مہدویت نامہ

مہدویت نامہ0%

مہدویت نامہ مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

مہدویت نامہ

مؤلف: مصنفین کی جماعت
زمرہ جات:

مشاہدے: 6514
ڈاؤنلوڈ: 773

تبصرے:

مہدویت نامہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 34 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6514 / ڈاؤنلوڈ: 773
سائز سائز سائز
مہدویت نامہ

مہدویت نامہ

مؤلف:
اردو

چھٹا درس

امام مہدی علیہ السلام کا انتظار

مقاصد:

۱ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے آشنائی

۲ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ سے آگاہی

۳ ۔ غیبت کے مختلف ادوار سے آشنائی

فوائد:

۱ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظاہری حضور سے محروم ہونے کے بعض دلائل سے آشنائی

۲ ۔ ظہور امام علیہ السلام کے اسباب فراہم کرنے کےلئے کوشش وجدوجہدکا انگیزہ پیدا ہونا

۳ ۔ حضرتعلیہ السلام کی غیبت کے ادوار سے آگاہی

تعلیمی مطالب:

۱ ۔ غیبت کے مفہوم سے آگاہی

۲ ۔ غیبت کا تاریخچہ

۳ ۔ امام زمانہ (عج) کی غیبت کے اسباب

٭ لوگوں کو تنبیہ

٭ امتحان اور آزمائش

٭ امام کی جان کی حفاظت

٭ الٰہی اسرار میں سے ایک راز

۴ ۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ کے ادوار

غیبت

قارئین کرام! اب جبکہ منجی بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے الٰہی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے آخری الٰہی ذخیرہ حضرت حجة بن الحسن علیہ السلام کی شخصیت سے آشنا ہوگئے، اس وقت وحید الزمان کی غیبت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

غیبت کے معنی

سب سے پہلا نکتہ قابل ذکر یہ ہے کہ غیبت کے معنی ”آنکھوں سے مخفی ہونا“اورعدم پہچان ہے نہ کہ حاضر نہ ہونا، لہٰذا اس حصہ میں گفتگو اس زمانہ کی ہے جب امام مہدی علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، یعنی لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے جبکہ آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور ان کے درمیان زندگی بسر کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”قسم ہے خداوند عالم کی، حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، راستوں میں (کوچہ و بازار میں) موجود رہتی ہے، ان کے گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے، زمین پر مشرق سے مغرب تک آمدورفت کرتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے اور ان پر سلام بھیجتی ہے، وہ دیکھتی ہے لیکن آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں جب تک خدا کی مرضی اور اس کا وعدہ پورا نہ ہو“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۰۱ ، ح ۳ ، ص ۶۴۱)

اگرچہ امام مہدی ۰علیہ السلام کے لئے غیبت کی ایک دوسری قسم بھی بیان ہوئی ہے:امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے دوسرے نائب خاص بیان فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام حج کے دنوں میں ہر سال حاضر ہوتے ہیں، لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہیں، لوگ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵ ، باب ۳۲ ، ص ۲۵۱)

اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت دو طرح کی ہے: آپ علیہ السلام بعض مقامات پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور بعض مقامات پر آپ علیہ السلام لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں لیکن آپ علیہ السلام کی پہچان نہیں ہوتی، بہرحال امام مہدی علیہ السلام لوگوں کے درمیان حاضراور موجود رہتے ہیں۔

غیبت کی تاریخی حیثیت

غیبت اور مخفی طریقہ سے زندگی کرنا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار اور صرف امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہو بلکہ متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت سے انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کا ایک حصہ غیبت میں بسر ہوا ہے اور اُنہوں نے ایک مدت تک مخفی طریقہ سے زندگی کی ہے اور یہ چیز خداوند عالم کی مصلحت اور حکمت کی بنا پر تھی ، نہ کہ کسی ذاتی اور خاندانی مصلحت کی بنیاد پر۔غیبت ایک ”الٰہی سنت“ ( قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جیسے سورہ فتح، آیت ۳۲ ، اور سورہ اسراءآیت ۷۷) ” الٰہی سنت“ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جن کے پیش نظریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الٰہی سنت سے مراد خداوند عالم کے ثابت اور بنیادی قوانین ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آسکتی یہ قوانین گذشتہ قوموں میں نافذ تھے اور آج نیزموجودہیں اور آئندہ بھی نافذ رہیں گے۔ (تفسیر نمونہ، ج ۷۱ ، ص ۵۳۴ کا خلاصہ) ہے جو متعدد انبیاءعلیہم السلام کی زندگی میں دیکھی گئی ہے جیسے حضرت ادریس (ع)، حضرت نوح(ع)، حصرت صالح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت یوسف (ع)، حضرت موسیٰ (ع)، حضرت شعیب (ع)، حضرت الیاس (ع)، حضرت سلیمان (ع)، حضرت دانیال (ع) اور حضرت عیسٰی(ع) (علیہم السلام)، اور حالات کے پیش نظر ان تمام انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کئی سالوں تک غیبت (اور مخفی طریقہ) سے بسر ہوئی ہے۔

( کمال الدین، ج ۱ ، باب ۱ تا ۷ ، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳)

اسی وجہ سے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی روایتوں میں ”غیبت“ کو انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے جاری ہونے کو غیبت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”بے شک ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس کی مدت طویل ہو گی۔ راوی کہتا ہے: اے فرزند رسول! اس غیبت کی وجہ کیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں انبیاء(علیہم السلام) کی سنت آپ کے بارے میں (بھی) جاری رکھے“۔

(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۳ ، ص ۰۹)

قارئین کرام! مذکورہ گفتگو سے یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت کا مسئلہ بیان ہوتا رہا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) تا امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کی غیبت اور آپ علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں، نیز غیبت کے زمانہ میں مومنین کے فرائض بھی بیان کئے ہیں۔

(دیکھئے: منتخب الاثر، فصل ۲ ، باب ۶۲ تا ۹۲ ، ص ۲۱۳ تا ۰۴۳)

پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”مہدی (علیہ السلام) میری (ہی) نسل سے ہو گا اور وہ غیبت میں رہے گا، لوگوں کی حیرانی (و پریشانی) اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے اور پھر (جب حکم خدا ہو گا) چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح ظلم و جور سے زمین بھری ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۵۲ ، ح ۴ ، ص ۶۳۵)

غیبت کا فلسفہ

سوال یہ ہے کہ کیوں ہمارے بارہویں امام اور حجت خدا غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ظہور کی برکتوں سے محروم ہیں؟

قارئین کرام! اس سلسلہ میں گفتگو تفصیل سے احادیث میں ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بہت سی روایات بھی موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مذکورہ سوال کا جواب پیش کرنے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خداوند عالم کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے ہم ان مصلحتوں کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، نیز کائنات کر ہر چھوٹااور بڑا واقعہ خداوند عالم کی تدبیر اور اسی کے ارادہ سے انجام پاتا ہے جن میں سے مہم ترین واقعہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مسئلہ ہے، لہٰذا آپ کی غیبت کا مسئلہ بھی حکمت و مصلحت کے مطابق ہے اگرچہ ہم اس کے فلسفہ کو نہ جانتے ہوں۔

سرّ الٰہی

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”بے شک صاحب العصر (علیہ السلام) کے لئے ایسی غیبت ہو گی جس میں ہر اہل باطل شک و تردید کا شکار ہو جائے گا“۔

راوی نے آپ کی غیبت کی وجہ معلوم کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

”غیبت کی وجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم تمہارے سامنے بیان نہیں کر سکتے........ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے، لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم صاحب حکمت ہے کہ جس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اگرچہ ہمیں ان کی وجوہات کا علم نہ ہو“۔

(کمال الدین، ج ۱ ، باب ۴۴ ، ص ۴۰۲)

اگرچہ اکثر مقامات پر انسان خداوند عالم کے کاموں کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے، لیکن پھر بھی بعض حقائق کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس حقیقت کے فلسفہ کو جان لینے سے سے مزید مطمئن ہو جائے، چنانچہ اسی اطمینان کی خاطر ہم امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی حکمت اور اس کے آثار پر تحقیق و تجزیہ شروع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عوام کی تادیب

جب اُمت اپنے نبی یا امام کی قدر نہ کرے اور اپنے فرائض کو انجام نہ دے بلکہ اس کی نافرمانی کرے تو پھر خداوند عالم کے لئے یہ بات روا ہے کہ ان کے رہبر اور ہادی کو ان سے الگ کر دے تاکہ وہ اس کی جدائی کی صورت میں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اس کے وجود کی قدر و قیمت اور برکت کو پہچان لیں، لہٰذا اس صورت میں امام کی غیبت اُمت کی مصلحت میں ہے اگرچہ ان کو معلوم نہ ہو اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:”جب خداوند عالم کسی قوم میں ہمارے وجود اور ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو پھر ہمیں ان سے جدا کر لیتا ہے“۔ (علل الشرائع، باب ۹۷۱ ، ص ۴۴۲)

دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا

جو لوگ کسی جگہ کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ اپنے انقلاب کی ابتداءمیں اپنے بعض مخالفوں سے عہد و پیمان باندھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں، لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان اصلاح کرنے والے ہیں جو اپنے انقلاب اور عالمی عادلانہ حکومت کے لئے کسی بھی ظالم و ستمگر سے کسی طرح کی کوئی موافقت نہیں کریں گے کیونکہ بہت سی روایات کے مطابق آپ کو سب ظالموں سے یقینی طور پر ظاہر بظاہر مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے جب تک اس انقلاب کا راستہ ہموار نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ غیبت میں رہیں گے تاکہ آپ کو دشمنان خدا سے عہد و پیمان نہ کرنا پڑے۔

غیبت کی وجہ بارے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:

”اس وقت جبکہ (امام مہدی علیہ السلام) تلوارکے ذریعہ قیام فرمائیں گے تو آپ کا کسی کے ساتھ عہد و پیمان نہ ہو گا“۔(کمال الدین، ج ۲ ، باب ۴۴ ، ص ۲۳۲)

لوگوں کا امتحان

لوگوں کا امتحان کرنا خداوند عالم کی ایک سنت ہے، وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ راہ حق میں ان کے ثابت قدم کی وضاحت ہو جائے، اگرچہ اس امتحان کا نتیجہ خداوند عالم کو معلوم ہوتا ہے لیکن اس امتحان کی بھٹی میں بندوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اوروہ اپنے وجود کے جوہر کو پہچان لیتے ہیں۔حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:”جب میرا پانچواں فرزند غائب ہو گا، تو تم لوگ اپنے دین کی حفاظت کرتا تاکہ کوئی تمہیں دین سے خارج نہ کر پائے، کیونکہ صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس میں اس کے (بعض) ماننے والے اپنے عقیدہ سے پھر جائیں گے اور اس غیبت کے ذریعہ خداوند عالم اپنے بندوں کا امتحان کرے گا“۔ (غیبت شیخ طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۵ ، ح ۴۸۲ ، ص ۷۳۲)

امام کی حفاظت

انبیاءعلیہم السلام کے اپنی قوم سے جدا ہونے کی ایک وجہ اپنی جان کی حفاظت تھی، یہ حضرات اس وجہ سے خطرناک موقع پر مخفی ہو جاتے تھے تاکہ ایک مناسب موقع پر اپنی رسالت اور ذمہ داری کو پہنچا سکیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) مکہ معظمہ سے نکل کر ایک غار میں مخفی ہو گئے،یا کچھ دنوں کے لئے طائف چلے گئے، البتہ یہ سب خداوند عالم کے حکم اور اس کے ارادہ سے ہوتا تھا۔حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور آپ علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی متعدد روایات یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”امام منتظر اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں گے“۔جب امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ معلوم کی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:”انہیں اپنی جان کا خطرہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، ح ۷ ، ص ۳۳۲)

شہادت کی تمنا

اگرچہ شہادت کی تمنا خدا کے سب نیک بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے لیکن ایسی شہادت جو دین اور معاشرہ کی اصلاح اور اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے ہو لیکن اگر اسکا قتل ہونا ضیاع اور بڑے مقاصد کے خاتمہ کا سبب بنے تو ایسے موقع پر قتل سے بچنا ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ کام ہے۔ آخری ذخیرہ الٰہی یعنی بارہویں امام کے قتل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خانہ کعبہ منہدم ہو جائے تمام انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کی تمناوں پر پانی پھر جائے اور عالمی عادل حکومت کے بارے میں خداکا وعدہ پورا نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ متعدد روایات میں غیبت کی وجوہات کے سلسلہ میں دوسرے نکات بھی بیان ہوئے ہیں جن کو ہم اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے جس کی اصلی اور بنیادی وجہ امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد ہی واضح ہو گی۔ ہم نے جو کچھ اس سلسلہ میں اسباب بیان کئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کی غیبت میں اہم اثرات کے حامل ہیں۔

غیبت کی اقسام

قارئین کرام! مذکورہ مطالب کے پیش نظر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ہے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰہی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچیں گے، لہٰذا غیبت کے زمانہ کا بہت ہی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت اور اس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو جاری و ساری تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی محفلوں میں نقل ہوتی تھی، اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام لوگوں سے ایک نئے انداز اور خاص حالات میں رابطہ ہوتا تھا، اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا تھا کہ بہت سی مادّی اور معنوی ضرورتوں میں امام معصوم علیہ السلام کی ملاقات پر مجبور نہیں ہیں، بلکہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے معین وکلاءاور قابل اعتماد حضرات کے ذریعہ اپنے فرائض پر عمل کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حصرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی غیبت (صغریٰ) کے آغاز سے امام اور اُمت کے درمیان رابطہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ مومنین اپنے مولا و آقا اور امام علیہ السلام کے خاص نائب کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور یہی زمانہ تھا کہ جس میں شیعوں کو دینی علماءسے وسیع پیمانہ پر رابطہ کی عادت ہوئی کہ امام علیہ السلام کی غیبت میں بھی اپنے دینی فرائض کی پہچان کا راستہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر مناسب تھا کہ حضرت بقیة اﷲ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہو اور امام علیہ السلام اور شیعوں کے درمیان گذشتہ زمانہ میں رائج عام رابطہ کا سلسلہ بند ہو جائے۔اس سے پہلے ایک چھوٹی غیبت ہو۔

قارئین کرام! ہم یہاں غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی خصوصیات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں:

غیبت صغریٰ

۰۶۲ ھ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے بارہویں امام کی امامت کا آغاز ہوا اور اسی وقت سے آپ کی ”غیبت صغریٰ“ کا بھی آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ ۹۲۳ ھ (تقریباً ۰۷ سال) تک جاری رہا۔

غیبت صغریٰ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مومنین امام مہدی علیہ ا لسلام کے خاص نائبین کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ امام مہدی علیہ السلام کے پیغامات حاصل کرتے تھے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں بھیجتے تھے (خطوں کی تحریر (جو توقیعات کے نام سے مشہور ہیں) شیعہ علماءکی کتابوں میں موجود ہے (جیسے بحار الانوار، ج ۳۵ ، باب ۱۳ ، ص ۰۵۱ تا ۷۹۵) اور کبھی امام مہدی علیہ السلام کے نائبین کے ذریعہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جاتا تھا۔امام مہدی علیہ السلام کے نواب اربعہ جو عظیم الشان شیعہ عالم دین تھے اور خود امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ منتخب ہوتے تھے ان کے اسمائے گرامی ان کی نیابت کی ترتیب سے اس طرح ہیں:

۱ ۔ عثمان بن سعید عَمری: آپ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے آغاز سے امام کی نیابت کرتے تھے۔ موصوف نے ۵۶۲ ھ میں وفات پائی یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ موصوف امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھی وکیل تھے۔

۲ ۔ محمد بن عثمان عمری: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے نائب اوّل کے فرزند تھے اور اپنے والد گرامی کے انتقال پر امام کی نیابت پر فائزہوئے، موصوف نے ۵۰۳ ھ میں وفات پائی۔

۳ ۔ حسین بن رُوح نوبختی: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے ۱۲ سال نائب رہے جس کے بعد ۶۲۳ ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔

۴ ۔ علی بن محمد سم ری: موصوف کا انتقال ۹۲۳ ھ میں ہوا اور انکی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہو گیا۔امام مہدی علیہ السلام کے خاص نائبین امام حسن عسکری علیہ السلام اور خود امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں میں ان کا تعارف کروایا جاتا تھا۔

شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عثمان بن سعید (نائب اوّل) کے ساتھ چالیس مومنین امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے، امام علیہ السلام نے ان کو اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرا جانشین اور تمہارا امام ہو گا، تم لوگ اس کی اطاعت کرنا، اور جان لو کہ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھ پاو گے، یہاں تک کہ اس کی عمر کامل ہو جائے، لہٰذا (اس کی غیبت کے زمانہ میں) جو کچھ عثمان (بن سعد) کہیں اسکو قبول کرنا، اور ان کی اطاعت کرنا کہ وہ تمہارے امام کے نائب ہیں اور تمام امور کی ذمہ داری انہیں پر ہے“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۹۱۳ ، ص ۷۵۳)

امام حسن عسکری علیہ السلام کی دوسری روایت میں محمد بن عثمان کو امام مہدی علیہ السلام کے (دوسرے) نائب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”عثمان بن سعید“ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا، اس وقت بعض مومنین نے جو اس واقعہ کے شاہد تھے، امام علیہ السلام سے عرض کی: خدا کی قسم! عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہیں لیکن اس کام کا آپ کے نزدیک انکا مقام ہم پر واضح ہو گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! تم لوگ گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور اس کا فرزند ”محمد“ میرے بیٹے ”مہدی“ کا وکیل ہو گا“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۷۱۳ ، ص ۵۵۳)

یہ تمام واقعات امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے کے ہیں، غیبت صغریٰ میں بھی آپ کا ہر نائب اپنی وفات سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے منتخب ہونے والے نائب کا تعارف کرا دیتا تھا۔یہ حضرات چونکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے جس کی بنا پر ان میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نیابت کی لیاقت پیدا ہوئی، ان حضرات کی مخصوص صفات کچھ اس طرح تھیں: امانت داری، عفت، رفتار و گفتار میں عدالت، رازداری اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مخصوص حالات میں اسرار اہل بیت علیہم السلام کو مخفی رکھنا، یہ حضرات امام مہدی علیہ السلام کے قابل اعتماد افراد تھے اور خاندان عصمت و طہاعت کے مکتب کے پروردہ تھے، اُنہوں نے مستحکم ایمان کے زیرِ سایہ علم کی دولت حاصل کی تھی، ان کی نیک نامی مومنین کی ورد زبان تھی، سختیوں اور پریشانیوں میں صبر و بردباری کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت حالات میں اپنے امام علیہ لسلام کی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور ان تمام نیک صفات کے ساتھ ان کے یہاں شیعوں کی رہبری کی لیاقت بھی پائی جاتی تھی، نیز مکمل فہم و شعور اور حالات کی شناخت کے ساتھ اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعہ شیعہ معاشرہ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتے تھے اور مومنین کو پل غیبت صغریٰ سے صحیح و سالم گزار دیا۔غیبت صغریٰ اور امام اور اُمت کے درمیان رابطہ ایجاد کرنے میں نواب اربعہ کے کردار کا ایک عمیق مطالعہ امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اس حصہ کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے، اس رابطہ کا وجود اور غیبت صغریٰ میں بعض شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہونا بارہویں امام اور آخری حجت خدا کی ولادت کے اثبات میں بھی بہت موثر رہا ہے اور یہ اہم نتائج اس زمانہ میں حاصل ہوئے کہ جب دشمنوں کی یہ کوشش تھی کہ شیعوں کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کے حوالہ سے شک و تردید میں ڈال دیں، اس کے علاوہ غیبت صغریٰ کا یہ زمانہ غیبت کبریٰ کی شروععات کےلئے ایک ہموار راستہ تھا جس میں مومنین اپنے امام سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اطمینان اور یقین کے ساتھ امام علیہ السلام کے وجود اور ان کے برکات سے فیضیاب ہوتے ہوئے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں داخل ہو گئے

غیبت کبریٰ

امام مہدی علیہ السلام کے چوتھے نائب کی زندگی کے آخری دنوں میں آپ علیہ السلام نے ان کے نام خط میں یوں تحریر فرمایا:

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

اے علی بن محمد سمری! خداوند عالم آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عنایت فرمائے کیونکہ آپ چھ دن کے بعد عالم بقاءکی طرف کوچ کر جائیں گے، اسی وجہ سے اپنے کاموں کو خوب دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کسی کو اپنا وصی نہ بناو! کیونکہ مکمل (اور طولانی) غیبت کا زمانہ پہنچ گیا ہے، اس کے بعد سے مجھے نہیں دیکھ پاو گے، جب تک خدا کا حکم ہو گا، اور اس کے بعد ایک طویل مدت ہو گی جس میں دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۵۶۳ ، ص ۵۹۳)

اس بنا پر بارہویں امام علیہ السلام کے آخری نائب کی وفات کے بعد ۹۲۳ ھ سے ”غیبت کبریٰ“ کا آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جب تک کہ خدا کی مرضی سے غیبت کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دُنیا ولایت و امامت کے چمکتے ہوئے سورج سے براہ راست فیضیاب ہو۔

جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ غیبت صغریٰ میں شیعہ اورمومنین امام علیہ السلام کے مخصوص نائب کے ذریعہ اپنے امام سے رابطہ رکھتے تھے اور اپنے الٰہی فرائض سے آگاہ ہوتے تھے لیکن غیبت کبریٰ میں اس کا رابطہ کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مومنین اپنے فرائض کی شناخت کے لئے امام علیہ السلام کے عام نائبین جو کہ دینی علماءو مراجع تقلید ہیں ان کی طرف رجوع کرنے لگیں اور یہ واضح راستہ ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ایک قابل اعتماد عظیم الشان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص کے ذریعہ پہنچے ہوئے خط میں اس طرح تحریر ہے:

وَ اَمَّا الحَوَادِث الوَاقِعَةُ فَار جَعُوا اِلٰی رُواةِ حَدِیثَنَا فَانَّهُم حُجَّتِی عَلَیکُم وَ اَنَا حُجَّةُ اللّٰهِ عَلَیهِم ۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۶۳۲)

”اور آئندہ پیش آئے والے حوادث اور واقعات (نیز مختلف مسائل میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی پہچان کےلئے) ہماری احادیث کے راویوں (فقہائ) کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اورمیں ان پر خدا کی حجت ہیں........“۔

دینی سوالات کے جواب کے لئے اور ان سے اہم یہ کہ شیعوں کے شخصی اور معاشرتی فرائض کی پہچان کے لئے یہ نیا طریقہ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امامت و رہبری کا عظیم الشان نظام، شیعہ ثقافت میں ایک بہترین اور زندہ نظام ہے جس میں مختلف حالات میں مومنین کی ہدایت اور رہبری بہت ہی مستحکم طریقہ پر انجام پاتی ہے اور اس مکتب کے ماننے والوں کو کسی بھی زمانہ میں ہدایت کے سرچشمہ کے بغیر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ ان کی شخصی اورمعاشرتی زندگی کے مختلف حصوں میں ان کے مسائل کو دینی علماءاور پرہیزگاراور عادل و آگاہ مجتہدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مومنین کے دین اور دنیا کے امانت دار ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کی کشتی دنیائے طوفان اورکفر و نفاق کے متلاطم دریا سے بحفاظت کنارہ ہدایت پر لگائیںنیزاستعمار کی غلط سیاست کے دلدل میں پھنسنے سے محفوظ رکھیںاور شیعہ عقائد کی سرحدوں کی حفاظت ہوتی رہے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں دینی علماءکے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اگر ایسے علماءکرام نہ ہوتے جو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دیتے اور ان کو اپنے امام کی طرف ہدایت کرتے، نیز حجتوں اور خداوند عالم کے دینی مستحکم دلائل (جو کہ خود دین خدا ہے) کی حمایت نہ کرتے اور اگر نہ ہوتے ایسے بابصیرت علماءجو خدا کے بندوں کو شیطان اور شیطان صفت لوگوں نیز دشمنان اہل بیت علیہم السلام (کی دشمنی) کے جال سے نجات نہ دیتے تو پھر دین خدا پر کوئی باقی نہ رہتا! (اور سب دین سے خارج ہو جاتے) لیکن اُنہوں نے شیعوں کے (عقائد اور) افکار کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ کشتی کا ناخدا کشتی میں سوار مسافروں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔ یہ علماءخداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین (بندے) ہیں“۔

(احتجاج، ج ۱ ، ح ۱۱ ، ص ۵۱)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرہ کی رہبری کے لئے مخصوص صفات و کمالات درکار ہیں، کیونکہ مومنین کے دین و دُنیا کے امور کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دےا جائے جو اس عظیم ذمہ داری کے اہل ہوں تو ان افراد کا مکمل طور پر صاحب بصیرت اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام نے دینی مراجع اور ان سے بڑھ کر ولی امر مسلمین ”ولی فقیہ“ کی مخصوص شرائط بیان کی ہیں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”فقہاء(کرام) اور دینی علماءمیں سے جو شخص (گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کے مقابلہ میں) اپنے کو محفوظ رکھے اور دین (اور مومنین کے عقائد کا) محافظ ہو، اور اپنے نفس اور خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے (زمانہ کے) مولا و آقا (اور امام) کی اطاعت کرتا ہو تو مومنین پر واجب ہے کہ اس کی پیروی کریںاور اس کی تقلید کریں اور صرف بعض شیعہ فقہاءایسے ہوں گے نہ کہ سب “۔ ( احتجاج، ج ۲ ، ص ۱۵۵)

درس کا خلاصہ

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے مراد ان کا حاضر نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ان کا دوسروں کی نگاہ اور توجہ سے پوشیدہ ہونا ہے۔

غیبت اور مخفی زندگی صرف امام عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کی ایک تعداد بھی غیبت کے عمل سے گزری ہے۔

روایات میں امام زمانہ عج اللّٰہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دلائل کے حوالے سے مندرجہ ذیل اسباب: حضرت کی جان کی حفاظت، لوگوں کی آزمائش، لوگوں کو تنبیہ، ان پرکسی اور کی بیعت کا نہ ہونا وغیرہ نقل ہوئے ہیں۔

امام عصر کی دو غیبتیں ہیں، الف: غیبت صغریٰ کہ جو ۰۶۲ ھ ہجری سے ۹۲۳ ہجری تک جاری رہی۔ ب: غیبت کبریٰ کہ ج ۹۲۳ ہجری سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔

امام عصر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاءاسلامی معاشرہ کے دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔

درس کے سوالات

۱ ۔غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح کریں؟

۲ ۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب میں سے کوئی تین اسباب کی وضاحت کریں؟

۳ ۔ محمد بن عثمان کتنے ائمہ علیہم السلام کے نائب اور خاص وکیل تھے اور کتنا عرصہ اس مقام پر فائز رہے؟

۴ ۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاءکی مرجعیت کوکیسے بیان کیا ہے؟

۵ ۔ امام ھادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماءکے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟