دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

دعا عند اهل بيت( جلد دوم)0%

دعا عند اهل بيت( جلد دوم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 248

دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

مؤلف: محمد مهدی آصفی
زمرہ جات:

صفحے: 248
مشاہدے: 2477
ڈاؤنلوڈ: 319

تبصرے:

دعا عند اهل بيت( جلد دوم)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 248 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2477 / ڈاؤنلوڈ: 319
سائز سائز سائز
دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

دعا عند اهل بيت( جلد دوم)

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

دعا عند اهل بيت(جلد دوم)

محمد مهدی آصفی

مترجم: سيد ضرغام حيدر نقوی

۳

دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چا ہئے اور کيا نہيں مانگنا چاہئے

اس مقام پر دعا ء کے سلسلہ ميں دو اہم سوال در پيش ہيں:

١۔ہميں دعا کر تے وقت خدا سے کن چيزوں کو مانگنا چاہئے ؟

٢۔اور دعا ميں خداوندعالم سے کن چيزوں کا سوال نہيں کرنا چاہئے ؟

١۔دعا ميں خدا سے کيا مانگنا چاہئے ؟

ہم پہلے سوال سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہيں کہ دعا کرتے وقت الله سے کو نسی چيزیں مانگنا سزوار ہے؟

بيشک بندے کا الله کی بارگاہ ميں اپنی حاجت پيش کرنا دعا کہلاتا ہے۔ بند ے کی ضرورت اور حاجت کی کوئی انتہا نہيں ہے جيسا کہ خداوندعالم کے غنی سلطان اور کرم کی کوئی انتہا نہيں ہے ۔

دونوں لامتناہی چيزوں کے جمع ہونے کو دعا کہا جاتا ہے ۔

یعنی بندے کی ضرورت کی کوئی انتہا نہيں ہے اور خداوندعالم کے غنی اور کریم ہو نے کی کوئی انتہا نہيں ہے اس کے ملک کے خزانے ختم نہيں ہوتے، اسکی سلطنت اوراس کی طاقت کی کوئی حد نہيں، اس کے جودو کرم کی کوئی انتہا نہيں، اسی طرح بندے کی حاجت وضرورت کمزوری اور کوتا ہی کی کوئی انتہا نہيں ہے ان تمام باتوں کے مد نظر ہم کو یہ سمجهناچاہئے کہ ہم دعا ميںخداوندعالم سے کيا طلب کریں ؟

۴

١۔دعا ميں محمد وآل محمد (ص) پر صلوات

دعا ميں سب سے اہم نقطہ خداوندعالم کی حمد وثنا کے بعد مسلمانوں کے امور کے اولياء محمد و آل محمد پر صلوات بهيجنا ہے ۔

اور اسلامی روایات ميں اس صلوات پربہت زیادہ زور دیا گيا ہے جس کا سبب واضح وروشن ہے بيشک الله تبارک وتعالیٰ نے دعا کو مسلمانوں اور اور ان کے اوليا ء کے درميان ایک دوسرے سے رابطہ کا وسيلہ قرار دیا ہے اور وہ ولا ومحبت کی رسی کو بڑی مضبوطی کے ساته پکڑے رہيں جس کو الله نے مسلمانوں کےلئے معصوم قرار دیا ہے صلوات، ان نفسی رابطو ں ميں سے سب سے اہم سبب کا نام ہے بيشک محبت کے حلقے (کڑیاں)الله اور اس کے بندوں کے درميان ملی ہو ئی ہيں اور رسول الله اور اہل بيت عليہم السلام کی محبت ان کی سب سے اہم کڑیا ں ہيں ۔

رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے محبت الله کی محبت کی کڑی ميں واقع ہے اہل بيت عليہم السلام کی محبت رسول الله (ص)کی محبت کی کڑی ميں واقع ہے اس محبت کی تا کيد اور تعميق خداوند عالم کی محبت کی تاکيد کا جزء ہے نيز خداوند عالم کی محبت کی تعميق کا جزء ہے یہ معرفت کا ایسا وسيع باب ہے جس کو اس مقام پر تفصيل سے بيان نہيں کيا جا سکتا اور اس سلسلہ ميں ہم کما حقہ گفتگو نہيںکر سکتے ہيںشاید خداوند عالم ہم کو کسی اور مقام پر اسلا می ثقافت اور اسلامی امت کی تکوین کے سلسلہ ميں اس اہم اور حساس نقطہ کے سلسلہ ميں گفتگو کی تو فيق عنایت فر ما ئے ۔

اس مطلب پر اسلامی روایات ميں بہت زور دیا گيا ہے ۔ہم اس مو ضوع سے متعلق بعض روایا ت کو ذیل ميں بيان کر رہے ہيں ۔

۵

اور ان ميں سب سے عظيم خدا وند عالم کا یہ فر مان ہے :

( اِنَّ الله ٰ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَْ عَلیَ النَّبِی یَااَیُّهَاالَّذِینَْ آمَنُواْصَلُّواعَلَيهِْ وَسَلِّمُواْتَسلِْيمْاً ) (۱)

“بيشک الله اور اس کے ملا ئکہ رسول پر صلوات بهيجتے ہيں تو اے صاحبان ایمان تم بهی ان پر صلوات بهيجتے رہو اور سلام کرتے رہو ” حضرت رسول خدا (ص)سے مروی ہے :الصلاة عليّ نورعلی الصراط (۲)

“مجه پر صلوات بهيجنا پل صراط کےلئے نور ہے” یہ بهی رسول اسلام (ص) کا ہی قول ہے:انّ ابخل الناس مَنْ ذُکرت عنده،ولم یصلّ عليّ (۳)

“سب سے بخيل انسان وہ ہے جس کے پاس ميرا تذکرہ کيا جائے اور وہ مجه پر صلوات نہ بهيجے ”

عبد الله بن نعيم سے مروی ہے کہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کی خدمت ميں عرض کيا جب ميں گهر ميں داخل ہو تا ہوں تو ميں اپنے پاس محمد وآل محمد پر صلوات بهيجنے کے علاوہ کوئی اور دعا نہيں پاتا تو آپ نے فرمایا :آگاہ ہو جاؤ اس سے افضل اور کوئی چيز نہيں ہو سکتی ہے ”حضرت امام باقر اور امام صادق عليہما السلام سے مروی ہے:اثقل مایُوزن في الميزان یوم القيامة الصلاة علیٰ محمّد وآل محمّد “قيامت کے دن ميزان ميں سب سے زیادہ وزنی چيز محمد وآل محمد پر ” صلوات ہو گی(۴)

حضرت امير المو منين عليہ السلام نہج البلا غہ ميں ارشاد فرما تے ہيں :اذاکانَ لکَ اِل یٰ الله سُبحَْانَهُ حَاجَة فَابدَْابِْمَسا لَةِ الصَّلَاةِ عَل یٰ رَسُولِْهِ ثُمَّ سَل حَاجَتُکَ؛فَاِنَّ الله ٰ اَکرَْمُ مِن اَن یُسالَ حَاجَتَينِْ ،فَيَقضْ یٰ اِحدَْاهُمَاوَیَمنَْعُ الاُْخرْ یٰ (۵)

“جب تم خداوندعالم سے کوئی حاجت طلب کرو تو پہلے محمد وآل محمد پر صلوات بهيجو اس کے بعد اس سے سوال کرو بيشک خداوندعالم سب سے زیادہ کریم ہے کہ اس سے دو حاجتيں طلب کی جائيں اور وہ ان ميں سے ایک کو پورا کردے اور دوسری کو پورا نہ کرے ” انبياء ومرسلين اور ان کے اوصيا ء کی دعا ئيں اسی طرح کی دعائيں ہيں ۔

عام طور پر تمام انبياء عليہم السلام اور ان کے اوصيا ء پر صلوات وسلام وارد ہو تے ہيں یا اہل بيت عليہم السلام سے ماثورہ دعاؤں ميں مشخص ومعين اور نام بنام ان پر صلوات وسلام وارد ہوئے ہيں اور ان ميں وارد ہو نے والی ایک دعا (عمل ام داؤد )ہے جو رجب کے مہينہ ميں ایام بيض کے سلسلہ ميں وارد ہو ئی ہے اور وہ امام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے ۔

____________________

۱ سورئہ احزاب آیت/ ۵۶ ۔ ۲ کنز العمال حدیث / ٢١۴٩ ۔ ۳ کنز العمال حدیث/ ٢١۴۴ ۔ ۴ بحارالانوار جلد ٧١ ۔صفحہ/ ٣٧۴ ۔ ۵ نہج البلاغہ حکمت ٣۶١ ۔

۶

محمد وآل محمد (ص)پر صلوات بهيجنے کے چند نمونے صحيفه سجادیه ميں امام زین العابد ین عليه السلام فرما تے هيں : ربِّ صلِّ علی محمّد وآل محمّد،المنتجب،المصطفیٰ المکرّم،المقرّب افضل صلواتک وبارک عليه اتَمّ برکا تک،وترحّم عليه امتع رحماتک

ربِّ صلِّ علی محمّد وآله صلاة زاکية لاتکون صلاة ازکیٰ منها و صلِّ عليه صلاة ناميةلاتکون صلاةانمیٰ منهاوصلِّ عليه صلاةراضية لاتکون صلاة فوقهاربِّ صلِّ علی محمّد صلوة تُرضيه وتزید علی رضاه وصلِّ عليه صلاة تُرضيک وتزید علی رضاک وصلِّ عليه صلاة لانرضیٰ له الَّابها ولاتریٰ غيره لهااهلا ربِّ صلِّ علیٰ محمّد وآله صلاةتنتظم صلوات ملائکتک وانبيائک ورسلک واهل طاعتک

“خدایا محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما جو منتخب ،پسندیدہ ،محترم اور مقرب ہيں۔ اپنی بہترین رحمت اور ان پر برکتيں نازل فر ما اپنی تمام ترین برکات ،اور ان پر مہربانی فرما اپنی مفيد ترین مہربانی خدایا محمد وآل محمد پر وہ پاکيزہ صلوات نہ ہو اور وہ مسلسل بڑهنے والی رحمت جس سے زیادہ بڑهنے والی کو ئی رحمت نہ ہو ۔ان پروہ پسندیدہ صلوات نازل فرماجس سے بالا تر کو ئی صلوات نہ ہو ۔خدایا محمد وآل محمد پر وہ صلوات نازل فر ما جس سے انهيں راضی کر دے اور ان کی رضامندی ميں اضافہ کر دے اپنے پيغمبر پر وہ صلوات نازل فر ما جو تجهے راضی کر دے اور تيری رضا ميں اضافہ کر دے ۔ان پر وہ صلوات نازل فر ما جس کے علا وہ ان کے لئے کسی صلوات سے تو راضی نہ ہو اور اس کا ان کے علاوہ کو ئی اہل نہ سمجهتا ہو ۔۔۔خدایا محمد وآل محمد پر وہ صلوات نازل فر ما جو تيرے ملا ئکہ ،انبياء و مر سلين اور اطا عت گذاروں کی صلوات کو سميٹ لے ”

۷

٢۔مومنين کےلئے دعا

خداوندعالم کی حمد وثنااور محمد وآل محمد انبياء اور ان کے اوصياء پر درودو سلام بهيجنے کے بعد سب سے اہم چيز مومنين کےلئے دعا کرنا ہے یہ دعا ،دعا کے اہم شعبوں ميں سے ہے اس لئے کہ مومنين کے لئے دعا کرنا اس روئے زمين پرہميشہ پوری تاریخ ميں ایک مسلمان کوپوری امت مسلمہ سے جو ڑے رہی ہے جس طرح محمد وآل محمد پر صلوات خداوندعالم کی طرف سے نازل ہو نے والی ولایت کی رسی کے ذریعہ جو ڑے رہی ہے۔

اس رابط کو دعا ایک طرف فردا ور امت کے درميان جوڑتی ہے اور ان سے رابطہ قائم کرنے والے تمام افراد کے درميان اس رابطہ کو جوڑتی ہے یہ رابطہ سب سے بہترین وافضل رابطہ ہے اس لئے کہ اس علاقہ وتعلق سے انسان الله کی بارگاہ ميں جاتا ہے اور یہ تعلق ولگاؤ اس کو ہميشہ خدا سے جوڑے رہتا ہے اور وہ خدا کے علاوہ کسی اور کو نہيں پہچانتا اور یہ الله کی دعوت پرلبيک کہنا ہے ۔یہ دعا دو طریقہ سے ہو تی ہے :عام دعا کسی شخص کو معين اور نام لئے بغير دعا کرنا ۔

دوسرے نام بنام اور مشخص ومعين کرنے کے بعد دعا کرنا ۔ اور ہم انشاء الله ان دونوں قسموں کے متعلق بحث کریں گے :

١۔عام مومنين کےلئے دعا

اس طرح کی دعا کو الله دوست رکهتا ہے ، اس کو اسی طرح مستجاب کرتا ہے خدا وند عالم اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ بعض دعاکو قبول کرے اور بعض دعا کورد کردے۔

دعا کا یہ طریقہ عام مومنين کےلئے ہے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور طول تاریخ ميں روئے زمين پرامت مسلمہ کے ایک ہونے کی نشاندہی کرتاہے اور ہمارے تعلقات کو اس خاندان سے زیادہ مضبوط ومحکم کرتا ہے ۔

ہماری زندگی ميں دعا کے دو کردار ہيں : پہلا کردار یہ ہے کہ ہم الله سے رابطہ قائم کرتے ہيں ۔

دوسرا کردار یہ ہے کہ طول تاریخ ميں روئے زمين پر ایمان لانے والی امت مسلمہ سے ہمارا رابطہ ہوتا ہے ۔

۸

دعا کے اس بليغ طریقہ پر اسلامی روایات ميں بہت زیادہ زور دیا گيا ہے اور یہ وارد ہو ا ہے کہ خدا وند عالم دعا کرنے والے کو اس کی بزم ميں حاضر ہونے والے تمام مومنين کی تعداد کے مطابق نيک ثواب دیتا ہے ،اس دعا ميں شامل ہونے والے ہر مومن کی اس وقت شفاعت ہوگی جب خدا اپنے نيک بندوں کو گناہگار بندوں کی شفاعت کرنے کی اجازت دے گا ۔

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے کہ رسول الله (ص)نے فرمایا :

مامن مومن دعا للمومنين والمومنات إلَّاردّاللّٰه عليه مثل الذي دعا لهم به من کلّ مومن ومومنة ،مضی مِنْ اوّل الدهراو هوآت الیٰ یوم القيامة وانّ العبد ليومر به الیٰ النار یوم القيامة فيسحب،فيقول المومنون والمومنات:یاربّ هٰذا الذيکان یدعوالنافشفعنافيه،فيشفعّهم اللّٰه عزَّوجلَّ، فينجو (١)

“جو مو من بهی زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کےلئے دعا کرے گا خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من و مو منہ کے بدلے خلقت آدم سے قيامت تک نيکی لکھے گا ۔

بيشک قيامت کے دن ایک انسان کو دوزخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس کو کهينچا جا ئيگا اس وقت مو من و مو منات کہيں گے یہ وہی شخص ہے جو ہمارے لئے دعا کرتا تھا لہٰذا ہم کو اس کے سلسلہ ميں شفيع قرار دے تو خداوند عالم ا ن کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جائيگا ” امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے :

مَنْ قال کلّ یوم خمسا و عشرین مرة :اللهم اغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات کتب الله له بعددکل مومن وضیٰ وبعددکل مومن ومومنة بقي الیٰ یوم القيامة حسنة ومحا عنه سيئة ورفع له درجة ( ٢)

“جس نے ایک دن ميں پچيس مرتبہاللهم اغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات کہا ،تو خدا وند عالم ہرگز شتہ اور قيامت تک آنے والے مومن اور

____________________

۴،حدیث / ١)اصول کا فی / ۵٣۵ ،آمالی طوسی جلد ٢صفحہ ٩۵ ،وسا ئل الشيعہ جلد ١١۵١ ) ٨٨٨٩ ۔ /

١١۵١ ،حدیث ٨٨٩١ ۔ / ٢)ثواب الاعمال صفحہ ٨٨ ؛وسائل الشيعہ جلد ۴ )

۹

مومنہ کی تعداد کے مطابق اس کےلئے حسنات لکھے گا اور اس کی برائيوں کو محو کردے گا اور اس کا درجہ بلند کرے گا ”

ابو الحسن حضرت علی عليہ السلام سے مروی ہے :مَنْ دعالإخوانه من المومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات وکّل الله به عن کل مومن ملکا یدعو له (١)

“جس نے مومنين ومومنات اور مسلمين ومسلمات کےلئے دعا کی تو خداوندعالم ہر مومن پر ایک ملک کو معين فرما ئے گا جو اس کےلئے دعا کر ے گا ” ابو الحسن الر ضا عليہ السلام سے مروی ہے :

مامن مومن ید عوللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات، الاحياء منهم والاموات،الَّاکتب اللّٰهُ لهُ بکُلِّ مومن ومومنة حسنة،منذ بعث اللّٰه آدم الیٰ ان تقوم الساعة (٢)

“جو مو من بهی زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کيلئے دعا کرے گا خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من اور مو منہ کے بدلہ خلقت آدم سے قيامت تک ایک نيکی لکھے گا ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنے آباؤاجدا دسے اور انهوں نے حضرت رسول خدا (ص)سے نقل کيا ہے :مامن مومن اومومنة ،مضیٰ من اوّل الدهر،او هوآت الیٰ یوم القيامة،الَّا وهم شفعاء لمن یقول فی دعائه:اللهم اغفرللمومنين والمومنات، وان العبدليومر به الی النار یوم القيامة،فيُسحب فيقول المومنين والمومنات :

____________________

١١۵٢ ،حدیث ٨٨٩٣ ۔ / ١)وسائل الشيعہ جلد ۴ )

١١۵٢ ،حدیث / ٨٨٩۴ ۔ / ٢)وسائل الشيعہ جلد ۴ )

۱۰

یاربَّنا هذاالذي کان یدعولنافشفّعنافيه فيشفّعهم الله ،فينجو ( ١)

“جو مو من مرد یا مو من عورت زمانہ کے آغاز سے گذر چکے ہيں یا قيامت تک آنے والے ہيں وہ اس شخص کی شفاعت کرنے والے ہيں جو یہ دعا کرے :خدایا مو منين و مو منات کو بخش دے اور قيامت کے دن انسان کو دو زخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس وقت مو منين و مو منات کہيں گے پروردگار عالم یہ ہمارے لئے دعا کيا کرتا تھا لہٰذا اس کے سلسلہ ميں ہم کو شفيع قرار دے تو خدا وند عالم ان کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جا ئے گا ”

ابو الحسن الر ضا عليہ السلام سے مروی ہے:

مامن مومن یدعو للمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات، الاحياء منهم والاموات،الَّا رد اللّٰهُ عليه من کُلِّ مومن ومومنة حسنة،منذ بعث اللّٰه آدم الیٰ ان تقوم الساعة ( ٢)

“جو شخص زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کےلئے دعا کرتا ہے تو خداوند عالم خداوند عالم اس کيلئے ہر مو من اور مو منہ کے بدلہ خلقت آدم سے قيامت تک ایک نيکی لکھے گا ”

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنے آبا واجداد سے انهوں نے حضرت رسول خدا (ص)سے نقل کيا ہے :

مامن عبد دعاء للمومنين والمومنات الاّردّالله عليه مثل الذي دعا لهم من کلّ مومن ومومنة،مضیٰ من اوّل الدهر،او هوآت الیٰ یوم القيامة،وان العبد ليومر به الی الناریوم القيامة،فيُسحب فيقول المومنين والمومنات:یاربّناهذاالذی

____________________

١)امالی صدوق صفحہ ٢٧٣ ؛بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٨۵ ۔ )

٢)ثواب الاعمال صفحہ / ۴۶ ا،بحا رالانوارجلد ٩٣ /صفحہ ٣٩۶ ۔ )

۱۱

کان یدعولنا فشفّعنافيه فيشفّعهم الله ، فينجومن النار ( ١)

“جو مو من مرد یا مو من عورت زمانہ کے آغاز سے گذر چکا ہے یا قيامت تک آنے والا ہے وہ اس شخص کی شفاعت کرنے والا ہے جو یہ دعا کرے :خدایا مو منين و مو منات کو بخش دے اور قيامت کے دن اس انسان کو دو زخ ميں ڈالے جانے کا حکم دیا جا ئيگا تو اس وقت مو منين و مو منات کہيں گے پروردگار عالم یہ ہمارے لئے دعا کيا کرتا تھا لہٰذا اس کے سلسلہ ميں ہم کو شفيع قرار دے تو خدا وند عالم ان کو شفيع قرار دے گا جس کے نتيجہ ميں وہ شخص نجات پا جا ئے گا ”

امام جعفر صادق رسول خدا سے نقل فرماتے ہيں :

اذا دعا احدکم فليعمَّ فإنّه اوجب للدعاء ( ٢)

“جب دعا مانگو تو سب کيلئے دعا مانگو کيونکہ اس طرح دعا ضرور قبول ہو تی ہے ”

ابو عبد الله الصادق عليہ السلام سے مروی ہے : جب انسان کہتا ہے :اللهم إغفرللمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات الاحياء منهم وجميع الاموات ردّ الله عليه بعدد مامضی ومَنْ بقي من کلّ انسان دعوة ( ٣)

“پروردگار تمام زندہ مردہ مو منين و مو منات اور مسلمين و مسلمات کو بخش دے تو خداوند عالم اس کے گذشتہ اور آئندہ انسانوں کی تعداد کے برابر نيکی لکه دیتا ہے ”

____________________

١)ثواب الاعمال صفحہ / ۴٧ ا،بحا رالانوارجلد ٩٣ صفحہ/ ٣٨۶ ۔ )

٢)ثواب الا عمال صفحہ / ١۴٧ ۔بحار الا نوار جلد ٩٢ صفحہ/ ٣٨۶ ۔ )

٣)فلاح السائل صفحہ / ۴٣ ۔بحار النوار جلد ٩٣ صفحہ/ ٣٨٧ ۔ )

۱۲

عمومی دعا کے کچه نمونے

ہم ذیل ميں اہل بيت عليہم السلام سے ماثورہ دعا ؤں ميں عام دعا کے

سلسلہ ميں کچه نمونے پيش کرتے ہيں :

اللهم اغنِْ کُلَّ فَقِيرٍْاللهم اشبِْع کُلَّ جَائِعٍ ،اللهم اکسُْ کُلَّ عُریَْانٍ اللهم اقضِْ دَیْنَ مِنْ کُلِّ مَدِیْنٍ اللهم فَرِّجْ عَنْ کُلِّ مَکْرُوْبٍ اللهم رُدَّ کُلَّ غَرِیْبٍ اللهم فُکَّ کُلَّ اَسِيرٍْاللهم اَصلِْح کُلِّ فَاسِدٍ مِن اُمُورِْالمُْسلِْمِينَْ،اللهم اشفِْ کُلَّ مَرِیضٍْ، اللهم سُدَّ فَقَرنَْا بِغِنَاکَ،اللهم غَيِّرسُْوءَْ حَالَنَا بِحُسنِْ حَالِکَ،وَصَلَّ الله ٰ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَْ

“خدا یا تو ہر فقير کو غنی بنادے، خدایا تو ہر بهوکے کو سيرکردے، خدایا توہر برہنہ کو لباس پہنا،خدایا تو ہرقرضدار کا قرض ادا کر دے، خدایاہر غمگين کے غم کو دور کر،خدایاہر مسافر کو اس کے وطن پہنچا دے، خدایاہر اسير کو آزاد کر ،خدایامسلمانوں کے جملہ فاسد امور کی اصلاح فر ما، خدایاہر مریض کو شفا عطا کر، خدایاہمارے فقر کو اپنی مالداری سے درست کردے ،خدایاہماری بد حالی کو خوش حالی سے بدل دے، خدا یا ہمارے قرض کو ادا کر دے اور ہمارے فقر کو مالداری سے تبدیل کر دے اور محمد اور ان کی آل پاک پر صلوات بهيج”

ان ہی نمونوں ميں سے ہے :

اللهم وتفضّل علی فقراء المومنين والمومنات بالغنیٰ والثروة،وعلیٰ مرضی المومنين والمومنات بالشفاء والصحة ،وعلیٰ احياء المومنين والمومنات باللطف والکرامة وعلیٰ اموات المومنين والمومنات بالمغفرة والرحمة وعلیٰ مسافرالمومنين والمومنات بالردّ الیٰ اوطانهم سالمين غانمين برحمتک یاارحم الراحمين وَصَلَّ اللّٰهُ عَلیٰ سيدنامُحَمَّدٍخاتم النبيين وعترته الطَّاهِرِیْنَ

“خدایامو منين اور مومنات فقراء کو اپنے فضل سے دولت و ثروت عطا کر ، بيمار مو منين او ر مومنات کو شفا و صحت عطا کر ، زندہ مو منين اور مو منات پر لطف و کرم فرما،مردہ مو منين ومو منات پر بخشش و رحمت عطا فرما ،اپنی رحمت سے مسافرمومنين و مومنات کو ان کے وطن ميں صحيح و سالم واپس لوڻااور ہما رے سيد و سردار محمد خا تم النبيين اور ان کی آل پاک پردرود وسلام ہو”

صحيفہ سجادیہ ميں امام زین العا بدین عليہ السلام فرماتے ہيں :

۱۳

اللهم وصلّ علیٰ التابعين منایومنا هذا الیٰ یو م الدین وعلی ازواجهم وعلیٰ ذرِّیاتهم وعلیٰ مَنْ اطاعک منهم صلواةً تعصمهم بها من معصيتک وتفسح لهم فی ریاض جنتک وتمنعهم بها من کيد الشيطان وتعينهم بها علیٰ مااستعانوک عليه من برّ وتقيهم طوارق الليل والنهار الاّ طارقا یطرق بخيرٍ

“خدایاان تمام تا بعين پر آج کے دن سے قيامت کے دن تک مسلسل رحمتيں نا زل کر تے رہنااور ان کی ازواج اور اولا د پر بهی بلکہ ان کے تمام اطاعت گذاروں پر بهی وہ صلوات و رحمت جس کے بعد تو انهيں اپنی معصيت سے بچا لے اور ان کےلئے باغات جنت کی وسعت عطا فر ما دے اور انهيں شيطان کے مکر سے بچا لے اور جس نيکی پر امداد مانگيں ان کی امداد کر دے اور رات اور دن کے نا زل ہو نے والے حوادث سے محفوظ بنا دے ۔علاوہ اس حادثہ کے جو خير کا پيغام ليکر آئے ”

سرحدوں کے محا فظوں کے حق ميں دعا

اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ،وَحَصِّن ثُغُورَْالمُْسلِْمِينَْ بِعِزَّتِکَ وَاَیَّدحُْمَاتُهَا بِقُوَّتِکَ وَاَسبِْغ عَطَایَاهُم مِن جِدَتکَ اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَکَثِّرعِْدَّتَهُم وَاشحَْذاَْسلِْحَتَهُم وَاحرُْس حَوزَْتَهُم وَامنَْع حَومَْتَهُم وَاَلِّف جَمعَْهُم وَدَبِّراَْمرَْهُم وَوَاتِر بَينَْ مِيَرِهِم وَتَوَحَّد بِکِفَایَةِ مُونِهِم وَاعضُْدهُْم بِالنَّصرِْوَاَعِنهُْم بِالصَّبرِْوَالطُْف لَهُم فِي المَْکرِْ

اللهم صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَعَرِّفهُْم مَایَجهَْلُونَْ وَعَلِّمهُم مَالَایَعلَْمُونَْ وَ بَصِّرهُْم مَالَایُبصِْرُونَْ

“خدا یا محمد اور آل محمد پر رحمت نا زل فر ما اور اپنے غلبہ کے ذریعہ مسلمانوں کی سر حدوں کی محا فظت فر ما اور اپنی قوت کے سہارے محا فظين حدود کی تا ئيد فر ما اور اپنے کرم سے ان کے عطایا کو مکمل بنا دے خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجا ہدوں کی تعداد ميں اضافہ فر ما ان کے اسلحوں کو تيز و تند بنا دے ان کے مر کزی مقا مات کی حفاظت فر ما ،ان کے حدود و اطراف کی حراست فر ما ان کے اجتماع انس و الفت پيدا کر ان کے امور کی تدبير فر ما ان کی رسد کے و سائل کو متواتر بنا دے اور تو تن تنہا ان کی تمام ضروریات کے لئے کا فی ہو جا اپنی نصرت سے ان کے با زووں کو قوی بنا دے اور جو ہر صبر کے ذریعہ ان کی امداد فرما اور باریک تدبيروں کا علم عطا فرما ۔

خدا یا محمد اور آل محمد پر رحمت نا زل فر مااور مسلمانوں کو ان تمام چيزوں سے با خبر کر دے جن سے وہ نا واقف ہيں اور وہ تمام با تيں بتا دے جنهيں نہيں جا نتے ہيں اور وہ سارے منا ظر دکهلا دے جنهيں آنکهيں نہيں دیکه سکتی ہيں ” صحيفہ سجادیہ ميں ایک اور مقام پرامام زین العا بد ین عليہ السلام فرماتے ہيں :

۱۴

اللهم وایّمامسلم اهمّه امرالاسلام واحزنه تحزب اهل الشرک عليهم فنویٰ غزواً او همّ بجهاد فقعد به ضعف اوابطات به فاقة اواخرّه عنه حادث او عرض له دون ارادته مٰانع فاکتب اسمه فی العابدین واوجب له ثواب المجاهدین واجعله فی نظام الشهدٰآ ء والصالحين

“خدا یااور جس مسلمان کے دل ميں اسلام کا درد ہوا ور وہ اہل شرک کی گروہ بندی سے رنجيدہ ہوکرجہاد کاارادہ کر ے اور مقابلہ پر آمادہ ہوجائے ليکن کمزوری اسے بڻها دے یا فاقہ اسے روک دے یا کوئی حادثہ درميان ميں حائل ہوجائے اور اس کے ارادہ کی راہ ميں کوئی مانع پيش آجائے تو اس کا نام بهی عبادت گزاروں ميں لکه دینا اور اسے بهی مجاہدین کا ثواب عطا فرمادینا اور شہداء وصالحين کی فہرست ميں اس کا نام بهی درج کردینا ”

دعا مجاہدین الرساليين صحيفہ سجادیہ ميں امام زین العابدین فرماتے ہيں :اللهم وَاَیُّمَامُسلِْمٍ خَلَفَ غَازِیاً اومُْرَابِطاًفِي دَارِهِ اَوتَْعَهَّدَخَالِفِيهِْ فِی غَيبِْتِهِ اَواَْعَانَهُ بِطَائِفَةٍ مِن مَالِهِ،وَاَمَدَّهُ بِعِتَادٍ،اَو رَع یٰ لَهُ مِن وَّرَائِهِ حُرمَْةً فَ اٰ جِرلَْهُ مِثلَْ اجرِْهِ وَزنْاً بِوَزنٍْ،وَمِثلْاًبِمِثلٍْ

“اور خدایا جو مرد مسلمان کسی غازی یا سرحد کے سپاہی کے گهر کی ذمہ داری لے لے اور اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے یا اپنے مال سے اس کی مدد کرے یا جنگ کے آلات و ابزار سے اس کی کمک کرے یا پس غيبت اس کی حُر مت کا تحفظ کرے تو اسے بهی اسی جيسا اجر عطا کر ناتا کہ دونوں کا وزن ایک جيسا ہو ”

قرآن کریم ميں دعا کے تين صيغے

قرآن کریم ميں دعا کےلئے تين صيغے آئے ہيں :

١۔ایک انسان کا خود اپنے لئے دعا کرنا ۔

٢۔کسی دوسرے کےلئے دعا کرنا ۔

٣۔کچه افراد کا مل جل کر تمام مومنين کےلئے دعا کرنا ۔

دعا کے سلسلہ ميں ہم ذیل ميں ان تينوں گروہوں کے بارے ميں بيان کرتے ہيں تاکہ مو منين کےلئے دعا کرنے ميں ہم قرآن کے اسلوب سے واقف ہو سکيں:

۱۵

١۔ اپنے لئے دعا

دعا کا یہ مشہور ومعرف طریقہ ہے ہم قرآن کریم ميں انبياء عليہم السلام اور صالحين کی زبانی اس طرح دعا کرنے کے بہت سے نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہيں یا خدا کے وہ اپنے بندے جن کو الله نے اس طرح دعا کرنے کی تعليم دی ہے اس سلسلہ ميں قرآن کریم فرماتا ہے :

رَبِّ قَدآتَيتَْنِی مِنَ المُْلکِْ وعَلَّمتَْنِی مِن تَاوِیلِْ الاْحَادِیثِْ فَاطِرَ السَّ مٰوَاتِ وَالاَْرضِْ اَنتَْ وَلِیِّ فِی الدُّنيَْاوَالآْخِرَةِ تَوَفَّنِی مُسلِْماً وَاَلحِْقنِْی بِالصَّالِحِينَْ ( ١)

“پروردگار تو نے مجھے ملک بهی عطاکيا اور خوابوں کی تعبير کا علم بهی دیا تو زمين وآسمان کا پيدا کرنے والاہے اور دنيا وآخرت ميں ميراوالی اور سرپرست ہے مجھے دنيا سے فرمانبردارہی اڻهانا اور صالحين سے ملحق کردینا ”

رَبِّ اَدخِْلنِْی مُدخَْلَ صِدقٍْ وَاخرِْجنِْی مُخرَْجَ صِدقٍْ وَاجعَْل لِی مِن لَّدُنکَْ سُلطَْاناً نَصِيرْاً ( ٢)

“اور یہ کہئے کہ پروردگار مجھے اچهی طرح سے آبادی ميں داخل کر اور بہترین انداز سے باہر نکال اور ميرے لئے ایک طاقت قرار دیدے جو ميری مدد گار ثابت ہو ۔

رَبِّ اشرَْح لِی صَدرِی وَیَسِّرلِْی اَمرِْی وَاحلُْل عُقدَْةً مِن لِّسَانِی یَفقَْهُواْ قَولِْی (٣) “موسیٰ نے عرض کی پروردگار ميرے سينے کو کشادہ کردے اور ميرا کام ميرے لئے آسان کردے اور ميری زبان سے لکنت کی گرہ کهول دے تا کہ لوگ ميری بات اچهی طرح سمجهيں ”

رَبِّ تٰ لاَذَرنْی فَردَْاً وَانْتَْ خَيرُْال اْٰورِثينَ (۴)

____________________

١)سورئہ یوسف آیت/ ١٠١ ۔ )

٢)سورئہ اسراء آیت/ ٨٠ ۔ )

٣)سورئہ طہ آیت/ ٢۵ ۔ ٢٨ ۔ )

۴)سورئہ انبياء آیت/ ٨٩ ۔ )

۱۶

“پروردگار مجھے اکيلا نہ چهوڑدینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے۔ر َبَّ انزِْلنْی مُنزَْلاًمُ اٰبرَکاً وَانتَْ خَيرُْالمُْنزِْلينَ ( ١)

“اور یہ کہنا کہ پوردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ توبہترین اتارنے والا ہے ۔َبِّ اعُوذُبِکَّ مِن هَمَ اٰزتِ الشَّ اٰيطينِ وَاعُوذُ بِکَ رَبِّ ان یَحضُْرُونِ ( ٢)

“اور کہئے کہ پروردگار ميں شيطانوں کے وسوسوں سے تيری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے پنا ہ ما نگتا ہوں کہ شياطين مير ے پاس آجائيں ”

رَبِّ هَب لی حُکمَْاًوَالحِْقنْی بِالصاٰلِّحينَ وَاجعَْل لی لِ سٰانَ صِدقٍْ فیِ الآْخِرینَ (وَاجعَْلنْی مِن وَرَثةِجَنّةِالنَّعيمِ ( ٣)

“خدا یا مجھے علم وحکمت عطا فرمااور مجھے صالحين کے ساته ملحق کردے اور آئندہ آنے والی نسلوں ميں ميرا ذکر خير قائم رکه اور مجھے بهی نعمت کے باغ (بہشت)کے وارثوں ميں قراردے”

٢۔ دوسروں کےلئے دعا !

دوسرا طریقہ جس کے سلسلہ ميں قرآنی نمونے اور شواہد موجود ہيں ۔ خدا فرماتا ہے :وَقُل رَبِّ ارحَْمهُْ مٰاکَ مٰارَبّ اٰينی صَغيراً ( ۴)

“پرور دگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فر ما جس طرح کے انهوں نے بچپنے ميں مجھے پالا ہے ”

____________________

١)سورئہ مومنون آیت/ ٢٩ ۔ )

٢)سورئہ مومنون آیت/ ٩٧،٩٨ ۔ )

٣)سورئہ شعراء اآیت/ ٨٣ ۔ ٨۵ ۔ )

۴)سورئہ اسراء آیت/ ٢۴ ۔ )

۱۷

ملة العرش کی مومنين کے لئے دعا:رَبَّ اٰنوَسِعتَْ کُلَّ شَی ءِ رَحمَْة وَعِلمَْاً فَاغفِْرلِْلَّذینٍ اٰتبُواواتَّبَعوُاسَبيلَکَ وَقِهِم عَذابَ الجَْحيمِ رَبَّ اٰنوَادخِْلهُْم جَناٰتِّ عَدنٍْ الَّتی وَعَدتَْهُم وَمَن صَلَحَ مِن آ اٰبئِهم وَاز اْٰوجِهِم وَذُرِّ اٰیتِهِم اِنَّکَ انتَْ العّْزیزُالحَْکيمُ وَقِهِمَ السَيِّ اٰئتِ وَمَن تَقِ السَّيِّ اٰئتِ یَومَْئِذٍ فَقَد رحِمتَْهُ وَ لٰذِکَ هُوَالفَْوزُْ العَْظيمُ ( ١)

“خدایا تيری رحمت اور تيرا علم ہر شے پر محيط ہے لہٰذا ان لوگوں کو بخش دے جنهوں نے تو بہ کی ہے اور تيرے راستہ کا اتباع کيا ہے اور انهيں جہنم سے بچا لے ،پروردگار انهيں اور انکے باپ دادا ازواج اور اولاد ميں سے جو نيک اور صالح افراد ہيں انکو ہميشہ رہنے والے باغات ميں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ کيا ہے کہ بيشک تو سب پر غالب اور صاحب حکمت ہے ،اور انهيں برائيوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تونے برائيوں سے بچاليا گویا انهيں پر رحم کيا ہے اور یہ بہت بڑی کا ميابی ہے ”

٣۔اجتماعی دعا

قرآن کریم کا یہ سب سے مشہور طریقہ ہے اور قرآن کریم کی اکثر دعا ئيں اسی طرح کی ہيں اس سلسلہ ميں قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے :

اِهدِْنَاالصِّراطَ المُْستَْقيمَ صِ اٰرطَ الَّذینَ اَنعَْمتَْ عَلَيهِم غيرِالمَْغضُْوبِْ عَلَيهِْم وَلاَالضاٰلِّّينَْ (٢) ہم سيدهے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تونے نعمتيں نازل کی ہيں ان کا راستہ نہيں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہيں ”

____________________

١)سورئہ غافر آیت/ ٧۔ ٩ )

٢) سورئہ حمد آیت ۶۔ ٧۔ )

۱۸

رَبَّ اٰنتَقَبَّل مِناٰاِّنَّکَ اَنتَْ السّميعُ العَْليِمُ ( ١)

“اور دل ميں یہ دعا تهی کہ پروردگار ہماری محنت کو قبول فرمالے کہ تو بہترین سننے والا ہے ”

رَبَّنَاء تِاٰنَا فِی الدُّنيَْاحََسَنَةًوَفِی الآْخِرَةِحَسَنَةًوَقِنَاعَذَابَ النَّارِ ( ٢)

“پروردگار ہميں دنيا ميں بهی نيکی عطا فرما اور آخرت ميں بهی اور ہم کو عذاب جہنم سے محفوظ فرما”

رَبَّ اٰنافرِْغ عَلي اْٰنصَبرَْاًوَثَبِّت اق اْٰ دمَ اٰنوَانصُْر اْٰنعَلی القَْومِ ال اْٰ کفِرینَ ( ٣)

“خدایا ہميں بے پناہ صبر عطا فرما ہمارے قدموں کو ثبات دے اور ہميں کافروں کے مقابلہ ميں نصرت عطا فرما”

رَبَّ اٰنلَاتُواخِذنَْااِن نَسِينَْااَواَْخطَْانَارَبَّنَاوَلَاتَحَمِّل عَلَينَْااِصرْاًکَمَاحَمَلتَْهُ عَلیَ الَّذِینَْ مِن قَبلِْنَارَبَّنَاوَلَاتُحَمِّلنَْامَالَاطَاقَةَلَنَابِهِ وَاعفُْ عَنَّاوَاغفِْرلَْنَا وَارحَْمنَْااَنتَْ مَولَْانَا فَانصُْرنَْاعَلیَ القَْومِْ الکَْافِرِینَْ ( ۴)

“پروردگار ہم جو کچه بهول جائيں یا ہم سے غلطی ہوجائے اسکا ہم سے مواخذہ نہ کرنا خدایا ہم پر ویسا بوجه نہ ڈالنا جيسا پہلے والی امتوں پر ڈالاگيا ہے پروردگار ہم پر وہ بارنہ ڈالنا جس کی ہم ميں طاقت نہ ہوہميں معاف کردینا ہميں بخش دیناہم پر رحم کرنا تو ہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ ميں ہماری مدد فرما”رَبَّ اٰنلَاتُزِغ قُلُوبَْنَابَعدَْاِذهَْدَیتَْنَاوَهَب لَنَامِن لَّدُنکَْ رَحمَْةًاِنَّکَ اَنتْ

____________________

١)سورئہ بقرہ آیت ١٢٧ )

٢)سورئہ بقرہ آیت ٢٠١ )

٣)سورئہ بقرہ آیت ٢۵٠ ۔ )

۴)سورئہ بقرہ آیت ٢٨۶ ۔ )

۱۹

اَلْوَهَّابُ ( ١)

“ان کا کہنا ہے کہ پروردگار جب تونے ہميں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمارے دلوں ميں کجی نہ پيدا ہونے پائے اور ہميں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے ”

رَبَّ اٰناِنَّنَاسَمِعنَْامُنَادِیاًیُنَادِی لِلاِْیمَْانِ ان آمِنُواْبِرَبِّکُم فَآمَنَّارَبَّنَافَاغفِْرلَْنَا ذُنُوبَْنَاوَکَفِّرعَْنَّاسَيِّئَاتِنَاوَتَوَفَّنَامَعَ الاَْبرَْارِ رَبَّنَاوَآتِنَامَا وَعَدتَْنَاعَل یٰ رُسُلِکَ وَلَا تُخزِْنَا یَومَْ القِْيَامَةِ اِنَّکَ لَاتُخلِْفُ المِْيعَْادَ ( ٢)

“پروردگار ہم نے اس منادی کو سناجو ایمان کی آواز لگارہاتها کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے پروردگاراب ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری برائيوں کی پردہ پوشی فرما اور ہميں نيک بندوں کے ساته محشور فرما پروردگار جو تو نے اپنے رسول سے وعدہ کيا ہے اسے عطا فرما اور روز قيامت ہميں رسوا نہ کرنا کہ تو وعدہ کے خلاف نہيں کرتا”

( رَبَّنا اٰٴَفرِْغ عَليناْٰصَبرْاً وَتَوَفَّنَا مُسلِْمِينَْ ) ( ٣)

“خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہميں مسلمان دنيا سے اڻهانا”( رَبَّ اٰنآمَنَّافَاغفِْرلَْنَاوَارحَْمنَْاوَاَنتَْ خَيرٌْالرَّاحِمِينَْ ) ( ۴)

“پروردگار ہم ایمان لائے ہيں لہٰذا ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہم پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے ”’

( رَبَّ اٰناصرِف عَنَّاعَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَاکَانَ غَرَاماً ) (۵)

____________________

١)سورئہ آل عمران آیت ٨۔ )

٢)سورئہ آل عمران آیت ١٩٣ ۔ ١٩۴ )

٣)سورئہ اعراف آیت / ١٢۶ ۔ )

۴)سورئہ مو منون آیتِ ١٠٩ ۔ )

۵)سورئہ فرقان آیت/ ۶۵ ۔ )

۲۰