قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں  0%

قرآن کریم اردو میں  : مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات: متن قرآن اور ترجمہ

قرآن کریم اردو میں

: مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات:

مشاہدے: 9226
ڈاؤنلوڈ: 1282

تبصرے:

قرآن کریم اردو میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 82 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9226 / ڈاؤنلوڈ: 1282
سائز سائز سائز
قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں

اردو

سورہ حج

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے

(۲) جس دن تم دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی عورتیں اپنے دودھ پیتے بچوّں سے غافل ہوجائیں گی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل کو گرادیں گی اور لوگ نشہ کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ بدمست نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا

(۳) اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بغیر جانے بوجھے خدا کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کا اتباع کرلیتے ہیں

(۴) ان کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو شیطان کو اپنا دوست بنائے گا شیطان اسے گمراہ کردے گا اور پھر جہنمّ کے عذاب کی طرف رہنمائی کردے گا

(۵) اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے میں شبہ ہے تو یہ سمجھ لو کہ ہم نے ہی تمہیں پہلے خاک سے بنایا ہے پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جس میں سے کوئی مکمل ہوجاتا ہے اور کوئی ناقص ہی رہ جاتا ہے تاکہ ہم تمہارے اوپر اپنی قدرت کو واضح کردیں ہم جس چیز کو جب تک چاہتے ہیں رحم میں رکھتے ہیں اس کے بعد تم کو بچہ بناکر باہر لے آتے ہیں پھر زندہ رکھتے ہیں تاکہ جوانی کی عمر تک پہنچ جاؤ اور پھر تم میں سے بعض کو اٹھالیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر تک باقی رکھا جاتا ہے تاکہ علم کے بعد پھر کچھ جاننے کے قابل نہ رہ جائے اور تم زمین کو مردہ دیکھتے ہو پھر جب ہم پانی برسادیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر طرح کی خوبصورت چیز اگانے لگتی ہے

(۶) یہ اس لئے ہے کہ وہ اللہ خدائے برحق ہے اور وہی مفِدوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے

(۷) اور قیامت یقینا آنے والی ہے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اور اللہ قبروں سے مفِدوں کو اٹھانے والا ہے

(۸) اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو علم و ہدایت اور کتابِ لَنیر کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں

(۹) وہ غرور سے منہ پھرائے ہوئے ہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی راسِ خدا سے گمراہ کرسکیں تو ایسے اشخاص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ہم انہیں جہنمّ کا مزہ چکھائیں گے

(۱۰) یہ اس بات کی سزا ہے جو تم پہلے کرچکے ہو اور خدا اپنے بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے

(۱۱) اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی عبادت ایک ہی رخ پراور مشروط طریقہ سے کرتے ہیں کہ اگر ان تک خیر پہنچ گیا تو مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی مصیبت چھوگئی تو دین سے پلٹ جاتے ہیں یہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ میں ہیں اور یہی خسارہ کھلا ہوا خسارہ ہے

(۱۲) یہ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہی دراصل بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے

(۱۳) یہ ان کو پکارتے ہیں جن کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ قریب تر ہے وہ ان کے بدترین سرپرست اور بدترین ساتھی ہیں

(۱۴) بیشک اللہ ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی کہ اللہ جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے

(۱۵) جس شخص کا خیال یہ ہے کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان کی طرف بڑھے اور پھر اس رسی کو کاٹ دے اور پھر دیکھے کہ اس کی ترکیب اس چیز کو دور کرسکتی ہے یا نہیں جس کے غصّہ میں وہ مبتلا تھا

(۱۶) اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح نشانیوں کی شکل میں نازل کیا ہے اور اللہ جس کو چاہتاہے ہدایت دے دیتا ہے

(۱۷) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے یہودیت اختیار کی یا ستارہ پرست ہوگئے یا نصرانی اور آتش پرست ہوگئے یا مشرک ہوگئے ہیں خدا قیامت کے دن ان سب کے درمیان یقینی فیصلہ کردے گا کہ اللہ ہر شے کا نگراں اور گواہ ہے

(۱۸) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان میں جس قدر بھی صاحبانِ عقل و شعور ہیں اور آفتاب و ماہتاب اور ستارے ,پہاڑ ,درخت ,چوپائے اور انسانوں کی ایک کثرت سب ہی اللہ کے لئے سجدہ گزار ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور ظاہر ہے کہ جسے خدا ذلیل کرنا چاہے اسے کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے کہ یقینا اللہ جو چاہتا ہے وہ کرسکتا ہے

(۱۹) یہ مومن و کافر دو باہمی دشمن ہیں جنہوں نے پروردگار کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا ہے پھر جو لوگ کافر ہیں ان کے واسطے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے اور ان کے سروں پر گرما گرم پانی انڈیلا جائے گا

(۲۰) جس سے ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اور ان کی جلدیں سب گل جائیں گی

(۲۱) اور ان کے لئے لوہے کے گرز مہیاّ کئے گئے ہیں

(۲۲) جب یہ جہنمّ کی تکلیف سے نکل بھاگنا چاہیں گے تو دوبارہ اسی میں پلٹا دیئے جائیں گے کہ ابھی اور جہنمّ کا مزہ چکّھو

(۲۳) بیشک اللہ صاحبان ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں میں داخل کرتا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوتی ہیں انہیں ان جنتوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس اس جنّت میں ریشم کا لباس ہوگا

(۲۴) اور انہیں پاکیزہ قول کی طرف ہدایت دی گئی ہے اور انہیں خدائے حمید کے راستہ کی طرف رہنمائی کی گئی ہے

(۲۵) بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے اور مسجد الحرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے تمام انسانوں کے لئے برابر سے قرار دیا ہے چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر والے اور جو بھی اس مسجد میں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے

(۲۶) اور اس وقت کو یاد دلائیں جب ہم نے ابراہیم علیہ السّلام کے لئے بیت اللہ کی جگہ مہیا کی کہ خبردار ہمارے بارے میں کسی طرح کا شرک نہ ہونے پائے اور تم ہمارے گھر کو طواف کرنے والے ,قیام کرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنادو

(۲۷) اور لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کردو کہ لوگ تمہاری طرف پیدل اور لاغر سواریوں پر دور دراز علاقوں سے سوار ہوکر آئیں گے

(۲۸) تاکہ اپنے منافع کا مشاہدہ کریں اور چند معین دنوں میں ان چوپایوں پر جو خدا نے بطور رزق عطا کئے ہیں خدا کا نام لیں اور پھر تم اس میں سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ

(۲۹) پھر لوگوں کو چاہئے کہ اپنے بدن کی کثافت کو دور کریں اور اپنی نذروں کو پورا کریں اور اس قدیم ترین مکان کا طواف کریں

(۳۰) یہ ایک حکم خدا ہے اور جو شخص بھی خدا کی محترم چیزوں کی تعظیم کرے گا وہ اس کے حق میں پیش پروردگار بہتری کا سبب ہوگی اور تمہارے لئے تمام جانور حلال کردیئے گئے ہیں علاوہ ان کے جن کے بارے میں تم سے بیان کیا جائے گا لہذا تم ناپاک بتوں سے پرہیز کرتے رہو اور لغو اور مہمل باتوں سے اجتناب کرتے رہو

(۳۱) اللہ کے لئے مخلص اور باطل سے کترا کر رہو اور کسی طرح کا شرک اختیار نہ کرو کہ جو کسی کو اس کا شریک بناتا ہے وہ گویا آسمان سے گر پڑتا ہے اور اسے پرندہ اچک لیتا ہے یا ہوا کسی دور دراز جگہ پر لے جاکر پھینک دیتی ہے

(۳۲) یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی

(۳۳) تمہارے لئے ان قربانی کے جانوروں میں ایک مقررہ مدّت تک فائدے ہی فائدے ہیں اس کے بعد ان کی جگہ خانہ کعبہ کے پاس ہے

(۳۴) اور ہم نے ہر قوم کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کردیا ہے تاکہ جن جانوروں کا رزق ہم نے عطا کیا ہے ان پر نام خدا کا ذکر کریں پھر تمہارا خدا صرف خدائے واحد ہے تم اسی کے اطاعت گزار بنو اور ہمارے گڑگڑانے والے بندوں کو بشارت دے دو

(۳۵) جن کے سامنے ذکر خدا آتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور وہ جو مصیبت پر صبر کرنے والے اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرنے والے ہیں

(۳۶) اور ہم نے قربانیوں کے اونٹ کو بھی اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے لہذا اس پر کھڑے ہونے کی حالت ہی میں نام خدا کا ذکر کرو اور اس کے بعد جب اس کے تمام پہلو گر جائیں تو اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے سب غریبوں کو کھلاؤ کہ ہم نے انہیں تمہارے لئے لَسّخر کردیا ہے تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ

(۳۷) خدا تک ان جانوروں کا گوشت جانے والا ہے اور نہ خون اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقویٰ جاتا ہے اور اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارا تابع بنادیا ہے کہ خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو

(۳۸) بیشک اللہ صاحبانِ ایمان کی طرف سے دفاع کرتا ہے اور یقینا اللہ خیانت کرنے والے کافروں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے

(۳۹) جن لوگوں سے مسلسل جنگ کی جارہی ہے انہیں ان کی مظلومیت کی بنائ پر جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھنے والا ہے

(۴۰) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے بلا کسی حق کے نکال دیئے گئے ہیں علاوہ اس کے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر خدا بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ نہ روکتا ہوتا تو تمام گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے عبادت خانے اور مسجدیں سب منہدم کردی جاتیں اور اللہ اپنے مددگاروں کی یقینا مدد کرے گا کہ وہ یقینا صاحبِ قوت بھی ہے اور صاحبِ عزّت بھی ہے

(۴۱) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کیً اور زکوِٰ ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے

(۴۲) اور پیغمبر علیہ السّلام اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے قوم نوح ,قوم عاد اور قوم ثمود نے یہی کام کیا تھا

(۴۳) اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے بھی

(۴۴) اور اصحاب مدین نے بھی اور موسٰی کو بھی جھٹلایا گیا ہے تو ہم نے کفار کو مہلت دے دی اور پھر اس کے بعد انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تو سب نے دیکھ لیا کہ ہمارا عذاب کیسا ہوتا ہے

(۴۵) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کردیا کہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں کے بل الٹی پڑی ہیں اور ان کے کنویں معطل پڑے ہیں اور ان کے مضبوط محل بھی مسمار ہوگئے ہیں

(۴۶) کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ ان کے پاس ایسے دل ہوتے جو سمجھ سکتے اور ایسے کان ہوتے جو سن سکتے اس لئے کہ درحقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر پائے جاتے ہیں

(۴۷) پیغمبر علیہ السّلام یہ لوگ آپ سے عذاب میں عجلت کا تقاضا کررہے ہیں حالانکہ خدا اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرسکتا ہے اور آپ کے پروردگار کے نزدیک ایک دن بھی ان کے شمار کے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے

(۴۸) اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر ہم نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور بالآخر سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے

(۴۹) آپ کہہ دیجئے کہ انسانو ! میں تمہارے لئے صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

(۵۰) پھر جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہترین رزق ہے

(۵۱) اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کے بارے میں کوشش کی کہ ہم کو عاجز کردیں وہ سب کے سب جہنمّ میں جانے والے ہیں

(۵۲) اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول یا نبی نہیں بھیجا ہے کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی تو پھر خدا نے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹ کو مٹا دیا اور پھر اپنی آیات کو مستحکم بنادیا کہ وہ بہت زیادہ جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے

(۵۳) تاکہ وہ شیطانی القائ کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنادے جن کے قلوب میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اور ظالمین یقینا بہت دور رس نافرمانی میں پڑے ہوئے ہیں

(۵۴) اور اس لئے بھی کہ صاحبانِ علم کو معلوم ہوجائے کہ یہ وحی پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور اس طرح وہ ایمان لے آئیں اور پھر ان کے دل اس کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار کریں اور یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو سیدھے ر استہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے

(۵۵) اور یہ کفر اختیار کرنے والے ہمیشہ اس کی طرف سے شبہ ہی میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان کے پاس قیامت آجائے یا کسی منحوس دن کا عذاب وارد ہوجائے

(۵۶) آج کے دن ملک اللہ کے لئے ہے اور وہی ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا پھر جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ نعمتوں والی جنّت میں رہیں گے

(۵۷) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کے لئے نہایت درجہ کا رسوا کن عذاب ہے

(۵۸) اور جن لوگوں نے راسِ خدا میں ہجرت کی اور پھر قتل ہوگئے یا انہیں موت آگئی تو یقینا خدا انہیں بہترین رزق عطا کرے گا کہ وہ بیشک بہترین رزق دینے والا ہے

(۵۹) وہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جسے وہ پسند کرتے ہوں گے اور اللہ بہت زیادہ جاننے والا اور برداشت کرنے والا ہے

(۶۰) یہ سب اپنے مقام پر ہے لیکن اس کے بعد جو دشمن کو اتنی ہی سزادے جتنا کہ اسے ستایا گیا ہے اور پھربھی اس پر ظلم کیا جائے تو خدا اس کی مدد ضرور کرے گا کہ وہ یقینا بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

(۶۱) یہ سب اس لئے ہے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ بہت زیادہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

(۶۲) یہ اس لئے ہے کہ خدا ہی یقینا برحق ہے اور اس کے علاوہ جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ بہت زیادہ بلندی والا اور بزرگی اور عظمت والا ہے

(۶۳) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین سرسبز وشاداب ہوجاتی ہے یقینا اللہ بہت زیادہ مہربان اور حالات کی خبر رکھنے والا ہے

(۶۴) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کے لئے ہے اور یقینا وہ سب سے بے نیاز اور قابلِ حمد و ستائش ہے

(۶۵) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو لَسّخر کردیا ہے اور کشتیاں بھی دریا میں اسی کے حکم سے چلتی ہیں اور وہی آسمانوں کو روکے ہوئے ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتا ہے-اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفیق اور مہربان ہے

(۶۶) وہی خدا ہے جس نے تم کو حیات دی ہے اور پھر موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا مگر انسان بڑا انکار کرنے والا اور ناشکرا ہے

(۶۷) ہر امّت کے لئے ایک طریقہ عبادت ہے جس پر وہ عمل کررہی ہے لہذا اس امر میں ان لوگوں کو آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہئے اور آپ انہیں اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں کہ آپ بالکل سیدھی ہدایت کے راستہ پر ہیں

(۶۸) اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجئے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے

(۶۹) اللہ ہی تمہارے درمیان روزِ قیامت ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن باتوں میں تم اختلاف کررہے ہو

(۷۰) کیا تمہیں نہیں معلوم ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کی تمام باتوں کو خوب جانتا ہے اور یہ سب باتیں کتاب میں محفوظ ہیں اور سب باتیں خدا کے لئے بہت آسان ہیں

(۷۱) اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جن کے بارے میں نہ خدا نے کوئی دلیل نازل کی ہے اور نہ خود انہیں کوئی علم ہے اور ظالمین کے لئے واقعا کوئی مددگار نہیں ہے

(۷۲) اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ کفر اختیار کرنے والوں کے چہرہ پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ وہ ان تلاوت کرنے والوں پر حملہ کربیٹھیں تو کہہ دیجئے کہ میں اس سے بدتر بات کے بارے میں بتلا رہا ہوں اور وہ جہنمّ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بہت برا انجام ہے

(۷۳) انسانوں تمہارے لئے ایک مثل بیان کی گئی ہے لہذا اسے غور سے سنو-یہ لوگ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر آواز دیتے ہو یہ سب مل بھی جائیں تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے ہیں کہ طالب اور مطلوب دونوں ہی کمزور ہیں

(۷۴) افسوس کہ ان لوگوں نے خدا کی واقعی قدر نہیں پہچانی اور بیشک اللہ بڑا قدرت والا اور سب پر غالب ہے

(۷۵) اللہ ملائکہ اور انسانوں میں سے اپنے نمائندے منتخب کرتا ہے اور وہ بڑا سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے

(۷۶) وہ ان کے سامنے اور پبُ پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور تمام امور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں

(۷۷) ایمان والو ! رکوع کروً سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور کارخیر انجام دو کہ شاید اسی طرح کامیاب ہوجاؤ اور نجات حاصل کرلو

(۷۸) اور اللہ کے بارے میں اس طرح جہاد کرو جو جہاد کرنے کا حق ہے کہ اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین میں کوئی زحمت نہیں قرار دی ہے یہی تمہارے بابا ابراہیم علیہ السّلام کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی مسلم اور اطاعت گزار رکھا ہے تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ رہے اور تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو لہذا اب تم نماز قائم کرو زکوِٰ اداکرو اور اللہ سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہوجاؤ کہ وہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے

سورہ مؤمنون

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) یقینا صاحبانِ ایمان کامیاب ہوگئے

(۲) جو اپنی نمازوں میں گڑگڑانے والے ہیں

(۳) اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں

(۴) اور زکوِ ادا کرنے والے ہیں

(۵) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

(۶) علاوہ اپنی بیویوں اور اپنے ہاتھوں کی ملکیت کنیزوں کے کہ ان کے معاملہ میں ان پر کوئی الزام آنے والا نہیں ہے

(۷) پھر اس کے علاوہ جو کوئی اور راستہ تلاش کرے گا وہ زیادتی کرنے والا ہوگا

(۸) اور جو مومنین اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں

(۹) اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں

(۱۰) درحقیقت یہی وہ وارثان هجنتّ ہیں

(۱۱) جو فردوس کے وارث بنیں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں

(۱۲) اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے

(۱۳) پھر اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بناکر رکھا ہے

(۱۴) پھر نطفہ کوعلقہ بنایا ہے اور پھر علقہ سے مضغہ پیدا کیا ہے اور پھر مضغہ سے ہڈیاں پیدا کی ہیں اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ہے پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے

(۱۵) پھر اس کے بعد تم سب مرجانے والے ہو

(۱۶) پھر اس کے بعد تم روز هقیامت دوبارہ اٹھائے جاؤ گے

(۱۷) اور ہم نے تمہارے اوپر تہ بہ تہ سات آسمان بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوقات سے غافل نہیں ہیں

(۱۸) اور ہم نے آسمان سے ایک مخصوص مقدار میں پانی نازل کیا ہے اور پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا ہے جب کہ ہم اس کے واپس لے جانے پر بھی قادر تھے

(۱۹) پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لئے خرمے اور انگور کے باغات پیدا کئے ہیں جن میں بہت زیادہ میوے پائے جاتے ہیں اور تم ان ہی میں سے کچھ کھا بھی لیتے ہو

(۲۰) اور وہ درخت پیدا کیا ہے جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے اس سے تیل بھی نکلتا ہے اور وہ کھانے والوں کے لئے سالن بھی ہے

(۲۱) اور بیشک تمہارے لئے ان جانوروں میں بھی عبرت کا سامان ہے کہ ہم ان کے شکم میں سے تمہارے سیراب کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سے بھی تم کھاتے ہو

(۲۲) اور تمہیں ان جانوروں پر اور کشتیوں پر سوار کیا جاتا ہے

(۲۳) اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ قوم والو خدا کی عبادت کرو کہ تمہارے لئے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے ہو

(۲۴) ان کی قوم کے کافر رؤسائ نے کہا کہ یہ نوح تمہارے ہی جیسے انسان ہیں جو تم پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ خدا چاہتا تو ملائکہ کو بھی نازل کرسکتا تھا. یہ تو ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی نہیں سنا ہے

(۲۵) درحقیقت یہ ایک ایسے انسان ہیں جنہیں جنون ہوگیا ہے لہذا چند دن ان کے حالات کا انتظار کرو

(۲۶) تو نوح نے دعا کی کہ پروردگار ان کی تکذیب کے مقابلہ میں میری مدد فرما

(۲۷) تو ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے اشارہ کے مطابق کشتی بناؤ اور پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابلنے لگے تو اسی کشتی میں ہر جوڑے میں سے دو دو کو لے لینا اور اپنے اہل کو لے کر روانہ ہوجانا علاوہ ان افراد کے جن کے بارے میں پہلے ہی ہمارا فیصلہ ہوچکا ہے اور مجھ سے ظلم کرنے والوں کے بارے میں گفتگو نہ کرنا کہ یہ سب غرق کردیئے جانے والے ہیں

(۲۸) اس کے بعد جب تم اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر اطمینان سے بیٹھ جانا تو کہنا کہ شکر ہے اس پروردگار کا جس نے ہم کو ظالم قوم سے نجات دلادی ہے

(۲۹) اور یہ کہنا کہ پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین اتارنے والا ہے

(۳۰) اس امر میں ہماری بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم تو بس امتحان لینے والے ہیں

(۳۱) اس کے بعد پھر ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا

(۳۲) اور ان میں بھی اپنے رسول کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تو کیا تم پرہیزگار نہ بنو گے

(۳۳) تو ان کی قوم کے ان رؤسائ نے جنہوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ہم نے انہیں زندگانی دنیا میں عیش و عشرت کا سامان دے دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ہی جیسا ایک بشر ہے جو تم کھاتے ہو وہی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی پیتا بھی ہے

(۳۴) اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوجاؤ گے

(۳۵) کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے

(۳۶) حیف صد حیف تم سے کس بات کا وعدہ کیا جارہا ہے

(۳۷) یہ تو صرف ایک زندگانی دنیا ہے جہاں ہم مریں گے اور جئیں گے اور دوبارہ زندہ ہونے والے نہیں ہیں

(۳۸) یہ ایک ایسا آدمی ہے جو خدا پر بہتان باندھتا ہے اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

(۳۹) اس رسول نے کہا کہ پروردگار تو ہماری مدد فرما کہ یہ سب ہماری تکذیب کررہے ہیں

(۴۰) ارشاد ہوا کہ عنقریب یہ لوگ پشیمان ہوجائیں گے

(۴۱) نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک برحق چنگھاڑنے اپنی گرفت میں لے لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا کہ ظالم قوم کے لئے ہلاکت اور بربادی ہی ہے

(۴۲) پھر اس کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو ایجاد کیا

(۴۳) کوئی امتّ نہ اپنے مقررہ وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے

(۴۴) اس کے بعد ہم نے مسلسل رسول بھیجے اور جب کسی امتّ کے پاس کوئی رسول آیا تو اس نے رسول کی تکذیب کی اور ہم نے بھی سب کو عذاب کی منزل میں ایک کے پیچھے ایک لگادیا اور سب کو ایک افسانہ بناکر چھوڑ دیا کہ ہلاکت اس قوم کے لئے ہے جو ایمان نہیں لاتی ہے

(۴۵) پھر ہم نے موسٰی اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا

(۴۶) فرعون اور اس کے زعمائ مملکت کی طرف تو ان لوگوں نے بھی استکبار کیا اور وہ تو تھے ہی اونچے قسم کے لوگ

(۴۷) تو ان لوگوں نے کہہ دیا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں جب کہ ان کی قوم خود ہماری پرستش کررہی ہے

(۴۸) یہ کہہ کر دونوں کو جھٹلا دیا اور اس طرح ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئے

(۴۹) اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی کہ شاید اس طرح لوگ ہدایت حاصل کرلیں

(۵۰) اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو بھی اپنی نشانی قرار دیا اور انہیں ایک بلندی پر جہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی تھی اور چشمہ بھی تھا پناہ دی

(۵۱) اے میرے رسولو ! تم پاکیزہ غذائیں کھاؤ اور نیک کام کرو کہ میں تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہوں

(۵۲) اور تمہارا سب کا دین ایک دین ہے اور میں ہی سب کا پروردگار ہوں لہذا بس مجھ سے ڈرو

(۵۳) پھر یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور ہر گروہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اسی پر خوش اور مگن ہے

(۵۴) اب آپ انہیں ایک مدتّ کے لئے اسی گمراہی میں چھوڑ دیں

(۵۵) کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم جو کچھ مال اور اولاد دے رہے ہیں

(۵۶) یہ ان کی نیکیوں میں عجلت کی جاری ہے نہیں ہرگز نہیں انہیں تو حقیقت کا شعور بھی نہیں ہے

(۵۷) بیشک جو لوگ خوف پروردگار سے لرزاں رہتے ہیں

(۵۸) اور جو اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں

(۵۹) اور جو کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہیں بناتے ہیں

(۶۰) اور وہ لوگ جو بقدر امکان راسِ خدا میں دیتے رہتے ہیں اور انہیں یہ خوف لگا رہتا ہے کہ پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جانے والے ہیں

(۶۱) یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں اور سب کے آگے نکل جانے والے ہیں

(۶۲) اور ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا ہے

(۶۳) بلکہ ان کے قلوب اس کی طرف سے بالکل جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کے پاس دوسرے قسم کے اعمال ہیں جنہیں وہ انجام دے رہے ہیں

(۶۴) یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے مالداروں کو عذاب کی گرفت میں لے لیا تو اب سب فریاد کررہے ہیں

(۶۵) اب آج واویلا نہ کرو آج ہماری طرف سے کوئی مدد نہیں کی جائے گی

(۶۶) جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں واپس چلے جارہے تھے

(۶۷) اکڑتے ہوئے اور قصہّ کہتے اور بکتے ہوئے

(۶۸) کیا ان لوگوں نے ہماری بات پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی چیز آگئی ہے جو ان کے باپ دادا کے پاس بھی نہیں آئی تھی

(۶۹) یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا ہی نہیں ہے اور اسی لئے انکار کررہے ہیں

(۷۰) یا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول میں جنون پایا جاتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے

(۷۱) اور اگر حق ان کی خواہشات کا اتباع کرلیتا تو آسمان و زمین اور ان کے مابین جو کچھ بھی ہے سب برباد ہوجاتا بلکہ ہم نے ان کو ان ہی کا ذکر عطا کیا ہے اور یہ اپنے ہی ذکر سے اعراض کئے ہوئے ہیں

(۷۲) تو کیا آپ ان سے اپنا خرچ مانگ رہے ہیں ہرگز نہیں خدا کا دیا ہوا خراج آپ کے لئے بہت بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے

(۷۳) اور آپ تو انہیں سیدھے راستہ کی دعوت دینے والے ہیں

(۷۴) اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہیں وہ سیدھے راستہ سے ہٹے ہوئے ہیں

(۷۵) اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور ان کی تکلیف کو دور بھی کردیں تو بھی یہ اپنی سرکشی پر اڑے رہیں گے اور گمراہ ہی ہوتے جائیں گے

(۷۶) اور ہم نے انہیں عذاب کے ذریعہ پکڑا بھی مگر یہ نہ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی گڑگڑاتے ہیں

(۷۷) یہاں تک کہ ہم نے شدید عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اسی میں مایوس ہوکر بیٹھ رہے

(۷۸) وہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تم بہت کم شکریہ ادا کرتے ہو

(۷۹) اور اسی نے تمہیں ساری زمین میں پھیلادیا ہے اور اسی کی بارگاہ میں تم اکٹھا کئے جاؤ گے

(۸۰) وہی وہ ہے جو حیات وموت کا دینے والا ہے اور اسی کے اختیار میں دن اور رات کی آمدورفت ہے تو تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے ہو

(۸۱) بلکہ ان لوگوں نے بھی وہی کہہ دیا جو ان کے پہلے والوں نے کہا تھا

(۸۲) کہ اگر ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈی ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں

(۸۳) بیشک ایسا ہی وعدہ ہم سے بھی کیا گیا ہے اور ہم سے پہلے والوں سے بھی کیا گیا ہے لیکن یہ صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں

(۸۴) تو ذرا آپ پوچھئے کہ یہ زمین اور اس کی مخلوقات کس کے لئے ہے اگر تمہارے پاس کچھ بھی علم ہے

(۸۵) یہ فورا کہیں گے کہ اللہ کے لئے ہے تو کہئے کہ پھر سمجھتے کیوں نہیں ہو

(۸۶) پھر مزید کہئے کہ ساتوں آسمان اور عرش اعظم کامالک کون ہے

(۸۷) تو یہ پھر کہیں گے کہ اللہ ہی ہے تو کہئے کہ آخر اس سے ڈرتے کیوں نہیں ہو

(۸۸) پھر کہئے کہ ہر شے کی حکومت کس کے اختیار میں ہے کہ وہی پناہ دیتا ہے اور اسی کے عذاب سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے اگر تمہارا پاس کوئی بھی علم ہے

(۸۹) تو یہ فورا جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کے لئے ہے تو کہئے کہ آخر پھر تم پر کون سا جادو کیا جارہا ہے

(۹۰) بلکہ ہم ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یہ سب جھوٹے ہیں

(۹۱) یقینا خدا نے کسی کو فرزند نہیں بنایا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے ورنہ ہر خدا اپنی مخلوقات کو لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک دوسرے پر برتری کی فکر کرتا اور کائنات تباہ و برباد ہوجاتی-اللرُ ان تمام باتوں سے پاک و پاکیزہ ہے

(۹۲) وہ حاضر و غائب سب کا جاننے والا ہے اور ان سب کے شرک سے بلند و بالاتر ہے

(۹۳) اور آپ کہئے کہ پروردگار اگر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا ہے مجھے دکھا بھی دینا

(۹۴) تو پروردگار مجھے اس ظالم قوم کے ساتھ نہ قرار دینا

(۹۵) اور ہم جس عذاب کا ان سے وعدہ کررہے ہیں اسے آپ کو دکھادینے کی قدرت بھی رکھتے ہیں

(۹۶) اور آپ برائی کو اچھائی کے ذریعہ رفع کیجئے کہ ہم ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں

(۹۷) اور کہئے کہ پروردگار میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں

(۹۸) اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آجائیں

(۹۹) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹا دے

(۱۰۰) شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم ه برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے

(۱۰۱) پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ آپس میں کوئی ایک دوسرے کے حالات پوچھے گا

(۱۰۲) پھر جن کی نیکیوں کا پلہّ بھاری ہوگا وہ کامیاب اور نجات پانے والے ہوں گے

(۱۰۳) اور جن کی نیکیوں کا پلہّ ہلکا ہوگا وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے اور وہ جہنم ّ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں

(۱۰۴) جہنمّ کی آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور وہ اسی میں منہ بنائے ہوئے ہوں گے

(۱۰۵) کیا ایسا نہیں ہے کہ جب ہماری آیتیں تمہاری سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم ان کی تکذیب کیا کرتے تھے

(۱۰۶) وہ لوگ کہیں گے کہ پروردگار ہم پر بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ ہوگئے تھے

(۱۰۷) پروردگار اب ہمیں جہنمّ سے نکال دے اس کے بعد دوبارہ گناہ کریں تو ہم واقعی ظالم ہیں

(۱۰۸) ارشاد ہوگا کہ اب اسی میں ذلتّ کے ساتھ پڑے رہو اور بات نہ کرو

(۱۰۹) ہمارے بندوں میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جن کا کہنا تھا کہ پروردگار ہم ایمان لائے ہیں لہذا ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہم پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے

(۱۱۰) تو تم لوگوں نے ان کو بالکل مذاق بنالیا تھا یہاں تک کہ اس مذاق نے تمہیں ہماری یاد سے بالکل غافل بنادیا اور تم ان کا مضحکہ ہی اڑاتے رہ گئے

(۱۱۱) آج کے دن ہم نے ان کو یہ جزا دی ہے کہ وہ سراسر کامیاب ہیں

(۱۱۲) پھر خدا پوچھے گا کہ تم روئے زمین پر کتنے سال رہے

(۱۱۳) وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا اس کا بھی ایک ہی حصہّ اسے تو شمار کرنے والوں سے دریافت کرلے

(۱۱۴) ارشاد ہوگا کہ بیشک تم بہت مختصر رہے ہو اور کاش تمہیں اس کا ادراک ہوتا

(۱۱۵) کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤ گے

(۱۱۶) پس بلند و بالا ہے وہ خدا جو بادشاہ برحق ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عرش کریم کا پروردگار ہے

(۱۱۷) اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے گا جس کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے تو اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور کافروں کے لئے نجات بہرحال نہیں ہے

(۱۱۸) اور پیغمبر علیہ السّلام آپ کہئے کہ پروردگار میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم کر کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے