''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں 75%

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 70

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 70 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33893 / ڈاؤنلوڈ: 4548
سائز سائز سائز
''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

چھٹی فصل

۱۔ رسول اسلام (ص) کا خداوندعالم کے ساتھ اخلاق

اخلاق کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آقا و مولا کی یاد میں غرق رہے ،کبھی بھی اپنے آقا کو فراموشی کی نذر نہ ہونے دے ،چاہے زبان سے یاد کرے یا دل سے ،بہر حال اس کی یاد میں رہے،حضرت ختمی مرتبت (ص) نے ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اپنے آقا و مولا کو کس طرح یاد کیا جائے ،آپ (ص) کی توجہ ہر وقت خدا وند عالم کی طرف رہتی تھی ہر وقت لبوں پر تسبیح و تھلیل کے زمزمے رہتے تھےوکان لایقوم ولا یجلس الا علیٰ ذکرالله (۱)

یعنی حضور (ص) کی کوئی نشست و برخاست ذکر خدا سے خالی نہیں ہو تی تھی اور اس ذکر کا اثر دوسروں پر یہ ہوتا تھا کہ ان کے لب بھی تسبیح خدا میں زمزمہ سنج ہو جاتے تھے۔

اگر ایک انسان کو ذرا اونچا عھدہ مل جاتا ہے تو وہ پھولے نہیں سماتا اور تکبرانہ انداز میں سر اٹھا کر چلتا ہے کہ میرے جیسا کون ہو سکتا ہے، لیکن رسول اسلام (ص) جو دونوں جہاں کے لئے منتخب کئے گئے تھے ان کی سادہ لوحی پر نظر کی جائے۔

۲۔ رسول اکرم (ص) کی عبادت اور نماز شب

نماز شب کی فضیلت کے پیش نظر آپ (ص) کا ارشاد گرامی ہے: ''محروم وہ شخص ہے جو نماز شب سے محروم ہے''(۲)

مطلب یہ ہے کہ جو غریب ہے اسے محروم نہیں کہتے، جس کے ماں باپ دنیا سے گذر گئے ہوں وہ محروم نہیں ہوتا، بلکہ محروم وہ شخص ہے جو نماز شب سے محروم ہو۔

____________________

(۱)بحا رالانوار:ج۱۶، ص۲۲۸

(۲) بحار الانوار: ج ۷ ۸ ،ص ۱۴۶

۲۱

ایک دوسری روایت بتاتی ہے کہ خدا وند عالم نے جناب موسیٰ ـ سے فرمایا: ''وہ انسان جھوٹ بولتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے رات میں گفتگو کر نے کے بجائے بستر خواب کی جانب چلا جاتا ہے''(۱) یا ایک جگہ کشاف الحقائق مصحف نا طق حضرت امام جعفرصادق علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:''لیس من شیعتنا من لم یصل صلاة اللیل'' (۲)

یعنی آگاہ ہوجائو کہ جو انسان نماز شب بجا نہ لاتا ہو وہ( شیعہ ہوتے ہوئے بھی) ہمارا شیعہ نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو شیعہ نمازشب بجا نہ لاتا ہو وہ برائے نام شیعہ ہے امام ـ کے نزدیک شیعہ وہی ہے جو نماز شب کو پابندی کے ساتھ بجا لاتا ہو۔

واقعاَ یہ روایت تو انتہائی تاکید کے ساتھ بیان ہوئی ہے یہاں تک کہ امام ـ اس انسان کو اپنا شیعہ کہنا پسند نہیں فرمارہے ہیں جو نماز شب بجا نہ لاتا ہو۔ نماز شب کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے خود سرکار رسالت (ص) نے بھی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے آئیئے اب اس پہلو کو حضرت (ص) کی ذات والا صفات میں دیکھتے ہیں۔

جب آپ (ص) محراب عبادت میں آئے تو تواضع وانکساری کے ساتھ اتنی زیادہ عبادت بجا لائے کہ پیروں پر ورم آگیا اور خدا کو کہنا پڑا( یا ایها المزمل قم الیل الا قلیلا ) (۳)

یعنی اے میرے رسول! آپ راتوں کو (میری عبادت میں) کھڑے ہوکر بسر کیجئے لیکن تھوڑا کم، ہم نے عبادت اس لئے واجب قرار نہیں دی کہ آپ خود کو زحمت میں ڈالیں۔ رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد آنحضرت (ص) بستر مبارک سے اٹھتے تھے، مسواک کرتے تھے، وضو فرماتے تھے، قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے اور ایک گوشہ میں بیٹھ کر اتنا زیادہ گریہ فرماتے تھے کہ ریش مبارک اشکوں سے مملو ہوجاتی تھی، آپ (ص) کی بعض ازواج جب آپ (ص) کو اس حالت میں دیکھتی تھیں تو سوال کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ (ص)! آپ تو معصوم ہیں ، آپ نے کوئی گناہ انجام دیا ہی نہیں ہے پھر یہ رونے کا سبب کیا ہے؟ تو آپ (ص) جواب میں ارشاد فرماتے تھے ''کیا میں خدا وند عالم کا شاکر بندہ نہ بنوں؟''

____________________

(۱)اعلام الدین: ص۲۶۳

(۲)بحارالانوار:ج ۸۷،ص۱۴۱

(۳)سورۂ مزمل/۱،۲

۲۲

یعنی عصمت سے مزین ہونے کے با وجود حضور (ص) گریہ فرمارہے ہیں اور اس گریہ کو خدا کے شاکر بندوں کی پہچان بتاتے ہیں، جس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ گریہ نہ کرنا شکر کے منافی ہے اور کفر کے مترادف ہے (کیا کہا جائے ان حضرات کے بارے میں جو گریہ کرنے پر بدعت کے فتوے لگاتے ہیں؟)

جناب ام سلمیٰ فرماتی ہیں :''ایک شب، حضور (ص) میرے گھر تشریف فرماتھے، میں نے آدھی رات کے بعد آپ (ص) کے بستر مبارک کو خالی دیکھا، میں نے تلاش کرنے کے بعد دیکھا کہ آپ (ص) تاریکی میں کھڑے ہو ئے ہیں، دست مبارک عرش کی جانب بلند ہیں، چشم مبارک سے اشکوں کی برسات ہو رہی ہے اور دعا فر مارہے ہیں کہ ''پروردگار! جو نعمتیں تونے مجھے عطا کی ہیں انھیں مجھ سے واپس نہ لینا ، میرے دشمنوں کوخوش نہ ہونے دینا، جن بلائوں سے مجھے نجات دے چکا ہے ان میں دوبارہ گرفتار نہ کرنا، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی تنہا نہ چھوڑنا'' میں نے حضور (ص) سے کہا یا رسول اللہ (ص)! آپ تو پہلے ہی سے بخشش شدہ ہیں ، حضور (ص) نے فرمایا : '' نہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے کہ جو خدا وند عالم کا محتاج نہ ہو اور اس سے بے نیاز ہو ، حضرت یونس ـ کو خدا وند عالم نے صرف ایک لمحہ کے لئے تنہا چھوڑ دیا تھا تو آپ ـ شکم ماہی (مچھلی کے پیٹ ) میں زندانی ہو گئے''(۱)

حضور (ص) کی نماز شب ہم کو یہ درس دیتی ہے کہ امت کے رہبر وپیشواکو آرام طلب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کا پورا وجود محنت وزحمت کے سمندر میں غرق رہنا چاہیئے، آپ (ص)نے مولا علی ـ کو نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے،آپ (ص) نے مکرر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:''علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل''

یعنی ! اے علی تم پر لازم ہے کہ نماز شب بجا لائو، نماز شب ضرور بجا لائو ،نماز شب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے(۲)

____________________

(۱) بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۱۷

(۲ )وسائل الشیعہ:ج۵،ص۲۶۸

۲۳

ساتویں فصل

۱۔ حضرت (ص) کی دلسوزی ومہربانی

جب حضور اکرم (ص) مخلوقات کے سامنے آتے ہیں تو اخلاق کا وہ نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دنیائے انسانیت انگشت بدنداں نظر آتی ہے اور خدا وند عالم کہتانظرآتا ہے( انک لعلیٰ خلق عظیم ) (۱)

یعنی اے میرے رسول (ص) آپ اخلاق کے بلند وعظیم درجہ پر فائز ہیں۔

ایک روز آپ (ص) نے مولا علی ـ کو بارہ درہم دیئے اور فرمایا: ''میرے لئے ایک لباس خرید کر لے آئو'' حضرت علی ـ بازار گئے اور بارہ درہم کا لباس خرید کر لے آئے ، حضور (ص) نے لباس کو دیکھا اور علی ـ سے فرمایا: ''اے علی ـ اگر اس لباس سے کم قیمت لباس مل جاتا تو بہتر تھا اگر ابھی دوکاندار موجود ہو تو یہ لباس واپس کردو'' علی ـ دوبارہ بازار گئے اور لباس واپس کردیا اور بارہ درہم واپس لاکر آپ (ص) کے حوالہ کر دیئے۔ حضرت (ص) مولاعلی ـ کو اپنے ہمراہ لے کر بازار کی جانب روانہ ہوئے، راستہ میں ایک کنیز پر نظر پڑی کہ جو گریہ کر رہی تھی، آپ (ص) نے سبب دریافت کیا تو کنیز نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے چار درہم دیئے تھے کہ کچھ سامان خرید کر لے جائوں لیکن وہ چار درہم گم ہو گئے، اب گھر واپس جائوں تو کس طرح؟

آپ (ص) نے اپنے بارہ درہموںمیں سے چار درہم اس کنیز کو عطا کئے کہ وہ سامان خرید کر لے جائے اور بازار پہونچکر چار درہم کا لباس خریدا، لباس لے کر بازار سے واپس آرہے تھے تو ایک برہنہ تن انسان پر نظر پڑ گئی، آپ (ص)نے وہ لباس اس برہنہ تن کو بخش دیا اور پھر بازار کی جانب چلے، بازار پہونچکر باقی بچے ہوئے چار درہموں کا لباس خریدا ، لباس لیکر بیت الشرف کا قصد تھا کہ دوبارہ پھر وہی کنیز نظر آگئی جو پہلے ملی تھی، آپ (ص) نے دریافت کیا کہ اب کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کافی دیر ہو چکی ہے، میں ڈر رہی ہوں کہ کیسے جائوں،آقا کی سرزنش سے کیسے بچوں؟ حضور (ص) کنیز کے ہمراہ اس کے گھر تک تشریف لے گئے، اس کنیز کے آقا نے جب یہ دیکھا کہ میری کنیز ، سرکار رسالت (ص) کی حفاظت میں آئی ہے تو اس نے کنیز کو معاف کردیا اور اسے آزاد کردیا،

____________________

(۱)سورۂ قلم۴

۲۴

آپ (ص) نے فرمایا: '' کتنی برکت تھی ان بارہ درہموں میں کہ دو برہنہ تن انسانوں کو لباس پہنا دیا اور ایک کنیز کو آزاد کردیا''(۱) دور حاضر میں ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم (ص) مزین تھے، دور حاضر تو کیا خود حضور (ص) کے دور میں، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانا دشوار ہے، آپ (ص) کے دور میں تو بعض بدو عرب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھ سمجھتے تھے، واقعاَ اگر آج کے امراء ورئوسا بھی اس سیرت کو اپنائیں تو ہماری کشتی حیات(دین کے مطابق) منزل مقصود سے ہمکنار ہوجائے۔

۲۔ آنحضرت کی سیرت میں مہمان نوازی

جناب سلمان فارسی ـ فرماتے ہیں: ''میں ایک روز حضرت (ص) کی خدمت میں پہونچا، جو تکیہ آپ (ص) خود رکھے ہوئے تھے وہ مجھے دیدیا تاکہ میں کمر لگاکر آرام سے بیٹھ سکوں'' ایسا سلوک صرف سلمان فارسی کے ساتھ ہی نہیں کیا بلکہ ہر مہمان کے ساتھ آپ (ص) کا یہی برتائو رہتا تھا، آپ (ص) مہانوں کی خاطر اپنا بستر بچھادیا کرتے تھے اور دسترخوان سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ مہمان ہاتھ نہ روک لیں(۲) ایک روز حضور (ص) کی خدمت میں آپ (ص)کے دو رضاعی بھائی بہن یکے بعد دیگرے آئے، آپ (ص) نے بہن کا حترام زیادہ کیا اور بھائی کا احترام کم کیا، بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ (ص) نے جواب میں فرمایا: ''چونکہ، جتنا احترام اپنے ماں باپ کا یہ بہن کرتی ہے اتنا احترام بھائی نہیں کرتا لہٰذا میں بھی بہن کا زیادہ احترام کرتا ہوں''(۳) کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ مہمان حضرات، کھانا کھانے کے بعد وہیں بیٹھ جاتے تھے اور گفتگو میں مشغول ہوجاتے تھے اور آپ (ص) مہمانوں کے احترام میں بیٹھے رہتے تھے جب اس عمل کی تکرا ر ہوئی تو آیت نا زل ہوئی( فأذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسین لحدیث ) (۴)

____________________

(۱)بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۱۵۔ سیرۂ پیامبر اکرم (ص) : ص۲۵

(۴)سورۂ احزاب/۵۳

(۲)سنن النبی (ص):ص۵۳،۶۷

(۳) بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۸۱

۲۵

یعنی جب تم لوگ کھانے سے فارغ ہو جائو تو فوراَ منتشر ہو جائو ، اپنے اپنے گھر چلے جائو، بے وجہ رسول (ص) کو پریشان مت کرو چونکہ اس سے بہت بڑا نقصان ہے، رسول (ص) کچھ کام انجام نہیں دے سکتے(۱)

۳۔ سرکار (ص) کی بچوں کے ساتھہ مہر بانی

ایک نومولود بچہ کو آپ (ص) کی خدمت میں لایا گیا تا کہ آپ (ص) بچہ کا اچھا سا نام رکھ دیں، جیسے ہی آپ (ص) نے بچہ کو آغوش میں لیا ، بچہ نے فوراَ پیشاب کردیا، بچہ کی ماں اور دیگر رشتہ دار بہت ناراض ہوئے لیکن آپ (ص) نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہ کرو چونکہ میں اپنے لباس کو پاک کرسکتا ہوں لیکن تمھاری ڈانٹ پھٹکار معصوم بچہ کے ڈر کا باعث بنے گی، آپ (ص) بچوں کے نام احترام کے ساتھ لیتے تھے اور لڑکیوں کے بارے میں زیادہ سفارش فرماتے تھے، وہ بھی ایسے دور میں کہ جس دور میں لڑکی کے وجود کو ننگ و عار سمجھا جاتا تھا اور باپ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہتا تھااور شرم وحیا کے پیش نظر ، چہرہ سیاہ ہوجاتا تھا، قرآن کریم نے اس کی حکایت بالکل صاف الفاظ میں کی ہے( واذا بشر احدهم بالانثیٰ ظل وجهه مسوداوهو کظیم ) (۲)

یعنی....اور جب ان (عرب بدئوں )میں سے کسی کو یہ خوشخبری دی جاتی تھی کے تمھارے یہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا تھا اور رنجیدہ ہوجاتا تھا(۳)

ایسے زمانہ میں آپ (ص) فرماتے تھے کہ بہترین بچے، لڑکیاں ہیں اور ایک خاتون کے خوش بخت وخوش قدم.... ہو نے کی علامت یہ ہے کہ اس کا پہلا پیدا ہونے والا بچہ، لڑکی ہو(۴)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۰

(۲)سورۂ نحل/ ۵۸

(۳)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص ۳۷،۳۸

(۴)مستدرک الوسائل:ج۲،ص۶۱۴

۲۶

آپ (ص) کی خدمت میں آپ (ص) کا ایک صحابی بیٹھا ہو اتھا ، کسی نے آکر خبر دی کہ تمھارے یہاں لڑکی کی ولادت ہوئی ہے، جیسے ہی اس نے یہ جملہ سنا فوراَ اس کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا، حضور (ص) نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ انسان اس خبر سے رنجیدہ ہوا ہے تو آپ (ص) نے فرمایا: '' زمین اس کا مکان ہے، آسمان اس کا سائبان ہے ،اور اس کارزق خدا کے ہاتھ میں ہے، تو کیوں رنجیدہ ہوتا ہے؟ لڑکی اس پھول کی مانند ہے جس سے تم استفادہ کرتے ہو(۱)

ایک روز آپ (ص) پانی نوش فرمارہے تھے اور کوزہ میں تھوڑا سا پانی باقی بچا تھا اتنے میں ایک بچہ آیا اور پانی طلب کیا، تبھی بعض بڑے بڑے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ (ص)! یہ پانی بطور تبرک ہمیں عطا کیجئے، آپ (ص) نے فرمایا: ''تم سے پہلے اس بچہ نے طلب کیا ہے'' پھر بچہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بچہ سے پوچھا کیا تمھاری اجازت ہے کہ میں یہ پانی ان لوگوں کو دیدوں یہ تمھارے بزرگ ہیں؟ لیکن بچہ نے فوراَ انکار کردیا، پھر آپ (ص) نے وہ پانی اسی بچہ کو دیا(۲)

کشاف الحقائق، مصحف ناطق، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''ایک روز آپ (ص) نے نماز ظہر کی آخری دو رکعتیں بہت جلدی جلدی ادا کیں، لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ (ص)! آخر ایسا کیوں؟کیا کام درپیش ہے؟ حضور (ص) نے فرمایا: ''کیا تم بچہ کے رونے کی آواز نہیں سن رہے ہو؟''(۳)

اللہ اکبر........نماز جیسی عبادت، جس میں خضوع و خشوع شرط ہے، آپ (ص) نے بغیر مستحبات کے انجام دی اور یہ سمجھا دیا کہ دیکھو.....بچہ کو بہلانا خضوع و خشوع والی نماز سے بھی افضل ہے۔

____________________

(۱)وسائل الشیعہ:ج۱۵،ص۱۰۱

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۳۸، بحوالہ سیرۂ حلبی:ج۳،ص۶۸

(۳)اصول کافی:ج۶،ص۴۸

۲۷

۴۔ آنحضرت کا جوانوں کے ساتھہ اخلاق

ایک جنگ میں ایک جوان بنام ''زید بن حارثہ'' اسیر ہوگیا اور آپ (ص) کی خد مت میں لاکر آپ (ص) کا غلام بنادیا گیا، اس کا باپ بہت ثروت مند تھا لہٰذاجب اس کو یہ خبر ملی کہ اس کا بیٹا غلام بنا لیا گیا ہے تو فوراَ باپ کی محبت نے انگڑائی لی اور آپ (ص) کی خدمت میں پہونچ گیااور کہا کہ جتنا آپ کو فدیہ چاہیئے لے لیجئے لیکن میرا بیٹا مجھے واپس کر دیجئے، میرے بیٹے کو آزاد کر دیجئے آپ (ص) نے فرمایا: ''مجھے کسی فدیہ اور مال ودولت کی ضرورت نہیں ہے، اگر تمھارا بیٹا تمھارے ساتھہ جانے کو تیار ہو جائے تو اسے لے جائو'' بیٹے کے پاس آیا اور کہا بیٹا! میں تمھیں آزاد کرانے آیا ہوں، چلو میرے ساتھ چلو، اپنے گھر چلو، بیٹے نے جواب دیا میں گھر نہیں جائو ںگاچونکہ مجھے اس گھر سے اچھا کوئی گھر نہیں ملے گا ، جب آپ (ص) نے اس کا یہ حال دیکھا کہ اسکی اسلام کی طرف اتنی زیادہ رغبت ہے تو آپ (ص) نے خانۂ کعبہ میں یہ اعلان کردیا کہ لوگو! گواہ رہنا ''زید میرا بیٹا ہے''(۱)

یہ صرف حضور (ص) کا اخلاق ہی تو تھا جو زید کے دل میں جاگزیں ہو کر رہ گیا اور اپنے باپ کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔

جب آپ (ص) کا وقت وفات قریب آیا تو آپ (ص) نے ایک جوان ''بنا م اسامہ'' کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا اور تمام سن رسیدہ حضرات کو یہ حکم دیا کہ اس اٹھارہ سالہ جوان کی اطاعت کریں اور فرمایا: خدا لعنت کرے اس شخص پر جو لشکر اسا مہ سے منھ پھرائے(۲)

حضرت (ص) کا یہ عمل درس دے رہا ہے کہ جوانوں کے ساتھ شفقت ومہربانی کے ساتھ پیش آئیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں چونکہ یہ نوجوان ، قوم کا مستقبل ہیں، لہٰذا اپنے مستقبل کو بہترین مستقبل بنانے کی سعی میں کوشاں رہو(لشکر اسامہ سے کس کس نے منھ پھرایا ؟یہ تاریخ نے اچھی طرح واضح کیا ہے)

____________________

(۱) سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۰

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۰

۲۸

۵۔ پیغمبر اکرم (ص) کی ذاتی اور شخصی سیرت

تما م سیرت کی کتابوں میں آپ (ص) کی سیرت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے انھیں میں سے آپ (ص) کی چند صفات حسنہ کا تذکرہ کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔

۱ ۔خدا وند عالم کی عطاکردہ نعمت کو بزرگ اور محترم گردانتے تھے اور کبھی بھی کسی نعمت کی مذمت نہیں کرتے تھے چاہے وہ نعمت کتنی ہی چھوٹی ہو۔

۲۔دنیاوی مسائل میں غصہ نہیں ہوتے تھے(جب کہ عصر حاضر میں تمام ھم وغم دنیاوی کاموں کے لئے ہے'' رات دن'' دنیا کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اگر رضایت ہو تو دنیا کے لئے غصہ ہوں تو دنیا کے لئے، خوش ہوں تو دنیا کے لئے، رنجیدہ ہوں تو دنیا کے لئے گویا ہر کام دنیا پر موقوف ہے)

۳ ۔آپ (ص) کی ہنسی، صرف تبسم کی حد تک تھی، کوئی روایت نہیں بتاتی کہ آپ (ص) کبھی قہقہہ کے ساتھ ہنسے ہوںاور ہنسی قابو سے باہر( Out of Controll ) ہوئی ہو۔

۴۔ہر قوم کے بزرگ (رہبرو پیشوا) کا احترام کیا کرتے تھے(جو ہمارے لئے نمونہ ہے کہ کافر یا مشرک گردان کر کسی رہبرو پیشوا یا کسی کے بزرگ کی توہین نہ کرو چونکہ وہ اپنی قوم کا رہبر ہے ،اگرآج تم ان کے رہبروں کا حترام نہیں کروگے تو کل وہ بھی تمھارے رہبر کا اکرام نہیں کرسکتے)

۵ ۔اگر کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تھے تو آخری جگہ بیٹھ جاتے تھے، لوگوں کو روندتے ہوئے آگے نہیں جاتے تھے۔

۶۔ہر انسان کا اتنا زیادہ احترام بجا لاتے تھے کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ آپ (ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب میری ہی ذات ہے۔

۲۹

۷۔اگر کوئی انسان آپ (ص) کے پاس اپنی حاجت لیکر آتا تھا تو اس کی حاجت روائی فرماتے تھے اوراگر ممکن نہیں ہوتا تھا تو خوش اخلاقی کے ساتھ اس طرح واپس پلٹاتے تھے کہ اسے احساس حقارت نہ ہونے پائے۔

۸۔تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے(آپ (ص)کے نزدیک کسی طرح کا کوئی فرق نہیں تھا کہ یہ اپنا ہے اور یہ بیگانہ یا یہ اپنا جاننے والا ہے اور یہ اجنبی، نہیں بلکہ سب خدا کے بندے ہیں لہٰذا سب کے ساتھ مساوات کا لحاظ رکھا جائے)

۹۔بے ہودہ باتوں سے پر ہیز فرماتے تھے، آپ (ص) کی شان والا صفات میںبکواس اور بے ہودہ و فالتو گفتگو کا تصور بھی، گستاخی اور جسارت ہے چونکہ آپ (ص)( ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ ) (۱) ............کے مصداق تھے، آخر بے ہودہ گفتگو ہوتی بھی تو کیسے؟

۱۰۔آپ (ص)کسی کی برائی نہیں کرتے تھے چونکہ قرآنی آیت کو عملی جامہ پہنانا تھا تاکہ آئیڈیل( Ideal ) اور نمونہ بن سکیں اور لوگوں کو اس نفرت آور کام سے باز رکھیں( لایغتب بعضکم بعضا .......) (۲)

یعنی ! دیکھو تم لوگوں میں سے کوئی بھی ایک دوسری کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اس بات کو گوارہ کرے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے؟

۱۱۔اپنی نعلین مبارک کی مرمت خود اپنے ہی دست مبارک سے فرماتے تھے ، آپ (ص) کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ آپ (ص) اپنے جوتے موچی کے پاس لے کر جائیں اور اس سے مرمت کرائیں۔

____________________

(۱)سورۂ نجم/۳،۴

(۲)سورۂ حجرات/۱۲

۳۰

۱۲۔ہر روز ستّر مرتبہ ''استغفر اللہ ربی و اتوب الیہ'' پڑھتے تھے، آپ (ص) کے بارے میں تصور گناہ بھی گناہ ہے، آپ (ص) کا استغفار صرف ہم گنہگاروں کے لئے تھا کہ دیکھو میں خدا کا مقرب ترین بندہ ہوتے ہوئے بھی استغفار کرتا ہوں تمھیں بھی چاہیئے کہ اپنے کئے ہوئے گناہوںکی معافی مانگو اور خدا وند عالم سے مغفرت طلب کرو۔

۱۳۔آپ (ص) کا لباس غلاموں جیسا ، آپ (ص)کا کھانا غلاموں کی مانند ، مطلب یہ ہے کہ آپ (ص) کی نظروں میں ہمیشہ خدا وند عالم کی ذات تھی جس کے مقابل خود کو غلام گردانتے تھے اور دوسری طرف سے غلاموں اور نیچے طبقے کے انسانوں کو احساس غربت نہ ہونے پائے، ہوسکتا ہے کہ اگر میں اچھے کپڑے پہنوں اور اچھا کھاناکھائوں تو غریب وغربا لوگوں کو اپنی غربت کا احساس ہو اور میری طرف سے یا خدا وند عالم کی طرف سے بد ظن ہو جائیں۔

۱۴۔اپنے قیمتی وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتے تھے، آپ (ص) کا یہ عمل ہم کو درس دیتا ہے کہ وقت کی قدرو قیمت سمجھیں اور وقت کو غنیمت شمار کریں چونکہ ''گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں'' جو وقت گذر گیا وہ اب واپس آنے والا نہیں ہے لہٰذا جتنا ہو سکے وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

۱۵۔آپ (ص) نہ تو کسی کو غربت کی وجہ سے حقیر گردانتے تھے اور نہ کسی کے صاحب اقتدار اور ثروت مند ہونے کے سبب عزت واحترام بجالاتے تھے( جیسا کہ آج عام طور سے رائج ہے)

۱۶۔خواتین کو بھی سلام کرتے تھے تاکہ انھیں احساس کمتری نہ ہو نے پائے۔

۱۷۔کسی محفل میں اپنے پیروں کو پھیلانے سے گریز فرماتے تھے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو میری وجہ سے اذیت ہو۔

۱۸۔ہر وقت خوشبو(مشک وعنبر) سے معطر رہتے تھے تاکہ جو بھی آپ (ص) کے پاس آئے وہ کراہیت محسوس نہ کرے۔

۱۹۔جب بھی کہیں بیٹھتے تھے تو رو بقبلہ ہوکر بیٹھتے تھے(شاید اس کا سبب یہ ہو نہ جانے کس وقت فرشتۂ موت آجائے اور میری روح قبض کر لے لہٰذا اگر روح قبض کی جائے تو رو بقبلہ رہوں)

۳۱

۲۰۔آپ (ص)کو یہ پسند نہیں تھا کہ جب آپ (ص) سوار ہوں تو کوئی آپ (ص) کے ساتھ پیدل چلے، بلکہ آپ (ص) اسے سوار کر لیتے تھے یا اس کو حکم دیتے تھے کہ اپنی سواری لیکر آجائے۔

۲۱۔سفید اور سبز لباس سے بہت زیادہ خوش ہوتے تھے یعنی دوسرے رنگوں کی نسبت ان دونوں رنگوںکو زیادہ پسندفرماتے تھے۔

۲۲۔اگر دسترخوان پر خرمہ موجود ہوتا تھا تو کھانے کی ابتداخرمہ ہی سے فرماتے تھے۔

۲۳۔ہر دو لقموں کے بعد شکر خدا بجا لاتے تھے تاکہ خدا کے نزدیک شکر گذار قرار پائیں، حالانکہ کھانے کے بعد صرف ایک مرتبہ خدا کا شکر بجا لانا کافی ہے لیکن ہر دو لقموں کے بعد آپ (ص) کا شکر خدا بجا لانا اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آپ (ص) ہمیشہ یاد خدا کے سمندر میں غوطہ زن رہتے تھے۔

۲۴۔غذا تناول فرمانے کے بعد خلال فرماتے تھے، تاکہ وہ غذا جو دانتوں میں رہ گئی ہے اسے باہر نکال دیں اور دہنِ مبارک، بد بو سے محفوظ رہے۔

۲۵۔پانی نوش فرماتے وقت بھی بسم اللہ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ''کل امر لم یبدأ بأسم اللہ فھو ابتر'' یعنی جس کام کی ابتدا میں بسم اللہ نہ کی جائے وہ کام بے نتیجہ رہتا ہے۔

۲۶۔کھانا تناول فرمانے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوتے تھے۔

۲۷۔گرم غذا تناول کرنے سے پرہیز فرماتے تھے اور انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ غذا سرد ہو جاتی تھی۔

۲۸۔اگر لوگوں سے ملاقات کرنی رہتی تھی تو ملاقات سے پہلے پیاز اور لہسن کا استعمال نہیں فرماتے تھے، تاکہ سامنے والے کو کراہیت نہ ہو۔

۲۹۔کبھی بھی آپ (ص) کو اکیلے اور تنہا کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا بلکہ اگر تنہا ہوتے تھے تو کسی کو دعوت کر کے بلا لیا کرتے تھے تا کہ اس کے ساتھ کھانا کھائیں۔

۳۲

۳۰۔اگر کسی انسان کی تشییع جنازہ میں شرکت فرماتے تھے تو غمگین رہتے تھے اور باتیں کم کرتے تھے۔

۳۱۔واجب نمازوں کے دوگنا مستحب نمازیں بجا لاتے تھے یعنی چونتیس رکعت مستحب نماز پڑھتے تھے۔

۳۲۔ماہ رمضان المبارک میں مستحب نمازوں میں اور بھی اضافہ کرتے تھے یعنی چونتیس رکعت سے بھی زیادہ مستحب نماز بجا لاتے تھے۔

۳۳۔اگر کوئی آپ (ص) کے پاس آکر بیٹھہ جاتا تھا اور آپ (ص) نماز میں مشغول ہوتے تھے تو نماز کو مختصر کرکے جلدی تمام کر دیا کرتے تھے تاکہ اگر وہ آنے والا کوئی حاجت لے کر آیا ہے تو وہ اپنی حاجت بیان کرے ایسا نہ ہو کہ میری عبادت کی وجہ سے اس کی حاجت روائی میں تاخیر ہوجا ئے(۱)

۶۔ سرکار (ص) کا اہل خانہ کے ساتھہ اخلاق

حضور سرور کائنات (ص) کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ گھر کے سارے کام آپ (ص)کی زوجہ انجام دے بلکہ آپ (ص) یہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ ان کی مدد کریں ،یہاں تک کہ پارہ شدہ لباس بھی خود سی لیتے تھے زوجہ کو زحمت نہیں دیتے تھے(۲)

ہمیشہ اس وقت کھانا نوش فرماتے تھے جب سارے اہل خانہ جمع ہوجاتے تھے ،یہاں تک کہ غلاموں کا بھی انتظار کیا کرتے تھے(۳)

یوں توحضور (ص)کی تقریباََ تمام بیویاں ہی یتیم پرور اور بیووں کا خیال رکھنے والی تھیں لیکن اخلاق کے اعتبار سے سب کے درمیان فرق تھامگر قرآنی حکم کے مطابق حضور اکرم (ص) سب کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے ۔

____________________

(۱)تفسیر المیزان:ج۶،ص۳۲۱سے بعدتک،ان صفات کے علاوہ علامہ مرحوم نے اور بھی بہت سی صفات کا تذکرہ کیا ہے اگر تفصیل درکار ہو تو اسی حوالہ پر رجوع کر سکتے ہیں۔

(۲)بحارالانوار:ج۱۶ ،ص۲۲۷

(۳)ہمگام با رسول :ص۱۷

۳۳

کبھی کبھی بعض بیویاں بد اخلاقیاں بھی کرتی تھیں یہاں تک کہ اس بد اخلاقی کی وجہ سے حضور (ص) کے بعض اصحاب ناراض ہوجاتے تھے اور کہتے تھے کہ یا رسول اللہ (ص)! انھیں چھوڑ دیجے (آزاد کر دیجئے)حضور (ص) فرماتے تھے کہ عورتوں کی بد اخلاقی کو بھی ان کا کمال شمار کرنا چاہیئے اور ذرا سی ناراضگی کی وجہ سے بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیئے(۱)

حضور اکرم (ص)، جناب خدیجہ کی خوش اخلاقی اور وفاداری کی وجہ سے (یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی) ان کی سہیلیوں کا خاص احترام کرتے تھے اور فرماتے تھے ''میں(تمام خاندانوں میں)اپنے خاندان کے ساتھ سب سے زیادہ خوش رفتاری سے پیش آتا ہوں یعنی کسی بھی خاندان میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنے خاندان کے ساتھ مجھ سے بہتر رفتار کرتا ہو(۲)

حضور (ص)اپنی بیویوں کے ساتھ اتنی زیادہ عدالت سے پیش آتے تھے کہ بیماری کے ایام میں بھی آپ (ص)کابستر ایک ایک شب ایک ایک بیوی کے حجرہ میں رہتا تھا۔ جناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں :کبھی کبھی حضور (ص) ، خدیجہ کو بہت اچھی طرح یاد فرماتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے ، میں نے ایک روزحضور (ص) سے کہا : یا رسول اللہ (ص)! خدا نے آپ کو خدیجہ سے بہتر بیوی(دوشیزہ) عطا کی ہے، انھیں بھول جائیئے وہ تو بڑھیا تھیں۔

حضور (ص)نے فرمایا: خدا کی قسم ایسا نہیں ہے ، خدیجہ جیسی کوئی بیوی نہیں ہو سکتی (چاہے وہ دوشیزہ ہو یا کھلونوں سے کھیلنے والی اور ناچ گانے کی شوقین) جس وقت پورا معاشرہ کافر تھا ، اس عالم میں یہ تنہا خاتون تھی جو مجھ پر ایمان لائی تھی اور میری مدد گار ثابت ہوئی تھی ، میری نسل تو خدیجہ سے ہی چلی ہے (ایسی دوشیزہ کا کیا فائدہ جو ماں بننے کو ترس جائے)

جناب خدیجہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ یہ وہ خاتون تھیں کہ جنھوں نے اپنا رشتہ خود حضور (ص) کے پاس بھیجا تھا اور اپنے آنے والے تمام رشتوں سے انکار کر دیاتھا(بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے غرور میں چلی ہیں جناب خدیجہ سے ہمسری کرنے، بڑے باپ کی بیٹی ہونگی تو اپنے گھر کی ، یہاں تمھارا دیہ نہیں جلے گا تم جیسی ہزار دوشیزہ و باکرہ لڑکیوں سے یہ بڑھیا اچھی ہے)(۳)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم:ص۳۳

(۳)سیرۂ پیامبراکرم:ص۳۳

(۲)وسائل الشیعہ: ج۱۴،ص۱۲۲

۳۴

۷ ۔ رسول اسلام (ص) کی سیرت میں ساد گی

مال غنیمت کو دیکھہ کر آپ (ص) کی بعض ازواج نے کہا یا رسول اللہ (ص) اس میں ہمارا بھی حق ہے، ہمیں بھی دیجئے، سب لوگ عیش کی زندگی گذار رہے ہیں، آخر ہماری کیا خطا ہے؟(اگر اس وقت میں وہاں موجود ہوتا تو جواب دیتا کہ تمھاری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ تم بد نصیبی کے جھنجال سے نکل کر خوش نصیبی کی وادیوں میں آگئیں اور رسول اسلام (ص) کی زوجہ محترمہ بن کو ام المومنین کے لقب سے نوازدی گئیں) لیکن حضور (ص)کا جملہ دیکھئے آپ (ص) نے جواب دیا کہ:'' میری زندگی سادگی کے سوا کچھ نہیں ہے ، اگر تم کو سادہ لوحی پسندہے تو میری زوجیت میں رہو ورنہ میں طلاق دینے کو تیار ہوں''(۱)

حضوراکرم (ص) ایک مرتبہ جناب فاطمہ زہرا کے بیت الشرف میں تشریف لائے تو آپ (ص) نے دیکھا کہ جناب فاطمہ نے اپنے ہاتھ میں دستبند(کنگن) پہن رکھا ہے اور گھر میں نیا پردہ لٹکا رکھا ہے تو آپ (ص) نے فاطمہ زہرا سے کوئی بات نہیں کی اور کچھ بات کئے بغیر خاموشی سے واپس ہوگئے،مزاج رسالت شناس ''فاطمہ زہرا '' سمجھ گئیں کہ بابا کس لئے ناراض ہوکر واپس چلے گئے، فوراَ پردہ کو اتارا ہاتھ سے کنگن اتارا اور حضور (ص) کی خدمت میں بھیج دیا اور فرمایا بابا! جیسا آپ بہتر سمجھیں ان چیزوں کا استعمال کریں(۲)

۸۔ حضور (ص) کا ہمسایوں کے ساتھہ اخلاق

حضور سرور کائنات (ص) غذا نوش فرمانے سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ ہمارا ہمسایہ تو بھوکا نہیں ،ایسا نہ ہو کہ ہم شکم سیر ہو کر سوئیں اور ہمارا ہمسایہ بھوکا سوئے ،اگر ایسا ہوا تو ہم خدا کو کیا جواب دیں گے ؟

آپ (ص) خود فرماتے ہیں :کہ جبرئیل امین نے مجھے ہمسایہ کے بارے میں اتنی زیادہ تاکید کی کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ اب یہ میری وراثت میں بھی ہمسایہ کو شامل کردیں گے(۳)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۱

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۲۔اعلام الدین:ص۲۶۳

(۳)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۲۔ اعلام الدین:ص۲۶۳

۳۵

۹۔ آنحضرت (ص) کا دوستوں کے ساتھہ اخلاق

دوستوں کی احوال پرسی کرنا ،اور ان کی خبر لینا بھی اخلاق حسنہ کی ایک شاخ ہے ،جو دوستوں کے دلوں کی دریائے محبت میںاور زیادہ موجیں لے آتا ہے ۔

پیغمبر خدا (ص) کبھی بھی اپنے دوستوں سے غافل نہیں رہتے تھے ،بلکہ ہمیشہ رابطہ رکھتے تھے۔

مولا علی ـفرماتے ہیں : اگر آپ (ص) تین دن تک کسی برادر دینی کو نہیں دیکھ پاتے تھے تو اس کی تلاش میں نکل جاتے تھے،اگر معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر میں ہے تو سلامتی کی دعا فرماتے تھے ،اگر شہر میں موجود ہوتا تھا تو فوراَ اس کی احوال پرسی اور دیدار کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور اگر بیمار ہوتا تھا تو اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے اور اس کی صحت یابی کی دعا فرماتے تھے(۱)

ایک مرتبہ رسول اسلام (ص)اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کر رہے تھے، راستے میں کھانے کا وقت آگیا، حضور (ص) نے قافلہ کو روکا، تمام لوگوں کے ذمہ ایک ایک کام کردیا اور خود سوکھی لکڑیاں جمع کرنے لگے، اصحاب نے بہت روکنا چاہا لیکن حضور (ص) نے قبول نہیں کیا۔

دوسری جگہ آپ (ص) ناقہ سے اترے اور اسے باندھنے کے لئے ایک گوشہ کی جانب چلے، اصحاب آگے بڑھے تاکہ ناقہ کی لگام اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور باندھ دیں لیکن حضور (ص) نے قبول نہیں کیا اور فرمایا ''جہاں تک ہو سکے، اپنا کام خود انجام دو(۲)

۱۰۔ اعزاء و اقارب کے ساتھ اخلاق

آپ (ص) خود فرماتے ہیں :صلوا ارحامکم ولو بالسلام۔اپنے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحم کرو چاہے وہ سلام کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو ،یعنی اپنے رشتہ داروں سے کبھی بھی قطع تعلق نہ کرنا چونکہ تمھاری گردنوں پر ان کے کچھ حقوق ہیں جن میں سے سب سے اہم حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئو۔

____________________

(۱)مکارم الاخلاق ص:۱۹

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۲۷

۳۶

۱۱۔ خادموں اور غلاموں کے ساتھہ اخلاق

آپ (ص) کو یہ منظور نہیں تھا کہ گھر میں غلام موجود ہے تو تمام کام وہی انجام دے بلکہ آپ (ص) غلام کی بھی مد د فرماتے تھے ،غلام کے ساتھ چکی چلاتے تھے ،اور اگر وہ بہت زیادہ خستہ ہوجا تا تھا تو اس سے کہتے تھے کہ تم آرام کرو یہ کام میںانجام دوں گا(۱)

انس ابن مالک کہتاہے کہ میں نو سال تک رسول اسلام (ص) کا خادم تھا ،مجھے یاد نہیں کہ رسول (ص) نے کبھی یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا؟(۲)

۱ ۲ ۔ حضرت (ص)کا دشمنوں کے ساتھہ اخلاق

دوستوں کے ساتھ حسن اخلاق اور خوش رفتاری سے پیش آنا کوئی کمال کی بات نہیں ہے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں ۔ حضور (ص) کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ جس طرح دوستوں کے ساتھ نیک برتائو سے پیش آتے تھے اسی طرح دشمنوں کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے چنانچہ واقعہ مشہور ہے کہ آپ (ص)کے گذرنے کا جو راستہ تھا اس راستہ میں ایک ضعیفہ رہتی تھی اور وہ اپنے گھر کا سارا کوڑا کرکٹ جمع کرکے رکھتی تھی تاکہ حضور (ص) کے اوپر پھینکے یہاں تک کہ حضور کا گذر ہوتا تھا اور وہ گھرکی ساری غلاظتیں آپ (ص)کے اوپر پھینک دیتی تھی لیکن آپ (ص) اس سے کچھ بھی نہیں کہتے تھے بلکہ اسطرح خاموشی سے گذرجاتے تھے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یا رسول اللہ (ص)گستاخی معاف!آپ کے حسن اخلاق کا تقاضہ بجا ہے لیکن راستہ تبدیل کرنے میں تو حسن اخلاق حائل نہیں ہے کم سے کم راستہ بدل دیجئے تا کہ غلاظتوں سے محفوظ رہ سکیں ؟

رسول اسلام (ص) جواب دیں گے کہ ذرادل کی آنکھوںسے دیکھو .......یہ ضعیفہ میرے اوپر غلاظتیں نہیں پھینک رہی ہے بلکہ میں اپنے اخلاق کے ذریعہ اس کے دل سے کفرو نفاق اور شرک کی غلاظتیں نکال کر باہر پھینک رہا ہوں ۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا .............ایک روز رسول (ص)کا گذر ہواتو بڑھیا نے کوڑا نہیں پھینکا ،آپ (ص) نے ہمسایوں سے دریافت کیا کہ بڑھیا کہاں ہے ؟جواب ملا کہ وہ مریض ہے (بستر علالت پر پڑی ہوئی ہے )

____________________

(۱)بحار الانوار:ج۱۶، ص۲۲۷

(۲)مکارم الاخلاق :ص۱۶

۳۷

رسول اسلام (ص) اس کے گھر پہونچے بڑھیانے دروازہ پر نگاہ کی تو رسول (ص)نظر آئے بڑھیا نے کہا : واہ محمد (ص)اچھاموقع تلاش کیا ہے انتقام کا ،بدلہ لینا تھا تو اسی وقت لیتے جب میں صحت مند تھی ،اب تو میںاپنا دفاع بھی نہیں کرسکتی۔

رسول اسلام (ص)نے فرمایا :۔میں تجھ سے بدلہ لینے نہیں آیا ہوں بلکہ تیری عیادت کے لئے آیا ہوں ۔

بس..........قارئین کرام!یہی وہ وقت تھا کہ اس کے دل کی تمام تاریکیاں نور سے تبدیل ہو گئیں ،ایک مرتبہ کہا محمد (ص)! مجھے کلمہ پڑھا دیجئے ،بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔

یہ تھا رسول اسلام (ص) کا اخلاق دشمنوں کے ساتھ،اگر رسول اسلا م (ص) اس اخلاق سے پیش نہ آتے تو یہ کافرہ کبھی بھی مسلمان نہ ہوتی اور حالت کفر ہی میں دنیا سے چلی جاتی ،بے شک آج بھی ایسے ہی اخلاق کی ضرورت ہے چونکہ بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے روشنی کا وجود ہی نہیں دیکھا اگر ذرا سا بھی نور مل جائے تو راہ راست پر آسکتے ہیں ،لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارا اخلاق ،اخلاق نبوی ہو۔

۱۳۔ سرکار رسالت (ص) کا کفار کے ساتھہ اخلاق

خدا وند عالم نے رسول اسلام (ص) کو حکم دیاکہ(وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتیٰ یسمع کلام اللہ ثم ابلغلہ مامنہ ذٰلک بأنھم قوم لا یعلمون)(۱)

اگر ایک مشرک وکافر تم سے پناہ کا طلبگار ہو تو اسے پناہ دو تاکہ وہ کلام خدا وندی کوسن سکے اور پھر اسے پر امن مقام پر پہونچادو ، چونکہ یہ لوگ نا واقف ہیں ، شاید قرآنی آیات سننے کے بعد اور تمہاری محبت ومہربانی کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہدایت پا جائیں۔ جی ہاں قارئین کرام! دین اسلام محبت وعطوفت اور مہربانی و آزادی کا دین ہے نہ کہ زوروزبر دستی کا، یہاں تک کہ جنگ کی شرطوں میں بھی کفار کو تحقیق کا موقع دیا جاتا ہے(۲)

____________________

(۱)سورۂ توبہ/۶

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۷۶

۳۸

۱ ۴ ۔ حضرت (ص) کی سیرت ،اسیروں کے ساتھہ

خدا وند عالم کی جانب سے حضرت (ص) کو یہ حکم ہوا تھا کہ آپ (ص) بذات خود، اسیروں سے گفتگو کریںاور انھیں راہ ہدایت کی طرف دعوت دیں( یا ایها النبی قل لمن فی ایدیکم من الاساریٰ ) (۱)

اتنی بڑی شخصیت کا اسیروں سے بلا واسطہ(ڈائرکٹ Direct )گفتگو کرنا ، اسیروں کی خاطر رحمت وعطوفت اور مہربانی نہیں تو اور کیا ہے؟

رسول (ص) کی بات چھوڑیئے، آپ (ص) کے گھرانے کے بچے بچے میں یہی جذبہ نظر آتا ہے بلکہ آپ (ص) کے گھر کی کنیز ''فضہ'' بھی اپنے سامنے سے روٹی اٹھاکر مسکین ویتیم واسیر کو دیدیتی ہے اور جبرئیل امین آیت لیکر نازل ہوتے ہیں( و یطعمون الطعام علیٰ حبه مسکیناویتیماواسیرا ) (۲)

یعنی یہ وہ گھرانہ ہے کہ خدا وند عالم کی محبت میں مسکین ویتیم واسیر کو کھانا کھلاتاہے ، اس گھرانے کے علاوہ کون ایسا سخی ہے کہ پورے دن روزے سے رہ کر اپنا افطار اٹھاکر فقیر کو دیدے اور پانی سے افطار کرکے سوجائے؟ وہ بھی ایک دن نہیں بلکہ مسلسل تین دن تک، یہی وجہ ہے کہ مشہور عالم ''حاتم طائی کی سخاوت'' ان ہستیوں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے ہوئے سر تسلیم خم کرتی نظر آتی ہے۔

حضرت علی ـ ، ضربت کے بعد قاتل کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کو اسیر کر لولیکن اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ خوش رفتاری سے پیش آنا(۳)

جب ایسی محبت و مہربانی نظر آتی ہے تو عقل انسانی انگشت بدنداں نظر آتی ہے کہ جو آپ ـ کا قاتل ہے اس کو جام شیر پلاتے ہیں اوراپنے بیٹوںسے فرماتے ہیں کہ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرنا۔

____________________

(۱)سورۂ انفال/۷۰

(۲)سورۂ انسان''سورۂ دہر''/۸

(۳)میزان الحکمة

۳۹

۱۵۔ اجنبی و مسافراور عام انسان کے ساتھہ اخلاق

اگر کوئی مسافر ہے تو وہ اجنبی ضرور ہے لیکن انسان تو ہے، انسانیت کے ناطہ ہمارا فریضہ ہے کہ وہ اگر بھوکا ہے تو کھانا کھلائیں،اگر وہ پیاسا ہے تو پانی پلائیں یا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو اسے بھی پورا کریں تاکہ اس کے دل پر ہمارے اخلاق کا سکہ بیٹھ جائے ۔

رسول اسلا م (ص) کا عام لوگوں کے ساتھ یہ اخلاق تھا کہ اگر کسی بزم میں جاتے تھے تو کسی کویہ موقع نہیں دیتے تھے کہ وہ آ پ (ص)کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو ،کسی کی طرف پیر پھیلاکر نہیں بیٹھتے تھے ،ہمیشہ سلام میں سبقت کیا کرتے تھے ،چرب زبانی کے مخالف تھے یعنی آپ (ص) ضرورت کے مطابق زبان کھولتے تھے ،فضول باتوں سے پر ہیز فرماتے تھے،کبھی بھی آپ (ص) کو کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا گیا،زمین پر بیٹھتے تھے اور غلاموں کی طرح زمین پر بیٹھ کر ہی غذا تناول فرماتے تھے(۱)

آپ (ص) ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے ،دوسروں کے ساتھ خندہ روئی سے پیش آتے تھے اوریہ پسند فرماتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی مسکراتے رہیں(۲)

____________________

(۱)بحارالانوار:ج۱۶، ص۲۲۸ ۔مکارم الاخلاق :ص۱۷

(۲)المحجة البیضاء :ج۴، ص۱۳۴

۴۰

مالک بن جاؤ گے اور عجم بھی تمہارے مطیع ہونگے نیز جنت میں بھی تمہاری بادشاہی ہوگی''_ لیکن قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذاق اڑایا اور وہ کہنے لگے کہ محمد بن عبداللہ مجنون ہوگیا ہے البتہ حضرت ابوطالب کی سماجی حیثیت کے پیش نظر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہ کرسکے_(۱)

یہ بھی منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صفاکی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو پکارا جب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا:''اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تمہارا منتظر ہے تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟''_ وہ بولے:'' کیوں نہیں ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں کوئی بدی نہیں دیکھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں سنا تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہیں شدید عذاب سے ڈراتا ہوں ...'' اس پر ابولہب نے کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا ''تیرا سارا دن بربادی میں گزرے، کیا اتنی سی بات کیلئے لوگوں کو اکٹھا کیا تھا؟'' یہ سن کر سارے لوگ متفرق ہوگئے اور اس پر سورہ( تبت یدا ابی لهب ) نازل ہوئی_(۲)

ناکام مذاکرات

ابن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بحکم خدا اپنی قوم کے سامنے علی الاعلان ًاسلام کو پیش کیا تو اس وقت لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور ہوئے نہ آپ کی مخالفت کی_ لیکنجب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے معبودوں کی برائی بیان کی تو اس وقت انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف متحد ہوگئے سوائے ان لوگوں کے کہ جن کواللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے ان سے بچایا_ یہ لوگ کم بھی تھے اور بے بس بھی_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کا دفاع کیا اور پیغمبراکرم بلاروک ٹوک اعلانیہ حکم الہی بجالاتے رہے_

___________________

۱_ تفسیر نور الثقلین ج۳ص۳۴کہ تفسیر قمی سے نقل کیا ہے_

۲_ اس حدیث کو مفسرین نے نقل کیا ہے اور سیوطی نے در منثور میں، نیز غیر شیعہ مورخین نے بھی واقعہ انذار کے ضمن میں نقل کیا ہے لیکن ہم واضح کرچکے ہیں کہ آیہ انذار میں سارے رشتہ دار مراد نہیں بلکہ فقط قریبی رشتہ دار ہی منظور ہیں_ بنابریں یہ روایت مذکورہ ارشاد الہی (فاصدع بما تو مر) کے ساتھ ہی سازگار معلوم ہوتی ہے_

۴۱

جب قریش نے یہ دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مخالفت کے باوجود باز نہیں آتے، ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں رکتے اور آپ کے چچا حضرت ابوطالب بھی آپ کی حمایت کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش کے حوالے کرنے سے گریزاں ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطالب کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی_ یہ مذاکرات (ا بن اسحاق وغیرہ کے خیال میں) تین مراحل سے گزرے اور سب کے سب بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے_

پہلا مرحلہ:

قریش کے چند سر کردہ افراد (جن کے ناموں کا مورخین نے ذکر کیا ہے) حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور کہا :''اے ابوطالب آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے ہمارے دین کی برائی بیان کی ہے_ ہمارے نظریات کو باطل اور ہمارے آباء و اجداد کو گمراہ قرار دیا ہے پس یاتو آپ خود اس کو روکیں یا ہمارے اور اس کے درمیان حائل نہ ہوں کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ( نظریاتیلحاظ سے) اس کے مخالف ہیں_ یوں ہم اس سے آپ کو بھی بچائیں گے''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے ان سے نرم گفتگو کی اور اچھے طریقے سے انہیں ٹال دیا چنانچہ وہ چلے گئے_

دوسرا مرحلہ:

جب مشرکین نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے دین کی ترویج وتبلیغ میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان معاملہ بگڑنے لگا ہے_ لوگوں میں دشمنی اور اختلاف پیدا ہوچکا ہے اور قریش کے در میان کثرت سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا ہے تو وہ حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے بھتیجے کو ان کے آباء و اجداد کو برا بھلا کہنے ، ان کے نظریات کو باطل ٹھہرانے اور ان کے خداؤں کو بُرا کہنے سے نہیں روکیں گے تو وہ ان دونوں کے مقابلے پر اترآئیں گے اور ان سے جنگ

۴۲

کریں گے یہاں تک کہ کوئی ایک فریق ہلاک ہوجائے_ اس دھمکی کے بعد وہ چلے گئے_

حضرت ابوطالب نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی اطلاع دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اور ان کے اوپر رحم کھائیں اور ناقابل برداشت بوجھ نہ ڈالیں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوچاکہ چچا کا ارادہ بدل چکا ہے اور وہ آپ کی نصرت و حمایت کی طاقت نہیں رکھتے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اے چچا خدا کی قسم اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تاکہ میں اس امر سے دست بردار ہوجاؤں پھر بھی میں ہرگز باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ خدا اپنے دین کوغالب کر دے یا میں اس دین کی راہ میں قتل ہوجاؤں'' یہ دیکھ کر حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا وعدہ کیا_

تیسرا مرحلہ:

اس دفعہ قریش نے حضرت ابوطالب کویہ پیشکش کی کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ عمارة بن ولید کو اپنا بیٹا بنالیں اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو( جن کے بارے میں قریش کا خیال تھا کہ انہوں نے ابوطالب اور ان کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی تھی، مشرکین میں اختلاف ڈالا تھا اور ان کی آرزوؤں کو پامال کیا تھا) ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ تو اس طرح سے آدمی کا بدلہ آدمی سے ہوجائے گا _

حضرت ابوطالب نے کہا:'' خدا کی قسم تم نے میرے ساتھ نہایت برا سودا کرنے کا ارادہ کیا ہے_ تم چاہتے ہو کہ اپنا بیٹاپلنے کے لئے میرے حوالے کرو اوراس کے بدلے میں میں اپنا بیٹا قتل ہونے کے لئے تمہارے حوالے کردوں _خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوسکتا''_

یہ سن کر مطعم بن عدی نے کہا:'' اے ابوطالب اللہ کی قسم تیری قوم نے تیرے ساتھ انصاف کیا ہے انہوں نے اس چیز (افتراق و انتشار) سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جوتجھے بھی نا پسند ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تو ان کی کوئی بات قبول نہیں کرنا چاہتا''_ حضرت ابوطالب نے کہا:'' واللہ انہوں نے تومیرے ساتھ نا انصافی کی ہے لیکن تونے مجھے بے یار ومددگار بنانے اور لوگوں کو میرے مقابلے میں لاکھڑا

۴۳

کرنے کا ارادہ کیا ہے_ پس تیری جو مرضی ہو وہ کر کے دیکھ لے''_ حضرت ابوطالب کی اس بات کے بعد معاملہ بگڑ گیا مخالفت کا بازار گرم ہوگیا اور لوگوں نے کھلم کھلا دشمنی شروع کردی_

ممکن ہے کہ یہ مراحل اسی ترتیب سے واقع ہوئے ہوں اور ممکن ہے کہ یہ ترتیب نہ رہی ہو_ بہرحال ہم نے جو کچھ کہا وہ ہمارے نزدیک بلا کم و کاست حالات و واقعات کے(۱) طبیعی سفر کی ایک تصویر کشی تھی البتہ اس گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے سے قبل درج ذیل نکات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں_

الف: اس ناکامی کے بعد

ہم نے ملاحظہ کیا کہ مشرکین مکہ نے شروع شروع میں یہ کوشش کی کہ وہ حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ساتھ نہ الجھیں_ چنانچہ انہوں نے خود حضرت ابوطالب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے موقف سے ہٹائیں اور اس چیز کا خاتمہ کریں جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور خطرات کا سرچشمہ سمجھتے تھے_ انہوں نے ابوطالب کو بھڑکانے اور انہیں اپنے بھتیجے کے خلاف یہ سمجھاکر اکسانے کی کوشش کی کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام ان کے مفادات کے منافی اور دیگر لوگوں کے علاوہ خود حضرت ابوطالب کی ہمدردی و شفقت کو زک پہنچانے کے مترادف ہے_

اس بناپر طبیعی تھا کہ خود حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے کی سرگرمیاں محدود کرتے_ اور قریش کو اس مسئلے سے نجات دلاتے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوطالب نے ان کی بے سروپا باتوں کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی ذات اور مفادات کو درپیش خطرات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو وہ دھمکی دینے پر اترآئے _ اس کے بعد انہوں نے مکروفریب اور دھوکے کی سیاست اپنائی( جیساکہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برائے قتل ان کے حوالے کرنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بدلے عمارة بن ولید کو بطورفرزند، حضرت ابوطالب کے حوالے کرنے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے)اس واقعے نے ان کے دلوں میں پوشیدہ مقصد کو بھی ظاہر کر دیا _ نیز حضرت ابوطالب اور

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج۱ ص۲۸۲،۲۸۶نیز البدء والتاریخ ج۴ص ۴۷،۱۴۹ نیز تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۵،۶۸_

۴۴

دیگر لوگوں کیلئے واضح ہوا کہ ان کا مقصد دین حق کومٹانے اور نورالہی کو بجھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ اس امرنے حضرت ابوطالب کو دین حق اور پیغمبراسلام کی حمایت پر مزید کمربستہ کر دیا_

ب: قریش کی ہٹ دھرمی کا راز

مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی اور نور الہی کو بجھانے کی کوششوں کا راز درج ذیل امور میں مضمر معلوم ہوتا ہے:

۱)قریش ،مکہ اور دوسرے مقامات کے غریبوں، غلاموں اور کمزوروں سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے کام لیتے تھے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے آکران بیچارے لوگوں کے اندر ایک تازہ روح پھونکی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انسانی عظمت اور حریت کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش شروع کی اورساتھ ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی دستگیری کرتے اور مسائل و مشکلات زندگی میں ان کے مددگار ہوتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی حقیقت خودان کیلئے آشکارکرتے تھے اور اسلامی تعلیمات سے ان کو بہرہ ور فرماتے تھے _ان تعلیمات کی ابتدائی باتوں میں سے ایک، ان ظالموں کے تسلط اور ظلم سے رہائی کی ضرورت کا مسئلہ بھی تھا_

۲)کفار مکہ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی تبلیغ اور اس کے مقاصد کو دیکھ کر یہ اندازہ کرچکے تھے کہ وہ اس دین کے زیر سایہ اپنے ناجائز امتیازات کو برقرار نہیں رکھ سکتے جنہیں ان ظالموں نے اپنے لئے مخصوص کررکھا تھا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں رد کر ر ہے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تاکید فرماتے تھے کہ خدا کی عدالت میں سب لوگ مساوی ہیں اس کے علاوہ یہ مشرکین، دین اسلام کے سائے تلے اپنی غیراخلاقی اور غیر انسانی اطوار کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اسلام مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا تھا اور یہ لوگ اپنے رسوم کے زبردست پابند تھے حتی کہ اپنے ان معبودوں کی عبادت سے بھی زیادہ پابند رسوم تھے جن کی نگہبانی کے وہ دعویدار تھے_ چنانچہ ایک دفعہ ایک عرب نے بھوک لگنے پر اپنے اس خدا کو کھالیا جسے اس نے کھجوروں سے تیار کیاہوا تھا_

۳)تیسرے سبب کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے( وقالوا ان نتبع الهدی معک نتخطف من ارضنا ) (۱) یعنی اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو اپنی سرزمین سے اچک لئے جائیں گے،

۴۵

بالفاظ دیگر انہوں نے اسلام قبول نہ کرنے کیلئے یہ بہانہ تراشا کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو مشرکین عرب ان کے ایمان لانے اور بتوں کو ٹھکرانے کی وجہ سے ناراض ہوجائیں گے_

قرآن نے اس کا جواب یوں دیا ہے( اولم نمکن لهم حرما آمنا يُجبی الیه ثمرات کل شی رزقا من لدنا ) (۲) کیا ہم نے انہیں امن کے مقام حرم مکہ میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بناپر چلے آر ہے ہیں_

بنابرایں اس خوف کی کوئی وجہ نہ تھی نیز اس خوف کے بہانے شرک پر باقی رہنے سے بھی خطرہ ٹل نہیں سکتا تھا کیونکہ کتنی ہی بستیوں کو خدانے ہلاک کرڈالا تھا جن کے مکین نعمتوں کی کثرت کے باعث بہک گئے پھر ان گھروں میں رہنے والا کوئی نہ رہا بلکہ یہی بات دنیا میں ان کی ہلاکت کی وجہ بنی کیونکہ اگر ان تمام امکانات اور مادی وسائل کو صحیح راہوں پر چلانے والے اور حال و مستقبل کے لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ مند بنانے والے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہ ہوں تو یہی چیزیں باہمی اختلافات، ظلم و استبداد اور معاشرتی و قومی بربادی والے دیگر انحرافات کا باعث بنتی ہیں_

ہر چیز کا اختیار خداکے دست قدرت میں ہے_ جو کوئی بھی اس کی نافرمانی کرتاہے وہ اپنی ذات کو دنیوی اور اخروی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے پھر خدانے ان کیلئے قارون کی مثال بھی دی جس کے پاس اس قدر خزانے تھے جن کی چابیاں اٹھانے سے ایک طاقتورجماعت بھی عاجز تھی_ لیکن جب اس نے ہٹ دھرمی تکبر اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا اور احکام الہی کی مخالفت کی تو خدانے اسے گھر سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا_

متعلقہ سورہ کی آیات میں عجیب نکتے اور لطیف معانی پوشیدہ ہیں جو مستقل اور عمیق مطالعے کے محتاج ہیں لیکن یہاں اس کی گنجائشے نہیں یہاں ہم اسی اجمال اور اشارے پر اکتفا کرتے ہیں، خداوند عالم توفیق عطا کرنے اور مدد کرنے والا ہے_

___________________

۱ و ۲ _سورہ قصص، آیت ۵۷_

۴۶

مذاکرات کی ناکامی کے بعد

مذاکرات کی ناکامی کے بعدحضرت ابوطالب سمجھ گئے تھےکہ اب معاملہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور مشرکین سے کھلی جنگ کا مرحلہ قریب ہے لہذا حضرت ابوطالب نے حفظ ماتقدم کے طورپر بنی ہاشم اور بنی مطلّب سب کو جمع کیا اور ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و حفاظت کرنے کی دعوت دی تو ابولہب ملعون کے سوا انہوں نے مثبت جواب دیااور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کیلئے آمادہ ہوگئے _

خدانے بھی اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی اور مشرکین آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر کہہ کرپکارتے ر ہے لیکن قرآن ان لوگوں کو جھٹلاتا رہا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راہ حق پرقائم ر ہے مشرکین کی افتراپردازیاں آپ کو خفیہ و اعلانیہ دعوت حق دینے سے کبھی نہ روک سکیں_

درحقیقت جب مشرکین نے دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات کو ضرر پہنچانے کا نتیجہ مسلح جھڑپ ہوگا جس کیلئے وہ آمادہ نہ تھے اور خاص کر بنی ہاشم کے روابط اور قبائل کے ساتھ ان کے معاہدوں مثلاً مطیبین کے معاہدہ اور جناب عبدالمطلب کے ساتھ مکہ کے نواح میں رہنے والے قبیلہ خزاعہ کے معاہدے کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ بھی یقیننہ تھا کہ اس جھڑپ کا نتیجہ ان کے حق میں نکلے گا_ بلکہ اگر یہ جنگ چھڑتی تو ممکن تھا کہ اس سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا موقع ملتا_(۱) توان تمام باتوں کے پیش نظر مشرکین نے بہتر یہ سمجھا کہ جنگ سے بچا جائے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کمزور بنانے اور اس کی تبلیغ کا مقابلہ کرنے کیلئے دیگر طریقوں سے کام لیا جائے_

چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین:

الف : لوگوں کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی آیات قرآن سننے سے منع کرتے تھے جیساکہ

___________________

۱_ بعض محققین کا خیال ہے کہ شاید حضرت ابوطالب نے کبھی نرمی اور کبھی سختی برتنے کی روش اسلئے اختیار کی تاکہ اس قسم کی ایک جنگ چھڑ جائے جس سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا پیغام پھیلانے کا بہتر موقع مل جائے_

۴۷

ارشاد الہی ہے:( وهم ینهون عنه وینا وْنَ عنه ) (۱) یعنی وہ قرآن سے دوسروں کو منع کرتے تھے اور خود بھی دوری اختیار کرتے تھے_ نیزفرمایا:( وقال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوافیه لعلکم تغلبون ) (۲) یعنی کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ شاید اس طرح ان پر غالب آسکو_

ب: حضور کا مذاق اڑانے اور آپ پر بے بنیاد تہمتیں لگانے کی روش اختیار کئے ہوئے تھے تاکہ وہ:

۱_ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات پر دباؤ ڈال سکیں کیونکہ ان کے گمان باطل میں شاید آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نفسیاتی طورپر شکست کھاجائیں گے اور احساس کمتری و حقارت کاشکار ہوکر اپنے مشن سے ہاتھ اٹھا لیں گے_

۲_نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مرتبے کو گھٹاکر نیز آپ کی شخصیت کو مسخ کر کے کمزور ارادے کے مالک افراد کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین میں داخل ہونے سے روکیں _اسی مقصد کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بیوقوف لوگوں کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کواذیت پہنچائیں اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلائیں _بسا اوقات قریش کے رو سا بھی اس قسم کے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کسی غلام کو حکم دیا کہ وہ حیوان کی اوجھڑی اور گوبر حالت نماز میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر ڈال دے چنانچہ غلام نے اسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کاندھوں پر پھینک دیا _اس بات سے حضرت ابوطالب غضبناک ہوئے اور آ کر وہ گندگی مشرکین کی مونچھوں پر مل دی _اس طرح خدا نے ان کے اوپر رعب طاری کر دیا_ مشرکین آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر مٹی اور بکری کی بچہ دانی وغیرہ بھی ڈالتے تھے_

ان باتوں نے لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور رکھنے اور انہیں قبول اسلام سے روکنے میں کچھ حد تک اپنا اثردکھایا یہاں تک کہ عروة بن زبیر اور دوسروں کاکہنا ہے کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو ناپسند کرتے تھے، وہ اپنے زیر دست افراد کو آپ کے خلاف اکساتے تھے یوں عام لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوری اختیار کرگئے_(۳)

___________________

۱_سورہ انعام، آیت ۲۶_

۲_ سورہ فصلت، آیت ۲۶_

۳_تاریخ طبری، ج ۲ ص ۶۸_

۴۸

مکہ کے ستم دیدہ مسلمان

مذکورہ باتوں کے علاوہ مشرکین نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان اصحاب سے انتقام لینے کی ٹھانی جو مختلف قبائل میں زندگی گزارتے تھے _چنانچہ ہر قبیلے نے اپنے اندر موجود مسلمانوں کو ستانے، انہیں اپنے دین سے دوبارہ پلٹانے، قیدکرنے، مارنے پیٹنے، بھوکا رکھنے، مکہ کی تپتی زمینوں پر سزا دینے، نیزدیگر ظالمانہ اور وحشیانہ طریقوں سے ان کو اذیت دینے کا سلسلہ شروع کیا_

ذکر مظلوم :

مشرکین نے کئی مسلمانوں پر ستم کیا _ عمر بن خطاب نے بھی قبیلہ بنی عدی کی شاخ بنی مؤمل کی ایک مسلمان لڑکی پر تشدد کیا_ وہ اسے مارتا رہا اور جب وہ مار مار ہلکان ہوگیا تو بولا '' میں تمہیں صرف تھکاوٹ سے تنگ آکر چھوڑ رہا ہوں''(۱) _ شاید قبیلہ بنی مؤمل نے عمر بن خطاب کو اپنے قبیلے کی لڑکی پر تشدد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی وگرنہ معاشرے میں اس کی اتنی حیثیت ہی نہیں تھی کہ اسے اس جیسے کام کی کھل چھٹی دے دی جاتی _ اسی طرح مشرکین نے خباب بن الارت ، ام شریک ، مصعب بن عمیر اور دیگر لوگوں پر بھی تشدد کیا جن کے نام اور واقعات کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے_

انہی لوگوں نے ہمارے لئے توحید اور عقیدے کی خاطر استقامت اور جہاد کی عمدہ مثال پیش کی ہے_ حالانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ارادہ الہی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو مشرکوں کو اس تشدد سے باز رکھ سکے _ پھر بھی انہوں نے اپنے اسلام کے بل بوتے پر اس پوری دنیا کو چیلنج کیا ہوا تھا جو اپنی تمام تر توانائیوں سمیت ان کے مقابلے پر اتر آئی تھی _ اور اسی چیز میں ہی ان کی عظمت اور خصوصیت پوشیدہ تھی _

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۱ ، سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۰۰ اور ملاحظہ ہو: السیرة النبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۳ اور المحبر ص ۱۸۴_

۴۹

حضرت ابوبکر نے کن کو آزاد کیا؟

راہ خدامیں اذیت پانے والوں میں بلال حبشی اور عامر بن فہیرہ بھی تھے، کہتے ہیں کہ ان کو حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا اور انہیں حضرت ابوبکر کی وجہ سے نجات حاصل ہوئی_ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے کیونکہ:

اولا: اسکافی نے کہا ہے'' بلال اور عامربن فہیرہ کو خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آزاد کیاہے''_ اور اسے واقدی اور ابن اسحاق نے بھی نقل کیا ہے_(۱)

علاوہ ازیں ابن شہر آشوب نے بلال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں آزاد شدگان میں شمار کیا ہے_(۲)

ثانیا: اس بارے میں وہ خود متضاد روایتیں ذکر کرتے ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی ربط ہی نہیں بنتا_

اس سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہم حضرت ابوبکر کی طرف سے اداکی جانے والی قیمت میں اختلاف کا ہی ذکر کریں چنانچہ ایک روایت کہتی ہے حضرت ابوبکر نے اس کی قیمت میں اپنا ایک غلام دے دیا جو (بلال) سے زیادہ مضبوط تھا_

دوسری روایت کہتی ہے کہ اس کی قیمت کے طورپر ایک غلام، اس کی بیوی اور بیٹی کے علاوہ دو سو دینار بھی دیئے_

تیسری روایت کی رو سے سات اوقیہ(۳) سونے میں خریدا_

چوتھی روایت کے مطابق نو اوقیہ میں_

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ اور قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۹۶ و ج ۲ ص ۲۳۸ کی طرف رجوع کریں_

۲_المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۷۱_

۳_ اوقیہ رطل کا بارہواں حصہ جو چو تھائی چھٹانک تک ہوتا ہے_ (المنجد، مترجم)_

۵۰

پانچویں روایت کے مطابق پانچ اوقیہ کے بدلے اور چھٹی روایت کے مطابق ایک رطل(۱) سونے کے عوض خریدا_

ساتویں روایت کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر نے اسے اپنے غلام قسطاس کے بدلے خریدا جو دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں، غلاموں اور مویشیوں کا مالک تھا_

آٹھویں روایت کی رو سے اس کی قیمت ایک کمبل اور دس اوقیہ چاندی تھی علاوہ بریں اس مسئلے میں مزید اختلاف موجود ہے(۲) _

ثالثا :کہتے ہیں کہ اسی مناسبت سے( فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسره للیسری ) (۳) والی آیات حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہو ئیں(۴) حالانکہ:

۱_ اسکافی نے اسے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک قول کے مطابق یہ آیات مصعب ابن عمیر کے بارے میں اتری ہیں_(۵)

۲_ علاوہ برآں ابن عباس وغیرہ بلکہ خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مروی احادیث میں اس آیت کی تفسیر کو عام قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی فردسے مختص نہیں سمجھا گیا، شیعوں کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں نازل ہوئی، حلبی نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے احسان چکا دیا تھا اور وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہاں آپ کا تربیت پانا تھا جبکہ آیات یہ کہتی ہیں کہ اس پرکسی کاکوئی احسان نہیں جس کا چکانا ضروری ہو_ رازی نے بھی یہی اعتراض کیا ہے_(۶)

___________________

۱_ رطل، ایک وزن مساوی ۱۲ اوقیہ کے ہے_ (المنجد، مترجم)_

۲_ گذشتہ اختلافات کے معاملہ میں مراجعہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۲۹۸ و ۲۹۹ ، قاموس الرجال ج ۱ ص ۲۱۶ ، سیر اعلام النبلاء ج۱ ص ۳۵۳، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۰ ، حلیة الاولیاء ج۱ ص ۱۴۸ اور بہت سے دیگر منابع

۳_ سورہ لیل، آیت ۵،۷_

۴_ درمنثور ء ۶ ص ۳۵۸،۳۹۰ کئی کتب سے ماخوذ نیز السیرة الحلبیة ہ ج ۱ ص ۲۹۹ اور شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ بہ نقل از جاحظ اور عثمانیہ ص ۲۵ _

۵_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ ص ۲۷۳_

۶_ السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹_

۵۱

لیکن رازی اور حلبی یہ نہیں جانتے کہ یہاںمرادکچھ اورہے یعنی خدا اس صاحب تقوی شخص کی صفت بیان نہیں کررہا بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ مال جو وہ خرچ کررہا ہے اسلئے خرچ نہیں کر رہا کہ کسی شخص کی طرف سے اس کی جزا ملے بلکہ وہ فقط اور فقط خدا کی مرضی کیلئے خرچ کررہا ہے _

۳_ ابن حاتم کے بیان کے مطابق یہ سورہ سمرة بن جندب کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک درخت کھجور کا مالک تھا اس درخت کی شاخ ایک نادار شخص کے گھر میں تھی_ جب سمرة کھجور چننے درخت پر چڑھتا تو گاہے کچھ دانے گرپڑتے اور نادار شخص کے بچے وہ اٹھالیتے _یہ دیکھ کر سمرة درخت سے اترتا اور ان کے ہاتھوں سے دانے چھین لیتا اوراگر وہ منہ میں ڈال لیتے تو اپنی انگلی ڈال کر کھجور باہر نکال لیتا _پس نادار شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس اس کی شکایت کی _اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سمرة سے ملاقات ہوئی ،آپ نے اس سے کہا کہ وہ اس درخت کو جنت کے ایک درخت کے بدلے فروخت کر دے_ سمرة بولامجھے بہت کچھ ملا ہوا ہے میں خرما کے بہت سارے درختوں کا مالک ہوں ان میں سے کسی کا پھل اس درخت کے پھل سے زیادہ مجھے پسند نہیں_

ایک اورشخص جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور سمرة کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آیا اورعرض کیا کہ اگر میں اس درخت کو حاصل کروں توآپ مجھے وہی چیز عنایت کریں گے جس کا آپ نے سمرة سے وعدہ فرمایا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے یہ سن کر وہ چلا گیا اور درخت کے مالک سے ملا _پھر خرما کے چالیس درختوں کے بدلے اس نے سمرة سے وہ درخت خرید لیا_ پھر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گیا اور درخت آپ کو ہدیہ کر دیا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مالک مکان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اب یہ درخت تمہارا اور تمہارے گھروالوں کا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:( واللیل اذا یغشی ) (۱)

اسی لئے سیوطی نے سورہ اللیل کے بارے میں کہا ہے کہ قول معروف کے مطابق یہ سورہ مکی ہے نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدنی ہے کیونکہ اس کے سبب نزول میں خرما کے درخت کا واقعہ منقول ہے جیساکہ ہم نے اسباب نزول کے بارے میں ذکر کیا ہے_(۲)

___________________

۱_ درالمنثور ج ۶ ص ۳۵۷ از ابن ابی حاتم از ابن عباس اور تفسیر برہان ج ۴ ص ۴۷۰ از علی ابن ابراہیم ، در منشور سے منقول بات سے کچھ اختلاف کے ساتھ_

۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۴_

۵۲

یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ منقول واقعہ ان آیات کے ساتھ متناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت کہتی ہے، کسی نے راہ خدا میں مال دیکر تقوی اختیار کیا لیکن کسی نے بخل سے کام لیا اور لاپروائی اختیار کی_

ہاں اگر ان کا عقیدہ یہ ہو کہ بخل کرنے والے سے مراد (نعوذ باللہ ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تھے تو اور بات ہے جبکہ یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال کے فقدان کی صورت میں آپ پر بخل صادق نہیں آتا، نیز خود یہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے_ یا پھر بخلکرنے والے سے مراد جناب عباس تھے جن کے بارے میں روایات کہتی ہیں کہ اس نے جاکر بلال کو خریدا اور ابوبکر کے پاس بھیجا پھر انہوں نے بلال کو آزاد کیا_

۴_ حدیث غار میں ہم حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کریں گے کہ قرآن میں آل ابوبکر کے بارے میں کوئی آیت نازل ہی نہیں ہوئی_ ہاں حضرت عائشہ کا عذر نازل ہوا یعنی سورہ نور میں حدیث افک (تہمت) سے متعلق آیات اور حضرت عائشہ کی اپنے متعلق صفائی بھی نازل ہوئی_ لیکن درحقیقت وہ آیت بھی حضرت عائشہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی جیساکہ ہم نے اپنی کتاب حدیث الافک میں اس کا تذکرہ کیا ہے_

رابعاً: یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ کیونکر فرمایا کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے کیونکہ ایک طرف تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوبکر سے بلال کو مشترکہ طور پر خریدنے کا تقاضا کیا تو ابوبکر نے بتایا کہ اس نے بلال کو آزاد کر دیا ہے_(۱) وہ ان دو اقوال کے درمیان کیسے ہماہنگی پیدا کرسکتے ہیں؟ علاوہ برایں کیا حضرت خدیجہ (س) کے اموال آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں نہ تھے؟ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ کے مسلمانوں پر یہ اموال خرچ نہ کرتے تھے؟ جیساکہ اسماء بنت عمیس کو حضرت عمرنے ہجرت کے شرف سے محروم رہنے کا طعنہ دیا تو اس نے جواب میں کہا: ''بے شک وہ اور اس کے دیگر مسلمان ساتھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھوکوں کو سیر کراتے اور جاہلوں کو علم سکھاتے تھے'' اس واقعے کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ اپنے مقام پرہوگا_

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۶۵_

۵۳

رہا اس بات کا احتمال کہ بلال والا واقعہ ہجرت سے قبل کے آخری سالوں میں واقع ہوا ہے تو اسے مورخین قبول نہیں کرتے کیونکہ نووی کہتے ہیں '' وہ اعلان نبوت کی ابتدا میں مسلمان ہوئے وہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والوں میں سے تھے''_(۱) مگر یہ کہا جائے کہ بلال مسلمان تو بہت پہلے ہوگئے تھے لیکن کچھ سال بعد انہیں خرید کر آزاد کیا گیا تھا_

ان ساری باتوں کے علاوہ یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ حضرت بلال کو حضرت عباس نے خرید کر حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے آزاد کیا_(۲) بعض دیگر روایات کہتی ہیں کہ حضرت بلال کو حضرت ابوبکر نے بذات خود خرید کر آزاد کیا_ نیز ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو کہتی کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات ہوئی تو حضرت بلال نے ابوبکر سے کہا ''اگر تم نے مجھے اپنے لئے خریدا تھا تو اپنا غلام بنائے رکھو اور اگر رضائے الہی کیلئے خریدا تھا تو پھر مجھے آزاد کردو''_

اس روایت کی رو سے تو وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو آزاد نہیں کیا تھا_ رہی حضرت عباس کے حضرت بلال کو خریدنے کی بات تو یہاں ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت عباس نے اگر بلال کو اپنے لئے خریدا تھا تو انہوں نے خود حضرت بلال کو آزاد کیوں نہیں کیا؟ اور اگرحضرت عباس نے حضرت ابوبکر کے لئے خریدا تھا تو وہ حضرت ابوبکر کے وکیل کب بنے تھے؟ اور اس قسم کے کاموں میں کب سے دلچسپی لینے لگے تھے؟ جبکہ انہی لوگوں کے بقول حضرت عباس نے فتح مکہ کے سال یا جنگ بدر میں اسلام قبول کیا تھا_

بعض لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ حضرت عباس نے امیة بن خلف سے بات کی پھر حضرت ابوبکرنے آکر حضرت بلال کو خریدلیا_(۳) یہ تو نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے _ زمانے کا دستور نرالا ہوتاہے_

گذشتہ نکات کے علاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ خود حضرت ابوبکر کے معاشی

___________________

۱_تہذیب الاسماء و اللغات ج ۱ ص ۱۳۶_

۲_سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۳_ سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۵۴

حالات اس بات کی اجازت کب دیتے تھے کہ وہ کئی سو دینار دے سکتے؟ چہ جائیکہ ان کاایک غلام دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں اور مویشیوں وغیرہ کا بھی مالک ہو( اگرچہ ہم فرض بھی کرلیں کہ اس دور میں عربوں کے غلام مال و دولت کے مالک بھی بن سکتے تھے) کیونکہ حضرت ابوبکر تاجر نہ تھے بلکہ چھوٹے بچوں کے استاد تھے پس ان کے پاس ہزاروں یاکم از کم سینکڑوں درہم و دینار کہاں سے آگئے تھے کہ جس سے سات یا نو افرادکو خرید کر آزاد کرتے_ غار والے واقعہ پر بحث کے دوران ہم انشاء اللہ حضرت ابوبکر کی مال و دولت کے بارے میں بھی اشارہ کریں گے_

بعض لوگوں نے تو حضرت ابوبکر سے منسوب غلاموں میں سے کئی ایک کے وجود میں ہی شک کیا ہے بالخصوص زنیرہ وغیرہ کے بارے میں_ جس کے متعلق سہیلی نے کہا ہے کہ عورتوں میں زنیرہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا_(۱)

سید حسنی کہتے ہیں: ''قریش ایمان لانے والوں کو سزائیں دیتے تھے تاکہ اسلام نہ پھیلے _وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہرقسم کا قیمتی اور نفیس مال دینے پر آمادہ تھے تاکہ وہ اپنے مشن سے دست بردار ہوجائیں _اس صورت میں قریش حضرت ابوبکر کے حق میں اپنے غلاموں سے کیسے دست بردار ہوسکتے تھے؟ اور ان کو سزا دیئے بغیر اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ سکتے تھے''(۲) مگریہ کہاجائے کہ مال و دولت سے قریش کی محبت اور ساتھ ساتھ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی مایوسی کے سبب انہوں نے ایسا کیا (جیساکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے)_

کیا حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کیں؟

مؤرخین کہتے ہیں کہ اسلام کی راہ میں حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کی ہیں_ کیونکہ جب ابوبکر اور طلحہ بن عبداللہ تیمی نے اسلام قبول کیا تو عمر بن عثمان نے دونوں کو پکڑکر ایک رسی میں ایک ساتھ باندھ دیا اور نوفل بن خویلد نے ان پر تشدد کرکے انہیں دین سے پھیرنے کی کوشش کی_ اسی لئے ابوبکر اور طلحہ کو'' قرینین ''

___________________

۱_ الروض الانف ج ۲ ص ۷۸_

۲_سیرة المصطفی ص ۱۴۹_

۵۵

کہا جاتا ہے _ البتہ بعض مؤرخین کے مطابق انہیں باندھ کر ان پر تشدد کرنے والا صرف نوفل ہی ہے جبکہ اس دوران عمر بن عثمان کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا(۱) اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ :

۱_ وہ خود ہی کہتے ہیں'' خدانے حضرت ابوبکر کی حفاظت اس کی قوم کے ذریعہ سے کی ''(۲) اور یہ ان کے اس قول '' حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں اٹھائیں'' کے بالکل متضاد ہے_ اسی طرح ابن دغنہ کے اس قول ''اسے قوم سے نکال دیا گیا'' سے بھی متناقض ہے_

۲_ سیرت کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس قبیلہ سے بھی کوئی شخص اسلام لاتا تو صرف وہی قبیلہ اس پر تشدد کرتا تھا_ دوسرے قبیلہ والوں کو اس پر تشدد کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی_

۳_ اسکافی نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ یہ تشدد صرف غلاموں یا کرائے کے غنڈوں کے ذریعہ سے ہوتا اور اس شخص پر ہوتا جس کی حمایت کرنے والا کوئی خاندان نہیں ہوتا تھا_(۳) اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر بڑے قابل اطاعت سردار اور بزرگ تھے_(۴) جس کے منتظر بزرگان قریش بھی رہتے تھے اور اس کی عدم موجودگی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرتے تھے_ حتی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاملے میں بھی (جیسا کہ ابوبکر کے اسلام لانے والے واقعہ میں گذر چکا ہے) اسی کے پاس کوئی قطعی فیصلہ کرنے آئے تھے_ ان کی تعریفوں کے مطابق وہ بلند پایہ شخصیت ، بزرگ سردار اور قریش کے محترم رئیس تھے_(۵) پھر جناب ابوبکر اس گروہ سے کیسے ستائے گئے جو ان کے قبیلے سے بھی

___________________

۱_ اس بارے میں ملاحضہ ہو : العثمانیہ جاحظ ص ۲۷و ۲۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۳، سیرة ابن ہشام ج ۱ ص ۳۰۱، نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۳۰، البدایہ و النہایہ ج ۲ ص ۲۹ ، بیہقی اور مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۶۹ اور البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۲_

۲_ البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۸ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۸۴ حاکم نے بھی اور ذہبی نے بھی اس کی تلخیص کے حاشیہ میں اس قول کو صحیح جانا ہے ، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۹، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۱، سنن احمد ، سنن ابن ماجہ ، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۶، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۶از کنز العمال ج ۷ ص ۱۴از ابن ابی شیبہ اور طبقات الکبری ابن سعد مطبوعہ صادر ج ۳ ص ۲۳۳_

۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵_ ۴_ ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۳ اور سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۲۷۳_ ۵_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۳ اور البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶_

۵۶

نہ تھے؟ اور اس کی قوم نے اپنے سردار اور بلند پایہ شخصیت کو ایسے کیسے چھوڑدیا کہ وہ لوگ اس کی توہین کرتے رہیں؟اور ابن ہشام و غیرہ کے مطابق :'' اپنی قوم کا مونس ، محبت کرنے والا اور نرم خو تھا '' حتی کہ وہ کہتا ہے ''اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جاکر کئی ایک امور کے لئے اس کی حمایت حاصل کرتے(۱) اور ابن دغنہ کے زعم میں : '' ایسے شخص کو کیونکر نکالا جاسکتا ہے؟ کیا تم ایسے شخص کو نکال باہر کر رہے جو گمنامی کا طالب ہے ، صلہ رحمی کرتاہے ، دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے ، مہمان نوا ز اور زمانے کی مصیبتوں پر دوسروں کا مدد گار ہے؟''(۲) _

توجہ : یہ ا لفاظ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو وقت بعثت حضرت خدیجہ نے حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی کے لئے کہے تھے_ ان الفاظ کو ابن دغنہ نے جناب ابوبکر کے ہجرت حبشہ کے وقت اس کے حق میں کہے ہیں جن کا سقم آئندہ معلوم ہوگا _یہاں بس پڑھتے جائیں ، سنتے جائیں اور پیش آیند پر تعجب بھی کرتے جائیں_ سنتا جاشرماتاجا _

پہلانکتہ : کیا حضرت ابوبکر قبیلہ کے سردار تھے؟

گذشتہ تمام باتیں ہم نے صرف ان کی باتوں کے اختلاف اور تناقض کو بیان کرنے کے لئے ذکر کی ہیں_ کیونکہ اگر ایک بات صحیح ہے تو دوسری صحیح نہیں ہے_ وگرنہ ہمیں ابوبکر کے عظیم سردار اور قابل اطاعت بزرگ ہونے میں شک ہے ، کیونکہ :

۱_ حضرت ابوبکر جب ابوسفیان کے ساتھ حج کوگئے تو (وقت تلبیہ) اس نے اپنی آواز ابوسفیان کی آواز سے اونچی رکھی ، ابوقحافہ نے اس سے کہا :'' ابوبکر اپنی آواز ابن حرب کی آواز سے دھیمی رکھو'' جس پر ابوبکر نے کہا :'' اے ابوقحافہ خدا نے اسلام میں وہ گھر بنائے ہیں جو پہلے نہیں بنے تھے اور وہ گھر ڈھادیئےیں جو زمانہ جاہلیت میں بنے ہوئے تھے_ اور ابوسفیان کا گھر بھی ڈھائے جانے والے گھروں میں سے ہے''_(۳)

۲_ جب ابوبکر کی بیعت کی جا رہی تھی تو ابوسفیان چلا اٹھا: '' امر خلافت کے لئے قریش کا سب سے پست

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج ۱ ص ۳۶۷ اور سیرہ نبویہ ابن کثیر ص ۴۳۷_

۲_ سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۱۰۳ اور اس بارے میں مزید منابع کا ذکر ہجرت ابوبکر کی بحث کی دوران ہوگا ان شاء اللہ _

۳_ ملاحظہ ہو : النزاع و التخاصم مقریزی ص ۱۹ اور اسی ماخذ سے ذکر کرتے ہوئے الغدیر ج ۳ ص ۳۵۳_

۵۷

گھرانہ تم پر غالب آگیا ہے'' اور حاکم کی عبارت میںیوں آبا ہے '' اس امر خلافت کا کیا ہوگا جو قریش کے سب سے کم مرتبہ اور ذلیل شخص یعنی ابوبکر کے پاس آیا ہے''(۱) جبکہ بلاذری کی عبارت یوں ہے: ''ابوسفیان نے حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آکر کہا ہے '' یا علیعليه‌السلام تم لوگوں نے قریش کے ذلیل ترین قبیلے کے آدمی کی بیعت کی ہے''(۲)

۳_ شاعر عوف بن عطیہ کا کہنا ہے:

و اما الا لامان بنوعدی ---- و تیم حین تزد حم الامور

فلا تشهد بهم فتیان حرب ---- و لکن ادن من حلیب و عیر

اذا رهنوا رماحهم بزبد ---- فان رماح تیم لا تضیر(۳)

اور قبیلہ بنی عدی اور تیم تو مشکلات کی بھیڑ میں واویلا کرنے والے پست اور بے صبرے ہیں_ انہیں کوئی جنگجو نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ایک جماعت اور قافلے سے بھی مغلوب ہونے والے ہیں_ انہیں مکھن (چکنی چپڑی باتوں) کے بدلے میں نیزے گروی رکھ لینے چاہئیں کیونکہ اب ان کے نیزے کسی کام کے نہیں ہیں_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو : المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۵۱ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۷۸ از ابن عساکرو ابواحمد دہقان ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۳۲۶، تاریخ طبری ج ۲ ص ۹۴۴، النزاع و التخاصم ص ۱۹ اور کنز العمال ج ۵ ص ۳۸۳و ۳۸۵از ابن عساکروابواحمد دہقان_

۲_ انساب الاشراف بلاذری (حصہ حیات طیبہ) ص ۵۸۸ _(اسی طرح منہاج الراعہ شرح نہج البلاغہ حبیب اللہ خوئی کے ترجمہ اردو ج ۳ ص ۵۰ پر جناب ابوبکر کے خاندانی پس منظر کے ذکر کے بعد آیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر مسند اقتدار پر فائز ہوئے تو ابوسفیان نے ان کا خاندانی پس منظر یاد کرکے حضرت علیعليه‌السلام سے کہا:'' ارضیتم یا بنی عبد مناف ان یلی علیکم تیمی رذل'' اے بنی عبد مناف کیا تم ایک رذیل تیمی کی حکومت پر راضی ہوچکے ہو؟ ''حاکم نیشاپوری اور ان حجر نے لکھا ہے کہ جب ابوقحافہ نے اپنے بیٹے کی حکومت کا سناتو کہا : '' کیا بنی عبدمناف اور بنی مغیرہ میرے بیٹے کی حکومت پر راضی ہوگئے؟ '' لوگوں نے بتایا : '' جی ہاں'' تو اس وقت اس نے کہا تھا :'' اللهم لا واضع لما رفعت و لا رافع لما وضعت '' خدایا جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست نہیں کرسکتا اور جسے تو پست کرے اسے کوئی بلندی نہیں دے سکتا_ اگر چہ کہ ابوسفیان کی باتیں نیک نیتی کی بناپر نہیں تھیں لیکن اس سے دو باتوں کا علم ہوتا ہے : ۱_ حضرت ابوبکر نہ صرف قبیلہ کے رئیس نہیں تھے بلکہ ان کا خاندانی پس منظر بھی کچھ قابل ذکر نہیں ہے اس لئے تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت ابوبکر کی دولت سے اپنے نبی کو مالامال کردیا تھا_۲_ حضرت علیعليه‌السلام ہر لحاظ سے خلافت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ حقدار تھے _ اسی لئے ابوسفیان صرف حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آیا تا کہ وہ حق دار ہونے کی بنا پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ابوسفیان اپنے مقاصد حاصل کرے گا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اس کے ارادے بھانپ لئے تھے اور مناسب جواب دیا تھا _ از مترجم)_ ۳_ طبقات الشعراء ابن سلام ص ۳۸_

۵۸

دوسرا نکتہ :

دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں :'' ابوبکر اظہار اسلام کرنے والا پہلا شخص ہے جس کی قوم نے اس کی حمایت کی'' یا'' جس پر اسے اتنا ماراگیا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا ''(۱) تو ان لوگوں کی مذکور باتوں کو بہت ساری گذشتہ باتیں بھی جھٹلاتی ہیں اور یہاں پر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوت اسلام کے اعلان کرنے والی سب سے پہلی شخصیت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات والا صفات تھی جناب ابوبکر نہیں تھے_ اور مذکورہ بات تو ان متضاد باتوں کے علاوہ ہے جو یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا تھا ، کبھی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کیا تھا اور یہاں پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے ایسا کیا تھا؟ (حافظہ کہاںگیا؟)

اسی طرح ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ ابوبکر کا اظہار اسلام اس وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچ گئی تھی اور حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرماتھے_ جبکہ ہم پہلے یہ بتاچکے ہیں کہ ابوبکر تو اس وقت تک بھی اسلام نہیں لائے تھے کیونکہ وہ پچاس سے زیادہ افراد کے اسلام لانے کے بعد مسلمان ہوئے تھے_ مگر یہ کہا جائے کہ اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد اسلام لانے والوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچنے کے بعد ابوبکر مسلمان ہوا تھا_ لیکن یہ بات بھی روایت کی اس تصریح کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتی جس میں آیاہے کہ ابوبکر کا مسلمان ہونا جناب حمزہ کے اسلام لانے کے دن تھا جس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرما تھے_

اسلام میں سب سے پہلی شہادت

قریش کے ہاتھوں آل یاسرکو سخت ترین سزائیں دی گئیں نتیجتاً حضرت عمار کی ماں حضرت سمیہ، فرعون قریش ابوجہل (لعنة اللہ علیہ) کے ہاتھوں شہید ہوگئیں وہ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی سب سے پہلی

___________________

۱_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۹ تا ۴۴۹ ، البدایہ و النہایة ج ۳ ص ۳۰ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۹۴ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۲۲ از تاریخ الخمیس و الریاض النضرہ ج ۱ ص ۴۶_

۵۹

ہستی ہیں_(۱) حضرت سمیہ کے بعد حضرت یاسر (رحمة اللہ علیہ) شہید ہوئے_البتہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے پہلے شہید حضرت حارث ابن ابوہالہ ہیں_ وہ اس طرح کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسجد الحرام میں کھڑے ہو کر فرمایا: '' اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تاکہ نجات پاؤ ''یہ سن کر قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ٹوٹ پڑے، سب سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فریاد رسی کیلئے پہنچنے والا یہی حارث تھا اس نے قریش پر حملہ کرکے انہیں آپ کے پاس سے ہٹایا جبکہ قریش نے حارث کارخ کیا اور اسے قتل کر دیا_(۲)

لیکن یہ واقعہ درست نہیں کیونکہ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا) خدانے حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ذریعے اپنے نبی کی حفاظت کی، چنانچہ قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بال بھی بیکا کرنے کی جر ات نہ کرسکے_اسی طرح بنی ہاشم کے دوسرے ایمان لانے والوں کی حالت ہے کیونکہ وہ لوگ حضرت جعفر (رض) حضرت علیعليه‌السلام اور دیگر افراد پر بھی حضرت ابوطالب کے مقام کی وجہ سے تشدد نہیں کرسکے_

علاوہ برایں مورخین کا تقریبا ًاتفاق ہے کہ اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہادت حضرت سمیہ اور اس کے شوہر حضرت یاسر کو نصیب ہوئی مزید یہ کہ اعلانیہ تبلیغ کی کیفیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مذکورہ باتوں کے صریحاً منافی ہے (عنوان '' فاصدع بما تؤمر'' کا مطالعہ فرمائیں)_

یہاں ہمارے خیال کے مطابق اس واقعے کو گھڑنے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت خدیجہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے سے قبل ایک یا ایک سے زیادہ بار شادی کی تھی اور ان دونوں سے ان کی اولاد ہوئی لیکن قبل ازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ان کی شادی کی بحث میں اس کا ذکر ہوچکا ہے جو مذکورہ بالا بات کو مشکوک ظاہر کرتی ہے_

عمار بن یاسر

بنی مخزوم نے عمار بن یاسر کوبھی زبردست اذیتیں پہنچائیں یہاں تک کہ وہ قریش کی من پسند بات کہنے پر

___________________

۱ _ الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج ۴ ص ۳۳۰ و ۳۳۱ و ۳۳۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۳۴ و ۳۳۵، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۵، اسد الغابہ ج۵ ص ۴۸۱ اور تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۸_

۲_ نور القبس ص ۲۷۵ از شرقی ابن قطامی، الاصابة ج ۱ ص ۲۹۳ از کلبی، ابن حزم اور عسکری نیز الاوائل ج ۱ ص ۳۱۱،۳۱۲_

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70