خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض0%

خاندان کےاخلا ق و فرائض مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف: غلام مرتضیٰ انصاری
زمرہ جات:

مشاہدے: 5053
ڈاؤنلوڈ: 735

تبصرے:

خاندان کےاخلا ق و فرائض
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 60 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5053 / ڈاؤنلوڈ: 735
سائز سائز سائز
خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف:
اردو

بیوی کے حقوق اورشوہر کی ذمہ داریا ں

امام سجاد نے فرمایا:واما حق رعیتک بملک النکاح، فان تعلم ان الله جعلها سکناً و مستراحاً و انساً و وافقیة ، و کذالک کل واحد منکما یجب ان یحمدالله علی صاحبه ، ویعلم ان ذلک نعمة منه علیه ووجب ان یحسن صحبة نعمة الله ، ویکرمها، ویرفق بها، ان کان حقک علیها اغلظ وطاعتک بها الزم فیما احببت وکرهت مالم تکن معصیة ، فان لها حق الرحمة والمؤانسة، وموضع السکون الیها قضاء الذة التی لا بد من قضائها وذالک عظیم ولاقوة الا بالله (۱)

لیکن رعیت جو نکاح کے ذریعے تیرے اختیار میں آئی ہے جو تیری بیوی ہے، کا حق تجھ پر یہ ہے کہ جان لو خداتعالی نےاسےتمھارے لئے آرام و سکون کا سبب بنایا اور غمخوار اور محافظ بنایا اور اسی وجہ سے دونوں پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے کا شکر گذار بنیں ۔اور یہ بھی جان لے کہ یہ خدا کی طرف سے تمھارے لئےایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی نعمت کی حفاظت کرے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ اور اس کا احترام کرے ، اگرچہ مرد کا حق بیوی پر زیادہ اور اس کی فرمانبرداری بھی واجب تر ہے، کہ شوہر کی رضایت کا ہر حالت میں خیال رکھے۔مگر یہ کہ شوہر اسے گناہ کی طرف وادار کرے، وہاں اس کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ بلکہ وہاں اس کی مخالفت کرنی چاہئے ۔ اس لئے کہ بیوی رحم ، پیار ومحبت اور حق سکونت کا زیادہ سزاوارتر ہے، کہ ان کے وسیلے سے لذت اٹھانے پرمجبور ہو۔اور یہ خدا کا بہت بڑاحکم ہے۔

امانت الہی کی حفاظت

اسلامی روایات کے مطابق عورت خدا کی امانت ہے جسے مردوں کے ہاتھوں سپرد کیا گیا ہے اس کیساتھ معمولی بے توجہی اور خطا امانت الہی میں خیانت محسوب ہوگی۔لذا خدا کی امانت اورنعمت عظمی کی حفاظت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرے تاکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مورد عذاب قرار نہ پائے رسول گرامی۷نے جب اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ(س) کو علی (ع) کے گھر بھیجا تو اپنے داماد علی ابن طالب(ع)کو نصیحت کی: یا علی! میری بیٹی تیرے ہاتھوں امانت ہے۔یہ بات تاریخ میں بھی ثبت ہے۔ اس کے علاوہ خود علی (ع) کے بیانات سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ جب آپ فاطمہ I کو دفن کررہے تھے تو رسولخدا (ص)کے ہاتھوں میں اس ستم دیدہ امانت کو تحویل دیتے ہوئے فریاد کررہے تھے:

فلقد استرجعت الودیعة و اخذت الرهینة امّا حزنی فسر -(۲) ۔

اے پیامبر اعظم۷! فاطمہ ؛ خدا اور رسول کی ا مانت تھی، جسے تو نے میرے حوالے کردئے تھے واپس لوٹا رہاہوں ، لیکن آج کے بعد ہمیشہ مغموم رہوں گا۔اور یہ آنکھیں کبھی نہیں سوئیں گی۔

رسولخدا (ص)نے فرمایا: ہر عورت اپنے شوہر کے برابر نفع اور نقصان کی مالک تو نہیں لیکن یہ بات جان لو کہ یہ لوگ اپنے شوہروں کے ہاتھوں خدا کی امانت ہیں اس لئے مرد حق نہیں رکھتا کہ انہیں کوئی ضرر یا نقصان پہنچائے اور ان کے حقوق کو پامال کرے(۳)

عورت کے حقوق اورخدا کی سفارش

جب رسولخدا (ص) سے عورت کے حقوق کے بارے میں سوال کیا گیا:فَمَا لِلنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَخْبَرَنِي أَخِي جَبْرَئِيلُ وَ لَمْ يَزَلْ يُوصِينِي بِالنِّسَاءِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ لَا يَحِلَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يَقُولَ لَهَا أُفٍّ يَا مُحَمَّدُ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عَوَانٍ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ عَلَى أَمَانَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ(۴) آپ ۷نے فرمایا: میرے بھائی جبرئیل A نے خدا کی طرف سے اس قدر عورتوں کے حقوق کے بارے میں سفارش کی کہ میں گمان کرنے لگا کہ ان کیلئے اف کہنا بھی جائز نہ ہو۔ اور مجھ سے کہا اے محمد خدا سے ڈرو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آو،کیونکہ عورتیں ہمارے حکم کی تابع ہیں اور امانت الہی کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔اور ان کی جان اور ناموس پر مسلط ہو ئے ہیں ۔ان کے حق میں نیکی کے علاوہ کوئی کام نہ کرو۔ پیامبر اسلام (ص)کا یہ فرمان خواتین عالم کے حقوق کی حمایت کا اعلان ہے۔ اور انہیں وای کہنے سے بھی منع کرناایسا کلام ہے جس کی مثال اور کسی انسانی معاشرے میں نہیں پایا جاتا۔ عفو در گذر بیوی کا حق:

اسحا ق بن عمار کہتا ہے کہ امام صادق کی خدمت میں عرض کیا کہ عورتوں کاحق مردوں کے ذمہ کیا ہے؟ تو فرمایا: اسے کھانا دو، لباس پہناؤ اور اگر کوئی خطا کا مرتکب ہوجائے تو اسے معاف کرو(۵)

بداخلاق بیوی اور صبور شوہر

حضرت ہود پیغمبر (ع)کی بیوی بہت بداخلاق تھی آنحضرت کو بہت تنگ کرتی تھی پھر بھی آپ اس کیلئے دعائیں کردیتے تھے۔ وجہ پوچھی تو فرمایا: خدا تعالی کسی بھی مؤمن کو خلق نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کا کوئی نہ کوئی دشمن ضرور ہوتا ہے جواسے ہمیشہ اذیت اور آذار پہنچاتا رہتا ہے، اور میرا دشمن میری اپنی بیوی ہے۔ اور اپنا دشمن اپنے کنٹرول میں رہنا بہتر ہے اس سے کہ میں اس کے کنٹرول اور اختیار میں گرفتارہوجاؤں-(۶) رسول اللہ ۷نے فرمایا :أَلَا وَ مَنْ صَبَرَ عَلَى خُلُقِ امْرَأَةٍ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ وَ احْتَسَبَ فِي ذَلِكَ الْأَجْرَ أَعْطَاهُ اللَّهُ ثَوَابَ الشَّاكِرِين -(۷)

یعنی جو بھی مرد اپنی بداخلاق بیوی کی بداخلاقی کو رضایت خدا کے خاطر تحمّل کرے تو اسے خدا وند شاکرین کا ثواب عنایت کرتا ہے۔ امام باقر سے منقول ہے:من احتمل من امرٍ¬أته ولو کلمة واحدة ، اعتق الله رقبته من النار، و اوجب الله له الجنة ، وکتب له ماتی الف حسنة ، ومحی عنه ماتی الف سیئة ، ورفع له ماتی الف درجة ، وکتب الله له بکل شعرة علی بدنه ، عبادة سنة -(۸)

کتاب مکارم الاخلاق سے نقل کیا ہے کہ امام باقر فرماتے ہیں کہ جو بھی اپنی بد اخلاق بیوی کی اذیت اور آزار کو برداشت کرے اور صبر کا مظاہرہ کرے تو قیامت کے دن اسے خداوند عالم جہنم کی آگ سے نجات دلائے گا اور بہشت اس پر واجب کردے گا۔ اور اس کے نامہ اعمال میں دولاکھ حسنہ لکھ دیگا اور دولاکھ برائی کو مٹادے گا۔ اور دولاکھ درجہ اس کا بلند کرے گا اور اس کے بدن پر موجود ہربال کے برابر ایک سا ل کی عبادت کا ثواب لکھ دے گا۔

یہ مرد جہنمی ہے

امام صادق(ع) نے فرمایا:حرّمت الجّنة علی الدیّوث -(۹) دیّوث پر بہشت حرام ہے۔ دیّوث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بیوی یا ناموس کا دوسروں کیساتھ آمیزش پر راضی ہو تاکہ اس طرح دولت جمع کرے۔ امام باقر (ع)نے فرمایا: کچھ اسیروں کو پیامبر(ص) کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے سوائے ایک کے باقی سب کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس مرد نے کہا: کیوں صرف مجھے آزاد کیا؟آپ نے فرمایا:جبرئیل امین نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے کہ تیرے اندر پانچ خصوصیات موجود ہیں جو خدا اور رسو ل کو پسند ہیں: تو غیر ت مند ہو ،سخا و ت مند ہو۔ خو ش خلا ق ہو، سچے ہواور شجاع ہو۔

جب اس شخص نے یہ فر ما ن سنا تو مسلما ن ہوا اور اسلا م کو پسند یدہ دین چن لیا اور حضور۷ کے ساتھ ساتھ جھاد کر تے ہو ئے بد ر جۂ شہا دت فا ئز ہو ئے ۔

دنیا و آخر ت کی خیر و خو بی چا ر چیز و ں میں

امام حسین (ع) نے اپنے بابا علی (ع)سے انہو ں نے رسو لخدا (ص)سےروایت کی ہے کہ آپ نے فر ما یا: جس شخص کو بھی اس دنیا میں چار چیز یں عطا ہو ئیں سمجھ لینا کہ دنیا اور آخر ت کی خیر و خو بی اسے عطا ہو ئی ہیں ۔

۱. قو یٰ اور پرہیز گاری جو اسے حرا م چیز وں سے بچائے ۔

۲. اچھا اخلا ق کہ اس کے سا تھ لو گو ں میں پرسکون اور باعزت زند گی گزارے ۔

۳. صبر اور برد بار ی کہ جس کے ذریعے لو گو ں کی نا دانی کو دور کرتا ہے۔

۴. نیک اور شائستہ بیوی جو اسے دین اور دنیا دونوں میں مددگار ثابت ہو۔

شوہر پر بیوی کے حقوق بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہے:

____________________

۱ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۲۹۔

۲ ۔ نھج البلاغہ،خ١٩٣۔

۳ ۔ مستدرک الوسائل،ج٢،ص٥٥١۔

۴ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۲۔

۵ ۔ وسائل الشیعہ۔ج١٥،ص٢٢٣۔

۶ ۔ سفینہ البحار، باب زوج۔

۷ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج۴، ص۱۵۔

۸ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۳۰۔

۹ ۔ ھمان۔

اچھے اخلا ق اور کر دار سے پیش آنا

اسلام نے زند گی کے تما م شعبو ں میں انسا ن کے ذمے کچھ حقو ق واجب کردیے ہیں ۔ جنہیں اسلام کے علا وہ کسی دین یا مذہب نے انہیں نہیں دیا۔ گذشتہ مذاہب میں عو رتوں کے سا تھ بہت برا سلوک ہو تا رہا ۔ جہا ں عو رت کو گذشتہ مذا ہب میں انسان نہیں سمجھتے تھے وہا ں اسلا م نے انکی عزت افزائی اور احتر م کو واجب قرار دیتے ہو ئے فر مایا:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا )(۱) اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جبرا عورتوں کے وارث بن جاؤ اور خبردار انہیں منع بھی نہ کرو کہ جو کچھ ان کو دے دیا ہے اس کا کچھ حصہّ لے لو مگر یہ کہ واضح طور پر بدکاری کریں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اب اگر تم انہیں ناپسند بھی کرتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دے ۔

عن شهاب بن عبدریه قال : قلت لابیعبدالله ما حق المرئة علی زوجها؟ قال :یسدّ جوعها و یستر عورتها ولا یقبح لها وجهاً فاذا فعل ذالک فقد والله ادّی الیهاحقها -(۲)

شھاب بن عبدریہ سے روایت ہے کہ میں نے امامصادق (ع) سے جب پوچھا مردوں پر عورتوں کے کیا حقوق ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ان کی بھوک کو دور کرے لباس پہنائے اور بکھرے ہوئے چہرے کیساتھ پیش نہ آئے ، جب ایسا کیا تو خدا کی قسم اس کا حق ادا کیا۔ کہ یعنی روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ خوش روئی اور اخلاق سے پیش آنا بھی عورتوں کے حقوق میں سے ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محبت و مہربانی سے پیش آنا بھی ان کا حق ہے۔ ورنہ اذیت وآزار اور گالی گلوچ تو سب مسلمان پرحرام ہے۔ کہ رسول اللہ(ص)نے فرمایا: المسلم من سلم الناس من لسانہ و یدہ۔ یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔اور فرمایا:اوصانی جبرآئیل بالمرئة حتّی ظننت انّه لا ینبغی طلاقها -(۳) عورتوں کے حقوق کے بارے میں مجھے جبرائیل نے اس قدر تاکید کی کہ میں 'گمان کرنے لگا کہ طلاق دینا حرام ہے۔

حق سکو نت

قرآن نے ان کی رہا ئش کامسئلہ بھی حل کر تے ہو ئے فرمایا:أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى -(۴) اور ان مطلقات کو سکونت دو جیسی طاقت تم رکھتے ہو اور انہیں اذیت مت دو کہ اس طرح ان پر تنگی کرو اور اگر حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک انفاق کرو جب تک وضع حمل نہ ہوجائےپھر اگر وہ تمھارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انھیں ان کی اجرت دو اور اسے آپس میں نیکی کے ساتھ طے کرو اور اگر آپس میں کشاکش ہوجائے تو دوسری عورت کو دودھ پلانے کا موقع دو۔

حق نفقہ

قرآن مجید اعراب جاہلیت کے بر خلاف کہ جو نہ صرف خواتین کو نان و نفقہ نہیں

دیتے تھے بلکہ بھوک اور پیاس کی خوف سے انھیں زندہ درگور کیا کرتے تھے، حکم دیتا ہے کہ عورت کو نان و نفقہ دیا کرو :الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (۵)

مرد عورتوں کے حاکم اور نگران ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو ، انہیں خواب گاہ میں الگ کرو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے۔

نفقہ دینے کا ثواب

قال الصادق : قال رسول الله ما من عبد یکسب ثم ینفق علیٰ عیاله ، الا اعطاه الله بکل درهم ینفق علیٰ عیاله سبعمائة ضعف -(۶) رسول اللہ نے فرمایا : نہیں ہے کوئی مشقت برداشت کرکے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے والا مگر یہ کہ خدا وندمتعال ایک ایک درہم یا روپے کے بدلے میں اسے سات سوگنا زیادہ عطا کرتا ہے ۔

حق مہریہ

قرآن مجید حکم دیتا ہے و آتوا النساء صدقاتھنّ نحلة۔ کہ اپنی بیویوں کا مہریہ ہدیہ کے طور پر انھیں دیا کرو -۷

____________________

۱ ۔ سورہ نساء ۱۹۔۲ ۔ کافی،ج٥،ص٥١١۔۳ ۔ کافی۔ ۴ ۔ سورہ طلاق ۶ ۵ ۔ نساء ۳۴۔

۶ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۳۱۔۷ ۔ نساء ۴۔

تیسری فصل

خاندان میں اخلاق کا کردار

یہ دین مقدّس اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ خاندانی نظام پر زیادہ توجّہ دی جاتی ہے۔ آج باپ بیٹے کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنے کیلئے شادی اور خاندان کا تشکیل دیناکس قدر مہم ہے،اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اور یہ روابط اور تعلقات جس خاندان میں بھی اچھے ہوں وہ خاندان ہی پائیدار اور مستحکم نظر آتا ہے، اور خاندان ہر شخص کی کامیابی اور سعادت کیلئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں سے ہی انسان کی کامیابی اور اندرونی استعداد وں کا پھلنا پھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی پائی جائے تو معاشرے کیلئے مفید اور لائق فرزند دے سکتے ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ ماں باپ اس فرزند صالح اور با استعداد سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

شوہر کی خدمت کرنے کاثواب

اس بارے میں رسولخدا (ص)نے فرمایا: َقَالَ ع الِامْرَأَةُ الصَّالِحَةُ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ غَيْرِ صَالِحٍ وَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَدَمَتْ زَوْجَهَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ أَغْلَقَ اللَّهُ عَنْهَا سَبْعَةَ أَبْوَابِ النَّارِ وَ فَتَحَ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ تَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَتْ -(۱) امام نے فرمایا ایک اچھی عورت ہزار برے لوگوں سے بہتر ہے۔جب کوئی عورت اپنے شوہر کی سات دن خدمت کرے تو خدا تعالی جہنّم کے سات دروازے اس پر بند کردیتا ہے اور بہشت کے سارے دروازے کھول دیتا ہے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہوسکتی ہے۔ مزید فرمایا: یہ خدمت بہترین عبادت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح و صفائی ،گھریلو مشکلات پر صبر و تحمّل اور خاندان کی بھلائی ، میاں بیوی کے درمیان مہر ومحبّت اور اولاد کی صحیح تربیت جیسی ذمہ داری کا نبھانا بہت مشکل کام ہے۔ خواتین جنہیں اپنے سر لیتی ہیں تو خدا تعالی نے بھی انھیں کتنا عظیم اجر دیا کہ بہشت میں جوار فاطمہ زہرا (س) اس کی نصیب میں لکھ دیا۔اور جہنّم کو اس پر حرام قرار دیا۔

ایک برتن کا جابجا کرنے کا ثواب

امامصادق (ع)سے روایت ہے کہ رسولخدا (ص)نے فرمایا: ایّما امرأة رفعت من بیت زوجھا شیئا من موضع الی موضع ترید بہ صلاحاً نظراللہ الیھا و من نظراللہ الیہ لم یعذّبہ –(۲) جب بھی عورت اپنے شوہر کے گھر میں ایک چیز کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتی ہے تاکہ گھرمیں نظم و ضبط اور سلیقہ پیدا ہو تو خداتعالی اسے نظر رحمت سے دیکھتا ہے اور جس پر نظر رحمت پڑے اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا(۳)

ایک گلاس پانی اور سال کی عبادت!

وَ قَالَ ع: مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَّا كَانَ خَيْراً لَهَا مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ صِيَامِ نَهَارِهَا وَ قِيَامِ لَيْلِهَا وَ يَبْنِي اللَّهُ لَهَا بِكُلِّ شَرْبَةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا مَدِينَةً فِي الْجَنَّةِ وَ غَفَرَ لَهَا سِتِّينَ خَطِيئَةً(۴)

امام صادق(ع) نے فرمایا : جو بھی عورت اپنے شوہر کو ایک گلاس پانی پلائے تو اس کا ثواب ایک سال کی عبادت (دن کو روزہ اور رات بھرنماز میں گزاری ہو)سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ خدا تعالی اسے بہشت میں ایک شہر عطا کریگا اور ساٹھ گناہوں کو معاف کریگا ۔رسول خدا (ص)نے فرمایا:طوبی لامرأةٍ رضی عنھا زوجھا-(۵) یعنی اس عورت کیلئے مبارک ہو جس پر اس کا شوہر راضی ہو۔کیونکہ شوہر کی رضایت اس کی عظمت اور مرتبہ میں اور اضافہ کرتی ہے۔

بہشت کے کس دروازے سے؟!

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَ صَامَتْ شَهْرَهَا وَ حَجَّتْ بَيْتَ رَبِّهَا وَ أَطَاعَتْ زَوْجَهَا وَ عَرَفَتْ حَقَّ عَلِيٍّ فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجِنَانِ شَاءَتْ(۶) امام صادق(ع) کا فرمان ہے: ہر وہ عورت جو یومیہ نمازوں کو مرتّب پڑھتی ہو اور رمضان کا روزہ رکھتی ہو اورعلی ۷کی ولایت پر ایمان رکھتی ہواور اسے خلیفہ رسول ۷جانتی ہواور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرتی ہو، بہشت کے جس دروازے سے داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتی ہو۔

یہ حدیث بڑی تاکید کیساتھ عورت کو خاندانی مسائل ، بچوں کی تربیت اور شوہر کے حقوق کا پاس رکھنے کی ترغیب دلاتی ہے۔ اور اطاعت گذار بیوی کیلئے بہترین ثواب کا وعدہ کرتی ہے اور جو عورت اپنے شوہر کی ناراضگی کا سبب بیتی ہے اور خاندانی ذمہ داریوں کو نمٹنے میں سستی اور کوتاہی کرتی ہے اس کیلئے عذاب جہنّم ہے۔لہذا بہترین بیوی وہی ہے جو شوہر کی مطیع ہو،بچوں کی صحیح تربیت کرتی ہو اور خاندان میں خوشی کا باعث بنتی ہو۔

تین گروہ فاطمہ(س) کیساتھ محشور

عن الصادق:ثلاث من النساء یرفع الله عنهنّ عذاب القبرویکون حشرهنّ مع فاطمة بنت محمد: امرأة صبرت علی غیرزوجها و امرأة صبرت علی سوء خلق زوجها و امرأة وهبت صداقها یعطی الله کلّ واحدٍ منهنّ ثواب الف شهیدٍ و یکتب لکلّ واحدةٍ منهنّ عبادة سنةٍ (۷)

تین گروہ فشار قبر سے آزاد

قَالَ ع: ثَلَاثٌ مِنَ النِّسَاءِ يَرْفَعُ اللَّهُ عَنْهُنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ وَ يَكُونُ مَحْشَرُهُنَّ مَعَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ص امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى غَيْرَةِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى سُوءِ خُلُقِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ وَهَبَتْ صَدَاقَهَا لِزَوْجِهَا يُعْطِي اللَّهُ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ثَوَابَ أَلْفِ شَهِيدٍ وَ يَكْتُبُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عِبَادَةَسَنَةٍ (۸)

امام صادق(ع) نے فرمایا: عورتوں کے تین گروہ کو عالم برزخ میں فشار اور عذاب قبر نہیں ہوگا ۔اور قیامت کے دن حضرت فاطمہ(س) کیساتھ محشور ہونگی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار شہید اور ایک سال کی عبادت کا ثواب عنایت کریگا:

* وہ عورت جس کا ایمان اس قدر قوی ہو کہ شوہر کی دوسری شادی سے اسے کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے اور شوہر کیساتھ مہر و محبت میں کمی نہ آئے۔

* وہ عورت جو اپنے بداخلاق شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے اور اپنا وظیفہ پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔

* وہ عورت جو اپنا مہریہ اپنے شوہر کو بخش دے۔

اس حدیث میں عورتوں کے صبر و تحملّ اور بردباری کو بہت سراہا گیا ہے۔فاطمہ زہرا (س) کی ہم نشینی کے علاوہ عذاب قبر سے بھی رہائی ملی اور مجاہدین فی سبیل اللہ کا ثواب بھی انہیں عطا ہوا۔ان خدمت گذار خواتین کا اجر و ثواب کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔

____________________

۱ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۰، ص۱۷۲۔

۲ ۔ ہمان،ج١٥،ص١٧٥۔

۳ ۔ الگوہای تربیت کودکان،ص٦٧۔

۴ ۔ وسائل الشیعہ ،ج ۲۰، ص١۷۲۔

۵ ۔ بحار ،ج ١٠٣،ص٢٤٦۔

۶ ۔ وسائل ،ج۲۰، ص۱۵۹۔

۷ ۔ وسائل الشیعہ،ج ١٥،ص٣٧۔

۸ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۱، ص۲۸۵

شوہر کی رضایت بہترین شفاعت

امام باقر نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :لَا شَفِيعَ لِلْمَرْأَةِ أَنْجَحُ عِنْدَ رَبِّهَا مِنْ رِضَا زَوْجِهَا الْحَدِيثَ (۱)

عورت کیلئے شوہر کی رضایت سے بڑھ کر کوئی شفاعت نہیں۔ پس وہ خواتین خوش قسمت ہیں جو اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے شوہرسے عشق و محبت کرتی ہیں اور ان کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

امام باقر (ع) روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین (ع)نے فاطمہ زہرا (س) کی شہادت کے بعد جنازے کیساتھ کھڑے ہوکر فرمایا :اللهم انّی راضٍ عن ابنة نبیّک اللهم انّها قد اوحشت فآنسها -(۳) ۔ یا اللہ: یہ تیرے نبی کی بیٹی فاطمہ ہے میں ان پر اپنی رضایت کا اعلان کرتا ہوں اے میرے اللہ تو اسے وحشت قبرکے عذاب سے محفوظ فرما۔ اے اللہ ! ان پر لوگوں نے ظلم کئے ہیں تو خود فاطمہ(س) اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کر۔

ان تمام مطالب سے جو درس ملتا ہے وہ یہ ہے کی خواتین کیلئے شوہر کی رضایت اور شفاعت بلندی درجات کا باعث ہے۔ جہاں فاطمہ(س) خود شفیعہ محشر ہونے کے باوجود اپنے شوہر کی رضایت طلب کررہی ہے تو وہاں ہماری ماں بہنوں کو بھی چاہئیے کہ اپنے اپنے شوہر کی رضایت کو ملحوظ نظر رکھیں تاکہ عاقبت بخیر ہو۔

ثواب میں مردوں کے برابر

اسلامی معاشرے میں خواتین کو بڑا مقام حاصل ہے،جن کی روایتوں میں بہت ہی توصیف کی گئی ہے اور ثواب میں بھی مردوں کے برابر کے شریک ہیں۔

فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ص ذَهَبَ الرِّجَالُ بِكُلِّ خَيْرٍ فَأَيُّ شَيْ‏ءٍ لِلنِّسَاءِ الْمَسَاكِينِ فَقَالَ ع بَلَى إِذَا حَمَلَتِ الْمَرْأَةُ كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُجَاهِدِ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا وَضَعَتْ كَانَ لَهَا مِنَ الْأَجْرِ مَا لَا يَدْرِي أَحَدٌ مَا هُوَ لِعِظَمِهِ فَإِذَا أَرْضَعَتْ كَانَ لَهَا بِكُلِّ مَصَّةٍ كَعِدْلِ عِتْقِ مُحَرَّرٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ رَضَاعِهِ ضَرَبَ مَلَكٌ كَرِيمٌ عَلَى جَنْبِهَا وَ قَالَ اسْتَأْنِفِي الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكِ(۴) ۔

ام المؤمنین حضرت امّ سلمہ(رض) نے ایک دن رسولخدا (ص)سے عرض کیا؛ یا رسول اللہ(ص)! مرد حضرات تمام نیکیاں بجا لاتے ہیں اور سارا ثواب کماتے ہیں لیکن ہم بیچاری عورتوں کیلئے بھی کوئی ثواب ہے؟ تو فرمایا:ہاں جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس کیلئے دن کو روزہ رکھنے اور رات کو عبادتوں میں گذارنے کا ثواب اور اپنی جان و مال کیساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاھد کا ثواب دیا جائے گا۔ اور جب بچّہ جنم دیگی تو اسے اتنا ثواب عطا کریگا کہ کوئی بھی شمار کرنے والا شمار نہیں کرسکتا۔اور جب اپنے بچّے کو دودھ پلانے لگے گی تو بچّے کے ایک ایک گھونٹ لینے کے بدلے اولاد بنی اسرائیل میں سے ایک غلام ،خدا کی راہ میں آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔اور جب دو سال پورے ہوجائیں اور دودھ پلاناچھوڑدے تو ایک فرشتہ آتا ہے اور اس عورت کے شانوںپر آفرین کہتے ہوئے تھپکی مارتا ہے اور خوش خبری دیتا ہے کہ اے کنیز خدا :تیرے سارے گناہ معاف ہوچکے اب اچھے اور شائستہ عمل اور کردار کے ساتھ تو نئی زندگی شروع کر۔