خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض0%

خاندان کےاخلا ق و فرائض مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف: غلام مرتضیٰ انصاری
زمرہ جات:

مشاہدے: 5050
ڈاؤنلوڈ: 734

تبصرے:

خاندان کےاخلا ق و فرائض
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 60 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5050 / ڈاؤنلوڈ: 734
سائز سائز سائز
خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف:
اردو

حق احسان

متعدد آیات میں یکتا پرستی کی طرف دعوت کیساتھ ساتھ ماں باپ کیساتھ احسان کرنے کا بھی حکم آیا ہے:( وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا )(۱) خدا کی عبادت کرو اور اس کیساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کیساتھ احسان کرو۔ دوسری جگہ فرمایا:( قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) -(۲) کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا( وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ ) ۔ –(۳) اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا. اور احسان سے مراد کچھ محدود چیزیں نہیں بلکہ سب نیک اور شائستہ کام مراد ہے جو انسان کسی دوسرے کیلئے انجام دیتا ہے۔اولاد پر والدین کا بہت بڑا حق ہے خصوصاً ماں کا ۔ چنانچہ ایک جوان پیامبر اسلام (ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا :یا رسول اللہ (ص)میری ضعیفہ ماں ہے جو حرکت نہیں کرسکتی ۔ میں اسے اپنے دوش پر اٹھا کر ادھر ادھر لے جاتا ہوں ، اسے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوں اور جو بھی میری ماں مجھ سے تقاضا کرے اسے پورا کرتا ہوں اسے خوش رکھتا ہوں ۔ کیا میں نے ان کی میرے لئے اٹھائی ہوئی زحمتوں کا ازالہ اور حق اداکیا یا نہیں؟

رسولخدا (ص) اس جوان کےحسن سلوک پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : آفرین ہو تجھ پر ، لیکن پھر بھی ماں کی زحمتوں کا ازالہ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ تجھے نو ماہ بڑی مشقتوں کیساتھ پیٹ میں اٹھاتی رہی اور جب تو دنیا میں آیا تو اس کی پستانوں سے خوراک حاصل کرتے رہے۔ اور تجھے اپنی آغوش میں لیکرادھر ادھر پھراتی رہی ۔ اور ہمیشہ تیری مدد کرتی رہی اور ہر قسم کی اذیت و آزار سے تمھیں بچاتی رہی، اس کا دامن تیری آرام گاہ تھی اور وہ تیری رکھوالی۔ ماں دن رات اس شوق اور آرزو کیساتھ تیری پرورش کرتی رہی کہ تو بڑے اور قدرت مند ہو تاکہ تو اچھی زندگی گزارسکے، لیکن تو! اگرچہ ماں کی اس قدر خوش اسلوبی کیساتھ خدمت کرتے رہے ہو لیکن اس امید اور آرزو کے بغیر! اس لئے تو ماں کی زحمتوں کا ازالہ اور جبران نہیں کرسکتے –(۴)

امام صادق(ع) فرماتے ہیں: ایک شخص رسولخدا (ص)کی خدمت میں مشرف ہوا اور عرض کیا کہ میں ایک ایسا جوان ہوں جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن میری ماں اس کام کی طرف ہرگز مائل نہیں۔

رسول اکرم(ص) نے فرمایا: واپس جا اور اپنی ماں کے پاس رہو ۔ اس خدا کی قسم جس نے ہمیں حق پر مبعوث فرمایا ہے ایک رات ماں کی خدمت کرنا خدا کی راہ میں ایک سال تک جہاد کرنے سے بہتر ہے-(۵)

اسلام ماں باپ سے نیکی کو فضیلت اور برتری کا معیار قرار دیتا ہے امام صادق A نقل کرتے ہیں : ایک دن رسول اکرم(ص) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کی آپ کی رضاعی بہن وارد ہوئیں۔آنحضرت ۷ نے ان کی شایان شان عزت کی اور انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور ان کیلئے کپڑا بچھا دیا تاکہ اس پر بیٹھیں اور بعد میں ان سے گفتگو میں مشغول ہوگئے۔ کچھ دیر بعد وہ چلی گئیں اور تھوڑی ہی دیر بعد ان کا بھائی جو آنحضرت کا رضاعی بھائی تھا حاضر خدمت ہوا لیکن اب کے آنحضرت (ص)نے اس کیلئے ویسی تعظیم انجام نہ دی۔ حاضرین میں سے ایک نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس فرق کی کیا وجہ تھی حالانکہ یہ شخص مرد ہے۔ آپ نے

فرمایا: اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑکی اپنے باپ اور ماں کا زیادہ احترام کرتی ہے۔(۶)

____________________

۱ ۔ نساء ۳۶۔

۲ ۔ انعام ۱۵۱۔

۳ ۔ بقرہ ۸۳ ۔

۴ ۔ الگوہای تربیت کودکان،ص٦٧

۵ ۔ جامع السعادات،ج٢،ص٢٦١ ۔

۶- ۔ جامع السعادات، ج٢،ص٢٦٠

دوسری فصل

میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں

شوہر کے حقوق اوربیوی کی ذمہ داریاں

میاں بیوی کے درمیان حسن ارتباط کی برقراری کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرے۔

امانت داری

اس سلسلے میں پیامبر اکرم۷نے فرمایا:فَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ وَ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ وَ مِنْ حَقِّكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ وَ لَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ فَإِذَا فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لَا تَضْرِبُوهُن(۱) ۔

لوگو! عورتوں پر تمھارے کچھ حقوق ہیں اور تمہارے اوپران کے کچھ حقوق ہیں ۔تمہارے حقوق یہ ہیں: وہ بیگانہ اور نامحرموں کیساتھ ناجائز تعلقات پیدا نہ کرے۔ اور جہاں تیری اطاعت ان پر واجب ہے اس سے سرپیچی نہ کرے۔تو اس کے بدلے میں انہیں ان کی شأن کے مطابق لباس ،نان ونفقہ اور دیگر اخراجات فراہم کرنا آپ کے ذمہ ہیں۔

غسل توبہ

امامصادق (ع)نے فرمایا: وہ عورت جو رات کو سو جائے جبکہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو تو اس کی کوئی نما ز قبول نہیں ہوگی جب تک شوہر راضی نہ ہو۔اسی طرح جو بھی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی نامحرم کے خاطر خوشبو لگائیں تو جب تک غسل جنابت نہیں کرتی ، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی(۲) اور ان کے جملہ حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شوہر کو ان پر نہ مارنے کا حق نہیں ہے۔ واضح ہے کہ مرد اور عورت دونوں ازدواجی زندگی میں مشترکہ حقوق کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔ مذکورہ حدیث میں بعض حقوق کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ خود کو یک طرفہ حقوق کا طلبگار اور بیوی کو مقروض سمجھ بیٹھیں،بلکہ دونوں کے حقوق متبادل اور متقابل ہیں۔ اور متقابل حقوق کے قائل ہونا ہی مہر و محبت بھری زندگی کیلئے مناسب مواقع فراہم کرتاہے۔

شوہر کی اطاعت باعث مغفرت

خداوند مہربان نے اطاعت گذار عورت کو نہ صرف دنیا میں پر سکون زندگی کی شکل میں اجر اور ثواب کا مستحق قرار دیابلکہ قیامت کے دن اس کے بدلے میں عورت کی مغفرت اور بخشش کا بھی بندوبست کیا ہے۔ :

قَالَ الصادق : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص خَرَجَ فِي بَعْضِ حَوَائِجِهِ فَعَهِدَ إِلَى امْرَأَتِهِ عَهْداً أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى يَقْدَمَ وَ أَنَّ أَبَاهَا مَرِضَ فَبَعَثَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي خَرَجَ وَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَخْرُجَ مِنْ بَيْتِي حَتَّى يَقْدَمَ وَ إِنَّ أَبِي مَرِضَ أَ فَتَأْمُرُنِي أَنْ أَعُودَهُ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ أَطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَمَاتَ فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي قَدْ مَاتَ أَ فَتَأْمُرُنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ أَطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَدُفِنَ الرَّجُلُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قَدْ غَفَرَ لَكِ وَ لِأَبِيكِ بِطَاعَتِكِ لِزَوْجِكِ(۳)

چنانچہ امام صادق(ع) سے روایت ہے : ایک صحابی کسی کام سے سفر میں نکلتے وقت اپنی بیوی سے کہہ کر گیاکہ جب تک میں واپس نہ لوٹوں تو گھر سے باہر قدم نہ رکھنا ۔ اس فرمانبردار بیوی نے بھی اس کی اطاعت میں کوتاہی نہیں کی۔ اتّفاقاً انہی ایام میں اس عورت کا باپ بیمار ہوگیا، تو اس خاتون نے گھر میں سے کسی کو پیامبر(ص) کی خدمت میں بھیجا اگر اجازت ہو تو اپنے بیمار باپ کی عیادت کیلئے چلی جاؤں ، پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:اپنے گھر سے نہ نکلو اور اپنے شوہر کی اطاعت کرو۔ کچھ دن بعد اس کا باپ اس دار فانی سے چل بسے۔ اس خاتون نے پھر آپ سے باپ کی تشییع جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی ،تو پھر فرمایا:نہیں گھر سے نہ نکلو اپنے شوہر کی اطاعت کرو۔اور جب اس کا باپ دفن ہوا تو خود پیامبر(ص)نے اس مؤمنہ کی طرف پیغام بہیجا: خدا نے تمھاری اس اطاعت کے بدلے میں تمہیں اور تیرے باپ دونوں کو بخش دیا ہے۔

آرام و سکون فراہم کرنا

رسول اسلام (ص) نے بیوی کیلئے چاردیواری کے اندر والا کام انتخاب کرتے ہوئے فرمایا:حقّ الرجل علی المرأة انارة السّراج واصلاح الطّعام وان تستقبله عند باب بیتها فترحّب و ان تقدّم الیه الطّست والمندیل وان لا تمنعه نفسها الاّ من علّة -(۴) شوہر کیلئے آرام و سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ گھریلوکاموں مثلا صفائی ، کھانا پکانا ، کپڑے اور برتن دھونا، اچھی غذا تیار کرنا،اور جب شوہر گھر میں داخل ہو تو سب سے پہلے تو اس کی استقبال کیلئے دروازے پر جانا اور خوش آمدید کہنا ۔۔۔۔آپ کی ذمہ داریوں میں سے ہیں جن کی رعایت کرنے سے دونوں کی زندگی پر لطف اور پائیدار ہوسکے گی۔ اور آپس میں پیار و محبت بڑھ جائے گی۔ اور آپس کی محبت کو قرآن نے خدا تعالی کا عظیم معجزہ کہا ہے:وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ(۵) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ۔ آپ کی اس محبت آمیز رفتار سے شوہر پر بڑا اثر پڑیگا اور وہ کبھی بھی آپ کی یہ محبت آمیز باتیں اور ادائیں نہیں بھولے گا۔

____________________

۱ ۔ شیخ صدوق؛ الخصال ، ج۲،ص۴۸۷۔۲ ۔ وسائل الشیعہ،ج١٤،ص١١٣۔ ۳ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۸۔۴ ۔ مستدرک الوسائل،ج١،ص٥٥١ ۔

۵ روم ۲۱۔

شوہر کی رضایت کا خیال رکھنا

رسول اللہ (ص)نے فرمایا:قَالَ ع أَيُّمَا امْرَأَةٍ آذَتْ زَوْجَهَا بِلِسَانِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهَا صَرْفاً وَ لَا عَدْلًا وَ لَا حَسَنَةً مِنْ عَمَلِهَا حَتَّى تُرْضِيَه (۱)

ہر وہ عورت جو زبان کے ذریعے اپنے شوہر کو اذیت و آزار پہنچاتی ہے تو خدا اس سے نہ کوئی صدقہ نہ کوئی حسنہ اور نہ کوئی کفارہ قبول کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کا شوہر راضی ہوجائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر شوہر راضی نہ ہوتو اس عورت کا صدقہ خیرات بھی قبول نہیں ہے۔

امام محمد باقر A نے اپنے جد گرامی امیرالمؤمنین (ع)سے نقل کیا ہے:آپ نے فرمایا : میں اور جناب فاطمہ(س) ایک دن آپ کے حضور۷ پہنچے تو دیکھا آپ سخت گریہ کررہے تھے،میں نے وجہ پوچھی، تو فرمایا: یا علی (ع) جس رات معراج پر گیا تو اپنی امت کی عورتوں پر مختلف قسم کے سخت عذاب کا مشاہدہ کیا جسے دیکھ کر سخت پریشان ہوں اور رو رہا ہوں۔پھر فرمایا:

وَ أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِلِسَانِهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِي زَوْجَهَا وَ أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِرِجْلَيْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا -(۲) دیکھا کہ عورتوں کے ایک گروہ کو زبانوں کیساتھ لٹکائی ہوئی ہیں جو اپنے شوہر کو زبان درازی کے ذریعے تنگ کیا کرتی تھیں ۔ دوسرے گروہ کو دیکھا کہ جن کو پیروں کیساتھ لٹکائی ہوئی تھیں، وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلتی تھیں۔

ایک اور روایت میں فرمایا :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا حَتَّى تَرْجِعَ(۳) اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجاذت کے بغیر گھر سے نکلے تو واپس پلٹنے تک اس کا نان ونفقہ شوہر پر واجب نہیں ہے ۔ان روایات سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ خواتین اپنے شوہر کی اجازت اور رضایت کو ہر کام سے پہلے طلب کرے۔ اور شوہر کا حق ہے کہ اگر مصلحت جانتا ہو اجازت دیدے ورنہ نہ دے۔یہی وجہ ہے حضور نے فرمایا :سارے حقوق سے زیادہ شوہر کے حقوق اہم ہے۔ اور جس نے اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کیے تو اس نے خدا کی صحیح بندگی اور اطاعت نہیں کی-(۴)

پھر فرمایا :وَ لَوْ أَمَرْتُ أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا(۵) غیر خدا کو اگر سجدہ کرناجائز ہوتا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کریں۔

____________________

۱ ۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۰، ص ۲۱۱۔ من لایحضرہ ج۴،ص ۱۳۔۲ ۔ وسائل الشیعہ ، ج۲۰، ص ۲۱۳۔۳ ۔ کافی،ج۵، ص۵۱۴۔

۴ ۔ کافی،ج٥،ص٥٠٨ ، مکارم اخلاق،ص٢١٥۔ ۵ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۴۶۔

بدترین عورت

شارع اقدس نے اس عورت کو بدترین عورت قرار دیا ہے جو اپنے شوہر پر مسلط ہو، بغض و کینہ رکھتی ہو ،برے اعمال کی پروا نہیں کرتی ہو،شوہر کی غیر موجودگی میں بناؤ سنگار کرکے دوسروں کے سامنے آتی ہو، اور جب شوہر آتا ہے تو پردہ دار بن جا تی ہو اور شوہر کی بات نہیں مانتی ہو –(۱)

جنسی خواہشات پوری کرنا :

چونکہ مرد طبیعتاً تنوّع جنسی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے تو عورت کو بھی چاہئے کہ جتنا ہوسکے مرد کی اس خواہش کو پوری کرے۔ اور یہ ان کا اہم ترین وظیفہ ہے۔ متعدد روایات اس بات کی طرف ہمیں توجّہ دلاتی ہیں ۔ رسول اللہ ۷نے فرمایا:

الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الطَّبْرِسِيُّ فِي مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَنَامَ حَتَّى تَعْرِضَ نَفْسَهَا عَلَى زَوْجِهَا تَخْلَعَ ثِيَابَهَا وَ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ فَتُلْزِقَ جِلْدَهَا بِجِلْدِهِ فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ فَقَدْ عَرَضَتْ(۲)

یعنی عورت کو چاہئے کہ جب وہ سونے لگے تو اپنے شوہر کے ساتھ لباس اتار کر سوئے،اور اپنے جسم کو شوہر کے جسم سے مس کرکے سوئے ۔امام باقر (ع)نے فرمایا :جائت امرأة الی رسول الله(ص) فقالت یا رسول الله (ص)ما حقّ الزّوج علی المرأة ؟ فقال لها: ولا تمنعه نفسها وان کانت علی ظهر قتبٍ -(۳) ایک عورت رسولخدا (ص) کی خدمت میں آئی اور عرض کی شوہر کے متعلق ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟ تو رسولخدا (ص)نے جواب دیا کہ خود کو ان کیلئے ہمیشہ تیّا ر رکھیں خواہ سواری پر بھی کیوں نہ ہو۔یہ وہ دستورات ہیں جن پرعمل پیراہونا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے

____________________

۱ ۔ نقش دین در خانوادہ، ج۱، ص۳۵۵۔

۲ ۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۰، ص۱۷۶

۳ ۔ بحار الانوار،ج١٠٣،ص٢٤٨

بہترین عورت

اسلامی نقطۂ نگاہ سے بہترین عورت وہ ہے جو سب سے زیادہ شوہر کی اطاعت کرے اور اس سے عشق و محبت اور آمادگی کا اظہار کرے۔ لیکن اس کے مقابلے میں وہ عورت جو اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پوری کرنے سے انکار کرے تو اسے بدترین عورت سمجھا گیا ہے۔ اسی لئے رسولخدا (ص)نے فرمایا:خیر نسائکم العفیفة و الغلیمة ۔ بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی نسبت زیادہ شہوت پرست ہو لیکن نامحرموں کی نسبت عفیف اور پاکدامن-(۱)

عن أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع خَيْرُ النِّسَاءِ مَنِ الَّتِي إِذَا دَخَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَخَلَعَتِ الدِّرْعَ خَلَعَتْ مَعَهُ الْحَيَاءَ وَ إِذَا لَبِسَتِ الدِّرْعَ لَبِسْتَ مَعَهُ الْحَيَاءَ(۲) ا مامباقر (ع) نے فرمایا :بہترین اور شائستہ ترین عورت وہ ہے جو خلوت میں شوہر کیساتھ ملتی ہے تو لباس کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کو بھی دور پھینکے ہو اور پوری محبت اور پیارکیساتھ اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پورا کرے اور جب لباس پہن لے تو شرم و حیا کا لباس بھی زیب تن کرے۔اور اپنے شوہر کے سامنے جرأت اور جسارت سے باز آئے۔امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص)نے فرمایا:قَالَ الْمَرْأَةُ يَدْعُوهَا زَوْجُهَا لِبَعْضِ الْحَاجَةِ فَلَا تَزَالُ تُسَوِّفُهُ حَتَّى يَنْعُسَ زَوْجُهَا فَيَنَامَ فَتِلْكَ لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَ زَوْجُهَا -(۳) ۔

یعنی وہ عورت جسے اس کا شوہر جنسی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے کہے اوروہ بہانہ بناتی رہے ۔ یہاں تک کہ اس کا شوہر سو جائے تو صبح جاگنے تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔

خوشیاں لانے والی

رسولخدا (ص)نے اس عورت کو بہترین اور شائستہ ترین عورت قرار دیا ہے جسے دیکھ کر اس کا شوہر خوش ہوجائے۔ پس مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا کرو، جو زندگی میں محبت کے پھول اگانے کا سبب بنتا ہے۔اور پھول کو دیکھ کر ہر کوئی خوش ہوتا ہےٍ:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ فِي رِسَالَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع إِلَى الْحَسَنِ فَإ ِنَّ الْمَرْأَةَ رَيْحَانَةٌ امام صادق فرماتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا: عورت پھول کی مانند ہے –(۴)

اسے چاہئے کہ ہمیشہ پھول کی طرح کھلتی رہے۔ اور خاندانی گلستان میں خوشیوں کا باعث بنے۔ دینی اور دنیوی کاموں میں شوہر کا معا ون بنے۔

امام صادق (ع)نے فرمایا:ثلاثة للمؤمن فیها راحة ٠٠٠وامرأة صالحه تعینه علی امرالدنیا والأخرة -(۵) یعنی تین چیزوں میں مؤمن کیلئے سکون اور راحت ہے ان میں سے ایک وہ شائستہ عورت ہے جو اس کے دینی اور دنیوی امور میں مددگار ثابت ہو کیونکہ عورت اگر چاہے تومرد کیلئے دینی اور دنیوی امور میں بہترین شوق دلانے والی بن سکتی ہے ۔یہاں تک کہ مستحبات کی انجام دہی اور مکروہات کے ترک کرنے میں ۔چنانچہ روایت ہے: حضرت زہرا (س)کی شادی کے بعد پیامبر (ص)نے علی سے پوچھا : یا علی؛ فاطمہ کو کیسا پایا؟ تو جواب دیا:نعم العون علی طاعة الله ۔ یعنی فاطمہ(س) کو خدا کی فرمان برداری میں بہترین مددگار پایا-(۶)

اور جب بیوی ایسی ہو تو اولاد بھی حسنین اور زینب و کلثوم جیسی ہوتی ہیں۔ہم اور آپ علی (ع) اور فاطمہ(س) جیسے تو نہیں بن سکتے لیکن ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرکے معاشرے کو اچھی اور صالح او لاد تو دے سکتے ہیں۔اس عظیم مقصد کیلئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اصول وفروع دین کی تعلیم دیں ۔ اور مذہبی عبادات ورسوم جیسے نماز ، روزہ ، انفاق، تلاوت ، نماز جماعت اور مذہبی مراسم ،جلسے جلوس میں شرکت کرنے پر تأکید کیا کریں۔

امانت داری

یہ بھی عورتوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال ودولت اور اسرار کی امین ہوں۔ پیامبر اسلام (ص)نے(رح)فرمایا: خدا تعالی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی مسلمان کو دنیا اور آخرت کی خوبیاں عطا کرنا چاہتا ہوں تو اسے چار چیزیں عطا کرتا ہوں:

۱. ایسی زبان جو ذکر الہی میں مصروف رہتی ہو۔

۲. قلب خاشع جو ہمیشہ متوجہ ہو.

۳. صبور بدن جو مصیبت کے موقع پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے۔

۴. با ایمان بیوی۔ کہ فرمایا:زوجة مؤمنة تسرّه اذا نظر الیها و تحفظه اذا غاب عنها فی نفسها و ماله ۔اور ایسی با ایمان اور با عفت بیوی جسے دیکھ کر شوہر خوش ہو اور جب وہ کہیں چلاجائے تو اس کی مال و دولت کی حفاظت کرے-(۷)

اسی طرح خاندانی خامیوں پر بھی امانت کے طور پر پردہ ڈالے۔ ایسی خاتون کبھی بیجا اور بے مورد اور فضول خرچ نہیں کرتی۔ بلکہ وہ زندگی کے وسائل کو بڑی دقّت سے خرچ کرتی ہے۔کھانا پکانے اور کھلانے میں بھی اسراف اور تبذیر سے پرہیزکرتی ہے۔ایک امانت دار خاتون کی کہانی ہے جس نے امانت داری کی مثال قائم کی : اصمعی نامی شخص کہتا ہے کہ میں نے بیابان میں ایک خیمہ دیکھاجس سے ایک بہت ہی خوبصورت خاتون نکلی گویا وہ چاند کا ایک ٹکڑا تھا، مہمانی کا رسم ادا کرتے ہوئے مجھے خوش آمدید کہا، میں گھوڑے سے اترا اور ایک گلاس پانی مانگا تو مجھ سے کہا: میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر پانی پلانے سے معذور ہوں۔ان کی اجازت کے بغیر ان کی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتی ہوں،اور اس سے اجازت بھی نہیں مانگی ہے کہ مہمان کیلئے مہمان نوازی کروں۔ہاں اپنے لئے بقدر ضرورت پینے کی اجازت مانگی تھی کہ میں خود پیاسی تھی تو اپنا حصہ پی چکی ہوں۔اور ابھی میں پیاسی نہیں ہوں ورنہ اپنا حصّہ تمہیں ضرور پلاتی۔ہاں دودھ کا شربت ہے جو میری غذا ہے وہ تمہیں دوں گی۔ یہ کہہ کر دودھ والی برتن میرے سامنے رکھ دیا۔

اصمعی کہتا ہے کہ میں اس خاتون کی عقل مند، شیرین ، اور مدلل باتوں کو سن کر حیران رہ گیا۔ اسی دوران ایک عربی سیاہ چہرہ والا وہاں پہنچا اور مجھے خوش آمدید کہا۔ یہ عورت اس کی طرف دوڑی اور اس کی پیشانی سے پسینہ پو نجھی ، اور اس طرح اپنے شوہر کی خدمات کرنے لگی کہ کوئی لونڈی بھی اپنے آقا کی یوں خدمت نہیں کرتی۔دوسرے دن جب میں وہاں سے نکلنے لگاتو میں نے اس عورت سے کہا: بڑی تعجب کی بات ہے کہ تیری جیسی حسین و جمیل عورت اپنے بد شکل شوہر جیسے کی خدمت گذاری کرے۔تو اس خاتون نے کہا: میں نے پیامبر اسلام (ص) کی ایک حدیث سنی ہے جس میں پیامبر(ص)نے فرمایا: ایمان کا دو حصّہ ہے جس میں سے ایک حصہ صبر ہے دوسرا حصہ شکر ہے، اور خدا نے مجھے خوبصورتی دی ہے اس پر میں شکر کرتی ہوں اور میرے شوہر جو بدشکل ہے جس پر میں صبر کرتی ہوں۔ یہاں تک کہ میرا ایمان سالم اور محفوظ رہے۔اصمعی کہتا ہے اس خاتون کی مدلل باتوں سے بہت متأثر ہوا اور عفّت اور پارسائی میں اس سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا-(۸)

قناعت پسندی

پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:المرأة الصّالحة احد الکاسبین ، یعنی نیک اور شائستہ بیوی بھی کمانے والوں میں سے ایک ہے۔یعنی عورتوں کے وضائف اور ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی خواہشات اور فرمائشات میں تعدیل پیدا کرنا ہے۔ یعنی جتنی شوہر کی آمدنی ہوگی اس سے زیادہ خرچ کرنے سے گریز کرے۔ اس بارے میں پیا مبر اسلام (ص)نے فرمایا: ایّما امرأة لم ترفق بزوجھا و حملتہ علی مالا یقدر علیہ و مالا یطیق لم یقبل منھا حسنة و تلقی اللہ و ھو علیھا غضبان-(۹) یعنی اگر کوئی عورت اپنے شوہر کیساتھ محبت ا نہ کر ے اور زندگی کرنے میں شوہر پر ستم کرے ا ور اس سے بہت سخت کاموں کا مطا لبہ کرے اور اسے سختی میں ڈال دے اور اس کی زندگی اجیرن بنا د ے تو ایسی عورتیں اگرچہ نیک کام بھی انجام دیں تو خدا وند اس سے نیکیاں قبول نہیں کریگا۔ اور قیامت کے دن خدا تعالی اس سے ناراضگی کی حالت میں ملاقات کریگا۔ایک عقل مند اور با سلیقہ عورت خاندان کی خوش بختی کا باعث بنتی ہے ۔ حفاظت کرنے والے کی اہمیت کمانے والے سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ درآمد کی حفاظت،درآمد کی تلاش کی طرح ہے۔حضرت زہرا نے امیرالمؤمنین (ع)سے کہا: میرے بابا نے مجھ سے کہا: کبھی علی A سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرنا ۔ہاں اگر خود لے آئے تو کوئی بات نہیں-(۱۰)

بابرکت بیوی

امامصادق (ع)نے فرمایا:من برکة المرأة خفّة مؤنتها و تیسیر ولدها ۔-(۱۱) (بابرکت بیوی وہ ہے جو کم خرچ ہو اور بچہ آسانی سے جنم دیتی ہو۔ اس کے مقابلے میں اگر پُر خرچ ہو اور بچہ سختی سے جنم دیتی ہو تو یہ اس کا شوم ہوگا۔پس خواتین کو چاہئے کہ جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ با برکت بننے کی کوشش کرنا چاہئے۔البتہ بیجا تنگ نظری اور احمقانہ کم خرچی آبرو ریزی اور بے عزتی اور بیماری کا موجب بنتی ہے۔ گویا تنگ نظری اور قناعت میں فرق ہے۔ بات آمدنی اور خرچ کا تناسب ہے نہ کنجوسی کی ۔کنجوس شخص بخل کی وجہ سے خاندان والوں اور اپنے لئے بھی خرچ نہیں کرتا ۔ اور خود کو سختی میں ڈالتا ہے۔

____________________

۱ ۔ وسائل ،ج١٤،ص ١٥۔

۲ ۔ تہذیب الاحکام،ج۷،ص۳۹۹۔

۳ ۔ روضة المتقین،ج٨،ص٣٧٦۔ من لا یحضرہ،ج۳،ص۴۴۲۔

۴ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج٣،ص٥٥٦۔کافی ج۵، ص۵۱۰۔

۵ ۔ کافی،ج٥،ص٣٢٨۔

۶ ۔ بحار، ج٤٣،ص١١٧۔

۷ ۔ کافی،ج ۵ ،ص ٣٢٧۔

۸ ۔ ریاحین الشریعہ،ج٤۔

۹ ۔ مکارم اخلاق،ص٢١٤۔

۱۰. بحار،ج٤٣،ص٣١۔

۱۱ ۔ وسائل، ج١٤،ص٧٨۔