مہدویت نامہ

مہدویت نامہ0%

مہدویت نامہ مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

مہدویت نامہ

مؤلف: مصنفین کی جماعت
زمرہ جات:

مشاہدے: 6533
ڈاؤنلوڈ: 774

تبصرے:

مہدویت نامہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 34 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6533 / ڈاؤنلوڈ: 774
سائز سائز سائز
مہدویت نامہ

مہدویت نامہ

مؤلف:
اردو

ساتواں درس

امام غائب کے فائدے

مقاصد:

۱ ۔ امام غائب کی نسبت لوگوں کی معرفت و شناخت میں اضافہ

۲ ۔ کائنات میں امام علیہ السلام کے مقام اور ان کے وظائف پر توجہ

فوائد:

۱ ۔ لوگوں کے حضرت علیہ السلام کی نسبت عقیدہ کا استحکام

۲ ۔ امام علیہ السلام کی عظمتوں سے آگاہی

۳ ۔ حضرت کی عنایات سے بہرہ مند ہونے اور ان کی قربت کے لئے کوشش کرن

تعلیمی مطالب:

۱ ۔ کائنات میں امام کی مرکزی حیثیت

۲ ۔اطمینان اور سکون کا حصول

۳ ۔ شیعہ مکتب کی پائیداری

۴ ۔ الٰہی اسرار اور علوم کی حفاظت

۵ ۔ باطنی ہدایت اور نفوس کی تہذیب

امام غائب کے فوائد

سینکڑوں سال سے انسانی معاشرہ حجت خدا کے فیض کے ظہور سے محروم ہے اور اُمت اسلامی اس آسمانی رہبر اور امام معصوم کے حضور میں مشرف ہونے سے قاصر ہے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکے غیبت میں ہونے اور ان کی مخفیانہ زندگی نیز عمومی رسائی سے دور ہونے کی صورت میں اس کائنات اور اس میں موجود انسانوں کے لئے کیا فوائد رکھتی ہے؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ظہور کے نزدیک ان کی پیدائش ہوتی اور ان کی غیبت کے سخت زمانہ کو ان کے شیعہ نہ دیکھتے؟

یہ سوال اور اس طرح کے دوسرے سولات امام اور حجت الٰہی کی (صحیح) پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت اس کائنات میں امام کا مرتبہ کیا ہے؟ کیا ان کے وجود کے تمام آثار ان کے ظہور پر ہی موقوف ہیں؟ اور کیا وہ صرف لوگوں کی ہدایت کے لئے ہیں یا ان کا وجود تمام ہی موجودات کے لئے مفید اثرات اور برکات کا حامل ہے؟

امام کا کائنات کے لئے محور و مرکز ہونا

شیعہ نقطہ نگاہ اور دینی تعلیمات کے پیش نظر امام کل کائنات کے تمام موجودات کے لئے خدا کے فیض کا واسطہ ہے۔ وہ نظام کائنات میں محور اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے وجود کے بغیر کائنات، جنات، ملائکہ، حیوانات اور جمادات کا نام و نشان تک نہ رہتا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر زمین پر امام کا وجود نہ ہو تو اسی وقت زمین فنا ہو جائے“۔ (اصول کافی، ج ۱ ، ص ۱۰۲)

چونکہ وہ لوگوں تک خدا کے پیغام کا پہنچانے اور انسانی کمال تک ان کی ہدایت کرنے میں واسطہ ہیں اور تمام موجودات تک ہر طرح کا فیض و کرم الٰہی ان کے سبب سے پہنچتا ہے، نیز یہ بات واضح اور روشن ہے کہ خداوند عالم نے شروع ہی سے انبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ اور پھر ان کے جانشینوں کے ذریعہ انسانی قافلہ کی ہدایت کی ہے لیکن معصومین علیہم السلام کے کلام سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کائنات میں آئمہ (علیہم السلام) کا وجود ہر چھوٹے بڑے وجود کے لئے خداوند عالم کی طرف سے ہر نعمت اور فیض میں واسطہ ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ تمام موجودات خداوند عالم کی طرف سے جو کچھ بھی فیض اور عطا حاصل کرتے ہیں وہ امام کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، ساری اشیاءکاخود وجود بھی امام کے واسطہ کی بنا پر ہے اور اپنی زندگی میں جو کچھ بھی وہ حاصل کرتے ہیں ان میں بھی امام کی ذات واسطہ ہے۔

زیارت جامعہ (جو واقعاً امام کی پہچان کی ایک جامع کتاب ہے) کے ایک فقرہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:

بِکُم فَتَحَ اللّٰهُ وَ بِکُم یَختِم وَ بِکُم یُنَزَّلُ الغَیث وَ بِکُم یُمسِک السَّمَاءَ اَن تَقَعَ عَلَی الاَرضِ الاَّ بِاِذنِهَ ۔ (مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ کبیرہ، نوٹ: یہ زیارت حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے منقول ہے اور سند اور تحریر کے لحاظ سے ایک عظیم الشان زیارت ہے اور ہمیشہ شیعہ علماءکی خصوصی توجہ کی حامل رہی ہے۔)

”(اے ائمہ معصومین علیہم السلام) خداوند عالم نے (کائنات کا) آغاز آپ سے کیا، آپ ہی پراس کااختتام ہوگا،اور آپ کے توسط سے باران رحمت نازل کرتا ہے اور آپ کے (وجود کی برکت سے) آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھے ہوئے ہے زمین پر آسمان اللہ کے ارادہ ہی سے گر سکتا ہے“۔

بہرکیف امام علیہ السلام کے وجودی آثار صرف ان کے ظہور کے کی حالت میں منحصر نہیں بلکہ ان کا وجود کائنات میں (یہاں تک ان کی غیبت کے زمانہ میں بھی) مخلوقات الٰہی میں تمام موجودات کے لئے سرچشمہ حیات ہے، اور خود خداوند عالم کی مرضی یہی ہے کہ سب سے بلند و بالا اور سب سے کامل موجود فیض الٰہی حاصل کرکے دوسری مخلوقات تک پہنچانے میں واسطہ ہو لہٰذا اس صورت میں غیبت اور ظہور کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ جی ہاں! سب امام علیہ السلام کے وجود کے آثار سے فیضیاب ہوتے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اس سلسلہ میں کوئی مانع نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:

وَامَّا وَجه الاِنتِفَاعِ بِی فِی غَیبَتِی فَکا الاِنتفَاعِ بِالشَّمسِ اِذَا غَیَّبَتَهَا عَنِ الاَبصَارِ السَّحَابُ ( احتجاج، ج ۲ ، ش ۴۴۳ ، ص ۲۴۵)

”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے فائدہ اُٹھانا اسی طرح ہے جس طرح سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ہے“۔ امام مہدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی دی ہے جس میں بہت سے نکات پائے جاتے ہیں لہذا ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

سورج، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ساری کائنات آپ کے وجود کے گرد گھومتی ہے۔

بِبَقَائِهَ بَقِیَتِ الدُّنیَا وَبِیمِنِه رُزِقَ الوَریٰ وَبِوُجُودِهِ ثَبَتتَ الاَرضِ وَالسَّمَاء (مفاتیح الجنان، دعای عدیا)

”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ہے اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ہر موجود کو روزی ملتی ہے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان باقی ہیں“۔

سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نہیں کرتا اور ہر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ہوتی ہے۔ چنانچہ حصرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ہے، ہر شخص اورہرشئی اس مرکز کے کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق فیض حاصل کرتی ہے۔

اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے موجود نہ رہے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ہو جائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہ سکے گا اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ہو جائے (اگر چہ پردہ غیبت میں بھی نہ ہو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ہو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ہیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ہیں:

اِنَّا غَیر مُهمِلِینَ لِمُرَاعَاتِکُم وَلٰا نَاسِینَ لِذِکرِکُم وَ لَو لَا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُم الاَّوَاءُ وَاصطَلَمَکُم الاعدَاءُ (احتجاج، ج ۲ ، شہ ۹۵۳ ، ص ۸۹۵)

”ہم تم کو ہرگز اپنے حال پر نہیں چھوڑتے اور ہرگز تمہیں نہیں بھولتے، اگر (ہمیشہ ہماری توجہ) نہ ہوتی تو تم پر بہت سی سختیاں اور بلائیں نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے“۔لہٰذا امام علیہ السلام کے وجود کا سورج پوری کائنات پر چمکتا ہے اور تمام موجودات تک فیض پہنچاتا ہے اور ان تمام مخلوقات کے درمیان بشریت خصوصاً اسلامی معاشرہ، شیعہ اور ان کے پیروکاروں تک مزید خیر و برکت پہنچاتا ہے جن کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

اُمید کی کرن

انسانی زندگی کا اہم سرمایہ اُمید ہوتی ہے۔ اُمید ہی انسان کی زندگی میں مایہ حیات، نشاط و شادابی، امید، تحریک اور عمل کا باعث ہے۔ اس کائنات میں امام علیہ السلام کا وجود روشن مستقبل کی امید اور شوق و رغبت کا باعث ہے۔ شیعہ ہمیشہ سے اس چودہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا رہے ہیں اور ظلم و ستم کے مدمقابل قیام کرنے اور ظالم و ستمگر کے سامنے تسلیم نہ ہونے میں جو چیز سب سے بڑی پشت پناہ تھی وہ بہترین مستقبل کی امید تھی۔ ایسا مستقبل جو کوئی خالی اور من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ ایسا مستقبل جو نزدیک ہے اور مزید نزدیک بھی ہو سکتا ہے ، کیونکہ جو شخص قیام اور انقلاب کی رہبری کا عہدہ دار ہے وہ زندہ ہے اور ہر وقت آمادہ اور تیار ہے، یہ تو ہم ہیں کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے۔

مکتب کی پائیداری اور پاسداری

ہر معاشرہ کو اپنے نظام کی حفاظت اور ایک معین مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک مدبر رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی ہدایت کے مطابق معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔ معاشرہ کے لئے رہبر اور ہادی کا وجود بہت ہی اہم ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام میں استحکام پیدا ہو سکے اور کمر ہمت باندھ لے۔ زندہ اور بہترین رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ رہے لیکن پھر بھی اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیںکرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راہوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔

امام عصر علیہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کے لئے بہترین سبب ہے۔ آپ علیہ السلام مکمل آگاہی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے شیعہ عقائد کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار دشمن مختلف چالوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اور عقائد کو نشانہ بناتا ہے اس وقت امام علیہ السلام منتخب اشخاص اور علماءکی ہدایت و ارشاد کے ذریعہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں کی نسبت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عنایت اور لطف کو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی زبانی سنتے ہیں:

”گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ میں بحرین میں ایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں سے بہت زیادہ شمنی رکھتا تھا۔ ایک روز وزیر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی طور یہ جملہ نقش تھا: لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاءرسول اللّٰہ۔ بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ وزیر نے جواب دیا: میرے رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہو گا ورنہ تو تین چیزوں میں سے ایک ضرور ماننا ہو گا، یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئین یا جز یہ (جزیہ، اسلامی حکومت میں غیر مسلم پر اس سالانہ ٹیکس کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں وہ اسلامی حکومت کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں) دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کر دیں، ان کے اہل و عیال کو اسیر کر لین اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔

بادشاہ نے اس کے نظریہ کو قبول کیا اور شیعہ علماءکو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا: اگر اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کر سکے تو تمہیں قتل کر دُوں گا اور تمہارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہو گا۔ شیعہ علماءنے ا س سے تین دن کی مہلت مانگی، چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ اپنے درمیان سے بحرین کے دس صالح اور پرہیز گار علماءکا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں، چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج جنگل و بیابان میں نکل جائیں اور امام زمانہ علیہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور ہمارے مالک ہیں۔

چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری رات دوسرے عالم کو بھیجا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا۔ آخری رات تیسرے عالم بزرگوار محمد بن عیسیٰ کو بھیجا چنانچہ وہ بھی جنگل و بیابان کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام علیہ السلام سے مدد طلب کی، جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: اے محمد بن عیسیٰ! میں تم کو اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں، اور تم جنگل و بیابان میں پریشان کیوں پھر رہے ہو؟ محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ فرمایا: تم صحیح کہتے ہو تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو، اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اﷲ علیہ) کے یہاں ایک انار کا درخت ہے جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹی کا ایک سانچا بنوایاہوا ہے اور اس پر یہ جملے لکھے ہیںاور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو باندھ دیاجاناہے اور جب وہ انادر بڑا ہو گیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہو گئے۔ تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جا کر دُوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاو تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ بادشاہ سے کہنا ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس میں مٹی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو گی۔

محمد بن عیسیٰ امام علیہ السلام علیہ کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماءکے پاس لوٹ آئے۔ دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کا بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔

بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کر لیا اور حکم دیا کہ اس مکار وزیر کو قتل کر دیا جائے“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵ ، ص ۸۷۱)

اس واقعہ میں مسلمانوں کے درمیان کشت و خون بپا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس جگہ امام علیہ السلام نے مظلوموں کی دادرسی کی ہے

خود سازی

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَقُل اعمَلُوا فَسَیَرَی اللّٰه عَمَلَکُم وَرَسُولَهُ وَالمُو مِنُونَ ) ( سورہ توبہ، آیت ۵۰۱)

”اوراے پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اﷲ، رسول اور صاحبان ایمان دیکھ رہے ہیں........“۔

روایات میں منقول ہے کہ آیہ شریفہ میں ”مومنین“ سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں۔ (اصول کافی، باب عروض الاعمال، ص ۱۷۱) اس بنا پر مومنین کے اعمال امام زمانہ علیہ السلام کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور آپ علیہ السلام پردہ غیبت میں بھی ہمارے اعمال پر ناظر ہیں اور یہ چیز تربیت کے لحاظ سے بہت زیادہ اثرات کی حامل ہے اور شیعوں کو اپنی اصلاح کی ترغیب دلاتی ہے، یعنی حجت خدا اور نیکیوں کے امام کے سامنے برائیوں اور گناہوں سے آلودہ نہ ہونے سے روکتی ہے۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ انسان اس پاکیزگی اور روحانیت کے مرکز پر جتنی توجہ کرے گا تو اس کے دل کا آئینہ بھی اتنی ہی پاکیزگی اور معنویت اس کی رُوح میں بھر دے گا اور یہ نور اس کی رفتار و گفتار میں نمایاں ہوتا جائے گا۔

علمی اور فکری پناہ گاہ

آئمہ معصومین علیہ السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اور مومنین ہمیشہ انہی ہستیوں کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہونے کی سعادت اور فیض حاصل نہیں کر سکتے لیکن الٰہی علوم کے یہ معدن ومرکز مختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔ غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماءکے بہت سے سوالات کے جوابات امام علیہ السلام کے ذریعہ حل کئے گئے ہیں۔

(کمال الدین ، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۵۳۲ تا ۶۸۲)

امام زمانہ علیہ السلام اسحاق بن یعقوب کے سوال کرنے میں یوں تحریر فرماتے ہیں:

”خداوند عالم تمہاری ہدایت کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے آپ نے جو سوال ہمارے خاندان اور چچازاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشہ داری نہیں ہے لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہے اور جب تک تم اس مال کو پاکیزہ نہ کر لو ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے............

لیکن جو رقم آپ نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے۔ اور جو شخص ہمارے مالک کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کر لیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے (اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے) اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو، اور اس چیزکے بارے پوچھنے سے پرہیز کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعائیں کیا کرو کہ جس میں تمہارے لے بھی فرج (اور آسانیاں) ہوں گی۔ اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کو طے کرتے ہیں“۔

(کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۷۳۲)

اس کے علاوہ غیبت صغری کے بعد بھی شیعہ علماءنے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام علیہ السلام سے بیان کرکے اس کا راہ حل حاصل کیا ہے۔

میر علّام، مقدس اردبیلی کے شاگرد رقمطراز ہیں:

”آدھی رات ہو رہی تھی اور میں نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں تھا اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی علیہ الرحمہ ہیں، میں نے جلدسے خود کو چھپا لیا۔

وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہو چکا تھا اچانک میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا اور موصوف روضہ مقدس کے اندر داخل ہو گئے اور کچھ ہی مدت بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک کہ و ہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی علیہ السلام کو ضربت لگی تھی، کچھ دیر وہاں رہے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے، میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل دیا یہاں تک کہ وہ مسجد حنانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی اُنہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اُنہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی علیہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز بتائیں!

موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا اور جب میں نے ان کو اطمینان دلایا تو اُنہوں نے فرمایا: جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے توسل کرتا ہوں، آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہو گیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں جاوں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔

جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی علیہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ مسجد کوفہ میں جاو اور حضرت قائم علیہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ میں) محراب کے پاس گیا اور امام مہدی علیہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵ ، ص ۴۷۱)

باطنی ہدایت اور رُوحانی نفوذ

امام لوگوں کی ہدایت اور رہبری کا عہدہ دار ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے نور ہدایت کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی ہدایت کرے لہٰذا خداوند عالم کی طرف سے اس ذمہ داری پر عمل کرنے کےلئے کبھی ظاہر بظاہر انسانوں سے براہ راست رابطہ برقرار کرتا ہے، اور اپنی حیات بخش رفتار و گفتگو سے ان کو سعادت اور کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور کبھی کبھی خداوند عالم کی عطاکردہ قدرت ولایت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے اور خاص توجہ اور مخصوص عنایت کے ذریعہ دلوں کو نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف مائل کر دیتا ہے اور ان کے لئے رشدہ و کمال کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس صورت میں امام علیہ السلام کا ظاہری طور پر حاضر ہونا اور ان سے براہ راست رابطہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اندرونی اور قلبی رابطہ کے ذریعہ ہدایت کر دی جاتی ہے۔

حضرت امام علی علیہ السلام اس سلسلہ میں امام کی کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”خداوندا! تیری زمین پر تیری طرف سے حجت ہوتی ہے جو مخلوق کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرتی ہے........ اور اگر اس کا ظاہری وجود لوگوں کے درمیان نہ ہو لیکن بے شک اس کی تعلیم اور اسکے (بتائے ہوئے) آداب مومنین کے دلوں میں موجود ہیں اور وہ اسی کے لحاظ سے عمل کرتے ہیں“۔ (اثبات الھداة، ج ۳ ، ح ۲۱۱ ، ص ۳۶۴)

امام پردہ غیبت میں رہ کر اسی طرح سے انقلاب اور قیام کےلئے کارآمد لوگوں کی ہدایت کی کوشش فرماتے ہیں اور جو لوگ لازمی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں وہ امام علیہ السلام کی خصوصی تربیت کے تحت آپ کے ظہور کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور یہ پردہ غیب میں رہنے والے امام کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جو آپ کے وجود کی برکت سے انجام پاتا ہے۔

بلاوں سے امان

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امن و امان انسانی زندگی کا اصلی سرمایہ ہے، بسا اوقات کائنات میں مختلف حوادث کی وجہ سے تمام موجودات کی عمومی زندگی خطرناک مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے، اگرچہ بلاوں اور مصیبتوں کا سدّباب مادّی چیزوں کے ذریعہ ممکن ہے لیکن معنوی اسباب و عوامل بھی ان مواقع موثرہوتے ہیں۔ ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں نظام خلقت کے تمام مجموعہ کے لئے امام اور حجت خدا کا وجود زمین اور اس پر رہنے والوں کے لئے امن و امان کا سبب شمار کیا گیا ہے۔

حضرت امام زمانہ علیہ السلام خود فرماتے ہیں:

وَ اِنِّی لَاَمَان لِاَهلِ الاَرضِ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ح ۴ ، ص ۹۳۲)

”اور میں اہل زمین کے لئے (بلاوں سے) امان ہوں“۔

امام علیہ السلام کا وجود اس چیز میں مانع ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گناہوں اور برائیوں کی وجہ سے سخت عذاب الٰہی میں مبتلا ہو جائیں اور زمین اور اہل زمین کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔

اس سلسلہ میں قرآن کریم میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا کَانَ اللّٰهُ لِی عَذِّبَهُم وَ اَنتَ فِیهِم ) ....... (سورہ انفال، آیت ۳۳)

”حالانکہ اﷲ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر آپ کے ان کے درمیان ہیں........“۔

حضرت ولی عصر علیہ السلام جو رحمت اور محبت پروردگار کے مظہر ہیں وہ بھی اپنی خاص توجہ کے ذریعہ بڑی بڑی بلاوں کو خصوصاً ہر شیعہ سے دُور کرتے ہیں، اگرچہ بہت سے مقامات پر آپ علیہ السلام کے لطف و کرم کی طرف لوگ توجہ نہیں کر پاتے اور اپنی مدد کرنے والے کو نہیں پہچانتے! آپ علیہ السلام خود اپنی شناخت کے بارے میں فرماتے ہیں:

اَنَا خَاتِم الاَو صِیَائِ، وَ بِی یَد فَع اللّٰه عَزَّوَجَلَّ البَلَائُ مِن اَهلِی وَ شِیعَتِی ۔ (کمال الدین ، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ح ۲۱ ، ص ۱۷۱)

”میں پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں اور خداوند عالم میرے (وجود کے سبب) میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاوںکو دُور کرتا ہے)“۔

انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی زمانہ میں اور دفاع مقدس (یعنی عراق سے جنگ کے دوران) امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم اور آپ علیہ السلام کی محبت کو بارہا اس قوم اور حکومت پر سایہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور آپ علیہ السلامنے اسلامی حکومت اور امام علیہ السلام کے چاہنے والے شیعوں کو دشمن کی خطرناک سازشوں سے صحیح و سالم رکھا ہے۔ ایرانی شمسی سال ۷۵۳۱ ، ۱۲ بہمن ( ۹۷۹۱ عیسوی) میں سرنگوں ہونا اور ۳۸۹۱ عیسوی میں ”نوژہ“ نامی بغاوت کی ناکامی اور (عراق سے) آٹھ سال کی جنگ میں دشمن کی ناکامی اور بہت سی دوسری مثالیں اس بات پر زندہ گواہ ہیں۔

باران رحمت

کائنات کا عظیم مہدی موعود مسلمانوں کی آرزووں کا قبلہ اور شیعوں کا قلبی محبوب (حضرت امام زمانہ علیہ السلام) ہمیشہ لوگوں کے حالات زندگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مہربان خورشید کی غیبت اس چیز میں مانع نہیں ہے کہ وہ مشتاق دلوں پر اپنے زندگی بخش اور نشاط آفرین تجلی سے دریغ کرے اور ان کو اپنے لطف و کرم کے نور سے محروم کرے عشق و محبت کا وہ ماہ منیر ہمیشہ اپنے شیعوں کا غم خوار اور اپنے مقدس دربار میںمدد طلب کرنےوالوں کا دستگیر رہا ہے، وہ کبھی تو بیمار لوگوں کے سرہانے حاضر ہوتے ہیں اور اپنے شفا بخش ہاتھوں کو ان کے زخموں کا مرہم قرار دیتے ہیں اور کبھی جنگلوں میں بھٹکے ہوئے مسافر پر عنایت کرتے ہیں اور تنہائی کی وادی میں ناچار بے کس لوگوں کی مدد اور راہنمائی کرتے ہیں اور نااُمیدی کی سرد ہواوں میں منتظر دلوں کو اُمید کی گرمی عطا کرتے ہیں اور وہ بارانِ رحمت الٰہی ہیں جو ہر حال میں دلوں کے خشک بیابانوں پر برس کر شیعوں کے لئے اپنی دُعاوں کے ذریعہ ہریالی اور شادابی ہدیہ کرتے ہیں، وہ خداوند محبوب کی بارگاہ کے سجادہ نشین اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہمارے لئے یہ دُعا کرتے ہیں:

یَا نُورَالنُّورِ، یَا مُدَبَّرَالاَمُورِ یَا بَاعِثَ مَن فِی القَبُورِ صَلَّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاجعَل لِی وَ لِشِی عَتِی مِنَ الضِّیقِ فَرَجاً، وَ مِنَ الهَم مَخرَجًاً، وَاوسِع لَنَا المنهِجَ وَاطلق لَنَا مِن عِندِکَ مَا یُقَرَّجُ وَافعَل بِنَا مَا اَنتَ اهلَهُ یَا کَرِیمٍ ۔

(منتخب الاثر، فصل ۰۱ ، باب ۷ ، ش ۶ ، ص ۸۵۶)

”اے نوروں کے نور! اے تمام امور کے تدبیر کرنے والے! اے مردوں کے زندہ کرنے والے! محمد و آل محمد پر صلوات بھیج! اور مجھے اور میرے شیعوں کو مشکلات سے نجات عطا فرما اور غم و اندوہ کو دُور فرما اور ہم پر (ہدایت کے) راستہ کو وسیع فرما اور جس راہ میں ہمارے لئے آسانیاں ہوں اس کو ہمارے اُوپر کھول دے اور تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر جس کا تو اہل ہے اے کریم!“۔

قارئین کرام! ہماری بیان کی ہوئی گذشتہ باتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امام علیہ السلام (اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں) سے رابطہ کرنا اور متصل ہونا ممکن ہے، جو حضرات اس بات کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے محبوب امام کی ملاقات اور قرب کی لذت سے ہمیشہ محفوظ ہوئے ہیں۔

درس کا خلاصہ:

امام عصر علیہ السلام کائنات کے محور اور الٰہی فیوضات کے انسانوں اوردوسری مخلوقات تک پہنچنے کا واسطہ ہیں۔

حضرت کے ظہور اور آنے پر عقیدہ معاشرے میں اُمید و نشاط اور فرحت کی رُوح پھونکتا ہے۔

امام عصر علیہ السلام مسلمانوں کے تمام امور پر نگاہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے اعمال حضرت کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں یہ عقیدہ لوگوں کی اصلاح اور تربیت میں اہم اثرات رکھتا ہے۔

امام عصر علیہ السلام شیعوں کی علمی اور فکری پناہ گاہ ہیں بہت سے امور میں شیعہ بزرگان نے حضرت کے ذریعے اپنے علمی جوابات حاصل کئے نیز باطنی ہدایت، مصیبتوں سے نجات اور بارانِ رحمت کا نزول حضرت کے وجود کی برکات میں سے ہے۔

درس کے سوالات:

۱ ۔ کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟

۲ ۔ زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟

۳ ۔ زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟

۴ ۔ لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تسلط کی وضاحت کریں؟

۵ ۔ آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو بالخصوص شیعوں کے بلاوں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟