صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام 0%

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

مؤلف: سید مرتضی مجتہدی سیستانی
زمرہ جات:

مشاہدے: 15723
ڈاؤنلوڈ: 1873

تبصرے:

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 22 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15723 / ڈاؤنلوڈ: 1873
سائز سائز سائز
صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

صحیفہ امام مھدی علیہ السلام

مؤلف:
اردو

آداب دعا

واضح ہو کہ دعا مانگنے والا دعاء کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے دعا مانگے تو حاجت روائی کے لئے عجیب غریب آثار دیکھے گا اس لئے دعاء کے آداب اور شرائط کو بیان کرتاہوں کتاب المختار من کلمات الامام المھدی میں کہتے ہیں دعا کے اداب کو دیکھیں کہ کس سے دعا مانگتے ہیں کس طرح دعا مانگتے ہیں کیوں دعا مانگتے ہیں یہ بھی دیکھیں کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں کس قدر سوال کرتے ہیں کس لئے سوال کرتے ہیں دعا یعنی طلب اجابت تمام موارد میں تمہاری جانب سے تمام امور کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۱ اگر دعاء کو شرائط کے تحت انجام نہ دیں۔ تو پھر اجابت کے منتظر نہ ہوجائیں چونکہ وہ ظاہر اور باطن کو جانتاہے ہوسکتاہے کہ کدا سے ایک چیز کو مانگیں تو اس باطن کے خلاف کو جانتا ہو۔ یہ بھی جاننا چاہیئے اگر خدا ہمیں دعا کا حکم نہ دیتا لیکن خلوص کے ساتھ ہماری دعا قبول ہوجاتی تو فضل کے ساتھ ہماری دعا قبول کرلیتا پس جب خدا دعا کی التجابت کا ضامن ہوا ہے جب اسے تمام شرائط کے ساتھ انجام دیا جائے تو پھرکس طرح دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ دعاء کے آداب یہ ہیں۔

اول آداب :دعا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ دعا کا آغاز کرے

پیغمبر خدا نے فرمایا ہےلا یردّ دعاء اوّله بسم الله الرحمن الرحیم جس دعا کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہو وہ دعا رد نہیں ہوتی۔

دوسرا آداب: دعا سے پہلے خدا کی حمد و ثنا بجا لائے

ہمارے مولیٰ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا ہے کل دعاء لا یکون قبلہ تمحید فھو ابتر جس دعا سے پہلے خدا کی حمد و ثنا نہ کی جائے وہ دعا ناقص اور ابتر ہوتی ہے۔ ایک روایت میں ذکر ہوا ہے چنانچہ حضرت امیرالمومنین کی کتاب میں اس طرح ذکر ہوا ہے دعا سے پہلے حمد ثنا بجا لائیں اگر اللہ سے کوئی چیز مانگنا چاہیں تو سب سے پہلے اس کی تعریف کریں راوی کہتاہے میں نے کہا کہ میں کس طرح اس کی تعریف کروں فرمایا کہو:یا من اقرب الیّ من حبل الورید یا من یحول بین المرء و قبله یا من هو بالمنظر الاعلی یا من لیس کمثله شئی ۔ اے خدا کہ جو میری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اے وہ کہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل اور مانع ہوتے ہیں اے وہ ذات کہ جو منظر اعلیٰ ہے کہ جو بلند مرتبہ رکھتاہے اے وہ ذات کہ جو تیرے مانند کوئی نہیں ہے۔

تیسرا آداب: محمد اور آل محمد پر درود بھیجیں

پیغمبر خدا نے فرمایا :صلاتکم علی اجابة لدعائکم و زکاة لأعمالکم ۔تمہارا درود و صلوة بھیجنا مجھ پر تمہاری دعا کے قبول ہونے کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کے پاک و پاکیزہ ہونے کا سبب ہے۔

ہمارے مولیٰ امام جعفر صادق نے فرمایا:لا یزال الدعاء محبوباً حتیٰ یصلّی علی محمد و آل محمد ۔ دعا ہمیشہ حجاب میں ہوتی ہے یہاں تک محمد و آل محمد پر درود بھیجیں ایک دوسری حدیث میں فرمایا:من کانت له الی اللّٰه عز و جلّ حاجة فلیبدء بالصلوة علی محمد و آله ثم یسأله حاجتة ثم یختم بالصلوة علی محمد و آل محمد بانّ الله اکرم من ان یقبل الطرفین و یدع الوسط اذا کانت الصلوة علی محمد و آل محمد لا تحجب عنه ۔ جس کسی کو بھی خدا کی طرف کوئی حاجت ہو اس کو چاہیے کہ دعا کا آغاز محمد و آل محمد سے کرے اس کے بعد خدا سے اپنی حاجت مانگے اور دعا کے بعد محمد و آل محمد پر درود بھیجے چونکہ خداوند تعالیٰ کریم ہے کہ اس دعا کے دونوں اطراف کو قبول کرے اور درمیان کو چھوڑ دے اور قبول نہ کرے چونکہ محمد و آل محمد پر درود بھیجنے پر حجاب واقع نہیں ہوتاہے۔

چوتھا آداب: معصومین کو اپنا شفیع قرار دے

ہمارے مولا حضرت امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام ) نے فرمایا اگر کسی چیز کے بارے میں خدا کی طرف محتاج ہو تو کہو:اللّٰهم انّی اسألک بحق محمد و علی فان لهما عندک شاناً من الشان و قدراً من القدر فبحق ذالک القدر ان تصلّی علی محمد و آل محمد و ان تفعل بی کذا و کذا ۔بارالھٰا محمد و علی کو واسطہ دیکر سوال کرتاہوں چونکہ یہ دونوں بزرگ تیرے نزدیک بڑا مقام رکھتے ہیں اس شان اور منزلت کا واسطہ کہ محمد و آل محمد پر درود بھیج دے اور میری فلان فلان حاجت کو قبول فرما۔

چونکہ جب بھی قیامت کا دن آئے گا کوئی ملک مقرب پیغمبر مرسل اور مومن ممتحن باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ اس دن ان دونوں کے محتاج ہیں زیارت جامعہ کبیرہ میں پڑھتے ہیںاللّٰهم انّی لوجوجدت شفعاء اقرب الیک من محمد و اهل بیته الاخیار الائمة الابرار لجعلتهم شفعائی ۔

خداوندا اگر محمد اور اھل بیت سے زیادہ کوئی اور تیرے زیادہ نزدیک ہوتے تو تیری درگاہ میں ان کو شفیع قرار دیتا واضح ہے حاجت قبول ہونے کے لئے خدا کی درگاہ میں وسیلہ قرار دینا چاہیئے چونکہ خدانے قرآن مجید میں اس کے بارے میں حکم دیا ہے کہ جہاں فرماتاہےوابتغوا الیه الوسیلة اس کے ساتھ قرب حاصل کرنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور کوئی وسیلہ بھی محمد و آل محمد سے زیادہ خدا کے نزدیک نہیں ہے متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ کلام الہی میں وسیلہ سے مراد ائمہ طاہرین ہیں۔

یہ منافات نہیں رکھتا کہ وسیلہ سے مراد سیڑھی سے لیں چونکہ وہاں سیڑھی سے مراد ترقی کا وسیلہ ہے۔

ایک روایت میں حضرت رسول سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: ھم العروة الوثقیٰ والوسیلہ الی اللہ یعنی یہی اھل بیت محکم رسی اور خدا کی طرف وسیلہ ہیں اس کے بعد اس آیہ شریفہ کی تلاوت کی فرمایا:یا ایهاالذین آمنو اتقو الله و ابتغو الیه الوسیلة یہ بھی احتمال ہے کہ ایمان اور تقویٰ کی صفت خدا تک وسیلہ کے لئے شرط ہو چونکہ وسیلہ ایمان اور تقویٰ کے بغیر فائدہ نہیں رکھتا اگر یہ دونوں اکٹھے موجود ہوں تب فائدہ دے گا چونکہ ولایت کا قبول کرنا ممکن نہیں ہے مگر ایمان اور تقویٰ کے ساتھ

پانچواں آداب دعا دعا سے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔

ایک روایت امام صادق(علیہ السلام ) سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: انما ھی المدحة، ثم الاقرار بالذنب ثم المسالة، واللہ ما خرج عبد من ذنب الّا بالاقرار۔دعا میں سب سے پہلے خدا کی مدح و ثناء کرے اس کے بعد اپنے گناہوں کا اعتراف کرے پھر اس کے بعد اپنی حاجت مانگے۔

چھٹا آداب: دل سے غافل ہو کر دعا نہ مانگے بلکہ جب درگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہو تب دعا مانگے

چنانچہ امام صادق نے فرمایا :ان الله لا یستجیب دعاء بظهر قلب ساه فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن الا حاجبة ۔ جو شخص بھی خدا سے غافل دل کے ساتھ دعا مانگتاہے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے جب دعا کرنا چاہو تو اپنے دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اس وقت یقینا تمہاری دعا قبول ہوگی۔ چونکہ جو بھی پراگندہ فکر کے ساتھ خدا کو پکارے وہ حقیقت میں دعا نہیں مانگتاہے اور دعا قبول نہیں ہوتی ہے صرف اس صورت میں دعا قبول ہوتی ہے جب توجہ قلبی کے ساتھ اللہ کو پکارے۔

ساتواں آداب: دعا کرنے والے کا لباس اور غذا پاکیزہ ہو

اچھی دعا اس وقت ہے کہ جب عمل اچھا ہو اچھا عمل حرام کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتاہے قرآن میں فرماتاہے: یا ایھا الرسل کُلُو من الطیباتِ و اعمَلو صالحاً اے پیامبر پاک و پاکیزہ غذا کھالو اور نیک کام انجام دو اس آیہ شریفہ میں نیک عمل میں حلال اور پاکیزہ غذا لازم و ملزوم ہے پیغمبر خدا نے فرمایامن احبّ ان یستجاب دعاؤه فلیطیب مطعمه و مکسبه جو چاہتاہے کہ اس کی دعا قبول ہوجائے تو وہ غذا اور اپنے کمائی کو پاک اور حلال قرار دے ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ طھّر ما کلک،و لا تدخل فی بطنک الهرام ۔ اپنی غذا کو پاکیزہ قرار دو اور احرام مال کو اپنے شکم میں داخل نہ کرو ایک اور روایت میں آیا ہےاطب کسبک تستجاب دعوتک فان الرجل یرفع القمة الی فیه حراماً فما تستجاب له اربعین یوماً ۔ اپنی کمائی کو پاکیزہ اور حلال قرار دو تا کہ تمہاری دعا مستجاب ہوجائے جب انسان ایک حرام لقمہ اپنے منہ میں ڈالتاہے تو اس کی دعا چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی ہے۔ حدیث قدسی میں آیا ہےفمنک الدعاء و علیّ الاجابهة فلا تحجب عنّی دعوة آکل الحرام اے میرا بندہ تیری طرف سے دعا کرنا اور قبولیت میری طرف سے ہے کوئی بھی دعا مجھ سے پوشیدہ نہیں ہوتی ہے صرف اس شخص کی دعا کہ جس نے حرام کھایا ہو ہمارے مولا امام صادق(علیہ السلام ) نے فرمایا: من سرّہ ان یستجاب دعاؤہ فلیطیّب کسبہ جو شخص چاہتا ہو کہ اس کی دعا مستجاب ہوجائے اس کو چاہیئے کہ وہ اپنی کمائی کو پاکیزہ اور حلال قرار دے۔

ایک دوسری روایت میں فرمایا:اذا اراد اهدکم ان یستجاب له فلیطیب کسبه و لیخرج من مظالم الناس و ان الله لا یرفع دعاء عبد وفی بطنه هرام، او عنده مطلمة لاهد من خلقه ۔ تم میں سے جو شخص چاہے کہ اس کی دعا قبول ہو اس کو چاہیے کہ اس کی کمائی پاکیزہ اور حلال ہو اور خود لوگوں کے حقوق سے نجات حاصل کرلے چونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا کو قبول نہیں کرتاہے کہ جس کے پیٹ میں حرام ہے یا لوگوں کا حق اس کے ذمہ میں ہے اس کی دعا اوپر نہیں جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔

آٹھواں آداب: لوگوں کے حقوق جو اس کے ذمہ میں ہے اس کو ادا کرے

حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام ) نے فرمایا :انّ الله عزوجل یقول و عزتی وجلالی لا اجیب دعوة مظلوم دعانی فی مطلمة ظلمها و الاحد عنده مثل تلک المظلمة الله ۔تعالیٰ فرماتاہے: میری عزت اور جلال کی قسم اس مظلوم کی دعا کہ جس پر ظلم ہوا ہو حالانکہ اس نے خود بھی کسی اور پر اس قسم کا ظلم کیا ہو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:انّ الله اوحی الی عیسیٰ بن مریم: قل للملاء من بنی اسرائیل انّی غیر مستجیب لاحد منکم دعوة و الاهد من خلقی قبله مظلمه خدا نے عیسیٰ پر وحی کی بنی اسرائیل کے گروہ سے کہو جس کے پاس کسی کا حق موجود ہے میں اس کی دعا کو قبول نہیں کرتاہوں۔

نواں آداب: گناہ حاجت قبول کرنے کے لئے مانع ہے

امام محمد باقر فرمایا:انّ العبد یسال الحاجة فیکون من شأنه قجاوٴ ها الی اجل قریب او الی وقت بطییٴ فیذنب العبد ذنباً فیقول الله تبارک و تعالیٰ للملک: لاتقضِ حاجته و احرمه ایاها فانّه تعرّض لسخطی و استوجب الحرمان منّی بندہ خدا سے ایک حاجت مانگتاہے بندہ کی شان یہ ہے کہ اس کی حاجت جلد یا ایک مدت کے بعد قبول کی جائے لیکن بندہ گناہ کا مرتکب ہوجاتاہے تو اللہ ایک فرشتہ سے فرماتاہے اس کی حاجت قبول نہ کرو اور اس کو اس سے محروم کردو اس نے مجھ کو ناراض کیا ہے اور محروم ہونے کا سزاوار میری طرف سے ہوا ہے۔

دسواں آداب: اجابت دعا کے لئے حسن ظن رکھتاہو

حسن ظن سے مراد طلب یقین ہے چونکہ خدا کی طرف سے وعدہ خلافی محال ہے اور آیہ کے مطابق ادعونی استجب لکم مجھے پکارو تا کہ میں تمہاری پکار کو قبول کرلوں خدا نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور دعا کے قبول کرنے کی ضمانت دی ہے پس اللہ وعدہ کلافی نہیں کرتاہے اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا ہے:وعد الله لا یخلف الله وعده ولکنّ اکثر الناس لا یعلمون یہ اللہ کا وعدہ ہے اور خداوعدہ خلافی نہیں کرتاہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں خدا کس طرح وعدہ خلافی کرتاہے حالانکہ وہ بے نیاز مہربان اور رحیم ہے حدیث میں ہے۔فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن الاجابة ۔ جب دعا مانگنا چاہو تو اپنے دل کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ اس کے بعد دعا کے قبول ہونے پر یقین رکھو۔

گیارھواں آداب دعا: اللہ حضور سے بار بار دعا مانگو

علامہ مجلسی نے اس کو دعا کے آداب اور شرائط میں سے قرار دیا ہے اور فرمایا ہے آسمانی کتاب میں قرآن سے پہلے آیا ہے:لا تملّ من الدعاء فانی لااملّ من الاجابة دعا سے ملول اور تھک نہ جاوء چونکہ میں ملول اور تھکے ہوئے انسان کی دعا قبول نہیں کرتاہوں عبدالعزیز نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایاان العبد اذا دعا لم یزل الله فی حاجته ما لم یستعجل جب بندہ دعا مانگتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے یہاں تک کہ جلدی نہ کرے یعنی دعا سے ہاتھ نہ اٹھائے اسی طرح حضرت سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا:انّ العبد اذا اعجّل فقام لحاجته یقول الله تعالیٰ استعجل عبدی أتراه یظنّ اَنّ حوائجه بید غیری جب بندہ حاجت روائی میں جلدی کرتاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے میرا بندہ جلدی کرتاہے کیا وہ گمان کرتاہے کہ اس کی حاجت روائی میرے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا :انّ الله یحبّ السائل اللحوح ۔ اللہ تعالیٰ دعا میں اصرار کرنے والے کو دوست رکھتاہے ولید بن عقبہ ھجری نے روایت کی ہے اور کہتاہے کہ امام محمد باقر سے سنا کہ فرماتے تھے:والله لا یلح عبد مومن علی الله فی حاجة الّاقضاها له خدا کی قسم اللہ کا کوئی بندہ بھی اپنی حاجت اللہ سے مانگنے میں اصرار نہیں کرے گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے ابو صباح نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا:ان الله کره الحاح الناس بعضهم علی بعض فی المسألة واحبّ ذالک لنفسه انّ اللّه یحبّ ان یسال و یطلب ما عنده ۔ خداوند تعالیٰ بعض لوگوں سے بعض کی حاجت روائی میں اصرار کو دوست نہیں رکھتا ہے اور یہ اصرار اپنے لئے دوست رکھتاہے اللہ دوست رکھتاہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور جو اس کے پاس ہے خدا سے طلب کرے۔

احمد بن محمد بن ابونصر کہتاہے کہ میں نے امام رضا سے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہوجاؤں میں نے کئی سال سے خدا سے ایک حاجت طلب کی ہے (اب تک میری حاجت قبول نہیں ہوئی) میری حاجت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے میرے دل میں کچھ احساس ہوا ہے حضرت نے فرمایا:یا احمد ایاک و الشیطان ان یکون له علیک سبیل حتی یقضک ان ابا جعفر کان یقول: ان الموٴمن یسأل اللّٰه حاجة فیوٴخّر عنه تعجیل اجابته حبّاً لصوته واستماع نحیبه ثم قال: والله ما أخر اللّٰه عن الموٴمنین ما یطلبون فی هذه الدّنیا خیر لهم ممّا عجّل لهم فیها، و أیّ شیء الدنیا ۔ اے احمد شیطان سے بچو اس چیز سے کہ کہیں تمہارے اوپر مسلط نہ ہو تا کہ تجھ کو رحمت الٰہی سے مایوس نہ کرے امام محمد باقر نے فرمایا یقینا ایک مومن مرد خدا سے ایک حاجت مانگتاہے پس اس کی حاجت قبول ہونے میں تاخیر ہوجاتی ہے وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی آواز کو دوست رکھتاہے اللہ چاہتاہے کہ اس کے نالہ و فریاد کو سنے اس کے بعد فرمایا خدا کی قسم خدا اس کی حاجت کو اس دنیا میں تاخیر کرتاہے یہ بہتر ہے کہ اس کی حاجت قبول ہو پتہ چلے کہ دنیا کی کیا قدر و قیمت ہے۔

امام صادق نے فرمایا:انّ العبد الوالی للّٰهِ یدعو اللّٰه فی الامر ینوبه فیقال الملک الموکّل به اقضِ لعبدی حاجته ولا تعجلها فانی اشتهی ان اسمع ندائه و صوته و ان العبد العدوالله لیدعوالله فی الامر ینوبه، فیقال للملک الموکل به: اقض لعبدی حاجته وعجلها فانی أکره أن أسمع نداء ه و صوته قال: فیقول الناس: ما اُعطی هذا الّاالکرامته، ومامنع هذا الّا لهوانه ۔ وہ بندہ جو اللہ کو دوست رکھتاہے کسی امر میں ہمیشہ اللہ کو پکارتاہے پس کہا جاتاہے اس فرشتہ کے لئے کہ جو اس کام کے لئے مقرر ہے کہ میرے بندہ کی حاجت پوری کرلے لیکن اس میں جلدی نہ کرو میں اس کی آواز کو سننا چاہتاہوں اور بتحقیق وہ بندہ جو اللہ کا دشمن ہے جب وہ کسی معاملہ میں خدا کو پکارتاہے پس جو فرشتہ اس کام کے لئے مقرر ہے اس سے کہتاہے جلد از جلد اس کی حاجت کوپوری کرلے میں اس کی آواز کو سننا پسند کرتاہوں اس وقت حضرت نے فرمایا اس دوست کی کرامت کی وجہ سے حاجت قبول دیر سے ہوئی اور اس دشمنی کی حاجت اس کی آواز کو ناپسند کرنے کی وجہ سے جلدی قبول ہوئی پھر حضرت نے ایک دوسری روایت میں فرمایا:لایزال الموٴمن بخیر و رخا ۷ و رحمة من الله ما لم یستعجل فیقنط فیترک الدعاء، قلت له: کیف یستعجل؟ قال: یقول: قددعوت منذکذا و کذا، ولا أری الاجابة ۔مومن ہمیشہ رحمت الٰہی میں ہے جب تک جلدی نہ کرے اور پشیمان نہ ہوجائے اور ہاتھ دعا سے نہ اٹھائے

میں نے عرض کیا وہ کس طرح جلدی کرتاہے فرمایا کہتاہے ایک مدت سے خدا کو پکارتاہوں لیکن دعاء کے قبول ہونے کے آثار نہیں دیکھتاہوں اسی طرح ایک اور کلام میں فرماتے ہیں:انّ المومن لیدعوالله فی حاجته فیقول عزوجلّ: اُخروااجابته شوقاً الی صوته ودعاه فاذا کان یوم القیامة قال الله: عبدی دعوتنی و اخرت اجابتک و ثوابک کذا وکذا و دعوتنی فی کذا و کذا فاخرت اجابتک و ثوابک کذا قال: فیتمنّی الموٴمن انّه لم یستجب له دعوة فی الدّنیا ممّا یری من حسن الثواب ۔ بتحقیق ایک مومن بندہ اپنی حاجت کے لئے اللہ کو پکارتاہے پس اللہ تعالیٰ کہتاہے کہ میں نے دعا کی اجابت کو تاخیر کیا اور تمہارا ثواب یہ ہے اے میرے بندہ تو نے مجھے فلاں فلاں کے بارے میں پکارا میں نے تمہاری اجابت کو تاخیر کیا اور تمہارا ثواب یہ ہے اس وقت مومن تمنا کرے گا کاش میری دعا دنیا میں قبول نہ ہوتی اس کے بدلے میں آخرت میں زیادہ اجر اور ثواب دیکھتا تھا اس کے بعد حضرت نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:قال رسول الله رحم الله عبداً طلب من اللّٰه حاجة فالحّ فی الدنیا استجیب له اولم یستجب له و تلاهذه الآیة وادعوا ربّی عسیٰ ان لا اکون بدعاء ربّی شقیاً رسول خدا نے فرمایا : اگر کوئی بندہ خدا سے حاجت مانگے اصرار کرے تو خواہ اس کی دعا قبول ہو یا نہ ہو خدا اس شخص کو بخش دیتاہے اس کے بعد حضرت نے یہ آیہ پڑھی میں اپنے پروردگار کو پکارتاہوں اس امید سے کہ اپنے رب کو پکارنے کی وجہ سے بدبخت نہ بنوں تو رات میں آیا ہےیا موسیٰ من احبتنی لم ینسنی، و من رجا معروفی ألحّ فی مسألتی یا موسی ! انّی لست بغافل عن خلقی و لکن اُحبّ ان تسمع ملائکتی ضجیج الدّعاء من عبادی، و تری حفظتی تقرب بنی آدم الیَّ بما أنا مقوّبهم علیه و مسبّبه لهم یا موسی! قل لبنی اسرائیل: لاتبطرنّکم النعمة فیعاجلکم السلب، ولاتغفلوا عن الشکر فیقارعکم الذلآ، وألحوا فی الدّعاء تشملکم الرحمة بالاجابة، و تهنئکم العافیة ۔ اے موسیٰ جو مجھ کو دوست رکھے میں اس کو فراموش نہیں کرتاہوں

اور جو بھی میری نیکی کی امید رکھتاہے وہ مجھ سے سوال کرنے میں اصرار کرتاہے اے موسیٰ میں اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہوں لیکن میں چاہتاہوں کہ میرے بندوں کی دعا کے چیخ و پکار کو میرے ملائکہ سنیں۔ اور حافظان عرش کو بنی آدم کے تقرب ان کے اختیار میں دے دیا ہے ۔ دعا کے اسباب کو ان کے لئے فراہم کیا ہے اے موسیٰ بنی اسرائیل سے کہہ دیں کہ نعمت طغیان کا باعث اور تمہاری ناشکری کا سبب نہ بنے تا کہ نعمت کو تم سے سلب کروں اور لشکر سے غافل نہ ہوجاؤ تا کہ ذلت تمہاری دامن گیر نہ ہوجائے دعا میں اصرار کرو تا کہ اللہ کی رحمت تمہارے اوپر نازل ہوجائے عافیت اور سلامتی تمہارے لئے گوارا ہو۔ امام باقر نے فرمایا:لایلح عبد مومن علی الله فی حاجته الا قضاها له ۔ کوئی بندہ بھی اپنی حاجت میں خدا سے دعا کے ذریعے اصرار نہیں کرتاہے مگر یہ کہ اللہ اس کی حاجت کو قبول کرتاہے۔

منصور صیقل کہتاہےقلت لابی عبد الله ربّما دعا الرجل فاستجیب له ثم اخّر ذالک الای حین قال: فقال: نعم قلت ولِمَ ذالک لیزداد من الدعا قال: نعم میں نے امام جعفر صادق سے عرض کیا بسا اوقات ایک شخص دعا کرتاہے اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے لیکن ایک مدت تک تاخیر ہوجاتی ہے کیا ایسا ہی ہے حضرت نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے میں نے عرض کیا کیوں تاخیر ہوجاتی ہے کیا اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ دعا مانگے حضرت نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے اب تک جو کچھ بیان کیا گیا وہ دعا کے آداب اور شرائط کے بارے میں تھا اب یہ کہ بعض دعا کے آداب خاص اہمیت کے حامل ہیں اس کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرتاہوں۔

دعاء کے اصرار کی اہمیت

دعا کے تکرار کرنے سے حاجت قبول ہوتی ہے یہ نکتہ بہت زیادہ مہم ہے البتہ ایک دفعہ دعا مانگنے سے حاجت قبول نہیں ہوتی ہے اس سے مقصد حل نہیں ہوتاہے اس مطلب کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال بیان کرتاہوں تا کہ میرا مطلب واضح ہوجائے بہت سی جسمانی بیماریوں میں اگر بیماری معمولی ہو یا ابھی ابھی بیمار ہوا ہو اور بیماری پرانی نہ ہوچکی ہو تو اس کا علاج دوائی کے ایک ہی نسخہ سے کیا جاتاہے لیکن اگر بیماری پرانی ہو انسان کے بدن میں جڑیں موجود ہوں تو ایسی صورت میں معلوم ہے کہ ایک نسخہ سے بیماری دور نہیں ہوتی ہے اس کے لئے بار بار دوائی دینے کی ضرورت ہے تا کہ بیماری دور ہو روحانی امراض میں بھی یہی حالت ہے اگر کسی کو روحانی بیماری لگی تھی بیماری اتنی مہم نہیں تھی لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ اور طولانی ہونے کے ساتھ بیماری نے جڑیں پکڑی ہیں ایسی صورت میں ایک دفعہ دعا پڑھنے سے بیماری دور نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لئے بار بار دعا مانگنے کی ضرورت ہے جس طرح جسمانی بیماری میں انسان بار بار دوا کا محتاج ہوتاہے تا کہ بیماری دور ہو اسی طرح روح کی بیماری کے لئے بار بار دعا کی ضرورت ہے البتہ ممکن ہے کہ بعض افراد کے ایک دفعہ دعا پڑھنے سے ان کی دعا قبول ہوجائے لیکن عام لوگوں کو نہیں چاہیئے کہ یہ بھی اس کی طرح توقع رکھیں کہ ایک دفعہ دعا پڑھنے سے دعا قبول ہوگی۔ یہی ایک وجہ ہے کہ دعا میں اصرار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

(استجاب دعا پر انسان کو یقین ہو)

دعا کے قبول ہونے میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔

۱۔موانع قلبی دور ہو ۲۔ اور باطنی نورانیت موجود ہو۔

دعا کا تیر ھدف تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے ان دو چیزوں کو ایجاد کرے تا کہ اضطرار تک نوبت نہ پہنچے دل کی تاریکی کو دور کرکے اس میں نورانیت ایجاد کرے چونکہ یقین کا لازمہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں یقین کا نور پیدا ہوتاہے۔

حضرت امام محمد باقر(علیہ السلام ) فرماتے ہیں لا نور کنوار الیقین یقین کے نور کی طرح کوئی نور نہیں ہے۔ واضح ہے کہ جب انسان کو یقین ھاسل ہوجائے تو اس کے دل میں روشنی پائی جاتی ہے اس کے دل سے تاریکی زائل ہوجاتی ہے چونکہ نور اور ظلمت دونوں ایک جگہ پر جمع نہیں ہوسکتے ہیں مرحوم آیة اللہ خوئیبسم الله الرحمن الرحیم کے اثرات کے رابطہ میں جب کہ یقین کے ساتھ کہا گیا ہو اس بارے میں آقائی خوئی نے ایک عجیب واقعہ شیخ احمد سے نقل کیا ہے جو کہ مرحوم میرزائی شیرازی کے یہاں خادم تھا اس نے کہا مرحوم شیرازی کا ایک اور خادم تھا کہ جس کا نام شیخ محمد تھا مرحوم میرزا کے فوت ہونے کے بعد لوگوں سے الگ تھلک رہا ایک دن ایک شخص شیخ محمد کے پاس گیا سورج غروب ہوتے وقت چراغ کو پانی سے بھر دیا اور اس کو روشن کیا اور چراغ جل رہا تھا اس شخص نے بہت زیادہ تعجب کیا اور اس کی وجہ کے بارے میں پوچھا شیخ محمد نے اس کے جواب میں کہا کہ شیخ مرحوم میرزا کے فوت ہونے کے بعد اس کے غم میں لوگوں سے الگ رہا اور اپنے گھر میں رہا میں بہت زیادہ غمگین ہوا تھا دن کے آخری وقت ایک جوان میرے پاس آیا کہ جو عرب کا طالب علم دکھائی دیتا تھا میں ان سے مانوس ہوا غروب آفتاب تک میرے پاس رہا ان کے بیانات سے بہت زیادہ خوش ہوا بہت لذت حاسل ہوئی میرے دل سے تمام غم دور ہوا چند دن میرے پاس رہے اور میں اس کے ساتھ مانوس ہوا ایک دن وہ مجھ سے گفتگو کرتا تھا کہ خیال آیا کہ آج میرے چراغ میں تیل نہیں ہے اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ غروب آفتاب کے وقت دکانیں بند کردیتے تھے اور ساری رات بند کرتے تھے اس لئے مجھے فکر ہوا اگر میں ان سے اجازت لیکر تیل کے لئے باہر چلا جاتاہوں تو میں ان کی باتوں کے فیض سے محروم ہوجاتاہوں اور اگر تیل نہ خریدوں تو ساری رات تاریکی میں گزاروں اس وقت میری حالت کو دیکھا اور میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تجھ کو کیا ہوا ہے کہ میری باتوں کو اچھی طرح نہیں سنتے ہو میں نے کہا میرا دل آپکی طرف متوجہ ہے فرمایا نہیں تم میری باتوں کو اچھی طرح نہٰں سنتے ہو میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آج میرے چراغ میں تیل نہیں ہے فرمایا بہت زیادہ تعجب ہے اس قدر تمہارے لئے حدیث بیان کی اوربسم الله الرحمن الرحیم کی فضیلت بیان کی اس قدر بے پرواہ نہیں ہوئے کہ تیل کے خریدنے سے بے نیاز ہوجائے میں نے کہا مجھے یاد نہیں ہے فرمایا بھول گئے ہو جو کچھبسم الله الرحمن الرحیم خواص اور فوائد بیان کرچکا ہوں اس کے فوائد یہ ہیں کہ آپ جس قصد کے لئے کہیں وہ مقصود حاصل ہوتاہے آپ اپنے چراغ کو پانی سے بھردیں اس مقصد کے ساتھ کہ پانی میں تیل کی خاصیت ہو کہوبسم الله الرحمن الرحیم ۔

میں نے قبول کیا میں اٹھا اسی قصد سے چراغ کو پانی سے بھر دیا اس وقت میں نے کہا بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کے بعد چراغ روشن ہوا اور اس سے شعلہ بلند ہوا اس وقت سے لیکر اب تک جب بھی چراغ خالی ہوجاتاہے اس کو پانی سے بھر دیتاہوں اور بسم اللہ کہتاہوں چراغ روشن ہوجاتاہے مرحوم آیة اللہ خوئی نے اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا تعجب یہ ہے کہ اس واقعہ کے مشہور ہونے کے بعد بھی مرحوم شیخ محمد سے اس کا اثر ختم نہیں ہوا۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ بسم اللہ کو عقیدہ اور یقین کے ساتھ پڑھنے پر ظاہراً یہ اثر تعجب آور اور خارق العادہ ہے کہ جن کے پاس اسم اعظم ہے وہ بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں ان کا وہ عمل جو دوسروں سے ان کو امتیاز پیدا کرتاہے وہ ان کا یقین ہے چونکہ ان کے یقین میں ایک خاص اثر پایا جاتاہے۔ یقین کے تعجب کو بیان کرنے کے لئے اسی ایک واقعہ پر اکتفا کرتاہوں۔

امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگنا ضروری ہے۔

دعا کے شرائط اور آداب بیان کرنے کے ساتھ بعد کہتاہوں سب سے مہم اور سب سے ضروری امام کے غیبت کے زمانے میں ظہور امام کے لئے دعا مانگنا ہے چونکہ صاحب الزمان ہمارے زمانے کے امام ہیں بلکہ تمام جہان کے سرپرست ہیں مگر کیا ہم اس سے غافل رہ سکتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے امام ہیں اور امام سے غافل رہنا اصول دین کے ایک اصل سے غافل ہونا ہے پس ضروری ہے کہ حضرت کے ظہور کے لئے دعا کریں اپنے اور رشتہ داروں کے لئے دعا کرنے سے پہلے صاحب الزمان کے لئے دعا مانگے مرحوم سید بن طاوؤس اپنی کتاب جمال الاسبوع میں لکھتے ہیں ہمارے پیشوا امام کے لئے دعا مانگنے کے لئے خاص اہمیت کے قائل تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے لئے دعا مانگنا اھل اسلام اور ایمان کے وظائف میں مہم ترین چیز ہے امام جعفر صادق(علیہ السلام ) نماز ظہر کے بعد امام زمانہ کے حق میں دعا مانگتے تھے امام کاظم بھی امام زمانہ کے لئے دعا مانگتے تھے

ہمیں بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے امام زمانہ کے لئے دعا مانگنی چاہیئے کتاب فلاح السائل میں اپنے بھائیوں کے لئے دعا کے فضائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں اگر اپنے دینی بھائیوں کے لئے دعا مانگنے میں اتنی فضیلت ہے تو ہمارے امام اور بادشاہ کے لئے کہ جو تیرے وجود کے لئے علت ہے اس کے لئے دعاء مانگنے کی کتنی فضیلت ہوگی تو اچھی طرح جانتاہے اور تمہارا عقیدہ ہے اگر امام زمانہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ تجھ کو خلق نہ کرتا بلکہ کسی کو بھی خلق نہ کرتا لطف الٰہی ہے کہ اس ھستی کے وجود سے تو اور دوسرے موجود ہیں خبردار یہ گمان نہ کرنا کہ امام زمان تمہاری دعا کا محتاج ہے افسوس اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے تو تم اپنے عقیدہ میں بیمار ہو بلکہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اس لئے ہے ان کا حق عظیم ہے ان کا بڑا احسان ہے اور ہم انکے حق کو پہچانیں اب واضح ہے اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے اپنے رشتہ داروں کے لئے دعا کرنے سے پہلے امام زمانہ کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اجابت کے دروازوں کو جلد از جلد تمہارے لئے کھول دیتاہے چونکہ تو نے دعا کے قبول کے دروازوں کو اپنے جرائم قفل کے ساتھ بند کردیا ہے اس بناء پر اگر دعا اپنے مولیٰ کے لئے کروگے تو امید ہے کہ کہ اس بزرگوار کی وجہ سے تمہارے لئے اجابت کے دروازے کھل جائیں تا کہ تو اور دوسرے کہ جن کے لئے دعا کرتے ہو فضل اور رحمت الٰہی میں شامل ہوجائیں

چونکہ تم نے اپنی دعا میں ان کی رسی کو تھاما ہے اس دعا کی اہمیت ائمہ طاھرین کی نظر میں کیا ہے کیا انہوں نے دعا مانگنے میں بے اعتنائی کی ہے ہرگز نہیں اس بناء پر واجب نمازوں میں حضرت کے لئے دعا کرنے سے کوتاہی نہ کریں۔ ایک صحیح روایت محمد بن علی بن محبوب سے مروی ہے کہ شیخ قمی اس زمانے میں موجود تھے وہ اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایاکلمّا کلّمت اللّٰه تعالیٰ فی صلوة الفریضة فلیس بکلام واجب نماز میں جو بات بھی خدا کے ساتھ کلام کریں وہ کلام نہیں ہے۔ (یعنی دعا نماز کو باطل نہیں کرتی ہے) پھر تکرار کرتاہوں ان دلائل کو ذکر کرنے کے بعد امام کے تعجیل ظہور کے لئے دعا کو اہمیت نہ دینے میں کوئی عذر باقی نہیں رہتاہے۔

صاحب مکیال المکارم فرماتے ہیں جیسا کہ آیات اور روایات دلالت کرتی ہیں کہ دعا سب سے بڑی عبادت ہے اور اس میں شک نہیں کہ سب سے مہم ترین دعا اس کے لئے ہو کہ خداوند تعالیٰ نے جن کے لئے تمام لوگوں پر دعا واجب کیا ہے ان کے وجود کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے رحمت سے نوازا ہے اس میں کوئی شک نہیں خدا کے ساتھ مشغول ہونے سے مراد خداکی عبادت میں مشغول ہونا ہے اور ہمیشہ دعا کرنا یہ سبب بنتاہے کہ خدا ان کو عبادت میں مدد کرے اور اس کو اپنے اولیاء میں سے قرار دیا ہے اس بناء پر اھل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ جہاں کہیں بھی ہو اور جس زمانے میں بھی ہو امام کی تعجیلِ ظہور کے لئے دعا مانگے اس مطلب کے ساتھ جو مناسب ہے اور ہمارے گفتار کی تائید کرتی ہے یہ ہے کہ حضرت امام حسن نے عالم خواب میں یا مکاشفہ میں مرحوم آیة اللہ میرزا محمد باقر فقیہ سے فرمایا منبروں پر لوگوں سے کہیں اور لوگوں کو حکم دیں کہ توبہ کریں اور آخری حجت کے تعجیل ظہور کے لئے دعا مانگیں حضرت حجت کے لئے دعا مانگنا نماز میت کی طرح نہیں ہے کہ واجب کفائی ہو ایک شخص کے انجام دینے سے دوسروں سے ساقط ہو بلکہ پانچ وقت کی نمازوں کی طرح ہے کہ ہر بالغ فرد پر واجب ہے کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگیں جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا مانگنا ضروری ہے۔

عالم میں سب سے مظلوم فرد

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج کل نہ صرف عبادات میں بلکہ عمومی مجالس میں بھی امام کے تعجیل ظہور کی دعا سے غافل ہیں اگر ہم جانیں کہ اب تک ہم کس قدر غافل ہیں تب معلوم ہوگا کہ حضرت اس عالم میں سب سے زیادہ مظلو م ہے اب چند واقعات حضرت کی مظلومیت کے بارے میں بیان کرتاہوں۔

۱ ۔ حجة الاسلام و المسلمین مرحوم آقائی حاج سید اسمعیل سے نقل کیا گیا ہے میں زیارت کے لئے مشرف ہوا حضرت سید الشہداء کے حرم میں زیارت میں مشغول تھا چونکہ زائرین کی دعا امام حسین کے حرم کے سرھانے مستجاب ہوتی ہے وہاں میں نے خدا سے درخواست کی کہ مجھے امام زمانہ کی زیارت سے مشرف فرما مجھے ان کی زیارت نصیب فرما میں زیارت میں مشغول تھا کہ اتنے میں امام نے ظہور فرمایا اگر چہ میں نے اس وقت آخری حجت کو نہیں پہچانا لیکن میں ان سے زیادہ متاثر ہوا سلام کے بعد ان سے پوچھا آقا آپ کون ہیں انہوں نے فرمایا میں عالم میں سب سے زیادہ مظلوم ہوں میں متوجہ نہ ہوا اپنے آپ سے کہا شاید یہ نجف کے بزرگ علماء میں سے ہیں چونکہ لوگوں نے ان کی طرف توجہ نہیں دی اس لئے اپنے آپ کو عالم میں سب سے زیادہ مظلوم جانتے ہیں اتنے میں اچاک متوجہ ہوا کہ کوئی میرے پاس نہیں ہے اس وقت میں نے سمجھا کہ عالم میں سب سے زیادہ مظلوم امام زمانہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور میں ان کے حضور کی نعمت سے جلد محروم ہوا۔

۲ ۔ حجة الاسلام والمسلمین آقائی حاج سید احمد موسوی امام عصر کے عاشقان میں سے تھے وہ حجة الاسلام و المسلمین مرحوم آقائے شیخ محمد جعفر جوادی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ عالم کشف میں یا عالم شھود میں حضرت حجة کی خدمت میں مشرف ہوئے ان کو زیادہ غمگین دیکھتے ہیں حضرت سے احوال پرسی کرتے ہیں حضرت فرماتے ہیں میرا دل خون ہے میرا دل خون ہے۔

۳ ۔ حضرت امام حسین نے عالم مکاشفہ میں قسم کے علماء میں سے ایک سے فرمایا ہمارے مہدی اپنے زمانے میں مظلوم میں حضرت مہدی کے بارے میں گفتگو کریں اور لکھیں جو بھی اس معصوم کی شخصیت کے بارے میں کہیں گویا تمام معصومین کے لئے کہا ہے چونکہ تمام معصومین عصمت ولایت اور امامت میں ایک ہیں چونکہ زمانہ حضرت مہدی(علیہ السلام ) کا زمانہ ہے اس لئے سزاوار ہے اس کے بارے میں کچھ مطالب کہے جائیں آخر میں فرمایا پھر تاکید کرتاہوں ہمارے مہدی کے بارے میں زیادہ گفتگو کریں اور لکھیں کہ ہمارا مہدی مظلوم ہے زیادہ سے زیادہ امام مہدی کے بارے میں لکھنا اور کہنا چاہیئے۔