''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں 75%

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 70

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 70 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33890 / ڈاؤنلوڈ: 4548
سائز سائز سائز
''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

مؤلف:
اردو

۱

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

حضرت محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

مصنف: سید غافر حسن رضوی چھولسی "ھندی"

ماخذ:شیعہ نیٹ

۲

حرف آغاز

ہمارا موضوع، اخلاق وسیرت حضرت ختمی مرتبت (ص) ہے یعنی ہم حضور سرورکائنات (ص) کی سیرت پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں لیکن دل ودماغ حیران وپریشان ہیں کہ آخر اس شخصیت کی سیرت پر روشنی کس طرح ڈالیں، جوخود آفتاب ہوبلکہ جس کی ڈیوڑھی پر آفتاب بھی سجدہ کرتا ہو، ماہتاب اس کے اشاروں پر چلتا ہو، ہماری گنہگار زبان یا ہمارا نا قص قلم، اس عقل کامل کی مدح وثنا کس طرح کرے، جس کی تعریف میں کل ایمان، امیر کائنات علی ابن ابی طالب ٭ رطب اللسان ہیں، جس کی تعریف سے قرآن کریم مملو ہے،جس کی تعریف خدا وند عالم کرتا نظر آتا ہے،جس کو خدا وند عالم نے آسمانوں کی سیر کرائی اور براق جیسی سواری کے ذریعہ ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا اور قرآن کریم اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتا ہے( سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ ) (۱)

یعنی پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو سیر کرائی راتوں رات، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ۔

وہ پیغمبر کہ جو محبت و الفت کا ایک جہان ہے اور کہیں تو اتنی زیادہ محبت کا اظہار کیا کہ انسانی عقل سوچنے پر مجبور ہو گئی ایک مرتبہ آپ (ص) وضو فرمارہے ہیں ،آپ (ص)کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے کہ جوپیاس کی شدت سے زبان نکالے ہوئے ہے حضور (ص) نے وضو چھوڑ کر وہ پانی بلی کے سامنے رکھہ دیا تاکہ وہ اس پانی کے ذریعہ اپنی پیاس بجھا سکے۔

____________________

(۱)سورۂ اسراء/۱

۳

حضور (ص) دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ سے بھی زیادہ مستحکم ومضبوط تھے اور دوست کے ساتھ پانی سے بھی زیادہ نرم ورواں ،اپنے ذاتی حق کے متعلق، اپنے جانی دشمن کو بھی معاف کردیتے تھے اور جب انصاف وقانون کی بات آتی ہے تو فرماتے ہیں ''خدا کی قسم اگر میری پارۂ جگر ''فاطمہ زہرا '' بھی یہ کام انجام دیتی تو میں اسے بھی وہی سزا دیتا جو معبود نے مقرر فرمائی ہے۔

جس زمانہ میں ایسا نفسا نفسی کا عالم تھا کہ ایک شخص کے قتل ہوجانے پر پورا قبیلہ انتقام کے لئے قیام کرتا تھا اور نہ جانے کتنے بے گناہ انسانوں کو جان سے ہاتھہ دھونا پڑتا تھااور بے رحمی اس درجہ تک پہونچ چکی تھی کہ معصوم بچوں پر بھی رحم نہیں کیا جاتا تھا، ایسے دورمیں حضور (ص) فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے حیوان کو اذیت دے گا (چاہے وہ حج کے راستے میں ہو) وہ عادل نہیں ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں ہے چونکہ جو انسان حیوان کو تکلیف دیتا ہے وہ سنگدل ہوتا ہے اور سنگدل کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی(۱) یہاں ایک سوال سراٹھاتا ہے کہ آخر حضور (ص) کو کیا ضرورت تھی کہ ایسے احکام نافذ کریں؟تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ چونکہ حضور (ص) کا یہ وظیفہ تھا کہ زندہ انسانوں کے لبادہ میں مردہ مجسموں کو نعمت حیات سے مالا مال کریںاور خود خدافرماتا ہے (فأ ستجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم)(۲)

یعنی جب تمھیں اللہ ورسول حیات کی طرف دعوت دیں تو تمھارا یہ وظیفہ ہے کہ ان کی آواز پر لبیک کہو، چاہے کتنے ہی سنگدل سہی خدا ورسول کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا ورنہ زمرۂ اسلام سے خارج۔

اور دوسری جگہ خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰه ) (۳)

یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی،( ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ ) (۴)

رسول (ص) اپنی ھواوھوس سے کچھہ کلام نہیں کرتے بلکہ یہ تو وہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے۔

____________________

(۱)سیرہ پیامبر اکرم (ص): ص۱۶،۱۷

(۲)سورۂ انفال/۲۴

(۳)سورۂ نساء/۸۰

(۴)سورۂ نجم / ۳ ،۴

۴

اس رسول کی شان میں کیا کہا جائے جس کی ولادت نے دنیائے کفر کو تہ وبالاکردیا، فارسی آتشکدہ گل ہوگیا، قیصرو کسریٰ کے کنگرے ٹوٹ ٹوٹ کر گر گئے ۔

عظمت اتنی زیادہ کہ خدانے اپنا مہمان بنایا اور انکساری اس حد تک کہ غلاموں کے ساتھہ کھانا کھا رہے ہیں، کیا حضور (ص) کی عظمت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ براق جیسی سواری کے ذریعہ آسمانوں کی سیر کرائی گئی؟ اور انکساری یہ کہ...... بغیر زین کے خچر پر سواری کریں۔

آپ (ص)کی عظمت یہ ہے کہ جبرئیل امین خدا کا سلام لیکر نازل ہوتے ہیں اور انکساری اس درجہ تک کہ مکہ کے بچّوں کو سلام کرنے کا موقع نہیں دیتے، جدھر سے بھی حضور (ص) کا گذر ہوتا تھا، بچّے چھپ جاتے تھے کہ ہم حضور (ص) کو سلام کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ حضور ہمیں پہلے ہی سلام کر لیں(۱)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم: ص۱۶ تا ۱۸

۵

پہلی فصل

۱۔اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

خلق: اس کا مادہ(خ،ل،ق) ہے اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی ''خُلق '' پڑھیںتو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے(۱)

خُلق : انسان کے اس نفسانی ملکہ کو کہا جاتا ہے، جو اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان بغیر فکرو تأمل اور غورو خوض کے، خاص افعال انجام دے(یعنی نفسانی کنٹرول' Control 'کے ذریعہ بہترین کام انجام دینے کو خُلق کہا جاتا ہے(۲)

الخُلق: السجیہ، یعنی عادت و طور طریقہ(۳)

____________________

(۱)اخلاق شبر:ص۳۱

(۲)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۳)(لسان اللسان:ج۱،ص۳۶۳)

۶

الخَلق والخُلق: فی الاصل واحد کا الشَرب والشُرب لٰکن خُصَّ الخَلق باالهیأت والصور المدرکة بالبصر وخُصَّ الخُلُق بالقویٰ والسجایا المدرکة بالبصیرة (۱)

یعنی خَلق اور خُلق در اصل ایک ہی ہیں لیکن َخَلق مخصوص ہے ظاہری شکل وصورت سے اور خُلق کو مخصوص کردیا گیا باطنی اور معنوی شکل وصورت سے۔

الخلیق والخلقة: کریم الطبیعة والخلیقة والسلیقة اعنی هو باالطبیعة (۲)

نیک طبیعت و نیک خلقت(پاک طینت اور نیک طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے)

الخلیق والمختلق:حسن الخلق (۳)

یعنی ! بہترین اخلاق کو خلیق و مختلق کہتے ہیں۔

خلیق وخلیقہ و خلائق:سزاوار، خوی گر، طبیعت، خو(۴)

یعنی لائق ور اورخوش طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے۔

الخَلاق: مااکتسبه الانسان من الفضیلة بخلقه (۵)

یعنی جو کچھہ انسان، اپنے اخلاق کے ذریعہ فضیلت حاصل کرتا ہے اس کو خَلاق کہا جاتا ہے۔

____________________

(۱)مفردات راغب:ص۲۹۷

(۲)لسان العرب:ج۴،بحث خ الیٰ د

(۳)لسان اللسان:ج۱،ص۳۶۳

(۴)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴، مادہ خ،ل،ق،

(۵)مفردات راغب:ص۲۹۷

۷

خَلاق: نصیبی از خیر(۱)

یعنی خیر اور نیکی کا کچھہ حصہ ۔

خِلاق وخلوق:نوعی از بوی خوش(۲)

یعنی خوشبو اور اچھی خو، مثلاََ کہا جاتا ہے کہ فلاں انسان میں آدمیت کی خو بھی نہیں پائی جاتی، مراد یہ ہے کہ اس کی رفتارو گفتار اچھی نہیں ہے۔

۲۔ تعریف علم اخلاق

علم اخلاق وہ علم ہے جو انسان کو فضیلت اور رذیلت کی پہچان کراتا ہے(کون سا کام اچھا ہے کون سا کام برا ہے، جو انسان کو یہ سب بتائے اس علم کو علم اخلاق کہا جاتا ہے)(۳)

اخلاق: عربی گرامر کے اعتبار سے اخلاق ''افعال'' کے وزن پر ہے اور ''خُلق'' کی جمع ہے، خُلق :انسان کی نفسانی خصوصیات کو کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے خَلق ، انسان کے بدن کی صفات کو کہا جاتا ہے(۴)

اخلاق :۔ لغت کے اعتبار سے خلق کی جمع ہے جس کے معنی ہیں :طبیعت ،مروت،عادت(۵)

اخلاق: روش، شیوہ، سلوک(۶) یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے ہیں۔

پیغمبر اسلام (ص) خدا وند منان سے دعا فرماتے ہیں:''اللّهم حَسِّن خُلقی کما حَسّنت خَلقی'' (۷)

____________________

(۱،۲)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۳)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۷

(۴) آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۵)المنجدعربی اردو :ص۲۹۴

(۶)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۷) بحار الانوار:ج۹۷، ص۲۵۳

۸

یعنی پالنے والے! میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے(یعنی جس طرح میری خلقت، نیک طینت ہے اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اخلاق حسنہ قرار دے)

جب کبھی یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کا اخلاق بہت بہتر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انسان ، نفسانی اعتبار سے صفات حسنہ(بہتر صفات) کا مالک ہے۔

انسان کے تمام اعمال، نفسیاتی خصوصیات پر موقوف ہیں یعنی اگر انسان کا اخلاق اچھا اور نیک ہوگا تو اسکے اعمال بھی اچھے ہوں گے اسی لئے جب بھی کوئی انسان اچھے کام انجام دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا اخلاق بہت اچھا ہے(۱)

سیرت : لغوی اعتبار سے :عادت،طریقہ،طرز زندگی کے معنی میں ہے(۲)

سیرت:روش و طریقہ، ھیأت،(۳)

حمدت سیرتہ: او نیکو روش و خوب کردار است، کسی کہ دل پاک ونیت صاف داشتہ باشد افعال وروش او محمود و پسندیدہ می شود(۴)

یعنی سیرت کے معنی رفتار اور طور طریقے کے ہیں، بطور نمونہ ایک مثال پیش کی گئی ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ انسان اچھے کردار کا ہے اور اس کی رفتار و گفتار اچھی ہے، جس کا دل پاک ہو اور نیت صاف ہو تو اس کے افعال اور چال چلن انسان دوست ہوتے ہیں یعنی اس کے کاموں کو ہر انسان پسند کرتاہے اور اس کی تعریف کرتا ہے۔

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

(۲)المنجدعربی،اردو:ص۵۰۶

(۳)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

(۴)المنجد عربی فارسی:ج۱،ص۵۰۴

۹

دوسر ی فصل

اخلاق ،قرآن کی روشنی میں

خُلُق:( انّ هٰذا الا خُلُق الاولین ) (۱)

یعنی بے شک یہ راستہ وہی پہلے والوں کا راستہ ہے، آیۂ کریمہ میں خُلُق سے مراد راستہ لیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ ،گذرے ہوئے لوگوں کی سیرت پر چل رہے ہیں۔

خُلُق:( وانک لعلیٰ خُلُق عظیم ) (۲)

رسول اسلام (ص) سے خطاب کیا جارہا ہے کہ اے میرے حبیب! آپ خلق عظیم پر فائز ہیں، اس آیت میں خلق سے مراد ''اخلاق اور حسن سیرت'' کو لیا گیا ہے۔

خَلاق:( .........فأستمتعوا بخلاقهم فأستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بخلٰقهم .........) (۳)

منافقوں سے خطاب کرکے کہا جارہا ہے کہ تم ویسے ہی لوگ ہو جیسے تمھارے بزرگ تھے (اور راہ نفاق پر گامزن تھے بلکہ) وہ تم سے زیادہ طاقتور تھے اور ان کے پاس دولت وثروت اور اولاد بھی زیادہ تھی(لیکن) انھوں نے بے جا (ھواوھوس) میں صرف کیا اور تم بھی انھیں کی راہ پر چل دیئے، ان لوگوں نے مومنین کا مضحکہ کیا اور تم بھی مومنین کو مضحکہ کی آماجگاہ گردانتے ہو، نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا وآخرت میں ان کے اعمال برباد ہو گئے (یعنی ان کے اعمال نے انھیں نہ تو دنیا میں کوئی فائدہ پہونچایا اور نہ ہی آخرت میں) اور وہ لوگ خسارہ میں ہیں۔

____________________

(۱)سورۂ شعراء/ ۱۳۷

(۲)سورۂ قلم/۴

(۳)سورۂ توبہ/۶۹

۱۰

اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' پیروی اور اتباع کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ارشاد ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے گذشتگان کی پیروی کرتے ہوئے ہلاکت کے منھہ میں جا رہے ہیں۔

خَلاق:( .....ولقد علموا لمن اشتراه ماله فی الآخرة من خلٰق .......) (۱)

یہودیوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہو رہا ہے کہ جناب سلیمان ـ کے زمانہ میں ان لوگوں نے شیطان کی پیروی کی .........انھوں نے ان حصوں کو لے لیا کہ جو انھیں بالکل فائدہ نہیں پہونچاسکتے اور نقصان ہی نقصان ہوتا ہے درحالانکہ وہ لوگ یہ جانتے تھے کہ ایسی خریداری، آخرت میں نفع بخش ثابت نہیں ہوگی( آیۂ مذکورہ میں ''خلاق'' سے مراد فائدہ اور بھلائی ہے جو خُلق اور اخلاق کے ذیل میں آتا ہے)

خَلاق:( ......فمن الناس من یقول ربنا آتنا فی الدنیا وما له فی الآخرة من خلاق ) (۲)

...........بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ پرور دگار! ہمیں دنیا میں نیکی عطا کر لیکن یہ دعا آخرت میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکتی (اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' سے مراد وہی ہے جو خلق و اخلاق کے ذیل میں آتا ہے یعنی نیکی اور بھلائی)

خَلاق:( ان الذین یشترون بعهدالله و یمانهم ثمنا قلیلا اولٰئک لا خلاق لهم فی الآخرة .....) (۳)

وہ لوگ جو خدا وند عالم سے کئے ہوئے وعدوں کو کسی بہانے سے توڑ دیتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے.......(اس آیت میں بھی ''لفظ خلاق'' اخلاق اور حسن خُلق کے معنی میں استعمال ہوا ہے)

اگر ان تمام مشتقات اور سیرت کے تما م مشتقات کو ایک جگہ جمع کرکے غورو خوض کیا جائے تو اخلاق اور سیرت میں کوئی فرق نہیں ہے اخلاق وہی ہے جو سیرت ہے اور سیرت وہی ہے جو اخلاق ہے(عادات و اطوار ، طور طریقہ اور رفتار و گفتار کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں )

____________________

(۱)سورۂ بقرہ/۱۰۲

(۲)سورۂ بقرہ/۲۰۰

(۳)سورۂ آل عمران/۷۷

۱۱

تیسری فصل

۱ ۔علم اخلاق کی اہمیت ، احادیث کی روشنی میں

علم اخلاق ،انسان کو فضیلت ورذیلت کی شناخت کرانے کے علاوہ، اس کے اعمال و افعال کی قیمت کو بھی معین کرتا ہے چونکہ ہر عمل اور ہر کام جو انجام دیا جائے وہ فضیلت نہیں کہلاتا، اگر انجام شدہ کام فضیلت کا حامل ہے تو لائق تعریف ہے اور اگر رذیلت سے دو چار ہے تو اس کی (علم اخلاق میں ) کوئی اہمیت نہیں ہے(۱)

علم اخلاق کی اہمیت، خود اخلاق کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور اخلاق کی اہمیت کو درک کرنے کے لئے معصومین (ع) سے بہت زیادہ روایتیں منقول ہیں، چنانچہ ایک روایت میں حضرت علی ـ فرماتے ہیں:'' لو کنا لا نرجوا جنة ولا نخشیٰ نارا ولا ثوابا ولا عقابا لکان ینبغی لنا ان نطالب بمکارم الاخلاق فأنها مما تدل علیٰ سبیل النجاح'' (۲)

یعنی اگر ہمیں جنت کی امید نہ ہوتی، جہنم کا خوف نہ ہوتا، ثواب وعذاب بھی نہ ہوتا، تب بھی ہمارے لئے بہتر تھا کہ مکارم اخلاق کے خواہاںہوںچونکہ مکارم اخلاق، نجات اور کامیابی کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اگر آخرت کا وجود نہ ہوتا، صرف دنیا ہی دنیا ہوتی، تب بھی انسان کو اخلاق کی ضرورت تھی چونکہ اخلاق، دنیوی حیات کو دلپذیرو جذاب اور خوبصورت بنادیتا ہے۔

یا پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں:''انما بعثت لأتمم مکارم الاخلاق'' میں مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوںیعنی میں مکارم اخلاق کو پایۂ تکمیل تک پہونچائوں گا، میں اخلاق کا خاتمہ ہوں۔

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق: ج۱ ، ص۱۷

(۲)اخلاق درقرآن:ج۱،ص۲۲۔ مستدرک الوسائل:ج۲،ص۲۸۳

۱۲

اس روایت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دین اسلام کے اہداف ومقاصد میں سے ایک اہم مقصد، انسانوں کی اخلاقی تربیت ہے(۱)

اسی طرح حضور (ص) سے نقل ہوا ہے:'' الاسلام حسنُ الخُلق والخُلق الحَسَن نصفُ الدّین'' (۲)

یعنی اسلام، اچھے اخلاق کا نام ہے اور اچھا اخلاق، آدھا دین ہے۔

یا آپ (ص) ہی سے نقل ہوا ہے:''اکملُ المومنین ایمانا احسنهم خُلقا'' (۳)

یعنی مومنین میں سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔

ان روایتوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دین میں، اخلاق کی اہمیت کتنی زیادہ ہے؟

دنیا کے بارے میں بھی اخلاق کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، اس کے بارے میں بھی روایتیں نقل ہوئی ہیں مثلاََ حضرت علی ـ فرماتے ہیں:''من حسُنَت خلیقَتُه طابت عِشرَتُه''

یعنی جس کا اخلاق اچھا ہوگا ، اس کی زندگی خوشگوار ہوگی، اخلاق کی اتنی زیادہ تاکید بتا رہی ہے کہ انسان کو اخلاق کی بہت زیادہ ضرورت ہے اگر انسان اخلاق سے بے نیاز ہوتا تواخلاق کو انبیا ء (ع) کا اہم مقصدکبھی بھی قرار نہ دیا جاتا(۴)

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۲

(۲)بحار الانوار: ج ۷۱، ص۳۸۵

(۳)بحار الانوار: ج ۱ ۷ ،ص ۳ ۷ ۳

(۴)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۳

۱۳

۲ ۔علم اخلاق کا ہدف اور فائدہ

علم اخلاق کا ہدف اور مقصد، انسانی حیات کا انتہائی مقصد ہے اور وہ ہے انسان کو کمال تک پہونچانا یعنی علم اخلاق انسان کو کمال کی منزلیں طے کراتا ہے اور اسے انتہائی با کمال بنا دیتا ہے اور اسے اتنا بلند کردیتا ہے کہ طائر فکر، پرواز سے قاصر ہے، شاعر اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تدبیر سے پہلے

خدابندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یعنی انسان اخلاق کی منزل معراج پر پہونچ کر اس درجہ تک پہونچ جائے کہ اس سے خدا وند عالم ہمکلام ہوجائے۔

اور علم اخلاق کا فائدہ، جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے کہ علم اخلاق انسان کو فضائل و رذائل کی شناخت کراتا ہے(۱)

____________________

(۱)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۲۳،۲۴

۱۴

چوتھی فصل

اخلاق کی قسمیں

اخلاق کی دو قسمیں ہیں ۱: فضیلت (اچھا اخلاق) ۲: رذیلت ( برا اخلاق )جو زبان عربی میں اخلاق الحسنة اور اخلاق السیئةسے معروف ہیں(۱)

اچھا اخلاق انسان کو منزل معراج تک پہونچا دیتاہے اور برا اخلاق انسان کو اتنا پست کر دیتا ہے کہ وہ معاشرہ میں خجالت کے پیش نظر سر نگوں ہوکر رہ جاتا ہے، اس کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جن لوگوں کے ساتھ برے اخلاق سے پیش آیا ہے ان کے سامنے سر اٹھاکر زندگی گذارے ،البتہ یہ بات صاحب درک و فہم سے متعلق ہے اور اس کا تعلق اس شخص سے ہے جس کے ضمیر میں زندگی کی ذرہ برابر بھی رمق باقی ہے ،جس کا ضمیر ہی مردہ ہو چکا ہو وہ کیا محسوس کرے گا ؟

دوسرے مرحلہ میں اخلاق کی پھر دو قسمیں ہیں [ ۱ ] اپنے نفس کے ساتھہ اخلاق [ ۲ ] دوسروں کے ساتھہ اخلاق۔

دوسروں کے ساتھہ اخلاق کی بہت زیادہ قسمیں ہو سکتی ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے چند اقسام کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

۱۔خدا کے ساتھہ اخلاق ۲۔اہل خانہ کے ساتھہ اخلاق

۳۔پڑوسیوں کے ساتھہ اخلاق ۴۔دوستوں کے ساتھہ اخلاق

۵۔دشمنوں کے ساتھہ اخلاق ۶۔اعزا ء و اقارب کے ساتھہ اخلاق

۷۔خادموں ،نوکروں اور غلاموں کے ساتھہ اخلاق ۸۔اجنبی کے ساتھہ اخلاق

اب یہ انسان کے اوپر منحصر ہے کہ کس کے ساتھ کس اخلاق سے پیش آتا ہے ،یہ اس کی عقل کا امتحان ہے کہ وہ اس کی کیسی رہنمائی کرتی ہے اس کو منزل کمال تک پہونچاتی ہے یا قعر مضلت میں ڈھکیل دیتی ہے ۔

____________________

(۱)اخلاق شبر:ص۳۱۔ آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج۱،ص۱۵

۱۵

اگر انسان کا ذہن عاجز ہو جائے کہ کس کے ساتھ کس اخلاق سے پیش آیاجائے تو وہ پھر اپنے لئے نمونہ آئیڈیل [ Ideal ] تلاش کرے اور جس طرح وہ اخلاق سے پیش آتا ہے اسی طرح یہ بھی اخلاق سے پیش آئے ۔

یہ بھی انسان کے اوپر موقوف ہے کہ وہ اپنا آئیڈیل( Ideal )کس کو بنا تا ہے ؟اس معاشرہ میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں، کسی انسان کے جذبات و احساسات پر ہمارا پہرہ نہیں ہے کہ جو ہم چاہیں گے وہ وہی کام انجام دے گا یا جسے ہم چاہیں گے وہ اپنا آئیڈیل( Ideal )بنائے گا بلکہ انسان خود مختار ہے ،جس کو چاہے اپنا آئیڈیل ( Ideal ) بنائے، یہی وجہ ہے... کہ بعض لوگ فلمی ستاروں( Holly wood & Bolly wood Stars )کو اپنا آئیڈیل( Ideal )بناتے ہیں ،بعض لوگ کرکیٹروں( Cricketers )کو اپنے لئے نمونہ انتخاب کر لیتے ہیں اور بعض لوگ فوٹ بالسٹ( Foot Ballist ) کو اپنا آئیڈیل( Ideal )قرار دیتے ہیں خلاصہ یہ کہ جس کی نگاہوں کو جو بھا جاتا ہے وہ اسی کو اپنالیتا ہے لیکن.................انسان کے خود مختار ہو نے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو لاوارث اور بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے ،جس کو چاہے اپنا آئیڈیل ( Ideal )بنائے بلکہ اسے عقل وضمیرجیسے رہبروں جیسی نعمت سے مالا مال کرکے بھیجا گیا ہے ، آئیڈیل( Ideal ) کو انتخاب کر نے سے پہلے یہ سوچ لے کہ آیا عقل بھی اس آئیڈیل( Ideal )کو قبول کرتی ہے؟ میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر انسان عقل کی موافقت میں آئیڈیل( Ideal )کا انتخاب کرے گا تو کبھی بھی دام فریبی میں گرفتارنہیںہو سکتا بلکہ اپنی کشتی حیات کو بخوبی کنارے لگا سکتا ہے۔

خدا وند عالم کی آواز آئی اے انسان تو اپنے لئے نمونہ اور آئیڈیل( Ideal ) کی تلاش میں ہے تو پریشان کیوں ہو تا ہے گھبرا نے کی کیا بات ہے؟ہم تیرے خالق ہیں ،ہم بتائیں گے کہ تیرا آئیڈیل( Ideal )کیسا ہونا چاہیئے ؟

( لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة ) (۱)

بے شک (میرے حبیب )محمد مصطفیٰ (ص) میں تمھارے لئے نمونہ موجود ہے یعنی اگر تمھیں نمونہ چاہیئے تو میرے حبیب کو دیکھو، اس کی پیروی کرو، خود بخود راہ راست پر گامزن ہو جائوگے چونکہ میرا حبیب آئینۂ اخلاق ہے۔

رسول اسلام (ص)انسان کے لئے ہر کام میں بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں، انسان جو کام کرنا چاہے حضرت (ص)کو اپنا آئیڈیل بنائے،دیگر امور سے چشم پوشی کرتے ہوئے اخلاق نبوی پر نظر کرتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہاحزاب ۲۱

۱۶

رسول اسلام (ص) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد رب العزت ہو رہا ہے:( انک لعلیٰ خلق عظیم ) (۱)

اے میرے حبیب تم اخلاق عظیم پر فائز ہو ،آخر خدا وند عالم نے رسول اسلام (ص) میں کونسی ایسی صفت دیکھی کہ خلق عظیم جیسی عظیم سند سے نوازا؟

چونکہ اخلاق کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جو حضور (ص) کی ذات میں نہ پایا جائے آئیئے تاریخ پر نظر کرتے ہیں کہ حضور (ص) کا اخلاق کیسا تھا اور آپ (ص) کی سیرت کیا تھی؟

روایتیں گواہ ہیں کہ آپ (ص) پورے وقار و متانت کے ساتھ راستہ چلتے تھے ،آپ (ص) کی نظریں ہمیشہ جھکی رہتی تھیں ،ہمیشہ سلام میں سبقت کیا کرتے تھے ،ہمیشہ خدا کی مخلوقات میں غوروفکر کرتے رہتے تھے ،بغیر ضرورت کے کلام نہیں کرتے تھے ،کسی کو حقیر نہیں سمجھتے تھے ، کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے،اگر زیادہ خوشی کا اظہار فرماتے تھے تو صرف لبوں پر تبسم آتا تھا ،آواز بلند نہیں ہوتی تھی(۲)

اخلاق کے اس درجہ پر فائز تھے کہ ہمیشہ سر جھکاکر چلتے تھے کبھی بھی آپ کو سر اٹھاکر چلتے نہیں دیکھا گیا ۔

____________________

(۱)سورہ قلم/۴

(۲)احسن المقال :ج۱، ص۲۷

۱۷

پانچویں فصل

حضور اکرم (ص) کی بعثت کا مقصد

جس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اور قرآن کریم اس کی حکایت اس طرح کرتا ہے( کان الناس امة واحدة فبعث اللّٰه النبیین مبشرین و منذرین ) (۱)

پہلے تمام لوگ ایک ہی گروہ کی شکل میں تھے(کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد میں اختلاف پیدا ہوا تو )خدا وند عالم نے انبیاء (ع) کو مبعوث کیا تاکہ وہ (جنت کی) بشارت دیں اور(عذاب الٰہی و جہنم) سے ڈرائیں۔

اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ (ص) کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ''اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت'' جیسا کہ ارشاد رب العزت ہورہا ہے:( لقد من الله علیٰ المومنین اذ بعث فیهم رسولا من انفسهم یتلوا علیهم آیٰته ویزکیهم و یعلمهم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۲)

یعنی بے شک خدا وند عالم نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان کے لئے انھیں میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں آیات قرآنی سنائے اور ان کے نفوس کو پاک کرے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اگر چہ پہلے وہ لوگ ضلالت و گمراہی میں تھے(ضلالت وگمراہی سے نکالنے کے لئے نبی کو مبعوث کیا)

یا اسی مفہوم کی دوسری آیت صرف تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے:( هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم یتلوا علیهم آیٰته و یزکیهم ویعلمهم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ) (۳)

____________________

(۱)سورہ بقرہ/ ۲۱۳

(۲)سورۂ آل عمران/۱۶۴

(۳)سورۂ جمعہ/۲

۱۸

یعنی وہ(خدا)وہی ہے جس نے امیین میں ایک رسول کو خود انھیں میں سے مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں قرآنی آیات پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ نفس کرے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اگر چہ وہ پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

ان آیتوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء (ع) کی بعثت کا مقصد ''لوگوں کوگمراہیوں سے نجات دینا اوران کی بہترین تربیت '' ہے۔

تعلیم بھی، تزکیہ بھی، اخلاق و تربیت بھی ،آخری دو آیتیں ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے مخصوص ہیں جن میں آشکار طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ (ص) کی بعثت کا مقصد اور ہدف کیا ہے۔

حضور (ص) کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ''ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے''

جناب آدم ـ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت (ص) تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔

حضور (ص) کے لئے تو صراحت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوا ہے( لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة ) (۱)

مقصدیہ ہے کہ اے انسان اگر ہم نے صراط مستقیم کی دعوت دی ہے تو تجھے تنہا اور بے مونس ومددگار کسی چوراہے پر نہیں چھوڑا ہے کہ تو پریشان اور حیران وسرگردان پھرتا رہے بلکہ ہم نے تیرے لئے نمونہ اور اسوہ( Ideal ) بھی بھیجا ہے ''بے شک تمہارے لئے میرے حبیب میں نمونہ( Ideal ) موجود ہے '' یعنی تم جو کام بھی کرنا چاہتے ہو تو رسول (ص) کو دیکھ کر انجام دو، جس طرح میرا رسول (ص) انجام دے رہا ہے اسی طرح تم بھی انجام دو، میرا رسول (ص) تمہارے لئے بہترین مجسّم نمونۂ عمل ہے، اس کے اعمال کو دیکھو ،اس کے اقوال کو دیکھو، اس کی معاشرت کو دیکھو، اس کے کردار کو دیکھو، اس کی رفتار کو دیکھو، اسکی گفتار کو دیکھو....اور... اسے دیکھ کر اعمال بجا لاتے رہو، ہر چیز میں، ہر کام میں اس کی پیروی کرو، صراط مستقیم مل جا ئے گی۔

____________________

(۱)سورۂ احزاب/۲۱

۱۹

اور جب انسان اس منزل پر پہونچ جا ئے گاکہ اس کا ہر عمل، رسول اسلام (ص) کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے انجام پائے تو پھر وہ اس منزل پر آجائے گا کہ''من عرف نفسه فقد عرف ربه'' (۱)

انسان اپنے نفس کو بھی پہچان لے گااور نفس کے ساتھ ساتھ معبود حقیقی کی بھی معرفت حاصل ہو جائے گی چونکہ معبود حقیقی کی معرفت، اپنے نفس کو پہچاننے پر موقوف ہے اور انسان اپنے نفس کو اسی وقت پہچان سکتا ہے جب حضور اکرم (ص) کو اپنا نمونۂ عمل بنائے ، جب تک انسان اپنے نفس کو نہیں پہچان پائے گا، تب تک وہ ھواوھوس کا اسیر رہے گا ، نفس کا غلام بن کر رہے گا، صرف اپنی ذات سے محبت کرے گا لیکن جب وہ اپنے نفس کو پہچان لے گا اور یہ دیکھے گا کہ اس کا نفس اسے کمال و سعادت کے بجائے پستی کی جانب لے جا رہا ہے تو خود بخود نفس سے نفرت ہونے لگے گی اور جب نفس سے نفرت ہونے لگے گی تو پھر کمال وسعادت کے بارے میں غوروفکر کرے گا تا کہ اسے کمال و سعادت کی راہ مل جائے اور اس کے لئے وہ کسی نمونہ (آئیڈیل Ideal ) کی تلاش میں رہے گا اور جب نمونہ تلاش کرے گا تو اسے قرآن کریم کے مطابق ایک ہی نمونہ نظر آئے گا جوذات سرور کائنات (ص) ہے۔

جب حضور (ص) کو اپنا نمونۂ عمل بنا لے گا تو یہ بات اظھر من الشمس ہے کہ خود بخود ذات خدا وندی سے قریب ہوتا چلا جائے گا اور اس کے دل میں خدا وند عالم کی محبت کا چراغ روشن ہو جا ئے گا، جب تک انسان کے دل میں اپنے نفس کی محبت ہے، تب تک اس کا دل خدا کی الفت سے خالی ہے اور اسکے بر خلاف...اگر انسان کے دل میں خد اکی محبت جا گزیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات سے کو ئی لگائو نہیں ہے(جو بھی ہے وہ خدا کے لئے ہے، اس کا ہراٹھنے والا قدم مرضی معبود کا تابع ہوگا ،اس کی زبان کھلے گی توکھلنے سے پہلے خدا کی رضایت طلب کرے گی، ہاتھ اٹھانے سے پہلے خدا کی یاد آئے گی، نگاہ اٹھانے سے پہلے مرضی رب کے بارے میں سوچے گا اسی طرح اس کا ہر کام فی سبیل اللہ ہو گا)اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ تو اس کے دل میں لالچ ہوگا، نہ حسد ہوگا، نہ بغض وکینہ ہوگا، نہ دنیا داری ہوگی، یعنی اس کا دل تمام دنیاوی خرافات سے پاک ہوگا اور اسی کو کمال وسعادت کی منزل کہا جاتا ہے(۲)

____________________

(۱)غرر الحکم:ص۲۳۲

(۲) سیرۂ رسول اللہ از دیدگاہ امام خمینی:ص۴۱

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

مجبور ہوئے اور یوں انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا_ اس کے بعد وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ جب تک میں نے مجبور ہوکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے عمار تیری قلبی کیفیت کیسی ہے؟'' عرض کیا ''یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ میرا دل تو ایمان سے لبریز ہے''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''پس کوئی حرج نہیں بلکہ اگر وہ دوبارہ تمہیں مجبور کریں توتم پھر وہی کہو جو وہ چاہیں_ بے شک خدانے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے( الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان ) مگرجس پر جبر کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو_(۱)

تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں

۱_حضرت عمار کا قصہ اور اس کے بارے میں آیات کا نزول، جان ومال کا خوف در پیش ہونے کی صورت میں تقیہ کے جواز کی دلیل ہے_

۲_علاوہ ازیں خدا کا یہ ارشاد بھی جواز تقیہ کی دلیل ہے( ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شی الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) یعنی جو بھی ایسا کرے (یعنی کفار کو اپنا ولی بنائے) اس کاخدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں_(۳)

۳_نیز یہ آیت بھی تقیہ کو ثابت کرتی ہے( قال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله ) (۴) یعنی آل فرعون کے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا کہا: ''کیا تم ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ خدائے واحد کا اقرار کرتا ہے''_ اس آیت کو منسوخ قرار دینا غلط اور بے دلیل ہے بلکہ اس کا منسوخ نہ ہونا ثابت ہے، جیساکہ جناب

___________________

۱_ سورہ نحل، آیت ۱۰۶ ، رجوع کریں: حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۰، تفسیر طبری ج ۴ ص ۱۱۲ اور حاشیہ پر تفسیر نیشاپوری اور بہت سی دیگر کتب_

۲_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_ ۳_ تقیہ کے متعلق مزید مطالعہ کے لئے: احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۹ ، تقویة الایمان ص ۳۸ ، صحیح بخاری مطبوعہ میمنہ ج ۴ ص ۱۲۸ اور دیگر متعلقہ کتب ۴_ سورہ غافر، آیت ۲۸_

۶۱

یعقوب کلینی نے عبداللہ بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ سلیمان نے کہا:'' میں نے ابوجعفر (امام باقرعليه‌السلام ) سے سنا جبکہ آپ کے پاس عثمان اعمی نامی ایک بصری بیٹھا تھا ، جب اس نے کہا کہ حسن بصری کا قول ہے ''جو لوگ علم کو چھپاتے ہیں ان کے شکم کی ہوا سے اہل جہنم کواذیت ہوگی''_ تو آپ نے فرمایا:''اس صورت میں تو مومن آل فرعون تباہ ہوجائے گا، جب سے خدانے حضرت نوحعليه‌السلام کو مبعوث کیا علم مستور چلا آرہا ہے _حسن دائیں بائیں جس قدر چاہے پھرے خدا کی قسم علم سوائے یہاں کے کہیں اور پایا نہ جائے گا''_(۱) مذکورہ آیت سے امامعليه‌السلام کا استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے منسوخ نہ ہونے پرعلماء کا اتفاق تھا_رہی سنت نبوی تو اس سے ہم درج ذیل دلائل کا ذکر کریں گے_

سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تقیہ

۱_ جناب ابوذرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' عنقریب تمہارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو نماز کا حلیہ بگاڑدیں گے_ اگر تم ان کے زمانے میں رہے تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھتے رہو لیکن ان کے ساتھ بھی بطور نافلہ نماز پڑھ لیا کرو ...''(۲) اور اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث(۳)

۲) مسیلمہ کذاب کے پاس دو آدمی لائے گئے اس نے ایک سے کہا :''کیاتم جانتے ہو کہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہوں''_ اس نے جواب دیا: '' اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ''_مسیلمہ نے اسے قتل کردیا پھر دوسرے سے کہا تو اس نے جواب دیا:'' تم اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں اللہ کے نبی ہو ''_یہ سن کر مسلیمہ نے اسے چھوڑ دیا_ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' پہلا شخص اپنے عزم ویقین پر قائم رہا لیکن دوسرے نے اس راہ کو اختیار کیا جس کی خدا نے اجازت دی ہے پس اس پر کوئی عقاب نہیں''_(۴)

___________________

۱_ اصول کافی ص ۴۰،۴۱ (منشورات المکتبة الاسلامیة )نیز وسائل جلد ۱۸ص ۸_

۲_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۵۹_

۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۶۰، ۱۶۸_

۴_ محاضرات الادباء ، راغب اصفہانی ج ۴ص ۴۰۸اور ۴۰۹ ، احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۱۰ اور سعد السعود ص ۱۳۷_

۶۲

۳) سہمی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے روایت کی ہے''لا دین لمن لا ثقة له'' (۱) بظاہر یہاں لفظ ثقہ کی بجائے لفظ تقیہ مناسب اور درست ہے یعنی جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین نہیں رکھتا جیساکہ شیعوں کی اہل بیتعليه‌السلام سے مروی روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں(۲) _

۴) حضرت عمار یاسر کا معروف واقعہ اور حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمار سے فرمانا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی گذشتہ عمل کا تکرار کرو یہ بات احادیث وتفسیر کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور اسی مناسبت سے آیت( من کفر بالله بعد ایمانه ، الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۳) نازل ہوئی تھی_

۵) نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بذات خود تقیہ فرمانا کیونکہ آپ تین یا پانچ سالوں تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے جو سب کے نزدیک مسلمہ اور اجماعی ہے اور کسی کیلئے شک کی گنجائشے نہیں اگر چہ کہ ہم نے وہاں بتایا تھا کہ حقیقت امر صرف یہی نہیں تھا_

۶) اسلام کفار کو بعض حالات میں اجازت دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا قتل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں_ واضح ہے کہ یہ بھی تقیہ کی ترغیب ہے کیونکہ اس قسم کے حالات میں قبول اسلام جان کی حفاظت کیلئے ہی ہوسکتا ہے پختہ عقیدہ کی بناپر نہیں_اسلامی معاشرے میں اس امید کے ساتھ منافقین کو رہنے کی اجازت دینا اور ان کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے مطابق سلوک کرنا کہ وہ اسلام کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان مستحکم ہوجائے گا بھی اسی طرح ہے _

۷) فتح خیبر کے موقع پر حجاج بن علاط نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا :'' مکہ میں میرا کچھ مال اور رشتہ دار ہیں اور میں انہیں وہاں سے لے آنا چاہتا ہوں _ پس اگر مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہنا بھی پڑا تو کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت ہوگی؟'' تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اجازت دے دی کہ جو کچھ کہے کہہ سکتا ہے(۴)

___________________

۱_ تاریخ جرجان ص ۲۰۱ _

۲_ ملاحظہ ہو : کافی (اصول) ج۲ ص ۲۱۷ مطبوعہ آخندی، وسائل الشیعہ ج۱۱ ص ۴۶۵اور میزان الحکمت ج۱۰ ص ۶۶۶ و ۶۶۷_

۳_ سورہ نمل آیت ۱۰۶اور ملاحظہ ہو فتح الباری ج۱۲ ص ۲۷۷ و ۲۷۸_

۴_ دراسات فی الکافی و الصحیح ص ۳۳۸ از سیرہ حلبیہ_

۶۳

تاریخ سے مثالیں

۱) ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا: ''کیا میں حکام کو زکوة دوں''؟ ابن عمر نے کہا : ''اسے فقراء اورمساکین کے حوالے کرو'' راوی کہتا ہے کہ پس حسن نے مجھ سے کہا : ''کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ جب ابن عمر خوف محسوس نہیں کرتا، تو کہتا ہے زکوة فقیروں اور مسکینوں کو دو''_(۱)

۲) علماء نے دعوی کیا ہے کہ انس بن مالک نے رکوع سے قبل قنوت والی حدیث کو اپنے زمانے کے بعض حکام سے تقیہ کی بناپر روایت کیا ہے(۲)

۳) عباس بن حسن نے اپنے محرروں اور خاص ندیموں سے مکتفی کے مرنے کے بعد خلافت کے اہل آدمی کے متعلق مشورہ لیا تو ابن فرات نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ہر کسی سے علیحدگی میں مشورہ کرے تا کہ اس کی صحیح رائے معلوم ہوسکے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں ہوسکتا ہے تقیہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے پیش نہ کرسکا ہو اور دوسروں کا ساتھ دیا ہو اس بات پر اس نے کہا : ''سچ کہتے ہو'' _ پھر اس نے ویسا ہی کیا جیسا ابن فرات نے کہا تھا(۳)

۴) بیعت عقبہ میں جناب رسول خدا اور جناب حمزہ نے تقیہ فرمایا تھا جس کے متعلق روایتیں علیحدہ فصل میں بیان ہوں گی_

۵) ایوب سے مروی ہے کہ میں جب بھی حسن سے زکوة کے بارے میں سوال کرتاتو کبھی وہ یہ کہتا حکام کو دے دو اور کبھی کہتا ان کو نہ دو_ مگر یہ کہا جائے کہ حسن کی جانب سے یہ تردید اس بارے میں شرعی مسئلہ کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے تھی(۴)

۶) محمد بن حنفیہ کے ایک خطبے میں یوں بیان ہوا ہے، امت سے جدا نہ ہونا ان لوگوں (بنی امیہ) سے تقیہ کے ذریعے سے بچتے رہو ، اور ان سے جنگ نہ کرو،راوی نے کہا :''ان سے تقیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟'' کہا :''جب وہ بلائیں تو ان کے پاس حاضری دینا_یوں خدا تجھ سے نیز تیرے خون اور تیرے دین سے ان

___________________

۱_ المصنف عبدالرزاق ج ۴ص ۴۸ _

۲_ ملاحظہ ہو : المحلی ج۴ ص ۱۴۱_ ۳_ الوزراء صابی ص ۱۳۰_

۴_ مصدر سابق_

۶۴

کے شر کو دور رکھے گا اور تجھے خدا کے مال سے حصہ بھی ملے گا جس کے تم زیادہ حقدار ہو ''_(۱)

۷) مالک سے محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ خروج کرنے کے بارے میں سوال ہوا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ابوجعفر المنصور کی بیعت بھی کررکھی ہے مالک نے کہا :'' تم نے مجبوراً بیعت کی تھی اور جسے مجبور کیا جائے اسکی قسم (بیعت) کی کوئی حیثیت نہیں''(۲)

۸) قرطبی نے شافعی اور کوفیوں سے نقل کیا ہے کہ قتل کا خطرہ ہونے کی صورت میں تقیہ جائزہے_ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے_(۳)

۹) حذیفہ کی روایت ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں تھے_ انہوں نے فرمایا: '' مجھے گن کربتاؤ اسلام کے کتنے ارکان ہیں؟'' حذیفہ کا کہنا ہے کہ ہم نے عرض کیا :'' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہماری طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہے؟ جبکہ ہم ابھی بھی چھ سوسے سات سو کے درمیان ہیں'' تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' تمہیں کیا خبر کل کلاں تم آزمائشے میں مبتلا ہوجاؤ'' حذیفہ کہتا ہے کہ بعد میں ہم ایسی سخت آزمائشے میں مبتلا ہوئے کہ حتی کہ ہم میں سے ہر کوئی چھپ کر نماز پڑھتا تھا_(۴) یہی حذیفہ حضرت علیعليه‌السلام کی بیعت کے صرف چالیس دن بعد فوت ہوا اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس بیعت سے قبل پچھلے دور میں مؤمنین سخت دباؤ کا شکار تھے_ جو لوگ شرعی حکومت پر قابض تھے وہ دین اور دینداروں کے خلاف اپنے دل میں پرانا کینہ رکھتے تھے اور جس چیز کا تھوڑا سا تعلق بھی دین کے ساتھ ہوتا تھا اس کا مذاق اڑایا کرتے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرتے تھے_

۱۰) تمام اہل حدیث اور ان کے بڑے بڑے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے قرآن کے مخلوق ہونے کی تصدیق کی حالانکہ وہ اس کے قدیم ہونے کے قائل تھے فقط امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے انکار کیا(۵) بلکہ امام احمد نے بھی تقیہ کیا چنانچہ جب وہ پھندے کے پاس پہنچا تو کہا : ''میں کوئی بات زبان پر نہ

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۵ص ۷۰ _ ۲_ مقاتل الطالبین ص ۲۸۳نیز طبری ج ۳ص ۲۰۰ مطبوعہ یورپ_

۳_ تفسیر قرطبی ج ۱۰ص ۱۸۱ _ ۴_ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۱ _ صحیح بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ج ۲ ص ۱۱۶و مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۴_

۵_ تجارب الامم مطبوعہ ہمراہ العیون و الحدائق ص ۴۶۵ _

۶۵

لاؤںگا'' نیز جب حاکم وقت نے اس سے کہا:'' قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہو'' تو جواب دیا: '' قرآن کلام الہی ہے'' پوچھا گیا ''کیا قرآن مخلوق ہے''؟ جواب دیا: ''میں بس اتنا کہتا ہوں کہ اللہ کا کلام ہے''_(۱) بلکہ یعقوبی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب امام احمد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بولے : '' میں ایک انسان ہوں جس نے کچھ علم حاصل تو کیا ہے لیکن اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے '' _اس مناظرے اور چند کوڑے کھانے کے بعد اسحق بن ابراہیم مناظرے کے لئے دوبارہ آیا اور اس سے کہا : '' اب کچھ باقی رہ گیا ہے جسے تو نہ جانتاہو؟''کہا : '' ہاں باقی ہے'' _ کہا : ' ' پس یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں تو نہیں جانتا_ حالانکہ امیر المؤمنین (حاکم وقت) نے تجھے اچھی طرح سکھا دیا ہے '' _ کہا : '' پھر میں بھی امیرالمؤمنین کے فرمان کا قائل ہوگیا ہوں '' پوچھا: '' قرآ ن کے مخلوق ہونے کے متعلق ؟'' کہا : '' جی ہاں خلق قرآن کے متعلق '' کہا : ''پھر یا د رکھنا'' پھر اسے آزاد کرکے گھر کو جانے دیا(۲) _

حالانکہ امام احمد خودکہتے ہیں کہ جو فقط یہ کہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور مزید کچھ نہ کہے تو وہ واقفی اور ملعون ہے_(۳)

خوارج کے مقابلے میں ابن زبیر نے بھی تقیہ سے کام لیا(۴) اسی طرح شعبی اور مطرف بن عبداللہ نے حجاج سے تقیہ کیا اور عرباض بن ساریہ اور مؤمن الطاق نے بھی خوارج سے اور صعصعہ بن صوحان نے معاویہ سے تقیہ کیا(۵)

خلق قرآن کے مسئلے میں اسماعیل بن حماد اور ابن مدینی نے بھی تقیہ کیا، ابن مدینی قاضی ابو داؤد معتزلی کی مجلس میں حاضر رہتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھتا تھا_ نیز احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب کی حمایت کرتا تھا_(۶)

۱۱_ مدینہ پر بسربن ابی ارطاة کے غارتگرانہ حملہ کے موقع پر جابربن عبداللہ انصاری نے ام المومنین

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۷ص ۲۰۱نیز آثار جاحظ ص ۲۷۴و مذکرات الرمانی ص ۴۷_

۲_ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۴۷۲_ ۳_ بحوث مع اھل السنة و السلفیہ ص ۱۲۲،۱۲۳ از الرد علی الجھمیة (ابن حنبل) در کتاب الدومی ص۲۸ _

۴_ ملاحظہ ہو العقد الفرید ابن عبدربہ ج۲ ص ۳۹۳_ ۵_ العقد الفرید ج ۲ ص ۴۶۴ و ص ۴۶۵ اور ملاحظہ ہو : بہج الصباغہ ج ۷ ص ۱۲۱_

۶_ رجوع کریں لسان المیزان ج ۱ص ۳۳۹اور ۴۰۰متن اور حاشیہ ملاحظہ ہو_

۶۶

حضرت ام سلمہ کی خدمت میں شکایت کی :'' مجھے قتل ہونے کا خوف ہے اور یہ بیعت ایک گمراہ شخص کی بیعت ہے اس موقع پر میں کیا کروں''؟ تو انہوں نے فرمایا : '' اس صورت میں تم اس کی بیعت کرلو کیونکہ اصحاب کہف کو بھی اسی تقیہ نے صلیب پہننے اور دوسرے شہریوں کے ساتھ عید کی محفلوں میں شریک ہونے پر مجبور کردیا تھا''(۱)

۱۲_ حضرت امام حسنعليه‌السلام کے مسموم ہونے کے بعد جب اہل کوفہ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام سے معاویہ کے خلاف قیام کرنے کا مطالبہ کیا تو آپعليه‌السلام نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا_ البتہ اس معاملے میں آپ کے اور بھی اہداف تھے جو معاویہ کے خلاف پوری زندگی قیام نہ کرنے کے اپنے شہید بھائی کے موقف کے ہماہنگ تھے_ اس بارے میں ملاحظہ فرمائیں اخبار الطوال ص ۲۲۰تا۲۲۲_

۱۳_ حسن بصری کا قول ہے کہ تقیہ روز قیامت تک ہے_(۲)

۱۴_ بخاری کا کہنا ہے:'' جب کسی آدی کو اپنے ساتھی کے قتل و غیرہ کا ڈر ہو اور اس کے متعلق یہ قسم کھائے کہ یہ میرا بھائی ہے _ تو اس پر کوئی بھی حد یا قصاص و غیرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ظالم کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہا ہو تا ہے_ ظالم شخص اسے چھوڑکر قسم کھانے والے کے ساتھ جھگڑتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں کہتا_ اسی طرح اگر اس سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم شراب پیو ، مردار کھاؤ ، اپنا غلام بیچو، قرض کا اقرار کرو یا کوئی چیز تحفہ دویا کوئی معاملہ ختم کردو و گر نہ تمہارے باپ یا تمہارے مسلمان بھائی کو قتل کردیں گے تو اسے ان چیزوں کے ارتکاب کی اجازت ہے ...'' یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :'' نخعی کا قول ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہے تو قسم اٹھانے والے کی نیت پر منحصر ہے اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہے تو پھر اس کی نیت پر منحصر ہوگا ''(۳)

۱۵_ یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ کا حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق عیب جوئی کے بارے میں یہ دعوی ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرتا تھا کیونکہ صعصعہ سے کہتا ہے:'' یہ بادشاہ ہمارے سروں پر مسلط ہوچکا ہے اور ہمیں لوگوں کے سامنے آپعليه‌السلام کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں بھی اکثر اوقات اس کی پیروی کرتے ہوئے ان لوگوں

___________________

۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹۸_ ۲) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ مطبوعہ المیمنیہ_

۳) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ ، صحیح بخاری کی '' کتاب الاکراہ'' کا مطالعہ بہت مفید ہوگا کیونکہ اس میں تقیہ کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں_

۶۷

کے شر سے دور رہنے کے لئے بطور تقیہ ایسی بات کہنی پڑتی ہے _ اگر تم حضرتعليه‌السلام کی فضیلت بیان کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے ساتھیوں کے درمیان اور اپنے گھروں میں چھپ کر کرو ...''(۱)

۱۶_ ابن سلام کہتا ہے :'' رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے نماز کو وقت پر پڑھنے کا اور پھر بطور نافلہ ان حکام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا جو نماز کو تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں''(۲)

۱۷_ خدری نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق اپنے موقف میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا_ تا کہ بنی امیہ سے اس کی جان بچی رہے اور اس نے آیت( ادفع بالتی هی احسن السیئة ) سے استدلال کیا ہے(۳) اسی طرح بیاضی کی '' الصراط المستقیم'' ج ۳ ص ۲۷ تا ۷۳ میں ایسے کوئی واقعات ذکر ہوئے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں_

بہرحال اس مسئلے کی تحقیق کیلئے کافی وقت کی ضرورت ہے یہاں جتنا عرض کیا گیا ہے شاید کافی ہو_

تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت

تقیہ کا جواز اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع اور لچک دار دین ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برا ہوسکتا ہے_ اگر اسلام خشک اور غیرلچک دار ہوتا یااس میں نئے حالات وواقعات سے ہم آہنگ ہونے کی گنجائشے نہ ہوتی تو لازمی طورپر نت نئے واقعات سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا _بنابریں خدانے تقیہ کو جائز قرار دیکر مشکل اور سنگین حالات میں اپنے مشن کی حفاظت اس مشن کے پاسبان (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی حفاظت کے ذریعے کی_ اس کی بہترین مثال خفیہ تبلیغ کا وہ دور ہے جس میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب، بعثت کے ابتدائی دور سے گزرے_

جب دین کے لئے قربانی دینے کا نہ صرف کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ دین کے ایک وفادار سپاہی کو ضائع کرنے

___________________

۱_ تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۱۲_

۲_ تہذیب تاریخ دمش ج ۶ ص ۲۰۵_

۳_ سلیم بن قیس ص ۵۳ مطبوعہ مؤسسہ البعثة قم ایران_

۶۸

کی وجہ سے الٹا دین کا نقصان بھی ہو تو تب دین اسلام کے پاسبانوں کی حفاظت کے لئے دین میں لچک کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے _ یوں بہت سے موقعوں پر اسلام کی حفاظت اس کے ان وفادار اور نیک سپاہیوں کی حفاظت کے زیر سایہ ہوتی ہے جوبوقت ضرورت اس کی راہ میں قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیں پس تقیہ کا اصول انہی لوگوں کی حفاظت کیلئے وضع ہوا ہے_

رہے دوسرے لوگ جنہیں اپنے سواکسی چیزکی فکر ہی نہیں ہوتی تو، تقیہ کے قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی ان کیلئے مساوی ہے تقیہ اسلام کے محافظین کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ اس طریقے سے خود اسلام کی حفاظت ہوسکے تقیہ نفاق یا شکست کا نام نہیں کیونکہ اسلام کے یہ محافظین تو ہمیشہ قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیںاور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ کے دورمیں خاموش رہنے والے حسینعليه‌السلام وہی حسینعليه‌السلام تھے جنہوں نے یزید کے خلاف اس نعرے کے ساتھ قیام کیا:

ان کان دین محمد لم یستقم

الا بقتلی فیا سیوف خذینی

یعنی اگر دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلاح میرے خون کے بغیر نہیں ہوسکتی ، تو اے تلوارو آؤ اور مجھے چھلنی کر دو_

پس جس طرح یہاں ان کا قیام دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھا بالکل اسی طرح وہاں ان کی خاموشی بھی فقط دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھی_ اس نکتے کے بارے میں ہم نے حلف الفضول کے واقعے میں گفتگو کی ہے_

یوں واضح ہوا کہ جب حق کی حفاظت کیلئے قربانی کی ضرورت ہوتو اسلام اس کو لازم قراردیتا ہے اوراس سے پہلوتہی کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتتا_

علاوہ برایں اگر اسلام کے قوانین خشک اورغیر لچک دار ہوں توبہت سے لوگ اس کو خیر باد کہہ دیں گے بلکہ اس کی طرف بالکل رخ ہی نہیں کریں گے_ وحشی وغیرہ کے قبول اسلام کے بارے میں ہم بیان کریں گے کہ بعض لوگ اسلئے مسلمان ہوتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل نہیں کرتے _

بنابریں واضح ہے کہ اسلام کے اندر موجود اس نرمی اور لچک کی یہتوجیہ صحیح نہیں ہے کہ یہ قانون دین میں

۶۹

دی گئی ایک سہولت ہے تاکہ بعض لوگوں کیلئے قبول اسلام کوآسان بنایاجاسکے بلکہ اسے تو اسلام ومسلمین کی حفاظت کا باعث سمجھنا چاہئے بشرطیکہ اس سے اسلام کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو بلکہ ترک تقیہ کی صورت میں قوت اور وسائل کابے جا ضیاع ہوتا ہو اور یہی امر تقیہ اور نفاق کے درمیان فرق کا معیار ہے لیکن بعض لوگ تقیہ کو جائز سمجھنے والوں پر نفاق جیسے ناجائزاور ظالمانہ الزام لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں_

ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس قبیلہ ثقیف کے افراد آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ کچھ مدت کیلئے ان کو بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے نیز ان پر نماز فرض نہ کی جائے (کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گراں سمجھتے تھے) اس کے علاوہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے کا حکم نہ دیاجائے تو اسی معیار کی بناپریہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضورنے آخری بات تو مان لی لیکن پہلی دو باتوں کو رد کردیا_(۱) اسی طرح انہوں نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ انہیں زنا، شراب سود اور ترک نماز کی اجازت دی جائے(۲) انہیں بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے رد کردیااور اس بات کا لحاظ نہ کیا کہ یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اسلام کو تقویت ملے گی اور دشمن کمزور ہوں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے سال ہا سال بتوں کی پوجا کی تھی مزید ایک سال تک بت پرستی کی مہلت کیوں نہ دی؟ جس کے نتیجے میں وہ اسلام سے آشنا اور قریب ترہوجاتے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کا مطالبہ ٹھکرادیا حتی کہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ نے ان کو اس بات کی اجازت نہ دی، کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر جائز وناجائز وسیلے سے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قائل نہ تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وسیلے کو بھی ہدف کاایک حصہ سمجھتے تھے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں_

___________________

۱_ یہاں سے پتہ چلا کہ ''جبلہ ابن ایھم'' سے قصاص لینے پر اصرار میں عمر کی پالیسی کامیاب نہ تھی_ کیونکہ وہ تازہ مسلمان ہوا تھا اور اپنی قوم کا حاکم تھا_ اس نے ابھی اسلام کی عظمت اور ممتاز خوبیوں کو نہیں سمجھا تھا_ حضرت عمر کو چاہئے تھا کہ وہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلے کو کسی آسان تر طریقے سے حل کرتے_

۲_ سیرہ نبویہ دحلان ( حاشیہ سیرہ حلبیہ پر مطبوع) ج۳ ص ۱۱ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۲۳۶ ، تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵ تا ۱۳۷ اور ترک نماز کے متعلق ملاحظہ ہو : الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۲۸۴ ، اسی طرح سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۴ ص ۱۸۵ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۴ ص ۵۶ اور البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۳۰_

۷۰