جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں0%

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں مؤلف:
زمرہ جات: توحید

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

مؤلف: شیخ مرتضی انصاری پاروی
زمرہ جات:

مشاہدے: 1435
ڈاؤنلوڈ: 741

تبصرے:

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 31 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1435 / ڈاؤنلوڈ: 741
سائز سائز سائز
جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

تألیف

غلام مرتضی انصاری

۶ محرم١٤٢ ۹ ہ

پہلی فصل : اختیار

اختیارکی لغوی تعریف :

خیّره : فوض الیه الاختیار بین الامرین او شیئین او اکثر -(۱) یعنی کسی شخص کو دویا دو سے زیادہ امور میں سے کسی ایک کا منتخب کرنے کااختیار دینا ۔

اختیار کی اصطلاحی تعریف:

۱. انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشات پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ خواہشات کو ترجیح دیکر انتخاب کرتا ہے۔ اور یہی اختیار ملاک تکلیف ہے۔

۲. عقائد اسلامی کی روشنی میں اختیار کی تعریف کچھ اس طرح کی گئی ہے:ان الله سبحانه کلّف عباده بواسطة الانبیاء و الرسل ببعض الافعال و نهی هم عن بعض آخر و امرهم بطاعته فی امر به و نهی عنه بعد ان منحهم القوة والارادة علی الفعل و الترک و هولهم الاختیار فی ما یفعلون دون ان یجبر احداً علی الفعل .(۲)

بیشک اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو انبیاء اور رسولوں کے ذریعے بعض افعال سے روکا گیا ہے اور بعض افعال کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی باتوں پر عمل کرے اگر وہ کسی چیز سے روکے تو رک جائے اور اگر کسی چیز کا حکم دے تو اسے بجا لائے۔اور یہ حکم انسانوں کو ان افعال کے انجام دینے اورنہ دینے کا ارادہ اور قوت دینے کے بعدکیا گیا ہے کہ ان کیلئے اختیار ہے کہ اس فعل کو انجام دے یا نہ دے ۔ اس پر کوئی جبر نہیں ۔

اختیار کی عرفی تعریف

۱. اختیار در مقابل اضطرار:

بعنوان مثال فقہ میں مضطر افراد کا حکم بیان ہوا ہے چنانچہ کسی کیلئے بھی اپنے اختیار سے خنزیر کا گوشت کھانا جائز نہیں لیکن اگر وہ مضطر ہوجائے یعنی اگر نہ کھائے تو جان اس کی خطرے میں پڑجائے یا بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، تو کھانا جائز ہے۔ یہ قرآن کا حکم ہے:( إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) -(۳) .یقینا اسی نے تم پر مردار،خون، سورکاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام قرار دیا، پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ بغاوت کرنے اور ضرورت سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

۱. اختیار در مقابل اکرا ہ

یہ مورد زیادہ تر حقوقی اموراور لین دین میں پایا جاتا ہے۔ بعنوان مثال کہا جاتا ہے کہ: بیع مکرہ باطل یعنی بیع صحیح ہونے کے شرائط میں سے ایک اختیار ہے پس اکراہ سے مراد کسی ضرر یا نقصان کا تہدید کرنا اور اسی تہدید یا دھمکی کی وجہ سے کسی کام کو انجام دینا۔ اگر یہ دھمکی نہ ہوتی تو وہ اس کام کو انجام نہ دیتا۔

۲. اختیار درمقابل جبر

یہ اختیار کا وسیع ترین معنی ہے کہ وہ کام جسے فاعل اپنی میل اور رغبت کے ساتھ کسی دوسرے عامل کی طرف سے کوئی زور یا تہدید یا دھمکی کے بغیر انجام دیتا ہے ۔ یہ اس اختیارسے بھی اعم ہے جسے فاعل اپنے قصد و ارادہ سے انجام دیتا ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی ایسی شرط نہیں جو ایک ذہنی مقایسہ کے بعد انجام دیا جائے اور اس کے بعد زوق پیدا ہو جائے-(۴) ۔

۳. اختیار یعنی ارادہ اور انتخاب

یعنی انسان کے سامنے کئی راستے موجود ہیں جن میں سے ایک راستے کو جانچ پڑتال کے بعد انتخاب کرتا ہے کیونکہ اپنے اس فعل کو پہلے سے تصور کر چکا ہوتاہے جسے فاعل بالقصدکہا جاتا ہے۔

ایک سوال :اختیار ، ارادہ اور قدرت سے کیا مراد ہے؟ مختار ، مرید اور قادر کون ہیں؟

ان سوالوں کے جواب میں آیة اللہ حسن زادہ آملی تعلیقات شیخ رئیس سے نقل کرتے ہیں:یجب ان یکون فی الوجود وجود بالذات و فی الاختیار اختیار بالذات و فی الارادة ارادة بالذات و فی القدرة قدرة بالذات حتی یصح ان یکوں هذه الاشیاء لا بالذات فی الشیوع معناه یجب ان یکون واجب الوجود وجوداً بالذات و مختاراً بالذات و قادراً بالذات و مریداً بالذات حتی تصح هذه الاشیاء لا بالذات فی غیره ۔ –(۵)

یعنی واجب الوجود ہے جس کا وجود وجود ذاتی ہے ، قدرت قدرت ذاتی ہے اور اس کا ارادہ ارادئہ ذاتی ہے، تا اینکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ واجب الوجود کے علاوہ بقیہ تمام موجودات عالم بالذات نہیں یعنی ان کی بقا کسی اور وجود کے اوپر محتاج ہے ۔

____________________

۱ ۔ عقائد اسلامی در قرآن، ج١،ص٤٤٧.

۲ ۔ ھمان.

۳ ۔ بقرہ ۱۷۳.

۴ ۔ محمد تقی مصباح ، معارف قرآن ،ج١،ص٣٧٦.

۵ ۔حسن زادہ آملی ، خیر الاثر، ص٧.

اختیار

جب بھی ہم اپنے آپ کو کسی کام میں مختار پاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بالقوہ مختار نہ تھے ابھی بالفعل مختار ہوئے یعنی اچھا اور بر ا فعل انجام دینے کا اختیار ہم میں پہلے نہیں تھا ابھی وجود میں آیا۔

توضیح: جب بھی ہم کسی فعل کو اختیار کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس فعل کے نفع نقصان کو تصور کرتے ہیں اور انجام دینے اور نہ دینے کیلئے موازنہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک انگیزہ ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے اچھے فعل کی پہچان ہوتی ہے ۔ ممکن ہے یہ پہچان احتمالی و ظنی ہویا یقینی ہو ہر صورت میں اس فعل کے انجام دینے کا باعث بنتا ہے۔

پس معلوم ہو ا کہ انسان ذاتا ًفاعل مختار نہیں ہے بلکہ سبب اور علت ہو سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی فعل کا انجام دینے پر مختار حقیقی اور مالک واقعی نہیں ہے ۔

مختار حقیقی وہ ہے جو کسی بیرونی غرض و غایت کے بغیر اختیاری فعل کو انجام دے۔ پس معلوم ہوا مختار حقیقی خدا کی ذات ہے کیونکہ وہ جو کام انجام دیتا ہے تو اس میں کسی بیرونی غایت کا عمل دخل نہیں ہے۔

ارادہ

ارادہ انسان کی وہ داخلی حالت ہے کہ جب وہ کسی فعل کا تصور کرتا ہے تو اس کا حصول اور غرض و غایت کی تصدیق کا شوق حاصل ہوتا ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ارادہ اس میں پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ارادہ ، فعل کا تصور اور فائدہ ، منفعت کی تصدیق اورشدید شوق کے حصول کے بعد واقع ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ شوق ارادے سے جدا ہوسکتا ہے لیکن فعل ارادے سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ مثال کے طور پر روزہ رکھنے والا کھانے پینے کا شوق تو رکھتا ہے لیکن کھانے کاارادہ نہیں کرتا، اور مریض دواکھانے کا شوق تونہیں رکھتا لیکن ارادہ ضرور کرلیتا ہے۔

قدرت

جو قدرت ہم میں پائی جاتی ہے بالقوہ ہے جسے فعلیت تک پہنچانے کیلئے کسی ترجیح دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ہم دو متضاد فعل کے انجام دینے پر قادر ہیں، جب تک کوئی ترجیح دینے والا نہ آئے تب تک کوئی ایک فعل بھی ہم سے سرزد نہیں ہوگا۔ اور فعل کے انجام دینے کیلئے صرف قدرت کافی تھا تو فعل کے صادر ہونے کیلئے مرجح کی ضرورت نہ تھی اور ایک ہی وقت میں دو متضاد فعل کا انجام دینا ممکن ہوتا جبکہ ایسا نہیں ۔

لیکن قدرت الہی سے مراد قدرت بالفعل ہے اور وہ قادر بالذات ہے۔ خدا کی قدرت اس کا علم ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ قادر ہے تو عالم بھی ہے اور اس کا علم فعل کے صادر ہونے کا سبب ہے اور داعی اور غرض اپنے افعا ل کے انجام دینے کیلئے خود ذات باری تعالی ہے۔(۱)

ارادہ اور اختیار میں فرق

ارادہ کا معنی ، اختیارکے معنی سے زیادہ دقیق تر نہیں ۔ چنانچہ ہر اختیاری فعل میں فاعل کا ارادہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ فعل انجام پائے۔

سوال یہ ہے کہ ارادہ کی ماہیت کیا ہے اور اختیار کے ساتھ اس کی کیا نسبت ہے؟

جواب:

ارادہ کی ماہیت اوپر ذکر ہوا کہ وہ انگیزہ اورشوق جو انسان کوفعل کے انجام دینے کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔ اور اوپر بیان ہوا کہ ارادہ ، شوق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اختیار سے مراد یہ ہے کہ اس کا فعل علم ، ارادہ اور قدرت کے بعد واقع ہوتا ہے۔(۲)

مبادی اختیار کی تلاش

چنانچہ اختیار جبر کے مقابلے میں والی بحث سے واضح ہوا کہ خداوند فاعل مختار ہے اور انسان فاعل بالقصد ۔ اور اختیار انسان اور اختیار خدا میں نمایان فرق یہی ہے کہ خدا کیلئے لازم نہیں کہ کسی فعل کو انجام دینے کیلئے پہلے تصور کرے پھر انگیزہ پیدا ہوجائے جس کے بعد فعل کو انجام دے، بلکہ فقال لہ کن فیکون۔ لیکن انسان پہلے اس فعل کو تصور کرتا ہے اس کے بعد میل و رغبت پیدا ہوجاتا ہے پھر اقدام کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی انسان کو کبھی کبھی تسامحاً فاعل مختار کہا جاتا ہے۔ یعنی فاعل اپنے فعل کے انجام دینے میں مجبور نہیں تھا بلکہ خود اپنے اختیارکے ساتھ انجام دیا۔ آپ یونیورسٹی کا ایک طالب علم کی مثال لیجئے : جو اپنے ماں باپ ، عزیز و اقرباء سے دور دوسرے شہر یا ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے خاطر بہت ساری صعوبتیں اور دشواریاں برداشت کررہا ہے۔ واضح ہے کہ اس راہ میں بہت ساری دشواریوں کو متحمل ہورہا ہے، یہ خود طالب علم کا اختیاری عمل ہے۔ واضح ہے کہ اس راہ میں بہت ساری سختیوں کا متحمل ہونا خود طالب علم کا اختیاری عمل ہے کہ اپنی مرضی سے ان مشکلات کو برداشت کر رہا ہے۔ واضح ہے کہ اس کے کئی عوامل ہیں:

طالب علم جانتا ہے کہ اپنی تقدیر اور آنے والی زندگی کو سنوارنے کیلئے ان دشواریوں کے با وجود تحصیلات کا جاری رکھنا ضروری ہے۔

طالب علم میں یہ قدرت بھی ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اسے بروی کار لائے۔

طالب علم کے اندر مختلف قسم کی میلانات اور خواہشات بھی پائی جاتی ہیں یعنی ایک طرف بہتر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش شدت سے پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف سے ان خواہشات کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ طالب علم پھر بھی ایک راہ کو اختیار کرلیتا ہے اگر یہی تین عوامل نہ ہوتے تو اس میں اختیار اور موازنہ کا زمینہ نہیں پاتا۔ پس اس مثال سے واضح ہوا کہ مبادی اختیار تین ہیں:

۱ ۔علم و آگاہی

اگر شناخت و آگاہی نہ ہو تو ممکن نہیں کہ ایک طرف کو انتخاب کرے اور مطلوبہ ہدف تک پہنچ جائے اس لئے اختیاری امور میں آگاہی اور شناخت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصاً جب اس کے اندر مختلف قسم کی میلانات اور خواہشات پائی جائے تو اس عامل کی طرف زیادہ محتاج ہوتا ہے۔

۲ ۔توانائی اور قدرت

اگر توانائی نہ ہو تو صرف آگاہی انسان کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔ لہذا وہ اختیارکا حق بھی نہیں رکھتا۔ کیونکہ عدم توانائی اسے کسی فعل کے ترک پر مجبور کرتا ہے۔ کیونکہ اگر اس میں توانائی اور قدرت پائی جاتی تو وہ اسے حتماً انجام دیتا ۔یہ توانائی جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے کئی قسموں پر مشتمل ہے۔ وہ درج ذیل ہیں:

طبعی توانائی : یعنی جسمی امکانات اور قدرت بدنی ہے۔

صنعتی توانائی: یعنی انسانی فکر اور سوچ کی ترقی یافتہ ترین نمائش ہے۔

اجتماعی توانائی: یعنی انسان ایک دوسرے کی توانائی سے مدد لیکر اپنی ضروریات کو پورا کرلیتے ہیں ۔

روحی توانائی: یعنی جو قوانین طبیعت کے دائرے سے خارج ہے ۔ اور حواس خمسہ کے ذریعے بھی قابل درک نہیں ہے۔جو انسان کو ریاضت اور تلاش کرنے سے ہاتھ آتی ہے۔

۳. نفسانی خواہشات

گذشتہ مثال میں کچھ دقت کرے کہ اگر طالب علم کے اندر خواہشات مختلف نہ ہوتی اور اس کے سامنے فقط ایک ہی راستہ ہوتا تو کیا پھر بھی انتخاب اور اختیار کیلئے زمینہ باقی رہتا ؟ نہیں بلکہ انتخاب اور اختیارکا موضوع اس و قت محقق ہوگا کہ انسان کے اندر مختلف کشش اور خواہشات پائی جائے۔

روان شناس حضرات نے ان خواہشات نفسانی کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے:

غرائز

یعنی جو بدن انسان کے کسی ایک اندام سے وابستہ ہے ۔ مثال ؛ کھانے پینے اور سونے کی طرف رغبت پیدا کرتی ہے۔

عواطف

جو انسانوں میں ایک دوسرے کے خاطر پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ماں کی محبت بیٹے سے ۔ دوست کی محبت دوست سے، بہن کی محبت بھائی سے، ہادی کی محبت ہدایت پانے والوں سے و۔ ۔ ۔ یہ سب عواطف انسان ہے ۔

انفعالات

وہ منفی عواطف و احساسات جو انسان کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ جیسے غم و غصہ ، نفرت دشمنی وغیرہ ۔

احساسات

روان شناسوں کی اصطلاح میں وہ میلانات جو فقط اور فقط انسان میں پائی جاتی ہیں۔ وہ تین قسم کی خواہشات ہیں:

تعظیم اور تجلیل کا احساس

خیر واہی کا احساس

اوربندگی اور پرستش کا احساس ۔ جو انسان کی بالا ترین خصوصیت ہے۔

نظام خلقت اور اختیار انسان

دنیا کی ساری چیزیں معلول خدا وندی ہیں۔ اور یہ تمام موجودات اس کی ذات پر جاکر اپنی انتہا کو پہنچتی ہیں ۔ اور انسا ن کا اختیاری فعل بھی انہی موجودات عالم کا جز ہے جو کسی موجد کا محتاج ہے جواسے وجود میں لائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کا اختیاری فعل بھی خدا کے ذریعے انجام پاتا ہے۔(۳)

اخلاق اور اختیار

دینا کے سارے مکاتب فکر خواہ وہ اان سلام ہو یا مسیحیت ، خواہ وہ سوشلزم ہو یا کپیٹل ازم و۔ ۔ ۔ ہر ایک مکتب میں اخلاقی مسائل ایک مسلمہ اور مورد اتفاق حقیقت ہے اور اختیار ہی اختلاف کی بنیاد ہے۔ یعنی اخلاقی مسائل کا موضوع انسان کا اختیاری فعل ہے۔ اسی لئے کبھی دل کی دھڑکن خون کا جسم میں گردش کرنا و۔ ۔ ۔ کو اخلاقی اعتبار سے اچھا یا برا نہیں کہاجا سکتا۔ کیونکہ انسان کا انہیں انجام دینے یا نہ دینے میں کوئی کردار نہیں ۔ پس جہاں اختیار اور افعال شروع ہوتا ہے وہاں سے اچھا اور برا بھی کہہ سکتا ہے۔ جیسے کسی دوسرے پر احسان اور نیکی کرنا۔فدا کاری ، نعمت عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنا و۔ ۔ ۔ یہ ایسے افعال ہیں جن کا ہونا اخلاقی طور پراچھا اور حسین ہے اور نہ ہونا اخلاقی طورپر برا اور قبیح ہے ۔ پس جس نے بھی انسان کے اندر اختیارکو نظر انداز کیا اور اسے مجبور سمجھا ، حقیقت میں اس نے اخلاق کو پایمال کردیا۔ اگرچہ زبان پر اقرار نہ بھی کرتا ہو۔

جس طرح مارکسیزم کے رہنما جو ان کے بڑے سیاست دانوں اور مفکروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمیشہ اپنی تقاریر میں اخلاقی مفاہیم سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ جبکہ ان کے مکتب فکر میں اخلاق اور اخلاقی مفاہیم کیلئے کوئی گنجائش نہیں ۔

قضا و قدر اور اختیار

اشکال: اگر انسان مختار ہے تو کیونکر اپنے افعال کو ارادہ الہی پر استناد کرتا ہے؟ اور اگر قضائے الہی پر استناد کرتا ہے توکس طرح اسے تابع اختیار انسان مان لیتے ہیں؟

جواب: ایک معلول کیلئے دوعلتوں کا ہونا ممکن نہیں ۔ مستشکل نے اس جملے کے مفہوم میں اشتباہ کیا ہے۔ انہوں نے علت ناقصہ اور علت تامہ کو ایک ہی نگا ہ سے دیکھا ہے۔ جبکہ ان دونوں علتوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اور اس مقولۂ فلسفی سے مراد یہ ہے کہ دو علت ہستی بخش کا ایک ساتھ جمع ہونا ناممکن ہے ۔ نہ یہ کہ ایک علت ہستی بخش اور ایک یا ایک سے زیادہ علت ناقصہ کا جمع ہونا ۔

یہاں انسان کا ارادہ (علت معدہ) خدا کا ارادہ (علت العلل ) سے وابستہ ہے۔ جب تک ارادۂ الہی نہ ہو ارادۂ انسان وجود میں نہیں آسکتا۔ پس یہ دونوں علل ایک دوسرے کے طول میں ہیں نہ عرض میں۔

علامہ طباطبائی نے اس مسئلے کو ایک دلچسپ اور جالب مثال کے ذریعے سمجھایا ہے جو ہر ایک کیلئے قابل فہم ہے: فرماتے ہیں : ایک دولت مند شخص ہے اور اس کے کئی غلام اور کنیز ہیں۔ یہ شخص اپنے ایک غلام کیلئے اپنی کنیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرتا ہے۔ اور شادی کراتا ہے۔ اور اسے زندگی کی تمام ضروریا ت دیدیتا ہے۔

اس صورت میں اگر کہے کہ ان لوازمات کا دینا غلام کی ملکیت پر کوئی اثر نہیں کرتا ۔ آقا مال دینے سے پہلے بھی وہی آقا تھا اب دینے کے بعد بھی وہی آقا ہے۔ اس کے اختیار میں کوئی کمی نہیں آئی اور غلام بھی اس میں اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔ یہ جبریوں کا نظریہ ہے۔

اگر کہےکہ جب مولا نے تمام اموال کو غلام کی ملکیت میں دے دی تو اب خود غلام مالک مطلق ہے۔ جس طریقے سے بھی چاہے تصرف کرسکتا ہے۔ کیونکہ غلام خود مالک مطلق بنا ہے۔اور مولی کی ملکیت باطل ہوگئی۔ یہ گروہ مفوضہ کا نظریہ ہے۔

اگر کہیں گے غلام ان چیزوں پر مالک بن جائے گا جو مولی نے اسے دی ہے لیکن مستقل مالک نہیں بلکہ مولی کی ملکیت کے دائرے میں رہ کر وہ مالک ہے۔ اب یہ غلام پر منحصر ہے کہ ان اموال کو مولی کی رضایت والے راستے میں خرچ کرے یا مولی کی مرضی کے خلاف خرچ کرکے مولی کا غیظ و غضب کو قبول کرے۔ پس غلام کی ملکیت مولی کی ملکیت کے طول میں ہے نہ عرض میں ۔ اس طرح مولی اصل مالک ہے اور غلام مالک تبعی ہے ۔ یہ نظریہ مذہب حقہ کا ہے۔(۴)

____________________

۱ خیر الاثر،ص١٣.

۲ ۔ علم پیشین الہی و اختیار انسان، ص١٣.

۳ ۔ غرویان،آموزش عقائد، ج١،ص٢٠٠۔

۴ ۔ تہرانی، معاد شناسی،ج١٠،ص٢٦٤۔


دوسری فصل : جبر

جبر کی تعریف

جبر کی لغوی تعریف :

جبر کی لغوی تعریف : اصول و عقائد کے مطابق جبر سے مراد یہ ہے کہ انسان سے کسی کام کو انجام دینے میں ارادہ اور آزادی کو چھین لیا جائے ۔ اور وہ اچھے اور برے کو انتخاب کرنے پرقادر نہ ہو۔ بلکہ جو کام بھی انجام دیتا ہو ، صرف ارادۂ الہی کے مطابق انجام دیتا ہو۔علامہ عسکری فرماتے ہیں:الجبر جبره علی الامر واجبره ای قهره علیه و اکراهه علی الاتیان به ۔(۱)

جبر کی اصطلاحی تعریف

الجبر اجبارالله تعالی عباده علی ما یفعلون خیراً کان او شراً ، حسناً کان او قبیحاً دون ان یکون للعبد ارادة و اختیار الرفض و الامتناع -(۲) - عقیدہ تفویض والوں کے مطابق اختیار کی تعریف کو اختیار کے بخش میں بیان کرونگا۔ لیکن ضروری سمجھتا ہوں کہ بحث کو شروع کرنے سے پہلے ریشۂ تاریخی جبر کو تلاش کروں کہ یہ بحث کہاں سے اور کب شروع ہوئی؟

عقیدہ جبر و تفویض کی ابتداء

جبر وتفویض کا تاریخی ریشہ بہت قدیمی اور اختلافی بحث ہے : سب سے پہلے اس مسئلہ کو اقدم الحکما ارسطو نے مطرح کیا ہے۔ بعض

دانشمندوں کا خیال ہے سب سے پہلے یہ بحث ہندوستان کے حکما اور فلاسفہ کے درمیان شروع ہوا۔ اس کے بعد مصری دانشمندوں نے اسے مورد بحث قرار دیا۔ یہاں تک کہ پانچ سو سال میلاد علوم و معارف سے پہلے سرزمین یونان میں مورد بحث قرار پایا۔

سقراط (٤٦٩ ۔ ٣٩٩) اور ان کے اولین شاگرد افلاطون جبر کے معتقد ہوئے اور کہنے لگے کہ انسان کسی بھی کام کے انجام دینے میں اختیار نہیں رکھتا ۔اور یہ بحث لوگوں کے درمیان اس وقت تک باقی رہی کہ آفتاب اسلام طلوع ہوا۔ اور اسلامی دانشمندوں کے درمیان علوم و معارف کا میدان کھل گیا ۔ ان میں سے اشاعرہ جبر کے معتقد ہوئے اور گروہ مفوضہ (معتزلہ) تفویض کے۔ یعنی جو بھی بندہ سے سرزدہ ہوتا ہے خدا کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔بلکہ خدا کا کردار فقط اس حد تک ہے کہ انسان کو توانائی اور قدرت عطا کرے تاکہ انسان جو چاہے کرے۔ اور کوئی مشیت یا ارادہ الہی اس کام کی انجام دہی کیلئے ہونا ضروری نہیں ۔

لیکن طائفہ امامیہ ان دونوں نظریے کو رد کرتے ہیں اور حد وسط کو اختیار کرتے یں ۔ نہ معتزلہ کی طرح تفریط کا شکار ہوا اور نہ اشاعرہ کی طرح افراط کا بلکہ بین الامرین کا قائل ہوا۔کتاب خیر الاثر کے صفحہ ۳۰ پر ابن حزم اندلس سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں پہلا شخص جس نے مذہب جبریہ کی بنیاد ڈالی جہم بن صفوان ہے۔

اور عموماً مذہب جبر کو اشعریوں کی طرف نسبت دی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے زیادہ اس نظریے کی ترویج اور تبلیغ کی جس کا علمبردار ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری ہے۔ جس کاحسب و نسب آٹھ پشتوں کے بعدابوموسی اشعری تک پہنچتا ہے۔ اور مذہب اشاعرہ اس کے زمانے سے آغاز ہوا۔ اور یہ ابوالحسن پہلے معتزلی تھا۔ اور علم کلام کو محمد بن عبدالوہاب جبائی سے حاصل کیا جو ابوالحسن کا استاد ہونے کے ساتھ ساتھ سوتیلا باپ بھی تھا۔

ابن خلکان نے ابوعلی جبائی کی حالات زندگی لکھتے ہوئے اس مناظرے کو بھی نقل کیا ہے جو ان دونوں کے درمیان ہواتھا۔ وہ مناظرہ کچھ یوں ہے:

ابوالحسن اشعری: استاد ! (ابوعلی جبائی) یہ بتاؤ تین بھائی ہیں ایک کافر دوسرا مؤمن اور تیسرا بچہ جسے بچپنے میں موت آئی ۔ ان تینوں کی حالات قیامت کے دن کیا ہوگی؟

ابو علی جبائی: زاہد درجات کا مالک ہوگااورر کافر درکات کا اور بچہ اہل سلامت والوں میں سے ہوگا ۔

ابوالحسن اشعری : اگر یہ بچہ مؤمن اور زاہد کے درجات تک جانا چاہے توکیا اسے خدا کی طرفسے اجازت ملے گی؟

ابو علی جبائی: نہیں، بلکہ اسے کہا جائے گا تمہارا بھائی عبادات اور اطاعات کی وجہ سے ان درجات کا مالک ہوا ہے لیکن تو نے تو کوئی اطاعت نہیں کی!

اشعری: بچہ کہے گا : خدا یا اس میں میرا کیا قصور ؟ تو نے مجھے مہلت نہیں دی تاکہ تیری اطاعت کروں!

جبائی : خدا فرمائے گا مجھے معلوم تھا کہ اگر تمہں زندہ رکھا جاتا تو گناہ کے مرتکب ہوتا، اور عذاب الیم کا مستحق ہوتا ۔ اس لئے میں نے تمھاری بھلائی اور مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے جلدی موت دی۔

اشعری: تو پھر جو بھائی کافرمرا ، کہے گا یا الہ العالمین ! جس طرح تو میرے چھوٹے بھائی کے حال سے واقف تھا اس طرح میرے حال سے بھی واقف تھا۔ کیوں اس کی مصلحت کی رعایت کی اور میری مصلحت کی رعایت نہیں کی؟!!

جبائی : اے ابوالحسن اشعری ! کیا تو پاگل ہوگیا ہے؟!

اشعری : نہیں میں پاگل نہیں ہوا بلکہ شیخ کا گدھا دلدل میں پھیس گیا ہے! یعنی تو جواب نہیں دے پاتا۔ یہ کہہ کر اشعری جبائی سے الگ ہوگیا ۔ اور اس کے مذہب کو بھی ترک کیا ۔ ساتھ ہی بہت سے اعتراضات اور اشکالات بھی مذہب جبائی ( معتزلہ) پر وار کیا ۔ اس وقت ابن خلکان خود چونکہ اشعری تھا ، نے مناظرے کو نقل کرکے اپنے مذہب(اشاعرہ) کی تائید کرتے ہوئے کہا:

وهذه المناظرة دالّة علی ان الله تعالی خصّ من شاء برحمته و خصّ آخربعذابه و انّ افعاله غیر معللة بشی من الاغراض -(۳) ۔

معاویہ بن ابی سفیان پہلا اموی خلیفہ ہے جس نے اپنے مکروہ کاموں اور جنایات کی توجیہ کیلئے جبریہ کے نظریے کی پرچار کی اور اکثر مسلمانوں کو اس مذہب کی طرف وادار کیا۔

شیخ بہائی اپنی کتاب کشکول میں لکھتے ہیں :

قال الراغب فی المحاظرات: خطب معاویه یوماً فقال: ان الله تعالی یقول و ما من شیءی الا عند نا خزائنه و ما ننزل الا بقدر معلوم فلم نلام نحن؟!! فقام الیه الاحنف فقال : انّا لا نلومک علی ما فی خزائن الله ولکن نلومک ما انزل الله علینا من خزاینه فاغلقت بابک دونه یا معاویه !!(۴)

یعنی ایک دن اس نے جب لوگ بھوک اور پیاس کی شکایت لیکر اس کے پاس گئے تو کہا: خدا تعالی فرماتا ہے: ہمارے ہا ں ہر چیز کے خزانے پڑے ہیں اور ہم ان میں سے ایک جچی تلی مقدار بھیجتے رہتے ہیں ۔ پس کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟

اخنف نے کھڑے ہوکر کہا: اے معاویہ! ہم خدا کے دئے ہوئے خزانے پر تمھاری مذمت نہیں کرتے بلکہ اس خزانے کو غصب کرکے ہمارے اوپر حرام اور فقط اپنے اوپر خرچ کرنے پر مذمت کرتے ہیں۔

جبر ، ظالموں کا بہانہ

اس نظریے کا تشہیرکرنے والے حکمرانوں کا اصل ہدف یہ تھا کہ اپنے کئے ہوئے ظلم اور ناانصافی کی توجیہ کرے اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بے قصور ٹھہرائے۔ اور یہ لوگ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنایت کاروں کا ارادہ وہی ارادۂ خدا ہے اور خود انسان تو مسلوب الاختیار ہے ۔ پس ان کے مطابق یہ جنایتکا در اصل اطاعت پروردگار کر رہا ہے۔ جسے مختصر فارمولے میں یوں بیان کیاہے:

مقدمہ اول: اصل عدالت یعنی جو کچھ خداوند انجام دے ، عین عدل ہے ۔

مقدمہ دوم :اصل جبر یعنی جو کچھ یہ ستمگر لوگ انجام دیتے ہیں وہ خداکا فعل ہے۔

نتیجہ : پس جو کچھ یہ ظالم لوگ انجام دے اگرچہ بدترین گناہ اور جرم ہی کیوں نہ ہو عین عدالت ہے۔ درحالیکہ اس قسم کا استدلال پیش کرنا حقیقت کے سامنے آنکھ بند کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ظلم عین عدل بن جائے؟!!(۵)

اس عقیدے سے اموی خلفاء میں سے سب سے زیادہ معاویہ نے سوء استفادہ کیا۔ اس نے اپنی خواہشات اور میلانات کو درباری ملاؤں اور جھوٹے راویوں کے حلقوم سے اصول علم کلام کی شکل میں جاری کرایا ۔ پھر کہا: وانا خلیفة اللہ ، پس میری خلافت بھی مرضی خدا پر قائم ہے۔اور تقریر کرتے ہوئے کہا:ان الله اکرم خلفائه فاوجب لهم الجنة وانقذهم من النار ثم اجعلنی منهم ۔ یعنی بیشک خدا نے اپنے خلیفوں کو عزت بخشی اور ان کیلئے جنت واجب کیا اور عذاب جہنم سے رہائی عطا کی ہے ، اور میں بھی انہی میں سے ہوں۔

پس جو بھی انجام دیتا ہوں درحقیقت اسے خدا انجام دیتا ہے۔ اور جو بھی مجھ پر اعتراض کرے تو گویا اس نے خدا پر اعتراض کیا ۔بنی امیہ کے سیاست مداروں کیلئے اپنی خلافت کی توجیہ کیلئے قضاء وقدر اور جبر ایک محکم اور ٹھوس دلیل تھی ۔ اس لئے بنی امیہ مسلک جبر کے طرفدار اور مسلک اختیار کا سر سخت مخالف تھا۔ اور جو بھی مسلک اختیار کا طرفدار بنتا تھا انہیں اپنے عقیدہ کے خلاف سمجھتا تھا ۔ اور یہی وجہ تھی کہ معبد و غیلان جو ایمان اور سچائی کے لحاظ سے معروف تھے، مسلک اختیار کے قائل ہونے کی وجہ سے معبد کو حجاج نے اور غیلان کو ہشام بن عبد الملک کے حکم سے ہاتھ پیروں کو کاٹنے کے بعد سولی پر چڑھائے گئے۔(۶)

____________________

۱ ۔ عقائد اسلامی در قرآن۔

۲ ۔ ہمان۔

۳ ۔ خیرالاثر،ص٤٣۔

۴ ۔ ہمان ، ۳۵۔

۵ ۔ عدل در جہان بینی توحیدی ، ص ٧٨۔

۶ ۔ ہماں ، ص٨١۔