استاد محترم سے چند سوال

استاد محترم سے چند سوال0%

استاد محترم سے چند سوال مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 119

استاد محترم سے چند سوال

مؤلف: خدا نظر طوقی پور
زمرہ جات:

صفحے: 119
مشاہدے: 8880
ڈاؤنلوڈ: 935

تبصرے:

استاد محترم سے چند سوال
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 119 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8880 / ڈاؤنلوڈ: 935
سائز سائز سائز
استاد محترم سے چند سوال

استاد محترم سے چند سوال

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب .................................استاد محترم سے چند سوال

تنظیم وترتیب .................................خدا نظر طوقی پور

۳

سخن ناشر

کتاب حاضر ان بعض سوالات کا مجموعہ ہے جسے ایک دیوبندی مدرسہ کے طالب علم نے کلاس کے دوران یا خصوصی نشستوں میں اپنے استاد کی خدمت میں پیش کیا لیکن وہ ان سوالات کے جوابات حاصل نہ کرپائے

ان سوالات کو ایک دوست نے منظّم کر کے ان کی کاپی مختلف اساتیذ اور مولوی حضرات کی خدمت میں پیش کی ہے تاکہ وہ ان سوالات کا قانع کنندہ جواب دیں.

اس دوست سے بارہا یہ سنا گیا ہے کہ امید وار ہوں مجھ پر مودودی یا بریلوی ہونے کی تہمت نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ میں ایک پکا دیوبندی تھا اور اب بھی ہوں .امید وار ہوں کہ استاد محترم مجھے سمجھنے اور میرے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے

ہم نے بھی مصلحت اسی میں دیکھی کہ اس دوست کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے تاکہ بعض متعصب جاہلوںکے شر سے محفوظ رہ سکیں

ہم ان کے بعض سوالات کو مرتّب کر کے پیش کر رہے ہیں اور باقی سوالات کو عنقریب علمائ دیوبند کی خدمت میں پیش کیا جائے گا تاکہ تسلّی بخش جواب حاصل کر کے اپنے ذہن کو شبہات سے صاف کر سکیں

یہ دوست پاکستان کے مختلف دیوبندی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ درس نظامی وغیرہ کو طے کرتے ہوئے مفتی کے درجے پر فائز ہوئے اور اپنے حلقہ احباب میں انہیں اچھے لفظوں میں یا دکیا جاتا ہے ۔

والسّلام علی من اتّبع الهدٰی وترک الضّلال

۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ہجری

۴

چند سوال

استاد محترم ، دانشمند و توانا ، علّامہ ، فاضل ، جناب مولانا یقینا آپ شیخ الاسلام کے درجہ پر فائز ہیں اس لئے کہ آپ نے اہل سنّت والجماعت کی مدد کی اور مکتب سلف کو پروان چڑھایا،شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کی ترویج کی .میں نے آپ سے بہت زیادہ علمی استفادہ کیا ہے اور بدون مبالغہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں آپ پر ناز ہے اس لئے کہ آپ نے اس مذہب کو سر بلند کیا.

استاد محترم مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ پوری توانائی کے ساتھ میرے تمام سوالات کا جواب دیں گے اور کوئی ایک سوال بھی بغیر جواب کے نہیں رہنے دیں گے. میںاپنے ان تمام سوالات کو آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جو کلاس کے دوران یا کلاس کے علاوہ مطالعہ وغیرہ کے دوران میرے ذہن میں آئے اور ان میں سے بعض وہ سوالات بھی ہیں جن کے جوابات آپ دے چکے ہیںلیکن میں نے انہیں اس لئے ذکر کیا ہے تا کہ مزید ان سے استفادہ کرسکیں. نیز ایسے سوالات بھی ہیںجن کا آج تک جواب نہ مل سکا

آخر میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ یہ سوالات میرے اور آپ ہی کے درمیان باقی رہیں تا کہ غلط عناصر بریلویوں یا رافضیوںکے ہاتھوں نہ لگ جائیں اور وہ انہیں پڑھے لکھے افراد کے سامنے پیش کر کے خدا نخواستہ انہیں مذہب سلف سے دور اور گمراہ نہ کر دیں ۔

۵

خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ

۔حضرت ابوبکر (رض) کا پچاس لوگوں کے بعد اسلام لانا

سوال ۱: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر(رض) پچاس لوگوںیہاں تک کہ حضرت عمر(رض) کے بھی بعد اسلام لائے جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص(رض) سے نقل کیاگیا ہے.لہذا یہ کہنا جھوٹ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے اسلام لائے :محمد بن سعد ، قلت لأبی : أکان أبوبکر أوّل اسلاما ؟ فقال : لا ولقد أسلم قبله أکثر من خمسین (۱)

۔خالد بن سعید کا حضرت ابوبکر (رض) سے پہلے اسلام لانا

سوال ۲: کیا یہ درست نہیں ہے کہ خالد بن سعید بن عاص حضرت ابو بکر سے پہلے اسلام لا چکے تھے اور محمد بن ابو بکر اور دسیوں مؤرخین کے بقول جو شخص سب سے پہلے اسلام لایا وہ حضرت علی(رض) تھے ؟ جیسا کہ حضرت معاویہ کے نام ایک نامے میں اس حقیقت کا اعتراف کیاہے .اگر یہ سب حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے مؤرخین نے کہا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر (رض)ہیں ؟

کیا اس جھوٹی سازش کا مقصد خلیفہ اوّل کی شان بڑھانا ہے یا یہ کہ خلیفہ چہارم کی شان گھٹانا ہے ؟

۱ ۔ نامہ محمد بن ابوبکر (رض) :فکان أوّل من أجاب وأناب وآمن و صدّق ووافق فأسلم وسلّم أخوه وابن عمّه علیّ وهوالسّابق المبرز فی کلّ خیر ، أوّل النّاس اسلاما (۲)

۲ ۔ابو الیقظان :انّ خالد بن سعید بن العاص أسلم قبل أبی بکر الصدّیق (۳)

____________________

۱۔ تاریخ طبری ۱: ۰۴۵؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری۷: ۹۲، عسقلانی کہتے ہیں :فقد کان حینئذ جماعة من أسلم لکنّهم کانوایخفونه من أقاربهم

۲۔شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ۳: ۸۸۱

۳۔المستدرک علی الصحیحین ۳: ۸۷۲

۶

۳ ۔ سعد بن ابی وقاص :ابو بکر سے پہلے پچاس سے زیادہ لوگ اسلام لا چکے تھے(۱)

۴ ۔ امام زہری: حضرت عمر (رض) تقریبا چالیس لوگوں کے بعد اسلام لائے(۲)

۔حضرت ابو بکر (رض) کاجنگوں میں کردار

سوال ۳: کیایہ صحیح نہیں ہے کہ اسلام کی جنگوں میں حضرت ابوبکر(رض) کا کوئی کردار سامنے نہیں آتا ؟ یہاں تک کہ نہ تو کفار کے مقابلے میں انہوں نے کبھی شمشیر اٹھائی اور نہ ہی کسی دشمن اسلام کے خون کا کوئی قطرہ گرایا؟ جیسا کہ ابو جعفر اسکافی نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے:

لم یرم أبو بکر بسهم قطّ ولا سلّ سیفا ولا أراق دما (۳)

کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ہم انہیں اسلام کے مجاہد اور حضرت علی(رض) سے بھی افضل قرار دیتے ہیں ؟(۴) اگر کوئی شیعہ رافضی یہ کہے کہ تم ابوبکر (رض) کے بارے میں غلوّ کرتے ہو تو ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟

۔یار غار کونا

سوال ۴: کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ حضور علیہ ا لصلّاۃ والسّلام کے یار غار کا نام عبداللہ بن بکر بن اریقط تھا نہ کہ ابو بکر بن قحافہ خلیفہ اوّل ،(۵) لیکن نام ایک جیسا ہونے کی وجہ سے غلط فہمی ہوگئی اور ہم نے اسے خلیفہ اوّل سمجھ لیا ؟ اس لئے کہ:

۱ ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کبھی بھی اپنی اس فضیلت کا تذکرہ نہ کیا جبکہ سقیفہ میں ضعیف سے ضعیف حدیث اور فضیلت کا تذکرہ کیا.مثال کے طور پر فرمایا :نحن عشیرة رسول الله وأوسط العرب أنسابا

____________________

۱۔ تاریخ طبری ۱: ۰۴۵

۲۔ تاریخ الاسلام( السّیرۃ النبویّۃ ) : ۰۸۱؛ طبقات ابن سعد ۳: ۹۶۲؛ صفۃ الصفوۃ ۱: ۴۷۲

۳۔ شرح ابن ابی الحدید ۳۱: ۳۹۲

۴۔ تفسیر رازی ۰۱: ۳۷۱، امام رازی نے حضرت ابوبکر کے جہاد کو حضرت علی(رض) کے جہاد سے افضل قرار دیا ہے

۵۔ شرح ابن ابی الحدید ۳۱: ۳۹۲

۷

ولیست قبیلة من قبائل العرب الاّ ولقریش فیها ولادة (۱)

ہم رسول اللہ (ص) کے خاندان میں سے ہیں اور حسب و نسب میں سب سے بالا تر

۲ ۔ عسقلانی کے بقول تابعین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آیت غار کے حضرت ابوبکر سے متعلق ہونے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ ابو جعفر مومن طاق.(۲)

۳ ۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ (رض) واضح طور پر اقرار فرما چکی ہیں کہ ہماری شان میں کوئی ایک آیت بھی نازل نہیں ہوئیلم ینزل فینا شیئا من القرآن (۳)

۴ ۔ مشہور تو یوں ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) مدینہ منورہ میں حضور (ص) کے استقبال کے لئے تشریف لائے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے مدینہ میں موجود تھے نہ کہ آنحضرت (ص) کے ہمراہ ؟

۵ ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت (ص) غار کی طرف جاتے وقت اکیلے تھے(۴)

۶ ۔قدموں کے نشان سے کھوج لگانے والوں نے فقط آنحضرت (ص) کے قدم مبارک کے نشان دیکھے تھے جبکہ حضرت ابوبکر (رض) کانام تک نہ لیا(۵) یہی وجہ ہے کہ امام یحیٰی بن معین کہتے ہیں کہ اس سے حضرت ابوبکر (رض) کا پیغمبر (ص) کے ہمراہ غار میں جانا مشکوک لگتاہے.(۶)

۷ ۔ بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق تو حضرت ابو بکر (رض) مہاجرین کے پہلے پہلے گروہ میں شامل تھے

____________________

۱۔البدیۃ والنھایۃ ۶: ۵۰۲

۲۔ لسان المیزان ۵: ۵۱۱

۳۔ صحیح بخار ی ۶: ۲۴؛ تاریخ ابن اثیر ۳: ۹۹۱؛ البدایۃ والنھایۃ ۸: ۶۹؛ الاغانی۶۱: ۰۹

۴۔ البدیۃ والنھایۃ ۶: ۵۰۲

۵۔ فتوح البلدان ۱: ۴۶

۶۔تہذیب الکمال ۹۲: ۶۲

۸

جوآنحضرت سے پہلے مدینہ پہنچ چکے تھے اور وہ نماز جماعت میں بھی شرکت کیاکرتے.(۱)

۔علی(رض) کے بغیر اجماع ملعون ہے

سوال ۵: کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر(رض) کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع تھا.تو کیا یہ درست ہے کہ حضرت علی(رض) اور ان کے ہمراہ صحابہ کرام نے بیعت نہیں کی تھی جبکہ ایسا اجماع جس میں وہ شریک نہ ہوں اس پر خدا وند متعال نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ امام ابن حزم فرماتے ہیں:

لعنة الله علی کلّ اجماع یخرج منه علی بن أبی طالب ومن بحضرته من الصحابة (۲) .

۔حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت اجماع یاشورٰی سے

سوال ۶: کیا یہ بات درست ہے کہ حضرت ابو بکر(رض) کی خلافت نہ تو شورٰی کے ذریعے تھی اور نہ اس پرمسلمانوں کا اجماع قائم ہوا بلکہ وہ تو فقط ایک شخص حضرت عمر(رض) کے اشارے پر قائم ہوئی ۔اور اگر یہ بات درست ہو تو کیا تمام مسلمانوں پر ایسے شخص کی اطاعت کرنا واجب ہے جو اس وقت خلیفہ مسلمین بھی نہ تھا بلکہ اسلامی ملک کا ایک عام باشندہ اور دوسرے مسلمانوں کے مانند ایک مسلمان تھا ؟ اور اگر کوئی شخص ایسے آدمی کی اطاعت نہ کرے تو کیسے اس کا خون مباح ہوسکتا ہے ؟ کیا یہ ایک فرد قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر حجت ہے؟ جبکہ ہمارے بہت سے علمائ جیسے ابویعلیٰ حنبلی متوفٰی ۸۵۴ ھ کہتے ہیں:لاتنعقد الاّ بجمهور أهل العقد والحلّ من کلّ بلد لیکون الرّضا به عاما، والتّسلیم لامامته اجماعا .وهذا مذهب مدفوع ببیعة أبی بکر علی الخلافة باختیار من حضرها ولم ینتظر ببیعة قدوم غائب عنها (۳)

____________________

۱۔ صحیح بخاری ۱: ۸۲۱، کتاب الأذان اور ۴: ۰۴۲،کتاب الاحکام ،باب استقضائ الموالی واستعمالھم ؛ سنن بیہقی ۳: ۹۸؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۳۱: ۹۷۱اور ۷: ۱۶۲و ۷۰۳

۲۔المحلّٰی ۹:۵۴۳

۳۔الأحکام السلطانیۃ : ۳۳.

۹

قرطبی کہتے ہیں :فانّ عقدها واحد من أهل الحلّ والعقد ..(۱)

۔مہاجرین وانصار کاخلیفہ اول (رض) کی خلافت کی مخالفت کرنا

سوال ۷: کیا یہ درست ہے کہ تمام انصار اور مہاجرین کا ایک گروہ حضرت ابوبکر(رض) کی بیعت کا مخالف تھا جیسا کہ حضرت عمر نے اس کی وضاحت یوں بیان کی ہے :

حین توفٰی الله نبیّه أنّ الأنصار خالفونا واجتمعوا بأسرهم فی سقیفة بنی ساعدة وخالف عنّا علیّ وا لزّبیر ومن معهما (۲)

جب رسالت مآب (ص) کی وفات ہوئی تو انصار نے ہماری مخالفت کی اور وہ تمام سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ،نیز علی(رض) وزبیر(رض) اور ان دونوں کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی .بنا بر ایں یہ دعوٰی کرنا کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع موجود ہے ؟

حضرت علی (رض) کا بیعت نہ کرنا

سوال ۸: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی(رض) نے ہرگز حضرت ابوبکر(رض) کی بیعت نہ کی اور اپنی مٹھی بند رکھی لیکن جب

حضرت ابوبکر (رض) نے یہ صورت حال دیکھی تو خود اپنا ہاتھ حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اسی کو اپنی بیعت قرار دے دیا ؟جیسا کہ مسعودی لکھتے ہیں:

فقالوا له، : مدّ یدک فبایع ، فأبٰی علیهم فمدّوا یده، کرها فقبض علی أنامله

____________________

۱۔جامع احکام القرآن ۱: ۲۷۲

۲۔صحیح مسلم ۳: ۳۴۱،کتاب الجہاد ،باب حکم الفیئ ؛ صحیح بخاری ۳: ۷۸۲،کتاب النفقات ،باب ۳، حبس نفقۃ الرّجل قوت سنتہ علی أھلہ .اور ۴: ۲۶۲،کتاب الاعتصام بالکتاب والسّنۃ ، باب ما یکرہ، من التعمق وا لتنازع ؛و ۴: ۵۶۱،کتاب الفرائض ، باب قول النبی لانورث ؛و ۲: ۷۸۱،کتاب الخمس ،باب فرض الخمس

۱۰

فراموا بأجمعهم فتحها فلم یقدروا فمسح علیها أبوبکر وهی مضمونة (۱)

اس کے باوجو د بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر (رض) کی بیعت اہل حل و عقد کے اجماع سے واقع ہوئی .کیا اسی کو اجماع واتفاق کہتے ہیں؟ اور پھر اس حدیثعلیّ(رض) مع الحقّ وا لحقّ مع علیّ(رض) یدور معه، حیث مادار (۲)

علی(رض) حق کے ساتھ ہے اور حق علی(رض) کے ساتھ ہے .حق اسی طرف پھرتا ہے جہاں علی(رض) پھرجائیں.

۔حضرت علی(رض) کی نظر میں شیخین کی حکومت

سوال ۹: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی اورحضور کے چچاحضرت عباس بن عبدالمطلب ،حضرت ابو بکر(رض) اور حضرت عمر (رض)کی خلافت کو جھوٹ ، دھوکے، خیانت،گناہ اور پیمان شکنی پر استوار جانتے تھے .اورہمیشہ اس نظریے پر باقی رہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس مطلب کو یوں بیان کیا گیا ہے :

فلمّا توفّٰی رسول الله قال أبوبکر : أنا ولی رسول الله ، فجئتما نی تطلب میراثک من ابن أخیک ویطلب هذامیراث امرأته عن أبیها ، فقال أبوبکر : قال رسول الله : ما نورث ،ما ترکنا صدقة فرأیتماه کاذبا آثما ، غادرا خائنا .والله یعلم انّه لصادق بارّ راشد تابع للحقّ ثمّ توفٰی أبوبکر وأنا ولیّ رسول الله وولیّ أبی بکر فرأیتمانی کاذبا آثما غادرا خائنا

جب رسول اکرم (ص) نے وفات پائی تو ابوبکر(رض) نے کہا : میں آنحضرت (ص) کاجانشین ہوں اسوقت آپ دونوں (عباس (رض)اور علی (رض)) نے آنحضرت (رض) کی میراث طلب کی لیکن ابوبکر (رض) نے کہا : رسول خد ا(ص) نے فرمایا ہے: ہم انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے تو آپ دونوں نے حضرت ابو بکر (رض) کو جھوٹا ، خائن ، گنہگار اور دھوکے

____________________

۱۔اثبات الوصیۃ: ۶۴۱؛ الشّافی ۳: ۴۴۲

۲۔مستدرک حاکم ۳: ۵۲۱؛ جامع ترمذی ۵: ۲۹۵ ،ح۴۱۷۳؛مناقب خوارزمی :۶۷۱،ح ۴۱۲؛

فرائد السّمطین ۱: ۷۷۱،ح ۰۴۱؛ شرح المواہب اللدنیۃ ۷: ۳۱

۱۱

باز کہا.جبکہ خدا جانتا ہے کہ وہ سچے ، نیک ، سیدھی راہ پر چلنے والے اور حق کے پیرو تھے پھر جب حضرت ابو بکر (رض) نے وفات پائی تو میں حضرت ابوبکر (رض)اور آنحضرت(ص) کاجانشین بنا تو آپ دونوں نے مجھے بھی جھوٹا ، گنہگار ، دھوکے باز اور خائن سمجھا(۱)

امام بخاری کی احادیث میں ردُّوبدل کی مہارت

سوال ۱۰:کیا یہ درست ہے کہ امام بخاری نے اسی حدیث کو اپنی کتاب میںچار مختلف مقامات پر نقل کیا ہے لیکن لفظ گناہگار ، خائن ، پیمان شکن کی جگہ کذا وکذا یا کلمتکما واحدۃ لکھ دیاتاکہ یوں خلافت شیخین کے بارے میں اہل بیت پیغمبر کی منفی نظر سے لوگ آگاہ نہ ہو پائیں؟؟

کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے باب خمس ، نفقات ،اعتصام اور باب فرائض میں اس روایت کو نقل توکیا لیکن اس میں تبدیلی کردی .کتاب نفقات میں لکھا ہے :تزعمان أنّ أبابکرکذا وکذا

اور باب فرائض میں یوں لکھا ہے :ثم ّ جئتمانی وکلمتکما واحدة

۔حضرت علی(رض) کے قتل کی سازش

سوال ۱۱: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت علی (رض) کے قتل کی سازش بنائی اور اس کام کے لئے حضرت خالد بن ولید کا انتخاب کیا لیکن بعد میں ناکام ہوجانے کے ڈر سے پشیمان ہوئے اور خالد بن ولید کو اس کام سے روک دیا؟جیسا کہ ہمارے علمائ میں سے سمعانی نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے(۲) تو کیا اس کے باوجود بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخین کے اہل بیت رسول (ص) اور خاص طور پر حضرت علی (رض) کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ؟

کیا امامت اصول دین میں سے ہے

سوال ۱۲: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے علمائ خاص طور پر بیضاوی کا کہنا ہے کہ اصول دین میں سے اہم ترینا

____________________

۱۔ صحیح مسلم ۳: ۳۴۱، کتاب الجہاد ، باب حکم الفیئ ؛ صحیح بخاری ۳: ۷۸۲، کتاب النفقات ، باب ۳ ، باب حبس نفقۃ الرّجل قوت سنتہ علی أھلہ ، اور ۴: ۲۶۲، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، باب ما یکرہ من التعمق والتنازع ، اور ۴: ۵۶۱، کتاب الفرائض ،باب قول النّبیّ لانورث ، او ر۲: ۷۸۱،کتاب الخمس ، باب فرض الخمس

۲۔انساب الأنساب ۳: ۵۹

۱۲

مسئلہ امامت کا ہے اور اس کا مخالف بدعتی اور کافر ہے :

انّ الامامة من أعظم مسائل أُ صول الدّین الّتی مخالفتها توجب الکفر والبدعة (۱) در حقیقت اس امامت سے مراد کونسی امامت ہے ؟ کیا حضرت ابوبکر(رض) کی امامت ہے جس پر اُمّت کا اجماع تھا اور نہ ہی ان کی افضلیت کی کوئی دلیل ؟ بلکہ فقط اور فقط ایک شخص کے اشارے پر یہ بیعت ہوئی اور وہ بھی حضرت عمر (رض) ؟

کیا واقعا ایسی امامت اصول دین میں سے ہے اور اس کا مخا لف کافر اور بدعتی ہے ؟! یا یہ کہ ایسی امامت مراد ہے جو خدا وند متعال کی عطا کی ہوئی اور پیغمبر (ص) کی تائید شدہ ہوجیسا کہ ارشاد فرمایا:( انّی جاعلک للناس اماما ) (۲)

۔کون افضل ؟ پیغمبر(ص) یا ابوبکر(رض)

سوال ۱۳: کیا یہ درست ہے کہ ہم دیوبندی حضرت ابوبکر (رض) کو پیغمبراکرم (ص)سے افضل جانتے ہیں ؟ اور یہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون حضور کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے گھر میں موجود درخت گر کر ٹوٹ چکا ہے تو آںحضرت (ص) نے فرمایا: تمہارا شوہر مر جائے گا جس پر وہ عورت ناراض ہو کر واپس جانے لگی تو راستے میں حضرت ابوبکر کو دیکھا ااور ان سے اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا: تمہارا شوہر سفر سے واپس پلٹ آئے گا .اور اسی طرح ہوا .دوسرے دن وہ عورت پیغمبر (ص) کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور شکوہ کیا جس پر حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور یہ وحی سنائی کہ خدا وند متعال کو شرم آتی ہے کہ صدیق کی زبان پر جھوٹ جاری ہو یعنی پیغمبر (ص) کی زبان پر جھوٹ جاری ہوتا ہے تو ہو جائے تا کہ حضرت ابو بکر (رض)کی شخصیت پر حرف نہ آنے پائے:

یامحمد ! الّذی قلته هو الحقّ ، ولکن لمّا قال الصّدیق أنّک تجتمعین به فی هذه

____________________

۱۔ الصوارم المحرقہ ۳: ۲۲

۲۔ سورہ بقرہ : ۴۲۱

۱۳

اللیلة استحیا الله منه أن یجری علی لسانه الکذب لأنّه صدّیق فأحیاه، کرامة له ،(۱)

۔احادیث رسول (ص) کا نذر آتش کرنا

سوال ۱۴:کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ اوّل نے احادیث رسول (ص) کونذر آتش کر دیا تھا ؟ جیسا کہ علامہ متقی ہندی نے لکھا ہے :

انّ أبا بکر أحرق خمس مئة حدیث کتبه عن رسول الله (۲)

یعنی حضرت ابوبکر(رض) نے پانچ سو احادیث کو جلا دیا جو انہوں نے آنحضرت (ص) سے نقل کر کے لکھ رکھی تھیں

حضرت ابوبکر و عمر (رض)کے تعلقات

سوال ۱۵: کیا یہ درست ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ایک مرتبہ آںحضرت (ص) کی موجودگی میں آپس لڑ پڑے اور شور کرنا شروع کیا تو یہ آیت مجیدہ نازل ہوئی :( لاترفعواأصواتکم فوق صوت النّبی ) (۳) پیغمبر (ص) کی آواز پر اپنی آواز کو مت بلند کرو؟(۴)

اسی طرح ایک بار حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے زمانہ خلافت میں کچھ زمین کی سند ایک عورت کو دی تو حضرت عمر(رض) نے اسے لے کر پھاڑ ااور اس پر تھوک دیا۔(۵)

اسی طرح حضرت عمر (رض) کا عقیدہ یہ تھاکہ حسد کے دس حصوں میں سے نو حصے حضرت ابو بکر میں موجود ہیں اور ایک حصّہ پورے قریش میں لیکن اس ایک حصّہ میں بھی ابو بکر شریک ہیں ۔(۶)

____________________

۱۔نزہۃ المجالس ۲: ۴۸۱ ۲۔ کنزالعمال ۰۱: ۵۸۲ ۳۔سورہ حجرات: ۲ ۴۔ مسنداحمد۴: ۶

۵۔الدّر المنثور ۳:۲۵۲

۶۔شرح ابن ابی الحدید ۱: ۰۳

۱۴

خلیفہ دو م رضی اللہ عنہ۔

خلیفہ دوم کا اپنے ایمان میں شک کرنا

سوال ۱۶: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) کو اپنے ایمان میں شک تھا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ منافقین میں سے ہیں .جیسا کہ امام ذہبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ حضرت حذیفہ یمانی(رض) سے عاجزانہ التماس کیا کرتے کہ وہ انہیں بتائیں کہ کہیں ان کا نام منافقین میں تو نہیں ہے ؟

حذیفة أحد أصحاب النبیّ أسرّ الیه أسمائ المنافقین ...وناشده، عمر بالله : أنا من المنافقین ...(۱)

۔کیا حضور (ص) نے خود کشی کرنا چاہی

سوال ۱۷:کیا یہ صحیح ہے کہ جب کبھی پیغمبر پر وحی کے نازل میں تاخیر ہو جاتی تو خود کشی یا ٹیلے سے اپنے آپ کو گرا دینے کا بارہا پروگرام بناتے یا پھر اپنی نبوت میں شک کرنے لگتے اور یہ گمان کر بیٹھتے کہ شاید وحی عمر بن خطاب پر منتقل ہو گئی ہے اور آج کے بعد وہ نبی بن گئے ہیں؟جیسا کہ امام بخاری نے لکھا ہے :

وفتر الوحی فترة حتّٰی حزن النبیّ فیما بلغنا حزنا غدا منه مرارا ، کی یتردّی من رؤوس شواهق الجبال ، فکلّما أوفٰی بذروة جبل ،لکی یلقی منه نفسه ،تبدّی له، جبرائیل فقال: یا محمّد انّک رسول الله حقّا .فیسکن لذلک جأشه وتقرّ نفسه فیرجع فاذا طالت علیه فترة الوحی غدالمثل ذلک ..(۲)

____________________

۱۔ تاریخ الاسلام (الخلفائ): ۴۹۴؛

۲۔صحیح بخاری ،کتاب التعبیر ،ح ۲۸۹۲؛ کتاب الأنبیائ ،ح ۲۹۳۳؛کتاب التفسیر ،ح ۳۵۹۴؛ الامام البخاری : ۲۴۱

۱۵

۔کیا حضرت عمر (رض) کند ذہن تھے

سوال ۱۸:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض)انتہائی کند ذہن تھے یہاں تک کہ بارہ سال کی مدت میں مشکل سے سورہ بقرہ حفظ کی اور اس کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کیا ؟جیسا کہ امام ذہبی نے لکھاہے:

قال ابن عمر: تعلّم البقرة فی اثنتی عشرة سنة ، فلمّا تعلّمها نحر جزورا (۱)

اسی طرح جصاص اور سیوطی کے بقول حضرت عمر (رض)آخر تک آیت کلالہ کا معنیٰ نہ سمجھ پائے اور پھر خود بھی اس کا اقرار کیا(۲)

۔حضرت عمر(رض) کی خلافت پر لوگوں کااعتراض

سوال ۱۹: کیا یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) کے خلافت کیلئے حضرت عمر (رض) کے انتخاب سے لوگ ناراض تھے اور وہ اپنی اس ناراضگی کا اظہار طلحہ بن عبیداللہ کے سامنے کیا کرتے ؟(۳)

۔کیا حضرت عمر (رض) حکم تیمم نہیں جانتے تھے

سوال ۲۰:کیا یہ بھی صحیح کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر (رض) اپنی خلافت کے دوران تک تیمم کے حکم سے آگاہ نہ تھے اور اگر کوئی شخص مسئلہ پوچھ لیتا کہ اگر غسل جنابت کرنا ہو اور پانی بھی نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے ؟ تو وہ جواب

میں فرماتے :جب تک پانی میسّر نہ ہو تب تک نماز ترک کر دی جائے ...! اور دوماہ تک پانی نہ ملتا توخلیفہ دوم نماز کے قریب نہ جاتے

____________________

۱۔ تاریخ الاسلام (الخلفائ ): ۷۶۲

۲۔ کنز العمال ۱۱: ۹۷؛ تفسیر الدرّ المنثور ۲:۹۴۲؛ احکام القرآن جصاص حنفی ۲: ۰۱۱.عن سعید بن مسیّب أنّ عمر سأل رسول الله کیف یورث الکلالة ؟ قال : أو لیس قد بیّن الله ذلک ؟ ثمّ قرأ : وان کان رجل یورث الکلالة أو امرأة الی آخر الآیة فکان عمر لم یفهم ، فأنزل الله یستفتونک قل الله یفتیکم فی الکلالة الی آخر الآیة فکان عمر لم یفهم فقال لحفصة : اذا رأیت من رسول الله طیب نفس فأسألیه عنها! فقال : أبوک ذکر لک هذا ؟ ما أرٰی أباک یعلمها أبدا ! فکان یقول : ماأرانی أعلمها أبدا وقد قال رسول الله ما قال.

۳۔ کنزالعمّال ۵: ۸۷۶

۱۶

امام نسائی نے اس بارے میں یوں روایت نقل کی ہے :

کنّا عند عمر فأتاه، رجل ،فقال: یاأمیرالمؤمنین ربّما نمکث الشّهر والشّهرین ولانجد المائ ؟ فقال عمر: أمّا أنافاذا لم أجد المائ لم أکن لأصلّی حتّٰی أجد المائ (۱)

کیا حضرت عمر (رض) اور ان کے فرزند کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے

سوال ۲۱:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہم سلفیوں کے امام کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے ؟ جیسا کہ امام مالک نے حدیث نقل فرمائی ہے :

عن عبدالله بن دینار قال:رأیت عبدالله بن عمر یبول قائما

ابن دینار کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا وہ کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے تھے

اسی امام ترمذی نقل فرماتے ہیں :عن عمر :رآنی النبیّ وأنا أبول قائما. فقال: یا عمر لاتبل قائما (۲)

پیغمبر نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے عمر ! کھڑے ہو کر مت پیشاب کرو.

امام عسقلانی حضرت عمر (رض) کے اس فعل کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

البول قائما أحفظ للدّبر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے گانڈ محفوظ رہتی ہے(۳)

امام عسقلانی مزید لکھتے ہیں ثابت ہو گیا کہ صحابہ کرام (رض)میں سے کچھ افراد کھڑے ہو کر پیشاب کیا

____________________

۱۔سنن نسائی ۱: ۸۶۱؛ امام بخاری نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن حضرت عمر (رض) کی عزت بچانے کی خاطر یہ جملہ کاٹ دیا کہ میں جنابت کی حالت میں ہوں اور پانی نہ ملتا تو نمازتر ک کردیا کرتا ہوں .بخاری ۱: ۰۷ ،باب المتیمم ھل ینفح فیھما.

۲۔سنن ترمذی ۱: ۸۱

۳۔فتح الباری شرح صحیح بخاری ۱: ۲۶۲؛ ارشاد الساری شرح صحیح بخار ی ۱: ۷۷۲

۱۷

کرتے تھے جن میں حضرت عمر (رض) بھی شامل ہیں

جبکہ ہم یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: اقتدوا بالّذین من بعدی ( ۱ میرے بعد آنے والے یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی پیروی کرو .تو اس اعتبار سے کیا ہم پر واجب ہے کہ کھڑے ہو پیشاب کریں ؟ یا حضرت عمر (رض) کی اس سیرت سے فقط اس عمل کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے ؟ اور پھر کیا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے جو چھینٹیں کپڑوںپڑ تی پیں ان سے لباس نجس ہو گا یا نہیں؟ اور حضرت عمر (رض) کا یہ عمل آنحضرت (ص) کے اس فرمان سے کیسے جمع ہو سکتا ہے جس میں فرمایا:

من الجفائ أن یبول الرّجل قائما (۲)

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ظلم ہے

اب ہم اہل سنّت آنحضرت (ص) کی اس حدیث پر عمل کریں یا حضرت عمر (رض) کی سیرت پر ؟

حضرت ابو ہریرہ(رض) چور تھے

سوال ۲۲: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابو ہریرہ(رض) چور تھے اور انہوں نے بیت المال سے بہت زیادہ مال چرایا اور حضرت عمر(رض) بھی انہیں چور اور دشمن خدا کہا کرتے جیسا کہ ہماری معتبر کتب میں نقل کیا گیاہیکہ حضرت عمر (رض) انہیں کہا کرتے :

یا عدوّ الله وعدوّ کتابه سرقت مال الله (۳)

اے دشمن خدا و قرآن ! تو نے مال خداکوچرالیا

کیاحضرت عمر(رض) کا امّ کلثوم سے عقد نہیں ہوا

سوال ۲۳:کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر (رض) کے امّ کلثوم سے نکاح کا ماجرا ایک جھوٹی داستان ہے اس لئے کہ

۱: یہ داستان تفصیل کیساتھ صحاح ستّہ میں سے کسی ایک میں بھی نقل نہیں ہوئی

____________________

۱۔سنن ترمذی ۵: ۰۳۶

۲۔عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ۳: ۵۳۱

۳۔الطبقات الکبرٰی ۴: ۵۳۳؛ سیر اعلام النبلائ ۲: ۲۱۶

۱۸

۲: بعض محققین کا تو کہنا ہے کہ حضرت علی (رض) کی کسی بیٹی کا نام اُمّ کلثوم نہیں تھا.(۱) بلکہ یہ حضرت زینب کی کنیت تھی اور ان کی شادی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی

۳: نام میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیٹی اُمّ کلثوم سے شادی کی خواستگاری کی تھی مگر حضرت عائشہ (رض) کی مخالفت کی وجہ سے شادی واقع نہ ہو سکی(۲)

۴: حضرت عمر (رض) کا اُمّ کلثوم نامی خاتون سے عقد تو ہوا لیکن اس کے باپ کا نام جرول تھا جو عبید اللہ بن عمر (رض) کی ماں تھیں(۳)

۵: تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ماجرا من گھڑت ہے اس لئے کہ کہتے ہیں امّ کلثوم کی شادی پہلے عمر(رض) سے ہوئی ان کی وفات کے بعد محمد بن جعفر سے ، ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی عون بن جعفر سے ہوئی جبکہ ہماری تاریخی کتب اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ دونوں بھائی حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں جنگ تستر شہید ہوگئے تھے(۴)

اور پھر ہماری کتب میںیہ بھی لکھا جاتاہے کہ ان دونوں بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی شادی ان کے تیسرے بھائی عبداللہ بن جعفرسے ہوئی جبکہ ان کی شادی تو حضرت زینب سے ہوئی تھی اور وہ اس وقت تک اسی عبداللہ کے عقد میں ہی تھیں تو کیا اسلام میں ایک زمانہ میں دو بہنوں کے ساتھ شادی جائز ہے(۵) یا یہ کہ حقیقت میں ایسا عقد واقع ہی نہیں ہوا ۔

____________________

۱۔ حیات فاطمہ الزہرائ: ۹۱۲،باقر شریف قرشی؛علل الشرائع ۱: ۶۸۱،باب ۹۴۱

۲۔ الأغانی ۶۱: ۳۰۱

۳۔سیر اعلام النبلائ ( تاریخ الخلفائ): ۷۸

۴۔استیعاب ۳: ۳۲۴اور ۵۱۳؛ تاریخ طبری ۴: ۳۱۲؛ الاکمل فی التاریخ ۲: ۶۴۵

۵۔ الطبقات الکبرٰی ۸: ۲۶۴

۱۹

۔چار ہزار کلو میٹر کے فاصلے لشکر کو کمانڈ کرنا

سوال۲۴: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) چار ہزار کیلو میٹر کے فاصلے پر بیٹھ کر اپنے لشکر کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہتے تھے اور ان سے گفتگو بھی کرتے اور لشکر بھی ان کی باتوں کا جواب دیا کرتا جس کے نتیجہ میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی جیسا کہ ہمارے مؤرخین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے :

من کلام عمر قاله علی المنبرحین کشف له، عن ساریة وهوبنهاوند من أرض فارس (۱)

اگر شیعہ ہم سے یہ کہیں کہ تم حضرت عمر (رض) کے بارے میں غلوّ کرتے ہو جیسا کہ محمد بن درویش نے بھی کہا ہے(۲) تو ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟اس لئے کہ ایسا واقعہ عقل و نقل کے خلاف ہے جیسا کہ عسقلانی نے بھی بیان کیا اور کیا ایسی بات پیغمبر (ص) کی طرف بھی نسبت دی جاسکتی ہے ؟

۔کیا حضرت علی(رض) ،حضرت عمر(رض) سے متنفر تھے

سوال ۲۵:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی (رض)، حضرت عمر (رض) کے ساتھ مل بیٹھنے یا ان سے ملاقات کرنے سے نفرت کرتے تھے یہاں تک کہ جب بھی حضرت ابوبکر (رض) ان سے ملنے کی خواہش کرتے تو وہ یہ شرط لگاتے کہ عمر (رض) کو اپنے ہمراہ نہ لانااس لئے کہ مجھے ان سے نفرت ہے جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اسے بیان کیا : أرسل ۔علیّ(رض)۔الی أبی بکر أن ائتنا ولا یأتنا أحد معک کراهیة لمحضر عمر ...(۳)

ان تمام تر شواہد کے باوجود کیسے یہ دعوٰی کیا سکتا ہے کہ خلفائ کے اہل بیت رسول (ص) کے ساتھ اچھے روابط تھے ؟

____________________

۱۔ ابن عساکر : ۷۴؛ البدایۃ والنھایۃ ۷: ۵۳۱؛ الکامل فی الضعفائ ۳: ۵۳۴؛ الجرح والتعدیل ۴: ۸۷۲؛ تہذیب التہذیب ۴: ۹۵۲

۲۔أسنیٰ المطالب : ۷۵۵،ح ۳۶۷۱

۳۔ صحیح بخاری ۳: ۵۵،کتاب المغازی (خیبر)

۲۰