے قبول كيا ہے نہ كہ عمومى كليہ كے طور پر اور اس كے لئے يہ مثال دى ہے كہ عرب ايك جملہ كہتے ہيں :

''انا معشرالعرب اقرى الناس للضيف''_

۶۳۸

ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ كر مہمان نوازہيں (حالانكہ يہ كوئي عمومى حكم نہيں ہے)_

ليكن ظاہر ہے كہ يہ بات اس حديث كى اہميت كى نفى كررہى ہے كيونكہ حضرت سليمان(ع) اور يحيى (ع) كے بارے ميں اس قسم كا عذر قبول كرلئے تو پھر دوسرے كے لئے بھى يہ قطعى نہيں رہ جاتي_

۲_مندرجہ بالا روايت ان كے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہو كہ ابو بكر نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كو فدك واپس لوٹا نے كا پختہ ارادہ كر كيا تھا ليكن دوسرے لوگ اس ميں حائل ہوگئے تھے چنانچہ سيرت حلبى ميں ہے:

فاطمہ(ص) بنت رسول(ص) ،ابو بكر كے پاس اس وقت آئيں جب وہ منبر پر تھے _ انھوں نے كہا:

''اے ابو بكر كيا يہ چيز قرآن ميں ہے كہ تمھارى بيٹى تمہارى وراث بنے ليكن ميں اپنے باپ كى ميراث نہ لوں ''؟

يہ سن كر ابو بكر رونے لگے اور ان كى آنكھوں سے آنسو جارى ہوگئے پھر وہ منبر سے نيچے اترے اور فدك كى واپسى كا پروانہ فاطمہ (ص) كو لكھ ديا_ اسى اثناء ميں عمر آگئے _ پوچھا يہ كيا ہے؟انھوں نے كہاكہ ميں نے يہ تحرير لكھ دى ہے تا كہ فاطمہ كو ان كے باپ سے ملنے والى وراثت واپس لوٹا دوں

عمر نے كہا: اگرآپ يہ كام كريں گے تو پھر دشمنوں كے ساتھ جنگى اخراجات كہاں سے پورے كريں گے؟

جبكہ عربوں نے آپ كے خلاف قيام كيا ہوا ہے _ يہ كہا اور تحرير لے كر اسے پارہ پارہ كرديا_(۱)

يہ كيونكر ممكن ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے تو صريحى طور پر ممانعت كى ہو اور ابو بكر اس كى مخالفت كى جرا ت كريں ؟اور پھر عمر نے جنگى اخراجات كا تو سہارا ليا ليكن پيغمبر اكرم(ص) كى حديث پيش نہيں كي_

مندرجہ بالا روايت پر اگر اچھى طرح غور كيا جائے تو معلوم ہوگاكہ يہاں پر پيغمبر اسلام(ص) كى طرف سے

____________________

(۱)سيرہ حلبى ج۳/ص۳۶۱

۶۳۹

ممانعت كا سوال نہيں تھا_ بلكہ سياسى مسائل آڑے تھے اور ايسے موقع پر معتزلى عالم ابن ابى الحديد كى گفتگو يادآجاتى ہے_ وہ كہتے ہيں :

ميں نے اپنے استاد'' على بن فارقي'' سے پوچھا كہ كيا فاطمہ(ص) اپنے دعوى ميں سچى تھيں ؟ تو انھوں نے كہا جى ہاں پھر ميں نے پوچھا تو ابوبكر انھيں سچا اور بر حق بھى سمجھتے تھے _

اس موقع پر ميرے استاد نے معنى خيز تبسم كے ساتھ نہايت ہى لطيف اور پيارا جواب ديا حالانكہ انكى مذاق كى عادت نہيں تھي،انھوں نے كہا:

اگر وہ آج انھيں صرف ان كے دعوى كى بناء پر ہى فدك دےديتے تو پھر نہ تو ان كے لئے كسى عذر كى گنجائش باقى رہتى اور نہ ہى ان سے موافقت كا امكان ''_(۱)

۳_پيغمبر اسلام (ص) كى ايك مشہور حديث ہے جسے شيعہ اور سنى سب نے اپنى اپنى كتابوں ميں درج كيا ہے،حديث يہ ہے: ''العلماء ورثة الانبياء'' _ ''علماء انبياء كے وارث ہوتے ہيں ''_

نيز يہ قول بھى آنحضرت(ص) ہى سے منقول ہے: ''ان الانبياء لم يورثوا ديناراً ولا درھماً''_ ''انبياء اپنى ميراث ميں نہ تودينار چھوڑتے ہيں اور نہ ہى درہم''_

ان دونوں حديثوں كو ملا كر پڑھنے سے يوں معلوم ہوتا ہے كہ آپ(ص) كا اصل مقصد يہ تھا كہ لوگوں كو يہ بات باور كرائيں كہ انبياء كے لئے سرمايہ افتخار ان كا علم ہے اور اہم ترين چيز جو وہ يادگاركے طور پر چھوڑ جاتے ہيں ان كا ہدايت و راہنمائي كا پروگرام ہے اور جو لوگ علم و دانش سے زيادہ بہرہ مند ہوں گے وہى انبياء كے اصلى وارث ہوں گے_ بجائے اس كے كہ ان كى مال پر نگاہ ہو اور اسے يادگار كے طور پر چھوڑجائيں _ اس كے بعد اس حديث كے نقل بہ معنى كرديا گيا اور اس كى غلط تعبيريں كى گئيں اور شايد''ماتركناہ صدقة'' والے جملے كا بعض روايات ميں اس پر اضافہ كرديا گيا_

____________________

(۱)شرح نہج البلاغہ،ابن ابى الحديد جلد_۱۶ص۲۸۴

۶۴۰