امامت و رہبری

امامت و رہبری0%

امامت و رہبری مؤلف:
زمرہ جات: امامت

امامت و رہبری

مؤلف: استاد شہید مرتضیٰ مطہری
زمرہ جات:

مشاہدے: 3163
ڈاؤنلوڈ: 1033

تبصرے:

امامت و رہبری
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 15 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3163 / ڈاؤنلوڈ: 1033
سائز سائز سائز
امامت و رہبری

امامت و رہبری

مؤلف:
اردو

چوتھی بحث

آیت:( الیوم یئس ) اور مسئلہ امامت

گزشتہ بحث میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ مسئلہ امامت کے شیعہ اور اہل سنت کے نظریوں کی بنیادی ایک دم الگ الگ ہے ۔اور یہ دونوں نظر یے بنیادی طور سے مختلف ہیں ۔ لہٰذا اس مسئلہ میں یہ بحث کرنا ہی غلط ہے کہ ہم بھی امامت کے قائل ہیں اور وہ بھی ، لیکن امامت کے شرائط میں ہم دونوں کے نظریوں میں فرق ہے ۔ کیونکہ شیعہ امامت سے جس مرتبہ و منصب کے قائل ہیں وہ اس سے بالکل جدا ہے جس کے امامت کے نام پر اہل سنت معتقد ہیں ۔ اسی طرح جیسے اس مسئلہ کویوں اٹھانا صحیح نہیں ہے کہ امامت نص کے ذریعہ معین ہوتی ہے یا شوریٰ کے ذریعہ ؟ یعنی امام کی تعیین پیغمبر(ص) کو کرنی چاہئے یالوگوں کو اس کے انتخاب کا اختیار ہے ، کیونکہ امامت کےسلسلہ میں شیعہ جو عقیدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام نص کے ذریعہ معین ہوتا ہے وہ اس سے ایک دم الگ ہے جس کا اہل سنت اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا انتخاب شوریٰ سے ہوتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ دونوں ایک ہی چیز کے بارے میں بحث کرتے ہیں اورایک کہتا ہے کہ یہ نص کے ذریعہ ہے ، دوسرا کہتا ہےکہ شوریٰ کے ذریعہ اصل میں کہنا یہ چاہئے کہ شیعہ کی نظر میں امامت سے مراد جو کچھ ہے اہل سنت اسے سرے سے قبول ہی نہیں کرتے ، صرف اس کے شرائط ہی میں اختلاف نہیں رکھتے ۔ اس کی مثال بالکل منکرین نبوت کے نزدیک نبوت کے مانند ہے ۔ شیعہ امامت سے وہ بلند و بالامقام مراد لیتے ہیں کہ قہری طور پر اگر کوئی اس مقام کا تصور کرلے اور اسے قبول کرلے تو بہر حال اسے ماننا ہی پڑے گا کہ امام کوخدا کی جانب سے معین کیا جاناچاہئے ۔ جس طرح نبوت کے سلسلہ میں کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ لوگ بیٹھ کر نبی منتخب کرلیں۔ اسی طرح شیعہ نقطۂ نطرسے امام کی جو حیثیت و منزلت ہے ، اس کے لئے بھی یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ لوگ مل بیٹھ کر ایسے کسی شخص کا انتخاب کرلیں ۔

گشتہ بحث میں ہم شیعی نقطۂ نظر سے امامت کے مراتب و شرائط کا ذکر کرتے ہوئے یہاں تک پہنچتے ہیں کہ شیعہ اس مسئلہ کو اوپر سے شروع کرتے ہیں ( یعنی خدا سے) اور وہاں سے زینہ بازینہ نیچے آتے ہیں اس کے بعد وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ بات صرف ایک مفروضہ ہی نہ رہ جائے لہٰذا دیکھنا چاہئے کہ ہم امامت کے سلسلہ میں جو اعلیٰ معیار رکھتے ہیں ،کیا پیغمبر اکرم (ص)نے بھی کسی کو اس مقام کے لئے معین فرمایا ہے ؟ اور قرآن بھی اس سلسلہ میں کچھ فرماتا ہے یا نہیں ؟

پہلے یہ خیال تھا کہ اسی ترتیب کے ساتھ گفتگو کو آگے بڑھاؤں جس ترتیب سے خواجہ نصرالدین نے اپنی کتاب تجرید میں اس مسئلہ کو پیش کیا ہے ، لیکن چونکہ عید غدیر نزدیک ہے لہٰذا طے کیا کہ بہتر ہے پہلے غدیر سے مربوط آیا ت پر ہی کچھ روشنی ڈالی جائے ۔

آیہ( الیوم یئس الذین ) کی تحقیق:

سورۂ مائدہ کے شروع میں یہ آیت مذکور ہے :( الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوهم ولخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ) ( " سورۂ مائدہ آیت ۳) آیت کے یہ دونوں حصے جو "الیوم " سے شروع ہوتے ہیں ایک ہی آیت کے ضمن میں ہیں ۔ اور قدر مسلّلم یہ ہے کہ دونوں ایک ہی مطلب سے مربوط ہیں نہ کہ دو الگ الگ مطالب سے ۔ پہلے اس آیت کا ترجمہ عرض کردوں پھر قرآن کے لحاظ سے اس کی شروع و تفسیر بھی کروں گا ۔

لفظ " یوم " یعنی روز جب " الف ولام " کے ساتھ ذکر ہوتا ہے ( الف ولام عہد کے ساتھ ) تو کبھی " اُس روز"کے معنی دیتا ہے اور کبھی" آج " کے معنی ظاہر کرتا ہے ۔" اس روز" کے معنی میں وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں پہلے ایک روز کا ذکر ہوچکا ہو ، بعد میں الیوم کہیں تو وہاں " اُس روز" مراد ہوگا ۔ اور اگر کہیں مثلاًً الیوم فلاں شخص آیا تو یہاں اس سے مراد آج ہوگا ۔( الیوم یئس الذین کفروامن دینکم ) ( ابھی ہم یہ نہیں کہتے کہ اس سے مراد اس روز ہے یا آج ۔ اس کی وضاحت ہم بعد میں کریں گے ) اس روز یاآج کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ۔ فلا تخشوھم لہٰذا اب ان سے کوئی خوف محسوس نہ کرو۔ تمہارے دین سے انب کے مایوس ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ تمہارے دین پر غلبہ پانے اور اسے نیست نو نابود کرنے سے مایوس ہوگئے ۔ اور چونکہ مایوس ہوگئے لہٰذا اسلام مخالف اپنی کزشتہ ریشہ دوانیوں سے بھی دست بردار ہوگئے ۔ اور اب ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بعد کا جملہ بہت عجیب ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : " واخشون " اور مجھ سے ڈرو ۔ یعنی کہا یہ جارہا ہے کہ اب کفار کی طرف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں لیکن میری طرف سے خوف زدہ رہو جبکہ بات خود دین کی ہورہی ہے ۔ کفار کی طرف سے خوف کا مطلب تو یہ تھا کہ ان سے دین کو کوئی گزند نہ پہنچے ، ان کے لئے تو خدا فرماتا ہے نہ ڈرو اب وہ کچھ نہیں کرسکتے " واخشون " لیکن مجھ سے ڈرو ۔ فطری طور پر معنی تو یہی ہوں گے کہ اب اگر دین کو کوئی گزند نہ پہنچے گا تو میری طرف سے پہنچے گا ۔ آخر یہ کون سا مفہوم ہے کہ آج کے بعد سے اپنے دین کے لئے کفار سے نہ ڈرو ۔ " اسسے کیا مقصود ہے اسے بعد میں ذکر کروں گا۔

پھر ارشاد ہوتا ہے :"الیوم اکملت لکم دینکم " اس روز (یا آج ) میں نے تمہارے دین کو کامل کیا یعنی حد کمال پر پہنچا دیا ۔" واتممت علیکم نعمتی " یعنی اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا ۔ یہاں دو قریب المعنی لفظ ذکر ہوئے ہیں : " اکمال " و"اتمام" یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں یعنی میں نھے کامل کیا یا تمام کیا ۔

اکمال اوراتمام کا فرق:

(فارسی میں اور خصوصاً عربی میں ) ان دونوں لفطوں کا باہمی فرق یہ ہے کہ " اتمام " اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کسی چیز کے اجزاء یکے بعد دیگرے آتے رہیں جب تک تمام اجزاء نہ آجائیں اس چیز ک وناقص کہتے ہیں اور جب اس کا آخری جزو بھی آجاتا ہے تو کہتے ہیں وہ چیز تمام ہوگئی مثلاً ایک مکان جب وہ پورا بن کر تیار ہوجاتا ہے تو (عربی میں ) کہتے ہیں تمام ہوگیا ۔ ورنہ چاہے اس کی دیواریں کھڑی کرلیں اوراس پر چھت بھی ڈال دیں مکان تمام نہ کہلائے گا جب تک اس کے تمام ضروری اجزاء اس میں الگ نہ جائیں جو اگر نہ ہوں تو مکان سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس صورت میں کہتے ہیں یہ عمارت تمام نہیں ہوئی ہے ۔ جب اس میں تمام اجزاء لگ جائیں ار وہ رہنے کے قابل ہوجائے تو تب کہا جائے گا مکان اتمام کو پہنچا ۔ لیکن لفظ" کامل " میں ایسا نہیں ہے کہ (غیر کامل چیز ) کوئی نقص بھی رکھتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس کاکوئی جزو بھی کسی کطرح کا نقص نہ رکھتا ہو پھر بھی ابھی کامل نہ ہو۔ مثال کے طور پر بچہ رحم مادر میں حد اتمام تک تو پہنچ جاتا ہے یعنی اس کے جسم کے تمام اجزاء مکمل ہوجاتے ہیں ، بچہ دنیا میں بھی آجاتا ہے لیکن ابھی وہ کامل انسان نہیں ہے ۔ یعنی ابھی رشد کی آخری منزلوں تک نہیں پہنچا ہے ۔ رشد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے جسم کا کوئی جزو ناقص تھا ۔ در حقیقت کامل اور تمام میں باہم کمّی و کیفی فرق ہے

قرآن ایک طرف کہتا ہے : " الیوم اکملت لکم دینکم " اس روز میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا ۔ اور دوسری طرف فرماتا ہے : " واتممت علیکم نعمتی " میں نے نعمت بھی تم پر تمام کردی " ورضیت لکم الاسلام دیناً " اور آج میں نے اسلام کو ایک دین کے عنوان سے تمہارے لئے پسند کرلیا ۔ یعنی یہ اسلام آج وہ اسلام ہے جیسا خدا چاہتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اسلام تو وہی پہلے ہی والا اسلام ہے لیکن اب اس کے سلسلہ میں خدا کا نظریہ بدل گیا ہے ! بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اب جبکہ اسلام کمال و اتمام کی حد تک پہنچ گیا ، اب یہوہی دین ہے جس میں رضائے خداشامل ہے ۔ خدا جیسا دین چاہتا تھا وہ یہی کامل شدہ اورتمام شدہ اسلام ہے ۔

آیت کا مفہوم اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ صرف اس میں جوبات ہے وہ یہ کہ لفظ الیوم سے مراد کون ساروز ہے ؟ کون سا روز اس حد تک اہم ہے کہ قرآن کہتا ہے اس روز دین کامل ہوا اور نعمت خدااس پر تمام ہوگئی ۔ یہ بہر حال بہت اہم دین ہونا چاہئے یقیناًکوئی بہت ہی غیر معمولی واقعہ اس روز رونما ہوا ہوگا ۔ اور ظاہر ہے یہ بات شیعہ یا سنّی سے تعلق نہیں رکھتی ۔

اس قضیہ کے عجائبات میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت کے قبل اور بعد کی آیتوں سے بھی کوئی ایسی چیز سمجھ نہیں آتی جو اس روز کو ثابت کرسکے ۔ مختصر یہ ہے کہ خود آیت کے لفظی قرائن سے "وہ روز" سمجھا نہیں جاسکتا ۔ ایک موقع ہے جب آیت سے پہلے کسی بہت ایم واقعہ یا حادثہ کا ذکر ہوا ہو اور بعد میں اسی حادثہ یا واقعہ کی " مناسبت سے " آج " کہا جائے ۔ یہاں ایسا بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے بڑے عام اورسادہ سے احکام بیان کئے گئے ہیں کہ کس جانور کا گوشت تم پر حلال ہے اورکس کا حرام ہے ۔ مراد کا حکم کیا ہے ۔ خون اور سور کا گوشت تم پر حرام ہے وغیرہ وغیرہ اور پھر اچانک ارشاد ہوتا :( الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوهم و اخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ) ً اس آیت کےتمام ہونے کے بعد ہی دوبارہ گزشتہ مطالب کا بیان ہوجاتا ہے کہ کون سا گوشت تم پر حرام ہے اور اضطرار ومجبوری کی حالت میں اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے : فمن اضطرّ فی مخمصۃ غیر متجانف یعنی ان آیات کا سلسلہ کچھ ایسا ہے کہ اگر ہم زیر بحث آیت کو درمیان سے ہٹا بھی دیں تو اس کے ماقبل اور مابعد کی آیتیں آپس میں مربوط ہوجائیں گی اور کوئی معمولی ساخلل یا خلابھی نظر نہ آئے گا ۔ جیسا کہ اسی مضمون کی آیتیں مذکورہ آیت کے درمیان میں لائے بغیر قرآن میں مزید دوتین جگہ ذکر ہوئی ہیں اور مفہوم و مطلب بھی ایک دم کامل ہے کہیں سے کوئی نقص یا خلا ظاہر نہیں ہوتا ۔

"الیوم " سے مراد کون ساروز؟:

یہی وجہ ہے کہ اس مقام پر شیعہ اورسنی دونوں مفسرین اس کو کوشش میں سر گرداں ہیں کہ " الیوم " سےمراد کون ساروز ہے ؟ اس حقیقت کو معلوم کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم قرائن کے ذریعہ سمجھیں یعنی مضمون کے قرینہ سے دیکھیں کہ یہ مضمون کس روز پر چسپان ہوتا ہے ؟ اور کس روز سے متعلق ایسی اہم بات بیان کی جاسکتی ہے ؟ دوسرے یہ کہ تاریخ ع حدیث کے ذریعہ سمجھیں کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے ؟ جو لوگ پہلی راہ کا انتخاب کرتے ہیں وہ تاریخ و سنت وحدیث کے ذریعہ آیت کے شان نزول موقع و محل اور اس کی مناسبت سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ، وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے آیت کے مضمون کودیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ آیت زمانہ بعثت سے مربوط ہے ۔ لہٰذا " الیوم " سے مراد " اس روز" ہے نہ کہ "آج " ۔

یہاں یہ بات بھی عرض کردوں کہ یہ سورۂ مائدہ کی ابتدائی آیتیں ہیں ارویہ سورہ قرآن کا پانچواں سورہ ہے جو ، " یا ایھا لذین آمنوا اوفوا بالعقود " سے شروع ہوتا ہے ۔ اور تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورۂ مائدہ پیغمبر (ص) پر نازل ہونے والا آخری سورہ ہے یعنی مدنی سورہ ہے ۔ حتیٰ سورہ( اذاجاء نصر الله و الفتح ) " کے بعد نازل ہوا ہے ۔ البتہ مفسرین کے مطابق ایک دو آیتیں اس سورہ کے بعد بھی نازل ہوئی ہے جنھیں دوسرے سوروں میں شامل کردیا گیا ، لیکن یہ طے ہے کہ اس سورہ کے بعد کوئی سورہ نہیں نازل ہوا اوراس میں وہ آیتیں ہیں جو آخرآخر پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں ۔

" الیوم " سے متعلق کی مختلف نظریات:

۱ ۔ روز بعثت : ہم عرض کرچکے ہیں کہ بعض مفسرین کے نزدیک " الیوم " سے مراد " اُس روز " سے نہ کہ " آج " ۔ جب ان سے سوال ہوتا ہے کہ اس کا قرینہ کیا ہے : تو جواب ملتا ہے کہ قرآن " الیوم " کہکر ایک روز کی اس قدر تعریف و توصیف کرتا ہے " کہ اس روز میں نے اسلام کو ایک دین کے عنوان سے تمہارے لئے پسند کرلیا " لہٰذا قاعدتاً ی ہبعثت پیغمبر (ص) کا روز ہی ہونا چاہئے ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ آپ اپنی بات کے لئے"( رضیت لکم الاسلام دیناً ) " کو قرینہ بنارہے ہیں ، یہ قرینہ اس وقت درست ہوتا جب اس سے پہلے کے جملے اس میں موجود نہ ہوتے ۔ کیونکہ اصل میں بات یہ کہی جارہی ہے کہ آج میں نے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ( جبکہ ) روز بعثت اس نعمت کے شروع ہونے کا پہلا روز تھا ۔ اور "( رضیت لکم الاسلام دیناً ) " بھی اس وجہ سے ذکر کی اگیا ہے کہ اب جبکہ اسلام کامل ہوگیا اور اسلام کی نعمت اتمام کو پہنچ کئی تو میں نے اس " دین " کو جیسا میں چاہتا تھا تمہارے لئے پسند کرلیا ۔ اس اعتبار سے " الیوم " روز بعثت نہیں ہوسکتا ۔

۲ ۔ روز فتح مکہ : روز بعثت کے بعد جس دوسرے روز اک احتمال دیا جاتا ہے ( البتہ اس میں کوئی قرینہ نہیں پایا جاتا ، صرف ایک احتمال ہی ہے، اور چونکہ بیان کیا گیا ہے لہٰذا ہمبھی نقل کررہے ہیں ) وہ روز فتح مکہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں ایک اورروز بھی بہت زیادہ اہم ہے ( اور صحیح بھی ہے کہ فتح مکہ تاریخ اسلام کا بہت اہم دن ہے ) اور وہ فتح مکہ کا روز ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی :( انّا فتحنالک فتحاً مبیناً لیغفر لک الله ماتقدّم من ذنبک وما تأ خر ) ( " سورۂ فتح ، آیت نمبر ۱،۲)

مکہ جزیرۃ العرب میں روحانی و معنوی حیثیت سے ایک عجیب منزلت کا حامل تھا ۔ عام الفیل کے بعد یعنی جس سال اصحاب فیل نے مکہ پر حملہ کیا اور اس عجیب و غریب انداز سے شکست سے دوچار ہوئے ۔ جزیرۃ العرب کے تمام لوگ کعبہ کو ایک عظیم عبادت گاہ کی حیثیت سے بڑی ہی گہری عقیدت کی نگاہوں سے دیکھنے لگتے تھے ۔ اسی وجہ سے قریش میں غرور بھی پیدا ہوگیا تھا ۔ قریش اس (واقعہ ) کا سہرا اپنے سر باندھتے تھے اور کہتے تےتھے "دیکھو یہ کعبہ ہے جو اس قدر محترم ہے کہ اتنا عظیم لشکر جب اسے ڈھا نے آیا تو اس بُری طرح آسمانی بلا میں گرفتار ہوکہ ان میں کا ایک شخص بھی بچ نہ سکا دیکھو ! ہم کس قدر اہم اور با عظمت ہیں ! اسی کے بعد قریش میں عجیب و غرور ونخوت کا احساس پیدا ہوگیا ۔ اور عرب کے دوسرے قبائل میں بھی ایک طرح سے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی کیفیات پیدا ہوگئیں ۔ مکہ کے بازارکو بڑی شہرت حاصل ہوئی چنانچہ قریش جوجی چاہتا تھا لوگوں پر حکم لگایا کرتے تھے اورلوگ بھی کعبے سے اپنے اسی روحانی احساس و اعتقاد کی بنا پر چون وچرا ان کی اطاعت کرتے تھے ۔

واقعۂ فیل کے بعد لوگوں میں یہ اعتقاد پیداہوگیا تھا کہ کعبہ اس قدر عظیم ہے کہ اب اس پر کسی کا قبضہ یا تسلط ہونا محال ہے ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے مکہ کو فتح کرلیا جبکہ نہ کوئی خونریزی ہوئی نہ کوئی دشواری پیش آئی اورنہ کسی کو ذراسا بھی گزند پہنچا ۔ شاید پیغمبر اکرم (ص) جو یہ چاہتے تھے کہ بغیر خونریزی کے فتح ہوجائے ان کی نگاہ مبارک میں حرمت کعبہ کے علاوہ یہ مسئلہ بھی در پیش تھا ۔ اگر کہیں اور جنگ ہوئی ہوتی ، اور سو مسلمان بھی قتل ہوجاتے تو کوئی محسوس کرنے والی بات نہ ہوتی ۔ لیکن اگر فتح مکہ کے دوران مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچتا تو یہی کہا جاتا کہ دیکھو !( معاذاللہ ) جو کچھ اصحاب فیل کے ساتھ پیش آیا وہی اصحاب محمد (ص) کے ساتھ بھی ہوا ۔ چنانچہ پیغمبر اکرم (ص) نے مکہ کو اس طرح فتح کیا کہ ایک قطرہ خون نہیں بہا ، نہ مسلمانوں کا اورنہ کفارکا ، صرف خالدبن ولید نے اپنے ذاتی کینہ کی بنا پر مکہ کے ایک گوشہ میں مقابلہ کرنے والوں میں سے دوتین افراد کو قتل کردیا لیکن جب اس کی خبر پیغمبر (ص) کو معلوم ہوئی تو آپ بری طرح ناراض ہوئے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟!ساتھ ہی آپ نے اسکے اس عمل سے بیزاری و برائت کا اظہار بھی کیا :خدا یا جو عمل اس شخص نے انجام دیا ہے میں اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں میں اس عمل پر ہرگز راضی نہیں تھا۔

یہی وجہ تھی کہ فتح مکہ نے اہل عرب پر غیر معمولی نفسیاتی اثر ڈالا اوروہ کہنے لگے کہ لگتا ہے حقیقت کچھ اور ہی ہے ، محمد (ص) آئے انہوں نے مکہ کو اتنی آسانی نے فتح بھی کرلیا اور ان کوکوئی گزند بھی نہ پہنچا ۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد اہل عرب خود بخود تسلیم ہونے لگے ۔ گروہ آتے تھے اور اسلام اختیار کرتے تھے ۔ قرآن فرماتا ہے :( لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولائک اعظم درجةً من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا ) (سورہ حدید ، آیت نمبر ۱۰) جن لوگوں نے فتح مکہ کے پہلے خدا کی راہ میں جانی و مالی فداکاری کی ہے اور جنھوں نے فتح مکہ کے بعد یہ عمل انجام دیا دونوں برابر نہیں ہیں ۔ کیونکہ فتح مکہ سے قبل مسلمان اقلیت میں تھے ( اور ان کی فدا کاریاں ) ان کے کامل ایمان کے بنیاد پر تھیں ۔ لیکن فتح مکہ کے بعد لوگ خود بخود آکر اسلام قبول کرنے لگے لہٰذا فتح مکہ کے بعد والے ایمان سے قیمتی فتح مکہ کے پہلے والاایمان ہے ۔ لہٰذا فتح مکہ کا روز اسلام کی تاریخ کا بہت عظیم روز ہے اس میں کسی کو کلام نہیں ہے ، اور ہم بھی اسے قبول کرتے ہیں ۔

لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ روز جس کو قرآن میں اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ ارشاد ہوتا ہے :( الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلاتخشوهم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ) شاید وہ فتح مکہ کا روز ہو ۔ (اورجیسا کہ عرض کرچکا ہے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے نہ لفظی قرینہ کی حیثیت سے اورنہ تاریخ کی حیثیت سے )

یہاں " الیوم " سےمراد فتح مکہ کا روز ہے اس سے متعلق کسی قرینہ یاتاریخی ثبوت کے فقدان کے علاوہ خود صدر آیت اس مفہوم کی تائید نہیں کرتی ۔ کیونکہ ارشاد ہے :( اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ) " دین مکمل کردیا اوراپنی ساری نعمتیں تمام کردیں یعنی اب اسلام سے متعلق کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی سب کچھ بیان کیا جاچکا ہے ۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کے بہت سے احکام فتح مکہ کے بعد نازل ہوئے ہیں ۔ یہ بات " اتممت علیکم نعمتی " سے میل نہیں کھاتی جب یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے یہ مکان مکمل کردیا تو بہر حال اس سے مراد صور امکان نہیں ہے ۔ بہت سی آیتیں منجملہ ان کے پورا سورۂ مائدہ جو اتفاق سے کافی مفصل اور طویل ہے اوراس میں خاصے احکام بیان کئے گئے ہیں ،فتح مکہ کے بعد نازل ہوا ہے ۔ اور یہ آیت جو خود سورۂ مائدہ کا جزو ہے فتح مکہ کے سے متعلق کیسے ہوسکتی ہے ۔ جبکہ مکہ آٹھویں ہجری میں واقع ہوا اور سورہ مائدہ ۱۰ ھ کے اواخر میں نازل ہوا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ صرف یہ آیت فتح مکہ کے روز نازل ہوئی ۔ پھر بھی اتمام نعمت سے میل نہیں کھاتی ۔

اس آیت میں " الیوم " کے روز فتح مکہ" قرار دیئے جانے پر ایک اعتراض اور بھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آیت کہہ رہی ہے : الیوم یئس الذین کفروا من دینکم " آج کا فرین تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ۔ یعنی اب وہ تمہارے دین پر مسلط حاصل کرنے سے مایوس ہوگئے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا فتح مکہ کے روز ایسا ہی ہوا ؟ یہ صحیح ہے کہ اسلام کی اس کامیابی نے کفار پر بہت گہرا اثر ڈالا لیکن حقیقتاً کیاوہ ایسا ہی روز تھا کہ کفار اس دین کے نابود کرنے کے سلسلہ میں بالکل مایوس ہوگئے ؟ ہر گز نہیں ۔

۳ ۔ امیرالمومنین (ع) کے ذریعہ منیٰ میں سورۂ برائت کی تبلیغ کا دن : یہ دن بھی تاریخ اسلام کا بہت اہم دن مانا جاتا ہے اورمفسرین نے احتمال ظاہر کیا یہاں " الیوم " سے مراد منیٰ میں امیرا لمومنین (ع) کے ذریعہ سورۂ برائت کی قرا ۴ ت و تبلیغ کا دن ہے ۔ یہ واقعہ ہجرت کے نویں سال کا ظہور میں آیا ۔ فتح مکہ ایک فوجی و نظامی فتح تھی ، حتی اس فتح سے اسلام کی معنوی قوت بھی خاصی محکم ہوگئے تھی ۔ لیکن ابھی پیغمبر (ص) کفارہ کے ساتھ صلح کے طے شدہ معاہدہ کی شرطوں کے تحت زندگی گزاررہے تھے ۔ اس بنا پر وہ بھی خانہ کعبہ کے طواف اورمکہ میں زندگی کا حق رکھتے تھے ساتھ ہی انھیں حج کے مراسم میں شریک ہوئے ۔ مسلمانوں نے اسلامی دستور کے مطابق حج اداکیا اور کفار اپنے طور پر حج کے مراسم انجام دیتے رہے ۔ ہجرت کے نویں سال سورۂ برائت نازل ہوا ۔ اور طے ہوا کہ امیر المومنین (ع) منیٰ میں عام مجمع کے سامنے اس سورہ کی قرائت کریں کہاب مشرکین کو حج میں شرکت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اور یہ عبادت صرف مسلمانوں سے مخصوص ہے اور بس ۔

یہ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے پہلے ابوبکر کو امیر الحاج بنا کر مکہ کی جانب روانہ کیا ۔ لیکن وہ ابھی راستہ میں تھ اکہ آیت نازل ہوئی ۔ " اب یہ کہ ابوبکر وارۂ برائت بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے یا اس وقت تک سرے سے سورۂ برائت نازل ہی نہیں ہوا تھا اوروہ صرف امیرالحاج بنا کر بھیجے گئے تھے ۔" اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ لیکن بہر حال شیعہ و سنی سب کااس پر اتفاق ہے اور اسے فضائل علی (ع) کا جزو شمار کرتے ہیں ، کہ پیغمبر اکرم (ص) نے امیرالمومنین کو اپنے مخصوص مرکب کے ذریعہ روانہ کیا اوران سے فرمایا کہ جاؤ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ اس کو لوگوں کے درمیان یا میں خود پڑھوں یا وہ جو مجھ سے ہو ۔ امیرالمومنین (ع) گئے اورراستہ میں ابوبکر سے ملاقات کی ۔ واقعہ یوں نقل کیا جاتاہے کہ ابوبکر خیمہ میں بیٹھے تھے کہ پیغمبر (ص) کے مخصوص شتر نے آواز بلند کی ، آپ اس آواز کو پہچانتے تھے ، کہنے لگے یہ پیغمبر کے اونٹ کی آواز ہے ۔ یہ یہاں کیسے آیا ؟ ناگاہ انہوں نے دیکھا کہ علی (ع) تشریف لائے ہیں ۔ بہت رنجیدہ ہوئے ۔ سمجھ گئے کہ کوئی اہم خبر ہے ۔ دریافت کیا ، کیا کوئی بات ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا پیغمبر (ص) نے مجھے حکم دیا ہے کہ سورۂ برائت لوگوں کے درمیان میں جوکر پڑھو ۔ پوچھا ، میرے خلاف تو کچھ نہیں نازل ہوا ہے ؟ فرمایا نہیں ۔ یہاں پر اختلاف ہے ۔ اہل سنت کہتے ہیں علی(ع) گئے اورانہوں نے وارۂ برائت کی تلاوت فرمائی ۔ ابوبکر نے بھی اپنا سفر جاری رکھا پس یہ منصب و ذمہ داری آپ کے ہاتھ میں نہ رہی لیکن شیعہ اوربہت سے اہل سنت کا عقیدہ ، جیساکہ تفسیر المیزان میں بھی نقل ہوا ہے یہ ہے کہ ابوبکر وہاں سے واپس آئے اورپیغمبر (ص) کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ (ص) کیا اس سورہ میں میرے خلاف کوئی چیز نازل ہوئی ہے ؟ فرمایا ، نہیں ۔

سورۂ برائت کے اعلان کا دن بھی مسلمانوں کے لئے بڑا عظیم دن تھا ۔ اس روز یہ اعلان ہوا کہ آج سے کفار و مشرکین حج کے مراسم میں شریک نہیں ہوسکتے ، حرم کی سرزمین صرف مسلمانوں سے مخصوٓص ہے ۔ مشرکین سمجھ گئے کہ اب شرک کی حالت میں زندگی نہیں گزارسکتے ۔ اسلام شرک کو برداشت نہیں کرسکتا ۔ اسے یہودیت ، عیسائیت اور مجوسیت جیسے اسیان کے ساتھ تو معاشرتی زندگی قبول ہے لیکن شرک کے ساتھ زندگی کسی صورت برداشت نہیں ۔ چنانچہ اس روز کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا گیا کہ شاید یہاں " الیوم " سے مرادیہی روز ہو ۔

اس کاجواب یوں دیا گیا کہ یہ بات : " اتممت علیکم نعمتی " میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کردیں اوردین کی عمارت اتمام کو پہنچ گئی ، کے ساتھ کسی طرح میل نہیں کھاتی ، کیونکہ بہت سے تم احکام اس روز کے بعد بھی نازل ہوئے ہیں۔ یہ روز بہر حال پیغمبر (ص) کی زندگی کے آخری دنوں میں سے ہونا چاہئے کہ جس کے بعد کوئی حکم یا قانون نازل نہ ہوا ہو۔

جو افراد " الیوم " سے فلاں روز مراد لیتے ہیں ان کے پاس اپنی بات کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

یعنی نہ صرف تاریخ اس کی تائید نہیں کرتی ، بلکہ قرائن سے بھی ان کی بات چابت نہیں ہوتی ۔

شیعوں کابیان :

یہاں شیعہ ایک بات کہتے ہیں اور اس کا دعویٰ کرتے ہین کہ آیات کے مضمون سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور تاریخ سے بھی ۔ لہٰذا اس پر دو نوعیت سے بحث ہونی چاہئے ۔ ایک یہ کہ آیات کا مضمون اس کی تائید کرتا ہے ۔ اور دوسرے تاریخ بھی اس کی مؤید ہے ۔

۱ ۔ تاریخ کے آئینہ میں :

یہ تاریخ کا بڑا ہی تفصیلی مسئلہ ہے ۔ زیادہ تر کتابیں جو اس موضوع پر لکھی گئی ہیں ان میں اکثر و بیشتر اس پر انحصار کیا گیا ہے کہ تاریخ و حدیث کی روشنی میں یہ ثابت کریں کہ آیت : "( الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوهم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم وتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ) " غدیر خم میں نازل ہوئی ہے ۔ کتاب " الغدیر " نے اسی بات کو ثابت کیا ہے ۔حدیث کی کتابوں کے علاوہ ، مؤرخین کا نقطہ نگاہ بھی یہی ہے ۔ اسلام کی قدیم ترین ، عمومی اور معتبر ترین تاریخ کی کتاب " تاریخ یعقوبی " ہے جسے شیعہ و سنی دونوں معتبر جانتے ہیں ۔ مرحوم ڈاکٹر آیتی نے کتاب کیدونوں جلدوں کا ( فارسی میں ) ترجمہ کیا ہے ۔ کتاب بہت ہی متقن و محکم ہے ۔ اور تیسری صدی ہجری کے اوائل میں غالبا عہد مامون کے بعد متوکل کے زمانہ میں لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب جو فقط تاریخ کی کتاب ہے اورحدیث سے اس کاتعلق نہیں ہے ، ان بہت سی کتابوں میں سے ایک ہے جس میں غدیر خم کا واقعہ لکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اہل سنت کی لکھی ہوئی دوسری کتابیں بھی ہیں جنھوں نے غدیر کے واقعہ کو لکھا ہے ۔

روایت یوں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) حجۃ الوداع ( ۱) حجۃ الوداع ، پیغمبر (ص) کی آخر عمر میں آپ کی وفات کے دوماہ پہلے کا حج تھا ۔ پیغمبر اکرم (ص) کی وفات ۲۸ صفر یا اہل سنت کے مطابق ۱۲ ربیع الاول کو واقع ہوئی ۔ حضرت (ص) ۱۸ ذی الحجہ ک وغدیر خم پہنچے ۔ غدیر کا واقعہ شیعوں کے مطابق وفات پیغمبر اسلام (ص) سے دو ماہ دس روز قبل اور اہل سنت کے مطابق دو ماہ چوبیس روز پہلے پیش آیا ہے ۔( سے واپس ہوتے ہوئے جب غدیر خم پہنچے ،" جو جحفہ " کے ( ۱) شاید آپ میں سے بعض حضرات جحفہ گئے ہوں ۔ جمھے اپنے دوسرے سفر حج میں جحفہ جانے کا بھی اتفاق ہوا ۔ کیونکہ میرے مدینہ کے سفر میں تاخیر ہوئی اور مٰں حج کے بعد گیا ۔ یہاں سے ہم جدہ گئے اس جگہ فتوؤں میں اختلاف ہے کہ جدہ سے احرام باندھا جاسکتا ہے یا نہیں ۔ یہ اختلاف بھی حقیقتاً فتوائی اختلاف نہیں ہے بلکہ جغرافیائی ہے کیونکہ وہ جگہ جو کسی ایک میقات کے مقابل ہو وہاں سے احرام باندھا جاسکتا ہے ۔ ایک جغرافیہ داں جو عرب کے جغرافیہ سے بخوبی واقف ہو شاید جسہ کے کسی ایک میقات کے مقابل ہونے یا نہ ہونے کی دقیق طور سے تعیین کرسکتاہے ۔ ہم نے خود بھی پہلے عمل نہیں کیا، لیکن بعد میں مکہ اورمدینہ میں عرب کا نقشہ دیکھنے کے بعد یہ نظر آتا ہے کہ جدہ بھی بعض میقاتوں کے روبرو آتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ وہ نقشہ درست رہا ہو ۔ جو لوگ جدہ سے مکہ جانا چاہتے ہیں اوراحتیاط کی بنا پر کسی ایک واقعی میقات سے احرام باندھنا چاہتے ہیں وہ جدہ سے جحفہ آتے ہیں جحفہ مدینہ کی شاہراہ کے نزدیک ہے ۔ یہ اہل شام کا میقات ہے ۔ شام مکہ کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ چنانچہ جب لوگ شام سے مکہ کی طرف آتے تھے تو کچھ مسافت طے کرنے کے بعد جحفہ پہنچتے تھے ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اس طرف سے آنے والوں کے لئے اسے میقات قرار دیا ۔ غدیر خم جحفہ کے نزدیک واقع ہے اورایسی جگہ ہے کہ جب مسلمان مکہ سے واپس ہوتے ہوئے اس جگہ پر پہنچتے تھے تو وہیں سے الگ الگ سحتوں میں متفرق ہوجاتے تھے ۔ اہل مدینہ ، مدینہ کی جانب اور دوسرے شہروں والے اپنی اپنی منزلوں کی طرف ۔ () نزدیک ہے تو آپ نے قافلہ روک دیا اور اعلان فرمایا کہ : میں لوگوں سے ایک اہم بات کہنا چاہتا ہوں ۔ ( یہ آیتیں بھی وہیں نازل ہوئیں ) اس کے بعد آپ (ص) کے حکم سے اونٹوں کے کجاؤں اوردوسری چیزوں کے ذریعہ ایک اونچا منبر بنایا گیا ۔ حضرت (ص) بالائے منبر تشریف لے گئے اور ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ (ص) نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دریافت فرمایا : الست اولیٰ فیکم من انفسکم قالوا بلیٰ ۔ تب آپ (ص) نے فرمایا : "من کنت مولاه فهةذا علی مولاه " اسی کے بعد یہ آیت نازل ہوئی :( الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوهم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ) "

اگر ہم اس کے تاریخی پہلو پر بحث کرنا چاہیں تو شیعہ و سنی اورخاص طور سے اہل سنت کی ایک ایک کتاب کا تحقیقی جائزہ لینا ہوگا جنھوں نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے ۔ ان چیزوں کا کتاب " الغدیر " یا اس کے جیسی دوسری کتابوں میں جائزہ لیا گیا ہے ۔ ابھی چند سال پہلے کانوں نشر حقائق " مشہد سے غدیر کے موضوع پر ایک مختصر اور جامع کتاب شائع ہوئی ہے جس کا مطالعہ افادیت سے خالی نہیں ہے ۔

شیعہ ، تاریخی حیثیت سے ایک استدلال یہ کرتے ہیں کہ جب آیت : الیوم اکملت لکم دینکم " سے لفظی طور پر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ " الیوم " سے مراد کون سا روز ہے تو اس آیت کی تاریخ و شان نزول کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ، دویادس نہیں بلکہ متواتر طور پر روایات یہ بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت غدیر کے روز نازل ہوئی ہے جب پیغمبر اکرم (ص) نے علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا ۔

۲ ۔ آیت میں موجود قرائن کی روشنی میں :

لیکن ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا آیت میں موجودہ قرائن بھی ان نکات کی تائید کرتے ہیں جن کی مؤید تاریخ ہے ؟ آیت یہ ہے : الیوم یئس الذین کفروا من دینکم " آج یا (اس روز) کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ۔ اسے ہم قرآن کی ان آیات کا ضمیمہ قرار دیتے ہیں ، تم کو تمہارے دین سے منحرف کردینا چاہتے ہیں اورتمہارے دین کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ تم کو تمہارے دین سے منحرف کردینا چاہتے ہیں اورتمہارے دین کے خلاف اقدامات میں مصروف ہیں ۔ اس کوشش میں اہل کتاب اورغیر اہل کتاب دونوں شامل ہیں :( ودّ کثیر من اهل الکتاب لو یردّونکم من بعد ایمانکم کفاراً حسداً من عند انفسهم ) "( سورہ بقرہ آیت / ۱۰۹ ( یعنی بہت سے اہل کتاب تمہارے ایمان پر حسد کرتے ہوئے اس بات کے خواہشمند ہیں کہ تمہیں دوبارہ ( ایمان سے ) کفر کی دنیا میں کھینچ لے جائیں ) چنانچہ ایک طرف خدا قرآنی آیات کے ذریعہ ظاہر کر رہاہے کہ کفار تمہارا دین مٹانے کے درپے ہیں اوردوسری طرف اس آیت میں فرماتا ہے ۔" لیکن اب آج سے جفار مایوس ہوگئے " آج سے وہ تمہارے دین کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے ۔ فلا تخشوھم اب ان کی طرف سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے " واخشون " مجھ سے ڈرو ۔ یونی آج کے بعد سے تمہارا دین مٹتا رہے ، ضعیف ہوجائے یو جو کچھ بھی تمہیں پیش آئے ، بس نجھ سے ڈرو ۔ یعنی آج کے بعد سے تمہارا دین مٹتا رہے ، ضعیف ہوجائے یا جو کچھ بھی تمہیں پیش آئے ، بس مجھ سے ڈرتے رہو ۔ یہ " مجھ سے ڈرو " کے معنی کیا ہیں ؟ کیا خدا خود اپنے دین کا دشمن ہے ؟ نہیں ۔ اسے مختصر سے جملہ کا مفہوم وہی ہے جس کا قرآن کی بہت سی آیتوں میں خدا کی طرف سے اپنے بندوں کو نعمتوں سے محروم کردینے کے سلسلہ میں ایک بنیادی اصول کے طور پر ذکر ہوا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ؛ "( انّ الله لا یغیّر ما یقوم حتیٰ یغیّروا ما بانفسهم ) " (سورۂ رعد ، آیت / )۱۱ یا "( ذالک بانّ الله لم یک مغیراً نعمة انعمها علی قوم حتّی یغیروا ما بانفسهم ) " (سورۂ انفال، آیت / )۵۳ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ خدا وند عالم جو نعمت بھی کسی قوم پر نازل کرتا ہے اس سے وہ نعمت اس وقت تک سلب نہیں کرتا جب تک لوگ خود کو اس کے لئے نا اہل قرار نہیں دیتے یعنی جب لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس نعمت کو زائل کردینا چاہیں اوراس کی بے قدری کرنے لگیں تو خدا بھی اس سے وہ نعمت دور کردیتا ہے ۔ یہ قانون در اصل قرآن کا ایک بنیادی و اساسی قانون ہے ۔

محکمات و متشابہات :

زیر بحث آیت کو دیکھتے ہوئے ایک بات جو بہت سے موارد میں پیش آتی ہے عرض کردینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ قرآن کی بعض آیتیں بعض دوسری آیتوں کی تفسیر کرتی ہیں : "القرآن یفسّر بعضه بعضاً " قرآن ایک کھلی ہوئی اورروشن کتاب ہے ۔ خود بھی روشن اور واضح ہے اور ظاہر و آشکار کرنے والی بھی ، خود قرآن کہتا ہے کہ مجھ میں دو طرح کی آیتیں موجود ہیں ، محکمات اور متشابہات آیا ت محکمات کو قرآن " ام الکتاب " کا نام دیتا ہے ۔ جو ایک عجیب تعبیر ہے : ھو الذی انزل علیک منہ آیات محکمات ھنّ ام الکتاب واخر متشابھات " متشابہ آیت ایسی آیت ہے جس کے مفہوم کو کئی اعتبار سے معنی پہنائے جاسکتے ہیں ۔ آیت محکمہ سے صرف فقط ایک ہی مفہوم اور معنیٰ نکلتا ہے ۔ قرآن جو آیات محکمات کو "ام " یا ماں کے نام سے یاد کرتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ متشابہ آیات کو محکم آیات کی مدد سے معنی پہنائے جاسکتے ہیں ۔ اگر قرآن کی کوئی آیت ایسی ہو جس کے چند معنی نکلتے ہوں تو ہمیں خود اس کے معنی بیان کرنے اور شرح کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اس کی ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس آیت کو سمجھنے کے لئے قرآن کی طرف جوع کرنا ہوگا اور اس کی تمام آیات کی روشنی میں ہی اس آیت کا مفہوم سمجھا جاسکے گا ۔ متشابہ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ محل ہے یا اس میں جو لفظیں استعمال کی گئی ہیں اس کے معنی ہم نہیں جانتے بلکہ ایسی آیت کا مطلب یہی ہے کہ اس کے ایک دوسرے سے قریب اور متشابہ کئی معنی بیان کئے جاسکتے ہیں ۔

مثلاً قرآن کریم میں پروردگار عالم کی مشیت مطلقہ سے متعلق آیتیں ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ تمام چیزیں مشیت الہٰی کے تحت ہیں ۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے ۔ منجملہ ان میں سے یہ آیت ہے جو اسی بنا پر متشابہ ہے :( قل اللّهم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممّن تشاء وتعزّ من تشاء تذلّ من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیٔ قدیر ) " (سورۂ آل عمران ، آیت / ۲۶ )

( اب اس سے زیادہ محکم وبالا تر تاکید نہیں ہوسکتی ) یعنی کہو کہ اے میرے خدا ! تمام ملکوں اور تمام قوتوں کا اصل مالک تو ہے ۔ جیسے چاہتا ہے تو ملک عطا کرتا ہے اور جس سے چھیننا چاہتا ہے تو چھینتا ہے جسے عزت دیتا ہے تو بخشتا ہے اورجسے ذلیل کرتا ہے تو ذلیل کرتا ہے ۔ خیر و بھلائی صرف اور صرف تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر شۓ پر قادر ہے ۔" یہ آیت اس اعتبار سے متشابہ ہے کہ اس کے کئی طرح سے معنی کئے جاسکتے ہیں ۔ اجمالاً یہ آیت اتنا ہی کہتی ہے کہ ہر شیٔ مشیت الٰہی میں ہے اور یہ بات دو طرح سے ممکن ہے ، ایک یہ کہ مشیت الٰہی میں کوئی چیز کسی شیٔ کے لئے شرط نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں سے اسی طور پر غلط نتیجہ اخذ کیا ہے اورکہا ہے کہ ممکن ہے وہ تمام حالات و شرائط جنھیں ہم عزت کے شرائط کے نام سے یاد کرتے ہیں ، فراہم ہوجائیں ، پھر بھی عزت کے بجائے ذلت ہاتھ آئے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ذلت کے تمام حالات و شرائط پیدا ہوں لیکن اس کا نتیجہ عزت کی صورت میں سامنے آئے ! دنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی ہیں کوئی شۓ کسی چیز کے لئے شرط نہیں ہے کیونکہ تمام چیز مشیت الٰہی سے وابستہ ہے ! نتیجہ یہ نکلا کہ ممکن ہے کوئی قوم یا کوئی شخص بلا کسی سبب یا بغیر کسی مقدمہ کے دنیا میں عزت و شرف کے کمال پر پہنچ جائے یا بلا کسی سبب کے ایک دم ذلیل و رسوا ہوجائے ۔ یوں ہی ممکن ہے آخرت میں کسی قوم کو بلا کسی قید و شرط کے اعلیٰ علّیین کا مرتبہ عطا کردیا جائے اورکسی قوم کو بلا سبب اور بغیر کچھ دیکھے بھالے جہنم کے درک اسفل میں ڈال دیا جائے ۔ افسوس یہ ہے کہ بعض مسلمانوں نے جنھیں اشاعرہ کہتے ہیں اس آّیت سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے ، اور کہتے ہیں کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ( معاذاللہ ) پیغمبر اسلام (ص) جہنم میں چلے جائیں اور ابوجہل جنت میں بھیج دیا جائے کیونکہ خدا نے کہا ہے کہ سب کچھ خدا کی مشیت کے تحت ہے ۔

لیکن یہ آیت سے مفہوم و مطلب نکالنے کا ایک غلط انداز ہے ۔ آیت صرف اتنا کہہ رہی ہے کہ سب کچھ مشیت الٰہی میں ہے ۔ یہ نہیں بیان کرتی کہ مشیت کسی طرح کار فرماہوتی ہے ، اور نہ یہ بیان کرتی ہے کہ سعادت و شقاوت اور عزت و ذلت وغیرہ کے سلسلہ میں مشیت الٰہی کیا عمل کرتی ہے ۔ لہٰذا اس آیت سے کئی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں لیکن جب ہم قرآن کی دوسری آیت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ محکم یا " ام الکتاب " کی حیثیت سے اس آیت کی تفسیر کرتی نظر آتی ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ آیت بالکل ساف لفظوں میں کہتی ہے : "( ذالک بانّ الله لم یک مغیّراً نعمةً انعمها علیٰ قوم حتّیٰ یغیّروا مابانفسهم ) "( سورۂ انفعال / ۵۳) یا یہ آیت جو ایک حیثیت سے عمومیت رکھتی ہے :( انّ الله لا یغیّر مابقوم حتّیٰ یغیروا ما بانفسهم ) " (سورۂ رعد / ۱۱) ان دونوں آیتوں میں سے ہر ایک جو بات رکھتی ہے ، وہ دوسری میں نہیں پائی جاتی ۔ دوسری آیت یہ کہتی ہے : کہ خداوند عالم اس وقت تک کسی قوم سے اس کی کوئی چیز نہیں لیتا جب تک وہ خود سے اس چیز کو سلب نہ کرلیں جو ان کے درمیان موجود ہے ۔ یہ آیت عمومیت رکھتی ہے یعنی خداوند عالم کسی بھی قوم سے اس کی کوئی نعمت سلب نہیں کرتا اورانھیں بد بختی میں مبتلا نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو بدل نہ دیں ۔ اسی طرح بدبخت قوم سے اس کی بدبختی دور نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے حالات نہ بدلیں جبکہ پہلی آیت میں فقط نعمتوں کا تذکرہ ہے ، بدبختی کا کوئی ذکر نہیں ہے ہاں اس میں ایک نکتہ کا اضافہ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ارشاد ہوتا ہے : " ذالک بانّ اللہ لم یک مغیراً " یہ اس سبب سے کہ خدا ایسا نہیں ہے یا نہیں رہا ہے ، جیسا کہ وہ قرآن میں فرماتا ہے : ماکان اللہ ، خدا ایسا نہیں رہا ہے ۔ یعنی اس کو الوہیت اسے قبول نہیں کرتی کہ وہ کسی قوم سے بلا کسی قوم سے بلا سبب کوئی سلب کرلے ۔ مشیت پروردگار بلا وجہ اور عبث کارفرما ہو اور کسی شۓ کو کسی چیز کے لئے شرط قرار نہ دے یہ وہ فکر ہے جو ذات خدا کی حکمت وکمال اوراس کی الوہیت کے سراسر خلاف ہے ۔ چنانچہ مذکورہ دونوں آیتیں اس آیت کے لئے مادر قرار پائیں جنھوں نے اس کی تفسیر کردی ۔ مشیت سے متعلق آیتیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ تمام چیزیں خدا کے اختیار میں ہیں ۔ اور یہ دونوں آیتیں بتاتی ہیں کہ مشیت خدا دنیا میں اس طرح اوراس قانون کے تحت کارفرما ہوتی ہے ۔ معلوم ہوا کہ یہ مطلب قرآن کا بہت ہی مناسب بنیادی اوراصلی مطلب ہے اور بہت سی آیتوں میں اس بات کودہرایا گیا ہے کہ اگر ہماری نعمت کا شکر بجالاؤ گے یعنی اس سے صحیح فائدہ حاصل کرو گے تو ہم اسے تمہارے لئے باقی رکھیں گے ۔ اور اگر ہماری نعمت سے کھیلو گے اورکفران نعمت کرو گے تو ہم اسے تم سلب کرلیں گے ۔

اس اعتبار سے الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوھم واخشون " کا مطلب یہ ہے کہ اب کفار ، اسلامی معاشرہ سے باہر ( تمہارے دین کو فنا کرنے سے ) مایوس ہوگئے ۔ اب دنیائے اسلام کو ان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ اب مجھ سے ڈرو یعنی اے مسلمانو ! اب خود اپنے آپ سے ڈرو ۔ اب آج کے بعد سے اگر کوئی خطرہ ہوگا تو یہ ہوگا کہ تم لوگ نعمت اسلام کے سلسلہ میں بد عمل ہوجاؤ اورکفران نعمت کرنے لگو ، اس دنیا سے جو فائدہ اٹھانا چاہئے نہ اٹھاؤ نتیفہ میں ہمارا یہ قانون تمہارے سلسلہ میں بھی جاری ہو : ان اللہ لا یغیّر ما بقوم حتّیٰ یغیروا مابانفسھم " آج کے دن سے اسلامی معاشرہ کو کوئی باہری خطرہ نہیں رہ گیا ۔ اب جو بھی خطرہ ہے ، داخلی خطرہ ہے ۔

سوال و جواب :

سوال : جیساکہ آپ نے فرمایا ، ہمارا عقیدہ ہے کہ امام دین و دنیا دونوں کا پیشوا ہوتا ہے ۔ اور یہ منصب مذکورہ دلائل سے حضرت امیرا لمومنین علی (ع) کی ذات سے مخصوص ہے ۔ پھر قتل عثمان کے بعد جب لوگ آپ کی بیعت کرنے آئے تو آپ نے تامل کیوں فرمایا ؟ یہ کوئی تامل کی جگہ نہیں تھی ۔ اسے تو آپ کو خود بخود قبول کرنا چاہئے تھا ۔

جواب : جناب کا یہ سوال " خلافت و ولایت " نام کی کتاب میں جو کچھ عرصہ پہلے شایع ہوئی ہے اٹھایا گیا ہے ۔ اس کا جواب خود حضرت علی (ع) کے ارشاد سے ظاہر ہے ۔ جب لوگ آپ کے پاس بیعت کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا :( دعونی التمتوا غیری فانّا مستقبلون امراً وجوه والوان ) " (نہج البلاغہ ، فیضی الاسلام خطبہ ۹۱ ) مجھے چھوڑ دوکسی اور کے پاس جاؤ کیونکہ بڑے ہی ساہ و تاریک حوادث ہمیں در پیش ہیں ( عجیب و غریب تعبیر فرمائی ہے ) مجھے ایسا امر در پیش ہے ج سکے کئی چہرے ہیں یعنی ایک صورت سے اسے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لئے مختلف صورتیں اختیار کرنی ہوں گی ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : انّ الآ فاق قد افامت والمحجّۃ قد تنکّرت ۔" مختصر یہہے کہ پیغمبر اکرم (ص) جو روشن و واضح راہ معین فرما گئے تھے وہ راہ اب انجانی ہوگئی ہے ۔ فضا ابر آلود ہوچکی ہے ۔" اور آخر میں فرماتے ہیں اگر میں تم پر حکومت کروں گا تو : کت بکم مااعلم " اس روش پر حکومت کروں گا جو میں جانتا ہوں تمہاری دلخواہ حکومت نہیں کروں گا ۔

اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ امیرالمومنین (ع) نے یہ بات جو تاریخی حیثیت سے بھی پورے طور سے قطعی ومسلّم ہے ، اچھی طرح درک کرلی تھی کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد کے عہد اور آج کے زمانہ مین زمین اور آسمان کا فرق ہوچکا ہے یعنی حالات بڑی ہی عجیب و غریب حد تک تبدیل اور خراب ہوچکے ہیں ، اور یہ جملہ امام نے کامل طور پر اتمام حجت کے لئے فرمایا ہے ، کیونکہ بیعت کا مطلب ان لوگوں سے پیروی کرنے کا عہد لیتا ہے ، بیعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر تم لوگ بیعت نہیں کرو گے تو میری خلافت باطل ہوجائے گی ۔ بلکہ بیعت یہ ہے کہ لوگ اس بات کا قول دیتے ہیں کہ آپ جو عمل انجام دیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔

یہ بات تمام شیعہ اور اہل سنت مؤرخین نے لکھی ہے کہ عمر کے بعد شوریٰ کا جو قضیہ پیش آیا ، اس شوریٰ کے چھ افراد میں سے ایک علی (ع) بھی تھے ،۔ اس میں تین افراد دوسرے تین افراد کے حق میں دست بردار ہوگئے ۔ زبیر ، علی (ع) کے حق میں الگ ہوگئے ، طلحہ ،عثمان کے حق میں اور سعد وقاص ، عبد الرحمن بن عوف کے حق میں علاحدہ ہوگئے ۔ باقی بچے تین افراد ان تین افراد مین سے عند الرحمان بن عوف نے خود کو میدان ہی سے الگ کرلیا ۔ دو شخص باقی بچے علی (ع) اورعثمان ( اور اس ایثار کے عوض ) انتخاب کی کلید عبد الرحمان بن عوف کے ہاتھ میں آگئی کہ وہ جسے منتخب کریں وہی خلیفہ ہے ۔ وہ پہلے امیرالمومنین (ع) کے پاس آئے اور کہا میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے آمادہ ہوں لیکن ایک شرط ہے کہ آپ کتاب خدا ، سنت رسول (ص) اور سیرت شیخین کے مطابق عمل کریں گے ۔ آپ نے فرمایا میں تیار ہوں لیکن صرف کتاب خدا سنت رسول (ص) پر عمل کروں گا سیرت شیخین سے انکار کردیا ۔ عبد الرحمن بن عوف نے عثمان کے سامنے بھی بیعت کے لئے یہی شرط رکھی ۔ انہوں نے کتاب خدا ، سنت رسول (ص) اور سیرت شیخین پر عمل کی شرط قبول کرلیا ۔ جبکہ بقول آقای محمد تقی شریعتی " عثمان نے سیرت شیخین پر عمل کا وعدہ تو کیا تھا لیکن اتفاق سے ان کی سیرت پر عمل ہی نہیں کیا ۔" اگر ہم یہاں مقایسہ و موازنہ کریں تو چونکہ سیرت امیر المومنین (ع) اور سیرت پیغمبر اکرم (ص) ایک ہی تھا اس لئے آپ کی سیرت شیخین کی سیرت سے بھی بہت کچھ ملتی جلتی تھی کیونکہ شیخین کافی حد تک پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت پر عمل کرتے تھے ۔ لیکن اگر امیر المومنین (ع) اس وقت اس شرط کو قبول کرلیتے تو گویا وہ انحراف اور غلطیاں جو شیخین کے دور میں پیدا ہوچکی تھیں ان پر صاد فرمادیتے اور پھر ان غلطیوں کے خلاف اقدام یامقابلہ نہیں کرسکتے تھے لہٰذا آپ نے اس شرط کو قبول نہیں فرمایا ۔ مثال کے طور پر تفاضل (وضائف کی تقسیم میں کمی یا زیادتی ) کا مسئلہ یعنی انصا و مہاجرین اور عرب و عجم وغیرہ کے درمیان امتیاز پیدا کرکے مساوات اسلامی کو ختم کرنے کی بنیاد عمر کے زمانہ میں ہی پڑی ہے جبکہ امیرالمومنین (ع) اس کے سخت مخالف تھے ، چنانچہ اگر آپ فرمادیتے کہ میں سیرت شیخین کے مطابق عمل کروں گا تو جو کچھ عمر کے زمانے میں ہوچکا تھا اسے باقی رکھنے پر مجبور ہوتے جبکہ آپ اس عمل پر اپنی مہر ثبت کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ ساتھ ہی جھوٹا وعدہ بھی نہیں کرنا چاہتے تھے کہ آج کہدیں کہ ہاں میں عمل کروں گا اورکل اس سے مکر جائیں ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے صاف انکار کردیا ۔

بنابر ایں جب علی (ع) ، عمر کے بعد سیرت شیخین پر عمل کرنے کو آمادہ نہیں تھے جبکہ سیرت پیغمبر سے ان کے انحرافات بہت کم تھے (تو ظاہری سی بات ہے کہ ) عثمان کے بعد جب حالات ایک دم خراب ہوچکے تھے اور خود حضرت (ع) کے بقول اسلام کا اندوھناک مستقبل کئی رخ سے سامنے آرہا تھا ۔ مزید یہ کہ مسلمان بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ جس طرح چاہتے ہیں علی(ع) اس طرح حکومت کریں ، ایسی صورت میں آپ نے صاف طور پر واضح کردینا ضروری سمجھا کہ اگر میں حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لوں گا تو جس طرح میں مناسب سمجھوں گا عمل کروں گا نہ یہ کہ جس طرح تم چاہتے ہو چنانچہ آپ ان لفظوں میں حکومت سے انکار نہیں فرمارہے تھے بلکہ آپ مکمل طور سے اتمام حجت کردینا چاہتے تھے ۔

سوال : ہم دیکھتے ہیں کہ خود قرآن میں اتحاد کے سلسلہ میں بہت تاکید کی گئی ہے لہٰذا مسئلہ و امامت اور جانشینی امیر المومنین (ع) کی اہمیت کے پیش نظر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کا ذکر صاف لفظوں میں قرآن میں کیوں نہ کردیا گیا اور خود پیغمبر اسلام (ص) نے متعدد مواقع پر اس موضوع کو کیوں بیان نہیں فرمایا ؟

جواب : یہ دو الگ الگ سوال ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن میں اس موضوع کا صراحت سے ذکر کیوں نہ ہوا۔ اور دوسرے یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) نے متعدد مواقع پر اس مسئلہ کو بیان فرمایا یا نہیں ؟ اس طرح قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے یا نہیں ؟ دوسرے سوال کے جواب میں ہم یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے حتیٰ بہت سے اہل سنت بھی اسے قبول کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے یہ بات متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے۔ یہ بات صرف غدیر خم تک محدود نہیں رہی ہے اور یہ بات موضوع امامت سے متعلق کتابوں میں موجود ہے، جملہ : " انت منّی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الّا انہ لا نبیّ بعدی " آنحضرت (ص) نے تبوک کے واقعہ کے دوران فرمایا۔ یا جملہ : لاعطینّ الرّایۃ غداً رجلاً کراراً یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ " جو علی (ع) کے مرتبہ و منزلت کو ثابت کرتا ہے حضور (ص) نے جنگ خیبر میں ارشاد فرمایا تھا۔ یہاں تک کہ بعثت کے شروع میں ہی آپ (ص) نے قریش سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : تم میں سے جو سب سے پہلے میری بیعت کرے گا وہ میرا وصی، وزیر ( حتیٰ وصی و وزیر اورخلیفہ ) ہوگا۔ ( اور وہ شخص علی (ع) ہی تھے )

یہی صورت حال قرآن مجید میں ہے۔ قرآن میں بھی اس مسئلہ کو ایک، دو نہیں بلکہ متعدد جگہوں پر ذکر کیا گیا ہے۔ صرف سوال اتنا سا ہے اور انفاق سے یہ سوال بھی کتاب " خلافت و ولایت " میں اٹھایا گیا ہے کہ قرآن میں سیدھے سیدھے نام کا ذکر کیوں نہیں کردیا گیا ؟ چونکہ ہم تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں اور ہمارے عقیدہ کے مطابق کوئی چیز قرآن میں کم یا زیادہ نہیں ہوئی ہے لہٰذا یہ طے ہے کہ کہیں بھی علی (ع) کا نام صراحت کے ساتھ ذخر نہیں ہوا ہے۔

یہاں اس مسئلہ کو دو رُخ سے بیان کیا جاتا ہے۔ ایک تو اسی کتاب " خلافت و ولایت " میں جناب محمد تقی شریعتی نے اس کی بڑے اچھے انداز میں وضاحت کی ہے قرآن ایک مخصوص طرز و روش رکھتا ہے اور وہ یہ کہ موضوعات کو ہمیشہ ایک اصل کے طور پر بیان کرتا ہے انفرادی و شخصی صورت میں ذکر نہیں کرتا اور یہ بذات خود قرآن کا ایک امتیاز ہے۔ مثلاً : " الیوم اکملت لکم دینکم " کے مسئؒہ مین، کفار اس دین سے اس وجہ سے مایوس ہوگئے کہ وہ برابر کہا کرتے تھے کہ جب تک پیغمبر (ص) موجود ہیں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں ان کے اٹھ جانے کے بعد کوئی مشئلہ نہیں رہے گا، سب کچھ تمام ہوجائے گا۔ مخالفین پیغمبر (ص) جء گویا یہ آخری امید تھی۔ لیکن جب انہوں نے دیکھ لیا کہ پیغمبر (ص) نے اپنی امت کی بقا کی تدبیر بھی کر ڈالی کہ میرے بعد لوگوں کا فریضہ کیا ہے تو مایوس ہوگئے۔

دوسری بات جسے اہل سنت نے بھی لکھا ہے، یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں قرآن کی آیت میں لفظ: " واخشون " سے متعلق کافی فکر مند اور پریشان رہتے تھے۔ یعنی خود امت کے ہاتھوں امت کے مستقبل سے متعلق فکر مند تھے۔ یہاں میں جو حدیث نقل کررہا ہوں اے اہل سنت نے بھی نقل کیا ہے۔ ابو مذیہبہ، عائشہ کے غلام کا بیان ہے کہ پیغمبر (ص) کی زندگی کی آخری شبیں تھیں ایک رات نصف شب کے وقت میں نے دیکھا کہ پیغمبنر (ص ۹ اپنے حجرہ سے تنہا باہر تشریف لائے۔ کوئی شخص بیدار نہ تھا۔ آپ بقیع کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے جب دیکھا کہ پیغمبر باہر تشریف لے جارہے ہیں تو خیال ہوا کہ حضرت (ص) کو تنہا نہ چھوڑیں۔ اس خیال سے حضرت(ص) کے پیچھے پیچھے یوں چلنے لگا کہ دور سے آنحضرت کا ہیولا نظر آتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ (ص) نے اہل بقیع کے لئے استفادہ کیا۔ اس کے بعد کچھ جملے ارشاد فرمائے جس کا مضمون یہ ہے : " تم سب چلے گئے، کیا خوب گئے اور سعادت و نیکی سے ہمکنار ہوئے ۔ اب فتنے سر اٹھارہے ہیں " کقطع اللیل المظلم " یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح۔ " اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) اپنے بعد کے فتنوں کی پیشین گوئی فرمارہے تھے جن میں مسلم طور پر یہ مسئلہ بھی رہا ہے۔

رہی یہ بات کہ ( قرآن نے صاف طور سے جانشین پیغمبر کے نام کا ذکر کیوں نہ کردیا ) تو اس کے جواب میں پہلی بات یہ کہی جاتی ہے کہ قرآن کا اصول یہ ہے کہ وہ مسائل کو ایک اصل کی شکل میں بیان کرتا ہے۔ دوسرے نہ پیغمبر اسلام (ص) اور نہ خداوند عالم کا منشاء یہ تھا کہ یہ مسئلہ جس میں آخرکار ہوا وہوس کے دخل کا امکان ہے۔ اس صورت سے سامنے آئے اگر چہ ( جو کچھ ذکر کیا گای ہے ) اس میں بھی لوگوں نے اپنی طرف سے تو جیہ و اجتہاد کرکے یہ کہنا شروع کردیا کہ نہیں پیغمبر اکرم (ص) کا مقصد اصل میں یہ تھا اور وہ تھا۔ یعنی اگر کوئی آیت بھی ( اس مسئلہ میں نام کی صراحت کے ساتھ ) ذکر ہوئی ہوتی تو اس کی بھی توجیہ اپنے مطلب کے مطابق کردی جاتی۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے ارشاد میں پوری صراحت کے ساتھ " ھٰذا علی مولاہ" فرمایا، اب اس سے زیادہ صریح اور واضح با ت کیا ہوسکتی ہے ؟! لیکن بہر حال پیغمبر اکرم (ص) کے صریحی ارشاد کو زمین پردے مارنے اور قرآن کی ایک آیت سے نام کی صراحت کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) کے دنیا سے اٹھتے ہی انکار کردینے اوراس کی غلط توجیہ کرنے میں بڑا فرق ہے۔ چنانچہ میں اس جملہ کو کتاب ( خلافت و ولایت ) کے مقدمہ میں نقل کرچکا ہوں کہ ایک یہودی نے حضرت امیر المومنین (ع) کے زمانہ میں صدر اسلام کے ناخوش آئند حالات کے بارے میں مسلمانوں پر طنز کرنا چاہا ( اور حقیقتاً یہ طنز کی بات بھی ہے ) اس نے حضرت سے کہا : مادفنتم نبیّکم حتیٰ اختلفتم فیہ " " ابھی تم نے اپنے پیغمبر کو دفن بھی نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں چھگڑنے لگے۔ امیر المومنین (ع) نے عجیب جواب دیا۔ آپ نے فرمایا :انّما اختلفنا عنه لا فیه ولٰکنّکم ما جفّت ارجلکم من البحر حتّیٰ قلتم لنبیّکم اجعل لنا الٰهً کما لهم الهةً فقال انّکم قوم تجهلون ۔(۱۷) ہم نے پیغمبر کے بارے میں اختلاف نہیں کیا بلکہ ہمارا اختلاف نہیں کیا بلکہ ہمارا اختلاف اس دستور و حکم کے سلسلہ میں تھا جو ان کے ذریعہ ہم تک پہنچا تھ ، لیکن ابھیھ تمہارے پاؤں دریا کے پانی سے خشک بھی ہوئے تھے کہ تم نہ اپنے پیغمبر سے یہ تقاضہ کردیا کہ وہ دین کی پہلی اور بنیادی اصل یونی توحید کو ہی غارت کردے، تم نے اپنے نبی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ دین کی پہلی اور بنیادی اصل یعنی توحید کو ہی غارت کردے، تم نے اپنے نبی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ دوسروں کے خداؤں کی طرح، ہمارے لئے بھی ایک بت بنادو۔ پس جو کچھ تمہارے یہاں گزرا اور جو ہمارے یہاں پیش آیا ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم نے خود پیغمبر کے بارے میں اختلاف نہیں کیا بلکہ ہمارا اختلاف یہ تھا کہ پیغمبر کے اس دستور کا مفہوم اور مطلب کیا ہے۔ بڑا فرق ہے ان دونوں باتوں میں کہ جس کام کو انھیں بہر حال انجام دینا تھا۔ اس کی توجیہ ظاہر میں اس طرح ہو ( نہ یہ کہ حقیقتاً ایسا ہی تھا ) کہ یہ کہا جائے ( جو لوگ اس خطا کے مرتکب ہوئے ) ان کا خیال یہ تھا کہ اصل میں پیغمبر کا مقصود یہی تھا نتیجہ میں انہوں نے آنحضرت کے قول کی اس شکل میں توجیہ کر ڈال یا یہ کہا جائے کہ اتنی صریح اور واضح قرآن کی نص کو ان لوگوں نے ٹھکرادیا یا قرآن کی تحریف کرڈالی۔

سوال : فلاں ڈاکٹر صاحب نے جو سوال دریافت فرمایا ہے اسے میں اس صورت میں پیش کررہا ہوں کہ یہ صحیح ہے کہ قرآن میں اصل اور بنیادی قانون ہی بیان ہونا چاہئے لیکن جانشینی کی اصل اور اسلام میں حکومت کا مسئلہ تو مسلم طور پر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے چاہئے یہ تھا کہ قرآن میں نام کا ذکر ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک دستور العمل کی حیثیت سے اس مسئلہ کو واضح طور سے بیان کردیتا ہے۔ مثلاً پیغمبر کو یہ وحی ہوجاتی کہ تمیہں اپنا جانشین معین کرنا ہے۔ اور تمہارا نائب بھی اپنا جانشین خود معین کرے گا۔ اور یوں ہی یہ سلسلہ آخر تک قائم رہتا۔ یا دستور یہ ہوتا ہے جانشین کا انتخاب مشورہ ( شوریٰ ) سے ہوگا یا انتخاب سے ہوگا ۔ یعنی اسلام جیسے دین کے لئے جس میں حکومت وہ حاکمیت لازم و ضروری ہے جانشینی کا مسئلہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے جسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس کی وضاحت نہ کہ جائے۔ کوئی نہ کوئی جانشینی کا دستور تو ہونا ہی چاہئے تھا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حضرت علی (ع) کے نام کا ذکر کیا جاتا یا نہ کیا جاتا۔ بلکہ جانشینی و حکومت کے طریقہ کار سے متعلق اس قدر اختلافات کو دیکھتے ہوئے ایک مستقل دستور العمل کی ضرورت بہر حال محسوس ہوتی ہے کہ اے پیغمبر ! تمہارا فرض ہے کہ جانشین مقرر کردو۔ انب یہاں ممکن ہے یہ اختلاف ہوتا کہ کون جانشین ہے مختلف تفسیریں کی جاتیں۔ لیکن یہ بات تو قطعی اور یقینی ہوتی کہ اپنا جانشین پیغمبر نے خود معین فرمایا تھا۔ اس کا مسلمانوں کی شوریٰ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح جانشین پیغمبر اپنے بعد اپنا جانشین یا امام مقرر کرتا۔ یا لوگوں کا گروہ اس کا انتخاب کرتا یا پھر لوگ اس سلسلہ میں مشورہ کرتے ؟ بہر حال میری دانست میں یہ قضیہ قرآن کی روشنی میں بھی مبہم رہ گیا ہے۔ اور ہمارے پاس اس سلسلہ میں کوئی صریحی دستورالعمل موجود نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے اسلام میں حکومت " کے موضوع پر ایک کتاب دیکھی جس میں خود حضرت علی (ع) اور دیگر اشخاص کے بہت سے اقوال نقل ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ امر ( یعنی امر خلافت ) عام مسلمانوں سے مربوط ہے اور مسلمانوں کو اس میں فیصلہ کا حق ہے۔ اراباب حل و عقد کو اپنی رائے دینا چاہئے۔ امر خلافت میرا مسئلہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کو مشورہ کرنا چاہئے اور اپنی رائے پیش کرنی چاہئے، نیز مصنف نے ایسے بہت سے دلائل اکٹھا کئے ہیں کو ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں حکومت کا مسئلہ ایک امر انتخابی ہےء۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا جانشین خود مقرر کرے اس سلسلہ میں آپ کیافرماتے ہیں؟ تیسرے یہ کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ یہ بارہ امام جانشین کے عنوان سے یکے بعد دیگر معین ہوئے ہیں ( اس سے بحث نہیں کہ وحی کے ذریعہ معین ہوئے یا کسی اور ذریعہ سے ) یہ بتائیں کہ اسلامی معاشرہ میں ہمیشہ کے لئے کلی و قطعی طور پر جانشین کے تعیین کا ( نہ کہ انتخاب کا ) کیا اصول یا قانون ہے۔ یعنی کیا پہلے سے یہ کہا جاچکا تھا کہ وحی الٰہی کے مطابق صرف یہ بارہ ائمہ (ع) جوان خصوصیات کے حامل یعنی معصوم و ہیں یکے بعد دیگر ے تعیین ہوں گے اورا س کے بعد زمانۂ غیبت میں مثلاً یہ مسئلہ انتخاب کے ذریعہ حل ہوگا؟ کیا اس کی وضاحت کی گئی ہے ؟ یہ استنباط تو خود ہماری طرف سے ہے ککہ چونکہ اس وقت بارھویں امام حاضر و موجود نہٰں ہیں لہٰذا حکومت کا سربراہ مجتہد جامع الشرائط ہوگا یا نہ ہوگا۔ لیکن قرآن کو ایک بنیادی دستور العمل مسلمانوں کے حوالہ کرنا چاہئے کہ ( پیغمبر اکرم (ص) کے بعد شروع میں ) ہم چند معصوم اشخاص کو خصوصی طور سے تم پر حاکم مقرر کریں گے۔ ان کے بعد تم خود اپنے باہمی مشوروں سے ( کسی کا انتخاب کرو ) یا فقیہ جامع الشرائط تم پر حاکم ہوگا۔ یہ مسئلہ بھی گیارھوں امام کےبعد سے الجھ جاتا ہے اور پھر اشکالات و اختلافات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں شیعی نقطۂ نظر سے اس مسئلہ کا کیا حل ہے ؟

جواب : ان سوالات کے جوابات ایک حد تک گزشتہ جلسوں میں عرض کرچکے ہیں آپ نے مسئلہ امامت کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ وہ بھی صرف مسئلہ حکومت کی شکل میں۔ ہم گزشتہ ہفتوں میں عرض کرچکے ہیں کہ مسئلہ حکومت مسئلۂ امامت سے الگ ہے۔ اور شیعی نقطۂ نظر سے امام کی موجودگی میں حکومت کا مسئلہ ویسا ہی ہے جیسا پیغمبر اکرم (ص) کے عہد میں تھا۔ یہاں حکومت استثناء حکم رکھتی ہے۔ یعنی جس طرح پیغمبر کے زمانے میں یہ مسئلہ نہین اٹھتا کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے حکومت کس کی ہوگی یوں ہی امام ( یعنی اس مرتبہ کا امام جس کے شیعہ قائل ہیں ) کی موجودگی اور اس کے حضور میں بھی حکومت کا مسئلہ ایک فرعی اور طفیل حیثیت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اگر ہم مسئلہ حکومت کو بالکل الگ کرکے پیش کریں تو یہ ایک علاحدہ مسلہ ہے۔ یعنی ایسے زمانہ میں جس میں امام کا وجود ہی نہ ہو ( اور ایسا کوئی زمانہ ہے ہی نہیں ) یا پھر امام غیبت میں ہو تو ایسی صورت میں البتہ یہ ایک بنیادی مسئلہ بھی ہے۔ اسی بناپر ہم :"( امرهم شوریٰ بینهم ) " کے منکر نہیں ہیں۔ لیکن یہ "( امر شوریٰ بینهم ) "کہاں عمل میں آئے گا ؟ کیا شوریٰ اس مسئلہ میں بھی کارفرماہوگی جس میں قرآنی نصّ موجود ہے اور فرائض و وظائف روشن و واضح ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ شوریٰ ان مراحل کے لئے ہے جہاں نہ کیوئی حکم الٰہی موجود ہو اور نہ کوئی دستور ہم تک پہنچا ہو۔

رہی " حکومت در اسلام " نامی کتاب میں تحریر مسائل کی بات، البتہ میں نے اس پر کامل تحقیق نہیں کی ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں اول تو زیادہ تر مسائل یک طرفہ بیان ہوئے ہیں یعنی دلائل کے ایک رخ کو لکھا گیا ہے اوران کے مخالف دلائل کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے اور یہ اس کتاب کا بہت بڑا عیب ہے کیونکہ انسان اگر کچھ لکھتا ہے تو اسے ہر پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے اس کلے بعد دیکھنا چاہئے کہ ان تمام دلائل میں کون سی دلیلیں وزنی اور معتبر ہیں ؟ کسے اپنانا چاہئے اور کسے چھوڑنا چاہئے۔؟

اس کتاب کا دوسرا عیب یہ ہے کہ اس میں مطالب بیان کرنے کے سلسلہ میں قطع و برید سے کام لیا گیا ہے ( اگر چہ میں نے خاص طور سے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے، لیکن جن اہل نطر افراد نے اسے پڑھا ہے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ ) اس نے جملوں کو ادھر اُدھر سے کاٹ کر درمیان سے اپنے مطلب کی بات نقل کی ہے۔ نتیجہ میں جملہ کا مفہوم ہی بدل گیا ہے۔ اگر پوری بات نقل کی جاتی تو کبھی یہ معنی و مقصود ظاہر نہ ہوتے۔ اس کے علاوہ ان دلائل کا بڑا حصہ ان مسائل سے مربوط ہے جو امام کی موجودگی اور ان کے حضور کے زمانے سے تعلق نہیں رکھتے، اور امام کی عدم موجودگی یا غیبت میں شوریٰ و انتخاب کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔

____________________

(۱۷) نہج البلاغہ، حکمت ۳۱۷