صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام 0%

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

مؤلف: سید مرتضی مجتہدی سیستانی
زمرہ جات:

مشاہدے: 15725
ڈاؤنلوڈ: 1873

تبصرے:

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 22 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15725 / ڈاؤنلوڈ: 1873
سائز سائز سائز
صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

مؤلف:
اردو

باب ہشتم

عریضے

توسل اور استغاثہ کی قسموں میں سے ایک حضرت حجت کی خدمت میں عریضہ لکھنا ہے اس کے بھی تعجب انگیز آثار پائے جاتے ہیں چونکہ ہمارے مولیٰ حضرت حجت جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اپنے دوستوں پر بہت زیادہ مہربان ہیں میں کئی مرتبہ حضرت کی خدمت میں عریضہ لکھا تو اس سے عجیب آثار کا مشاہدہ کیا۔ اس مرحلہ میں امام کو جو عریضے لکھے جاتے ہیں اور بزرگوں سے جو بعض حکایات واقع ہوئی ہیں ان کو بیان کرتاہوں کتاب التحفة الرضویہ میں لکھتے ہیں علامہ بزرگوار سید جلیل القدر محمد تقی اصفہانی حجرت حجت کے معجزات کی فصل میں کہتے ہیں ان معجزات میں سے حضرت کے معجزات اور کرامات عریضہ لکھنے کی وجہ سے تمام مقاصد اور حوائج حاصل ہوچکے ہیں اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہے اور وجدان کے ساتھ تجربہ کیا گیا ہے علامہ بزرگ شیخ عبدالحسین امینی صاحب کتاب الغدیر میں تعجب انگیز حکایت اس بارے میں نقل کرتے ہیں وہ حضرت حجت سے متوسّل ہوئے اس سے ان کے لئے ایک حکایت پیش آئی البتہ اس نے اجازت نہیں دی کہ اس کو کتاب میں نقل کروں اس نے ایک عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں تقدیم کیا اور حضرت حجت کو وسیلہ قرار دیا تھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت حجت سے مہم امور اور قضائے حوائج کے لئے تجربہ کیا ہے۔

اس شخص کا واقعہ جس نے حضرت حجت کے نام لکھا

محدث نوری کتاب نجم الثاقب میں لکھتے ہیں:

دانشمند پرہیزگار مرحوم سید محمد فرزند جناب سید محمد عباس جبل عامل کے توابع میں ساکن تھے اور سید درّالدین عاملی اصفہانی کے چچا تھے شیخ جعفر نجفی کے داماد تھے اس کا ایک عجیب واقعہ ہے ظالم حاکموں نے اس کو فوج میں کام کرنے کا حکم دیا وہ تیار نہیں ہوا وہ اپنے وطن میں چھپ جاتاہے اور فقر و فاقہ کے باوجود فرار کرتاہے وہ لوگوں سے سوال نہیں کرتا تھا ان دنوں میں بیداری اور خواب کی حالت میں عجیب چیزیں دیکھتے تھے و بالآخر نجف اشرف چلا گیا اور صحن شریف میں قبلہ کی طرف اوپر کا ایک کمرہ لیتاہے اور اس میں پریشانی کی زندگی گزارتاہے وہ جب تک زندہ رہا اس کی فقر و فاقہ کو چند آدمیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا اپنے وطن سے فراری سے لیکر فوت ہونے تک پانچ سال ہوگئے اس دوران میرا اس کے پاس آنا جانا تھا وہ شخص انتہائی با حیاء عفیف اور قانع تھا عزاداری کے دنوں میں مجالس میں حاضر ہوتے تھے فقیرانہ زندگی گزارتے تھے چونکہ اکثر اوقات چند دانہ خرمہ اور صحن کے کنویں کے پانی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی اس لئے روزی کی وسعت کے لئے جو دعائیں وارد ہیں ان پر پابندی سے عمل کرتے تھے کبھی دعاؤں کی کتاب کو امانت کے طور پر لے لیتے تھے بہت کم دعائیں ایسی تھی کہ جو اس نے نہ پڑھی ہو اکثر شب و روز دعا اور ذکر میں مشغول ہوجاتے تھے ایک دن ایک عریضہ آخری حجت کی خدمت میں لکھتے ہیں اور مصمم ارادہ کرتاہے کہ چالیس دن یہ کام کرے گا وہ ہر دن سورج نکلنے سے پہلے شہر کا دروازہ کھلتے ہی کہ جو دریا کی طرف ہے باہر چلا جاتاہے اور یہ کہ کوئی اس کو نہ دیکھے دائیں طرف چلا جاتاہے اس وقت عریضہ کو گارے میں ڈال کر اور حضرت کے نواب میں سے کسی ایک کے سپرد کر کے پانی میں ڈال دیتاہے ۳۸ روز یا ۳۹ روز اس عمل کو انجام دیتاہے وہ واقعہ کو اس طرح بیان کرتاہے ایک دن عریضہ کو پانی میں ڈال کر واپس آرہا تھا سر نیچے کر کے بہت زیادہ غصہ میں تھا اچانک متوجہ ہوا کہ گویا کوئی میرے پیچھے آرہا ہے اس نے عربی لباس پہنا ہوا تھا اور عربوں کی طرح سر پر آگال پہنا ہوا تھا اس نے مجھے سلام کیا میں افسردہ ہو کر مختصر جواب دیا اس کی طرف توجہہ نہیں کی چونکہ میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ایک مسافت تک میرے ساتھ چلا میں ناراحت اور افسردہ تھا وہ میری طرف متوجہ ہوا اور اہل جبل عامل کے لہجہ میں فرمایا سید محمد آپکی کیا حاجت ہے آج ۳۸ یا ۳۹ روز ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے شہر سے باہر آئے ہو اور فلاں جگہ پر جاکر دریا میں اپنا عریضہ ڈالتے ہو کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہارا امام تمہاری حاجت سے بے خبر ہے مجھے تعجب ہوا چونکہ میرے اس کام کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا دونوں کی تعداد کو میرے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا یہاں تک کہ کسی نے بھی دریا کے کنارے جاتے ہوئے نہیں دیکھا اور جبل عامل میں سے کوئی شخص یہاں پر موجود نہیں تھا کہ جو ان کو جانتا تھا خصوصاً جب عربی لباس پہنے چونکہ یہ لباس جبل عامل میں مرسوم نہیں تھا میرے ذہن میں آگیا کہ میں نے بڑی رحمت پائی ہے اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوا ہوں۔

میں نے جب عامل میں سنا تھا کہ حضرت کے ہاتھ بہت زیادہ نرم ہیں کوئی ہاتھ اس جیسا نہیں ہے اپنے آپ سے کہا اب ہاتھ دیتاہوں اگر میں نے احساس کیا کہ اس کے ہاتھ نرم اور لطیف ہیں حضرت کی خدمت میں شرف کے آداب بجا لاؤں گا میں اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھادیا آنجنات نے بھی اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھادئے میں نے مصافحہ کیا اور حضرت کے ہاتھوں کو بہت زیادہ لطیف اور نرم محسوس کیا اور یقین ہوا کہ مجھے بہت بڑی نعمت پہنچی ہے چاہا کہ حضرت کے ہاتھ کو بوسہ دوں تو کسی کو نہیں پایا۔

حضرت حجت کے لئے عریضہ کا ایک دوسرا واقعہ

مرحوم محدّث نوری کہتے ہیں فاضل میرزا ابراہیم شیرازی حائری نے ایک واقعہ عریضہ کے بارے میں مجھے بتایا اس نے کہا کہ شہر شیراز میں زندگی گزارتا تھا مجھے ایک مہم حاجت تھی اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا تھا اس واقعہ سے میرا سینہ تنگ ہوا ان تمام میں سے امام حسین کی زیارت تھی کوئی چارہ نہیں دیکھا مگر یہ کہ آخری حجت سے متوسل ہو اپنی حاجتوں کو عریضہ کے ضمن میں حضرت کی خدمت میں لکھا مخفیانہ طور پر غروب آفتاب کے وقت شہر سے نکلا اور دریا کے کنارے اآکر کھڑا ہوگیا اور نواب ابوالقاسم حسین بن روح کو آواز دی اور اس کو سلام کیا اور میں نے کہا کہ عریضہ کو وہ جو میرے اور سب انسانوں کے مولیٰ ہیں تسلیم کریں اور رقعہ کو پانی میں ڈالا اور شہد کی طرف واپس ہوا سورج غروب ہوا تھا دوسرے دروازہ سے شہر میں داخل ہوا اور اپنے گھر آگیا اور اس واقعہ کو ان کے سامنے بیان نہیں کیا کل استاد کے پاس چند آدمیوں کے ہمراہ درس پڑھنے کیلئے وہاں گیا جب تمام افراد آئے اور بیٹھ گئے اچانک ایک سید شریف حرم امام حسین میں خادموں کے لباس میں داخل ہوا سلام کیا اور وہ استاد کے پہلو میں بیٹھا ہم نے اس کو آج تک نہیں دیکھا تھا اور اس کو نہیں جانتے تھے اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور میرا نام لیکر آواز دی اور کہا اے فلانی تمہارے عریضہ کو آخری حجت تک پہنچایا ہے میں ان کی بات سے مبہوت ہوگیا وہاں جتنے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اس کی بات کو نہیں سمجھا کہ کیا کہتاہے اس لئے اس سے پوچھا کہ واقعہ کیا ہے کہا کل رات عالم خواب میں دیکھا ایک جماعت سلمان محمدی کے اطراف میں کھڑی ہے اور اس کے پاس بہت زیادہ عریضے تھے انہوں نے ان کو دیکھا جب مجھے دیکھا تو مجھے آواز دی اور کہا فلاں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو یہ تمہارا عریضہ ہے اس نے اپنے ہاتھ کو بلند کیا عریضہ کو دیکھا کہ اس پر مہر لگی ہوئی تھی حضرت حجت کی طرف سے آیا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے میں سمجھ گیا جس کسی کی حاجت قبول ہوتی ہے اس پر مہر لگائی جاتی ہے اور جس کا مقدّر نہ ہو اس کا عریضہ اسی طرح واپس ہواجاتاہے مجلس میں جو حاضر تھے انہوں نے سچے خواب کے بارے میں پوچھا میں نے وہ واقعہ ان کے سامنے بیان کیا اور قسم کھا کہ اس واقعہ کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا انہوں نے مجھے خوشخبری دی کہ تمہاری حاجت پوری ہوگئی اور ایسا ہی ہوا تھوڑی دیر گزرنے کے بعد موفق ہوا کہ حایر حسینی میں چلا جاؤں اب حضرت کے حرم کے جوار میں ہوں اور حاجیوں کیلئے جو عریضہ میں لکھا تھا سب حاجتیں قبول ہوئی خدا کا شکر ادا کرتاہوں اور اولیاء الٰہی پر درود بھیجتاہوں۔

علامہ شیخ علی اکبر نھاوندی العبقری الحسان میں لکھتے ہیں استاد اخلاق علامہ حاج میرزا علی قاضی طباطبائی نجفی روز جمعہ عصر کے وقت ربیع الاول ۱۳۵۸ نجف اشرف میں ایک واقعہ کے بارے میں مجھے بتایا اس نے کہا دوستوں میں سے ایک جس کے ساتھ میں مانوس تھا اس کا نام نہیں بتایا خط کے ضمن میں مجھے لکھا تھا ایک رات پندرہ شعبان کو امام زمان کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا اس کو معمول کے مطابق اپنے شہر میں پانی میں ڈال دیا چند روز کے بعد ایک شخص آیا اور کہا آپ کے عریضہ کو امام کی خدمت میں پہنچایا شب عاشور آؤں گا اور تجھ کو حضرت حجت کے پاس لے جاؤں گا۔ میں نے تمام عبادتیں جو امام کی خدمت میں جانے کی قابلیت رکھتی تھی اس کو انجام دیا یہاں تک کہ عاشور کی رات وعدہ کی رات آئی اچانک ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق آیا ایک پلک چھپکنے میں مجھے ایک ایسے جزیرہ میں پہنچایا کہ جہاں امام رہتے تھے وہاں ایسی چیزیں دیکھیں جس کو بیان نہیں کرسکتا انبیاء اور اوصیاء کی روحیں وہاں پر تھیں عظمت الٰہی کے آثار کو وہاں پر مشاہدہ کیا اس طریقے پر بے ہوش پڑھا رہا میں نے نہیں سمجھا کہ امام کو دیکھایا نہیں یہاں تک کہ پلک جھپکنے سے پہلے مجھے اپنے گھر پہنچادیا۔

امام عصر کا عریضہ

کچھ واقعات کو حضرت کے عریضہ کے فوائد کے بارے میں بیان کیا اب یہ بتارہاہوں کہ عریضہ کس طرح لکھیں ایک عبارت کاغذ پر لکھ کر ائمہ معصومین میں سے کسی ایک کی ضریح میں ڈال دیں یہ عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں پہنچ جاتاہے اور خود حضرت اس کی حاجت کو پوری کرتے ہیں اور کاغذ پر اس طرح لکھیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

كَتَبْتُ يا مَوْلايَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكَ مُسْتَغيثاً ، وَشَكَوْتُ ما نَزَلَ بي مُسْتَجيراً بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ، ثُمَّ بِكَ مِنْ أَمْرٍ قَدْ دَهَمَني ، وَأَشْغَلَ قَلْبي ، وَأَطالَ فِكْري ، وَسَلَبَني بَعْضَ لُبّي ، وَغَيَّرَ خَطيرَ نِعْمَةِ اللَّهِ عِنْدي ، أَسْلَمَني عِنْدَ تَخَيُّلِ وُرُودِهِ الْخَليلُ ، وَتَبَرَّأَ مِنّي عِنْدَ تَرائي إِقْبالِهِ إِلَيَّ الْحَميمُ، وَعَجَزَتْ عَنْ دِفاعِهِ حيلَتي، وَخانَني في تَحَمُّلِهِ صَبْري وَقُوَّتي.

فَلَجَأْتُ فيهِ إِلَيْكَ ، وَتَوَكَّلْتُ فِي الْمَسْأَلَةِ للَّهِِ جَلَّ ثَناؤُهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْكَ في دِفاعِهِ عَنّي ، عِلْماً بِمَكانِكَ مِنَ اللَّهِ رَبِّ الْعالَمينَ ، وَلِيِّ التَّدْبيرِ وَمالِكِ الْاُمُورِ ، وَاثِقاً بِكَ فِي الْمُسارَعَةِ فِي الشَّفاعَةِ إِلَيْهِ جَلَّ ثَناؤُهُ في أَمْري ، مُتَيَقِّناً لِإِجابَتِهِ تَبارَكَ وَتَعالى إِيَّاكَ بِإِعْطائي سُؤْلي.

وَأَنْتَ يا مَوْلايَ جَديرٌ بِتَحْقيقِ ظَنّي ، وَتَصْديقِ أَمَلي فيكَ ، في أَمْرِ كَذا وَكَذا ويذكر حاجته ، فيما لا طاقَةَ لي بِحَمْلِهِ ، وَلا صَبْرَ لي عَلَيْهِ ، وَ إِنْ كُنْتُ مُسْتَحِقّاً لَهُ وَلِأَضْعافِهِ بِقَبيحِ أَفْعالي ، وَتَفْريطي فِي الْواجِباتِ الَّتي للَّهِِ عَزَّوَجَلَّ ، فَأَغِثْني يا مَوْلايَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْكَ عِنْدَ اللَّهْفِ ، وَقَدِّمِ الْمَسْأَلَةَ للَّهِِ عَزَّوَجَلَّ في أَمْري ، قَبْلَ حُلُولِ التَّلَفِ ، وَشَماتَةِ الْأَعْداءِ ، فَبِكَ بُسِطَتِ النِّعْمَةُ عَلَيَّ.

وَاسْأَلِ اللَّهَ جَلَّ جَلالُهُ لي نَصْراً عَزيزاً ، وَفَتْحاً قَريباً ، فيهِ بُلُوغُ الْآمالِ ، وَخَيْرُ الْمَبادي ، وَخَواتيمُ الْأَعْمالِ ، وَالْأَمْنُ مِنَ الْمَخاوِفِ كُلِّها في كُلِّ حالٍ ، إِنَّهُ جَلَّ ثَناؤُهُ لِما يَشاءُ فَعَّالٌ ، وَهُوَ حَسْبي وَنِعْمَ الْوَكيلُ فِي الْمَبْدَءِ وَالْمَآلِ.

یا اس نوشتہ کو تہہ کر کے پاک مٹی کو گیلا کردیں اس عریضہ کو گیلی مٹی کے درمیان رکھ کر اس کو نہر میں یا چشمہ میں یا گہرے کنواں میں ڈال دیں اس کے بعد نہر یا چشمہ پر آئے اور حضرت حجت کے نائبوں میں سے ایک عثمان بن سعد عمری محمد بن عثمان حسین بن روح علی بن محمد سمری سے خطاب کرے اور کہیں

یٰا فُلاٰنَ بْنَ فُلاٰنٍ سَلاٰمٌ عَلَیْکَ أَشهَدُ أَنَّ وَفیاتَکَ فی سَبیلِ اللّٰهِ وَ أَنَّکَ حَیٌّ عَنْدَاللّٰهِ مَرْزُوقٌ، وَقَدْ خٰاطَبْتُکَفی حَیٰاتِکَ الَّتی لَکَ عِنْدَ اللّٰهِ جَلَّ و عَزآَ وَهٰذِهِ رُقْعَتی وَحٰاجَتی إِلیٰ مَوْلاٰ نٰا صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فَسَلِّمْهٰا إِلَیْهِ، فَأَنْتَ الثِّقَةُ الْأَمینُ

اس کے بعد عریضہ کو نہر یا کنواں یا چشمہ میں ڈالیں انشاء اللہ اس کی حاجت قبول ہوگئی مرحوم علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ عریضہ کو ڈالتے وقت اس طرح خیال کرے کہ اس خط کو نائب خاص کے سپرد کرتاہے محدث نوری کہتاہے اس خبر سے استفادہ ہوتاہے کہ چار نائب بزرگوار جس طرح غیبت صغری کے زمانے میں لوگوں اور حضرت حجت کے درمیان حوائج عریضے جواب لینے اور توقیعات پہنچانے میں واسطہ تھے اسی طرح غیبت کبریٰ میں یہی فریضہ انجام دیتے تھے اور بہت بڑے منصب پر فائز تھے واضح ہے کہ آخری حجت کا فضل و کرم اور حضرت کی نعمتیں تمام کو شامل ہیں۔

۲ ۔ خداوند تعالیٰ کے لئے عریضہ

شیخ الطائفہ ابوجفر طوسی کتاب المصباح اور مختصر المصباح میں کہتے ہیں خدا کے لئے ایک عریضہ لکھیں اس کو لپیٹیں اس کے بعد ایک دوسرا عریضہ حضرت حجت کی خدمت میں لکھیں خدا کے لئے عریضہ اس طرح لکھیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

إِلَى اللَّهِ سُبْحانَهُ وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُهُ ، رَبِّ الْأَرْبابِ ، وَقاصِمِ الْجَبابِرَةِ الْعِظامِ ، عالِمِ الْغَيْبِ وَكاشِفِ الضُرِّ ، اَلَّذي سَبَقَ في عِلْمِهِ ما كانَ وَما يَكُونُ ، مِنْ عَبْدِهِ الذَّليلِ الْمِسْكينِ ، اَلَّذِي انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَسْبابُ ، وَطالَ عَلَيْهِ الْعَذابُ ، وَهَجَرَهُ الْأَهْلُ ، وَبايَنَهُ الصَّديقُ الْحَميمُ فَبَقِيَ مُرْتَهِناً بِذَنْبِهِ ، قَدْ أَوْبَقَهُ جُرْمُهُ ، وَطَلَبَ النَّجا]ةَ[ فَلَمْ يَجِدْ مَلْجَأً وَلا مُلْتَجَأً ، غَيْرَ الْقادِرِ عَلى حَلِّ الْعَقْدِ ، وَمُؤَبِّدِ الْأَبَدِ ، فَفَزَعي إِلَيْهِ وَاعْتِمادي عَلَيْهِ ، وَلا لَجَأَ وَلا مُلْتَجَأَ إِلّا إِلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِعِلْمِكَ الْماضي ، وَبِنُورِكَ الْعَظيمِ ، وَبِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِحُجَّتِكَ الْبالِغَةِ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تَأْخُذَ بِيَدي وَتَجْعَلَني مِمَّنْ تَقْبَلُ دَعْوَتَهُ ، وَتُقيلُ عَثْرَتَهُ ، وَتَكْشِفُ كُرْبَتَهُ ، وَتُزيلُ تَرْحَتَهُ وَتَجْعَلُ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ فَرَجاً وَمَخْرَجاً ، وَتَرُدَّ عَنّي بَأْسَ هذَا الظَّالِمِ الْغاشِمِ ، وَبَأْسَ النَّاسِ يا رَبَّ الْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ ، حَسْبي أَنْتَ وَكَفى مَنْ أَنْتَ حَسْبُهُ ، يا كاشِفَ الْاُمُورِ الْعِظْامِ ، فَإِنَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِكَ.

وتكتب رقعة اُخرى إلى صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه :

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

تَوَسَّلْتُ بِحُجَّةِ اللَّهِ الْخَلَفِ الصَّالِحِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ ، اَلنَّبَإِ الْعَظيمِ ، وَالصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ ، وَالْحَبْلِ الْمَتينِ ، عِصْمَةِ الْمَلْجَإِ ، وَقَسيمِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ.

أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِآبائِكَ الطَّاهِرينَ الْخَيِّرينَ الْمُنْتَجَبينَ ، وَاُمَّهاتِكَ الطَّاهِراتِ الْباقِياتِ الصَّالِحاتِ ، اَلَّذينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ في كِتابِهِ ، فَقالَ عَزَّ مَنْ قائِلٌ «اَلْباقِياتُ الصَّالِحاتُ » ، وَبِجَدِّكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَخَليلِهِ وَحَبيبِهِ وَخِيَرَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، أَنْ تَكُونَ وَسيلَتي إِلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ في كَشْفِ ضُرّي ، وَحَلِّ عَقْدي ، وَفَرَجِ حَسْرَتي ، وَكَشْفِ بَلِيَّتي ، وَتَنْفيسِ تَرْحَتي ، وَبِكهيعص وَبِيس وَالْقُرْآنِ الْحَكيمِ ، وَبِالْكَلِمَةِ الطَّيِّبَةِ.

وَبِمَجارِي الْقُرْآنِ ، وَبِمُسْتَقَرِّ الرَّحْمَةِ ، وَبِجَبَرُوتِ الْعَظَمَةِ ، وَبِاللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ ، وَبِحَقيقَةِ الْإيمانِ ، وَقِوامِ الْبُرْهانِ ، وَبِنُورِ النُّورِ ، وَبِمَعْدَنِ النُّورِ ، وَالْحِجابِ الْمَسْتُورِ ، وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، وَبِالسَّبْعِ الْمَثاني ، وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَفَرائِضِ الْأَحْكامِ ، وَالْمُكَلَّمِ بِالْعِبْرانِيِّ ، وَالْمُتَرْجَمِ بِالْيُونانِيِّ ، وَالْمُناجى بِالسِّرْيانِيِّ ، وَما دارَ فِي الْخَطَراتِ ، وَما لَمْ يُحِطْ بِهِ لِلظُّنُونِ ، مِنْ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ ، وَبِسِرِّكَ الْمَصُونِ ، وَالتَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ.

يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَخُذْ بِيَدي ، وَفَرِّجْ عَنّي بِأَنْوارِكَ وَأَقْسامِكَ وَكَلِماتِكَ الْبالِغَةِ ، إِنَّكَ جَوادٌ كَريمٌ ، وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكيلُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ ، وَصَلَواتُهُ وَسَلامُهُ عَلى صَفْوَتِهِ مِنْ بَرِيَّتِهِ مُحَمَّدٍ وَذُرِّيَّتِهِ.

عریضہ لکھنے کے بعد باری تعالیٰ کے عریضہ کو حضرت حجت کے عریضہ میں رکھیں اور اس کو خالص گارہ میں رکھ دیں اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیں محمد و آل محمد کو وسیلہ قرار دے کر درگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوجائیں اور شب جمعہ اس کو جاری نہر کے پانی میں یا کئواں کے پانی میں ڈال دیں۔

بدیھی ہے کہ اس عمل کو اجابت کی نیت سے انجام دیں نہ تجربہ کی خاطر اور صرف سختی اور مشکل امور میں اس عمل سے استفادہ کیا جائے اس دعا کو نااھل لوگوں کے لئے نہ لکھیں اول تو اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہے دوسرا یہ کہ یہ امانت ہے کہ تمہارے ذمہ میں رکھا گیا ہے جس وقت رقعہ کو جاری نھر میں یا پانی کے کنویں میں ڈالیں تو اس دعا کو پڑھ لو

جو عریضے کے آخر میں ذکر کیا ہے

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي لَحَظْتَ بِهَا الْبَحْرَ الْعِجاجَ ، فَأَزْبَدَ وَهاجَ وَماجَ ، وَكانَ كَاللَّيْلِ الدَّاجِ ، طَوْعاً لِأَمْرِكَ ، وَخَوْفاً مِنْ سَطْوَتِكَ ، فَأَفْتَقَ اُجاجُهُ ، وَائْتَلَقَ مِنْهاجُهُ ، وَسَبَّحَتْ جَزائِرُهُ ، وَقَدَّسَتْ جَواهِرُهُ ، تُناديكَ حيتانُهُ بِاخْتِلافِ لُغاتِها ، إِلهَنا وَسَيِّدَنا مَا الَّذي نَزَلَ بِنا ، وَمَا الَّذي حَلَّ بِبَحْرِنا فَقُلْتَ لَها اُسْكُني سَاُسْكِنُكَ مَلِيّاً ، وَاُجاوِرُ بِكَ عَبْداً زَكِيّاً ، فَسَكَنَ وَسبَّحَ وَوَعَدَ بِضَمائِرِ الْمِنَحِ.

فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ ابْنُ مَتَّى بِما أَلِمَ الظُّنُونَ ، فَلَمَّا صارَ في فيها سَبَّحَ في أَمْعائِها ، فَبَكَتِ الْجِبالُ عَلَيْهِ تَلَهُّفاً ، وَأَشْفَقَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ تَأَسُّفاً ، فَيُونُسُ في حُوتِهِ كَمُوسى في تابُوتِهِ لِأَمْرِكَ طائِعٌ ، وَلِوَجْهِكَ ساجِدٌ خاضِعٌ ، فَلَمَّا أَحْبَبْتَ أَنْ تَقِيَهُ أَلْقَيْتَهُ بِشاطِىِ الْبَحْرِ شَلْواً لاتَنْظُرُ عَيْناهُ ، وَلاتَبْطِشُ يَداهُ ، وَلاتَرْكُضُ رِجْلاهُ ، وَأَنْبَتَّ مِنَّةً مِنْكَ عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطينٍ ، وَأَجْرَيْتَ لَهُ فُراتاً مِنْ مَعينٍ ، فَلَمَّا اسْتَغْفَرَ وَتابَ خَرَقْتَ لَهُ إِلَى الْجَنَّةِ باباً ، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ، وتذكر الأئمّة عليهم السلام واحداً واحداً.

۳ ۔ ایک اور عریضہ امام زمانہ کے نام

مرحوم محدث نوری کہتے ہیں کہ استغاثہ کے عریضہ کی حضرت حجت کیلئے متعدد طریقوں سے روایت ہوئی ہے اور دعاؤں کی کتابوں میں کہ جو لوگوں کے درمیان موجود ہے لیکن جو نسخہ اس کتاب میں موجود نہیں ہے یہاں تک کہ مزار میں (بحار الانوار) اور دعاؤں اور عریضہ کی کتابوں میں بھی ذکر نہیں ہے چونکہ اس کا نسخہ کم یاب ہے اس لئے اس کو یہاں نقل کرتاہوں محمد بن طیب صفویہ حکومت کے علماء میں سے ہے اس نے اپنی کتاب انیس العابدین میں کتاب السعادات سے اس طرح نقل کیا ہے دعائے توسل مہم امور اور حوائج کے لئے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

تَوَسَّلْتُ إِلَيْكَ يا أَبَاالْقاسِمِ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبي طالِبٍ ، اَلنَّبَإِ الْعَظيمِ ، اَلصِّراطِ الْمُسْتَقيمِ ، وَعِصْمَةِ اللّاجينَ.

بِاُمِّكَ سَيِّدَةِ نِساءِ الْعالَمينَ ، وَبِآبائِكَ الطَّاهِرينَ ، وَبِاُمَّهاتِكَ الطَّاهِراتِ ، بِياسينَ وَالْقُرْآنِ الْحَكيمِ ، وَالْجَبَرُوتِ الْعَظيمِ ، وَحَقيقَةِ الْإيمانِ ، وَنُورِ النُّورِ ، وَكِتابٍ مَسْطُورٍ ، أَنْ تَكُونَ سَفيري إِلَى اللَّهِ تَعالى فِي الْحاجَةِ لِفُلانٍ ، أَوْ هَلاكِ فُلانِ بْنِ فُلانٍ.

فلان بن فلان تک اس دعا کو ایک کاغذ پر لکھ کر پاک گارہ میں رکھ دیں اور جاری پانی میں اور پاکٹوں میں ڈال دیں اور کہیں :

یٰا سَعیدَ بْنَ عُثْمٰانَ، وَ یٰا مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمٰانَ ،أَوصِلٰا قِصَّتی إِلیٰ صٰاحِبِ الزَّمٰانِ صَلَوٰاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ ۔

البتہ نسخہ میں اس طرح ذکر ہوا ہے سعید بن عثمان و عثمان بن سعید لیکن روایات کا ملاحظہ اور بعض رقعوں کے طریقوں سے واضح ہوجاتاہے کہ اشتباہ ہوا ہے بلکہ صحیح نسخہ اس طرح ہے یا عثمان بن سعید و یا محمد بن عثمان واللہ العالم۔