قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں  0%

قرآن کریم اردو میں  : مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات: متن قرآن اور ترجمہ

قرآن کریم اردو میں

: مولانا ذيشان حيدر جوادی
زمرہ جات:

مشاہدے: 7009
ڈاؤنلوڈ: 1083

تبصرے:

قرآن کریم اردو میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 82 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7009 / ڈاؤنلوڈ: 1083
سائز سائز سائز
قرآن کریم اردو میں

قرآن کریم اردو میں

اردو

سورہ مدثر

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) اے میرے کپڑا اوڑھنے والے

(۲) اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ

(۳) اور اپنے رب کی بزرگی کا اعلان کرو

(۴) اور اپنے لباس کو پاکیزہ رکھو

(۵) اور برائیوں سے پرہیز کرو

(۶) اور اس طرح احسان نہ کرو کہ زیادہ کے طلب گار بن جاؤ

(۷) اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو

(۸) پھر جب صور پھونکا جائے گا

(۹) تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہوگا

(۱۰) کافروں کے واسطے تو ہر گز آسان نہ ہوگا

(۱۱) اب مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے

(۱۲) اور اس کے لئے کثیر مال قرار دیا ہے

(۱۳) اور نگاہ کے سامنے رہنے والے بیٹے قرار دیئے ہیں

(۱۴) اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دے دی ہے

(۱۵) اور پھر بھی چاہتا ہے کہ اور اضافہ کردوں

(۱۶) ہرگز نہیں یہ ہماری نشانیوں کا سخت دشمن تھا

(۱۷) تو ہم عنقریب اسے سخت عذاب میں گرفتار کریں گے

(۱۸) اس نے فکر کی اور اندازہ لگایا

(۱۹) تو اسی میں مارا گیا کہ کیسا اندازہ لگایا

(۲۰) پھر اسی میں اور تباہ ہوگیا کہ کیسا اندازہ لگایا

(۲۱) پھر غور کیا

(۲۲) پھر تیوری چڑھا کر منہ بسور لیا

(۲۳) پھر منہ پھیر کر چلا گیا اور اکڑ گیا

(۲۴) اور آخر میں کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو پرانے زمانے سے چلا آرہا ہے

(۲۵) یہ تو صرف انسان کا کلام ہے

(۲۶) ہم عنقریب اسے جہنمّ واصل کردیں گے

(۲۷) اور تم کیا جانو کہ جہنمّ کیا ہے

(۲۸) وہ کسی کو چھوڑنے والا اور باقی رکھنے والا نہیں ہے

(۲۹) بدن کو جلا کر سیاہ کردینے والا ہے

(۳۰) اس پر انیس فرشتے معین ہیں

(۳۱) اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے

(۳۲) ہوشیار ہمیں چاند کی قسم

(۳۳) اور جاتی ہوئی رات کی قسم

(۳۴) اور روشن صبح کی قسم

(۳۵) یہ جہنمّ بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے

(۳۶) لوگوں کے ڈرانے کا ذریعہ

(۳۷) ان کے لئے جو آگے پیچھے ہٹنا چاہیں

(۳۸) ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے

(۳۹) علاوہ اصحاب یمین کے

(۴۰) وہ جنتوں میں رہ کر آپس میں سوال کررہے ہوں گے

(۴۱) مجرمین کے بارے میں

(۴۲) آخر تمہیں کس چیز نے جہنمّ میں پہنچادیا ہے

(۴۳) وہ کہیں گے کہ ہم نماز گزار نہیں تھے

(۴۴) اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے

(۴۵) لوگوں کے برے کاموں میں شامل ہوجایا کرتے تھے

(۴۶) اور روزِ قیامت کی تکذیب کیا کرتے تھے

(۴۷) یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی

(۴۸) تو انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش بھی کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی

(۴۹) آخر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں

(۵۰) گویا بھڑکے ہوئے گدھے ہیں

(۵۱) جو شیر سے بھاگ رہے ہیں

(۵۲) حقیقتا ان میں ہر آدمی اس بات کا خواہش مند ہے کہ اسے کِھلی ہوئی کتابیں عطا کردی جائیں

(۵۳) ہرگز نہیں ہوسکتا اصل یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے

(۵۴) ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے

(۵۵) اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے

(۵۶) اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے

سورہ قیامت

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں

(۲) اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں

(۳) کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے

(۴) یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں

(۵) بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے

(۶) وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے

(۷) تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی

(۸) اور چاند کو گہن لگ جائے گا

(۹) اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے

(۱۰) اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے

(۱۱) ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے

(۱۲) اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے

(۱۳) اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں

(۱۴) بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے

(۱۵) چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے

(۱۶) دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں

(۱۷) یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں

(۱۸) پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں

(۱۹) پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے

(۲۰) نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو

(۲۱) اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو

(۲۲) اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے

(۲۳) اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے

(۲۴) اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے

(۲۵) جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے

(۲۶) ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی

(۲۷) اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

(۲۸) اور مرنے والے کو خیال ہوگا کہ اب سب سے جدائی ہے

(۲۹) اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی

(۳۰) آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا

(۳۱) اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

(۳۲) بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا

(۳۳) پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا

(۳۴) افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے

(۳۵) حیف ہے اور صد حیف ہے

(۳۶) کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا

(۳۷) کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے

(۳۸) پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا

(۳۹) پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا

(۴۰) کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مفِدوں کو دوبارہ زندہ کرسکے

سورہ دہر (انسان)

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) یقینا انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا

(۲) یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے

(۳) یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے

(۴) بیشک ہم نے کافرین کے لئے زنجیریں - طوق اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کا انتظام کیا ہے

(۵) بیشک ہمارے نیک بندے اس پیالہ سے پئیں گے جس میں شراب کے ساتھ کافور کی آمیزش ہوگی

(۶) یہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے نیک بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے بہاکر لے جائیں گے

(۷) یہ بندے نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے

(۸) یہ اس کی محبت میں مسکینً یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں

(۹) ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ

(۱۰) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے بگڑ جائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی

(۱۱) تو خدا نے انہیں اس دن کی سختی سے بچالیا اور تازگی اور سرور عطا کردیا

(۱۲) اور انہیں ان کے صبر کے عوض جنّت اور حریر جنّت عطا کرے گا

(۱۳) جہاں وہ تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے نہ آفتاب کی گرمی دیکھیں گے اور نہ سردی

(۱۴) ان کے سروں پر قریب ترین سایہ ہوگا اور میوے بالکل ان کے اختیار میں کردیئے جائیں گے

(۱۵) ان کے گرد چاندی کے پیالے اور شیشے کے ساغروں کی گردش ہوگی

(۱۶) یہ ساغر بھی چاندی ہی کے ہوں گے جنہیں یہ لوگ اپنے پیمانہ کے مطابق بنالیں گے

(۱۷) یہ وہاں ایسے پیالے سے سیراب کئے جائیں گے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی

(۱۸) جو جنّت کا ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے

(۱۹) اور ان کے گرد ہمیشہ نوجوان رہنے والے بچے گردش کررہے ہوں گے کہ تم انہیں دیکھو گے تو بکھرے ہوئے موتی معلوم ہوں گے

(۲۰) اور پھر دوبارہ دیکھو گے تو نعمتیں اور ایک ملک کبیر نظر آئے گا

(۲۱) ان کے اوپر کریب کے سبز لباس اور ریشم کے حلّے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا پروردگار پاکیزہ شراب سے سیراب کرے گا

(۲۲) یہ سب تمہاری جزا ہے اور تمہاری سعی قابل قبول ہے

(۲۳) ہم نے آپ پر قرآن تدریجا نازل کیا ہے

(۲۴) لہذا آپ حکم اَ خدا کی خاطر صبر کریں اور کسی گنہگار یا کافر کی بات میں نہ آجائیں

(۲۵) اور صبح و شام اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرتے رہیں

(۲۶) اور رات کے ایک حصہ میں اس کا سجدہ کریں اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کرتے رہیں

(۲۷) یہ لوگ صرف دنیا کی نعمتوں کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے سنگین دن کو چھوڑے ہوئے ہیں

(۲۸) ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے اعضائ کو مضبوط بنایا ہے اور جب چاہیں گے تو انہیں بدل کر ان کے جیسے دوسرے افراد لے آئیں گے

(۲۹) یہ ایک نصیحت کا سامان ہے اب جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کے راستہ کو اختیار کرلے

(۳۰) اور تم لوگ تو صرف وہی چاہتے ہو جو پروردگار چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے

(۳۱) وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور اس نے ظالمین کے لئے دردناک عذاب مہیاّ کررکھا ہے

سورہ مرسلات

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) ان کی قسم جنہیں تسلسل کے ساتھ بھیجا گیا ہے

(۲) پھر تیز رفتاری سے چلنے والی ہیں

(۳) اور قسم ہے ان کی جو اشیائ کو منتشر کرنے والی ہیں

(۴) پھر انہیں آپس میں جدا کرنے والی ہیں

(۵) پھر ذ کر کو نازل کرنے والی ہیں

(۶) تاکہ عذر تمام ہو یا خوف پیدا کرایا جائے

(۷) جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بہرحال واقع ہونے والی ہے

(۸) پھر جب ستاروں کی چمک ختم ہوجائے

(۹) اور آسمانوں میں شگاف پیدا ہوجائے

(۱۰) اور جب پہاڑ اُڑنے لگیں

(۱۱) اور جب سارے پیغمبر علیہ السّلام ایک وقت میں جمع کرلئے جائیں

(۱۲) بھلا کس دن کے لئے ان باتوں میں تاخیر کی گئی ہے

(۱۳) فیصلہ کے دن کے لئے

(۱۴) اور آپ کیاجانیں کہ فیصلہ کا دن کیا ہے

(۱۵) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنمّ ہے

(۱۶) کیا ہم نے ان کے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کردیا ہے

(۱۷) پھر دوسرے لوگوں کو بھی ان ہی کے پیچھے لگادیں گے

(۱۸) ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں

(۱۹) اور آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے

(۲۰) کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ہے

(۲۱) پھر اسے ایک محفوظ مقام پر قرار دیا ہے

(۲۲) ایک معین مقدار تک

(۲۳) پھر ہم نے اس کی مقدار معین کی ہے تو ہم بہترین مقدار مقرر کرنے والے ہیں

(۲۴) آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہے

(۲۵) کیا ہم نے زمین کو ایک جمع کرنے والا ظرف نہیں بنایا ہے

(۲۶) جس میں زندہ مردہ سب کو جمع کریں گے

(۲۷) اور اس میں اونچے اونچے پہاڑ قرار دئے ہیں اور تمہیں شیریں پانی سے سیراب کیا ہے

(۲۸) آج جھٹلانے والوں کے لئے بربادی اور تباہی ہے

(۲۹) جاؤ اس طرف جس کی تکذیب کیا کرتے تھے

(۳۰) جاؤ اس دھوئیں کے سایہ کی طرف جس کے تین گوشے ہیں

(۳۱) نہ ٹھنڈک ہے اور نہ جہنمّ کی لپٹ سے بچانے والا سہارا

(۳۲) وہ ایسے انگارے پھینک رہا ہے جیسے کوئی محل

(۳۳) جیسے زرد رنگ کے اونٹ

(۳۴) آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی اور جہنمّ ہے

(۳۵) آج کے دن یہ لوگ بات بھی نہ کرسکیں گے

(۳۶) اور نہ انہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ عذر پیش کرسکیں

(۳۷) آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ّہے

(۳۸) یہ فیصلہ کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور تمام پہلے والوں کو اکٹھا کیا ہے

(۳۹) اب اگر تمہارے پاس کوئی چال ہو تو ہم سے استعمال کرو

(۴۰) آج تکذیب کرنے والوں کے لئے جہنم ّہے

(۴۱) بیشک متقین گھنی چھاؤں اور چشموں کے درمیان ہوں گے

(۴۲) اور ان کی خواہش کے مطابق میوے ہوں گے

(۴۳) اب اطمینان سے کھاؤ پیو ان اعمال کی بنا پر جو تم نے انجام دیئے ہیں

(۴۴) ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں

(۴۵) آج جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے

(۴۶) تم لوگ تھوڑے دنوں کھاؤ اور آرام کرلو کہ تم مجرم ہو

(۴۷) آج کے دن تکذیب کرنے والوں کے لئے ویل ہے

(۴۸) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو نہیں کرتے ہیں

(۴۹) تو آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے

(۵۰) آخر یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لے آئیں گے

سورہ نباء

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کررہے ہیں

(۲) بہت بڑی خبر کے بارے میں

(۳) جس کے بارے میں ان میں اختلاف ہے

(۴) کچھ نہیں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

(۵) اور خوب معلوم ہوجائے گا

(۶) کیا ہم نے زمین کا فرش نہیں بنایا ہے

(۷) اورپہاڑوں کی میخیں نہیں نصب کی ہیں

(۸) اور ہم ہی نے تم کوجوڑا بنایا ہے

(۹) اور تمہاری نیند کو آرام کا سامان قرار دیا ہے

(۱۰) اور رات کو پردہ پوش بنایا ہے

(۱۱) اور دن کو وقت معاش قراردیا ہے

(۱۲) اور تمہارے سروں پر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں

(۱۳) اور ایک بھڑکتا ہوا چراغ بنایا ہے

(۱۴) اور بادلوں میں سے موسلا دھار پانی برسایا ہے

(۱۵) تاکہ اس کے ذریعہ دانے اور گھاس برآمدکریں

(۱۶) اور گھنے گھنے باغات پیداکریں

(۱۷) بیشک فیصلہ کا دن معین ہے

(۱۸) جس دن صورپھونکا جائے گا اور تم سب فوج در فوج آؤ گے

(۱۹) اورآسمان کے راستے کھول دیئے جائیں گے اور دروازے بن جائیں گے

(۲۰) اورپہاڑوں کو جگہ سے حرکت دے دی جائے گی اوروہ ریت جیسے ہوجائیں گے

(۲۱) بیشک جہنم ان کی گھات میں ہے

(۲۲) وہ سرکشوں کا آخری ٹھکانا ہے

(۲۳) اس میں وہ مدتوں رہیں گے

(۲۴) نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا

(۲۵) علاوہ کھولتے پانی اورپیپ کے

(۲۶) یہ ان کے اعمال کامکمل بدلہ ہے

(۲۷) یہ لوگ حساب و کتاب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

(۲۸) اورانہوں نے ہماری آیات کی باقاعدہ تکذیب کی ہے

(۲۹) اور ہم نے ہر شے کو اپنی کتاب میں جمع کرلیا ہے

(۳۰) اب تم اپنے اعمال کا مزہ چکھو اورہم عذاب کے علاوہ کوئی اضافہ نہیں کرسکتے

(۳۱) بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے کامیابی کی منزل ہے

(۳۲) باغات ہیں اورانگور

(۳۳) نوخیز دوشیزائیں ہیں اورسب ہمسن

(۳۴) اور چھلکتے ہوئے پیمانے

(۳۵) وہاں نہ کوئی لغو بات سنیں گے نہ گناہ

(۳۶) یہ تمہارے رب کی طرف سے حساب کی ہوئی عطا ہے اور تمہارے اعمال کی جزا

(۳۷) وہ آسمان و زمین اوران کے مابین کاپروردگار رحمٰن ہے جس کے سامنے کسی کو بات کرنے کا یارا نہیں ہے

(۳۸) جس دن روح القدس اورملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے اورکوئی بات بھی نہ کرسکے گا علاوہ اس کے جسے رحمٰن اجازت دے دے اور ٹھیک ٹھیک بات کرے

(۳۹) یہی برحق دن ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنالے

(۴۰) ہم نے تم کو ایک قریبی عذاب سے ڈرایا ہے جس دن انسان اپنے کئے دھرے کو دیکھے گا اورکافرکہے گا کہ اے کاش میں خاک ہوگیا ہوت

سورہ نازعات

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) قسم ہے ان کی جو ڈوب کر کھینچ لینے والے ہیں

(۲) اور آسانی سے کھول دینے والے ہیں

(۳) اور فضا میں پیرنے والے ہیں

(۴) پھر تیز رفتاری سے سبقت کرنے والے ہیں

(۵) پھر امور کا انتظام کرنے والے ہیں

(۶) جس دن زمین کو جھٹکا دیا جائے گا

(۷) اور اس کے بعد دوسرا جھٹکا لگے گا

(۸) اس دن دل لرز جائیں گے

(۹) آنکھیں خوف سے جھکیِ ہوں گی

(۱۰) یہ کفاّر کہتے ہیں کہ کیا ہم پلٹ کر پھر اس دنیا میں بھیجے جائیں گے

(۱۱) کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے تب

(۱۲) یہ تو بڑے گھاٹے والی واپسی ہوگی

(۱۳) یہ قیامت تو بس ایک چیخ ہوگی

(۱۴) جس کے بعد سب میدان هحشر میں نظر آئیں گے

(۱۵) کیا تمہارے پاس موسٰی کی خبر آئی ہے

(۱۶) جب ان کے رب نے انہیں طویٰ کی مقدس وادی میں آواز دی

(۱۷) فرعون کی طرف جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے

(۱۸) اس سے کہو کیا یہ ممکن ہے تو پاکیزہ کردار ہوجائے

(۱۹) اور میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت کروں اور تیرے دل میں خوف پیدا ہوجائے

(۲۰) پھر انہوں نے اسے عظیم نشانی دکھلائی

(۲۱) تو اس نے انکار کردیا اور نافرمانی کی

(۲۲) پھر منہ پھیر کر دوڑ دھوپ میں لگ گیا

(۲۳) پھر سب کو جمع کیا اور آواز دی

(۲۴) اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں

(۲۵) تو خدا نے اسے دنیا و آخرت دونو ں کے عذاب کی گرفت میں لے لیا

(۲۶) اس واقعہ میں خوف خدا رکھنے والوں کے لئے عبرت کا سامان ہے

(۲۷) کیا تمہاری خلقت آسمان بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے کہ اس نے آسمان کو بنایا ہے

(۲۸) اس کی چھت کو بلند کیا اور پھر برابر کردیا ہے

(۲۹) اس کی رات کو تاریک بنایا ہے اور دن کی روشنی نکال دی ہے

(۳۰) اس کے بعد زمین کا فرش بچھایا ہے

(۳۱) اس میں سے پانی اور چارہ نکالا ہے

(۳۲) اور پہاڑوں کو گاڑ دیا ہے

(۳۳) یہ سب تمہارے اور جانوروں کے لئے ایک سرمایہ ہے

(۳۴) پھر جب بڑی مصیبت آجائے گی

(۳۵) جس دن انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا کیا ہے

(۳۶) اور جہنم کو دیکھنے والوں کے لئے نمایاں کردیا جائے گا

(۳۷) پھر جس نے سرکشی کی ہے

(۳۸) اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے

(۳۹) جہنم ّاس کا ٹھکانا ہوگا

(۴۰) اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے

(۴۱) تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے

(۴۲) پیغمبر لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا ٹھکانا کب ہے

(۴۳) آپ اس کی یاد کے بارے میں کس منزل پر ہیں

(۴۴) اس کے علم کی ا نتہائ آپ کے پروردگار کی طرف ہے

(۴۵) آپ تو صرف اس کا خوف رکھنے والوں کو اس سے ڈرانے والے ہیں

(۴۶) گویا جب وہ لوگ اسے دیکھیں گے تو ایسا معلوم ہوگاجیسے ایک شام یا ایک صبح دنیامیں ٹھہرے ہیں

سورہ عبس

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) اس نے منھ بسو رلیا اور پیٹھ پھیرلی

(۲) کہ ان کے پاس ایک نابیناآگیا

(۳) اور تمھیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ نفس ہوجاتا

(۴) یا نصیحت حاصل کرلیتا تو وہ نصیحت ا س کے کام آجاتی

(۵) لیکن جو مستغنی بن بیٹھا ہے

(۶) آپ اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں

(۷) حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر وہ پاکیزہ نہ بھی بنے

(۸) لیکن جو آپ کے پاس دوڑ کر آیاہے

(۹) اور وہ خوف خدا بھی رکھتاہے

(۱۰) آپ اس سے بے رخی کرتے ہیں

(۱۱) دیکھئے یہ قرآن ایک نصیحت ہے

(۱۲) جس کا جی چاہے قبول کرلے

(۱۳) یہ باعزّت صحیفوں میں ہے

(۱۴) جو بلند و بالا اور پاکیزہ ہے

(۱۵) ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں

(۱۶) جو محترم اور نیک کردار ہیں

(۱۷) انسان اس بات سے مارا گیا کہ کس قدر ناشکرا ہوگیا ہے

(۱۸) آخر اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے

(۱۹) اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر اس کا اندازہ مقرر کیا ہے

(۲۰) پھر اس کے لئے راستہ کو آسان کیا ہے

(۲۱) پھر اسے موت دے کر دفنا دیا

(۲۲) پھر جب چاہا دوبارہ زندہ کرکے اُٹھا لیا

(۲۳) ہرگز نہیں اس نے حکم خدا کو بالکل پورا نہیں کیا ہے

(۲۴) ذرا انسان اپنے کھانے کی طرف تو نگاہ کرے

(۲۵) بے شک ہم نے پانی برسایا ہے

(۲۶) پھر ہم نے زمین کو شگافتہ کیا ہے

(۲۷) پھر ہم نے اس میں سے دانے پیدا کئے ہیں

(۲۸) اور انگور اور ترکادیاں

(۲۹) اور زیتون اور کھجور

(۳۰) اور گھنے گھنے باغ

(۳۱) اور میوے اور چارہ

(۳۲) یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے سرمایہ حیات ہے

(۳۳) پھر جب کان کے پردے پھاڑنے والی قیامت آجائے گی

(۳۴) جس دن انسان اپنے بھائی سے فرار کرے گا

(۳۵) اور ماں باپ سے بھی

(۳۶) اور بیوی اور اولاد سے بھی

(۳۷) اس دن ہر آدمی کی ایک خاص فکر ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی

(۳۸) اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے

(۳۹) مسکراتے ہوئے کھلے ہوئے

(۴۰) اور کچھ چہرے غبار آلود ہوں گے

(۴۱) ان پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی

(۴۲) یہی لوگ حقیقتا کافر اور فاجر ہوں گے

سورہ تکویر

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) جب چادر آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا

(۲) جب تارے گر پڑیں گے

(۳) جب پہاڑ حرکت میں آجائیں گے

(۴) جب عنقریب جننے والی اونٹنیاں معطل کردی جائیں گی

(۵) جب جانوروں کو اکٹھا کیا جائے گا

(۶) جب دریا بھڑک اٹھیں گے

(۷) جب روحوں کو جسموں سے جوڑ دیا جائے گا

(۸) اور جب زندہ درگور لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا

(۹) کہ انہیں کس گناہ میں مارا گیا ہے

(۱۰) اور جب نامہ اعمال منتشر کردیئے جائیں گے

(۱۱) اور جب آسمان کا چھلکا اُتار دیا جائے گا

(۱۲) اور جب جہنمّ کی آگ بھڑکا دی جائے گی

(۱۳) اور جب جنّت قریب تر کردی جائے گی

(۱۴) تب ہر نفس کو معلوم ہوگا کہ اس نے کیا حاضر کیا ہے

(۱۵) تو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پلٹ جانے والے ہیں

(۱۶) چلنے والے اورحُھپ جانے والے ہیں

(۱۷) اور رات کی قسم جب ختم ہونے کو آئے

(۱۸) اور صبح کی قسم جب سانس لینے لگے

(۱۹) بے شک یہ ایک معزز فرشتے کا بیان ہے

(۲۰) وہ صاحبِ قوت ہے اور صاحبِ عرش کی بارگاہ کا مکین ہے

(۲۱) وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانت دار ہے

(۲۲) اور تمہارا ساتھی پیغمبر دیوانہ نہیں ہے

(۲۳) اور اس نے فرشتہ کو بلند اُفق پر دیکھا ہے

(۲۴) اور وہ غیب کے بارے میں بخیل نہیں ہے

(۲۵) اور یہ قرآن کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے

(۲۶) تو تم کدھر چلے جارہے ہو

(۲۷) یہ صرف عالمین کے لئے ایک نصیحت کا سامان ہے

(۲۸) جو تم میں سے سیدھا ہونا چاہے

(۲۹) اور تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگریہ کہ عالمین کا پروردگار خدا چاہے

سورہ انفطار

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) جب آسمان شگافتہ ہوجائے گا

(۲) اور جب ستارے بکھر جائیں گے

(۳) اور جب دریا بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے

(۴) اور جب قبروں کو اُبھار دیا جائے گا

(۵) تب ہر نفس کو معلوم ہوگا کہ کیا مقدم کیا ہے اور کیا موخر کیا ہے

(۶) اے انسان تجھے رب کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں رکھا ہے

(۷) اس نے تجھے پیدا کیا ہے اور پھر برابر کرکے متوازن بنایا ہے

(۸) اس نے جس صورت میں چاہاہے تیرے اجزائ کی ترکیب کی ہے

(۹) مگر تم لوگ جزا کا انکار کرتے ہو

(۱۰) اور یقینا تمہارے سروں پر نگہبان مقرر ہیں

(۱۱) جو باعزّت لکھنے والے ہیں

(۱۲) وہ تمہارے اعمال کو خوب جانتے ہیں

(۱۳) بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

(۱۴) اور بدکار افراد جہنم ّمیں ہوں گے

(۱۵) وہ روز جزا اسی میں جھونک دیئے جائیں گے

(۱۶) اور وہ اس سے بچ کر نہ جاسکیں گے

(۱۷) اور تم کیا جانو کہ جزا کا دن کیا شے ہے

(۱۸) پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہوتا ہے

(۱۹) اس دن کوئی کسی کے بارے میں کوئی اختیار نہ رکھتا ہوگا اور سارا اختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہوگ

سورہ مطففین

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) ویل ہے ان کے لئے جو ناپ تول میں کمی کرنے والے ہیں

(۲) یہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا مال لے لیتے ہیں

(۳) اور جب ان کے لئے ناپتے یا تولتے ہیں تو کم کردیتے ہیں

(۴) کیا انہیں یہ خیال نہیں ہے کہ یہ ایک روز دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں

(۵) بڑے سخت دن میں

(۶) جس دن سب رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے

(۷) یاد رکھو کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہوگا

(۸) اور تم کیا جو کہ سجین کیا ہے

(۹) ایک لکھا ہوا دفتر ہے

(۱۰) آج کے دن ان جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہے

(۱۱) جو لوگ روز جزا کا انکار کرتے ہیں

(۱۲) اور اس کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو حد سے گزر جانے والے گنہگار ہیں

(۱۳) جب ان کے سامنے آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں

(۱۴) نہیں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے

(۱۵) یاد رکھو انہیں روز قیامت پروردگار کی رحمت سے محجوب کردیا جائے گا

(۱۶) پھر اس کے بعد یہ جہنمّ میں جھونکے جانے والے ہیں

(۱۷) پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ ہے جس کا تم انکار رہے تھے

(۱۸) یاد رکھو کہ نیک کردار افراد کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا

(۱۹) اور تم کیا جانو کہ علیین کیا ہے

(۲۰) ایک لکھا ہوا دفتر ہے

(۲۱) جس کے گواہ ملائکہ مقربین ہیں

(۲۲) بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

(۲۳) تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کررہے ہوں گے

(۲۴) تم ان کے چہروں پر نعمت کی شادابی کا مشاہدہ کروگے

(۲۵) انہیں سربمہر خالص شراب سے سیراب کیا جائے گا

(۲۶) جس کی مہر مشک کی ہوگی اور ایسی چیزوں میں شوق کرنے والوں کو آپس میں سبقت اور رغبت کرنی چاہئے

(۲۷) اس شراب میں تسنیم کے پانی کی آمیزش ہوگی

(۲۸) یہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب بارگاہ بندے پانی پیتے ہیں

(۲۹) بے شک یہ مجرمین صاحبانِ ایمان کا مذاق اُڑایا کرتے تھے

(۳۰) اور جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تھے تو اشارے کنائے کرتے تھے

(۳۱) اور جب اپنے اہل کی طرف پلٹ کر آتے تھے تو خوش وخرم ہوتے تھے

(۳۲) اور جب مومنین کو دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ سب اصلی گمراہ ہیں

(۳۳) حالانکہ انہیں ان کا نگراں بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا

(۳۴) تو آج ایمان لانے والے بھی کفاّر کا مضحکہ اُڑائیں گے

(۳۵) تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے

(۳۶) اب تو کفار کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل رہا ہے

سورہ انشقاق

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

(۱) جب آسمان پھٹ جائے گا

(۲) اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گا اور یہ ضروری بھی ہے

(۳) اور جب زمین برابر کرکے پھیلا دی جائے گی

(۴) اور وہ اپنے ذخیرے پھینک کر خالی ہوجائے گی

(۵) اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گی اور یہ ضروری بھی ہے

(۶) اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کررہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا

(۷) پھر جس کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

(۸) اس کا حساب آسان ہوگا

(۹) اور وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی واپس آئے گا

(۱۰) اور جس کو نامہ اعمال پشت کی طرف سے دیا جائے گا

(۱۱) وہ عنقریب موت کی دعا کرے گا

(۱۲) اور جہنمّ کی آگ میں داخل ہوگا

(۱۳) یہ پہلے اپنے اہل و عیال میں بہت خوش تھا

(۱۴) اور اس کا خیال تھا کہ پلٹ کر خدا کی طرف نہیں جائے گا

(۱۵) ہاں اس کا پروردگار خوب دیکھنے والا ہے

(۱۶) میں شفق کی قسم کھا کر کہتا ہوں

(۱۷) اور رات اورجن چیزوں کو وہ ڈھانک لیتی ہے ان کی قسم

(۱۸) اور چاند کی قسم جب وہ پورا ہوجائے

(۱۹) کہ تم ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں مبتلا ہوگے

(۲۰) پھر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایمان نہیں لے آتے ہیں

(۲۱) اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے ہیں

(۲۲) بلکہ کفاّر تو تکذیب بھی کرتے ہیں

(۲۳) اور اللہ خوب جانتا ہے جو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں

(۲۴) اب آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں

(۲۵) علاوہ صاحبانِ ایمان و عمل صالح کے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر و ثواب ہے