خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض0%

خاندان کےاخلا ق و فرائض مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف: غلام مرتضیٰ انصاری
زمرہ جات:

مشاہدے: 5056
ڈاؤنلوڈ: 736

تبصرے:

خاندان کےاخلا ق و فرائض
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 60 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5056 / ڈاؤنلوڈ: 736
سائز سائز سائز
خاندان کےاخلا ق و فرائض

خاندان کےاخلا ق و فرائض

مؤلف:
اردو

فاطمہ(س) خواتین عالم کیلئے نمونہ

بغیر کسی تردید کے دیندار خواتین چاہتی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اسلامی قوانین کے مطابق ادا کریں اور چونکہ حضرت زہرا (س) ان کیلئے ایک بہترین نمونہ عمل ہے، اس لئے آپ کی سیرت اور کردار کو ان کیلئے بیان کرنا ضروری ہے۔

رسول اسلام (ص)نے فرمایا:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَوْ لَا أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع لَمْ يَكُنْ لِفَاطِمَةَ ع كُفْوٌ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ ۔۵۔ اور فرمایا:لو لا علیّ لم یکن لفاطمة کفو -(۶) میری نظر میں فاطمہ(س) کا مقام اس قدر بلند وبالا ہے کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو اس روئے زمین پرحضرت آدم(ع) کے زمانے سے قیامت تک فاطمہ(س) کے قابل کوئی ہمسر نہ ملتا۔

فاطمہ(س) کاگھر میں کام کرنا

ان تمام عظمتوں کے باوجودفاطمہ (س)گھر کا سارا کام خود کرتی تھیں۔ جیسا کہ امامصادق (ع)فرماتے ہیں :میرے جدّ گرامی علی (ع) نے رسولخدا (ص)کے فرمان کے مطابق گھریلو کام کو فاطمہ کیساتھ تقسیم کیا کہ آپ باہر کا کام کریں گے اور فاطمہ(س) چاردیواری کے اندر کا کام کریں گی

كَانَ عَلِيٌّ ع يَسْتَقِي وَ يَحْتَطِبُ وَ كَانَتْ فَاطِمَةُ ع تَطْحَنُ وَ تَعْجِنُ وَ تَخْبِزُ وَ تَرْقَع‏ ۔ یعنی امیر المؤمنین پانی اور لکڑی کا بندوبست کرتے تھے اور میری جدّہ گرامی آٹا پیستی،خمیر بناتی ، روٹی پکاتی اور کپڑے دھوتی تھیں(۷)

پیامبر (ص) کا اپنی بیٹی کا دیدار کرنا

ایک دن جب رسول گرامی اسلام (ص)فاطمہ (س)کے گھر آپ کے دیدار کیلئے تشریف لائے،فاطمہ(س) کو دیکھ کر آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں کہفاطمہ (س)اونی لباس میں ملبو س علی (ع)کے گھر میں چکّی بھی پیس رہی ہیں اور ساتھ ہی امام حسین (ع)کو دودھ بھی پلارہی ہیں ۔جب اتنی مشقت کی حالت میں دیکھا تو اشکبار آنکھوں کے ساتھ فرمایا: میری جان فاطمہ(س)! دنیا میں ایسی سختیاں جھیل لیں تاکہ قیامت کے دن اجر وثواب کے زیادہ مستحق ہوجاؤ۔اور اس راہ میں صبر و تحمّل کو ہاتھ سے جانے نہ دو۔فاطمہ(س) نے عرض کیا بابا جان! میں خدا کا ہر حال میں شکر ادا کرتی ہوں اور کسی وقت بھی خدا کی ذات کو فراموش نہیں کرونگی۔اس وقت وحی نازل ہوئی : ولسوف یعطیک ربّک فترضی –(۸) ۔

یعنی اے رسول! کیااپنی بیٹی کو اتنی سختیوں میں دیکھ کر زیادہ مغموم ہوگئے اورآپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے؟ ہم انہیں اس کا بدلہ ضرور دینگے۔اور شفاعت کا پرچم آپ اور آپ کی بیٹیفاطمہ (س)کو عطا کریں گے اور ان کی عظمت اور مقام کو اتنا بلند کرینگے کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ شیبہ نے اس واقعے کو کچھ اضافات کیساتھ حضرت سلمان سے یوں نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ جب میں علی کے دولت سرا میں داخل ہواتو فاطمہ(س) کو دیکھا کہ چکّی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں۔ میں نے کہا:اے بنت رسول! کیوں فضّہ سے مدد نہیں لیتیں؟ تو فرمایا : ایک دن فضّہ کام کرتی ہے اور ایک دن میں۔ اور آج میری باری ہے اور ان کی استراحت کا دن ہے۔ یہ واقعہ میں نے علی (ع)کو سنایاتو بہت روئے اورفاطمہ (س)کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ پھر کچھ لمحہ کے بعد مسکراتے ہوئے باہر آئے ۔ پیامبر اسلام (ص) نے خوشی کی وجہ پوچھی تو علی (ع)نے فرمایا: جب میں گھر میں گیا تو دیکھا کہ فاطمہ سورہی ہے اور حسین (ع) ان کے سینہ پر سورہا ہے اور چکّی خود بخود چل رہی ہے۔ پیامبر (ص)نے مسکرا کے کہا: اے علی!فرشتے محمد وآل محمد ۷سے محبت رکھتے ہیں جو چکّی چلارہے ہیں –(۹)

فاطمہ علی (ع) کے گھر میں بہت کام کرتی تھیں بچوں کی پرورش کرتی مشکلات کو برداشت کرتی بیشتر اوقات بھوکی رہتی لیکن کبھی بھی علی (ع)سے شکایت نہیں کی۔ ایک دن امام حسن و حسین (ع) اپنے نانا سے کہنے لگے نانا جان ہم بھوکے ہیں آئیں اور ماں زہرا –(۱۰) سے کہیں کہ ہمیں کھانا دیں۔:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَا لِي أَرَى وَجْهَكِ أَصْفَرَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ فَقَالَ ص اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ وَ دَافِعَ الضَّيْعَةِ أَشْبِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ!

پیامبر اسلام (ص)نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا توفرمایا کیوں چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا ہے؟ عرض کیا: اے رسولخدا (ص) بھوک کی وجہ سے۔ اس وقت آپ (ص)نے فاطمہ(س) کے حق میں دعا کی ،خدایا ان کی بھوک اور پیاس کو رفع فرما۔

عزیزو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ علی (ع) کی آمدنی اتنی کم نہ تھی کہ گھر میں اتنی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی، بلکہ یہ لوگ ہمیشہ مال دولت کو راہ خدا میں ایثارکرتے تھے۔چنانچہ مولا نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:میں چاہتا ہوں کہ میں غریب ترین شخص کی طرح زندگی گزاروں۔

فاطمہ(س) اور خاندانی حقوق کا دفاع

جہاں فاطمہ(س) اپنا سارا مال راہ خدا میں دیتی ہیں وہاں اپنا حق دوسروں سے لینے میں بھی کوتاہی نہیں کیں۔جب بعض اصحاب رسول نے فدک غصب کیا تو آپ نے خطبہ دیا ، جس میں دنیا کی تمام خواتیں کیلئے اپنے حقوق کا دفاع اور حفاظت کرنے کا درس موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت نہیں ملے گی؟کیا دور جاہلیّت کا حکم دوبارہ جاری کرنے لگے ہو کہ اس دور میں خواتین کو کچھ نہیں ملتا تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسولخدا (ص)کی بیٹی ہوں ؟ اے مسلمانو! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت سے محروم کیا جائے؟! اے ابی قحافہ کے بیٹے! کیا اللہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ تو اپنے باپ کا ارث لے اور میں اپنے باپ کا ارث نہ لوں؟! تو نے خدا پر بہت بڑی تہمت لگائی ہے اور ایک نئی چیز لے آئے ہو۔کیوں قرآن کے خلاف عمل کرتے ہو اور اسے پس پشت ڈالتے ہو؟!قرآن تو کہہ رہا ہے:( وورث سلیمان داوداً ) (نمل ١٦) سلیمان داودکے وارث بنے۔

اور زکریا A نے فرمایا:يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا(۱۱) پروردگارا! مجھے اپنی طرفسے بیٹا عطا کر جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔وَالَّذِينَ آمَنُواْ مِن بَعْدُ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ مَعَكُمْ فَأُوْلَئِكَ مِنكُمْ وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ -(۱۲) اور جو لوگ بعد میں ایمان لے آئے اور ہجرت کی اور آپ کے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمھیں میں سے ہیں اور قرابت دا ر کتاب خدا میں سب آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ اوّلیت اور قربت رکھتے ہیں بیشک اللہ ہر شے کا بہترین جاننے والا ہے۔اورجو لوگ بعد میں ایمان لے آئے اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دارایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَآؤُكُمْ وَأَبناؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيما حَكِيمًا. (۱۳)

اللہ تمہاری اولادکے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔اب اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہیں تو انہین تمام ترکہ کا دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر ایک ہی ہے تو اسے آدھا اور مرنے والے کے ماں باپ میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے۔ ان وصیتوں کے بعد جو کہ مرنے والے نے کی ہیں یا ان قرضوں کے بعد جو اس کے ذمہ ہیں ، یہ تمھارے ہی ماں باپ اور اولاد ہیں مگرتمھیں نہیں معلوم کہ تمھارے حق میں زیادہ منفعت رساں کون ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ(۱۴)

اگر موت کے وقت کچھ مال چھوڑ ے جارہے ہوتو اسے چاہئے کہ والدین اور رشتہ داروں کیلئے مناسب طور پر وصیت کرے۔متقی لوگوں پر یہ ایک حق ہے ۔اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ مجھے میرے بابا کا کوئی ارث نہیں ملے گا اور میرے بابا کیساتھ میرا کوئی تعلّق نہیں ؟ کیاخدا نے تجھ پر کوئی خاص آیة نازل کی ہے جسے میرے بابا اور میرے شوہر نہیں جانتے؟!کیا تم ان سے زیادہ قرآن کے خاص وعام سے واقف تر ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو تم غارت گر ہو، یہ اونٹ اور تم، لے جاؤ اپنے ساتھ ، میں خدا وند حکیم کی بارگاہ میں قیامت کے دن ملاقات کروں گی۔وہ دن کتنا اچھا وعدہ گاہ ہے اور محمد۷کتنے عظیم عدالت خواہ ہیں۔اس دن باطل راستے پر چلنے والے نقصان ، پریشانیاں اور ندامت اٹھائیں گے،ہر وعدہ کیلئے ایک وعدہ گاہ ہے اور ہر اچھائی کیلئے اپنی جگہ معیّن ہے اور بہت جلد تم جان لوگے کہ ذلّت آمیز عذاب کس کے اوپر نازل ہوگا،جو ہمیشہ کیلئے عذاب سرا ہوگا۔

کلام فاطمہ(س) میں خاندانی رفتار

آپ فرماتی ہیں: خیارکم ألینکم مناکبہ واکرمھم لنسائھم-(۱۵)

یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کیساتھ سب سے زیادہ نرم مزاج اور خوش خلق ہو، اور سب سے زیادہ ارزشمند وہ لوگ ہیں جو اپنی شریک حیات پر زیادہ مہربان اور بخشنے والا ہو۔

بیوی کیساتھ اچھا برتاؤ

قَالَ النَّبِيُّ ص: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِراً مُطَهَّراً فَلْيَلْقَهُ بِزَوْجَةٍ وَ مَنْ تَرَكَ التَّزْوِيجَ مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ فَقَدْ أَسَاءَ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ(۱۶)

رسول اسلام (ص)نے فرمایا: جو بھی تنگ دستی کے خوف سے بیوی کی سرپرستی چھوڑدے تو حقیقت میں وہ خدا تعالی پر بدظن اور بد گمان ہوا۔ واضح ہے کہ بیوی جیسی نعمت کا ہونا انسانی زندگی میں انحرافات سے دوری اور طہارت معنوی ایجاد کرتا ہے۔ وہ شخص جو مرنے کے بعد ابدی سعادت اور حیات جاودانی کا خواہان ہے تو جان لے کہ ایک اچھی اور پاک دامن بیوی اسے یہ مقام دلاسکتی ہے۔

____________________

۱ ۔ وسائل الشیعہ، ج۲۰، ص۲۲۲۔

۲ ۔ بحار الانوار،ج١٠٣، ص٢٥٦۔

۳ ۔ وسائل الشیعہ ،ج۲۱، ص۴۵۱۔

۴ ۔ تہذیب الاحکام،ج۷، ص۴۷۰۔

۵ ۔ آثارالصادقین،ج١٦،ص٤١٩۔

۶ ۔ سفینة،ج٢،ص١٩٥، الکافی ج۸،ص ۱۶۵۔

۷ ۔ سورہ ضحی ۵۔۸ ۔ جلاء العیون،ج١ ،ص١٣٧۔۹ ۔ الکافی،ج۵، ص۵۲۸۔۱۰ ۔ مریم ٦ ۔۱۱ ۔ انفال٧٥۔۱۲ ۔ نسآء ١١۔

۱۳ ۔ بقرہ١٨٠۔۱۴ ملکہ اسلام فاطمہ،چ٢،ص٣٦ ۔۱۵ ۔ فاطمہ نور الہی،چ١،ص١٥٣، دلائل الامامہ،ص۱۔

۱۶ ۔ من لایحضرہ الفقیہ،ج٣،ص ۳۸۵۔

خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل

نظم و ضبط

کہ یہ اتنا اہم ہے کہ امیرالمؤمنین (ع)نے اپنی آخری وصیّت میں اپنے بیٹے حسن اور حسین کو نزدیک بلا کر فرمایا: اوصیکم بتقوی اللہ و نظم امرکم۔(نہج البلاغہ) یعنی تقوی الہی اختیار کرو اور اپنے معاملات میں نظم و ضبط قائم کرو۔ روایات میں جسے تقدیر المعیشہ سے تعبیر کیا ہے کہ جس کی زندگی میں نظم وضبط موجود ہو بہت ساری مشکلات سے دور ہوگی اور جس کی زندگی میں نظم وضبط نہ ہو تو اپنی توانائی کو ضائع کردینے کے برابر ہے۔ بعض اوقات تو لوگوں کے گھروں میں کئی کئی نوکر اور خدمت گذار اور دیگر بہت سارے وسائل زندگی ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے گھر کا نظام نہیں چلاسکتے اور اوضاع خراب ہونے کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ خواتین کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیّت معاشی فکر کا حامل ہونا ہے ، کہ وہ جان لے کہ زندگی کی ضروریات کیا ہیں اور خاندانی امور اور اپنے اوقات کو کیسے منظم کیا جاتا ہے۔اگر ایسی گھر والی نہ ہو تو آپ کتنا ہی کیوں نہ کمائیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہت سے گھر والوں کی مشکل درآمد کی نہیں بلکہ استعمال میں بے نظمی ہے۔ جس طرح بڑی تعداد میں فوج موجود ہوں لیکن بد نظم ہوں تو ایک مختصر مگر منظم گروہ کے مقابلے میں اس کی شکست یقینی ہے۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں: مسلمانوں کو تین چیزوں کے سوا کوئی اور اصلاح نہیں کرسکتی :

* دین سے آگاہی۔

* مصیبت اور سختیوں کے وقت استقامت و برد باری۔

* زندگی میں نظم و ترتیب ۔

ان کلمات سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے ہر شعبے خواہ معاشی زندگی ہویا

معاشرتی،سیاسی ہو یا سماجی ،میں نظم وضبط بہت ضروری ہے۔

اعتماد کرو تہمت سے بچو۔

اجتماعی زندگی اعتماد اور خوش گمانی کا محتاج ہے اگرچہ مسلمانوں کے بارے میں خوش گمان ہونا ضروری ہے کہ قرآن کا فرمان ہے :( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ) (۱)

یعنی اے ایمان والو!بہت سی بدگمانیوں سے بچوبعض بدگمانیاں یقیناً گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقیناً تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔

ایک مشترک اور خاندانی زندگی میں مرد اور عورت کوایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور حسن ظن رکھنا چاہئے۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا خَرَجَ مِنْ حَسَنَاتِهِ كَمَا تَخْرُجُ الْحَيَّةُ مِنْ جِلْدِهَا وَ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ عَلَى بَدَنِهِ أَلْفُ‏ خَطِيئَةٍ(۲) ۔ پیامبر اسلام (ص) فرماتے ہیں: جو شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کے سارے نیک اعمال اس سے جدا ہونگے جس طرح سانپ اپنے خول سے الگ ہوتا ہے اور اس کے بدن پر موجود ہر بال کے بدلے میں ایک ہزار گناہ لکھا جائے گا۔

وَ قَالَ ع: مَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَ لَا عَدْلٌ(۳) فرماتے ہیں: جوشخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے ، اس پر خدا کی لعنت پڑتی ہے اور اس سے نہ ایک درہم اور نہ ایک حسنہ قبول ہوتی ہے۔

پاکیزگی اور خوبصورتی

اسلام پاکیزگی اور زیبائی کا دین ہے اس لئے نظافت اور پاکیزگی کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔امامصادق (ع)نے فرمایا:قَالَ مِنْ أَخْلَاقِ الْأَنْبِيَاءِ التَّنَظُّفُ وَ التَّطَيُّب(۴) اس حدیث میں انبیاءالہی کی چارخصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں: پاکیزگی اور خوشبو کا استعمال کرنا۔نظافت اور پاکیزگی پیامبروں کے اخلاق میں سے ہے۔ اپنے بدن اور لباس سے بدبو کو پانی کے ذریعے دورکرلو ، کیونکہ خداوند گندھے لوگوں سے بیزار ہے-(۵)

پیامبر (ص)نے فرمایا: جو بھی لباس پہن لے تو اسے پاک اور صاف رکھے –(۶) پاکیزگی کو اہمیت دینا اسلام کی معجزات میں سے شمار ہوتی ہے۔ اسلام نے اپنے اہم ترین احکام جیسے نماز وغیرہ پاکیزگی اور طہارت سے مشروط قرار دیا ہے۔ اسی لئے واجب غسل اور واجب وضو کے علاوہ مستحب وضو اور مستحب غسل کا بھی مختلف اوقات میں بڑی تاکید اور تشویق کیساتھ حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ ہفتے میں ایک بار ناخن کا تراشنا داڑھی کا اصلاح کرنا روزانہ کئی بار کلّی کرنا ،ناک میں پانی ڈالنا اور مسواک کرنا وغیرہ کو بہت اہمیّت دیتا ہے۔امام موسی کاظم A ارشاد فرماتے ہیں: کھانے کے بعد اخلال کریں تاکہ کھانے کے زرّات دانتوں کے درمیا ن باقی نہ رہے۔اخلال ایک قسم کی صفائی ہے اور صفائی ایمان کا جز ہے اور جو صاحب ایمان ہو اسے بہشت میں داخل کردیتا ہے –(۷) اسی طرح عورتیں بھی اپنے شوہر کو اسی طرح صاف ستھرا دیکھنا چاہتی ہیں جس طرح شوہر اسے دیکھنا چاہتا ہے۔

ایک دوسرے کا خیال

اگر کوئی گھر میں اکیلا زندگی گزارتا ہوتووہ آزاد ہے گھر میں جہاں بھی جس طرح بھی سوئے، کھائے، پڑھے، لباس پہنے یا نہ پہنے خاموش رہے یا شور مچائے۔ لیکن اس گھر میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی رہنے لگے تو اسی قدر اس کی آزادی بھی محدود ہوتی جائے گی۔ اس کے بعد وہ پہلے کی طرح شور نہیں مچاسکتا، بلکہ اس پر لازم ہے دوسرے کا خیال رکھے ۔ خواہ وہ دوسرا شخص اس کی بیوی یا بچہ ہو یا کوئی اور۔ شوہر اپنے آپ کو بیوی بچوں کا مالک نہ سمجھے بلکہ ہر ایک کے جزبات کا خیال رکھنا چاہئے ۔

اچھی گفتگو

ہر کسی کیساتھ خصوصاً اہل خانہ کیساتھ اچھی اور پیاری گفتگو کرنی چاہئے۔ پیامبراکرم (ص)نے فرمایا : بدترین شخص وہ ہے جس کی بد کلامی اور گالی گلوچ کی وجہ سے اس کے قریب کوئی نہ آئے-(۸) ۔

امام سجا A د فرماتے ہیں: اچھی اور بھلی گفتگو رزق وروزی اور عزّت بڑھاتی ہے اوردوسروں کے نزدیک محبوب بناتی ہے اور بہشت میں داخل ہونے کا سبب بنتی ہے(۹)

انسان لالچی نہ ہو

میاں بیوی کے درمیان کدورت اور دشمنی پیدا ہونے کا ایک خطرناک ذریعہ اپنے آپ کو دوسروں کیساتھ مقایسہ کرنا ہے،جب دوسروں کی زندگی کی ظاہری کیفیت اپنے سے بالاتر دیکھتی ہے تو اپنے شوہر کو پست اور دوسروں کو اپنے شوہر سے بہتر تصوّر کرنے لگتی ہے۔اور شوہر بے چارہ بھی اسے اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ایسے موقع پر بیوی کو چاہئے کہ جلدی فیصلہ نہ کرے۔ہر کسی میں بہت ساری خوبیوں کیساتھ خامیاں بھی ضرور پائی جاتی ہیں۔اور کوئی بھی ہرعیب و نقص سے خالی نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی سمجھ لے کہ شیطان آپ کو اسطرح ورغلارہا ہے۔پس اپنی قسمت اور تقدیر پر راضی رہیں ۔

چنانچہ پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں اگر کوئی انہیں اپنے اندر جمع کرلیں تو دنیا اور آخرت کی بھلائی اسے مل گئی :

* اپنی قسمت پر راضی اور خوش رہنا .* مصیبت اوربلا کے موقع پر صبر کرنا۔* آرام اور سختی کے دوران دعا کرنا۔(۱۰)

ایسے مواقع پر اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہئے تاکہ امیدوار اور خوش رہے۔ اور خدا کی نعمتوں پر شکر کرتے رہے۔اگر خدا نے سلامتی دی ہے،دین دیا ہے ۔اچھا اخلاق دیا ہے اور اچھی بیوی دی ہے تو پھر ان پر شکر کرنا اور افتخار کرنا چاہئے۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی S فرماتے ہیں کہ رسولخدا (ص) نے مجھے نصیحت کی :

* اپنے سے کمتر پر نظر رکھو۔* فقیروں اور مسکینوں سے محبت کرو۔* حق بات کہو اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔

*اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو ۔*کبھی بھی دوسروں سے کوئی چیز نہ مانگو۔*لاحول ولا قوّة الّا بالله کو زیاد ہ پڑھا کروجو بہشتی خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔(۱۱)

احساس بیداری

عقل اور احساس انسان کے اندر مسائل کے سمجھنے اور درک کرنے کے دو اہم ذریعے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگوں میں عقل کی نسبت احساسات کی تأثیر زیادہ ہے ۔ اس احساس کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے جس سے خاندان میں صلاح مشورے ،باہمی تفاہم اور محبت زیادبڑھ جاتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیوی سے ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ وہ احساس کمتری یا حقارت کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر شوہر کو احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

احساس غمخواری

میاں بیوی دونوں ازدواج کی حقیقت اور سعادت و خوش بختی سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی بنیاد ایک دوسرے کے ساتھ عشق و محبت کرنے پر استوار ہے۔ اور عشق و محبت پیدا کرنے کا اہم ترین عامل ایک دوسرے کے ساتھ غمخواری اور ہمدردی کا احساس دلانا ہے ۔ زندگی کی تلخیوں اور سختیوں میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کو شریک سمجھیں جس طرح خوشیوں میں سمجھتے ہیں۔ اس وقت احساس ہوگا کہ زندگی کس قدر شیرین اور ہم آہنگ ہے۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور شوہریہ نہ کہیں کہ یہ تیرا کام ہے وہ میرا کام ۔ میرے ذمے صرف گھر سے باہر کا کام ہے ۔ لیکن دوسری طرف سے ایسا بھی نہ ہو کہ اگر شوہر گھریلو کاموں میں بیوی کی مدد کرنا شروع کرے تو وہ اس کی محبت کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے دوسرے دن اس سے جھاڑو لگوانا شروع کرے۔

ہرگز ناامید نہ ہونا

اگر خدانخواستہ خاندان میں کوئی مشکل پیش آئے خواہ بیوی کی طرفسے ہو یا شوہر کی طرف سے۔ دونوں کو حوصلے سے اس کا مقابلہ کرکے مشکل کو حل کرنا چاہئے۔اور کسی بھی وقت مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہئے۔اور نہ یہ سوچنے لگے کہ ہماری خوشبختی اور سعادتیں ختم ہوگئیں۔ نہیں ایسا نہیں۔ مشکلات اور سختیاں ابتدائی دنوں میں سنگین محسوس کرنے لگیں گے لیکن زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ سنگینیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ اگر بیوی بداخلاق ہو یا اس میں اور کوئی عیب موجود ہو تو شور وشرابہ کرنے کے بجائے وسعت فکر و نظر سے اس کا حل تلاش کرے۔ اور صبر سے کام لے جو انسان کی راہ سعادت میں بہت ہی مؤثر ہے۔ لہذا خداتعالی نے صبر کرنے والوں کو خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا:( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ )(۱۲)

اور ہم تمہیں کچھ خوف ، بھوک اور مال و جان اور ثمرات (کے نقصانات)سے ضرور آزمائیں گے۔ اوران صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجئے۔جو مصیبت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الصَّبْرُ مِنَ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ فَإِذَا ذَهَبَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الْجَسَدُ كَذَلِكَ إِذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الْإِيمَانُ (۱۳)

امامصادق (ع)نے فرمایا: صبر کا ایمان کے ساتھ وہی رابطہ ہے جس طرح سر کا بدن سے۔ جس طرح سرکے بغیر بدن باقی اور سلامت نہیں رہ سکتااسی طرح صبر کے بغیر ایمان بھی بے معنی ہے۔ جی ہاں صبر کا پھل میٹھاہوتاہے۔ اور اپنے آپ کو صبر کی تلقین کرے تاکہ اس کا ثواب پالے۔ سورۂ العصر میں تو تاکید کیساتھ فرمایا: کہ صبر کی تلقین کرنے والے کے سوا سب خسارے میں ہیں۔

خوش اخلاق ہی خوش قسمت

پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَحْسَنُ النَّاسِ إِيمَاناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقاً وَ أَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ وَ أَنَا أَلْطَفُكُمْ بِأَهْلِي(۱۴) بہترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہواور اپنے گھر والوں کیساتھ زیادہ مہربان تر ہو اور میں تم میں سے سب سے زیادہ اپنے اہل وعیال کیساتھ زیادہ مہربان تر ہوں ۔ پھر فرمایا : قیامت کے دن اعمال کے محاسبہ کے وقت ترازو کے پلڑے میں اخلاق سے بہتر کوئی شئی نہیں ڈالی جا سکتی۔

خاندان میں بد اخلاقی کا نتیجہ

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص خَرَجَ فِي جِنَازَةِ سَعْدٍ وَ قَدْ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ص رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ مِثْلُ سَعْدٍ يُضَمُّ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّا نُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَخِفُّ بِالْبَوْلِ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مِنْ زَعَارَّةٍ فِي خُلُقِهِ عَلَى أَهْلِهِ ۔

سعد بن معاذ جو رسول۷کا خاص صحابی تھا ۔جب ان کا انتقال ہوا تو رسولخدا (ص)کے حکم سے اسے غسل و کفن دیا۔ اور خود بھی ان کی تشییع جنازے میں ننگے سرننگے پیر اور بغیر عبا کے شریک ہوئے کبھی دائیں طرف کندھا دیتے تو کبھی بائیں طرف۔ اور اپنے ہی دست مبارک سے اسے قبر میں اتارا اور قبر کو محکم طور پر تیار کیا اور برابر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کچھ دنوں کے بعد سعد کا بدن سڑ جائے گا لیکن بندہ جو کام بھی کرے محکم کرے۔فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ هَنِيئاً لَكَ يَا سَعْدُ قَالَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ص يَا أُمَّ سَعْدٍ لَا تَحْتِمِي عَلَى اللَّهِ -(۱۵) اس وقت سعد کی ماں نے آواز دی :اے سعد! تمھیں جنّت مبارک ہو۔ پیامبر اسلام (ص)نے سختی سے فرمایا:اے سعد کی ماں خاموش رہو اور خدا پر اتنی جرأت نہ کر۔ ابھی سعد فشار قبر میں مبتلا ہے۔ قبرستان سے واپس آتے وقت اصحاب نے سوال کیا : یا رسول اللہ(ص) : آج سعد کے جنازے کیساتھ بالکل انوکھا کام کیا جو کبھی کسی کے جنازے کیساتھ نہیں کیا تھا۔ تو فرمایا: میں سر پیر برہنہ اسلئے تھا کہ ملائکہ بھی سر اور پا برہنہ اس کے جنازے میں شریک تھے۔ جبریل امین A ستّر ہزار فرشتے کیساتھ شریک تھے ۔ تو میں نے بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے نعلین اور ردا اتاری ۔اصحاب نے کہا آپ کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف سے کاندھا دیتے تھے،تو آپ نے فرمایا: میرا ہاتھ جبریل A کے ہاتھ میں تھا، جس طرف وہ جاتا تھا اس طرف میں بھی جاتا تھا۔

اصحاب نے کہا : آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور میت کو خود قبر میں اتارا اس کے بعد آپ نے فرمایا : سعد فشار قبر میں مبتلا ہے! تو پیامبر اکرم۷نے فرمایا: ہاں ، یہ اپنے خاندان کیساتھ بدخلقی سے پیش آتا تھا۔اس سے معلوم ہو ا کہ بداخلاقی فشار قبر کا باعث ہے۔

سعد بن معاذ کو یہ شرف کیسے ملا؟عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّ النَّبِيَّ ص صَلَّى عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لَقَدْ وَافَى مِنَ الْمَلَائِكَةِ سَبْعُونَ أَلْفاً وَ فِيهِمْ جَبْرَئِيلُ ع يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا جَبْرَئِيلُ بِمَا يَسْتَحِقُّ صَلَاتَكُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بِقِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَائِماً وَ قَاعِداً وَ رَاكِباً وَ مَاشِياً وَ ذَاهِباً وَ جَائِياً -(۱۶)

رسول خدا فرماتے ہیں کہ میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ اس میں کیا خوبی تھی کہ جس کی وجہ سے ملائکہ نے اس کے جنازے پر نماز پڑھائی ؟ تو جبرئیل نے فرمایا وہ ہمیشہ اور ہر حال میں خواہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں ،پیدل ہو یا سوار ، آرہے ہوں یا جا رہے ہوں ؛ سورہ اخلاص کی تلاوت کیاکرتےتھے ۔

اچھے اخلاق کا مالک بنو

جو شخص اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سخت غصّہ دکھانے کو اپنی مردانگی سمجھتا ہے تو وہ سخت غلط فہمی میں ہے۔

پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا : بدترین شخص وہ ہے جس کی بد اخلاقی کی وجہ سے لوگ ڈر کے مارے اس کا احترام کرنے لگیں۔ خاندان کوئی جیل خانہ تو نہیں کہ جہاں غصّہ دکھائے اور گھر کے افراد کو ڈرائے اوردھمکائے بلکہ خاندان صلح و صفا عشق و وفا اور فداکاری کا گہوارہ ہے جہاں انسا ن کے جسم و روح کی پرورش ہوتی ہے۔

____________________

۱ ۔ حجرات ۱۲۔

۲ ۔ بحارالانوار، ج١٠٠، ص٢٤٩۔

۳ ۔ بحارالانوار، ج١٠٠، ص٢٤٩۔

۴ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۰، ص۲۴۶۔

۵ ۔ لئالی الاخبار،ج٤، ص١٨.

۶. مکارم الاخلاق، ص٤١.

۷ ۔ لئا لی الاخبار،ج٢،ص٣٢٢.

۸ ۔ بحار،ج ١٦،ص٢٨١۔

۹ ۔ دارالسلامِ،ج٣،ص٤٢٦۔

۱۰ ۔ اصل کافی۔ج٤،ص٣٥٢۔

۱۱ ۔ وسائل الشیعہ۔ج٦،ص٣٠٩۔

۱۲ ۔ بقرہ ۱۵۵۔۱۵۶۔

۱۳ ۔ الکافی،ج۲، ص۸۹۔

۱۴ ۔ وسائل الشیعہ،ج۱۲، ص۱۵۳۔

۱۵ ۔ الکافی،ج۲، ص۲۳۶۔

۱۶ ۔ الکافی ج۲، ص۶۲۲۔