قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں  0%

قرآن کریم اردو میں  : مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات: متن قرآن اور ترجمہ

قرآن کریم اردو میں

: مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات:

مشاہدے: 8228
ڈاؤنلوڈ: 1187

تبصرے:

قرآن کریم اردو میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 82 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8228 / ڈاؤنلوڈ: 1187
سائز سائز سائز
قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں

اردو

سورہ مریم

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱)کۤهیعۤصۤ

(۲) یہ زکریا کے ساتھ تمہارے پروردگار کی مہربانی کا ذکر ہے

(۳) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دھیمی آواز سے پکارا

(۴) کہا کہ پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرا سر بڑھاپے کی آگ سے بھڑک اٹھا ہے اور میں تجھے پکارنے سے کبھی محروم نہیں رہا ہوں

(۵) اور مجھے اپنے بعد اپنے خاندان والوں سے خطرہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اب مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے

(۶) جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو اور پروردگار اسے اپنا پسندیدہ بھی قرار دے دے

(۷) زکریا ہم تم کو ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے اور ہم نے اس سے پہلے ان کا ہمنام کوئی نہیں بنایا ہے

(۸) زکریا نے عرض کی پروردگار میرے فرزند کس طرح ہوگا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بھی بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گیا ہوں

(۹) ارشاد ہوا اسی طرح تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ یہ بات میرے لئے بہت آسان ہے اور میں نے اس سے پہلے خود تمہیں بھی پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہیں تھے

(۱۰) انہوں نے کہا کہ پروردگار اس ولادت کی کوئی علامت قرار دے دے ارشاد ہوا کہ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دنوں تک برابر لوگوں سے کلام نہیں کرو گے

(۱۱) اس کے بعد زکریا محرابِ عبادت سے قوم کی طرف نکلے اور انہیں اشارہ کیا کہ صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے رہو

(۱۲) یحیٰی علیہ السّلام ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ہم نے انہیں بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی

(۱۳) اور اپنی طرف سے مہربانی اور پاکیزگی بھی عطا کردی اور وہ خورِ خدا رکھنے والے تھے

(۱۴) اور اپنے ماں باپ کے حق میں نیک برتاؤ کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

(۱۵) ان پر ہمار اسلام جس دن پیدا ہوئے اور جس دن انہیں موت آئی اور جس دن وہ دوبارہ زندہ اٹھائے جائیں گے

(۱۶) اور پیغمبر علیہ السّلام اپنی کتاب میں مریم کا ذکر کرو کہ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ مشرقی سمت کی طرف چلی گئیں

(۱۷) اور لوگوں کی طرف پردہ ڈال دیا تو ہم نے اپنی روح کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک اچھا خاصا آدمی بن کر پیش ہوا

(۱۸) انہوں نے کہا کہ اگر تو خوف خدا رکھتا ہے تو میں تجھ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

(۱۹) اس نے کہاکہ میں آپ کے رب کا فرستادہ ہوں کہ آپ کو ایک پاکیزہ فرزند عطا کردوں

(۲۰) انہوں نے کہا کہ میرے یہاں فرزند کس طرح ہوگا جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا بھی نہیں ہے اور میں کوئی بدکردار نہیں ہوں

(۲۱) اس نے کہا کہ اسی طرح آپ کے پروردگار کا ارشاد ہے کہ میرے لئے یہ کام آسان ہے اور اس لئے کہ میں اسے لوگوں کے لئے نشانی بنادوں اور اپنی طرف سے رحمت قرار دیدوں اور یہ بات طے شدہ ہے

(۲۲) پھر وہ حاملہ ہوگئیں اور لوگوں سے دور ایک جگہ چلی گئیں

(۲۳) پھر وضع حمل کا وقت انہیں ایک کھجور کی شاخ کے قریب لے آیا تو انہوں نے کہا کہ اے کاش میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بالکل فراموش کردینے کے قابل ہوگئی ہوتی

(۲۴) تو اس نے نیچے سے آواز دی کہ آپ پریشان نہ ہوں خدا نے آپ کے قدموں میں چشمہ جاری کردیا ہے

(۲۵) اور خرمے کی شاخ کو اپنی طرف ہلائیں اس سے تازہ تازہ خرمے گر پڑیں گے

(۲۶) پھر اسے کھائیے اور پیجئے اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی رکھئے پھر اس کے بعد کسی انسان کو دیکھئے تو کہہ دیجئے کہ میں نے رحمان کے لئے روزہ کی نذر کرلی ہے لہذا آج میں کسی انسان سے بات نہیں کرسکتی

(۲۷) اس کے بعد مریم بچہ کو اٹھائے ہوئے قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے کہا کہ مریم یہ تم نے بہت برا کام کیا ہے

(۲۸) ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں بدکردار تھی

(۲۹) انہوں نے اس بچہ کی طرف اشارہ کردیا تو قوم نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گہوارے میں بچہ ہے

(۳۰) بچہ نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

(۳۱) اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز اور زکوِٰکی وصیت کی ہے

(۳۲) اور اپنی والدہ کے ساتھ حَسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے

(۳۳) اور سلام ہے مجھ پر اس دن جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا

(۳۴) یہ ہے عیسٰی بن مریم کے بارے میں قول حق جس میں یہ لوگ شک کررہے تھے

(۳۵) اللہ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا فرزند بنائے وہ پاک و بے نیاز ہے جس کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے

(۳۶) اور اللہ میرا اور تمہارا دونوں کا پروردگار ہے لہذا اس کی عبادت کرو اور یہی صراط همستقیم ہے

(۳۷) پھر مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور ویل ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا اور انہیں بڑے سخت دن کا سامنا کرنا ہوگا

(۳۸) اس دن جب ہمارے پاس آئیں گے تو خوب سنیں اور دیکھیں گے لیکن یہ ظالم آج کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں

(۳۹) اور ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے ڈرائیے جب قطعی فیصلہ ہوجائے گا اگرچہ یہ لوگ غفلت کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں

(۴۰) بیشک ہم زمین اور جو کچھ زمین پر ہے سب کے وارث ہیں اور سب ہماری ہی طرف پلٹا کر لائے جائیں گے

(۴۱) اور کتاب خدا میں ابراہیم علیہ السّلام کا تذکرہ کرو کہ وہ ایک صدیق پیغمبر تھے

(۴۲) جب انہوں نے اپنے پالنے والے باپ سے کہا کہ آپ ایسے کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے اور نہ کسی کام آنے والا ہے

(۴۳) میرے پاس وہ علم آچکا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے لہذا آپ میرا اتباع کریں میں آپ کو سیدھے راستہ کی ہدایت کردوں گا

(۴۴) بابا شیطان کی عبادت نہ کیجئے کہ شیطان رحمان کی نافرمانی کرنے والا ہے

(۴۵) بابا مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو رحمان کی طرف سے کوئی عذاب اپنی گرفت میں لے لے اور آپ شیطان کے دوست قرار پاجائیں

(۴۶) اس نے جواب دیا کہ ابراہیم علیہ السّلام کیا تم میرے خداؤں سے کنارہ کشی کرنے والے ہو تو یاد رکھو کہ اگر تم اس روش سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا اور تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجاؤ

(۴۷) ابراہیم علیہ السّلام نے کہا کہ خدا آپ کو سلامت رکھے میں عنقریب اپنے رب سے آپ کے لئے مغفرت طلب کروں گا کہ وہ میرے حال پر بہت مہربان ہے

(۴۸) اور آپ کو آپ کے معبودوں سمیت چھوڑ کر الگ ہوجاؤں گا اور اپنے رب کو آواز دوں گا کہ اس طرح میں اپنے پروردگار کی عبادت سے محروم نہ رہوں گا

(۴۹) پھر جب ابراہیم علیہ السّلام نے انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو ہم نے انہیں اسحاق علیہ السّلام و یعقوب علیہ السّلام جیسی اولاد عطا کی اور سب کو نبی قرار دے دیا

(۵۰) اور پھر انہیں اپنی رحمت کا ایک حصہ ّبھی عطا کیا اور ان کے لئے صداقت کی بلند ترین زبان بھی قرار دے دی

(۵۱) اور اپنی کتاب میں موسٰی علیہ السّلام کا بھی تذکرہ کرو کہ وہ میرے مخلص بندے اور رسول و نبی تھے

(۵۲) ۱ اور ہم نے انہیں کوسِ طور کے داہنے طرف سے آواز دی اور راز و نیاز کے لئے اپنے سے قریب بلالیا

(۵۳) اور پھر انہیں اپنی رحمت خاص سے ان کے بھائی ہارون علیہ السّلام پیغمبر کو عطا کردیا

(۵۴) اور اپنی کتاب میں اسماعیل علیہ السّلام کا تذکرہ کرو کہ وہ وعدے کے سچے ّاور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر علیہ السّلام تھے

(۵۵) اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوِٰ کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے

(۵۶) اور کتاب خدا میں ادریس علیہ السّلام کا بھی تذکرہ کرو کہ وہ بہت زیادہ سچے پیغمبر علیہ السّلام تھے

(۵۷) اور ہم نے ان کو بلند جگہ تک پہنچادیا ہے

(۵۸) یہ سب وہ انبیائ ہیں جن پر اللہ نے نعمت نازل کی ہے ذرّیت آدم میں سے اور ان کی نسل میں سے جن کو ہم نے نوح علیہ السّلام کے ساتھ کشتی میں اٹھایا ہے اور ابراہیم علیہ السّلام و اسرائیل علیہ السّلام کی ذرّیت میں سے اور ان میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی ہے اور انہیں منتخب بنایا ہے کہ جب ان کے سامنے رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں

(۵۹) پھر ان کے بعد ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا پس یہ عنقریب اپنی گمراہی سے جاملیں گے

(۶۰) علاوہ ان کے جنہوں نے توبہ کرلی, ایمان لے آئے اور عمل صالح کیا کہ وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا

(۶۱) ہمیشہ رہنے والی جنّت جس کا رحمان نے اپنے بندوں سے غیبی وعدہ کیا ہے اور یقینا اس کا وعدہ سامنے آنے والا ہے

(۶۲) اس جنّت میں سلام کے علاوہ کوئی لغو آواز سننے میں نہ آئے گی اور انہیں صبح و شام رزق ملتا رہے گا

(۶۳) یہی وہ جنّت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں متقی افراد کو قرار دیتے ہیں

(۶۴) اور اے پیغمبر علیہ السّلام ہم فرشتے آپ کے پروردگار کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے ہیں ہمارے سامنے یا پس پشت یا اس کے درمیان جو کچھ ہے سب اس کے اختیار میں ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے

(۶۵) وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے لہذا اس کی عبادت کرو اور اس عبادت کی راہ میں صبر کرو کیا تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمنام ہے

(۶۶) اور انسان یہ کہتا ہے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ کرکے نکالے جائیں گے

(۶۷) کیا یہ اس بات کو یاد نہیں کرتا ہے کہ پہلے ہم نے ہی اسے پیدا کیا ہے جب یہ کچھ نہیں تھا

(۶۸) اور آپ کے رب کی قسم ہم ان سب کو اور ان کے شیاطین کو ایک جگہ اکٹھا کریں گے پھر سب کوجہّنم کے اطراف گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے

(۶۹) پھر ہر گروہ سے ایسے افراد کو الگ کرلیں گے جو رحمان کے حق میں زیادہ نافرمان تھے

(۷۰) پھر ہم ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہیں جو جہّنم میں جھونکے جانے کے زیادہ سزاوار ہیں

(۷۱) اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے جہّنم کے کنارے حاضر نہ ہونا ہو کہ یہ تمہارے رب کا حتمی فیصلہ ہے

(۷۲) اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کوجہّنم میں چھوڑ دیں گے

(۷۳) اور جب ان کے سامنے ہماری کِھلی ہوئی آیتیں پیش کی جاتی ہیں تو ان میں کے کافر صاحبان ایمان سے کہتے ہیں کہ ہم دونوں میں کس کی جگہ بہتر اور کس کی منزل زیادہ حسن ہے

(۷۴) اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی جماعتوں کوہلاک کُردیا ہے جو سازوسامان اور نام و نمود میں ان سے کہیں زیادہ بہتر تھے

(۷۵) آپ کہہ دیجئے کہ جو شخص گمراہی میں پڑا رہے گا خدا اسے اور ڈھیل دیتا رہے گا یہاں تک کہ یہ وعدہ الٰہی کو دیکھ لیں یا عذاب کی یا قیامت کی شکل میں پھر انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جگہ کے اعتبار سے بدترین اور مددگاروں کے اعتبار سے کمزور ترین کون ہے

(۷۶) اور اللہ ہدایت یافتہ افراد کی ہدایت میں اضافہ کردیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب اور بازگشت کے اعتبار سے بہترین اور بلند ترین ہیں

(۷۷) کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور یہ کہنے لگا کہ ہمیں قیامت میں بھی مال اور اولاد سے نوازا جائے گا

(۷۸) یہ غیب سے باخبر ہوگیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی معاہدہ کرلیا ہے

(۷۹) ہرگز ایسا نہیں ہے ہم اس کی باتوں کو درج کررہے ہیں اور اس کے عذاب میں اور بھی اضافہ کردیں گے

(۸۰) اور اس کے مال و اولاد کے ہم ہی مالک ہوں گے اور یہ تو ہماری بارگاہ میں اکیلا حاضر ہوگا

(۸۱) اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں

(۸۲) ہرگز نہیں عنقریب یہ معبود خود ہی ان کی عبادت سے انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے

(۸۳) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلّط کردیا ہے اور وہ ان کو بہکاتے رہتے ہیں

(۸۴) آپ ان کے بارے میں عذاب کی جلدی نہ کریں ہم ان کے دن خود ہی شمار کررہے ہیں

(۸۵) قیامت کے دن ہم صاحبان هتقویٰ کو رحمان کی بارگاہ میں مہمانوں کی طرح جمع کریں گے

(۸۶) اور مجفِمین کوجہّنم کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح دھکیل دیں گے

(۸۷) اس وقت کوئی شفاعت کا صاحب هاختیار نہ ہوگا مگر وہ جس نے رحمان کی بارگاہ میں شفاعت کا عہد لے لیا ہے

(۸۸) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو اپنا فرزند بنالیا ہے

(۸۹) یقینا تم لوگوں نے بڑی سخت بات کہی ہے

(۹۰) قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑے اور زمین شگافتہ ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گر پڑیں

(۹۱) کہ ان لوگوں نے رحمان کے لئے بیٹا قرار دے دیا ہے

(۹۲) جب کہ یہ رحمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے

(۹۳) زمین و آسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ بن کر حاضر ہونے والا نہ ہو

(۹۴) خدا نے سب کا احصائ کرلیا ہے اور سب کو باقاعدہ شمار کرلیا ہے

(۹۵) اور سب ہی کل روز هقیامت اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے ہیں

(۹۶) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے عنقریب رحمان لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردے گا

(۹۷) بس ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں اس لئے آسان کردیا ہے کہ تم متقین کو بشارت دے سکو اور جھگڑالو قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرا سکو

(۹۸) اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلوں کو برباد کردیا ہے کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھ رہے ہو یا کسی کی آہٹ بھی صَن رہے ہو

سورہ طہ

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱)طهۤ

(۲) ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں نازل کیا ہے کہ آپ اپنے کو زحمت میں ڈال دیں

(۳) یہ تو ان لوگوں کی یاد دہانی کے لئے ہے جن کے دلوں میں خوف خدا ہے

(۴) یہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند ترین آسمانوں کو پیدا کیا ہے

(۵) وہ رحمان عرش پر اختیار و اقتدار رکھنے والا ہے

(۶) اس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے یا زمین میں ہے یا دونوں کے درمیان ہے اور زمینوں کی تہ میں ہے

(۷) اگر تم بلند آواز سے بھی بات کرو تو وہ راز سے بھی مخفی تر باتوں کو جاننے والا ہے

(۸) وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اس کے لئے بہترین نام ہیں

(۹) کیا تمہارے پاس موسٰی کی داستان آئی ہے

(۱۰) جب انہوں نے آگ کو دیکھا اور اپنے اہل سے کہا کہ تم اسی مقام پر ٹھہرو میں نے آگ کو دیکھا ہے شاید میں اس میں سے کوئی انگارہ لے آؤں یا اس منزل پر کوئی رہنمائی حاصل کرلوں

(۱۱) پھر جب موسٰی اس آگ کے قریب آئے تو آواز دی گئی کہ اے موسٰی

(۱۲) میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا اپنی جوتیوں کو اتار دو کہ تم طویٰ نام کی ایک مقدس اور پاکیزہ وادی میں ہو

(۱۳) اور ہم نے تم کو منتخب کرلیا ہے لہذا جو وحی کی جارہی ہے اسے غور سے سنو

(۱۴) میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو

(۱۵) یقینا وہ قیامت آنے والی ہے اور میں اسے چھپائے رہوں گا تاکہ ہر نفس کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جاسکے

(۱۶) اور خبردار تمہیں قیامت کے خیال سے وہ شخص روک نہ دے جس کا ایمان قیامت پر نہیں ہے اور جس نے اپنے خواہشات کی پیروی کی ہے کہ اس طرح تم ہلاک ہوجاؤ گے

(۱۷) اور اے موسٰی یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے

(۱۸) انہوں نے کہا کہ یہ میرا عصا ہے جس پر میں تکیہ کرتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے درختوں کی پتیاں جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بہت سے مقاصد ہیں

(۱۹) ارشاد ہوا تو موسٰی اسے زمین پر ڈال دو

(۲۰) اب جو موسٰی نے ڈال دیا تو کیا دیکھا کہ وہ سانپ بن کر دوڑ رہا ہے

(۲۱) حکم ہوا کہ اسے لے لو اور ڈرو نہیں کہ ہم عنقریب اسے اس کی پرانی اصل کی طرف پلٹا دیں گے

(۲۲) اور اپنے ہاتھ کو سمیٹ کر بغل میں کرلو یہ بغیر بیماری کے سفید ہوکر نکلے گا اور یہ ہماری دوسری نشانی ہوگی

(۲۳) تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیاں دکھاسکیں

(۲۴) جاؤ فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا

(۲۵) موسٰی نے عرض کی پروردگار میرے سینے کو کشادہ کردے

(۲۶) میرے کام کو آسان کردے

(۲۷) اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے

(۲۸) کہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں

(۲۹) اور میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دے دے

(۳۰) ہارون کو جو میرا بھائی بھی ہے

(۳۱) اس سے میری پشت کو مضبوط کردے

(۳۲) اسے میرے کام میں شریک بنادے

(۳۳) تاکہ ہم تیری بہت زیادہ تسبیح کرسکیں

(۳۴) اور تیرا بہت زیادہ ذکر کرسکیں

(۳۵) یقینا تو ہمارے حالات سے بہتر باخبر ہے

(۳۶) ارشاد ہوا موسٰی ہم نے تمہاری مراد تمہیں دے دی ہے

(۳۷) اور ہم نے تم پر ایک اور احسان کیا ہے

(۳۸) جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف ایک خاص وحی کی

(۳۹) کہ اپنے بچہ کو صندوق میں رکھ دو اور پھر صندوق کو دریا کے حوالے کردو موجیں اسے ساحل پر ڈال دیں گی اور ایک ایسا شخص اسے اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور موسٰی کا بھی دشمن ہے اور ہم نے تم پر اپنی محبت کا عکس ڈال دیا تاکہ تمہیں ہماری نگرانی میں پالا جائے

(۴۰) اس وقت کو یاد کرو جب تمہاری بہن جارہی تھیں کہ فرعون سے کہیں کہ کیا میں کسی ایسے کا پتہ بتاؤں جو اس کی کفالت کرسکے اور اس طرح ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف پلٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تمہیں غم سے نجات دے دی اور تمہارا باقاعدہ امتحان لے لیا پھر تم اہل مدین میں کئی برس تک رہے اس کے بعد تم ایک منزل پر آگئے اے موسٰی

(۴۱) اور ہم نے تم کو اپنے لئے منتخب کرلیا

(۴۲) اب تم اپنے بھائی کے ساتھ میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

(۴۳) تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے

(۴۴) اس سے نرمی سے بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا خوف زدہ ہوجائے

(۴۵) ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے یا اور سرکش نہ ہوجائے

(۴۶) ارشاد ہوا تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن بھی رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں

(۴۷) فرعون کے پاس جاکر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے فرستادہ ہیں بنی اسرائیل کو ہمارے حوالے کردے اور ان پر عذاب نہ کر کہ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں اور ہمارا سلام ہو اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے

(۴۸) بیشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تکذیب کرنے والے اور منہ پھیرنے والے پر عذاب ہے

(۴۹) اس نے کہا کہ موسٰی تم دونوں کا رب کون ہے

(۵۰) موسٰی نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے

(۵۱) اس نے کہا کہ پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جو پہلے گزر چکے ہیں

(۵۲) موسٰی نے کہا کہ ان باتوں کاعلم میرے پروردگار کے پاس اس کی کتاب میں محفوظ ہے وہ نہ بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

(۵۳) اس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی برسایا ہے جس کے ذریعہ ہم نے مختلف قسم کے نباتات کا جوڑا پیدا کیا ہے

(۵۴) کہ تم خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ بے شک اس میں صاحبان هعقل کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں

(۵۵) اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں پلٹا کرلے جائیں گے اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے

(۵۶) اور ہم نے فرعون کو اپنی ساری نشانیاں دکھلادیں لیکن اس نے تکذیب کی اور انکار کردیا

(۵۷) اس نے کہا کہ موسٰی تم اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے علاقہ سے اپنے جادو کے ذریعہ باہر نکال دو

(۵۸) اب ہم بھی ایسا ہی جادو لے آئیں گے لہذا اپنے اور ہمارے درمیان ایک وقت مقرر کردو جس کی نہ ہم مخالفت کریں اور نہ تم اور وہ وعدہ گاہ بھی ایک صاف کھلے میدان میں ہو

(۵۹) موسٰی نے کہا کہ تمہارا وعدہ کا دن زینت (عید) کا دن ہے اور اس دن تمام لوگ وقت چاشت اکٹھا کئے جائیں گے

(۶۰) اس کے بعد فرعون واپس چلا گیا اور اپنے مکر کو اکٹھا کرنے لگا اور اس کے بعد پھر سامنے آیا

(۶۱) موسٰی نے ان لوگوں سے کہا کہ تم پر وائے ہو اللہ پر افترا نہ کرو کہ وہ تم کو عذاب کے ذریعہ تباہ و برباد کردے گا اور جس نے اس پر بہتان باندھا وہ یقینا رسوا ہوا ہے

(۶۲) اس پر وہ لوگ آپس میں جھگڑا کرنے لگے اور سرگوشیوں میں مصروف ہوگئے

(۶۳) ان لوگوں نے کہا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو تم لوگوں کو اپنے جادو کے زور پر تمہاری سرزمین سے نکال دینا چاہتے ہیں اور تمہارے اچھے خاصے طریقہ کو مٹا دینا چاہتے ہیں

(۶۴) لہذا تم لوگ اپنی تدبیروں کو جمع کرو اور پرا باندھ کر ان کے مقابلے پر آجاؤ جو آج کے دن غالب آجائے گا وہی کامیاب کہا جائے گا

(۶۵) ان لوگوں نے کہا کہ موسٰی تم اپنے جادو کو پھینکو گے یا ہم لوگ پہل کریں

(۶۶) موسٰی نے کہا کہ نہیں تم ابتدا کرو ایک مرتبہ کیا دیکھا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں جادو کی بنا پر ایسی لگنے لگیں جیسے سب دوڑ رہی ہوں

(۶۷) تو موسٰی نے اپنے دل میں (قوم کی گمراہی کا) خوف محسوس کیا

(۶۸) ہم نے کہا کہ موسٰی ڈرو نہیں تم بہرحال غالب رہنے والے ہو

(۶۹) اور جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو یہ ان کے سارے کئے دھرے کو چن لے گا ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف جادوگر کی چال ہے اور بس اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا

(۷۰) یہ دیکھ کر سارے جادوگر سجدہ میں گر پڑے اور آواز دی کہ ہم موسٰی اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لے آئے

(۷۱) فرعون نے کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر ہی ایمان لے آئے تو یہ تم سے بھی بڑا جادوگر ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اب میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں خرمہ کی شاخ پر سولی دے دوں گا اور تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ زیادہ سخت عذاب کرنے والا اور دیر تک رہنے والا کون ہے

(۷۲) ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے ہم اس پر تیری بات کو مقدم نہیں کرسکتے اب تجھے جو فیصلہ کرنا ہو کرلے تو فقط اس زندگانی دنیا ہی تک فیصلہ کرسکتا ہے

(۷۳) ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کردے اور اس جادو کو بخش دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور اللہ سب سے بہتر ہے ا ورہی باقی رہنے والا ہے

(۷۴) یقینا جو اپنے رب کی بارگاہ میں مجرم بن کر آئے گا اس کے لئے وہ جہنم ّہے جس میں نہ مرسکے گا اور نہ زندہ رہ سکے گا

(۷۵) اور جو اس کے حضور صاحب ایمان بن کر حاضر ہوگا اور اس نے نیک اعمال کئے ہوں گے اس کے لئے بلند ترین درجات ہیں

(۷۶) ہمیشہ رہنے والی جنت ّجس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے کہ یہی پاکیزہ کردار لوگوں کی جزا ہے

(۷۷) اور ہم نے موسٰی کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں عصا مار کر خشک راستہ بنادو تمہیں نہ فرعون کے پالینے کا خطرہ ہے اور نہ ڈوب جانے کا

(۷۸) تب فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان لوگوں کا پیچھا کیا اور دریا کی موجوں نے انہیں باقاعدہ ڈھانک لیا

(۷۹) اور فرعون نے درحقیقت اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا ہے ہدایت نہیں دی ہے

(۸۰) بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دلائی ہے اور طور کی داہنی طرف سے توریت دینے کا وعدہ کیا ہے اور من و سلویٰ بھی نازل کیا ہے

(۸۱) تم ہمارے پاکیزہ رزق کو کھاؤ اور اس میں سرکشی اور زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب نازل ہوجائے کہ جس پر میرا غضب نازل ہوگیا وہ یقینا برباد ہوگیا

(۸۲) اور میں بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اس شخص کے لئے جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے اور پھر راسِ ہدایت پر ثابت قدم رہے

(۸۳) اور اے موسٰی تمہیں قوم کو چھوڑ کر جلدی آنے پر کس شے نے آمادہ کیا ہے

(۸۴) موسٰی نے عرض کی کہ وہ سب میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے راہ هخیر میں اس لئے عجلت کی ہے کہ تو خوش ہوجائے

(۸۵) ارشاد ہوا کہ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کا امتحان لیا اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا ہے

(۸۶) یہ سن کر موسٰی اپنی قوم کی طرف محزون اور غصہّ میں بھرے ہوئے پلٹے اور کہا کہ اے قوم کیا تمہارے رب نے تم سے بہترین وعدہ نہیں کیا تھا اور کیا اس عہد میں کچھ زیادہ طول ہوگیا ہے یا تم نے یہی چاہا کہ تم پر پروردگار کا غضب وارد ہوجائے اس لئے تم نے میرے وعدہ کی مخالفت کی

(۸۷) قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ ہم پر قوم کے زیورات کا بوجھ لاد دیا گیا تھا تو ہم نے اسے آگ میں ڈال دیا اور اس طرح سامری نے بھی اپے زیورات کو ڈال دیا

(۸۸) پھر سامری نے ان کے لئے ایک مجسمہ گائے کے بچے کا نکالا جس میں آواز بھی تھی اور کہا کہ یہی تمہارا اور موسٰی کا خدا ہے جس سے موسٰی غافل ہوکر اسے طور پر ڈھونڈنے چلے گئے ہیں

(۸۹) کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ یہ نہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی نقصان یا فائدہ کا اختیار رکھتا ہے

(۹۰) اور ہارون نے ان لوگوں سے پہلے ہی کہہ دیا کہ اے قوم اس طرح تمہارا امتحان لیا گیا ہے اور تمہارا رب رحمان ہی ہے لہذا میرا اتباع کرو اور میرے امر کی اطاعت کرو

(۹۱) ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے گرد جمع رہیں گے یہاں تک کہ موسٰی ہمارے درمیان واپس آجائیں

(۹۲) موسٰی نے ہارون سے خطاب کرکے کہا کہ جب تم نے دیکھ لیا تھا کہ یہ قوم گمراہ ہوگئی ہے تو تمہیں کون سی بات آڑے آگئی تھی

(۹۳) کہ تم نے میرا اتباع نہیں کیا, کیا تم نے میرے امر کی مخالفت کی ہے

(۹۴) ہارون نے کہا کہ بھیّا آپ میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑیں مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں اختلاف پیدا کردیا ہے اور میری بات کا انتظار نہیں کیا ہے

(۹۵) پھر موسٰی نے سامری سے کہا کہ تیرا کیا حال ہے

(۹۶) اس نے کہا کہ میں نے وہ دیکھا ہے جو ان لوگوں نے نہیں دیکھا ہے تو میں نے نمائندہ پروردگار کے نشانِ قدم کی ایک مٹھی خاک اٹھالی اور اس کو گوسالہ کے اندر ڈال دیا اور مجھے میرے نفس نے اسی طرح سمجھایا تھا

(۹۷) موسٰی نے کہا کہ اچھا جا دور ہوجا اب زندگانی دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ ہر ایک سے یہی کہتا پھرے گا کہ مجھے چھونا نہیں اور آخرت میں ایک خاص وعدہ ہے جس کی مخالفت نہیں ہوسکتی اور اب دیکھ اپنے خدا کو جس کے گرد تو نے اعتکاف کر رکھا ہے کہ میں اسے جلاکر خاکستر کردوں گا اور اس کی راکھ دریا میں اڑادوں گا

(۹۸) یقینا تم سب کا خدا صرف اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہی ہر شے کا وسیع علم رکھنے والا ہے

(۹۹) اور ہم اسی طرح گزشتہ دور کے واقعات آپ سے بیان کرتے ہیں اور ہم نے اپنی بارگاہ سے آپ کو قرآن بھی عطا کردیا ہے

(۱۰۰) جو اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت کے دن اس انکار کا بوجھ اٹھائے گا

(۱۰۱) اور پھر اسی حال میں رہے گا اور قیامت کے دن یہ بہت بڑا بوجھ ہوگا

(۱۰۲) جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم تمام مجرمین کو بدلے ہوئے رنگ میں اکٹھا کریں گے

(۱۰۳) یہ سب آپس میں یہ بات کررہے ہوں گے کہ ہم دنیا میں صرف دس ہی دن تو رہے ہیں

(۱۰۴) ہم ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں جب ان کا سب سے ہوشیار یہ کہہ رہا تھا کہ تم لوگ صرف ایک دن رہے ہو

(۱۰۵) اور یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا ہوگا تو کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار انہیں ریزہ ریزہ کرکے اڑادے گا

(۱۰۶) پھر زمین کو چٹیل میدان بنادے گا

(۱۰۷) جس میں تم کسی طرح کی کجی ناہمواری نہ دیکھو گے

(۱۰۸) اس دن سب داعی پروردگار کے پیچھے دوڑ پڑیں گے اور کسی طرح کی کجی نہ ہوگی اور ساری آوازیں رحمان کے سامنے دب جائیں گی کہ تم گھنگھناہٹ کے علاوہ کچھ نہ سنو گے

(۱۰۹) اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنہیں خدا نے اجازت دے دی ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہو

(۱۱۰) وہ سب کے سامنے اور پیچھے کے حالات سے باخبر ہے اور کسی کا علم اس کی ذات کو محیط نہیں ہے

(۱۱۱) اس دن سارے چہرے خدائے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوں گے اور ظلم کا بوجھ اٹھانے والا ناکام اور رسوا ہوگا

(۱۱۲) اور جو نیک اعمال کرے گا اور صاحبِ ایمان ہوگا وہ نہ ظلم سے ڈرے گا اور نہ نقصان سے

(۱۱۳) اور اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے عذاب کا تذکرہ کیا ہے کہ شاید یہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا قرآن ان کے اندر کسی طرح کی عبرت پیدا کردے

(۱۱۴) پس بلند و برتر ہے وہ خدا جو بادشاہ هبرحق ہے اور آپ وحی کے تمام ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں عجلت سے کام نہ لیا کریں اور یہ کہتے رہیں کہ پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما

(۱۱۵) اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہد لیا مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور ہم نے ان کے پاس عزم و ثبات نہیں پایا

(۱۱۶) اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ تم سب آدم کے لئے سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کرلیا اور اس نے انکار کردیا

(۱۱۷) تو ہم نے کہا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے کہیں تمہیں جنت ّسے نکال نہ دے کہ تم زحمت میں پڑجاؤ

(۱۱۸) بیشک یہاں جنتّ میں تمہارا فائدہ یہ ہے کہ نہ بھوکے رہو گے اور نہ برہنہ رہو گے

(۱۱۹) اور یقینا یہاں نہ پیاسے رہو گے اور نہ دھوپ کھاؤ گے

(۱۲۰) پھر شیطان نے انہیں وسوسہ میں مبتلا کرنا چاہا اور کہا کہ آدم میں تمہیں ہمیشگی کے درخت کی طرف رہنمائی کردوں اور ایسا لَلک بتادوں جو کبھی زائل نہ ہو

(۱۲۱) تو ان دونوں نے درخت سے کھالیا اور اور ان کے لئے ان کا آ گا پیچھا ظاہر ہوگیا اور وہ اسے جنتّ کے پتوں سے چھپانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کی نصیحت پر عمل نہ کیا تو راحت کے راستہ سے بے راہ ہوگئے

(۱۲۲) پھر خدا نے انہیں چن لیا اور ان کی توبہ قبول کرلی اور انہیں راستہ پر لگادیا

(۱۲۳) اور حکم دیا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ سب ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اس کے بعد اگر میری طرف سے ہدایت آجائے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ پریشان

(۱۲۴) اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے

(۱۲۵) وہ کہے گا کہ پروردگار یہ تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے جب کہ میں دا» دنیا میں صاحبِ بصارت تھا

(۱۲۶) ارشاد ہوگا کہ اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں اور تونے انہیں بھلا دیا تو آج تو بھی نظر انداز کردیا جائے گا

(۱۲۷) اور ہم زیادتی کرنے والے اور اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان نہ لانے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب یقینا سخت ترین اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے

(۱۲۸) کیا انہیں اس بات نے رہنمائی نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو ہلاک کردیا جو اپنے علاقہ میں نہایت اطمینان سے چل پھر رہے تھے بیشک اس میں صاحبان هعقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

(۱۲۹) اور اگر آپ کے رب کی طرف سے بات طے نہ ہوچکی ہوتی اور وقت مقرر نہ ہوتا تو عذاب لازمی طور پر آچکا ہوتا

(۱۳۰) لہذا آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اور رات کے اوقات میں اور دن کے اطراف میں بھی تسبیح پروردگار کریں کہ شاید آپ اس طرح راضی اور خوش ہوجائیں

(۱۳۱) اور خبردار ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو جو زندگانی دنیا کی رونق سے مالا مال کردیا ہے اس کی طرف آپ نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کہ یہ ان کی آزمائش کا ذریعہ ہے اور آپ کے پروردگار کا رزق اس سے کہیں زیادہ بہتر اور پائیدار ہے

(۱۳۲) اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں ہم آپ سے رزق کے طلبگار نہیں ہیں ہم تو خود ہی رزق دیتے ہیں اور عاقبت صرف صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے

(۱۳۳) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ہیں تو کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی گواہی نہیں آئی ہے

(۱۳۴) اور اگر ہم نے رسول سے پہلے انہیں عذاب کرکے ہلاک کردیا ہوتا تو یہ کہتے پروردگار تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیری نشانیوں کا اتباع کرلیتے

(۱۳۵) آپ کہہ دیجئے کہ سب اپنے اپنے وقت کا انتظار کررہے ہیں تم بھی انتظار کرو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کون لوگ سیدھے راستہ پر چلنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں