قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں  0%

قرآن کریم اردو میں  : مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات: متن قرآن اور ترجمہ

قرآن کریم اردو میں

: مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات:

مشاہدے: 7417
ڈاؤنلوڈ: 1112

تبصرے:

قرآن کریم اردو میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 82 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7417 / ڈاؤنلوڈ: 1112
سائز سائز سائز
قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں

اردو

سورہ صافات

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) باقاعدہ طور پر صفیں باندھنے والوں کی قسم

(۲) پھر مکمل طریقہ سے تنبیہ کرنے والوں کی قسم

(۳) پھر ذکر خدا کی تلاوت کرنے والوں کی قسم

(۴) بیشک تمہارا خدا ایک ہے

(۵) وہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کی تمام چیزوں کا پروردگار اور ہر مشرق کا مالک ہے

(۶) بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین بنادیا ہے

(۷) اور انہیں ہر سرکش شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنادیا ہے

(۸) کہ اب شیاطین عالم بالا کیباتیں سننے کی کوشش نہیں کرسکتے اور وہ ہر طرف سے مارے جائیں گے

(۹) ہنکانے کے لئے اور ان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہے

(۱۰) علاوہ اس کے جو کوئی بات اچک لے تو اس کے پیچھے آگ کا شعلہ لگ جاتا ہے

(۱۱) اب ذرا ان سے دریافت کرو کہ یہ زیادہ دشوار گزار مخلوق ہیں یا جن کو ہم پیدا کرچکے ہیں ہم نے ان سب کو ایک لسدار مٹی سے پیدا کیا ہے

(۱۲) بلکہ تم تعجب کرتے ہو اور یہ مذاق اڑاتے ہیں

(۱۳) اور جب نصیحت کی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے ہیں

(۱۴) اور جب کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو مسخرا پن کرتے ہیں

(۱۵) اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے

(۱۶) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو کیا دوبارہ اٹھائیں جائیں گے

(۱۷) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ کئے جائیں گے

(۱۸) کہہ دیجئے کہ بیشک اور تم ذلیل بھی ہوگے

(۱۹) یہ قیامت تو صرف ایک للکار ہوگی جس کے بعد سب دیکھنے لگیں گے

(۲۰) اور کہیں گے کہ ہائے افسوس یہ تو قیامت کا دن ہے

(۲۱) بیشک یہی وہ فیصلہ کا دن ہے جسے تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے

(۲۲) فرشتو ذرا ان ظلم کرنے والوں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور خدا کے علاوہ جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے سب کو اکٹھا تو کرو

(۲۳) اور ان کے تمام معبودوں کو اور ان کو جہّنم کا راستہ تو بتادو

(۲۴) اور ذرا ان کو ٹہراؤ کہ ابھی ان سے کچھ سوال کیا جائے گا

(۲۵) اب تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ہو

(۲۶) بلکہ آج تو سب کے سب سر جھکائے ہوئے ہیں

(۲۷) اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کررہے ہیں

(۲۸) کہتے ہیں کہ تم ہی تو ہو جو ہماری داہنی طرف سے آیا کرتے تھے

(۲۹) وہ کہیں گے کہ نہیں تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے

(۳۰) اور ہماری تمہارے اوپر کوئی حکومت نہیں تھی بلکہ تم خود ہی سرکش قوم تھے

(۳۱) اب ہم سب پر خدا کا عذاب ثابت ہوگیا ہے اور سب کو اس کا مزہ چکھنا ہوگا

(۳۲) ہم نے تم کو گمراہ کیا کہ ہم خود ہی گمراہ تھے

(۳۳) تو آج کے دن سب ہی عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے

(۳۴) اور ہم اسی طرح مجرمین کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے ہیں

(۳۵) ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو اکڑ جاتے تھے

(۳۶) اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک مجنون شاعر کی خاطر اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں گے

(۳۷) حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والا تھا

(۳۸) بیشک تم سب دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو

(۳۹) اور تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گا

(۴۰) علاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے

(۴۱) کہ ان کے لئے معین رزق ہے

(۴۲) میوے ہیں اور وہ باعزت طریقہ سے رہیں گے

(۴۳) نعمتوں سے بھری ہوئی جنّت میں

(۴۴) آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوئے

(۴۵) ان کے گرد صاف شفاف شراب کا دور چل رہا ہوگا

(۴۶) سفید رنگ کی شراب جس میں پینے والے کو لطف آئے

(۴۷) اس میں نہ کوئی درد سر ہو اور نہ ہوش و حواس گم ہونے پائیں

(۴۸) اور ان کے پاس محدود نظر رکھنے والی کشادہ چشم حوریں ہوں گی

(۴۹) جن کا رنگ و روغن ایسا ہوگا جیسے چھپائے ہوئے انڈے رکھے ہوئے ہوں

(۵۰) پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کریں گے

(۵۱) تو ان میں کا ایک کہے گا کہ دار دنیا میں ہمارا ایک ساتھی بھی تھا

(۵۲) وہ کہا کرتا تھا کہ کیاتم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں ہو

(۵۳) کیا جب مرکر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا

(۵۴) کیا تم لوگ بھی اسے دیکھو گے

(۵۵) یہ کہہ کہ نگاہ ڈالی تو اسے بیچ جہّنم میں دیکھا

(۵۶) کہا کہ خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے بھی ہلاک کردیتا

(۵۷) اور میرے پروردگار کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی یہیں حاضر کردیا جاتا

(۵۸) کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اب مرنے والے نہیں ہیں

(۵۹) سوائے پہلی موت کے اور ہم پر عذاب ہونے والا بھی نہیں ہے

(۶۰) یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے

(۶۱) اسی دن کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے

(۶۲) ذرا بتاؤ کہ یہ ن نعمتیں مہمانی کے واسطے بہتر ہیں یا تھوہڑ کا درخت

(۶۳) جسے ہم نے ظالمین کی آزمائش کے لئے قرار دیا ہے

(۶۴) یہ ایک درخت ہے جوجہّنم کی تہہ سے نکلتا ہے

(۶۵) اس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے شیطانوں کے سر

(۶۶) مگر یہ جہنّمی اسی کو کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

(۶۷) پھر ان کے پینے کے لئے گرما گرم پانی ہوگا جس میں پیپ وغیرہ کی آمیزش ہوگی

(۶۸) پھر ان سب کا آخری انجام جہّنم ہوگا

(۶۹) انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا تھا

(۷۰) تو ان ہی کے نقش قدم پر بھاگتے چلے گئے

(۷۱) اور یقینا ان سے پہلے بزرگوں کی ایک بڑی جماعت گمراہ ہوچکی ہے

(۷۲) اور ہم نے ان کے درمیان ڈرانے والے پیغمبر علیہ السّلام بھیجے

(۷۳) تو اب دیکھو کہ جنہیں ڈرایا جاتا ہے ان کے نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے

(۷۴) علاوہ ان لوگوں کے جو اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں

(۷۵) اور یقینا نوح علیہ السّلام نے ہم کو آواز دی تو ہم بہترین قبول کرنے والے ہیں

(۷۶) اور ہم نے انہیں اور ان کے اہل کو بہت بڑے کرب سے نجات دے دی ہے

(۷۷) اور ہم نے ان کی اولاد ہی کو باقی رہنے والوں میں قرار دیا

(۷۸) اور ان کے تذکرہ کو آنے والی نسلوں میں برقرار رکھا

(۷۹) ساری خدائی میں نوح علیہ السّلام پر ہمارا سلام

(۸۰) ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں

(۸۱) وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے

(۸۲) پھر ہم نے باقی سب کو غرق کردیا

(۸۳) اور یقینا نوح علیہ السّلام ہی کے پیروکاروں میں سے ابراہیم علیہ السّلام بھی تھے

(۸۴) جب اللہ کی بارگاہ میں قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے

(۸۵) جب اپنے مربّی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کس کی عبادت کررہے ہو

(۸۶) کیا خدا کو چھوڑ کر ان خود ساختہ خداؤں کے طلب گار بن گئے ہو

(۸۷) تو پھر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے

(۸۸) پھر ابراہیم علیہ السّلام نے ستاروں میں وقت نظر سے کام لیا

(۸۹) اور کہا کہ میں بیمار ہوں

(۹۰) تو وہ لوگ منہ پھیر کر چلے گئے

(۹۱) اور ابراہیم علیہ السّلام نے ان کے خداؤں کی طرف رخ کرکے کہا کہ تم لوگ کچھ کھاتے کیوں نہیں ہو

(۹۲) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ بولتے بھی نہیں ہو

(۹۳) پھر ان کی مرمت کی طرف متوجہ ہوگئے

(۹۴) تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے ابراہیم علیہ السّلام کے پاس آئے

(۹۵) تو ابراہیم علیہ السّلام نے کہا کہ کیا تم لوگ اپے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرتے ہو

(۹۶) جب کہ خدا نے تمہیں اور ان کو سبھی کو پیدا کیا ہے

(۹۷) ان لوگوں نے کہا کہ ایک عمارت بناکر کر آگ جلا کر انہیں آگ میں ڈال دو

(۹۸) ان لوگوں نے ایک چال چلنا چاہی لیکن ہم نے انہیں پست اور ذلیل کردیا

(۹۹) اور ابراہیم علیہ السّلام نے کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جارہا ہوں کہ وہ میری ہدایت کردے گا

(۱۰۰) پروردگار مجھے ایک صالح فرزند عطا فرما

(۱۰۱) پھر ہم نے انہیں ایک نیک دل فرزند کی بشارت دی

(۱۰۲) پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے

(۱۰۳) پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا

(۱۰۴) اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم علیہ السّلام

(۱۰۵) تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں

(۱۰۶) بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے

(۱۰۷) اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے

(۱۰۸) اور اس کا تذکرہ آخری دور تک باقی رکھا ہے

(۱۰۹) سلام ہو ابراہیم علیہ السّلام پر

(۱۱۰) ہم اسی طرح حَسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں

(۱۱۱) بیشک ابراہیم علیہ السّلام ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

(۱۱۲) اور ہم نے انہیں اسحاق علیہ السّلام کی بشارت دی جو نبی اور نیک بندوں میں سے تھے

(۱۱۳) اور ہم نے ان پر اور اسحاق علیہ السّلام پر برکت نازل کی اور ان کی اولاد میں بعض نیک کردار اور بعض کِھلم کِھلا اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں

(۱۱۴) اور ہم نے موسٰی علیہ السّلام اور ہارون علیہ السّلام پر بھی احسان کیا ہے

(۱۱۵) اور انہیں اور ان کی قوم کو عظیم کرب سے نجات دلائی ہے

(۱۱۶) اور ان کی مدد کی ہے تو وہ غلبہ حاصل کرنے والوں میں ہوگئے ہیں

(۱۱۷) اور ہم نے انہیں واضح مطالب والی کتاب عطا کی ہے

(۱۱۸) اور دونوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت بھی دی ہے

(۱۱۹) اور ان کا تذکرہ بھی اگلی نسلوں میں باقی رکھا ہے

(۱۲۰) سلام ہو موسٰی علیہ السّلام اور ہارون علیہ السّلام پر

(۱۲۱) ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں

(۱۲۲) بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

(۱۲۳) اور یقینا الیاس علیہ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے

(۱۲۴) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ خدا سے کیوں نہیں ڈرتے ہو

(۱۲۵) کیا تم لوگ بعل کو آواز دیتے ہو اور بہترین خلق کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

(۱۲۶) جب کہ وہ اللہ تمہارے اور تمہارے باپ داد کا پالنے والا ہے

(۱۲۷) پھر ان لوگوں نے رسول کی تکذیب کی تو سب کے سب جہنمّ میں گرفتار کئے جائیں گے

(۱۲۸) علاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے

(۱۲۹) اور ہم نے ان کا تذکرہ بھی بعد کی نسلوں میں باقی رکھ دیا ہے

(۱۳۰) سلام ہو آل یاسین علیہ السّلام پر

(۱۳۱) ہم اسی طرح حسوُ عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں

(۱۳۲) بیشک وہ ہمارے باایمان بندوں میں سے تھے

(۱۳۳) اور لوط بھی یقینا مرسلین میں تھے

(۱۳۴) تو ہم نے انہیں اور ان کے تمام گھروالوں کو نجات دے دی

(۱۳۵) علاوہ ان کی زوجہ کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل ہوگئی تھی

(۱۳۶) پھر ہم نے سب کو تباہ و برباد بھی کردیا

(۱۳۷) تم ان کی طرف سے برابر صبح کو گزرتے رہتے ہو

(۱۳۸) اور رات کے وقت بھی تو کیا تمہیں عقل نہیں آرہی ہے

(۱۳۹) اور بیشک یونس علیہ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے

(۱۴۰) جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے

(۱۴۱) اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا

(۱۴۲) پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جب کہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کررہے تھے

(۱۴۳) پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے

(۱۴۴) تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے

(۱۴۵) پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جب کہ وہ مریض بھی ہوگئے تھے

(۱۴۶) اور ان پر ایک کدو کا درخت اُگادیا

(۱۴۷) اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا

(۱۴۸) تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے بھی ایک مدّت تک انہیں آرام بھی دیا

(۱۴۹) پھر اے پیغمبر ان کفار سے پوچھئے کہ کیا تمہارے پروردگار کے پاس لڑکیاں ہیں اور تمہارے پاس لڑکے ہیں

(۱۵۰) یا ہم نے ملائکہ کو لڑکیوں کی شکل میں پیدا کیا ہے اور یہ اس کے گواہ ہیں

(۱۵۱) آگاہ ہوجاؤ کہ یہ لوگ اپنی من گھڑت کے طور پر یہ باتیں بناتے ہیں

(۱۵۲) کہ اللہ کے یہاں فرزند پیدا ہوا ہے اور یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں

(۱۵۳) کیا اس نے اپنے لئے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا انتخاب کیا ہے

(۱۵۴) آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسا فیصلہ کررہے ہو

(۱۵۵) کیا تم غور و فکر نہیں کررہے ہو

(۱۵۶) یا تمہارے پاس اس کی کوئی واضح دلیل ہے

(۱۵۷) تو اپنی کتاب کو لے آؤ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو

(۱۵۸) اور انہوں نے خدا اور جّنات کے درمیان بھی رشتہ قرار دے دیا حالانکہ جّنات کو معلوم ہے کہ انہیں بھی خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا

(۱۵۹) خدا ان سب کے بیانات سے بلند و برتر اور پاک و پاکیزہ ہے

(۱۶۰) علاوہ خدا کے نیک اور مخلص بندوں کے

(۱۶۱) پھر تم اور جس کی تم پرستش کررہے ہو

(۱۶۲) سب مل کر بھی اس کے خلاف کسی کو بہکا نہیں سکتے ہو

(۱۶۳) علاوہ اس کے جس کو جہّنم میں جانا ہی ہے

(۱۶۴) اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقام معّین ہے

(۱۶۵) اور ہم اس کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہونے والے ہیں

(۱۶۶) اور ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں

(۱۶۷) اگرچہ یہ لوگ یہی کہا کرتے تھے

(۱۶۸) کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلے والوں کا تذکرہ ہوتا

(۱۶۹) تو ہم بھی اللہ کے نیک اور مخلص بندے ہوتے

(۱۷۰) تو پھر ان لوگوں نے کفر اختیار کرلیا تو عنقریب انہیں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا

(۱۷۱) اور ہمارے پیغامبربندوں سے ہماری بات پہلے ہی طے ہوچکی ہے

(۱۷۲) کہ ان کی مدد بہرحال کی جائے گی

(۱۷۳) اور ہمارا لشکر بہرحال غالب آنے والا ہے

(۱۷۴) لہذا آپ تھوڑے دنوں کے لئے ان سے منہ پھیر لیں

(۱۷۵) اور ان کو دیکھتے رہیں عنقریب یہ خود اپنے انجام کو دیکھ لیں گے

(۱۷۶) کیا یہ ہمارے عذاب کے بارے میں جلدی کررہے ہیں

(۱۷۷) تو جب وہ عذاب ان کے آنگن میں نازل ہوجائے گا تو وہ ڈرائی جانے والی قوم کی بدترین صبح ہوگی

(۱۷۸) اور آپ تھوڑے دنوں ان سے منہ پھیرلیں

(۱۷۹) اور دیکھتے رہیں عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے

(۱۸۰) آپ کا پروردگار جو مالک عزت بھی ہے ان کے بیانات سے پاک و پاکیزہ ہے

(۱۸۱) اور ہمارا سلام تمام مرسلین پر ہے

(۱۸۲) اور ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے

سورہ ص

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱)ص ۤ نصیحت والے قرآن کی قسم

(۲) حقیقت یہ ہے کہ یہ کفاّر غرور اور اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں

(۳) ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے پھر انہوں نے فریاد کی لیکن کوئی چھٹکارا ممکن نہیں تھا

(۴) اور انہیں تعجب ہے کہ ان ہی میں سے کوئی ڈرانے والا کیسے آگیا اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے

(۵) کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنادیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے

(۶) اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے

(۷) ہم نے تو اگلے دور کی امتوّں میں یہ باتیں نہیں سنی ہیں اور یہ کوئی خود ساختہ بات معلوم ہوتی ہے

(۸) کیا ہم سب کے درمیان تنہا ا ن ہی پر کتاب نازل ہوگئی ہے حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہماری کتاب میں شک ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ ابھی انہوں نے عذاب کا مزہ ہی نہیں چکھا ہے

(۹) کیا ان کے پاس آپ کے صاحبِ عزت و عطا پروردگار کی رحمت کا کوئی خزانہ ہے

(۱۰) یا ان کے پاس زمین و آسمان اور اس کے مابین کا اختیار ہے تو یہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں

(۱۱) تمام گروہوں میں سے ایک گروہ یہاں بھی شکست کھانے والا ہے

(۱۲) اس سے پہلے قوم نوح علیہ السّلام قوم عاد علیہ السّلام اور میخوں والا فرعون سب گزر چکے ہیں

(۱۳) اور ثمود, قوم لوط علیہ السّلام , جنگل والے لوگ یہ سب گروہ گزر چکے ہیں

(۱۴) ان میں سے ہر ایک نے رسول کی تکذیب کی تو ان پر ہمارا عذاب ثابت ہوگیا

(۱۵) یہ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ایک ایسی چنگھاڑ بلند ہوجائے جس سے ادنیٰ مہلت بھی نہ مل سکے

(۱۶) اور یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہمارا قسمت کا لکھا ہوا روزِ حساب سے پہلے ہی ہمیں دیدے

(۱۷) آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد علیہ السّلام کو یاد کریں جو صاحب طاقت بھی تھے اور بیحد رجوع کرنے والے بھی تھے

(۱۸) ہم نے ان کے لئے پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح پروردگار کریں

(۱۹) اور پرندوں کو ان کے گرد جمع کردیا تھا سب ان کے فرمانبردار تھے

(۲۰) اور ہم نے ان کے ملک کو مضبوط بنادیا تھا اور انہیں حکمت اور صحیح فیصلہ کی قوت عطا کردی تھی

(۲۱) اور کیا آپ کے پاس ان جھگڑا کرنے والوں کی خبر آئی ہے جو محراب کی دیوار پھاند کر آگئے تھے

(۲۲) کہ جب وہ داؤد علیہ السّلام کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے خوف محسوس کیا اور ان لوگوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریق ہیں جس میں ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہے آپ حق کے ساتھ فیصلہ کردیں اور ناانصافی نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت کردیں

(۲۳) یہ ہمارا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے رَنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور اس بات میں سختی سے کام لیتا ہے

(۲۴) داؤد علیہ السّلام نے کہا کہ اس نے تمہاری رَنبی کا سوال کرکے تم پر ظلم کیاہے اور بہت سے شرکائ ایسے ہی ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو صاحبان ایمان و عمل صالح ہیں اور وہ بہت کم ہیں اور داؤد علیہ السّلام نے یہ خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدہ میں گر پڑے اور ہماری طرف سراپا توجہ بن گئے

(۲۵) تو ہم نے اس بات کو معاف کردیا اور ہمارے نزدیک ان کے لئے تقرب اور بہترین بازگشت ہے

(۲۶) اے داؤد علیہ السّلام ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راسِ خدا سے منحرف کردیں بیشک جو لوگ راہ خدا سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روزِ حساب کو یکسر نظرانداز کردیا ہے

(۲۷) اور ہم نے آسمان اور زمین اور اس کے درمیان کی مخلوقات کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو صرف کافروں کا خیال ہے اور کافروں کے لئے جہّنم میں ویل کی منزل ہے

(۲۸) کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبانِ تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں

(۲۹) یہ ایک مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کریں

(۳۰) اور ہم نے داؤد علیہ السّلام کو سلیمان علیہ السّلام جیسا فرزند عطا کیا جو بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا

(۳۱) جب ان کے سامنے شام کے وقت بہترین اصیل گھوڑے پیش کئے گئے

(۳۲) تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہوگئے

(۳۳) تو انہوں نے کہا کہ اب انہیں واپس پلٹاؤ اس کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو ملنا شروع کردیا

(۳۴) اور ہم نے سلیمان علیہ السّلام کا امتحان لیا جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا تو پھر انہوں نے خدا کی طرف توجہ کی

(۳۵) اور کہا کہ پروردگار مجھے معاف فرما اور ایک ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لئے سزاوار نہ ہو کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے

(۳۶) تو ہم نے ہواؤں کو لَسخّر کردیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں

(۳۷) اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنادیا

(۳۸) اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

(۳۹) یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا

(۴۰) اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے

(۴۱) اور ہمارے بندے ایوب علیہ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے بڑی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے

(۴۲) تو ہم نے کہا کہ زمین پر پیروں کو رگڑو دیکھو یہ نہانے اور پینے کے لئے بہترین ٹھنڈا پانی ہے

(۴۳) اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کردیئے اور اتنے ہی اور بھی دیدئے یہ ہماری رحمت اور صاحبانِ عقل کے لئے عبرت و نصیحت ہے

(۴۴) اور ایوب علیہ السّلام تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مار دو اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب علیہ السّلام کو صابر پایا ہے - وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہے

(۴۵) اور پیغمبر علیہ السّلام ہمارے بندے ابراہیم علیہ السّلام , اسحاق علیہ السّلام اور یعقوب علیہ السّلام کا ذکر کیجئے جو صاحبانِ قوت اور صاحبانِ بصیرت تھے

(۴۶) ہم نے ان کو آخرت کی یاد کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا

(۴۷) اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک بندوں میں سے تھے

(۴۸) اور اسماعیل علیہ السّلام اور الیسع علیہ السّلام اور ذوالکفل علیہ السّلام کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب نیک بندے تھے

(۴۹) یہ ایک نصیحت ہے اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے بہترین بازگشت ہے

(۵۰) ہمیشگی کی جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے

(۵۱) وہاں تکیہ لگائے چین سے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور شراب طلب کریں گے

(۵۲) اور ان کے پہلو میں نیچی نظر والی ہمسن بیبیاں ہوں گی

(۵۳) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا روز قیامت کے لئے تم سے وعدہ کیا گیا ہے

(۵۴) یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے

(۵۵) یہ ایک طرف ہے اور سرکشوں کے لئے بدترین بازگشت ہے

(۵۶) جہّنم ہے جس میں یہ وارد ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے

(۵۷) یہ ہے عذاب اس کا مزہ چکھیں گرم پانی ہے اور پیپ

(۵۸) اور اسی قسم کی دوسری چیزیں بھی ہیں

(۵۹) یہ تمہاری فوج ہے اسے بھی تمہارے ہمرا ہ جہّنم میں ٹھونس دیا جائے گا خدا ان کا بھلا نہ کرے اور یہ سب جہّنم میں جلنے والے ہیں

(۶۰) پھر مرید اپنے پیروں سے کہیں گے تمہارا بھلا نہ ہو تم نے اس عذاب کو ہمارے لئے مہیاّ کیا ہے لہٰذا یہ بدترین ٹھکانا ہے

(۶۱) پھر مزید کہیں گے کہ خدایا جس نے ہم کو آگے بڑھایا ہے اس کے عذاب کو جہّنم میں دوگنا کردے

(۶۲) پھر خود ہی کہیں گے کہ ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں شریر لوگوں میں شمار کرتے تھے

(۶۳) ہم نے ناحق ان کا مذاق اڑایا تھا یا اب ہماری نگاہیں ان کی طرف سے پلٹ گئی ہیں

(۶۴) یہ اہل جہنمّ کا باہمی جھگڑا ایک امر برحق ہے

(۶۵) آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور خدائے واحد و قہار کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے

(۶۶) وہی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی مخلوقات کا پروردگار اور صاحبِ عزت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے

(۶۷) کہہ دیجئے کہ یہ قرآن بہت بڑی خبر ہے

(۶۸) تم اس سے اعراض کئے ہوئے ہو

(۶۹) مجھے کیا علم ہوتا کہ عالم بالا میں کیا بحث ہورہی تھی

(۷۰) میری طرف تو صرف یہ وحی آتی ہے کہ میں ایک کھلا ہوا عذاب الہٰی سے ڈرانے والا انسان ہوں

(۷۱) انہیں یاد دلائیے جب آپ کے پروردگار نے ملائکہ سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں

(۷۲) جب اسے درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب سجدہ میں گر پڑنا

(۷۳) تو تمام ملائکہ نے سجدہ کرلیا

(۷۴) علاوہ ابلیس کے کہ وہ اکڑ گیا اور کافروں میں ہوگیا

(۷۵) تو خدا نے کہا اے ابلیس تیرے لئے کیا شے مانع ہوئی کہ تو اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے تو نے غرور اختیار کیا یا تو واقعا بلند لوگوں میں سے ہے

(۷۶) اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے پیدا کیا ہے

(۷۷) ارشاد ہوا کہ یہاں سے نکل جا تو مررَود ہے

(۷۸) اور یقینا تیرے اوپر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے

(۷۹) اس نے کہا پروردگار مجھے روز قیامت تک کی مہلت بھی دیدے

(۸۰) ارشاد ہوا کہ تجھے مہلت دیدی گئی ہے

(۸۱) مگر ایک معّین وقت کے دن تک

(۸۲) اس نے کہا تو پھر تیری عزّت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا

(۸۳) علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنالیا ہے

(۸۴) ارشاد ہوا تو پھر حق یہ ہے اور میں تو حق ہی کہتا ہوں

(۸۵) کہ میں جہنمّ کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا

(۸۶) اور پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والا غلط بیان ہوں

(۸۷) یہ قرآن تو عالمین کے لئے ایک نصیحت ہے

(۸۸) اور کچھ دنوں کے بعد تم سب کو اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی