مہدویت نامہ

مہدویت نامہ0%

مہدویت نامہ مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

مہدویت نامہ

مؤلف: مصنفین کی جماعت
زمرہ جات:

مشاہدے: 6092
ڈاؤنلوڈ: 745

تبصرے:

مہدویت نامہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 34 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6092 / ڈاؤنلوڈ: 745
سائز سائز سائز
مہدویت نامہ

مہدویت نامہ

مؤلف:
اردو

گیارہواں درس

ظہور

مقاصد:

۱ ۔ زمانہ ظہور میں حضرت کی حکومت کے مقاصد سے آگاہی

۲ ۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں سے زمانہ غیبت میں الہام لین

فوائد:

۱ ۔ ظہور کے وقت کو معین کرنے سے پرہیز اور وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانا

۲ ۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں کی معرفت

۳ ۔ ظہور کے لئے میلان اور اشتیاق پیدا ہون

تعلیمی مطالب:

۱ ۔ ظہور کا زمانہ اور وقت متعین کرنے سے منع کیا جانا

۲ ۔ زمانہ ظہور کے مخفی ہونے کا فلسفہ

۳ ۔ حضرت کے ظہور کے وقت کیا ہو گا

۴ ۔ زمانہ ظہور میں حضرت کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی مقاصد

ظہور

جس وقت ظہور کی باتیں ہوتی ہیں تو انسان کے دل میں ایک بہترین احساس پیدا ہوتا ہے گویا کسی نہر کے کنارے سرسبز و شاداب باغ میں بیٹھا ہوا ہے اور شیرین سخن بلبلوں کی آواز سن رہا ہے، جی ہاں خوبیوں کا ظہور، خوبیوں کی نشر و اشاعت، تھکی ماندی رُوح کو نشاط بخشتا ہے اور اُمیدواروں کی آنکھوں میں بجلی سی چمک اُٹھتی ہے۔ ہم یہاں حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور اور آپ علیہ السلام کے عینی حضور کے موقع پر ہونے والے واقعات کو بیان کریں گے اور اس بے مثال جمال کو غیبت کا پردہ اُٹھاتے ہوئے نظارہ کریں گے۔

ظہور کا زمانہ

ہمیشہ سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ پیدا ہوتارہا اور اب بھی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کب ظہور فرمائیں گے اور کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ اس سوال کا جواب معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ ہے کہ ظہور کا وقت معلوم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے نہ تو پہلے ظہور کے لئے کوئی وقت معین کیا ہے اور نہ ہی آئندہ وقت معین کریں گے“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۲۱۴ ، صفحہ ۶۲۴)

اس بنا پر جو لوگ ظہور کے لئے کوئی زمانہ معین کریں تو ایسے افراد فریب کار اور جھوٹے ہیں، جیسا کہ مختلف روایات میں اس بات کی تاکید ہوئی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپ علیہ السلام سے ظہور کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جولوگ ظلم کے خاتمہ کا وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں“۔

(غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۱۱۴ ، صفحہ ۵۲۴)

لہٰذا اس طرح کی روایات سے اچھی طرح یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں کے تحت امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے رہتے تھے اور ایسے افراد آئندہ بھی پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظہور کے وقت معین کرنے والوں کے سامنے خاموش نہ رہیں بلکہ ان کی تکذیب کی جائے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں : ”ظہور کے لئے وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانے میں کسی بھی طرح کی کوئی پرواہ نہیں کرو، کیونکہ ہم نے کسی کے سامنے ظہور کا وقت معین نہیں کیا “۔ (غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۴۱۴ ، صفحہ ۶۲۴)

وقت ظہور کے مخفی رہنے کا راز

جیسا کہ عرض ہو چکا ہے کہ خداوند حکیم کی مشیت کے پیش نظر ظہور کا وقت ہمارے لئے مخفی ہے، بے شک یہ بات کچھ حکمتوں کی بنا پر ہے جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اُمید کی کرن

جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انتظار کرنے والوں کے دلوں میں ہر وقت اُمید رہتی ہے اور اس اُمید کے ساتھ وہ ہمیشہ غیبت کے زمانہ کی پریشانیوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ واقعاً اگر گزشتہ صدیوں کے شیعوں سے کہا جاتا کہ تمہارے زمانہ میں امام علیہ السلام کا ظہور نہیں ہو گا بلکہ چند صدیوں کے بعد ظہور ہو گا تو پھر وہ کس اُمید کے ساتھ اپنے زمانہ کی مشکلات کا مقابلہ کرتے اور کس طرح زمانہ غیبت کے تنگ و تاریک راستہ کو صحیح و سالم طے کرتے؟

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور واسطے حالات کا ہموار کرنا

بے شک ”انتظار“ اسی صورت میں بہترین فعالیت اور کارکردگی کا باعث ہو سکتا ہے کہ جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو، کیونکہ اگر ظہور کا وقت معین ہو جائے تو پھر جن لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم ظہور کے زمانہ تک نہیں رہیں گے تو پھر ان کے اندر راستہ ہموار کرنے کا شوق نہیں رہے اور وہ (برائیوں کے سامنے) ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے،جبکہ ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انسان ہر وقت اس اُمید میں رہتا ہے کہ وہ ظہور کے زمانہ کو درک کرلے گا اور پھر اسی حوالے سے کوشش کرتا ہے تاکہ ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے اور پھر اپنے معاشرے کو صالح اور نیک معاشرہ میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتاہے۔ اس کے علاوہ وقت ظہور کے معین ہونے کی صورت میں اگر بعض مصلحتوں کی وجہ سے معین وقت پر ظہور نہ ہو، تو پھر بعض لوگ امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں (اور اس جملہ کی تکرار فرمائی) جس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام خدا کے بلانے پر تیس دن کے لئے اپنی قوم کے درمیان سے غیبت میںچلے گئے اوروقت بتا کر گئے بعد میں خداوند عالم نے ان تیس دن میں دس دن کا اضافہ کر دیاتو اس موقع پر جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا: موسیٰ نے اپنے وعدہ کو وفا نہیں کیا، لہٰذا ان کاموں کو انجام دینے لگے جن کو انجام نہیں دینا چاہیے تھا، (اور دین سے پھر گئے اور گوسالہ پرستی شروع کر دی) ۔

(غیبت نعمانی، باب ۶۱ ، ح ۳۱ ، صفحہ ۵۰۳)

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا آغاز

سب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب میں کیا کیا واقعات رونما ہوں گے، امام علیہ السلام کی تحریک کہاں سے اور کیسے شروع ہو گی؟ امام مہدی علیہ السلام اپنے مخالفوں سے کیسا سلوک کریں گے اور آخرکار آپ کسطرح پوری دُنیا پر غلبہ کریں گے اور تمام اہم امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میںکیسے لیں گے۔ یہ سوالات اور اسی طرح کے دوسرے سوالات ظہور کے مشتاق انسان کے ذہن میں آتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخری اُمیدِ بشریت کے ظہور کے واقعات کے بارے میں گفتگو کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات جو ابھی پیش نہیں آئے ہیں عام طور پر ان کے بارے میں مکمل اور دقیق اطلاع حاصل نہیں کی جا سکتی۔

لہٰذا ہم اس حصہ میں جو کچھ بیان کریں گے وہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے وہ واقعات ہیں جو متعدد کتابوں میں نقل ہوئے ہیں اور جن میں امام علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے واقعات کی ایک جھلک بیان ہوئی ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کےقیام کی کیفیت

جب ظلم و ستم اور تباہی دنیا کی صورت کو تاریک اور سیاہ کر دے گی اور جب ظالم و ستمگر لوگ اس وسیع زمین کو بُرائی کا میدان بنا دیں گے اور دُنیا بھر کے مظلوم ظلم و ستم سے پریشان ہو کر مدد کے لئے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کریں گے، اچانک آسمانی آواز رات کی تاریکیون کو کافور کر دے گی اور ماہِ خدا رمضان میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دے دی جائے گی۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ح ۷۱)

دل دھڑکنے لگیں گے اور آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی، رات بھر عیاشی کرنے والے صبح ایمان کے طلوع ے مضطرب اور پریشان راہ نجات تلاش کرتے ہوںگے اور امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین اپنے محبوب امام کی تلاش اور آپ کے ناصر و مددگاروں کے زمرے میں شامل ہونے کے لئے بے چین ہوں گے۔

اس موقع پر سفیانی جو کئی ملکوں پر قبضہ کرچکا ہو گا جیسے شام (سوریہ)، اردن، فلسطین، وہ امام سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر تیار کرلے گا۔ سفیانی کا لشکر جو امام علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے مدینہ سے مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہو گا لیکن جیسے ہی ”بیدائ“ نامی جگہ پر پہنچے گا تووہ لشکر زمین میں دھنس کر نابود ہو جائے گا۔ (بحارالانوار، جلد ۳۵ ، ح ۰۱) اور نفس زکیہ کے قتل ہو جانے کے کچھ ہی مدت بعد امام مہدی علیہ السلام ایک جوان مرد کی صورت میں مسجد الحرام میں ظہور فرمائیں گے۔ اس حال میں کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پیراہن زیب تن ہو گا اور رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)کا پرچم لئے ہوں گے اور خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے رکن و مقام کے درمیان ظہور کا ترانہ زمزمہ کرتے ہوں گے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا اور محمد و آل محمد پر دَرُود و سلام کے بعد خطاب فرمائیں: ”اے لوگو! ہم خداوند قدیر سے مدد طلب کرتے ہیں اور جو شخص دُنیا کے کسی بھی گوشے میں ہماری آواز پر لبیک کہے تو اسے نصرت و مدد کے لئے پکارتے ہیں، اور پھر اپنی اور اپنے خاندان کی پہچان کراتے ہوئے فرمائیں گہے:فَاللّٰه اللّٰه فِینَا لاٰ تَخدُلونَا وَ انصرُونا یَنصُرکُم اللّٰه تعالی ٰ ”ہمارے حقوق کی رعایت کے سلسلہ میں خدا کو نظر میں رکھو، اور ہمیں (عدالت قائم کرنے اور ظلم کرنے میںمقابلہ کا) تنہا نہ چھوڑو، ہماری مدد کرو اور خداوند عالم تمہاری مدد فرمائے گا“۔

امام علیہ السلام کی گفتگو تمام ہونے کے بعد اہل آسمان اہل زمین پر سبقت کریں گے اور گروہ در گروہ آ کر امام علیہ السلام کی بیعت کریں گے حالانکہ ان سے پہلے فرشتہ وحی جناب جبرئیل امام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے اور اس کے بعد ۳۱۳ زمین کے ستارے مختلف مقامات سے سرزمین وحی (یعنی مکہ معظمہ) میں جمع ہو کر امامت کے پُرنور سورج کے چاروں طرف حلقہ بنا لیں گے اور وفاداری کا عہد و پیمان باندھیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ دس ہزار جاں بکف سپاہیوں کا لشکر امام علیہ السلام کے لشکر گاہ میں جمع ہو جائے گا اور فرزند رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔

(غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، صفحہ ۷۶)

امام علیہ السلام اپنے انصار اور مومنین کے عظیم لشکر کے ساتھ پرچم قیام لہراتے ہوئے بہت تیزی سے مکہ اور قرب و جوار کے علاقوں پر مسلط ہو جائیں گے تاکہ انکے درمیان مہر و محبت اور عدالت قائم کریں اوران شہروں کے سرکش لوگوں کو مغلوب کریں گے، اس کے بعدمدینہ پہنچیں گے اور پھر وہاںسے عراق کا رُخ فرمائیں گے اور شہر کوفہ کو اپنی عالمی حکومت کا مرکز قرار دیں گے اور وہاں سے اس عظیم انقلاب کو ہدایت فرمائیںگے اور دُنیا والوں کو اسلام اور قوانین قرآن کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیں گے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی دعوت دیں گے اور اپنے نورانی ایمان کے پیکر سپاہیوں کو دُنیا کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ فرمائیں گے۔ امام علیہ السلام ایک ایک کرکے ظالموں کے عظیم مورچوں کو فتح کر لیں گے کیونکہ مومن اور وفادار انصار کے علاوہ ملائکہ بھی آپ کی مدد کریں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح اپنے لشکر کے رعب و ودبدبہ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ خداوند قدیر امام علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے لشکر کا خوف اس قدر دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا کہ کوئی بھی سرکش آپ کا مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرمایا:

”قائم آل محمد (علیہ السلام) کی دشمنوں کے دل میںخوف و وحشت او ررعب ودبدبہ کے ذریعہ مدد ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۶۱ ، صفحہ ۳۰۶)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے ذریعہ فتح ہونے والے علاقوں میں سے ”بیت المقدس“‘ بھی ہے ( روزگار رھائی، ج ۱ ، صفحہ ۴۵۵) جس کے بعد ایک بہت ہی مبارک واقعہ رونما ہو گا جس سے امام مہدی علیہ السلام کا انقلاب ایک اہم موڑ پر پہنچ جائے گا جس سے آپ کے محاذ انقلاب کو استحکام ملے گا، اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانا۔ کیونکہ قرآن کریم کے فرمان کے مطابق حصرت مسیح زندہ ہیں اور آسمان میں رہتے ہیں لیکن اس موقع پر زمین پر تشریف لائیں گے اور امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس طرح وہ سب کے سامنے اپنے اوپر شیعوں کے بارہویں امام علیہ السلام کی فضیلت اور برتری نیز امام مہدی علیہ السلام کی پیروی کا اعلان کریں گے۔

پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ”قسم اس خدا کی جس نے مجھے مبعوث کیا اور مجھے رحمة للعالمین بنایا، اگر دُنیا کی عمر کا ایک دن بھی بناقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ جس میں میرا فرزند مہدی علیہ السلام قیام کرے گا، اس کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) آئیں گے اور (امام) مہدی (علیہ السلام) کے پیچھے نماز پڑھیں گے“۔(بحارالانوار، ج ۱۵ ، صفحہ ۱۷) اس کام کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت سے عیسائیوں کو کہ جن کی تعداد دُنیا میں بہت ہو گی آخری ذخیرہ الٰہی اور شیعوں کے امام پر ایمان لانے کی ترغیب دیں گے، گویا خداوند عالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے ہی دن کے لئے زندہ رکھا ہے تاکہ حق طلب لوگوں کے لئے چراغ ہدایت قرار پا سکیں، البتہ ہادی برحق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ معجزات ظاہر ہونے اور بشریت کی رہنمائی کے لئے فکری اور عمیق علمی گفتگو کے مواقع فراہم کرنا امام علیہ السلام کے عظیم الشان انقلاب کے منصوبوں میں سے ہے تاکہ لوگوں کی ہدایت کا راستہ ہموار ہو جائے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام تحریف سے محفوظ (یہودیوں کی کتاب) توریت کی تختیوں کو زمین سے نکالیں گے ( روزگار رھائی، ج ۱ ، صفحہ ۲۲۵) اور جب یہودی ان تختیوں میں آپ علیہ السلام کی امامت کی نشانیاں دیکھیں گے اور عظیم الشان انقلاب کو دیکھنے، نیز امام علیہ السلام کے پیام حق کو سننے اور آپ کے معجزات کو دیکھ کروہ بھی گروہ در گروہ آپ کے ساتھ ملحق ہو جائین گے اور اس طرح خداوند عالم کا یقینی وعدہ پورا ہو جائے گا اور اسلام پوری دُنیا کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کر لے گا۔( هُوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدَی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظهِرَه عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَو کَرِهَالمُشرِکُو نَ ) (سورہ توبہ، آیت ۳۳)

”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔

قارئین کرام! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی مذکورہ تصویر کشی کے پیش نظر صرف ظالم اور ہٹ دھرم لوگ ہی باقی بچیں گے جو حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور یہ گروہ بھی مومنین کی اکثریت اور اس انقلاب کے مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا اور عدالت مہدیعلیہ السلام کی تلوار سے اپنے شرمناک اعمال کی سزا پائیں گے اور زمین اور اس پر رہنے والے ہمیشہ کے لئے شر و فساد سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جب تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ جائیں گے تو کائنات کو منور کرنے والا سورج طلوع ہو گا اور دشت و بیابان کی منتظر آنکھوں کو روشنی ملے گی۔جی ہاں! ظلم و ستم، برائیوں، تباہیوں اور بزدلی سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی اور عدالت مسند حکومت پر جلوہ افروز ہو گی تاکہ ہر چیز اور ہر شخص کو اس کی معین جگہ پر قرار دیا جائے اور ہر چیز کو اس کے حق کے لحاظ سے قرار دیا جائے گا چنانچہ یہ کائنات اور اس میں رہنے والے افراد ایک ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق و عدالت پر مبنی ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ ایسی حکومت جو خداوند عالم کے صفات جمال و جلال کی مظہر ہو گی اور اس کے زیر سایہ انسان اپنی تمام بھولی ہوئی آرزوں کو حاصل کر لے گا۔

قارئین کرام! ہم اس فصل میں چار موضوعات پر بحث کریں گے۔( ۱) امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے اغراض و مقاصد( ۲) امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی دستور العمل( ۳) اس عدل و انصاف کی حکومت کے ثمرات( ۴) اس حکومت کی خصوصیات۔

اغراض و مقاصد

چونکہ اس کائنات کی غرض خلقت، کمال کے درجات پر فائز ہونا اور تمام کمالات کے مرکز یعنی خداوند عالم سے قریب سے قریب تر ہونا ہے۔ اس عظیم تمنا تک پہنچنے کے لئے اس کے ضروری اسباب و وسائل فراہم ہونا چاہیے۔ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعلیٰ فرجہ الشریف) کی اس عالمی حکومت کا مقصد قرب الٰہی تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرنا اور اس راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔اگرچہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے اور اسکی ضرورتین بھی مادی اور معنوی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں لہٰذا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف حساب و کتاب سے قدم بڑھایا جائے اور ”عدالت“ چونکہ الٰہی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت ہے لہٰذا اس کے زیرِ سایہ انسان مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی معنوی اورمادی ترقی یافتہ ہوگی اورپورے معاشرہ میں عدالت قائم ہونے کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔

معنوی ترقی

مذکورہ اہم اہداف و مقاصد کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم طاغوت اور ظالم بادشاہوں کی حکومت میں انسانی زندگی کی تاریخ کا ایک مختصر سا جائزہ لیں۔

تاریخ بشریت میں (حجت الٰہی کی حکومت سے قطع نظر) معنویت اور معنوی اقدار کی کیا اہمیت ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ بشریت بھٹکی ہوئی ہے اور ہمیشہ برائیوں کے راستے پر گامزن ہے اور اپنے نفس اور شیطانی وسوسوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ہر خوبصورتی اور خوبیوں کو بھلا بیٹھی ہے اور ان کو خود اپنے ہی ہاتھوں شہوتوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے؟ پاکیزگی اور عفت، صداقت، تعاون اور نصرت، ایثار و بخشش اور نیکی و احسان کی جگہ ہوا پرستی، شہوت پرستی، جھوٹ، دھوکہ بازی، خود پرستی، عیب جوئی، خیانت، ظلم و ستم، زیادہ کی ہوس اور زیادہ طلبی ہے۔ ایک جملہ میں یوں کہا جائے کہ انسانی زندگی میں معنویت دم توڑتی جا رہی ہے بلکہ بہت سے مقامات پر اور بہت سے نام نہاد لوگوں کے اندر معنویت کے اثرات بھی ختم ہو چکے ہیں۔حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت انسان کے وجود میں اسی چیز کو زندہ کرنے کے لئے قدم اُٹھائیںگے اور مردہ انسان کو ایک نئی حیات عطا کرےں گے تاکہ مسجود ملائکہ کو حقیقی زندگی اور واقعی حیات کی شرینی مل جائے اور سب کو یہ یاد دہانی کرائےں کہ شروع ہی سے تقدیر یہی تھی کہ تم ایسے زمانہ میں زندگی بسر کرو گے اور پاکیزگی اور نیکیوں کے عطر کی خوشبو اپنی رُوح میں پاو گے۔( یَا اَیَُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا استَجِیبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحِییکُم. ) .. (سورہ انفال، آیت ۴۲)

”اے ایمان والو! اﷲ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے........“۔لہٰذا یہ معنوی حیات جس کی وجہ سے انسان حیوان سے الگ ہوتا ہے دراصل انسان کا اصلی وجود اور اہم حصہ ہے کیونکہ انسان اسی زندگی کی وجہ سے ”آدمی“ کہا جاتا ہے اور یہی زندگی انسان کو خداوند خالق سے نزدیک کرتی ہے اور اس کو ”مقام قرب“ پہنچا دیتی ہے۔ اس وجہ سے حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں انسان کا یہ پہلو اُجاگر ہو گا اور زندگی کے تمام پہلووں میں انسانی اقدار کی رونق اور شادابی ہو گی۔ صفا اور محبت، ایثار و وفا صدق و صداقت اور ہر اس چیز کا بول بالا ہو گا جس پر ”خوبی اور نیکی“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس عظیم الشان اور مقدس مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک گہرے منصوبہ کی ضرورت ہے کہ جس کو ہم آئندہ بیان کریں گے۔

عدالت میں وسعت دینا

ہر انسانی معاشرہ میں ظلم و ستم سب سے بڑا زخم رہا ہے۔ بشریت ہمیشہ مختلف مسائل میں اپنے حقوق تک پہچننے سے محروم رہی ہے اور کبھی بھی عالم بشریت میں مادی اور معنوی نعمتیں عدل و انصاف کے مطابق تقسیم نہیں ہوئی ہیں ہمیشہ شکم سیر لوگوں کے ساتھ ایک گروہ بھوکا رہا ہے، ہمیشہ بڑے بڑے محلوں کے آس پاس بہت سے لوگ راستوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے رہے ہیں، مال و دولت کی طاقت نے غریب اور محتاج لوگوں کو غلامی کی زنجیر میں کھینچا ہے اور گورو نے کالوں پر (صرف کالے ہونے کے جرم میں) ظلم و ستم کئے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہیں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ غریب اور کمزوروں کے حقوق، طاقتوروں اور مکاروں کے ذریعہ پامال ہوتے رہے ہیں، جبکہ انسان کی ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ ایک روز آئے کہ جب عدالت اور مساوات کا بولا بالا ہو، لہٰذا انسان ہمیشہ سے عدالت کی حکومت کے انتظار میں ہے۔ اس انتظار کی آخری حد امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا سبز زمانہ ہے، وہ سب سے عظیم عادل رہبر اور انصاف کرنے والے ہادی کے عنوان سے پوری دُنیا میں عدالت کو نافذ فرمائیں گے، چنانچہ اسی شیریں حقیقت کی بشارت متعدد روایات میں بیان ہوئی ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”اگر دُنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ ظلم وستم سے بھری ہو گی اور یہ بات میں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سنی ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۰۳ ، ح ۴ ، صفحہ ۴۸۵)

اس کے علاوہ دوسری دسیوں روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عالمی عدالت برقرار ہونے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی خبر دی گئی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ عدالت اور انصاف امام مہدی علیہ السلام کی وہ ممتاز خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بعض دُعاوں میں آپ کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے: اَللّٰہُمَّ وَ صل عَلٰی ولی امرک القائم المومل والعدلِ المنتظر (مفاتیح الجنان، دُعائے افتتاح)

”خداوندا! تیرا درود و سلام ہو تیرے ولی پر جو سب انتظار کرنے والوں کے لئے آرزو اور عدالت قائم کرنے والا ہے“۔جی ہاں! وہ عدالت و انصاف کو اپنے انقلاب کا عنوان قرار دے گا کیونکہ عدالت، ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حیات حقیقی کے راستہ کو ہموار کرتی ہے، کیونکہ زمین اور اس پر زندگی بسر کرنے والے عدالت کے بٍغیر ایسے مردہ اور بے رُوح ہیں جن کو زندہ شمار کیا جاتا ہے۔وہ زندہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے:( اعلَمُوا اَنَّ اللّٰهَ یُحِی الَاَرضَ بَعدَ مَوتِهَا ) ( سورہ حدید، آیت ۷۱)

”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے........“۔

”مقصد یہ نہیں کہ زمین کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا جائے بلکہ خداوند عالم کچھ مردوں (انسانوں) (دیگر روایات کے پیش نظر یہ آیت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور کے بارے میں تفسیر ہوئی ہے یہاں انسانوں سے مراد امام کے انصار و اصحاب ہیں) کو تحریک کرے گا جو عدالت کو زندہ (اور قائم) کریں گے پس (معاشرہ میں) عدل و انصاف کی رُوح کے ذریعہ زمین زندہ ہو جائے گی“۔”زمین کا زندہ ہونا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی (ع) کی عدالت عام عدالت ہو گی جو سب جگہ قائم ہو گی، نہ کہ بعض علاقوں میں اور بعض لوگوں کے لئے۔ دوسری روایات کے پیش نظر جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین مراد لئے گئے ہیں ان میں ”مَردوں“ سے مراد آپ کے ناصر و مددگار مراد ہیںکہ انہیں اٹھایا جائے گا۔

درس کا خلاصہ:

حضرت کازمانہ ظہور الٰہی ارادہ ظہور کی شرائط کے فراہم ہونے کے ساتھ مشروط ہے اسی لئے روایات میں اس کا وقت معین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

زمانہ ظہور کا مخفی رہنا بہت سی حکمتوں کا باعث ہے مثلاً اُمید افزاءاحساسات کا باقی رہنا اور ان کے ظہور کے شرائط فراہم کرنے کا عزم و ارادہ کا موجود رہتا بلکہ مسلسل بڑھتے رہنا۔

زمین پر ظلم و تباہی کا غلبہ ہوجانے کے بعد امام مہدی علیہ السلام الٰہی حکم سے ظہورفرمائیں گے اور سرزمین مکہ سے اپنی عالمی دعوت کا آغاز کریں گے۔

حضرت کی حکومت کے اہم ترین مقاصد میں سے دُنیا میں باطنی نورانیت کا بڑھنا اور ہر جہت سے عدالت کو وسعت دینا ہے۔

درس کا سوالات:

۱ ۔زمانہ ظہور کا مخفی رہنا کیسے ان کے ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے کے احساسات کو باقی رکھ سکتا ہے؟

۲ ۔ روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟

۳ ۔ روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟

۴ ۔ کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟